سرسید اور اردولٹریچر کا تجزیہ
شبلی نعمانی نے سرسید پر
یہ مضمون ان کے انتقال کے بعد لکھا تھا۔ جیسا کہ انہوں نے اس مضمون کے آخر میں خود
اعتراف کیا ہے کہ تمام ملک میں سرسید کا آواز ہ ماتم گونج رہا تھا تو کالج کی طرف
سے انہیں مجبور کیا گیا کہ سرسید پر ایک مضمون لکھیں کیوں کہ ہر شخص ان کے
کارناموں کو جاننے کا خواہش مند تھا۔ ایسے میں انہوں نے اس مضمون کو قلم بند کیا ،
حالانکہ بعض معاملوں میں سرسید سے شبلی کو اختلاف بھی تھا پھر بھی انہوں نے مقالہ
نگاری کا حق ادا کیا ہے۔ شبلی نعمانی کو اس کا بھی اعتراف بھی ہے کہ یہ میدان
مولانا حالی کا ہے۔ دراصل یہ مضمون سوانح نگاری سے تعلق رکھتا ہے۔ اور جیسا کہ ہم
جانتے ہیں مولانا حالی ایک کامیاب اور اچھے سوانح نگار ہیں۔ انہوں نے سرسید اور
غالب پر اچھی سوانحی کتاب علی الترتیب حیات جاوید اور حیات غالب“ کے نام سے لکھی
ہے جو اردو دنیا میں مقبول ہے۔ بہر حال اس مضمون کے پڑھنے سے اندازہ ہوتاہے کہ
شبلی نعمانی جہاں مختلف فنون میں دسترس رکھتے تھے وہیں انہوں نے سوانحی خاکہ پیش
کرنے میں بھی اپنے کمال کا جو ہر دکھایا ہے۔ سرسید احمد خاں اپنی تحریک اور اپنی
علمی خدمات کی وجہ سے کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ انہوں نے جہاں قوم وملت کے لیے بہت
سے کام کئے وہیں اردو زبان کو بہتر ، آسان اور مقبول عام بنانے کے لیے بھی نمایاں
کا رنامہ انجام دیا۔ آج جو زبان ہم بولتے اور لکھتے ہیں وہ سرسید ہی کی دین ہے ۔
سرسید سے قبل اردوزبان منتفی اور سمع ہوتی تھی۔ اس میں رنگین عبارت آرائی سے کام
لیا جا تا تھا۔ سرسید نے اردو زبان کو ان باتوں سے پاک وصاف کیا۔ اور اسے سلیس اور
رواں بنایا۔ اس مضمون میں شبلی نے اس بات کا اعتراف بھی کیا ہے کہ سرسید سے پہلے
غالب نے اپنے خطوط کے ذریعے اردو زبان کو سلیس بنایا تھا۔ علاوہ ازیں میر امن
دہلوی کی باغ و بہار ( قصہ چہار درویش ) نامی داستان بھی موجود تھی جسےاپنے خطوط کے ذریعے اردو
زبان کو سلیس بنایا تھا۔ علاوہ ازیں میر امن دہلوی کی باغ و بہار ( قصہ چہار درویش
) نامی داستان بھی موجود تھی جس کی زبان میں بڑی سادگی اور صفائی ہے۔ محمدحسین
آزاد کے والد مولوی محمد باقر جنہیں انگریزوں نے پھانسی دے دی، انہوں نے ایک اردو
اخبار نکالا تھا اور خود سر سید نے بھی "سید الاخبار" کے نام سے ایک
پرچہ جاری کیا تھا جس کی زبان سادہ اور سلیس تھی۔ اس کے باوجود سرسید نے "
آثار الصنادید" میں وہی زبان اختیار کی جو اس وقت رانی تھی۔ شبلی نعمانی ایک
وجہ یہ بتاتے ہیں کہ چونکہ سرسید کا رات دن مولا نا امام بخش صہبائی کے ساتھ اٹھنا
بیٹھنا تھا اور مولانا فارسی کے مشہور شاعر بیدل کے دلدادہ تھے۔ اور جو کچھ لکھتے
تھے اسی طرز میں لکھتے تھے ۔ اسی لیے " آثار الصنادید میں بھاری بھر کم الفاظ
بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ شبلی نعمانی اس کی ایک بڑی وجہ یہ قرار دیتے ہیں کہ چونکہ
اس زمانے میں اردو زبان علمی زبان تسلیم نہیں کی گئی تھی اس لیے جب کوئی علمی
حیثیت سے کچھ لکھنا چاہتا تھا تو فاری نما طرز اختیار کرتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ سرسید
نے بھی ” آثار الصنادید میں اسی طرز کو اپنایا۔ لیکن سرسید نے جب تہذیب الاخلاق
نام کا پرچہ جاری کیا تو اس میں سادہ اور سلیس زبان کا استعمال کیا۔ شبلی لکھتے
ہیں کہ اردو انشا پردازی کو سرسید نے جس رتبے پر پہنچایا اس سے ایک قدم آگے بڑھنا
اب ممکن نہیں۔ شبلی نعمانی نے انشا پردازی میں سرسید کا موازنہ فارسی کے شعر او
ادبا سے بھی کیا ہے اور کہا ہے کہ فردوسی، سعدی، نظامی اور ظہوری وغیرہ سے بھی اس
معاملے میں وہ آگے ہیں ۔ وجہ یہ ہے کہ سرسید نے اخلاق ، معاشرت، پالیٹکس، مناظر
قدرت وغیر ہ سب پر لکھا ہے اور جو کچھ لکھا ہے لا جواب لکھا ہے ۔ اپنی بات کی دلیل
میں شبلی نعمانی نے سرسید کے مضمون سے ایک دو اقتباس بھی اخذ کیے ہیں اور یہ ثابت
کرنے کی کوشش کی ہے کہ سرسید نے واقعی مضمون نگاری کا حق ادا کر دیا ہے۔ اس سلسلے
میں سرسید کا اقتباس شبلی کے مذکورہ مضمون میں دیکھا جاسکتا ہے جس سے صاف ظاہر ہے
کہ انہوں نے اردو نثر کو کس طرح صیقل کر کے اس قابل بنایا ہے۔ سرسید نے اپنے مضمون
میں انگریزی کے ادبا سے بھی استفادہ کیا ہے۔ لیکن انہوں نے ترجمہ نہیں کیا بلکہ
اپنے انداز میں اس خیال کو پیش کیا۔ شبلی لکھتے ہیں کہ چونکہ ترجمے کا طریقہ بے سود
ثابت ہوا ہے اس لیے سرسید نے ترجمے سے کام نہ لے کر ان کے مضامین کو اپنی زبان میں
ادا کیا ہے۔
اس مضمون سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ سرسید ہر طرح کے مضمون قلم بند کرنے پر قدرت رکھتے تھے۔ سیاسی مضامین بھی انہوں نے لکھے ہیں اور یہاں بھی اپنی قابلیت کا سکہ جمایا ہے۔ اور ان کا بڑا کمال اس موقع پر ظاہر ہوتا ہے جب وہ کسی علمی مسئلے پر قلم اٹھاتے ہیں ۔ شبلی اس سلسلے میں فرانس کے ایک بڑے مصنف رینان کا حوالہ دیتے ہیں ۔ اس نے کہا تھا کہ عربی زبان فلسفی مسائل کو ادا کرنے سے قاصر ہے۔ لیکن اس کا خیال محض غلط ہے۔ سرسید نے فلسفی مسائل کو اردو جیسی کم مایہ زبان میں ادا کر دیا ہے۔ شبلی نعمانی ایک پُر خلوص اور دیانت دار نا قد تھے۔ انہوں نے اپنے مضمون میں تنقید کا حق ادا کر دیا ہے۔ وہ اس طرح کہ سرسید سے اختلاف کے باوجود جب انہوں نے سرسید پر مضمون لکھا تو ان باتوں کو بالائے طاق رکھ کر اخلاص سے کام لیا اور کہا کہ فلسفہ الہیات کے مسائل کو سرسید نے جس زبان میں ادا کیا کوئی اور شخص کبھی ادا نہیں کر سکتا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سرسید احمد خاں ایک بڑے انشا پرداز تھے۔ ان کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ اپنی تحریروں میں ظرافت اور شوخی سے بھی کام لیتے ہیں اور یہ تہذیب کے دائرے میں ہوتا ہے۔ شبلی نعمانی اس سلسلے میں ایک مثال پیش کرتے ہیں کہ مولوی علی بخش خاں کو سرسید کے مذہبی نقطہ نظر سے اختلاف تھا۔ وہ مکہ گئے اور سرسید کے خلاف کفر کا فتویٰ لے آئے۔ سرسید نے اس بات کو اپنے ایک مضمون میں مزاحیہ انداز میں پیش کیا۔ اور کہا کہ ”سبحان اللہ ہمارا کفر بھی کیا کفر ہے، کہ کسی کو حاجی اور کسی کو ہا جی ، اور کسی کو کافر اور کسی کو مسلمان بنا تا ہے ۔“ شبلی نعمانی کا مضمون ”سرسید مرحوم اور ار دولٹریچر ایک معلوماتی ، کامیاب اور پر اثر مضمون ہے۔ جس میں حق گوئی سے کام لیتے ہوئےسرسید کے کارناموں کا تہہ دل سے اعترف کیا گیا ہے۔ اور سرسید کا جو مرتبہ ہونا چاہئے اس کو متعین کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
انشائیہ مرحوم کی یاد
میں کا خلاصہ :
مرحوم کی یاد میں " پطرس بخاری کا ایک مزاحیہ مضمون
ہے اور اس کے پس پردہ طنز کا عنصر موجود ہے۔ پطرس لکھتے ہیں کہ میں اور مرزا صاحب ایک
دن برآمدے میں بیٹھے تھے دونوں اپنے اپنے خیالوں میں محو تھے۔ مرزا خدا جانے کیا سوچ
رہے تھے لیکن میں زمانے کی ناسازگاری پر غور کر رہا تھا۔ اس دوران میں نے ایک موٹر
کار خریدنے کا اظہار کیا۔ مرزا صاحب کہنے لگے اس کے لئے پیسوں کی ضرورت پڑے گی جو آپ
کے بس کی بات نہیں ہے۔ اسلئے میری ایک تجویز ہے کہ آپ میرا بائیسکل لے لو جو میں آپ
کو مفت میں دوں گا لیکن میں نے مفت لینے سے انکار کیا۔ آخر چالیس روپے مٹھی میں بند
کر کے مرزا کے جیب میں ڈال دیے اور مرزا کو صبح تک سائیکل لازمی روانہ کرنے کا کہہ
آیا تھا۔ رات کو بستر پر بائیسکل پر سیر کرنے کے لئے بہت کچھ سوچتا رہا اور کشمیر کی
سیر کرنے کا خیال کر رہا تھا۔ صبح سویرے نوکر نے سائیکل آنے کی اطلاع دی۔ میں خوشی
خوشی اسے دیکھنے کے لئے آیا تو یہ ہی نہ سمجھ پایا کہ یہ ہے کیا۔ نوکر کے بتانے پر
معلوم ہوا کہ یہ وہی سائیکل ہے جو مرزا صاحب نے بھجوائی ہے۔ نوکر کو اس کی صفائی اور
اس کے پرزوں کو تیل دینے کا حکم دیا تو معلوم ہوا کہ صفائی کے بعد بھی یہ میلا لگتا
ہے اور اس کے تیل دینے کے تمام سوراخ بند ہیں۔
آخر کار بائیسکل پر سوار ہوا۔
پہلا ہی پاؤس چلایا تو ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی مردہ اپنی ہڈیاں چھٹا چھٹا کر اپنی
مرضی کے خلاف زندہ ہو رہا ہو۔ زنجیر ڈھیلی ڈھیلی تھی۔ میں جب کبھی پیڈل پر زور ڈالتا،
زنجیر میں ایک انگڑائی کی پیدا ہوتی جس سے وہ تن جاتی اور چڑ چڑ بولنے لگتی۔ پھر ڈھیلی
ہو جاتی۔پچھلا پہیہ گھومنے کے علاوہ جھومتا بھی تھا۔ یعنی ایک تو آگے کو چلتا تھا،
دوسر ا دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں کو بھی حرکت کرتا تھا۔ چنانچہ سڑک پر جو
نشان پڑھتا جاتا تھا، اسے دیکھ کر یوں لگتا تھا جیسے کوئی مخمور سانپ لہرا کے گزر گیا
ہو۔ سائیکل میں سے طرح طرح کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ کیونکہ جو سائیکل مرزانے مجھے
دیا تھا وہ بہت پرانا تھا۔ اسلئے میرے لئے تکلیف دہ ثابت ہوا۔
آس پاس کے جتنے بھی لوگ تھے
وہ سر اٹھا کر میری طرف دیکھتے تھے جب سائیکل ، اترائی پر ذرا تیز ہوا تو ایسا معلوم
ہوتا تھا کہ جیسے فضا میں بھونچال سا آ گیا ہو۔ مکینک کو دکھایا ہے ملود بیچنے کی کوشش
کی تو الٹنا اپنا مزاج بنوایا۔ آخر جب اس سائیکل نے سب کے سامنے بیچ سڑک کے پنچ ڈالا
تو لوگوں کی ریمارکس کی پروانہ کرتے ہوئے بائیسکل کو دریا میں ڈال دیا اس کے بعد مرزا
کے گھر جا کر وہ سارے اوزار مرزا کو واپس کیے جو وہ مجھے مفت عنایت کر چکے تھے اور
گھر جا کر علم کیمیا کی کتاب کا مطالعہ کرنے لگا۔
اردو ادب کے صف اول کے مشہور
و نامور افسانہ نگار، مزاح نگار ، مترجم ، معلم، نقاد ، ماہر نشریات اور پاکستان کے
سفارت کار کا نام سید احمد شاہ تھا جو کہ پطرس بخاری کے نام سے مقبول ہوا۔ احمد شاہ
۵ دسمبر
اکتوبر ۱۸۹۸
کو پشاور میں پیدا ہوئے۔ ان کے عہد میں ابتدائی تعلیم گھر
پر ہی دی جاتی تھی اسی لیے انھوں نے قرآن پاک کا ناظرہ گھر پر ہی پڑھا بعد ازیں ان
کو فارسی کی تعلیم بھی دی گئی۔اسکول کی تعلیم پشاور سے حاصل کی۔کالج پڑھنے کے لیے آپ
کے والد نے آپ کو گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لے دیا۔ مزید اعلیٰ تعلیم بیرونی ملک
سے حاصل کی اور اسی سلسلے میں انگلستان چلے گئے۔ آپ نے گورنمنٹ کالج میں انگریزی کے
لیکچرر کی حیثیت سے ملازمت اختیار کی بعد ازیں ترقی کر کے پرنسپل کے عہدے پر فائز ہوئے۔
پطرس اردو طنز و مزاح میں ایک نئے اسلوب کے خالق ہیں۔ ان
کا اسلوب شوخی، شائستگی اور ظرافت کا حسین مرقع ہے۔ ان کے مزاحیہ مضامین میں انسانی
نفسیات کی گرہیں کھلتی نظر آتی ہیں۔ ان کے کردار اپنی حرکت و عمل سے ہمیں مسکرانے اور
بعض اوقات قہقہے لگانے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ مضامین پطرس کے مطالعے سے ان کی ذہنی
طبائی، انسانی نفسیات پر ان کی بھر پور گرفت ، زبر دست قوت مشاہدہ اور تخیل کی بلند
پروازی کا اندازہ ہوتا ہے۔ ان کی تحریروں میں کسی قسم کی بناوٹ یا تصنع نہیں ملتا بلکہ
قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ یہ فطری بات ہے۔ وہ واقعات اور کرداروں کو اس طرح پیش کرتے
ہیں کہ خود بخود مزاح پیدا ہو جاتا ہے۔
پطرس بخاری اردو کے بہترین اور صف اول کے پہلے با قائدہ
مزاح نگار ہیں۔ ان کا اند اند بیاں سادہ سلیس اور آساں ہے۔ ان کی تحریریں دیکھیں تو
یوں معلوم ہو رہا ہے جیسے آپ کتاب پڑھ نہیں رہے بلکہ آپ بات کر رہے ہیں۔ تحریروں میں
انسان اس قدر مستغرق ہو جاتا ہے کہ ہمیں گویا یہ لگنے لگتا ہے جیسے وہ ہم سے گویا ہیں
۔ ہم جو کہنا چاہتے ہیں وہی وہ بیان کر رہے ہیں۔ ہم کلامی کی سی کیفیت ان کے یہاں بہت
منفر د پائی گئی ہے جو کسی اور کے لکھے میں نہیں۔ ان کا طنز ، مضامین ان کے یہاں واقعہ
جس انداز سے بیان ہوتا ہے لفظوں کا احسن طریقے سے انتخاب اور جملوں کی بنت کاری مضمون
میں مزاح سے کچھ بڑھ کر بنادیتی ہے جیسے جیسے انسان پڑھتا جاتا ہے ایک فلم کی مانند
سب سامنے چلنے لگتا ہے۔ ان کے یہاں محاورے ضرب المثال اور اشعار کی اپنی مزاح کی لغت
میں بیان کرنا اور ان سے مضحکہ خیز واقعات کی تصویر کشی کرنا ایسی مہارت اور خوبصورتی
سے کہ سحر انگیزی پھیل جاتی۔
ان کے کردار گویا ہمارے آس
پاس چلتے پھرتے رتے گھومتے گھومتے نظر نظر آتے آتے ہیں۔ ہیں۔ ان ان کا کا عام عام الناس
الناس کے کے رویوں رویوں اور اور نفسیات نف کو سمجھنا اور زندگی کے بالکل بنیادی شعبوں
کا قریب سے معائنہ ان کی مہارتوں میں سے ایک مہارت ہی کا کمال ہے۔ انھوں نے جائزے سے
انسانی زندگی کے نازک ، لطیف اور نرم و ملائم پہلوؤں پر قلم اُٹھایا ہے۔ آپ کی تحریروں
میں پیش کئے گئے کرداروں اور واقعات کا تعلق کسی خاص معاشرے سے نہیں، بلکہ آپ نے تمام
تہذیبوں میں پائی جانے والی یکساں صفات کی عکاسی کی ہے۔پطرس بخاری کو برطانوی سرکار
نے اعزاز سے نوازا ہے۔۲۰۰۳
میں حکومت پاکستان نے آپ کی ادبی خدمات کے اعتراف میں آپ
کو ہلال امتیاز سے نوازا۔
پاکستان ڈاک نے آپ کے نام کا ایک یاد گار ٹکٹ جاری بھی کیا تھا۔۵ /دسمبر ۱۹۸۵ کو نیو یارک امریکہ میں سب لبوں پر ہنسی بکھیر نے والے احمد شاہ راہی ملک عدم ہو گئے۔ آپ کو نیو یارک میں ہی مدفن کیا گیا۔
مرزا اسد اللہ خان غالؔب کی غزل گوئی:
27 دسمبر 1797 کو اکبر آباد یعنی آگرہ میں مرزا عبد اللہ خاں کے گھر ولادت ہوئی۔ نسلی اور
نسبی رشتے ترک آل سلوق سے ملتے ہیں جنہوں نے صدیوں تک وسط ایشیا میں حکمرانی کی
ہے۔ غالب کو اس نسبت پر بڑا ناز بھی تھا اور وہ بڑے فخر سے خود کو ترک سلجوقی
بتاتے تھے۔ مغل شہنشاہ شاہ عالم کے عہد میں آپ کے دادا مرزا قوقان بیگ سمرقند سے
ہندوستان آگئے اور دربار شاہی میں منصب و مرتبہ ملا۔ جاگیر بھی عطا ہوئی۔ مرزا
غالب، پیار سے مرزا نوشہ کہے جاتے تھے۔ ابھی پانچ برس کے ہی تھے والد ایک جنگ میں مارے
گئے ۔ چھوٹی سی عمر میں یہ ایک بڑا صدمہ
تھا۔ باپ کے بعد غالب کی پرورش کی ذمہ داری چا نصر اللہ بیگ نے سنبھالی لیکن یہ
سلسلہ بھی زیادہ نہ چلا اور ایک حادثے میں ان کی بھی موت ہوگئی ۔ تقریبا نو برس کی
عمر میں غالب کے لئے یہ دوسرا بڑا جھٹکا تھا۔ان کے نانا غلام حسین خاں آگرہ کے
رئیسوں میں شمار ہوتے تھے۔ نصر اللہ بیگ کی جاگیر کے عوض مرزا نوشہ کو بھی ساڑھے
سات سوروپے سالانہ پینشن ملنے لگی۔ جیب گرم اور کوئی روکنے ٹوکنے والا بھی نہیں۔
ایسے میں مرزا نوشہ بے راہ روی کا شکار ہو گئے ۔ مولوی شیخ معظم اور نظیر اکبر
آبادی سے چند کتابوں کے رسمی درس کے بعد مکتبی تعلیم بھی جاری نہ رہی۔ بس کھانا
پینا اور کھیل تماشے ، چند برس یوں ہی گزرے۔ کتب بینی اور علمی صحبتوں کے فیض کے سبب مرزا
غالب کو کئی علوم وفنون میں ملکہ حاصل تھا۔ اردو تو اردو، فارسی میں بھی وہ اہل
زبان کی طرح عبور رکھتے تھے۔ یہی نہیں اچھی خاصی عربی بھی جانتے تھے۔ علم نجوم اور
تصوف میں بھی دخل تھا۔
دستور زمانہ کے مطابق
مرزا نوشہ کی شادی بھی بہت کم سنی میں ہی ہو گئی تھی۔ شادی کے بعد مرزا نوشہ کا
دہلی آنا جانا شروع ہوا اور 13-1812 میں وہ مستقل طور پر آگرہ سے دہلی ہی آگئے ۔
کچھ خاندانی وجاہت و مراتب کا خیال اور کچھ دل کی رئیسی کمپنی بہادر سے ملنے والی
قلیل پینشن میں گزر بسر کے بجائے مرزا نے عیش کی زندگی جینے کی ٹھان لی۔ مکان
کرایہ کا مگر رہن سہن بالکل شاہانہ۔شراب کا شوق تو پہلے ہی سے تھا لیکن عشق نے اس
میں اور بھی رفتار بھر دی اور فاقہ مستی کے رنگ لانے کی امید میں وہ نشہ میں ڈوبتے
چلےگئے۔
تنگ دست و مقروض ہوتے گئے
۔ آمدنی بڑھانے کے لئے مرزا غالب نے لاکھ کوششیں بھی کیں۔ پنشن بڑھوانے کے لئے
کمپنی بہادر سے فریاد کرنے فروری 1828 میں کلکتہ تک گئے۔ ریزیڈینٹ اور مہارانی کے
یہاں بھی اپیل کی لیکن پینشن نہ بڑھنی تھی اور نہ بڑھی۔ یوں تو مرزا غالب بہت خلیق
اور منکسر مزاج تھے لیکن آداب مجلس کا حد درجہ خیال رکھتے ۔ جہاں خاطر خواہ غزت نہ
ملے وہاں کسی بھی قیمت پر جانا ہرگز پسند نہ کرتے تھے 1842 میں دہلی کالج میں
فارسی کی مددری کی پیش کش ہوئی لیکن ملاقات کے وقت گورنمنٹ سکریٹری مسٹر نامسن نے
اٹھ کر استقبال نہ کیا تو اسے کسر شان سمجھا اور الٹے پاؤں لوٹ آئے۔
اولاد کا سکھ بھی مرزا
نوشہ کے نصیب میں نہیں تھا۔ ہوئے تو سات بچے لیکن جیا کوئی نہیں۔ اپنی اولاد سے
مایوسی کے بعد کو غالب نے زین العابدین عارف کو بیٹابنا کر اپنی زندگی کی ساری
امیدیں ان سے وابستہ کرلی تھیں مگر عارف کی اچانک موت نے مرزا غالب کی امیدوں کا
یہ چراغ بھی گل کر دیا۔
جس زمانے
میں مغلیہ سن کا چراغ ٹمٹما رہا تھا اورمشرقی تہذیب کا آفتاب غروب ہونے کو تھا اس
وقت شعر و ادب کی دنیا میں چند ایسی شمعیں
روشن ہوئیں جنھوں نے آنکھوں کو خیرہ کر دیا ۔ مرزا اسد اللہ خان غالب اس عہد کے سب
سے نامور شاعر ہیں ۔ ان کے دم سے اردو شاعری کی دنیا میں ایک انقلاب پیدا ہو
گیا۔ بقول پروفیسر آل احمد سرور "
غالب سے پہلے اردو شاعری دل والوں کی دنیا تھی ، غالب نے اسے ذہن دیا" انھوں
نے غزل میں نئے موضوعات اور نئے مضامین داخل کرکے اس کا دامن وسیع کر دیا ۔اردو
ادب میں غالب کو بہت بلند رتبہ حاصل ہے ۔ وہ ہماری زبان کے بہت بڑے نثر نگار بھی
ہیں اور بہت بڑے شاعر بھی ۔ یہ بات بھی
ذہن میں رکھنے کی ہے کہ پہلے وہ اسد تخلص کرتے تھے ۔اس تخلص ترک
کو کر کے غالب تخلص اختیار کیا ۔ غالب کا نام اسد اللہ خاں اور عرقیت مزا
نوشہ تھی مغل بادشاہ کی طرف سے نجم الدولہ
دبیر الملک اور نظام جنگ کے خطابات عطا ہوئے تھے ۔۱۷۹۶ء میں آگرے میں مرزا
کی ولادت ہوئی ۔ ان کا سلسلۂ نسب افراسیاب بادشاہ توران تک پہنچتا ہے ۔ ان کے
داداشاہ عالم کے زمانے میں ایران سے دہلی
پہنچے۔ یہاں انھیں اعزاز و اکرام سے نوازا گیا اور پہاسو کا علاقہ بطور جاگیر عطا
ہوا جو آگے چل کر ہاتھ سے نکل گیا۔ ان کے والد عبد اللہ بیگ ملازمت کے سلسلے میں
مختلف مقامات پر رہے ۔ آخرکار راجہ بختاور سنگھ کے ملازم ہوئے ۔ ۱۸۰۱ء میں کسی
لڑائی میں مارے گئے اور چچا نے پرورش کی ذمہ داری قبول کی ۔ یہ اکبر آباد کے
صوبیدار تھے ۔ مرزا صرف نو برس کے تھے کہ چا کا انتقال
ہوگیا۔ سرکار انگریزی کی طرف سے مرحوم کے وارثوں کی پنیشن مقرر ہوگئی جس میں
سے سات سو روپے سالانہ مزا کو بھی ملتا
تھا۔ کچھ دوں بہادرشاہ کے کلام پر کبھی اصلاح دی پچاس روپے ماہانہ یہاں سے بھی
مقرر تھا ۔ ۱۸۵۷ء کا ہنگامہ ہوا تو انگریزی سلطنت نے مرزا کو باغیوں سے کا میں
شمار کر کے پنشن بند کر دی میغل سلطنت کا تو خاتمہ ہو ہی چکا تھا۔ مرزا کی گز شکل
ہوگئی ۔ ہو ۔ سو روپے مہینہ نواب رامپور کی سرکار رامپور کی سرکار سے ملتا
تھا۔ بڑی دوڑ دھوپ کے بعد غالب اپنی بے گناہی ثابت کرنے میں کا میاب ہوئے اور انگریزی سرکارے
پنیشن بحال ہوگئی ۔ غالب کو اپنے حسب نسب اپنے
شاعرانہ رتبہ دونوں پر ناز تھا۔ وہ شاہانہ زندگی گزارنے کے خواہش مند تھے مگر یہ
آرزو پوری نہ ہوئی۔ ۱۸۶۹ء میں وفات پائی۔ اس وقت بہتر برس کے تھے ۔
غالب نے شعر کہنا تو اسی وقت شروع کر دیا تھا جب
، و وہ آگرے میں تھے لیکن اس وقت تک ان کی
شاعری میں فارسیت کا غ کا غلبہ تھا ۔ دہلی آنے پر بھی بھی وہی انداز رہا۔ لوگوں کو
غالب کی اس روش پر بہت شکایت تھی ۔ آخر
کار خود غالب کو اس کا احساس ہوا اور انھوں نے اپنا سخن رنگ بدلنے کی کوشش کی کی۔ چنانچہ مشکل گوئی رفتہ
رفتہ ان کے کلام سے دور ہوتی گئی۔ یہاں تک کہ وہ سادہ وسہل زبان میں شعر کہنے لگے
۔ غالب کے شعر صرف اسی لیے مشکل نہیں ہوتے کہ ا ان میں فارسی الفاظ کی کثرت ہے بلکہ
اس کا ایک سبب اور بھی ہے۔ ان کا تخیل بہت بلند ہے ۔ خیال کی پرواز کبھی اتنی اوپر
ہو جاتی ہےکہ شعر پہیلی بن جاتا ہے اس لیے
بعض شعر تولوگوں کی سمجھ میں اس وقت آئے جب
شاعر نے خود ان کا مطلب بیان کیا ۔ تہہ داری بھی غالب کے کلام کی ایک اہم صفت ہے یعنی پہلی نظر میں شعر
کا ایک مفہوم سمجھ میں آتا ہے غور کیجیے تو اس کی تہہ سے دوسرے معنی نکلتے ہیں ۔ اس
تہہ داری نے بھی ان کے کلام کو مشکل بنایا دیا تین چیزی ہیں جن کے سبب غالب کا کلام
کبھی کبھی ہماری سمجھ سے بالاتر ہو جاتا ہے : (1) فارسیت کا غلبہ یعنی مشکل فارسی الفاظ
کا ستعمال (۲) تخیل
کی بلند پروازی اور (۳) تہہ
داری ۔
غالب کی اس مشکل گوئی کی لوگوں
کو شکایت ہوئی جب غالب کے شعروں کو مہل کہا گیا تو انھوں نے جواب دیا ہے
؎ ستائش کی تمنا نہ سلہ کی پروا گر
نہیں ہیں مرے اشعارمیں معنی نہ سہی
لیکن یہ رد عمل وقتی تھا۔ وہ آہستہ آہستہ سہل گوئی کی طرف
آئے یہاں تک کہ انھوں نے اپنے کلام کا ایک انتخاب تیار کیا اور باقی کو منسوخ کر دیا
لیکن یہ منسوخ کلام ضائع ہونے سے بچ گیا اور آج بھی موجود ہے ۔ غالب کسی کے نقش قدم
پر چلنا گوارا نہیں کرتے ۔ انھوں نے اپنا راستہ آپ نکالا اور سب سے الگ نکالا۔ ایک
فارسی شعر میں انھوں نے کہا ہے کہ دوسروں کے پیچھے چلنے سے آدمی اپنی منزل کھو دیتا
ہے ۔ اس لیے جس راستے سے کارواں گزرا ہے ۔ میں اس راستے پر چلنا پسند نہیں کرتا۔ اپنا
راستہ الگ نکالنے کی خواہش نے بھی غالب کے کلام کو پیچیدہ بنایا۔شوخی و ظرافت بھی غالب
کے کلام کی ایک اہم خصوصیت ہے ۔ وہ ایک ہنس مکھ انسان تھے اور اپنی دلچسپ باتوں سے
دوسروں کو بھی خوش رکھنا چاہتے تھے ۔ ان کی زندگی کے واقعات کا مطالعہ کیجیے، ان کے
خطوط پڑھیے یا ان کے دیوان کی ورق گردانی کیجیے، انکی پر لطف باتیں ، ان کے دلچسپ لطیفے
، چٹکلے قدم قدم پر آپ کو اپنی طرف متوجہ کریں گے۔ وہ ہر ایک سے چھیڑ چھاڑ کرتے نظر
آتے ہیں ۔ نہ زاہد کو بخشتے ہیں، نہ جنت ، دوزخ اور فرشتوں کو چھوڑتے ہیں ، نہ محبوب
کو معاف کرتے ہیں ۔ حد یہ ہے کہ خود اپنا مذاق اڑانے سے نہیں چور کہتے ۔
؎
جس میں لاکھوں برس کی حوریں ہوں
ایسی جنت کا کیا کرے کوئی
؎ وہ
لحد پہ بوئے مے تھی کہ نہ آسکے فرشتے میں عذاب میں پھنسا تھا جو نہ بادہ خوار ہوتا
؎
آئینہ دیکھ اپنا سا منھ لے کے رہ گئے
صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا
غالب کے کلام کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس میں غور و فکر کا
انداز پایا جاتا ہے۔جگہ جگہ احساس ہوتا ہے کہ وہ کچھ سوچ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان
کے کلام میں جا بجا سوال ملتے ہیں ۔ وہ فلسفی نہیں مگر ان کا انداز فلسفیا یہ ہے مفکر
نہیں مگر نظر حکیمانہ ہے۔ اسی لیے پروفیسر آل احمد سرور نے فرمایا ہے کہ غالب نے اردو
شاعری کو ذہن دیا۔
؎ جب
کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود پھر یہ
ہنگامہ اے خدا کیا ہے؟
غالب اردو کے بہت بڑے شاعر ہیں اور بلاشبہ وہ اپنے عہد کی آواز ہیں ۔ ان کے کلام کی مقبولیت کسی دور میں کم نہیں ہوئی اور یقین ہے کہ ان کے پرستاروں کا دائرہ آئیندہ اور بڑھے گا۔
غزل
سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں
قید میں یعقوب نے لی گو نہ یوسف کی خبر
لیکن آنکھیں روزن دیوار زنداں ہو گئیں
سب رقیبوں سے ہوں نا خوش پر زنان مصر سے
ہے زلیخا خوش کہ محو ماہ کنعاں ہو گئیں
نیند اس کی ہے دماغ اس کا ہے راتیں اس کی ہیں
تیری زلفیں جس کے بازو پر پریشاں ہو گئیں
میں چمن میں کیا گیا گویا دبستاں کھل گیا
بلبلیں سن کر مرے نالے غزل خواں ہو گئیں
وہ نگاہیں کیوں ہوئی جاتی ہیں یارب دل کے پار
جو مری کوتاہیٔ قسمت سے مژگاں ہو گئیں
رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں
یوں ہی گر روتا رہا غالبؔ تو اے اہل جہاں
دیکھنا ان بستیوں کو تم کہ ویراں ہو گئیں
مخدوم کی نظم نگاری
مخدوم محی الدین کا شمار
بلند پایہ ترقی پسند شعرا میں ہوتا ہے۔ جنھوں ترقی پسند ادبی رجحان کو فروغ دینے
میں قلمی اور عملی دونوں سطح پر اہم کردار ادا کیا۔ مخدوم نے اپنا شعری مواد براہ
راست اپنے عہد کے سیاسی وسماجی ماحول سے اخذ کیا اور اس باب میں واقعیت نگاری کے
پہلوکو بنیادی اہمیت دی اور اسے اپنی شعری تخلیقات میں میں طور پر اجاگر کیا۔
حقیقت یہ کہ مخدوم کی شاعرانہ شخصیت اپنے زمانے کے ترقی پسند شعرا سے فکری وٹی
برتاؤ کے اعتبار سے واضح طور پرمختلف ہے۔ البتہ ان کے یہاں مہاز اور فیض کی طرح
گداز نفس گی اور گھلاوٹ ہے۔ مخدوم کی شاعری کی ابتدا تو ۱۹۲۳ء کے آس پاس ہوئی ۔ طالب
علمی کے دوران ہی انھون نے شاعری کی ابتدا کر دی تھی ان کی پہلی نظم ” پہیلا
دوشالہ ہے۔ مخدوم کی یہ نظم کافی مقبول ہوئی ۔ مخدوم کی پہلی مطبوعہ نظم طور“ ہے
جو رسالہ ایوان مدیر مجنوں گورکھپوری ، میں ۱۹۳۳ء میں شائع ہوئی ۔ مخدوم
کے ابتدائی کلام پر جوش اختر شیرانی اور حافیظ جالندھری کے اثرات نمایاں نظر آتے
ہیں ۔ یہ اثرات سرخ سویرا‘ کی شاعری تک محدود ہیں ۔ گل تر اور بساط رقص کا رنگ سخن
یکسر مختلف ومنفرد ہے۔ نظم طور کا یہ بند ملاحظہ ہو:
بلائے فکر فردا ہم سے کوسوں دور ہوتی تھی
سرور سرمدی سے زندگی معمور ہوتی تھی
ہماری خلوت معصوم رشک طور رہتی تھی
ملک جھولا جھلاتے تھے غزل خواں حور ہوتی تھی
یہیں کھیتوں
میں پانی کے کنارے یاد ہے اب بھی
جوش اور اختر کے علاوہ مخدوم کی ابتدائی نظموں پر حفیظ
کے اثرات نمایاں ہیں ان بے ی وطن، مسافر، مستلقبل ، جنگ آزادی ،ستارے وغیرہ قابل
ذکر ہیں۔مخدوم کی ابتدائی نظمیں جو رومان کے اثر سے لبریز ہیں اور مجموعہ سرخ
سویرا میں ملتی ہیں ان میں لمحہ رخصت، جوانی ، انتظار، وہ، آتش کدہ اور پشیمانی
خاص طور سے قابل ذکر ہیں ۔ یہ تمام نظمیں جذبے کے شدت سے لبریز ہیں ۔ یہ نظمیں روایت
سے انحراف نہیں ہیں لیکن ذاتی تجربے نے ان نظموں میں ایک نیا تاثر پیدا کیا ہے۔
سرخ سویرا (۱۹۴۴ء) کی اشاعت کے کم و بیش
سترہ برس کے بعد مخدوم کا دوسرا مجموعہ کلام’ گل تر‘ اگست ۱۹۶۱ء میں شائع ہوا۔ اس طویل
خاموشی سے مخدوم کے قاری تقریب مایوس ہو چکے تھے۔ یہ مجموعہ اپنی کیفیت اور اسلوب
کے اعتبار سے سرخ سویرا سے یکسر مختلف ہے۔ اس ارتقا ، اور شعری آہنگ کی ایسی مثال
فیض کے علاوہ شاید ہی کسی اور کے یہاں ملے۔ محل ترکی نمائندہ رومانی نظمیں چارہ
گر، آج کی رات نہ جا، جان غزل کے علاوہ دو انگریزی نظموں کے تراجم فاصلے اور ہم
دونوں قابل ذکر ہیں۔ پیار کی چاندنی، احساس کی رات اور سب کا خواب مکمل طور پر رومانی
نظمیں نہ سہی لیکن ان کا خمیر رومان ہی تیار ہوا ہے۔ اس مجموعہ میں اپنے افکار کے
نتائج اخذ کرتے ہوئے اور نا کام امیدوں پر افسردگی کا اظہار کرتے ہوئے مخدوم پھر
محبت کے موضوع کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔ مگر اب ذہنی پختگی اور دانش مندی ان کو شاعری
اور کا ئنات تخلیق اور زندگی کے نامیاتی تعلق کو ہمیشہ نظر میں رکھنے کا موقع
فراہم کرتی ہے۔ مخدوم کی رومانیت اب اونچی سطح کی تھی محبت اب انفرادی جذ بہ یا دو
شخصیتوں کا ملاپ نہیں تھی بلکہ مخدوم نے محبت کی ہمہ گیری اور عالمگیریت کو محسوس
کر لیا تھا اور محبت کو ایک بسیط جذ بہ سمجھنے لگے تھے۔ گل تر کی اشاعت کے پانچ
برس بعد بساط رقص کے عنوان سے دسمبر ۱۹۶۶ء
کو کلیات کی شکل میں منظر عام پر آیا۔ جمالیاتی حس، رنگ واهنگ ، صوت و سامعه، پیکر
تراشی و تجریدیت ، ان نظموں کی نمایاں خصوصیات ہیں ۔ نظم خواہشیں اسی نوع کی ایک
مثال ہے۔
خواہشیں
لال، پیلی ، ہری چادریں اوڑھ کر
تھر تھراتی پھرکتی ہوئی جاگ اٹھیں
جاگ اٹھی دل کی اندر سبھا
دل کی نیلم سری، جاگ اٹھی
مخدوم نے مروجہ سیاسی
حالات قومی اور بین الاقوامی مسائل، غلامی، فاشزم، جد و جہد آزادی اور انسانیت،
عدل و انصاف جیسے موضوعات پر متعدد میں لکھیں، ان میں جنگ آزادی مشرق، موت کا گیت
، قمر، سپاہی ، حویلی ، باغی، اسٹالن کی آرزو، اندھیرا، انقلاب، قید اور چاند تاروں
کا بن وغیرہ بطور مثال پیش کی جاسکتی ہیں۔ جنگ مخدوم کی پہلی سیاسی نظم ہے۔ لیکن
جہاں تک مخدوم کے انفرادی اہلہ کا تعلق ہے وہ اس نظم میں نظر نہیں آتا۔ جنگ اور اس
کے بعد کی نظمیں جن کا موضوع سیاست اور انقلاب ہے۔ مثلا مشرق ، موت کا گیت، آزادی
وطن، جہان نو حویلی، زلف چلیپا، انقلاب وغیرہ تک مخدوم کے اظہار بیان نے اپنی راہ
علاحدہ نہیں بنائی تھی۔ ہال میں بڑی حد تک جوش کے رومانی تصویر انقلاب سے متاثر
نظر آتی ہیں۔ نظم جنگ فاشزم کے خلاف صدائے احتجاج تھی۔ لیکن اس نظم کے آخری اشعار
سے وہی بے بسی اور بے چارگی لکتی ہوئی نظر آتی ہے جو اس وقت پوری قوم پر طاری
تھی۔جنگ ہی کی مانند ان کی نظم مشرق بھی ہے جس میں جہل ، فاقہ ، بھیک، نجاست کا
بیان ہے۔ روایت کے غلاموں کا تذکرہ ہے۔ وہ مشرق جس کے دست و باز و جھڑ چکے ہیں اور
جو مریض دق کی مانند ہے، کی مصوری کی گئی ہے۔
نظم حویلی مخدوم کی ایک
پر اثر نظم ہے۔ تکنیک کے اعتبار سے نظم جوش کے اسلوب سے قریب سہی لیکن نظم کی روح
میں نیا پن بھی ہے اور انفرادیت بھی۔ یہ نظم اپنی لفظیات و تشبیہات کے اعتبار سے
بڑی ندرت رکھتی ہے۔ جاگیرداری نظام میں حویلی ایک علامت کے طور پر ہے جہاں جرائم
اور گناہوں کا تماشا ہوتا ہے۔ ان تلخ سچائیوں کو اس نظم میں بخوبی بیان کیا گیا
ہے۔سپاہی اور انقلاب مخدوم کی مشہور نظموں میں سے ہیں۔ جنگ کا ایک پر درد نقشہ
سپاہی میں ملتا ہے۔ مخدوم کی نظم قید ، زندانی شاعرییہ ابتدائی مصرعے ہی قاری کو
اپنی خود کلامی اور ڈرامائیت کے سبب گرفت میں لے لیتے ہیں۔ نظم کے آخری یہ مصرعے
دیکھیں۔ جسن میں بلند بانگ دعوے پر نظم کا اختتام ہوتا ہے جو عام طور پر ترقی پسند
شعرا کی انقلابی نظموں سے مختلف ہے۔
سالہا سال کی افسردہ و مجبور جوانی کی امنگ
طوق وز نجیر سے لپٹی ہوئی سو جاتی ہے
کروٹیں لینے میں زنجیر کی جھنکار کا شور
خواب میں زیست کی شورش کا پتہ دیتا ہے
مجھے غم ہے کہ
مرا گنج گراں مایہ عمر
نزر زندں ہوا
نذر آزادی زندان وطن کیوں نہ ہوا
۱۹۵۸ء
میں مخدوم نے مشہور نظم’چاند تاروں کا بن لکھی۔ ہندوستانی معاشرے کے تاریخی ارتقا
کے تین دور انھوں نے علامتی انداز میں پیش کیے ۔ چاند تاروں کا بن اردو کی سیاسی و
انقلابی شاعری کی ایک عمدہ مثال ہے۔ اس میں جذ بہ فکر اور نظریہ اس طرح مدغم ہو
گیا ہے کہ ایک ایک لفظ تاثیر میں ڈوبا ہوا ہے۔ اس نظم میں مخدوم کی سیاسی و عوامی
زندگی کے تجربات کا نچوڑ ہے۔مخدوم کی نظموں کی خوبی یہ ہے کہ راست بیانیہ کی بجائے
رمز و استعارہ کی زبان کا استعمال کیا گیا ہے۔ مخدوم کی نظموں میں خواہ حسن ہو یا
غربت، بھوک افلاس، غلامی، تنگدستی ظلم و جور، مجاہد آزادی کے خون کو گرمانے کی
چاہت، ہر جگہ رمز و کنایہ کا عمل گہرا ہو جاتا ہے۔ اس کی بہترین مثال ان کی نظم
”چاند تاروں کا بن“ ہے۔ مخدوم بساط رقص کی اشاعت کے کم و بیش تین برس تک بقید حیات
رہے۔ تین برسوں میں مخدوم نے چاند تاروں کا بن یا قید جیسی کوئی نظم نہیں کہی۔ اس
عرصے میں جس سیاسی نظم پر نگاہ ظہرتی ہے وہ درہ موت ہے۔ یہ نظم ویت نام کے پس
منظر میں کی گئی ہے۔
طور
یہیں
کی تھی محبت کے سبق کی ابتدا میں نے
یہیں
کی جرأت اظہار حرف مدعا میں نے
یہیں
دیکھے تھے عشوۂ ناز و انداز حیا میں نے
یہیں
پہلے سنی تھی دل دھڑکنے کی صدا میں نے
یہیں
کھیتوں میں پانی کے کنارے یاد ہے اب بھی
دلوں
میں اژدہام آرزو لب بند رہتے تھے
نظر
سے گفتگو ہوتی تھی دم الفت کا بھرتے تھے
نہ
ماتھے پر شکن ہوتی نہ جب تیور بدلتے تھے
خدا
بھی مسکرا دیتا تھا جب ہم پیار کرتے تھے
یہیں
کھیتوں میں پانی کے کنارے یاد ہے اب بھی
وہ
کیا آتا کہ گویا دور میں جام شراب آتا
وہ
کیا آتا رنگیلی راگنی رنگیں رباب آتا
مجھے
رنگینیوں میں رنگنے وہ رنگیں سحاب آتا
لبوں
کی مے پلانے جھومتا مست شباب آتا
یہیں
کھیتوں میں پانی کے کنارے یاد ہے اب بھی
حیا
کے بوجھ سے جب ہر قدم پر لغزشیں ہوتیں
فضا
میں منتشر رنگیں بدن کی لرزشیں ہوتیں
رباب
دل کے تاروں میں مسلسل جنبشیں ہوتیں
خفائے
راز کی پر لطف باہم کوششیں ہوتیں
یہیں
کھیتوں میں پانی کے کنارے یاد ہے اب بھی
بہے
جاتے تھے بیٹھے عشق کے زریں سفینے میں
تمناؤں
کا طوفاں کروٹیں لیتا تھا سینے میں
جو
چھو لیتا میں اس کو وہ نہا جاتا پسینے میں
مئے
دوآتشہ کے سے مزے آتے تھے جینے میں
یہیں
کھیتوں میں پانی کے کنارے یاد ہے اب بھی
بلائے
فکر فردا ہم سے کوسوں دور ہوتی تھی
سرور
سرمدی سے زندگی معمور ہوتی تھی
ہماری
خلوت معصوم رشک طور ہوتی تھی
ملک
جھولا جھلاتے تھے غزل خواں حور ہوتی تھی
یہیں
کھیتوں میں پانی کے کنارے یاد ہے اب بھی
نہ
اب وہ کھیت باقی ہیں نہ وہ آب رواں باقی
مگر اس عیش رفتہ کا ہے اک دھندلا نشاں باقی
میر حسن کا تعارف
کہا جاتا ہے کہ میرحسن نے اگر مثنوی سحر البیان نہ لکھی
ہوتی تو بھی ان کا نام تاریخ ادب میں باقی رہتا وہ اس لیے کہ وہ میر خلیق کے والد
اور میر انیس کے دادا تھے لیکن میرحسن کو اس کی ضرورت نہیں انھوں نے ایک شاہ کار
تخلیق کیا جو کہ خود زندہ رہے گا اور اپنے خالق کو بھی زندہ رکھے گا۔ میرحسن دہلی
میں پیدا ہوئے تھے ان کے والد سودا کے ہم عصر میر غلام حسین ضاحک تھے ۔ ابتدائی
تعلیم انھوں نے اپنے والد سے حاصل کی ۔ دیلی اس وقت طوائف الملو کی کا شکارتھی وہ
بار بار بس کہ بار بار اجڑ رہی تھی ۔ باہری حملوں کی باعث و بلی کے کوچے اوراق
مصور بنے ہوئے تھے اور ایسے حالات میں لوگوں کو نان شبینہ میسر نہ تھا ، اہل فن
واہل کمال کی حالت دگرگوں تھی ۔ چنانچہ اہل کمال دہلی سے ترک سکونت کر کے ملک کے
مختلف مقامات کا رخ کر رہے تھے، اہل دہلی کا رخ اودھ کی طرف زیادہ تھا یہی وجہ ہے
کہ میر اور سودا جیسے شعراء نے بھی اودھ کی طرف رخ کیا۔ میرحسن کے والد بھی تلاش
معاش کے سلسلے میں فیض آباد چلے آئے ، اس وقت میر حسن کی عمر بارہ سال کی تھی
۔میرحسن کو شاعری وراثت میں ملی تھی یہ فیضان خدا داد بھی تھا اس لیے میر حسن نے
ہر صنف میں طبع آزمائی کی اس کےساتھ انھوں نے ایک تذکرہ بھی تصنیف کیا۔
اردو شاعری میں میر حسن
اپنی لازوال تصنیف مثنوی سحر البیان کے علاوہ کئی وجوہ سے زندہ ہیں۔ میرحسن نے
تقریباً گیارہ مثنویاں لکھی ہیں لیکن شہرت عام اور بقائے دوام کا نان میر حسن کے
سر پر مثنوی سحر البیان ہی نے رکھا ہے۔ مثنوی سحر البیان کا سن تصنیف ۸۵ ۷۸۲ تسلیم کیا جاتا ہے، میر
حسن نے اپنی اس تصنیف پر بڑا افخر کیا ہے اور اپنی نام وری کا ذریعہ قرار دیا ہے
کہرہے گا جہاں میں مرا اس سے نام کہ ہے یادگار جہاں یہ کلام میرحسن کی شہرت اور
مقبولیت کی وجہ مثنوی سحر البیان ہے۔ اس دور میں میر حسن نے مربوط اور باکمال مثنوی
لکھ کر ایسی شمع روشن کی جس کی روشنی میں کئی مثنویاں لکھی گئیں ۔
سحر البیان کا خلاصہ
مثنوی سحر البیان میر حسن کی شاہ کار مثنوی ہے۔ آئیے اب
اس کی کہانی سے متعارف ہوتے ہیں۔اس مثنوی کو مروجہ اجزاء کی پابندی کے تحت حمد،
نعت ، منقبت، اور فرمانروائے وقت کی تعریف کرتے ہوئے اپنی ناموری کا ذریعہ قرار
دیا ہے، اور اس کے بعد قصہ شروع ہوتا ہے۔ اس میں بادشاہ وقت کی پریشانی کی وجہ
اولاد نہ ہونا قرار دیا ہے۔ تبھی نجومی اور رمال اولا د ہونے کی پیشن گوئی کرتے
ہیں اور جب اولاد پیدا ہوتی ہے تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شہزادے کو بارہ سال تک
خطرہ درپیش ہے اس لیے اس کو باہر نہ نکالا جائے۔
شہزادہ بے نظیر تولد ہوتا ہے تو اس کی پرورش پوری حفاظت
کے ساتھ کی جاتی ہے، یہ مان کر کہ اس کے بارہ سال مکمل ہو گئے ہیں خوشی کے اظہار
کے لیے جلوس کی تیاریاں ہوتی ہیں شہزادے کو نہلا دھلا کر لباس فاخرہ زیب تن کرایا
جاتا ہے۔ بڑی شان وشوکت کے ساتھ جلوس نکلتا ہے جلوس سے واپس آنے کے بعد شہزادہ
کھلی چھت پر چاندنی رات میں سونے کی خواہش کرتا ہے اور بادشاہ اس کو اجازت دے دیتا
ہے لیکن بارہ سال کا وقت پورا ہونے میں ابھی ایک دن باقی تھا چنانچہ جب شہزادہ
کھلی چھت پر سور ہا تھا تو اس طرف سے ماہ رخ پری کا گزر ہوا وہ شہزادے بے نظیر کے
بے نظیر حسن پر فریفتہ ہو گئی اور سوتے ہوئے شہزادے کوپرستان لے گئی۔
جب شہزادے کی آنکھ کھلی
تو وہ پری کے گھر قید تھا، دن بھر پری بے نظیر کے ساتھ رہتی اور رات کو وہ اپنے
والدین کے پاس چلی جاتی تھی ،شہزادہ بے نظیر کا دل وہاں پر گھیرا تا تھا اس لئے
پری اس کو کل کا گھوڑالا کردیتی ہے اور اس گھوڑے پر شہزادہ سیر کو جانے لگا ایک رات
شہزادہ بے نظیر شہزادی بدر منیر کے باغ میں پہنچ گیا دونوں کی ملاقات ہوئی اور
دونوں ایک دوسرے کے عشق میں گرفتار ہو گئے ۔
اس طرح سے ہر رات دونوں کی ملاقاتیں ہونے لگیں جب ان ملاقاتوں کا پتا ایک دیو کے ذریعہ سے پری کو چلتا ہے تو وہ غصہ میں بے نظیر کو ایک کنویں میں قید کر دیتی ہے۔بدر منیر ہر رات شہزادے کا انتظار کرتی ہے اور اس کے فراق میں وہ تڑپتی ہے ایک رات وہ خواب میں شہزادے کو کنویں میں قید دیکھتی ہے۔ شہزادی کی سہیلی نجم النساء ( جو کہ وزیر زادی ہے ) سے بدر منیر کی حالت نہیں دیکھی جاتی ہے اور وہ جو گن کا بھیں بنا کرشہزادے کی تلاش میں نکلتی ہے اور جب وہ بین بجاتی ہے تو جن کا بیٹا فیروز شاہ اس پر عاشق ہو جاتا ہے، نجم النساء اس کی مدد سے شہزادے کو پری کی قید سے آزاد کراتی ہے۔آخر میں سب مل جاتے ہیں اور بے نظیر کی شادی بدرمنیر سے اور نجم النساء کی شادی فیروز شاہ سے ہو جاتی ہے۔ مثنوی کاانجام خوش گوار ہوتا ہے اور شاعر آخر میں سب کے لیے دعا کرتا ہے۔