2.Notes - (B.A, B.Com, B.Sc)First Year Sem-II(SL-II)

 Swami Ramanand Teerth Marathwada University, Nanded.


سوامی رامانند تیر تھ مراٹھواڑہ یو نیور سٹی ، ناندیڑ۔

 

Faculty of Humanities

شعبہ انسانیات

 

Effective from Academic year 2024 – 2025

روبہ عمل تعلیمی سال-2024-2025

(As per NEP-2020)

نئی تعلیمی پالسی 2020کے مطابق))

بی۔اے۔،بی ۔کام۔، بی ایس ۔سی۔اور بی ۔سی ۔ایس ،سال اوّل(میقات دوّم)

ثانو ی زبان اُردو   ( اُردو نثر اور قواعد)

 

یونٹ: نمبر1:۔افسانہ  Unit:-1 Afsana.        

                منشی پریم چند                                                  ولادت:  ١۸۸۸ء   وفات : ١۹۳٦ء   
پریم چند کا خاندانی نام دھنپت رائے تھا۔۳۱؍ جولائی۱۸۸۰ء کو اترپردیش ،بنارس کےقریب ایک چھوٹے سے گائوں لمہی میں پیدا ہوئے۔ احباب خانہ انھیں پیار سے نواب رائے کے نام سے پکارتے تھے۔ منشی پریم چند کے والد منشی عجائب لال ڈاک خانے میں ملازم تھے۔ پریم چند کی ابتدائی تعلیم گاوں میں ہوئی ۔ اردو اور فارسی پڑھنے کے بعد انٹرنس کا امتحان پاس کرکے پرائمری اسکول میں ٹیچر ہوگئے۔ چونکہ پریم چند کو تعلیم کا شوق تھا لہٰذا تعلیم کا سلسلہ منقطع نہ ہونے دیا اور ترقی کرتے کرتے بی۔ اے کی ڈگری حاصل کی۔پریم چند کو لکھنے پڑھنے کا شوق بچپن ہی سے تھا۔ ۱۹۰۲ء میں ٹریننگ کے لیے الہ آباد   کے ایک کالج میں داخل ہوئے تو ان کی طبیعت ناول نگاری کی طرف ما ئل ہوئی۔ یہیں انھوں نے اپنا پہلا ناول ’’اسرارِ معبد‘کے نام سےشروع کیا جس کی کچھ قسطیں بنارس کے ایک رسالے میں شائع   ہوئیں اسی زمانے میں پریم چند نے رسالہ ’’زمانہ‘‘کانپور کے لیے پابندی سے افسانے اور مضامین بھی لکھنے شروع کیے۔ ۱۹۰۸ء میں ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’’سوزِ وطن‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔چونکہ اس مجموعہ میں شامل مشمولات حب وطن اور آزادی کے جذبات سے مملو تھے۔ لہٰذا انگریز حکومت سے اسے ضبط کرکے نذرِ آتش کردیا۔ انگریزوں کے معاندانہ رویہ کے پیش نظر منشی دیا نرائن نگم کے مشورے  پرانھوں نے پریم چند کے قلمی نام سے لکھنا شروع کیا اور اسی نام سے مقبول ہوئے۔

            مختصر افسانے کی ابتداکا سہرا توراشد الخیری اور سجاد حیدر یلدرم کے سر ہی بندھے گا۔ البتہ فنی اعتبار سے پریم چند راشد الخیری پر سبقت لے جاتے ہیں۔پریم چند کی افسانہ نگاری پر غور کیا جائے تو بتدریج ارتقانظر آتا ہے۔ ان کے پہلے افسانوی مجموعے ’’سوز وطن ‘‘ سے لے کر آخری دور کے مجموعوں ’’واردات ‘‘ اور ’’زادراہ‘‘ کے افسانوں میں واضح فرق ہے۔ لہٰذا ان کی فسانہ نگاری کے مختلف رویوں اور رجحان کے مطالعہ کے لیے اسے تین ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پہلا دور۱۹۰۹ء سے لے کر۱۹۲۰ء کے عرصہ پر محیط ہے۔ دوسرا دور۱۹۲۰ء سے ۱۹۳۲ء تک اور تیسرا دور جو نسبتاً مختصر دور ہے یعنی۱۹۳۲ء سے۱۹۳۶ء تک ان کی زندگی کے آخری چار سال کا احاطہ کرتا ہے۔پہلے دور کے ابتدائی برسوں میں داستانوی اور رومانی رنگ غالب ہے۔ جذبہ حب الوطنی سے سرشار پریم چند کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’سوز وطن‘‘ زمانہ پریس کانپور سے شائع ہوا تھا۔ جسے انگریز سرکارکے عتاب کا شکار ہونا پڑا۔اس کے بعد وہ تاریخ نگاری اور اصلاح ِمعاشرہ کی جانب متوجہ ہوئے۔ اس وقت تک پریم چند کے افسانوں میں فنی اور تکنیکی پختگی نہیں آئی تھی اور ان کی تحریروں   میں داستانوی اسلوب غالب نظر آتا ہے۔  پریم چند نے ہندو معاشرے کی قبیح رسوم پر قلم اٹھایا اور بیوہ عورت کے مسائل ، بے جوڑ شادی ، جہیز کی لعنت اور چھوت چھات جیسے موضوعات پر افسانے لکھے۔افسانہ نگاری کے دوسرے دور میں پریم چند سیاست سے بھی متاثر نظر آتے ہیں۔ یہ دور برصغیر میں تحریکوں کا دور تھا۔

                       افسانہ نگاری کے دوسرے دور میں پریم چند نے دیہی زندگی کی طرف بھی توجہ دی اور انھوں نے دیہاتی زندگی کے مسائل کواپنے بیشتر افسانوں کا موضوع بنایا۔ ’’پوس کی رات ‘‘ ،’’سواسیر گہیوں‘‘ اور دیگر افسانے کسانوں کی غربت و افلاس کی عکاسی کرتے ہیں۔پریم چند کے افسانوں کا آخری دور مختصر عرصے پرمحیط ہے لیکن یہی دور ان کے نظریات کی پختگی اور ترویج کا دور بھی ہے۔ اس دور کے افسانوں کے موضوعات بھی سیاسی زندگی سے متعلق ہیں ۔ لیکن فن اور معیار کے اعتبار سے پچھلے دونوں ادوار کے مقابلے میں بہت بلند ہیں۔’’سوز وطن‘‘ کے افسانوں کے بعد پریم چند کے قلم سے حج اکبر ،بوڑھی کاکی، دو بیل ، نئی بیوی اور زادِ راہ جیسے افسانے تخلیق ہوئے اور پھر ان کا فن بتدریج ارتقائی منازل طے کرتا رہا۔ یہاں تک کہ ’’کفن ‘‘جیسا افسانہ لکھ کر انہوں نے دنیائے ادب میں اپنی فنی صلاحیتوں کا لوہا منوالیا۔اور ١۹۳٦میں و فات پائی۔

افسانہ عیدگا ہ کا خلاصہ

منشی پریم چند کا افسانہ "عید گاہ" اردو ادب کا ایک شاہکار ہے جو انسانی نفسیات، بچپن کی معصومیت اور ایثار و قربانی کی بے مثال عکاسی کرتا ہے۔ رمضان کے تیس روزوں کے بعد عید کا پرمسرت دن آیا ہے۔ گاؤں کا ہر منظر خوشی میں ڈوبا ہوا ہے۔ درختوں کی ہریالی، کھیتوں کی رونق اور آسمان کی فضا، سب اس دن کی برکتوں کا اعلان کر رہے ہیں۔ گاؤں میں غیر معمولی چہل پہل ہے، لوگ عید گاہ جانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ کوئی اپنے کپڑوں میں بٹن ٹانک رہا ہے تو کوئی جوتوں کو نرم کرنے کے لیے تیل لگا رہا ہے۔ بچے سب سے زیادہ خوش ہیں، اگرچہ بہت سوں نے روزے نہیں رکھے، لیکن عید گاہ جانے کی خوشی ان کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے۔اس خوشی کے ہجوم میں ایک چار سال کا معصوم بچہ حامد بھی ہے، جو یتیم ہے۔ اس کے والدین وفات پا چکے ہیں اور وہ اپنی بوڑھی دادی امینہ کی پرورش میں ہے۔ حامد کے پاس نہ نئے کپڑے ہیں، نہ جوتے اور نہ ہی پیٹ بھر کر کھانے کو کچھ، لیکن اس کی آنکھوں میں امید کی چمک ہے۔ وہ اس معصومانہ یقین میں مگن ہے کہ اس کے ابا جان روپے کمانے گئے ہیں اور اس کی امی جان اللہ میاں کے گھر سے اس کے لیے اچھی چیزیں لانے گئی ہیں۔دادی آمینہ کا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ اس کے پاس حامد کو عید دینے کے لیے صرف تین پیسے ہیں۔ اسے فکر ہے کہ حامد اکیلا اتنی دور عید گاہ کیسے جائے گا اور وہاں کی بھیڑ بھاڑ میں کہیں کھو نہ جائے۔

عید گاہ کا منظر انتہائی پروقار اور مساوات کا نمونہ ہے۔ امیر و غریب، سب ایک ہی صف میں کھڑے ہیں۔ پریم چند نے اس اتحاد کو "بجلی کی لاکھوں بتیوں کے ایک ساتھ روشن ہونے اور بجھنے" سے تشبیہ دی ہے۔ نماز ختم ہونے کے بعد لوگ ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں اور پھر میلے کی طرف رخ کرتے ہیں۔حامد کے دوست (محمود، محسن، نوری اور سمیع) میلے میں پہنچ کر کھلونوں اور مٹھائیوں کی دکانوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ کسی نے سپاہی خریدا، کسی نے بہشتی، کسی نے وکیل اور کسی نے خنجری۔ حامد کے پاس صرف تین پیسے ہیں، وہ جانتا ہے کہ یہ مٹی کے کھلونے گر کر ٹوٹ جائیں گے اور مٹھائی پل بھر کا مزہ دے کر ختم ہو جائے گی۔حامد اپنے نفس پر قابو پاتا ہے جب اس کے دوست ریوڑیاں اور گلاب جامن کھا کر اسے چڑاتے ہیں۔ وہ اپنی غربت کو اپنی غیرت اور دلیل سے چھپاتا ہے اور مٹھائیوں کو "کتابوں میں لکھی ہوئی برائیاں" قرار دیتا ہے۔

گھومتے پھرتے حامد کی نظر لوہے کی ایک دکان پر پڑتی ہے جہاں دست پناہ (چمٹا) رکھا ہوا ہے۔ اسے اچانک اپنی دادی یاد آتی ہے کہ روٹیاں پکاتے وقت ان کی انگلیاں جل جاتی ہیں۔ حامد سوچتا ہے کہ اگر وہ یہ چمٹا لے جائے تو دادی کتنی خوش ہوں گی اور یہ گھر میں ایک کام کی چیز بن جائے گی۔وہ دکاندار سے بھاؤ تاؤ کر کے اپنے تمام جمع پونجی (تین پیسے) دے کر وہ چمٹا خرید لیتا ہے۔ جب وہ چمٹا لے کر اپنے دوستوں کے پاس آتا ہے تو وہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں، لیکن حامد اپنی حاضر جوابی سے یہ ثابت کر دیتا ہے کہ اس کا چمٹا "رستمِ ہند" ہے، جبکہ ان کے مٹی کے کھلونے بزدل اور عارضی ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ میرا چمٹا آگ، پانی اور طوفان میں ڈٹا رہے گا۔

گھر پہنچتے ہی حامد کے دوستوں کے قیمتی کھلونے ایک ایک کر کے ٹوٹ جاتے ہیں، جس سے حامد کی دور اندیشی ثابت ہو جاتی ہے۔ جب حامد گھر پہنچتا ہے تو امینہ اسے گود میں لے کر پیار کرتی ہے، لیکن اس کے ہاتھ میں چمٹا دیکھ کر حیران اور غصے میں آ جاتی ہے کہ اس نے میلے میں کچھ کھایا پیا کیوں نہیں۔حامد جب بڑے پیار سے کہتا ہے: "تمہاری انگلیاں توے سے جل جاتی تھیں، اس لیے میں نے یہ لیا،" تو  آمینہ کے غصے کی جگہ مامتا اور شفقت لے لیتی ہے۔ وہ حامد کی اس عظیم قربانی اور ایثار کو دیکھ کر دنگ رہ جاتی ہے کہ ایک ننھے سے بچے نے میلے کی تمام رنگینیوں کو محض اپنی بوڑھی دادی کی تکلیف دور کرنے کے لیے قربان کر دیا۔آمینہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں اور وہ دامن پھیلا کر حامد کو دعائیں دینے لگتی ہے۔ یہاں پریم چند نے بوڑھی آمینہ کو ایک بچی کی طرح روتے ہوئے دکھایا ہے، جو حامد کی پختہ سوچ کے سامنے خود کو چھوٹا محسوس کر رہی ہے۔یہ  افسانہ ثابت کرتا ہے کہ غربت انسان کو وقت سے پہلے بڑا کر دیتی ہے۔ حامد کی سوچ اپنے ہم عمر بچوں سے کہیں زیادہ پختہ ہے۔ حقیقی خوشی اپنی خواہشات کو دوسروں کی ضرورت پر قربان کرنے میں ہے۔حامد کے لیے لکڑی کے کھلونوں سے زیادہ اپنی دادی کی انگلیوں کی اہمیت تھی۔

سعادت حسن منٹو                                    ولادت:۔ 1912 ء   وفات:۔1955 ء

                      سعادت حسن منٹو کے والد غلام حسن منٹو قوم اور ذات کے کشمیری امرتسر کے ایک محلے کوچہ وکیلاں میں ایک بڑے خاندان کے ساتھ رہتے تھے۔منٹو 11 مئی 1912کو موضع سمبرالہ، ضلع لدھیانہ میں پیدا ہو ئے۔ ان کے والد لدھیانہ کی کسی تحصیل میں تعینات تھے- دوست انہیں ٹامی کے نام سے پکارتے تھے۔ منٹو اپنے گھر میں ایک سہما ہوا بچہ تھا۔ جو سوتیلے بہن بھائیوں کی موجودگی اور والد کی سختی کی وجہ سے اپنا آپ ظاہر نہ کر سکتا تھا۔ ان کی والدہ ان کی طرف دار تھیں۔ وہ ابتدا ہی سے اسکول کی تعلیم کی طرف مائل نہیں تھے۔ ان کی ابتدائی تعلیم گھر میں ہوئی۔ 1921ء میں اسے ایم اے او مڈل اسکول میں چوتھی جماعت میں داخل کرایا    گيا۔

                        ان کا تعلیمی کریئر حوصلہ افزا نہیں تھا۔ میٹرک کے امتحان میں تین مرتبہ فیل ہونے کے   بعد انہوں نے 1931  میں یہ امتحان پاس کیا تھا۔ جس کے بعد انہوں نے ہندو سبھا کالج میں ایف اے میں داخلہ لیا لیکن اسے چھوڑ کر، ایم او کالج میں سال دوم میں داخلہ لے لیا- انہوں نے انسانی نفسیات کو اپنا موضوع بنایا۔ سعادت حسن منٹو ایک حساس شخصیت کا مالک تھا۔ وہ کسی وجہ سے کسی کو نا پسندکرتا تو پھر خاطر میں نہیں لاتا تھا۔ اس کی انا اگر مجروح ہوتی تو آگے والے کی شامت ہی آ جاتی۔ پاکستان بننے کے بعد انہوں نے بہترین افسانے تخلیق کیے۔ جن میں ٹوبہ ٹیک سنگھ، کھول دو، ٹھنڈا گوشت، دھواں، بو شامل ہیں۔ ان کے کئی افسانوی مجموعے اور خاکے اور ڈرامے شائع ہو چکے ہیں۔ کثرتِ شراب نوشی کی وجہ سے 18 جنوری1955ء ان کا انتقال ہوا۔

             سعادت حسن منٹو اردو کا واحد کبیر افسانہ نگار ہے جس کی تحریریں آج بھی ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں۔ وہ ایک صاحب اسلوب نثر نگار تھے جس کے افسانہ مضامین اور خاکے اردو ادب میں بے مثال حیثیت کے مالک ہیں۔ منٹو ایک معمار افسانہ نویس تھے جنہوں نے اردو افسانہ کو ایک نئی راہ دکھائی-افسانہ مجھے لکھتا ہے منٹو نے یہ بہت بڑی بات کہی تھی۔ منٹو کی زندگی بذات خود ناداری انسانی جدوجہد بیماری اور ناقدری کی ایک المیہ کہانی تھی جسے اردو افسانے نے لکھا۔ منٹو نے دیکھی پہچانی دنیا میں سے ایک ایسی دنیا دریافت کی جسے لوگ قابل اعتنا نہیں سمجھتے تھے یہ دنیا گمراہ لوگوں کی تھی۔ جو مروجہ اخلاقی نظام سے اپنی بنائی ہوئی دنیا کے اصولوں پر چلتے تھے ان میں اچھے لوگ بھی تھے اور برے بھی۔ یہ لوگ منٹو کا موضوع تھے اردو افسانے میں یہ ایک بہت بڑی موضوعاتی تبدیلی تھی جو معمار افسانہ نویس کی پہلی اینٹ تھی۔ اس کے افسانے محض واقعاتی نہیں ہیں ان کے بطن میں تیسری دنیا کے پس ماندہ معاشرے کے تضادات کی داستان موجود ہے۔

افسانہ "نیا قانون" کا خلاصہ 

سعادت حسن منٹو کا افسانہ "نیا قانون" اردو ادب میں سیاسی شعور، عوامی نفسیات اور نوآبادیاتی نظام (Colonial System) کے خلاف ایک طاقتور احتجاج ہے۔ اس افسانے کا مرکزی کردار استاد منگو محض ایک تانگے والا نہیں، بلکہ وہ ان کروڑوں ہندوستانیوں کی نمائندگی کرتا ہے جو برطانوی راج کے جبر سے تنگ آ چکے تھے اور کسی ایسی تبدیلی کے منتظر تھے جو ان کی زندگیوں میں حقیقی آزادی کی روشنی لا سکے۔

افسانے کا آغاز استاد منگو کے تعارف سے ہوتا ہے۔ منگو لاہور کا ایک کوچوان ہے جو اپنے اڈے پر تمام تانگے والوں میں سب سے زیادہ "عقلمند" اور "باخبر" سمجھا جاتا ہے۔ گو کہ وہ ان پڑھ ہے اور اس نے کبھی اسکول کی شکل نہیں دیکھی، لیکن اس کی معلومات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ وہ دنیا بھر کے معاملات، جنگوں اور سیاسی تبدیلیوں پر ایسی گفتگو کرتا ہے کہ بڑے بڑے پڑھے لکھے بھی حیران رہ جائیں۔منگو کی اس معلومات کا ذریعہ وہ "سواریاں" ہیں جو اس کے تانگے میں بیٹھتی ہیں۔ وہ مال روڈ سے کچہری اور کچہری سے انارکلی تک سفر کے دوران سواریوں کی باتوں کو بڑے غور سے سنتا ہے اور پھر ان میں اپنی مرضی کے رنگ بھر کر اپنے ساتھیوں کو سناتا ہے۔ جب اسپین میں جنگ چھڑی، تو منگو نے اس کی پیش گوئی پہلے ہی کر دی تھی، جس کی وجہ سے اڈے کے دوسرے کوچوان جیسے گاما چودھری اسے ایک "مدبر" تسلیم کرنے لگے تھے۔

استاد منگو کے دل میں انگریزوں (جنہیں وہ 'گورے' کہتا ہے) کے لیے شدید نفرت بھری ہوئی تھی۔ اس نفرت کی وجہ صرف حب الوطنی نہیں تھی بلکہ اس کا ذاتی تجربہ بھی تھا۔ چھاؤنی کے گورے سپاہی تانگے والوں کے ساتھ انسانوں والا سلوک نہیں کرتے تھے۔ وہ منگو کو ایک ذلیل کتے کی طرح سمجھتے، اسے گالیاں دیتے اور کرایہ مانگنے پر رعب جھاڑتے۔منگو کو گوروں کے چہرے دیکھ کر متلی آتی تھی۔ وہ ان کے سرخ و سفید رنگ کو "سڑی ہوئی لاش" سے تشبیہ دیتا تھا جس کی کھال اوپر سے جھڑ رہی ہو۔ جب کبھی کسی شرابی گورے سے اس کا جھگڑا ہوتا، تو وہ سارا دن غصے میں رہتا اور شام کو اڈے پر آ کر اپنے دل کا غبار نکالتا۔ وہ کہتا تھا: "آگ لینے آئے تھے اور اب گھر کے مالک بن بیٹھے ہیں۔" اس کا ماننا تھا کہ ہندوستان کی غلامی کا اصل سبب یہ گورے ہی ہیں اور جب تک کوئی نیا قانون نہیں آتا، ان سے نجات ممکن نہیں۔

ایک دن منگو نے کچہری سے دو مارواڑی سواریوں کو اپنے تانگے میں بٹھایا۔ وہ آپس میں "جدید آئین" یعنی انڈیا ایکٹ کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ انہوں نے تذکرہ کیا کہ پہلی اپریل سے ہندوستان میں ایک نیا قانون نافذ ہونے والا ہے جس سے ہندوستانیوں کو بہت سے حقوق ملیں گے اور شاید سود خوروں (مارواڑیوں) کے لیے بھی کچھ مشکلات پیدا ہوں۔یہ سن کر منگو کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ اس کے سادہ ذہن نے "نئے قانون" کا ایک خیالی خاکہ تیار کر لیا۔ اس نے سوچا کہ نیا قانون کوئی ایسی طلسماتی چیز ہے جو جادو کی طرح سب کچھ بدل دے گی۔ اب گوروں کا راج ختم ہو جائے گا، کچہریوں میں انصاف ہو گا اور تانگے والوں کو بھی عزت ملے گی۔ وہ اس قدر خوش ہوا کہ اس نے اپنے گھوڑے کو پیار سے تھپکی دی اور اسے ہوا سے باتیں کرانے لگا۔

منگو نے اپنے ذہن میں سیاست کے مختلف پہلوؤں کو خلط ملط کر دیا تھا۔ وہ "روس والے بادشاہ" (سوشلزم/اشتراکیت) کے بارے میں سن چکا تھا کہ وہاں سب برابر ہیں۔ اس نے نئے قانون کو روس کی تبدیلیوں سے جوڑ دیا۔ وہ سمجھتا تھا کہ پہلی اپریل کو روس سے کوئی ایسی لہر آئے گی جو انگریزوں کے تخت کو الٹ دے گی۔جب اس نے تانگے میں بیٹھے کچھ وکلاء کو "فیڈریشن" پر بحث کرتے سنا، تو اسے غصہ آیا کیونکہ وہ وکلاء اس قانون کی خامیاں بیان کر رہے تھے۔ منگو نے انہیں "ٹوڈی بچے" قرار دیا (یعنی انگریزوں کے خوشامدی)۔ اس کا ایمان تھا کہ یہ نیا قانون بہت "درخشاں اور تاباں" ہو گا، بالکل اس نئے ساز کی طرح جو اس نے حال ہی میں اپنے گھوڑے کے لیے خریدا تھا۔

مارچ کے اکتیس دن منگو نے بڑی بے چینی سے گزارے۔ وہ بار بار اپنی بیوی گنگاوتی سے بھی اپنی بے قراری کا ذکر کرتا۔ بالاآخر پہلی اپریل کی صبح آ گئی۔ منگو بہت سویرے اٹھا، نہایا دھویا اور اپنے تانگے کو خصوصی طور پر تیار کیا۔ اس نے گھوڑے کے سر پر ساڑھے چودہ آنے والی نئی کلغی سجائی اور سڑک پر نکل کھڑا ہوا تاکہ نئے قانون کا "جلوہ" دیکھ سکے۔وہ لاہور کی سڑکوں پر گھومتا رہا، لیکن اسے ہر چیز پرانی نظر آئی۔ آسمان وہی تھا، بجلی کے کھمبے وہی تھے، دکانیں وہی تھیں اور پولیس والے بھی وہی تھے۔ اسے بڑی حیرت ہوئی کہ نیا قانون ابھی تک کہیں نظر کیوں نہیں آ رہا؟ اس نے سوچا کہ شاید ابھی بہت سویرا ہے یا ہائی کورٹ کھلنے کے بعد نیا قانون اپنی چمک دکھائے گا۔

اسی تلاش میں منگو مال روڈ سے ہوتا ہوا چھاؤنی کی طرف نکل گیا۔ وہاں اسے ایک گورا نظر آیا جو سگریٹ سلگا رہا تھا۔ قریب جانے پر منگو نے پہچانا کہ یہ وہی گورا ہے جس نے پچھلے سال اس کے ساتھ بدتمیزی کی تھی اور منگو کو اس وقت "مصلحت" کے تحت خاموش رہنا پڑا تھا۔لیکن آج منگو کے نزدیک "نیا قانون" نافذ ہو چکا تھا۔ وہ اب خود کو غلام نہیں سمجھتا تھا۔ جب گورے نے تانگے والے کو پرانے انداز میں رعب سے بلایا اور "ہیرا منڈی" جانے کا کہا، تو منگو نے اکڑ کر جواب دیا کہ کرایہ پانچ روپے ہو گا۔ گورا حیران رہ گیا کہ ایک تانگے والے کی اتنی جرات؟ گورے نے اپنی بید کی چھڑی سے منگو کو چھوا اور پرانے رعب کے ساتھ بات کرنی چاہی۔منگو کے اندر کا غبار لاوے کی طرح پھٹ پڑا۔ اس نے سوچا کہ اب وہ دن لد گئے جب ہم ظلم سہتے تھے۔ اس نے ایک زوردار گھونسا گورے کی ٹھڈی پر رسید کیا اور اسے تانگے سے نیچے گرا کر مارنا شروع کر دیا۔ وہ ہر ضرب کے ساتھ چلاتا تھا:

"پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑ فوں... پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑ فوں... اب ہمارا قانون ہے میاں!"

شور مچ گیا، لوگ جمع ہو گئے اور پولیس کے دو سپاہی دوڑتے ہوئے آئے۔ انہوں نے بڑی مشکل سے ادھ موئے گورے کو منگو کی گرفت سے چھڑایا۔ منگو فخر سے سینہ تان کر کھڑا تھا اور مجمع کو بتا رہا تھا کہ اب نیا قانون آ گیا ہے، اب خلیل خان فاختہ نہیں اڑا سکیں گے۔پولیس والے منگو کو پکڑ کر تھانے لے جانے لگے۔ منگو راستے بھر "نیا قانون" پکارتا رہا۔ جب اسے تھانے کے اندر حوالات کے کمرے میں بند کیا جانے لگا، تو منگو نے آخری بار احتجاجاً کہا کہ آج تو پہلا دن ہے نئے قانون کا۔ تب ایک پولیس والے نے نہایت سپاٹ لہجے میں وہ جملہ کہا جو اس پورے افسانے کی روح اور منگو کے خوابوں کی موت تھا:

"نیا قانون، نیا قانون کیا بک رہے ہو... قانون وہی ہے پرانا!"

اور منگو کو سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا۔

منٹو نے اس افسانے کے ذریعے ۱۹۳۵ کے ایکٹ پر زبردست طنز کیا ہے۔ برطانوی حکومت نے یہ تاثر دیا تھا کہ اس قانون سے ہندوستانیوں کو بہت بڑی آزادی مل رہی ہے، لیکن حقیقت میں اقتدار کے اصل مراکز (فوج، خزانہ، پولیس) انگریزوں ہی کے پاس رہے۔ "نیا قانون" صرف کاغذوں کی حد تک تھا، عام آدمی کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔

منگو کا کردار سادہ لوح عوامی شعور کی علامت ہے۔ وہ جذباتی ہے، غریب ہے اور آزادی کا بھوکا ہے۔ اس کا یہ سمجھ لینا کہ قانون بدلنے سے انسان کی فطرت اور پولیس کا رویہ بدل جائے گا، اس کی معصومیت کو ظاہر کرتا ہے۔ منٹو نے دکھایا ہے کہ کس طرح ایک عام آدمی سیاسی وعدوں پر یقین کر کے بڑے خواب دیکھتا ہے اور پھر اسے تلخ حقیقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔افسانے میں منگو کی نفسیاتی حالت کو بڑے خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس کا اپنی بیوی کے پیٹ پر کان رکھ کر بچے کی آہٹ سننا اور پھر اسے نئے قانون کے انتظار سے تشبیہ دینا، منٹو کے فن کا کمال ہے۔ وہ ہر "نئی چیز" کو "چمکتی ہوئی" دیکھنا چاہتا تھا۔

یہ افسانہ اس دور کے لاہور کی سماجی زندگی، کوچوانوں کے اڈوں، مال روڈ کی چمک دمک اور چھاؤنی میں گوروں کے رعب و دبدبے کی بہترین تصویر کشی کرتا ہے۔

"نیا قانون" ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ صرف آئین یا کتابوں میں لفظوں کی تبدیلی سے آزادی نہیں ملتی۔ حقیقی آزادی اس وقت آتی ہے جب نظام (System) کے رویے بدلیں اور معاشرے کے پست طبقے کو بھی وہی عزت ملے جو بالادست طبقے کو حاصل ہے۔ استاد منگو کی حوالات میں بندش اس بات کا اعلان ہے کہ استعماری قوتیں کبھی بھی محض قانونی اصلاحات سے اپنے قبضے کو نہیں چھوڑتیں، بلکہ وہ صرف عوام کو دھوکا دینے کے لیے "نیا قانون" جیسے نام استعمال کرتی ہیں۔

 مرزا فرحت اللہ بیگ                          ولادت: ١۸۸۳ء   وفات .: ١۹۴۷ء

                        مرزا فرحت اللہ 1883ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام حشمت بیگ تھا۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی اسکول دہلی میں حاصل کی۔ بی اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد حیدرآباد دکن میں ملازمت اختیار کر لی۔ اور وہاں مختلف عدالتی عہدوں پر فائز رہے۔ آخر میں مددگار معتمد داخلہ (معاون ہوم سیکریٹری) ہو گئے اور اسی عہدہ سے وظیفہ یاب ہوئے۔ حیدر آباد کی ادبی صحبتوں نے مرزا میں ادبی ذوق کو جلا بخشی اور ان کا شوخ قلم مزاح نگاری میں جولانیاں دکھانے لگا۔ فرحت اللہ بیگ کا سب سے پہلا مضمون عصمت بیگ کے فرضی نام سے شائع ہونے والے رسالہ "افادہ" میں چھپا۔ اس کا عنوان ہم اور ہمارا امتحان تھا۔

            1937    ء سے باقاعدہ لکھنا شروع کیا۔ اگرچہ انہوں نے ہر موضوع تاریخ، تحقیق، سوانحوغیرہ پر لکھا۔ مگر مزاحیہ رنگ غالب رہا۔ ان کے مضامین کے مجموعے (مضامین فرحت) کے نام سے چھپ چکے ہیں۔ ان کی کئی تخلیقیں مثلا میری داستان، دہلی کا یادگار مشاعرہ، نذیر احمد کی کہانی، پھول والوں کی سیر، نئی اور پرانی تہذیب کی ٹکر اردو ادب میں یادگار رہیں گی۔ فرحت اللہ بیگ نے 1947ء میں وفات پائی۔بیسویں صدی کے دوسرے اور تیسرے دہے میں ابھر نے والے ظرافت نگاروں میں مرزا فرحت اللہ بیگ ایک منفرد اسلوب کے مالک ہیں شوخی، ظرافت اور درد مندی سے گوندھا ہوا یہ اسٹائل انشائیہ کی ان زیریں لہروں کی خبر دیتا ہے جو ان کی تحریروں میں رواں دواں ہیں یہ درد مندی ماضی کو اس کی تہذیبی قدروں سمیت چاہے جانے کے نتیجے میں ان کے ہاں نمودار ہوتی ہے۔ ظ۔ انصاری لکھتے ہیں۔مرزا فرحت اللہ بیگ کو ہم نہ پوری طرح مزاح کے خانے میں ڈال سکتے ہیں نہ طنز کے سپر د کر سکتے ہیں طبیعت کی شگفتگی اور نظر کی اداسی نے ان کے ہاں دھوپ چھاؤں کا منظر رکھا ہے۔ ماضی اور اس کی قدریں عزیز ہیں سہانی ہیں مگر آنی جانی ہیں۔ وہ نہ چیختے ہیں نہ کراہتے ہیں، بیان کرتے اور مسکراتے جاتے ہیں۔ 1دلّی کا ایک یادگار مشاعرہ ‘ ہو یا ’ نذیر احمد کی کہانی ‘مرزا فرحت اللہ بیگ ماضی کی تصویروں کو زندہ کرتے کرتے شخصیتوں کے مرقعے پیش کرتے ہیں اور اپنی فطری ذہانت اور کھلنڈرے پن سے انھیں بے نقاب کر دیتے ہیں۔ دلّی کی زبان کا چٹخارہ اور شگفتگی ان کی ظرافت میں ایک رنگ پیدا کر دیتی ہے۔  

انشائیہ "مردہ بدستِ زندہ" کا خلا صہ

مرزا فرحت اللہ بیگ کا انشائیہ "مردہ بدستِ زندہ" اردو ادب میں معاشرتی طنز اور اصلاحی پہلو کا ایک شاہکار نمونہ ہے۔ اس انشائیے میں مصنف نے دورِ حاضر کے انسانوں کی بے حسی، ظاہر داری اور مردوں کے ساتھ زندوں کے رویے کو نہایت باریک بینی اور تلخ مٹھاس کے ساتھ بیان کیا ہے۔انشائیے کا آغاز مصنف کے اس گہرے دکھ سے ہوتا ہے کہ انسانیت کے ناطے جو خلوص اور دلی ہمدردی پہلے زمانے کے لوگوں میں پائی جاتی تھی، وہ اب ناپید ہو چکی ہے۔ پہلے زمانے میں اگر محلے میں کوئی ہمسایہ بھی فوت ہو جاتا تو پورے محلے میں ایسا سوگ ہوتا تھا جیسے اپنا کوئی قریبی عزیز گزر گیا ہو۔ لوگ کئی کئی دن تک کھانا نہیں کھاتے تھے اور غم زدہ خاندان کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھاتے تھے۔

لیکن اب زمانہ بدل گیا ہے۔ سچی محبت کی جگہ "ظاہر داری" اور "دنیا داری" نے لے لی ہے۔ اب اگر کوئی اپنا بھی مر جائے تو لوگوں کے چہروں پر وہ دلی درد نظر نہیں آتا۔ جنازے کے ساتھ جانا اب ثواب یا ہمدردی کی بجائے ایک "رسم" بن کر رہ گیا ہے۔ لوگ صرف اس ڈر سے جنازے میں شریک ہوتے ہیں کہ دوسرے یہ نہ کہیں کہ "دیکھو جیتے جی تو بڑی دوستی کا دم بھرتا تھا، مرنے کے بعد خبر تک نہ لی"۔ گویا سارا معاملہ محض لوگوں کو دکھانے اور اپنی ساکھ بچانے کا ہے۔مصنف ہمیں ایک بڑے آدمی کے گھر لے جاتے ہیں جہاں میت رکھی ہے۔ وہاں امراء اور غرباء دونوں جمع ہیں۔ یہاں مصنف نے طبقہ وارانہ رویوں پر گہرا طنز کیا ہے۔ غریب لوگ خاموشی سے اندر جا کر کچھ پڑھ رہے ہیں یا افسردہ بیٹھے ہیں، جبکہ امیر طبقہ باہر سڑک پر کھڑا سگریٹ پی رہا ہے یا اپنی گاڑیوں میں بیٹھا گپ شپ کر رہا ہے۔

تعزیت کا انداز بھی نہایت مصنوعی ہے۔ ایک صاحب آتے ہیں، سرسری طور پر پوچھتے ہیں "کیا مر گئے؟" اور پھر فورا سگریٹ کا بکس یا پان کی ڈبیا نکال کر باتوں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ ان کے نزدیک تعزیت کا حق بس اتنا ہی تھا کہ ایک جملہ ہمدردی کا بول دیا جائے۔ اس کے بعد وہاں قہقہے چھڑ جاتے ہیں، دفتر کی سیاست پر بات ہوتی ہے، ملک کے حالات پر تبصرہ ہوتا ہے اور پرانے قصے دہرائے جاتے ہیں۔ ایسا معلوم ہی نہیں ہوتا کہ چند قدم کے فاصلے پر ایک انسان ابدی نیند سو رہا ہے اور اس کے گھر والے صدمے میں ہیں۔جیسے ہی جنازہ مکان سے باہر آتا ہے، باہر کھڑے لوگوں کی بھیڑ میں حرکت پیدا ہوتی ہے۔ یہاں مصنف نے "نفسیاتی تقسیم" کا ذکر کیا ہے۔ جنازے کے ساتھ چلنے والے لوگ تین حصوں میں بٹ جاتے ہیں:

پہلا حصہ: وہ عزیز و اقارب یا کرائے کے مزدور جو جنازے کو کندھا دے رہے ہوتے ہیں۔

دوسرا حصہ: وہ لوگ جو مروت میں یا مجبوری میں پیدل چل رہے ہیں۔

تیسرا حصہ: وہ طبقہ جو سب سے پیچھے رہ جاتا ہے اور آہستہ آہستہ کھسکنے کی کوشش کرتا ہے۔

پیدل چلنے والوں میں اگر کوئی صاحبِ حیثیت یا افسر ہو، تو غرض مند لوگ جنازے کے دوران بھی ان کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔ وہ ان کے ساتھ چلتے ہوئے مرنے والے کے علاج کی خامیاں بیان کرتے ہیں، ڈاکٹروں یا حکیموں کو برا بھلا کہتے ہیں اور اسی بہانے اپنی غرض کی باتیں یا اپنی سفارشیں بھی کر ڈالتے ہیں۔

جب جنازہ مسجد پہنچتا ہے، تو وہاں ایک اور تماشہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہاں پھر تین قسم کے لوگ نظر آتے ہیں:

ایک وہ جو پابندِ صوم و صلوٰۃ ہیں اور نماز پڑھنے اندر جاتے ہیں۔

دوسرے وہ جو صرف میت کے لیے نہا دھو کر آئے ہیں اور "شرماً شرمی" شریک ہوتے ہیں۔

تیسرے وہ "وضع دار" لوگ جنہوں نے کبھی نماز نہیں پڑھی۔ یہ لوگ مسجد کے دروازے تک پہنچتے ہی کسی دیوار یا گاڑی کی آڑ میں چھپ جاتے ہیں اور وہاں کھڑے ہو کر سگریٹ یا پان سے جی بہلاتے ہیں۔ جیسے ہی نماز ختم ہونے کی اطلاع ملتی ہے، یہ تیزی سے باہر نکلنے والوں میں شامل ہو جاتے ہیں تاکہ دیکھنے والوں کو لگے کہ یہ بھی نماز پڑھ کر آ رہے ہیں۔

جنازہ جب سڑک سے گزرتا ہے، تو راستے میں کھڑے دکانداروں کا رویہ بھی عجیب ہوتا ہے۔ اگر میت کسی غریب کی ہے تو کوئی سر اٹھا کر نہیں دیکھتا، لیکن اگر بڑے آدمی کا جنازہ ہو تو دکاندار ننگے پاؤں دوڑ کر آتے ہیں تاکہ نام اور بیماری دریافت کر سکیں۔ مصنف طنز کرتے ہیں کہ شاید انہیں میونسپل کمیٹی نے موت و حیات کا رجسٹر دے رکھا ہے کہ مرنے والے کا نام کاٹنا ہے۔موٹر گاڑیوں والوں کا حال تو اور بھی برا ہے۔ وہ سڑک کو اپنی ملکیت سمجھتے ہیں۔ جنازے کی وجہ سے گاڑی آہستہ کرنی پڑے تو انہیں پیٹرول کے خرچ کا صدمہ ہوتا ہے۔ شوفر (ڈرائیور) مسلسل ہارن بجاتا ہے جیسے وہ ملک الموت کو بھی ہارن بجا کر ہٹانے کی کوشش کریں گے۔ ان کے نزدیک ایک انسانی میت کی کوئی وقعت نہیں، ان کی گاڑی کی رفتار اہم ہے۔قبرستان پہنچنے پر جو نقشہ مصنف نے کھینچا ہے، وہ دل ہلا دینے والا ہے۔ قبرستان جو عبرت کی جگہ ہونی چاہیے تھی، اسے "وحشت کا جنگل" بنا دیا گیا ہے۔ وہاں گھاس کمر تک اگی ہوئی ہے، دیواریں ٹوٹی ہوئی ہیں، اور درختوں کی جڑوں نے قبروں کے تعویز توڑ دیے ہیں۔وہاں رہنے والے "سقے" (پانی بھرنے والے) کے خاندان نے قبرستان کو اپنی ذاتی جاگیر بنا رکھا ہے۔ قبروں کے تعویزوں کو بچے گھوڑا بنا کر کھیلتے ہیں، عورتیں قبروں پر لگی چادروں پر اناج سکھاتی ہیں، اور ان کی بکریاں اور مرغیاں قبروں کو کریدتی رہتی ہیں۔ قبرستان کے جس حصے میں ابھی جگہ خالی ہے، اسے صاف ستھرا رکھا جاتا ہے تاکہ "گاہک" (خریدار) کو زمین پسند آ سکے، جبکہ پرانی قبروں کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔جب جنازہ قبر کے پاس رکھا جاتا ہے، تو وہاں موجود لوگ "ریویو" شروع کر دیتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے زمین سخت ہے، کوئی مزدوروں کو سست کہتا ہے، کوئی قبر کی کھدائی میں نقص نکالتا ہے۔ اس کے بعد لوگ قبروں کے چبوتروں پر گاؤ تکیہ لگا کر بیٹھ جاتے ہیں، حقے اور سلفے کے دور چلتے ہیں اور دنیا بھر کی سیاست، دفتر کے کاموں اور افواہوں پر بحث شروع ہو جاتی ہے۔

کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو صرف کتبے پڑھنے اور نوٹ کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، یا اپنی باری کے انتظار میں شعر و شاعری کی محفل سجا لیتے ہیں۔ گویا وہاں ہر قبر ایک "پارلیمنٹ" یا "کانگریس کا اجلاس" بن جاتی ہے جہاں سب کچھ ہوتا ہے سوائے اس کے جس کے لیے وہ آئے تھے (یعنی اللہ کی یاد یا عبرت)۔قبر تیار ہونے پر میت کو اتارنے کا مرحلہ آتا ہے، تو وہاں ہمدردی کی بجائے "شور و غوغا" ہوتا ہے۔ ہر شخص دوسرے کو مشورے دے رہا ہوتا ہے: "ادھر سے پکڑو، ادھر سے کھینچو، سنبھال کے، میت بھاری ہے، کمر کے نیچے چادر دو"۔ جو بیچارے قبر میں اترے ہوتے ہیں، وہ اس غل غپاڑے سے پریشان ہو جاتے ہیں۔مٹی دیتے وقت بھی یہی حال ہے۔ لوگ منتر کی طرح الفاظ بڑبڑاتے ہیں، جن کا مطلب شاید انہیں خود بھی معلوم نہیں ہوتا۔ بس "منہا" کا لفظ بلند آواز میں کہہ کر مٹی ڈال دیتے ہیں۔ فاتحہ کے وقت سب کے ہونٹ تو ہلتے ہیں، لیکن مصنف کے بقول سو میں سے شاید دو بھی ایسے نہیں ہوتے جنہیں معلوم ہو کہ فاتحہ میں کیا پڑھنا ہے۔

جیسے ہی تدفین ختم ہوتی ہے، سب کو اپنے گھر جانے کی جلدی پڑ جاتی ہے۔ کوئی مڑ کر بھی نہیں دیکھتا کہ میت کے لواحقین کس حال میں ہیں۔ وہاں صرف جنازہ اٹھانے والے مزدور باقی رہ جاتے ہیں جو سوگوار خاندان کو گھیر لیتے ہیں اور دگنی اجرت کا مطالبہ کر کے انہیں مزید پریشان کرتے ہیں۔

مصنف آخر میں نہایت درد مندی سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ اپنے بندوں کو نیک ہدایت دے، ان کے دلوں میں سچا درد پیدا کرے اور وہ یہ سمجھیں کہ موت کی حقیقت کیا ہے اور ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں۔

 

    رشید احمد صدیقی                                       ولادت : ١۸۹۴ء  وفات  :١۹۷۷ء

       رشید احمد صدیقی یوپی کے ضلع جونپور کے ایک گاؤں مڑیا میں 1894ء میں پیدا ہوئے۔ میٹرک تک جونپور میں رہے، پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے علی  گڑھ آ گئے۔ مالی حالت سے مجبور ہو کر کچہری میں ملازمت کرنے پر مجبور ہو گئے۔ چنانچہ ملازمت کے ساتھ ساتھ تعلیم بھی جاری رکھی اورفارسی میں ایم اے کیا۔ آپ نے طالب علمی کے زمانے سے مزاحیہ مضامین لکھنا شروع کیے۔ علی گڑھ میگزین کے ایڈیٹر رہے۔ 1922ء میں وہیں کالج میں پروفیسر ہو گئے اور جب یونیورسٹی بنی اور اردو ادبیات کا شعبہ قائم تو رشید احمد صدیقی کو صدر شعبہ بنا دیا گیا۔ وہ شعروادب کا بڑا ستھرا ذوق رکھتے ہیں ادب کے بڑے اچھے استاد ہیں ان کی زندگی شرافت اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کا بہترین نمونہ ہے۔ 1977ء میں  ان  کا انتقال ہوا۔اردو کے مزاح نگاروں میں رشید احمد صدیقی کی            ظرافت غیر معمولی ذہانت، زبردست  حسِ مزاح، قولِ محال کے کثرتِ استعمال اور فکری توانائی جیسے متنوع عناصر سے مرکب ہے۔ رشید احمد صدیقی کا مزاح پطرس بخاری سے قطعی مختلف قسم کا ہے کیونکہ رشید احمد صدیقی کے مزاح کی بنیاد محض طنز و مزاح کی تخلیق نہیں ہے بلکہ اس سے آ گے کی منزلیں بھی   ان   کی نظر میں ہیں۔ ان کی تحریروں میں حیاتِ انسانی کی بوالعجبیوں اور مضحکہ خیزیوں کو تاڑنے والی نظر سے زیادہ ایک شوخ ذہن، تقابل و تجزیہ اور تضادات کی تلاش میں غلطاں و پیچاں نظر آ تا ہے۔رشید احمد صدیقی کے ہاں صورتِ واقعہ سے زیادہ الفاظ کا کھیل مزاح کی تخلیق کا ذریعہ ہے۔ زبان و بیان کی لطافتیں ان کی تحریروں میں تخلیقی لذتوں سے ہم کنار کرتی ہیں۔ وہ شگفتگی اور شوخی کے ساتھ بات سے بات پیدا کرتے ہیں اور ہر بات غور و فکر کی گہرائی لیے ہو تی ہے نکتہ آفرینی کے اسی مرحلے میں ان کے ہاں قولِ محال کا استعمال بکثرت ہوا ہے چنانچہ مونتین اور بیکن کی طرح بلیغ فقرے رشید احمد صدیقی کا مخصوص عطیہ ہے۔

اس وقت ہندوستان کو دو خطرات در پیش ہیں ایک سوراج کا اور دوسرے تعلیم یافتہ بیوی کا لیکن غور کیا جائے تو سوراج اور تعلیم یافتہ بیوی دونوں ایک ہی ہیں کیونکہ چارپائیت دونوں حالتوں میں نمایاں ہیں۔ سوراج تو وہ ایسا چاہتا ہے جس میں انگریزوں کو حکومت کر نے اور ہندوستانیوں کو گالی دینے کی آزادی ہو اور بیوی ایسی چاہتا ہے جو بیوی ہو نے سے زیادہ تعلیم یافتہ ہو یعنی گالیاں دینے سے بہتر تالیاں بجا سکتی ہو۔ ‘1

رشید احمد صدیقی کی مزاح نگاری جن عناصرِ ترکیبی سے عبارت ہے ان میں انشائیہ کے بھی چند خواص سمٹ آئے ہیں گو بحیثیت کل انشائیہ ان کے مضامین میں ساکار نہیں ہو پایا۔ رشید احمد صدیقی کے متعلق اسلوب احمد انصاری رقمطراز ہیں :

انھوں نے اپنی زندگی کا آغاز ایک مخصوص وضع کے انشائیے لکھنے سے کیا جس میں عدم تسلسلDiscontinuity کے عنصر کو ایک ادبی قدر کی حیثیت سے بر تا گیا ہے۔ ان کے مضامین خیالات کے آزاد تلازمے Free Associationسے پیدا شدہ تانے بانے سے مرکب ہیں۔ ‘2

آزاد تلازمہ خیال اور موضوع کے انوکھے پہلوؤں کی تلاش کا عمل رشید احمد صدیقی کو ایک انشائیہ نگار کے روپ میں پیش کرتا ہے یہ عمل یقیناً ان کے ہم عصروں کی بہ نسبت ان کی تحریروں میں بدرجہ اتم موجود ہے۔ اس طریقہ کار کے ذریعے موضوع کو ایک بالکل ہی نئی معنویت عطا کر نے کا ملکہ رشید احمد صدیقی کو حاصل ہے اس کی نمایاں مثالیں ان کے مضامیں میں بہ آ سانی دستیاب ہیں خصوصاً ’ ارہر کے کھیت‘   ’چارپائی ‘ وغیرہ میں۔

انشائیہ چار پائی کا خلاصہ

انشائیے کا آغاز اس دعوے سے ہوتا ہے کہ چار پائی اور مذہب ہم ہندوستانیوں کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ یہ محض فرنیچر کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ ہماری زندگی کا محور ہے۔ مصنف کے بقول، ہندوستانی انسان چار پائی پر ہی پیدا ہوتا ہے اور یہیں سے زندگی کے مختلف راستوں (مدرسہ، دفتر، جیل یا آخرت) کی طرف گامزن ہوتا ہے۔ ہماری ہر حالت—خواہ وہ بیماری ہو، دعا مانگنا ہو، فاقہ کرنا ہو یا قوم کی فکر کرناہو—چار پائی کے گرد ہی گھومتی ہے۔

مصنف طنزاً کہتے ہیں کہ ہمیں چار پائی پر اتنا ہی اعتماد ہے جتنا برطانیہ کو آئی سی ایس (ICS) افسران پر یا طالب علم کو شور و غل پر ہوتا ہے۔ وہ یونانی فلسفی دیو جانس کلبی کی مثال دیتے ہیں جس نے دنیا چھوڑ کر ایک "خم" (مٹکے) میں پناہ لی تھی، جبکہ ہندوستانی پوری دنیا کو سمیٹ کر چار پائی کے اندر لے آتا ہے۔رشید احمد صدیقی اس وقت کے دو بڑے معرکوں یعنی "سوراج" (آزادی) اور "روشن خیالی" کو چار پائی کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک ہندوستانی شوہر اور تعلیم یافتہ بیوی کے درمیان کشمکش کی اصل وجہ یہ ہے کہ شوہر چار پائی پر بیٹھ کر اپنی قدیم حاکمیت قائم رکھنا چاہتا ہے جبکہ روشن خیال بیوی ڈرائنگ روم سے گھنٹی بجا کر اپنی جدیدیت کا اظہار کرتی ہے۔ یہ "چار پائیت" کا مرض ہندوستانیوں کی رگ رگ میں بسا ہوا ہے، چاہے وہ کتنا ہی تعلیم یافتہ کیوں نہ ہو جائے۔

مصنف نے اس دور کی مشہور کتاب "مدر انڈیا" (مس میو) کا ذکر بھی کیا ہے جس نے ہندوستانی معاشرت پر سخت تنقید کی تھی۔ مصنف کا خیال ہے کہ اگر مس میو نے اعداد و شمار اکٹھا کرنے کے بجائے صرف ہندوستانیوں کی چار پائی کا مطالعہ کیا ہوتا تو ان کی کتاب زیادہ دلچسپ اور حقیقت کے قریب ہوتی۔ چار پائی ہندوستانیوں کی آخری جائے پناہ ہے؛ جب وہ تھک ہار جاتا ہے یا اسے شکست ہوتی ہے، تو وہ چار پائی پر لیٹ کر ہی گالیاں دیتا ہے یا مناجات پڑھنا شروع کر دیتا ہے۔انشائیے کا سب سے دلچسپ حصہ وہ ہے جہاں مصنف چار پائی کے مختلف استعمالات بیان کرتے ہیں۔ ہندوستانی گھروں میں چار پائی بیک وقت درج ذیل حیثیتیں رکھتی ہے:

ڈرائنگ روم: مہمان آئے تو چار پائی نکالی جاتی ہے اور اس پر ایک نئی دری بچھا کر اسے بیٹھنے کا کمرہ بنا دیا جاتا ہے۔

دواخانہ و شفا خانہ: بیماری کی حالت میں تمام دوائیں، جوشاندے کی دیگچی اور میلے کپڑے اسی کے گرد جمع ہوتے ہیں۔

اسٹور روم (صندوق): چار پائی کے تکیے کے نیچے دنیا بھر کا سامان ہوتا ہے—نقش سلیمانی، اسٹیشنری، رسالے، پیسے، اور یہاں تک کہ جعلی دستاویزات کے مسودے بھی۔ اندھیرے میں بھی صاحبِ چار پائی ہر چیز وہیں سے نکال لیتا ہے۔

باورچی خانہ: اسی پر بیٹھ کر کھانا کھایا جاتا ہے، جہاں بچے، مرغیاں، کتے اور مکھیاں سب اپنے اپنے قرینے سے موجود ہوتے ہیں۔

اناج کا گودام: دن میں اس پر اناج سوکھنے کے لیے پھیلایا جاتا ہے اور ریٹائرمنٹ کے بعد اس پر سال بھر کا پیاز ذخیرہ کر دیا جاتا ہے۔

خاندان کا بڑا یا "کرتا دھرتا" چار پائی پر ہی براجمان ہو کر حکومت کرتا ہے۔ وہیں سے احکام جاری ہوتے ہیں اور وہیں سے ہاتھ، پاؤں یا زبان کے علاوہ ڈنڈے، جوتے یا "تاملوٹ" (لوٹے) کے ذریعے سزا دی جاتی ہے۔ سزا کے یہ آلات پھینک کر مارے جاتے ہیں تاکہ غصے کا تاؤ ٹھنڈا نہ پڑ جائے۔مصنف نے چار پائی کو بچوں کی تربیت گاہ بھی قرار دیا ہے۔ بچے دو چارپائیاں کھڑی کر کے ان پر چادر ڈال کر "گھروندا" بناتے ہیں اور وہاں ان تمام باتوں کی مشق کرتے ہیں جو وہ اپنے والدین کو کرتے دیکھتے ہیں۔ جیسے واٹر لو کی جنگ انگلستان کے اسکولوں کے میدانوں میں جیتی گئی، مصنف کے بقول ہندوستان کی تمام مہمات چار پائی کے ان گھروندوں میں سر کی جاتی ہیں۔کھٹملوں سے نجات کے لیے چار پائی کے ساتھ جو سلوک (الٹ پلٹ) کیا جاتا ہے، اسے مصنف ہندوستانی بیوی کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویوں سے تشبیہ دیتے ہیں، جو ان کے مخصوص طنزیہ اسلوب کا عکاس ہے۔

انشائیے کے آخری حصے میں مصنف چار پائی کو سکون اور عافیت کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ وہ برسات کے موسم میں آموں کے باغ میں ایک ٹوٹی ہوئی چار پائی پر لیٹنے کو دنیا کی تمام نعمتوں سے برتر سمجھتے ہیں۔ مکے کے کھیت میں بندھی ہوئی "مچان" (جو دراصل ایک چار پائی ہی ہوتی ہے) پر بیٹھا کسان پوری کائنات کا خالق بن جاتا ہے۔ مصنف خود جب باغبان کی چار پائی پر لیٹتے ہیں تو وہ عالمِ تصور میں اپنی ایک الگ کائنات تعمیر کر لیتے ہیں جہاں وہ خود کو زمانے کی قید سے آزاد محسوس کرتے ہیں۔رشید احمد صدیقی کے نزدیک چار پائی ہندوستان کی آب و ہوا، تمدن اور معاشرت کا سب سے بھرپور نمونہ ہے۔ یہ ہندوستانیوں کی طرح "ڈھیلی ڈھالی، شکستہ حال اور بے سرو سامانی" کا شکار ہے، لیکن اس کے باوجود یہ ہر قسم کے آرام و راحت کا سامان فراہم کرنے کے لیے تیار رہتی ہے۔ یہ فقر و استغنا کی علامت بھی ہے اور حاکمیت کی بھی۔


خاکہ "نام دیو مالی" کا خلا صہ

مولوی عبدالحق (بابائے اردو) کا تحریر کردہ خاکہ "نام دیو مالی" اردو ادب کی ان چند تحریروں میں سے ہے جو انسانی عظمت، محنت کی تقدیس اور اخلاقی بلندی کا بہترین نمونہ پیش کرتی ہیں۔ یہ خاکہ محض ایک مالی کی زندگی کی داستان نہیں، بلکہ ایک فلسفہ ہے کہ کس طرح ایک انسان اپنی ذات کو اپنے کام میں فنا کر کے "درجہ کمال" حاصل کر سکتا ہے۔

خاکے کا آغاز مولوی عبدالحق کے ایک گہرے فلسفیانہ نکتے سے ہوتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ نام دیو مالی ذات کا "ڈھیٹر" تھا، جسے ہندوستانی معاشرے میں ایک اچھوت اور نیچ ذات سمجھا جاتا ہے۔ مصنف یہاں انسانیت کا درس دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ نیکی، سچائی اور حسن کسی خاص طبقے یا اونچی ذات کی میراث نہیں ہیں۔ قدرت نے یہ خوبیاں انسانوں میں بانٹتے وقت ان کی ذات یا نسب کو نہیں دیکھا۔ وہ حالیؔ کا مشہور شعر نقل کرتے ہیں:

قیس ہو، کوہ کن ہو، یا حالیؔ

عاشقی کچھ کسی کی ذات نہیں

مصنف کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ انسان کی بڑائی اس کے خاندان سے نہیں بلکہ اس کے اوصاف اور اس کے کام سے ہوتی ہے۔

مقبرہ رابعہ دورانی (اورنگ آباد، دکن) کا باغ مصنف کی نگرانی میں تھا اور نام دیو وہاں کا ایک ادنیٰ مالی تھا۔ مصنف نے اپنے بنگلے کے سامنے کا چمن نام دیو کے سپرد کیا۔ مصنف بتاتے ہیں کہ وہ اکثر اپنے کمرے کی کھڑکی سے نام دیو کو کام کرتے دیکھتے تھے۔ نام دیو اپنے کام میں اس قدر محو ہوتا کہ اسے دنیا و مافیہا کی خبر نہ ہوتی۔اس کی کام سے محبت کا یہ عالم تھا کہ وہ ایک ایک پودے کے پاس گھنٹوں بیٹھتا، اس کے تھانولے صاف کرتا، اسے پانی دیتا اور پھر پیچھے ہٹ کر اسے بڑے پیار اور فخر سے دیکھتا جیسے کوئی فنکار اپنے فن پارے کو دیکھتا ہے۔ اس کے چہرے پر اس وقت جو مسکراہٹ اور خوشی ہوتی، وہ کسی بڑی سے بڑی دنیاوی کامیابی سے بڑھ کر تھی۔ مصنف کہتے ہیں کہ "کام اسی وقت ہوتا ہے جب اس میں لذت آنے لگے، ورنہ وہ بیگار ہے"۔

نام دیو کی کوئی اپنی اولاد نہ تھی، اس لیے اس نے اپنے لگائے ہوئے پودوں اور درختوں ہی کو اپنی اولاد بنا لیا تھا۔ وہ ان کی پرورش بالکل ایک ماں کی طرح کرتا تھا۔ جب پودے سرسبز ہوتے تو وہ خوشی سے پھولے نہ سماتا اور اگر کبھی کسی پودے کو کیڑا لگ جاتا یا وہ مرجھانے لگتا، تو نام دیو کو دلی صدمہ ہوتا۔وہ پودوں کا علاج کسی ہمدرد ڈاکٹر کی طرح کرتا۔ بازار سے دوائیں لاتا، دن رات ان کی سیوا کرتا اور جب تک وہ پودا دوبارہ تندرست نہ ہو جاتا، اسے چین نہ آتا۔ یہی وجہ تھی کہ اس کے لگائے ہوئے پودے کبھی ضائع نہیں ہوئے اور ہمیشہ پروان چڑھے۔باغوں میں برسوں رہنے کی وجہ سے نام دیو کو جڑی بوٹیوں کی گہری شناخت ہو گئی تھی۔ خاص طور پر بچوں کے علاج میں اسے بڑی مہارت حاصل تھی۔ دور دور سے غریب لوگ اپنے بیمار بچوں کو لے کر اس کے پاس آتے۔ نام دیو بڑی شفقت سے باغ ہی کی جڑی بوٹیوں سے ان کا علاج کرتا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ یہ کام بالکل مفت کرتا تھا۔ اگر کوئی اسے دوسرے گاؤں بھی بلاتا تو وہ بلا تامل چلا جاتا اور کبھی کسی سے ایک پیسہ بھی نہ لیتا۔ اس کی زندگی کا مقصد صرف خدمت کرنا تھا، چاہے وہ پودوں کی ہو یا انسانوں کی بالخصوص بچوں کی۔

ایک سال اورنگ آباد میں شدید قحط پڑا، بارشیں نہ ہوئیں اور کنوؤں کا پانی خشک ہو گیا۔ پورے باغ پر آفت ٹوٹ پڑی اور پودے مرجھانے لگے۔ لوگوں کو پینے کے لیے پانی میسر نہ تھا، لیکن نام دیو نے ہمت نہ ہاری۔ وہ میلوں دور سے پانی کے گھڑے اپنے سر پر اٹھا کر لاتا اور ایک ایک پودے کی پیاس بجھاتا۔جب پانی کی قلت اور بڑھی تو وہ راتوں کو اٹھ کر دور دراز سے گدلا اور کیچڑ والا پانی لاتا، کیونکہ اس کے نزدیک وہ گدلا پانی پودوں کے لیے "آبِ حیات" تھا۔ اس کی اس محنت کا نتیجہ یہ نکلا کہ جہاں بڑے بڑے رئیسوں کے باغات اجڑ گئے، نام دیو کا چمن ہرا بھرا رہا۔ جب مصنف نے اسے انعام دینا چاہا تو اس نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ "اپنے بچوں کو پالنے کے لیے کوئی انعام کا مستحق نہیں ہوتا"۔جب نظام دکن نے اورنگ آباد میں ایک بڑا "شاہی باغ" لگانے کا فیصلہ کیا، تو ڈاکٹر سراج الحسن نے نام دیو کی قدر دانی کرتے ہوئے اسے مقبرے سے شاہی باغ میں منتقل کر دیا۔ شاہی باغ میں دنیا بھر سے ماہر مالی بلائے گئے تھے—جاپانی، ایرانی، شامی۔ ان سب کے بڑے ٹھاٹ تھے اور وہ فنِ باغ بانی کے ڈپلومہ ہولڈر تھے، جبکہ نام دیو کے پاس صرف "کام کی دھن" تھی۔

وہاں بھی نام دیو کا وہی رنگ رہا۔ وہ نہ کسی سے لڑتا، نہ شراب پیتا، نہ بیڑی پیتا۔ ایک دن باغ میں کام کے دوران شہد کی مکھیوں کے ایک غول نے حملہ کر دیا۔ تمام مالی بھاگ کر چھپ گئے، لیکن نام دیو اپنے کام میں اس قدر مگن تھا کہ اسے پتہ ہی نہ چلا۔ مکھیوں نے اسے اس قدر کاٹا کہ وہ بے دم ہو گیا اور آخر کار اپنے کام کی جگہ پر ہی جان دے دی۔ مصنف اسے "شہادت" کا درجہ دیتے ہیں کیونکہ وہ اپنے فرض کی ادائیگی کے دوران قربان ہوا۔

  خاکہ "سو ہے وہ بھی آدمی" کا خلا صہ

مجتبیٰ حسین کا تحریر کردہ یہ خاکہ "سو ہے وہ بھی آدمی" اردو کے عظیم افسانہ نگار راجندر سنگھ بیدی کی شخصیت کے گرد گھومتا ہے۔ یہ خاکہ محض یادوں کا مجموعہ نہیں بلکہ بیدی صاحب کی زندگی، ان کے مزاج، ان کی ہنسی اور ان کے آنسوؤں کا ایک مکمل مرقع ہے۔ مجتبیٰ حسین نے اپنی مخصوص ظرافت اور شگفتگی کے ساتھ بیدی صاحب کی شخصیت کے ان پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے جو عام طور پر نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔خاکے کا آغاز ایک دلچسپ نکتے سے ہوتا ہے کہ بیدی صاحب خود کو "چوٹی کا ادیب" کہتے تھے اور مجتبیٰ حسین کے بقول وہ سر سے پاؤں تک (اپنی پگڑی کی وجہ سے بھی) چوٹی ہی کے ادیب تھے۔ مصنف بتاتے ہیں کہ بیدی صاحب کی ایک عجیب عادت تھی کہ وہ کسی بھی مسئلے پر فیصلہ کرنے سے پہلے بہت سوچ بچار کرتے تھے۔ جب عقل کام کرنا چھوڑ دیتی، تو وہ آئینہ دیکھتے اور منٹوں میں فیصلہ کر لیتے تھے۔ ۱۹۶۷ء میں حیدرآباد میں مزاح نگاروں کی کانفرنس کی صدارت قبول کرنے کا فیصلہ بھی انہوں نے آئینہ دیکھ کر ہی کیا تھا۔

بیدی صاحب نے صدارت کی رضامندی کا خط مجتبیٰ حسین کو بھیجا، مگر وہ خط ان کے گھر کے بجائے چار کلومیٹر دور کسی دوسرے شخص کے پاس پہنچ گیا۔ اس واقعے پر طنز کرتے ہوئے مجتبیٰ حسین کہتے ہیں کہ اس دن انہیں سمجھ آیا کہ بیدی صاحب نے اپنی جوانی میں محکمہ ڈاک کی ملازمت کیوں چھوڑی تھی، کیونکہ ان کی "ڈیلیوری" کا نظام ہمیشہ سے ایسا ہی تھا۔

بیدی صاحب جب صدارت کے لیے حیدرآباد پہنچے، تو مجتبیٰ حسین نے ان کے استقبال کے لیے بڑے بھاری بھرکم اور رسمی جملے یاد کر رکھے تھے۔ لیکن ہوائی اڈے پر ملتے ہی بیدی صاحب نے لطیفوں کا وہ سلسلہ شروع کیا کہ مجتبیٰ حسین کو ایک بھی رسمی جملہ کہنے کا موقع نہ ملا۔بیدی صاحب کی شخصیت کی سب سے بڑی خوبی ان کا غیر رسمی (Informal) ہونا تھا۔ وہ رسمی آداب، بناوٹ اور نمائش سے کوسوں دور تھے۔ ان کے پاس بیٹھنے والا کوئی بھی شخص سنجیدہ یا رسمی گفتگو نہیں کر سکتا تھا کیونکہ بیدی صاحب اپنی بذلہ سنجی اور پھڑکدار فقروں سے محفل کو زعفران زار بنا دیتے تھے۔مجتبیٰ حسین نے بیدی صاحب کی شخصیت کو "برسات کے جھٹپٹے" سے تشبیہ دی ہے، جہاں ایک طرف دھوپ نکلی ہو اور دوسری طرف ہلکی پھوار پڑ رہی ہو۔ بیدی صاحب بیک وقت ہنسنے اور رونے والے انسان تھے۔ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے مصنف لکھتے ہیں کہ حیدرآباد میں ایک ادبی محفل کے دوران بیدی صاحب اپنا افسانہ سناتے سناتے اچانک رونے لگے۔ وہ اس قدر روئے کہ محفل میں موجود لوگ اور منتظمین پریشان ہو گئے۔ لیکن جیسے ہی محفل ختم ہوئی، انہوں نے ایک ایسا لطیفہ سنایا کہ سب ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئے۔ وہ جذبوں کی سرحد پر رہتے تھے اور پل بھر میں اداسی سے خوشی کے عالم میں داخل ہو جاتے تھے۔ اردو کا لفظ "رقیق القلب" (نرم دل والا) ان کی شخصیت پر پوری طرح صادق آتا تھا۔

مصنف نے بیدی صاحب کے بمبئی والے دفتر "ڈاچی فلمز" کی یادیں بھی تازہ کی ہیں۔ وہاں وہ اپنے ٹیکنیشنوں اور دوستوں کے درمیان مٹھائیاں بانٹتے پائے جاتے تھے۔ ان کی مشہور فلم "دستک" کے حوالے سے کئی لطیفے مشہور تھے۔ بیدی صاحب خود اپنے بارے میں لطیفے گھڑتے اور انہیں سماج میں پھیلا دیتے تھے۔ ان کی فلمی دنیا اور ادبی دنیا میں واضح فرق تھا۔ جہاں خواجہ احمد عباس کی فلمیں ان کے اخباری کالموں جیسی ہوتی تھیں، بیدی صاحب نے اپنے فن کو فلمی تجارت سے الگ رکھا۔جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ایک سیمینار کا ذکر کرتے ہوئے مجتبیٰ حسین بتاتے ہیں کہ تین دن کی خشک اور بورنگ بحث کے بعد جب بیدی صاحب نے اپنا صدارتی خطبہ پڑھا، تو تمام حاضرین کی تھکن دور ہو گئی۔ انہوں نے اپنی شگفتگی سے "عصری حسیت" کے سنجیدہ موضوع کو بھی دلچسپ بنا دیا۔بیدی صاحب کے حافظے کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ دوستوں کے نام بھول جاتے تھے۔ یوسف ناظم نے تو یہاں تک مشورہ دے رکھا تھا کہ بیدی صاحب سے ملتے ہی پہلے اپنا نام بتا دینا چاہیے تاکہ وہ شرمندگی سے بچ سکیں۔

خاکے کے دوسرے حصے میں مجتبیٰ حسین بیدی صاحب کے آخری پانچ برسوں کا ذکر کرتے ہیں جو انتہائی کربناک تھے۔ بیوی اور جوان بیٹے (نریندر بیدی) کے انتقال نے انہیں توڑ کر رکھ دیا تھا۔ فالج کے حملے کے بعد وہ شخص جو لفظوں کا جادوگر تھا، بولنے کی سکت کھو بیٹھا تھا۔

مصنف جب آخری بار دہلی میں ان سے ملے، تو بیدی صاحب صوفے پر بیٹھے صرف آنسو بہاتے رہے۔ ان کی وہ حاضر جوابی اور لطیفہ گوئی خاموشی میں بدل چکی تھی۔ وقت نے اس عظیم عمارت کو ڈھا دیا تھا۔بیدی صاحب سکھوں کے لطیفے سنانے کے ماہر تھے۔ وہ مذہب اور مسلک کی دیواروں سے بلند انسان تھے۔ ان کے کچھ مشہور جملے خاکہ نگار نے نقل کیے ہیں:

بشیر بدر کے نام پر مذاق کرنا۔سردار جعفری کے رسالے "گفتگو" پر تبصرہ کہ اس میں "گفت" کم اور "گو" زیادہ ہے۔واجدہ تبسم کو مذاق میں "والدہ تبسم" کہنا۔ایک دعوت میں کباب کھاتے ہوئے کہنا کہ "مسلمان کا گوشت بہت لذیذ ہوتا ہے"۔

مجتبیٰ حسین کا یہ خاکہ ہمیں بتاتا ہے کہ راجندر سنگھ بیدی محض ایک بڑے ادیب نہیں بلکہ ایک بہت بڑے انسان تھے۔ ان کی شخصیت میں بچہ، فنکار اور فلسفی سب یکجا تھے۔ وہ زندگی سے ٹوٹ کر پیار کرتے تھے اور دکھوں کو ہنسی کے لبادے میں چھپانے کا فن جانتے تھے۔ ان کی موت سے اردو ادب ایک ایسے قد آور افسانہ نگار سے محروم ہو گیا جس کی جگہ کئی صدیوں تک پُر نہیں ہو سکے گی۔ وہ آنے والی نسلوں کے حافظے میں ہمیشہ اپنے آنسوؤں، قہقہوں اور لافانی افسانوں کے ذریعے زندہ رہیں گے۔

قواعد

          دنیا کی ہر زبان کے کچھ اصول اور قوانین ہوتے ہیں ۔جن سے اس زبان کو صحیح طور پر سیکھا اور استعمال کیا جاسکتا ہے ۔زبان کی درستی اور اس کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے کے لئے ان قوانین پر عمل درآمد کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اردو زبان کے بھی کچھ اصول ہیں جنہیں قواعد کہا جاتا ہے۔ ان کے جاننے سے اردو زبان کو ٹھیک طریقے سے بولا اور سمجھا جاسکتا ہے ۔قواعد، لسانیات کی ایک اہم شاخ ہے اور اس کا مطالعہ زبان پر دسترس حاصل کرنے کے لئے نہایت ضروری ہے ۔ذیل میں قواعد کے چند اجزا، حرف کی قسمیں فعل کی قسمیں ، محاورے ،ضرب المثال ،سابقوں اور لاحقوں پر روشنی ڈالی جارہی ہے۔

  (1  حرف کی قسمیں

            قواعد کی اصطلاح میں حرف وہ مستقل لفظ ہے۔ جو تنہا بولنے اور لکھنے میں اپنے پورے معنیٰ نہیں دیتا بلکہ اسموں ، فعلو ں یا دو جملوں کے ساتھ مل کر اپنے پورے معنی ظاہر کرتا ہے،  حرف کا کام دو اسموں کو ملانا، دو فعلوں کو ملانا،دو دو چھوٹے فقروں کو ملاکر ایک جملہ بنانا، اسماء اور فعلو ں کا ایک دوسرے سے تعلق ظاہر کرنا ہے ۔چھوٹے فقروں کو ملا کر ایک جملہ بنانا۔  مزید وضاحت کے لیے یہ کہہ سکتے ہیں کہ الفاظ جو دوسرے الفاظ کے بغیر معنیٰ  نہ رکھتے ہوں ''حرف ''کہلاتے ہیں ۔مثال کے طور پر ''اور''  میں'' سے ''کو'' تک'' پر ''وغیرہ  اردو میں حرف کی چار قسمیں ہیں۔ 1۔''حروف ربط''  2۔حرف عطف  3۔حرف تخصیص  4۔ فضائیہ۔

 1۔حروف ربط :یہ وہ حرف ہے جو کسی ایک لفظ کا دوسرے لفظ سے تعلق یا ربط کو ظاہر کرتے ہیں ۔مثلا   ''میں ''نے ''سے ''کو ''تک'' پر'' لیے'' واسطے'' تلک'' اوپر'' نیچے'' درمیان ''ساتھ'' بیچ'' اندر'' باہر'' وغیرہ ۔ا.''گلاس میز پر رکھ دو ''         ۲۔''کنویں میں پانی ہے''         ۳۔'' اسلم نے اکبر کو مارا''         ان جملوں میں ''پر''میں''نے''اور ''کو''  حرف ربط کہتے  ہیں۔

  (2    حرف عطف :حرفِ عطف سے مراد وہ حرف ہے۔ جو اسم یا دو جملوں کو آپس میں ملاتے ہیں۔ مثلاََ ''اور'' یا ''وہ ''پھر'' بلکہ'' وغیرہ جیسے'' آمنہ نے کتاب پڑھی اور سوگی''        اس جملے میں ''اور'' حرف عطف ہے۔  ''مرد اور عورت سب برابر ہیں'' اس جملے میں'' اور'' حرف ِ عطف ہے۔

(3۔حروف تخصیص :وہ لفظ جو کسی اسم یا فعل کے ساتھ آکر اس  میں  خصوصیت کے معنی پیدا کرے ،اور حرفِ تخصیص کہلاتے ہیں۔ اردو کے حروف تخصیص یہ  ہیں ''تو'' ہر'' بھی'' وغیرہ ۔             میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر                         لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

اس شعر کے پہلے مصرعے میں ''ہی''  حرف تخصیص ہے۔ رمیش نے بھی فلم دیکھی'' اس جملے میں ''بھی'' حرف تخصیص ہے ۔

ع ۔ ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم، کہ تو کیا ہے

اس مصرعے  میں حرف تخصیص ''ہر'' ہے۔

(4حرف فجائیہ: وہ حرف جو کسی خاص کیفیت اور جذبے کے اظہار کے وقت زبان سے ادا ہوتے ہیں ۔حرف ''فجائیہ'' کہلاتے  ہیں۔  جیسے

حیرت'' خوشی ''خوف ''غصہ ''حقارت ''اور افسوس وغیرہ کے وقت ان کا استعمال ہوتا ہے۔ جیسے'' سبحان اللہ!'' بہت خوب !''معاذاللہ!'' اوف !''ہائے!''

''سبحان اللہ! کیا خوبصورت نظارہ ہے''       اف! کتنی گرمی ہے آج ''                  ''ہائے !کمبخت تو نے پی ہی نہیں''

فعل کی تعریف

فعل وہ  کلمہ ہے جس میں کسی کام کا کرنا یا ہونا پایا جاتا ہے ۔فعل میں  کوئی نہ کوئی زمانہ موجود ہوتا ہے ۔مثلا

''اسلم آم کھاتا ہے ''             ''احمد دوڑتا ہے ''      ان دونوں جملوں میں'' کھانا'' اور'' دوڑنا'' فعل ہے کیونکہ ان سے کسی کام کا ہونا یا کرنا ظاہر ہوتا ہے ۔

معنی کے اعتبار سے فعل کی تین قسمیں ہیں۔١۔ فعل لازم                      ۲۔ فعل ِ متعدی                  ۳۔فعل ناقص

١۔فعلِ  لازم:

جس فعل  کا اثر فائل پر  پڑتا ہے اسے پھر فعل ِ لازم کہتے ہیں جیسے

''رمیش کھاتا ہے ''              ''رضیہ پڑھتی ہے''              ان دونوں جملوں میں فعل کا اثر ان کے فائل پر پڑ رہا ہے یہ معلوم نہیں ہو رہا ہے کہ رمیش کیا کھا  رہا ہے رضیاکیا پڑھ رہی ہے یعنی فعل لازم میں مقبول نہیں ہوتا۔

۲۔فعل متعدی :

            جس فعل کا اثر محفل پر پڑتا ہے وہ پہلے متعدی کہلاتا ہے۔ مثلا           '' اکبر آم کھا رہا ہے''            ''نریش اخبار پڑھ رہا ہے''                   پہلے جملے میں اکبر اسم ہے کھانا فعل ہے آم مفعول ہے اس طرح فعل  کا اثر فاعل کے علاوہ مفعول پر بھی پڑ رہا ہے ۔

 ۳۔فعل ناقص :

                       فعل ِنا قص وہ ہے جو کسی پر اثر نہ ڈالے بلکہ کسی اثر کو ثابت کرے جیسے'' سلمہ بیمار ہے ''اس جملے میں فعل کا کرنا نہیں ،بلکہ ہونا ظاہر ہو رہا ہے سلمیٰ سے کوئی فعل سرزد نہیں ہو رہا ہے بلکہ وہ فعل سہنے والی ہے اور'' بیمار'' اس کی حالت کی خبر دے رہاہے ۔

 

ضرب المثال یا کہاوتیں

                       کہاوتیں اور ضرب المثال ایک ہی شے ہے ضرب کے معنی مارنا یا دوہرانا کے ہیں امثال ،مثل کی جمع ہے ۔مثل یعنی مثال دینا کوئی خاص بات جو بار بار تجربے میں آچکی ہوں موقع پڑنے پر اس کی مثال دی جاتی ہے، ضرب المثال کے معنیٰ ہوئے بار بار دی جانے والی مثال اسی کو کہاوت بھی کہتے ہیں جس کا مطلب ہے بار بار کہی جانے والی بات ضرب المثال یا کہاوتیں لوگوں کو زبانی یاد رہتی ہیں ہر ضرب المثال یا کہاوت اپنے اندر خاص واقعہ رکھتی ہے اس میں دلچسپی اور نصیحت بھی پوشیدہ ہوتی ہے۔ ہر وہ فقرہ  یا مصرعہ  کہاوت بن جاتا ہے جو بظاہر نظیر زبان زد عام اور مشہور ہو جائے جیسے سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے ''دیل  میں چند ضرب المثال اور ان کے معنیٰ دیے جا رہے ہیں ۔

          ضرب المثال یا کہاوتیں                                          معنیٰ

آپ بھلے تو جگ بھلا                                                      خود اچھے ہیں تو ساری دُنیا اچھی ہے

آدمی آدمی انتر کوئی ہیرا کوئی کنکر                                           سب آدمی ایک جیسے نہیں ہوتے

 آم کے آم گٹھلیوں کے دام                                                 وہ کام جس میں فائدہ ہی فائدہ ہو

  اپنی گلی میں کتا بھی شیر ہے                                                 اپنے گھر میں کمزور بھی طاقتور  ہے

 بلی کے خواب میں چھچھڑے                                                ہر شخص اپنی ہی مطلب کی سوچتا ہے

 بوڑھی گھوڑی لال لگام                                                    بڑھاپے میں جوانی کی آرایش

 جب تک سانس تب تک آس                                               امید مرتے دم تک رہتی ہے

جس کی لا ٹھی اس کی بھینس                                                جس کی ہر چیز پر قبضہ ہوتا ہے

 چراغ سے چراغ جلتا ہے                                                   ایک سے دوسرے کو فائدہ پہنچتا ہے

 دھوبی کا کتا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا                                               بے کا آدمی   کام کا نہیں رہتا

سیدھی انگلی سے گھی نہیں نکلتا                                              ہر کام نر می سے نہیں ہوتا ہے

 

محاورے:

                       دو یا دو سے زائد الفاظ کا ایسا مجموعہ جس کے حقیقی معنیٰ کی جگہ مرادی معنی لیے جائیں تو وہ محاورے کہلاتے ہیں ۔محاورے کے لئے اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ جو محاورات اہل زبان ابتدا سے جس طرح بولتے اور لکھتے آئے ہیں اسی طرح بولنا اور لکھنا لازمی ہیں جیسے تیز رفتار ہونا یعنی نہایت تیز رفتاری سے آگے جانے  کو ہوا میں ہوا سے باتیں کرنا کہتے ہیں یہاں ہوا سے باتیں کرنا کی جگہ ہوا سے گفتگو کرنا، نہیں کہہ سکتے محاورہ کسی جملے میں اس طرح شامل رہتا ہے کہ اگر اسے الگ کر دیں تو جملہ ادھورا رہ جائے گا یعنی محاورات جملوں کا جز یا حصہ بن کر اس میں شامل ہو جاتا ہے ۔ذیل میں چند محاورے اور ان کا مطلب پیش کیے جا رہے ہیں ۔

                     محاورے                                              معنیٰ

آنکھیں چرانا                                                   بےرخی کرنا

 بغلیں بجانا                                                     خوش ہونا

خون کے گھونٹ پینا                                            غصہ برداشت کرنا

چار چاند لگانا                                                   عزت بڑھانا

 رائی کا پہاڑ بنا نا                                                 معمولی بات کو بڑا کرنا

 شیشے میں اتارنا                                                 قابو میں لانا         

 ناک کٹوانا                                                     بد نام کرنا

 کان کھڑے کرنا                                                ہوشیاریاں چوکنہ ہونا

 مکھیاں مارنا                                                    بے کار وقت گزارنا

دال نہ گلنا                                                      کامیابی نہ ہونا

 پاؤں کے تلے زمین نکلنا                                          ہوش اڑنا

سبز باغ دکھانا                                                  دھوکا دینا

 مٹی میں ملانا                                                   برباد کرنا

 ہاتھ ملنا                                                        افسوس کرنا

 

محاورے اور ضرب المثال میں فرق :

                       کہاوت ایک مکمل جملہ ہوتا ہے جسے تبدیل کیے بغیر لکھا اور کہا جاتا ہے مثلا ''اندھوں میں کانا راجہ ''ایک کہاوت ہے ۔اس میں اندھوں کو بہروں سے یا کانا کو'' سیانا'' سے تبدیل نہیں کیا جاسکتا جبکہ محاورے مصدر کی شکل میں ہوتا ہے جیسے مختلف افعال میں تبدیل کر سکتے ہیں مثلا ''ڈینگیں مارنا ''محاورہ ہے اسے فاعل یا فعل  کے لحاظ سے تبدیل کرسکتے ہیں۔ جیسے '' وہ ڈینگیں مارتا ہے'' تم بھیڈینگیں  مارتے ہو'' ڈینگے مت مارو ''ہم سب نے ڈینگیں ماری۔

مختصر یہ کہ محاوروں میں کسی مصدر کو اس کے حقیقی معنی کے بجائے مجازی معنوں میں استعمال کیاجائے جیسے ''کھانا'' ایک مصد رہے ۔اس کے حقیقی معنیٰ یہ ہیں کہ کوئی چیز بطور خوراک یا تو وہ منہ کے راستے سے پیٹ تک پہنچانا لہذدواٹی کھانا، دوائی کھانا ،چاول کھانا، محاورہ تو نہیں ہے ۔اگر'' کھانا'' کو مجازی طور پر استعمال کیا جائے جیسے غم کھانا، ہوا کھانا، چغلی کھانا، پیسے کھانا، تو یہ سب محاورات کہلائیں گے ۔

سابقہ

                       کسی لفظ کے شروع میں کوئی اور چھوٹا سا لفظ لگا کر مرکب لفظ بنایا لیا جاتا ہے اس پہلے لگائے ہوئے لفظ کو سابقہ کہتے ہیں جیسے ادب کے پہلے سے ''بے''لگا کر'' بے ادب ''اور ''سمجھ ''کے پہلے ''نا'' لگا کر ''نا سمجھ ''بنا لیا جاتا ہے ۔اور مول سے انمول ان مثالوں میں بے ''نا'' اور ان سابقہ ہیں درج ذیل میں چند مثالیں دی جا رہی ہے ۔

''ان پڑھ ''انجام ''بد گمان ''بد چلن'' بے ہوش ''بے پردہ'' بے خبر''  بے صبر ''کامیاب ''کمزور ''کم حوصلہ'' کم عقل ''نامعقول'' نادان ''غیرحاضر ''غیر مفید'' غیرمعمولی''

لاحقہ

کسی لفظ کے  آخر میں کوئی اور چھوٹا سا لفظ لگا کر مرکب لفظ بنا لیا جاتا ہے اس آخری میں لگائے ہوئے لفظ کو لاحقہ کہتے ہیں۔ جیسے ''ضرورت ''کے آخری میں'' مند'' لگا کر ''ضرورتمند'' اور'' درد'' کے آخر میں ''دردناک ''یہاں ''مند ''اور ''ناک ''لاحقے ہیں۔ چند مثالیں پیش ہیں۔

''جاں باز'' دغاباز ''خیرخواہ'' دلخواہ ''دور اندیش ''خیراندیش ''خیر طلب ''شہر طلب'' سائنسدان ''قدرداں ''بت پرست'' خدا پرست ''ترقی پسند'' دلپسند ''دلگیر'' وغیرہ۔ سابقے اور لاحقے زبان کا بہت اہم حصہ ہیں ان کی مدد سے کئی نئے نئے الفاظ بنائے جا سکتے ہیں جو زبان کو وسیع بنانے میں مدد کرتے ہیں۔

                                                                                                                  بحوالہ۔تزینہ ادب

                                                                                                                                 ختم شُدہ۔۔۔۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.