11.Notes - (B.A)Third Year Sem-VI(ML-Urdu(Optional) Paper -XI)

ڈرامہ کا ارتقاء

ڈرامے کے سلسلے میں پہلا قدم لکھنو کے مشہور نواب واجد علی شاہ نے اٹھایا نواب کو رقص وسرور اور تاری نوٹنکی و غیر دے بے پناور کاپی تھی جو ان کو ایک طرح سے وراثت میں ملی تھی۔ طبیعت میں حسن پرستی اور نفاست پسندی کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ رقص و موسیقی کا ذوق جنون کی حد تک تھا۔ پھر کچھ حالات بھی ایسے تھے ۔ دولت کی فروانی تھی چنانچہ انہوں نے کرشن لیا اور راس لیلا سے متعلق کھیل رہی کو پسند کیا جس میں کرشن گویوں سے وعدہ کرتے رہتے ہیں کہ وہ ان کی تمنا جلد پوری کریں گے۔ گویوں کی بے قراری ، کرشن کی قربت و صحبت پھر اس کے بعد کرشن کا غائب ہو جاتا ، جمنا کے کنارے ان کا ظاہر ہوتا ، گوپیوں کا گھیرا بنا کر گھیر لیتا ، اس طرح تمام رات کو یوں کے ساتھ بسر کرتا رہس کہلاتا تھا، جسے نواب بے حد پسند کرتے تھے کیونکہ اس میں ہر طرح کا قیش اور تفریح کا سامان نظر آتا ۔ پروفیسر مسعود حسن رضوی ادیب کا خیال ہے کہ واجد علی شاور جس کے آداب وطن سے پوری طرح واقف تھے اور اس سے انہیں بے حد لگاؤ تھا۔ اپنے دربار میں انہوں نے باقاعدہ و ریس خانہ بنوایا خود اس میں شریک ہوتے ، ہدایتیں دیتے ۔ اس کے تعلق سے انہوں نے رادھا کنہیا کا قصہ لکھا (42-1841ء) اور اسے با قاعد و دربار میں پیش کیا جس میں خود نواب بھی شامل ہوئے جیسا کہ شرر لکھتے ہیں:

"اسی ذوق میں انہوں نے سری کرشن جی کا رہی جو ہندوؤں میں آج تک مروج ہے، دیکھا اور ونفور ذوق وشوق

سے اپنا ایک طبع زاد ڈراما تیار کیا جس میں خود کن یا پیا بنتے کبھی فقیر بن کر صحرانوردی کے شوق میں کھو جاتے اور

گو پیاں کو بہ کو ڈھونڈتی پھرتیں۔ ان کی خیالی ترقی نے کبھی گو ہوں کو پریاں بھی بنا دیا مگر آپ ہمیشہ کنہیا ہی رہے۔"

پروفیسر مسعود حسن رضوی ادیب نے واجد علی شاہ کے اس رہس کو اردو کا پہلا ڈراما کہا ہے لیکن زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ رادھا کنہیا کا قصہ با ضابطہ ڈراما نہیں بلکہ راس ہے جو محض کرشن لیا اؤں سے متاثر ہوکر ترتیب دیا گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کی پیش کش میں ان کی اپنی جدت طبع اور اقتاد دینی کام کرتی رہی اور رقص و سرود کی کچھ نئی شکلیں سامنے آئیں۔ ایک قصہ کو کرداروں کے ذریعے پیش کرنے کی یہ کوش ڈرامے کی ابتدائی منزل ہے اور اس لیے ان کی اس کوشش کو اُردو ڈرامے کا پہلا قدم تو کہا جا سکتا ہے لیکن اس کو اردو کا پہلا ڈراما کہ پانا مشکل ہے۔ تا ہم فنون لطیفہ کی تاریخ میں نواب کی ان کوششوں کو ہمیشہ سراہا جائے گا۔

 امانت کی اندر سبھا:۔ہر چند کہ رادھا کنہیا، جیسے کھیل دربار میں کھیلے گئے اور عوام سے ان کا براہ راست کوئی تعلق نہ تھا، پھر بھی ان کی دھوم دور دور تک پہنچی۔ ان کی شہرت سن کر اس عہد کے معروف شاعر آغا حسن امانت نے کم و بیش اسی طرز پر ایک کھیل تیار کیا جس کا نام اندر سجا رکھا جس کے بارے میں خود مصنف لکھتا ہے۔عام خیال ہے کہ اندر سجا اگست 1852 ء میں لکھی گئی اور ڈیڑھ سال بعد جنوری 1854ء میں پہلی بار کھل گئی۔ پہلی بار عوام کے سامنے ڈراما لما چیز آئی جس میں اس عہد کے لکھنو کے مذاق و مزاج کا پورا پورا خیال رکھا گیا تھا چنانچہ یہ کھیل خوب مقبول ہوا اور گھر گھر اس کے چرچے نئے جانے مختلف مثنویوں کے حصوں کو لے کر پریوں ، دیو اور گلفام کے علاو واندر کی شوقین طبیعت کے ذریعہ اس عہد کے معاشرے کی بھر پور تصویر پیش کی گئی اورلیے بے حد پسند کی گئی۔

 

ناول کا ارتقاء

اردو ناول کا باقاعدہ آغاز ڈپٹی نذیر احمد سے ہوتا ہے۔ نذیر احمد کے ناولوں میں فنی پختگی اور اس کے بنیادی تقاضوں کی پوری پابند نہ ہولیکن اس اعتبار سے ان کے ناول اردو میں ایک نیا اور کامیاب تضر بہ ضرور ہیں کہ ان میں پہلی مرتبہ محض دلچسپی اور تفریح کے مقصد کو نظر انداز کر کے کیس معاشرتی و سمانی مسئلے کو موضوع بنیا گیا۔ "مراۃ العروس، بنات النعش ، توبتہ النصوح، فسانہ مبتلا ، ابن الوقت ، رویائے صادقہ اور ایامی" تکنیک کے اعتبار سے ناول کے مفہوم پر پورے نہ اُترتے ہیں لیکن ایک نیا شعور اور نیا احساس پیدا کرنے میں آمددگار ثابت ہوئے ہیں۔

نذیر کے ساتھ سرشار اور شرر نے ناول لکھے۔ پنڈت رتن ناتھ سرشار کا لہجہ منفرد اور انداز مزاحیہ ہے ۔ انھوں نے اودھ کی تہذیبی اور سماجی اقدار کو اپنا موضوع بنایا ہ فسانۂ آزاد، جام سرشار، سیر کہسار، کامنی ، خدائی فوجدار، کڑم دھم، بچھڑی دلہن ، ہشو ، طوفان بے تمیزی اور پی کہاں سرشار کے مشہور ناول ہیں۔ عبدالحلیم شرر نے حالکے دریچوں سے ماضی کی تصویر کشی کرتے ہوئے تاریخی ناول کے مقصد کو کامیابی کے ساتھ پورا کیا ہے۔ ملک العزیز ورجنا ، حسن انجلینا ، منصور موہنا، قیس ولنی ، فلور افلورنڈا، ایام عرب، فردوس بریں اُن کے معروف ناول ہیں لیکن اس ابتدائی عہد کے سب سے کامیاب ناول نگار مرزا محمد ہادی رسوا ہیں جنہوں نے امراؤ جان ادا، شریف زادہ اور ذات شریف میں اپنے زمانہ کی چند معمولی شخصیتوں کو لے کر اودھ کی پوری معاشرت سے متعارف کرا دیا ہے ۔

رومانوی رجحانات اور اردو ناول:۔اردو میں رومانوی رجحانات ، کلاسیکی روایت اور سرسید کی اصلاحی تحریک کے خلاف احتجاج کی شکل میں نمودار ہوئے ۔تحصیل کی جولانیوں میں رومانوی ناول نگاروں نے اگر کبھی سماجی معاملات اور ذاتی زندگی کے مسائل کو موضوع بنایا بھی تو حسن و عشق کی بھول بھلیوں میں اصلاحی مسئلے ایسے الجھ کر رہ گئے کہ قاری کے ذہن پر کوئی دیر یا تاثر قائم نہ کر سکے ۔ شرر کے ناول دلچسپ، دلکش اور یوسف نجمہ اس زمرے میں شامل ہیں ۔ قاری ناولوں کو اردو کا قالب عطا کیا مگر ان کی بیگم نذ رسجاد حیدر نے جاں باز، ثریا، نجمہ اور حرماں نصیب جیسے کامیاب ناول خلق کیے ہیں ۔دو نیاز فتح پوری کا شہاب کی سرگذست، مجنون گو رکھپوری کا سوگوار شباب“ اور ”سراب‘ قاضی عبدالغفار کے ”دلیلی کے خطوط اور مجنوں کی ڈائری“، مشہور ناول ہیں۔ کوثر چنار پوری کا ” دنیا کی حور ۔ علی عباس حسینی کا ” شاید کہ بہار آئے۔ عظیم بیگ چغتائی کا شریر بیوی ۔ "کولتار ۔ چمکی، اور کالے گورے ایم اسلم کے ناولوں میں شمسہ، شام و سحر، آخری رات، بیتیباتیں ، حسن سوگوار رومانوی رجحانات پر مبنی ناول ہیں۔

 ترقی پسند تحریک اور اردو ناول ترقی پسند ادبی تحریک کی راہ کو پریم چند نے ہموار کیا ہے ۔ اُن کے تمام ناول حقیقت پسندی پر مبنی ہیں۔ پریم چند کا نقطہ نظر یہ تھا کہ اسب زندگی کا عکاس ہے تو اسے زندگی کو اسی طرح پیش کرنا چاہیئے جیسی کہ وہ ہے اسرار معابد سے گودان تک انھوں نے سماجی ، معاشی ، سیاسی اور طبقاتی تصادم کو بطور خاص موضوع بنایا۔ ترقی پسند ناول نگاروں نے ان ہی خطوط پر چل کر سماجی انتشار، اخلاقی گراوٹ ، تہذیبی استحصال اور طبقاتی کشمکش سے پیدا ہونے والے مسائل کو پوری طرح اپنے گرفت میں لے کر نہ صرف معاشرے کی مسخ ہوتی ہوئی تصویر کا نجسبہ نقشہ پیش کیا ہے بلکہ اس کو سنوارنے اور نکھارنے کا بھی جتن کیا ہے۔ علی عباسی حسینی اپندر ناتھ اشک، حیات اللہ انصاری ، عزیز احمد ، خواجہ احمد عباس ، را مانند ساگر، کرشن چندر، عصمت چغتائی ، احمد ندیم قاسمی راجندر سنگھ بیدی، شوکت صدیقی ، قاضی عبدالستار، خدیجہ مستور، جیلانی بانو وغیرہ نے ترقی پسند ناول کا دامن بیحد وسیع کیا۔

جدیدیت اور اردو ناول:۔مارکسیت کی گرفت کمزور ہونے کی وجہ سے حقیقت نگاری کی روایت جو سماجی اور نفسیاتی زاویوں سے معاشرے کہ دیکھ رہی تھی ۔ ۱۹۵۵ء کے آس پاس آہستہ آہستہ اپنا اثر کھونے لگی اور جیدیت کا رجحان فروغ پانے لگا۔ اجتماعیت کے مقابلے میںفردیت اور خارجیت کے مقابلے میں نفسی کو الف اور مغربی نظریات پر تجربات شروع ہوئے ۔داخلیت زور پکڑنے لگی منجھی ہوئی مانوس اور مربوط زبان کے بجائے قدرے نا ہموار زبان کا استعمال کیا جانے لگا اور یہ تصور پنپنے لگا کہ پلاٹ، کردار اور نقطہ نگاہ کے بغیر بھی ناول لکھا جا سکتا ہے۔ اس تصور کے تحت شعور کی رو، آزاد تلازمۂ خیال اور وجودی فکر طاقتور پیرائے کی صورت اختیار کر جاتے ہیں۔ قرۃ العین حیدر، ممتاز مفتی ، جمیلہ ہاشمی ، انتظار حسین ، عبداللہ حسین ، انور سجاد اور جو گندر پال نے روایت سے انحراف کیا اور بیانیہ کے نئے اسالیب دریافت کیے خصوصاً قرۃ العین حیدر نے کردار نگاری کا ایک نہایت اہم اور انوکھا تصور اردو ناول کو عطا کیا۔

 عصر حاضر میں اردو ناول ۱۹۸۰ء کے بعد کے ناول نگاروں نے محسوس کیا کہ ماضی قریب میں انفرادیت اور نوکھے پن کی تلاش تھی اس لیے ہمیں اپنے عہد کی زندگی کے حقائق کی غیر مشروط جستجو اور شناخت پر توجہ مرکوز کرنا چاہئے ۔ زندگی کو جینے اور فن کو برتنے ، دونوں میں نمایاں فرق آچکا ہے اور یہ فرق ناول کے اسالیب میں منعکس ہوکر رہے گا لہذا مانعد جدید ناول نگاروں نے رومانوی رجحانات ،ترقی پسند نظریات ، جدیدیت کی ابہام پسندی اور تجریت سبھی سے ممکن حد تک دامن نچایا البتہ ان کے اسالیب کے بہتر عناصر کو قبول کرنے میں پس و پیش نہیں کیا۔ نانو قد سیہ، انیس ناگی ، الطاف فاطمہ، رحیم گل، اقبال مجید، غلام الثقلین نقوی ، طارق محمود، عبد الصمد ، رضیہ فصیح احمد ، احمد، پیغام آفاقی ، حسین الحق سید محمد اشرف، ترنم ریاض، علی امام نقوی ، غضنفر ، مشرف عالم ذو عالم ذوقی ، یعقوب یادر، احمد صغیر، شموئل حمد، رحمن عباس ، نور الحسنین ، نقشبند قمر نقوی ، شاہد اختر وغیرہ نے رائج رویوں اور طرز اظہار سے کسب فیض بھی کیا اور اس سے رخصت بھی اختیار کیا۔ یعنی ان ناول نگاروں نے ایسی تخلیقی کا ئنات آباد کی جس پر ماضی کا اثر بھی ہے اور مستقبل کے سفر کے تمام امکانات بھی پنہاں ہیں ۔

 

افسانہ کا ارتقاء

اردو میں مختصر افسانے کا فن مغرب سے آیا مگر اردو والوں کی اس پر ایسی توجہ مرکوز ہوئی کہ اردو میں یہ یوروپ کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہی مقبول ہو گیا۔ اردو میں افسانہ نگاری کا آغاز تو ترجموں سے ہوا مگر اس کے ارتقا میں طبع زاد افسانوں نے زیادہ اہم رول ادا کیا۔ ترجمے سے افسانہ نگاری کی ابتدا کرنے والوں میں سجاد حیدر یلدرم اور سلطان حیدر کے نام سرفہرست ہیں اور طبع زاد افسانوں سے افسانہ نویسی کی داغ بیل ڈالنے والوں پر پریم چند کا نام سب سے آگے ہے۔

شروع میں اخلاقی اور رومانی نوعیت کے افسانے لکھے گئے ۔ بعد میں دیہاتی زندگی کا موضوع بھی ان میں شامل ہو گیا۔ ابتدائی دور کے لکھنے والوں میں سجاد حیدر یلدرم، سلطان حیدر جوش اور پریم چند کے علاوہ پنڈت سدرشن، نیاز فتح پوری اور حجاب امتیاز علی کے نام بھی شامل ہیں ۔ اردو افسانے کے ا اولین نمونوں پر مقصد یہ ربیت کا رنگ غالب ہے۔ موضوعات بھی ؟ محدود رہے اور تخلیق کاروںکے سامنے اچھے نمونے نہ ہونے کے سبب فنی پختگی کی بھی کمی رہی۔ افسانوں کے عناصر میں وہ رچاؤ اور کساؤ نہ پیدا ہو سکا جو بعد کے افسانوں میں دکھائی دیا۔

اردو افسانہ آگے بڑھا تو افسانہ نگاروں کے صف میں نئے افسانہ نگار بھی شامل ہوتے گئے اور افسانے کو نئے نئے موضوعات بھی ملتے گئے اور مشق و مہارت کی بدولت اس میں فنی باریکیاں بھی پیدا ہوتی گئیں۔ بعد میں شامل ہونے والے افسانہ نگاروں میں علی عباس حسینی، اعظم کریوی اور ل احمد (لطیف الدین احمد ) کے نام قابل ذکر ہیں ، رومان اور اخلاق کے ساتھ ساتھ دیہات کی زندگی اور کسانوں کے مسائل بھی اردو افسانے کا موضوع بننے لگے۔ انگارے کا دور آتے آتے اردو افسانہ اتنا روشن خیال ہو گیا کہ اس نے اپنے دامن میں ان موضوعات وسائل کو بھی سجا لیے جن کا نام لینا بھی اس دور کے معاشرے میں منع تھا۔ انگارے کے مصنفین ، سجاد ظہیر، رضیہ سجاد ظہیر ، احمد علی وغیرہ نے جنس اور عورت کی آزادی جیسے موضوعات پر افسانے لکھ کر واقعی افسانوی دنیا میں آگ بھڑ کا دی ۔ انگارے میں شامل افسانوں کے شعلے ایسے لیکے کہ اردو افسانہ نگاری میں ایک نئی راہ روشن ہوگئی ۔ اس روش پر لوگوں نے لعن طعن بھی کیا اور اس کی کافی مخالفت بھی ہوئی مگر اس کے باوجود یہ راستہ بند نہ ہو سکا۔ انگارے کی روشنی نے آنے والی ترقی پسند تحریک کی سرگرمیوں کو چمکنے دمکنے میں بھی کافی مدد کی ۔ ایک طرح سے اس نے ترقی پسند افسانہ کے راستہ ہموار کر دیا اور ترقی پسندی کو آگے بڑھنے کے لیے بنیادی سہولتیں فراہم کر دیں۔

مارکس اور لینن کے نظریات کے زیر اثر پنپنے والے ترقی پسند تحریک ادب کو ایک نئے طرز کے افسانے تک پہنچا دیا۔ افسانہ نگاروں کے قلم سے نئی کہانیاں نکلنے لگیں۔ ان نئی کہانیوں کو جدید افسانے کا نام دیا گیا۔ جدید افسانہ چونکہ ترقی پسند افسانوں کی سطحیت ، یکسانیت اور اکبرے پن کے رد عمل کے طور پر وجود میں آیا تھا اس لیے اس میں تہ داری ، ایمائیت اور کثیر الجتبی جیسی خصوصیات کا ہوناضروری تھا۔ ان کے لیے شعوری طور پر کوششیں بھی ہوئیں۔ ترقی پسند افسانے کے رد عمل کا ایک اثر یہ بھی ہوا کہ جدید افسانے کا مرکز و نور سماج کے بجائے فرد بن گیا۔ چوں ترقی پسند افسانہ نگاروں کے نزدیک معاشرہ اہم تھا تو یہاں فرد اہم ہو گیا۔ فرد کی ذات پر توجہ مرکوز کرنے میں وجودی فلسفے نے نمایاں رول ادا کیا ۔ اس دور کا انسان چونکہ بھیٹر میں رہ کر بھی تنہائی کا شکار تھا۔ وہ رشتوں کی شکست و ریخت سے دو چار تھا۔ مادہ پرستی کا مارا ہوا تھا۔ قدروں کے زوال آمادہ معاشرہ اور انسانی بے حسی کے گھیرے میں گھرا ہوا تھا، اس لیے وہ طرح طرح کی نفسیاتی پیچیدگیوں کا شکار ہو گیا تھا، لہذا اس انسان پر لکھا گیا افسانہ بھی الجھاؤ اور ابہام کا شکار ہو گیا۔ موضوع کی تبه داری، بوقلمونی، اظہار کی رنگارنگی ، علامت اور استعارے کی معنویت اور نئے پن کی دیگر خوبیوں کے باوجود افسانہ عوام سے کہتا چلا گیا اور قاری اس نوع کے افسانے سے بھی اکتاہٹ محسوس کرنے لگا۔یہ سچ ہے کہ جدید افسانے سے آہستہ آہستہ کہانی غائب ہوتی چلی گئی جس کی وجہ سے اس کا رشتہ عوام سے کٹ گیا مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اردو افسانے کے ارتقا میں اس نے بھی اپنا اہم رول ادا کیا کہ اس نے نہ صرف یہ کہ انسان کے باطن میں جھانکنے کی کوشش کی اور فرد کے نہاں خانوں کو موضوع بنایا بلکہ انسان کے اندرون کو سمجھنے اور اس کی پیچیدگیوں کو جاننے کا شعور عطا کیا۔ ساتھ ہی جدید افسانے کو اظہار و ابلاغ کے نئے نئے سانچے بھی فراہم کیے۔ جن افسانہ نگاروں نے اردو میں جدید افسانے کی شروعاتاور اسے نئی جہات سے آشنا کیا ان میں سر بندر پرکاش، بلراج منیرا، انور سجاد، خالدہ اصغر، احمد ہمیش اور قمر احسن وغیرہ کے نام خاصے اہم ہیں۔

ترقی پسند افسانے کی طرح اس رجحان کے افسانے کی بھی خاصی تقلید ہوئی اور لکھنے والوں کی ایک بھیٹر جمع ہوگی جس میں شفق ، اسد محمد خان، احمد داؤد، رشید امجد، اکرام باگ، مظہر الزمان خانم ، ناگ ، عبدالصمد ، شوکت حیات ، حسین الحق ، حمید سہروردی ، انور قمر، انور خان علی امام نقوی وغیرہ نمایاں طور پر نظر آتے ہیں ۔کہانی پن کی کمی اور تجریدیت و حمایت کی یلغار کے سبب جدید افسانے کی رفتار بھی ست پڑنے لگی رفتہ رفتہ اس کی کشش بھی کم ہوتی گئی اور قاری اس سے بھی اپنا دامن چھڑانے لگا مگر اس کے دل و دماغ کو لطف وانبساط کی ضرورت اب بھی باقی رہی اور اس ضرورت کے دباؤ کے تحت کسی اور نئے انداز کے افسانے کی تلاش جاری رہی۔ جلد ہی ایسا اسے ایک افسانہ مل بھی گیا۔ یہ افسانہ ترقی پسند اور جدید دونوں طرح کے افسانوں سے مختلف تھا۔ اس میں نہ اکبر اپن تھا اور نہ ہی کہانی بین کی کمی تھی بلکہ اس میں ترقی پسندیت اور جدیدیت دونوں کی خوبیاں موجود تھیں اور یہ دونوں کی کمیوں اور کمزوریوں سے بھی پاک تھا۔ اس نے اردو افسانے کے رکے ہوئے کارواں کو مہمیز لگا دی۔ اردو کہانی پھر سے دور نے لگی ۔ جن افسانہ نگاروں کے دم سے اردو افسانے کا قافلہ پھر سے رواں دواں ہوا ان میں وہ افسانہ نگار بھی ہیں جو بھی ترقی پسندی اور جدیدیت کے اسیر تھے اور وہ کہانی کار بھی جنھوں نے اپنی افسانہ نگاری کی یہیں سے شروعات کی۔ ترقی پسندی اور جدیدیت کے گھیرے سے نکل کر آنے والوں میں اقبال مجید، رتن سنگھ، عابد سہیل ، سلام بن رزاق ، عبد الصمد ، شوکت حیات، حسین الحق وغیرہ شامل ہیں اور نئے ناموں ساجد رشید، بیگ احساس، غضنفر ، طارق چھتاری، سید محمد اشرف، ابن کنول ، شموئل احمد ، پیغام آفاقی ، انجم عثمانی ، ترنم ریاض، مشرف عالم ذوقی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔کہانی پن والے اس نئے افسانہ کا سفر شد و مد کے ساتھ جاری ہے اور لکھنے والوں کے قافلے میں ہر موڑ پر نئے نئے چہرے شامل ہوتے جارہے ہیں۔ ساتھ ہی نیا اردو افسانہ و افسانہ ایک نئے انئے رنگ و آہنگ سے بھی آشنا ہوتا جا رہا ہے اور اس نئے رنگ و آہنگ والے افسانے کو مابعد جدید افسانے کا نام دیا جا رہا ہے۔

انشائیہ کا ارتقاء

اردو ادب میں سنجیدہ طنزیہ اور مزاحیہ اور انشائیہ نما تحریریں کافی ملتی ہیں۔ لیکن ان کو صحیح معنوں میں انشائیہ نہیں کہا جاسکتا۔ مشال ملا وجہی کی تصنیف " " سب رس میں انشائیہ کی جملہ خوبیاں موجود ہیں۔ غالب کے خطوط میں انشائیہ کی بنیادی خوبیاں موجود ہیں، جیسے ذات کاانکشاف اور عصری آگہی خانتگی اور تازگی ، بے ربطی اور بے ترتیبی ، سادگی اور لفظ اندوزی ، داخلیت اور غنائیت ، و غیرہ۔ غالب کے بعد سرسید اور محمد حسین آزاد نے اردو انشائیہ کو جلا بخشی۔ سرسید نے بیکن اور ایڈیسن کی طرز پر انشائیے لکھے۔انشائیہ کا با قاعدہ آغاز بھی سرسید احمد خاں سے ہی مانا جا سکتا ہے۔ امید کی خوشی اور اسراب حیات میں انشائیہ کی جھلک موجود ہے۔ محمد حسین آزاد کی تصنیف " نیرنگ خیال میں بھی انشائیہ کی خوبیاں موجود ہیں ۔عبد الحلیم شرر نے چند انشائے بھی لکھے ہیں، کھاتا ہوا پتا" ، " پھول برسات"، " اچھوتا پن"، "بزم قدرتان کے دلکش انشائیے ہیں۔

سجاد حیدر یلدرم کے مضامین میں انشائیہ نگاری کی خوبیاں موجود ہیں ۔ ” مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ“، ” تیتری، جہاں پھول کھلتے ہیں، ایسے کئی مضامین ہیں۔ حجاب امتیاز علی انشائیہ نگاری میں خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ ان کے انشائیوں کا مجموعہ خلوت کی انجمن ہے۔خواجہ حسن نظامی کا شمار بھی صاحب طرز انشائیہ پردازوں میں ہوتا ہے ۔ ”دیا سلائی، جھینگر کا جنازہ، ”مٹی کا تیل“، ”مرغ کی اذان، مرچ نامه"، "گلاب تمھارا کیکر مارا، وغیرہ ان کے اہم انشایئے ہیں۔مرزا فرحت اللہ بیگ کے مضامین میں انشائیہ نگاری کے نمونے ملتے ہیں ' مولوی نذیر احمد کی کہانی کچھ ان کی کچھ میری زبانی دتی کا آخری یادگار مشاعرہ، ایک وصیت کی تعمیل میں، میں انشائیہ کی جھلک موجود ہے۔ملا رموزی کی نگارشات میں بھی انشائیہ کے نمونے موجود ہیں ۔ غنودگی اس کی اچھی مثال ہے۔رشید احمد صدیقی نے انشائیہ نگاری کے فن کو فروغ دیا۔ "اربر کا کھیت، "وکیل"، "مغالطہ اور چار پائی وغیرہ ان کے مشہور انشائیے ہیں ۔

پطرس کے مضامین میں بھی انشائیے کا رنگ موجود ہے۔ ہاسٹل میں پڑھنا“، ”لاہور کا جغرافیہ سے اور سینما کا عشق ان کے بہترین انشائیے ہیں۔رشید احمد صدیقی نے انشائیہ نگاری کے فن کو فروغ دیا۔ ارہر کا کھیت"، "وکیل"، "مغالطہ اور چار پائی وغیرہ ان کے مشہور انشائیے ہیں۔پطرس کے مضامین میں بھی انشائیے کا رنگ موجود ہے۔ ہاسٹل میں پڑھنا“، ”لاہور کا جغرافیہ، کتنے اور سینما کا عشق ان کے بہترین انشائیے ہیں ۔

ان کے علاوہ مہدی افادی ، عبد الماجد دریا آبادی ، نیاز فتحپوری، سجاد انصاری کے نام لائق تحسین ہیں ۔ عہد حاضر کے انشائیہ نگاروں میں انجم مانپوری ، عبدالعزیز فلک پیما، حاجی تو تو ، شوکت تھانوی ، کنہیا لال کپور، اختر احمد اور بینوی، یوسف ناظم ، وزیر آغا، مشتاق قمر، جیلانی اصغر، جمیل آذر، انور سدید سلیم آغا قزلباش ، طارق جامی، راحت بھٹی وغیرہ نے انشائیہ نگاری کی صنف کو ترقی دی ہے۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ موجودہ دور میں انشائیہ نگاری کا مستقبل تاریک نہیں ہے۔

  

خاکہ نگاری کا ارتقاء

اُردو نثر میں خاکہ نگاری کے اولین نقوش کا تعین ناممکن ہے۔ اُردو میں اس صنف کے ابتدائی خدو خال جنھیں Proto Type Sketch کہا جا سکتا ہے ۔ قدیم تذکروں اور دیگر تصانیف میں پائی جاتی ہیں۔ لیکن ایک مستقل صنف نثر کی حیثیت سے اُردو میں خاکہ نگاری کا آغاز انگریزی ادب کے زیر اثر ہوا۔اردو نثر میں اس صنف کی باقاعدہ ابتدا ء اگر چہ انیسویں صدی کے اواخر میں ہو چکی تھی لیکن صحیح معنوں میں اس کا ارتقاء اور بحیثیت ایک آزاد صنف خاکہ نگاری کا وجود بیسویں صدی میں عمل پذیر ہوا۔

میر کے نکات الشعراء (۱۱۲۵ھ) اور اس کے بعد کے تذکروں میں خاکہ نگاری کے ابتدائی خدو خال دستیاب ہوتے ہیں لیکن یہ نقوش ادھورے اور نامکمل ملتے ہیں اس لیے وہ خاکہ نہیں کہا سکتے ۔ تذکروں میں شخصیت کو بیان کرتے وقت بڑے ہی اختصار و ایجاز کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ بعض تذکروں میں شعراء کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ لیکن باوجود اس کے ان سے شعراء کی مکمل شخصیت اُبھر کر سامنے نہیں آتی ۔ تذکروں کے تعارفی بیانات کو خاکہ کا پر تو کہا جا سکتا ہے لیکن انھیں صنف خاکہ میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ تذکروں کے بعد انشاء کی ” دریائے لطافت میں بھی چند شخصی تصویروں کی جھلکیاں نسبتا واضح نظر آتی ہیں۔ ان میں حالیہ اور ہیئت نگاری زیادہ اور شخصی فطرت کی ترجمانی کم ہے۔ اس کے علاوہ ان کے اپنے تاثرات کی کمی کا احساس بھی ہوتا ہے جس کے سبب ان کے تحریر کردہ خاکے Proto type خا کے کہے جاسکتے ہیں۔ غیر افسانوی نثر میں صنف خاکہ نگاری چند انفرادی نقوش اور خصوصیات کی حامل ہوتی ہے ۔ خاکہ نویس کردار کی سیرت کی دھوپ چھاؤں ، اس کے عادات و اطوار، اس کے سیاہ و سفید کی ایسی تصویر کشی کرتا ہے جس سے شخصیت کے اہم پہلو سامنے آتے ہیں۔ تذکرۂ ہندی، گلشن بے خار، مجموعہ نغز ، خوش معرکہ زیبا محبوب الزمن اور تذکرہ گل رعنا میں بھی کہیں کہیں ایسے خاکوں کی جھلکار ہلاتی ہیں۔ لیکن مولانا محمد حسین آزاد کی " در مارا کبری نه نگ خیال اور آب حیات میں بعض معلومات اسے انداز میں فراہم کیگئی ہیں اور کرداروں کے مخصوص گوشوں پر اس انداز میں روشنی ڈالی گئی ہے کہ شعراء کی یہ چلتی پھرتی اور منہ بولتی تصویر میں خاکہ سے بہت قریب نظر آتی ہیں۔ اس میں پیش کردہ شخصی تصاویر کو خاکوں کے واضح نقوش قرار دے سکتے ہیں اور اس طرح آب حیات نہ صرف تذکرہ تاریخ بلکہ خاکہ نگاری اور انشاء پردازی کا مجموعہ اور مرکب بھی بن گئی۔ اس کا اسلوب ایسا اچھوتا اور قلمی تصاویر اتنی جاندار ہیں کہ اس کی دلچسپی " ہر دور میں باقی رہے گی اور اس قسم کی پیش کش میں اولیت کا سہرا ہمیشہ آزاد کے سرد ہے گا۔

آزاد سے بہتر حلیے شاید ہی کسی خاکہ نگار نے تحریر کیے ہوں ۔ جن شخصیات کو اُنھوں نے دیکھا نہیں ان کی خیالی تصاویر بھی اس طرح کھینچی ہیں کہ حقیقت کا رنگ پیدا ہو گیا ہے۔ آب حیات اس حیثیت سے کافی اہم ہے کہ اس میں آزاد نے قدیم ادبی روایات کو زندگی کے نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا ہے شخصی مرقع کشی کے لحاظ سے اگر آب حیات کو دیکھیں تو اس میں میر، انشاء مصحفی ، ذوق ، غالب کے تذکروں میں جابجا خاکے کی جھلکیاں ملتی ہیں ۔ شعراء کے اتنے مفصل خاکے آب حیات ہی میں پہلی مرتبہ پیش کیے گئے ہیں۔ اس لحاظ سے آزاد وہ پہلے شخصیت نگار ہیں جنھوں نے اس صنف کی بنیادیں استوار کیں ۔ آزاد کی پیش کی ہوئی تصاویر آج بھی دھند لی نہیں ہو ئیں ۔ مرزا ہادی رسوا اور عبدالحلیم شرر نے ان کی رکھی ہوئی بنیادوں پر اس صنف کی عمارت کھڑی کرنے کی کوشش میں نمایاں حصہ ادا کیا ہے ۔ شرر نے سیر رجال ونسواں کے علاوہ چیدہ شخصیتوں کے تین اہم سلسلے بھی لکھے ہیں۔ ان میں بھی ہم کو شخصی مرقعوں کے زیادہ واضح خدوخال ملتےہیں۔ ان کے ہاں ہم کو عظیم اور معمولی ہر دو قسم کے کردار ملتے ہیں۔ ان کا حالیہ ،لباس، پڑھنے پڑھانے کا انداز، اخلاق و عادات، انداز گفتگو، وضعداری ان کے کارنامے غرض کہ مختلف حیثیتوں کی دلچسپ عکاسی اپنے مخصوص لب ولہجہ میں کی ہے۔ شرر کا عام طرز بیان شگفتہ اور رواں ہے لیکن ان کے خاکوں میں اسلوب کی دلکشی نمایاں نہیں تخیل میں گہرائی کی کی محسوس ہوتی ہے۔ کردار کے مطالعہ سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہم ۔ مختلف المزاج کرداروں کا مطالعہ نہیں کئے جارہے ہیں بلکہ کرداروں میں ایک قسم کی یکسانیت کا احساس ہوتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ ہم شرر کے ان مضامین کو فنی نقطۂ نظر سے مکمل خاکوں میں شمار نہیں کر سکتے ۔ البتہ اُردو خاکہ نگاری کی تاریخ میں ابتدائی نمونے کی حیثیت سے ان کی اہمیت مسلم ہے۔ شرر کے بعد مرز امحمد ہادی رسوا نے وضع داران لکھنو کے نام سے شخصیات پر مضامین کا مجموعہ شائع کیا ہے۔ ان کی پیش کش کے انداز میں جذبات، خلوص، اعتماد اور قطعیت ضرور ہے۔ لیکن اُنھوں نے شخصیتوں کی سیرت کے کسی ایک پہلو ہی کو اُجاگر کیا ہے ۔ اس حیثیت سے ان کی پیش کر دو شخصی مضامین کو نیم شخصی مرقع کہنا درست ہو گا ۔ رسوا کے بعد خواجہ حسن نظامی نے دلی کی اکثر بڑی شخصیتوں کی تصویر کشی کی جنہیں وہ قلمی چہرے کہا کرتے تھے۔ لیکن ان کی تصویروں میں شخصیت کی پوری ترجمانی نہیں۔ انھیں صرف حالیہ کہہ سکتے ہیں اور انہی کو اُنھوں نے بہت زیادہ نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تصویروں میں حرکت نہیں اور وہ بالکل سپاٹ ہیں ۔ ان کے ہاں ہم کو خاکے کے اہم لوازم یعنی حایہ نگاری، سیرت کی عکاسی ، منظر نگاری، واقعہ نگاری سبھی کچھ ملتے ہیں۔ اس کے باوجود انھیں مکمل خاکہ کہنا اس لیے ممکن نہیں کہ ان شخصیتوں کا جامع خاکہ پیش کرنا حسن نظامی کا بنیادی نصب العین نہیں تھا۔ البتہ خاکے کے ابتدائی خدوخال میں حسن نظامی کی اس تصنیف کو ہمیشہ اہمیت حاصل رہے گی۔ عبد الحلیم شرر، مرزا ہادی رسوا اور خواجہ حسن نظامی کی مندرجہ بالا تصانیف کو اُردو خاکہ نگاری کی تاریخ میں بنیادی اہمیت حاصل رہے گی ۔ مکمل خاکے یقینا ان تخلیقات میں ہمیں نہیں ملتے۔ لیکن یہ تخلیقات خاکہ نگاری کے کامیاب نقوش کی حیثیت کی حامل ہیں۔ اُردو میں باقاعدہ خاکہ نگاری کا آغاز مرزا فرحت اللہ بیگ کے خاکوں سے ہوتا ہے۔ جنہوں نے بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں شخصی خاکوں کی طرف توجہ کی اور شخصی خاکہ نگاری کو ایک مستقل صنف کے درجے پر پہنچادیا۔ ان کا طویلخاکہ نذیر احمد کی کہانی کچھ ان کی کچھ میری زبانی اردو ادب کا ایک قابل قدر بہترین خاکہ ہے ۔ عبد الحق ( چند ہم عصر ) ، بشیر الدین ہاشمی (گفت و شنید ) ، آغا حیدر حسن دہلوی ( پس پرده) ، عبد الماجد دریا بادی (محمد علی) ، محمد شفیع دہلوی ( دیلی کا سنبھالا )، خواجہ غلام السیدین آندھی میں چراغ ) ، رشید احمد صدیقی ( گنج ہائے گراں مایہ، ہم نفسان رفتہ اور خنداں ) اور عبد الرزاق کا نپوری ( یاد ایام ) نے بھی شخصی خاکے تحریر کیے۔ بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں اُردو ادب کئی نئے رجحانات و تحریکات سے اثر پذیر ہوا۔ ترقی پسند تحریک کے زیر اثر ایک منصوبے کے تحت شخصیتوں کے خاکے تحریر کیے جاتے رہے لیکن ان تخلیق کاروں کی نظر اشخاص سے زیادہ تحریک پر تھی اس لیے کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی ۔ تاہم ان کی توجہ حقیقت نگاری پر رہی ۔ اس دور کے خاکہ نگاروں میں عصمت چغتائی، علی سردار جعفری ، کرشن چندر، کیفی اعظمی، فکر تونسوی، ساحر لدھیانوی ، سعادت حسن منٹو، شوکت تھانوی، اشرف صبوی ، مالک رام ، رئیس احمد جعفری، دیوان سنگھ مفتون ، غلام احمد ، فرقت کا کوروی تمکین کا ظمی، چراغ حسن حسرت، انجاز حسین محمد طفیل علی جواد زیدی ، الطاف حسین قریشی، معین الدین دردانی ، عبد المجید سالک، شاہد احمد دہلوی ، عبدالاحد خاں تخلص بجو پالی، ضیاء الدین احمد برنی نریش کمار شاد، شورش کا شمیری مجتبی حسین، صالحه عابد حسین، یوسف ناظم ، خواجہ احمد فاروقی ، کنہیا لال کپور قر و امین حیدر، مشتاق احمد یوسفی ، ندافاضلی ، ضیاء الحسن فاروقی بنگن ناتھ آزاد، عوض سعید ظہیر احمد صدیقی ، و باب عندلیب، عنوان چشتی ، عرش ملسیانی ، صباح الدین عبدالرحمن وغیر ہ کے نام قابل ذکر ہیں۔   

 ختم شد

علی گڑھ تحریک

 پس منظر :۔سرسید نے جب 1869ء میں لندن کا سفر کیا تو اس سفر کے دوران وہ ایک ایسے خوشگوار تجربے سے گزرے جس نے ان کی سوچ و فکر کو بالکل بدل کر رکھ دیا۔ مغرب کے مشاہدے اور وہاں کی تہذیب وثقافت کے مطالعے نے انھیں اس نتیجے پر پہنچایا کہ یورپ والوں کی ترقی ان کے عیسائی مذہب کی وجہ سے نہیں بلکہ ذہنی قوت کے استعمال اور نئے نئے علوم وفنون کے حاصل کرنے میں پوشیدہ ہے۔ سرسید کو خاص طور سے مغرب کے طریقہ تعلیم نے بے حد متاثر کیا تھا۔

سرسید اس سے بھی حد درجہ متاثر تھے کہ وہاں کے معاشرے کو اپنی تہذیبی اصلاح پر مائل کرنے میں وہاں کے دو اخباروں ٹیٹلر“ اور” اسپیکٹیٹر “‘ نے اہم رول ادا کیا تھا۔ انھوں نے لندن کے قیام کے دوران ہی پختہ ارادہ کر لیا تھا کہ ہندوستان پہنچ کر وہ بھی اسی طرز پر ایک رسالہ جاری کریں گے اور ایک ایسا ادارہ قائم کریں گے جس میں کیمبرج کی طرح تعلیم کا انتظام ہو سکے۔ چنانچہ انھوں نے مسلمانوں کو اوہام پرستی سے نکالنے اور جدید تعلیم کا قائل کرنے کے لیے سائنٹفک سوسائٹی کے اخبار میں بہت سے مضامین لکھے ، اور ایک عظیم الشان یونیورسٹی کے قیام کے لیے زمین ہموار کرنا شروع کر دیا۔ لندن میں ہی انھوں نے ہندوستان میں موجودہ قائم نظام پر اعتراضات کے نام سے ایک کتاب لکھی اور اسے وہیں سے شائع بھی کروائی ۔ یہ کتاب دراصل اس سلسلے کی ایک کڑی تھی ۔ہندوستان آ کر انھوں نے رسالہ ” تہذیب الاخلاق جاری کیا اور علی گڑھ میں مدرسۃ العلوم کی بنیاد رکھی جسے سرسید کے خواب کی عملی صورت کہنا چاہیے۔ بعد میں اسی مدرستہ العلوم نے علی گڑھ تحریک کے لیے گہوارے کا کام کیا۔

علی گڑھ تحریک:۔یہ حقیقت ہے کہ علی گڑھ تحریک کا بیج 1857 کی جنگ سے پھوٹا تھا۔ اگر یہ جنگ نہ ہوتی تو شاید سرسید احمد خاں کی زندگی کی مشغولیات کچھ اور ہوتیں ۔ یا پھر وہ اپنی مصنف اور مولف والی شہرت میں ہی آسودگی محسوس کرتے ۔ سرسید احمد خاں اپنی زندگی میں کئی تحریکوں کو قریب سے دیکھ چکے تھے۔ اور دہلی کالج کی تحریک تو ان کی مزاج سازی میں بھی اہم رول ادا کر چکی تھی۔ ولی کالج آ زادی رائے ، اجتہاد ، بصیرت اور ٹالریشن کا اہم ادارہ سمجھا جاتا تھا سرسید گو کہ اس کالج کے طالب عام نہ تھے لیکن کالج کے اساتذہ ڈاکٹر اسپر نگر اور مسٹر کار گل نے انھوں نے مسائل کے سائنسی تجزیے اور تصنیف و تالیف کے نئے اور منطقی انداز سیکھتے تھے ۔

اختلافات کو قبول کرنے اور اپنی رائے کو بصیرت سے منوانے کا جو جو ہر سرسید کی شخصیت میں پہلے سے موجود تھا وہ دراصل دلی کالج کی صحبتوں میں ہی مزید پروان چڑھا تھا۔ انھوں نے راجہ رام موہن رائے کی طرح نئے علوم کو قبول کرنے کے لیے اپنے ذہن کی کھڑکیاں کھلی رکھی تھیں ۔ علی گڑھ تحریک بھی انھوں نے راجہ رام موہن رائے کے برا موسمان کے طرز پر ہی چلائی ۔ اس تحریک کی کامیابی کے لیے انھوں نے جگہ جگہ اسکول ، کالج اور انجمنیں قائم کیں ، اخبارات جاری کیے اور اپنی قوت حکومت سے اختلاف کرنے میں ضائع کرنے کے بجائے تعمیری مقصد وں کی تکمیل میں صرف کیا۔وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو علی گڑھ تحریک کے تین بنیادی مقاصد تھے :

سیاسی مقصد: ۔ - پہلا مقصدسیاسی تھا اس میں مسلمانوں کی تہذیبی بقا ، سیاسی ترقی اور معاشرتی سربلندی شامل تھی ۔

  مقصد مذہبی: ۔ اس میں نئے علوم کی روشنی میں مذہب کی تشریح و توضیح اور اوہام پرستی کا خاتمہ کرنا شامل تھا۔ ۔

 ادبی مقصد  اس میں اردو زبان و ادب کا فروغ شامل تھا۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انفرادی شخصیت کی مانند قومی شخصیت بھی مذہب ، سیاست اور ادب کے بغیر متوازن اور مکمل نہیں ہو سکتی ۔ اگر ان میں سے کوئی ایک جہت بھی نامکمل رہ جائے تو انسان کی شخصیت ادھوری اور غیر معتبر رہ جاتی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو 1857 سے پہلے مسلمان قوم کی شخصیت اس اعتبار سے مکمل تھی کہ وہ مذہب سیاست اور اآب سے گہری دلچسپی رکھتے تھے۔ لیکن انگریزوں نے بتدریج مسلمانوں کے درمیان دین اور دنیا کی خلیج حائل کرنی شروع کی اور بالآخر وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے۔

انیسویں صدی کی سیاسی کشمش میں اس بات کو خاصی اہمیت حاصل ہے کہ مذہبی مدارس اور جدید مدارس کی تعلیم یک رخی تھی ۔ یعنی مذہبی مدرسوں میں دینی تعلیم کے حصول پر زور دیا جاتا تھا اور نئے علوم کو حاصل کرنا گناہ قرار دیا جاتا تھا۔ اسی طرح جدید مدارس میں نئے علوم تو حاصل کیے جاتے تھے لیکن مذہب کے روحانی عنصر کو دقیا نوسیت سمجھ کر اس سے کنارہ کشی اختیار کر لی گئی تھی ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انفرادی اور اجتماعی اعتبار سے مسلمانوں کی شخصیت میں ایک خلا پیدا ہو گیا جس کی وجہ سے لوگوں میں منفی سوچ اور ایک دوسرے کے لیے شک اور حقارت کا مادہ پیدا ہونے لگا۔ یہ منفی سوچ ، شک اور حقارت کا مادہ صرف جدیدا اور قدیم تعلیم یافتہ لوگوں کے مابین ہی محدود نہیں رہا بلکہ یہ بیماری مسلمانوں کے مختلف طبقوں میں عام ہوتی گئی ۔ سرسید نے شخصیت کے اس خلا کو پر کرنے اور شکوک شبہات اور حقارت کی اس مہلک بیماری کو ختم کرنے کے لیے انسانی زندگی کی ان تینوں جہتوں کو اہمیت دی ۔ اور یوں ایک مکمل شخصیت کو وجود میں لانے اور ایک بہتر اور معیاری معاشرے کے قیام کے لیے انھوں نے علی گڑھ تحریک سے بنیادی نوعیت کا کام لیا۔

 

 

انجمن پنجاب

تعارف :۔ہندوستان کی سرزمین میں مشرقی تہذیب اور اقدار کی روایت قائم تھی۔ اس ملک میں جب انگریزوں نے اپنی آمد کے ساتھ نئی ایجادات اور نئی ترقیات کو فروغ دیا تو اس کی وجہ سے ہندوستان کی مختلف بادشاہتوں میں تفریق پیدا ہوئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انگریز قوم نے اس ملک میں تجارت کرنے کی غرض سے ایسٹ انڈیا کمپنی قائم کی تھی ۔ ہندوستان میں انگریز ہی نہیں، بلکہ فرانسیسی اور ڈچ قو میں بھی تجارت کی غرض سے آئیں لیکن برطانیہ کی انگریز قوم کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ اس نے ہندوستان کی سیاست میں دیپی لے کر نہ صرف تجارت کی ، بلکہ اس ملک کے حکمران بھی بن ، گئے۔ حکمرانی کی بنیاد پر انگریزوں نے ہندوستانیوں کو جدید علوم وفنون سے واقفیت دلانے کے لیے تعلیمی نظام کو رائج کیا۔ ان کے دور میں قائم کردہ کلکتہ کی فورٹ ولیم کالج ، دہلی کی دلی کالج اور مدراس کی فورٹ سینٹ جارج کالج کے ذریعہ تعلیم کا آغاز ہوا۔ عام طور پر ہندوستان کے ہر بڑے عہدہ پر انگریز فائز ہوتے تھے ۔ چناں چہ کلکتہ کا کالج ہو یا دلی کالج یا مدر اس کے کالج میں پرنسپل کی حیثیت سے انگریز آفیسر مقرر تھے ۔ ان کالجوں کے قیام کے ساتھ انگریز قوم نے یہ محسوس کیا کہ جدید تقاضوں کے ساتھ نہ صرف ہندوستانی علوم کو فروغ دیا جائے بلکہ اس کے ساتھ جدید علوم کو بھی اہمیت دی جائے۔ اس مقصد سے انگریز قوم نے لاہور کے مقام پر ایک نئے ادارے کی بنیاد رکھی اور اس ادارے کا نام " انجمن پنجاب لاہور رکھا گیا ۔ 1835 ء میں لارڈ میکالے نے فارسی کے اثرات کو ختم کر کے انگریزی زبان کو انج کرنے کا حکم دیا ۔ 1849 ء میں اردو کو سرکاری اور دفتری کا زبان کا درجہ حاصل ہوا تو انگریز قوم نے اس زبان میں مختلف علوم و فنون کی شروعات کے لیے ایک انجمن اور اس کے ساتھ اردو کے ادیبوں کو وابستہ کر کے نہ صرف مشاعر کے منعقد کیے، بلکہ حقیقی و تنقیدی مضامین کی مجلسوں کا آغاز ہوتا ہے۔ علوم وفنون کے فروغ کے لیے اردو کے ادبیوں سے مضامین لکھانے کی روایت کا آغاز کیا۔ اس ہمہ جہت ترقی کے ساتھ انجمن پنجاب لاہور کے توسط سے اردو میں سب سے پہلے نظم نگاری کے مشاعرے منعقد کیے گئے۔ جس کے ذریعہ اردو میں نیچرل شاعری کا آغاز ہوا۔ ان خصوصیات کی وجہ سے انجمن پنجاب کا تعارف ہندوستان کےدوسرے اداروں اور دوسری انجمنوں سے بالکل مختلف ہو جاتا ہے۔

 انجمن پنجاب  کا قیام:انجمن پنجاب لاہور کے قیام کے بارے میں اس انجمن کی سہ سالہ رپورٹ اور اشاعت مطالب مفید و پنجاب کے توسط سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ یہ سہ سالہ رپورٹ 1866ء سے 1868ء کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس رپورٹ کی اشاعت منشی ہر سکھ رائے و گوبند سہائے کے پریس مکتبہ تنیش پرکاش لاہور میں ہوئی ۔ اس حوالے سے یہ بتایا گیا ہے کہ لکھنا سبھا کے مکان پر ایک جلسہ منعقد ہوا۔ جو 21 جنوری 1865ء کی یادگار ہے۔ اس جلسہ میں لاہور کے تمام علم دوست حضرات اور رئیس لوگ شریک ہوئے تھے۔ حکومت وقت کے مشورے پر اس جلسہ میں انجمن پنجاب کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ اس وقت پنجاب کے سررشتہ تعلیم کے منتظم اعلیٰ ڈاکٹرائٹر تھے۔ جو گورنمنٹ کالج لاہور کے پرنسپل ہونے کے علاوہ انجمن کے قیام کے لیے جستجو کی تھی ۔ اس وقت انجمن کا پورا نام " انجمن اشاعت مطالب مفید و پنجاب" رکھا گیا جو بعد میں انجمن پنجاب لاہور کے نام سے مشہور ہوئی ۔ جس کے لیے انگریزی میں حسب ذیل وضاحت کی گئی ہے۔ Society for the diffusion of useful knowledge in the Punjab کی حیثیت سے قائم کی گئی۔ اس جلسہ میں پنڈت منموہن نے صدارت کی تھی جو اکٹرا اسسٹنٹ کمشنر کی حیثیت سے پنجاب میں مامور تھے اور انہوں نے جلسہ کے آغاز پر ڈاکٹر ڈبلیو بی لائنز کا تعارف کرایا۔ منشی ہر سکھ رائے مہتم کوہ نور اخبار کو شعبہ کے سکریٹری اور باب نوین چندر رائے کو انگریزی کے سکریٹری منتخب کیا گیا۔ جب کہ ڈاکٹر لائٹز کو انجمن کا صدر مقرر کیا گیا۔ اس انجمن کے جلسے میں جن خاص افراد کو شرکت کا موقع ملا ان کے نام بھی درج کیے گئے ہیں۔

ڈاکٹر ڈبلیو بی لائیٹر ، پرنسپل گورنمنٹ کالج ، لاہور .۔دیوان پیچ ناتھ ای اے سی ، لاہور-فقیر سید شمس الدین صاحب، آنریری مجسٹریٹ لاہور  - سردار بھگوان سنگھ جاگیردار، امرتسر- شیخ فیروز الدین رئیس ، لاہور- مولوی محمد حسین نائب سر رشتہ دار ، ڈائریکٹری پنجاب-مولوی علمدار حسین مدرس گورنمنٹ کالج ، لاہور- مولوی کریم الدین ڈپٹی انسپکٹر مدارس ، لاہور-مولوی نیاز حسین مدرس مدرسہ تعلیم معلمین "

اس انجمن کے جلسہ میں ایک تجویز رکھی گئی کہ انجمن کی جانب سے ایک عمدہ قسم کا کتب خانہ کھولا جائے جس میں سب زبانوں کی علمی کتا ہیں ، اخبارات اور رسائل بھی جمع کیے جائیں ۔ تمام ارکان سے کتابیں عطیہ دینے کے لیے منظوری لی گئی۔ ایک ہفتہ کے اندر تمام ارکان کی جانب سے 1088 کتا میں جمع ہو گئیں ۔ اس طرح انجمن پنجاب لاہور کی جانب سے سب سے پہلا کام کتب خانے کا احیاء ہوا۔

انجمن پنجاب لاہور کے مقاصد اور کمیٹیاں:انجمن نے جن مقاصد کو پیش نظر رکھ کر اس انجمن کا لائحہ عمل تیار کیا اس کے ذریعہ بے شمار معاملات کو نمائندگی دی گئی۔ اس کے اغراض و مقاصد میں حسب ذیل موضوعات کو پیش نظر رکھا گیا۔

1.    قدیم مشرقی علوم کا احیاء اور لسانیات ، بشریات، تاریخ اور ہندوستان کے علاوہ ہمسایہ ملکوں کے آثار قدیمہ کے بارے میں تحقیقی کاموں کی حوصلہ افزائی۔   2.دیسی زبانوں کے ذرایہ عوام میں تعلیم کا فروغ۔ .3صنعت اور تجارت کی ترقی ۔ .4معاشرتی ، ادبی ، سائنسی اور عام دلچسپی کے سیاسی مسائل پر تبادلہ خیال، حکومت کے تعمیری اقدامات کو مقبول بنانا ، ملک میں وفاداری اور مشترک ریاست کی شہریت کے احساس کو فروغ دینا اور عوام الناس کی خواہشات اور مطالبات کے مطابق حکومت کو تجاویز پیش کرنا۔ .5مفاد عامہ کے تمام اقدامات میں صوبے کے تعلیم یافتہ اور با اثر طبقوں کے افسروں کو قریب لانا۔

ان پانچ اغراض و مقاصد کے علاوہ جو لائحہ عمل تیار کیا گیا اس کے تحت اہم معاملات میں انجمن نے فیصلے کیے۔ جس کے تحت ایک نمائندہ جو کونسل کا قیام ، دیسی سیول سروس کی تشکیل اور اس کے امتحانات کے طریقہ کار میں ترمیمات ، ایک تعلیمی کانگریس کا قیام صحت و صفائی سے متعلق امور ، مختلف ادبی ، سماجی اور سیاسی موضوعات پر مضامین شائع کرنا ، زراعت کے متعلقہ مسائل ، ہندوستان میں سنسکرت اور عربی مخطوطات کی حرفی نقل اوران پر باقاعدہ حقیقی کام کے بارے میں حکومت کو تجاویز پیش کرنا اور لاہور میں صنعتی آرٹ کے اسکول کی بنیادرکھنے کی تحریک وغیرہ۔

انجمن کے ذریعہ تعلیمی قابلیت رکھنے والوں کی سفارش اور ان کی رکنیت کے علاوہ عہدیدار سے متعلق نمائندگی کا لائحہ عمل بھی دیا گیا ہے۔ اور اس انجمن کا سالانہ چندہ ہر رکن کو 12 روپے ادا کر نالازمی تھا۔ اور ملک میں اس کی کئی شاخیں قائم کرنے کے لیے ارکان سے نمائندگی حاصل کی گئی۔ اعزازی اور نائب اعزازی سر پرست کے لیے سالانہ 120 روپئے دائی رکنیت کا چندہ منظور کیا گیا۔ اس طرح اغراض و مقاصد کے پس منظر میں یہ انجمن کام کرنے لگی۔ جس کے تحت انجمن کی انتظامیہ پر توجہ دی گئی ۔ مالیاتی سکریٹری اور جنرل سکریٹری کی دستخط سے رقم بذرا یہ چیک ادا کرنا اور ہر سال انجمن کے حساب کی جانچ پڑتال کرنے کا اختیار دیا گیا۔ اس کے علاوہ مختلف کمیٹیوں کا بھی انتخاب عمل میں لایا گیا۔

حلقہ ارباب ذوق

عام طور تے حلقہ ارباب ذوق اور ترقی پسند کو تحریک کو ایک دوسرے کی ضد سمجھا جاتا ہے، اور یہ کہ حلقہ ارباب ذوق کا رجحان ترقی پسند تحریک کے رد عمل کا نتیجہ ہے۔ لیکن تاریخی سچائی یہ ہے کہ ترقی پسند مصنفین کی مضبوط تحریک کے متوازی حلقہ ارباب ذوق کا رجحان بھی پنپ رہا تھا، جس نے انتہائی مختصر عرصے میں ترقی پسندوں کی طرح سماجی اور معاشرتی جمود کو ختم کرنے کے بجائے شعر و ادب کے انجماد کو توڑنے کی راہ اختیار کی اور خارجی حالات و واقعات کے ساتھ ساتھ انسان کے پُر اسرار باطن کی دریافت کا بھی فیصلہ کیا۔

یہ بات تو کسی حد تک درست ہے کہ تصورات و نظریات ، داخلیت اور خارجیت ، مادیت اور روحانیت اور ابلاغ و ترسیل کے اعتبار سے ترقی پسند تحریک اور حلقہ ارباب ذوق میں واضح فرق موجود ہے، اور یہ بھی کہ ترقی پسندوں نے اجتماعیت کو اہمیت دی ، حلقے نے انفرادیت کو۔ لیکن یہ بات قطعی درست نہیں ہے کہ یہ رجحان ترقی پسند تحریک کے رد عمل میں پیدا ہوا۔ واقعہ یہ ہے کہ ترقی پسند تحریک اور حلقہ ارباب ذوق ایک ہی عہد اور ایک ہی جیسے ساجی، سیاسی اور معاشی حالات میں پیدا ہوئیں اور پروان چڑھیں۔ ترقی پسند تحریک کی پہلی کانفرنس مئی 1936 میں منعقد ہوئی اور حلقہ ارباب ذوق کا چہار جاسہ یکم اکتوبر 1939 کو ہوتا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ ترقی پسند تحریک ایک باضا بابطہ اور مکمل منصوبے کے تحت وجود میں آئی ، اس کے مقاصد تعین ہوئے اور ادیبوں اور فنکاروں کے لیے تحریری دستورا عمل یا منشور تیار کیا گیا ۔ حلقہ ارباب ذوق کے وجود میں آنے کا قصہ یہ ہے کہ :

"29 اپریل 1939 کو سید امیر احمد جامعی نے اپنے چند دوستوں کو جن میں نسیم حجازی ، تابش صدیقی، محمد فاضل اقبال احمد محمد سعید ، عبد الغنی اور شیر محمد اختر وغیرہ شامل تھے جمع کیا اور ایک ادبی محفل منعقد کی ۔ اس محفل میں نسیم حجازی نے ایک طبع زاد افسانہ پڑھا۔ دوستوں نے اس افسانے پر باتیں کیں ۔ ادبی خدمت کے اس سلسلے کو جاری رکھنے کے لیے ایک مجلس قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ اور رسمی طور پر اس کا نام "مجلس داستان کویاں رکھا گیا ۔ “ ( شیر محمد اختر ، پولیسواں خطبہ صدارت ، سالانہ اجلاس ، حلقہ ارباب ذوق ، ص ، 4-3)

گویا یہ کوئی منصوبہ بند تحریک نہیں ایک اتفاقی واقعہ تھا جو اپنے تسلسل اور اپنے شرکاء کے لگا تار غور فکر کی بنا پر ایک طاقتور رجحان کی شکل اختیار کرتا گیا۔ یوں بھی، مجلس داستان گویاں، کا مقصد ادب میں کوئی انقلاب پیدا کرنا ، موضوعات میں تبدیلی لانا یا ہیئت سے انحراف کرنا نہیں تھا۔ اس مجلس کا مقصد تو بس دوستوں سے ملاقات کے مواقع پیدا کرنا ، اسی بہانے سے ایک دوسرے کی چیزیں سننا اور اس پر گفتگو کرنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مجلس بے سروسامانی کے عالم میں شہر کے الگ الگ حصوں میں الگ الگ دوستوں کے گھر منعقد ہوتی رہی ۔ آٹھ نونشستوں کے بعد اس کے شرکاء نے محسوس کیا کہ اس میں دوسری اصناف کے لکھنے والوں کی بھی شمولیت ہونی چاہیے۔ چنانچہ نجاس داستان گویاں“ کا نام تبدیل کر کے حلقہ ارباب ذوق‘ رکھا گیا۔ بعد میں اس نام سے اس رجحان کو شہرت ملی اور اردو ادب کی تاریخ میں نمایاں جگہ بھی۔

حلقہ ارباب ذوق کے اغراض و مقاصد اور طریقہ کار:حالقہ ارباب ذوق کے مصنف یونس جاوید نے لکھا ہے کہ اس کے افراض متقاصد پہلے جلسے میں ہی طے پاگئے تھے۔ لیکن اغراض و مقاصد کا تعلق حلقے کے انصورات و نظریات یا اس کے جلسوں میں پیش کی جانے والی تحریروں کی سمت کے تعین سے نہیں تھا، بلکہ اس کے اراکین کی تعداد میںاضافے اور نشستوں کو کامیاب بنانے سے متعلق چند تجویزیں طے کی گئی تھیں جنھیں قواعد و ضوابط یا اغراض و مقاصد کے طور پر لکھے جانے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ کئی برسوں کے بعد حلقے کے معروف شاعر قیوم نظر نے اپنے ایک انٹرویو میں اس کے یہ اغراض و مقاصد بتائے تھے:

(1) اردو زبان کی ترویج واشاعت ۔

(2) نو جوان لکھنے والوں کی تعلیم و تفریح ۔

(3) اردو لکھنے والوں کے حقوق کی حفاظت ۔

(4) تنقید ادب میں خلوص اور بے تکلفی پیدا کرنا۔

(5) اردو ادب و صحافت کے ناسازگار ماحول کو صاف کرنا۔ (ماونو، کراچی ، شمارہ مئی 1972)

قیوم نظر کے بیان کیے ہوئے ان اغراض و مقاصد سے نہ تو حلقے کی بنیادی شناخت کا پتہ چلتا ہے نہ اس کے مزاج کا اظہار ہوتا ہے، نہ ہی ادبی رجحان کا پتہ چلتا ہے۔ سچائی تو یہ ہے کہ حلقے کی بنیادی شناخت اور اس کے داخلی مزاج کا تعین در اصل حلقے کے طریق کار سے ہوتا ہے۔ اس موضوع پر ڈاکٹر محمد باقر نے سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ ان کے مضمون یادداشت سے یہ انتخاب ملاحظہ فرمائیے:

(1) حاقہ ارباب ذوق کا کوئی مستقل صدر نہیں ہوگا۔

(2) حلقہ ارباب ذوق کا صرف ایک مستقل سکر بیٹری ہوگا۔

(3) رکن بننے کے لیے کوئی چندہ یا فیس نہیں لی جائے گی۔

(4) ہر سال کے لیے ایک سکریٹری چنا جائے گا۔

(5) حلقے کی رکنیت محدود رکھی جائے گی اور حلقہ کے ارکان کو اختیار ہوگا کہ جس کو چاہیں حلقے کا رکن بنا ئیں لیکن حلقے کے اجلاس ہر اس مرد اور عورت کے لیے کھلے ہوں گے جن کو اجاباس میں شامل ہونے کی دعوت دی جائے گی۔

(6) حلقے کا جلسہ ہر ہفتے ایک رکن کے مکان پر ہوگا جس کے ذمے سب کو چائے پلانا ہو گا۔

(7) حلقے کی ہر نشست میں کچھ مضامین اور نظمیں پڑھی جائیں گی جن کو سننے کے بعد ان پر بے لاگ تنقید کی جائے گی اور مضمون نگار یا شاعر کا یہ فرض ہوگا کہ وہ ناراض ہونے کے بجائے خوشدلی سے ناقدین یا معترضین کی تنقید و اعتراض کو سنے اور اس کا جواب دے۔

(8) حلقے کی کاروائی کو حتی الوسع مشتہر نہیں کیا جائے گا ۔ ( ڈاکٹر محمد باقر مخزن ، اگست، 1950

 

رومانی تحریک

رومانیت کو انگریزی میں Romanticism کہتے ہیں یہ اصطلاح Romance یا Romana سے لی گئی ہے۔ رومانا جنوبی علاقے کی لاطینی زبان کا نام ہے اور Romance ان زبانوں کو کہا جاتا ہے جو یوروپ کے جنوبی علاقوں میں بولی جاتی ہیں۔ یہ قدیم رومن لاطینی زبان کی کوکھ سے نکلی ہوئی زبانیں ہیں ۔ انہوں نے بھی دوسری زبانوں کی طرح مقامی زبانوں کے اثرات قبول کرنے کی وجہ سے مختلف شکلیں اختیار کیں ، ان میں اطالوی ، ہسپانوی اور پرتگالی کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

بقول بکسن اور آرتھر Romantic لفظ کو جس شخص نے پہلی مرتبہ استعمال کیا وہ جرمن نقاد Friedrich Schlegal تھا اور جرمنی سے ہی یہ اصطلاح فرانس اور انگلینڈ تک پہنچی۔ مورخین کا خیال ہے کہ رومانیت کی تحریک پہلے پہل چوتھی صدی قبل مسیح میں یونان سے شروع ہوئی اور قدیم یونانی دیو مالاؤں میں جو تخلیقی لچک ہے اسے رومانی یا رومانیت کا نام دیا جاتا رہا ہے۔ پرانی اساطیری روایات و تو ہمات اور مافوق الفطرت عناصر کے خلاف بغاوت سے سرکشی اور جنسی افسانے جیسی روایات سے رومانیت میں انحراف کی مثالیں ملتی ہیں۔

رومانوی تحریک سے متعلق مختلف نظریات سامنے آتے ہیں۔ رومانیت کو زندگی سے فرار کا نام بھی دیا جاتا رہا ہے۔ شروع میں کولرج ، ورڈزورتھ اور ان کے ہم عصروں کے لیے جن کے دل میں انسانی جذبات کا درد اور قد رہیں تھیں ان کے لیے یہ تحریک ایک عظیم مشعل راہ تھی لیکن ان کے عزائم منزل مقصود تک پہنچنے سے پہلے ہی متزلزل ہوکر زمین بوس ہو گئے۔ لیکن جس راستے پر یہ تحریک چل نکلتی تھی اگر صحیح سلامت منزل تک پہنچ جاتی تو آج اس کی صورت حال یہ نہیں بلکہ دوسری ہوتی اور رومانیت کے پیروکاروں نے جو خواب دیکھے تھے وہ حقیقت میں تبدیل ہو جاتے تو یہ رومانی تحریک کی سب سے بڑی کامیابی ہوتی لیکن آگے چل کر اس میں جو بد گمانیاں اور خرابیاں آئیں ان کو دیکھ کر رومانیت کی شان میں قصیدے پڑھنے والے بھی ششدر رہ گئے اور یہی وجہ ہے کہ انگریزی ادب میں شیلے بلیٹس اور بائرن کو اپنے پیشروؤں یعنی ورڈز ورتھ اور کولرج وغیرہ کے خلاف یہ کہنا پڑا کہ وہ جس عظیم مقصد کو لے کر چلے تھے آخر میں انہوں نے اسے چھوڑ دیا اور وہ بزدلوں کی طرح انسانی زندگی سے فرار اختیار کر کے فطرت کی گود میں ہو گئے۔اردو میں رومانی تحریک کا آغاز وارتقاءجہاں تک اردو ادب میں رومانی تحریک کی آمد اور آغاز وارتقا کا تعلق ہے اس کے لیے کلیتا کوئی سال دین مقرر تو نہیں کیا جا سکتا۔ کیوں کہ کسی بھی تحریک کے اثرات اور اس کے خد و خال اور آثار و نقوش غیر محسوس انداز میں سامنے آنا شروع تے ہیں لیکن کبھی کبھار کوئی ایسا واقعہ پیش آتا ہے جو کسی بھی تحریک کے وجود اور انفرادیت کو قائم کرنے میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ بیسویں صدی کے ابتداء سے ہی رومانوی تحریک کے اثرات اردو ادب میں دیکھنے کو ملتے ہیں جو ایک طرف تو سرسید کی مفاہمتی تحریک کے رد کی شکل میں اور دوسری طرف نئے رنگ دیو کے جہاں کی تلاش میں سامنے آرہے تھے۔ لیکن یہ ان ادیبوں کی انفرادی افتاد طبع تھیں کیوں کہ سرسید کے عہد میں واضح طور پر رومانوی تحریک اجتماعی شکل میں سامنے نہیں آئی۔ لیکن یہ تمام انفرادی کاوشیں اسے تحریک کی شکل فراہم کرنے میں مناسب وقت کے انتظار میں تھیں ۔ برصغیر میں سیاسی ، ماجی اور فکری انقلاب نے نئی کروٹ لی تو اس نے ادب کو نئے موضوعات اور نئے فنی زادیوں سے روشناس کرایا جس کے نتیجے میں ان نئے زاویوں نے رومانوی تحریک کو جنم دیا۔ اس نئے تصور نے اردو ادب میں جدید ذہنوں کے منتشر رجحانات کو یکجا کرنے اور تحریک کی شکل و سینے میں سرعبد القادر کے رسالہ "مخزن" نے میچ سمت عطا کی اور اس تحریک کی رہنمائی بھی کی۔ اس ادبی مجلے میں سب سے پہلے سجاد حیدر یلدرم کے مضامین شائع ہوئے شروع ہوئے اور ان ہی کے مضامین نے اردو ادب میں رومانوی تحریک کے اسلوب کو با قاعد و اپنی تحریروں میں جگہ دی۔

رومانوی تحریک کا با قاعدہ آغاز اجتماعی طور پر رسالہ مخنون میں یلدرم کے مضامین سے ہوتا ہے۔ اس کے بعد جن ادبا اور شعرا نے رومانوی رجحان اور فکر کے تحت اپنی تحریروں سے مخزن کے مشن کو آگے بڑھایا ان میں علامہ اقبال ، مولانا آزاد ظفر علی خان مرز امحمد - مید، خوشی محمد ناظر ، مهدی افادی، لطیف الدین احمد ، خواجہ حسن نظامی شیخ عبد القادر اور سجاد حسین کے نام قابل ذکر ہیں جنہوں نے سرسید کے عہد کے علم بردار ہوتے ہوئے بھی اپنی تحریروں میں نئے اور بدلتے ہوئے ادبی را قانات کو جگہ دی ہے۔ پروفیسر محمد حسن کے مطابق اس جدید ذہن کی امخزن اور انتقاد نے ایک سمت کی طرف رہنمائی کی ۔ مخزن اور نقاد نے اردو ادب میں وکٹورین انگلستان کی تہذیب کو آورش تسلیم کیا اور صاف ستھرے مذاق کی روایت استوار کی۔ پہل پہلے اس کے ابتدائی انقوش محمدحسین آزاد میر ناصر علی دہلوی اور عبد العلیم شرر کی تحریروں میں بھی دیکھنے کو ملتے ہیں ۔

مخزن کے لکھنے والوں کے علاوہ جن ادبیا کی تحقیقات نے رومانوی تحریک کو جلا بخشی ان میں نیاز فتح پوری، مجنوں گورکھپوری ، خان احمد حسین خان ، حسرت موہانی ، فانی بدایونی، اختر شیرانی، جگر مراد آبادی، جوش پیچ آبادی معین احسن جذبی، فراق گورکھپوری عظیم بیگ چغتائی اور امتیاز ملی تان وغیر ہ نے نڑی اور شعری ادب کے ذریعے اردو ادب میں رومانوی تحریک کے رجحانات کو برتا اور اس تحریک کو فروغ بخشا۔اس طرح سے ساڑھے تین دہائیوں پر مشتمل رومانوی تحریک نے اردو ادب کو بدلتے ہوئے حالات کے سانچے میں ڈھال کر ایک ایسا تغیر پذیر اسلوب فراہم کیا اور ایسے اثرات مرتب کیے جنہیں اردو ادب کی تاریخ فراموش نہیں کر سکتی لیکن اپنی زندگی کے مختصر عرصہ لگ بھنگ پینتیس برسوں میں ہی رومانوی تحریک نے اردو ادب کو نئی جہتوں سے آشنا کیا۔ اس کے بعد 1935ء میں برصغیر میں ایک دوسری ادبی تحریک ابھر کر سامنے آئی اور اس کے بعد رومانوی تحریک پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ اس طرح 1901ء میں اردو ادب میں داخل ہونے والی رومانوی تحریک 1935 ء میں پس منظر کی جانب پیش قدمی کرتی ہے۔

اس میں شک نہیں کہ رومانوی تحریک اردو ادب کی ایک فعال اور متحرک تھی جس نے اس عہد کے لکھنے والوں پر گہرے اور وسیع اثرات مرتب کیے۔ آخر میں اس تحریک کے ساتھ بھی وہی ہوا جو اکثر دوسری ادبی، سیاسی اور سماجی تحریک کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس تحریک میں بھی دھیرے دھیرے خامیاں آنا شروع ہوئیں اور متعین کردہ اصول و ضوابط سے انحراف نے اس تحریک کو بھی زوال کی راہ دکھائی۔ رومانی بی رومانی تحریک کی جڑوں کو ہمیں دوسری زبانوں یعنی سنسکرت اور عربی، فاری میں بھی تلاش تلاش کیا جاسکتا ہے۔

 

 ختم شد

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.