مراٹھواڑہ کا
تاریخی پس منظر
مراٹھواڑہ کی سرزمین محض ایک
جغرافیائی خطہ نہیں، بلکہ یہ تاریخ کے اوراق پر بکھری ہوئی ایک ایسی "منظوم
داستان" ہے جہاں سیاست کے جاہ و جلال اور ادب کی لطافت کا حسین سنگم ملتا
ہے۔ اس خطے کا تاریخی پس منظر جتنا طویل ہے، اس کا ادبی و ثقافتی کینوس اتنا ہی
وسیع اور رنگین ہے۔
آئیے، مراٹھواڑہ کی تاریخ اور اس کے
ادبی و تہذیبی سفر کا ایک جامع جائزہ لیتے ہیں:
1. قدیم جاہ و جلال: پیتھن سے دیوگیری
تک:
مراٹھواڑہ کی تاریخ کا آغاز قبل از
مسیح کے ساتواہن دور سے ہوتا ہے۔
- سیاسی اہمیت:
پیتھن (پرتیشتھان) اس عظیم سلطنت کا دارالحکومت تھا، جہاں سے دکن کی سیاست کی
باگ ڈور سنبھالی جاتی تھی۔
- ادبی ثمر:
اسی دور میں 'ہال' نامی راجہ نے 'گاتھا سپت شتی' جیسی شاہکار تخلیق
مرتب کی، جو پراکرت زبان کے قدیم ترین ادبی نمونوں میں شمار ہوتی ہے۔
- یادو عہد:
12ویں صدی میں دیوگیری (دولت آباد) علم و فن کا مرکز بنا۔ یہاں کے
راجاؤں نے مرہٹی زبان کو شاہی سرپرستی دی، جس کے نتیجے میں سنت گیانیشور
نے 'گیانیشوری' لکھ کر مرہٹی ادب کا وہ پودا لگایا جو آج ایک تناور درخت بن
چکا ہے۔
- بصری ادب:
اجنتا کے غاروں میں موجود مصوری بدھ مت کی 'جاتک کہانیوں' کا ایک ایسا مجموعہ
ہے جسے رنگوں کے ذریعے لکھا گیا ہے۔
- سنگی شاہکار:
ایلورا کا کیلاش مندر انسانی عزم اور فنکارانہ تخیل کی وہ انتہا ہے جہاں
پتھروں کو تراش کر ایک جیتی جاگتی نظم تخلیق کی گئی ہے۔ یہ غار اس دور کی
مذہبی رواداری اور بلند پایہ انجینئرنگ کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
- اردو کا
مولد: مراٹھواڑہ کی خاک سے اردو شاعری کے
بابا آدم ولی دکنی اٹھے، جنہوں نے دکنی اسلوب کو شمال سے جوڑ کر ایک
نئی شعری روایت کی بنیاد رکھی۔
- سراج اورنگ
آبادی: اورنگ آباد کی گلیوں میں سراج
کی وہ آواز گونجی جس نے تصوف اور عشق کو لازوال کر دیا۔ ان کا دیوان 'سراجِ
سخن' آج بھی کلاسیکی ادب کا ستون ہے۔
- مغلیہ
مرکزیت: شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر نے
اورنگ آباد کو اپنا مسکن بنایا، جس سے یہاں کی معاشرت میں دہلوی تہذیب اور
دکنی ثقافت کا ایک خوبصورت امتزاج پیدا ہوا۔ 'بی بی کا مقبرہ' اسی دور کی
یادگار ہے۔
- خلد آباد
(روضہ): اس بستی کو "خدا کا
شہر" کہا جاتا ہے، جہاں حضرت برہان الدین غریبؒ اور حضرت زین الدین
شیرازیؒ ،اورنگ زیب ؒ جیسے عظیم بزرگوں نے قیام کیا۔
- ان بزرگوں نے نہ صرف اسلام کی تبلیغ کی بلکہ مقامی زبانوں میں صوفیانہ کلام (چکی نامہ، لوری نامہ) کے ذریعے عوامی ادب کو پروان چڑھایا۔ یہاں کی خانقاہیں علم و حکمت کے بڑے مراکز رہیں۔
- تہذیبی رکھ
رکھاؤ: اس دور میں اردو کو سرکاری زبان
کا درجہ ملا، لیکن ساتھ ہی مرہٹی، تلگو اور کنڑ زبانوں کی ادبی سرگرمیوں کو
بھی تحفظ حاصل رہا۔
- تعلیم و
صحافت: اورنگ آباد میں تعلیمی اداروں
کا قیام عمل میں آیا اور صحافت کے ذریعے سیاسی و ادبی شعور بیدار ہوا۔
- عوامی تحریک:
نظام کی ریاست کے بھارت میں انضمام کے لیے ایک عظیم عوامی تحریک شروع ہوئی،
جس کی قیادت سوامی رمانند تیرتھ اور ان کے ساتھیوں نے کی۔
- ادبی ردِعمل:
اس دور کے ادب میں "مزاحمت" (Resistance) کا رنگ نمایاں ہوا۔ ادیبوں اور شاعروں
نے آزادی اور جمہوریت کے گیت گائے۔ بالآخر 17 ستمبر 1948ء کو یہ خطہ آزاد ہوا
اور بعد میں 1960ء میں مہاراشٹر کا حصہ بنا۔
- ہجرت
کا دکھ: وطن سے دوری یا اپنے ہی گھر میں
اجنبی ہو جانے کا احساس۔
- سیاسی
منافقت: وہ نظام جو غریب کو مزید غریب
اور بے بس بناتا ہے۔
- عورت
کا استحصال: معاشرے میں عورت کی حیثیت اور
اس کی خاموش جدوجہد۔
- مذہبی
رواداری: مراٹھواڑہ کی صوفیانہ جڑوں سے
جڑی ہوئی بھائی چارگی کی روایات۔
- کردار کی تنہائی صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی ہے۔
- افسانے کا ہیرو اپنی یادوں کے سہارے جینے کی کوشش کرتا ہے، لیکن وہ یادیں اسے خوشی دینے کے بجائے مزید اداس کر دیتی ہیں۔
- مصنف نے یہ دکھایا ہے کہ کس طرح انسان اپنے ہی بنائے ہوئے گھر میں 'اجنبی' بن جاتا ہے۔
- نور الحسنین نے چھوٹے چھوٹے جملوں کے ذریعے بڑے دکھ بیان کیے ہیں۔
- افسانے کے بیانیے میں ایک خاص قسم کا سوز ہے جو قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔
- استعاروں اور تشبیہات کا استعمال بہت فطری ہے، کہیں بھی ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ لفظ بوجھل ہیں۔
- ہجرت
اور جلاوطنی: تقسیمِ ہند کا زخم
ان کے ہاں بہت گہرا ہے۔ لیکن وہ صرف فسادات کی عکاسی نہیں کرتے، بلکہ ہجرت کے
بعد پیدا ہونے والے "شناخت کے بحران" کو اپنا موضوع بناتے ہیں۔ ان
کا مشہور افسانہ 'پھٹ جا، دھرتی' اس سلسلے کی بہترین مثال ہے۔
- افریقی
پس منظر: اردو کے بہت کم ادیبوں نے غیر
ملکی ماحول کو اس طرح اپنایا جتنا جوگیندر پال نے۔ ان کے افسانوی مجموعے 'دھرتی
کا کال' میں افریقہ کے پس ماندہ طبقوں کی زندگی اور ان کے استحصال کی
جاندار تصویر کشی کی گئی ہے۔
- وہ انسان کے اندر چھپے ہوئے "خوف"، "تذبذب" اور "تنہائی" کو زبان دیتے ہیں۔
- ان کے یہاں کردار اپنے آپ سے مکالمہ کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ یہ دکھاتے ہیں کہ انسان بھیڑ میں بھی کتنا اکیلا ہو سکتا ہے۔
- وہ معمولی سی چیزوں کو بڑی علامتوں میں بدل دیتے ہیں۔ مثلاً پرانے کپڑے، ٹوٹا ہوا فرنیچر یا کوئی پرانی تصویر—یہ سب ان کے ہاں وقت کے زوال اور یادوں کی علامت بن جاتے ہیں۔
- وہ لفظوں کے اسراف سے بچتے ہیں۔ ان کے جملے مختصر مگر معنی خیز ہوتے ہیں۔
- ان کے اسلوب میں ایک قسم کی "دھیمی آنچ" ہے؛ وہ شور مچائے بغیر قاری کے دل میں اتر جاتے ہیں۔
- ان کی تحریروں میں طنز و مزاح کی ایک لطیف لہر بھی ملتی ہے، جو زندگی کی تلخیوں کو برداشت کرنے کے قابل بناتی ہے۔
- دھرتی
کا کال: افریقی زندگی پر مبنی افسانے۔
- کھوئی
ہوئی چیزیں: یاد ماضی اور ہجرت کے کرب کا
اظہار۔
- نادید
ہ: ان کا مشہور ناولٹ، جو اندھوں کی
زندگی کے نفسیاتی اور فلسفیانہ پہلوؤں پر مبنی ہے اور افسانہ نگاری کے اسلوب
میں لکھا گیا ہے۔
- بیا
بانی: تنہائی اور وجودی کرب کی عکاسی۔
- ان کے یہاں "غمِ عشق" اور "غمِ روزگار" ایک دوسرے میں پیوست نظر آتے ہیں۔
- ان کی غزلوں میں ایک خاص قسم کی دھیمی آنچ ہے جو قاری کو بے چین نہیں کرتی بلکہ اسے سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔
- انہوں نے متوسط طبقے کی مجبوریاں، شہروں کی منافقت اور انسانیت کے زوال کو اپنی غزلوں کا موضوع بنایا۔
- ان کی غزل میں ایک احتجاجی رنگ بھی ہے، لیکن وہ احتجاج نعرہ بازی نہیں بنتا بلکہ ایک دبی ہوئی چیخ کی طرح محسوس ہوتا ہے۔
- ان کی مشہورِ زمانہ غزل "کروں گا کیا جو محبت میں ناکام رہا" اس کی بہترین مثال ہے، جسے خیام کی موسیقی میں لتا منگیشکر نے لازوال بنا دیا۔
- وہ بہت سہل اور عام فہم زبان استعمال کرتے ہیں، لیکن معنی کی تہیں بہت گہری ہوتی ہیں۔
- انہوں نے غزل میں نئے محاورے اور روزمرہ کے الفاظ کو اس طرح برتا کہ وہ غزل کی لطافت کا حصہ بن گئے۔
2. فنِ تعمیر میں پنہاں شاعری: اجنتا
اور ایلورا:
مراٹھواڑہ کی تاریخ کا سب سے روشن باب
اس کے غار ہیں۔
3. اسلامی دور اور اردو ادب کی آبیاری:
13ویں صدی کے اواخر میں علاؤالدین
خلجی اور محمد بن تغلق کی آمد نے اس خطے کو ایک نیا تمدنی رنگ دیا۔
4. صوفیانہ روایات اور روحانی مرکز:
مراٹھواڑہ کی تاریخ صوفیائے کرام کے
تذکرے کے بغیر ادھوری ہے۔
5. آصف جاہی دور اور جدید بیداری:
1724ء میں نظامِ حیدرآباد کے قیام کے
بعد مراٹھواڑہ ایک مستحکم انتظامی اکائی بن گیا۔
6. آزادی کی جدوجہد: مراٹھواڑہ مکتی
سنگرام:
1947ء میں جب ہندوستان آزاد ہوا، تو
مراٹھواڑہ کی تاریخ میں ایک نیا موڑ آیا۔
مراٹھواڑہ کی تاریخ ایک ایسی گنگا
جمنی تہذیب کی عکاس ہے جہاں اجنتا کی خاموشی، سنتوں کے ابھنگ، صوفیوں کی
قوالیاں اور اردو کی غزلیں ایک ساتھ سنائی دیتی ہیں۔ یہ سرزمین ہمیں سکھاتی ہے کہ
اقتدار بدلتے رہتے ہیں، لیکن علم، ادب اور انسانیت کی جو شمعیں یہاں روشن کی گئیں،
وہ صدیوں بعد بھی پوری آب و تاب کے ساتھ منور ہیں۔
مراٹھواڑہ
میں اردو افسانہ نگاری
مراٹھواڑہ
میں اردو افسانہ نگاری کے حوالے شہر اورنگ آباد کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس خطہ
میں اردو افسانے کی مقبولؔیت اور ادبی وقار عطا کرنے والے افسانہ نگاروں میں نور
الحسنین کا نام ممتاز حیثیت کا حامل ہے۔ ان کے تین افسانوی مجموعے بالترتیب" سمٹتے دائرے" ۱۹۸۵ "
مور رقص اور تماشائی" ۱۹۸۸ء،"گھڑی
میں اترتی شام ۱۹۹۹
ء" میں شائع ہوئے ۔ نورالحسنین نے موضوع کے انتخاب اور اسلوب کی ندرت کی بنا
پر انفرادی شناخت قائم کی ۔ ان کے افسانوں میں تکنیک وفن کے تجربات ان کی فنکارانہ
مہارت کو واضح کرتے ہیں ۔ بعض افسانوں میں علامتی اور تمثیلی انداز افسانے کی
معنویت میں اضافہ کرتا ہے۔ نور احسنین کے افسانوں میں مقامیت اور آفاقیت کا فنکارانہ امتزاج نظر آتا ہے ۔ وہ واقعات کی تشکیل میں
خارجی عناصر اور کرداروں کی داخلی کیفیات میں پر لطف اور بامعنی ہم آ ہنگی پیدا
کرنے میں مہارت رکھتے ہیں اور ان کا تخلیقی رویہ ان کے مشاہدات کی وسعت و ہمہ
گیریت کے علاوہ زبان پر ان کی قدرت کو ظاہر کرتا ہے۔ اردو کے اہم افسانہ نگار "جوگندر
پال" نے بھی زندگی کے پندرہ برس اور نگ آباد میں بسر کئے اور اس زمانے میں کئی اچھے
افسانے تخلیق کئے۔ ان کے افسانوی مجموعے "دھرتی کا کال ۱۹۶۱"ء میں "کیوں سوچوں"
۱۹۶۲ ، ، رسائی ۱۹۶۹ ، مٹی کا ادراک ۱۹۷۰، لیکن ۱۹۷۷ ،، بے ارادہ ۱۹۸۱، کھو دو بابا کا مقبر ۱۹۹۴ء، بستیاں ۲۰۰۰ ء میں شائع ہوئے ۔ ان
مجموعوں کے علاوہ افسانوں کے چار مجموعے "سلوٹیں،
کتھا نگر، "پرندے "نہیں رحمن بابو،" ان کی تخلیقی ہنر مندی کو ثابت
کرتے ہیں ۔ جو گندر پال کے افسانوں میں مشرق و مغرب کے تہذیبی رویوں کو محسوس کیا
جا سکتا ہے۔ انھوں نے معاشرہ میں انسانی قدروں کے زوال سے پیدا ہونے والے گوناگوں
مسائل کی ترجمانی مختلف کرداروں کے توسط سے معیاری انداز میں کی ہے۔ ان کے افسانوں
کی تخلیقی فضا میں تجسس اور ڈرامائیت کا عنصر ان کی فنکارانہ مہارت کو ثابت کرتا
ہے۔ رفعت نواز بھی مراٹھواڑہ کے اردو افسانہ نگاروں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔
رفعت نواز کے دو افسانوی مجموعے" وہ بات ۱۹۷۹، افسانہ نہیں جسے ۱۹۹۳ء میں شائع ہو چکے ہیں۔
وہ انسانی رشتوں کے گھر یلو اور سماجی تقاضوں کی عکاسی موثر انداز میں کرتے ہیں۔
واقعات کی تشکیل میں زندگی کے متنوع تجربات سے استفادہ ان کا مرغوب تخلیقی عمل ہے۔
عظیم راہی کو منی افسانہ نگار کے طور پر خاصی شہرت حاصل ہوئی ۔ ان کے کی افسانے
کیفیت اور تاثر کے لحاظ سے معتبر ادب پاروں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ منی افسانوں کے دو
مجموعے : پھول کے آنسو، درد کے درمیاں ، شائع ہو چکے ہیں۔ عظیم راہی نے افسانے بھی
لکھے ہیں اور ان کے دو افسانوی مجموعے "اگلی صدی کے موڑ پر ۱۹۹۶ ،، اپنے دائرے کا آدمی ۲۰۱۴ء میں شائع ہو چکے ہیں۔
زندگی کے محدود و سائل کے ساتھ کارزار حیات میں نبردآ زما انسان ان کی تخلیقات کا
محور ہے۔ انھوں نے انسانی معاشرہ پر گلو با ارزیشن کے اثرات اور عالمی سطح پر
اقدار حیات میں رونما ہونے والے تغیرات کو فنکا را ندمہارت کے ساتھ افسانوں میں
بیان کیا ہے محمود شکیل کا افسانوی مجموعہ بعنوان "پناہ" شائع ہو چکا
ہے۔ منظر نگاری ان کی تخلیقیت کا نمایاں وصف ہے۔ رشید انور کا افسانوی مجموعہ ،
روپیوں کا پیڑ ۱۹۹۷ء
میں شائع ہوا تھا۔ اس مجموعے میں 14 افسانے شامل ہیں ۔ رشید انور نے کسی مخصوص
سماجی، تہذہیں اور نفسیاتی نظریہ کے ماتحت افسانے نہیں لکھے ہیں بلکہ ان کے
افسانوں میں زندگی کا فطری رنگ اور معاشرہ کی حقیقی صورت نظر آتی ہے۔ انھوں نے
افلاس زدہ عوام اور متوسط وامی طبقہ کے تعلق رکھنے والوں کے مسائل کو بڑی خوبی کے
ساتھ افسانوں میں پیش کیا ہے ۔ شہاب افسر بھی مراٹھوارو کے اہم افسانہ نگار ہیں ۔
ان کے افسانوں کا تانا بانا ملک و بیرون ملک کے تانابانا ان کے تجربات و مشاہدات
سے تشکیل پاتا ہے ۔ انھوں نے زندگی کے تلخ حقائق کو سادہ سلیس اسلوب میں بیان کیا
ہے۔
نور
الحسنین کی افسانہ نگاری
نور
الحسنین عصرِ حاضر کے ان معتبر افسانہ نگاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اردو
افسانے کو نہ صرف ایک نئی سمت عطا کی بلکہ اسے مراٹھواڑہ کی مٹی کی خوشبو اور وہاں
کے سماجی مسائل سے بھی روشناس کرایا۔ ان کی افسانہ نگاری محض قصہ گوئی نہیں ہے،
بلکہ ایک گہرا سماجی شعور، فنی پختگی اور لسانی رچاؤ کا نام ہے۔
نور
الحسنین کا تعلق اورنگ آباد (مراٹھواڑہ) سے ہے، جو صدیوں سے علم و ادب کا مرکز رہا
ہے۔ انہوں نے اپنی تخلیقی زندگی کا آغاز اس وقت کیا جب اردو افسانہ علامتی اور
تجریدی رنگ میں رنگا ہوا تھا، لیکن نور الحسنین نے اپنی پہچان ایک ایسے حقیقت پسند
افسانہ نگار کے طور پر بنائی جو علامت کو ابہام نہیں بننے دیتا۔ ان کے افسانے
زندگی کی تلخیوں، انسانی رشتوں کے بکھراؤ اور بدلتے ہوئے سماجی ڈھانچے کی عکاسی
کرتے ہیں۔
نور
الحسنین کے افسانوں کا سب سے مضبوط پہلو ان کی سماجی حقیقت نگاری ہے۔ وہ
اپنے گرد و پیش کے ماحول سے کہانیاں کشید کرتے ہیں۔ ان کے افسانوی مجموعوں (جیسے
'سمندر کی پیاس'، 'مور پنکھ'، اور 'ایک کٹی ہوئی شاخ کا دکھ') میں ہمیں وہ عام
آدمی نظر آتا ہے جو غربت، بے روزگاری اور استحصالی نظام کی چکی میں پس رہا ہے۔ وہ
کسانوں کے مسائل، متوسط طبقے کی مجبوریاں اور شہروں کی بڑھتی ہوئی بے حسی کو بہت
چابک دستی سے بیان کرتے ہیں۔
نور
الحسنین کے افسانوں میں مراٹھواڑہ کا علاقائی رنگ بہت نمایاں ہے۔ انہوں نے اس خطے کی مخصوص بولی،
محاورے، رہن سہن اور وہاں کے صوفیانہ و علمی پس منظر کو اپنے افسانوں کا حصہ بنایا
ہے۔ ان کے یہاں دکنی تہذیب کی وہ جھلکیاں ملتی ہیں جو اب تیزی سے مٹ رہی ہیں۔ وہ
صرف ماضی کے قصہ گو نہیں ہیں بلکہ وہ دکھاتے ہیں کہ کس طرح جدیدیت نے مراٹھواڑہ کی
قدیم قدروں کو متاثر کیا ہے۔
ان
کے افسانوں میں انسانی رشتوں کی پیچیدگیوں کو بڑی گہرائی سے محسوس کیا جا سکتا ہے۔
وہ ماں، باپ، بھائی اور دوست جیسے مقدس رشتوں میں آنے والی دراڑوں کا ماتم نہیں
کرتے، بلکہ ان کی نفسیاتی وجوہات تلاش کرتے ہیں۔ ان کے ہاں ایک خاص قسم کی انسانی
ہمدردی پائی جاتی ہے۔ وہ اپنے کرداروں کے گناہوں یا غلطیوں پر عدالت نہیں
لگاتے، بلکہ قارئین کو اس مقام پر لا کھڑا کرتے ہیں جہاں وہ کردار کے کرب کو محسوس
کر سکیں۔
نور
الحسنین کا اسلوب سادہ مگر پر اثر ہے۔ ان کے جملوں میں ایک اندرونی آہنگ ہوتا ہے۔
وہ کہانی کے بیانیے (Narrative)
پر مکمل گرفت رکھتے ہیں۔ ان کے افسانوں کی خاصیت یہ ہے کہ وہ قاری کو شروع سے آخر
تک اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ علامتوں کا استعمال وہ بہت سلیقے سے کرتے ہیں؛ ان کی
علامتیں گوشت پوست کے انسانوں سے جڑی ہوتی ہیں، جو کہانی کو بوجھل بنانے کے بجائے
اسے معنی آفرینی عطا کرتی ہیں۔
نور
الحسنین نے اردو ادب کو کئی اہم مجموعے دیے ہیں۔ ان کے افسانوں میں درج ذیل
موضوعات بار بار نظر آتے ہیں:
نور
الحسنین نے اپنے معاصرین کے درمیان اپنی انفرادیت برقرار رکھی ہے۔ جہاں بہت سے
ادیب عالمی ادب کی نقل میں مقامی رنگ کھو بیٹھے، وہاں نور الحسنین نے اپنی جڑوں سے
جڑے رہ کر آفاقی کہانیاں تحریر کیں۔ ان کے افسانے نہ صرف ہندوستان بلکہ پاکستان
اور دیگر ممالک میں بھی ذوق و شوق سے پڑھے جاتے ہیں۔ انہیں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ
اور دیگر کئی معتبر اعزازات سے نوازا گیا ہے، جو ان کی ادبی عظمت کا اعتراف ہے۔
مختصر
یہ کہ نور الحسنین ایک ایسے فنکار ہیں جنہوں نے اپنے خونِ جگر سے افسانے کے چراغ
روشن کیے ہیں۔ ان کی افسانہ نگاری مراٹھواڑہ کی تہذیبی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے
اور جدید اردو افسانے کی شناخت کا ایک لازمی حوالہ ہے۔ ان کے افسانے آنے والی
نسلوں کو بتائیں گے کہ ان کے عہد کا انسان کن کربناک مراحل سے گزرا اور کس طرح اس
نے اپنی انسانیت کو بچائے رکھا۔
'ایک
اداس شام' نور الحسنین
نور
الحسنین کا افسانہ 'ایک اداس شام' ان کے فن کا ایک ایسا شاہکار ہے جو قاری
کے دل و دماغ پر اداسی کی ایک گہری لہر چھوڑ جاتا ہے۔ یہ افسانہ محض ایک کہانی
نہیں، بلکہ انسانی محرومیوں، تنہائی اور وقت کے سفاک پہلوؤں کا ایک نوحہ ہے۔افسانے
کا عنوان 'ایک اداس شام' علامتی اور تاثراتی ہے۔ 'شام' بذاتِ خود زوال اور خاتمے
کی علامت ہے۔ یہ دن کے اجالے (امید) اور رات کی تاریکی (مایوسی) کے درمیان کا وہ
لمحہ ہے جہاں یادیں انسان کو گھیر لیتی ہیں۔ نور الحسنین نے اس عنوان کے ذریعے
کہانی کے آغاز سے پہلے ہی ایک مخصوص فضائیہ (Atmosphere) تخلیق کر دی ہے جو اداسی اور تنہائی سے عبارت ہے۔اس افسانے کا
مرکزی موضوع "خالی پن" اور "رشتوں کا زوال" ہے۔
یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو زندگی کی بھاگ دوڑ کے بعد جب پیچھے مڑ کر دیکھتا
ہے، تو اسے اپنے اردگرد صرف خاموشی اور اداسی نظر آتی ہے۔ یہ افسانہ جدید انسان کے
اس کرب کو بیان کرتا ہے جہاں مادی آسائشیں تو موجود ہیں، لیکن روح کی تسکین کے لیے
کوئی اپنا پاس نہیں ہے۔
نور
الحسنین نے اس افسانے میں کرداروں کے باطنی کرب کو بہت مہارت سے پیش کیا ہے۔
افسانے
میں منظر نگاری (Imagery)
اتنی جاندار ہے کہ قاری خود کو اس اداس شام کا حصہ محسوس کرنے لگتا ہے۔ نور
الحسنین نے اورنگ آباد یا مراٹھواڑہ کے کسی پرانے محلے یا مکان کی جو تصویر کشی کی
ہے، اس میں وہاں کی قدیم تہذیب کے آثار اور جدیدیت کی یلغار صاف نظر آتی ہے۔ غروبِ
آفتاب کا منظر، پرندوں کی واپسی اور گھروں سے اٹھتا ہوا دھواں—یہ سب مل کر ایک
ایسا کینوس بناتے ہیں جو کہانی کے دکھ کو دوچند کر دیتا ہے۔
'ایک
اداس شام' کی زبان نہایت شستہ اور شاعرانہ ہے۔
یہ
اداسی صرف انفرادی نہیں بلکہ سماجی بھی ہے۔ نور الحسنین یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ہم
نے ترقی کی دوڑ میں کیا کھویا اور کیا پایا؟ وہ شام جو کبھی اپنوں کے ساتھ بیٹھ کر
باتیں کرنے کا وقت ہوتی تھی، اب وہ تنہائی کا زہر بن چکی ہے۔ یہ افسانہ قاری کو
اپنی زندگی پر نظرِ ثانی کرنے پر مجبور کرتا ہے۔افسانہ 'ایک اداس شام' نور
الحسنین کی فنی پختگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ افسانہ ثابت کرتا ہے کہ وہ انسانی
جذبات کی عکاسی کرنے والے ایک ایسے نباض ہیں جو خاموشی کی زبان کو بھی لفظ دے سکتے
ہیں۔ یہ کہانی ختم ہونے کے بعد بھی دیر تک قاری کے شعور میں ایک کسک بن کر رہ جاتی
ہے۔
جوگیندر
پال کی افسانہ نگاری
جوگیندر
پال اردو افسانے کی تاریخ کا وہ معتبر اور قد آور نام ہیں جنہوں نے افسانے کو محض
"قصہ گوئی" کے روایتی دائرے سے نکال کر "فلسفیانہ فکر" اور
"باطنی شعور" کی بلندیوں تک پہنچایا۔ ان کی افسانہ نگاری اردو ادب میں
ایک ایسی منفرد لہر کی حیثیت رکھتی ہے جہاں حقیقت نگاری اور علامت نگاری کا ایک
انوکھا امتزاج ملتا ہے۔
جوگیندر
پال 1925ء میں سیالکوٹ (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے، لیکن تقسیمِ ہند کے بعد وہ
ہجرت کر کے ہندوستان آ گئے۔ ان کی زندگی کا ایک بڑا حصہ کینیا (افریقہ) میں گزرا،
جہاں انہوں نے تدریسی خدمات انجام دیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوں میں جہاں
برصغیر کی جڑوں کی خوشبو ہے، وہاں افریقہ کے اجنبی ماحول اور وہاں کے مقامی لوگوں
کے دکھ سکھ بھی شامل ہیں۔ان کی فکر پر کسی ایک نظریے کی چھاپ نہیں ہے، بلکہ وہ
انسانیت کے وسیع تر تناظر میں زندگی کو دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک افسانہ صرف سماج
کا آئینہ نہیں، بلکہ انسان کے اندرونی کرب کا اظہار ہے۔جوگیندر پال کے افسانوں میں
موضوعات کی ایک کہکشاں نظر آتی ہے۔
جوگیندر
پال کے افسانے "واقعہ" سے زیادہ "واردات" کے افسانے ہیں۔ وہ
کرداروں کے ظاہری عمل کے بجائے ان کی نفسیاتی الجھنوں اور لاشعور کی تہوں کو
کریدتے ہیں۔
ترقی
پسند تحریک کے بعد جب اردو افسانے میں علامت نگاری کا دور آیا، تو جوگیندر پال نے
اسے ایک نیا رنگ دیا۔ ان کی علامتیں مبہم یا پیچیدہ نہیں ہوتیں کہ قاری الجھ جائے،
بلکہ وہ کہانی کے بطن سے پیدا ہوتی ہیں۔
جوگیندر
پال کی زبان نہایت نپی تلی، شستہ اور اثر انگیز ہے۔
جوگیندر
پال نے اردو ادب کو بے شمار شاہکار افسانے دیے۔ ان کے اہم مجموعوں میں درج ذیل
شامل ہیں:
جوگیندر
پال کا شمار منٹو، بیدی اور کرشن چندر کے بعد آنے والی اس نسل میں ہوتا ہے جس نے
افسانے کو ایک نئی شناخت دی۔ انہوں نے ثابت کیا کہ ایک اچھا افسانہ نگار وہ ہے جو
مقامی ہو کر بھی آفاقی ہو جائے۔ ان کے افسانے انسانی روح کے ایسے گوشوں کو چھوتے
ہیں جو زمان و مکاں کی قید سے آزاد ہیں۔
جوگیندر
پال کی افسانہ نگاری دراصل "انسان کی تلاش" کی داستان ہے۔ وہ ایک
ایسے فنکار ہیں جو قاری کو صرف کہانی نہیں سناتے، بلکہ اسے سوچنے پر مجبور کرتے
ہیں۔ ان کے افسانے اردو ادب کا وہ بیش بہا اثاثہ ہیں جن کی معنویت وقت کے ساتھ
ساتھ مزید بڑھتی جا رہی ہے۔ وہ "خاموشی" کے افسانہ نگار ہیں، جن کی تحریریں
انسانی دل کی دھڑکنوں کو لفظوں میں ڈھالنے کا ہنر جانتی ہیں۔
مراٹھواڑہ میں
اردو غزل کی روایت
مہاراشٹر میں اردو غزل کی روایت میں ولؔی
اور سراؔج کے بعد ایک اہم نام سکندر علی وجد کا ہے ۔ سکندر علی وجد بنیادی طور پر
نظم کے شاعر ہیں لیکن ابتدا میں انھوں نے غزلیں بھی کہیں ہیں ۔ وجد کا یہ شعر
دیکھیں :
دو
سو برس میں وجد ، سراؔج و ولؔی کے بعد اٹھے
ہیں جھومتے ہوئے خاک دکن سے ہم
ڈاکٹر احمد فاروقی ، وجد کے اس شعر کے
بارے میں لکھتے ہیں:
”
جب انھوں نے یہ شعر کہا تو صرف شاعرانہ تعلی نہ تھی، بیان واقع تھا۔ وہ اپنے زمانے
میں دکن ہی کے نہیں ساری دنیا کے ممتاز و منفر د شاعر تھے جسے نظم و غزل دونوں پر
ماہرانہ قدرت حاصل تھی" ۔
وجد نے شاعری کی ابتداء ۱۹۳۰ء سے کی ۔ جب وہ جماعت
نہم کے طالب علم تھے۔ انھوں نے اپنا پہلا مشاعرہ "انجمن ترقی اردو" کے
زیرا ہتمام ۱۹۴۰ء
میں اورنگ آباد میں پڑھا۔ یہ مشاعرہ بابائے اردو مولوی عبدالحق کی نگرانی میں بی
بی کے مقبرے میں منعقد ہوا تھا۔ صدر مشاعرہ مہاراجہ "کشن پر شاد" نے ان
کی غزل کے ہر شعر پر ایک ایک اشرفی انعام میں عطا فرمائی تھی۔ دکنی غزل میں ارضیت
اور احساس جمال بنیادی حیثیت رکھتے ہیں ۔
یہاں کے لہجے میں زبان کی غرابت کے باوجود اشعار میں بے ساختگی کے عنصر پر زور
ملتا ہے۔ وجد نے شعوری طور پر ان خصوصیات کو جذب کیا ہے۔ اس کے ساتھ انھوں نے میر
سودا، غالب وغیرہ سے اثر قبول کرتے ہوئے اپنی انفرادی شناخت بھی قائم کی۔ علاوہ
ازیں اپنے ہم عصر اقبال کے اثرات کو قبول کیا ساتھ ہی اختر شیرانی کی رومانیت اور
تصور عشق سے فکر و خیال کی کی نئی جوان گا ہیں حاصل کیں۔ جوش کی انقلابی شاعری سے
بھی وجد نے استفادہ کیا اور ان قد اور شعراء سے اظہار کے مختلف پیرائے لیے۔ وجد
اساتذہ سے حاصل کردہ اثرات کو اس خوبی سے اپنی شاعری میں یکجا و ہم آہنگ کیا کہ وہ
ان کی شعری پہچان بن گئے ۔ وجد اپنے مجموعہ کلام الہوتر تنگ اور آفتاب تازہ کی اشاعت
کے بعد اپنی شاعری کا سارا ذخیرہ جمع کیا اور اس پر نظر ثانی کی اور پہلے دونوں
مجموعے کلام کو منسوخ کر کے دو نئے مجموعہ تیار کئے جن میں اوراق مصور (۱۹۶۴ ء کی رونمائی وزیر اعظم
ہند پنڈت جواہر لال نہرو کے ہاتھوں ہوئی اور بیاض مریم ۱۹۷۴ ء میں شائع ہوا۔ اس کی
اجرائی وزیر اعظم محترمہ شریمتی اندرا گاندھی نے انجام دی ۔ ۱۹۸۰ء کے اوائل ہی سے وجہ نے
اپنے کلیات کو مرتب کرنا شروع کر دیا تھا۔ اس کا نام جمال ابعدنا جلال ہمالیہ
تجویز کیا تھا لیکن ان کی علالت کے باعث یہ کلیات ان کی زندگی میں شائع نہ ہو سکا۔
اس کی وفات کے بعد مہاراشٹر اسٹیٹ اردو اکادمی نے اس کو ۱۹۸۸ ء میں شائع کیا۔ پیچش
اور دمہ کی شکایت کی وجہ سے ۶
ارشی ۱۹۸۳
ء کی صبح ان کا انتقال ہو گیا ۔ احاطه در یا حضوری شاہ میاں صاحب، از میونسپل
کارپوریشن آفس اورنگ آباد میں تدفین ہوئی۔ وجدوان کی ادبی خدمات کے عیش حکومت ہند
کی جانب سے پدم شری کے اعزاز سے نوازا گیا۔ چند اشعار ملاحظہ ہو:
جاست والے بھی نہیں آتے جانے
والوں کی یاد آتی
خوشی کی بات
ے ہوا تو ہی کی بات کرو پھول
مرجھا کے تو کیا تم ہے
کھانے والی کمی کی بات کرو کل
کی باتیں کریں گے کل والے
اور رنگ آباد کے تعلقہ جات جو اب ضلع
کا درجہ حاصل کر چکا ہے۔ اس شہر کے ہریش چندر رائے دکھی جالوی کا نام اہمیت کا
حامل ہے۔ دکھی جالنوی اپنی سادہ سلیس شاعری اور صوفیانہ کلام کی بناء پر ملک بھر
میں شہرت رکھتے تھے۔ انھوں نے اسلامی تاریخ پر بھی اشعار نظم کیے ہیں۔ان کے چند
اشعار ملاحظہ کیجیے:
اپنا ہی عکس دیکھ کے میں جھومنے لگا ایسا بھی اک آئینہ دل کے
مکاں میں ہے
سوئے ہوئے نصیب جگانے کے واسطے بگڑے ہوئے اصول بتاتا چلا گیا
ہے بات سمجھنے کی ہمدم یہ بات نہیں
سمجھانے کی میں وہ کعبہ کی رونق
ہوں جو زینت ہے بت خانے کی
ہو گیا علی مری ہستی کا معمہ بھی جب ملا اپنا نشان اس کے
نشاں تک پہنچے
دیکھی
جالنوی کے بہت سے اشعار زبان زد خاص و عام ہیں ان کا یہ قطعہ تو ضرب المثل ہے؟
تجارت میں مایہ بڑی چیز ہے عمارت میں پایہ بڑی چیز ہے
دکھی
سر پر قائم رہے تا ابد بزرگوں
کا سایہ بڑی چیز ہے
غرض ان کی شہرت اور عظمت کے اعتراف
میں انھیں بعد از مرگ فخر مہاراشٹر کے اعزاز سے نوازا گیا اوران کا رہائشی علاقہ
دھی نگر کے نام سے جانا جاتا ہے۔عہد جدید میں ایک اہم نام جو ہمارے سامنے آتا ہے
وہ حمایت علی شاعر کا ہے۔ حمایت علی شاعر اگر چہ کہ اب ہندوستان سے باہر ہیں لیکن
ان کی شاعری کا خمیر اورنگ آباد ہی سے اٹھا ہے اور ان کی شاعری کا موردکن کی
سرزمین ہے ۔ وہ ۱۴
مرجولائی ۱۹۲۶ء
کو اورنگ آباد میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم اور نگ آبادی میں حاصل کی ۔ ان کی
ادبی زندگی کی باضابطہ آغاز ۱۹۴۵ء
میں ہوا۔ پہلے مضامین اور افسانے لکھے اور بعد میں شاعری شروع کی ۔ مئی ۱۹۵۱ ء کو پاکستان ہجرت کرلی
۔ اگر ہم ان کی شاعری کا مطالعہ کریں تو اس بات کا علم ہوتا ہے کہ اس میں شاعرکے
دل کی دھر نہیں ، جذبات، تجربات اور احساسات کے علاوہ عصری زندگی کے تمام مسائل جن
سے وہ دو چار ہوئے ہیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اپنی شاعری میں ڈوالا رسی تجربات
سے بھی استفادہ کرتے ہیں ۔ حمایت علی شاعر نے اپنی ایک انفرادی شناخت قائم کی ہے۔
ان کی تخلیقات ان کے منفرد ہونے کا ثبوت فراہم کرتی ہیں ۔ حمایت علی شاعر آن بین
الاقوامی شخصیت کے حامل ہیں۔ لیکن ان کی شاعری کی جڑیں اپنے وطن کی سرزمین سے جبری
ہوئی ہیں۔ اس لئے ان کو اور تک آباد کی ادبی تاریخ میں نظر انداز میں کیا جاسکتا۔
آگ میں پھول آئی کا قرض تشنگی کا سفہ ، ہارون کی آواز ، حرف حرف روشنی ، آمینہ در
آیندہ غیر دکتا یں ان کے قادرا اکام ہونے کا ثبوت پیش کرتی ہیں:
میں کچھ نہ کہوں اور یہ چاہوں کہ میری
بات خوشبو
کی طرح اڑ کے تیرے دل میں اتر جائے
تمھارے اور یہ اعداد کو خدا کے مجھے
بھی پیار میرے شہر نیست بود سے ہے
میری زمیں ہے میری ماں میں ابن مریم
ہوں تمھارا
خوں سے ہے رشتہ تو میرا دودھ سے ہے
تمھارا خوں سے ہے رشتہ تو میرا دودھ
سے ہے
مقتدر حجم، حمایت علی شاعر کے ہم عصر
و ہم جماعت تھے۔ اور تنگ آباد کی ادبی محفلوں میں بہت سرگرم تھے۔ انھوں نے اچھی
شاعری کی اور شاعر کی حیثیت سے شہرت پائی۔ بے پی سعید کا اصلی نام قاضی غوث محی
الدین ہے لیکن ادبی حلقہ میں بے پی سعید کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ ان کا تفصیلی
ذکر آنے آئے گا۔ ڈاکٹر عصمت جاوید شیخ نے اورنگ آباد کو اپنا وطن ثانی بنا لیا تھا
اور اپنی عمر کا ایک ا حصہ نہیں گذارا۔ وہ بلند پایہ شاعر ممتاز نقادہ معتبر محقق
اور ماہر لسانیات کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی نثر میں کافی کتابیں
ہیں اور ایک شعری مجموعہ " کیا اورخت بھی ہے۔ اپنی نثری مصروفیت کے بارے میں
کہتے ہیں :
جو مجھ پہ نثر کا ہوتا نہ قرض اے
جاوید میں شاعری میں بڑا نام کر گیا ہوتا
دو تو سورج ہے جہاں جائے گا دن نکلے
گا
رات دیکھی ہو تو سمجھے کہ اندھرا کیا
ہے
مر الحوازہ کے علمی وادبی حلقوں میں
اختر الزماں ناصر ایک جانا پہچانا اور معتبر نام ہے۔ وہ اپنی شاعری کے ابتدائی
زمانے میں اپنا کلام میں نہ علی درد کا کولؔی کو دکھایا کرتے تھے۔ درد صاحب کا اس
زمانے میں بڑا شہر ہ تھا۔ جگر کے ہمعصر تھے۔ مولوی صاحب اردو زبان کے ساتھ ساتھ
انگریزی پر بھی دسترس رکھتے تھے۔ آپ نے ایک مدرس کی حیثیت سے سادہ زندگی گزاری۔ ان
کا مجموعہ کلام بزرگ و بارامیری زمیں ہے میری ماں میں ابن مریم ہوں۱۹۸۸ء میں منظر عام پر آچکا ہے ۔ وہ بنیادی طور پر غزل کے
شاعر تھے گو کہ انھوں نے بہت کم شعر کہے ہیں لیکن جو کچھ بھی کہا وہ ان کی شناخت
کے لئے کافی ہے۔ زبان کی صحت ، الفاظ کے دروبست مسلمہ معیارات کا رکھ رکھاؤ اور
خیال کی تازگی نے ان کو مرزا دائی کے کتب فکر کا ایک نمائندہ شاعر بنا دیا ہے۔
ایسا شاعر جو تقلیدی اور رسمی نہیں بلکہ فکری اور اجتہادی صلاحیتوں کا استعمال
کرتا ہے اور اپنے منفرد طرز فکر سے کلاسیکی شاعری میں اپنا حصہ ادا کرتا ہے۔
دے دعوت آرام کسی اور کو منزل
میں اپنی تھکن بھی نہ کروں تیرے حوالے
ہے ترک دوستی کی اتنی سی بس کہانی
آواز تم نے جب دی میں دور جا چکا تھا
قمر
اقبال اورنگ آباد کے مشہور و معروف شاعر تھے۔ ان کا ذکر آگے تفصیل سے کیا جائے گا۔
اردو ادب کا مورخ جب طنز و مزاح کی تاریخ کا جائزہ لے گا ، تب یقینا را پیشفر علی
کے بلند مقام و منصب کا ضرور یقین کرے گا۔ راہ پخضنفر علی کے طنز و مزاح کا مزان
کافی بلند تھا۔ انھوں نے اپنے جذبات واحساسات اور مشاہدات کو مزاحیہ وطنز یہ
پیرائے میں پیش کیا۔ وہ پیروڈی کے بھی ماہر تھے۔ انہوں نے ہنرل میں ایک نیا تجربہ
کیا اور بول چال کے الفاظ کو شاعری میں استعمال کیا۔ مثلا
کو بھی کے پھول دول کی مانند تو میرے
دل دل کے کھیت وبیت میں کھل دل کبھی
کبھار
انھوں نے اپنی اس غزل کو اور نگ آباد
کے ایک مشاعرے میں سنایا۔ اس مشاعرہ کی صدارت مجروح سلطانپوری نے کی تھی ۔ چند
مہینوں بعد فلمی دنیا میں ایک آیت مقبول ہوا۔ گیت کے بول تھے " دل دل پیار و
یار میں کیا جانورے یہ گیت مجروح سلطانپوری نے لکھا ہے۔ اس واقعہ سے راہ پیغضنفر
علی کی بیٹی آج کا انداز ولگا یا جا سکتا ہے۔ ان کا مجموعہ کلام " غائب متعلم
شائع ہو چکا ہے۔ بشارت نواز خان المعروف بشر نواز اور نیک آباد کے اہم شعراء میں
شمار کیے جاتے ہیں۔ ان کا ذکر آگے قدر تفصیل سے کیا جائے گا۔ میر ہاشم نے اور تنگ
آباد کو اپنا وطن عمانی بنایا ۔ ان کی شاعری میں جابجا الفاظ کے تخلیقی استعمال کی
خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ آزاد نظم کی بیت کو انہوں نے اپنی شاعری میں کامیابی سے
برتا ہے۔ ان کے شعری سفر کا آغاز ترقی پسند تحریک کے زیر اثر ہوا۔ انھوں نے
مارکسیت سے فکر کی روشنی حاصل کی اور اس روشنی میں زندگی کے مسائل کو بجھنے کی
کوشش کی لیکن اپنے فن کو نظریے کی تبلیغ کا ذریعہ نہیں بنایا۔ ان کی پہلی وابستگی
فن سے ہے۔ فن ان کے اظہار ذات کا وسیلہ ہے۔ ان کے یہاں لفظ کا بے جا استعمال نظر
نہیں آتا۔ ان کی عظمت کا راز یہ ہے کہ وہ جو کچھ دیکھتے ہیں اپنی آنکھوں سے دیکھتے
ہیں ، ان کے لب مصلحت سے نا آشنا ہیں۔ وہ تقلید سے انکار کرتے ہیں اور اجتہاد کو
پسند کرتے ہیں ۔ ان کی غزلوں کا آہنگ عشقیہ ہے۔ ان کی گفتگو میں ایک پر سو مگر با
نمکین لہجے کا رکھ رکھاؤ نظر آتا ہے۔ وہ خوب سے خوب تر کے قائل ہیں۔ کہتے ہیں۔
وہ کون ہے ہاشم میرے فنکار کے ہمراہ
جس کا یہ تقاضہ ہے ابھی خون جگر دے
لم دنیا سے بھی بڑھ کر ہے ترا قم لیکن
تیرا غم تلخ نہیں ہے تم دنیا کی طرحزباں سے جھوٹ کا اک لانا بھی نہیں
مگر جو کی ہے اسے آج تک کہا بھی نہیں
ان کا پہلا شعری انتخاب درد نار ما
مقبول ہو چکا ہے۔ انہوں نے اس انتخاب کو کچھ ردو بدل کر کے دشت روز و شب کے حام سے
شائع کیا جو ادب میں اپنا مقام آپ رکھتا ہے۔ عرفان پرھنوی نے بھی مدد فرا میں کہیں
ہیں۔ ڈاکٹر یوسف عثمانی اورنگ آباد کے مشہور نامور شاعر حضرت یعقوب عثمانی کے
اکیلے فرزند تھے۔ دو زبان داں ہیں اردو اور فاری پر ماہرانہ دسترس رکھتے تھے۔ ان
کا مجموعہ کام خود کلامی ، شائع ہو چکا ہے، ان کی شادی محترمہ رمنا حیدری سے ہوئی
جو خود بھی اچھی شاعرہ ہیں۔ محترمہ ڈاکٹر روتا حیدری کو اپنی کتاب اسکندر علی وجہ
حیات اور شاعری پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل ہوئی اور وہ حال ہی میں صدر شعبہ اردو
ڈاکٹر بابا صاحب المرید کرمراٹھواڑہ یونیورسٹی سے سبکدوش ہوئیں ۔ ان کی شاعری میں نئے
خیالات اور نئے مضامین پائے جاتے ہیں۔ ان کی شاعری میں خالص نسائی جذبات اور نسوائی
محسوسات کی ترجمانی ملتی ہے۔ وہ بہت خاموش طبع ہیں اور خاموشی سے لکھتی رہتی ہیں۔ ان
کے استعارے، پیکر، الفظیات اور لفظیات کے ماخذ سب حواس خمسہ سے پھوٹ کر ایک دوسرے کے
پہلو بہ پہلو بجتے جاتے ہیں، ان کی غزلیں "آئینہ" کے نام سے منظر عام پر
آچکی ہیں، جس کے آدھے حصے میں ان کا کلام ہے اور آدھے میں ڈاکٹر عثمانی صاحب کا ۔ یہ
دونوں کا اشترا کی مجموعہ کلام ہے۔ ان کا دوسرا مجموعہ روپ رس بھی منظر عام پر آکر
مقبول ہو چکا ہے۔ شاد حسین نہری ۲۴
رنومبر ۱۹۴۱
ء میں اورنگ آباد میں پیدا ہوئے۔ وہ اور تنگ آباد کے معروف
شاعر اور قطعہ نویں ہیں ۔ قطعہ نویسی میں خاص مہارت رکھتے ہیں۔ ان کا کلام شب آہنگ
کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ جاوید ناصر مولوی اختر الزماں ناصر کے فرزند تھے۔ ۲۲ رفروری
۱۹۴۹ء میں اورنگ آباد میں پیدا
ہوئے ۔ ایم اے انگریزی سے کیا اور ابتدا میں وسنت راؤ تا یک کالج میں لیکچرر کی خدمات
انجام دی۔ پھر آل انڈیا ریڈیو میں ملازمت کی ۔ ان کی آواز بہت بکش تھی اور جب بات کرتے
تھے تو ہمیں محسوس ہوتا تھا کہ کئی اردو بول رہا ہے۔ ان کی نظامت کسی بھی مشاعرے کی
کامیابی کی ضامن ہوتی تھی۔ دونو جوان نسل کے رہنما شاعر تھے۔ ان کا جموعہ کلام
" حاصل (۱۹۷۷ء
) ان کا دوسرا شعری مجموعہ تلاقی (۱۹۸۳)
اور تازیانہ شائع ہو چکے ہیں ۔ جاوید ناصر بنیادی طور پر
غزل کے شاعر تھے۔
روف انجم کا شمار اورنگ آباد کے اہم شعراء
میں ہوجاتے۔ ریف انجم بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے۔ بہت اچھی غزلیں لکھتے تھے۔ ان
کا اپنا ایک منفر داند از تھا۔ خصوصا طرحی مصرعوں پر طبع آزمائی کرتے تھے۔ ان کے قافیے
اچھوتے ہوتے تھے۔ سید منیر الدین سحر سعیدی ایک خوش کو اور قادرالکلام شاعر تھے۔ نو
جوانی ہی سے ادبی وچ پی رکھتے تھے اور اسی عمر سے شعر بھی کہتے تھے۔ ان کا پہلا مجموعہ
کلام " مضراب" کے نام سے ۱۹۷۸ء
میں شائع ہوا تھا۔ اس کے بعد ان کے دو مجموعے اکمند ہوا اور خوشبولے منظر عام پر آچکے
ہیں اور دونوں کو ایوارڈ بھی حاصل ہوئے ہیں سحر سعیدی بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے۔
ان کے لہجے میں عنایت تھی ۔ وو سوق اور احساس کے اعتبار سے آدرش وادی شاعر تھے۔ انکی
کی شاعری میں ایک مسحور کن فضا کا احساس ہوتا ہے ۔ خلیل صادق بھی اور تک آباد کے شعراء
میں ممتاز مقام رکھتے تھے۔ مواد نا آزاد ہائی اسکول میں مدارس کی حیثیت سے خدمات انجام
دیں ۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے فرزند راحیل صدیقی نے ان کے شعری مجموعہ مائل اور
امینہ" کو مرتب کر کے شائع کیا۔ غزل کے حوالے سے فاروق عظیم اور نگ آباد کی ادبی
روایت کی آخری کڑی ہیں ۔ ابھی ان کی شاعری اپنے الو م ا کھارہی ہے۔ قدیر خان میلی نے
بھی شاعری کی یا ایک انجمن فروغ اردو ادب قائم کی اور اس مانشستوں کا اہتمام کر کے
ادب کا ماحول بنائے رکھا۔ ان شعری نشستوں میں پروفیسر عبدالوہاب جذب جعفر سوز راحمد
گی الدین ختم ، شرکت انوار، اما از کریم و غیر دوختہ بھی طور پر شکر سے کرتے تھے۔ یہ
تمام شعراء کا شار بھی اور تیک آباد کے شاعروں میں ہوتا ہے۔ کے تحت کئی شعری مولانا
صد را حسن اور مولانا اجلال بھی غزلوں پر طبع آزمائی کر رہے ہیں ۔ شاعرات میں مہر النساء
( مہر آیا ) ، ظفر شاہین اور کنیز فاطمہ کا شمار ہوتاہے۔ ان تمام شعراء کے علاوہ وحید
کلیم، عارف خورشید، رضا النوی ، نمار پنی جمید اورنگ آبادی ہمایت اللہ خان اور وقار
عظیم قابل ذکر ہیں ۔ مہاراشٹر کے دیگر علاقوں سے ، باقر مہدی، عبدالاحد ساز ، مدحت
الا اختر ، حسامی کردوی ، قیصر رتنا گردی ، مہر سلائی ، عارف سیمانی بانکوئی ، پر کار
رتنا گردی ، بعقدر رتنا گردی ، آدم نصرت ، شرف کمالی ، اختر رہی ، ساحر شیوی ، بدیع
الزماں خاور، آزادنوجی ، انجم عباسی مغل اقبال اختر ، تاج الدین شاہد اور اقبال سالک
جیسے کافی شعرا نے اپنی شناخت قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ عبدالرحیم نشتر تسلیم
انصاری اور صادقہ نواب سحر کے نام بھی کوکن کے حوالے سے اہم ہیں۔ امراوتی سے ابرار
کا شف بہت مقبول ہوئے ہیں ۔ گلزار نے خوب کہا ہے :
کل اور آئیں گئے نغموں کی بھکتی کلیاں
چننے والے
مجھ سے بہتر کہنے والے تم سے بہتر سننے
والے
ؔبشر نواز
بشر
نواز اردو غزل کے ان معتبر ستونوں میں سے ہیں جنہوں نے روایتی غزل کے رچاؤ کو جدید
حسیت کے ساتھ آمیز کیا۔ ان کی غزلوں میں جہاں ایک خاص قسم کی گھلاوٹ اور نغمگی ہے،
وہیں عصرِ حاضر کے انسان کا کرب اور سماجی تضادات بھی پوری شدت کے ساتھ موجود
ہیں۔بشر نواز (1935ء - 2015ء) کا تعلق اورنگ آباد (مراٹھواڑہ) سے تھا۔ وہ ایک بلند
پایہ شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین انسان بھی تھے۔ ان کی شہرت صرف ادبی حلقوں
تک محدود نہیں رہی، بلکہ ان کی غزلوں کو بالی وڈ کی فلموں (جیسے 'بازار') اور
نامور گلوکاروں نے گا کر عوام تک پہنچایا۔ ان کا شعری مجموعہ 'رائگاں' اردو
ادب کا ایک قیمتی سرمایہ ہے۔بشر نواز کی غزل قدیم اور جدید کے درمیان ایک پل کی
حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے غزل کے کلاسیکی مزاج کو برقرار رکھتے ہوئے اس میں نئے
استعارے اور علامتیں شامل کیں۔
بشر نواز صرف داخلی دنیا کے شاعر نہیں
تھے۔ ان کی نظر اپنے عہد کے بدلتے ہوئے سیاسی اور سماجی حالات پر بھی تھی۔
بشر نواز کی غزلوں میں موسیقی کا عنصر
بہت نمایاں ہے۔ ان کے الفاظ کا انتخاب اور بحروں کی ترتیب ایسی ہے کہ کلام خود
بخود گنگنانے کا دل چاہتا ہے۔
ان کے اسلوب کی سب سے بڑی خوبی سادگی
اور پرکاری ہے۔
بشر نواز کے یہ اشعار ان کی فکری اور
فنی گہرائی کی عکاسی کرتے ہیں:
اجنبی شہر کے اجنبی راستے، میری تنہائی پر مسکراتے رہے
کتنے چہرے یہاں میرے اپنے ہوئے، کتنے اپنے یہاں اجنبی ہو گئے
اور ان کی عالمی شہرت یافتہ غزل کا یہ
شعر:
دکھائی دیے یوں کہ بے خود کیا، ہمیں آپ سے بھی جدا کر دیا
بشرؔ وہ بھی کیا دن تھے جب ہم تمھیں، خدا کے برابر کہا کرتے تھے
بشر نواز کی غزل گوئی مراٹھواڑہ کے اس
ادبی وقار کا تسلسل ہے جو ولیؔ اور سراجؔ سے شروع ہوا تھا۔ انہوں نے غزل کو ایک
نیا شعور اور نیا آہنگ عطا کیا۔ وہ محبت کے بھی شاعر ہیں اور سماجی ناانصافیوں کے
خلاف آواز اٹھانے والے فنکار بھی۔ ان کا کلام ہمیشہ اردو غزل کے ماتھے کا جھومر
رہے گا۔
سراج اورنگ آبادی کی غزل گوئی
سراج اورنگ آبادی اردو غزل کے اس عہدِ
زریں کے نمائندہ شاعر ہیں جب اردو شاعری اپنی ابتدائی منزلیں طے کر کے پختگی کی
طرف گامزن تھی۔ انہیں "دکن کا آخری عظیم شاعر" اور "اردو غزل کا
خسرو" کہا جاتا ہے۔ ان کی شاعری صوفیانہ واردات، جذب و مستی اور تغزل کا ایسا
حسین امتزاج ہے جو انہیں اپنے ہم عصروں میں ممتاز کرتا ہے۔
سراج اورنگ آبادی (1715ء-1763ء) ایک
ایسے دور میں پیدا ہوئے جب ولی دکنی کی شاعری نے شمال اور جنوب کے درمیان ادبی پل
کا کردار ادا کر دیا تھا۔ سراج نے ولی کے تتبع سے آغاز کیا لیکن جلد ہی اپنی منفرد
راہ نکالی۔ ان کا دیوان 'سراجِ سخن' ان کی قادر الکلامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ وہ
ایک پیدائشی شاعر تھے اور ان کے کلام میں وہ تڑپ اور سوز پایا جاتا ہے جو صرف
صاحبِ حال صوفی کے حصے میں آتا ہے۔سراج کی غزل کا سب سے نمایاں پہلو تصوف ہے۔ ان
کی زندگی کا ایک بڑا حصہ استغراق اور بے خودی کی کیفیت میں گزرا۔ ان کے ہاں تصوف
محض خشک فلسفہ نہیں بلکہ ایک جیتا جاگتا تجربہ ہے۔
وحدت الوجود: ان کے کلام میں کائنات
کی ہر شے میں جلوہِ حق کی جھلک نظر آتی ہے۔
عشقِ حقیقی: وہ مجازی عشق کو حقیقی تک
پہنچنے کا زینہ قرار دیتے ہیں۔
ان کا یہ مشہورِ زمانہ شعر ان کی پوری
زندگی اور شاعری کا نچوڑ ہے:
خبرِ تحیرِ عشق سن، نہ جنوں رہا نہ
پری رہی
نہ تو تو رہا نہ تو میں رہا، جو رہی
سو بے خبری رہی
غزل کی جان تغزل ہے، اور سراج کے ہاں
یہ وصف کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔ ان کے لہجے میں ایک خاص قسم کی نرمی، گداز اور شائستگی
ہے۔ وہ درد کو بیان کرتے ہوئے چیخ و پکار نہیں کرتے بلکہ ایک دھیمے لہجے میں دل کی
واردات سناتے ہیں۔ سراج خارجی دنیا کے بجائے اپنے اندر کی دنیا میں زیادہ مگن رہتے
ہیں۔ ان کی غزلوں میں دل کے ٹوٹنے، آرزوؤں کے مٹنے اور تنہائی کا بیان نہایت پر
اثر ہے۔سراج کی زبان دکنی اور دہلوی اسلوب کا سنگم ہے۔ اگرچہ وہ دکن کے رہنے والے
تھے، لیکن ان کی زبان پر فارسی کے گہرے اثرات ہیں اور انہوں نے اردو غزل کو وہ
تراش خراش دی جو بعد میں میر تقی میر کے ہاں کمال کو پہنچی۔اکثر ناقدین سراج کو
"دکن کا میر" قرار دیتے ہیں۔ جس طرح میر کے ہاں "آہ" اور سوز
ہے، وہی تڑپ سراج کے کلام میں بھی ملتی ہے۔ میر سے پہلے اگر کسی شاعر نے غمِ عشق
کو آفاقی صداقت بنایا، تو وہ سراج تھے۔سراج کا غم انفرادی ہونے کے ساتھ ساتھ
کائناتی بھی بن جاتا ہے۔دونوں کے ہاں وارداتِ قلبی کو بیان کرنے کا ہنر یکساں ہے۔سراج
حسن کے پرستار ہیں، چاہے وہ حسنِ ازل ہو یا حسنِ انسانی۔ ان کی غزلوں میں محبوب کے
سراپے کا بیان نہایت مہذب اور لطیف انداز میں ملتا ہے۔ ان کی پیکر تراشی قاری کے
سامنے ایک جیتی جاگتی تصویر کھڑی کر دیتی ہے۔سراج اورنگ آبادی اردو غزل کے وہ
درخشندہ ستارہ ہیں جن کی روشنی سے بعد کے آنے والے شعرا نے استفادہ کیا۔ انہوں نے
دکنی اردو کو وسعت دی اور اسے اس قابل بنایا کہ وہ دہلی کے شعرا کے لیے مشعلِ راہ
بن سکے۔ ان کی غزل گوئی میں جو خلوص، سچائی اور عشق کی تپش ہے، وہ اردو ادب کا بیش
قیمت سرمایہ ہے۔
ان کی شاعری کے مطالعے کے بغیر اردو
غزل کی تاریخ ادھوری ہے۔
ولی اورنگ آبادی کی غزل گوئی
ولی دکنی (جنہیں ولی اورنگ آبادی بھی
کہا جاتا ہے) اردو شاعری کی تاریخ کا وہ سنگِ میل ہیں جہاں سے اردو غزل کی باقاعدہ
اور باضابطہ تاریخ کا آغاز ہوتا ہے۔ انہیں "بابائے ریختہ" اور
"اردو غزل کا آدم" کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ ولی نے اس وقت اردو
(ریختہ) میں شاعری شروع کی جب فارسی کا غلبہ تھا اور اردو کو صرف "دکنی"
یا "ہندوی" کہہ کر مقامی سطح تک محدود سمجھا جاتا تھا۔ولی کا سب سے بڑا
کارنامہ اردو زبان کو ادبی وقار عطا کرنا ہے۔ ان سے پہلے دکنی شاعری میں مقامی
الفاظ اور لہجے کا غلبہ تھا جو شمالی ہند کے لوگوں کے لیے اجنبی تھا۔ ولی نے:دکنی
اور فارسی تراکیب کا ایسا امتزاج پیدا کیا جو پورے ہندوستان میں مقبول ہوا۔1700ء
میں جب ان کا دیوان دہلی پہنچا، تو وہاں کے فارسی گو شعرا حیران رہ گئے کہ اردو
میں اتنی لطیف اور شیریں غزل کہی جا سکتی ہے۔انہوں نے ریختہ کو فارسی کے ہم پلہ
کھڑا کر دیا۔ولی کی غزل کا بنیادی محور "حسن" ہے۔ وہ حسن کے شاعر ہیں،
غم کے نہیں۔ ان کے ہاں میر تقی میر جیسی "آہ" یا درد و کرب نہیں ملتا،
بلکہ ایک نشاطیہ (Cheerful)
رنگ نمایاں ہے۔
سراپا نگاری: ولی محبوب کے اعضاء،
لباس اور زیورات کا ذکر نہایت تفصیل اور چاشنی سے کرتے ہیں۔
داخلی مسرت: ان کی غزل پڑھ کر قاری کے
دل میں خوشی اور تازگی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ان کا یہ شعر ان کے جمالیاتی ذوق کی
عکاسی کرتا ہے:
جسے عشق کا تیر کاری لگے
اسے زندگی بھاری بھاری لگے
اگرچہ ولی حسن و عشق کے شاعر ہیں،
لیکن ان کے کلام میں تصوف کی چاشنی بھی موجود ہے۔ وہ ایک صوفی منش انسان تھے، اس
لیے ان کی غزلوں میں دنیا کی بے ثباتی اور معرفتِ الٰہی کے مضامین بھی بڑی
خوبصورتی سے پروئے گئے ہیں۔ان کے ہاں تصوف خشک فلسفہ نہیں بلکہ ایک قلبی واردات
ہے۔وہ حسنِ مجازی کو حسنِ حقیقی کا پرتو سمجھتے ہیں۔ولی کی غزل محض گل و بلبل تک
محدود نہیں، بلکہ اس میں تنوع پایا جاتا ہے:
عشق کا تجربہ: وہ عشق کو ایک طاقتور
جذبہ قرار دیتے ہیں جو انسان کو خود آگاہی بخشتا ہے۔
فلسفہ و فکر: کائنات کی حقیقت اور
انسانی وجود کے مقصد پر غور و فکر۔
فطرت نگاری: باغات، پھولوں اور قدرتی
مناظر کا ذکر ان کے کلام میں کثرت سے ملتا ہے۔ولی نے اردو غزل کی جو بنیاد رکھی،
اسی پر آبرو، حاتم، ناجی اور بعد میں میر و غالب نے عظیم الشان عمارتیں تعمیر کیں۔
انہوں نے ثابت کیا کہ اردو زبان ہر قسم کے نازک اور بلند خیالات کے اظہار کی
بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ولی اورنگ آبادی اردو غزل کے وہ آفتاب ہیں جس کی شعاعوں نے
شمالی اور جنوبی ہند کے ادبی افق کو روشن کیا۔ ان کی غزل گوئی میں جو تازگی،
شگفتگی اور سلاست ہے، وہ آج بھی قاری کو مسحور کر دیتی ہے۔ انہوں نے لسانی تعصبات
کو ختم کر کے ایک ایسی زبان کی بنیاد رکھی جو آج برصغیر کی پہچان ہے۔ڈاکٹر جمیل
جالبی کے بقول:
"ولی اردو شاعری کے وہ سنگِ
بنیاد ہیں جس پر ہماری پوری کلاسیکی شاعری کی عمارت کھڑی ہے۔"