12.Notes - (B.A)Third Year Sem-VI(ML-Urdu(Optional) Paper -XII)

 

Swami Ramanand Teerth Marathwada University, Nanded.

 

سوامی رامانند تیر تھ مراٹھواڑہ یو نیور سٹی ، ناندیڑ۔

 

Faculty of Humanities

شعبہ انسانیات

 

Effective from Academic year 2021– 2021

روبہ عمل تعلیمی سال-2026-2025

(CBCS-2021-2022)

بی۔اے۔،سال سوّم(میقات ششم)

اختیاری مضمون  اُردو   ( ادبی تنقید )

ٌ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

افلاطون (Plato)

افلاطون (Plato) مغرب کے وہ پہلے عظیم فلسفی اور مفکر ہیں جنہوں نے فن اور ادب کو باقاعدہ تنقیدی اصولوں کی کسوٹی پر پرکھا۔ اگرچہ ان کا بنیادی مقصد ایک "مثالی ریاست" کا قیام تھا، لیکن اس ضمن میں انہوں نے شاعری اور ڈرامے پر جو اعتراضات کیے، وہ آج بھی ادبی تنقید کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔افلاطون کی پیدائش 427 قبل مسیح (427 BC) میں یونان کے شہر ایتھنز کے ایک انتہائی معزز اور سیاسی خاندان میں ہوئی۔ ان کے والد کا نام "ارسٹن" تھا جن کا شجرہ نسب ایتھنز کے قدیم بادشاہوں سے ملتا تھا۔ ان کی والدہ "پیرکشن" کا تعلق مشہور قانون دان سولون (Solon) کے خاندان سے تھا۔ان کا اصل نام "ارسٹو کلیز" تھا، لیکن ان کے چوڑے شانوں اور کسرتی بدن کی وجہ سے ان کے ورزش کے استاد نے انہیں "پلاٹون" (Plato) کا لقب دیا، جو اردو میں "افلاطون" کے نام سے مشہور ہوا۔افلاطون نے اس دور کے رواج کے مطابق بہترین تعلیم حاصل کی۔انہوں نے موسیقی، شاعری اور فلسفے کی تعلیم لی۔ نوجوانی میں وہ خود بھی نظمیں اور المیہ ڈرامے لکھتے تھے۔افلاطون کی زندگی میں سب سے بڑی تبدیلی 20 سال کی عمر میں آئی جب وہ عظیم فلسفی" سقراط "کے شاگرد بنے۔ سقراط کی صحبت نے ان کے اندر سچائی کی تلاش کا جذبہ پیدا کیا اور انہوں نے اپنی تمام شاعری جلا کر خود کو فلسفے کے لیے وقف کر دیا۔399قبل مسیح میں جب ایتھنز کی حکومت نے سقراط کو زہر کا پیالہ پینے پر مجبور کیا، تو اس واقعے نے افلاطون کے ذہن پر گہرا اثر ڈالا۔ وہ جمہوریت اور مروجہ سیاست سے بدظن ہو گئے۔ سقراط کی موت کے بعد انہوں نے مصر، اٹلی  کے طویل سفر کیے اور ریاضی و فلکیات کا مطالعہ کیا۔ ایتھنز واپسی پر انہوں نے اپنی مشہور درسگاہ "اکیڈمی" قائم کی، جسے یورپ کی پہلی یونیورسٹی کہا جاتا ہے۔ ارسطو اسی اکیڈمی کا سب سے لائق شاگرد تھا۔

 افلاطون کے تنقیدی نظریات:

افلاطون کی تنقید ان کی مشہور کتاب "ریاست" (The Republic) میں ملتی ہے۔ ان کی تنقید کا رخ زیادہ تر شاعری کی مخالفت میں تھا۔ ان کے اہم نظریات درج ذیل ہیں:

الف: نظریہ مہمات یا نقالی (Theory of Mimesis)

افلاطون کے نزدیک کائنات کی ہر چیز ایک "مثالی نمونے" (Idea) کی نقل ہے۔

1.    خدا نے ایک "میز" کا تصور پیدا کیا (اصل)۔

2.    ترکھان (بڑھائی) نے اس تصور کو دیکھ کر لکڑی کی میز بنائی (نقل)۔

3.    مصور یا شاعر نے اس لکڑی کی میز کی تصویر بنائی یا اس پر نظم لکھی (نقل کی نقل)۔

اسی بنیاد پر افلاطون نے کہا کہ "شاعر حقیقت سے دو درجہ دور ہے"۔

 

ب: شاعری پر اخلاقی اعتراضات:

افلاطون ایک مصلح (Reformer) تھے، اس لیے انہوں نے شاعری پر سخت اعتراضات کیے:

 ان کا خیال تھا کہ شعراء دیوتاؤں کے بارے میں غلط کہانیاں گھڑتے ہیں، انہیں روتا دھوتا اور لڑتا جھگڑتا دکھاتے ہیں، جس سے نوجوانوں کے اخلاق بگڑتے ہیں۔شاعری عقل کے بجائے جذبات کو اپیل کرتی ہے۔ یہ انسان کے اندر بزدلی اور کمزوری پیدا کرتی ہے، جبکہ ایک مثالی ریاست کے شہری کو بہادر اور باوقار ہونا چاہیے۔

ج: الہامی نظریہ (Inspiration Theory)

اپنے مکالمے 'ایون' (Ion) میں افلاطون کہتا ہے کہ شاعر ہوش و حواس میں شاعری نہیں کرتا، بلکہ اس پر ایک وجدانی یا دیوانگی کی کیفیت طاری ہوتی ہے۔ چونکہ شاعر کے پاس اپنا کوئی علم (Knowledge) نہیں ہوتا اور وہ الہام کے تابع ہوتا ہے، اس لیے اس کی بات پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔

 ریاست سے شعراء کی بے دخلی

افلاطون نے اپنی مثالی ریاست کے ڈھانچے میں شعراء کے لیے کوئی جگہ نہیں رکھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی عظیم شاعر ہماری ریاست میں آئے تو ہم اس کا احترام تو کریں گے، اسے پھولوں کے ہار بھی پہنائیں گے، لیکن پھر اسے سرحد سے باہر چھوڑ آئیں گے۔ انہوں نے صرف ان منظوم نغموں کی اجازت دی جو دیوتاؤں کی حمد یا بہادروں کی تعریف میں ہوں۔

اگرچہ افلاطون نے شاعری پر پابندی کی بات کی، لیکن ان کی تنقید نے ادب کو پہلی بار سنجیدہ سوالات سے روشناس کرایا:

1.    ادب کا معاشرے اور اخلاق سے کیا رشتہ ہے؟

2.    کیا ادب صرف لطف اندوزی کے لیے ہے یا اس کا کوئی تعمیری مقصد بھی ہونا چاہیے؟

3.    سچائی اور فن میں کیا فرق ہے؟

افلاطون نے اپنی پوری زندگی درس و تدریس اور تصنیف و تالیف میں گزاری۔ ان کے مکالمات (Dialogues) فلسفے کا شاہکار سمجھے جاتے ہیں۔ ان کا انتقال 347 قبل مسیح میں تقریباً 80 سال کی عمر میں ایتھنز میں ہوا۔افلاطون کی تنقید دراصل "افادیت پسندی" (Utilitarianism) پر مبنی تھی۔ وہ ہر اس چیز کے خلاف تھے جو انسان کو عقل کی راہ سے ہٹا کر جذبات کی رو میں بہا دے۔ ان کی تنقید نگاری نے آنے والے تمام نقادوں کے لیے ایک ایسا میدان فراہم کیا جہاں فن اور اخلاقیات کی بحث آج بھی جاری ہے۔

 

 

ارسطو (Aristotle)

ارسطو (Aristotle) تاریخِ انسانی کے ان عظیم ترین مفکروں میں شمار کیا جاتا  ہے جن کی علمی فتوحات کا دائرہ منطق، حیاتیات، اخلاقیات اور سیاست سے ہوتا ہوا "تنقید" تک پھیلا ہوا ہے۔ اگر افلاطون نے شاعری پر اعتراضات کی بنیاد رکھی، تو ارسطو نے ان اعتراضات کا علمی جواب دے کر "فنِ تنقید" کو ایک مستقل فن کی حیثیت عطا کی۔ارسطو 384 قبل مسیح (384 BC) میں یونان کی ایک نوآبادی استاگس (Stagira) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد "نیکوماخس" (Nicomachus) مقدونیہ کے بادشاہ امینٹاس (Amyntas) کے شاہی طبیب تھے۔طبیب کا بیٹا ہونے کی وجہ سے ارسطو کو بچپن ہی سے مشاہدے، تجربے اور سائنسی نقطہ نظر کی اہمیت کا اندازہ ہو گیا تھا۔ یہی وہ سائنسی مزاج تھا جو بعد میں ان کی ادبی تنقید میں بھی نمایاں نظر آیا، جہاں انہوں نے ادب کو جذبات کے بجائے منطق اور فنی اصولوں کی روشنی میں پرکھا۔ارسطو کے والدین ان کی نوجوانی میں ہی انتقال کر گئے تھے، جس کے بعد ان کے سرپرست نے انہیں اعلیٰ تعلیم کے لیے ایتھنز بھیج دیا۔ سال کی عمر میں ارسطو نے افلاطون کی مشہور "اکیڈمی" میں داخلہ لیا۔ وہ وہاں 20 سال تک رہے، پہلے ایک طالب علم کے طور پر اور پھر ایک استاد کے طور پر۔ارسطو اپنے استاد افلاطون کا بے حد احترام کرتے تھے، لیکن علمی معاملات میں وہ ان سے اختلاف بھی رکھتے تھے۔ ان کا مشہور قول ہے:

"افلاطون مجھے عزیز ہے، لیکن سچائی افلاطون سے زیادہ عزیز ہے۔"

347 قبل مسیح میں افلاطون کی وفات کے بعد ارسطو نے ایتھنز چھوڑ دیا اور مختلف جزائر کا سفر کیا۔ 343 قبل مسیح میں مقدونیہ کے بادشاہ فلپ نے ارسطو کو اپنے بیٹے سکندر (Alexander the Great) کی تعلیم و تربیت کے لیے مدعو کیا۔ ارسطو نے کئی سال تک سکندر کو فلسفہ، سیاست اور اخلاقیات کا درس دیا۔ جب سکندر تخت نشین ہوا، تو ارسطو واپس ایتھنز آگئے اور اپنی ایک الگ درسگاہ "لائیسیم" قائم کی۔ یہاں وہ چلتے پھرتے درس دیا کرتے تھے، اسی لیے ان کے پیروکاروں کو "مشائی" (چلنے پھرنے والے) کہا جاتا ہے۔

 ارسطو کی تنقید نگاری: بوطیقا (Poetics):ارسطو کی کتاب "بوطیقا" کو عالمی تنقید کی پہلی باقاعدہ دستاویز مانا جاتا ہے۔ یہ کتاب دراصل افلاطون کے ان اعتراضات کا جواب ہے جو انہوں نے شاعری پر کیے تھے۔

الف: نظریہ محاکات (Theory of Imitation):افلاطون نے کہا تھا کہ شاعری "نقل کی نقل" ہے، اس لیے جھوٹی ہے۔ ارسطو نے اس کی نئی تشریح پیش کی:

تخلیقی عمل: ارسطو کے نزدیک محاکات (Imitation) محض فوٹو گرافی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک "تخلیقی عمل" ہے۔ شاعر چیزوں کو ویسا نہیں دکھاتا جیسی وہ ہے، بلکہ ویسا دکھاتا ہے جیسی وہ "ہو سکتی ہے"۔

تاریخ اور شاعری کا فرق: ارسطو نے کہا کہ شاعری تاریخ سے زیادہ بلند اور فلسفیانہ ہے، کیونکہ تاریخ صرف "واقعات" بتاتی ہے جبکہ شاعری "آفاقی سچائیوں" (Universal Truths) کا اظہار کرتی ہے۔

ب: المیہ (Tragedy) کی تعریف:ارسطو نے المیہ یا ٹریجڈی کو شاعری کی سب سے اعلیٰ قسم قرار دیا۔ ان کے نزدیک المیہ کسی ایسے اہم اور مکمل عمل کی نقالی ہے جو سنجیدہ ہو اور جس کا ایک خاص حجم ہو۔ارسطو نے افلاطون کے اس اعتراض کا جواب دیا کہ ڈرامہ جذبات کو بھڑکاتا ہے۔ ارسطو کے مطابق المیہ دیکھنے سے انسان کے اندر "خوف اور رحم" کے جذبات بیدار ہوتے ہیں اور پھر ان کا اخراج (Purge) ہو جاتا ہے، جس سے ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے۔اُسے کتھارسس (Catharsis) کہتے ہیں۔

ج: المیہ کے اجزائے ترکیبی:ارسطو نے المیہ کے چھ اہم اجزاء بیان کیے:

1.    قصہ (Plot): اسے ارسطو نے ڈرامے کی "روح" قرار دیا۔ اس میں آغاز، وسط اور انجام کا ہونا ضروری ہے۔

2.    کردار (Character): کردار ایسا ہونا چاہیے جو نہ بہت زیادہ نیک ہو اور نہ بہت زیادہ بد، تاکہ قاری اس کے ساتھ ہمدردی کر سکے۔

3.    فکر (Thought): ڈرامے کے پیچھے چھپا ہوا مقصد یا فلسفہ۔

4.    زبان و بیان (Diction): الفاظ کا انتخاب اور اسلوب۔

5.    موسیقی (Song): یونانی ڈراموں میں کورس کے گیت۔

6.    آرائش (Spectacle): اسٹیج کی سجاوٹ اور منظر کشی۔

د:المیہ ہیرو اور ہیمارشیا (Hamartia):ارسطو کے مطابق المیہ ہیرو کی تباہی اس کی کسی بدی کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس کی کسی "فنی لغزش" یا "فیصلے کی غلطی" (Hamartia) کی وجہ سے ہونی چاہیے، تاکہ دیکھنے والے کے دل میں رحم پیدا ہو۔

 ارسطو کی تنقید کا اردو ادب پر اثر:اردو تنقید میں ارسطو کے نظریات کو بنیادی پتھر کی حیثیت حاصل ہے۔

  • مولانا الطاف حسین حالی: انہوں نے "مقدمہ شعر و شاعری" میں ارسطو کے نظریہ محاکات اور سادگی، اصلیت و جوش کے اصولوں سے استفادہ کیا۔ ڈاکٹر سید عبداللہ، ڈاکٹر عبادت بریلوی اور دیگر نقادوں نے ارسطو کے اصولوں کی روشنی میں اردو داستانوں اور ڈراموں کا جائزہ لیا۔

سکندرِ اعظم کی وفات کے بعد ایتھنز میں مقدونیہ مخالف جذبات ابھرے، جس کی وجہ سے ارسطو پر الحاد کا الزام لگا۔ وہ "ایتھنز کو فلسفے کے خلاف دوسری بار گناہ کرنے کا موقع نہیں دینا چاہتے تھے" (پہلا گناہ سقراط کا قتل تھا)، اس لیے وہ شہر چھوڑ کر چلے گئے اور 322 قبل مسیح میں 62 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ارسطو نے تنقید کو ایک منطقی اور سائنسی بنیاد فراہم کی۔ انہوں نے ثابت کیا کہ ادب اور فن محض وقت گزاری نہیں بلکہ انسانی زندگی کی تطہیر (Refinement) کا ایک لازمی حصہ ہیں۔ ان کی کتاب "بوطیقا" آج بھی دنیا بھر کے ادیبوں اور نقادوں کے لیے ایک بنیادی نصاب کی حیثیت رکھتی ہے۔

 

 

میتھیو آرنالڈ (Matthew Arnold)

میتھیو آرنالڈ (Matthew Arnold) انیسویں صدی کے انگلستان کے ایک ایسے بلند پایہ نقاد، شاعر اور ماہرِ تعلیم تھے جنہوں نے ادب کو محض تفریح کے بجائے "تہذیب کی روح" قرار دیا۔ وہ وکٹوریائی عہد کے سب سے بااثر نقاد مانے جاتے ہیں، جنہوں نے تنقید کو ایک سماجی اور اخلاقی فریضے کے طور پر متعارف کروایا۔میتھیو آرنالڈ 24 دسمبر 1822 کو انگلستان کے علاقے "لیلم" (Laleham) میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک نہایت پڑھے لکھے اور معزز خاندان سے تھا۔ان کے والد تھامس آرنالڈ ایک مشہور ماہرِ تعلیم، تاریخ دان اور "رگبی اسکول" کے ہیڈ ماسٹر تھے۔ ان کی سخت نظم و ضبط والی شخصیت اور بلند اخلاقی معیار کا میتھیو کی شخصیت پر گہرا اثر پڑا۔ ان کی والدہ میری پینروز ایک مذہبی اور سلجھی ہوئی خاتون تھیں۔رگبی اسکول: انہوں نے اپنے والد کے زیرِ سایہ تعلیم حاصل کی جہاں ان کے اندر کلاسیکی ادب (یونانی اور لاطینی) کا شوق پیدا ہوا۔ 1841 میں وہ آکسفورڈ یونیورسٹی گئے جہاں انہوں نے شاعری اور ادب کے مقابلوں میں انعامات جیتے۔ یہاں ان کی دوستی مشہور شاعر آرتھر ہیو کلو سے ہوئی، جس کی موت پر انہوں نے اپنی مشہور مرثیہ نما نظم "Thyrsis" لکھی۔ آرنالڈ کئی سالوں تک "انسپکٹر آف اسکولز" کے عہدے پر فائز رہے۔ اس ملازمت کے دوران انہوں نے پورے انگلستان کا سفر کیا اور عوامی زندگی و تعلیم کے مسائل کو قریب سے دیکھا۔

آرنالڈ کی زندگی محنت اور ادبی ریاضت سے عبارت تھی۔ 1851 میں انہوں نے فرانسس لوسی وائٹ مین سے شادی کی، جن سے ان کے چھ بچے ہوئے۔ معاشی ضروریات کے لیے وہ اسکولوں کے معائنے کا مشکل کام کرتے رہے، لیکن شام کے اوقات اور سفر کے دوران وہ اپنی ادبی تخلیقات اور تنقید پر کام کرتے تھے۔ 1857 میں انہیں آکسفورڈ میں "پروفیسر آف پوئٹری" منتخب کیا گیا، جو ان کی علمی قابلیت کا اعتراف تھا۔

میتھیو آرنالڈ کی تنقید نگاری:

آرنالڈ کو "نقادوں کا نقاد" کہا جاتا ہے۔ ان کی تنقید کا مقصد ادب کے ذریعے معاشرے کی اصلاح کرنا تھا۔

الف: تنقید کی تعریف اور مقصد:آرنالڈ نے اپنے مشہور مضمون "عہدِ حاضر میں تنقید کا منصب" (The Function of Criticism at the Present Time) میں تنقید کی ایک نئی سمت متعین کی۔ ان کے نزدیک:

"تنقید دنیا میں بہترین خیالات کو جاننے اور انہیں عام کرنے کی ایک بے غرض کوشش ہے۔"

وہ تنقید کو صرف ادب تک محدود نہیں رکھتے تھے بلکہ اسے زندگی کے ہر شعبے (مذہب، سیاست، معاشرت) کے لیے ضروری سمجھتے تھے۔

ب: شاعری کی اہمیت (Poetry as a Substitute for Religion):آرنالڈ کا ایک متنازع لیکن مشہور نظریہ یہ تھا کہ مستقبل میں شاعری، مذہب کی جگہ لے لے گی۔ ان کا خیال تھا کہ سائنس کے دور میں جب مذہبی عقائد کمزور ہو رہے ہیں، تو صرف شاعری ہی انسان کو اخلاقی سہارا اور تسکین فراہم کر سکتی ہے۔ انہوں نے شاعری کو "زندگی کی تنقید" (Criticism of Life) قرار دیا۔

ج: ٹچ اسٹون میتھڈ (Touchstone Method):آرنالڈ نے کسی فن پارے کو پرکھنے کے لیے ایک عملی طریقہ پیش کیا جسے "ٹچ اسٹون" یا "کسوٹی کا طریقہ" کہا جاتا ہے۔ اس طریقے کے مطابق، قاری کو چاہیے کہ وہ ماضی کے عظیم شعراء (مثلاً ہومر، دانتے، شیکسپیئر، ملٹن) کے بہترین اشعار کو اپنے ذہن میں محفوظ رکھے۔جب وہ کسی نئی نظم کو پڑھے، تو ان شاہکار اشعار سے اس کا موازنہ کرے۔ اگر نیا کلام ان پرانا معیاروں پر پورا اترے، تو وہ عظیم فن پارہ ہے۔

د: بلند آہنگی اور اعلیٰ سنجیدگی (High Seriousness):آرنالڈ کے نزدیک عظیم شاعری کے لیے دو چیزیں ضروری ہیں:

موضوع اعلیٰ ہو جس میں انسانیت کی آفاقی سچائیاں ہوں۔اسلوب اعلیٰ ہو  جو وقار اور سنجیدگی سے بھرپور ہو۔

اسی وجہ سے انہوں نے چوسر (Chaucer) کو عظیم شعراء کی فہرست سے باہر رکھا کیونکہ ان کے خیال میں چوسر کے ہاں وہ "اعلیٰ سنجیدگی" نہیں تھی جو دانتے یا ہومر کے ہاں ملتی ہے۔

ہ: فلستائیت (Philistinism) کی مخالفت:آرنالڈ نے اپنی کتاب "کلچر اور انارکی" (Culture and Anarchy) میں برطانوی متوسط طبقے کو "فلستائن" (Philistines) کا نام دیا، جو صرف مادی ترقی اور دولت کے پیچھے بھاگ رہے تھے اور جن کے پاس کوئی جمالیاتی ذوق نہیں تھا۔ انہوں نے "روشنی اور حلاوت" (Sweetness and Light) کا تصور پیش کیا، جس کا مطلب ہے کہ انسان کو علم اور خوبصورتی دونوں کی ضرورت ہے۔

 اہم تصانیف:

Essays in Criticism (First and Second Series): ان میں ان کے بہترین تنقیدی مقالات شامل ہیں۔

Culture and Anarchy (1869): سماجی اور سیاسی تنقید کا شاہکار۔

On Translating Homer: اس میں انہوں نے اسلوب (Style) پر بحث کی ہے۔

The Study of Poetry: جس میں "ٹچ اسٹون" کا نظریہ پیش کیا گیا۔

 اردو ادب پر اثرات:

اردو کے سب سے پہلے باقاعدہ نقاد مولانا الطاف حسین حالی میتھیو آرنالڈ سے بے حد متاثر تھے۔ حالی کا "مقدمہ شعر و شاعری" آرنالڈ کے اخلاقی اور اصلاحی نظریات کی بازگشت محسوس ہوتا ہے۔ آرنالڈ کی طرح حالی نے بھی شاعری کو "زندگی کے لیے مفید" ہونے کی شرط پر پرکھا اور بے مقصد شاعری کی مذمت کی۔میتھیو آرنالڈ 15 اپریل 1888 کو اچانک دل کا دورہ پڑنے سے لیورپول میں انتقال کر گئے۔ ان کی وفات پر ادبی دنیا ایک عظیم مصلح اور دور اندیش نقاد سے محروم ہو گئی۔میتھیو آرنالڈ نے تنقید کو ذاتی تعصبات سے نکال کر اسے ایک "بے غرض" (Disinterested) عمل بنایا۔ انہوں نے سکھایا کہ ایک اچھا نقاد وہ ہے جو اپنے ملک اور زبان کی حدود سے باہر نکل کر دنیا کے بہترین ادب کا مطالعہ کرے۔ ان کے نزدیک ادب کا مقصد انسان کو ایک بہتر اور مہذب شہری بنانا تھا۔

 

 

ٹی۔ ایس۔ ایلیٹ (T.S. Eliot)

ٹی ایس ایلیٹ (T.S. Eliot) بیسویں صدی کے وہ عظیم المرتبت شاعر اور نقاد ہیں جنہوں نے اردو اور انگریزی سمیت دنیا بھر کی تنقید کے دھارے کو موڑ دیا۔ انہوں نے نہ صرف شاعری کے نئے اسلوب متعارف کروائے بلکہ تنقید کو بھی ایک نئی جہت بخشی۔تھامس اسٹرنز ایلیٹ (Thomas Stearns Eliot) 26 ستمبر 1888 کو امریکہ کی ریاست میسوری کے شہر سینٹ لوئس میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک علمی اور معزز خاندان سے تھا۔ ان کے دادا ولیم گرین لیف ایلیٹ ایک مشہور پادری اور واشنگٹن یونیورسٹی کے بانیوں میں سے تھے۔ ان کے والد ہنری ویئر ایلیٹ ایک کامیاب کاروباری شخص تھے، جبکہ ان کی والدہ شارلٹ چیمپی اسٹرنز ایک شاعرہ اور سماجی کارکن تھیں۔ایلیٹ کی پرورش ایک ایسے ماحول میں ہوئی جہاں مذہب، اخلاقیات اور علم و ادب کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں میں روایت کی پاسداری اور مذہبی شعور نمایاں نظر آتا ہے۔ایلیٹ نے اپنی ابتدائی تعلیم سینٹ لوئس کے اسمتھ اکیڈمی سے حاصل کی۔ یہاں انہوں نے لاطینی، یونانی، فرانسیسی اور جرمن زبانیں سیکھیں، جس نے ان کے مستقبل کے وسیع مطالعے کی بنیاد رکھی۔1906 میں انہوں نے ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا جہاں سے انہوں نے صرف تین سال میں بی اے کی ڈگری مکمل کی۔ یہاں ان کی ملاقات مشہور فلسفی جارج سینٹیانا اور ارونگ بیبٹ سے ہوئی، جن کے اثر سے ایلیٹ کے اندر "کلاسیکیت" (Classicism) کا رجحان پیدا ہوا۔ایلیٹ نے سوربون (پیرس) میں بھی تعلیم حاصل کی جہاں انہوں نے فرانسیسی ادب اور فلسفے کا گہرا مطالعہ کیا۔انہوں نے ایف ایچ بریڈلے کے فلسفے پر اپنا تحقیقی مقالہ مکمل کیا، لیکن پہلی جنگ عظیم کے آغاز کی وجہ سے وہ زبانی امتحان (Viva) کے لیے امریکہ واپس نہ جا سکے اور یوں انہیں باقاعدہ ڈگری نہ مل سکی۔

1914 میں ایلیٹ برطانیہ منتقل ہو گئے، جسے انہوں نے اپنا مستقل گھر بنا لیا۔ 1927 میں انہوں نے برطانوی شہریت اختیار کی اور "اینگلیکن چرچ" میں شامل ہو گئے۔ ان کی ذاتی زندگی کافی پیچیدہ رہی۔ 1915 میں انہوں نے ویوین ہائی ووڈ سے شادی کی، جو ذہنی طور پر بیمار رہتی تھیں، اس شادی نے ایلیٹ کو شدید ذہنی کرب میں مبتلا رکھا۔ بعد ازاں 1957 میں انہوں نے ویلری فلیچر سے دوسری شادی کی جو ان کے آخری ایام میں بہت پرسکون ثابت ہوئی۔ایلیٹ نے کچھ عرصہ درس و تدریس کی، پھر لائیڈز بینک میں ملازمت کی اور آخر کار مشہور پبلشنگ ہاؤس "فیبر اینڈ فیبر" (Faber & Faber) سے وابستہ ہو گئے۔

ٹی ایس ایلیٹ نے اپنی تنقید کے ذریعے "رومانیت" (Romanticism) کے خلاف اعلانِ جنگ کیا۔ ان کا ماننا تھا کہ شاعری جذبات کا بے ہنگم اظہار نہیں بلکہ جذبات سے فرار کا نام ہے۔

1. روایت کا تصور (Tradition and the Individual Talent)

ایلیٹ کا سب سے اہم تنقیدی مضمون "روایت اور انفرادی صلاحیت" ہے۔ انہوں نے روایت کی ایک نئی تعریف پیش کی۔ایلیٹ کے نزدیک روایت کا مطلب اندھی تقلید نہیں بلکہ "تاریخی شعور" (Historical Sense) ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شاعر کو نہ صرف اپنے ماضی کا علم ہو بلکہ وہ اسے حال کے ساتھ جوڑ کر دیکھ سکے۔ایک عظیم فنکار وہ ہے جو ہومر سے لے کر آج تک کے پورے یورپی ادب کو ایک اکائی کے طور پر محسوس کرے۔

 

2. غیر شخصی نظریہ (Impersonal Theory of Poetry)

ایلیٹ نے اس بات پر زور دیا کہ شاعر کی شخصیت اور اس کا فن دو الگ چیزیں ہیں۔

"شاعری جذبات کا اظہار نہیں بلکہ جذبات سے فرار ہے، یہ شخصیت کا اظہار نہیں بلکہ شخصیت سے نجات ہے۔"

انہوں نے ایک سائنسی مثال دی کہ جیسے پلاٹینم کے تار کی موجودگی میں گیسوں کا ملاپ ہوتا ہے لیکن پلاٹینم خود اس عمل میں شامل نہیں ہوتا، ویسے ہی شاعر کا ذہن ایک "عمل انگیز" (Catalyst) ہے جو تجربات کو ترتیب دیتا ہے مگر اپنی ذات کو الگ رکھتا ہے۔

3. معروضی تلازمہ (Objective Correlative)

یہ اصطلاح ایلیٹ نے اپنے مضمون "ہیملیٹ اور اس کے مسائل" میں استعمال کی۔ ان کا کہنا تھا کہ فن پارہ میں کسی جذبے کے اظہار کے لیے کچھ ایسی اشیاء، حالات یا واقعات کی کڑی ہونی چاہیے جو قاری کے ذہن میں وہی جذبہ پیدا کر دے۔ ان کے نزدیک شیکسپیئر کا ڈرامہ 'ہیملیٹ' ایک فنی ناکامی تھا کیونکہ ہیملیٹ کے جذبات اس کے گرد و پیش کے حالات سے زیادہ تھے۔

4. فکری اور جذباتی ہم آہنگی (Dissociation of Sensibility)

ایلیٹ نے سترہویں صدی کے شعراء (Metaphysical Poets) کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ہاں فکر اور احساس ایک تھے۔ وہ "خیال کو اس طرح محسوس کرتے تھے جیسے گلاب کی خوشبو"۔ بعد کے دور (ملٹن اور ڈرائیڈن) میں یہ توازن بگڑ گیا جسے ایلیٹ نے "افتراقِ حسیت" کا نام دیا۔

اہم تصانیف:ایلیٹ کی تنقیدی بصیرت ان کی مندرجہ ذیل کتب میں محفوظ ہے:

The Sacred Wood (1920): جس میں ان کے ابتدائی اہم مضامین شامل ہیں۔

Selected Essays: ان کے بہترین تنقیدی مقالات کا مجموعہ۔

The Use of Poetry and the Use of Criticism: شاعری اور تنقید کے مقصد پر بحث۔

Notes Towards the Definition of Culture: کلچر اور معاشرے پر ان کے خیالات۔

ٹی ایس ایلیٹ کو 1948 میں ادب کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔ اردو ادب میں حسن عسکری، احتشام حسین اور ڈاکٹر جمیل جالبی جیسے نقاد ایلیٹ کے افکار سے بے حد متاثر رہے۔ انہوں نے اردو تنقید کو تاثراتی روئیوں سے نکال کر ایک ٹھوس علمی اور فنی بنیاد فراہم کی۔ایلیٹ نے سکھایا کہ تنقید صرف عیب جوئی نہیں بلکہ "فن پارے کی تشریح اور ذوق کی تہذیب" ہے۔ٹی ایس ایلیٹ ایک ایسے نقاد تھے جنہوں نے ادب کو محض تفریح نہیں بلکہ ایک سنجیدہ "ڈسپلن" بنا دیا۔ ان کی تحریریں آج بھی ادب کے طالب علموں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ان کا انتقال 4 جنوری 1965 کو لندن میں ہوا، لیکن ان کے نظریات آج بھی زندہ ہیں۔

 

سیگمنڈ فرائڈ (Sigmund Freud)

سیگمنڈ فرائڈ (Sigmund Freud) بنیادی طور پر ایک ماہرِ نفسیات اور "تحلیلِ نفسی" (Psychoanalysis) کے بانی تھے، لیکن ان کے نظریات نے بیسویں صدی کے ادب اور تنقید پر جو گہرے اثرات مرتب کیے، ان کی مثال نہیں ملتی۔ فرائڈ نے انسانی ذہن کی تہوں کو کھول کر ادیب، فنکار اور فن پارے کے درمیان ایک نیا رشتہ دریافت کیا۔سیگمنڈ فرائڈ 6 مئی 1856 کو سلطنتِ آسٹریا کے علاقے موراویا (جو اب جمہوریہ چیک کا حصہ ہے) کے ایک قصبے "فرائبرگ" میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک یہودی خاندان سے تھا۔ ان کے والد جیکب فرائڈ اون کے تاجر تھے، جبکہ ان کی والدہ امالیہ فرائڈ اپنے شوہر سے کافی کم عمر اور ذہین خاتون تھیں۔فرائڈ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے اور بچپن ہی سے غیر معمولی ذہانت کے مالک تھے۔ ان کی والدہ انہیں "سنہرا بیٹا" کہتی تھیں اور خاندان کی تمام تر توجہ ان کی تعلیم و تربیت پر مرکوز تھی۔فرائڈ جب چار سال کے تھے، تو ان کا خاندان مالی حالات کی وجہ سے ویانا منتقل ہو گیا۔ فرائڈ کی زندگی کے اگلے 80 سال اسی شہر میں گزرے۔ فرائڈ نے "جمنازیم" (ہائی اسکول) میں شاندار کارکردگی دکھائی اور آٹھ سال تک اپنی کلاس میں اول رہے۔ انہوں نے یونانی، لاطینی، عبرانی، جرمن، فرانسیسی اور انگریزی زبانوں پر عبور حاصل کیا۔ میں انہوں نے ویانا یونیورسٹی میں طب (Medicine) کے شعبے میں داخلہ لیا۔ دورانِ تعلیم وہ حیاتیات (Biology) اور فزیالوجی میں گہری دلچسپی لینے لگے۔ 1881 میں انہوں نے ایم ڈی (M.D) کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے ابتدا میں اعصابی نظام (Nervous System) پر تحقیق کی اور ویانا کے جنرل ہسپتال میں مختلف شعبوں میں کام کیا۔فرائڈ کی زندگی محنت اور تجسس سے عبارت تھی۔ 1886 میں انہوں نے "مارتھا برنیس" سے شادی کی، جن سے ان کے چھ بچے ہوئے (ان کی سب سے چھوٹی بیٹی انا فرائڈ خود ایک نامور ماہرِ نفسیات بنیں)۔ میں فرائڈ پیرس گئے جہاں انہوں نے مشہور اعصابی معالج ژاں مارٹن چارکوٹ سے ہسٹیریا (Hysteria) کے علاج کے لیے "سمونی عمل" (Hypnosis) سیکھا۔ یہیں سے ان کے ذہن میں لاشعور کا تصور پختہ ہوا۔ ویانا واپسی پر انہوں نے جوزف بروئیر کے ساتھ مل کر مریضوں کے علاج کے لیے "کتھارسس" (Catharsis) اور "آزاد تلازمہ خیال" (Free Association) کے طریقے وضع کیے، جس نے آگے چل کر تحلیلِ نفسی کی بنیاد رکھی۔

فرائڈ کے بنیادی نظریات (ادبی تنقید کی بنیاد)

فرائڈ کی تنقید کوئی روایتی ادبی تنقید نہیں ہے بلکہ یہ انسانی شخصیت کے مطالعے سے نکلی ہے۔ ان کے تین اہم نظریات نے ادب کو بدل کر رکھ دیا:

الف: ذہن کی ساخت (Id, Ego, Super-Ego):فرائڈ نے انسانی ذہن کو تین حصوں میں تقسیم کیا:

اِڈ (Id): یہ جبلتوں اور حیوانی خواہشات کا مرکز ہے جو صرف لذت چاہتی ہے۔

ایگو (Ego): یہ شعور اور حقیقت کا نام ہے جو اِڈ کی خواہشات کو سماجی حدود میں رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔

سپرا ایگو (Super-Ego): یہ ضمیر اور اخلاقیات کا وہ نظام ہے جو معاشرے اور والدین سے ورثے میں ملتا ہے۔

ب: لاشعور کا تصور (The Unconscious)

فرائڈ کے نزدیک انسانی ذہن ایک "برفانی تودے" (Iceberg) کی مانند ہے جس کا تھوڑا سا حصہ سطح پر (شعور) ہے اور بڑا حصہ پانی کے نیچے (لاشعور) چھپا ہوا ہے۔ ادیب اپنے لاشعور میں دبی ہوئی خواہشات کو فن پارے کی شکل میں باہر نکالتا ہے۔

ج: ایڈی پس کمپلیکس (Oedipus Complex)

یہ فرائڈ کا سب سے متنازع لیکن مشہور نظریہ ہے۔ یونانی ڈرامے "ایڈی پس" کے حوالے سے فرائڈ نے دعویٰ کیا کہ لڑکا لاشعوری طور پر اپنی ماں کی طرف کشش محسوس کرتا ہے اور باپ کو اپنا حریف سمجھتا ہے۔ اس نظریے نے شیکسپیئر کے 'ہیملیٹ' جیسے عظیم شاہکاروں کی نئی تفہیم ممکن بنائی۔

فرائڈ کی ادبی تنقید نگاری

فرائڈ نے باقاعدہ طور پر کئی مضامین لکھے جو براہِ راست ادب اور فن پر تھے۔ ان کا مشہور مضمون "تخلیقی فنکار اور خیالی دنیا" (Creative Writers and Day-Dreaming) ادبی تنقید میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔فرائڈ کا خیال ہے کہ ادیب اور بچہ ایک جیسے ہوتے ہیں۔ جس طرح بچہ کھیل کے ذریعے اپنی خواہشات پوری کرتا ہے، اسی طرح ادیب "خوابِ بیداری" (Day-dreaming) کے ذریعے اپنی ان محرومیوں کا ازالہ کرتا ہے جو اسے حقیقی زندگی میں حاصل نہیں ہو پاتیں۔فرائڈ کے نزدیک فن کار اپنی جنسی یا جارحانہ جبلتوں کو "اعلیٰ نصب العین" (Sublimation) کی طرف موڑ دیتا ہے۔ فن پارہ دراصل ادیب کے نفسیاتی الجھاؤ کا حل ہوتا ہے۔ قاری جب وہ فن پارہ پڑھتا ہے تو اسے بھی ایک قسم کی نفسیاتی لذت اور سکون (Catharsis) حاصل ہوتا ہے۔فرائڈ نے "لیونارڈو ڈاونچی" اور "دوستوفسکی" جیسے عظیم فنکاروں کی زندگیوں کا نفسیاتی تجزیہ کیا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ کسی بھی فن پارے کو سمجھنے کے لیے فنکار کے بچپن کے تجربات اور اس کے والدین کے ساتھ تعلقات کو سمجھنا ضروری ہے۔

 اردو ادب پر فرائڈ کے اثرات:

اردو ادب میں فرائڈ کے نظریات نے ایک زبردست ہلچل پیدا کی۔ سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی، اور ممتاز مفتی کے ہاں جنسیات اور لاشعور کی جو تہیں ملتی ہیں، وہ براہِ راست فرائڈ کے زیرِ اثر ہیں۔اردو میں محمد حسن عسکری (ابتدائی دور)، میرا جی، اور ڈاکٹر سلیم اختر نے فرائڈ کے نظریات کو تنقید میں استعمال کیا۔ ڈاکٹر سلیم اختر کی کتاب "ادب اور لاشعور" اس سلسلے کی اہم کڑی ہے۔1938 میں جب نازی جرمنی نے آسٹریا پر قبضہ کیا، تو فرائڈ (جو یہودی تھے) کے لیے وہاں رہنا خطرناک ہو گیا۔ ان کی کتابیں سرِ عام جلائی گئیں۔ وہ ہجرت کر کے لندن چلے گئے۔ وہ طویل عرصے تک جبڑے کے کینسر میں مبتلا رہے اور بالآخر 23 ستمبر 1939 کو لندن میں وفات پائی۔سیگمنڈ فرائڈ نے تنقید کو "تخلیق کے بطن" میں جھانکنا سکھایا۔ انہوں نے بتایا کہ الفاظ کے پیچھے چھپے ہوئے معنی دراصل انسان کے لاشعوری محرکات ہوتے ہیں۔ اگرچہ آج کے دور میں فرائڈ کے تمام نظریات سے اتفاق نہیں کیا جاتا، لیکن یہ حقیقت ہے کہ ان کے بغیر جدید ادبی تنقید اور نفسیاتی ناول نگاری کا تصور ناممکن ہے۔"فرائڈ نے انسان کو یہ بتایا کہ وہ اپنے ہی گھر (ذہن) کا مالک نہیں ہے، بلکہ اس کے اندر ایک اور دنیا (لاشعور) آباد ہے جو اس کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔"

 

 

آئی۔ اے۔ رچرڈز (I.A. Richards)

آئی اے رچرڈز (I.A. Richards) بیسویں صدی کے ان چند عظیم نقادوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے تنقید کو محض ذاتی پسند و ناپسند کے دائرے سے نکال کر ایک باقاعدہ "سائنس" اور "نفسیاتی تجزیے" کی شکل دی۔ انہیں "جدید تنقید کا باوا آدم" بھی کہا جاتا ہے۔آئیور آرمسٹرانگ رچرڈز (Ivor Armstrong Richards) 26 فروری 1893 کو انگلستان کے علاقے چیشائر (Cheshire) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ولیم آرمسٹرانگ رچرڈز ایک کیمیادان (Chemist) تھے۔ بچپن ہی سے رچرڈز کی صحت کچھ ناساز رہتی تھی، جس کی وجہ سے انہیں اپنی ابتدائی زندگی میں کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ان کی ذہنی جلا اور علمی پیاس نے انہیں کبھی رکنے نہ دیا۔رچرڈز کی تعلیم و تربیت برطانیہ کے بہترین تعلیمی اداروں میں ہوئی۔ انہوں نے اپنی اعلیٰ تعلیم کیمبرج یونیورسٹی سے حاصل کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کا بنیادی مضمون "ادب" نہیں بلکہ "اخلاقی علوم" (Moral Sciences) تھا، جس میں فلسفہ اور نفسیات شامل تھے۔فلسفے اور نفسیات کے گہرے مطالعے ہی نے رچرڈز کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ جب ہم کوئی شعر پڑھتے ہیں، تو ہمارے ذہن کے اندر کیا تبدیلی آتی ہے؟ یہی سوال ان کی مستقبل کی تنقید کی بنیاد بنا۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد رچرڈز نے کیمبرج میں انگریزی اور اخلاقی علوم کے استاد کے طور پر کام شروع کیا۔ 1926 میں انہوں نے ڈوروتھی پیلی (Dorothy Pilley) سے شادی کی، جو خود ایک ماہرِ کوہ پیما اور مصنفہ تھیں۔ ان دونوں نے مل کر دنیا بھر کے سفر کیے، بشمول چین اور امریکہ۔ رچرڈز نے 1920 اور 1930 کی دہائیوں میں چین کی سنگھوا یونیورسٹی میں پڑھایا۔ بعد ازاں وہ ہارورڈ یونیورسٹی، امریکہ چلے گئے جہاں وہ کئی سالوں تک پروفیسر رہے۔رچرڈز نے سی کے اوگڈن کے ساتھ مل کر "بیسک انگلش" پر کام کیا تاکہ انگریزی کو ایک بین الاقوامی زبان کے طور پر آسان بنایا جا سکے۔

آئی اے رچرڈز کی تنقید نگاری

رچرڈز کی تنقید کا اصل مقصد یہ دریافت کرنا تھا کہ ادب انسانی ذہن پر کیا اثر ڈالتا ہے۔ انہوں نے تنقید کو "نفسیات کی ایک شاخ" قرار دیا۔ عملی تنقید (Practical Criticism)یہ رچرڈز کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ انہوں نے اپنے طلباء کو کچھ اشعار دیے جن پر نہ تو شاعر کا نام تھا اور نہ ہی کوئی تاریخی پس منظر۔ انہوں نے دیکھا کہ طلباء ان اشعار کو سمجھنے میں بری طرح ناکام رہے۔ اس تجربے سے انہوں نے یہ ثابت کیا کہ:قاری کے اپنے تعصبات (Prejudices) شعر کو سمجھنے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔لفظ کے لغوی معنی اور شعری معنی میں فرق ہوتا ہے۔

زبان کے دو استعمال (Two Uses of Language) رچرڈز نے زبان کے استعمال کو دو حصوں میں تقسیم کیا:

حقیقت نگارانہ استعمال (Scientific Use): جہاں الفاظ کا مقصد صرف معلومات دینا ہوتا ہے (جیسے سائنس کی کتاب میں)۔

جذباتی استعمال (Emotive Use): جہاں الفاظ کا مقصد معلومات دینا نہیں بلکہ قاری کے اندر ایک خاص جذباتی کیفیت یا ردعمل پیدا کرنا ہوتا ہے۔ شاعری میں زبان کا یہی استعمال ہوتا ہے۔

 نظریہ قدر (Theory of Value)رچرڈز کے نزدیک وہ فن پارہ "قیمتی" ہے جو انسان کے اندرونی انتشار کو ختم کر کے اس کی متضاد جبلتوں میں توازن (Equilibrium) پیدا کر دے۔ ان کا مشہور قول ہے:

"شاعری انسان کو مکمل کرنے کا ایک ذریعہ ہے کیونکہ یہ ہمارے جذبات کو ترتیب دیتی ہے۔"

معنوی سطحیں (Four Aspects of Meaning)رچرڈز نے کسی بھی جملے یا شعر کے معنی کو چار حصوں میں تقسیم کیا:

Sense (حس): لفظ کا لغوی مطلب۔

Feeling (احساس): شاعر کا اپنے موضوع کے بارے میں جذبہ۔

Tone (لہجہ): شاعر کا اپنے قاری کے ساتھ رویہ۔

Intention (مقصد): وہ اثر جو شاعر پیدا کرنا چاہتا ہے۔

اہم تصانیف:آئی اے رچرڈز کی ان کتب نے جدید تنقید کا نقشہ بدل دیا:

The Foundations of Aesthetics (1922): جمالیات کے اصول۔

The Meaning of Meaning (1923): (اوگڈن کے ساتھ) زبان اور معنی کا رشتہ۔

Principles of Literary Criticism (1924): یہ کتاب جدید تنقید کی انجیل کہلاتی ہے۔

Practical Criticism (1929): عملی تنقید کے تجربات اور نتائج۔

اردو ادب پر اثرات:اردو تنقید میں رچرڈز کے اثرات بہت گہرے ہیں۔

اردو میں نفسیاتی تنقید کا جو رجحان پیدا ہوا، اس میں رچرڈز کا بڑا ہاتھ ہے۔محمد حسن عسکری اور ڈاکٹر عبادت بریلوی: ان نقادوں نے رچرڈز کے "نظریہ قدر" اور "عملی تنقید" سے بھرپور استفادہ کیا۔ اردو کے کئی نقادوں نے یہ مانا کہ شعر کی جانچ پرکھ کے لیے صرف شاعر کا نام کافی نہیں، بلکہ متن (Text) کا نفسیاتی تجزیہ ضروری ہے۔آئی اے رچرڈز اپنی عمر کا آخری حصہ گزارنے کے بعد 7 ستمبر 1979 کو کیمبرج، انگلستان میں وفات پا گئے۔ وہ مرتے دم تک علم و ادب کی خدمت میں مصروف رہے۔آئی اے رچرڈز نے تنقید کو "تاثرات" کی غلامی سے آزاد کر کے ایک علمی وقار عطا کیا۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ ایک اچھا نقاد وہ ہے جو نفسیات دان بھی ہو اور زبان کے اسرار و رموز سے بھی واقف ہو۔ آج کی "جدیدیت" (Modernism) اور "نئی تنقید" (New Criticism) مکمل طور پر رچرڈز کی مرہونِ منت ہے۔


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.