Notes: B.A,Second Year Sem-III(Minor)

Swami Ramanand Teerth Marathwada University, Nanded.

سوامی رامانند تیر تھ مراٹھواڑہ یو نیور سٹی ، ناندیڑ۔

 Faculty of Humanities

شعبہ انسانیات

Effective from Academic year 2025

روبہ عمل تعلیمی سال2025-

B.A. Second Year, Semester- III

بی۔اے۔سال دوّم(میقات سوّم)

Subject: DSM (Minor)-Urdu

Paper Code: HURDMT1201, Title: Ghiar Afsanvi Nasr

مائنر اُردو   ( غیر افسانوی ادب)

 

 

غیر افسانوی ادب کا تعارف

انسان اپنے جذبات، احساسات اور خیالات کے اظہار کے لئے کوئی نہ کوئی واسطہ ڈھونڈتا رہا ہے۔ خلاق ذہن کے افراد مسرت و غم محبت و نفرت، ذوق و شوق اور حسرت و آرزو، غرض ہر طرح کے باطنی خواہشات و جذبات کے اظہار کے لئے فن کا سہارا لیتے ہیں۔ فن مہذب قوم کے ارتقا کی تاریخ کا لوازمہ ہے۔ ادب بھی فنون لطیفہ کی ایک اہم شاخ ہے۔ ادب حسن خیال، مواد کی ترتیب اور الفاظ کے مخصوص استعمال کا حسین اظہار ہے۔ زندگی کا ہر پل ، ہر لمحہ اور ہر واقعہ ادب کا موضوع بن سکتا ہے۔ تخلیقی عمل میں دنیان کی حقیقتوں، مسائل، تجربات، مشاہدات اور احساسات کو قصہ پن کے بغیر ادب اور فن کے تقاضوں کی تکمیل کے ساتھ پیش کیا جائے ایسی نثر ” غیر افسانوی نثر“ کہلاتی ہے۔ غیر افسانوی ادب میں قصہ بیان کرنے کی بجائے ادیب زندگی میں پیش حقیقی واقعات پر اپنے احساسات، اختیار کردہ مخصوص صنف کی ہیئت کے دائرہ کار میں پیش کرتا ہے۔

قصہ گوئی کا فن قدیم ترین فن ہے۔ داستانوں سے ناول تک ہمارے ادب نے ایک طویل سفر طے کیا اور طویل عرصے تک اردو ادب پر افسانوی نثر کا غلبہ رہا۔ داستانوں کی صورت میں اردو کا افسانوی ادب برسوں ترقی کرتارہا۔ ہندوستان میں انگریزوں کی آمد اور جدید علوم وفنون اور نئے خیالات کے فروغ کے نتیجے میں غیر افسانوی ادب ترقی کرنے لگا۔ فورٹ ولیم کالج کلکتہ اور فورٹ سینٹ جارج کالج مدراس کے توسط سے افسانوی ادب کو فروغ حاصل ہوا اور اس سے قبل اردو ادب پر داستانوں کی حکمرانی رہی لیکن ۱۸۲۴ء میں دلی کالج کے قیام کے بعد غیر افسانوی ادب کی طرف توجہ دی گئی۔ ماسٹر رام چندر اور ماسٹر پیارے لال نے پہلی مرتبہ ہر قسم کی حقیقتوں کی موضوعاتی وضاحت کی جانب توجہ دی۔ جس کی وجہ سے مضمون نگاری“ کی صنف کا آغاز ہوا۔ غیر افسانوی نثر کی شروعات میں مضمون کو اولیت کا درحصہ حاصل ہے۔ مضمون نگاری کے علاوہ ”سفر نامہ“ کی رویت کا بھی آغاز ہوا۔چنا نچہ "احمد یوسف کمبل پوش" نے عجائبات فرنگ لکھ کر غیر افسانوی ادب میں ایک نئے ادب کا آغاز کیا۔ مرزا غالب کے ابتدائی خطوط کی وجہ سے غیر افسانوی ادب کی نمائندگی ۱۸۵۷ء سے قبل ممکن ہو سکی۔ جس کے بعد سے غیر افسانوی اصناف آپ بیتی سوانح اور خود نوشت سوانح کو فروغ حاصل ہونے لگا۔ آج غیر افسانوی ادب میں نثر کی معروف اور غیر معروف کی بے شمار اصناف رائج ہو چکی ہیں۔ ان اصناف کے توسط سے ادب حقائق زمانہ سے آشنا ہوا۔ غیر افسانوی ادب کے تحت جو موضوعات آتے ہیں وہ حسب ذیل ہیں:

خاکہ ،مضمون ،مقالہ، خود نوشت (آپ بیتی)۔سوانح،طنز و مزاح، انشائیہ، پورتاثر۔

 

مکتوب نگاری کی تعريف و فن:

انسان کو سماجی حیوان (Social Animal) کہا جاتا ہے، وہ اپنی ضروریات پوری کرنے اور زندگی کو خوشگوار بنانے کے لیے دوسروں سے رابطہ کرنے پر مجبور ہوتا ہے، قریبی لوگوں سے رو برو بات کر کے اپنی ضروریات کو پورا اور اپنے ذہن و دل کو ہلکا کر لیتا ہے لیکن دور کے لوگوں سے رابطہ قائم کرنے کے لیے ابلاغ عام کے مختلف ذرائع کا سہارا لیتا ہے، آج الکٹرانک میڈیا نے تمام دنیا کو ایک خاندان میں تبدیل کر دیا ہے اور ایک دوسرے سے رابطہ قائم کرنا آسان ہو گیا ہے، پرانے زمانے میں رابطہ کا ذریعہ خط ہی تھا ، لوگ نجی ضروریات کے تحت یا کاروباری معاملات نپٹانے کے لیے خطوط کا سہارا لیا کرتے تھے، خطوط کے ذریعہ رابطہ مختلف اغراض کے تحت قائم کیا جاتا ہے، وہ ضروریات  بھی ہو سکتی ہیں اور ان سبھی  ، اغراض ہی کے پیش نظر خطوط کی مختلف قسمیں وجود میں آئی ہیں جیسے نجی خطوط، کا روباری خطوط اور سرکاری خطوط و غیرہ  خطوط بھی مختلف طرح کے ہوتے ہیں ، ایک تو عام لوگوں کے خطوط ہوتے ہیں جن کا مقصد عام طور پر وقت گزاری یا اپنے جذبات و احساسات میں مکتوب الیہ کو شریک کرنا مقصود ہوتا ہے، یہ خطوط بڑے ہلکے پھلکے انداز میں لکھے جاتے ہیں، ان خطوط کا دائرہ اثر مکتوب نگار اور مکتوب الیہ تک محدود رہتا ہے، بعض نجی خطوط ایسے ہوتے ہیں جن کا دائرہ بڑا وسیع ہوتا ہے جو لکھے تو جاتے ہیں کسی مخصوص وقت اور زمانے میں لیکن وہ مکتوب الیہ کے ساتھ ساتھ آنے والی نسلوں کے لیے بھی قیمتی ورثہ ثابت ہوتے ہیں ، یہ عالموں، دانشوروں ،صوفیوں اور سیاسی رہنماؤں کے خطوط ہوتے ہیں جن میں ایسی باتیں بھی ہوتی ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیےروشنی کا سر چشمہ ثابت ہوتی ہیں، علمی وادبی سطح پر جب خطوط نگاری کی بات ہوتی ہے تو ان سے عام طور پر یہی خط مراد ہوتے ہیں اور ہماری بحث کا تعلق بھی بڑی حد تک اسی قسم کے خطوط سے ہے۔

اس طرح مکتوب نگاری ایک اہم نثری صنف ادب ہے، منظوم خطوط بھی ملتے ہیں قافیہ ور دلیف اور دوسری پابندیوں کی وجہ سے ایسے خطوط میں بے تکلفی اور بے ساختہ پن کو باقی رکھنا ممکن نہیں ، جو مکتوب نگاری کے لیے لازمی ہے، خط مکتوب نگار کی شخصیت کا آئینہ ہوتے ہیں جس میں اس کے اصل خدو خال دیکھے جا سکتے ہیں کیونکہ ان خطوط میں وہ نجی باتیں بھی سامنےکی شخصیت کا آئینہ ہوتے ہیں جس میں اس کے اصل خدو خال دیکھے جاسکتے ہیں کیونکہ ان خطوط میں وہ بھی باتیں بھی سامنےآجاتی ہیں جن کے اظہار میں عام طور سے تکلف برتا جاتا ہے۔

مکتوب نگاری میں فطری بے ساختہ پن کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، خطوط مکتوب نگار کی شخصیت کا آئینہ ہوتے ہیں جس میں اس کے اصلی خدو خال دیکھے جاسکتے ہیں ، خطوط میں وہ بچھی باتیں بھی سامنے آجاتی ہیں جن کے اظہار میں عام طور پر تکلف برتا جاتا ہے ، بے جا تکلف ، مصنوعی پن اور جبری احتیاط سے خطوط کی دلآویزی کم ہو جاتی ہے اور خطوط کے ذریعہ شخصیات کی نفسیات اور ان کے مزاج کا پتہ لگانے میں دشواری ہوتی ہے ، آل احمد سرور اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اچھا خط وہ کہا جا سکتا ہے جس میں بے تکلفی ، بے ساختگی ، خلوص ، فطری رنگ، انفرادیت اور ذاتی تاثرات کی جھلک ہو اس طرح خطوط میں سادگی و برجستگی کچھ اس طرح ہونی چاہیے جیسے مکتوب الیہ سامنے موجود ہو اور اس سے گفتگو ہو، اسی لیے مراسلہ کومکالمہ اور خطوط کو نصف ملاقات کہا جاتا ہے، غالب کے خطوط اس کی بہترین مثال ہیں۔ مخطوط سادہ اور ہلکے پھلکے انداز میں ہونے چاہئیں، علمی و ادبی باتیں سرسری طور پر آجائیں تو مضائقہ نہیں ، البتہ فلسفیانہ مباحث اور خشک موضوعات سے متعلق تفصیلات کا خط متحمل نہیں ہو سکتا، ان چیزوں سے محط محط نہیں رہتا بلکہ وہ ایک مقالے کی شکل اختیار کر لیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ مولانا آزاد کے بیشتر خطوط کو اہل نظر خط کے بجائے انشائیہ یا مقالہ قرار دیتے،مکتوب نگار کو مکتوب الیہ کی ذہنی سطح کو سامنے رکھتے ہوئے خط میں اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہیے، اسی طرح خط لکھتے ہوئے موقع محل کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے، اگر ان باتوں کا لحاظ نہ رکھا جائے تو خط کا مقصد فوت ہو جاتا ہے، خط کے ذریعہ مکتوب نگار مکتوب الیہ کو اپنے خیالات اور جذبات و احساسات میں شریک کرنا چاہتا ہے، ایسا اسی صورت میں ممکن ہے کہ دونوں کی ذہنی اور جذباتی سطح پر بڑی حد تک یکسانیت ہو۔

خطوط میں اختصار سے کام لینا چاہیے، اگر مکتوب نگار کو زبان و بیان پر قدرت حاصل ہوتی ہے تو وہ کم الفاظ میں بہت کچھ کہہ سکتا ہے، البتہ اگر مکتوب نگار کے انداز تحریر میں شگفتگی اور سحر آفرینی ہو تو طویل خطوط بھی بار خاطر نہیں ہوتے اور مکتوب الیہ الفاظ کے سحر میں یوں کھو جاتا ہے کہ طول بیان سے اکتاہٹ کے بجائے ایک طرح کی نشاطی کیفیت طاری ہو جاتی ہے، مولا نا آزاد کے طویل خطوط اسی ضمن میں آتے ہیں کہ طوالت کے باوجود مولانا آزاد کی رنگینی اسلوب اور سحر آفرینی کی وجہ سے اکتاہٹ کا ذرا بھی احساس نہیں ہونے پاتا، البتہ مولانا آزاد کی سحر آفرینی اور جادو نگاری کم ہی لوگوں کو نصیب ہے لہذا اختصار پسندی ہی میں مکتوب نگاراور مکتوب الیہ دونوں ہی کی عافیت ہے۔خطوط میں لطافت کا عنصر ہونا چاہیے تا کہ پڑھنے والے پر خوشگوار اثر مرتب ہو، اگر مکتوب نگار حس لطیف کا مالک ہوتا ہے تو اپنی خوش مذاقی سے مکتوب الیہ کے ذہنی تناؤ اور بے کیفی کو دور کر کے خوشگوار لمحات عطا کر سکتا ہے ، خطوط ایک دوسرے کے دکھ درد با ملنے کا اہم ذریعہ ہیں لہذا اس میں ایک تہذیبی رچاؤ اور دل کو چھو لینے والی کیفیت ہونی چاہیے تا کہ پڑھنے والا اپنے چہرے کا زاویہ بگاڑنے کے بجائے دوبارہ پڑھنے پر مجبور ہو ، یہ عناصر خوش مذاق لوگوں کے خطوط میں اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔

اجزائے ترکیبی:                       ایک کامیاب خط میں درج ذیل عناصر ضروری ہیں:

1.     مقام اور تاریخ: خط لکھنے کی جگہ اور تاریخ

  1. مخاطب کا نام اور خطاب : احترام یا تعلق کے مطابق
  2. تمہید : خط کا آغاز، خیر خیریت دریافت کرنا
  3. اصل مضمون: مقصدِ خط کی وضاحت
  4. اختتامیہ: دعا یا نیک خواہشات کے الفاظ
  5. دستخط : خط لکھنے والے کا نام

خطوط نگاری کی فنّی خصوصیات:

خطوط نگاری کا فن صرف پیغام رسانی تک محدود نہیں، بلکہ یہ زبان، انداز، ترتیب اور جذبات کے حسن سے بھرپور ایک ادبی صنف بھی ہے۔ ایک اچھے خط میں درج ذیل فنّی خصوصیات پائی جاتی ہیں:

سلاست اور روانی:     خط کی زبان آسان، رواں اور دل نشین ہو تاکہ پڑھنے والا بلا رکاوٹ مفہوم سمجھ سکے۔

الفاظ کا مناسب انتخاب: الفاظ موقع، تعلق اور موضوع کے مطابق منتخب کیے جائیں۔ ذاتی خطوط میں محبت بھرے اور نرم الفاظ، جبکہ سرکاری خطوط میں رسمی اور واضح الفاظ کا استعمال ضروری ہے۔

وضاحت اور جامعیت: خط میں مقصد صاف اور واضح ہو، غیر ضروری طوالت یا مبہم جملوں سے پرہیز کیا جائے۔

جذبات کی سچائی:     خط میں مصنّف کے جذبات اور خیالات خلوص اور سچائی کے ساتھ جھلکنے چاہئیں تاکہ قاری پر اثر ڈال سکیں۔

ترتیب اور تنظیم:     خط کے اجزائے ترکیبی (مقام، تاریخ، مخاطب، تمہید، اصل مضمون، اختتام، دستخط) مناسب ترتیب میں ہوں تاکہ تحریر میں حسن پیدا ہو۔

تعلق کے مطابق لہجہ: دوست یا عزیز کو لکھے گئے خط کا لہجہ بے تکلف اور محبت بھرا ہوتا ہے، جبکہ سرکاری یا تجارتی خط میں سنجیدگی اور رسمی انداز اختیار کیا جاتا ہے۔

 اختصار اور حسنِ بیان: ضروری بات مختصر اور خوبصورت انداز میں بیان ہو، نہ ضرورت سے زیادہ تفصیل ہو اور نہ ہی بات ادھوری رہے۔

 املاء اور صرف و نحو کی درستی:    خط میں زبان کی صحت کا خیال رکھا جائے تاکہ تحریر معیاری اور بامعنی رہے۔

 ادبی حسن:                       ادبی خطوط میں تشبیہات، محاورات، خوبصورت تراکیب اور شگفتہ جملوں سے تحریر کو دلکش بنایا جاتا ہے۔

 قاری سے قربت کا احساس:      ایک اچھا خط پڑھتے وقت ایسا لگے جیسے لکھنے والا براہِ راست بات کر رہا ہو، یہ قربت خط کو مؤثر بناتی ہے۔

 

آغاز وارتقا:

سماجی تقاضوں کے تحت خطوط بہت پہلے سے لکھے جاتے رہے ہیں لیکن مطبوعہ خطوط کا آغا ز تقر یباڈیڑھ سو سال پہلے ۱۸۶۵ء میں ہوا، یہ مطبوعہ خط مرزا غالب کا تھا، اس کے بعد ۱۸۶۶ء میں رجب علی بیگ سرور کے خطوط کا مجموعہ ” انشائے سرور اور غلام غوث بے خبر کے خطوط کا مجموعہ ” فغان بے خبر کے نام سے شائع ہوا، ابتدائی دور میں شائع ہونے والے دوسرے خطوط کے مجموعوں میں واجد علی شاہ ،سرسید احمد خاں، امیر مینائی، داغ دہلوی محسن الملک اور محد حسین آزاد کے مکاتیب کے مجموعے شامل ہیں، اس کے بعد مکتوب نگاروں کا دوسرا دور شروع ہوتا ہے جس میں ڈپٹی نذیر احمد ،مولا ناشبلی نعمانی ،مولانا حالی، اکبرالہ آبادی، شاد عظیم آبادی، مهدی افادی منشی پریم چند اور علامہ اقبال کے مکاتیب کے مجموعے خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں،ان مجموعوں کی اشاعت سے جہاں مکتوباتی ادب کو فروغ حاصل ہوا و ہیں اردوزبان کو ارتقائی مدارج طے کرنے میں بھی مدد ملی۔ سید سلیمان ندوی ( برید فرنگ)، نیاز فتح پوری ( مکتوب نیاز )، مولانا عبدالماجد دریابادی ( مکتوبات ماجدی ) ، جوش ملیح آبادی ( روح مکاتیب ) ، جگر مراد آبادی (مکاتیب گل ) ، صفیہ اختر ( حرف آشنا اور زیرلب ) سے بھی مکتو باقی ادب کے سرمائے میں قابل قدر اضافہ ہوا، منٹو، میراجی ، رشید احمد صدیقی ، آل احمد سرور، وزیر آغا، ابن انشاء، فیض ، سجاد ظہیر اور ممتاز شیریں وغیرہ کے مکتوبات بھی منظر عام پر آچکے ہیں۔

ان مجموعوں کی اشاعت سے جہاں مکتوباتی ادب کو فروغ حاصل ہواہ ہیں اردو زبان کوارتقائی مدارج طے کرنے میں بھی مدولی۔ سید سلیمان ندوی ( برید فرنگ)، نیاز فتح پوری ( مکتوب نیاز ) ،مولانا عبدالماجد دریا بادی ( مکتوبات ماجدی ) ، جوش ملیح آبادی ( روح مکاتیب ، جگر مراد آبادی (مکاتیب گل ) ، صفیہ اختر ( حرف آشنا اور زیرلب ) سے بھی مکتوباتی ادب کے سرمائے میں قابل قدر اضافہ ہوا، منٹو، میراجی ، رشید احمد صدیقی ، آل احمد سرور، وزیر آغا، ابن انشاء، فیض ،سجاد ظہیر اور ممتاز شیریں وغیرہ کے مکتوبات بھی منظر عام پر آچکے ہیں۔ مذکورہ بالا مکتوب نگاروں کے مکتوبات میں ان کے ذوق و مزاج کا عکس موجود ہے اور ہر ایک کی انفرادیت نمایاں ہے لیکن دور اول کے مکتوب نگاروں میں غالب اور دور ثانی کے مکتوب نگاروں میں شبلی اور مولانا آزاد کے خطوط کو جو مقبولیت حاصل ہوئی وہ کسی اور مکتوب نگار کو نہیں حاصل ہو سکی ، ان مکتوب نگاروں نے مکتوب نگاری کی روایت کی توسیع میں نمایاں کردار ادا کیا ، ان کے خطوط میں جہاں سادہ و پر کار اور شگفتہ در تکمین اسلوب کی وجہ سے ایک منظر داد بی شان موجود ہے وہیں ان میں ایک علمی فضا، عصری تقاضوں کا احساس اور تہذیبی نقوش کی جگمگاہٹ بھی موجود ہے جو ان کی وسیع النظری اور عصری آگاہی کا پتہ دیتی ہے۔

خاکہ کی تفہیم و تعریف خصوصیات:

خاکہ کے لیے انگریزی میں Sketch کا لفظ رائج رہے۔ غیر افسانوی نثر کی مختلف اصناف میں خاکہ کو خصوصی اہمیت حاصل ہے خا کہ میں فنکار کسی فرد کی زندگی اور کردار کی چند جھلکیاں اس طرح پیش کرتا ہے کہ پڑھنے والا اس فرد سے واقف ہو جائے ۔ اردو میں ادبی خاکے کا موضوع عموما حقیقی اور خیالی دونوں قسم کی شخصیتیں رہی ہیں۔ خاکے جیسی ہی دوسری صنف سوانح نگاری بھی ہے فرق صرف اتنا ہے کہ خاکہ نگار اپنی بات اختصار سے کہتا ہے جیسا کہ ذکر آچکا ہے وہ چند واقعات کے ذریعہ اپنے کردار کی شخصیت کو نمایاں کرتا ہے۔ اس کے برعکس سوانح نگار کسی فرد کی پیدائش سے موت تک کے تمام واقعات و حالات کو پیش کرتا ہے وہ سوانح کے مرکزی کردار کو ایک جیتے جاگتے انسان کی طرح ہمارے سامنے لاتا ہے وہ اس کی زندگی کے حالات تفصیل سے بیان کرتا ہے جب کہ خاکہ نویس مختصر واقعات کے ذریعہ اپنے کردار کی تصویر نمایاں کرتا ہے۔ خاکے کے لیے بعض دوسری اصطلاحات بھی مروج رہی ہیں ۔ مرقع شخصی مرقع اور تصویروغیرہ۔

موضوع کے اعتبار سے خاکہ کی دوقسمیں ہیں شخصی خاکہ، خیالی خا کہ شخصی خاکہ کی اقسام میں تعارفی ،سرسری، تاثراتی مداحی ، توصیفی، بیانیہ اور سنجیدہ۔ ذاتی خود نوشت اور انٹر ویو و غیرہ کو شامل کیا جاسکتا ہے۔ خاکہ کو اشاروں کا آرٹ کہا جاتا ہے جس میں رمزیہ انداز میں کسی شخصیت کی زندگی کے بہت سے پہلوؤں کو سمیٹ لیا جاتا ہے۔ خلیق انجم نے اسے نثر میں غزل کا فن کہا ہے جس طرح غزل کے دو مصرعوں میں شاعر بڑے سے بڑے واقعہ کو پیش کر دیتا ہے۔ اسی طرح خاکہ نگار مختصر الفاظ کے ذریعہ کسی شخصیت کو حیات نو بخش دیتا ہے۔ شخصیت کے نمایاں پہلوؤں کے انتخاب کے علاوہ ہمدردی وغیرہ جانبداری کے اصول پر عمل پیرا ہو کر فنکار ایک خوبصورت خاکہ کی تخلیق کر سکتا ہے۔ خاکہ کے مرکزی کردار کی خوبیوں اور خامیوں کو بیان کر کے ہی وہ حقیقی معنوں میں خاکہ نگاری کا فرض ادا کر سکتا ہے۔ کیونکہ انسان صرف فرشتہ یاشطان نہیں ہو سکتا بلکہ ان دونوں کے مجموعہ کا نام ہے۔ انسان اچھے ، بُرے،غریب، امیر، عام، اوسط ہو سکتے ہیں۔ لہذا خا کے ایسے لوگوں کے بھی لکھے گئے ہیں جو ر ہنما، عالم، مدبر ، وزیر، صحافی، ناقد ، شاعر، ادیب نہیں تھے بلکہ مالی اور چپراسی تھے مگر ان کی ذاتی صفات نے انھیں عمر جاوداں عطا کر دی اس سلسلے میں مولوی عبدالحق کا نام ” نام دیو مالی " نور خان اور رشید احمد صدیقی کا کندن قابل ذکر ہیں۔اختصار، وحدت تاثر ، کردار، واقعہ نگاری، منظر کشی اور دلکش زبان و بیان خاکہ کی اہم خصوصیات ہیں۔ خاکے کا مختصر ہونا اس کا خصوصی وصف ہے حالانکہ طویل خاکے بھی لکھے گئے ہیں۔ مختصر خاکے کی مثال عبدالحق کا خاکہ حکیم امتیاز الدین“ ہے یہ ڈیڑھ صفحہ پر مشتمل ہے۔

طویل خاکے کی مثال فرحت اللہ بیگ کا مولوی نذیر احمد کی کہانی کچھ ان کی کچھ میری زبانی ہے، اختصار کے سبب قاری خاکہ کو ایک ہی نشست میں پڑھ سکتا ہے۔ چند واقعات کی ترتیب کے ذریعہ مصنف وحدت تاثر پیدا کرتا ہے اور یہی وحدت تاثر پڑھنے والے کو اپنی گرفت میں لے کر اسے پورا خا کہ پڑھنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ اسلوب اور زبان کی شیرینی مزید لطف دیتی ہے۔ کردار نگاری خاکےکی اہم خصوصیت ہے بغیر کردار کے خاکے کا وجود ممکن نہیں۔ خاکے میں مثالی اور ارتقائی کی دونوں طرح کے کردار ملتے ہیں۔ مثالی کردار وہ ہیں جو وقت حالات اور عمر کے ساتھ بدلتے نہیں جب کہ فطری کردار وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔

خاکہ کا آغاز وارتقاء:

 اردو میں سرسید تحریک کے زیر اثر بہت کی اصناف کا آغاز وارتقاء ہوا حالانکہ خاکہ نگاری کی ہلکی سی جھلک تذکروں میں ملتی ہے مگر اس کا باقاعدہ آغاز ۱۸۸۰ء میں محمد حسین آزاد کی مشہور و معروف تصنیف 'آب حیات' سے ہوتا ہے۔ محمد حسین آزاد نے لکھا ہے کہ وہ بزرگ شعراء حضرات کے حالات و واقعات کو اس انداز سے لکھیں گے کہ ان کی زندگی کی بولتی ، چلتی پھرتی تصویر میں سامنے آن کھڑی ہوں‘ آب حیات میں انھوں نے اردو شاعری کو مختلف ادوار میں منقسم کیا ہے اور ہر دور کے شعراء کی شکل وصورت، جسامت، لباس، وضع وقطع ، تراش خراش کو اس طرح پیش کیا ہے کہ وہ ختم ہو کر سامنے آجاتے ہیں۔ یہ تمام کردار اپنی ساری انسانی خصلتوں کے ساتھ چلتے پھرتے بولتے نظر آتے ہیں۔ آب حیات میں محمد حسین آزاد نے ہر عہد کی تہذیب کو زندہ کر دیا ہے۔ میرسوز اور انشاء کے خاکے اس سلسلے میں قابل ذکر ہیں۔ لیکن آزاد آب حیات میں غیر جانبداری کی شرط پوری نہیں کر پائے۔ انھوں نے اپنے استاد ذوق کے علاوہ سوداء انشاء اور جراءت کو بھی خصوصی توجہ دی ہے۔ یہ خاکہ نگاری کے فن کے خلاف ہے۔

آب حیات ۱۸۸۰ء میں لکھی گئی ۱۹۲۷ء میں مرزا فرحت اللہ بیگ نے اپنے استاد مولوی نذیر احمد کا خاکہ لکھا۔ اس خاکے کی اہم خوبی یہ ہے کہ فرحت اللہ بیگ محمد حسین آزاد کی طرح اپنے استاد سے محبت وعقیدت کا اظہار نہیں کرتے۔ وہ ان کی عادات واطوار، شکل و شباہت ، لباس کا بیان کرتے ہیں مگر اس کے ساتھ ان کی خامیوں کی نشاندہی کرنا نہیں بھولتے مولوی نذیر احمد کے علاوہ فرحت اللہ بیگ نے ”دہلی کا یادگار مشاعرہ “ لکھ کر اس میں آب حیات کی طرز پر مختلف شعراء کے حالات وکوائف پیش کیے۔ خصوصاً مومن خاں مومن کے حسن و جمال، نفاست طبع خوش پوشا کی اور خوش الحانی کا بیان ایسے خوبصورت و دلکش انداز میں کیا کہ ان کی تصویر آنکھوں میں پھر جاتی ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم مومن کو اپنے عہد میں دیکھ رہے ہیں۔ فرحت اللہ بیگ کا خاکہ ایک وصیت کی تعمیل “ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے یہ مولوی وحید الدین سلیم کا خاکہ ہے۔ فرحت اللہ بیگ نے اس خاکے میں اختصار، وحدت تاثر، کردار،منظرکشی اور دلکش زبان و بیان کا خصوصی خیال رکھا ہے۔ قاری خاکہ کے عنوان سے لے کر آخر تک تجسس کی کیفیت میں الجھار ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود فرحت اللہ بیگ غیر جانبداری کا دامن نہیں چھوڑتے ۔ وحیدالدین سلیم کی شخصیت اپنی صلاحیتوں، خوبیوں اور کمزوریوں کے ساتھ ہمارے سامنے آتی ہے۔

۱۹۴۱ء میں ڈاکٹر سید عابد حسین کے گیارہ خاکوں کا مجموعہ ” کیا خوب آدمی تھا“ کے نام سے منظر عام پر آیا۔ اس میں راشد الخیری ، حاکی، ڈپٹی نذیر احمد ، چکیست ، داغ، پریم چند، علامہ اقبال  کے خاکے شامل ہیں اس مجموعے کے علاوہ بشیر احمد ہاشمی کا "گفت و شنید" بھی خاکے کے ارتقائی سلسلے کی کڑی ہے ۔ "گفت و شنید کے بعد مولوی عبد الحق کی تصنیف ” چند ہم عصر اور رشید احمد صدیقی کی گنجہائے گرانمایہ بھی اردو خاکہ نویسی کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مولوی عبدالحق نے اپنے شنا سالوگوں کے علاوہ معروف اور غیر معروف لوگوں کے خاکے لکھے ہیں۔ ان کی خوبی یہ ہے کہ محمد علی جوہر اور سرسید جیسی عظیم المرتبت شخصیت کا خاکہ لکھتے وقت ان کا قلم کہیں مرعوب نہیں نظر آتا۔ محمد علی جوہر کا خاکہ لکھتے ہوئے ان کی تعریف کرتے کرتے اچانک مخالفت میں سخت الفاظ کا استعمال کرتے ہیں۔

جس سے ان کی رائے کا عدم توازن ظاہر ہوتا ہے۔ محمود، مسعود اور سید بلگرامی کے خاکے متوازن ہیں۔ عبدالحق خود بھی سادہ لوح انسان تھے ان کی یہی سادگی، ایمانداری اپنے مقصد سے بے پنا لگن جیسی خوبیاں ان کے تحریر کردہ خاکوں کے مرکزی کرداروں نور خان اور نام دیو مالی میں ملتی ہیں۔ مولوی عبدالحق کے علاوہ رشید احمد صدیقی نے خاکے سے فن کو رفعتوں سے آشنا کیا ان کی تین کتابیں ، ذاکر صاحب، گنجہائے گرانمایہ اور ہم نفسان رفتہ ہیں۔ ایوب عباسی اور کندن، رشید احمد صدیقی کے اہم ترین خاکے ہیں۔ عصمت چغتائی کا خاکہ دورخی اور اسرارالحق مجاز بھی خاکہ نویسی کے ارتقائی سفرکا حصہ ہیں جون ۱۹۵۲ء میں سعادت حسن منٹو کی کتاب ” گنجے فرشتے“ منظر عام پر آئی۔ منٹو نے خاکہ میں افسانے کا طرز اختیار کیا۔ ان کے خاکوں کی نمایاں خصوصیت تجسس اور تحیر ہے اس کے بعد ۱۹۵۵ء میں ان کے خاکوں کا دوسرا مجموعہ لاؤڈ اسپیکر کے نام سے شائع ہوا ہے۔ ان سب کے علاوہ اعجاز حسین کے خاکوں کا مجموعہ ”ملک ادب کے شہزادے‘ (۱۹۵۴) رسالہ نفوش لاہور، جنوری (۱۹۵۵) کا شخصیات نمبر ،عبدالمجید سالک کا یاران کہن (۱۹۵۵) اشرف صبوحی دہلوی کی تصنیف " وتی کی چند عجیب ہستیاں ضیاء الدین احمد برنی کا عظمت رفتہ (۱۹۶۱) اور شاہد احمد دہلوی کا گنجینہ گوہر (۱۹۶۲) خاکہ نگاری کے ارتقاء میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔

ان اہم خاکہ نگاروں کے علاوہ عہد حاضر میں امداد صابری کا دہلی کی یاد گار شخصیتیں (۱۹۸۷) قرۃ العین حیدرشیداحمدصدیقی کے اہم ترین خاکے ہیں۔ جون ۱۹۵۲ء میں سعادت حسن منٹو کی کتاب ” گنجے فرشتے“ منظر عام پر آئی۔ منٹو نے خا کہ میں افسانے کا طرز اختیار کیا۔ ان کے خاکوں کی نمایاں خصوصیت تجسس اور تحیر ہے اس کے بعد ۱۹۵۵ء میں ان کے خاکوں کا دوسرا مجموعہ لاؤڈ اسپیکر کے نام سے شائع ہوا ہے۔ ان اہم خاکہ نگاروں کے علاوہ عہد حاضر میں امداد صابری کا "دہلی کی یادگار شخصیتیں" (۱۹۸۷) قرۃ العین حیدر کے خاکوں کا مجموعہ پکچر گیلری (2001) مجتبی حسین کا آدمی نامہ، سو ہے وہ بھی آدمی، چہرہ در چہرہ ، ہوئے ہم دوست جس کے ، آپ کی تعریف اور کشمیری لال ذاکر کے خاکوں کے پانچ مجموعے اپنی ہواؤں کی خوشبو (۱۹۸۹) نئی صبحوں کے سفیر (۱۹۹۳) درد آشنا چہرے (۱۹۹۸) نگینه بیکری کا قلندر (۱۹۹۹) یاران تیز گام (۲۰۰۶) اور عابد سہیل کے خاکوں کا مجموعہ کھلی کتاب (2004) اشرف صبوحی کا دلی کی عجیب ہستیاں (2005) منظر عام پر آچکے ہیں۔

 

نذیر احمد کی کہانی کچھ ان کی کچھ میری زبانی

ایک روز مولوی صاحب ایک عربی قصیدہ پڑھا رہے تھے ۔ ایک شعر پڑھا تو بہت ہنسے کتاب رکھ دی اور ہنستے ہنستے لوٹ گئے ۔ ہماری سمجھ میں نہ آنا تھا کہ الہی یہ کیا ماجرا ہے۔ شعر میں تو کوئی ہنسی کی بات نہیں۔ پھر مولوی صاحب کو کیا مرض اٹھا ہے ۔ آخر جب ہنسے کا ذرا زور کم ہوا تو وجہ دریافت کی ۔ مولوی صاحب پھر ہنسنے لگے تھوڑی دیر کے بعد سنبھل کر بولے ” میاں! بعض شعر قصہ طلب ہوتے ہیں ۔ یہ شعر میری زندگی کے قصے کا آغاز ہے ۔ اچھا ، لو سناتا ہوں مگر پہلے تمہید سن لو بھئی ہم بہت غریب لوگ تھے ۔ نہ کھانے کو روٹی ، نہ پہننے کو کپڑا ، تعلیم کا شوق تھا اس لیے پھرتا پھر اتاپنجابیوں کے کڑے کی مسجد میں آکر ٹھہر گیا۔ یہاں کے مولوی صاحب بڑے عالم تھے۔ ان سے  پڑھتا اور توکل پر گزارہ کرتا ۔ مولوی صاحب کے دو چاشاگرد اور بھی تھے ۔ انھیں بھی اور پڑھاتے ، مجھے بھی پڑھاتے ۔ دن رات پڑھنے کے سوا کچھ کام نہ تھا۔ تھوڑے سے دنوں میں کلام مجید پڑھ کر میں نے ادب پڑھنا شروع کیا ۔ چار برس میں معلقات پڑھنے لگا۔ گو میری عمر بارہ سال کی تھی مگر قد چھوٹا ہونے کی وجہ سے نو دس برس کا معلوم ہوتا تھا۔ پڑھنے کے علاوہ میرا کام روٹیاں سمیٹنا بھی تھا۔ صبح ہوئی اور میں چھڑی ہاتھ میں ہے گھر گھر روٹیاں جمع کرنے نکلا کیسی نے رات کی بچی ہوئی دال ہی دے دی کسی نے قیمے کی لگدی ہی رکھ دی ۔ کسی نے دو تین سوکھی روٹیوں پر ہی ٹرخایا ۔ غرض رنگ برنگ کا کھانا جمع ہو جاتا ۔

مسجد کے پاس ہی عبد الخالق صاحب کا مکان تھا ۔ اچھے کھاتے پیتے آدمی تھے۔ ان کے ہاں میرا قدم رکھنا مشکل تھا۔ ادھر میں نے دروازے میں قدم رکھا ادھران کی لڑکی نے ٹانگ لی ۔ جب تک سیر دو سیر مصالحہ مجھ سے نہ پسوالیتی ، نہ گھر سے نکلنے دیتی نہ روٹی کاٹکڑا دیتی ۔ خدا جانے کہاں سے محلے بھر کا مصالحہ اٹھا لاتی تھی ۔ پیستے پیستے ہاتھوں میں گئے پڑ گئے تھے ۔ جہاں میں نے ہاتھ رو کا اس نے بٹہ انگلیوں پر مارا۔ بخدا جان سی نکل جاتی تھی۔ میں نے مولوی صاحب سے کئی دفعہ شکایت کی مگر انھوں نے ٹال دیا۔ خبر نہیں مجھ سے کیا دشمنی تھی۔ تاکید کر دیا کرتے تھے کہ عبد الخالق صاحب کے مکان پر ضرور جانا ۔

بہر حال اسی مارا دھاڑ ی سے روز وہاں جانا پڑتا اور روز بھی مصیبت جھیلنی پڑتی۔ تم سمجھے بھی کہ یہ لڑکی کون تھی ۔ میاں یہ لڑکی وہ تھی جو بعد میں ہماری بیگم صاحبہ ہوئیں۔ جب سوچتا ہوں تو پھیلا نقشہ آنکھوں کے سامنے پھر جاتا ہے اور بے اختیار ہنسی آجاتی ہے ۔ اکثر ہم دونوں پہلی باتوں کو یاد کرتے تھے اور خوب ہنستے تھے ۔ خدا غریق رحمت کرے جیسی بچپن میں شریر تھیں ویسی ہی جوانی میں غریب ہوگئیں ۔ ان کے مرنے کے بعد ہماری تو زندگی کا مزا جاتا رہا ۔

دیکھیں خیر اب میری اصل کہانی کولو ۔ ہاں تو فرصت کے وقت ہم دہلی کی گلیوں کے چکر لگاتے کبھی کبھی کشمیری دروازے کی طرف بھی نکل جاتے ۔ ایک روز جو کشمیری دروازے کی طرف گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ دہلی کالج میں بڑا ہجوم ہے ۔ میں بھی بھیڑ میں گھس گیا۔ معلوم ہو کہ لڑکوں کا امتحان لینے مفتی صدر الدین صاحب آئے ہیں ۔ ہم نے کہا چلو ہم بھی دیکھیں۔ برآمدے میں پہنچا۔ قد چھوٹا تھا ۔ لوگوںکی ٹانگو میں سے ہوتا ہوا گھس کر کمرے کے دروازے تک پہنچ ہی گیا۔ دیکھا تو کمرے کے بیچ میں مینز بچھی ہے ۔ اس کے سامنے کرسی پر مفتی صاحب بیٹھے ہیں ۔ ایک ایک لڑکا آتا ہے ۔ اس سے سوال کرتے ہیں اور سامنے کا غذ پر کچھ لکھتے جاتے ہیں ۔ مینز کے دوسرے پہلو کی کرسی پر ایک انگریز بیٹھا ہے ۔ یہ مدرسے کے پرنسپل صاحب تھے ۔

چپراسیوں نے راستہ صاف کرنا شروع کیا ۔ جو لوگ دروازہ روکے کھڑے تھے وہ کسی طرح پیچھے ہٹتے  ہی نہیں تھے۔ چیر اسی زبر دستی دھکیل رہے تھے  ۔ غرض اس دھکا پیل میں میرا قلیہ ہو گیا ۔ دروازے کے سامنے سنگ مرمر کا فرش تھا ۔ اس پر سے میرا بائیں ریپٹا اور میں دھم سے گرا ۔ اتنی دیر میں پرنسپل صاحب بھی دروازے تک آگئے تھے۔ انھوں نے جو مجھے گرتے دیکھا تو دوڑ کر میری طرف بڑھے۔ مجھے اٹھایا۔ پوچھتے رہے کہ کہیں چوٹ تو نہیں آتی ۔ ان کی شفقت آمیز باتیں اب تک میرے دل پر نقش ہیں ۔ باتوں ہی باتوں میں پوچھا " میاں صاحبزادے ! کیا پڑھتے ہو ؟" میں نے کہا " معلقات ان کو بڑا تعجب ہوا ۔ پھر پوچھا۔ میں نے پھر وہی جواب دیا ۔ میری عمر پوچھی ۔ میں نے کہا مجھے کیا معلوم وہ میرا ہاتھ پکڑ کر بجائے اپنے کام کو جانے کے سیدھا مجھ کو مفتی جناب کے پاس لے گئے اور کہنے لگے ۔ لگے یہ مفتی صاحب ! یہ لڑکا کہتا ہے میں معلقات پڑھتا ہوں ۔ ذرا دیکھیے تو سہی سچ کہتا ہے یا یوں ہی باتیں بناتا ہے ۔ مفتی صاحب نے کہا۔ " تو کیا پڑھتا ہے ؟" میں نے کہا "معلقات“ کہنے لگے " کہاں پڑھتا ہے ؟ میں نے کہا یہ پنجابیوں کے کڑے کی مسجد میں " پھر کہا " معلقات دوں ۔ پڑھے گا۔ میں نے کہا " لا ئیے ۔ انھوں نے مینز سے کتاب اٹھائی ۔ میرے ہاتھ میں دی اور کہا " یہاں سے پڑھ " جس  شعر پر انھوں نے انگلی رکھی وہ یہی شعر تھا ۔

میں نے پڑھا معنی بیان کیے مفتی صاحب بہت چکرا ئے ۔ پوچھنے لگے تجھ کو کون پڑھاتا ہے ؟" میں نے کہا "مسجد کے مولوی صاحب " کہا ” مدرسے میں پڑھے گا ؟" میں نے جواب دیا "ضرور پڑھوں گا یہ مفتی صاحب نے قلم اٹھا کر  کا غذ پر چیند سطریں لکھیں اور پرنسپل صاحب کو دے کر کہا ۔ اس کو پریسیڈنٹ صاحب کے پاس پیش کر دینا "۔

ہم وہاں سے نکل کر اپنے گھر آئے ۔ مولوی صاحب سے کچھ نہ کہا۔ کوئی سات آٹھ روز کے بعد کالج کا چپراسی مولوی صاحب کے پاس ایک کا غذ دے گیا۔ اس میں لکھا تھا کہ نذیر احمد کو کالج میں داخل کرنے کی اجازت ہوگئی ہے ۔ کل سے آپ اس کو کالج میں آنے کی ہدایت کر دیجیے ۔ اس کا وظیفہ بھی ہو گیا ہے ۔ چیرانی تو یہ حکم دے چلتا بنا۔ مولوی صاحب نے مجھ کو بلایا ، خط دکھایا ۔ پوچھا یہ کیا معامہ ہے ؟ میں نے کچھ جواب نہ دیا۔ جب ذرا سختی کی تو تمام واقعہ بیان کیا۔ وہ بہت ؟" خوش ہوئے اور دوسرے روز لے جا میرا ہاتھ پرنسپل صاحب کے ہاتھ میں دے دیا۔

اس زمانے میں سید احمد خاں فارسی کی جماعت میں ، منشی ذکار اللہ حساب کی جماعت میں اور پیارے لال انگریزی کی جماعت میں پڑھتے تھے ۔ میں عربی کی جماعت میں شریک ہوا۔ ایک تو شوق ، دوسرے پڑھانے والے ہشیار میرے ایک مضمون اور وہ کبھی ایسا جس کا مجھے بچپن سے شوق تھا۔ تھوڑے ہی دنوں میں اپنے سب جماعت والوں کو دبا لیا۔ اب جب کبھی یہ شعر پڑھتا ہوں تو پہلا زمانہ یاد ہے اور میں بے اختیار ہنسنے لگتا ہوں ۔

اُردو میں سفر نامے کی روایت: 

اردو میں پہلا سفر نامہ یوسف حسین خاں کمبل پوش کا "عجائبات فرنگ "ہے۔ انھوں نے ۱۸۳۷ء میں انگلستان کا سفر کیا تھا اور یہ سفر نامہ ایک سفر کی روداد ہے۔ یوسف خاں کمبل پوش ایک ممتاز مورخ، عالم اور ادیب کے طور پر شمار کیے جاتے ہیں۔ ان کا سفرنامہ "عجائبات فرنگ" سب سے پہلے ۱۸۴۷ء میں  " پنڈت دھرم نرائن کے زیر           اہتمام دہلی کالج کے مطبع العلوم پریس سے شائع ہوا، جسے بعد میں تحسین فراقی نے اس پر مغز مقدمے کے ساتھ از سر نو۱۹۸۳ء میں مرتب کر کے شائع کرایا۔سفرنامہ عجائبات فرنگ انیسویں صدی کے یورپ کی بہترین عکاسی ہے۔ کمبل پوش نے انگلستان کے سیاسی ، سماجی، معاشی، معاشرتی، تعلیمی صنعتی واد بی حالات کو دلچسپ انداز میں پیش کیا ہے۔ انگلستان کی سیر مصنف کے لیے قدم قدم پر متحیر کن تھی ، وہاں کے مناظر و مقامات اور واقعات ان کو ہر لمحہ حیرت و استعجاب میں مبتلا کر دیتے تھے۔ اس سفر نامہ میں جگہ جگہ ان کے ذوق جمال کا ثبوت ملتا ہے۔ بدصورتی انھیں کسی طور بھی پسند نہیں ۔ بدشکل چہرے ان کی طبیعت کو مکدر کر دیتے تھے اور وہ ان سے اجتناب برتتے تھے۔ اس سفر نامہ کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ انگلستان سے بے حد متاثر و مرعوب نظر آتے ہیں۔ وہاں کی عمارتوں ، سرائے خانوں، عجائب گھروں ، ہوٹلوں، تاریخی مقامات، عجائب ونوادرات، انتظام حکومت، قواعد انگریزی فوج ، مقام طلسمات ، میوزیم ، نقل گھر میں ہونے والے کھیل تماشوں وغیرہ نے مصنف کو مرعوب کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ اس سفر نامے میں ہندوستان اور انگلستان دونوں ملکوں کا موازنہ بھی کرتے ہیں اور ہندوستان کی پسماندگی اور بدحالی پر ایک بچے مصلح قوم کی طرح غور و فکر کرتے ہیں۔ مجموعی طور پر یوسف خاں کمبل پوس واضح انداز میں یورپ کا نقشہ ہماری آنکھوں کے سامنے کھینچنے اور اس کی حقیقت سے قاری کو رو بروکرانے میں کامیاب رہے ہیں۔

عجائبات فرنگ و تاریخ اعتبارسے اور سر نامہ نگاری میں اولیت حاصل تو ہی ساتھ ہی خوبصورت، دلکش اور جاذب طرز تحریر کے باعث یہ اردو سفر ناموں میں امتیازی حیثیت بھی رکھتا ہے، یہ اپنی مثال آپ ہے۔ مسافرانِ لندن (۱۸۶۹ء) سرسید احمد خاں کا سفر نامہ ہے جو انھوں نے لندن سے واپسی پر تحریر کیا تھا۔ اس کے کچھ حصے وہ خطوط کی شکل میں انگلستان سے اپنے دوستوں کو وطن بھیجتے رہے جو انسٹی ٹیوٹ گزٹ میں شائع ہوتے رہے۔ مسافران لندن ایک علمی سفر نامہ ہے۔ سرسید لندن جا کر وہاں کے تعلمی نظام، تہذیب و معاشرت اور جدید تعلیم سے واقف ہو کر قوم کی بھلائی کے لیے کوشش کرنا چاہتے تھے ، اس سفر نامے میں اس عہد کے روز گار علمی کارگزاریوں، شخصیتوں اور چیزوں کا تذکرہ موجود ہے۔ مسافرانِ لند سرسید کی زندگی شخصیت ، خلوص و محبت و ہمدردی کا موثر اظہار ہے۔ ان کا متانت و سنجیدہ اسلوب، تاثرات و واقعات کا موثر اظہار،  علمی زبان و بیان اردو سفر ناموں میں ”مسافران لندن کی انفرادیت کو قائم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ سفر نامہ پنجاب بھی سرسید احمد خاں کا سفر نامہ ہے جو ۱۸۸۴ء میں شائع ہوا۔ اس میں سرسید نے پنجاب کے مختلف شہروں کا اپنے دورے کا تذکرہ کیا ہے۔ سرسید نے ان شہروں کے خارجی حسن و مناظر و ماحول سے قطع نظر محض قوم کی اصلاح وفلاح کی کوشش میں مصروف اور ملک کی ترقی کے لیے مسلسل جد و جہد کرتے رہے۔

سفر نامہ روم و مصر و شام، علامہ شبلی نعمانی کا ایک اہم و نایاب کارنامہ ہے۔ اس سفر نامے میں ترکستان و مصر جیسے عربی ممالک کے تمام حالات کے معلومات کا معتبر ذریعہ ہے۔ سفر نامہ میں شبلی ایک تاریخ نگار کی حیثیت سے بھی سامنے آتے ہیں انھوں نے مسلمانوں کے شاندار ماضی ، قد آور شخصیتوں ، ان کے اخلاق حسنہ واعلیٰ کارناموں کو بڑی خوش اسلوبی سے قاری کے سامنے بیان کیا ہے۔ یہ سفر نامہ قومی و مذہبی جذبات واحساسات لیے ہوئے شبلی کا اہم کارنامہ ہے۔ انھوں نے واقعات کے بیان میں روانی اور شگفتگی سے کام لیا ہے۔ ان کا شاعرانہ مزاج و خطیبانہ انداز تحریر میں تازگی و توانائی کی کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔سفر نامہ بلا داسلامیہ ۱۸۹۸ء میں اختیار کیے گئے مولوی عبد الرحمن امرتسری کے روم، مصر، شام و ترکی کے سفر کی وہ روداد ہےجو مصنف کے ذوق سیاحت اور فنی بصیرت کا ثبوت فراہم کرتی ہے۔ یہ سفر نامہ اس عہد میں تحریر کیا، جب دور دراز ممالک کا سفر اور ان کے حالات سے روشناس ہونا لوگوں کے لیے باعث حیرت و مسرت ہوا کرتی تھی۔

خواجہ حسن نظامی نے سفر نامہ مصر و فلسطین و شام و حجاز ۱۹۱۱ء میں لکھا۔ اس کے علاوہ سفر نامہ ہندوستان (۱۹۰۷ء)، سیر دبلی (۱۹۲۷ء)، سفر نامہ افغانستان (۱۹۳۱ء) بھی ان کی تخلیقات ہیں۔ سفر نامہ مصر و فلسطین و شام و حجاز اپنے منفر داور خاص لب و لہجے کی وجہ سے اردو کے بہترین سفر ناموں میں سے ایک ہے۔ یہ سفر نامہ بڑے ہی سادہ، عام فہم و مؤثر انداز اور جامع دلکش اسلوب میں سفر کے تمام حالات و کیفیات سے قاری کو روشناس کرایا ہے۔ کسی بھی طرح کے جھوٹ یا مبالغے کی اس میں قطعی گنجائش نہیں ، ہر واقعہ پوری طرح سے واضح اور روشن ہے۔خواجہ غلام الثقلین کا سفر نامہ روز نامچہ سیاحت قسطنطنیہ، عراق، ایران، عرب و روس کے حالات وکوائف کا بیان کرتا ہے۔ یہ سفر نامہ عراق دعرب کے مقدس مقامات ، ایران و تہران، روس، بیروت ودمشق کے مختلف حالات و مدینہ منورہ وساحل شام کے دلکش و روح پرور مناظر و واقعات اور مصر کے مختصر حالات کے علاوہ ان اسلامی ممالک کے سیاسی حالات کو قاری کے سامنے پیش کرتا ہے۔

مولانا سید سلیمان ندوی نے کابل کے فرمانروا نادر شاہ کی دعوت پر تعلیمی مقصد کے تحت ۱۹۳۳ء میں افغانستان کا سفر کیا۔ یہ روداد سفر دسمبر ۱۹۳۳ء میں رسالہ معارف میں قسط وار شائع ہوئی اور اس کے بعد ۱۹۹۲ء میں مرتب کر کے اسے پہلی بار کتابی شکل میں منظر عام پر لایا گیا۔اس کے علاوہ ان سفر ناموں کا بھی ذکر ضروری ہے جو مختلف النوع خصوصیات کی وجہ سے قابل ذکر ہیں اور سفر نامہ نگاری کی روایت میں اضافے کی حیثیت رکھتے ہیں ، ان میں سیاحت نامہ از نواب کریم خاں، مرتبہ ڈاکٹر عبادت بریلوی (۱۸۴۷ء)، سفر نامہ سید فداحسین ( تاریخ افغانستان ) (۱۸۵۲ء)، تاریخ انگلستان معروف سفرنامہ لندن از مولوی مسیح الدین علوی (۱۸۷۱ء)، سفرنامہ یورپ از مرزا نثار علی بیگ (۱۸۸۵ء)، آئینہ سکندری از با بواماشنکر (۱۸۸۷ء) سیر بر هما از مولوی عبد الخالق موحد (۱۸۹۹ء)، انگلینڈ اور انڈیا از لالہ بیج ناتھ (۱۸۹۹ء)، سفر نامہ یورپ از منشی محبوب عالم (۱۹۰۰ء)، سفرنامہ بغداد از منشی محبوب عالم (۱۹۰۴ء)، مقام خلافت از شیخ عبدالقادر (۱۹۰۶ء) وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔ ان کے علاوہ بھی بہت سے سفر نامے ہیں جنھوں نے سفر نامے کی صنف میں قابل قدر اضافہ کیا۔ جن میں زاد سفر ، نیرنگ چین ارژنگ چین، آئینہ فرنگ، سفر نامہ رئیس ( نواب محمد عمر علی خاں والی ریاست با سوده)، سیاحت فتح خانی ( نواب فتح علی خاں قزلباش ) ، کابل میں سات سال ، سیر یورپ (رفیعہ سلطان)، سفرنامہ ہندوستان، سفر نامہ پاکستان (خواجہ حسن نظامی)، سفر نامہ جاپان (خواجہ بدرالاسلام)، پردیس کی باتیں (مرزا احمد حسین بیگ) سات سمندر پار ( بیگم اختر ریاض الدین) جرمنی نامہ (حکیم محمد سعید )، لینن گراڈ تا سمرقند ( عشرت علی صدیقی ) وغیرہ اہمیت کے حامل ہیں۔

جاپان چلو جاپان

جولائی ۱۹۸۰ء کے مہینہ کی بات ہے ۔ ایک دن ہم حسب معمول دیر سے دفتر پہنچے تو پتہ چلا کہ خلاف معمول ہمارے افسر بالا نے ہمیں یاد کیا ہے ۔ ہم ہانپتے کانپتے ان کی خدمت میں پہنچے تو فرمایا ۔ ہم تمہیں جاپان بھیجنا چاہتے ہیں ۔ کیا تم جانے کیلئے تیار ہو ۔ہم نے کہا سر!ہم جانتے ہیں کہ زمانہ قدیم میں جب کسی شخص سے کوئی جرم سرزد ہو جاتا تھا تو اسے سزا کے طور پر ملک بدر کر دیا جاتا تھا ۔ مانا کہ ہم دفتر دیر سے آتے ہیں لیکن یہ اتنا بڑا جرم تو نہیں کہ آپ ہمیں جاپان بھیج دیں ۔پھر جاپان سے ہم بیسیوں چیزیں درآمد کرتے ہیں ۔ کیا اس ملک سے جاپان کو برآمد کرنے کیلئے ہم ہی ایک مناسب چیز رہ گئے ہیں ؟

بولے ۔ تم ہر بات میں سے مزاح کا پہلو نکال لیتے ہو ۔ ہم تمہیں سچ مچ جاپان بھیجنا چاہتے ہیں ۔ جاپان کے بارے میں کچھ جانتے بھی ہو ؟

ہم نے کہا۔ سرا ہائی اسکول تک جغرافیہ پڑھی تھی ۔ اس وقت تک تو جاپان براعظم ایشیاء میں ہی تھا ۔ اب بھی شاید ایشیا میں ہی ہوگا ۔ ہم ٹھیک سے کہ نہیں سکتے کیونکہ سنا ہے کہ جاپان نے بہت ترقی کر لی ہے اور ترقی یافتہ ملکوں کا کوئی بھروسہ نہیں کہ کب کدھر کو نکل جائیں ۔ یوں بھی براعظم ایشیا ہم جیسے ملنگوں کی سرزمین ہے، جہاں پیٹ کی اہمیت کم اور روح کی زیادہ ہے ۔ ہمیں تو غریبی میں نام پیدا کرنے کی عادت سی ہو گئی ہے ۔ ایسے براعظم میں جاپان کا کیا کام ؟ اگر ہم سے جاپان کے بارے میں مزید کچھ پوچھیں تو اتنا کہہ سکتے ہیں کہ جب ہم بہت چھوٹے تھے اور دوسری جنگ عظیم اپنے عروج پر تھی تو یوں لگتا تھا جیسے جاپان ہمارے گھر کے پچھواڑے میں واقع ہے ۔ ہمیں ہر دم یہ بتایا جاتا تھا کہ جاپانی اب آنے ہی والے ہیں ۔ جنگ ختم ہو گئی اور جاپان پھر اپنی جغرافیائی حدود میں واپس چلا گیا ۔ جاپان کے بارے میں ہماری جھولی میں بس اتنی ہی معلومات ہیں ۔

بولے " جاپان کے بارے میں اور کیا جانتے ہو ؟"

ہم نے دماغ پر قدرے زور دے کر کہا" ہاں ! خوب یاد آیا ۔ جاپان کی گڑیاں بہت مشہور ہیں۔

بولے ۔ بس اتنا کافی ہے ۔ جاپان کے بارے میں تم تو بہت کچھ جانتے ہو ۔ ہم جاپان کے دورے کیلئے تمہارا نام مرکزی وزارت تعلیم کو بھیج رہے ہیں ہم نے کہا۔ سرآخر ماجرا کیا ہے ۔ صاف صاف بتائیے کہ آپ چاہتے کیا ہیں ؟ بولے ٹوکیو میں یونیسکو کے ایشیائی ثقافتی مرکز کی طرف سے پبلشنگ کا ایک تربیتی کورس اکتوبر میں منعقد ہو رہا ہے اس کیلئے ہندوستان سے ایک عہدہ دارکو روانہ کرنا ہے اور مرکزی وزارت تعلیم نے مختلف محکموں سے عہدہداروں کے نام مانگے ہیں ۔ ہم اپنے ادارے سے تمہارا نام بھیج رہے ہیں ۔ کیا پتہ کہ مرکزی وزارت تعلیم اس کورس کے لئے تمہارا انتخاب کرلے ۔ کبھی کبھی انتخاب میں غلطی بھی تو ہو جاتی ہے ۔

ہم نے اس ذرہ نوازی کا شکریہ ادا کیا اور اٹھ کر جانے لگے تو ہمارے افسر بالا نے پوچھا۔ اس سے پہلے کبھی ہندوستان سے باہر گئے ہو ۔ہم نے کہا – سر!جی تو ہمارا بھی بہت چاہتا ہے کہ نئی نئی زمینیں دیکھیں ، نئے نئے آسمانوں میں جھانک آئیں ، گھاٹ گھاٹ کا پانی پئیں ، نئے لوگوں سے نئی نئی باتیں کریں ، نئے چہروں کو نئے ڈھنگ سے دیکھیں ، مگر ہمارا جذبہ حب الوطنی ہمیں باہر جانے نہیں دیتا ۔ ہمیں ہر دم یہ فکر رہتی ہے کہ اگر ہم باہر چلے گئے تو پھر ملک کا کیا ہوگا ۔ ہمارے بغیر آخر ملک کس طرح ترقی کر سکتا ہے ۔ پھر ہم نے کچھ ایسے لوگ بھی دیکھتے ہیں جو دس دن کیلئے ہی کہی باہر کےکسی ملک میں جاکر آتے ہیں تو زندگی بھر اس ملک کے قصے اور وہ بھی من گھڑت قصے سنا کر اپنا اور اہل وطن کا وقت برباد کرتے ہیں ۔ انہیں اپنےملک کا سورج اچھا نہیں لگتا ۔ چاند کی طرف دیکھتے ہیں تو منہ موڑ کے کہتے ہیں برطانیہ میں جو چاند ہم نے دیکھا تھا وہ چاند بھلا اس ملک میں کہاں نظر آئے گا ۔ بھلا یہ بھی کوئی چاند ہے ۔ غرض انہیں اپنے ملک کی کوئی چیز اچھی نہیں لگتی ۔ خدا نخواستہ جاپان کے دورے کیلئے ہمارا انتخاب ہو گیا تو اس ملک میں بقیہ زندگی کس طرح گزاریں گے ۔ ہمارے افسر بالا نے کہا ۔ ہم تمہارے جذبہ حب الوطنی کا امتحان لینا چاہتے ہیں ۔ تبھی تو تمہارا نام اس دورے کیلئے تجویز کر رہے ہیں ۔ رہی یہ بات کہ تم باہر چلے گئے تو اس ملک کا کیا ہوگا ۔ اس سلسلے میں ہمارا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں تمہارا باہر جانا بہت ضروری ہے تا کہ ہمیشہ کیلئے تمہاری خوش فہمی دور ہو سکے ۔اس بات چیت کے بعد ایک مہینہ بڑی خاموشی کے ساتھ گزر گیا ۔ ایک دن دفتر میں بیٹھے کام کر رہے تھے کہ ایک دوست نے آکر چپکے سے کہا - اگر تم جاپان سے میرے لئے ایک بڑھیا ٹرانزسٹر لاسکو تو تمہیں ایک خوشخبری سنانی ہے ۔ہم نے کہا ۔ ضرور سناو " ۔بولے ۔ پہلے ٹرانزسٹر لانے کا وعدہ کرو پھر سناتا ہوں " ۔

ہم نے وعدہ کر لیا تو موصوف نے پہلے تو وہ کاغذ ہاتھ میں تھما دیا جس میں ٹرانزسٹر کی تفصیلات لکھی ہوئی تھیں ۔ پھر فرمایا " یارا ابھی ابھی مرکزی وزارت تعلیم سے اطلاع آئی ہے کہ جاپان کے دورے کیلئے تمہارا انتخاب ہو گیا ہے ۔ اب تو تمہیں میرے لئے ٹرانزسٹر لانا ہی ہوگا ۔ یونیسکو کے مہمان ہو کوئی مذاق نہیں ہے ۔ ۳۵ دنوں تک روزانہ دس ہزار"ین" (جاپانی سکہ) تمہیں ملا کریں گے ۔ میرا ٹرانزسٹر تو صرف تین چار ہزار"ین "میں آجائے گا ۔ یہ پہلی فرمائش تھی ۔کہ اس کے بعد جوں جوں ہمارے دورہ جاپان کی اطلاع ہمارے دشمنوں میں پھیلی لوگ فرمائشوں کی فہرست پہلے دیتے تھے اور مبارکباد بعد میں دیتے تھے کچھ ستم ظریف ایسے بھی تھے جو فرمائشوں کی فہرست دینے کے بعد مبارکباد دینا بھول جاتے تھے اور ہمیں مجبورا انہیں یاد دلانا پڑتا تھا کہ وہ ایک خوشگوار فریضہ انجام دینا بھول گئے ہیں ۔ ہمیں بیسں دن بعد جاپان میں قدم رنجہ فرمانا تھا اور اس مقصد کے لئے دوستوں سے سامان سفر مانگنا تھا ۔ چونکہ ہم سرکاری حیثیت میں باہر جارہے تھے اس لئے سفر کے دوسرے مرحلے تو فوراطئے ہو گئے لیکن فرمایشوں کا سلسلہ دن بہ دن دراز ہوتا چلا گیا ۔ جاپان روانہ ہونے سے ایک دن پہلے ہم نے بڑی محنت سے دوستوں کی فرمائشوں کی فہرست مرتب کی تو پتہ چلا کہ حسب ذیل سامان جاپان سے ہمیں ہر حالت میں لانا ہے ۔

ٹرانزسٹر دستی ۱۵ عدد - ٹرانزسٹر مع ٹیپ ریکارڈر ۱۰ عدد - شفان کی ساڑیاں ۴۵ عدد، کیا لکو لیٹر ۲۵ عدد، سیکو گھڑیاں خواتین کی ۱۰ عدد، مردوں کی ۱۵ عدد - ٹیلی ویژن کے چھوٹے سیٹ ۴ عدد ، ٹی سیٹ ۴ عدد ، ٹیپ ریکارڈر کے کیسٹ ۱۰۰ عدد ، جاپان کی چھتریاں ۲۰ عدد، جاپانی موزے ۷۵ عدد متفرق سامان ۱۰۰ عدد - جاپان کی گڑیاں ۲ عدد ( ایک گڑیا ہمارے دوست اور کرم فرما جناب پی گنگاریڈی وزیر سیول سپلائز آندھرا پردیش کیلئے اور دوسری گڑیاہمارے دوست قاضی سلیم کی لڑکی سلمی کیلئے ) جاپان کی گڑیوں کی فرمائش اب بھی ہمارے لئے ایک معمہ بنی ہوئی ہے ۔ ہمارے کرم فرما جناب پی گنگا ریڈی ، ہمارے جاپان روانہ ہونے سے پہلے دہلی آئے تو کہنے لگے۔ مجتبی بھائی آپ جاپان جارہے ہیں میری ایک چھوٹی سی فرمائش ہے کیا آپ پوری کر سکیں گے ۔ہم نے کہا " آپ کیلئے تو ہم پورے جاپان کو اٹھا کر لاسکتے ہیں ۔ یوں بھی ہم ایروں غیروں کے لئے پندرہ ہیں ٹرانزسٹرز ، تیس گھڑیاں ، چالیس پچاس ساڑیاں اور نہ جانے کیا کیا جاپان سے لارہے ہیں ۔ آپ تو ہمارے عزیز ترین دوست اور کرم فرما ہیں ۔ آپ فرمائش کر کے تو دیکھئے ۔ یہ سن کر ہمیں ایک کونے میں لے گئے اور آہستہ سے کان میں کہا۔ میرے لئے ایک اچھی سی جاپانی گڑیا لے آئیے۔ہم نے کہا۔ یہ کون سی مشکل بات ہے ۔ اتفاق دیکھئے کہ آج ہی قاضی سلیم کی لڑکی نے بھی ہم سے ایک جاپانی گڑیا کی فرمائش کی ہے ۔ جب ہم اس کے لئے ایک گڑیا خریدیں گے تو آپ کیلئے بھی ایک اور خرید لیں گے ۔ بھلا یہ بات بھی کونے میں الگ لے جا کر کہنے کی ہے ۔گنگاریڈی صاحب بولے ۔ مجتبی بھائی آپ کیسے مزاح نگار ہیں ۔ میری جاپانی گڑیا اور قاضی سلیم کی لڑکی کی گڑیا میں کوئی فرق محسوس نہیں کر سکتے ۔ خیرآپ کی مرضی ۔اب جب کہ ہم جاپان پہونچ گئے ہیں ۔ ان کی بات اب بھی ہمارے لئے معمہ بنی ہوئی ہے ۔ چاہے کچھ بھی ہو ہم نے ٹھان لیا ہے کہ ان کیلئے اور قاضی سلیم کی لڑکی کیلئے دو عدد جاپانی گڑیاں ضرور لیتے آئیں گے کیونکہ یہاں آنے کے بعد ہم نے فرمائشوں کی فہرست کا جاپان کی مہنگائی کے پس منظر میں ٹھنڈے دل و دماغ سے جائزہ لیا تو پتہ چلا کہ ہم اس فہرست میں سے صرف دو گڑیاں ہی خرید سکتے ہیں ۔

ہندوستان سے روانہ ہونے سے ایک دن پہلے جب ہم اپنے گھر میں فرمائشوں کی فہرست مرتب کر رہے تھے تو ہماری اہلیہ محترمہ نے اس فہرست کو دیکھ کر سوچا کہ لگے ہاتھوں فرمائشوں کی اپنی فہرست بھی تھمادیں ہم نے اس فہرست کا طیارے میں بغور مطالعہ کیا ۔ خاصی دلچسپ فہرست ہے اور اس کے مطالعہ سے ہمارا سفر خاصا آرام سے کٹا ۔ اس لئے کہ اس فہرست میں نہ کہیں ٹرانزسٹر ہے نہ ساڑی ۔ نہ ٹیلی ویژن ہے نہ جاپانی چھتری ہے ۔ بس ہم سے اتنی معصوم سی خواہش کی گئی ہے کہ ہم جاپان سے ۵۰ کیلو گرام گیہوں ، ۴۰ کیلوگرام چاول ، مونگ پھلی کا تیل چھ کیلو گرام ، نہانے کا صابن چھ ٹکیاں، کپڑے دھونے کا صابن آٹھ ٹکیاں لے آئیں ۔ الغرض یہ فہرست ہو تے ہوتے ۱۰۰ گرام لونگ ، ۰۰اگرام الائچی اور ۱۰۰ گرام شاہ زیرے پرختم ہوگئی ہے ۔ البتہ جاپان پہنچنے کے بعد ہماری اہلیہ محترمہ نے فون پر اطلاع دی ہے کہ غلطی سے مہینے بھر کے سامان کی فہرست ہمارے ساتھ چلی گئی ہے اور جو چیزیں جاپان سے آنی ہیں ان کی فہرست بذریعہ ڈاک روانہ کی جارہی ہے ۔ اب جگر تھام کے بیٹھو میری باری آئی ۔ اور ہاں ! ہمیں اپنے ایک ادیب دوست کی معصوم کی فرمائش بھی یاد آگئی ۔ انہیں جب پتہ چلا کہ ہم جاپان جارہے ہیں تو ہم سے کہا۔ تم جاپان جا رہے ہو تو ایک چھوٹی سی فرمائش ہے ۔ ہم نے کہا " ارشاد ہو ۔بولے " جاپان جانے سے پہلے یہ وعدہ کرتے جاو کہ تم جاپان کے بارے میں کوئی سفر نامہ نہیں لکھو گے ۔ہم نے ان کی فرمائش کے بارے میں سنجیدگی سے غور کیا مگر جب ہم اپنے اتنے سارے دوستوں اور بہی خواہوں کی فرمائشوں کی تکمیل نہیں کر رہے ہیں تو ان کی فرمائش کے بارے میں کیوں سنجیدہ ہو جائیں ۔ لگے ہاتھوں ایک مصرعہ یاد آگیا ۔ غالبا پنڈت ہری چند اختر کا ہے ۔ یہاں جاپان میں کوئی اردو کتاب بھی تو نہیں ملتی کہ جس کو شاعر کا صحیح نام معلوم کرنے کیلئے حوالے کے طور پر استعمال کر سکیں ۔  مصرعہ کچھ یوں ہے ۔

ع            کہا جاپان کا ڈر ہے کہنا جاپان تو ہوگا

اردو میں جاپان کے بارے میں غالبا یہ پہلا اور واحد مصرعہ ہے اور انشاء اللہ ہمارا سفر نامہ بھی اردو میں اپنی نوعیت کا جاپان کا پہلا سفر نامہ ہوگا۔

میر مہدی مجروح  کے نام(غالبؔ)

سید صاحب !

تہ تم مجرم نہ میں گنہگار تم مجبور میں ناچار ۔ لو اب کہانی سنو میری سرگذشت میری زبانی سنو ۔ نواب مصطفے خاں یہ میعاد سات برس کے قید ہو گئے تھے سو اُن کی تقصیر معاف ہوئی اور اُن کو رہائی ملی ۔ صرف رہائی کا حکم آیا ہے ۔ جہاں گیر آباد کی زمین داری اور دتی کی املاک اور پینشن کے باب میں ہنوز کچھ حکم نہیں ہوا۔ نا چار وہ رہا ہو کر میرٹھ ہی میں ایک دوست کے مکان میں ٹھہرے ہیں۔ میں یہ مجرد استماع اس خبر کے ڈاک میں بیٹھ کر میر ٹھ گیا۔ اُن کو دیکھا ۔ چہار دن وہاں رہا۔ پھر ڈاک میں اپنے گھر آیا۔ دن و تاریخ آنے جانے کی یاد نہیں، مگر ہفتے کو گیا ، منگل کو آیا۔ آج بدھ دوم فروری ہے۔ مجھ کو آئے ہوئے نواں دن ہے۔ انتظار میں تھا کہ تمھارا خط آئے تو اُس کا جواب لکھا جائے ۔ آج صبح کو تمھارا خط آیا ،دوپہر کو میں جواب لکھتا ہوں :

؎              روز اس شہر میں ایک حکم نیا ہوتا ہے                                         کچھ سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ کیا ہوتا ہے

میرٹھ سے آکر دیکھا کہ یہاں بڑی شدت ہے اور یہ حالت ہے کہ گوروں کی پاسبانی پر قناعت نہیں ہے۔ لاہوری دروازے کا تھانے دار مونڈھا بچھا کر سٹرک پر بیٹھتا ہے، جو باہرسے گورے کی آنکھ بچا کر آتا ہے، اس کو چڑھ کر حوالات میں بھیج دیتا ہے۔ حاکم کے ہاں سے پانچ پانچ بید لگتے ہیں یا دو روپے جرمانہ لیا جاتا ہے۔ آٹھ دن قید رہتا ہے۔ اس سے علاوہ سب تھانوں پر حکم ہے کہ دریافت کر وہ کون بے ٹکٹ مقیم ہے اور کون ٹمٹ رکھتا ہے۔تھانوں میں نقشے مرتب ہونے لگے۔ یہاں کا تمامہ دار میرے پاس بھی آیا۔ میں نے کہا۔ بھائی ! تو مجھے نقشے میں نہ رکھ میری کیفیت کی عبارت الگ لکھے۔ عبارت یہ کہ اسد اللہ خاں 1850 سے حکیم پٹیالےا والے کے بھائی کی حویلی میں رہتا ہے ۔ نہ کالوں کے وقت میں کہیں گیا، نہ گوروں کے زمانے میں نکلا اور نہ نکالا گیا گرنل برن صاحب بہادر کے زبانی حکم پر اس کی اقامت کا مدار ہے۔ اب تک کسی حاکم نے وہ حکم نہیں بدلا۔ اب حاکم وقت کو اختیار ہے۔ پرسوں یہ عبارت جماعہ دار نے محلے کے نقشے کے ساتھ کو توالی میں بھیج دی ہے۔ کل سے یہ حکم نکلا کہ یہ لوگ شہر سے باہر مکان و کان کیوں بناتے ہیں ؟ جو مکان بن چکے ہیں انھیں ڈھا دو اور آئندہ کو مانعت کا حکم سنا دو اور یعنی شہور ہے کہ پانچ ہزار ٹکٹ چاہے گئے ہیں، جو مسلمان شہر میں اقامت چاہے یہ قدر مقدور نذرانہ دے ۔ اس کا اندازہ قرار دینا حاکم کی راے پر ہے۔ روپیہ دے اور ٹکٹ لے ۔ گھر برباد ہو جائے ۔ آپ شہر میں آباد ہو جائے۔ آج تک صورت ہے۔ دیکھیے شہر کے بسنے کی کون مہورت ہے ، جو رہتے ہیں وہ بھی اخراج کیے جاتے ہیں یا جو باہر پڑے ہوئے ہیں وہ شہر میں آتے ہیں ؟الملكُ لله وَالْحُلُمُ الله

 نورچشم میر سرفراز حسین اور برخوردار میر نصیر الدین کو دعا اور جناب میرن صاحب کو سلام کبھی اور دعا کی ۔ اس میں سے وہ یہ چاہیں قبول کر لیں

بدھ ۲ فروری 1859ء                                                                                                                                  غالبؔ

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.