9.Notes - (B.A)Third Year Sem-V(ML-Urdu(Optional) Paper -IX)

B.A Third Year Sem-V(Optional) Paper -IX

Swami Ramanand Teerth Marathwada University, Nanded.

سوامی رامانند تیر تھ مراٹھواڑہ یو نیور سٹی ، ناندیڑ۔


 Faculty of Humanities

شعبہ انسانیات

Effective from Academic year 2021 – 2022

روبہ عمل تعلیمی سال2021-2022-

B.A. Third Year, Semester- V

بی۔اے۔سال سوّم(میقات پنجم)

Title : Tareekh Urdu Zuban o Adab-V

تاریخ زبانِ ادب اُردو-V

 

زبان کی تعریف


بولنے، بات کرنے، اپنے احساسات ، جذبات و خیالات کو دوسروں تک پہنچانے کے صوتی اور لفظی وسیلے کو زبان کہتے ہیں۔زبان کی دو مختلف صورتیں ہوتی ہیں۔ ایک اس کی ظاہری صورت ، دوسری اس کی معنوی صورت۔ اگر آواز اپنی معنوی حیثیت کو الفاظ کے ذریعے پوری طرح ادا نہ کر سکتی ہو تو زبان کا اصل مقصد یعنی ترسیل و ابلاغ کا عمل پورا نہیں ہو سکتا۔ الفاظ اور معنی میں تال میل اور مناسب رابط و تعلق ہی سے زبان کا دائرہ وسیع ہوتا  ہے۔زبان ایک زندہ حقیقت ہے جس میں مسلسل تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ زمان و مکاں کے اعتبار سے زبانیں ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں۔ ان میں کبھی اشتراک ہوتا ہے یا اختلاف اور کبھی انسانیت۔ جس کی وجہ سے زبانوں کے مختلف خاندان ہو گئے ہیں یا انہیں مختلف خاندانوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

زبان ایک ایسی نعمت ہے جس کی بدولت انسان اپنے خیالات و احساسات کو الفاظ کے سہارے دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ زبان ہی کے ذریعہ انسان ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کر سکتا ہے اور اس بات چیت کے ذریعے علم، عقائد، رائے ،خواہشات، خطرات، حکم ،شکریہ، وعدے اور احساسات جیسے عمل اور ردعمل کا تبادلہ کرتا ہے۔ وہ اپنی جنسی کے ذریعے تفریح اور خوشی کا اظہار کر سکتا ہے اور غصہ و برانگیختگی ظاہر کرنے کے لیے کرخت اور کر ہیہ آوازوں کا استعمال کر سکتا ہے۔ وہ مسکرا کرکسی بات کی منظوری یا نا منظوری ظاہر کرتا ہے۔ چیخ کر غصہ اور تلخ احساسات کا اظہار کرتا ہے اور کبھی جوش وخروش یا خوف کا اظہار بھی کرتا ہے۔ اس کی پیشانی پر حیرت، تعجب یا پسندیدگی کا اظہار ہوتاہے لیکن ان سب کے باوجود انسان کے تبادلہ خیالات کا سب سے بہتر نظام زبان ہے، جس کی بنیاد الفاظ اور جملوں کی با معنی ترتیب پر قائم ہوتی ہے۔ تبادلہ خیال یا ترسیلی نظام کو لسانی ترسیلی نظام یعنی Verbal communication کہتے ہیں۔ جب کہ دوسرے تمام ترسیلی نظام کو غیر لسانی ترسیلی نظام non-verbal communication  کہا جاتا ہے۔

زبان ایک سماجی شے ہے، اس کا استعمال سماج ہی میں ہو سکتا ہے۔ زبان موروثی نہیں ہوتی یعنی کسی مخصوص زبان کو بولنے کی صلاحیت والدین کی طرف سے اولاد کو منتقل نہیں ہوتی۔ زبان میں طرح طرح کے اظہارات کی لامحدود گنجائش ہے۔  گویا زبان وہ ذریعہ (Medium) ہے جس کی مدد سے انسان اپنے مافی الضمیر کو ایک فرد سے دوسرے فرد تک منتقل کرتا ہے۔ اس ضمن میں یہ بھی قابل ذکر ہے کہ جانور بھی احساسات و خیالات رکھتے ہیں لیکن وہ اپنے جذبات واحساست اور خیالات کا تبادلہ نہیں کر سکتے۔زبانیں ہزار ہا ان علامات اور نشانات پر مشتمل ہوتی ہیں جو فارم اور معنی سے تشکیل پاتے ہیں۔ تقریری زبان میں یہ فارم صوت یا آواز ہے، جبکہ تحریری زبان میں یہ فارم حروف ہیں۔ مثال کے طور پر حروف یا اصوات کی ترتیب سے لفظ بنتے ہیں اور لفظوں کی ترتیب سے جملے بنائے جاتے ہیں۔مختلف زبانوں میں زبان کے لیے مختلف الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں جبکہ زبان بذات خود فارسی کا لفظ اور اسم مونث ہے۔ یہ گوشت کا ایک ٹکڑا ہے جومنہ کے اندر رہتی ہے اور قوت ذائقہ کا کام انجام دیتی ہے ساتھ ہی اس کا کام اصوات کو نکالنا بھی ہے۔ ہر زبان کے تلفظی مخارج اس کے بغیر ادانہیں ہو سکتے گویا یہ سب مخرجوں کی سردار ہے۔

زبان کی تعریف کرتے ہوئے مولوی عبد الحق قواعد اردو میں کچھ یوں اظہار خیال کرتے ہیں کہ "زبان بھی ایک انسانی عمل یا سعی ہے۔ اس کے دورخ ہیں ایک طرف تو یہ عمل اس شخص کی طرف سے ہے جو اپنے دل کی بات دوسروں کو سمجھا تا چاہتا ہے۔ دوسری طرف اس شخص کی جانب سے ہے جو دوسرے کے دل کی بات سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔"زبان کی تعریف اخذ کرنے کے لیے جب ہم ماہرین لسانیات کی طرف رجوع کرتے ہیں تو ہمیں قدرے بہتر اور موزوں صورت حال نظر آتی ہے۔ اس سلسلہ میں محمد حسین آزاد کا ماننا ہے کہ زبان اظہار کا وسیلہ ہے جو متواتر آوازوں کے سلسلے میں ظاہر ہوتا ہے۔ جنہیں تقریر یا سلسلہ الفاظ یا بیان یا عبارت کہتے ہیں۔ اس بات کو انھوں نے ایک شاعرانہ لطیفے میں بیان کیا ہے کہ زبان اور بیان یعنی تحریری اور غیر تحریری عبارت ہوائی سواریوں کی طرح ہیں جن میں ہمارے خیالات سوار ہو کر دل سے نکلتے ہیں اور کانوں کے راستے سامعین یا مخاطبین کے دماغوں میں پہنچتے ہیں ۔ اس سے رنگین تر مضمون یہ ہے کہ جس طرح تصویر اور تحریر قلم کی دستکاری ہے جو آنکھوں سے نظر آتی ہے، اسی طرح تقریر ہمارے خیالات کی زبانی تصویر ہے جو آواز کے قلم نے ہوا پر کھینچی ہوتی ہے۔ وہ صورت، ماجرا، کام ، مقام اور ساری حالت کا نوں سے دکھاتی ہے۔محی الدین قادری کے یہاں زبان کے سلسلہ میں اس طرح کے خیالات ملتے ہیں کہ زبان انسانی خیالات اور احساسات کی پیدا کی ہوئی ان تمام عضوی اور جسمانی حرکتوں اور اشاروں کا نام ہے جن میں قوت گویائی شامل ہے اور جن کو ایک دوسرا انسان سمجھ سکتا ہے اور جس وقت چاہے اپنے ارادے سے دہراسکتا ہے۔ یعنی عضوی اور جسمانی حرکتوں اور اشاروں کا محرک انسانی خیالات اور جذبات کو قرار دیتے ہوئے زبان کی آلاتی منطقی اور اختیاراتی پہلو کا ذکر تو کیا گیا ہے مگر زبان کی علامتی حیثیت کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

زبان کی ضرورت و اہمیت:ہم انسان اپنے اطراف کی دنیا کو نہ صرف دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں بلکہ انہیں معنی بھی دیتے ہیں۔ لہذا جب میں برسات کے موسم میں کالے بادلوں کو دیکھتا ہوں تو مجھ پر صرف انکی بناوٹ کا اثر نہیں ہوتا بلکہ ایک پیچیدہ اور مضبوط اثر کالے بادلوں اور بارش، رقص کرتے مور اور بھیگے کپڑوں کی پیچینی کے درمیان تعلق بنانے سے ہوتا ہے۔ اگر میں یہ تعلق نہ بناؤں تو کالے بادل میرے لئے کوئی معنی نہی رکھتے، وہ مجھ پر کچھ اثر نہیں کرتے بلکہ محض یہ ایک بناوٹ رہ جاتی ہے جس کا مجھےاور اک ہوا۔یہی وہ تعلق پیدہ کرنیوالا عمل ہے جو دنیا کی ہر چیز کو معنی دیتا ہے۔ یہ معنی ہی کی آمیزش ہے جو چیزوں کی حیثیت کو بدل دیتی ہے (خصوصا ہمارے شعور میں) " صرف ہونے “ سے ”معنی خیز ہونے“ کی طرف۔ چیزوں کو معنی ہم اپنے تصورات سے فراہم کرتے ہیں۔ ان تصورات کو ترقی دینے کیلئے ہم اپنے ذہن میں کچھ نشانیاں بناتے ہیں اور ان تصورات اور نشانیوں کے درمیان تعلق بناتے ہیں۔ ان نشانیوں پر ذہنی سرگرمی اس تعمیر کا عمل ہے۔اس ذہنی سرگرمی کی بنیاد زبان ہے اور یہ در حقیقت اس پورے تعمیراتی عمل کا غیر منقسم اور لازمی جز ہے جو انسان کے تصور کی تعمیر کو فروغ دیتا ہے۔

تصور کا نام رکھے بغیر یہ پورا عمل نا ممکن ہے۔ یہ نام زبان میں الفاظ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ تصور کی تعمیر اور ترقی ہی دراصل شعور اور سمجھ کی ترقی اور حصول ہے۔زبان اور شعور ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔ ایک کا وجود دوسرے کے بغیر ناممکن ہے۔زبان محض ایک آلہ ہی نہیں ہے ۔ یہ شعور کا ایک لازمی اور ناگزیر حصہ ہے۔ یہ انسانی ذہن اور خود شعوری کی لیاقت ہے ۔ انسانی ذہن شعور کی مجموعیت کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ یہ شعور کی ترقی کے ساتھ ترقی کرتی ہے اور جب شعور پر روک لگائی جاتی ہے تو زبان بھی راک جاتی ہے۔ یہ خلاصہ ابتدائی تعلیم کیلئے نہایت اہم ہے۔

زبان اور شعور کی ترقی کے کچھ مرحلوں کے بعد یہ ممکن ہے کہ دونوں کی بنیاد اس حد تک مکمل ہو چکی ہو کہ شعور زبان کی ہمردی کے بغیر ترقی کی راہ پر گامزن ہو یا العکس۔ لیکن یہ تقسیم بلا شبہ ابتدائی تعلیم کی سطح پر نا ممکن ہے کہ ابتدائی تعلیمی سطح پر زبان اور شعور کی ترقی بچوں کے ذہنی ارتقاء کے دو لازمی اور ناگزیر پہلو ہیں ۔آئینے زبان کے کچھ پہلووں پر نظر ڈالتے ہیں۔ بول چال کی زبان کی بنیادی اکالی انٹر ہے۔ لفظ آوازوں کا مجموعہ ہے۔ اگر اس آوازوں کے مجموعہ کو تصور سے مربوط نہ جائے تو یہ محض ایک بے معنی آوازوں کا مجموعہ رہ جاتا ہے اور لفظ نہیں بلکہ ایک مخصوص آوازوں کے مجموعہ (لفظ) کو کسی مخصوص تصور سے مربوط کرنے کےکوئی منطقی اصول و ضوابط نہیں ہیں۔ یہ ربط بے قاعدہ ہے۔ یہ یقینی بے قاعدہ ربط کسی مخصوص زبان استعمال کرنے والے میں مستحکم اور عالمگیر ہے ۔ ”درخت چند آوازوں کا مجموعہ ہے جو ایک مخصوص تصور سے مربوط ہے، اور یہ رشتہ مستحکم ہے۔ اگر چہ کہ یہ کچھ دوسرے آوازوں کے مجموعے کی طرح نہیں ہے جو کچھ دیر بعد تصور سے رشتہ جوڑنا شروع کر دے ۔ مثلاً کل کچھ اور آوازوں کا مجموعہ " کرکٹ“ آج کے درخت کے تصور سے رابطہ نہیں بناتا حالانکہ درخت کا تصور سے تعلق ویسے ہی بے قاعدہ ہے جیسے کے کرکٹ کا۔بامعنی زبان کو بتانے کے لئے الفاظ کچھ قواعد و ضوابط کے ساتھ (یا ذریعے) مستعمل ہوتے ہیں۔ مثلاً الفاظ کا تسلسل ایک مناسب معنی بنانے کے لئے کچھ اصولوں کی پابندی کرتا ہے۔ یہ اصول بھی بے قاعدہ ہوتے ہیں لیکن مستحکم اور عالمگیر ہوتے ہیں۔ لہذا زبان قواعد و ضوابط کے تحت قولی نشانیوں کا ایک نظام ہے جس سے انسان معنی اور مطالب بناتا ہے۔ یہ نظام بہت ہی منظم ہے اور سراسر انسان کا بنایا ہوا ہے۔ حالانکہ کسی بھی زبان میں آوازوں کے مجموعوں کی تعداد محدود ہے، معنی اور مطالب کی تعمیر کے لئے زبانی نظام کی قابلیت لا محدود ہے۔

اردو زبان کا آغاز وارتقا

 اردو زبان کے آغاز وارتقا کے بارے میں اردوکے مختلف عالموں نے اپنے خیالات پیش کیسے ہیں۔ ان علما نے بڑے خلوص سے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ اردو زبان کب، کہاں اور کیسے پیدا ہوئی ۔ تیرہویں صدی سے بیسویں صدی تک اردو کے کئی شاعروں اور ادیبوں نے اردو کی ابتدا کے بارے میں الگ الگ رائیں پیش کی ہیں۔ لیکن سبھی علما اس بات پر متفق ہیں کہ اردو کی پیدائش ہندوستان میں ہوئی۔ بیسویں صدی میں علم زبان یعنی لسانیات کا فروغ ہوا۔ ماہرین لسانیات نے لسانیات کی روشنی میں اردو کے آغاز و ارتقا کے مسئلے پر خالص علمی انداز میں اپنے نظریات پیش کیے۔ ماہرین لسانیات کے نظریات کے علاوہ کئی ایسے عالموں کے نظریات بھی مشہور ہوئے جو لسانیات کے ماہر نہیں تھے ۔

اردو زبان کی ابتداء کے متعلق نظریات:

زبان اردو کی ابتداءو آغاز کے بارے میں کئی مختلف و متضاد نظریات ملتے ہیں یہ آپس میں اس حد تک متضاد ہیں کہ ایک انسان چکرا کر رہ جاتا ہے۔ان مشہور نظریات میں ایک بات مشترک ہے کہ ان میں اردو کی ابتداءکی بنیاد برصغیر پاک و ہند میں مسلمان فاتحین کی آمد پر رکھی گئی ہے۔ اور بنیادی استدلال یہ ہے کہ اردو زبان کا آغاز مسلمان فاتحین کی ہند میں آمد اور مقامی لوگوں سے میل جول اور مقامی زبان پر اثرات و تاثر سے ہوا۔ اور ایک نئی زبان معرض وجود میں آئی جو بعد میں اردو کہلائی ۔ کچھ ماہرین لسانیات نے اردو کی ابتدا ءکا سراغ قدیم آریائو ں کے زمانے میں لگانے کی کوشش کی ہے۔ بہر طور اردو زبان کی ابتداءکے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا ذرا مشکل ہے۔اردو زبان کے محققین اگرچہ اس بات پر متفق ہیں کہ اردو کی ابتداءمسلمانوں کی آمد کے بعد ہوئی لیکن مقام اور نوعیت کے تعین اور نتائج کے استخراج میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس انداز سے اگر اردو کے متعلق نظریات کو دیکھا جائے تو وہ نمایاں طور پر چار مختلف نظریات کی شکل میں ہمارے سامنے آتے ہیں۔

دکن میں اردو:نصیر الدین ہاشمی اردو زبان کا سراغ دکن میں لگاتے ہیں۔ ان کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ طلوع اسلام سے بہت پہلے عرب ہندوستان میں مالا بار کے ساحلوں پر بغرض تجارت آتے تھے۔ تجارت کے ضمن میں ان کے تعلقات مقامی لوگوں سے یقینا ہوتے تھے روزمرہ کی گفتگو اور لین دین کے معاملات میں یقیناانہیں زبان کا مسئلہ درپیش آتا ہوگا۔ اسی میل میلاپ اور اختلاط و ارتباط کی بنیاد پر نصیر الدین ہاشمی نے یہ نظریہ ترتیب دیا کہ اس قدیم زمانے میں جو زبان عربوں اور دکن کے مقامی لوگوں کے مابین مشترک و سیلہ اظہار قرار پائی وہ اردو کی ابتدائی صورت ہے۔ جدید تحقیقات کی روشنی میں یہ نظریہ قابل قبول نہیں ۔ڈاکٹر غلام حسین اس نظریے کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں:

"عربی ایک سامی النسل زبان ہے جب کہ اردو کا تعلق آریائی خاندان سے ہے۔ اس لیے دکن میں اردو کی ابتداء کا سوال خارج از بحث ہو جاتا ہے۔ دکن میں ارد و شمالی ہند سے خلجی اور تغلق عساکر کے ساتھ آئی اور یہاں کے مسلمان سلاطین کی سرپرستی میں اس میں شعر و ادب تخلیق ہوا۔ بہر کیف اس کا تعلق اردو کے ارتقاءسے ہے۔ ابتداء سے نہیں۔

اسی طرح دیکھا جائے تو جنوبی ہند (دکن ) کے مقامی لوگوں کے ساتھ عربوں کے تعلقات بالکل ابتدائی اور تجارتی نوعیت کے تھے۔ عرب تاجروں نے کبھی یہاں مستقل طور پر قیام نہیں کیا یہ لوگ بغرض تجارت آتے ، یہاں سے کچھ سامان خریدتے اور واپس چلے جاتے ۔ طلو ع اسلام کے ساتھ یہ عرب تاجر ، مال تجارت کی فروخت اور اشیائے ضرورت کے تبادلے کے ساتھ ساتھ تبلیغ اسلام بھی کرنے لگے۔ اس سے تعلقات کی گہرائی تو یقینا پیدا ہوئی مگر تعلقات استواری اور مضبوطی کے اس مقام تک نہ پہنچ سکے جہاں ایک دوسرے کا وجود نا گزیر ہو کر یگانگت کے مضبوط رشتوں کا باعث بنتا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں وہ نزدیکی اور قرب پیدا نہ ہوسکاجہاں زبان میں اجنبیت کم ہو کر ایک دوسرے میں مدغم ہو جانے کی کیفیت ظاہر ہوتی ہے اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ عربوں کے یہ تجارتی و مقامی تعلقات لسانی سطح پر کسی بڑے انقلاب کی بنیاد نہ بن سکے البتہ فکری سطح پر ان کے اثرات کے نتائج سے انکار نہیں۔
سندھ میں اردو: یہ نظریہ سید سلیمان ندوی کا ہے جس کے تحت ان کا خیال ہے کہ مسلمان فاتحین جب سندھ پر حملہ آور ہوئے اور یہاں کچھ عرصے تک ان کی باقاعدہ حکومت بھی رہی اس دور میں مقامی لوگوں سے اختلاط و ارتباط کے نتیجے میں جوزبان وجود پذیر ہوئی وہ اردو کی ابتدائی شکل تھی۔ ان کے خیال میں:

"مسلمان سب سے پہلے سند ھ میں پہنچے ہیں اس لیے قرین قیاس یہی ہے کہ جس کو ہم آج اردو کہتے ہیں۔ اس کا ہیولیٰ اسی وادی سندھ میں تیار ہو ا ہوگا۔

اس میں شک نہیں کہ سندھ میں مسلمانوں کی تہذیب و معاشرت اور تمدن و کلچر کا اثر مستقل اثرات کا حامل ہے۔ مقامی لوگوں کی زبان، لباس اور رہن سہن میں دیرپا اور واضح تغیرات سامنے آئے ہیں بلکہ عربی زبان و تہذیب کے اثرات سندھ میں آج تک دیکھے اور محسوس کیے جاسکتے ہیں ۔ آج سندھی زبان میں عربی کے الفاظ کی تعداد پاکستان و ہند کی دوسری تمام زبانوں کی نسبت زیادہ ہے اس کا رسم الخط بھی عربی سے بلاو اسطہ طور پر متاثر ہے۔ عربی اثرات کی گہرائی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ بعض مورخین کے نزدیک دوسری زبانوں میں جہاں دیسی زبانوں کے الفاظ مستعمل ہیں وہاں سندھی میں عربی الفاظ آتے ہیں مثال کے طو ر پر سندھی میں پہاڑ کو ”جبل“ اور پیاز کو ”بصل “ کہنا۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ یہ اثرات زبان میں الفاظ کے دخول سے آگے نہ بڑھ سکے ۔ اس لیے کوئی مشترک زبان پیدا نہ ہو سکی۔ یہی وجہ ہے کہ سید سلیمان ندوی اپنے اس دعوےٰ کا کوئی معقول ثبوت نہیں دے سکے۔بقول ڈاکٹر غلام حسین:

"اس بارے میں قطعیت سے کچھ نہیں کہا جاسکتا ابتدائی فاتحین عرب تھے جن کے خاندان یہاں آباد ہو گئے۔ نویں صدی میں جب ایران میں صفاریوں کا اقتدار ہوا تو ایرانی اثرات سندھ اور ملتان پر ہوئے ۔ اس عرصہ میں کچھ عربی اور فارسی الفاظ کا انجذاب مقامی زبان میں ضرور ہوا ہوگا اس سے کسی نئی زبان کی ابتداءکا قیاس شاید درست نہ ہوگا۔

اس دور کے بعض سیاحوں نے یہاں عربی ، فارسی اور سندھی کے رواج کا ذکر ضرور کیا ہے مگر ان بیانات سے یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ یہاں کسی نئی مخلوط زبان کا وجود بھی تھا۔ البتہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ سندھی اور ملتا نی میں عربی اور فارسی کی آمیزش ہوئی ہوگئی۔ اس آمیز ش کا ہیولیٰ قیاس کرنا کہاں تک مناسب ہے۔ خاطر خواہ مواد کی عدم موجودگی میں اس کا فیصلہ کرنا دشوار ہے۔

پنجاب میں اردو: حافظ محمود شیرانی نے اپنے گہرے لسانی مطالعے اور ٹھوس تحقیقی بنیادوں پر یہ نظریہ قائم کیا ہے کہ اردو کی ابتداءپنجاب میں ہوئی۔ ان کے خیال کے مطابق اردو کی ابتداءاس زمانے میں ہوئی جب سلطان محمو د غزنوی اور شہاب الدین غوری ہندوستان پر باربار حملے کر رہے تھے۔ ان حملوں کے نتیجے میں فارسی بولنے والے مسلمانوں کی مستقل حکومت پنجاب میں قائم ہوئی اور دہلی کی حکومت کے قیا م سے تقریباً دو سو سال تک یہ فاتحین یہاں قیام پذیر رہے۔ اس طویل عرصے میں زبان کا بنیادی ڈھانچہ صورت پذیر ہوا اس نظریے کی صداقت کے ثبوت میں شیرانی صاحب نے اس علاقے کے بہت سے شعراءکا کلام پیش کیا ہے ۔ جس میں پنجابی ،فارسی اور مقامی بولیوں کے اثرات سے ایک نئی زبان کی ابتدائی صورت نظرآتی ہے۔ ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار اس سلسلہ میں لکھتے ہیں:

"سلطان محمود غزنوی کی فتوحا ت کے ساتھ ساتھ برصغیر کی تاریخ کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ فتوحات کا یہ سلسلہ 1000ءسے 1026تک جاری رہا اور پنجاب و سندھ کے علاوہ قنوج ، گجرات (سومنات) متھرا اور کالنجر تک فاتحین کے قدم پہنچے لیکن محمود غزنوی نے ان سب مفتوحہ علاقوں کو اپنی سلطنت میں شامل نہ کیا البتہ 1025ءمیں لاہور میں اپنا نائب مقرر کرکے پنجاب کو اپنی قلم رو میں شامل کر لیا۔ نئے فاتحین میں ترک اور افغان شامل تھے۔ غزنوی عہد میں مسلمان کثیر تعداد میں پنجاب میں آباد ہوئے ، علماءاور صوفیا نے یہاں آکر رشد و ہدایت کے مراکز قائم کیے اور تبلیغ دین کا سلسلہ شروع کیا جس کے نتیجے میں مقامی باشندے گروہ درگروہ اسلام قبول کرنے لگے اس سماجی انقلاب کا اثر یہاں کی زبان پر پڑا ۔ کیونکہ فاتحین نے پنجاب میں آباد ہو کر یہاںکی زبان کو بول چال کے لیے اختیار کیا۔ اس طرح غزنوی دور میں مسلمانوں کی اپنی زبان ، عربی ، فارسی اور ترکی کے ساتھ ایک ہندوی زبان کے خط و خال نمایا ں ہوئے۔

مسلمان تقریباً پونے دو سو سال تک پنجاب ، جس میں موجودہ سرحدی صوبہ اور سندھ شامل تھے حکمران رہے۔ 1193ءمیں قطب الدین ایبک کے لشکروں کے ساتھ مسلمانوں نے دہلی کی طرف پیش قدمی کی اور چند سالوں کے بعد ہی سارے شمالی ہندوستان پر مسلمان قابض ہوگئے۔ اب لاہور کی بجائے دہلی کو دارالخلافہ کی حیثیت حاصل ہو گئی تو لازماً مسلمانوں کے ساتھ یہ زبان جو اس وقت تک بول چال کی زبان کا درجہ حاصل کر چکی تھی، ان کے ساتھ ہی دہلی کی طر ف سفر کر گئی ۔تاریخی اور سیاسی واقعات و شواہد کے علاوہ پرفیسر محمود خان شیرانی ، اردو اور پنجابی کی لسانی شہادتوں اور مماثلتوں سے دونوں زبانوں کے قریبی روابط و تعلق کو واضح کرکے اپنے اس نظرے کی صداقت پر زور دیتے ہیں کہ اردو کا آغاز پنجاب میں ہوا۔ فرماتے ہیں: ” اردو اپنی صرف و نحو میں پنجابی و ملتانی کے بہت قریب ہے۔ دونوں میں اسماءو افعال کے خاتمے میں الف آتا ہے اور دونوں میں جمع کا طریقہ مشترک ہے یہاں تک کہ دونوں میں جمع کے جملوں میں نہ صرف جملوں کے اہم اجزاءبلکہ ان کے توابعات و ملحقات پر بھی ایک باقاعدہ جاری ہے۔ دنوں زبانیں تذکیر و تانیث کے قواعد ، افعال مرکبہ و توبع میں متحد ہیں پنجابی اور اردو میں ساٹھ فی صدی سے زیادہ الفاظ مشترک ہیں۔
مختصراً پروفیسر شیرانی کی مہیا کردہ مشابہتوں اور مماثلتوں پر نظر ڈالیں تو دونوں زبانوں کے لسانی رشتوں کی وضاحت ہو جاتی ہے اور یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ اردو اپنی ساخت اور صرفی و نحوی خصوصیات کی بناءپر پنجابی زبان سے بہت زیادہ قریب ہے اور اس سے بھی پروفیسر موصوف کے استدلال کو مزید تقویت پہنچتی ہے۔

پروفیسر سینٹی کمار چیٹر جی نے بھی پنجاب میں مسلمان فاتحین کے معاشرتی اور نسلی اختلاط کا ذکر کیا ہے اور ڈاکٹر زور کے نقطہ نظر کی تائید کی ہے ۔ ان کے خیال میں قدرتی طور پر مسلمانوں نے جو زبان ابتداً اختیار کی وہ وہی ہوگی جو اس وقت پنجاب میں بولی جاتی تھی وہ کہتے ہیں کہ موجودہ زمانے میں پنجابی زبان خاص طور پر مشرقی پنجاب اور یو ، پی کے مغربی اضلاع کی بولیوں میں کچھ زیادہ اختلاف نہیں اور یہ فرق آٹھ، نو سال پہلے تو اور بھی زیادہ کم ہوگا۔ اس بات کا بھی امکان ہے کہ وسطی و مشرقی پنجاب اور مغربی یوپی میں اس وقت تقریباً ملتی جلتی بولی رائج ہو۔ مزید براں پروفیسر موصوف حافظ شیرانی کی اس رائے سے بھی متفق دکھائی دیتے ہیں کہ پنجاب کے لسانی اثرات کا سلسلہ بعد میں بھی جاری رہا۔
حافظ محمود شیرانی کی تالیف”پنجاب میں اردو“ کی اشاعت کے ساتھ ہی مولانا محمد حسین آزاد کے نظریے کی تردید ہو گئی جس میں وہ زبان کی ابتداءکے بارے میں اردو کا رشتہ برج بھاشا سے جوڑتے ہیں۔ پنجاب میں اردو کا نظریہ خاصہ مقبول رہا مگر پنڈت برج موہن و تاتریہ کیفی کی تالیف ”کیفیہ“ کے منظر عام پر آنے سے یہ نظریہ ذرا مشکوک سا ہو گیا ۔ مگر خود پنڈت موصوف اردو کی ابتداءکے بارے میں کوئی قطعی اور حتمی نظریہ نہ دے سکے۔ یوں حافظ محمودشیرانی کے نظریے کی اہمیت زیادہ کم نہ ہوئی۔
دہلی میں اردو:       اس نظریے کے حامل محققین اگرچہ لسانیات کے اصولوں سے باخبر ہیں مگر اردو کی پیدائش کے بارے میں پنجاب کو نظر انداز کرکے دہلی اور اس کے نواح کو مرکزی حیثیت دیتے ہیں ۔ لیکن دہلی اور اس کے نواح کی مرکزیت اردو زبان کی نشوونما اور ارتقاءمیں تو مانی جا سکتی ہے ابتداءاور آغاز میں نہیں۔ البتہ ان علاقوں کو اردو کے ارتقاءمیں یقینا نمایاں اہمیت حاصل ہے ۔ دہلی اور اس کے نواح کو اردو کا مولد و مسکن قرار دینے والوں میں ڈاکٹر مسعود حسین اور ڈاکٹر شوکت سبزواری نمایاں ہیں۔وہ اس بارے میں لکھتے ہیں کہ:

"یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ ارد و کی ابتداءکا مسلمانوں سے یا سرزمین ہند میں ان کے سیاسی اقتدار کے قیام اور استحکام سے کیا تعلق ہے۔ اردو میرٹھ اور دہلی کی زبان ہے اس کے لیے کسی ثبوت کی ضرورت نہیں ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ اردو اپنے ہار سنگھار کے ساتھ دہلی اور یوپی کے مغربی اضلاع میں بولی جاتی ہے لیکن ہمیں یہ معلوم نہیں کہ اس زبان کاآغاز انہی اضلاع میں ہوا یا کسی اور مقام میں جہاں سے اسے دہلی اور یوپی کے مغربی اضلاع میں لایا گیا۔

ان نظریات کے علاوہ میر امن ، سرسید اور محمد حسین آزاد نے بھی کچھ نظریات اپنی تصانیف میں پیش کیے لیکن یہ نظریات متفقہ طور پر حقیقت سے دور ہیں اور جن کے پیش کنندگان فقدان تحقیق کا شکار ہیں۔

مجموعی جائزہ:اردو کی ابتداءکے بارے پروفیسر محمود شیرانی کا یہ استدال بڑا وزن رکھتا ہے کہ کہ غزنوی دور میں جو ایک سو ستر سال تک حاوی ہے ایسی بین الاقوامی زبان ظہور پذیر ہو سکتی ہے۔ اردو چونکہ پنجاب میں بنی اس لیے ضروری ہے کہ وہ یا تو موجودہ پنجابی کے مماثل ہو یا اس کے قریبی رشتہ دار ہو۔ بہرحال قطب الدین ایبک کے فوجی اور دیگر متوسلین پنجاب سے کوئی ایسی زبان ہمراہ لے کر روانہ ہوئے جس میں خود مسلمان قومیں ایک دوسرے سے تکلم کر سکیں اور ساتھ ہی ہندو اقوام بھی اس کو سمجھ سکیں اور جس کو قیام پنجاب کے زمانے میں وہ بولتے رہے ہیں۔یوں محققین کی ان آراءکے بعد یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ قدیم اردو کا آغاز جدید ہند آریائی زبانوں کے طلوع کے ساتھ 1000ء کے لگ بھک اس زمانے میں ہو گیا جب مسلم فاتحین مغربی ہند ( موجودہ مغربی پاکستان) کے علاقوں میں آباد ہوئے اور یہاں اسلامی اثرات بڑی سرعت کے ساتھ پھیلنے لگے۔

دکن میں اردو زبان و ادب کا ارتقاء:

دکن میں اردو زبان کی نشو ونما کے سلسلے میں کچھ سیاسی واقعات اور لسانی اختلاط نے نہایت اہم رول ادا کیا ہے۔ علاءالدین خلجی نے 1310ء تک دکن کو فتح کر کے اسے اپنی سلطنت میں شامل کر لیا تھا۔ 1327 ء میں محمد شاہ تغلق نے اپنی سلطنت کے پائے تخت کو دولت آباد منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ محمد شاہ تغلق کا یہ فیصلہ سیاسی لحاظ سے جو بھی حیثیت رکھتا ہو، اردو زبان کی نشو و نما کے لیے کارآمد ثابت ہوا۔ اس کے حکم پر جب وہلی سے آبادی کا بہت بڑا حصہ دولت آباد منتقل ہوا وہ اپنے ساتھ اردو زبان لے کر آیا تھا۔ کچھ عرصہ بعد جب بادشاہ نے دہلی واپس جانے کا ارادہ کیا تو سبھی لوگ واپس نہیں گئے ، جو یہاں بس گئے وہ اردو زبان بولتے رہے۔ آہستہ آہستہ اس پر مقامی زبانوں کا بھی اثر ہونے لگا۔ اس تمام عرصے میں اردو زبان کا خمیر پورے طور پر تیار ہو چکا تھا اور اس میں اتنی توانائی اور سکت پیدا ہوگئی تھی کہ اسے تخلیقی اظہار کا ذریعہ بنایا جاسکے۔ 1347 ء میں دکن میں تغلق کی بادشاہت ختم ہو گئی اور علاء الدین حسن بہمنی نے اپنی خود مختاری کا اعلان کرتے ہوئے بہمنی سلطنت کی بنیاد رکھی۔

بہمنی دور کے ادب کو ہم اردو ادب کی بنیاد قرار دے سکتے ہیں۔ دکنی ادب میں شعر و ادب کی تخلیق کا آغاز اسی عہد میں ہوا۔ بہمنی دور چودہویں صدی کے تقریباً نصف سے شروع ہوتا ہے اور سولہویں صدی کے اولین پچیس سال پر محیط ہے۔ بہمنی دور میں دکنی زبان ادبی زبان کے طور پر ابھر نے لگی۔ ایک جانب شاہی سرپرستی نے زبان و ادب کے فروغ میں نہایت اہم رول ادا کیا اور دوسری جانب صوفیائے کرام نے اس زبان کو اسلام کی اشاعت اور رشد و ہدایت کی زبان کے طور پر منتخب کیا جس سے اس کی جڑیں مستحکم ہوئیں۔ دکنی زبان کے ابتدائی نمونوں میں صوفیائے کرام کے ملفوظات اور رسائل اردو نثر ونظم کی ہیئت میں موجود ہیں۔ اس دور کے اہم شعرا اور مصنفین میں حضرت خواجہ بندہ نواز ، فخر الدین نظامی، میراں جی شمس العشاق، اشرف بیابانی، قطب الدین قادری، فیروز سید عبد اللہ حسینی ، مشتاق اور لطفی وغیرہ شامل ہیں۔

 حضرت خواجہ بندہ نواز:حضرت سید محمدحسینی بندہ نواز گیسو دراز فیروز شاہ بہمنی کے دور میں دہلی سے گلبرگہ تشریف لائے۔ اس وقت آپ کی عمراسّی (80) برس تھی۔ حضرت خواجہ بندہ نواز حضرت نظام الدین اولیا کے خلیفہ حضرت خواجہ نصیر الدین چراغ دہلی کے شاگرد اور خلیفہ تھے۔ دلی میں آپ کے معتقدین بڑی تعداد میں تھے۔ آپ نے اسلام کی تبلیغ و اشاعت کی خاطر دکن کا رخ کیا۔ جب 1400 ء میں آپ بہمنی سلطنت کے صدر مقام گلبرگہ تشریف لائے تو خود بادشاہ وقت فیروز شاہ بہمنی نے آپ کا استقبال کیا اور قدردانی کا پورا پورا حق ادا کیا۔ آپ ہمہ وقت عبادت اور درس و تدریس میں مصروف رہتے ۔ قلیل مدت میں آپ کے معتقدین کا دائرہ نہایت وسیع ہو گیا۔ آپ کے ارشادات سے فیض حاصل کرنے کے لیے لوگ دور دور سے آتے تھے ۔ چونکہ عوام کی زبان دکنی تھی اس لیے ان کی سہولت کی خاطر آپ درس دکنی میں دیا کرتے تھے۔ محققین نے آپ کی تصانیف کی تعداد 37 بتائی ہے۔ جن میں "معراج العاشقین ، ہدایت نامہ، تلاوت الوجود، شکار نامہ، چکی نامہ" وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن جدید تحقیق کی روشنی میں ڈاکٹر حفیظ قتیل نے معراج العاشقین کو بیجاپور کے ایک بزرگ حضرت مخدوم شاہ حسینی کی تصنیف قرار دیا ہے۔ حضرت خواجہ بندہ نواز نے مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کو بھی اسلامی تعلیمات سے روشناس کرانے کےلیے چکی نامہ لکھا۔ دکن میں اردو زبان و ادب کے ارتقا میں آپ کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔

 فخردین نظامی:فخردین نظامی بہمنی دور کے نہایت اہم شاعر ہیں۔ یہ سلطان احمد شاہ بہمنی کے دور میں بیدر میں سکونت پذیر تھے۔ فخردین بادشاہ کے دربار سے وابستہ تھے ۔ کدم راؤ پدم راؤ ان ہی کی لکھی ہوئی مثنوی ہے جسے اردو کی پہلی مثنوی کہا جاتا ہے۔ مثنوی کی داخلی شہادت اور اشعار کے مفہوم سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مثنوی احمد شاہ کے دور حکومت میں لکھی گئی تھی۔مثنوی کا دستیاب شدہ نسخہ ناقص الاول، ناقص الاوسط و ناقص الآخر ہے۔ یعنی اس تصنیف کے ابتدائی، درمیانی اور آخر کے کچھ صفحات غائب ہیں، اس لیے مثنوی کے نام کا پتہ نہیں چلتا ہے۔ اس مثنوی کے دو اہم کرداروں کدم راؤ اور پدم راؤ کے نام پر اس کا نام رکھا گیا ہے۔ مثنوی کی عام ہیئت کے مطابق ” کدم راؤ پدم راؤ" کا قصہ بھی حمد، نعت اور مدح سلطان کے بعد شروع ہوتا ہے۔

 میراں جی شمس العشاق:میراں جی شمس العشاق ، شاہ کمال الدین بیابانی کے مرید اور خلیفہ تھے ۔ جوانی میں حج بیت اللہ کے لیے مکہ مکرمہ گئے اور بارہ سال تک مدینہ منورہ میں قیام کیا، اس کے بعد بیجا پور آئے۔ آپ کے والد کا نام حاجی دوام الدین ہے۔ شمس العشاق، حضرت خواجہ بندہ نواز کے سلسلہ صوفیا سے تعلق رکھتے ہیں ۔ شمس العشاق یمنی دور کے بہت بڑے صوفی شاعر تھے۔ اپنے بزرگوں کی طرح انھوں نے بھی درس و تدریس اور تصنیف و تالیف کے لیے دکنی زبان کا انتخاب کیا۔ آپ کی تصانیف اس طرح سے ہیں ؛ شہادت التحقیق ، مغز مرغوب، خوش نامہ، خوش نغز اور شرح مرغوب القلوب وغیرہ۔ میراں جی کی شاعری کا موضوع تصوف ہے اور وہ شاعری کو عوام کی تلقین اور اپنے مریدوں کی ہدایت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں ان کی تین مثنویاں خوش نامہ، خوش نغز اور شہادت التحقیق اہمیت کی حامل ہیں۔

عادل شاہی دور میں شعر وادب کا ارتقا:

عادل شاہی دور دکنی شعر و ادب کے ارتقا کے سلسلے میں بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔ اس دور کے شاعروں اور ادیبوں نے دکنی اردو کو مختلف ارتقائی منزلوں سے روشناس کیا۔ اور مختلف اصناف شاعری جیسے غزل، مثنوی، قصیدہ ،رباعی اور مرثیہ کے علاوہ نثر نگاری کی طرف بھی باقاعدہ توجہ کی۔ لیکن شاعری کا پلہ نثر نگاری کے مقابلہ میں بھاری ہے۔ عادل شاہی عہد کے کم و بیش تمام سلاطین علم و ادب اور شعروسخن کے قدردان اور سر پرست تھے۔ ابراہیم عادل شاہ ثانی " جگت گرو" اور علی عادل شاہ ثانی شاہی کو دیگر سلاطین کے مقابلہ میں اس لیے زیادہ اہمیت حاصل ہے کہ دونوں نے نہ صرف شاعروں ادبیوں اور عالموں کی دل کھول کر سر پرستی کی بلکہ دونوں موسیقی اور فن کے دلدادہ تھے اور ساتھ ہی خود بھی شعر کہتے تھے۔اس دور کے شعرا واد با میں شاہ برہان الدین جانم ابراہیم عادل شاہ ثانی حسن شوقی نصرتی، شاہی، حضرت امین الدین اعلیٰ اور ہاشمی بیجا پوری کے نام قابل ذکر ہیں۔

 شاہ برہان الدین جانم : برہان الدین جانم حضرت شمس العشاق کے فرزند اور خلیفہ تھے ۔ علوم ظاہری اور باطنی کا اکتساب اپنے والد سے کیا تھا۔ اپنے دور کے بڑے عارف اور صوفی تھے۔انہوں نے دکنی زبان میں تصوف اور سلوک کے موضوع پر کئی رسالے تحریر کیے۔ آپ معرفت وسلوک کی تعلیمات سادہ اور سلیس زبان میں اپنے مریدوں اور معتقدین کو دینا چاہتے تھے ۔ جانم چشتیہ سلسلے کے ان بزرگوں میں سے ہیں جن کی تصانیف نے عوام و خواص میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کر لی تھی ۔ آپ کثیر التصانیف بزرگ ہیں۔ انہوں نے نظم و نثر کی کئی کتابیں اپنی یادگار چھوڑی ہیں ان میں ارشاد نامہ وصیت الہادی“ بشارت الذکر، سکھ سہیل منفعت الایمان حجت البقا اور کلمۃ الحقائق "قابل ذکر ہیں ۔

ارشاد نامہ:            اس کا سنہ تصنیف 990ھ ہے یہ برہان الدین جانم کی سب سے طویل نظم ہے۔ اس میں تقریباً ڈھائی ہزار اشعار ہیں۔ نظم کا آغاز حمد ونعت سے ہوتا ہے۔ پھر اپنے پیر اور والد میراں جی شمس العشاق کی تعریف بیان کی گئی ہے۔ اس کے بعد وجہ تالیف پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ وجہ تالیف کےبعد کتاب کے موضوعات کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے بعد اصل کتاب شروع ہوتی ہے جو سوال و جواب کی شکل میں ہے۔ سوال طالب یعنی مرید کی طرف سے اور جواب مرشد کی جانب سے۔

وصیت الهادی: یہ ایک عارفانہ نظم ہے جس میں مسائل سلوک کا ذکر کیا گیا ہے۔ نظم کا آغاز حمد ونعت سے ہوتا ہے اس کے بعد شریعت پر عمل کرنے اور شرک سے اجتناب کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔

بشارت الذکر: یہ ایک مختصری نظم ہے۔ اس میں حمد ونعت کے بعد پانچ ابواب ہیں ۔ ہر باب کے تحت ذکر جلی، قلبی، روحی سری اور خفی پانچ اذکار کا ایک ایک کر کے ذکر کیا گیا ہے۔

حجت البقا: جانم کی یہ ایک طویل نظم ہے۔ اس میں ایک ایسے طالب علم یا مرید کا واقعہ بیان کیا گیا ہے جسے اپنے علم پر غرور تھا۔اسے معلوم ہوا کہ کسی جگہ ایک مرشد کامل رہتے ہیں تو وہ انہیں دیکھنے اور ان سے گفتگو کرنے کی غرض سے ان کے ہاں پہنچا۔ اس نے مرشد سے مختلف مسائل پر سوالات کیے۔ مرشد نے ان کے تسلی بخش جوابات دیے۔ اس نظم میں دونوں کی بحث اور سوال و جواب پیش کیے گئے ہیں۔ آخر میں طالب قائل ہو جاتا ہے اور مرشد سے بیعت کر لیتا ہے۔

حسن شوؔقی:شیخ حسن نام اور تخلص شوق تھا۔ حسن شوقی کا شمار قدیم دکنی کے باکمال غزل گو شعرا میں ہوتا ہے۔ غزلوں کے دیوان کے علاوہ دو مثنویاں ”فتح نامہ "نظام شاہ اور میز بانی نامہ ملتی ہیں۔ حسن شوقی جنگ تالی کوٹ کی فتح کے موقع پر نظام شاہی دربار سے وابستہ تھا اس سلطنت کے خاتمہ کے بعد وہ محمد عادل شاہ کے دور میں بیجا پور چلا آیا۔ " میز بانی نامہ" میں اس نے محمد عادل شاہ کی شادی کو موضوع بنایا ہے۔

علی عادل شاہ ثانی شاؔہی:مملکت بیجا پور کا آٹھواں فرماں روا سلطان علی عادل شاہ ثانی شاہی نہ صرف ایک عظیم الشان سلطنت کا حکمران تھا بلکہ قدیم دکنی زبان کا ایک صاحب دیوان شاعر اور سلطان محمد عادل شاہ کا اکلوتا بیٹا بھی تھا۔ اس کی ماں ایک معمولی عورت تھی ۔ لیکن محمد عادل شاہ کی ملکہ خدیجہ سلطان شہر بانو نے جو محمد قطب شاہ کی دختر اور عبداللہ قطب شاہ کی بہن تھی اس کی پرورش اور تربیت اپنی اولاد کی طرح کی۔ یہی وجہ ہے کہ شاہی کو بچپن ہی سے علم و ادب اور شعر و سخن کا ذوق تھا۔ اس نے کم و بیش تمام اصناف سخن میں طبع آزمائی کی۔ اس کے کلیات میں غزلوں کے علاوہ قصیدوں اور مثنویوں کے علاوہ گیت دوہرے اور جھولنا ملتے ہیں۔ جہاں تک غزل گوئی کا تعلق ہے شاہی دبستان بیجاپور کے اہم متغزلین میں شمار ہوتا ہے۔ علی عادل شاہ ثانی شاہی نے محمد قلی قطب شاہ کی طرح ایک سے زائد تخلص استعمال کیے ہیں۔ گیت کی رنگین اور شگفتہ صنف میں اس نے موضوع اور فضا کی مناسبت سے مدن روپ تخلص سے بھی کام لیا ہے۔ مراثی اور غزل میں کہیں علی عادل شاہ اور مظفر علی شاہ تخلص بھی ملتا ہے۔ شاہی کے کلام میں قصائد کے علاوہ مراثی، فردیات، نظمیں، رباعی، گیت اور مثنویاں سب ہی اصناف سخن موجود ہیں۔ شاہی کے کلام میں مقامی تہذیبی روایات اور مقامی ماحول کی بھر پور ترجمانی ملتی ہے۔ اس نے اپنے تجربات زندگی مشاہدات اور احساسات کو سادگی اور روانی کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

نصرؔتی:شیخ نصرت نصرتی سلطان علی عادل شاہ ثانی شاہی کے دربار کا ملک الشعرا تھا۔ نصرتی کا خاندانی پیشہ سپہ گری تھا۔ نصرتی علی عادل شاہ شاہی کے بچپن کا ساتھی تھا اس لیے بادشاہ کے مزاج میں بھی دخیل تھا۔ اس کے کلام کی اندرونی شہادتوں سے پتہ چلتا ہے کہ نصرتی کا خاندان دکن آکر آباد ہو گیا تھا شائد اسی لیے مقامی لوگ اس کے خاندان کو باہر کا خاندان کہتے اور اس سے حسد کرتے تھے۔ بالآخر اسے شہید کر دیا۔نصرتی کی تین مثنویاں گلشن عشق، علی نامہ اور تاریخ اسکندری کے علاوہ غزلوں، قصائد اور رباعیوں پر مشتمل ایک دیوان ملتا ہے۔ مثنوی گلشن عشق نصرتی کی اولین تصنیف ہے۔ اس کا سنہ تصنیف 1068ھ ہے ۔ اس میں نصرتی نے کنور منوہر اور مد مالتی کی عشقیہ داستان نظم کی ہے۔ مثنوی کو مختلف عنوانات کے تحت تقسیم کیا گیا ہے جیسے حمد نعت منقبت مدح گیسو دراز مدح بادشاہ وغیرہ ۔ ان تفصیلات کے بعد اصل کہانی کا آغاز ہوتا ہے۔ ہر باب کے شروع میں نصرتی نے ایک شعر لکھا ہے ۔ عنوانات کے سارے اشعار ایک ہی بحر اور قافیے میں ہیں اگر ان اشعار کو یکجا کرلیا جائے تو مثنوی کے قصے کا خلاصہ سامنے آتا ہے۔

ہاشمی بیجا پوری:سید میراں میاں خان ہاشمی علی عادل شاہ ثانی کا درباری شاعر تھا وہ مہدوی مذہب کا پیرو تھا اور سید شاہ ہاشمی کا مرید تھا۔ مورخوں کا بیان ہے کہ وہ پیدائشی نابینا تھا۔ بیجا پور کے زوال کے بعد اس نے ارکاٹ میں سکونت اختیار کر لی تھی ۔ ہاشمی ایک قادر الکلام اور پر گو شاعر تھا۔ اس نے غزل ریختی، قصیدہ اور مر جیسے میں طبع آزمائی کی تھی۔ ہاشمی کی تصانیف میں دیوان غزلیات کے علاوہ مثنوی "یوسف زلیخا مثنوی عشقیه معراج نامه مخمس در نعت و مدح مهدی جو نپوری قصائد اور ہجو یہ مثنوی شامل ہیں۔

مثنوی ” یوسف زلیخا‘ ہاشمی کی سب سے ضخیم مثنوی ہے۔ اس کا سنہ تصنیف 1099ھ ہے۔ یہ مثنوی ہاشمی نے اپنے مرشد کی فرمائش پر قلم بند کی ہے۔ ہاشمی نے اس میں یوسف زلیخا کے روایتی قصے کو نظم کیا ہے۔ مثنوی مختلف فصلوں میں تقسیم کی گئی ہے۔ فصلوں کے عنوانات اشعار میں ہیں جنہیں یکجا کرنے سے مربوط نظم بن جاتی ہے۔ اس مثنوی کا بنیادی وصف اس کی سادگی اور سلاست ہے۔

قطب شاہی دور میں شعر وادب کا ارتقا

قطب شاہی دور کے اولین شاعروں میں فیروز، محمود اور خیالی کے نام ملتے ہیں۔ یہ تینوں شعرا ابراہیم قطب شاہ کے دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ قطب الدین فیروز در اصل بیدر کا باشندہ تھا اور بعد میں گولکنڈہ چلا آیا تھا۔ مگر اس کی شاعری کی عظمت اور استادی کا اعتراف گولکنڈے کے شعرا و جہی اور ابن نشاطی نے کیا ہے۔ اس کی تصانیف میں ایک مختصر مثنوی ”پرت نامہ" کے علاوہ چند غزلوں کا پتہ چلتا ہے۔ فیروز کی گولکنڈہ میں آمد وہی حیثیت رکھتی ہے جیسے کہ بعد کے زمانہ میں ولی کی دہلی میں۔

فیروز کی طرح سید محمود اور ملا خیالی بھی قطب شاہی دور کے اولین شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ وجہی، محمد قلی اور ابن نشاطی نے انھیں عظیم المرتبت شاعر اور استادخن کی حیثیت سے یاد کیا ہے۔ محمود کے کلام کا ایک مخطوطہ انجمن ترقی اردو کراچی کے کتب خانے میں محفوظ ہے۔اس کے علاوہ ڈاکٹر جمیل جالبی نے ” تاریخ ادب اردو ( جلد اول) میں محمود کی چند غزلیں اور بعض غزلوں کے منتخب اشعار شائع کیے ہیں ۔ ملا خیالی کی صرف ایک ہی غزل دستیاب ہوتی ہے۔

 محمد قلی قطب شاہ:گولکنڈے کا پانچواں حکمران محمد قلی قطب شاہ 1580ء میں تخت نشین ہوا۔ اس نے شہر حیدر آباد بسایا اور اس شہر میں بسنے والے مختلف طبقوں کے درمیان خلوص اور بھائی چارگی کے جذبات کی ترویج کی ۔ محمد قلی قطب شاہ کو ایک مستحکم اور طاقتور حکومت اپنے والد سے ورثے میں ملی تھی ۔ اس کا دور حکومت مجموعی طور پر امن و امان میں گزرا۔ اس کے دور میں ایران کے مشہور عالم اور مدبر میر مومن حیدرآباد میں تھے جنہیں اس نے اپنا مشیر مقرر کیا تھا سلطنت کے بیشتر کاروبار کی نگرانی میں مومن ہی کے سپر د تھی۔ یہی وجہ ہے کہ محمد قلی کو سیاسی اور انتظامی الجھنوں سے آزاد رہ کر بڑی حد تک عیش و عشرت کی زندگی گزار نےکا موقع مل گیا۔محمد قلی قطب شاہ دکنی اردو کا ایک قادر الکلام شاعر تھا۔ موجودہ معلومات کی روشنی میں محمد قلی قطب شاہ اردو کا پہلا صاحب دیوان شاعر ہے۔ اس کادیوان پچاس ہزار اشعار پر پر مشتمل ہے جس کو اس کے بھتیجے اور داما دسلطان محمد قطب شاہ نے مرتب کر کے اس پر ایک منظوم مقدمہ بھی تحریر کیا تھا۔ اس کے دیوان میں غزلیں، قصیدے، مثنویاں، مرثیے، نظمیں، رباعیاں تقریباً سبھی اصناف سخن موجود ہیں لیکن بنیادی طور پر وہ غزل کا شاعر ہے۔ محمد قلی کے کلام کی سب سے نمایاں خصوصیت سادگی بیان ہے۔ اس نے اپنے جذبات، احساسات اور تجربات زندگی کو سادگی، روانی اور حقیقت پسندی کے ساتھ پیش کیامتعلق جو معلومات اپنے اشعار میں پیش کی ہیں وہ ہماری تہذیب کے بیش بہا خزانے ہیں جنھیں اشعار کی صورت میں محمد قلی نے ہمیشہ کے لیے تاریخ و ثقافت سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے محفوظ کر دیا ہے۔ اس نے اپنی شاعری میں اپنے محلوں کا ذکر بھی کیا ہے اپنے ہاتھی گھوڑے پر بھی نظمیں کہی ہیں۔ شادی بیاہ کے رسوم و رواج عیدوں، تہواروں، موسموں کھیلوں وغیرہ کی تفصیلات کو بھی اپنے کلام میں پیش کیا ہے۔ یہ ساری تقاریب خواہ مذہبی نوعیت کی ہوں یا موسمی تہواروں کی محمد قلی کے لیے عیش وعشرت کے ایک تازہ عنوان کی حیثیت رکھتی تھیں اور وہ خدا کا شکر کرتا ہے کہ نبی اور علی کے صدقے سے دن رات عیش کرنے کے مواقع حاصل ہیں۔محمد قلی کا کلام اس کی حب الوطنی اور قوم پرستی کا بھی مظہر ہے۔ اس نے دکن کے ذرے ذرے سے محبت کی ۔ اس سرزمین کے موسموں، پہاڑوں اور دریاؤں اور یہاں کے شب و روز سے اسے والہانہ وابستگی تھی۔ ہندوستانی معاشرت، ہندوستانی طرز زندگی، یہاں کے رسم ورواج اور ثقافتی میلانات محمد قلی کے طرز فکر میں اتنے رچ بس گئے تھے کہ جگہ جگہ یہ عناصر اپنا پر تو دکھاتے ہیں۔

اسداللہ وجہی:اسد اللہ وجہی قطب شاہی دور کا ایک عظیم المرتبت شاعر اور با کمال نثر نگار ہی نہیں بلکہ اپنے عہد کا ایک بلند پایہ عالم اور فلسفی بھی تھا۔ اس کی تاریخ ولادت اور تاریخ وفات کا پتہ نہیں چلتا۔ غالباً وہ گولکنڈہ کے چوتھے حکمران ابراہیم قطب شاہ کے عہد (1550ء۔ 1580ء) میں پیدا ہوا اور پھر اس نے مزید تین قطب شاہی سلاطین محمد قلی قطب شاہ (1580ء - 1611ء) محمد قطب شاہ (1611ء - 1626ء) اور عبد اللہ قطب شاہ (1626ء۔1674ء) کا زمانہ بھی دیکھا۔ وجہی نے مثنوی قطب مشتری، تاج الحقائق 'سب رس اور فارسی دیوان کے علاوہ چند غزلیں اور مریے اپنی یادگار چھوڑے ہیں۔ سلطان محمد قلی قطب شاہ اسے بے حد عزیز رکھتا تھا اس نے وجہی کو اپنے دربار کا ” ملک الشعرا مقر رکیا تھا۔ اس دور میں وجہی کو غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی۔ وہ بادشاہ وقت کا دست راست بن گیا تھا۔ اسی دور میں اس نے اپنی شاہ کار مثنوی ” قطب مشتری (1018ھ م 1609ء)لکھی ۔ یہ وجہی کی طبع زاد مثنوی ہے۔ اس مثنوی کو وجہی نے صرف بارہ دن میں مکمل کیا۔ اس کا موضوع قلی قطب شاہ اور بھاگ متی کی داستان عشق ہے۔ وجہی صرف ایک با کمال شاعر ہی نہیں بلکہ اپنے دور کا ایک بلند پایہ نثر نگار بھی تھا۔ وجہی کی نثری تصنیف ”سب رس“ ہے۔اس کتاب کو وجہی نے عبداللہ قطب شاہ کی فرمائش پر 1045 ھ م 1635ء میں لکھا تھا۔ اس کتاب کی وجہ سے وجہی کو شہرت اور عظمت حاصل ہوئی ۔ ”سب رس کو نہ صرف دکنی زبان میں بلکہ سارے اردو ادب میں پہلا ادبی کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔ حالاں کہ "سب رس" سے پہلے دکنی زبان میں نثری رسالے ملتے ہیں لیکن ان کی حیثیت ادبی نہیں بلکہ مذہبی ہے۔ سب رس وہ پہلی نثری کتاب ہے جو عشقیہ قصے پر مبنی ہے اور ادبی معیارات پر پوری اترتی ہے۔ ”سب رس“ کا قصہ محمد بی ابن سیبک فتاحی نیشاپوری کی فارسی نثری تصنیف ”قصہ حسن و دل" سے ماخوذ ہے۔ وجہی نے اپنی بے پناہ علمی اور تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اس کتاب کو ایک تخلیقی تصنیف کا درجہ دے دیا ہے۔ اس کا اسلوب متفی ہوتے ہوئے بھی سادہ و پر کار ہے۔ قصے کے دل چسپ عناصر اس کی ادبی اور تخلیقی نثر وجہی کا زور بیان اور اس کی انشا پردازی کے سبب یہ کتاب اردو نثر کے لا زوال نمونوں میں شمار ہوتی ہے۔ "سب رس" ایک تمثیلی قصہ ہے جس میں انسانی جذبات و احساسات اور انسانی صلاحیتوں اور قوتوں جیسے عشق، عقل، حسن، غمزۂ عشوۂ ناز ناموس، ہمت دل نظر خیال و ہم صبر وفا وغیرہ کو کرداروں کے روپ میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ قصہ دو سطحوں پر آگے بڑھتا ہے۔ ایک سطح ظاہری کہانی کا انداز لیے ہوئے ہے اور دوسری سطح علم باطنی سے متعلق ہے۔

ملک الشعرا غواصی:غواصی قطب شاہی عہد کا ایک عظیم المرتبت اور قادر الکلام شاعر تھا۔ غواصی کا نام شیخ بہا الدین، لقب غواصی، کنیت ابومحمد اور تخلص غواصی تھا۔ اس کی تاریخ پیدائش اور حالات زندگی بڑی حد تک پردہ تاریکی میں ہیں۔ اس کے کلام کی اندرونی شہادتوں سے صرف اس قدر پتہ چلتا ہے کہ وہ ابراہیم قطب شاہ کے دور میں پیدا ہوا۔ محمد قلی قطب شاہ کے دور میں اس نے شاعری کا آغاز کیا۔ اس نے محمد قطب شاہ اور عبداللہ قطب شاہ کا زمانہ بھی دیکھا ۔ سلطان عبد اللہ قطب شاہ کا دور غواصی کی شاعری کا زریں دور ہے۔

غواسی کی ابتدائی زندگی مفلوک الحالی میں گزری۔ ملک الشعرا کا اعزاز ملنے سے قبل وہ ایک معمولی ملازم تھا ۔ اور پہرے داری کی خدمت پر مامور تھا۔ یہ ملازمت غواصی جیسے حساس شاعر کے لیے تکلیف دہ تھی۔ اس لیے اس سے چھٹکارہ پانے کے لیے اس نے ایک قصیدے میں بادشاہ سے درخواست کی کہ اسے ایک گاؤں بخشا جائے اور پہرے کی خدمت سے معاف فرمایا جائے ۔ عبداللہ قطب شاہ جو نہ صرف شاعروں ادیبوں اور اہل کمال کا قدر دان تھا اس نے نہ صرف خواستی کی خاطر خواہ سر پرستی کی بلکہ اپنے دربار کا ملک الشعرا بنایا اور قطب شاہی سفیر کی حیثیت سے اس کو بیجا پور روانہ کیا اور فصاحت آثار" کے خطاب سے بھی سرفراز کیا۔ غواصتی کی تین مثنویوں مینا ستونتی، سیف الملوک اور بدیع الجمال اور طوطی نامہ کے علاوہ غزلوں، قصیدوں رباعیوں اور مرثیوں پر مشتمل دیوان منظر عام پر آچکا ہے۔ جہاں تک غزل گوئی کا تعلق ہے غواصی دبستان دکن کا سب سے بڑا شاعر ہے۔ اظہار بیان کی سادگی غواصی کی غزل کی سب سے نمایاں خصوصیت ہے۔

 ابن نشاطی:قطب شاہی عہد کے اہم شاعروں میں ایک نام ابن نشاطی کا بھی ہے جس کی مثنوی ” پھول بن ، دکنی اردو کی منتخب مثنویوں میں شمار ہوتی ہے۔ ابن نشاطی کا پورا نام شیخ محمد مظہر الدین ابن نشاطی تھا۔ اس کے مفصل حالات زندگی کا پتہ نہیں چلتا ۔ پھول بن کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اس نے اچھی تعلیم و تربیت حاصل کی تھی۔ مثنوی میں بعض ایسے اشارے موجود ہیں جن کی بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس کو فن بلاغت اور علم معانی و بدیع سے خاص شغف تھا اور فارسی پر عبور رکھتا تھا۔ وہ بنیادی طور پر ایک انشا پرداز تھا لیکن اس کی انشا پردازی کا کوئی نمونہ منظر عام پر نہیں آیا۔ مثنوی ” پھول بن سلطان عبداللہ قطب شاہ کے دور میں 1066ھ میں صرف تین ماہ میں لکھی گئی۔ اس مثنوی کی زبان سلیس و سادہ ہے۔ مثنوی کے مطالعہ سے شاعر کی قادر الکلامی اور کمال فن کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ مثنوی فارسی تصنیف ”بساتین الانس“ کے قصے پر مبنی ہے لیکن ابن نشاطی نے اصل قصے میں کچھ تبد یلیاں کی ہیں اور اسے کئی ابواب میں تقسیم کر کے ہر باب کا آغاز ایک ایسے شعر سے کیا ہے جس میں اس باب کا خلاصہ آجاتا ہے۔ ” پھول بن‘اپنی روانی و بے ساختگی زبان و بیان کی صفائی طرز ادا کی دل کشی اور فنی رچاؤ کے اعتبار سے دکنی ادب کا ایک قابل قدر کارنامہ ہے۔ ”ہندوستانی قصوں سے ماخوذ اردو مثنویاں، میں گوپی چند نارنگ نے ابن نشاطی کی ” پھول بن کے ادبی محاسن کو بہت سراہا ہے اور ابن نشاطی کو ایک شعلہ بیان شاعر اور الفاظ کا ساح قرار دیا ہے۔ گوپی چند نارنگ لکھتے ہیں کہ ”پھول بن میں مکالموں کی برجستگی زور طبیعت شاعرانہ لطافت انداز بیان کی خوبیاں اور زبان و بیان کا لوچ دل پر گہرا اثر کرتا ہے۔“ قطب شاہی عہد کے دیگر شاعروں میں احمد گجراتی، عبداللہ قطب شاہ فائز ، طبعی اور جنیدی کے نام بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ احمد گجراتی نے اپنی دو مثنویاں یوسف زلیخا اور لیلیٰ مجنوں محمد قلی قطب شاہ کے دربار میں پیش کی تھیں۔ عبداللہ قطب شاہ بنیادی طور پر ایک غزل گو شاعر تھا۔ اسی طرح فائز کی رضوان شاہ و روح افزا طبعی کی بہرام و گل اندام اور جنیدی کی ماہ پیکر قطب شاہی دور آ خر کی منتخب اور نمائندہ مثنویاں ہیں۔

عالمگیری عہد (ولی اور سراج کے حوالے سے)

اور نگ زیب نے 1985ء میں بیجاپور اور 1686ء میں گولکنڈہ فتح کر کے مغلیہ سلطنت میں شامل کر لیا۔ بیجا پور اور گولکنڈہ کے شاہی درباروں میں دکنی شعرا کی بڑی قدر و منزلت تھی۔ انھیں ان کی تصنیفات پر معقول انعام و اکرام سے مالا مال بھی کیا جاتا تھا۔ فرمانرواؤں کے علاوہ سلطنت کے مختلف امرا بھی ادیبوں، شاعروں اور دوسرے ارباب علم وفن کی سرپرستی میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے تھے ۔ لیکن ان سلطنتوں کے زوال کی وجہ سے اس قسم کی قدر دانی بھی کم ہوگئی۔ اور نگ زیب نے 1062ھ (1651 ء) میں جب کہ وہ دکن کے صوبے دار تھے اور نگ آباد کو اپنا مستقر بنایا تھا جس کی وجہ سے اس شہر کی رونق بڑھنے لگی ۔ مغلیہ سلطنت کا مستقر ہونے کی وجہ سے یہ شہر شمالی ہند کے علما و فضلا کا مرکز بن گیا۔ شمالی ہند کے علاوہ بیجا پور اور گولکنڈے کے شعرا بھی رفتہ رفتہ اور نگ آباد کا رخ کرنے لگے۔ اس طرح وہاں شعر و شاعری کا چر چا بڑھنے لگا۔ اور نگ زیب کی وفات (1706 ء) کے وقت تقریباً پورا دکن مغلیہ سلطنت میں شامل تھا ۔ دکن کے مختلف حصوں میں مغل شہنشاہ کے مقرر کیے ہوئے صوبیدار صوبے کا نظم ونسق چلاتے تھے۔ اور نگ زیب کی وفات کے بعد خانہ جنگی شروع ہوئی تو دکن بھی اس سے متاثر ہوا۔ اور نگ زیب کے جانشینوں کی نا اہلی اور عیش پرستی کی وجہ سے ملک کا نظم و نسق بگڑ گیا اور سلطنت کے مختلف صوبے آزاد اور خود مختار ہونے لگے ۔ اس انتشار اور بدنظمی کے پیش نظر نواب میر قمرالدین خاں نظام الملک آصف جاہ نے 01136 / 1723ء میں دکن میں آصفیہ سلطنت کی بنیا د رکھی ۔ بیجا پور اور گولکنڈے کی سلطنتوں کے خاتمے سے لے کر دکن میں آصف جاہی سلطنت کے قیام کا درمیانی عہد دکنی ادب کا مغل دور کہلاتا ہے۔ اس دور کا سب سے بڑا شاعر ولی اور نگ آبادی ہے۔

ولی اورنگ آبادی : ولی اورنگ آبادی کو اردو شاعری میں صنف غزل کے معمار و مجتہد کی حیثیت حاصل ہے ۔ لیکن ان کے حالات زندگی کی تفصیلات کا پتہ نہیں چلتا۔ تذکرہ شعرائے دکن کے مصنف عبدالجبار خاں صوفی ملکا پوری نے ولی کا سال ولادت 1079 ھ متعین کیا تھا جسے عام طور پر قبول کر لیا گیا۔   ولی نے اپنی زبان کو دکنی کہا ہے۔ولی ایک خوش فکر شیریں گفتار اور قادر الکلام شاعر تھے۔ ان کی کلیات میں غزلیات کے علاوہ مخمسات رباعیات مستزاد ،ترجیع بند مرثیہ، قصائد، مثنویات اور قطعہ شامل ہے۔ وکی بنیادی طور پر غزل گو شاعر تھے ۔ انھوں نے دکنی غزل کی روایات کی پابندی کرتے ہوئے غزل کی روایت میں توسیع کی۔ وکی کی غزل واردات قلب، تجربات اور مشاہدات کی ترجمان ہے۔ انھوں نے حسن کی مختلف کیفیتوں اور مختلف اداؤں کو دیکھا اور محسوس کیا اور اپنی غزل میں ان کی عکاسی کی ۔ حسن ان کے لیے سرچشمہ انبساط بھی ہے اور تخلیقی عمل کا محرک بھی ۔ ان کی غزل محبوب کے حسن و جمال ناز وانداز اور دلر بائی کا آئینہ اور ان کا فن حسن کے بیان کا وسیلہ ہے۔ ان کی حسن پرستی نے ان کی غزل کو محبوب کے زلف و کاکل لب و عارض قد وقامت اور اس کی رفتار و گفتار کا مرقع بنا دیا ہے۔

ترا مکھ حسن کا دریا و مو جاں چین پیشانی                                       اگر ابرو کی کشتی کے بوتل جبوں ناخدا دستا

ولی کی شاعری کا دوسرا امتیازی پہلوان کا ہندوستانی تخیل ہے۔ جس نے ان کے شعری افکار میں ایک عجیب مٹھاس اور دکشی پیدا کی ہے۔ ان کی غزل کی فضا میں ہندوستانی دھرتی کی مہک اور مقامی تہذیب و تمدن کی رنگینی بسی ہوئی ہے۔ ان کی غزلیات میں ہندوستانی موسموں پرندوں جانوروں دریاؤں، پہاڑوں، پھولوں، پھلوں، ملبوسات اور زیورات وغیرہ کے بکثرت حوالے پائے جاتے ہیں۔ ان کی تشبیہات تلمیحات استعاروں اور علامتوں میں بھی دیہی عناصر سے استفادے کا عمل نظر آتا ہے۔

ولی نے دکنی شاعری کے جن صحت مند رجحانات کو اپنی شاعری میں برقرار رکھا ان میں محبوب کا واضح تصور بھی ہے ان کا محبوب کوئی فرضی یا خیالی مخلوق نہیں بلکہ وہ مادی وجود رکھتا ہے اور پوری نسوانیت کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے۔ انھوں نے اپنی غزلوں میں محبوب کا ذکر صیغہ تانیث میں کیا ہے۔

مت غصے کے شعلے سوں جلتے کوں جلاتی جا                      ٹک مہر کے پانی سوں تو آگ بجھا تی جا

ولی کے کلام میں تصوف ترک دنیا اور فقر وتوکل کی باتیں بھی ماتی ہیں لیکن یہ ان کے اصل موضوعات نہیں ہیں۔ محض تبدیلی ذائقہ کی خاطر وہ تصوف و طریقت کی بات کرتے ہیں۔ ان کا اصل رنگ حسن پرستی، آزاد مشربی نیاز مندی اور آشنا پرستی ہے۔ اس رنگ میں ان کی غزلیں شعریت، نغمگی، رنگینی اور کیف میں ڈوبی ہوئی نظر آتی ہے۔ ولی ؔایک عہد ساز شاعر تھے۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے دکنی ادب کی تین سوسالہ روایت کوجس کے سوتے خشک ہورہے تھے ایک طرف تو شمالی ہند کی معیاری بولی ریختہ سے ہم کنار کیا اور دوسری طرف اپنی جدت طبع کا مظاہرہ کرتے ہوئے فارسی غزل کے موضوعات و مضامین اور فارسی زبان کے ذخیرہ الفاظ سے بے دریغ استفادہ کیا۔ اس طرح انہوں نے اُردو غزل میں اس قدر نئے امکانات پیدا کیے کہ ولی کے بعد بھی تقریباً دوسو سال تک اردو غزل ولی کے بنائے راستے پر چلتی رہی۔ اسی لیے ولی کو بابائے ریختہ اور اردوغزل کا مجتہد اور امام کہا جاتا ہے۔ولی کی عظمت واہمیت اور اردو شاعری پر ان کے اثرات کو سمجھنے کے لیے ان کے سفر دہلی کا ذکر ضروری ہے۔ کیونکہ ان کی شخصیت دکن اور شمال کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ولی نے 1112ھ (1700ء) میں دہلی کا سفر کیا۔ اس وقت شمالی ہند کے شعرا صرف فارسی میں داد خشن دیتے تھے۔ اردو کو وہ بازاری زبان سمجھتے تھے۔ ولی نے دہلی میں اُردو غزل کی شمع روشن کی ۔ ان کے اثر سے شمالی ہند کے شعرا نے اردو میں غزل گوئی کا سلسلہ شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اردو غزل سارے شمالی ہند میں مقبول ہو گئی۔

سراج اورنگ آبادی : ان کا اصل نام سید سراج الدین اور تخلص سراج تھا۔ ان کے والد کا نام سید درویش تھا ۔ سراج 1128ھ کو اور تنگ آباد میں پیدا ہوئے۔بارہ سال کی عمر تک سراج کی تعلیم و تربیت ان کے بزرگوں کی نگرانی میں ہوئی۔ بارہ سال کی عمر میں ان کی طبیعت پر دیوانگی کا عالم طاری ہوا۔ وہ سات برس تک جذب اور بے خودی کی حالت میں رہے ۔ سات سال کے بعد ان کو افاقہ ہوا۔ صحتیابی کے بعد سراج نے شاہ عبد الرحمن چشق (م 1161ھ ) سے بیعت کی۔

جس زمانے میں سراج پر جذب و بے خودی کی کیفیت طاری تھی اس زمانے میں وہ فارسی میں نہایت دردانگیز اشعار کہتے تھے۔ چونکہ اس وقت ان کی عمر نہایت کم اور اشعار نہایت اعلیٰ پائے کے تھے اس لیے لوگ انھیں سن کر حیرت میں پڑ جاتے اور ان کے کلام کو فیض الہام تصور کرتے ۔ لیکن افسوس کہ کسی نے سراج کے اس زمانے کے کلام کو محفوظ نہیں کیا ۔ شاہ عبدالرحمن چشتی سے بیعت کرنے کے بعد سراج اپنے عزیز دوست اور برادر طریقت شاہ عبدالرسول چشتی کی فرمائش پر اردو میں شعر کہنے لگے۔ شاہ عبدالرسول ان کے کلام کے شائق تھے۔ انھوں نے ان کی غزلیات اور متفرق اشعار کو جمع کر کے دیوان کی شکل دی۔ دیوان کی تکمیل کے بعد سراج نے اپنے مرشد شاہ عبدالرحمن چشتی کے حکم پر غزل گوئی ترک کی لیکن مثنویات لکھتے رہے۔ شاعری میں وہ کسی کے شاگرد نہیں تھے۔ ولی کے بعد سراج دکن میں مغلیہ دور کے سب سے اہم شاعر ہیں۔ عمر کے آخری حصے میں سراج کی شخصیت نہایت مقدس اور بزرگ ہوگئی تھی۔ علما و مشائخ ان کا احترام کرتے تھے۔ اورنگ آباد میں سراج کو استادی کا مرتبہ حاصل تھا۔ ان کی شاعری اور بزرگی کی شہرت دکن سے نکل کر گجرات اوردہلی تک پھیل چکی تھی۔ 1117ھ میں جب سراج کی عمر پچاس سال تھی ان کا انتقال ہوا۔ سراج کی تصانیف میں فارسی کلام ،کلیات اردو منتخب دیوا نہا اور مثنوی بوستان خیال شامل ہیں۔ سراج نہایت پر گو شاعر تھے۔ انھوں نے پانچ چھے سال کی قلیل مدت میں اپنا دیوان مکمل کر لیا ۔ اس وقت ان کی عمر صرف چوبیس سال تھی ۔انھوں نے تقریباً تمام اصناف سخن میں طبع آزمائی کی۔ ان کی منحنیم کلیات میں غزلیات کے علاوہ مثنویاں قصائد ترجیع بند مستنزاد مخمسات رباعیات وغیرہ شامل ہیں۔ سراج عشق کے شاعر ہیں۔ عشق ان کے فن اور تخلیق کا سرچشمہ فکر کا مرکزی نقطہ اور زندگی کا دائرہ ہے۔ وہ سر تا پا رہینِ عشق تھے اور ان کا عقیدہ تھا کہ ہستی عشق و محبت کے سوا کچھ اور نہیں۔ جس دل میں عشق کی روشنی جاگتی ہے اس پر کائنات کے اسرار منکشف ہوتے ہیں۔ سراج کی عشقیہ شاعری کا کے سوا اور کی پر اسرار کا تجزیہ کرتے ہوے ڈاکٹر جمیل جالبی لکھتے ہیں:

"سراج کے عشقیہ جذبات میں ایک کرمی جلانے اور تڑپانے والی کیفیت بہت نمایاں ہے۔ اور یہ کیفیت جب سرشاری و بے خودی سےپیدا ہونے والے آہنگ آواز اور لے کو ساتھ لے کر جب الفاظ کے بطن میں اترتی ہے تو الفاظ زندہ ہو جاتے ہیں اور شعر منہ سے بولنے لگتے ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عشق میں انتہائی شدت ہے وارفتگی ہے عالم جذب و شوق میں صحرا صحرا پھرنے اور گریبان چاک کرنے کا احساس ہے لیکن اس کے ساتھ اظہار بیان میں ایک نپا تلا پن ایک توازن ہے۔ ہاں دل و دماغ مل کر ایک وحدت بناتے ہیں ۔"                                                                      ( ڈاکٹر جمیل جابی، تاریخ ادب اردو جلد اول ص 570 )

 سراج کی شاعری کا دوسرا اہم موضوع تصوف ہے۔ انھوں نے اپنی شاعری میں جابجا مخصوص صوفیانہ خیالات کا اظہار کیا ہے اور حقائق و معارف کے دریا بہائے ہیں۔ ان کے اشعار صوفیانہ تجربات کی ترجمانی، نغمگی و ترنم اور وجد آفریں کیف و سرور کا بہترین نمونہ ہیں:

خبر تحیر عشق سن نہ جنوں رہا نہ پری رہی                                      نہ تو تو رہا نہ تو میں رہا جو رہی سو بے خبری رہی

سراج نے چھوٹی بڑی کل گیارہ مثنویاں لکھیں۔ ان میں ” بوستان خیال نہایت اہم ہے۔ سراج نے یہ مثنوی 1160 ہجری میں لکھی ۔ ” بوستان خیال“ اس کا تاریخی نام ہے جو اس مثنوی کے سنہ تصنیف اور تعداد اشعار (1160) کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے یہ مثنوی صرف دو دن میں لکھی ۔ اس میں انھوں نے کوئی فرضی قصہ یا خیالی داستان نظم نہیں کی ہے بلکہ اپنی آپ بیتی بیان کی ہے۔ سادگی سلاست روانی اور ربط کلام کے اعتبار سے بوستان خیال اُردو کی بہترین مثنویوں میں سے ایک ہے۔

فورٹ ولیم کالج کی ادبی خدمات:

فورٹ ولیم کالج لارڈ ویلزلی کے زمانے میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے کورٹ آف ڈائرکٹرس کی اجازت سے کلکتہ میں قائم کیا گیا۔ اس کالج کا بنیادی مقصد انگریز ملازمین کو ہندوستانی زبان (اردو) سکھانا تھا۔ انگریز جانتے تھے کہ وہ بہت موثر انداز سے ہندوستان میں ان کی مقبوضہ ریاستوں میں حکومت کرسکیں ۔ چنانچہ انھوں نے 1800ء میں فورٹ ولیم کالج کلکتہ میں قائم کیا۔ اس کا لج میں بہت سے علوم وفنون کی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا گیا۔ فورٹ ولیم کالج کی ابتدا جس زمانے میں ہوئی وہ ہندوستان کی تاریخ کا پر آشوب دور تھا۔ صوبائی بغاوتیں شہنشاہیت کو نقصان پہنچارہی تھیں اور غیر ملکی طاقتیں اس دور کے سیاسی انتشار سے پورا فائدہ حاصل کرنے کے لیے سرگرم عمل تھیں۔ بنگال، پلاسی کی جنگ 1757ء کے نتیجے میں فرنگی تسلط میں آ گیا تھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی جو صرف تجارتی مقصد سے قائم کی گئی تھی اب سیاست کے میدان میں بھی قدم جمانے لگی تھی ۔ بکسر کی لڑائی کے بعد انگریز تسلط نہ صرف مشرقی اضلاع پر مستحکم ہوا بلکہ مغربی اور جنوبی ہند تک پہنچ چکا تھا۔ اس تسلط کو برقرار رکھنے مزید سیاسی اقتدار حاصل کرنے اور حکومت کے کاروبار چلانے کے لیے انگریز افسروں کا دیسی زبانوں سے واقف ہونا ضروری تھا۔ فارسی کا عروج ختم ہو چکا تھا۔ اردو ایک عوامی زبان کی حیثیت سے ملک کے اکثر و بیشتر حصوں میں بولی اور کبھی جاتی تھی ۔ عوام میں اردو کا چرچا ہونے لگا تو کمپنی بہادر کے حکام نے بھی اردو سیکھنے کی طرف سنجیدگی سے توجہ کی اور فورٹ ولیم کالج کلکتہ میں 1800ء میں قائم کیا ۔ اس کالج کا مقصد اردو کی بقایا ترویج واشاعت نہ تھا بلکہ کمپنی کے انگریز ملازمین کو اردو سکھانے کا انتظام کرنا تھا۔ اس وقت ملک کی ابھرتی ہوئی زبان اردو ہی تھی جو ہندوستان کے طول و عرض میں نہ صرف بولی اور سمجھی جاتی تھی بلکہ اس میں تصنیف و تالیف کا کام بھی ہو رہا تھا۔ چنانچہ ار باب مقتدر اس زبان کو سیکھنے اور سمجھنے کے لیے مجبور تھے ۔ فورٹ ولیم کالج کا قیام چوں کہ سرکاری طور پر منظم کا وش تھی اس لیے اس کا اردو نثر کی ترقی و رفتار پر خوش گوار اثر پڑا۔ فورٹ ولیم کالج میں جو کتابیں تیار ہوئیں وہ ایسے لوگوں کے لیے تھیں جو اردو زبان سیکھنا چاہتے ہوں اسی لیے سادہ اور سلیس زبان میں تیار کی گئیں ۔ اردو قواعد کی کتابیں اور لغات بھی تیار کی گئیں۔ اردو میں جو نثری کتابیں تھیں وہ مشکل زبان میں تھیں اور تمام تر مذہبی تھیں ۔ تاریخ اور دوسرے علمی موضوعات پر اردو میں کتابیں نہیں تھیں ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ علمی اور ادبی کاموں کے لیے ایک مدت تک فارسی ہی استعمال کی جاتی تھی اس وجہ سے فورٹ ولیم کالج میں سادہ اور سلیس اردو زبان میں کتابیں لکھوائی گئیں۔ ڈاکٹر جان گل کرسٹ اور اردو کے دوسرے انگریز پروفیسران گل کرسٹ کا پورا نام جان بارتھ وک گل کرسٹ (John Barth wick Gilchrist) تھا۔ اسکاٹ لینڈ کے باشندے تھے۔ 1783ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی میں ڈاکٹر کی حیثیت سے ملازم ہوئے اور ہندوستان آئے ۔ ہندوستان میں دہلی اور لکھنو میں رہ کر انھوں نے اردو اور فارسی سیکھی اور کمپنی کو مطلع کیا کہ اب فارسی کے بجائے اردو کو دفتری زبان بنانا زیادہ مفید ہوگا۔ بعد میں ان کی تجویز پر عمل کرتے ہوئے 1832ء میں اردو سرکاری زبان قرار دی گئی ۔ فورٹ ولیم کالج کے قیام سے پہلے گل کرسٹ نو وار دانگر ریز عہدیداروں کو فارسی کی تعلیم دیا کرتے تھے ۔ جب 1800ء میں فورٹ ولیم کالج کلکتہ میں قائم ہوا تو ان کی خدمات کو دیکھتے ہوئے انھیں کالج کا صدر اور پروفیسر بنایا گیا ۔ گل کرسٹ 1804 ء تک کالج کی خدمات انجام دیتے رہے۔ خرابی صحت کی وجہ سے پنشن لے کر اپنے وطن لوٹ گئے ۔ 1818ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے انگلستان میں اور نیٹل انسٹیٹیوٹ قائم کیا تو وہ اردو کے پروفیسر مقرر ہوئے اور اس ادارے کے برخاست ہونے تک کام کرتے رہے۔ 1814 ء میں 88 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوا۔ گل کرسٹ نے صرف چار سال تک ہی فورٹ ولیم کالج میں خدمات انجام دیں۔ لیکن ان چار سالوں میں انھوں نے فورٹ ولیم کالج میں تمام ہندوستان سے قابل اور لائق ماہرین زبان کو جمع کیا اور ان سے تصنیف و تالیف کا کام اس طرح لیا کہ مختلف موضوعات پر اردو میں نثری کتابوں کا بہت بڑا ذخیرہ فراہم ہو گیا۔ اس کے علاوہ اردو سیکھنے کے لیے بنیادی کتابوں کا جتنا ذخیرہ انھوں نے فراہم کیا وہ ان کا نا قابل فراموش کا رنامہ ہے ۔ ان کی اہم تصانیف یہ ہیں:

انگریزی ہندوستانی لغت : ہر لفظ کی اصل اس لغت میں بتائی گئی کہ لفظ کس زبان کا ہے یہ لغت 1792ء میں کلکتہ سے شائع ہوئی۔ ہندوستانی علم اللسان : یہ اردو لسانیات کی کتاب ہے۔

اردو کی صرف و نحو : اردو قواعد کی یہ کتاب فورٹ ولیم کالج کے نصاب میں شامل تھی۔ اور مینٹل لنگوسٹ ( مشرقی زبان دان): اس کتاب میں اردو زبان سیکھنے کا آسان طریقہ پیش کیا گیا ہے۔ اجنبیوں کے لیے رہنمائے اردو : انگریزوں کو اردو سکھانے کے لیے یہ کتاب لکھی گئی۔ بیاض ہندی : فورٹ ولیم کالج کے مولفین کے کارناموں کا انتخاب وغیرہ۔

ڈاکٹر گلکرسٹ کے انگلستان لوٹنے کے بعد کپتان نامس رو بک اردو کے پروفیسر اور صدر مقرر ہوئے ۔ ان کا تعلق فوج سے تھا۔ انھوں نے کالج کے اہل قلم کو تصنیف و تالیف کی طرف راغب کیا اور کئی کتابیں شائع کیں ۔ انھوں نے بھی کئی کتابیں لکھیں ۔ لغت جہاز رانی “ کے نام سے لغت لکھی اس کے ساتھ ایک مختصر اردو قواعد بھی شامل کی ۔ ان کی دوسری کتاب " ترجمان ہندوستان ہے ۔ اس میں بھی قواعد زبان کی تشریح کی گئی ہے۔ ان اردو کتابوں کے علاوہ انھوں نے فورٹ ولیم کالج کی تاریخ بھی لکھی۔

 

 

شعراء عہدِ متوسطین:

میر تقی میرؔ

 میر کا شمار اردو کے عظیم شعراء میں کیا جاتا ہے اور بعض کے نزدیک تر وہ اردو کے سب سے بڑے شاعر ہیں ۔ بڑے بڑے اساتذہ فن نے میر کی بارگاہ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے ۔ ان کی عظمت کا اصل راز یہ ہے کہ انھوں نے اپنے دل پر گزری ہوئی واردات سیدھی سادی اور بول چال کی زبان میں ادا کر دی ۔ یہ واردات وہ تھی جو ہر دل پر گزر جاتی ہے ۔ اس لیے جس نے پڑھا یا سنا اسے یہ اپنے دل پر گزری ہوئی معلوم ہوئی ۔ اسی لیے تو کہا گیا کہ میر نے آپ بیتی کو جگ بیتی بنا دیا۔میر کی زندگی آلام و مصائب میں بسر ہوئی ۔ یہی آلام و مصائب شعر کے سانچے میں ڈھل گئے تو ہر ایک کو ان میں کشش نظر آئی۔ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ یہاں میر کے حالات زندگی پر مختصر سی نظر ڈالتے چلیں ۔ ان کا نام محمد تقی تھا۔ ولادت آگرہ میں ۲۳ - ۱۷۲۲ء میں ہوئی ۔ دادا بھی فوج کی ملازمت میں تھے اور آگرہ کے نزدیک تعینات تھے۔ میر کے والد محمد علی صوفی منش انسان تھے اور معاملات دنیا سے سروکار نہ رکھتے تھے۔ صوفیا کی خدمت میں حاضری کو سعادت جانتے تھے۔ نہایت متقی انسان تھے اس لیے علی متقی کہلائے ۔ پہلی شادی خان آرزو کی بہن سے ہوئی تھی ۔ ان سے ایک بیٹا تھا جس کا نام محمد حسن تھا۔ دوسری شادی میر کی والدہ سے ہوئی ۔ ان کے بطن سے تین اولا دیں تھیں ۔

علی متقی اپنے بیٹے حمد تقی کو اپنی راہ پر چلانے کی تمنا رکھتے تھے۔ شیر خوار بچنے کو اپنی گود میں لے کر ملتے تو کہا کرتے بیٹا عشق کرد عشق کیوں کہ دنیا میں مشق کے سوا کچھ نہیں۔ اس کے چہرے کی زردی کو عشق کی علامت سمجھتے اور یہ سوچ کر خوش ہوتے کہ خدا نے ان کے نو نہال کو عشق کی نعمت سے نوازا ہے ۔امان اللہ جنھیں اردو دنیا میر کے منہ بولے چچا کے نام سے جانتی ہے علی متقی کے مرید تھے۔ علی متقی انھیں بہت عزیز رکھتے تھے ۔ امان اللہ اپنے مرشد کے کم سن بیٹے کو بہت چاہتے تھے اور انھیں لے کر صوفیوں کی خانقاہوں میں حاضر ہوتے تھے۔ تیر کے مزاج میں بددماغی کی حد تک جو بے نیازی تھی اس میں ان خانقاہوں کی تربیت کا بھی بڑا حصہ تھا۔ محمد تقی نے ابھی پوری طرح ہوش بھی نہ سنبھالا تھا اور ان کی عمر بھی گیارہ برس کی کبھی نہ ہوئی تھی کہ والد کا سایہ سرسے اٹھ گیا اور منھ بولے چچا نے دنیا کو خیر باد کہہ دیا اب یہ بالکل بے سہارا رہ گئے۔ سوتیلے بھائی حافظ محمد حسن سے حسن سلوک کی امید ہو سکتی تھی مگر باپ کے مرتے ہی انھوں نے آنکھیں پھیر لیں ۔ محمد تقی روزی کی تلاش میں آگرہ سے دہلی پہنچے ۔ کچھ دن پریشاں حالی میں گزا ہے۔ آخر صمصام الدولہ نے ایک روپیہ روز وظیفہ مقرر کر دیا مگر کچھ ہی دنوں بعد صمصام الدولہ کا انتقال ہو گیا اور یہ وظیفہ باقی نہ رہا۔ روزی کی طرف سے بے فکر ہو کر وہ آگرہ لوٹ آئے تھے۔ اب دوبارہ دہلی کا رخ کیا۔ اس بار سوتیلے بھائی کے ماموں خان آرزو کے یہاں پناہ لی ان کی توجہ سے میر نے بہت کچھ سیکھا۔ سعادت امروہوی کے مشورے پر شعر تو پہلے ہی کہنے لگے تھے۔ خان آرزو کی توجہ سے ان کے فت شعر گوئی پر میقل ہوگئی اور وہ محمد تقی سے میر ہو گئے لیکن خود میر کا بیان ہے کہ حافظ محمد سن نے اپنے ماموں کو بھیڑ کا دیا اور وہ ان سے خفا ہو گئے۔ میران کا گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور آخر کار ذہنی توازن کھو بیٹھے ۔ دیوانگی دور ہونے پر پھر روزگار کی تلاش ہوئی ۔ آخر رعایت خاں سے توسل ہوگیا مگر نازک مزاجی نے نباہ نہ ہونے دی۔ اس کی ملازمت ترک کر کے ایک امیر جاوید خاں کے ملازم ہو گئے ۔ اسی اثنا میں احمد شاہ ابدالی نے دہلی کو تاراج کر دیا ۔ دہلی اجڑی تو میر لکھنا اگر نواب آصف الدور کے دربار میں ملازم ہو گئے ۔ عمر کے آخری اکتیس برس وہاں گزار کر ۱۸۱۰ء میں جہان فانی کو خیر باد کہا۔ میر کی زندگی کے مصائب جن کی تفصیل اوپر گزری ان سے شعروں میں ڈھل گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں بلا کا درد پایا جاتا ہے اور کلام میر میں پایا جانے والا یہی درد ہے جس نے ان کی شاعری کو اتنا مقبول اور ہر دل عزیز بنا دیا کہ تقریباً دو سو برس بعد بھی یہ ہر دل کو تڑپا دینے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ میر کی شاعری کا دوسرا کمال یہ ہے کہ انھوں نے بول چال کی زبان کو ایسے سلیقے سے استعمال کیا کہ وہ شاعری کی زبان بن گئی مطلب یہ کہ وہ آسان اور عام فہم زبان تو استعمال کرتے ہیں مگر تمام شعری وسائل کا سہارا لیتے ہیں۔ ان کی تشبیہیں اور استعارے دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔ ہلکی ہلکی موسیقی اور نرم لہجے نے بھی ان کی مقبولیت میں اضافہ کیا ہے۔ ان کی شاعری میں خود کلامی پائی جاتی ہے ۔ گویا شاعر اپنے آپ سے ہی باتیں کرتا ہے۔ یہی وہ خوبیاں ہیں جن کے سبب میر کا کلام آج بھی جادو کا اثر رکھتا ہے اور آئیندہ بھی اس کی یہت اثیرباقی رہے گی ۔ میر نے متعدد اصناف میں طبع آزمائی کی ۔ انھوں نے مریے بھی کیے اور بہت اچھی نوین بھی لکھیں مگر ان کا اصل کا رنامہ ان کی غزل ہے ۔ ملاحظہ ہوں ، ان کی غزلوں کے چند اشعارے ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا دل ستم زدہ کو ہم نے تمام تھام لیا ناز کی اس کے لب کی کیا کیسے پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے متیران نیم باز آنکھوں میں ساری مستی شراب کی سی ہے۔

مرزا اسد اللہ خاں غالب 1796-1869    :  

غالب مشرقی تہذیب کے سب سے نامور شاعر ہیں۔ ان کے دم سے اردو شاعری کی دنیا میں ایک انقلاب پیدا ہوگیا۔ پروفیسر آل احمد سرور کے قول کے مطابق "غالب سے پہلے اردو شاعری دل والوں کی دنیا تھی ، غالب نے اسے ذہن دیا ۔" انھوں نے غزل میں نئے موضوعات اور نئے مضامین داخل کر کے اس کا دامن وسیع کر دیا۔اردو ادب میں غالب کو بہت بلند رتبہ حاصل ہے ۔ وہ ہماری زبان کے بہت بڑے نثر نگار بھی ہیں اور بہت بڑے شاعر بھی ۔  یہ بات بھی ذہن میں رکھنے کی ہے کہ پہلے وہ اسد تخلص کرتے تھے لیکن جب ایک اورشاعر اسد کا یہ شعر سنا تو  اسد تخلص ترک کر کے غالؔب تخلص اختیار کیا ۔

غالب کا نام اسد اللہ خاں اور عرفیت مرزا نوشہ تھی مغل بادشاہ کی طرف سے نجم الدولہ دبیر الملک اور نظام جنگ کے خطابات عطا ہوئے تھے ۔ ۱۷۹۶ء میں آگرے میں مرزا کی  ولادت ہوئی  ان کا سلسلۂ نسب افراسیاب بادشاہ توران تک پہنچتا ہے ۔ ان کے داداشاہ عالم کے زمانے میں ایران سے دہلی پہنچے۔ یہاں انھیں اعزاز و اکرام سے نوازا گیا اور پیاسوکا علاقہ بطور جاگیر عطا ہوا جو آگے چل کر ہاتھ سے نکل گیا۔ ان کے والد عبداللہ بیگ ملازمت کے سلسلے میں مختلف مقامات پر رہے۔ آخرکار بختاور سنگھ کے ملازم ہوئے۔ ۱۸۰۱ء میں کی لڑائی میں مارے گئے اور چچا نے پر ورش کی ذمہ داری قبول کی ۔ یہ اکبر آباد کے صوبیدار تھے ۔ مرزا صرف( 9)نوبرس کے تھے کہ چچا کا انتقال ہوگیا۔ سرکار انگریزی کی طرف سے مرحوم کے وارثوں کی پیشن مقرر ہوئی جس میں سے سات سو روپے سالانہ مرزا کو بھی ملتا تھا۔ کچھ دنوں بہادر شاہ کے کلام پر کبھی اصلاح دی پچاس روپے ماہانہ یہاں سے بھی مقدر تھا۔ ۱۸۵۷ء کا ہنگامہ ہوا تو انگریزی سلطنت نے مرزا کو باغیوں میں شمار کر کے بنیشن بند کر دی میغل سلطنت کا تو خاتمہ ہو چکا تھا۔ مرزاکی گزر مشکل ہوگئی۔ سو روپے مہینہ نواب رامپور کی سرکار سے ملتا تھا۔ بڑی دوڑ دھوپ کے بعد غالب اپنی بے گناہی ثابت کرنے میں کا میاب ہوئے اور انگریزی سرکارےپینشن بحال ہوگئی ۔ غالب کو اپنے حسب نسب اور اپنے شاعرانہ رہے دونوں پر ناز تھا ۔ وہ شاہانہ زندگی گزارنے کے خواہش مند تھے مگر یہ آرزو پوری نہ ہوئی۔ ۱۸۶۹ء میں وفات پائی۔ اس وقت بہتر برس کے تھے ۔

غؔالب نے شعر کہنا تو اسی وقت شروع کر دیا تھا جب وہ آگرے میں تھے لیکن اس وقت تک ان کی شاعری میں فارسیت کا غلبہ تھا ۔ دہلی آنے پر بھی یہی انداز رہا۔ لوگوں کو غالب کی اس روش پر بہت شکایت تھی ۔آخر کار خود غالؔب کو اس کا احساس ہوا اور انھوں نے اپنا رنگ سخن بدلنے کی کوشش کی ۔ چنانچہ یہ مشکل گوئی رفتہ رفتہ ان کے کلام سے دور ہوتی گئی۔یہاں تک کہ وہ سادہ وسہل زبان میں شعر کہنے لگے ۔ غالب کے شعر صرف اسی لیے مشکل نہیں ہوتے کہ ان میں فارسی الفاظ کی کثرت ہے بلکہ اس کا ایک سبب اور بھی ہے ۔ ان کا تخیل بہت بلند ہے ۔ خیال کی پرواز کبھی اتنی ادینی ہو جاتی ہے کہ شعر پہیلی بن جاتا ہے ۔ اس لیے بعض شعر تو لوگوں کی سمجھ نہیں اس وقت آنے جب شاعر نے خود ان کا مطلب بیان کیا ۔تہہ داری بھی غالب کے کلام کی ایک اہم صفت ہے۔ یعنی پہلی نظر میں شعر کا ایک مفہوم سمجھ میں آتا ہے۔ غور کیجیے تو اس کی تہ سے دوسرے معنی نکلتے ہیں۔ اس تہہ داری نے کبھی ان کے کلام کو مشکل بنایا ۔ گویا تین چیزیں ہیں جن کے سبب غالب کا کلام کبھی کبھی ہماری سمجھ سے بالاتر ہو جاتا ہے جیسا کہ آپ نے دیکھا یہ ہیں : (۱) فارسیت کا غلبہ یعنی مشکل فارسی الفاظ کا استعمال(۲) تخیل کی بلند پروازی اور (۳) تہہ داری ۔جب غالؔب کے شعروں کو مہل کہا گیا تو انھوں نے جواب دیا ہے.

؎              نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا       گر نہیں ہیں مرے اشعارمیں معنی نہ سہی

لیکن یہ ردعمل وقتی تھا۔ وہ آہستہ آہستہ سہیل گوئی کی طرف آئے یہاں تک کہ انھوں نے اپنے کلام کا ایک انتخاب تیار کیا اور باقی کو منسوخ کر دیا لیکن یہ منسوخ کلام ضائع ہونےسے بچ گیا اور آج بھی موجود ہے ۔ ۔غالؔب کسی کے نقش قدم پر چلنا گوارا نہیں کرتے ۔ انھوں نے اپنا راستہ آپ نکالا اور سب سے الگ نکالا۔ ایک فارسی شعر میں انھوں نے کہا ہے کہ دوسروں کے پیچھے چلنے سے آدمی اپنی منزل کھو دیتا ہے ۔ اس لیے جس راستے سے کارواں گزرا ہے۔ میں اس راستے پر چلنا پسند نہیں کرتا۔ اپنا راستہ الگ نکالنے کی خواہش نے بھی غالب کے کلام کوپیچیدہ بنایا۔ شوخی و ظرافت بھی غالب کے کلام کی ایک اہم خصوصیت ہے ۔ وہ ایک سہنس مکھ انسان تھے اور اپنی دلچسپ باتوں سے دوسروں کو بھی خوش رکھنا چاہتے تھے ۔ ان کی زندگی کے واقعات کا مطالعہ کیجیے، ان کے خطوط پڑھیے یا ان کے دیوان کی ورق گردانی کیجیے، انکی پر لطف باتیں، ان کے دلچسپ لطیفے، چٹکلے قدم قدم پر آپ کو اپنی طرف متوجہ کریں گے۔ وہ ہر ایک سے چھیڑ چھاڑ کرتے نظر آتے ہیں ۔ نہ زاہد کو بخشتے ہیں ، نہ جنت ، دوزخ اورفرشتوں کو چھوڑتے ہیں ، نہ محبوب کو معاف کرتے ہیں ۔ حد یہ ہے کہ خود اپنا مذاق اڑانےسے نہیں چوکتے ۔ دیکھئیے ہے

؎              جس میں لاکھوں برس کی حوریں ہوں                                         ایسی جنت کا کیا کرے کوئی

؎              وہ لحد پہ بوئےسے تھی کہ نہ آسکے فرشتے                     میں عذاب میں پھنسا تھا جو نہ بادہ خوار ہوتا

غالؔب کے کلام کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس میں غور و فکر کا انداز پایا جاتا ہے جگہ جگہ احساس ہوتا ہے کہ وہ کچھ سوچ رہے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں جا بجا سوال ملتے ہیں ۔ وہ فلسفی نہیں مگر ان کا انداز فلسفیا یہ ہے مفکر نہیں مگر نظر حکیمانہ ہے ۔ اسی لیے پروفیسر آل احمد سرور نے فرمایا ہے کہ غالب نے اردو شاعری کو ذہن دیا۔

مومن خان مومؔن: 1800    -1852

غالب کے بعد مومن عہدزرین  کے دوسرے بڑے شاعر ہیں ۔ غزل ان کا  اسل میدان ہے۔ اور ان کی غزل کا دائرہ حن و عشق تک محدود ہےس محدود دائرے میں انھوں نے ایسے کمال کا مظاہرہ کیا ہے کہ آج اتنا زمانہ بدل جانے کے بعد بھی اہل نظر انکی غزل پر فریفتہ ہیں ۔محمد مومن خاں نام اور مومن تخلص تھا حکیم غلام نبی خان کے بیٹے تھے ۔ خاندانی پیشہ طبابت تھا ۔  مومن ۱۸۰۰ء میں پیدا ا ہوئے۔ حکیم غلام نبی خاں ۔ کے بیٹے  ۔ حکیم غلام نبی خان کے مرشد شاہ عبدالعزیز نے نام تجویز کیا۔ شاہ عبد القادر سے عربی کی تعلیم حاصل کی، طب اپنے والد سے پڑھی۔ اس کے علاوہ ریاضی ، نجوم ، موسیقی اور شطرنج میں بھی مہارت رکھتے تھے ۔ خوش حال گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اس لیے شاعری کو ذریعہ معاش نہیں بنایا کسی دربار سے بھی وابستہ نہیں ہوئے ۔ شاہ نصیر سے اپنے کلام پر اصلاح لیتے تھے مگر یہ سلسلہ زیادہ دنوں قائم نہیں رہا ۔آخر کار مذاق سخن ہی نے رہبری کی ۔

غزل اپنے اصل معنی میں عورتوں سے کرنے عورتوں سے گفتگو یا یا عورتوں کے بارے میں گفتگو سے یعنی اس میں حسن وعشق کی باتیں بیان کی جاتی ہیں لیکن رفتہ رفتہ اس میں وسعت پیدا ہوتی گئی اور زندگی کے تمام موضوعات اس میں داخل ہو گئے لیکن مومن کی غزل حسن و عشق ہی کے گرد گھومتی ہے۔ گویا انھوں نے اپنی غزل کا دائرہ محدود کر دیا لیکن ان کا کمال یہ ہے کہ اسی محدود دائرے میں انھوں نے جدتیں پیدا کی ہیں ہیں اور عاملات عشق کی جزئیات کو ایسی خوبصورتی اور فن کاری کے ساتھ پیش کیا ہے کہ نہ کہیں بستی کا احساس ہوتا ہے اور نہ یکسانیت کا ۔ ممکن ہے غزل مومن کی اس خصوصیت کا سبب یہ ہو کہ مومن نے زندگی میں واقعتاً عشق کیا تھا اور ایک پردونشین خاتون کو چاہا تھا۔ یہ شاعرہ تھی اور حجاب تخلص کرتی تھی مومن کے کلام میں اس کے اشارے ملتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان شعروں میں اصلیت کا رنگ پیدا ہو گیا اور جذبات کی شدت بھی صاف ظاہر ہوتی ہے۔ مختصر یہ کہ انھوں نے عاشقانہ بنانا۔ ایسے دلکش انداز میں پیش کیے ہیں کہ قدم قدم پر تازگی کا احساس ہوتا ہے ۔ اس سے تغزل کی نرالی شان پیدا ہوگئی ہے۔ انھیں تشبیہوں اور استعاروں کے برتنے کا بہت سلیقہ ہے۔ نازک خیالی اور مضمون آفرینی کلام مومن کی اہم خصوصیات ہیں ۔ مومن نے اردو غزل میں ایک اچھوتے انداز کی بنیاد ڈالی اور اپنی بات کہنے کا ایک ڈھنگ نکالا ۔ وہ اپنے محبوب سے کوئی بات اس طرح کہتے ہیں جیسے اس کے بھلے کی کہہ رہے ہوں اور اس میں محبوب ہی کا فائدہ مد نظر ہو لیکن ذرا غور کیجیے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ تو صرف بات کنے کا انداز ہے ورنہ فائدہ اپنا ہی مقصود ہے مثلا اپنے عجب سے یہ کہنا چاتے ہیں کہ تم محفل میں چوری چوری میرے رقیبوں کو دیکھ تو رہے ہو لیکن اس سے تمھاری بدنامی ہوگی۔ اگر یہ رسوائی گوارا ہے تو شوق سے ان کی طرف دیکھوے

محفل میں تم اغیار کرو دزدیدہ نظر سے منظور ہے پنہاں نہ رہے راز تو دیکھو ایک جگہ کہتے ہیں

؎              غیروں پہ کھل نہ جائے کہیں راز دیکھنا                         میری طرف بھی غمزہ غماز دیکھنا

 محفل میں تم سب کی طرف دیکھتے ہو مگر مجھ سے نظریں چرا لیتے ہو ۔ اس سے تو لوگ یہ سمجھیں گے کچھ دال میں کالا ہے۔ اس لیے کبھی کبھی میری طرف بھی دیکھ لیا کرو ہے۔ایسے مضامین سے کہیں کہیں الجھاؤ اور پیچیدگی پیدا ہو جاتی ہے۔شاعری میں ابہام حسن ہے یعنی بات کو کھول کر بیان نہ کیا جائے لیکن ابہام اتنا زیادہ ہو کہ شعر پہیلی بن جائے تو یہی عیب ہو جاتا ہے ۔ مومن کے کلام میں اکثر جگہ ابہام اس طرح ہے کہ وہ حسن بن جاتا ہے لیکن کہیں کہیں یہ صفت عیب کی شکل اختیار کر لیتی ہے کیوں کہ پڑھنے والے کا ذہن شعر کے اصل مفہوم تک نہیں پہنچ پاتا بعض جگہ یہ بھی ہوتا ہے کہ لفظ معنی کا ساتھ نہیں دیتے یعنی شاعر جو کچھ کہنا چاہتا ہے وہ لفظوں سے ادا نہیں ہوتا ۔مومن غزل کے شاعر ہیں ۔ درباری زندگی اور مدح گوئی کو انھوں نے پسند نہیں کیا۔ بادشاہوں اور امیروں کی خوشامد انھیں گوارا نہیں ہوئی ۔ تاہم ان کے دیوان میں چند قصیدے بھی موجود ہیں اور اپنے رنگ میں خوب ہیں ۔ بزرگان دین کی مدح سرائی کو مومن باعث عزت اور موجب نجات خیال کرتے تھے ۔ احسان فراموشی تو بہر حال عیب ہے اور محسن کا شکر یہ ادا کرنا بہر حال شرافت کی پہچان ہے ۔ مہاراجا پٹیالہ راجا رنجیت سنگھ نے مومن کو ہاتھی عنایت کیا تو شکر گزاری کے طور پر اس کی شان میں قصیدہ کہا۔ مومن نے مزیاں بھی کہی ہیں۔ ان میں زندگی کی حقیقتیں بیان کی گئی ہیں یعنی ان شنویوں میں زندگی کی سیدھی اور سچی باتیں آسان اور رواں زبان میں پیش کی گئی ہیں لیکن یہاں بھی ان کی توجہ کا اصل مرکز معاملات عشق ہی ہیں ۔ موسن کو علم نجوم میں بڑی مہارت حاصل تھی ۔ اکثر حساب لگا کر کوئی بات بتاتے تھےاور وہ عموماً پوری ہوتی تھی ۔تاریخ گوئی میں بھی مومن کو کمال حاصل تھا۔ نت نئے انداز کی تاریخیں کہتے تھے جن میں ظرافت بھی پیدا ہو جاتی تھی ۔ موت سے چند مہینے پہلے مومن گر پڑے تھے ۔ ہاتھ پاؤں ٹوٹ گئے تھے ۔ اس حادثہ کی تاریخ کہی جو آخر کار موت کی تاریخ بھی ثابت ہوئی اور ان کے مزار پر کندہ ہے ۔

شیخ محمد  ابراہیم نام اور ذوؔق:  1789-1854

شیخ محمد  ابراہیم نام اور ذوؔق تخلص تھا۔ ایک فر - ۱۷۸۹ء میں دہلی میں پیدا ہوئے ۔ ایک غریب سپاہی محمد رمضان کے بیٹے تھے ۔ ابتدائی تعلیم کے لیے والد نے حافظ غلام رسول کے ہاتھ میں ہاتھ کے دیار حافظ صاحب شاعر بھی تھے اور ان کے یہاں ہر وقت شعر سخن کی محفل گرم رہی تھی۔ اس ماحول نے طبعیت پر اثر کیا اور کم عمری ہی سے شعر کہنے لگے ۔ پہلے اپنا کلام  حافظ صاحب کو دکھاتے تھے پھر شاہ نصیر سے اصلاح لینے لگے اور انہی کا رنگ سخن اختیار کیا۔ شاہ نصیر کو یہ اندیشہ ہو کہ اگر کہیں استاد سے بڑھ نہ جائے اس لیے حوصلہ شکنی کرنے لگے ۔ آخر کار ذوق نے ان سے علیحدگی اختیار کرلی۔ نے ذوق نے شعرگوئی مں ایسی شق ہم پہنچائی کہ جلدی ستاد فن کا رتبہ حاصل کر لیا۔ ظفر ان کی شاگردی از اختیار کی اور چار روپے مہینہ نخواہ مقر کردی۔ اس وقت تک ظفر تخت شاہی پر نہ بیٹھے تھے، ولی عہد تھے۔ ذوق کی عمر اس وقت صرف بیس سال تھی ۔ نوجوانی ہی میں ایک قصیدہ لکھ کر بادشاہ کی خدمت میں پیش کیا تو خاقانی ہند کا خطاب عطا ہوا۔ ظفر جب بہادر شاہ کے لقب سے تخت نشین ہو گئے تو استاد کی بھی عزت افزائی کی ۔ یہ سلطنت کے ملک الشعرا مقرر ہوئے اور تنخواہ چار روپے سے بڑھ کر سو روپے ہو گئی ۔ ذوق نے ۱۸۵۴میں وفات پائی ۔ ذوق نہایت خلیق اور منکسر مزاج انسان تھے ۔ طبیعت میں بڑی قناعت تھی ۔ حیدر آباد کے دیوان مہاراجہ چند و لال شاداں نے شہرت سن کے حیدر آبا دیلانا چاہا مگر ان کا جواب یہ تھا

؎              گرچہ ہے ملک دکن میں ان دنوں قدر سخن                   کون جائے ذوق پر دلی کی گلیاں چھوڑ کر

ذؔوق کے دیوان میں غزلوں کے علاوہ زیادہ تر قصیدے ملتے ہیں جو بادشاہوں کی مدح  میں کہے گئے ہیں ۔ اردو قصیدہ نگاری میں سودا کے بعد انہی کا درجہ ہے ۔ ذوق کے علمود فضل نے ان کی قصیدہ نگاری کو بہت فائدہ پہنچایا۔ پر شکوہ اور بھاری بھر کم الفاظ قصیدے کو پر شکوہ بناتے ہیں ۔ ذوق کو عربی فارسی پر عبور حاصل ہے اور علوم مروجہ پر بھی نظر ہے اس لیے وہ بہ آسانی غیر معمولی اور بلند آہنگ الفاظ استعمال کرتے ہیں علمی اصطلاحات سے بھی وہ خوب کام لیتے ہیں لیکن سودا کی سی خلاقانہ صلاحیت ، زور بیان اور بلندی تخیل السی یہاں موجود نہیں ۔ اس لیے وہ قصیدہ نگاری کے فن میں سودا کا مقابلہ نہیں کرتے سکتے ۔ ذوق کو زبان پر بے پناہ قدرت حاصل ہے ۔ سنگلاخ زمینوں اور شکل قافیوں میں شعر نکالنے کا بہت شوق ہے ۔ اس میں کامیاب بھی ہوتے ہیں اور اس کا سبب ہے طویل مشق سخن ۔شعروں میں محاورے اور کہا ر میں نظم کرنے کا رجحان بھی بہت زیادہ نظر آتا ہے۔اس میں بھی مہارت کا یہ حال ہے کہ محاوروں اور کہاوتوں کا استعما برمحل معلوم ہوتا ہے۔ لیکن ان کی کثرت نے اکثر جگہ کلام کو بے نمک کر دیا ہے۔ پند و نصیحت کی باتیں بھی ان کے کلام میں بہت ملتی ہیں ۔ذوق کی غزلوں میں اختصار اور برجستگی پائی جاتی ہے ۔ شدت جذبات اور تہ داری سے ان کا کلام خالی ہے ۔ عام طور پر بول چال کی سہل زبان استعمال کرتے ہیں اور اس زبان پر انھیں مکمل عبور حاصل ہے ۔

خواجہ الطاف حُسین حاؔلی: 1827-1934:

الطاف حسین نام ، حاؔلی تخلص ۔ پانی پت وطن – 1937میں ولادت ہوئی ۔ ابتدائی تعلیم وطن میں ہی حاصل کی ۔ اسکے بعد شادی ہو گئی ۔مگر عربی ،فارسی  کی مزید تعلیم کے لیے دہلی چلے آئے ۔ مرزا غالب کی خدمت میں باقاعدگی کے ساتھ حاضر ہوتے تھے اور ان کی محبت سے فیض اٹھاتے تھے ۔ ۱۸۵۷ء کے بعد وہ نواب مصطفیٰ خان شیفتہ سے وابستہ ہو گئے۔ شیفتہ جہاں گیر آباد ضلع بلند شہر کے تعلقہ دار تھے اور دہلی کے نامور رمیوں میں ان کا شمار تھا۔ شیفتہ بہت اچھے شاعر تھے۔ غالب ان کی سخن فہمی کے بہت قائل تھے ۔ بہت اچھا شعری ذوق رکھتے تھے مبالغہ آرائی سے نفرت تھی ۔ حالؔی نے آٹھ برس شیفتہ کی صحبت میں گزارے ۔ سادگی اور اصلیت کی طرف شاید پہلے پہل طبیعت نہیں مائل ہوئی ۔شیفتہ کی وفات کے بعد مولانا حاؔلی لاہور چلے گئے اور پنجاب گورنمنٹ بکڈیو میں ملازم ہو گئے ۔ یہاں انھوں نے نئے انداز کے ان مشاعروں میں شرکت کی جن کی داغ بیل مولانا محمد حسین آزاد نے ڈالی تھی ۔ ان مشاعروں کے لیے حالی نے کئی عمدہ نظمیں لکھیں جو اردو شاعری کے ایک نئے دور کا پیش خیمہ ثابت ہوئیں۔ مولانا کی صحت اچھی نہیں تھی اور لاہور کی آب و ہوا انھیں راس نہ آئی ۔ چار سال تک یہاں قیام کرنے کے بعد وہ مجبوراً دہلی لوٹے آئے ۔ یہیں سرسید سے ان کی ملاقات ہوئی جس سے ان کے خیالات میں ایک عظیم انقلاب پیدا ہوا۔ انھیں کی فر فرمایش پر مولانا نے ایک نظم "مدوجزر اسلام "تھی۔ اس میں اسلام کے عروج وزوال کی داستان بیان ہوئی ہے ۔ سرسید  اس اس نظم کو اپنی نجات کا ذریعہ سجھتے تھے۔ مولانا نے "مقدمہ شعر و شاعری" میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے ان کی بنیاد دراصل سرسید کےافکار ہیں ۔ ۱۹۱۴ء میں مولانا نے انتقال کیا۔

مولانا حاؔلی تنقید نگار بھی ہیں اور سوانح نگار بھی لیکن یہاں سرو کار ان کی شاعری سے ہے ۔ حالی نے اپنی شاعری کا آغاز غزل سے کیا اور بہت دلکش غزلیں کہیں لیکن جب انھیں احساس ہوا کہ ملک و قوم کو بامقصد شاعری کی ضرورت ہے تو وہ اس طرف متوجہ ہو گئے۔ اسے ان کی قربانی ہی کہا جا سکتا ہے ۔ لاہور میں حالی نے آزاد کے مشاعرے میں چار نظمیں پڑھیں ۔ یہ ہیں برکھا رت ، نشاط امید ، مناظرہ رحم وانصاف اور حب وطن ۔ ان کی طویل "نظم مد و جزر اسلام "اپنے زمانے میں بے حد مقبول ہوئی ۔حاؔلی کی شاعری پر غالب کی پر چھا ئیں تو کم نظر آتی ہے حالانکہ وہ غالب کو اپنا استاد بتاتے ہیں لیکن شیفتہ اور سرسید کا اثر زیادہ نمایاں ہے ۔ مبالغہ آرائی کو شیفتہ اورسرسید دونوں ہی نا پسند کرتے ہیں ۔ سرسید سادگی پر بہت زور دیتے ہیں اور حاؔلی کی نظموں میں سادگی کا عنصر بہت نمایاں ہے۔ سرسید نے نیچرل شاعری کا تصور پیش کیا مطلب یہ کہ شاعری میں فرضی باتیں نہ ہوں ، اصلیت ہوا کوئی بات خلاف فطرت نہ ہو اور پیش کش کا انداز بھی فطری ہو۔ مولانا حالی نے اس کی پر زور وکالت کی ۔ مولانا حالی کی شاعرانہ حیثیت مسلم ہے ۔ علم ہے۔ غزل اور نظم دو دونوں پر انھوں نے گہرا نقش چھوڑا لیکن مولانا کا اصل کا رنامہ یہ ہے کہ انھوں نے اردو شاعری کی رہنمائی کی۔ قصیدہ و غزل کی خامیوں کو واضح کیا ۔ مرثیہ و مثنوی کی اہمیت پر روشنی ڈالی ۔ شاعری میں سادگی، جوش اور اصلیت پر زور دیا اور" مقدمہ شعر و شاعری "جیسا معرکہ آرا تنقیدی کارنامہ پیش کیا جسے پروفیسر آل احمد سرور نے اردو شاعری کا پہلا مینی فیسٹو قرار دیا ہے۔

شعراء عہدِ جدید:

اقبؔال:1877-1938

اقبال کے بزرگ پر برہمن تھے اورکشمیر ان کا وطن تھا۔ قبول اسلام کے بعد ان کا خاندان ترک وطن کرکے ۔ سیالکوٹ میں آباد ہو گیا۔ وہیں  ۹ نومبر ۱۸۷۷ کو محمد اقبال کی ولادت ہوئی ۔ ان کے والد کا نام شیخ نور محمد تھا اور ماں کا نام امام بی بی تھا۔ یہ دونوں بہت تعلیم یافتہ تونہیں تھے مگر انھوں نے اپنے بیٹے کی تربیت پر بہت توجہ کی ۔ گھر کا ماحول مذہبی تھا۔ شاید اسی لیے اقبال کلام پاک کی تلاوت کے بہت شوقین تھے اور بڑی خوش الحانی سے تلاوت کرتے تھے ۔اقبال کی عمر چار سال چار مہینے کی ہوگئی تو دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے انہیں مکتب میں بٹھا دیا گیا ۔ شیخ نور محمد کے ایک دوست جو شاہ صاحب کہلاتے تھے اور جن کا نام سید میرحسن تھا، انھوں نے مشورہ دیا کہ اقبال کی تعلیم صرف درس قرآن تک محدود نہیں رہتی چاہیے تو یہ کام شاہ صاحب کو ہی سونپ دیا گیا ۔ اب وہ اردو ، فارسی اور عربی ادب کی تعلیم حاصل کرنے لگے۔ آٹھ نو برس کی عمریں اقبال اسکاچ مشن اسکول میں داخل کر دیے گئے۔ شاہ صاحب بھی اس اسکول سے وابستہ ہو گئے تھے ۔ ان کی رہنمائی حاصل رہی اور ان کی صحبت میں اقبال میں شعری ذوق پیدا ہو گیا ۔ انھوں نے ۱۸۹۱ء میں مڈل اور ۱۸۹۳ء میں امتیاز کے ساتھ میٹرک پاس کیا ۔ یہیں سے انٹر میمجیٹ کا امتحان پاس کیا اس کےبعد بی ۔ اے کی ڈگری کے لیے گورنمنٹ کالج میں داخلہ لیا۔ اس کالج سے بی ۔ اے کرنے کے بعد انھوں نے فلسفے میں ایم اے کی تعلیم کے دوران انھیں فلسفے کے پروفیہ سٹرآرنالڈسے فیضیاب ہونے کا موقع ملا۔

اقبال نے کم عمری ہی میں یعنی میٹرک کرنے سے پہلے روایتی انداز کی شاعری شروع کر دی تھی انھوں نے داغ کی باقاعدہ شاگردی اختیار کی مگر جلد ہی نئے انداز کی شاعری کی طرف مائل ہوتے گئے۔ انجمن حمایت اسلام کے بڑے بڑے جلسوں میں نظمیں پڑھنے لگے توان کی شہرت چاروں طرف پھیل گئی ۔ ۱۹۰۵ء میں انہیں اعلی تعلیم کے لیے انگلستان جانا پڑا ۔ ۱۹۰۸ء میں واپس آئے تو وہ بالکل بدلے ہوئے تھے ۔ ان کی شاعری مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے وقف تھی ۔اقبال نے اور نینٹل کالج اور گورنمنٹ کالج میں ملازمت کی۔ اس کے بعد وکالت شروع کی ۔ وکالت میں وہ بہت کامیاب نہیں ہوئے ۔ حکومت برطانیہ نے ۱۹۲۳ء میں سر کا خطاب دیا۔

اقبال نے تین شادیاں کیں مگر ان کی ازدواجی زندگی زیادہ خوشگوار نہیں رہی اورسبب یہ کہ ان کی مالی حالت کبھی ہو مالی حالت کبھی بہت اچھی نہیں رہ بہت اچھی نہیں رہی تھی ار جنوری ۱۹۳۳ء کو اقبال کو نزلہ ہوا جو انفلوئنزا میں تبدیل ہو گیا۔ پھر آواز بیٹھ گئی۔ دل کا عارضہ بھی ہوگیا۔ مرض بڑھتے گئے صحت خراب ہوتی گئی ۔ آخر کار ۲۱ اپریل۱۹۳۸ء کو انتقال ہو گیا۔

اقبال ہماری زبان کے فلسفی شاعر ہیں۔ انھوں نے اپنے فلسفے سے ملت اسلام کے درد کی دوا کی ۔ وہ مسلمانوں کو قعر مذلت سے نکالنا چاہتے تھے ۔ ان کی بربادی کےاسباب پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ وہ بے عملی کا شکار ہیں اور ترک دنیا کو نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں ۔ تعلیم انھیں فلسفہ وحدت الوجود نے دی تھی ۔ اقبال نے اس کا ازالہ کرنے کے لیےفلسفہ خودی پیش کیا۔ خودی کا مفہوم ہے خودشناسی و خوردگی یعنی اپنی پوشیدہ اسلامیوں کا پتا لگانا اور انھیں نکھارنا ۔جب انسان کو اپنی صلاحیتں کا علم ہوجائے تو ضرورت ہے کہ وہ انہیں کام کرے۔ استحکام خودی کے لیے سب سے اہم چیز ہے عشق یعنی کسی مقصد کو حاصل کرنے کی ایسی لگن جیسی عشق کے جذبے میں ہوتی ہے ، استحکام خودی کے لیے دوسری ضروری شے ہے جہد و عمل۔ یعنی اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مسلسل کوشش ۔ یہ بھی ضروری ہے کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ دھر نے تقدیر کے بھروسے نہ بیٹھا رہے ۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ وہ مایوس نہ ہو اور پر امید رہے ۔ فقر و استغنا سے بھی استحکام خودی میں مدد ملتی ہے ۔ استحکام خودی کی آخری اور سب سے اہم تدبیر یہ ہے کہ مرشد کامل کی پیروی کی جائے۔خودی کی تکمیل سے انسان مرد کامل ہو جاتا ہے ۔ اس میں صفات الہیہ پیدا ہو جاتی ہیں اور وہ اس منزل پر پہنچ جاتا ہے کہ " ہاتھ ہے اللہ کا بندہ مومن کا ہاتھ ۔ اس کے آگے بے خودی کی منزل ہے جہاں فرد کی خودی ملت کی خودی میں ضم ہو جاتی ہے۔ یہی خودی کی آخری منزل ہے ۔

اقبال پیامی شاعر ہیں لیکن اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ پیرا یہ اظہار میں دلکشی نہ ہو تو فلسفہ و پیغام کی طرف کوئی متوجہ ہوتا ہی نہیں ۔ انھوں نے تمام شعری وسائل کا سہارا لیا اور سامعین و قارئین کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ ایک تو وہ اپنے پیغام کو کسی اہم ہستی کی زبان سے ادا کر کے زیادہ پر تاثیر بنا دیتے ہیں۔ کہیں خضر کی زبان استعمال کرتے ہیں تو کہیں جبریل کی ، کہیں لینن کی تو کہیں سرسید کی مصوری یا پیکر تراشی بھی ان کی نہایت پسندیدہ تدبیر ہے ۔ ان کا سارا کلام خوبصورت تصویروں کی آرٹ گیلری ہے۔ پیکر تراشی میں استعارہ و تشبیہ سے بہت مدد ملتی ہے اور اقبال کو ان دونوں کے استعمال کابہت سلیقہ ہے۔ شعر کے لیے نغمگی بہت ضروری ہے اور اقبال کے کلام میں ترنم بہت زیادہ ہے۔ موسیقی سے ان کی طبیعت کو کو بہت مناسبت - وہ بحروں کا انتخاب بھی بہت سوچ سمجھ کر کرتے ہیں لفظوں کے انتخاب میں بھی وہ بڑی ہنر مندی کا ثبوت دیتے ہیں ۔ اسی لیے ان کی غزلوں اور نظموں کو بڑی خوش آہنگی کے ساتھ گایا جا سکتا ہے۔ ایک اور شے جس سے شعر کے حسن میں اضافہ ہوتا ہے ، صنائع کا ہنر مندانہ استعمال ہے۔ اقبال نے مختلف صنعتوں کو بڑے سلیقے کے ساتھ برتا ہے ۔ سب سے زیادہ استعمال انھوں نے صنعت تلمیح کا کیا ہے ۔اقبال نے بار بار کہا کہ میں شاعر نہیں فلسفی اور پیغامبر ہوں اس لیے ان کا فلسفہ و پیغام عام توجہ کا مرکز بنا رہا ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ وہ شاعر پہلے ہیں ، فلسفی و پیغامبر بعد کو ۔

شبیر حُسین خان جوؔش ملیح آبادی:1894-1982

 شبیر حسن خاں نام ، پہلے شبیؔر تخلص کرتے تھے پھر جوؔش تخلص اختیار کیا ۔ ۱۸۹۴ء میں ملیح آباد میں پیدا ہوئے  ۔ ان کے والد بشیر احمد خان بشؔیر، دادا محمد احمد خاں احمؔد اور پر دادا فقیر محمد خاں گوؔیا معروف شاعر تھے ۔ اس طرح شاعری انہیں وراثت میں ملی تھی ۔ ان کا گھرانا جاگیر داروں کا گھرانہ تھا ۔ ہر طرح کا عیش و آرام میسر تھا لیکن اعلیٰ تعلیم نہ پاسکے۔ آخر کار مطالعے کا شوق ہوا اور زبان پر عبور حاصل کر لیا۔ شعر کہنے لگے تو عزیز لکھنوی سے اصلاح لی ۔ ملازمت کی تلاش ہوئی تو طرح طرح کی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ آخرکار دارالترجمہ عثمانیہ مں ملازمت مل گئی ۔ کچھ مدت وہاں گزارنے کے بعد دہلی آئے اور رسالہ کلیم" جاری کیا۔ آل انڈیا ریڈیو سے بھی تعلق رہا۔ سرکاری رسالہ "آج کل" کے مدیر مقرر ہوئے ۔ اسی رسالے سے وابستہ تھے کہ پاکستان چلے گئے ۔ وہاں لغت سازی میں مصروف رہے۔وہیں ۱۹۸۲ء میں وفات پائی۔جوش نے کچھ غزلیں بھی  کہیں لیکن ان کی شہرت کا دارو مدار نظموں پر ہے ۔ انھوں نےتحریک آزادی کی حمایت میں نظمیں کہیں تو انھیں ملک گیر شہرت حاصل ہو گئی اور انھیں شاعر انقلاب کے لقب سے یاد کیا جانے لگا۔ ان کی سیاسی نظموں پر طرح طرح کے اعتراضات کیے گئے۔ خاص طور پر یہ بات کہی گئی کہ وہ سیاسی شعور سے محروم اور انقلاب کے مفہوم سے نا آشنا ہیں ۔ ان نظموں میں خطابت کے جوش کے سوا اور کچھ نہیں لیکن اس حقیقت سے انکار مشکل ہے کہ ملک میں سیاسی بیداری پیدا کرنے اور تحریک آزادی کو فروغ دینے میں جوش کی نظموں کا بڑا حصہ ہے ۔ شاعر انقلاب کے علاوہ جوش کی ایک حیثیت شاعر فطرت کی ہے ۔ مناظر فطرت میں جوش کے لیے بے مدہے ۔ ان کی ایک میں بانی تصویر کھانے ہی کہ رانی کی یاد تازہ ہو جاتی ہے خلیل الرحمن اعظمی جوش کی انقلابی شاعری کے تو قائل نہیں لیکن مناظر فطرت کی تصویریشی میں جوش نے جس مہارت کا ثبوت دیا ہے اس کے قائل ہیں ۔ فرماتے ہیں " جوش نے منا ظر فطرت پر جس کثرت سے نظمیں لکھی ہیں اس کی مثال پوری اردو شاعری میں نہیں ملے گی۔ صبح و شام ، برسات کی بہار ، گھٹا ، بدنی کا چاند، ساون کا مہینہ گنگا کا گھاٹ ۔ یہ تمام مناظر جوش کی نظموں میں رقصاں و جولاں ہیں۔ بدلی کا چاند، البیلی صبح ، تاجدار صبح ، آبشار نغمہ ، برسات کی چاندنی وہ زندہ جاوید نظمیں ہیں جن ۔ ن کے سبب جوش شاعر فطرت ہی نہیں بلکہ پیغمبر فطرت کہلائے۔

جوش کی تیسری حیثیت شاعر شباب کی ہے ۔ وہ عشق مجازی کے شاعر ہیں اور دلسل جنوب کے طلب گار ۔ ہجر کے مصائب برداشت کرنا ان کے بس کی بات نہیں ۔ انھیں ہر اچھی صورت اسپند ہے اور وہ بھی اس وقت تک جب تک وصال میسر نہ ہو ۔ مہترانی " مالن اور جامن والیاں جوش کی مزیدار نظمیں ہیں ۔ اس قبیل کی دوسری نظموں کے نام ہیں اٹھتی جوانی، جوانی کے دن جوانی کی رات ، فتنہ خانقاہ ، پہلی مفارقت ، جوانی کی آمد آمد، جوانی کا تقاضا ۔ جوش کی شاعری میں سب سے زیادہ قابل توجہ چیز ہے ایک دلکش اور جاندار زبان ! جوش کو زبان پر مکمل عبور حاصل ہے ۔ انھیں بجا طور پر لفظوں کا بادشاہ کہا گیا ہے۔ مترنم الفاظ کے انتخاب کا انھیں بہت سلیقہ ہے۔ ان کی تشبیہوں اور استعاروں میں بے حد لطافت پائی جاتی ہے ۔

مخدوؔم محی الدین:1908-1969:

مخدوم محی الدین نام ، مخدوم تخلص ، ۱۹۰۸ ء میں حیدر آباد دکن کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے تعلیم حیدر آباد ہی میں ہوئی ۔ وہیں سے ۱۹۲۷ء میں ایم ۔ اے کا امتحان پاس کیا ۔ایم ۔ اے کرنے سے بہت پہلے شعر کہنے لگے تھے۔ مطالعے کا بہت شوق تھا ۔ مارکزرم کا مطالعہ طالب علمی کے دوران ہی کر لیا تھا اور اسی وقت اس کے گردیدہ ہو گئے تھے ۔۱۹۳۶ء میں حبب ملک کے مختلف مقامات پر انجمن ترقی پسند مصنفین کی شاخیں قائم ہوئیں تو مخدوم نے حیدر آباد میں اس کی شاخ قائم کی ۔ اس کا خاطر خواہ اثر ہوا اور حیدرآباد میں تحریک کے حامیوں کا ایک حلقہ پیدا ہو گیا ۔ اس اثنا میں انھوں نے ایک مقامی کالج کی لیکچررشپ قبول کر لی مگر یہ سلسلہ کچھ ہی دوں میں ختم ہو گیا کیوں کہ کالج کے منتظمین کو مخدوم کا کمیونسٹ پارٹی سے تعلق گوارا نہ تھا۔ ملازمت سے مستعفی ہو کر انھوں نے خود کو تحریک کے لیے وقت کر دیا ۔ اس کی پاداش میں انھیں جیل جانا پڑا ۔ تین مہینے کے بعد رہا ہوئے۔ تلنگانہ تحریک شروع ہوئی تو ۱۹۵۱ء میں دوبارہ گرفتار ہوئے ۔ محنت کشوں نے انھیں اپنا لیڈر منتخب کیا اور وہ اسمبلی کے ممبر چنے گئے ۔ ان کے کلام کا پہلا مجموعہ ۱۹۴۴ء میں سرخ سویرا کے نام سے اور دوسرا مجموعہ ۱۹۶۱ ء میں "گل تر" کے نام سے شائع ہوا ۔ ان کی متعدد نظموں کے دیسی اور بدیسی بہت سی زبانوں میں ترجمے ہوئے ہیں۔

مخدوم محنت کشوں کے شاعر ہیں اور اپنی نظموں میں ان کی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہیں اس لیے ان کی بیشتر نظمیں سیاسی ہیں اور ہنگامی نوعیت کی ہیں لیکن شاعر کی فنی بجنگی کے سبب نشریت اور بے کیفی سے محفوظ رہتی ہیں۔ نظمیں حوصلہ مندی کی تعلیم دیتی ہیں اورمایوسی و نا امیدی کو قریب نہیں آنے دیتیں۔ سرخ سویرا ، گل تر اور بساط رقص ان کی شاعری کے مجموعے ہیں۔

فیض احمد فیضؔ  : 1911-1984

 فيض احمد نام ، فیؔض تخلص - ۱۹۱۱ ء میں سیالکوٹ : میں پیدا ہوئے ۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے معلمی کا پیشہ اختیار کیا ۔ ایم ۔ اے۔ انگریزی میں کیا تھا - لیکن اردو، فارسی ، عربی میں دستگاہ رکھتے تھے صحافت سے دلچسپی تھی ۔ اس لیے متعدد اخبارات و رسائل کی ادارت کے فرائض بھی انجام دیے ۔ اشتراکی ذہن رکھتے تھے اور کمیونسٹ پارٹی کے سرگرم رکن تھے اس لیے حکومت پاکستان کی نظر میں مشکوک رہے ۔ باغیانہ سرگرمیوں کے الزام میں مقدمہ بھی چیلا جو راولپنڈی سازش کیس کے نام سے مشہور ہے ۔ برسوں قید و بند کی زندگی گزاری اور بے شمار تکلیفوں کا سامنا کیا ۔ ۱۹۸۴ء میں وفات ہوئی ۔

فیض جب کالج میں زیر تعلیم تھے اسی وقت سے شعر کہنے لگے تھے۔ کالج میگزین " راوی" میں متعدد نظمیں شائع ہوئیں ، جن میں سے بعض ان کے پہلے مجموعہ کلام "نقش فریادی" میں شامل ہیں۔ ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاعری سے فیض کی طبیعت کو بے حد مناسبت تھی لہذا نومشقی کے زمانے میں بھی تمام شعری وسائل سے کام لینا جانتے تھے اوربہت اچھے شعر کہتے تھے ۔ اس وقت شاعری کا موضوع مجازی عشق تھا۔ عشق کا سیلاب وقت بیتنے کے ساتھ گزر گیا تو شاعری کا محرک بھی ختم ہو گیا۔ چنانچہ شعر کہنا ترک کر دیا۔ خاموشی میں کچھ ہی دن گزرے تھے کہ ترقی پسند تحریک کا آغاز ہوگیا مظلوموں کی حمایت کے نعرے میں ایسی کشش تھی کہ فیض پوری طرح اس کے ہم نوا ہو گئے۔ شعر کہنے کے لیے ایک نیا محرک ہاتھ آگیا۔ فیض نے اپنا غم بھلا کے نا کا م کر نے لگا یا "نظم مجھ سے پہلی محبت مری محبوب نہ مانگ “ اسی زمانے کی یادگار ہے ۔

ترقی پسند تحریک خطابیہ شاعری کا مطالبہ کرتی تھی ۔ حالات کے تقاضے سے مجبور ہو کر فیض کو ایسی شاعری بھی کرنی پڑی جس میں براہ راست تخاطب تھا شعریت کم تھی۔ سیاسی لیڈر کے نام ، ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے ، ایرانی طلبا کے نام ، زرد کتے ایسی ہی نظمیں ہیں ۔ یہ شاعری کم ہیں ، پروپیگنڈہ زیادہ کچھ نظموں میں پیوند کاری ہے جیسے شیشوں کا مسیحا۔ رقیب سے ، مرے ہمدم مرے دوست ، لیکن سچا شاعر کیسے اپنے اصلی رنگ کو دبائے رکھ سکتا ہے ۔ انھوں نے رمزور ایما یعنی اشارے کنائے کا سہارا لے کر اپنے مخصوص انداز کی شاعری کی ۔ ہم لوگ ، صبح آزادی ، تنہائی اور دریچہ ایسی لافانی نظمیں ہیں جس میں شاعر نے ادبی ڈکٹیٹروں کی پروا کیے بغیر اپنے انداز کی شاعری کی ہے اور لازوال تخلیقات پیش کی ہیں ۔ غزل میں ہی صورت حال ہے ۔ انھوں نے غزل کی مخصوص علامتیں استعمال ضرور کی ہیں مگر فیض کی غزل میں ان کے الگ معنی ہیں ۔ کہتے ہیں محبوب مگر مراد ہوتا ہے ملک یا قوم ۔ کہتے ہیں رقیب مطلب ہوتا ہے ملک و قوم کا دشمن ۔ جب ناصح کا ذکر کرتے ہیں تو اشارہ ہوتا ہے ملک دشمن عناصر کی طرف جو ہمدردوں کے روپ میں غلط صلاح دیتے ہیں اظہار رائے پر پابندی کا ذکر انھوں نے اشاروں میں کیا کہ جس ملک میں اور جس زمانے میں اس طرح کی پابندیاں لگائی جائیں گی یہ شعر لطف دیں گے۔ گویا یہ زمان و مکان سےماورا ہو گئے۔

فیض ایک ایک لفظ کا انتخاب غور و فکر کے بعد کرتے ہیں۔ شعروں میں تراش خراش کا عمل مسلسل جاری رکھتے ہیں اور تمام شعری وسائل کا سہارا لیتے ہیں ۔ ان کے شعروں میں دلکش ترنم پایا جاتا ہے۔ پیکر تراشی میں انھیں بڑی مہارت حاصل ہے۔ پر لطف تشبیہوں اور استعاروں ے وہ جیتے جاگتے پیکر تراشتے ہیں۔ فیض میر و غالب کے ہم پلہ نہ سہی مگر وہ ہمارے عہد کے ایک نامور شاعر ہیں ۔

اردو زبان کا آغاز وارتقا

 اردو زبان کے آغاز وارتقا کے بارے میں اردوکے مختلف عالموں نے اپنے خیالات پیش کیسے ہیں۔ ان علما نے بڑے خلوص سے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ اردو زبان کب، کہاں اور کیسے پیدا ہوئی ۔ تیرہویں صدی سے بیسویں صدی تک اردو کے کئی شاعروں اور ادیبوں نے اردو کی ابتدا کے بارے میں الگ الگ رائیں پیش کی ہیں۔ لیکن سبھی علما اس بات پر متفق ہیں کہ اردو کی پیدائش ہندوستان میں ہوئی۔ بیسویں صدی میں علم زبان یعنی لسانیات کا فروغ ہوا۔ ماہرین لسانیات نے لسانیات کی روشنی میں اردو کے آغاز و ارتقا کے مسئلے پر خالص علمی انداز میں اپنے نظریات پیش کیے۔ ماہرین لسانیات کے نظریات کے علاوہ کئی ایسے عالموں کے نظریات بھی مشہور ہوئے جو لسانیات کے ماہر نہیں تھے ۔ ان میں سلیمان ندوی ، محمود شیرانی اور نصیر الدین ہاشمی کے نظریات اہم ہیں۔

اُردو زبان کا آغاز وارتقا : مختلف نظریات

اردو زبان کے آغاز و ارتقا کے بارے میں اردو کے متعدد عالموں نے اپنے نظریات پیش کیے ہیں ۔ ان کا سلسلہ حضرت امیر خسرو (متوفی 1325) سے شروع ہوتا ہے۔ مشہور ماہر لسانیات مسعود حسین خاں نے امیر خسرو کو اردو کا پہلا زبان شناس قرار دیا ہے۔ امیر خسرو کی تحریروں میں اردو زبان کی ابتدا کے بارے میں واضح اشارے ملتے ہیں۔ لیکن اردو زبان کے آغاز و ارتقا پر باقاعدہ نظریات انیسویں اور بیسویں صدی میں سامنے آتے ہیں۔ انیسویں صدی میں سب سے پہلے میر امن دہلوی (1803-1732) نے اردو زبان کو ایک مخلوط زبان قرار دیا جو مختلف زبانوں کے میل جول سے مل کر بنی ہے۔ میر امن نے قصہ چہار درویش کا آسان ترجمہ ”باغ و بہار کے نام سے کیا ۔ یہ کتاب فورٹ ولیم کالج سے 1803 میں شائع ہوئی۔ میر امن نے اس کے دیباچہ میں لکھا ہے۔

"۔۔۔ جب اکبر بادشاہ تخت پر بیٹھے تب چاروں طرف کے ملکوں سے سب قوم قدر دانی اور فیض رسانی اس خاندانِ لاثانی کی سن کر حضور میں آکر جمع ہوئے، لیکن ہر ایک کی گویائی اور بولی جدی جدی تھی ۔ اکٹھے ہونے سے آپس میں لین دین سودا سلف سوال جواب کرتے ایک زبان اردو کی مقرر ہوئی ۔ “ ( باغ و بہار ص 8-7)

میر امن کا یہ نظریہ بہت مشہور ہوا اور اس کے مطابق ایک مدت تک اردو کو ایک مخلوط زبان قرار دے کر اس کے آغاز کا زمانہ عہد مغلیہ تسلیم کیا جاتا رہا۔ میر امن کے نظریے سے متاثر ہوکر سرسید احمد خاں، امام بخش صہبائی اور سید احمد دہلوی جیسے اردو کے علما نے اپنے نظریات پیش کیے۔ انیسویں صدی کے معروف شاعر انشاء اللہ خاں انشا (م1817) نے اردو کو عربی، فارسی ، ترکی اور برج بھاشا زبانوں کے میل جول کا نتیجہ قراردیا ہے۔ امام بخش صہبائی (م 1857-1802) کا خیال ہے کہ اردو ایک مخلوط زبان ہے جو تبدیل ہوتی ہوئی شاہ جہاں کے عہد میں اپنی اصل شکل حاصل کرتی ہے۔ سرسید احمد خاں (م1897) کا بھی یہی خیال ہے کہ اردو زبان کا مکمل روپ شاہ جہاں کے عہد حکومت میں سامنے آیا۔سید احمد دہلوی (م 1918) نے اپنی مشہور تصنیف فرہنگ آصفیہ کے مقدمہ میں یہ خیال ظاہر کیا کہ اردو کی پیدائش شاہجہاں کے عہد میں ہوئی جس نے برج بھاشا سے بعد میں اردو کی شکل اختیار کی۔

محمد حسین آزاد :میر امن کے بعد محمد حسین آزاد (1910-1828) کا یہ نظریہ سب سے زیادہ مشہور ہوا کہ اردو زبان برج بھاشا سے نکلی ہے۔ آزاد نے اپنی شاہر کار تصنیف ” آب حیات (1888) میں لکھا ہے:

"اتنی بات ہر شخص جانتا ہے کہ ہماری زبان اردو برج بھاشا سے نکلی ہے اور برج بھاشا ہندوستانی زبان ہے۔ لیکن وہ ایسی زبان نہیں کہ دنیا کے پردے پر ہندوستان کے ساتھ آئی ہو۔ اس کی عمر آٹھ سو برس سے زیادہ نہیں ہے اور برج کا سبزہ زار

اس کا وطن ہے ۔ “ ( آب حیات، ص6)

محمد حسین آزاد کے نظریے کی تائید اور تردید میں کئی مصنفین نے اپنے نظریات پیش کیے اور اردو زبان کے آغاز وارتقا پر از سر نو غور وفکر کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آزاد کے نظریے نے یہ ثابت کیا کہ اردو ایک مخلوط زبان ہونے کے باوجود ہندوستانی زبان ہے کیونکہ یہ برج بھاشا سے نکلی ہے جو خالص ہندوستانی زبان ہے اور اس طرح اردو کی جائے پیدائش ہندوستان ہے۔ اس نظریے کے بعد اردو کے محققین اردو زبان کے ماخذ کے سلسلے میں ہندستانی زبانوں کو اہمیت دینے لگے اور ایسے نظریات سامنے آئے جن میں اردو زبان کے آغاز وارتقا کے رشتے ہندوستان کے مختلف علاقوں اور مختلف زبانوں سے دریافت کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس سلسلے میں سندھ، پنجاب، دکن، کجرات، مہاراشٹر اور بہار میں اردو کی جائے پیدائش کے نظریات سامنے آئے ۔ سید سلیمان ندوی نے نقوش سلیمانی میں لکھا ہے :

ی مخلوط زبان (اردو) سندھ، گجرات، اودھ ، دکن، پنجاب اور بنگال ہر جگہ کی صوبہ دار زبانوں سے مل کر ہر صوبہ میں الگ الگ پیدا ہوئی ۔ “ ( نقوش سلیمانی ، ص 25)

اردو زبان کے آغاز وارتقا کے سلسلے میں مذکورہ تمام نظریات میں جزوی صداقت موجود ہے۔ لسانیات کی روشنی میں ان کی حیثیت تاریخی زیادہ ہے تحقیقی اور علمی کم ہے۔ اس حقیقت کے باوجود یہ تمام نظریات اردو زبان کے آغاز و ارتقا کی تلاش کے تاریخی سفر میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔

 سید سلیمان ندوی کا نظریہ:

سید سلیمان ندوی (1954-1884) اردو کے بڑے عالم اور مورخ تھے۔ اسلامی تاریخ ان کی تحقیق اور تصنیف کا خاص میدان تھا۔ انھوں نے تاریخ اور سیرت پر کئی کتا بیں ترتیب دی ہیں۔ ان میں عرب و ہند کے تعلقات ، سیرۃ النبی، رحمت عالم، سیرۃ عائشہ اور بہادر خواتین اسلام وغیرہ اہم کتابیں ہیں۔ ان کے خطبات، مقالات اور مقدمات کا مجموعہ ” نقوش سلیمانی 1939ء میں معارف پریس اعظم گڑھ سے شائع ہوا۔ ” نقوش سلیمانی“ میں وہ خطبات اور مقالات بھی شامل ہیں جن سے اردو زبان کے آغاز و ارتقا کے مسائل پر سلیمان ندوی کے خیالات و نظریات سے واقفیت فراہم ہوتی ہے۔ سلیمان ندوی نے اس کے مقدمے میں کتاب کی اہمیت کی وجہ خود بیان کی ہے۔یہ پہلی کتاب ہے جس میں سب سے پہلے اردو کے مولد کے تعین و تشخیص کے باب میں سندھ اور ملتان کی نشان دہی کی گئی ، اور یہ اشارات سب سے پہلے 1915ء کے اجلاس اردو کے خطبہ صدارت میں کیسے گئے، پھر بعد کے خطبوں اور مقالوں میں ان پر مزید روشنی ڈالی جاتی رہی ۔ سلیمان ندوی نے 1915 کا یہ خطبہ آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے شعبہ ترقی اردو کے اجلاس ( پونا ) میں دیا تھا۔ اس خطبے میں انھوں نے اردو کو ایک مخلوط زبان قرار دیا جو باہمی میل جول کا نتیجہ تھی۔

” ایک ایسا ملک جو مختلف نسلوں ، مختلف قوموں، مختلف زبانوں کا مجموعہ تھا، ناگزیر ہے کہ وہاں باہمی میل جول کے بعد ایک زبان پیدا ہو، وہ پیدا ہوئی اور اسی کا نام اردو ہے۔ ( نقوش سلیمانی ، ص 7)

اس وقت تک عام خیال یہ تھا کہ اردو کی پیدائش دہلی اور دوآبہ گنگ و جمن کے علاقے میں ہوئی۔ اس کے علاوہ اردو کی ابتدا کا زمانہ عہد مغلیہ کو مانا جاتا تھا۔ سلیمان ندوی ان خیالات کی تردید کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

"مسلمان عربی اور فارسی زبان لے کر ہندوستان آئے۔ اس پر دو سو برس بھی گزرنے نہ پائے تھے کہ ایک مشترک زبان یہاں پیدا ہو گئی۔ اردو شاہ جہاں کے عہد کی یادگار بتائی جاتی ہے لیکن اصل یہ ہے کہ غوریوں، خلجیوں اور تغلقوں ہی کے زمانہ میں یہ پیدا ہو چکی تھی ۔“ ( نقوش سلیمانی ، ص6)

اردو زبان کی ابتدا کے زیادہ تر نظریات اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جب مسلمان ہندوستان آئے تو ان کا مقامی ہندوؤں سے میل جول بڑھا جس کے نتیجے میں اردو پیدا ہوئی۔ سلیمان ندوی نے اسی عام خیال کو ذہن میں رکھ کر یہ قیاس آرائی کی کہ اردو سندھ میں پیدا ہوئی۔

"مسلمان سب سے پہلے سندھ پہنچتے ہیں اس لیے قرین قیاس یہ ہے کہ جس کو آج ہم اردو کہتے ہیں اس کا ہیولی اسی وادی

سندھ میں تیار ہوا ہوگا ۔ (ایضاً، ص 31)

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مسلمان حکمران کی شکل میں سب سے پہلے سندھ میں آئے۔ محمد بن قاسم نے 712ء میں سندھ کو فتح کر کے اسے

اسلامی مملکت کا ایک صوبہ بنایا۔ مسلمان بڑی تعداد میں تجارت اور مذہبی تبلیغ کی غرض سے یہاں آئے اور آباد ہو گئے ۔ یہ مسلمان تقریباً تین سو سال تک یہاں قیام پذیر رہے۔ اس طویل عرصے میں مسلمانوں اور مقامی باشندوں کے معاشرتی تعلقات قائم ہوئے اور انھیں مشترک زبان کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اس تاریخی عمل کو ذہن میں رکھ کر سلیمان ندوی نے یہ قیاس آرائی کی کہ یہ مشترک زبان اردو ہو سکتی ہے۔ انھوں نے کئی عرب سیاحوں کے سفر ناموں سے شہادتیں فراہم کی ہیں اور ان کی بنیاد پر یہ دعوی کیا ہے کہ عربی فارسی کا میل جول ہندوستان کے جس حصے میں پہلے واقع ہوا وہ سندھ ہے، اس لیے سندھ کی وادی ہماری متحدہ زبان کا پہلا گہوارہ تھی۔

 حافظ محمود شیرانی کا نظریہ:

اردو زبان کے آغاز و ارتقا کے بارے میں ایک اہم نظریہ حافظ محمود شیرانی (1946-1880) کا ہے۔ یہ نظریہ انھوں نے اپنی مشہور کتاب’ پنجاب میں اردو‘ (1928) میں پیش کیا۔ اس کتاب میں محمود شیرانی اردو کی جائے پیدائش پنجاب قرار دیتے ہیں کیونکہ مسلمانوں نے ہندوستان میں سے پہلے طویل عرصے کے لیے یہیں بودوباش اختیار کی تھی ۔ کتاب کے مقدمے میں اردو کی قدامت کے بارے میں محمود شیرانی لکھتے ہیں:

”ہم اردو کے آغاز کو شاہ جہاں یااکبر کے دربار اور لشکر گاہوں کے ساتھ وابستہ کرنے کے عادی ہیں۔ لیکن یہ زبان اس زمانہ سے بہت زیادہ قدیم ہے۔ بلکہ میرے خیال میں اس کا وجودان ہی ایام سے ماننا ہوگا جب سے مسلمان ہندوستان میں آباد ہیں ۔ “

 ( پنجاب میں اردو ، مقدمہ )

محمود شیرانی نے جن تاریخی عوامل پر اپنے نظریے کی بنیاد رکھی ہے وہ یہ ہیں کہ غزنی کے مسلم حکمراں محمود غزنوی نے 1027ء تک لگا تارسترہ حملوں کے بعد سر زمین پنجاب پر اپنی حکومت قائم کی۔ اس فتح کے بعد مسلمان جن کی زبان فارسی تھی پنجاب میں آباد ہو گئے ۔ پنجاب میں مسلمان تقریباً دوسوبرسوں تک رہے اور محمد غوری کے حملوں (1192) کے بعد دہلی ہجرت کی۔ پنجاب میں مسلمانوں کے طویل قیام کی مدت میں مقامی باشندوں سے گہرے سماجی رشتے قائم ہونا فطری بات ہے۔ سماجی تعلقات کے لیے مشترک زبان کی ضرورت پیش آئی اور ایک نئی زبان نے جنم لیا۔ جب مسلمانوں نے پنجاب سے دہلی ہجرت کی تو یہ ٹی زبان بھی ان کے ساتھ آئی۔ محمود شیرانی کا خیال ہے کہ پنجاب سے مسلمان جس زبان کو دہلی لائے وہ پنجابی نما اردو یا اردو نما پنجابی ہوسکتی ہے۔ یہی زبان دہلی کی فتح کے بعد اردو کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

"اردو دہلی کی قدیم زبان نہیں ہے، بلکہ وہ مسلمانوں کے ساتھ دہلی جاتی ہے اور چونکہ مسلمان پنجاب سے ہجرت کر کےجاتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ وہ پنجاب سے کوئی زبان اپنے ساتھ لے کر گئے ہوں۔ (ایضاً، صفحہ ب )

 محمود شیرانی ان سیاسی اور تاریخی حالات سے اس نتیجے پر پہنتے ہیں کہ اردو کی پیدائش سب سے پہلے پنجاب میں ہوئی اور اردو پنجابی کی قدیم شکل سے نکلی ہے۔ اپنے نظریے کی تائید میں انھوں نے پنجابی اور قدیم اردو کی مشترک لسانی خصوصیات پر اس کتاب میں تفصیل سے بحث کی ہے ۔ دکن میں دکنی کے نام سے فروغ پانے والی زبان یہی قدیم اردو تھی۔ یہ زبان دہلی سے متعدد فوجی حملوں کے نتیجے میں دکن پہنچی تھی۔" فتح دہلی (1193) کے بعد علاءالدین خلجی (م1316) نے دکن میں دیوگری 1294 میں فتح کیا۔ اس کے بعد علاء الدین خلجی کے سپہ سالار ملک کافور نے دکن کے علاقوں پر کامیاب حملے کیے۔ 1351 میں محمد تغلق (م1351) نے اپنا پایہ تخت دولت آباد ( دیوگری) کو بنایا اور دہلی کی تمام آبادی کو دولت آباد منتقل ہونے کا حکم دیا۔ علاء الدین خلجی، ملک کا فور اور محمد تغلق کی فوجی مہمات اور دہلی کی آبادی کے رکن منتقل ہونے کی وجہ سے اردو زبان کو دکن میں بہت ترقی ہوئی اور اس زبان میں ادب تخلیق ہونے لگا۔ محمود شیرانی نے اس قدیم اردو یعنی دکنی اردو اور پنجابی کے درمیان صوتی ، صرفی اور نحوی اعتبار لسانی رشتے تلاش کیے ہیں۔ مثلاً پنجابی اور اردو میں علامت مصدر (نا) کا مشترک ہونا، الفاظ کے آخر میں نون غنہ کا ہونا، فعل کا تذکیر و تانیث اور واحد جمع میں اپنے فاعل کے مطابق آنا وغیرہ۔ انھوں نے ان لسانی اشتراک کی مثالوں کو اپنے نظریے کی تائید میں بہ طور دلیل پیش کیا ہے۔ دکنی اور پنجابی کے صرف و نحو کے تقابلی مطالعے سے محمود شیرانی یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ اردو کی جائے پیدائش پنجاب ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

"گذشتہ سطور کے مطالعے سے ہم پر یہ امر واضح ہو گیا ہے کہ اردو اور پنجابی کی صرف کا ڈول تمام تر ایک ہی منصوبہ کے زیر اثر تیار ہوا ہے۔ ان کی تذکیر و تانیث اور جمع اور افعال کی تعریف کا اتحاد اسی ایک نتیجے کی طرف ہماری رہنمائی کرتا ہے کہ اردو اور پنجابی زبانوں کی ولادت گاہ ایک ہی مقام ہے۔ دونوں نے ایک ہی جگہ تربیت پائی ہے اور جب سیانی ہوگئی ہیں تب ان میں جدائی واقع ہوئی ہے۔“ ( پنجاب میں اردو ، ص 99)

محمود شیرانی نے اردو زبان کے آغاز کے مسئلے پر جس تفصیل سے تجزیاتی اور مدلل بحث کی ہے وہ ان سے قبل کسی اور محقق نے نہیں کی ۔ ان کا نظریہ بہت مشہور ہوا اور اس سے اردو زبان کے آغاز پر نئی بحث کا آغاز ہوا۔ ان کے نظریے نے اردو زبان کے کئی محققین کو متاثر کیا جن میں محی الدین قادری زور اور سنیتی کمار چڑ جی جیسے ماہرین لسانیات بھی شامل ہیں۔ لیکن ماہر لسانیات مسعود حسین خاں نے لسانیات کی روشنی میں محمود شیرانی کے نظریے کی تردید کی ہے۔ ان کے مطابق محمود شیرانی نے قدیم دور میں پنجابی کی جن خصوصیات کا ذکر کیا ہے وہ سب اس عہد کی ہریانی میں بھی موجود تھیں لیکن انھوں نے اسے نظر انداز کیا۔ گیان چند جین نے بھی محمود شیرانی کے نظریے کی تنقید کرتے ہوئے یہ نشاندہی کی ہے کہ ان کے بیان میں تضاد پایا جاتا ہے۔ شیرانی کے ایک قول کے مطابق اردو دہلی اور میرٹھ میں بنتی ہے جب کہ دوسرے قول کے مطابق مسلمان اسے پنجاب سے لائے۔ محمود شیرانی نے یہ تسلیم کیا ہے کہ ان کا نظریہ کوئی نیا نظریہ نہیں ہے بلکہ اس سے قبل شیر علی سرخوش اپنے تذکرے اعجاز سخن (1923) میں اردو پنجاب سے نکلی“ کے موضوع پر اس قسم کے خیالات کا اظہار کر چکے تھے۔ انھوں نے نہایت صاف گوئی سے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ ان کے نظریے کے حق میں کوئی سند نہیں ہے۔

 نصیر الدین ہاشمی کا نظریہ:

نصیرالدین ہاشمی (1964-1895) اردو کے مشہور محقق، مؤرخ اور ادیب تھے۔ انھوں نے دکنی ادب پر بہت کام کیا ہے ۔ دکنیات کے حوالے سے انھوں نے کئی کتابیں مرتب کی ہیں۔ ان میں سلاطین دکن کی ہندوستانی شاعری (1922) دکن میں اردو (1923)، ”مدراس میں اردو (1928)، کئی ہندو اور ارد " (1956) اہم ہیں۔ دکن میں اردو ان کی سب سے مشہور کتاب ہے جو چھ صدیوں پر محیط دکن کے ادب کا احاطہ کرتی ہے۔ اس کتاب کا موضوع دکن میں اردو ادب کی تاریخ ہے جس میں دکنی ادب کی خدمات کا تفصیلی تعارف کرایا گیا ہے۔ کتاب کے ابتدائی صفحات میں نصیر الدین ہاشمی نے اردو کی ابتدا کے بارے میں چار مختلف نظریات کا جائزہ لیا ہے۔ اس فہرست میں انھوں نے پنجاب،سندھ اور دو آبۂ گنگ و جمن کے علاوہ دکن میں اردو کی ابتدا کو بھی ایک نظریہ کے طور پر شامل کیا ہے۔ وہ سندھ اور دکن میں اردو کی ابتدا کے بارے لکھتے ہیں:

"یہ امر تقریبا تصفیہ شدہ ہے کہ اردو مسلمانوں اور ہندوؤں کے باہمی میل جول سے پیدا ہوئی ہے۔ اس لیے جن اصحاب کا

یہ دعویٰ ہے کہ اس کی ابتدا سندھ اور دکن سے ہوئی وہ ایک حد تک غلط نہیں ہوسکتا، کیوں کہ مسلمانوں کی آمدسب سے پہلے ان ہی مقامات پر ہوئی ۔ “ ( دکن میں اردو، ایڈیشن 1985 ص 33)

لیکن بعد میں وہ اس نظریے کی تردید میں یہ کہتے ہیں کہ سندھ کے فاتحوں کی زبان عربی تھی ، اس لیے وجود میں آنے والی زبان کو عربی اور شور سینی سے مشترک ہونا چاہیے تھا۔ لیکن ایسا نہیں ہے اور اس میں فارسی کا حصہ زیادہ ہے۔ اس لیے یہ بات تسلیم نہیں کی جاسکتی ہے کہ اردو کی ابتدا سندھ سے ہوئی۔ نصیر الدین ہاشمی نے دکن میں اردو کی ابتدا کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ عرب سے مسلمان تجارت اور دین کی تبلیغ کے لیے سندھ کے بعد مالا بار اور کرناٹک کے ساحلوں پر آئے۔ اپنی جدو جہد، ملنساری اور نیک مزاجی کی وجہ سے مقامی ہندوؤں کے دلوں میں جگہ بنائی۔ اس طرح وہ ملک اندر بس گئے اور اپنی حکومت قائم کی۔ نصیر الدین ہاشمی نے متعدد مثالوں سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ دکن مسلمانوں کے لیے وطن کی حیثیت اختیار کر چکا تھا اس لیے انھیں مقامی باشندوں سے تبادلہ خیال کرنے کے لیے ایک نئی زبان کی ضرورت تھی ۔ وہ لکھتے ہیں:

"اب یہ امر خاص طور سے غور طلب ہے کہ جب مسلمانوں نے مدتوں دکن میں بود و باش کی اور حکومت قائم کی ، تجارت کی ، مذہب کی اشاعت کی تعلیم دی۔ ان کا اٹھنا بیٹھنا یہاں کے ملکی اور دیسی باشندوں کے ساتھ تھا۔ ہر وقت کام کاج خرید و فروخت میں ان سے سابقہ رہتا تھا تو ظاہر ہے کہ ایک خاص زبان کا پیدا ہونا ضروری تھا ، جو دونوں غیر قوموں کے لیےتبادلۂ خیالات کا ذریعہ ہوتی۔ اس لحاظ سے جو دعویٰ اردو کے دکن سے پیدا ہونے کا کیا جاتا ہے، وہ بڑی حد تک بیج ہوسکتاہے۔" (ایضاً ص 35)

نصیر الدین ہاشمی دکن میں اردو کی ابتدا کے دعوٹی کو صحیح سمجھتے ہیں اور اس کی تائید میں کئی مثالیں بھی دیتے ہیں لیکن سندھ کی طرح دکن میں اردو کی ابتدا کی تردید بھی کرتے ہیں۔ جس لسانی حقیقت کے پیش نظر انھوں نے سندھ سے اردو کی ابتدا کے نظریے کو رد کیا اسی کو بنیاد بنا کر دکن میں اردو کی ابتداسے انکار کرتے ہیں۔ البتہ ان کے بیان سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ قطعی طور پر اس نظریے کو غلام نہیں مجھے بلکہ لسانی شواہد کے دستیاب نہ ہونے کے سبب فی الحال اس نظریے سے دست بردار ہورہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں:

”جو امور سندھ سے اردو کی ابتدا ہونے میں مانع ہیں وہی امور یہاں بھی مانع نظر آتے ہیں۔ اس لیے سر دست ہم دکن کو

بھی اردو کا مولد نہیں قرار دے سکتے ۔ (ایضاً 36)

نصیرالدین ہاشمی نے سندھ سے اردو کی ابتدا کے نظریے کو اس بنا پر رد کیا تھا کہ اردو زبان میں فارسی کا حصہ غالب ہے لہذا وہ عربی اور شور سینی کا مرکب نہیں ہو سکتی ۔ دکن سے اردو کی ابتدا کے نظریے کو تسلیم کرنے میں بھی یہ مسئلہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اردو عربی اور دکن کی زبانوں کے اشتراک سے بنی ہے تو اس میں فارسی زبان کا عصر کیوں حاوی ہے۔ اس لیے دکن میں اردو کی ابتدا کا نظریہ لسانیات کی روشنی میں کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ عربی اور دکن کی دراوڑی زبانیں دونوں ہی ہند آریائی خاندان سے تعلق نہیں رکھتیں۔ اس لیے اگر اردو میں عربی کا حصہ زیادہ ہوتا تب بھی دو مختلف لسانی خاندان کی زبانوں کے اشتراک سے کسی تیسرے لسانی خاندان کی زبان اردو کا پیدا ہونا قرین قیاس نہیں۔ سندھ اور دکن کے نظریوں کے بعد نصیر الدین ہاشمی نے پنجاب سے اردو کی ابتدا کے نظریے کی تردید کی ہے۔ اس نظریے کی تردید انھوں نے خالص لسانیاتی پیمانے سے کی ہے۔ وہ اس نظریے کی تردید میں لکھتے ہیں:

” پنجاب میں اردو کے متعلق مؤلف ” پنجاب میں اردو مولانامحمود شیرانی نے بڑی تفصیل سے بحث کی ہے، مگر جب تک مسعود سعد سلمان کا ہندی دیوان دستیاب نہ ہو ان کی تحقیقات کو صحیح نہیں کہا جا سکتا اور جیسا کہ ڈاکٹر سید محی الدین قادری زور کی رائے ہے ” پنجابی زبان اردو کی ماں نہیں ہو سکتی بلکہ بہن ہو سکتی ہے۔ (ایضاً 36)

اس طرح نصیر الدین ہاشمی سندھ اور دکن کے پنجاب سے اردو کی ابتدا کے نظریے کو بھی خارج کرتے ہیں اور دو آبہ گنگا جمنا میں اردو کی ابتدا کے نظریے کوتسلیم کرتے ہیں۔ اس بارے میں وہ کہتے ہیں:"سندھ، دکن ، پنجاب کے خارج ہو جانے کے بعد اب صرف دو آبہ گنگا جمنا باقی رہتا ہے جو اردو کے مولد ہونے کا مدعی نصیر الدین ہاشمی نے کتاب میں اس نظریے کی حمایت میں تفصیل سے لکھا ہے۔ وہ اس بات سے متفق ہیں کہ اردو زبان کا آغاز سب سے پہلےشمالی ہند میں ہوا اور اس کی ابتدا ہندوستانی اور بیرونی زبانوں کے اشتراک سے ہوئی۔ یعنی نصیر الدین ہاشمی بھی اردو کو ایک مخلوط زبان مانتے ہیں۔ کتاب کے ابتدائی صفحات ہی میں انھوں نے اردو زبان کے آغاز و ارتقا کے بارے میں وضاحت سے لکھا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں:

"گلستان ہند کے شمالی چمن میں مغربی دروازوں سے باغبانوں نے آکر اردو کا بیج بویا، گنگا اور جمنا نے آبیاری کر کےچھوٹے پودے کو اگایا۔ اسی کے قریب قریب گلزار دکن میں بھی انھیں ہاتھوں نے اس بیج کو زمین میں ڈالا ۔ کرشنا اور گوداوری و موسی درخت کے اگانے میں معاون ہوئیں۔ ہنوز شالی چمن کا درخت بار آور نہ ہوا تھا کہ دکھنی پودا زمین کی عمدگی اور بر وقت آبیاری سے بہت جلد تروتازہ سرسبز اور شاداب ہو گیا۔ اسی اثناء میں ایک دکھنی باغبان نربدا کے اس پار جا پہنچتا ہے اور اپنے فن زراعت دانی سے شمالی چمن کے درختوں کی پرداخت کرتا ہے۔ پرانی شاخیں قطع و برید کر کے چمن کی آراستگی میں مصروف ہو جاتا ہے۔ پھر تھوڑی ہی مدت میں چمن سرسبز اور درخت بارآور ہو جاتے ہیں۔ چمن نئے نئے گل بوٹوں سے اپنی بہار دو بالا کر دیتا ہے۔" (ایضاً 27)

نصیر الدین ہاشمی واضح طور پر اردو کی ابتدا اور ارتقا میں تاریخی عوامل کا ذکر کر رہے ہیں۔ یہ بات تاریخی اور لسانی دونوں اعتبار سے درست ہے کہ اردو کی ابتدا شمال میں اور اس کا ارتقا دکن میں ہوا۔ البتہ لسانیات کی روشنی میں ان کی یہ رائے قابل قبول نہیں کہ اردو کا بیج باہر سے آنے مسلم فاتحین نے لگایا۔ اردو ایک جدید ہند آریائی زبان ہے جس کی نشو و نما شور سینی اپ بھرنش سے ہوئی ہے۔ مسلم فاتحوں کی زبان فارسی نے اس پر گہرے اثرات مرتب کیے ۔ ماہر لسانیات سینیتی کمار چڑ جی نے اپنی کتاب ہند آریائی اور ہندی میں واضح کیا ہے کہ مسلمان اگر ہندوستان میں نہ آتے تو بھی جدید ہند آریائی زبانیں وجود میں آتیں لیکن زبانوں کے ادبی آغاز وارتقا میں دو ایک صدی کی تاخیر ضرور ہو جاتی۔ نصیر الدین ہاشمی نے اردو زبان کے ارتقا پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ شمال میں اردو برج کے علاقے میں اپنی ابتدائی شکل میں تھی۔ علاء الدین خلجی اور محمد بن تعلق کی کی دکن پر فوج کشی کی وجہ سے یہ دکن میں آئی۔

 

 

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.