B.A. Second Year, Semester- IV(Minor-II)

 

  Swami Ramanand Teerth Marathwada University, Nanded.

سوامی رامانند تیر تھ مراٹھواڑہ یو نیور سٹی ، ناندیڑ۔

 Faculty of Humanities

شعبہ انسانیات

Effective from Academic year 2025

روبہ عمل تعلیمی سال2025-

B.A. Second Year, Semester- IV

بی۔اے۔سال دوّم(میقات چہارپ)

Subject: DSM (Minor)-Urdu-II

Paper Code: HURDMT1201, Title: Sir sayyed  Ahmed Kahan ki Shaqsiyat

مائنر اُردو   ( سر سید احمد خان کی شخصیت)



سرسید  کے ابتدائی حالات:

سرسید احمد خاں کے 17ا کتوبر ۱۸۱۷ء کو دہلی میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد کا نام سید محمد متقی خان اور والدہ کا نام عزیز النساء تھا۔ ان کا خاندان دلی کے ممتاز خاندانوں میں سے تھا اور بادشاہ شاہ عالم سے اس کو قربت حاصل تھی۔سرسید کے والد سید محمد متقی خاں جن کے نام کے سلسلہ میں الطاف حسین حالی نے حیات جاوید میں میر تقی درج کیا ہے۔ سید محمد متقی خاں مغل دربار کے پشتینی منصب دار تھے ، اور نہایت ہی موثر صاحب حیثیت شخصیت کے حامل تھے۔

سرسید کی والدہ عزیز النساء بیگم تھیں، وہ خواجہ فرید الدین احمد کی بیٹی تھیں ۔ سید محمد متقی خان اور عزیز النساء کی شادی ۱۸۰۵ء میں ہوئی تھی۔ سید محمد متقی خاں کی اولاد میں ایک بیٹی اور دو بیٹے ہوئے۔سرسید کے والد سید محمد تقی خان ۱۸۳۸ء میں دہلی میں فوت ہوئے ۔سرسید کے نا نا خواجہ فرید الدین احمد کا خاندان کشمیر سے تعلق رکھتا اور بغرض تجارت خواجہ فرید الدین کے دادا خواجہ عبدالعزیز دلی آئے ۔

سرسید کی تعلیم و تربیت:سرسید کا بچپن اپنے نانا خواجہ فرید الدین احمد کے گھر گزرا۔ جو کہ اپنے وقت کے ایک بڑے عالم تھے اور علم ریاضی میں ید طولی رکھتے تھے۔ سرسید کی بسم اللہ اس زمانے کے رواج کے مطابق ان کے ننہیالی گھر پر ہوئی ، بسم اللہ حضرت شاہ غلام علی جو کہ شاہ ولی اللہ کے خاندان سے تھے نے کروائی ۔سرسید نے اپنی بسم اللہ کے بعد پردہ نشین استانی سے قرآن شریف گھر پر پڑھا، اس کے بعد ایک بزرگ مولوی حمید الدین صاحب سے ابتدائی کتا بیں،  خالق باری، آمد نامہ وغیرہ پڑھیں ۔ اس کے علاوہ فارسی کی گلستاں اور بوستاں وغیرہ کا بھی درس لیا۔ اس کے بعد عربی کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا۔ عربی میں جو کتابیں پڑھیں ان میں شرح ملا ، شرح تہذیب مختصر معانی اور ان کے علاوہ چند دیگر کتابوں کا بھی درس لیا۔

سرسید نے اپنے دور کے علوم متداولہ کی تحصیل کی تھی اور ان کی بیٹھک دلی کی اعلی علمی شخصیات میں تھی۔ سرسید نے اپنے ماموں نواب زین العابدین خاں سے ریاضی کی ابتدائی کتا بیں پڑھیں ۔ ان کتابوں تحریر اقلیدس کے چند مقالے، ہئیت میں شرح چغمنی اور ایک آدھ رسالہ متوسطات کا پڑھا۔ اس کے علاوہ اسی وقت ان کو آلات رصد یعنی اسٹرونومی کی کا بھی علم حاصل کرنے کا شوق ہوا۔ اس لئے اعمال کرہ ، اعمال اسطرلاب ، رسالہ صنعت اطرلاب ، ربع مجیب ، ربع مقطر ، بلزون ،  پر کار تقسیم پر کار متناسب، اپنے ماموں سے پڑھے۔ اسی زمانے میں طب پڑھنے کا شوق ہوا اور انہوں نے حکیم غلام حیدر خاں سے جو ایک خاندانی حکیم تھے، طب کی ابتدائی کتا ہیں قانونچہ، اور موجز وغیرہ پڑھیں اور پھر اس کے بعد معالجات سدیدی ، شرح اسباب م اور نفیسی امراض عین تک پڑھی اور چند ماہ انہوں نے حکیم نام حیدر خاں کے پاس مطلب بھی کیا۔ پھر سرسید نے پڑھنا چھوڑ دیا۔ البتہ انہوں نے خود سے اچھی کتابوں کا مطالہ جاری رکھا اور ان کو اس کا شوق برابر رہا۔ اس کے علاوہ ان کی دہلی کی علمی شخصیتوں جو کہ علم وادب اور فارسی دانی میں اپنی مثال آپ تھے ، جیسے کہ امام بخش صہبائی ، مرزا اسدالله ردہ کی علمی و دبی محفلوں میں شرکت ہوتی۔ جب سرسید کی عمر اٹھارہ انیس برس کی تھی یہاں یہ واضح کرتے چلیں کہ سرسید کی تربیت میں ان کی ماں نے اہم کردار ادا کیا۔ دراصل یہ سید احمد کی ماں تھیں جنہوں نے ان کے ذہن کو اعلیٰ نصب العین اور تلخ حقائق سے دوچار ہونا سکھایا۔ وہ تربیت کے معاملات میں بڑی سخت تھیں اور اکثر سرسید کی غلط باتوں پر نہ صرف ناراض ہوتیں بلکہ اس کی تعبیہ بھی کرتیں۔ وہ چند واقعات جو سر سید احمد نے اپنی والدہ کی تربیت کے سلسلہ میں اپنی بعد کی زندگی میں بیان کیا ہے، ان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سرسید کی زندگی میں ان کی تربیت نے کس طرح کا مثبت کردار ادا کیا۔ اس سلسلہ سے ایک واقعہ ہے کہ جب سرسید گیارہ بارہ برس کے تھے تو انہوں نے اپنے ایک پرانے بوڑھے ملازم کو کسی بات پر ناراض ہو کر ایک تھپڑ مار دیا ہے۔ جب ان کی والدہ کو اس واقعہ کے بارے میں پتہ چلا تو انہوں نے سرسید کو یہ کہہ کر گھر سے باہر نکال دیا کہ اب وہ اس گھر کے لائق نہیں ہے۔ ان کی ماں نے گھر میں کام کرنے والی ایک خادمہ سے یہ کہا کہ وہ سرسید کو گھر سے باہر لے جا کر سڑک پر چھوڑ دے۔ اس وقت سرسید کی خالہ نے جو پڑوس میں رہتی تھیں ان کو اپنی بہن سے ڈرتے ڈرتے اپنے گھر میں پناہ دی ۔ ان کو ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا کہ اگر یہ بات ان کی بہن کو معلوم ہوگئی تو وہ ان سے بھی ناراض ہوں گی ۔ سرسید کی خالہ ان کو تین دن کے بعد اپنی بہن کے پاس لے گئیں اور ان کو معاف کرنے کے لئے کہا۔ لیکن سرسید کی ماں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ وہ جب تک سرسید کو معاف نہیں کریں گی جب تک وہ اس بوڑھے ملازم سے معافی نہیں مانگ لیں گے۔ سرسید نے جب اپنے ملازم سے معافی مانگ لی جب جا کر ان کو گھر میں داخل ہونے دیا گیا۔

سرسید کی شخصیت :

سرسید انیسویں صدی کی ان برگزیدہ شخصیتوں میں سے ہیں جو بیک وقت ماہر دینیات، عالم، ساجی مصلح، ماہر تعلیم ، مدبر، مفکر، مصنف اور صحافی تھے۔ جنہوں نے ہندوستان کی ترقی و تعمیر میں کلیدی اور غیر معمولی کردار ادا کیا۔ وہ ہندوستانیوں کو نئے زمانے کی تبدیلیوں سے آشنا کرانا چاہتے تھے ان کے لئے فلاح و بہبود کے راستے متعین کرنا چاہتے تھے ، ان کو مایوسی ، پستی ، اور جہالت سے باہر لانا چاہتے ، جوان کا مقدر بن چکی تھی۔ وہ اس کٹھن راہ پر آنے والی مشکلات اور صعوبتوں کی پرواہ کئے بغیر، صبر وسکون، مسلسل پیہم جد و جہد، اور لگن کے ساتھ ہندوستانیوں کو قدیم رسوم و رواج کی پابندیوں سے باہر نکال کر لانے کے لئے پوری زندگی سرگرداں رہے۔در اصل ۱۸۵۷ء کے غدر نے سید احمد خاں کو بے انتہا متاثر کیا تھا اور اس واقعہ سے ان کی زندگی ، اوران کی شخصیت میں نیا موڑ آیا جس نے ان کے اندر پائی جانے والی خفیہ صلاحیتوں کو نمایاں کر دیا تھا۔ آئیے سرسید کی شخصیت کے چند نمایاں پہلوؤں اور صفات پر روشنی ڈالتے ہیں:

اخلاص دانہماک:سرسید احمد کے کردار کا جو سب سے اہم پہلو تھا وہ ان کا اخلاص تھا۔ سرسید اپنے عمل، اپنے خیالات کے لحاظ سے بے انتہا خالص تھے۔ اپنے اس اخلاص کی وجہ سے نہ صرف دو اپنے دوستوں بلکہ دشمنو کو بھی  اپنا لیتے تھے۔ ان کے دشمن بھی ان کے جذبہ اخلاص اسی  متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے تھے۔ اس سلسلہ میں پرو فیسر آرنالڈ نے ان کی وفات کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ:

“ان کی زندگی شرافت کا ایک نمونہ تھی، خود فرض سے بالاتر اور سچائی سے ہم آہنگ اور دوسروں کی خدمت کے لئے وقف ۔

 یہ تھی ان کی زندگی ۔ اب ہمیں ان جیسا دوسرا شخص کیسا مل سکتا ہے ۔"

عزم و استقلال:سرسید کے کردار کو عزم واستقلال نے بھی مضبوط بنایا ہے۔ ان کے اندر یہ صفت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ، جو ان کو ان کے مقاصد کو پورا کرنے میں انکا تعاون دیتی تھی۔ سرسید جب کسی کام کو طے کر لیتے تو دو پھر پوری لگن کے ساتھ اس کو مکمل کرنے میں جٹ جاتے ۔ ان کے اندر اپنے کام کے لئے مستقل مزاجی پائی جاتی تھی۔ اور وہ اپنے مقصد کے لئے کسی طرح بھی ہمت ہارنے کو تیار نہ ہوتے تھے، چاہے لوگ کتنی ہی ان پر تنقید یں کرتے ۔

غیرت وحمیت:سرسید کی شخصیت کی ایک امتیازی خصوصیت یہ بھی تھی کہ ان کے اندر غیرت وحمیت کا عنصر بھی نمایاں تھا۔ انہوں نے ہندوستانیوں میں جدید تعلیم کو عام کرنے کے مقصد کو حصول کے لئے انگریزوں کے ساتھ اشتراک و تعاون اور تعلقات کو بہتر بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان کا یہ خیال تھا کہ حکومت نے ہمیں ایک ایسا موقع دیا ہے کہ قدیم رسوم ورواج سے نکل کر ہمیں ہندوستان میں جدید علوم وفنون کو فروغ دے سکتے ہیں اور ہندوستان کو ترقی اور تعمیر کے رخ پر ڈال سکتے ہیں۔ لیکن انہوں نے قومی اور انفرادی عزت نفس کے لئے بھی جرائت مندانہ قدم اٹھائے اور برطانوی حکومت کے ان فیصلوں پر سخت تنقید کی جو عوام کے خلاف تھے۔ اس سلسلہ میں ایک انگریز افسر نے جب ہندوستانیوں کو ذلیل کرنے کی کوشش کی تو سر سید احمد خاں اس پر سخت ناراض ہوئے اور انہوں نے اس سلسلہ سے علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ میں ایک مضمون بھی لکھا۔ ایک دفعہ ۱۸۶۷ء میں وہ آگرہ کے دربار سے صرف اس لئے واپس ہو گئے کہ انتظامیہ نے انگریزوں اور ہندوستانیوں کے لئے نشستیں علیحدہ علیحدہ رکھیں تھیں یعنی جلسے میں امتیازی رویہ اختیار کیا تھا۔

عقیدے اور خیالات کی پختگی:سرسید اپنے خیالات میں بڑے پختہ تھے اور اپنی رائے اور خیالات کو بڑی جرات اور بہادری سے پیش کرتے تھے۔ وہ اس کی پرواہ نہیں کرتے کہ اس کی مخالفت ہو گی یا موافقت ۔ انہوں نے"ا سباب بغاوت ہند" کو اس وقت تحریر کیا جب لوگ انگریزوں کے خلاف کچھ بھی بات کرنے کو تیار نہ تھے۔ اسی طرح انہوں نے جب مذہبی معاملات پر بات کی تو اکثر لوگوں نے ان کی رائے سے اتفاق نہیں کیا اور بہت سے مذہبی شخصیتوں نے ان کے خلاف فتوے بھی منگوائے لیکن انہوں نے اس کے باوجود اپنے خیالات کو پیش کیا۔

مذہبی رواداری:سرسید مذہبی جنون، تعصب سے پاک تھے۔ ان کے اندر فراخ دلی اور وسیع النظری بدرجہ اتم موجود تھی ۔ مذہبی معاملات میں وہ رواداری کے بہت قائل تھے ۔ انہوں نے تمام عمر ہندوؤں اور دیگر مذاہب کے ساتھ مل جل کر رفاقت اور دوستی کے جذبہ سے کام کیا۔ سرسید نے ہمیشہ مذہبی فرقہ پرستی کو پیغمبر اسلام کی تعلیمات کے خلاف سمجھا۔ ان کا خیال تھا مذہبی جنون صرف نفرت پیدا کرتا ہے۔ وہ مذہب کو اخلاقیات کی تعلیم کے لئے اہم سمجھتے تھے۔ انہوں نے ہمیشہ اپنے ہم وطن ہندو بھائیوں کے کاموں کو بھی قدر سے دیکھا۔ ان کی اصلاح کے خاطر بھی علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ میں مضامین لکھے۔اگر کھلے دل و دماغ سے سرسید کی شخصیت اور کردار کا جائز دلیا جائے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ سرسید احمد آفاقی خیالات کے حامل تھے۔ ان کے یہاں انسانیت نوازی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ ان کی تعلیمی ، اور سماجی اصلاح کی کوششیں تنگ نظری تعصب اور فرقہ پرستی کے دائرہ سے بالا تر تھیں۔ انہوں نے مسلمانوں کی اصلاح کی خاص طور پر توجہ اس لئے دی کہ وہ دوسری قوموں کے مقابلہ تعلیمی طور پر زیادہ پسماندہ تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ مسلمان بھی اپنے ملک کی تعمیر وترقی میں دوسری قوموں کے ساتھ کا کا ندھے سے کاندھا ملا کر حصہ لیں ۔

سر سید احمد خان کا 'سفرِ لند

سرسید احمد خان یکم اپریل 1869ء کو بنارس سے روانہ ہوئے اور 4 مئی 1869ء کو لندن پہنچے۔ وہ وہاں تقریباً ڈیڑھ سال مقیم رہے اور اکتوبر 1870ء میں واپس ہندوستان تشریف لائے۔

ذیل میں اس سفر کی وجوہات، خصوصیات اور اثرات کا تفصیلی جائزہ پیش ہے:

سفرِ لندن کی اہم وجوہات (Objectives of the Journey)

1۔ولیم میور کی کتاب کا علمی جواب (دفاعِ اسلام):

 اس سفر کی سب سے بڑی وجہ برطانوی افسر ولیم میور کی کتاب "Life of Mahomet" تھی۔ اس کتاب میں اسلام اور رسول اللہ ﷺ کی زندگی پر شدید اعتراضات کیے گئے تھے۔ سرسید کا ماننا تھا کہ اس کا جواب ہندوستان میں بیٹھ کر نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ تحقیق کے لیے جن مستند کتابوں اور مآخذ کی ضرورت تھی، وہ لندن کی لائبریریوں (خصوصاً برٹش میوزیم) میں موجود تھیں۔ انہوں نے وہاں دن رات محنت کر کے "خطباتِ احمدیہ" مرتب کی، جو دفاعِ اسلام میں ایک سنگ میل ہے۔

2. برطانوی تعلیمی نظام کا مشاہدہ: سرسید دیکھنا چاہتے تھے کہ وہ کیا تعلیمی راز ہے جس نے انگریزوں کو پوری دنیا پر حاکم بنا دیا۔ وہ آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹیوں کے نظامِ تعلیم، وہاں کے ہاسٹل کی زندگی، اور اساتذہ و طلبہ کے تعلقات کا گہرائی سے مطالعہ کرنا چاہتے تھے تاکہ ویسا ہی ادارہ ہندوستان میں قائم کر سکیں۔

3. مغربی تہذیب کا گہرا مطالعہ: و

 اس بات کی کھوج لگانا چاہتے تھے کہ مغربی معاشرہ نظم و ضبط، صفائی ستھرائی، اور سماجی آداب میں کیوں آگے ہے۔ ان کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ مغربی تہذیب کی کون سی خوبیاں ایسی ہیں جنہیں اپنا کر مسلمان دوبارہ اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر سکتے ہیں۔

اپنے بیٹوں کی تعلیم: ان کے بیٹے سید محمود کو حکومت کی طرف سے وظیفہ ملا تھا، سرسید نے اسی بہانے ان کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا تاکہ اپنے علمی مشن کو پورا کر سکیں۔

'مسافرانِ لندن' کی ادبی و فنی خصوصیات

سرسید کا یہ سفرنامہ اردو کے بہترین سفرناموں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی اہم خصوصیات درج ذیل ہیں:

۱. مقصدییت اور سنجیدگی:سرسید نے اس سفرنامے میں رومانوی داستانیں بیان کرنے کے بجائے 'مقصدییت' کو ترجیح دی۔ وہ جہاں بھی گئے، ان کی نظر اس بات پر رہی کہ وہاں کی کون سی چیز ان کی قوم کے کام آ سکتی ہے۔ وہ جہاز کے انجن سے لے کر لندن کے ہوٹلوں کے نظام تک ہر چیز کا موازنہ ہندوستانی حالات سے کرتے نظر آتے ہیں۔

۲. حقیقت نگاری اور جزئیات نگاری:سرسید نے لندن کے سفر کے دوران پیش آنے والے واقعات کو نہایت دیانتداری اور سچائی سے بیان کیا ہے۔ انہوں نے جہاز کے سفر، سمندر کے مناظر، لندن کی سڑکوں، عجائب گھروں اور کتب خانوں کی ایسی تصویر کشی کی ہے کہ قاری خود کو اس ماحول کا حصہ سمجھنے لگتا ہے۔

۳. تقابلی مطالعہ (Comparison):اس سفرنامے کی سب سے نمایاں خصوصیت 'تقابل' ہے۔ سرسید بار بار یورپی معاشرے کی صفائی، ڈسپلن، تعلیم اور وقت کی پابندی کا موازنہ ہندوستانیوں (خصوصاً مسلمانوں) کی کاہلی، گندگی اور جہالت سے کرتے ہیں۔ وہ اپنی قوم کو آئینہ دکھاتے ہیں تاکہ ان میں غیرتِ ملی جاگے۔

۴. سادہ اور رواں نثر:سرسید نے قدیم اردو کی ثقیل اور مقفیٰ عبارت آرائی کو ترک کر کے سادہ، سلیس اور مدعا آفریں نثر استعمال کی۔ ان کا مقصد اپنی بات دوسروں تک پہنچانا تھا، اس لیے زبان میں سلاست اور روانی موجود ہے۔

۵. مصلحانہ انداز:سرسید کا انداز ایک سیاح کا نہیں بلکہ ایک دردمند مصلح (Reformer) کا ہے۔ وہ لندن کی ترقی دیکھ کر کبھی خوش ہوتے ہیں اور کبھی اپنی قوم کی حالت پر رنجیدہ۔ ان کی تحریر میں ایک خاص قسم کا جوش اور ہمدردی پائی جاتی ہے۔

سفرِ لندن کے نتائج اور اثرات:یہ سفر سرسید کی زندگی اور برصغیر کی تاریخ میں ایک انقلاب ثابت ہوا:

      خطباتِ احمدیہ کی تصنیف: انہوں نے لندن میں سخت محنت کر کے اسلام کا دفاع کیا اور 'خطباتِ احمدیہ' جیسی عظیم علمی کتاب لکھی۔

      تہذیب الاخلاق کا اجراء: لندن سے واپسی پر انہوں نے مشہورِ زمانہ رسالہ 'تہذیب الاخلاق' جاری کیا، جس کا مقصد مسلمانوں کی اخلاقی اور سماجی اصلاح تھا۔

      علی گڑھ تحریک کی بنیاد: لندن کے تعلیمی اداروں کو دیکھ کر ہی ان کے ذہن میں ایم اے او (MAO) کالج کا نقشہ ابھرا، جو بعد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بنا۔

      سائنسی نقطہ نظر: انہوں نے مسلمانوں کو جدید علوم اور سائنسی طرزِ فکر اپنانے کی ترغیب دی۔

سرسید احمد خان اور تہذیب الاخلاق

سرسید احمد خان (1817ء-1898ء) برصغیر پاک و ہند کی تاریخ کی وہ قد آور شخصیت ہیں جنہوں نے زوال پذیر مسلم قوم کو ذلت کے گڑھوں سے نکال کر عزت اور جدیدیت کی شاہراہ پر گامزن کیا۔ 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد جب مسلمان تعلیمی، معاشی اور سیاسی طور پر تباہ ہو چکے تھے، تو سرسید نے ان کی بحالی کا بیڑہ اٹھایا۔ ان کی اس کثیر الجہتی جدوجہد (علی گڑھ تحریک) کا سب سے طاقتور ہتھیار ان کا رسالہ "تہذیب الاخلاق" تھا۔

1. تہذیب الاخلاق کا پس منظر اور قیام:

سرسید احمد خان 1869ء میں اپنے بیٹے سید محمود کے ساتھ انگلستان گئے۔ وہاں انہوں نے برطانوی معاشرے کی ترقی، ان کے نظم و ضبط اور علمی شغف کا گہرا مشاہدہ کیا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ انگریزوں کی ترقی کا راز صرف حکومت میں نہیں، بلکہ ان کی اعلیٰ تہذیبی اقدار اور جدید سوچ میں ہے۔ وہاں کے مشہور رسائل 'ٹیٹلر' (Tatler) اور 'اسپیکٹیٹر' (Spectator) سے متاثر ہو کر انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ہندوستان واپس جا کر اسی طرز کا ایک رسالہ نکالیں گے جو مسلمانوں کے اخلاق و عادات کی اصلاح کرے۔وطن واپسی کے بعد 24 دسمبر 1870ء کو بنارس سے "تہذیب الاخلاق" کا پہلا شمارہ شائع ہوا۔ اس رسالے کا انگریزی نام "The Mohammedan Social Reformer" رکھا گیا۔

2. رسالے کے بنیادی مقاصد:

سرسید احمد خان نے اس رسالے کے مقاصد کو نہایت واضح انداز میں بیان کیا تھا۔ ان کے نزدیک محض اسکول کھول دینا کافی نہ تھا جب تک قوم کی سوچ میں تبدیلی نہ آئے۔ذہنی و فکری بیداری: مسلمانوں کو قرونِ وسطیٰ کی دقیانوسی سوچ سے نکال کر جدید سائنسی اور عقلی بنیادوں پر سوچنے کی دعوت دینا۔مذہبی اصلاح: مذہب کو بے جا توہمات اور من گھڑت روایات سے پاک کر کے اس کی اصل اور عقلی شکل میں پیش کرنا۔

تعصب کا خاتمہ: مسلمانوں کے اندر سے بیجا مذہبی اور سماجی تعصبات کو ختم کر کے انہیں دوسری قوموں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کے قابل بنانا۔

مغربی علوم کی ترویج: جدید علوم، خاص طور پر سائنس اور فلسفہ کی اہمیت کو اجاگر کرنا تاکہ مسلمان معاشی دوڑ میں پیچھے نہ رہیں۔

معاشرتی آداب کی درستی: رہن سہن، لباس، گفتگو اور میل جول کے آداب کو بہتر بنانا تاکہ مسلمان ایک مہذب قوم نظر آئیں۔

3. تہذیب الاخلاق کے فکری و ادبی اثرات:

اس رسالے نے نہ صرف مسلمانوں کی سوچ بدلی بلکہ اردو زبان و ادب پر بھی گہرے نقوش چھوڑے۔

الف) جدید اردو نثر کا آغاز:تہذیب الاخلاق سے پہلے اردو نثر مقفیٰ اور مسجع تھی، جس میں مطلب کم اور لفظی لفاظی زیادہ ہوتی تھی۔ سرسید نے اس رسالے کے ذریعے سادہ، سلیس اور مدلل نثر کو رواج دیا۔ انہوں نے ادب کو "ادب برائے زندگی" کے نظریے سے جوڑا۔

ب) مضمون نگاری کی بنیاد:اردو میں باقاعدہ "مضمون نگاری" (Essay Writing) کا آغاز اسی رسالے سے ہوا۔ سیاست، مذہب، اخلاقیات اور سماجیات جیسے خشک موضوعات کو دلچسپ پیرائے میں بیان کرنے کا فن اسی دور میں پروان چڑھا۔

ج) عقلیت پسندی (Rationalism):سرسید نے "نیچر" اور "عقل" پر زور دیا۔ انہوں نے قرآن کی تفسیر اور مذہبی مسائل کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنے کی کوشش کی۔ اگرچہ اس پر علمائے کرام نے سخت گرفت کی، لیکن اس سے مسلمانوں میں چھان بین اور تحقیق کا مادہ پیدا ہوا۔

4. مخالفت اور استقامت:

تہذیب الاخلاق کی اشاعت کے ساتھ ہی پورے ہندوستان میں ایک طوفان کھڑا ہو گیا۔ قدامت پسند طبقے نے اسے "دین میں مداخلت" قرار دیا اور سرسید پر کفر کے فتوے لگائے گئے۔ ان کے مقابلے میں "امداد الآفاق" اور "نور الآفاق" جیسے رسائل نکالے گئے تاکہ سرسید کے اثرات کو روکا جا سکے۔ لیکن سرسید نے کمال صبر اور استقامت سے کام لیا اور مدلل جوابات سے مخالفین کا منہ بند کیا۔

5. تاریخی اہمیت اور انجام:

تہذیب الاخلاق مختلف ادوار میں بند اور دوبارہ جاری ہوتا رہا۔ اس نے علی گڑھ تحریک کے لیے زمین ہموار کی اور مسلمانوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کیا جہاں وہ اپنے قومی مسائل پر بحث کر سکیں۔ اس رسالے کی بدولت مسلمانوں میں ایک "متوسط طبقہ" (Middle Class) پیدا ہوا جس نے آگے چل کر تحریکِ پاکستان کی قیادت کی۔

سرسید احمد خان کا "تہذیب الاخلاق" محض ایک کاغذ کا ٹکڑا نہیں تھا بلکہ ایک ادارہ تھا۔ اس نے مسلمانوں کے مردہ جسم میں زندگی کی لہر دوڑائی۔ بقول مولانا الطاف حسین حالی:"سرسید نے قوم کی حالت کو بدلنے کے لیے قلم کو ہتھیار بنایا اور تہذیب الاخلاق اس ہتھیار کی دھار تھی۔"آج بھی جب ہم جدید اردو نثر یا برصغیر میں مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کی بات کرتے ہیں، تو "تہذیب الاخلاق" کا ذکر کیے بغیر یہ داستان ادھوری رہتی ہے۔

 

علی گڑھ تحریک

 پس منظر :۔سرسید نے جب 1869ء میں لندن کا سفر کیا تو اس سفر کے دوران وہ ایک ایسے خوشگوار تجربے سے گزرے جس نے ان کی سوچ و فکر کو بالکل بدل کر رکھ دیا۔ مغرب کے مشاہدے اور وہاں کی تہذیب وثقافت کے مطالعے نے انھیں اس نتیجے پر پہنچایا کہ یورپ والوں کی ترقی ان کے عیسائی مذہب کی وجہ سے نہیں بلکہ ذہنی قوت کے استعمال اور نئے نئے علوم وفنون کے حاصل کرنے میں پوشیدہ ہے۔ سرسید کو خاص طور سے مغرب کے طریقہ تعلیم نے بے حد متاثر کیا تھا۔

سرسید اس سے بھی حد درجہ متاثر تھے کہ وہاں کے معاشرے کو اپنی تہذیبی اصلاح پر مائل کرنے میں وہاں کے دو اخباروں ٹیٹلر“ اور” اسپیکٹیٹر “‘ نے اہم رول ادا کیا تھا۔ انھوں نے لندن کے قیام کے دوران ہی پختہ ارادہ کر لیا تھا کہ ہندوستان پہنچ کر وہ بھی اسی طرز پر ایک رسالہ جاری کریں گے اور ایک ایسا ادارہ قائم کریں گے جس میں کیمبرج کی طرح تعلیم کا انتظام ہو سکے۔ چنانچہ انھوں نے مسلمانوں کو اوہام پرستی سے نکالنے اور جدید تعلیم کا قائل کرنے کے لیے سائنٹفک سوسائٹی کے اخبار میں بہت سے مضامین لکھے ، اور ایک عظیم الشان یونیورسٹی کے قیام کے لیے زمین ہموار کرنا شروع کر دیا۔ لندن میں ہی انھوں نے ہندوستان میں موجودہ قائم نظام تعلیم پر اعتراضات کے نام سے ایک کتاب لکھی اور اسے وہیں سے شائع بھی کروائی ۔ یہ کتاب دراصل اس سلسلے کی ایک کڑی تھی ۔ہندوستان آ کر انھوں نے رسالہ ” تہذیب الاخلاق" جاری کیا اور علی گڑھ میں مدرسۃ العلوم کی بنیاد رکھی جسے سرسید کے خواب کی عملی صورت کہنا چاہیے۔ بعد میں اسی مدرستہ العلوم نے علی گڑھ تحریک کے لیے گہوارے کا کام کیا۔

علی گڑھ تحریک:۔

یہ حقیقت ہے کہ علی گڑھ تحریک کا بیج 1857 کی جنگ سے پھوٹا تھا۔ اگر یہ جنگ نہ ہوتی تو شاید سرسید احمد خاں کی زندگی کی مشغولیات کچھ اور ہوتیں ۔ یا پھر وہ اپنی مصنف اور مولف والی شہرت میں ہی آسودگی محسوس کرتے ۔ سرسید احمد خاں اپنی زندگی میں کئی تحریکوں کو قریب سے دیکھ چکے تھے۔ اور دہلی کالج کی تحریک تو ان کی مزاج سازی میں بھی اہم رول ادا کر چکی تھی۔ دہلی کالج آ زادی رائے ، اجتہاد ، بصیرت  کا اہم ادارہ سمجھا جاتا تھا سرسید گو کہ اس کالج کے طالب عام نہ تھے لیکن کالج کے اساتذہ ڈاکٹر اسپر نگر آور مسٹر کار گل نے مسائل کے سائنسی تجزیے اور تصنیف و تالیف کے نئے اور منطقی انداز سیکھاے تھے ۔

اختلافات کو قبول کرنے اور اپنی رائے کو بصیرت سے منوانے کا جو جو ہر سرسید کی شخصیت میں پہلے سے موجود تھا وہ دراصل دلی کالج کی صحبتوں میں ہی مزید پروان چڑھا تھا۔ انھوں نے راجہ رام موہن رائے کی طرح نئے علوم کو قبول کرنے کے لیے اپنے ذہن کی کھڑکیاں کھلی رکھی تھیں ۔ علی گڑھ تحریک بھی انھوں نے راجہ رام موہن رائے کے برا موسمان کے طرز پر ہی چلائی ۔ اس تحریک کی کامیابی کے لیے انھوں نے جگہ جگہ اسکول ، کالج اور انجمنیں قائم کیں ، اخبارات جاری کیے اور اپنی قوت حکومت سے اختلاف کرنے میں ضائع کرنے کے بجائے تعمیری مقصد وں کی تکمیل میں صرف کیا۔وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو علی گڑھ تحریک کے تین بنیادی مقاصد تھے :

سیاسی مقصد: ۔ - پہلا مقصدسیاسی تھا اس میں مسلمانوں کی تہذیبی بقا ، سیاسی ترقی اور معاشرتی سربلندی شامل تھی ۔

  مقصد مذہبی: ۔ اس میں نئے علوم کی روشنی میں مذہب کی تشریح و توضیح اور اوہام پرستی کا خاتمہ کرنا شامل تھا۔ ۔

 ادبی مقصد  :۔ اس میں اردو زبان و ادب کا فروغ شامل تھا۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انفرادی شخصیت کی مانند قومی شخصیت بھی مذہب ، سیاست اور ادب کے بغیر متوازن اور مکمل نہیں ہو سکتی ۔ اگر ان میں سے کوئی ایک جہت بھی نامکمل رہ جائے تو انسان کی شخصیت ادھوری اور غیر معتبر رہ جاتی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو 1857 سے پہلے مسلمان قوم کی شخصیت اس اعتبار سے مکمل تھی کہ وہ مذہب سیاست اور اآب سے گہری دلچسپی رکھتے تھے۔ لیکن انگریزوں نے بتدریج مسلمانوں کے درمیان دین اور دنیا کی خلیج حائل کرنی شروع کی اور بالآخر وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے۔

انیسویں صدی کی سیاسی کشمش میں اس بات کو خاصی اہمیت حاصل ہے کہ مذہبی مدارس اور جدید مدارس کی تعلیم یک رخی تھی ۔ یعنی مذہبی مدرسوں میں دینی تعلیم کے حصول پر زور دیا جاتا تھا اور نئے علوم کو حاصل کرنا گناہ قرار دیا جاتا تھا۔ اسی طرح جدید مدارس میں نئے علوم تو حاصل کیے جاتے تھے لیکن مذہب کے روحانی عنصر کو دقیا نوسیت سمجھ کر اس سے کنارہ کشی اختیار کر لی گئی تھی ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انفرادی اور اجتماعی اعتبار سے مسلمانوں کی شخصیت میں ایک خلا پیدا ہو گیا جس کی وجہ سے لوگوں میں منفی سوچ اور ایک دوسرے کے لیے شک اور حقارت کا مادہ پیدا ہونے لگا۔ یہ منفی سوچ ، شک اور حقارت کا مادہ صرف جدیدا اور قدیم تعلیم یافتہ لوگوں کے مابین ہی محدود نہیں رہا بلکہ یہ بیماری مسلمانوں کے مختلف طبقوں میں عام ہوتی گئی ۔ سرسید نے شخصیت کے اس خلا کو پر کرنے اور شکوک شبہات اور حقارت کی اس مہلک بیماری کو ختم کرنے کے لیے انسانی زندگی کی ان تینوں جہتوں کو اہمیت دی ۔ اور یوں ایک مکمل شخصیت کو وجود میں لانے اور ایک بہتر اور معیاری معاشرے کے قیام کے لیے انھوں نے علی گڑھ تحریک سے بنیادی نوعیت کا کام لیا۔

 

سرسید کے سیاسی نظریات

انقلاب ۱۸۵۷ء نے سرسید کے ذہن وفکر میں جو تبدیلی کی ، اس کی نشاندہی ان کے کاموں سے ہوتی ہے۔ ۱۸۵۷ء سے قبل سرسید نے جام جم اور آثار الصنادید جیسی اہم تصانیف تحریر کیں۔ آثار الصنادید ، دہلی کی تاریخی عمارتوں کے بارے میں تھی جس نے سرسید کی تاریخ نگاری کو ایک سند عطا کی ۔ وہیں غدر کے بعد سرسید نے جو کتا بیں تحریر کیں ان میں ان کا سیاسی شعور جھلکتا ہے۔ ان کتابوں میں اسباب بغاوت ہند ، لائل محمد نز آف انڈیا ، تاریخ سرکشی ضلع بجنور وغیرہ۔

غدر نے مسلمانوں کو بالکل تباہ و برباد کر دیا تھا اور ان کی ترقی کے آثار بالکل معدوم ہو چکے تھے۔ انقلاب ۱۸۵۷ ء ویسے تو ملک کے ہندو مسلمان دونوں نے ساتھ مل کر لڑی تھی لیکن اس میں پیش پیش مسلمان ہی رہے تھے۔ اس لئے انگریزوں سے پسپائی کے بعد عتاب بھی مسلمانوں پر نازل ہوا۔ ان کی جائدادیں فرق ہونے لگیں، ان کو سر عام پھانسی کی سزا ہوئی ۔ ان کی معاشی حالات بے انتہا کمر در ہوگئی ۔ غدر نے جو ایک اور کام کیا تھا کہ ہندوستانیوں کو انگریزوں اور جدید تعلیم کے خلاف اور سخت بنادیا تھا، اور ان کے اندر نفرت بھر دی تھی۔ ان دونوں قوموں کے اندر مفاہمت کی کوئی تدبیر کل نہیں پاری تھی۔ دوسری طرف ہندوؤں نے راجہ رام موہن رائے کی سرپرستی میں اپنے یہاں اصلاح کے دروازے کھول لئے تھے اور ایک طرح سے انگریزی اور جدید تعلیم کو بھی عام کیا جانے لگا تھا۔

بڑے پیمانے پر اس تباہ کن حالات نے سرسید کو متفکر کیا اور وہ ہر وقت اس گھر میں رہنے لگے وقت کے دھارے کو کیسے موڑا

جائے اور ان نا مساعد حالات قوم و ملک سے پیسے نکالا جائے ۔

مغلیہ حکومت کی ہار کے بعد انگریزوں کی جدید تعلیمی ترقی ان کے انتظامی صلاحیت اور ان کے ہندوستان پر گرفت کو دیکھتے ہوئے سرسید کو یقین ہو چلا تھا کہ اگلے کچھ برسوں تک انگریز ہندوستان پر حکومت کریں گے۔ اس لئے حاکم اور محکوم کے تعلقات کو بہتر بنانے کی تدبیر کی جائے مسلمانوں کو ڈبوں کو رجعت پسندی سے دور کیا جائے ۔ سرسید اس وقت بہت ہی متشکر کر دیا تھا بقول ماہر سرسیدپروفیسر شان محمدان کی حالت ایک ایسے انسان کی ہوگئی تھی جس کے مکان میں آگ لگ گئی ہو اور جو اس و بھانےکے لئے بری طرح مصروف اور انگریزی حکومت کی طاقت کا اندازہ کرتے ہوئے سرسید کا یہ پختہ خیال تھا کہ اب ہندوستانی چاہے کتنی جدو جہد کرلیں اب انگریزوں کا مار نا مشکل ہے لیز ان کی سیاسی اور عالمی برتری کی مخالفت کرنا کسی طرح سے ہندوستانیوں کے لئے بہتر نہیں ہو سکتا۔ سرسید نے ملک کی بدلتی ہوئی تصویر کو پہچان لیا تھا ان کا خیال تھا کہ اب ہندوستانیوں بالخصوص مسلمانوں کو انگریزوں کے خلاف اپنی تنگ نظری اور نفرت کو ختم کر دینا چاہئے اور اپنے وقیا نوی خیالات کو ترک کرنا چاہئے ۔ ان کا یہ بھی خیال تھا کہ ہوا کے رخ کو پہچانتے ہوئے مسلمانوں کو مغربی تعلیم کی جانب آنا چاہئے۔ لیکن اس دوران سرسید کے اس خیال کا مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ سخت مخالفت کر رہا تھا جو انگریزوں اورانگریزی تعلیم سے نفرت ہی نہیں بلکہ کفر سمجھتا تھا۔

سرسید نے اس وجہ سے خاص توجہ تعلیم پر مرکوز کی اور غدر کے بعد انہوں نے اپنا مشن اپنا مقصد صرف تعلیم کا فروغ ہی بنالیا۔ دہ تبادلہ کے بعد جس جس شہر گئے ، چاہے وہ غازی پور ہو، یا مراد آباد، بنارس ہو یا علی گڑھ انہوں نے وہاں اپنی تعلیمی تحریک کے اثرات ضرور چھوڑے اور ہندوستانیوں کے لئے زندگی کی ایک نئی رمق پیدا کی ۔ سرسید کا خیال تھا کہ جیسے جیسے ہندوستانیوں میں جدید تعلیم کا فروغ حاصل ہو گا ویسے ویسے ان کے سیاسی بیداری خواد بخود پیدا ہو گی اور وہ خود بخود اپنے سیاسی حقوق کے بارے میں آگاہ ہو سکیں گے۔ سرسید نے لیکن ہار نہیں مانی اور انہوں نے تعلیم پر خاص توجہ دی۔ سر سید کا خیال تھا کہ جیسے جیسے ، ہندوستانیوں میں مغربی تعلیم کا فروغ ہوا گیا، ان میں سیاسی بیداری بھی خود بخود بڑھے کی سیکین وہ بغیر تعلیم کے سیاست کو قوم کے لئے متر سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اگر تعلیم نا پید ہوگی تو اس کے اثرات مثبت نہ ہو کر مضر ہوں گے جس سے پورا مک، پر اسان مجروع ہوگا سان میں بلائیں پھیلے گی، جھوٹ اور غریب عام ہو گا لوگ افواہوں کی زد میں آئیں گے۔ تعلیم نہ ہونے سے ملک کے شرعی سیاسی وادی کے جہان کہیں گے اور نہ ہی اپنی حکومت سے اپنے حقوق کی اور اپنے ملک کی آزادی مانگ سکیں گے۔ سرسید کا خیال تو تعلیم می ودار یہ جو ہندوستانیوں میں سیاسی و سمای خومختاری پیدا کر سکتی اور ان کو ان کے حقوق دلا سکتی ہے۔ سرسید نے اپنی ایک تقریر میں کیارقم کی ان کہ ہندو استانیوں کو علوم و فنون میں ار و زیاد ہ ترقی درگارت چند ہندوستانیوں کا تسلیم کوسل میں داخل ہوتا ہندوستانیوں کی ترقی کا شھوں سے۔ تم میری پیشن گوں کو یادر ھو کہ دو دن کچھ د و انسان سے کہ ہر ضلع میں سے ایک شخص کا کونسل میں داخل ہونا ضرور ہوگا ۔ وہ دان کچھ دور نہیں ہے کہ

ر ضلع میں نے ایک شخص کا نسل میں داخل ہونا ضرور ہوگا ۔ دوران آوے گا کہ تم خود ہی قانون بناؤکے اور خود ہی اس پر عمل کرو گے ۔اگر سر سید کے مذکورہ اقواس کی نظر میں دیکھیں تو ۱۹۴۷ء میں ہندوستان کی آزادی نے سرسید کے خواب کو تعبیر کیا اور اس کےبعد ہم نے اپنے ملک کی خود دستور سازی کی۔برطانوی حکومت نے ہند دستان میں سیاسی اصلاح یعنی رفارم کا سلسلہ آہستہ آہستہ شروع کیا۔ سرسید کی خواہش تھی کہ ہندوستانی مغربی تعلیم حاصل کر کے اپنے آپ کو اس اہل بنائیں کہ وہ حکومت وقت کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے ترقی کریں اور کونسلوں میں داخل ہوں ۔ ایک ایسے وقت میں جب تعلیم یافتہ طبقہ بہت کم تھا، سرسید بار بار ہندوستانیوں کو اکساتے کہ وہ جدید تعلیم کی طرف راغب ہوں اور اپنے سیاسی حقوق کو حاصل کریں۔ اس پر خاص زور دیتے ہوئے کہتے ہیں؟ہندوستانیوں کو علوم وفنون اور تربیت ولیاقت میں ترقی کرنے کی کس قدر ضرورت ہے۔ ۔سرسید اس مقصد کے حصول کے لئے ہمیشہ جد وجہد کرتے رہے۔ ان کی یہی کوشش رہی کہ جلد از جلد ہندوستانی جدید تعلیم سے بہرہ مند ہوں اور اپنے اختیارات اور اپنے حقوق حاصل کریں۔

سنہ ۱۸۸۳ء میں جب لوکل سیلف گورنمنٹ بل پر کونسل میں بحث ہوئی تو سر سید نے جو اس وقت وائسرائے کونسل کے ممبر تھے۔ اس لوکل سیلف گورنمنٹ بل کا مقصد یہ تھا کہ مقامی انتظامیہ میں ہندوستانیوں کو نمائندگی حاصل ہو۔ سرسید نے اس بحث میں حصہ لیتے ہوئے اس کا خیر مقدم کیا۔ سرسید نے اپنی تقریر میں کہا:

میں اس عمدہ تجویز کی بڑے فخر سے دلی مگر نا چیز تائید کرتا ہوں کہ کیوں کہ اس بات کے خیال کرنےسے خوش ہوتا ہوں کہ میں اس قدر عرصے تک زندہ رہا کہ میں نے اس کا آغاز دیکھ لیا جب کہ ہندوستان اپنے حاکموں کے ہاتھ سے سیلف سلب اور الیاف گورنمنٹ کے وہ اصول سیکھنے کو ہے جنہوں نے انگلستان میں رپر ان کے اصلی نیوٹن پیدا کی ہیں اور اس کو دنیا میں بڑا بنا دیا ہے ۔

سرسید جہاں اس طرح کے الیکشن کی حمایت کرتے ہیں و ہیں وہ حکومت کو اس کے اثرات سے متنبہ بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے اس سلسلہ میں اپنی تقریر میں مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کیونکہ ہندوستان ایک کثیر المذہب ملک ہے، یہاں بہت سی مذاہب اور کثیر ذاتیں پائی جاتی ہیں اور سب ایک دوسرے سے جدا ہیں ۔ ذات پات کی بنیاد پر مان میں قصبات بھی پائے جاتے ہیں تو اس طرح کے ایکشن سے ایک ذات یا ایک قوم دوسرے کے حقوق کو دریا بھی سکتی ہے جس سے اس کے برے اثرات بھی پڑ سکتے ہیں

سرسید نے اپنی اس تقریر میں یہ واضح کر دیا کہ مذاہب اور ذات کی بنیاد پر تفریق تعلیم مٹا سکتی ہے۔ اور اس طرح کے الیکشن سے تعلیم یافتہ ذات یا قوم کم تعلیم یافتہ قوم یاذات پر حاوی ہو جائے گی ۔ ذات برادری کی جو تفریق جو آج بھی ہمارے سماج میں لعنت کی طرح پھیلی ہوئی ہے۔ اس نے سماج کو توڑنے اور تنہس نہس کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بقول شان محمد کے آج کا ہندوستان ابھی بھی کسی حد تک اسی کش مکش سے دوچار ہے، جو سرسید کی دوراندیشی کو ظاہر کرتا ہے ۔ ں سے دو چار ہے؟

۱۸۸۵ء میں انڈین نیشنل کانگریس کا پہلا جلسہ ہوا لیکن سرسید اس میں شریک ہونے کے مخالف تھے۔ سرسید کا خیال تھا کہ

جب تک قوم میں پوری تعلیم نہیں جاتی جب تک کسی طرح کی سیاست میں حصہ لینا مضر ہے۔ سرسید کبھی بھی ہندوؤں کے مخالف نہیں رہے۔ ان کو یہ معلوم تھا کہ بردران وطن میں اتنی تعلیم آچکی ہے کہ وہ اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کر سکتے ہیں اور قومی سیاست میں حصہ لے سکتے ہیں لیکن مسلمان ابھی اس قابل نہیں ہوئے وہ اس طرح کا قدم اٹھائے۔ سرسید کا سیاسی نظریہ واضح تھا کہ فوری طور پر تعلیم پر توجہ دی جائے اور کسی بھی طرح کی سیاست میں حصہ نہ لیا جائے جس پر وہ تا زندگی کار بند رہے اور تعلیم کے فروغ کے لئے کام کرتے رہے۔ لیکن ان کی سیاست میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ اور کانگریس سے مخالفت عارضی تھی، لیکن وہ ان کا حرف آخر نہیں تھا۔ اگر سید کچھ دن اور زندگی پاتے تو اپنے سیاسی نظریات میں خود تبدیلی کرتے اور مسلمانوں کو قومی تحریک میں شامل ہونے کی دعوت دیتے۔

 

سائنٹفک سوسائٹی

(سائنٹفک سوسائٹی کا قیام، غازی پور میں)

سرسید ہندوستانیوں میں تعلیمی ترقی کے بے حد متمنی تھے۔ ان کا خیال تھا بغیر جدید تعلیم کو حاصل کئے ہندوستانی قوم کسی طرحترقی نہیں کر سکتی ۔ اس کے لئے وہ بے حد فکر مند رہتے تھے۔ اس سلسلہ سے ان کا یہ خیال بھی تھا کہ ایک ایسی سوسائٹی بھی ہونا چاہئے جو ہندوستانیوں کے لئے جدید سائنسی کتابوں کا ترجمہ کا اہتمام کرے ۔ ۱۸۶۳ء میں انہوں نے تعلیم کے فروغ کے سلسلہ سے ایک رسالہ التماس بخدمت ساکنان ہند در باب ترقی تعلیم اہل ہند شائع کیا۔ جس میں انہوں نے سوسائٹی کے قیام کی تجویز کو بھی پیش کیا۔ سرسید کی اس تجویز کی ان میں سے جن تک رسالہ پہونچا تھا، بیشتر افراد نے تائید کی اور عملی طور پر اس میں تعاون کا وعدہ بھی کیا ، جس نے سرسید کی سوسائٹی کے قیام کے لئے حوصلہ افزائی کی۔

سائنٹفک سوسائٹی کے قیام کے لئے و ر جنوری ۱۸۶۴ء کو غازی پور میں سرسید کے مکان پر ایک بڑے افتتاحی جلسہ کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں انگریزوں ، ہندوؤں اور مسلمانوں کی سر بر آوردہ شخصیات نے شرکت کی ۔ اس طرح سائنٹفک سوسائٹی : جس کا خواب سرسید نے دیکھا تھا اس کا قیام جوش وخروش کے ساتھ عمل میں آیا، غازی پور کے کلکٹر مسٹر بی ساپٹے نے سائنٹفک سوسائٹی کے اس افتتاحی جلسہ کی صدارت کی۔ سرسید کے دوست لیفٹنٹ ایف آئی گراہم اور سرسید احمد خاں ، سائنٹفک سوسائٹی کے سکریٹری مقرر کیے گئے۔ اس افتتاح کے موقع پر سرسید جو اس وقت غازی پور میں صدرالصدور کے عہدے پر فائز تھے، مجمع سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا:

اے صاحبان ہم کو احسان مندی اور خاکساری سے اس خدائے مطلق کا بہت بہت شکر یہ ادا کرناچاہئے جس نے سید فرمایا ہے کہ جہاں دو یا تین آدمی نیک کاموں کے کرنے پر جمع ہوتے ہیں وہاں میں ان میں موجود ہوتا ہوں۔ اب جس مقصد کے واسطے ہم جمع ہوئے ہیں وہ ہمارے ہم جنسوں کی ترقی سے متعلق ہے۔ اسی لئے وہ ایک نیک کام ہے۔ بس ہم کو امید کرنا چاہئے کہ خدائے تعالی ہمارے کاموں پر رہے گا ۔ ( آمین 

سائنٹفک سوسائٹی کے پہلے ان سے ہی جدید علمی کتابوں کے ترجمے کا کام شروع ہوا۔ اس کام کے لئے با بوگنگا پرساد کو انگریزی مترجم اور مولوی فیاض الحسن کو اردو متر جم کے طور پر ۱۸۰ اور ۵۰ روپے سخو او پر مقرر کیا گیا۔

(سائنٹفک سوسائٹی علی گڑھ میں)

غازی پور میں سائنٹفک سوسائٹی کے قیام کے صرف تین ماہ بعد یعنی اپریل ۱۶۴ ایلی گڑھ ہو گیا ۔ کیونکہ سرسیداس سوسائٹی کے بانی تھے اور انہوں نے اس کے لئے واضح اصول و قوانین مرتب کئے تھے تو ان کے بغیر اس سوسائی کا عملی طور پر کام کرنا ایک مشکل ترین امر تھا اور وہ ان کی غیر موجودگی میں اس طرح سے بہتر طریقے سے کام نہیں کر سکتی تھی جیسا سرسید کی خواہش تھی۔ اس لئے سرسید کے علی گڑھ نقل کے فورا بعد ساک سوسائی کو بھی علی گڑ منتقل کردیا گیا۔ علی گڑھ میں ضلع جی ڈبلیو ہے، بریلی سوسائٹی کے صدر منتخب ہوئے ۔ انہوں نے سوسائٹی کے کاموں میں بڑی دلچسپی لی اور اس کی سرگرمیوں میں برابر شریک ہوتے۔

اس دوران علی گڑھ میں سائنٹفک سوسائٹی نے مختلف علمی شخصیات کی رائے سے ۲۸ انگریزی کتابوں کا انتخاب ترجمے کے لئے کیا۔ جن میں ، تاریخ ، جغرافیہ، نیچرل سائنس، زراعت و فلاحت پولیٹکل اکنامی وغیرہ کے موضوعات پر یورو چین مصنفین کی اہم کتابیں شامل تھیں۔ چند کتابوں کے نام ذیل میں درج کئے جارہے ہیں:

روان صاحب کی قدیم تاریخ یا رابرٹ اسکاٹ کا رسالہ علم فلاحت یعنی کا شیکاری چارلس نام لنسن کا رسالہ آب و ہوارسالہ علم جو تیل جہ رسالہ در علم قوت سپینسر کی پا شکل اکنامیان کتابوں کے علاوہ ریاضی سے متعلق کئی کتابوں کا ترجہ مولوی ذکاء اللہ نے کیا۔علی گڑھ سرسید کی کوششوں سے سوسائٹی کے لئے ایک علیحدہ عمارت تقریبا تمیں ہزار مالیت سے تعمیر ہوئی ۔ سرسید کی کوششوں سے سائنٹفک سوسائٹی کی اس عمارت کا سنگ بنیاد اس وقت کے شمالی مغربی اضلاع کے لفظنٹ گورنر مسٹر ڈری منڈ نے رکھا اور خود سرسید نے اس عمارت کی تعمیر میں بے انتہاد چسپی لی۔ جب یہ عمارت تعمیر ہوگئی تو ۱۴ فروری ۱۸۶۶ء کو میرٹھ کے کمشنر مسٹر ولیمز نے اس عمارت کا افتتاح کیا اور اپنی تقریر میں سرسید کی جدید تعلیم کے فروغ کے سلسلہ میں سنجیدہ کوششوں کی تعریف کی۔سائنٹفک سوسائٹی کی عمارت جو آج بھی موجود ہے، اس لئے خاص تھی کہ اس میں ایک بڑے ہال کے علاوہ ، ایک بڑا کتب خانه اور میوزیم بھی تھا۔ ہاں جس میں ہر ماہ متعدد علمی و سائنسی لیکچروں کا اہتمام کیا جاتا ، میوزیم میں سائنسی آلات با قاعدہ نمائش کے لئے رکھے جاتے ۔ کتب خانے میں کتا بیں نہ صرف سلیقے سے نہ صرف رکھی ہوتیں بلکہ اس کے ساتھ ایک دارالمطالعہ بھی منسلک تھا، جس میں درجنوں کی تعداد میں انگریزی اور اردو کے اخبارات ورسائل آتے تھے، جو لوگوں کے مطالعہ کے لئے دستیاب تھے ۔ ۱۸۶۶ء میں سوسائٹی نے کل ۶۶ اخبارات اور رسائل خریدے۔ ان میں ۱۸ اخبار و رسائل انگریزی زبان کے تھے

سائنٹفک سوسائٹی نے صرف جدید یورپین علوم کی کتابوں کو اردو تر جمہ کرنے تک اپنے آپ کو محدود نہیں کیا بلکہ اس نے عملی طورپر زراعت کو سائنسی انداز میں فروغ دینے کی بھی عملی طور پر کوششیں کی ۔ سرسید احمد نے اس وقت کے علی گڑھ کے کلکٹر جے ایچ پر نسپ کو لکھا کہ سائنٹفک سوسائی کے اغراض و مقاصد میں یہ بھی شامل ہے کہ ہندوستان میں کھیتی کے مروجہ طریقوں میں تبدیلی کی جائے تا کہ ایک طرف معاشی حالت بہتر ہو اوردوسری طرف حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہو ۔ ۔زراعت کی ترقی کے سلسلہ میں سرسید احمد نے ۱۳ مردسمبر ۱۸۶۵ ء کو صو به شمال مغرب حکومت کو سائنٹفک سوسائٹی کی جانب سے ایک یاداشت بھیجی جس میں اس بات کی خواہش ظاہر کی گئی تھی کہ زراعت پر جو کتا ہیں سوسائی شائع کرے اس میں حکومت مدد کرے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسی کتابوں کے لئے اگر حکومت کچھ سالانہ امداد فراہم کرے تو یہ کتا ہیں حکومت کو دے دی جائیں گی ۔

سائنٹفک سوسائٹی میں لیکچروں کے لئے ایسے موضوعات کا انتخاب کیا جاتا تھا جن سے لوگوں کی معلومات میں اضافہ ہوا اور عوام

میں سائنسی آگہی اور آزادی فکر وعمل پیدا ہو ۔ ڈاکٹر کی ہر مہینے ایک لیکچر نیچرل سائنس کے کسی اہم موضوع پر دیتے اور سامعین کو سائنسی اور زراعتی آلات دکھاتے اور ان کا تجربہ بھی کرتے تھے۔

سرسید احمد نے سائنٹفک سوسائٹی کا ایک اخبار بھی ۳۰ مارچ ۱۸۶۶ء کو جاری کیا تھا جس کا اردو نام " اخبار سینٹفک سوسائٹی اور انگریزی نام علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ تھا، جس میں اردو اور انگریزی میں معلوماتی تحریر میں شائع کی جاتی تھی۔ اس کے علاوہ کبھی کبھی عربی اور فارسی میں بھی مواد کی اشاعت ہوتی تھی۔ سرسید نے اس اخبار کی ادارت کے فرائض خود ادا کئے اور اہم سماجی ، معاشرتی ، اخلاقی مسائل پر ادارے تحریر کئے ۔ سرسید کے اس اخبار نے بھی معاشرے پر ایک مثبت اثر ڈالا اور ان کے اندر آ گہی اور شعور پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

جب سرسید کا تبادلہ ۱۵ را گست ۱۸۲۷، کو علی گڑھ سے بنارس ہوا، تو انہوں نے سوسائٹی کی ذمہ داریاں راجہ جے کشن داس کو جو علی گڑھ کے ڈپٹی کلکٹر کوسونپی ۔ راجہ جے کشن واس سرسید کے ایک مخلص دوست تھے، جنہوں نے سوسائٹی اور اخبار کے کاموں میں بہت وی پی لی ۔ سرسید احمد کا یہ خیال تھا سو سائی اور اخبار دونوں مکمل طور پر آزا اور ہیں اور کسی بھی حالت میں حکومت پر انحصار نہ کریں۔ جب و ولندن میں تھے تو اس دوران حکومت نے سوسائٹی اور اخبار کو تعاون دینے کی بات کی ۔ انہوں نے لندن سے راجہ جے کشن کو اپنے ایک مخط میں لکھامجھ کو اس بات کے دریافت ہونے سے کہ حضور نواب الفلنٹ گورنر بہادر نے آپ کی سوسیٹی کی بڑی دستگیری کی ہے اور صاحب ڈائرکٹر پبلک انسٹرکشن بہادر اضلاع شمال و مغرب نے بھی بڑی اعانت اور پرورش فرمائی ہے، نہایت خوشی ہوئی اور خدا کا بہت بہت شکر یہ کیا۔ مگر اسے مائی ڈیئر راجہ اپنی سوسینی اور اخبار کی آزادی کو ہرگز ہاتھ سے مت دینا۔یہ اختبار سرسید کے انتقال ۱۸۹۸ تک جاری رہا، اس کے بعد محسن الملک نے ۱۹۰۱ ء میں دوبارہ اس کو جاری کیا۔ اردو کی معروف محقق پروفیسر ٹر یا حسین سائنٹفک سوسائٹی کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ مسا ئمین در یک سوسائی، سید احمد خاں کی تعلیمی مہم کی ہر اول تھی اور اپنی نوعیت کی پہلی تنظیم تھی جس سے ہماری قومی زندگی میں فکر و عمل کا انقلاب پر یا ہوا ، ان کا خیال تھا کہ معاشرہ کی اصلاح اور ترقی میں تبدیلی کے لئے مسلسل اور پر خلوص جدو جہد نہ کی جائے اور ان کی قائم کردہ سوسائٹی قوم میں اس مقصد کی سعی وکوشش کاایک جیتا جاگتا نمونہ تھی ۔“

سرسید احمد نے سائنٹفک سوسائٹی کے کاموں سے جس طرح دیپی لی اور اس کے وسیلے جس طرح عوامی سطح پر سائنسی سوچ اور سائنسی قدروں کو پروان چڑھانے کی کوشش کی وہ انیسویں صدی میں ان کو ممتاز شخصیتوں میں کھڑا کرتی ہے جنہوں نے ہندوستانی قوم کوجہالت سے نکالنے کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔ سرسید نے سوسائٹی کو نہ صرف اپنا قیمتی وقت دیا بلکہ اپنی آمدنی سے ایک کثیر رقم بھی سوسائٹی کے کاموں میں خرچ کی۔ انہوں نے اپنا ذاتی پریس جو اس وقت تقریباً آٹھ ہزار روپیہ کی قیمت کا تھا سوسائٹی کو عطا کر دیا۔ ان کی سوسائٹی کی تئیں خدمات کے اعتراف میں جب بیگم بھو پال نے ان کو تحفتہ ایک قیمتی انگوٹی بھیجی ، جس کی قیمت ایک ہزار روپے تھی انہوں نے وہ بھی سوسائٹی کی نذر کر دی۔

اسی طرح سرسید بھی اردو میں موجود تاریخ نگاری کے سرمایے سے اپنی عدم اطمینانی کا اظہار کرتے ہوئے ایک تقریر میں کہتے ہیں کہ بے شک ایشیاء میں بڑے بڑے مصنف گزرے اور انہوں نے تاریخ کی کتابیں بھی تصنیف کیں لیکن جن لوگوں ۔ نے ان تاریخوں کو دیکھا ہے، ان میں کچھ نہیں ہے، بجر فقرہ بندی اور عبارت آرائی کے۔ ان میں کچھ نہیں ہے بجز تعریف اور خوشامد ان بادشاہوں کی جن کے سبب حکومت شخصیہ کے ہر مصنف کو اپنی جان و مال کا اندیشہ تھا۔ تمام خرابیاں جو کسی بادشاہ کی سلطنت میں تھیں اس وقت کے مصنف اپنی جان و مال کے اندیشے سے اس کو نہیں لکھ سکتے تھے۔ ان کی تصنیفوں میں اس بات کا کافی ذکر نہیں پایا جاتا کہ کس زمانہ میں کسی کسی علم اور فن نے اور کس کس طرح ترقی پائی۔ کس کس طرح چھوٹی چھوٹی قوموں نے علم و ہنر میں ترقی اور نام آوری حاصل کی۔ تو میں گھٹتی گئیں یہاں تک کہ برباد ہو گئیں ۔ ایسے پس منظر میں سرسید احمد خاں نے قوم و ملک کی خدمت کے ساتھ ساتھ زبان وادب کی خدمت سے بھی دلچسپی لی۔ انھوں نے تحقیق و جستجو کا چلن عام کیا اور خود کئی تحقیقی کارنامے انجام دیے ۔ دراصل انھوں نے ایک ایسے وقت میں اردو تحقیق کی جانب توجہ کی جب اردو میں اس کی کوئی واضح تصویر نہیں تھی۔ اس کا اعتراف کرتے ہوئے الیاس اعظمی نے بجا طور پر کہا ہے کہ آئین اکبری کی تصیح و تدوین اردو میں غالبا متنی تحقیق و تدوین کا پہلا کام تھا۔ سرسید کے متعد دعلمی وادبی کارناموں میں سے ایک ان کی تاریخ اور تحقیق نگاری کی بڑی اہمیت ہے ۔ یہاں ہم سرسید کی ایسی ہی چند کتابوں کا ذکر کر رہے ہیں اور ہے۔

جن سے سرسید کے یہاں تحقیقی و تاریخ نگاری کے رجحانات کا پتہ چلتا ہے۔ کے پتہ چلتا سرسید کی کتاب ' جام جم فاری زبان میں لکھی گئی ہے جس میں 34 مسلم حکمرانوں کے احوال و کوائف نقشوں اور جدولوں کی صورت میں سترہ خانوں میں بیان کیے گئے ہیں۔ ہر بادشاہ سے متعلق ان جدولوں میں فرماں روا کا نام، ولدیت ، قومیت ، سال ولادت محل جلوس ، عمر بوقت جلوس، سال جلوس، تاریخ جلوس، مدت سلطنت ، سکه، مدت عمر ، سال وفات ، تاریخ وفات ، لقب بعد وفات ، مدفن اور کیفیت سے متعلق معلومات نہایت عرق ریزی اور محققانہ بصیرت کے ساتھ جمع کی گئی ہیں۔ اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ سرسید نے اس میں اپنے ماخذ کی فہرست بھی دی ہے۔ مشہور مورخ عرفان حبیب نے اس تاریخی تصنیف کو مغربی تاریخ نویسی کے پس منظر میں دیکھا ہے۔

سرسید کی دوسری مشہور تحقیقی کتاب ' آثار الصنادید ہے جس کی اشاعت 1847 ء میں ہوئی۔ اس کتاب میں موجود مواد کو جمع کرنے کے لیے سرسید نے بڑی محنت اور عرق ریزی سے کام لیا ہے۔ اپنی تمام تر مصروفیات کے باوجود تعطیل کے دنوں میں وہ شہر کے باہر موجود عمارتوں کی تحقیق و تفتیش کرنے کے لیے دہلی کے باہر جایا کرتے تھے۔ بوسیدہ اور کھنڈر میں تبدیلی ہو چکی قدیم عمارتوں کے کتبے پر موجود عبارتوں اور ان کے رقبوں کی درست پیمائش کی کوشش کے ساتھ ساتھ انھوں نے خستہ و بوسید و مقامات کی تصویر میں بھی اتروائیں سرسید سے قبل فارسی روایت میں بھی عمارات و کتبات پر کتا بچے یا رسالے تحریر کرنے کی روایت نہیں تھی ۔ سرسید کی یہ کتاب چارا ابواب پر مشتمل ہے اور اس میں سرسید نے آثار دہلی کی دیگر تفصیلات کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے قدیم ترین کتبات کو ان کی اصل شکل میں پیش کرنے کی سعی کی ہے۔ مثلاً انھوں نے اشوک کے ستونی فرامین کو اصل براہمی رسم الخط میں دیا ہے۔ مہرولی کے آئی مینار کے کتبہ کو اصل خط میں درج کیا ہے۔ بلبن کے عہد کے پالم باؤلی کے مسکرت کتبہ کا اصل متن ترجمہ کے ساتھ شائع کیا ہے اور قطب مینار کے کتبوں کو ان کی اصل شکل اور محط نستعلیق دونوں میں درج کیا ہے۔ دراصل یہ تحقیق سے سرسید کی گہری دلچسپی کا بھی مظہر ہے۔ اس کتاب میں جدید ترین علوم آثار قدیمه و کتابت کی جھلکیاں دکھائی دیتی ہیں۔

اس کتاب کے پہلے ایڈیشن میں زبان و بیان کی کمیوں کے ساتھ ساتھ اخذ کے حوالے وغیرہ موجود نہیں تھے۔ کچھ دنوں بعد سرسید نے اس کتاب پر نظر ثانی کی اور پھر مغربی آداب تحقیق کو حوظ رکھتے ہوئے دوسرا ایڈیشن 1854 میں شائع کیا۔ اس کتاب کے دوسرے ایڈیشن کی تحقیقی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے پروفیسر محمد الہی لکھتے ہیں:

آثار الصنادید کا دوسرا ایڈیشن مغربی آداب تحقیق کا حامل ہے۔ اس ایڈیشن کی ایک نمایاں خوبی یہ کہ اس سے وہ ساری باتیں نکال دی گئی ہیں جن پر داستانی رنگ غالب تھا اور جو ہر طرح محتاج ثبوت تھیں ۔ پہلے ایڈیشن کا انداز بیان جذباتی اور داستانی تھا، دوسرے ایڈیشن کا مورخانہ اور محققانہ ہے۔ انھوں نے جو کچھ بھی کہا ، اس کی کوشش کی کہ اپنے پڑھنے والوں کو اپنی معلومات کے ذرائع اور ماخذ بھی بتائیں۔ دوسرے ایڈیشن کے دیباچے میں اس کے افادی پہلؤوں پر روشنی ڈالتے ہوئے سرسید کہتے ہیں:

پہلی کتاب میں جو حال بیان کیا گیا تھا ، اس کی سند نہ تھی۔ اب کی کتاب میں جو حال لکھا گیا ہے، اکثر اس کی سند کے لیے، نام اس کتاب تاریخ کا جس سے دو حال لکھا گیا، حاشیے پر مندرج ہے۔

اس دیباچے میں سرسید نے اپنے مآخذ کی فہرست بھی دی ہے۔ پہلا ایڈیشن تاریخی اور موضوعاتی ترتیب کے لحاظ سے ناقص تھا دوسرے ایڈیشن میں انھوں نے یہ نقص دور کیا اور ہر بات کا اشاریہ قائم کیا جو اس بات کا ثبوت ہے که سرسید مغربی آداب تحقیق سے واقف ہو چکے تھے اور یہ سمجھ گئے تھے کہ مواد کو کس طرح مرتب کرنا چاہیے۔ (ڈاکٹر سلطانہ بخش، اردو میں اصول تحقیق ( منتخب مقالات ) ، اردو اکیڈمی لاہور 2012 ص 225)

سرسید کی ایک اہم تاریخی کتاب تاریخ سرکشی ضلع بجنور بھی ہے جس کی اشاعت 1858 میں ہوئی ۔ یہ کتاب سرسید کی سیاسی بصیرت ، دوراندیشی اور دانش و فراست کا بین ثبوت ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے غدر کے زمانے کے حالات جو ضلع بجنور سے متعلق تھے بلا رو رعایت اور بے کم و کاست تحریر کر دیے ہیں۔ جن مسلمانوں نے باوجود متواتر فہمائشوں اور نصیحتوں اور تمام نشیب و فراز سمجھانے کے اور باوجود گورنمنٹ کے احسانات کے سرکار سے بے وفائی کی تھی اور اس سے مقابلے کے ساتھ پیش آئے تھے ان کےحالات جوں کے توں اس کتاب میں بیان کر دیے گئے ہیں۔ اس کتاب میں سرسید نے سرکشی بجنور کے اسباب و وجوہات کے ساتھ ساتھ اس عہد کے بجنور کے سماجی وسیاسی حالات، حکام کے احکامات و فرامین ، اہم اور معزز شخصیات کے بیانات ، مکتوبات ، شہنشاہی فرامین وغیرہ کا بھی ذکر کیا ہے ۔ بایں ہمہ انھوں نے بجنور کے عام باشندوں کے روز و شب ، زبان و بیان اور لب و لہجے سے متعلق بھی اہم معلومات درج کی ہیں ۔ بلا شبہ اس کتاب کو پڑھتے ہوئے سر سید کی تاریخ کے تئیں سنجیدگی، متانت اور ایمانداری کی جھلک محسوس کی جاسکتی ہے۔ وہ خود دیباچے میں لکھتے ہیں کہ طرف داری کی تاریخ لکھنی ایسی بے ایمانی کی بات ہے کہ اس کا اثر ہمیشہ رہتا ہے۔ اس کا وبال قیامت تک مصنف کی گردن پر ہوتا ہے۔ اس تاریخ میں جو کچھ لکھا گیا ہے بہت سا اس میں میری آنکھوں کا دیکھا اور بہت سا اپنے ہاتھ کاکیا ہوا ، اور اس کے سوا جو کچھ لکھا ہے وہ نہایت تحقیقات سے اور بہت صحیح اور نہایت ہی سچ لکھا ہے۔ سرسید کی تاریخ نگاری اور سیاسی فہم و بصیرت کے تعلق سے ان کی کتاب " اسباب بغاوت ہند کو بھی نمایاں مقام حاصل ہے۔ یہ کتاب پہلی بار 1859 میں شائع ہوئی ۔ 1857 کے بعد جب انگریزوں نے بغاوت کا ذمہ دار مسلمانوں کو سمجھ کر ان پر عرصہ حیات تنگ کر دیا تو سرسید بے چین ہوا تھے اور انھوں نے انگریزوں کے دلوں سے مسلمانوں کے تئیں نفرت اور بدگمانی کی کیفیت کو ختم کرنے کے لیے یہ کتاب تحریر کی۔ اس کتاب تے ہوئے اور اس عہد کے ماحول کو دیکھتے ہوئے سرسید کے حو صلے ، ہمت ، ذہانت، سیاسی تدبر ، دو اندیشی اور قوم وملت کے لیے درد کو سرا ہے بغیر نہیں رہا جا سکتا ہے۔ سرسید احمد خاں نے اس کتاب میں پہلی جنگ آزادی کے بنیادی اسباب و علل کی تفصیل بیان کی ہے ۔ انھوں نے ہندوستانی عوام کو نہ صرف بے قصور بتایا ہے بلکہ مسلمانوں پر کیے جانے والے جو روستم کو روکنے کی بھی کوشش کی ہے ۔ انھوں نے بہت دلیری اور بے باکی کے ساتھ حکومت پر عوام کے الزامات کو بھی پیش کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کی اشاعت سے ان کے بعض دوستوں نے منع کیا تھا مگر سرسید نے اس کتاب کی کاپیاں تیار کرائیں اور انگریزی ارکان پارلیمنٹ کو بھجوا دیں۔

سرسید سے تاریخی ، مذہبی اور عمرانی تحقیقات کے ساتھ ساتھ ترتیب و تدوین کا فریضہ بھی انجام دیا۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ سرسید نے کسی اردو متن کو مرتب یا مدون نہیں کیا بلکہ ان کی ترتیب و تدوین کردہ کبھی کتابیں فارسی زبان میں ہیں اور ان سب کا تعلق براہ راست ادب سے نہیں بلکہ تاریخ سے ہے۔ مگر اردو میں تحقیق کی روایت کا ذکر کرتے ہوئے ان کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ اس شخص کے کارنامے ہیں جس نے اردو ادب کو کئی سطحوں پر متاثر کیا ہے۔ ترتیب و تدوین کے ضمن میں سرسید کی اہم ترین کتابوں میں آئین اکبری ، تاریخ فیروز شاہی اور تو رک جہانگیری ہیں۔

آئین اکبری ابوالفضل کی فارسی تصنیف ہے جسے سرسید نے حتی المقدور معیاری اور درست متن کی صورت میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ سرسید نے تمام تر نسخوں کو حاصل کرنے کی پوری کوشش کی۔ اس کے زیادہ تر نسخے مسخ ہو چکے تھے مگر ایک آدھہ نسخہ صحیح بھی ملا جس کی بنیاد پر مختلف نسخوں کا تقابل کر کے سرسید نے ایک بہتر متن مرتب کرنے کی سعی کی۔ انھوں نے عربی ، ترکی ، فارسی ، ہندی اور سنسکرت کے اکثر غریب الفاظ کی شرح لکھی ۔ اکبر کے عہد میں رائج اصلاحات کی تشریح کی ۔ دراصل سرسید نے مغربی آداب تدوین سے پورا پورا فائدہ اٹھایا ہے اور ان کی یہ کتاب معیار تدوین کے تقاضوں کو بہت حد تک پورا کرتی ہے۔ بلا شبہ سرسید کے تحقیقی اکتسابات کے لحاظ سے یہ کتاب انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

ضیاء الدین برنی کی تاریخ فیروز شاہی اور تو رک جہانگیری کی تدوین و صحیح بھی سرسید کا نمایاں تحقیقی کارنامہ ہے۔ بعض کمیوں کے باوجود بھی یہ دونوں کتا ہیں ایڈیٹنگ کا عمدہ اور کامیاب نمونہ کہی جاسکتی ہیں۔ بنگال ایشیاٹک سوسائی کی جانب سے سرسید کو تاریخ فیروز شاہی کی تدوین و صیح کی ذمہ داری 1861ء میں ملی اور انھوں نے انتہائی عرق ریزی سے چار نسخوں کے باہم مقابلہ و موازنہ کے بعد ایک صحیح ترین اور مکمل نسخہ مرتب کیا ۔ 1863ء میں ایشیا تک سوسائٹی نے اسے شائع کیا جس سے بعد کے سیکڑوں محققین نے فائدہ اٹھایا۔ اتورک جہانگیری کا جو نسخہ سرسید نے تیار کیا اس کی اہمیت کے لیے یہی کافی ہے کہ انھوں نے اپنے اس نسخے کی بنیاد مستند مخطوطات پر رکھی ہے اور ان کے نسخے کو بعد میں مغربی اور ہندوستانی مورخین نے اپنے ماخذ قرار دیا ہے۔

الغرض یہ کہ سرسید کی شخصیت میں تلاش و تفحص اور تحقیق و تدقیق کا عنصر موجود تھا۔ انگریزوں کی علمی وتحقیقی فتوحات سے متاثر ہوکر انھوں نے مذکورہ بالا و تحقیقی کارنامے انجام دیے ہیں دنیا انہیں ہمیشہ عزت و قدر کی نگاہ سے دیکھے گی۔ ان کی یہ کتا بیں تحفظ آثار ،صحت متن اور تاخذ کی فراہمی جیسے تحقیقی عناصر کی اہمیت کو واضح کرتی ہیں اور اردو میں تحقیق نگاری کو صحیح سمت عطا کرتی ہیں۔ اسی طرح یہ بات بھی سچ ہے کہ گرچہ تاریخ نگاری کے باب میں سرسید احمد خان کا وہ مقام نہیں جو الطبری، المسعودی ، ابن خلدون جیسے مایہ ناز مسلم مورخین یا گن ، ہیگل ، اسپینگلر اور ٹوائن بی جیسے نامور یوروپی محققین و مورخین کو حاصل ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ انیسویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں اردو میں تاریخ نگاری کو جدید علمی وتحقیقی انداز دینے میں ان کا انتہائی اہم کردار رہا ہے۔ انھوں نے ہی اردو میں تاریخ نویسی کے جدید اصولوں سے متعارف کرایا اور اس ضمن میں نہ صرف کتابیں، رسالے اور مقالے لکھے بلکہ قدیم تاریخی وکلاسیکی کتابوں کی تدوین و اشاعت کا بھی انتظام کیا۔ ان کے ساتھیوں نے ان سے متاثر ہوکر تاریخ نویسی کے جدید اصولوں کے مطابق اسلام اور ہندوستان کی تاریخ کے متعلق مستند اور کارآمد کتابیں تحریر کیں ۔ اس حوالے سے ہم حالی شیلی اور مولوی ذکاء اللہ وغیرہ کی کتابوں کا مطالعہ کر سکتے ہیں جو دراصل سرسید کی اسی علمی روایت پر عمل پیرا ہونے کے نتیجے میں منظر عام پر آئیں ۔

سرسید کی مضمون نگاری

سرسید احمد خان وہ مایہ ناز اور قابل احترام شخصیت ہیں جن کی زندگی اور کارناموں کے اثرات ادب، سیاست، معاشرت، تعلیم، مذہب اور صحافت کے علاوہ زندگی کے کئی اہم شعبوں پر گہرے مرتب ہوئے ہیں۔ انھوں نے تاعمر جہاں تعلیمی اور اصلاحی کاموں کے لیے کوششیں کیں وہیں زبان وادب کی خدمت سے بھی پیچھے نہیں رہے۔ انھوں نے سترہ برس کی کم عمری میں قلم اٹھایا اور پھر اس کا ساتھ ان کی آخری سانس تک قائم رہا۔ وہ زندگی بھر تصنیف و تالیف کے کاموں سے وابستہ رہے ۔ ان کی متعدد کتابیں بطور مصنف سامنے آئیں جبکہ انھوں نے تصیح و تد دین اور بازیافت و اشاعت کے ذریعے بھی کئی اہم کتابوں کو اردو دنیا سے متعارف کرایا۔ البتہ یہ سچ ہے کہ سرسید کی ادبی حیثیتوں میں سب سے بڑی اور سب سے نمایاں حیثیت ان کی مضمون نگاری اور مقالہ نویسی ہے۔ شیخ محمد اسماعیل پانی پتی نے بالکل درست لکھا ہے :

یہ واقعہ ہے کہ وہ اپنے دور کے سب سے بڑے اور سب سے اعلی مضمون نگار تھے اور انہوں نے سینکڑوں مضامین اور طویل مقالے بڑی تحقیق و تدقیق ، بڑی محنت و کاوش اور بڑی لیاقت و قابلیت سے لکھے اور اپنے پیچھے ایک عظیم الشان ذخیرہ نا در مضامین اور بلند پایہ مقالات کا چھوڑ گئے ۔ .... ان کے بیش بہا مضامین لٹریچر کے لیے مایہ ناز اور عوام و خواص کے لئے بے حد مفید ہیں۔ ان سے معلومات میں اضافہ اور نظر میں وسعت پیدا ہوتی ہے، مذہبی مسائل اور تاریخی عقدے حل ہوتے ہیں ، اخلاق و عادات کی اصلاح کے لیے بھی وہ بے نظیر ہیں، سیاسی اور معاشرتی لحاظ سے نہایت فائدہ مند ہیں، بہت سے مشکل سوالوں کے تسلی بخش جواب بھی ان میں موجود ہیں۔ سرسید کے ذاتی عقائد اور ان کے مذہبی خیالات کے متعلق بھی ان سے کافی روشنی ملتی ہے ( جو اپنے زمانے میں زبردست اعتراضات کا نشانہ بنے

رہے ہیں )۔ ان میں علمی حقائق بھی ہیں اور ادبی لطائف بھی ، ان میں سیاست بھی ہے اور معاشرت بھی ، ان میں اخلاق بھی ہے اور موعظت بھی ، ان میں مزاح بھی ہے اور طنز بھی ، ان میں درد بھی ہے اور سوز بھی ، ان میں دلچسپی بھی ہے اور دلکشی بھی ، ان میں نصیحت بھی ہے اور سوزش بھی۔ غرض سرسید کے یہ مضامین و مقالات ایک سدا بہار گلدستہ ہیں جن میں رنگ اور ہر قسم کے پھول موجود ہیں ۔ ( مولا نا محمد اسماعیل پانی پتی ( مرتب ) مقالات سرسید ، حصہ اول، مجلس ترقی ادب لاہور ، 1962 ص 5-1)

سرسید نے اپنے یہ مضامین اپنے عہد کے کئی رسائل میں شائع کرائے ۔ سائنٹفک سوسائٹی اور تہذیب الاخلاق میں ان کے بے شمار مضامین شائع ہوئے۔ ان مضامین کے متعدد انتخابات متعد دلوگوں کی جانب سے منتخب کر کے شائع کیے گئے ہیں البتہ محمد اسماعیل پانی پتی نے نہایت تلاش و جستجو کے بعد سرسید کے مضامین و مقالات کو کئی جلدوں میں موضوعات کے اعتبار سے ترتیب دے کر شائع کیا ہے جن میں سرسید کی بیشتر تحریریں جمع ہو گئی ہیں۔

سرسید کے ان مضامین و مقالات کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ حقیقت خود بخود آشکار ہو جاتی ہے کہ سرسید احمد خان کا اردو نثر پر بے پایاں احسان ہے ۔ علمائے ادب ایسے ہی نہیں انھیں اردو میں کئی اصناف کا بانی محسن تسلیم کرتے ہیں بلکہ اردونثر تو سرسید کے احسانات سے گراں بار ہے۔ کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ سرسید سے قبل اردو زبان وادب میں نثر بالخصوص علمی نثر کا وجود نہیں تھا۔ ادب کا دائرہ شاعری ، مذہب ، تصوف اور تاریخ نگاری تک محدود تھا۔ غالب کے خطوط کی شکل میں ایک نثر موجود تھی جس میں انھوں نے اپنے دلی احساسات و جذبات بیان کیے ہیں ۔ نثر کے ضمن میں فورٹ ولیم کالج کی نثری تصانیف تھیں مگر ان میں سے زیادہ تر داستانیں تھیں جن کا علمی نشر سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ سرسید وہ پہلے شخص تھے جنھوں نے نثر کا مقام سمجھا اور اردو میں علمی نثر نگاری کی راہ ہموار کی ۔ یہی سبب ہے کہ انہیں اردومیں مضمون نگاری کا بانی بھی تصور کیا جاتا ہے۔ دراصل سرسید نے ایک مغربی نثری صنف Essay کی طرز پر اردو میں مضمون نگاری کا سلسلہ شروع کیا۔ بعض مغربی انشائیہ نگاروں کے انشائیوں کو اردو زبان میں منتقل کیا اور اپنے پسندیدہ مغربی مضمون نگاروں ؛ بیکن ، ڈرائڈن، ایڈیشن اور سٹیل وغیرہ سے متاثر ہو کر اردو میں اس صنف کو خوب پروان چڑھایا۔ انھوں نے اپنے رسالے تہذیب الاخلاق میں نہ صرف ان مغربی مضمون نگاروں کی طرز میں مضامین تحریر کیے بلکہ اس عہد کے دوسرے لوگوں کو بھی اس طرز میں لکھنے کی طرف مائل کیا اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔ ان کی اس کاوش کا اثر یہ ہوا کہ نواب محسن الملک ، مولوی چراغ علی اور ذکاء اللہ وغیرہ نے سرسید کے اثر سے مضمون نگاری شروع کی ، اس صنف میں نام پیدا کیا اور مضمون کو ایک مستقل صنف حیثیت عطا کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔

سرسید احمد خاں نے متعدد مضامین تحریر کیے تعلیم تعصب، تکمیل ، رسم ورواج کی پابندی کے نقصانات ، عورتوں کے حقوق تعلیم وتربیت، کاہلی ، اخلاق ، ریا، مخالفت، خوشامد ، گذرا ہوا زمانه، بحث و تکرار، امید کی خوشی، سولزیشن یا تہذیب، اپنی آپ مدد، سمجھ وغیرہ ان کے منتخب مضامین میں شامل ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ سید صاحب کے سارے مضامین Essay کی حد میں داخل نہیں ہو سکتے مگر ان کے زیادہ تر مضامین کو اس صنف میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ تعصب تعلیم و تربیت، کاہلی ، اخلاق ، ریا، مخالفت، خوشامد، بحث و تکرار، اپنی مدد آپ، عورتوں کے حقوق وغیرہ ایسے ہی اہم مضامین ہیں ۔ سرسید کے مضامین میں بے شمار خصائص ہیں ۔ یہاں ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ جدید مضمون نویسی کی روایت ہمارے یہاں مغرب کے زیر اثر شروع ہوئی اور جدید مضمون نویسی میں جن چار چیزوں ؛ فطری انداز بیاں، اختصار، عدم تکمیل یا جزویت اور شگفتگی کا پایا جانا ضروری تصور کیا جاتا ہے وہ سرسید کے مضامین میں واضح طور پر نظر آتی ہیں ۔ امید کی خوشی ، گز را هواز مانه، نادان خدا پرست ، بحث و تکرار وغیرہ میں فطری انداز بیان اختصار، جزویت اور شگفتگی کے عناصر نمایاں ہیں ۔

ماہرین کے مطابق بنیادی طور پر سرسید نے تین طرح کے مضامین لکھے۔ پہلے نمبر پر وہ مضامین ہیں جو خالص مذہبی اور دینی نوعیت کےہیں۔ دوسرے سیاسی مضامین اور تیسرے اصلاح ، اخلاق و معاشرت سے متعلق مضامین ۔ ڈاکٹر سید عبداللہ نے سرسید کی مضمون نگاری کی بعض خامیوں کی جانب بھی اشارہ کیا ہے مثلا وہ کہتے ہیں ان کے طویل مضامین میں علمی اور اصطلاحی معلومات کی بھر مار ہے مضمون میں شگفتگی کی جگہ انتہائی سنجیدگی ملتی ہے، اپنے مضامین میں وہ محض مصلح نظر آتے ہیں ، ان مضامین میں تصورات اور معقولات کا غلبہ ہے اور زندگی کی خوشنما اور دلچسپ تصویر میں کم ہیں وغیرہ مگر اس کے ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اردو میں مضمون نگاری کی پہلی شعوری کوشش سرسید نے ہی کی تھی اور انھوں نے ہی آنے والے مضمون نگاروں کے لیے راہ ہموار کی تھی ۔ اس ضمن میں ان کے رسالے تہذیب الاخلاق کی خدمات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سرسید نے جب مضمون نگاری شروع کی تو ان کے سامنے ان سے پہلے کے ادیبوں کی نشری تحریریں بھی تھیں مثلاً غالب کے اردو خطوط سے سرسید بہت متاثر تھے۔ سرسید کے مضامین صرف ادبی نہیں بلکہ اخلاقی اور اصلاحی پہلوؤں کے حامل ہیں۔ دراصل سرسید اپنے مضامین میں معلومات بہم پہنچانے کے ساتھ ساتھ اصلاح قوم کے مقصد کو ہمیشہ سامنے رکھتے تھے اس لیے وہ بار بار اخلاقی کمیوں اور کوتاہیوں کے نقصانات اور اخلاقی خوبیوں کے فوائد بیان کرنے سے نہیں چوکتے تھے۔ اپنے ایک مضمون میں وہ لکھتے ہیں کہ ” ناموری کی مثال نہایت عمدہ خوشبو کی ہے، جب ہوشیاری اور سچائی سے ہماری واجب تعریف ہوتی ہے، تو اس کا ویسا ہی اثر ہوتا ہے جیسے عمدہ خوشبو کا، مگر جب کسی کمزور دماغ میں زبردستی سے وہ خوشبو ٹھونس دی جاتی ہے تو ایک تیزبو کی مانند دماغ کو پریشان کر دیتی ہے۔“ کر دیتی ہے ۔ تو استعمال کی سرسید کے مضامین میں اخلاقی تعلیم کے علاوہ متعدد خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ مثلا سرسید کے مضامین میں اقوال زریں کے ا شعوری کوشش دیکھنے کوملتی ہے جن کے سہارے وہ زندگی کے مختلف پہلؤوں پر وہ اپنے رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ اسی طرح و اعطا نہ یا مصلحانہ رویہ ان کے مضامین میں نمایاں نظر آتا ہے جو قوم سے ان کی سچی ہمدردی اور سچی خیر خواہی کا بھی ثبوت ہے۔ سرسید کے مضامین کی ایک خصوصیت ان میں پائی جانے والی ندرت فکر بھی ہے ۔ قاری ان کے مضامین پڑھتے ہوئے ہمیشہ نئے افکار اور نئے زاویوں سے آشنا ہوتا ہے۔ سرسید کی مفکرانہ سنجید گی بھی ان کے مضامین کی جان ہے۔ وہ اپنے مضامین میں تدبر و تفکر کی مدد سے حقائق کو یوں واضح کرتے ہیں کہ قاری پڑھنے کے بعد ان پر از سر نو غور کرنے لگتا ہے اور اسے اندازہ ہوتا ہے کہ ایسی سامنے کی بات سے وہ اب تک کیسے غافل تھا۔ مثلاً سرسید کہتے ہیں کہ فیاض آدمی کو بدنامی اور نیک نامی کا زیادہ خیال ہوتا ہے اور عالی ہمت طبیعت کو مناسب عزت اور تعریف سے ایسی تقویت ہوتی ہے جیسے کہ غفلت اور حقارت سے پست ہمتی ہوتی ہے۔ جو لوگ کہ عوام کے درجے سے اوپر ہیں ، ان لوگوں پر اس کا زیادہ اثر ہوتا ہے جیسے کہ تھرما میٹر میں وہی حصہ موسم کا زیادہ اثر قبول کرتا ہے، جو صاف اور سب سے اوپر ہوتا ہے ۔“

سرسید کے مضامین میں طنز و مزاح اور خوش طبعی و ظرافت کا پہلو بھی نمایاں نظر آتا ہے۔ ان کے مشہور مضمون بحث و تکرار سے یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے جس میں وہ کتوں اور انسانوں کے لڑنے کی مثال دیتے ہیں۔ فرماتے ہیں :

جب کتے آپس میں مل کر بیٹھتے ہیں تو پہلے تیوری چڑھا کر ایک دوسرے کو بُری نگاہ سے آنکھیں بدل بدل کر دیکھنا شروع کرتے ہیں، پھر تھوڑی تھوڑی گونجیلی آواز ان کے نتھنوں سے نکلنے لگتی ہے، پھر تھوڑا سا جبڑا کھلتا ہے اور دانت دکھائی دینے لگتے ہیں اور حلق سے آواز نکلنی شروع ہوتی ہے، پھر باچھیں چر کر کانوں سے جالگتی ہیں اور ناک سمٹ کر ماتھے پر چڑھ جاتی ہے۔ ڈاڑھوں تک دانت باہر نکل آتے ہیں، منہ سے جھاگ نکل پڑتے ہیں اور منیف ا?واز کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے سے چمٹ جاتے ہیں ۔ اس کے بعد انسانوں کے بارے میں سرسید لکھتے ہیں ) نا مہذب آدمیوں کی مجلس

 

سرسید کے رفقاء

خواجہ الطاف حسین حالی (۱۸۳۷ء ۱۹۱۴ء)

خواجہ الطاف حسین حالی بمقام پانی پت میں ۱۸۳۷ء میں پیدا ہوئے ۔ ابھی صرف نو برس کے تھے والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ بڑے بھائی امداد حسین نے پرورش کی۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی۔ علم کے شوق نے ان کو دہلی کا قصد کرنے پر مجبور کیا جہاں مولوی نوازش علی سے صرف ونحو اور منطق اور غالب سے فارسی پڑھی۔ابھی تعلیم میں مصروف ہی تھے کہ خاندان والوں کے اصرار پر ۱۸۵۵ء میں پانی پت واپس آگئے ۔ اسی دوران گھریلو ذمہ داریوں نے ان کو فکر معاش کی جانب متوجہ کیا۔ تلاش معاش کی وجہ سے ۱۸۵۶ میں حصار آگئے اور ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں قلیل تنخواہ پر ملازمت اختیار کی لیکن حالات نے کروٹ بدلی اور ۱۸۵۷ء کے ہنگامے کے دوران پانی پت واپس آگئے۔ لیکن غدر کے بعد جب حالات کچھ بہتر ہوئے اتو انہوں نے دہلی کی ایک بار پھر راولی اس اثنا میں دہلی میں نواب مصطفے خاں شیفتہ سے تعلق پیدا ہو گیا اور انہیں کے پاس جہاں گیر آباد آ گئے۔ جہاں ان کو شعر دفن کا ماحول میسر آیا اور اپنی شاعری غالب کے پاس بھیجنےلگے۔ شیفتہ کی صحبت اور غالب کی شاگردی نے ان کی مذاق شاعری کو ایک نیا مقام عطا کیا۔ غالب اور شیفتہ کے انتقال کے بعد ۱۸۲۹ء میں حالی نے ، بلی چھوڑ دی اور لاہور منتقل ہو گئے اور گورنمنٹ بک با پے میں ملازمت اختیار کرلی۔ جب محمد حسین آزاد نے ہالرائڈ ڈائرکٹر محکم تعلیمات مجاب کے ایما سے لاہور میں انجمن پنجاب کے تحت جدید مشاعرے کی بنیاد ڈالی تو حالی بھی اس میں شامل تھے اور انہوں نے بھی اپنی چار تمھیں پر بھارت ، نشاط امید، مناظر و رژیم و انصاف اور حب وطن پڑھیں جو بہت مقبول ہوئیں۔

جب سرسید احمد خاں سے ملاقات ہوئی اور ان کے خیالات سے متاثر ہو کر علی گڑھ  تحریک کے نقیب اورمدد گار ہے۔ سرسید کی فرمائش پر ایک مسدس "مد و جز را اسلام "لکھی ، جو قوم کے عروج وزوال کی داستان کو بیان کرتی ہے۔ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ بابت ۱۶ جنوری ۱۸۷۸ء میں سرسید نے ایک تمہیدی نوٹ کے ساتھ اس مسدس کے چند ابتدائی بند بعنوان مسندیں بطور مرتبہ مسلمانوں کی قوم کی تباہ حالت پر نقل کئے ۔ سرسید لکھتے ہیں ہم حالی کاور اپنے اللہ کا دل سے شکر کرتے ہیں کہ اس نے ان کے دل میں اثر کو اور انہوں نے ہماری تمنا کو قبول کیا ایک مسدس قوم کی حالت پر لکھنا شروع کیا ۔ حالی کے اس مسدس نے عوامی سطح پر مسلمانوں کے دلوں پر اثر ڈالا اور عوام اور خواص میں بے انتہا مقبول ہوئی ۔ اس طرح حالی نے اپنی شاعری کے وسیلے سے علی گڑھ تحریک کے پیغام کو ملک کے طول و عرض میں پھیلا دیا۔حالی نے علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ کے لئے کئی مضامین تحریر کئے نیز کئی کتابوں پر تبصرے کئے۔ گزٹ میں ان کا سب سے پہلا مضمون ” مولوی سید احمد خاں اور ان کے کام کے عنوان سے شائع ہوا۔ ذیل میں ان کے مضامین اور تبصروں کے عناوین کو درج کیا جا رہا ہے۔

مولانا شبلی نعمانی (۱۸۵۷ء ۱۹۱۴ء)

مولانا شبلی نعمانی یکم جون ۱۸۵۷ء کو شیخ حبیب اللہ کے یہاں بندول اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم جون پور اور غازی پور کے مدرسوں میں حاصل کی۔ اس کے بعد مولانا فاروق چر یا کوئی کی نگرانی میں عربی تعلیم اعظم گڑھ کے مدرسے میں حاصل کی۔ اسلامی فقہ کا درس مولانا ارشاد حسین سے رامپور جا کر لیا اور پھر لاہور میں مولانا فیض الحسن سہارنپوری سے عربی پڑھی۔ انیس برس کی عمر میں رسمی تعلیم سے فارغ  ہونے بعد ۱۸۷۶ ء میں اعظم گڑھ کلکٹری میں نقل نویس کی حیثیت سے عارضی طر پر کام کیا۔علی گڑھ آنے سے قبل  سرسید اور ان کی تعلیمی تحریک سے بخوبی واقف تھے۔شبلی کی سرسید سے پہلی ملاقات ۱۸۸۱ء میں ہوئی جب وہ اپنے والد کے ساتھ علی گڑھ آئے اور ساتھ میں سرسید کی شان میں سے اشعار کا ایک عربی قصید و بھی لکھ کے لائے "علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ" میں یہ قصیدہ ۱۵ اکتوبر ۱۸۸۱ء کے شمارے میں شائع ہوا۔ فروری ۱۸۸۳ء میں موادی عنایت احمد کی اسامی پر مدارس العلوم میں شبلی کا تقرر فارسی کے استاد پر ہوارہ علی گڑھ کی علمی و ادبی فضاء سے شبلی نے بھر پور استفادہ کیا، یہاں ان کو سرسیلہ کا کتب خانہ ملا اور یہیں ان کو" آرنالڈ" جیسے استاد ملےشبلی نے سرسید کے انتقال کے بعد ۱۸۹۸ء میں علی گڑھ چھوڑ دیا۔ لیکن و و علی گڑھ تعلیمی لپکچروں کے لئے بھی علی گڑھ آتے رہے۔

علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ میں شبلی کے کئی مضامین شائع ہوئے جن کی فہرست یہ سے علمائے اسلام (۱۴ را پریل ۱۸۸۳ء) غلطی زیادہ خطرناک ہے جو انسان کو اپنی نسبت آپ ہو ( ۲۱ جولائی ۱۸۸۳)، حیات سعدی اور مولانا حالی (۱۹ را پریل ۱۸۸۶) مولوی فیض حسن مرحوم (۱۲۲ اپریل ۱۸۸۷) جولائی خدا بخش خان عظیم آبادی کا کتب خانہ ( ۲۴ فروری ۱۸۹۱، )، اردوزبان کےمتعلق لیکچر ( د فراری ۱۸۹۳ء) شبلی کی کتابوں کی لمبی فہرست سے جن میں چند اہم کتا ہیں جو علی گڑھ کی رہائش کے دوران ان کے قلم سے نکلیں اور جن کےتذکرے علی گڑھ گزٹ میں ملتے ہیں وہ یہ ہیں: تاریخ سوانح، مسلمانوں کی گذشتہ تعلیم ( قومی پریس لکھنو، ۱۸۸۸ء) ، المامون (علی گڑھ ، ۱۸۸۹ء)، سیرۃ النعمان ( مفید عام پریس ، آگره ۱۸۹۲ء) ، الفاروق (۱۸۹۸ء)، سوانح مولانا روم (آگرہ مفید عام پریس، ۱۸۹۴ء)، الغزالی (۱۹۰۲ء) شاعری مثنوی صبح امید ( نامی پریس، لکھنو، ۱۸۸۶ء)، مجموعہ نظم فاری (۱۸۹۳ء) ، ادب : موازنہ انیس ود بیر (مفید عام پریس، آگرہ، ۱۹۰۴ء)، شعر العجم ( مطبع فیض عام، علی گڑھ) سفرنامہ: سفرنامہ روم و مصر شام ( مطبع مفید عام، آگره ۱۸۹۴ء)

مولوی ذکاء اللہ (۱۸۳۲ء ۱۹۱۰ء)

مولوی ذکاء اللہ کا شمار انیسویں صدی کے ان دانشوروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی علمی تحریروں سے اردو کو مالا مال کیا۔ وہ دہلی میں حافظ محمد ثناء اللہ کے گھر ۲۰ اپریل ۱۸۳۲ء کو پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی ۔ بارہ برس کی عمر میں ۴۵ - ۱۸۴۴ ء میں دہلی کالج میں داخل ہوئے جہاں وہ چھ برس تک طالب علم رہے اور سائنسی علوم ریاضی اور جغرافیہ کے ساتھ فارسی اور عربی کی بھی تعلیم حاصل کی ۔ ان کو ریاضی میں خاص دلچسپی تھی جو ماسٹر رام چندر ( استاد ریاضی ) کی مرہون منت تھی۔ تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد دہلی کالج میں ریاضی کے معلم مقرر ہوئے۔ اس کے بعد آگرہ کالج میں سات برس فارسی و اردو کی معلمی کے فرائض انجام دئے ۔ ۱۸۵۵ء میں ڈپٹی انسپکٹر مدارس ، ۱۸۷۲۰ء میں میور سنٹرل کالج، الہ آباد میں فارسی اور ریاضی کے استاد کے عہدے پر فائز ہوئے اور پندرہ برس فارسی اور ریاضی کی درس و تدریس سے منسلک رہے۔مولوی ذکاء اللہ سرسید اور علی گڑھ تحریک کے خاص معاونین میں سےتھے۔ ان کو علی گڑھ کی تعلیمی تحریک سے خاص لگاؤ تھا۔ ۱۸۸۷ءمیں انہوں نے پنشن لے لی اور سرسید کی درخواست پر علی گڑھ آگئے جہاں وہ محمڈن اینگلو اور نینٹل کالج علی گڑھ میں ریاضی کے آخریری پروفیسر مقرر کئے گئے۔ لیکن کچھ دنوں بعد دو دہلی واپس چلے گئے جہاں انہوں نے اپنی باقی زندگی تصنیف و تالیف میں گزار دی۔ ان کی تصانیف میں ایک کثیر تعد اور یاضی کی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے تاریخ جغرافیہ طبیعات وغیرہ پر کتا بیں تصنیف کیں۔انہوں نے علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ کے لئے ایک درجن سے زائد کتابوں پر تبصرے کئے نیز کثرت سے مضامین بھی لکھے ۔ ذکاء اللہ کا انتقال ۱۹۱۰ء میں دہلی میں ہوا۔ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ میں مولوی ذکاء اللہ کے درج ذیل مضامین شائع ہوئے:

شوکت سلطنت انگلش(۵)ستمبر ۱۸۷۷ء) ، دنیا کے کام کی عقل (۳۰) را پریل (۱۸۸ء) علم الکیمیا کا بیان (۳ ستمبر ۱۸۸۱ء)، آفتاب میں حرارت نہیں (۱۵ نومبر ۱۸۸۱ء) ، ظہوری کا حال (۳ مارچ ۱۸۸۳ء) ، عرفی کا حال (۲۵ را گست ۱۸۸۳ء)، سائنس اور مذہب کی رزم بزم ( ۲۴ جنوری ۱۸۹۳ء) ، انجمن ہائے اسلامیہ ( ۲۴ فروری ۱۸۹۳ء) ، بغیر دل کی آزادی کے محققانہ مذہبی لکچر کی مشکلات ( ۳ مارچ ۱۸۹۳ء) ، وکالت (۱۷ار مارچ ۱۸۹۳ء) ، مدرسۃ العلوم مسلمانان علی گڑھ (۱۲ مئی ۱۸۹۳ء) ، سید حامد کا انتقال (۲) رفروری ۱۸۹۴ء) ، تہذیب الاخلاق اور زلزلہ (۲۷ مارچ ۱۸۹۴ء) ، مولوی محمد سلیم الدین خاں ( ۴ را کتوبر ۱۸۹۴ء) ، کلارک مل (۲۹) مجنوری ۱۸۹۵ء) ، جن اور فوٹو گراف ( ۸ فروری ۱۸۹۵ء)، دہلی میں ڈھاک کے پتے اور کاغذ ( ۲۲ فروری ۱۸۹۵ء)، باغ و بہار و رسوم هند ( ۲۴ رنگی ۱۸۹۵ء)، انجمن موئید اسلام دہلی کا جلسہ ( ۱۵ اکتوبر ۱۸۹۵ء)۔2.2.4 محسن الملک مولوی سید مهدی علی خان (۱۸۳۷-۱۹۰۷)

مولوی سید مہدی علی خان:

مولوی سید مہدی علی خان ۹ ؍ دسمبر ۱۸۳۷ ء کو سید میر ضامن علی کے یہاں اٹادہ میں پیدا ہوئے ۔ سادات بارہہ کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے ۔ فارسی اور عربی کی تعلیم گھر پر ہوئی۔ بعد میں اٹادہ کے نزدیک قصبہ پھپھوند جا کر مولانا عنایت حسین سے تعلیم حاصل کی ۔ سترہ برس کی عمر میں ڈسٹرکٹ ریوینیو آفس میں دس روپیہ ماہانہ بطور کلرک بھرتی ہوئے ۔ اپنی ذہانت سے سررشتہ داری سے ترقی پاکر ۱۸۶۱ء میں اٹاوہ کے تحصیل دار کے عہدے پر فائز ہوئے ، اسی دوران سرسید سے ملاقات ہوئی اور سرسید کے کاموں سے متاثر ہو کر ان کے دست راست بن گئے۔ ۱۸۶۴ء میں سرسید کی سائنٹفک سوسائٹی کے ممبر بنے۔ ۱۸۶۷ء میں پرون شیل سول سروس کے مقابلہ جاتی امتحان میں اول مقام حاصل کیا اور مرزا پور میں ڈپٹی کلکٹر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ ۱۸۷۴ء میں حیدر آباد دکن کے وزیر اعظم سر سالار جنگ نے ان کی انتظامی قابلیت کو دیکھتے ہوئے انہیں ریاست حیدر آباد میں خدمت کا موقع عطا کیا جہاں انہوں نے ۱۸۹۳ء تک مسلسل انیس برس خدمات انجام دیں۔ ان کی انتظامی خدمات کے اعتراف میں نظام حیدر آباد نے منیر نواب جنگ اور نواب محسن الملک کے خطابات سے نوازا ۱۸۸۸ ء میں محسن الملک نے انگلستان کا سفر کیا۔

محسن الملک نے ۱۸۹۳ء میں حیدرآباد سے سبکدوش ہونے کے بعد مستقل طور پر ملی گڑھ میں سکونت اختیار کر لی تا کہ ایم او کالج اور می گر در یک و تقویت دی جاسکے اور سر سید کے کاموں میں ہاتھ بنایا جا سکے۔ اس طرح آپ نے باقی زندگی محمدن کالج علی گڑدہ اور قوم کی خدمت میں گزار دی۔ آپ نے سرسید کے زمانے سے ہی آل انڈین محمدن ایجو مشکل کا نفرنس کی تعلیمی سرگرمیوں میں ووپی لی اور اس کے کاموں میں پدھر تے دے کر حصہ لیا اور ۱۸۹۹ سے ۱۹۰۷ تک اس کے سکریٹری کے عہدے پر بھی فائزار ہے۔ سر سید کے انتقال کے بعد آپ ۱۸۹۹ء میں ایم اے او کالج کے سکریٹری بھی مقرر کئے گئے اور اس اس طرح سرسید کے جانشین ہوئے۔ نواب محسن الملک نے سرسید کی وفات کے بعد سرسید میموریل فنڈ قائم کیا تا کہ سرسید کے یونیورسٹی کے خواب کو پورا کیا جائے ۔ اس کے لئے انہوں نے چند وجمع کرنے کے لئے پورے ملک کے دورے کئے ۔ ۱۹۰۰ء میں اردو ڈیفینیس ایسوسی ایشن قائم کی اور ۱۹۰۳ء میں انجمن ترقی اردو کی بنیاد رکھی ۱۶ اکتوبر ۱۹۰۷ ء کو آپ کا انتقال شملہ میں ہوا اور علی گڑھ کالج کی مسجد میں سرسید کے پہلو میں تدفین عمل میں آئی۔

آپ نے سرسید کے رسالے تہذیب الاخلاق کے لئے مسلسل مذہبی تعلیمی ، اور اصلاحی مضامین تحریر کئے ۔ ان کے مضامین کتابی شکل میں تہذیب الاخلاق کے عنوان سے مجتبائی پریس لاہور نے ۱۸۹۴ء میں شائع کی ۔ اس کے علاوہ ان کے لیکچرس کی اشاعت بھی عمل میں آئی۔ ذیل میں ان کے تصانیف کے عناوین درج کئے جارہے ہیں:

پہلا لیکچر مسلمانوں کی ملکی اور علمی ترقیوں کی تاریخ ( مطبع مفید عام آگر و ۱۸۹۱ء)، دوسرا لیکچر یونان کی ترقی اور یورپ کا تنزل پھر اس کی ترقی کی تاریخ و اسباب ( مطبع مفید عام آگرہ، ۱۸۹۱ء)، اسپیچ ( مطبع العلوم علی گڑھ ۱۸۹۸ء) تقلید اور عمل بالحدیث (۱۹۰۶ء مطبع فیض عام علی گڑھ ، آیات و بینات، مسلمانون کی تہذیب ( الناظر پریس، لکھنو)، کتاب المحبت و شوق مکاتیب ( مطبع مفید عام

آگره ۱۹۰۵۰، بار دوم ) ۔علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ بابت ۲۸ را گست ۱۸۷۴ء کو ان کا ایک مضمون بعنوان 'مراسلہ مہدی تہذیب الاخلاق سے نقل کر کے شائع کیا گیا۔ اس کے علاوہ ۶ ارجنوری ۱۸۷۵ء کے شمارے میں ان کا ایک مضمون تعریہ اللہ علی الکاذ بین شائع ہوا جس میں انہوں نے اخبار نورالانوار، کانپور میں ان کے تعلق سے جو غیر حقیقت خیالات شائع کئے گئے تھے اس کا جواب دیا تھا۔ سرسید کے انتقال کے بعد ۱۹۰۱ء میں اعلی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ دوبارہ آپ ہی کی ادارت میں جاری ہوا ۔ جس میں آپ نے تواتر کے ساتھ مضامین تحریر کئے۔

وقار الملک نواب مولوی مشتاق حسین (۱۸۳۷-۱۹۰۷)

مولوی مشتاق حسین کی ولادت ۲۴ مارچ ۱۸۴۱ء کو نشی فضل حسین کے یہاں متصل مراد آباد میں ہوئی۔ ابھی دو صرف چھ ماہ کے ہی تھے کہ والد کا انتقال ہو گیا۔ والدہ ان کو نانیہاں امرو جے میںان کی پروریش ہوئی اور اس طرح ان کا وطن امروہہ ہو گیا۔ ابتدائی تعلیم امروہہ کے ایک کتب خانہ  میں ہوئی پھر  اسکول میں داخل ہوئے اور اس کے بعد انجینئر تک کی تعلیم کے لئے را کی کالج کا رخ کیا لیکن انجینئر نگ کی طرف طبیعت مائل نہ ہوئی اور تعلیم مکمل نہ کرتے ۔ ابتداء میں کلکٹری میں ملازمت کے امیدوار ہوئے اور محرری کام سیکھنے لگے لیکن با قاعدہ ملازمت کا آغاز امروہہ کے تحصیلی اسکول سے ہوا جہاں و ۱۸۵۹۶ء میں دس روپے مامانہ پر نائب مدرس ہو گئے۔ جب یہ ملازمت ختم ہوئی تو میں رویے مامانہ پر مراد" بار تحصیل میں نور ہو گئے ۔ یہی وہ وقت تھا جب سرسید بھی مراد آباد میں تعینات تھے ۔ مراد آبادان دنوں شدید قحط سے جو چھ رہا اور سرسید تیم خانے کے انتظام و انصرام میں مصروف رہے ۔ اس دوران مولوی مشتاق حسین اپنے پھو پھانشی امام الدین جو کہ تحصیلدار تھے کے ساتھ یتیم بنانے کے کام بنانے کے لئے آنے لگے اور سرسید نے ان کی لکن اور ان کی صلاحیتوں کا انداز ولگا لیا۔ مشتاق حسین اپنی دیانت داری محنت اور لگن سے ترقی کے منازل طے کرتے ہوئے ۱۸۶۵ء میں سررشتہ داری کے عہدے پر ہدایوں سے علیگڑھ پہونچے اس وقت سرسید علی گڑھ میں صدر الصدور کے عہدے پر فائز تھے اور اس طرح انہیں سرسید کی ماتحتی میں کام کرنے کا موقع ملا۔ جب سرسید کا تبادلہ علی گڑھ سے بنارس ہوا تو انہوں نے مولوی مشتاق کی سروس بک میں ان کی انتظامی خوبیوں کو اجاگر کرتے ہوئےبہترین نوٹ لکھا۔ ۱۸۷۴ء میں سرسید کی سفارش پر بشیر الدولہ سر سالار جنگ اول نے ان کو ریاست حیدر آباد طلب کیا اور جہاں ان کو مالگذاری بندو بست کے دفاتر کی انتظامی ذمہ داری سونپی گئی جس کو انہوں نے بڑی خوش اسلوبی سے انجام دیا۔ حیدر آباد میں ایک سازش کے تحت ان کو برطرف کر دیا گیا۔ لیکن جب حالات بہتر ہوئے تو بشیر الدولہ سر سالار جنگ نے ان کو دوبارہ ۱۸۸۲ء میں حیدر آباد آنے کی دعوت دی اور ان کو ریو مینو ممبر اور صوبہ مشرقی کا ناظم مقرر کیا۔ ان کی خدمات کے اعتراف کرتے ہوئے نظام نے ان وقار الدولہ، وقار الملک انتصار جنگ بہادر کے خطابات سے نوازا۔ یہ دو زمانہ تھا جب ریاست حیدر آباد کی مالی حالت کمزور تھی ۔ ایسے حالات میں وقار الملک شاہی اخراجات میں کٹوتی کے ھارنا چاہتے تھے اور فضول خرچی کے لئے وہ نظام، ان کے شہزادوں اور نوابوں کی بھی سرزنش کرتے۔ ان کی یہ صاف گوئی نوابین اور رئیسان ریاست سے برداشت نہ ہوئی اور انہوں نے استعفیٰ دے دیا جو فورا منظور کر لیا گیا۔ وقار الملک حیدر آباد میں قیام کے دوران اپنی مصروفیات کے باوجود وہ علی گڑھ کالج کی مالی امداد کے لئے ہمیشہ کوشاں رہےاور کالج کی تعمیرات میں ریاست سے عطیات دادائے ۔ سنہ ۱۸۸۸ ء میں جب سر آسمان جاہ صرف چند گھنٹوں کے لئے علی گڑھ تشریف لائے تو اس موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے نہ صرف ریاتی امداد میں اضافہ کروایا بلکہ ان کی جیب خاص سے بھی عطیات ولائے ۔ محمد ن کا لج میں آسمان منزل کی تعمیر کے لئے امرائے حیدر آباد سے رقموں کا بندو بست کیا۔ ۱۸۹۱ ء میں نواب وقار الملک کی تجویز پر سرسید کالج کی امداد کے لئے ایک وفد لے کر حیدرآباد گئے اور نظام کی خدمت میں سپاس نامہ پیش کیا۔ سرسید کا یہ دورہ بہت کامیاب رہا جہاں کام میوزیم اور کالج کی دیگر عمارتوں کے لئے اچھا چندہ ملا۔ نواب وقار الملک سرسید کا بے حد ادب کرتے تھے اور وہ علی گڑھ تحریک کے ایک بچے سپاہی تھے۔ لیکن ۱۸۸۹ء میں ٹرسٹی مل کے دوران انہوں نے موادی سمیع اللہ خاں کا ساتھ دیا۔ ان کا خیال تھا کہ سرسید کو اپنی زندگی میں کسی کو اپنا جانشین نہیں بنانا چاہئے ۔ ان کی یہ جنگی تھوڑے دنوں تک باقی رہی اور دو پھر کان کی ترقی کے لئے کمر بستہ ہو گئے۔

وقار الملک مسلمانوں میں سیاسی تحریک کے علمبردار بھی تھے۔ دسمبر ۱۹۰۶ ء میں ڈھا کہ میں آل انڈ یا محمدن ایجوکیشنل کانفرنس کے جلسہ کے بعد مورخہ ۳۱ دسمبر ۱۹۰۶ ء کو ان کی صدارت میں ایک سیاسی جلسے کا انعقاد کیا گیا اور اس جلسے میں مسلم لیگ نام سے ایک سیاسی جماعت قائم کی گئی اور وقار الملک کو اس کا پہلا آنریری سکریٹری منتخب کیا گیا محسن الملک کی وفات کے بعد ۱۵ دسمبر ۱۹۰۷ میں ان کو اتفاق رائے سے تین برس کے لئے کالج کا آخریری سکریٹری منتخب کیا گیا۔ لیکن تین برس کی میعاد مکمل ہونے کے بعد ان کا انتخاب دوبارہ اس عہدے پر عمل میں آیا ۔ سن ۱۹۱۲ ء میں صحت کی خرابی کی وجہ سے وہ سکریٹری کے عہدے سے مستعفی ہو گئے اور ان کو وزیر مقرر کیا گیا۔ ان کا انتقال ۲۸ جنوری ۱۹۱۷ کو مروجہ میں ہوا اور ان کے آبائی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی ۔

حاجی محمد اسمعیل خان شروانی رئیس د تاولی (۰۱۸۵۵-۱۹۲۲ء)

اسمعیل خاں شروانی و تاولی ( علی گڑھ ) میں نواب حاجی فیض خان کے یہاں ۱۸۵۵ء میں پیدا ہوئے ۔ نواب فیض احمد خال ۱۸۵۷ء کے بعد عرب منتقل ہو گئے دو شیخ عبدالوہاب نجدی کی تحریک سے متاثر تھے۔ ان کا انتقال طائف میں ہوا۔ اسمعیل خاں ۱۸۶۹ء میں صرف تیرہ برس کی عمر میں علی گڑھ تحریک سے منسلک ہو گئے۔ سر سید احمد خاں اور حاجی محمد اسمعیل خاں کی عمر میں بڑا تفاوت تھا، اس کے باوجود سر سید ان کو اپنے سے قریب رکھتے اور ان کے مشوروں کو پسند فرماتے ۔ حاجی اسمعیل خان سرسید کے ان لو جوان ساتھیوں میں تھے جنہوں نے علی گڑھ تحریک کو فروٹ دینے میں نامی اور مالی دونوں طرح سے حصہ لیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے کالج کی تعمیری کاموں میں بھی بھر پور مالی تعاون دیا۔ اس کے علاوہ جب انتقال سے قبل سرسید پیا ر ہوئے تو یہ حاجی اسمعیل ہی تھے جو ان کو اپنے گھر لے گئے اور سر سید کا انتقال بھی عادی محمد اسمعیل خان کی کوٹھی میں ہوا۔

وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے سرسید کی یادگار بنانے کی تجویز ان کی زندگی میں پیش کی۔ ایک دوسری مثال جو سر سید اور علی گڑھ تحریک سے ان کی بے اوٹ عقیدت کا اظہار کرتی ہے کہ وہ پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے سرسید کی سوانح اردو میں لکھنے کی نہ صرف توجہ دلائی بلکہ سرسید کے متعلقین کو تحریک بھی دلائی۔ اس نسبت سے مولوی اسمعیل خاں نے سب سے پہلے علامہ شیلی سے سرسید کی سوانح لکھنے کی درخواست کی لیکن جب علامہ شبلی نے اس سلسلہ سے نیم رضامندی دکھائی تو حالی سے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا لیکن مولانا حالی نے فوری طور پر جب لکھنے سے معذرت کی تو آخر میں انہوں نے منشی سراج الدین کو راضی کیا۔ لیکن سرسید کو یہ کام پسند نہیں آیا۔ آخیر میں مولانا حالی نے سرسید کے انتقال کے بعد ان کی سوانح حیات جاوید تصنیف کی جوا ۱۹۰ء میں شائع ہوئی ۔

حاجی محمد اسمعیل خان کا شمار ان علمی شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے قلم سے علی گڑھ تحریک کو جلا بخشی۔ آپ کو علمی تعلیمی صحافت سے بڑی دلچسپی تھی۔ انہوں نے خاص طور پر ایسے مضامین پر توجہ مرکوز کی جو مفید عام ہوں اور جس سے قوم فائدہ حاصل کر سکے اور اس کے معاشی استحکام کا سبب بنے۔ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ کے لئے انہوں نے نہ صرف علمی مضامین تو اتر کے ساتھ تحریر کئے بلکہ ترکی زبان کے علمی مضامین کو اردو جامہ بھی پہنایا۔ نیز وہ ملک میں مختلف علمی تعلیمی و سیاسی مسائل پر جس قدر بحث ہوتی تھی وہ اس میں دلچسپی سے شامل ہوتے اور اپنی رائے کو مضبوطی کے ساتھ مضامین کی شکل میں پیش کرتے۔ یعنی ملک میں تعلیم سے متعلق اگر کوئی چھوٹا سے چھوٹا بھی مسئلہ القتادہ اس کا تنقیدی و معروضی نظر سے تجزیہ کرتے اور پھر اس پر اپنی آزادانہ رائے ضرور پیش کرتے۔

مولوی صاحب کی لکھنے کی ابتداء یا کہئے کہ صحافتی سفر علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ سے شروع ہوا ۔ ۱۸۷۹ سے تا ۱۸۹۷ء کےدرمیان آپ کے مختلف موضوع پر ۱۵ سے زائد مضامین گزٹ کے اوراق کی زینت ہے ۔ اگر علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ کے مصنفین کا جائزہ لیا جائے تو مولوی صاحب سرسید اور ذکا اللہ کے بعد وہ شخصیت ہیں جنہوں نے علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ میں سب سے زیادہ مضامین لکھے۔ ان کے گزٹ میں شائع مضامین کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ متنوع موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں اور علمی معلومات کا ذخیر و ہیں جن کا مقصد اردو میں علمی، سماجی اور سیاسی معلومات میں اضافہ کے ساتھ ساتھ ہندوستانی عوامہ میں علم کے تئیں دلچسپی پیدا کرنا تھا۔ سرسید کے انتقال کے بعد جب تہذیب الاخلاق اور انسٹی ٹیوٹ گزٹ دونوں بند ہو گئے تو نواب اسمعیل خان اور مولوی وحید الدین سلیم پانی پی نے مل کر ان رسائل کے خلاء کو پر کرنے کی کوشش کی اور ایک رسالہ معارف جولائی ۱۸۹۸ء میں علی گڑھ سے جاری کیا۔ یہ رسالہ ار اور سالوں میں اس لئے اختیار کی حیثیت رکھتا ہے کہ اس نے سرسید کے انتقال کے بعد علی گڑھے کی علمی تحریک کو زندہ رکھا اور معروف و قابل قدر علمی شخصیات کی علمی اور معلوماتی ترشحات کو شائع کیا۔ معارف کے اولین شمارے میں حاجی صاحب کے قلم سے پہلا مضمون سرسید اللہ خان بہادر اور ان کے کارنا سے نکلا۔ معارف کی ادارت کے بعد حاجی محمد اسمعیل خان علی گڑھ سے آگرہ منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے ۱۹۱۰ اور ۱۹۱۱ء میں العزیز کی ادارت کے فرائض انجام دئے ۔ انہوں نے ۱۹۱۴ ء میں ایک رسالہ افادہ جاری کیا۔ یہ ایک سیاسی اور تعلیمی رسالہ تھا۔ چونکہ افادہ کے زیادہ تر مضامین ، رائے اور لونس انہیں کے قلم سے لکھتے تھے ،بلکہ اگر یہ کہیں کہ مسلمانوں کے تعلیمی اور سیاسی مسائل پر بیان کے خیالات کی عکاسی کرتا تھا۔ اس کا مقصد مسلمانوں کے اخلاقی تعلیمی اور سماجی مسائل کو اٹھانا اوران کو چل کرنے کی جانب پیش قدمی کرتا تھا۔ اس رسالہ کا منصوبہ حاجی محمد اسمعیل خان نے بہت پہلے ۱۸۹۴ ء میں بنایا تھا اور اس متعلق انہوں نے علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ میں ایک اشتہار بھی شائع کیا تھا لیکن یہ رسالہ اس وقت کسی وجہ سے جاری نہ ہو سکا۔حاجی محمد اسمعیل خاں نے کئی کتا ہیں اور کتابچے تصنیف کئے جن کے نام اور موضوع ان کے علمی تنوع کی جانب اشارہ کرتے ہیں، ذیل میں ان کی کتابوں اور کتابچوں کو درج کیا جا رہا ہے:

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.