4.Notes - (B.A, B.Com, B.Sc)Second Year Sem-IV(SL-Urdu Paper -IV)

 

Swami Ramanand Teerth Marathwada University, Nanded.

 

سوامی رامانند تیر تھ مراٹھواڑہ یو نیور سٹی ، ناندیڑ۔

 

Faculty of Humanities

شعبہ انسانیات

 

Effective from Academic year 2025 – 2026

روبہ عمل تعلیمی سال-2026-2025

(As per NEP-2020)

نئی تعلیمی پالسی 2020کے مطابق))

بی۔اے۔،بی ۔کام۔، بی ایس ۔سی۔اور بی ۔سی ۔ایس ،سال دوّم(میقات چہارم)

ثانو ی زبان اُردو   ( جدیداُردو افسانہ )



جدید افسانے کی معنی و تعریف:

ہندوستان میں آزادی کے حصول کے بعد جب ایک نئے ملک کی تعمیر میں گاؤں اور قصبوں سے نکل کر بڑی تعداد میں لوگ شہروں کی طرف آئے تو اپنے ساتھ کچھ مسائل بھی لائے۔ گاؤں کی قدر ست زندگی کے مقابلے میں شہر کی زندگی تیز تھی اور قدرے مختلف تھی ۔ گاؤں میں مشترکہ خاندان اور مشتر کہ خوشی و غم کی روایت رہی ہے۔ لیکن بڑے شہروں میں پڑوی کو پڑوسی کی خبر نہیں تھی۔ اس نئے سماج نے تنہائی ، کرب، اداسی ، بے چینی ، بے قراری کو جنم دیا۔ سماج اور سماج کے لوگوں کی کہانی لکھنے والے ترقی پسند افسانہ نگاروں کے مقابلے اب فرد واحد کی تنہائی اور ذات کے کرب کی بات کرنے والے افسانہ نگار سامنے آئے ۔ اب سماج کے بجائے فرد اور ذات کی بات چلی۔ یہ وہ پس منظر ہے جس کی وجہ سے جدیدیت کے رجحان کا آغاز ہوا۔ جدیدیت کی جڑیں، وجودیت کے فلسفے سے ملتی ہیں۔ مغرب میں پہلی جنگ عظیم کے بعد ہی یہ نقطہ نظر مقبول ہوا۔ اردو میں ترقی پسند تحریک کے زوال کے دور میں اس طرز فکر کو مقبولیت حاصل ہوئی ۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد سامراجی آمریت اور تحریکات آزادی کی وجہ سے ہمارے ملک میں اشترا کی نقطہ نظر کا استقبال کیا گیا لیکن تقسیم ہند کے خونین ڈراموں اور عالمی سطح پر انسانی ہلاکتوں اور سرمایہ داری کے بول بالے کے باعث ترقی پسند تحریک کا اثر بتدریج کم ہوتا گیا ۔ ترقی پسند تحریک کے دوران زوال ہی میں وجودیت اور تجریدیت کے رجحان نے اپنی جگہ بنانی شروع کی ۔ یہاں تک کہ 1960ء کے آس پاس ایک نیار جهان سامنے آیا جسے جدیدیت سے موسوم کیا گیا۔ اس نئے رجحان کا خمیر وجودیت اور تجریدیت سے تیار ہوا۔

وجودیت عہد زوال کا فلسفہ ہے۔ اس فلسفے کو سمت و رفتار عطا کرنے میں کانٹ ہیگل ، ڈیوڈ ہیوم اور سارتر کا اہم حصہ ہے۔ وجود کی عام تعریف یہ ہے کہ کسی چیز کا کسی زمانے میں کسی جگہ پر ہونا یہ اس شئے کے وجود سے عبارت ہے۔وجودیت پسند منفکرین اس تعریف کو رد کرتے ہیں ان کے نزدیک وجود سے مراد ہر لمحہ کچھ ہوتے رہنما، کچھ بنتے رہنما ، وجود کا مفہوم یہ ہے ہو ہی نہیں سکتا بلکہ ہو رہا ہے ، بن رہا ہے، بننے کا عمل جاری ہے ۔ ہر لمحہ ہر گھڑی یہ پروس رو بہ عمل ہے۔ اس اعتبار سے صرف آدمی کا وجود ہے۔ آدمی ہی وہ و جواز ہے جو ہر لمحہ بنے اور ہونے کے عمل سے گزرتا ہے ۔

جدید لکھنے والے فلسفہ وجودیت کو سب سے موقر قوت تسلیم کرتے ہیں ۔ جدید افسانہ نگاروں کے یہاں ایسے ہی رجحانات ملتے ہیں جیسے ڈر، خوف، ذہنی انتشار ، ہجرت ، جلا وطنی ، سلامی داخلی و چینی کیفیات ، کرب ، تنہائی ، احساس محرومی و مایوسی احتجاج اور ماضی کی بازیافت کھوئے ہوئے انسانوں کی تلاش وغیرہ۔ ادب کسی اصول وضوابط کا قائل نہیں ہے بلکہ ایک آزادانہ خیال کا آزادانہ اظہار ہے۔ اس نے اجتماعیت سے زیادہ انفرادیت پر زور دیا ہے اور سماج سے زیادہ فرد کے داخلی اور نفسی کو الف کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے ۔ جدید اردو افسانہ ترقی پسند تحریک کے دور شباب میں ہی وجود میں آگیا تھا ۔ جدید افسانہ نگاروں نے ان تمام تر سانچوں کو تو ڑ دیا جسے ترقی پسند تحریک نے وضع کیے تھے۔ ان افسانہ نگاروں نے افسانے کے لیے کسی بھی طرحکے اصول وضوابط کو ضروری قرار نہیں دیا اور پاٹ، کردار، واقعہ اور ماحول و فضا کے بغیر بھی افسانے لکھے ۔ اس کے علاوہ انہوں نے افسانے میں نت نئے نئے تجربے بھی کیے اور علامتی ، تجریدی اور تمثیلی افسانے بھی لکھے تجریدی اور علامتی افسانوں سے مراد دراصل ایسے افسانوں سے ہے جن میں اشاروں اور کنایوں میں بات کی جاتی ہے۔ ایسے افسانوں میں افسانہ نگار مختلف طرح کے استعارات اور علامتوں کا بھی سہارا لیتا ہے ۔ اس دور کے ممتاز افسانہ نگاروں میں قرۃ امین حیدر بلراج مین را سریندر پرکاش ، انور سجاد، خالد و حسین، جو گندرپال، انتظار حسین اور احمد ہمیش وغیرہ کے نام خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔

جدید افسانہ (Modern Short Story) ایک ایسی نثری صنف ہے جو کلاسیکی افسانے کے روایتی ڈھانچے (منطقی پلاٹ، مربوط کردار) سے انحراف کرتے ہوئے تجربے، تجریدیت اور نفسیاتی گہرائی پر زور دیتا ہے، جس میں اکثر غیر روایتی تکنیکیں، علامات اور کہانی کے بجائے مرکزی خیال (Theme) کو اہمیت دی جاتی ہے اور یہ زندگی کے ٹکڑوں کو پیش کرتا ہے تاکہ قاری اپنے طور پر معنی اخذ کر سکے۔

جدید افسانہ نگاری کی اہم خصوصیات:

اردو میں افسانہ نگاری سے پہلے ناول نگاری اور ناول نگاری سے پہلے داستانوں کا بول بالا رہا ہے۔ داستانوں میں درخت اور پرندے کی بڑی اہمیت ہوتی تھی۔ نئے افسانہ نگار نے مختلف سیاق و سباق میں اسے برتا ۔ یہ فرد کا استعارہ اور تہذیب کی علامت بن جاتا ہے۔ پرندہ اپنی خوش رنگینیوں اور خوش الحانیوں کے سبب فطرت کی خوش رنگینیوں اور خوش الحانیوں کا استعارہ ہے۔ فرد کے جذبات و خواہشات کی تمثیل ہے جسے داستانوں میں بڑی اہمیت دی گئی ہے ۔ خاص طور پر طوطا،  پنچ تنتر کا استعمال کر کے افسانہ نگاروں نے جانوروں اور پرندوں کی زبانی انسانی حقائق کی رمز کشائی کی ہے۔ شہروں کے نام کی جگہ بستی طلسم آباد کا استعمال تمثیل کے استعمال میں  معاون ثابت ہوتے ہیں۔ ان بستیوں کے ذریعہ خوف ، جبر، تسلط ، غلامی ، پسماندگی اور بے چارگی کو پیش کیا گیا۔ اس کی ایک مثال سے افسانے کی داستانوی فضاء کا تصور کیا جا سکتا ہے۔

افسانے میں کہانی کا ہونا یا نہ ہونا بحث کا موضوع رہا۔ ہندی میں - کہانی کی پر مپرا بھی باقی ہے۔ یعنی بغیر کہانی کے افسانہ لکھنے کی وکالت کی گئی۔ جدید افسانہ نگاروں نے کچھ تجربات بھی گئے۔ اس سلسلے میں عہد حاضر کے ممتازجدید افسانہ نگاری کی بات ہوا اور علامتی افسانے اور تجریدی افسانے کا ذکر نہ ہو یہ ممکن نہیں ہے۔ جن لوگوں نے علامتی اور تجریدی افسانے لکھنے کے بے شمار تجربات کئے ان فنکاروں میں انتظار حسین ، انور سجاد، احمد ہمیش ، بلراج میرا سریندر پرکاش وغیرہ شامل ہیں۔ جدید افسانے کی خصوصیات یا رجحانات کی تقسیم اس طرح ہو سکتی ہے کہ اسے داستانوی ، علامتی اور ابہامی افسانے کا نام دیا جائے۔ نئے افسانہ نگاروں نے افسانے میں تہہ داری پیدا کرنے کے لیے نئے اسلوب کی بازیافت کی ۔ اس نے ماضی کے موثر اسلوب کو آزمایا ۔ افسانے میں حکایتی اسلوب کو بروئے کار لا کر فن کار اس صنف کی مختصر بیت میں جدید زندگی کے مسائل کی گہرائیوں اور وسعتوں کو اس طرح سمو دیتا ہے کہ افسانے کے خاتمے پر قاری کو اپنے کسی مسئلے کا عکس نظر آنے لگتا ہے۔ سلیم شہزاد لکھتے ہیں۔

علامت کا مقصد یہ ہونا چاہئے کہ علامت کے سامنے آتے ہیں معنی کی ترسیل ہو جائے ۔ افسانے میں بیان واقعہ سے ایک خاص افسانوی تاثر پیدا کر تا افسانہ نگار کا مقصد یہ ہونا چاہئے کہ علامت کے سامنے آتے ہیں معنی کی ترسیل ہو جائے ۔ افسانے میں بیان واقعہ سے ایک خاص افسانوی تاثر پیدا کرنا افسانہ نگار کا مقصد ہوتا ہے۔ صورت واقعہ کی مناسبت سے کوئی علامت تاریخ انسانی کے کسی عہدہ سے متعلق یا عصری مشینی زندگی کے کرب اور غیر حسی آلات ولوازم سے ماخوذ ہوتی ہے۔ افسانے پر علامتیں لا دی نہیں جاسکتیں۔ لفظی اور معنوی دونوں زوایوں سے علامت ایک فنی مظہر ہونے کے ناطے افسانے میں اخذ و انتخاب کے تعلق سے ایک خود کار ذریعہ ترسیل ہوتی ہے۔تشبیہ اور استعارے کی طرح علامت بھی فنی اظہار کا ایک اضافہ وسیلہ ہے۔ ذہنی مفہوم کو ایجاز و اختصار کے پیرائے میں بیان کرنے کے لیے علامت کا استعمال کیا جاتا ہے۔ وزیر آنا کہتے ہیں اشاراتی عصر تمام اصناف ادب میں اہمیت حاصل کر رہا ہے اور افسانے نے بھی اسے اپنے دامن میں جگہ دی ہے ۔ دراصل تہذیبی ارتقاء کے ساتھ ساتھ فرد کی تیز نگاہی بھی پروان چڑھ رہی ہے۔

تجرید و ابہام بھی جدید افسانے کا ایک اہم پہلو ہے۔ جدید افسانہ روایتی تصور سے انحراف کرتا ہے، بے ماجرا، بے کردار، بے واقعہ افسانہ ابہام پیدا کرتا ہے۔ کردار یا واقعے کی تجرید سے افسانے میں ابہام پیدا ہوتا ہے ۔ کردار کی تجرید یہ ہے کہ انسانی یا حیوانی صفات سے جد ا صفات رکھنے والے بے شناخت کردار افسانے میں لائے جائیں ۔ناموں کی جگہ ایف بے ، جیم یا سرخ بالوں والا انسان، بے سر کا آدمی لکھا جائے ۔ واقعے کی تجرید یہ ہے کہ فطری یا غیر فطری طور پر واقع ہونے والا عمل غیر منطقی ، لاشعوری اور زماں ومکاں سے عاری ڈھنگ سے وقوع پذیر ہو۔

کردار کی تجرید سے کردار کے خاکے یا ہیولے حاصل ہوتے ہیں۔ افسانے میں جن کی موجودگی سے ابہام رونما ہوتا ہے۔ کردار کی تجرید سے بالواسطہ طور پر افسانے کے ماحول منظر اور پس منظر کی بھی تجرید ہوتی ہے ۔ افسانے میں بے بیتی سے ایک ہیئت تشکیل پاتی ہے۔ افسانوی داعے ۵ ق کی منطقیت یعنی آغاز وسط اور انجام کے تصورات بے معنی ہو جاتے ہیں اور بے ماجرا، بے کردار یا بے واقعہ افسانے سے یہی مراد ہے کہ افسانے میں منطقی تسلسل مفقود، کرداروں کی جگہ ان کے ہیولے اور واقعات کے بجائے ذہنی وقوعی تصورات پائے جاتے ہوں ۔ تجریدی افسانے کا بیانیہ جو افسانوی اظہار کے وسیلے زبان سے متعلق ہے غیر مربوط ، روایتی ، لسانی قواعد سے روگرداں اور یہ ظاہر بے معنویت کا نماز ہوتا ہے اس سے بھی ابہام پیدا ہوتا ہے۔ تجریدی افسانے کے نام سے نقطوں ، آڑی ترچھی لکیروں اور قوموں کے استعمال سے ابہام اور اشکال پیدا کرنے کی ایسی کوششیں بھی ملتی ہیں جن کی وجہ سے افسانے میں ہندی اور ریاضیاتی و غیر و خاکوں اور عملی اصطلاحوں کا چلن ہوتا ہے۔جدید اردو افسانے میں جن تخنیک کا زیادہ استعمال ہوا ہے ان میں شعور کی رو اظہاریت، ماورانیت تصوریت، ، وجودیت ، علامت نگاری، تجریدیت ،  و غیر ہ شامل ہیں۔روایتی واقعات کے تسلسل کو ترک کر کے پلاٹ کی بندش سے آزادی حاصل کرنا.

تنوع اور تجربات: موضوع، ہیئت، تکنیک اور اسلوب میں نئے نئے تجربات کرنا.

نفسیاتی گہرائیکرداروں کے اندرونی احساسات، تخیل اور شعور کی تہوں کو دریافت کرنا.

علامت اور استعارہکہانی کے بجائے علامات اور استعاروں کے ذریعے اپنے پیغام کو پہنچانا.

تہہ داریزبان اور بیان میں پیچیدگی، جس سے قاری غور و فکر کے بعد گہرا معنی سمجھ سکے.

زندگی کا ایک جزو: ناول کے برعکس، جو پوری زندگی دکھاتا ہے، افسانہ زندگی کے ایک لمحے یا ایک جز پر فوکس کرتا ہے.

فکر اور فلسفہاسے محض کہانی نہیں بلکہ فکر کی گہرائی اور فلسفیانہ جہات کا حامل بنانا۔

 جدید افسانہ ایک ایسا تخلیقی میدان ہے جہاں فنکار روایت سے ہٹ کر نئے راستے اپناتا ہے تاکہ انسانی وجود کی پیچیدگیوں اور حقیقت کے مختلف پہلوؤں کو نئے انداز میں پیش کر سکے

جدید افسانے کے اجزائے ترکیبی

جدید افسانہ اردو ادب کی ایک ایسی توانا صنف ہے جس نے بیسویں صدی کے وسط سے لے کر اب تک انسانی نفسیات، سماجی تبدیلیوں اور داخلی انتشار کو بہت خوبصورتی سے سمیٹا ہے۔ ایک وقت تھا جب افسانہ صرف "کہانی" سنانے کا نام تھا، لیکن جدید افسانے نے اس مروجہ ڈھانچے کو توڑ کر علامت، تجرید اور شعور کی رو جیسی تکنیکوں کو اپنایا۔جدید افسانے کے اجزائے ترکیبی (Elements of Modern Short Story) کلاسیکی افسانے سے کافی مختلف ہیں۔ ذیل میں ان اجزا کی تفصیلی وضاحت دی گئی ہے:

1. وحدتِ تاثر (Unity of Effect)

جدید افسانے کا سب سے بنیادی جزو "وحدتِ تاثر" ہے۔ افسانہ نگار کا مقصد کسی ایک مخصوص کیفیت، جذبے یا لمحے کو قاری کے دل و دماغ پر طاری کرنا ہوتا ہے۔ جدید افسانہ طوالت کے بجائے اختصار اور گہرائی پر یقین رکھتا ہے۔ اس میں ایک ہی نشست میں ایک مکمل تاثر پیدا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر افسانہ بکھر جائے، تو وہ اپنی تاثیر کھو دیتا ہے۔

2. کہانی کا فقدان یا تبدیلی (Lack of Conventional Plot)

کلاسیکی افسانے میں ایک واضح آغاز، عروج (Climax) اور انجام ہوتا تھا۔ لیکن جدید افسانے میں روایتی قصہ گوئی کم ہو گئی ہے۔ جدید افسانے میں بیرونی واقعات کے بجائے انسان کے اندرونی واقعات (Internal Events) پر زور دیا جاتا ہے۔ کبھی کبھی پورا افسانہ صرف ایک خیال یا ایک احساس کے گرد گھومتا ہے۔

تجرید (Abstraction): یہاں کہانی سیدھی لکیر میں نہیں چلتی بلکہ بکھری ہوئی ہوتی ہے، جسے قاری کو خود جوڑنا پڑتا ہے۔

3. کردار نگاری اور نفسیاتی گہرائی (Characterization)

جدید افسانے کا کردار گوشت پوست کا وہ انسان نہیں رہا جو صرف سماجی کام کرتا ہے، بلکہ وہ اب ایک "ذہنی وجود" بن گیا ہے۔ افسانہ نگار کردار کی ظاہری حرکات کے بجائے اس کی سوچ، اس کے وسوسوں، تنہائی اور بیگانگی کو نمایاں کرتا ہے۔غیر ہیرو (Anti-Hero): جدید افسانے میں کردار اکثر شکست خوردہ، تنہا اور الجھن کا شکار دکھایا جاتا ہے، جو بدلتے ہوئے سماجی نظام میں اپنی شناخت تلاش کر رہا ہوتا ہے۔

4. علامت اور تجرید (Symbolism and Abstraction)

جدید افسانے کا سب سے طاقتور جزو "علامت نگاری" ہے۔ جب براہِ راست بات کرنا مشکل ہو جائے یا بات اتنی گہری ہو کہ عام لفظوں میں نہ آ سکے، تو علامت کا سہارا لیا جاتا ہے۔جیسے انتظار حسین کے ہاں "بستی" یا "پرندے" ماضی اور ہجرت کی علامتیں ہیں۔

تجرید: اس میں کہانی کو ٹھوس شکل دینے کے بجائے خیالات کی ایک دھندلی تصویر پیش کی جاتی ہے تاکہ قاری اپنی بصیرت کے مطابق معنی نکال سکے۔

5. شعور کی رو (Stream of Consciousness)

جدید افسانے میں وقت کی قید ختم ہو جاتی ہے۔ "شعور کی رو" کی تکنیک کے ذریعے کردار کے ذہن میں آنے والے خیالات کو اسی ترتیب سے پیش کیا جاتا ہے جس ترتیب سے وہ ابھرتے ہیں۔اس میں حال، ماضی اور مستقبل ایک ساتھ چلتے ہیں۔ انسان بیٹھا حال میں ہے لیکن اس کا ذہن بچپن کی کسی گلی میں بھٹک رہا ہوتا ہے۔

6. اسلوب اور زبان (Style and Language)

جدید افسانہ نگار نے زبان کے روایتی استعمال کو بھی بدلا ہے۔اشاریتی یعنی کم سے کم الفاظ میں بڑی بات کہنا۔ جدید افسانے کی نثر میں ایک خاص قسم کا شعری آہنگ اور فلسفیانہ رنگ ہوتا ہے جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔

7. زمانی اور مکانی وسعت (Space and Time)

جدید افسانہ "زمان و مکان" (Time and Space) کی روایتی قیود کو تسلیم نہیں کرتا۔افسانہ ایک لمحے میں صدیوں کا سفر طے کر سکتا ہے اور ایک چھوٹے سے کمرے میں پوری کائنات کو سمیٹ سکتا ہے۔ یہ پھیلاؤ خارجی نہیں بلکہ ذہنی اور جذباتی ہوتا ہے۔

جدید افسانہ محض ایک تفریح نہیں بلکہ انسانی وجود کے کرب، سماجی ناانصافی، تنہائی اور روح کی پکار کا نام ہے۔ اس کے اجزائے ترکیبی (پلاٹ، کردار، علامت، زمان و مکان) اب ایک دوسرے میں اس طرح پیوست ہیں کہ انہیں الگ کرنا مشکل ہے۔ جدید افسانہ نگار (جیسے بیدی، منٹو کے آخری دور کے افسانے، انتظار حسین، انور سجاد، اور نیر مسعود) نے اس صنف کو وہ وسعت دی ہے کہ آج یہ اردو ادب کی سب سے معتبر صنف بن چکی ہے۔

جدید افسانے کا ارتقاء:

بیسویں صدی کا آغاز اردو افسانہ کی ابتداء قرار دیاجاتا ہے۔ پریم چند اور علی عبا س حسینی سے پہلے یلدرم ، فیض الحسن ، پیارے لال آشوب ، عبدالحلیم شرر ، شیو برت لال ورمن، خواجہ حسن نظامی ، راشد الخیری، حکیم یوسف حسن، علی محمود بانکی پوری وغیرہ کے نام گنائے جاسکتے ہیں۔ جن کے انشانیہ نما افسانوں کے نمونے مختلف اردو رسائل میں ملتے ہیں۔ لیکن پریم چند اور علی عباس حسینی نے افسانے کی روح کو سمجھتے ہوئے اس کے تکنیکی لوازم کو دیانت داری سے مروج ہی نہیں کیا بلکہ حقیقت پسند رجحان کے تحت افسانوں کے اعلیٰ نمونے بھی پیش کئے جو دوسروں کے لئے مشعل راہ ثابت ہوئے۔ ان دونوں افسانہ نگاروں نے صنف افسانہ کو حقیقت سے قریب کیا، عوامی زندگی کی ترجمانی کی ، محنت کش طبقہ کے احساسات ، جذبات،اور ان کے مسائل کو پیش کیا۔ سماجی جبر، رسم و روج کی بے جا پابندیوں اور عورتوں کی مظلومی کی جانب متوجہ کر کے ، ان کی حمایت میں رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کی۔ پسماندہ طبقہ کی زندگی کی خصوصیات ، ان کے معاملات ، رسم و رواج اور توہمات کو اس طرح بیان کیا۔کہ ان کے لئے ایک عام ہمدردی کی لہر دوڑ گئی اور عوامی سطح پر ان برائیوں کو دور کرنے کے لئے کوششیں شروع ہو گئیں۔پریم چند نے تقریباً 280 افسانے لکھے وہ اردو کے پہلے افسانہ نگار ہیں جنہیں ان کا جذبۂ حب الوطنی ادب کی سنگلاخ وادی میں کھینچ لایا اور وہ تمام عمر اسی جذبہ کے زیر اثر تخلیقی عمل سے گزرتے رہے۔ ان کا پہلا افسانہ "عشق دنیا و حب وطن" اسی جذبہ کا مظہر ہے۔ ان کے پہلے افسانوی مجموعے"سوز وطن" کے نام سے ہی ان کی دلی کیفیت اور ان کے ذہنی کرب کا بخوبی اندازہ لگایاجاسکتا ہے ، انہوں نے جذبہ حریت ، سر فروشی کی تمنا قوم کی کردار سازی ، زمینداروں ، مہاجوں اور مذہبی ٹھیکیداروں کے استحصال ،ہریجنوں کی حالت زار ، بیواؤں کی خستہ حالت ، مشترکہ خاندان کی کش مکش ، بے جوڑ شادی کا انجام ، جہیز، کنیا دان، اور تعلیم سے متعلق موضوعات اور ماحول پر مشتمل افسانے لکھنے شروع کئے لیکن دیہی زندگی کے تعلق سے جو افسانے انہوں نے لکھے وہ کئی اعتبار سے اہم اور قاببل توجہ ہیں، کیونکہ انہوں نے دیہی زندگی کو قریب سے دیکھا تھا۔ وہ ان کے مسائل کو سمجھتے تھے، زمینداری نظام، کچلے ہوئے پسماندہ کسان، سسکتے ہوئے ہریجن ، عہد قدیم سے رائج ذات پات کی تفریق ، مروجہ رسوم ، تعلیم کی کمی او ر ان کے تعلق سے پیدا ہونے والے مسائل اور وہ استحصال جو برسہا برس سے طاقتور کمزورکے ساتھ روا کے ہوئے تھا یہ سب پریم چند پر عیاں تھے اور ان موضوعات کو اپنی گرفت میں لیتے ہوئے پریم چند برابر افسانے لکھتے رہے اور دیہی آبادی کے کوائف اور ان کی تفصیلات سے متعارف کراتے رہے۔ ان افسانوںں میں فنی کمزوریاں تو ممکن ہیں۔ لیکن اس عہد کے ہندوستان کے دیہی معاشرے کی لافانی تصاویر اور کردار نگاری کے بہترین نمونے محفوظ ہیں۔

افسانہ"لال فیتہ" ،"قاتل"،اور"جیل" حب الوطنی کے جذبہ سے معمور ہیں۔ "ستی"، اور "رانی سارندھا" ان پر مرمٹنے والوں کی داستان ہے۔ "وکرمادتیہ کا نیفہ""راجا مہردول"، "سریا واکی قربان گاہ" ،"مرزا الفت"،اور" سرپر غرور" نامی اسانوں کے مرکزی کرداروں کے ذریعہ پریم چند نے قوم میں عدل و انصاف ، حمیت و غیرت اور شجاعت و بہادری کے وہی اوصاف دیکھنے چاہے ہیں جو ان کرداروں کی شخصیت کے اہم عناصر قرار دیے جاسکتے ہیں۔"معصوم بچہ" اور"خون سفید" میں قرض، بیگار، بھوک اور افلاس کی حقیقت کو اجاگر کیا ہے ، "پوس کی رات" کسان کے اس المیے کی داستان سناتا ہے جو باوجود سخت محنت کے اتنا بھی پس انداز نہیں کرپاتا تاکہ سرمایہ کی طویل راتوں سے سے اپنے کو محفوظ رکھ کر کھیتوں کی صحیح نگہداشت کرسکے۔"نجات" "سواسیر گیہوں" اور" دودھ کی قیمت" میں بھولے بھالے غریبوں کے کوائف بڑے دردناک پیرائے میں بیان کئے گئے ہیں۔ ساتھ ہی ان کی ضعیف الاعتقادی اور مذہبی امور میں اندھی عقیدتمندی کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ اقتصادی حقیقت ، انسانی زندگی اور شخصیت کی کس طرح تشکیل کرتی ہے۔

افسانہ"انصاف کی پولیس" اس کی ایک اچھی مثال ہے۔ ہریجنوں کے روح فرسا معاشی ، معاشرتی اور نظریاتی استحصال کے اعتبار سے ان کا افسانہ "دودھ کی قیمت" قابل توجہ ہے۔ اس میں پریم چند نے منگل کے سہارے ہریجن کی سماجی حیثیت کی وضاحت کی ہے جس نے افسانے کے ماحول کو اس کی فضاسے ہم آہنگ کرکے موضوع کو مزید پر اثر بنادیا ہے۔ اور ایک ایسا طنزیہ لہجہ اختیار کرلیا ہے جس نے سماجی جبر کے خلاف باغیانہ تیور اختیار کرلئے ہیں۔افسانہ "ابھاگن" "بازیافت"،"کسم" اور"بد نصیب ماں" میں پریم چند نے عورتوں کے مسائل کا تذکرہ کر کے سماجی شعور کو جھنجھوڑا ہے اور معاشرے میں اس کے لئے مساوی حقوق کے طلب گار ہوئے ہیں۔ "حسن و شباب" ،"خودی"،" گھاس والی"،اور"ویشیا" میں انہوں نے عورتوں کی زندگی کا ہمدردانہ تجزیہ کیا ہے۔ ان کی یہ شعوری کوشش طبقہ نسواں کو ذلت اور رسوائی کے غار سے نکالنے کی تھی۔"مجبوری"،"مالکن"،"نئی بیوی" اور"زاد راہ" میں پریم چند نابرابری کی شادیوں کے بھیانک نتائج سے عوام الناس کو باخبر کرتے ہیں کہ اس طرح کی شادیوں کا انجام عموماً عورت کی بے راہ روی ، گھٹ گھٹ کر مرنا یا پھر خود کشی پر ہوتا ہے۔

افسانہ"شکوہ و شکایت" میں جہیز اور کنیادان کے خلاف احتجاج اور "روشنی" میں تعلیم کی جانب سے لا پرواہی کے سلسلے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ زندگی اور اس کے واسطے سے دیگر جزئیات کو انسانوں کا موضوع بناکر اپنے معاصرین پر سبقت لے گئے ہیں۔ان کے اسلوب بیان میں روز بروزسادگی اور روانی آتی گئی۔ ان کا آخری افسانہ"کفن" فکر وفن دونوں ہی اعتبار سے اپنا ایک لازوال نقش قائم کرتا ہے۔

  • فخرو چاچا کو ہر برائی کے پیچھے "گورا" (انگریز) نظر آتا ہے، کیونکہ وہ ماضی کے زخموں کو ابھی تک نہیں بھولے۔
  • دھرم داس اسے پاکستانی جاسوس قرار دیتا ہے تاکہ اسے پکڑوا کر انعام حاصل کر سکے۔
  • حمید اسے فرقہ پرست ہندو ہندو مہا سبھائی سمجھتا ہے، جبکہ چندر کانت اسے اس کے سرخ چہرے کی وجہ سے "کمیونسٹ" قرار دیتا ہے۔
  • ہیرا چند (جو خود کمیونسٹ ہے) اسے سرمایہ دارانہ نظام کی تباہی کا پیش خیمہ سمجھتا ہے۔

علی عباس حسینی نے افسانہ نگارہ میں اس راہ کا انتخاب کیا جو پریم چند کی تعمیر کردہ ہے۔ ان کا تعلق بھی پریم چند کی طرح براہ راست عوام الناس سے رہا ہے۔ گاؤں کی سادہ زندگی اور کھیت کھلیانوں کی بو باس کے ساتھ شہری مسائل کا عمیق مشاہدہ علی عباس حسینی کے افسانوں کا بنیادی موضوع ہے۔ دیہی اور شہری ماحول کی عکاسی ، محنت کش کسانوں اور مزدوروں کی کس مپرسی ان کے افسانوں میں پوری طرح جلوہ گر ہے۔ انہوں نے دونوں ہی زندگیوں کی تصویریں یکساں خوبی کے ساتھ کھینچی ہیں۔ پریم چند شہری زندگی کو اجاگر کرنے میں زیادہ کامیاب نہیں ہوسکے لیکن علی عباس حسینی کو اس معاملے میں پریم چند پر فوقیت حاصل ہے۔

نو افسانوی مجموعوں (1۔ رفیق تنہائی۔2۔ باسی پھول،2۔میلہ گھومنی،4۔آئی۔ سی۔ایس،5۔ ایک حمام میں،6۔ ہمارا گاؤں،7۔کچھ نہیں ہے ،8۔سیلاب کی راتیں،9۔ ندیا کنارے) پر مشتمل تقریباً ڈیڑھ سو افسانوں میں سے"رفیق تنہائی" ،"مقابلہ"،"مبالغہ کی قیت"،"بوڑھا اور بالا"،"پاگل"،"بندوں کی جوڑی"،"شہید محبت"،" انتقام"،" نئی ہمسائی"،" کنجی"،" زود پشیماں"،" ہار جیت"،" صگیر قفس"،"بہو کی ہنسی"،" جذبات لطیف"،" سکھی"،"اور" باغی کی بیوی"وغیرہ ان کے اہم اور دلچسپ افسانے ہیں۔ ان میں دیہی زندگی کی بھرپور نمائندگی کرنے والے افسانے"مقابلہ"،" پاگل"،" انتقام"،" کنجی" اور"ہار جیت" ہیں۔ ان افسانوں میں دیہی معاشرت کی نمایاں تصویریں پیش کی گئی ہیں۔ "پاگل" نفسیاتی حقیقت پر مبنی ایک ایسا دیہی افسانہ ہے جس میں علی عباس حسینی نے زمانے کی ستم ظریفی اور ظاہری رکھ رکھاؤ کو بڑے در د انگیز پیرائے میں پیش کیا ہے۔ افسانہ" انتقام" دیہات کے اس بھیانک پہلو کی نمائندگی کرتا ہے جہاں زمیندار نہ صرف اپنے کو افضل سمجھتا ہے بلکہ غریبوں خاص کر اچھوتوں کی زندگیوں اور ان کی عصمتوں پر بھی اپنا حق سمجھتا ہے۔شہری زندگی سے متعلق ان کے اہم افسانے" مغالطہ کی قیمت"،" بندوں کی جوڑی"،" نئی ہمسائی"،" زود پشیماں"،" شہید معاشرت"،" صغیر قفس"،" جذبات لطیف"،" اور"باغی کی بیوی" ہیں۔ "مغالطہ کی قیمت" اور"بندوں کی جوڑی" صاف ستھرے اور نصیحت آموز اسانے ہیں۔ ان میں مرکزی کردار قمر بانو اور مارگریٹ کے ہیں جو بظاہر نیک خوبصورت اور معصوم نظر آتے ہیں مگر دراصل وہ آوارہ اور بد چلن ہوتے ہیں۔ انہیں زرق برق لباس کی ہوس اور جواہرات سے عشق ہے۔ قمر بانو اپنے شوہر کو یہ تاثر دیتی ہے کہ چوں کہ اسے سچے زیورات میسر نہیں ہیں اس لئے جھوٹے زیورات سے دل بہلاتی ہے۔ لیکن اس کی موت کے بعد اصلی زیورات کا راز کھلتا ہے جن کی قیمت ایک لاکھ ساڑھے سات ہزار روپے ہوتی ہے اور مارگریٹ جواہر کے لالچ میں اپنے شوہر کا تمام مال و اسباب بھی سمیٹ کر چل دیتی ہے ، ان دونوں افسانوں کے برعکس"نئی ہمسائی" میں ایک ایسی طوائف کا کردار پیش کیا گیا ہے جس میں خود داری، نیکی، شرافت ، اور محبت جیسی صفات موجود ہیں۔ وہ پیشے کے اعتبار سے طوائف اور سماجی مرتبہ کے لحاظ سے گوکہ گری ہوئی عورت ہے۔ علی عباس حسینی نے اس افسانہ میں قاری کی توجہ اس امر کی جانب مبذول کرائی ہے کہ جنہیں ہم دائرہ انسانیت سے باہر سمجھتے ہیں ان میں بھی ایثار و محبت کا جذبہ اور شرافت ہو سکتی ہے۔ سماجی بندشیں کتنی سخت ہیں؟ اس حقیقت کو انہوں نے افسانہ"بیوی" میں بڑے تیکھے انداز میں اجاگر کیا ہے۔

ترقی پسند تحریک سے قبل ہندو مسلم اتحاد اور قومی یکجہتی پر سب سے کامیاب افسانے علی عباس حسینی کے ہیں۔ انہوں نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے باہمی تعلقات اور میل جول پر زور دیتے ہوئے فرقہ وارانہ منافرت کے خلاف کھل کر لکھا ہے۔ وہ محسوس کررہے تھے کہ صاحب اقتدار لوگوں کی سازشوں کے تحت ہندو مسلم نفاق بڑھتا جارہا ہے۔ انہوں نے اس اتحاد پر خاصا زور دیا۔ قومی یک جہتی کے موضوع پر ان کا اہم افسانہ" ماں کے دو بچے" ہے۔ اس افسانے میں انہوں نے انسانی بے حسی اور درندگی کی عبرت آمیز تصویر دکھلاکر ذہن اور ضمیر کو جھنجھوڑا ہے۔ کلکتہ سے متعلق فساد کی تباہی کو غیر متعصبانہ طور پراس اختصار کے ساتھ پیش کیا ہے کہ افسانہ کی وحدت تاثر مجروح نہیں ہونے پاتی۔ بغض و حسد کے جذبہ کے خلاف لکھا ہوا یہ افسانہ اپنے اختتام پر انسانیت، محبت اور حب الوطنی کا درس دے جاتا ہے۔

مذکورہ مسائل کے علاوہ دیہی زندگی اور شہری زندگی کے پے چیدہ مسائل ، جدید تعلیم، مغربی تہذیب، مشرقی روایات اور فطری جذبات پر دونوں ہی افسانہ نگاروں نے ڈھیر سارے افسانے قلم بند کئے ہیں۔ فنی نقطہ نظر سے بھی ان کے افسانے بے حد اہم ہیں۔ دونوں کا طرز بیان شگفتہ اور دل کش ہے۔ زبان میں سلاست اور روانی کے ساتھ محاورات اور تشبیہات کا برمحل استعمال ملتا ہے۔ وہ موقع محل کے لحاظ سے الفاظ کا استعمال کرتے ہیں ، کردار نگاری کا بھی اچھا سلیقہ رکھتے ہیں ، خصوصاً علی عباس حسینی کے طرز تحریر میں ایک نکھرا ہوا لطیف انداز ہے جو دل کش اور جذبات کو متاثر کرنے والا ہے اور پریم چند کے افسانے نظریاتی اعتبار سیے غریبوں، بے کسوں اور پسماندہ طبقات کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ پریم چند اور علی عباس حسینی نے سماجی مسائل ، سیاسی لوٹ کھسوٹ ، روز مرہ زندگی کی صعوبتوں ، ذلتوں ، مکاریوں اور بے رحمیوں کو اپنے افسانوں میں بڑے بے باکانہ انداز میں پیش کیا ہے ، ان کے افسانوں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ اپنے درد کی ترجمانی کرتے ہوئے ہماری تہذیب اور معاشرت کے مدوجزر کی تصویریں پیش کرتے ہیں۔

 

نظارے درمیان ہے                                        قراۃالعین حیدر

تارا بائی کی آنکھیں تاروں کی جیسی روشن ہیں اور وہ گرد وپیش کی ہر چیز کو حیرت سے تکتی ہے۔ در اصل تارا بائی کے چہرے پر آنکھیں ہی آنکھیں ہیں۔ وہ قحط کی سوکھی ماری لڑکی ہے۔ جسے بیگم الماس خورشید عالم کے ہاں کام کرتے ہوئےصرف چند ماہ ہوئے ہیں۔ اور وہ اپنی مالکن کے شاندار فلیٹ کے ساز وسامان کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ دیکھتی رہتی ہےکہ ایسا عیش و عشرت اسے پہلے کبھی خواب میں بھی نظر نہ آیا تھا۔ وہ گورکھپور کے ایک گاؤں کی بال ودھوا ہے۔ جس کے سسر اور ماں باپ کے مرنے کے بعد اس کے ماما نے جو ممبئی میں دودھ والا بھیا ہےاسے یہاں بلا بھیجا تھا۔ الماس بیگم کے بیاہ کو ابھی تین چار مہینے ہی گزرے ہیں۔ ان کی منگلورین آیا جو ان کے ساتھ میکے سے آئی تھی ’ملک‘ چلی گئی، تو ان کی بے حد منتظم خالہ بیگم عثمانی نے جو ایک نامور سوشل ورکر ہیں ایمپلائمنٹ ایکس چینج فون کیا اور تارا بائی پٹ بیجنے کی طرح آنکھیں جھپکاتی کمبا لاہل کے ’اسکائی اسکریپر‘ گل نسترن کی دسویں منزل پر آن پہنچیں۔ الماس بیگم نے ان کو ہر طرح قابل اطمینان پایا، مگر جب دوسرے ملازموں نے انہیں تارا بائی کہہ کر پکارا تو وہ بہت بگڑیں، ’’ہم کوئی پتریاہوں؟‘‘ انھوں نے احتجاج کیا۔ مگرا ب ان کو تارادئی کے بجائے تارا بائی کہلانے کی عادت ہوگئی ہے۔ اور وہ چپ چاپ کام میں مصروف رہتی ہیں۔ اور بیگم صاحب اور ان کے صاحب کو آنکھیں جھپکا جھپکا کر دیکھا کرتی ہیں۔الماس بیگم کا اگر بس چلے تو وہ اپنے طرحدار شوہر کو ایک لمحے کے لیے اپنی نظروں سے اوجھل نہ ہونے دیں اور وہ جوان جہان آیا کو ملازم رکھنے کی ہر گز قائل نہیں۔ مگر تارا بائی جیسی بے جان اور سگھڑ خادمہ کو دیکھ کر انھوں نے اپنی تجربہ کار خالہ کے انتخاب پر اعتراض نہیں کیا۔

تارا بائی صبح کو بیڈ روم میں چائے لاتی ہے۔ بڑی عقیدت سے صاحب کے جوتوں پر پالش اور کپڑوں پر استری کرتی ہے، ان کے شیو کا پانی لگاتی ہے، جھاڑو پوچھا کرتے وقت وہ بڑی حیرت سے ان خوبصورت چیزوں پر ہاتھ پھیرتی ہے، جو صاحب اپنے ساتھ پیرس سے لائے ہیں، ان کا وائلن وارڈ روب کے اوپر رکھا ہے، جب پہلی بار تارا بائی نے بیڈروم کی صفائی کی تو وائلن پر بڑی دیر تک ہاتھ پھیرا، مگر پرسوں صبح حسب معمول جب وہ بڑی نفاست سے وائلن صاف کر رہی تھی تو نرم مزاج اور شریف صاحب اسی وقت کمرے میں آ گئے اور اس پر برس پڑے کہ وائلن کو ہاتھ کیوں لگایا اور تارا بائی کے ہاتھ سے چھین کر اسے الماری کے اوپر پٹخ دیا، تارا بائی سہم گئی اور اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور صاحب ذرا شرمندہ سے ہو کر باہر برآمدے میں چلے گئے، جہاں بیگم صاحبہ چائے پی رہی تھی۔ ویسے بیگم صاحبہ کی صبح ہئیر ڈریسر اور بیوٹی سلیون میں گزرتی ہے۔ مینی کیور، پیڈی کیور، مساج کیور، فیشل، سونا باتھ۔۔۔ ایک سے ایک بڑھیا ساڑھیاں، درجنوں رنگ برنگے سینٹس، اور عطر کے ڈبے اور گہنے ان کی الماریوں میں پڑے ہیں۔ مگر تارا بائی سوچتی ہے، بھگوان نے میم صاحب کو دولت بھی، اجت بھی اور ایسا سندر پتی دیا، بس شکل دینے میں کنجوسی کر گئے۔

سنا ہے کہ صاحب اپنی خوبصورتی کی وجہ سے میم صاحبوں کی سوسائٹی میں بے حد مقبول تھے، مگر بیاہ کے بعد سے بیگم صاحبہ نے ان پر بہت سے پابندیاں لگا دی ہیں، دفتر جاتے ہیں تو دن میں کئی بار فون کرتی ہیں، شام کو کسی کام سے باہر جائیں تو بیگم صاحبہ کو پتہ رہتا ہے، کہ کہاں گئے ہیں اور ان جگہوں پر فون کرتی ہیں، شام کو سیر و تفریح اور ملنے ملانے کیلئے دونوں باہر جاتے ہیں، تب بھی بیگم صاحب بڑی کڑی نگرانی رکھتی ہیں مجال ہے جو کسی دوسری لڑکی پر نظر ڈالیں۔صاحب نے یہ سارے قاعدے قانون ہنسی خوشی قبول کر لئے ہیں۔ کیونکہ بیگم صاحبہ بہت امیر اور صاحب کی نوکری بھی ان کے دولت مند سسر نے دلوائی ہے۔ ورنہ بیاہ سے پہلے صاحب بہت غریب تھے۔ اسکالر شپ پر انجنئیرنگ پڑھنے فرانس گئے تھے۔ واپس آئے تو روزگار نہیں ملا، پریشان حال گھوم رہے تھے۔ جب ہی بیگم صاحبہ کے گھر والوں نے انہیں پھانس لیا۔بڑے لوگوں کی دنیا کے عجیب قصے تارا بائی فلیٹ کے مستری، باورچی، حمال اور دوسرے نوکروں سے سنتی ہے اور اس کی آنکھیں اچنبھے سے کھلی رہتی ہیں۔

خورشید عالم بڑے اچھے اور وائلن نواز آدمی تھے۔ مگر جب سے بیاہ ہوا تو بیوی کی محبت میں ایسے کھوئے کہ وائلن کو ہاتھ نہیں لگایا، کیونکہ الماس بیگم کو اس ساز سے دلی نفرت تھی، خورشید عالم بیوی کے بے حد احسان مند ہیں کیونکہ اس شادی سے ان کی زندگی بدل گئی، اور احسان مندی ایسی شے ہے کہ انسان سنگیت کی قربانی بھی دے سکتا ہے۔ خورشید عالم شہر کی ایک خستہ عمارت میں پڑے تھے اور بسوں میں مارے مارے پھرتے تھے اب لکھ پتی کی حیثیت سے کمبالا ہل میں فروکش ہیں۔ مرد کیلئے اس کا اقتصادی تحفظ غالباً سب سے بڑی چیز ہے۔خورشید عالم اب وائلن کبھی نہیں بجائیں گے۔

یہ صرف ڈیڑھ سال پہلے کا ذکر ہے، کہ الماس اپنے ملک التجار باپ کی عالی شان کوٹھی میں مالا بار بل پر رہتی تھی۔ وہ سوشل ورک کر رہی تھی، اور عمر زیادہ ہو جانے کے کارن شادی کی امید سے دست بر دار ہو چکی تھی۔ جب ایک دعوت میں ان کی ملاقات خورشید عالم سے ہوئی اور ان کی جہاں دیدہ خالہ بیگم عثمانی نے ممکنات بھانپ کر اپنے جاسوسوں کے ذریعہ معلومات فراہم کیں۔ لڑکا یوپی کا ہے، یورپ سے لوٹ کر تلاش معاش میں سر گرداں ہے مگر شادی پر تیار نہیں کیونکہ فرانس میں ایک لڑکی چھوڑ آیا ہے اور اس کی آمد کا منتظر ہے۔ بیگم عثمانی فوراً اپنی مہم پر جٹ گئیں۔ الماس کے والد نے اپنی ایک فرم میں خورشید عالم کو پندرہ سو روپے ماہوار پر ملازم رکھ لیا، الماس کی والد نے انہیں اپنے ہاں مدعو کیا اور الماس سے ملاقاتیں خود بخود شروع ہو گئیں، مگر پھر بھی لڑکے نے لڑکی کے سلسلے میں کسی گرم جوشی کا اظہار نہیں کیا۔ دفتر سے لوٹ کر انہیں بیشتر وقت الماس کے ہاں گزارنا پڑتا اور اس لڑکی کی سطحی گفتگو سے اکتا کر اس پر فضا بالکنی میں جا کر کھڑے ہوتے جس کا رخ سمندر کی طرف تھا، پھر وہ سوچتے ایک دن اس کا جہاز آ کر اس ساحل پر لگے لگا، اور وہ اس میں سے اترے گی، اسے ہمراہ ہی آ جانا چاہئیے تھا مگر پیرس میں کالج میں اس کا کام ختم نہیں ہوا تھا۔ اس کا جہاز ساحل سے آگے نکل گیا، وہ بالکنی کے جنگلے پر جھکے افق کو تکتے رہتے۔ الماس اندر سے نکل کر شگفتگی سے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھتی، ”کیا سوچ رہے ہیں۔“ وہ ذرا جھینپ کر مسکرا دیتے۔رات کے کھانے پر الماس کے والد کے ساتھ ملکی سیاست سے وابستہ ہائی فنانس پر تبادلۂ خیالات کرنے کے بعد وہ تھکے ہارے اپنی جائے قیام پر پہنچتے اور وائلن نکال کر دھنیں بجانے لگتے، جو اس کی سنگت میں پیرس میں بجایا کرتے تھے۔ وہ دونوں ہر تیسرے دن ایک دوسرے کو خط لکھتے تھے، اور پچھلے خط میں انہوں نے اسے اطلاع دی تھی انہیں بمبئی ہی میں بڑی عمدہ ملازمت مل گئی ہے، ملازمت کے ساتھ جو خوفناک شاخسانے بھی تھے اس کا ذکر انہوں نے خط میں نہیں کیا تھا۔ایک برس گزر گیا مگر انہوں نے الماس سے شادی کا کوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا، آخر عثمانی بیگم نے طے کیا کہ خود ہی ان سے صاف صاف بات کر لینا چاہئیے عین مناسب ہو گا۔ مگر تب ہی پرتاب گڑھ سے تار آیا کہ خورشید عالم کے والد سخت بیمار ہیں اور وہ چھٹی لے کر وطن واپس روانہ ہو گئے۔

ان کو پرتاب گڑھ گئے چند روز ہی گزرے تھے کہ الماس جو ان کی طرف سے نا امید ہو چکی تھی۔ ایک شام اپنی سہیلیوں کے ساتھ ایک جرمن پیانسٹ کا کنسرٹ سننے تاج محل میں گئی۔ کرسٹل روم میں حسب معمول بوڑھے پارسیوں اور پاسنوں کا مجمع تھا، اور ایک حسین آنکھوں والی پارسی لڑکی کنسرٹ کا پروگرام بانٹی پھر رہی تھی۔ ایک شناسا خاتون نے الماس کا تعارف اس لڑکی سے کرایا، ’’پیروجا دستور‘‘ اور خود آگے چلی گئیں ۔

الماس نے حسب عادت بڑی ناقدانہ اور تیکھی نظروں سے اس اجنبی لڑکی کا جائزہ لیا۔ لڑکی بے حد حسین تھی۔ ’’آپ کا نام کیا بتایا مسز رستم جی نے؟‘‘الماس نے ذرا مشتاقانہ انداز میں سوال کیا۔ ’’پیروجا دستور‘‘ لڑکی نے سادگی سے جواب دیا۔ ’’میں نے آپ کو پہلے کسی کنسرٹ وغیرہ میں نہیں دیکھا۔"

" میں سات برس بعد پچھلے ہفتے ہی پیرس سے آئی ہوں۔"’’سات برس پیرس میں! تب تو آپ فرنچ خوب فر فر بول لیتی ہوں گی؟‘‘ الماس نے ذرا ناگواری سے کہا۔ ’’جی ہاں۔۔۔‘‘ پیروجا ہنسنے لگی۔اب خاص خاص مہمان جرمن پیانسٹ کے ہمراہ لاؤنج کی سمت بڑھ رہے تھے۔ پیروجا، الماس سے معذرت چاہ کر ایک انگریز خاتون سے اس پیانسٹ کی موسیقی پر بے حد ٹیکنیکل قسم کا تبصرہ کرنے میں منہمک ہو گئی، لیکن لاؤنج میں پہنچ کر الماس پھر اس لڑکی سے ٹکرا گئی۔ کمرے میں چائے کی گہما گہمی شروع ہو چکی تھی۔

’’آئیے یہاں بیٹھ جائیں‘‘ پیرو جا نے مسکرا کر الماس سے کہا۔ وہ دونوں دریچے سے لگی ہوئی ایک میز پر آمنے سامنے بیٹھ گئیں۔ ’’آپ تو ویسٹرن میوزککی ایکسپرٹ معلوم ہوتی ہیں۔‘‘ الماس نے ذرا رکھائی سے بات شروع کی، کیونکہ وہ خوب صورت اور کم عمر لڑکیوں کو ہر گز برداشت نہ کر سکتی تھی۔ ’’جی ہاں میں پیرس میں پیانو کی اعلی تعلیم کیلئے گئی تھی۔‘‘

الماس کے ذہن میں کہیں دور خطرے کی گھنٹی بجی اس نے باہر سمندر کی شفاف اور بے حد نیلی سطح پر نظر ڈال کر بڑے اخلاق اور بے تکلفی سے کہا،’’ہاؤانٹسرٹنگ، پیانو تو ہمارے پاس بھی موجود ہے کسی روز آ کر کچھ سناؤ۔‘‘

’’ضرور۔۔۔‘‘ پیروجا نے مسرت سے جواب دیا۔

"سنیچر کے روز کیا پروگرام ہے تمہارا؟ میں اپنے ہاں ایک ہین پارٹی کر رہی ہوں، سہیلیاں تم سے مل کر بہت خوش ہوں گی۔"

’’آئی وڈ لو ٹو کم۔۔۔ تھینک یو؟‘‘

’’تم رہتی کہا ہو پیرو جا؟‘‘

پیروجا نے تار دیو کی ایک گلی کا پتہ بتایا، الماس نے ذرا اطمینان کی سانس لی، تار دیو مفلوک الحال پارسیوں کا محلہ ہے۔

"میں اپنے چچا کے ساتھ رہتی ہوں۔ میرے والدین کا انتقال ہوچکا ہے۔ میرے کوئی بھائی بہن بھی نہیں ، مجھے چچا چچی نے پالا ہے، وہ لا ولد ہیں۔ چچا ایک بینک میں کلرک ہیں۔‘‘ پیروجا سادگی سے کہتی رہی۔ پھر ادھر ادھر کی چند باتوں کے بعد سمندر کی پر سکون سطح دیکھتے ہوئے اس نے اچانک کہا۔ ’’کیسی عجیب بات ہے۔ پچھلے ہفتہ جب میرا جہاز اس ساحل کی طرف بڑھ رہا تھا تو میں سوچ رہی تھی کہ اتنے عرصے کے بعد اجنبیوں کی طرح بمبئی واپس پہنچ رہی ہوں، یہ بڑا کٹھور شہر ہے تم کو معلوم ہی ہو گا الماس۔۔۔؟ مخلص دوست یہاں بہت مشکل سے ملتے ہیں۔ مگر میری خوشی دیکھو آج تم سے ملاقات ہو گئی۔‘"الماس نے دردمندی کے ساتھ سر ہلا دیا، لاؤنج میں باتوں کی دھیمی دھیمی بھنبھناہٹ جاتی تھی، چند لمحوں کے بعد اس نے پوچھا، ’’تم پیرس کیسے گئی ؟"

’’مجھے اسکالر شپ مل گیا تھا، وہاں پیانو کی ڈگری کی بعد چند سال تک میوزک کالج میں ریسرج کرتی رہی، میں وہاں بہت خوش تھی مگر یہاں میرے چچا بالکل اکیلے تھے۔ وہ دونوں بہت بوڑھے ہو چکے ہیں۔ چچی بیچاری تو ضعیف العمری کی وجہ بالکل بہری بھی ہو گئیں ہیں ان کی خاطر وطن واپس آئی اور اس کے علاوہ۔۔۔"

’’ہلو الماس تم یہاں بیٹھی ہوں۔ چلو جلدی، مسز ملگاؤں تم کو بلا رہی ہیں‘‘ ایک خاتون نے میز کے پاس آ کر کہا۔ پیروجا کی بات ادھوری رہ گئی۔’’سنیچر کو صبح گیارہ بجے کار بھیج دے گی‘‘، الماس نے کہا اور معذرت چاہ کر میز سے اٹھ کر مہمانوں کے مجمع میں کھو گئی۔

سنیچر کے روز پیروجا،الماس کے گھر پہنچی، جہاں مرغیوں کی پارٹی اپنے عروج پر تھی۔ بیٹلز کے ریکارڈ بج رہے تھے۔ چند لڑکیاں جنہوں نے چند روز پہلے ایک فیشن شو میں حصہ لیا تھا، زور شور سے اس پر تبصرہ کر رہی تھیں۔ یہ سب لڑکیاں جن کی ماتر بھاشائیں اردو، ہندی، گجراتی اور مراٹھی تھیں۔ انگریزی اور صرف انگریزی بول رہی تھیں۔ اور انہوں نے بے حد چست پتلونیں پہن رکھی تھیں۔ پیروجا کو ایک لمحے کیلئے محسوس ہوا کہ وہ ابھی ہندوستان واپس نہیں آئی ہے۔ برسوں یورپ میں رہ کر اسے معلوم ہو چکا تھا کہ اجنتا کی زندہ تصویروں کے بجائے ان مغربیت زدہ ہندوستانی خواتین کو دیکھ کر اہل یورپ کو سخت افسوس اور مایوسی ہوتی ہے۔ چنانچہ پیروجا پیرس اور روم میں اپنی ٹھیٹ ہندوستانی وضع قطع پر بڑی نازاں رہتی تھی، بمبئی کی ان نقلی امریکن لڑکیوں سے اکتا کر وہ بالکنی میں جا کھڑی ہوئی جس کے سامنے سمندر تھا اور پہلو میں برج خموشاں کا جنگل نظر آ رہا تھا۔ وہ چونک اٹھی، گھنے جنگل کے اوپر کھلی فضاؤں میں چند گدھ اور کوے منڈلا رہے تھے، اور چاروں طرف بڑا ڈراؤنا سناٹا طاری تھا۔ وہ گھبرا کر واپس نیچے اتری اور زندگی سے گونجتے ہوئے کمرے میں آ کر صوفے پر ٹک گئی۔

کمرے کے ایک کونے میں غالباً بطور آرائش گرینڈ پیانو رکھا ہوا تھا، لڑکیاں اب ریڈیو گرام پر ہیری ببلا فونٹ کا پرانا کلسپو، جمیکا فئیرویل بجا رہی تھیں۔مغنی کی دلکش آواز، گٹار کی جان لیوا گونج ساتھ ساتھ کمرے میں پھیلنے لگی۔

الماس چپ چاپ جا کر بالکنی میں کھڑی ہو گئی۔ ریکارڈ ختم ہوا تو اس نے پیروجا سے کہا، ’’ہم لوگ سخت بد مذاق ہیں ایک ماہر پیانسٹ یہاں بیٹھی ہے اورہم ریکارڈ بجا رہے ہیں۔۔۔ چلو بھائی۔۔۔ اٹھو۔۔۔‘‘ پیروجا مسکراتی ہوئی پیانو کے اسٹول پر بیٹھ گئی۔

’’کیا سناؤں، میں تو صرف کلاسیکی میوزک ہی بجاتی ہوں۔‘‘

’’ہائے۔۔۔ پوپ۔۔۔ نہیں؟‘‘ لڑکیوں نے غل مچایا۔۔۔ ’’اچھا کوئی انڈین فلم سانگ ہی بجاؤ۔۔۔‘‘

’’فلم سانگ بھی مجھے نہیں آتے۔۔۔ مگر ایک غزل یاد ہے۔۔۔ جو مجھے۔۔۔ جو مجھے۔۔۔‘‘ وہ جھینپ کر ٹھنک گئی۔۔۔

’’غزل؟ اوہ آئی لو پوئیٹری‘‘ ایک مسلمان لڑکی جس کے والدین اہل زبان تھے بڑے سرپرستانہ انداز میں کہا۔

پیروجا نے پردوں پر انگلیاں پھیریں اور ایک انجانی مسرور پھریری سی آئی، پھر اس نے آہستہ آہستہ ایک دل کش دھن بجانا شروع کیا۔ ’’گاؤ بھی ساتھ ساتھ‘‘ لڑکیاں چلائیں۔ ’’بھئی میں گا نہیں سکتی، میرا اردو تلفظ بہت خوفناک ہے۔‘‘

’’اچھا اس کے الفاظ بتا دو۔۔۔ ہم لوگ گائیں گے۔‘‘

’’وہ کچھ اس طرح ہے۔۔۔‘‘ پیرو جا نے کہا،

’’تو سامنے ہے اپنے بتلا کہ تو کہاں ہے

کس طرح تجھ کو دیکھوں نظارہ درمیاں ہے‘‘

چند لڑکیوں نے ساتھ ساتھ گانا شروع کیا۔۔۔ ’’نظّارہ درمیاں ہے۔۔۔ نظّارہ درمیاں ہے۔‘‘

غزل ختم ہوئی تالیاں بجیں۔

’’اب کوئی ویسٹرن چیز بجاؤ۔۔۔‘‘ ایک لڑکی نے فرمائش کی۔۔۔ ’’شوپاں کی میڈنز فینسی بجاؤں؟ یہ نغمہ میں اور میرا منگیتر ہمیشہ اکھٹے بجاتے تھے۔ پیرس میں وہ وائلن پر میری سنگت کرتے تھے۔‘‘

’’تمہارے منگیتر بھی میوزیشن ہیں؟‘‘ ایک لڑکی نے پوچھا۔ ’’پروفیشنل نہیں شوقیہ‘‘ پیروجا نے نے جواب دیا اور نغمہ بجانے میں محو ہو گئی۔

اگلے ہفتوں میں الماس نے پیروجا سے بڑی گہری دوستی گانٹھ لی۔ اس دوران میں پیروجا نے ایک کانونٹ کالج میں پیانو سکھانے کی نوکری مل گئی، جو تعطیلات کے بعد کھلنے والا تھا۔ ہفتے میں تین بار ایک امریکن کی دس سالہ لڑکی کو پیانو سکھانے کا ٹیوشن بھی اسے مل گیا تھا۔ امریکن کی بیوی کا حال ہی میں انتقال ہوا تھا اور وہ اپنا غم بھلانے کیلئے اپنے بچوں کے ہمراہ بغرض سیاحت ہندوستان آیا ہوا تھا۔ اور جوہو میں سن اور سینڈ میں مقیم تھا۔ تاردیو سے جوہو تک کا سفر خاصا طویل تھا، مگر امریکن پیروجا کو اچھی تنخواہ دینے والا تھا، اور بڑی شفقت سے پیش آتا تھا۔ پیرو جا اپنی زندگی سے فی الحال بہت خوش تھی، چند روز بعد وہ اپنے وطن سے آنے والا تھا۔ پیرو جا نے اسے بمبئی آتے ہی ملازمت اور ٹیوشن ملنے کی اطلاع نہیں دی تھی، کہ وہ اسے ایک اچانک سر پرائز دینا چاہتی تھی۔

ایک روز الماس کے ساتھ اس کی کوٹھی کے باغ میں ٹہل رہی تھی کہ فوارے پر پہنچ کر الماس نے اس سے دفعتاً سوال کیا۔ ’’تم نے وہ غزل کہاں سے سیکھی تھی؟‘‘

’’اوہ۔۔۔وہ۔۔۔؟ پیرس میں۔۔۔‘‘

’’پیرس! ہاؤ انٹرسٹنگ! کس نے سکھائی؟‘‘

’’میرے منگیتر نے۔۔۔ ‘‘

’’اوہ پیروجا، تم نے مجھ کو بتایا بھی نہیں اب تک۔۔۔‘‘

’’تمہاری ہی کمیونٹی کے ہیں وہ۔۔۔‘‘

’’اوہ۔۔۔ واقعی۔۔۔‘‘ الماس فوارے کی مینڈ پر بیٹھ گئی۔

’’میرے باپ دادا دستو تھے۔ مگر میرے چچا بہت روشن خیال ہیں انہوں نے اجازت دے دی ہے۔‘‘

’’کیا نام ہے صاحب زادے کا؟‘‘

یہ ناموں کا بھی عجیب قصہ تھا۔ خورشید عالم اس کی نرگسی آنکھوں پر عاشق ہوئے تھے۔ جب پیرس کے ہندوستانی سفارت خانے کی ایک تقریب میں پہلی ملاقات ہوئی اور کسی نے اس کا تعارف پیروجا کہہ کر ان سے کرایا تو انہوں نے شرارت سے کہا تھا، ’’لیکن آپ کا نام نرگس ہونا چاہیے تھا۔‘‘

’’اوہ۔۔۔ نرگیش؟ نرگیش تو میری آنٹی کا نام ہے۔‘‘

’’لاحول ولا قوۃ۔۔۔‘‘ خورشید عالم نے ایسی بے تکلفی سے کہا تھا جیسے اسے ہمیشہ سے جانتے ہوں۔۔۔ ’’نرگیش، کھورشیٹ، پیرو جا۔ آپ لوگوں نے حسین ایرانی ناموں کی ریڑھ ماری ہے۔ میں آپ کو فیروزہ پکاروں تو کوئی اعتراض ہے؟‘‘

’’ہرگز نہیں۔‘‘ پیروجا نے ہنس کر جواب دیا تھا۔۔۔ اور پھر ایک بار خورشید عالم نے دریا کنارے ٹہلتے ہوئے اس سے کہا تھا۔ ’’یہ تمہاری بہادر آنکھیں، ہفت زبان آنکھیں۔۔۔ جگنو ایسی، شہاب ثاقب ایسی، ہیرے جواہرات ایسی، روشن دھوپ اور جھلملاتی بارش ایسی آنکھیں۔۔۔ نرگس کے پھول جو تمہارے آنکھوں میں تبدیل ہو گئے۔‘‘

’’میں نے پوچھا کیا نام ہے ان صاحب کا؟‘‘ الماس کی تیکھی آواز پر وہ چونکی۔

’’ کور شیٹ عالم‘‘ پیروجا نے جواب دیا۔ چند لمحوں کے سکوت کے بعد اس نے گھبرا کر نظریں اٹھائیں، سیاہ ساری میں ملبوس، کمر پر ہاتھ رکھے سیاہ اونٹ کی طرح اس کے سامنے کھڑی الماس اس سے کہہ رہی تھی۔ ’’کیسا عجیب اتفاق ہے پیرو جا ڈئیر۔میرے منگیتر کا نام بھی خورشید عالم ہے۔ وہ بھی وائلن بجاتے ہیں اور وہ بھی پیرس سے آئے ہوئے ہیں، اور ان دنوں اپنے ملنے والوں سے ملنے کے لیے وطن گئے ہوئے ہیں۔‘‘

اگست کے آسمان پر زور سے بجلی چمکی مگر کسی نے نہیں دیکھا کہ وہ کڑکتی ہوئی بجلی آن کر پیروجا پر گر گئی۔ وہ کچھ دیر تک ساکت بیٹھی رہی، پھر اس نے اس عالی شان عمارت پر نظر ڈالی اور اپنے پرانے اور چھوٹے سے فلیٹ کا تصور کیا، بجلی پھر چمکی اور مالابار ہل کے اس منظر کو روشن کر گئی، چشم زدن میں ساری بات پیروجا کی سمجھ میں آ گئی، اور یہ بھی کہ اپنے خطوں میں خورشید عالم نے الماس کا ذکر کیوں نہیں کیا تھا، اور کچھ عرصے سے شادی کے تذکرہ کو وہ کس وجہ سے اپنے خطوں میں ٹال رہے تھے۔ وہ آہستہ سے اٹھی اور اس نے آہستہ سے کہا، ’’اچھا بھئی الماس، منگنی مبارک ہو خدا حافظ۔‘‘

’’جا رہی ہو پیروجا؟ ٹھہرو میری کار تم کو پہنچا آئے گی۔۔۔ ڈرائیور۔۔۔‘‘ الماس نے سکون کے ساتھ آواز دی۔

’’نہیں الماس۔۔۔ شکریہ۔‘‘ وہ تقریباً بھاگتی ہوئی پھاٹک سے نکلی۔۔۔ سڑک سے دوسری طرف اسی وقت بس آن کر رکی، وہ تیزی سے سڑک پار کر کے بس میں سوار ہو گئی۔

فوارے کے پاس کھڑی الماس پھاٹک کی طرف دیکھتی رہی۔ بارش کی زبردست بوچھاڑ نے پام کے درختوں کو جھکا دیا۔

اس واقعے کے تیسرے روز خورشید عالم کا خط الماس کے والد کے نام آیا جس میں انہوں نے اپنے ابا میاں کی شدید علالت کی وجہ سے رخصت کی میعاد بڑھانے کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے الماس کے والد کو یہ نہیں لکھا کہ، اس خبر سے کہ ان کا اکلوتا لڑکا کسی مسلمان رئیس زادی کے بجائے کسی پارسن سے شادی کر رہا ہے، ان کے کٹر مذہبی ابا جان صدمے کے باعث جاں بلب ہو چکے ہیں۔ خورشید عالم کے خط سے ظاہر تھا کہ وہ بیحد پریشان ہیں جواب میں الماس نے خود انھیں لکھا۔

"آپ جتنے دن چاہے وہاں رہیں، ڈیڈی آپ کو غیر نہیں سمجھتے، ہم سب آپ کی پریشانی میں شریک ہیں۔ آپ ابا میاں کو علاج کیلئے یہاں کیوں نہیں لے آتے؟ برسبیل تذکرہ کل میں سوئمنگ کیلئے سن اینڈ سینڈ گئی تھی، وہاں ایک بڑی دلچسپ پارسن مس پیروجا سے ملاقات ہوئی جو پیانو بجاتی ہے اور پیرس سے آئی ہے، اور شاید کسی امریکن کی گرل فرینڈ ہے اور شاید اسی کے ساتھ سن اینڈ سینڈ میں ٹھہری ہوئی ہے میں نے آپ کو اس لئے لکھا کہ غالباً آپ بھی کبھی اس سے ملے ہوں پیرس میں، اچھا۔۔۔ اب آپ ابا میاں کو لے آ کر آ جائیے، تاکہ یہاں بریچ کنیڈی ہسپتال میں ان کیلئے کمرہ ریزرو کر لیا جائے۔۔۔ آپ کی مخلص۔۔۔ الماس۔۔۔"

شام پڑے تاردیو کی خستہ حال عمارت کے سامنے ٹیکسی آ کر رکی اور خورشید عالم باہر اترے۔ جیب سے نوٹ بک نکال کر انہوں نے ایڈریس پر نظر ڈالی اورعمارت کے لب سڑک برآمدے کی دھنسی ہوئی سیڑھی پر قدم رکھا۔ سامنے ایک دروازے کی چوکھٹ پر چونے سے جو ’چوک‘ صبح بنایا گیا تھا، وہ اب تک موجود تھا اندر نیم تاریک کمرے کے سرے پر کھڑکی میں ایک بوڑھا پارسی میلی سفید پتلون پہنے سر پر گول ٹوپی اوڑھے کمرے میں زیر لب دعائیں پڑھ رہا تھا۔ ایک طرف میلی سی کرسی پڑی تھی وسطی میز پر رنگین موم جامہ بچھا تھا۔ دیوار پر زرتشت کی بڑی تصویر آویزاں تھی۔ کمرے میں ناریل اور مچھلی کی تیز باس امڈ رہی تھی۔ ایک بوڑھی پارسن سرخ جارجٹ کی ساڑھی پہنے سر پر رومال باندھے منڈیا ہلاتی اندر سے نکلی۔

’’مس پیروجا دستور ہیں؟‘‘

’’پیرو جا؟‘‘ پارسن نے دھندلی آنکھوں سے خورشید عالم کو دیکھتے ہوئے جواب دیا۔ ’’جوہو گئی۔۔۔ سن اینڈ سینڈ۔‘‘

’’کیا؟ کیا مس دستور سن اینڈ سینڈ میں منتقل ہو گئی ہیں؟‘‘ بہری پٹ ضعیفہ نے اقرار میں سر ہلایا۔

’’کس کے۔۔۔ کے ساتھ؟‘‘ خورشید عالم نے ہکلا کر پوچھا۔ بوڑھی عورت اندر گئی اور ایک وزیٹنگ کارڈ لا کر خورشید کی ہتھیلی پر رکھ دیا، کارڈ پر کسی امریکن کا نام درج تھا۔

’’تم مسٹر کھور شیٹ عالم ہو؟ پیروجا نے کہا تھا کہ تم آنے والے ہو اگر اسے ڈھونڈتے ہوئے یہاں آؤں تو میں فوراً اس کو جو ہو فون کردوں اور تم کو یہ نہ بتاؤں وہ کہاں گئی ہے۔‘‘ اس نے بلاؤز کی جیب سے پچیس پیسے نکالے۔ خورشید عالم نے ہکا بکا ہو کر بوڑھی کو دیکھا۔ ’’آپ کو ایسی صورت حال پر کوئی اعتراض نہیں؟‘‘

بہری نے نفی میں سر ہلایا، ’’ہم بہت غریب لوگ ہیں، مگر اب پیروجا کو ایک امریکن۔۔۔‘‘ دفعتاً بوڑھی پارسن کو یاد آیا کہ انہوں نے مہمان کو اندر ہی نہیں بلایا ہے اور انہوں نے پیٹھ جھکا کر کہا۔ ’’آؤ۔۔۔ اندر آ جاؤ۔‘‘

خورشید عالم مبہوت کھڑے رہے پھر تیزی سے پلٹ کر ٹیکسی میں جا بیٹھے۔ ’’بائی بائی‘‘ ضعیفہ نے ہاتھ ہلایا۔

بوڑھا پارسی دعا ختم کر کے باہر لپکا مگر ٹیکسی زن سے آگے جاچکی تھی۔

جس روز الماس اور خورشید عالم کی منگنی کی دعوت تھی، ایسی ٹوٹ کر بارش ہوئی کہ جل تھل ایک ہو گئے۔ ڈنر سے ذرا پہلے بارش تھمی اور خورشید عالم اور الماس کے والد کے دوست ڈاکٹر صدیقی جو حال ہی میں تبدیل ہو کر بمبئ آئے تھے، بالکنی میں جا کھڑے ہوئے، جس سے کچھ فاصلے پر برج خموشاں کا اندھیرا جنگل بھیگی ہوئی ہوا میں سائیں سائیں کر رہا تھا۔ اندر ڈرائنگ روم میں قہقہے گونج رہے تھے اور گرینڈ پیانو پر رکھے ہوئے شمعدان میں موم بتیاں جھلملا رہی تھیں۔ بڑا سخت رومینٹک اور پر کیف وقت تھا۔ اتنے میں گیلری میں ٹیلی فون کی گھنٹی بجی ایک ملازم نے آ کر الماس سے کہا۔ ’’خورشید صاحب کیلئے فون آیا ہے۔‘‘ دلہن بنی ہوئی الماس لپک کر فون پر پہنچی۔ ایک مقامی ہسپتال سے ایک نرس پریشان آواز میں دریافت کر رہی تھی، ’’کیا مسٹر عالم وہاں موجود ہیں؟‘‘

’’آپ بتائیے آپ کو مسٹر عالم سے کیا کام ہے؟‘‘ الماس نے درشتی سے پوچھا۔۔۔

’’مس پیروجا دستور ایک مہینے سے یہاں سخت بیمار پڑی ہیں آج ان کی حالت زیادہ نازک ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہلوایا ہے اگر چند منٹ کیلئے مسٹر عالم یہاں آ سکیں۔۔۔‘‘

’’مسٹر عالم یہاں نہیں ہیں۔ ‘‘

’’آر یو شیور؟‘‘

’’یس آئی ایم شیور۔۔۔‘‘ الماس نے گرج کر جواب دیا۔ ’’کیا آپ سمجھتی ہیں میں جھوٹ بول رہی ہوں؟‘‘ اور کھٹ سے فون بند کر دیا۔

دو گھنٹے بعد پھر فون آیا۔

’’ڈاکٹر صدیقی آپ کی کال۔۔۔‘‘ گیلری میں کسی نے آواز دی۔ ’’آپ کو فوراً ہسپتال بلایا گیا ہے‘‘ ڈاکٹر صدیقی جلدی سے ٹیلی فون پر گئے۔ پھر انہوں نے الماس کو آواز دی، ’’بھئی معاف کرنا مجھے بھاگنا پڑ رہا ہے۔‘‘

الماس دروازے تک آئی۔ ’’کل آئیے گا۔کل ہم لوگ ویک اینڈ کیلئے پونا جا رہے ہیں۔‘‘

’’ضرور۔۔۔ ضرور۔۔۔ گڈ نائٹ۔۔۔‘‘ ڈاکٹر صدیقی نے کہا اور باہر نکل گئے۔

بریچ کنیڈی کے ہسپتال میں صحت یاب ہو کر خورشید عالم کے ابا میاں خوش خوش پرتاب گڈھ واپس جا چکے ہیں، جب تک کمبالا ہل والا فلیٹ تیار نہیں ہوا، جو دلہن کو جہیز میں ملا تھا، شادی کے بعد دولہا میاں سسرال ہی میں رہے، اکثر وہ صبح کو دفتر جانے سے پہلے بالکنی میں جاکر کھڑے ہوتے۔ نیچے پہاڑ کے گھنے باغ میں گزرتی بل کھاتی سڑک برج خموشاں کی طرف جاتی تھی۔ وقتا فوقتا سفید براق کپڑوں میں ملبوس پارسی سفید رومالوں کے ذریعہ ایک دوسرے کے ہاتھ تھامے، قطاریں بنائے، جنازہ اٹھائے دور پہاڑی پر چڑھتے ہوئے نظر آتے۔ کوّے اور گدھ درختوں پر منتظر بیٹھے رہتے۔ برج خموشاں کے احاطے کا پھاٹک دور کیمپس کارنر پر کھلتا تھا۔ پھاٹک پر ایک جھاڑ جھنکاڑ داڑھی والا خوفناک بوڑھا پھونس پارسی دربان ساکت بیٹھا رہتا۔ سفید ساریوں اور سفید وگلوں میں ملبوس سوگوار پارسی ’میت چڑھانے‘ کے بعد سرسبز پہاڑی سے اتر کر اپنی اپنی موٹروں میں بیٹھ جاتے۔پھاٹک کے باہر زندگی کا پر جوش سمندر اسی طرح ٹھاٹیں مارتا رہتا، مقابل کی عمارت پر ایر انڈیا کے ’مہاراجہ‘ کا اشتہار نت نئے پر لطف انداز میں ان زندہ انسانوں کو ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ایک سے ایک دلچسپ شہروں تک سفر کرنے کی دعوت میں مصروف رہتا۔

’اس‘ نے ایک بار خط میں لکھا تھا۔۔۔ “ذہن کی ہزاروں آنکھیں ہیں، دل کی آنکھ صرف ایک ہے۔ لیکن جب محبت ختم ہو جائے تو ساری زندگی ختم ہو جاتی ہے۔سمندر کی موج پل کی پل میں فنا ہو گئی۔ آسمان پر سے گزرنے والے بادل فضا میں غائب ہو چکے۔ جب وہ مری ہو گی تو کوؤں اور گدھوں نے اس کا کس طرح سواگت کیا ہو گا؟ اس طوفانی رات کو ہسپتال کے وارڈ سے نکل کر اس کی روح جب آسمانوں پر پہنچی ہو گی، اور عالم بالا کے گھپ اندھیرے میں یا کسی دوسری روح نے ٹکرا کر پوچھا ہو گا، ’’تم کون ہوں؟‘‘ تو اس نے جواب دیا ہو گا، ’’پتہ نہیں۔۔۔ میں ابھی تو مری ہوں۔‘‘

اب تک اس کی روح کہاں سے کہاں نکل گئی ہو گی، مرے ہوئے انسان زیادہ تیزی سے سفر کرتے ہیں۔

تارابائی اپنی روشن آنکھوں سے صاحب کے گھر کی ہر چیز کو ارمان اور حیرت سے دیکھتی ہے۔ وہ صاحب کو حیرت سے تکا کرتی ہے۔ الماس بیگم اب امید سے ہیں بہت جلد تارا بائی کا کام دگنا بڑھ جائے گا۔

آج صبح آئی اسپیشلسٹ ڈاکٹر صدیقی آئے تھے، جب تارا بائی ان کیلئے چائے لے کر برآمدے میں گئی تو وہ چونک پڑے اور خوشی سے پوچھا، ’’ارے تارادئی۔۔۔ تم یہاں کام کر رہی ہو؟‘‘

’’جی صاحب۔۔۔‘‘ تارا بائی نے شرما کر جواب دیا۔ ’’اب صاف دکھائی دیتا ہے؟‘‘

’’جی داگدر جی۔۔۔اب سب کچھ بہت صاف سجھائی دیتا ہے۔‘‘

’’گڈ۔۔۔‘‘ پھر وہ مسٹر اور مسز خورشید عالم سے مخاطب ہوئے۔ ’’بھئی یہ لڑکی دس سال کی عمر میں اندھی ہو گئی تھی، مگر خوش قسمتی سے اس کا اندھا پن عارضی ثابت ہوا۔ تمہیں یاد ہے الماس تمہاری انگیجمنٹ پارٹی کی رات مجھے ہسپتال بھاگنا پڑا تھا؟ وہاں ایک خاتون مس پیرو جا دستور کا انتقال ہو گیا تھا، انہوں نے مرنے سے چند روز قبل اپنی آنکھیں آئی بینک کو ڈونیٹ کرنے کی وصیت کی تھی، لہذا ان کے مرتے ہی مجھے فوراً بلا لیا گیا کہ ان آنکھوں کے ڈیلے نکال لوں۔ بے حد نرگسی آنکھیں تھیں بے چاری کی۔ جانے کون تھی غریب، ایک بہری بڑھیا پارسن پلنگ کے سرہانے کھڑے بری طرح روئے جا رہی تھی بڑا الم ناک منظر تھا۔۔۔ خیر تو چند روز بعد اس تارادئی کا ماموں اسے میرے پاس لایا تھا اسے کسی ڈاکٹر نے بتایا تھا کہ نیا کورنیا لگانے سے اس کی بینائی واپس آسکتی ہے۔ میں نے وہی مس دستور کی آنکھیں ذخیرے سے نکال کر ان کی کورنیا اس لڑکی کی آنکھوں میں فٹ کر دیا۔ دیکھو کیسی تارا ایسی آنکھیں ہو گئیں اس کی۔ واقعی میڈیکل سائنس آج کل معجزے دکھا رہی ہے۔‘‘

ڈاکٹر صدیقی نے بات ختم کر کے اطمینان سے سگریٹ جلایا۔ مگر الماس بیگم کا چہرہ بھیانک ہو گیا ہے۔ خورشید عالم لڑکھڑاتے ہوئے اٹھ کر جیسے اندھوں کی طرح ہوا میں کچھ ٹٹولتے اپنے کمرے میں چلے گئے۔ تارا بائی ان کی کیفیت دیکھ کر بھاگی بھاگی اندر جاتی ہے۔ تو صاحب پلٹ کر باؤلوں کی طرف اسے تکتے ہیں۔ تارا بائی کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا، وہ بوکھلائی ہوئی باورچی خانے میں جا کر برتن صاف کرنے میں مصروف ہو جاتی ہے۔

دور برج خموشاں پہ اسی طرح گدھ اور کوّے منڈلا رہے ہیں۔

کاگا سب تن کھائیو چن چن کھائیو ماس

دوئی نیناں جن کھائیو پیا ملن کی آس

 

"نظارہ درمیاں ہے " کا خلاصہ

افسانہ ”نظارہ درمیاں ہے“ عشق کی طرفگی اور نیرنگی زمانہ کی ستم ظریفی کے آفاقی موضوع پر مبنی افسانہ ہے۔ یہ افسانہ انسانی جذبوں، المیوں اور غیر مشروط محبت کا عکاس ہے۔ افسانے میں پیر وجادستور، الماس ،بیگم، خورشید عالم، تارا بائی، بیگم عثمانی اور ڈاکٹر صدیقی نمایاں کردار ہیں لیکن سب سے زیادہ متحرک کر دار الماس بیگم کا ہے جو ایک دولت مند گھرانے کی لڑکی ہے اور اپنی مکاریوں اور چالا کیوں سے دوسروں کو پھانسنے کا ہنر جانتی ہے۔ یہ افسانہ قرۃ العین حیدر کے آخری افسانوی مجموعے "روشنی کی رفتار" میں شائع ہوا ہے۔ قرۃ العین حیدر نے اس افسانے کی ہیروئن کے لیے ایک پارسی لڑکی کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کیا ہے۔ کہانی کی بنیاد وہ آنکھیں ہیں جو ہیروئن عطیہ کر دیتی ہے اس کے لیے شاید پارسی کردار ہی موزوں تھا۔ بمبئی ، پارسی لڑکی آنکھوں کا عطیہ اور پیانو یہ سب وہ کڑیاں ہیں جن سے کہانی بنتی ہے۔ پارسی قوم صرف انسانوں سے ہی نہیں بلکہ جانوروں سے بھی محبت کرتی ہے اس لیے وہ اپنی میت دفن کرنے یا جلانے کے بجائے برج خموشاں پر چڑھا دیتے ہیں تاکہ چیل، کوے اور دوسرے جانور کھالیں کیوں کہ پارسیوں کا عقیدہ ہے کہ انسان کو اپنی ذات سے دوسروں کو فائدہ پہنچانا چاہیے۔

افسانے میں محبت و وفا اور ساتھ ہی سماج میں پائے جانے والے غیر انسانی رویے جیسے اہم مسئلے کو بھی پیش کیا گیا ہے۔ افسانے میں ایک طرف پیر و جا دستور نے سچی محبت، ایثار و قربانی کی زندہ مثال پیش کی ہے تو دوسری طرف الماس دولت مند گھرانے کی ایک ایسی لڑکی ہے جو عیاری و مکاری سے خورشید عالم کو ہر حال میں حاصل کر لینا چاہتی ہے۔ وہ ذرا بھی اس سچی محبت پر ترس نہیں کھاتی کہ جس نے اپنی آخری سانس لیتے ہوئے صرف اپنے محبوب کو دیکھنے کی خواہش کی تھی۔ منگنی کی رات ڈاکٹر صدیقی جو الماس کی فیملی کے دوست بھی ہیں اور ماہر امراض چشم بھی ہیں ، وہ بھی اس تقریب میں شریک ہوتے ہیں۔ کچھ دیر بعد خورشید عالم کے لیے مقامی ہسپتال سے ایک فون آتا ہے کہ پیر و جا ایک ماہ سے یہاں بیمار ہیں، ان کی حالت کافی خراب ہے اور وہ مسٹر خورشید عالم سے تھوڑی دیر کے لیے ملنا چاہتی ہیں لیکن الماس بیگم جو دلہن بنی بیٹھی ہے وہ نہایت غصے اور سردمہری سے روک دیتی ہے اور خورشید عالم کی موجودگی سے انکار کر دیتی ہے۔

اس افسانے کی آفاقیت آج بھی برقرار ہے کیوں کہ سماج و معاشرے کے غیر انسانی رویے، نابرابری، مکاری اور دوسری طرف سچی محبت، ایثار و قربانی موجودہ زمانے میں بھی دکھائی دیتے ہیں اور کوئی پیر و جادستور کسی دولت مند گھرانے کی عیاری و مکاری کا شکار ہو کر یا نیرنگی زمانہ کی ستم ظریفی کا شکار ہو کراپنی محبت کو زندہ جاوید کر جاتی ہے۔ المیہ میں کرداروں کو دکھ ، درد اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ماحول و سماج کے غیر انسانی رویے کی وجہ سے اپنی خواہش کو دبا کر مجبوراً وقت و حالات کا سامنا کرتے ہوئے خود کو فنا کر دینا پڑتا ہے جیسا کہ اس افسانے میں پیر و جا دستور بے غرض و غیر مشروط محبت کے با وجو د سماج کی نفرت آمیز اور غیر انسانی رویے کا شکار ہو جاتی ہے لیکن اپنی محبت کو زندہ و جاوید بنادیتی ہے۔ افسانے کا المیہ یہ ہے کہ پیر وجا دستور محبت کرنے کے بعد بھی اپنے محبوب کو نہ پاسکی اور کسمپرسی کے عالم میں موت سے ہمکنار ہو جاتی ہے اور جاتے جاتے اپنی آنکھ آئی بینک کو ڈونیٹ کر جاتی ہے۔ پیر وجادستور کا اس طرح غربت کے عالم میں جانا افسانے کا غم انگیز پہلو ہے جسے افسانہ نگار نے ڈاکٹر صدیقی کی زبانی خورشید عالم اور الماس کے سامنے اس طرح بیان کیا ہے:

"تمہیں یاد ہے الماس تمہاری انگیجمنٹ پارٹی کی رات مجھے ہسپتال بھاگنا پڑا تھا؟ وہاں ایک خاتون مس پیروجا دستور کا انتقال ہو گیا تھا۔ انہوں نے مرنے سے چند روز قبل اپنی آنکھیں آئی بنک کو ڈونیٹ کرنے کی وصیت کی تھی۔ لہذا ان کے مرتے ہی مجھے فور ابلا یا گیا کہ ان کی آنکھوں کے ڈیلے نکال لوں۔ بے حد نرگسی آنکھیں تھیں بے چاری کی۔ جانے کون تھی غریب، ایک بہری بھنڈ پارسن پلنگ کے سرہانے کھڑی بری طرح روئے جارہی تھی۔ بڑا المناک منظر تھا“۔ پیر وجادستور کی کسمپرسی کی حالت میں مر جانے اور آنکھ ڈونیٹ کرنے کی المناک کہانی جب دونوں نے سنتے ہیں تو ان کے رویے کو افسانہ نگار نے یوں پیش کیا ہے اور یہیں پر افسانہ کا اختتام بھی کر دیا ہے جس سے اس کے المیاتی پہلو کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے: "

مگر الماس بیگم کا چہرہ بھیانک ہو گیا ہے۔ خورشید عالم لڑ کھڑاتے ہوئے اٹھ کر جیسے اندھوں کی طرح ہوا میں کچھ ٹولتے ٹٹولتے اپنے کمرے میں چلے گئے ہیں۔ تارا بائی ان کی یہ کیفیت دیکھ کر بھاگی بھاگی اندر جاتی ہے تو صاحب پلٹ کر بائولوں کی طرح اسے تکنے لگتے ہیں۔ تارا بائی کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔ وہ بوکھلائی ہوئی باورچی خانے میں جاکر برتن دھونے میں مصروف ہو جاتی ہے۔ دور برج خموشاں پر گدھ اور کوےمنڈلا رہے اسی طرح منڈلا رہے ہیں۔

ایک ماہر افسانہ نگار کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ اپنے افسانے میں نفسیات کو بہتر انداز میں پیش کرے کیوں کہ ہر سن و سال اور انسانی ذات میں مرد و عورت کی نفسیات مختلف ہوتی ہیں۔ بوڑھے اور بچے کی نفسیات اور اسی طرح غریب و امیر کی نفسیات میں فرق ہوتا ہے اور ساتھ ہی علاقے اور گھر و باہر کا ماحول بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ خود غرض اور مغرور عورت کی فطرت اور نفسیات ہمیں یہ دکھاتی ہے کہ جب وہ کسی مرد سے محبت کرتی ہے تو وہ یہی چاہتی ہے کہ وہ دوسری کسی عورت سے قطعا ملاقات نہ کرے اور اگر اسے یہ معلوم ہو جائے کہ کوئی عورت اس کی محبت میں گرفتار ہے تو وہ ہر ممکن عیاری و مکاری کے ذریعہ اس کو دور کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس افسانے میں الماس بیگم کا کردار ایسی ہی خود غرض عورت کی نفسیات کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ عبارت ملاحظہ ہو:

”سنا ہے کہ صاحب اپنی خوبصورتی کی وجہ سے میم صاحبوں کی سوسائٹی میں بے حد مقبول تھے ، مگر بیاہ کے بعد سے بیگم صاحبہ نے ان پر بہت سی پابندیاں لگادی ہیں، دفتر جاتے ہیں تو دن میں کئی بار فون کرتی ہیں، شام کو کسی کام سے باہر جائیں تو بیگم صاحبہ کو پتہ رہتا ہے، کہ کہاں گئے ہیں اور ان جگہوں پر فون کرتی ہیں، شام کو سیر و تفریح اور ملنے ملانے کیلئے دونوں باہر جاتے ہیں، تب بھی بیگم صاحب بڑی کڑی نگرانی رکھتی ہیں مجال ہے جو کسی دوسری لڑکی پر نظر ڈالیں“۔

درج بالا اقتباس میں عورتوں کی شک کرنے والی نفسیات کو ملاحظہ کیا جاسکتا ہے کہ الماس بیگم کس طرح اپنے شوہر کے ہر کام کو اپنی نظروں کے ماتحت رکھنا چاہتی ہے۔ اس کے علاوہ جب الماس کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہی پارسی لڑکی ہے جس کو خورشید عالم چاہتے ہیں تو وہ تھیں بے چاری کی۔ جانے کون تھی غریب، ایک بہری بھنڈ پارسن پلنگ کے سرہانے کھڑی بری طرح روئے جارہی تھی۔ بڑا المناک منظر تھا“۔ پیر وجادستور کی کسمپرسی کی حالت میں مر جانے اور آنکھ ڈونیٹ کرنے کی المناک کہانی جب دونوں نے سنتے ہیں تو ان کے رویے کو افسانہ نگار نے یوں پیش کیا ہے اور یہیں پر افسانہ کا اختتام بھی کر دیا ہے جس سے اس کے المیاتی پہلو کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے: "مگر الماس بیگم کا چہرہ بھیانک ہو گیا ہے۔ خورشید عالم لڑ کھڑاتے ہوئے اٹھ کر جیسے اندھوں کی طرح ہوا میں کچھ ٹولتے ٹٹولتے اپنے کمرے میں چلے گئے ہیں۔ تارا بائی ان کی یہ کیفیت دیکھ کر بھاگی بھاگی اندر جاتی ہے تو صاحب پلٹ کر بائولوں کی طرح اسے تکنے لگتے ہیں۔ تارا بائی کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔ وہ بوکھلائی ہوئی باورچی خانے میں جاکر برتن دھونے میں مصروف ہو جاتی ہے۔ دور برج خموشاں پر گدھ اور کوےمنڈلا رہے۔

ایک ماہر افسانہ نگار کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ اپنے افسانے میں نفسیات کو بہتر انداز میں پیش کرے کیوں کہ ہر سن و سال اور انسانی ذات میں مرد و عورت کی نفسیات مختلف ہوتی ہیں۔ بوڑھے اور بچے کی نفسیات اور اسی طرح غریب و امیر کی نفسیات میں فرق ہوتا ہے اور ساتھ ہی علاقے اور گھر و باہر کا ماحول بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ خود غرض اور مغرور عورت کی فطرت اور نفسیات ہمیں یہ دکھاتی ہے کہ جب وہ کسی مرد سے محبت کرتی ہے تو وہ یہی چاہتی ہے کہ وہ دوسری کسی عورت سے قطعا ملاقات نہ کرے اور اگر اسے یہ معلوم ہو جائے کہ کوئیکس طرح خورشید عالم کو پیر وجا سے بد ظن کرتی ہے اور ان کے لیے دولت کے دروازے کھول کر شادی پر راضی کر لیتی ہے۔ افسانہ نگار نے یہاں پر اونچے طبقے کی الماس بیگم کی خود غرضی اور عیاری کو بہت فطری انداز میں پیش کیا ہے اور دوسری طرف پیرو جا پر وہ حقیقت ظاہرکرتی ہے کہ خورشید عالم اس کے منگیتر ہیں۔ پیر وجاء الماس کی دولت اور شان و شوکت دیکھ کر خود ہی راستے سے ہٹنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ اس افسانے کی کہانی اور فن کے بارے میں بات کی جائے تو نظر آتا ہے کہ افسانہ تارا بائی کی روشن اور موٹی موٹی خوبصورت آنکھوں کے گرد گھومتا ہے کیوں کہ یہ افسانہ آنکھوں سے شروع ہو کر آنکھوں پر ہی ختم ہو جاتا ہے۔ یہ کہانی آنکھوں کے ذریعہ محبت کی اعلیٰ وارفع مثال پیش کرتی ہے۔ سیدھے سادے بیانیہ انداز میں لکھی جانے والی کہانی کچھ یوں ہے کہ تارہ بائی جو گورکھپور کے ایک گاؤس کی بال و دھو ہے۔ اپنے باپ اور سسر کے مرنے کے بعد اپنے ماموں کے پاس بمبئی جاتی ہے۔ اس کی عدم موجودگی میں الماس کی سوشل ور کر جہاں دیدہ خالہ بیگم عثمانی کسی تارا بائی کو تلاش کر کے الماس بیگم کے ہاں لے آتی ہے۔ تارا بائی نحیف و نزار سی لڑکی ہے جس کے چہرے پر صرف آنکھیں ہی آنکھیں ہیں وہ جب الماس بیگم کے عالی شان گھر میں پہنچتی ہے جو کہ بمبئی میں ایک ماڈرن اور مہنگے علاقے میں ہے تو وہ اس گھر کی ہر چیز کو بڑے پیار اور بڑے غور سے دیکھتی ہے۔ گاؤں کی قحط کی ماری تارا بائی جب کمبالا ہل پر گل نسترن“ کی دسویں منزل پر پہنچتی ہے تو وہ فلیٹ کی ہر چیز کو متعجب نظروں سے دیکھنے کے ساتھ ساتھ الماس بیگم کے خوب رو اور طرح دار شوہر کو بھی تعجب اور حیرت سے دیکھتی رہتی ہے۔ تارا بائی صبح صبح صاحب کے لیے چائے لے کے جاتی ہے ان کے سارے کام کرتی ان کے کمرے میں رکھے ایک وائلن کو بڑی حسرت سے دیکھتی ہے اور اس کو چھونا چاہتی ہے مگر ایک دن خورشید عالم اسے بری ڈانٹ کر وائلن الماری میں رکھ دیتے ہیں۔ تارا بائی اکثر سوچتی ہے کہ بھگوان نے بیگم صاحبہ کو دولت و عزت دی اور ایسا سندر شوہر بھی دیا لیکن شکل دینے میں کنجوسی کر گئے۔ تارا بائی کو دوسرے نوکروں سے معلوم ہوتا ہے کہ میم صاحبہ ہر وقت صاحب کی جاسوسی کرواتی ہیں کہ کہیں وہ کسی لڑکی سے تو نہیں ملے، اس کو دوسرے نوکروں سے یہ بھی پتہ چلا کہ شادی سے پہلے صاحب ایک غریب آدمی تھے اور اسکالر شپ پر فرانس انجینئر نگ پڑھنے گئے جہاں ایک پارسی لڑکی پیر وجادستور سے ان کی ملاقات محبت میں بدل گئی تھی۔ پیرو جا دستور بہت اچھا گاتی ہے اور خورشید عالم بہترین وائلن بجاتے ہیں۔ دونوں کی محبت پروان چڑھتی ہے اور ان کی منگنی ہو جاتی ہے اور دونوں ہندوستان واپسی کے بعد شادی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ خورشید عالم مکمل کر کے ہندوستان واپس آجاتے ہیں لیکن پیرو جا کا ابھی کچھ کام باقی ہوتا ہے وہ بھی پیانو کی اعلیٰ تعلیم کے لیے اسکالر شپ پر فرانس گئی تھی۔

اسی دوران خورشید عالم اپنے والد کے علاج کے سلسلے میں تھوڑے دنوں کے لیے چلے جاتے ہیں اور دوسری طرف پیر و جا اچانک بمبئی پہنچتی ہے۔ ایک امریکن لڑکی کو پیانو سکھانے کی ٹیوشن کر لیتی ہے ایک دن جب پیرو جا ایک میوزیکل کنسرٹ میں پیانو بجارہی ہوتی ہے تو اس کی ملاقات الماس سے ہو جاتی ہے۔ الماس باتوں باتوں میں معلوم کر لیتی ہے کہ یہی وہ پارسی لڑکی ہے جس کو خورشید عالم چاہتے ہیں۔ تب وہ اپنی خالہ سے مل کر ایک سازش کے ذریعے خورشید عالم کو پیر وجا سے بد ظن کر دیتی ہے اور ان کے لیے دولت کے دروازے کھول کر شادی پر راضی کر لیتی ہے۔ دوسری طرف پیرو جا پر وہ حقیقت ظاہر کرتی ہے کہ خورشید عالم اس کے منگیتر ہیں۔ پیر و جا، الماس کی دولت اور شان و شوکت دیکھ کر خود ہی راستے سے ہٹنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ الماس بیگم بڑی مکاری اور چالا کی سے خورشید عالم کو بتاتی ہے کہ پیر وجا کا کسی امریکن کے ساتھ چکر چل رہا ہے۔ منگنی کی رات نہایت ہولناک ثابت ہوتی ہے۔ یہاں اونچے طبقے کی الماس بیگم کی خود غرضی اور عیاری ابھر کر بہت فطری انداز میں سامنے آتی ہے۔ منگنی کی رات ڈاکٹر صدیقی جو الماس کی فیملی کے دوست بھی ہیں اور ماہر امراض چشم بھی ہیں ، وہ بھی اس تقریب میں شریک ہوتے ہیں۔ کچھ دیرخورشید عالم کے کیے  مقامی اسپتال سے فون آتا ہے۔مگر یہ فون  ماہر امراض چشم ڈاکٹر صدیقی کے لیے آتا ہے وہ کر  اجازت لے کر چلے جاتے ہیں کہ کوئی ایمر جنسی ہے۔ کافی عرصے کے بعد ڈاکٹر صدیقی ایک دن الماس بیگم سے ملنے اس کے گھر آتے ہیں تو تارا بائی ان کے لیے چائے بنا کر لاتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب اسے دیکھ کر حیران ہوتے ہیں اور خورشید عالم اور الماس بیگم کو مخاطب کر کے بتاتے ہیں کہ ان کی منگنی کی رات جو مجھے فون آیا تھا تو وہاں ایک غریب پارسی لڑکی نہایت کسمپرسی کی حالت میں مرگئی اور مرنے کے بعد اپنی آنکھیں آئی بینک کو عطیہ کر گئی اور پھر ڈاکٹر صدیقی اس بات کا انکشاف کر کے دھما کا کرتے ہیں کہ تارا بائی کی بینائی بچپن میں ہی چلی گئی تھی، اس کی جو یہ آنکھیں ہیں وہ دراصل اسی غریب پارسن لڑکی پیر و جادستو کی ہیں۔ خورشید عالم ہونقوں کے ساتھ تارا بائی کی طرف دیکھتے ہیں جو پیر و جاد کی آنکھوں سے خورشید عالم کو دیکھ رہی ہوتی ہے اور الماس بیگم بھی دیوانوں کی طرح کبھی تارا بائی کو دیکھتی ہے اور کبھی اپنے شوہر کو، یہ بات اس کی سمجھ سے بالا تر تھی کہ بے غرض، غیر مشروط اور سچی محبت کبھی نہیں مرتی، وہ امر ہوتی ہے اور مندرجہ ذیل شعر پر افسانے کا اختتام ہو جاتا ہے۔

کا گاسب تن کھائیو چن چن کھائیو ماس

دوئی نیناں مت کھائیو پیا ملن کی آس

کر دار نگاری افسانہ نگاری کا ایک اہم عنصر ہے۔ یہ ایک ذہنی تجزیہ کا فن ہے۔ اس کے لیے زندگی کا باریک مطالعہ ہی کافی نہیں بلکہ انسان کے اعمال و حرکات و سکنات و جذبات کا تجزیہ بہتر نفسیاتی علم اور تجربوں کی موجودگی کے بغیر ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرۃ العین حیدر کے یہاں ایک خاص طبقے کے دانشور نظر آتے ہیں۔ ان کے کردار متوسط، بالائی متوسط طبقے کے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ مذکورہ افسانے میں پیر و جادستور ، الماس بیگم، خورشید عالم، تارا بائی، بیگم عثمانی اور ڈاکٹر صدیقی نمایاں کردار ہیں لیکن سب سے زیادہ متحرک کر دار الماس بیگم کا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایسے کرداروں کی کمی نہیں۔ اس وقت کی اونچی سوسائٹی میں پیانو، کلب، ڈانس پارٹیاں عام تھیں اور ایسے دولت مند گھرانوں کی کمی نہ تھی جو الماس بیگم کی طرح مکاریوں اور چالاکیوں سے دوسروں کو پھانسنے کا ہنر نہ جانتی ہوں۔

پیر و جادستور کا کردار بے غرض غریب اور سچی محبت میں زندہ رہنے والا کردار ہے جو جانتی ہے کہ محبت صرف دینے، فنا ہونے اور اپنی آگ کے لیے جلنے کا نام ہے۔ سچی محبت کسی نہ کسی صورت میں زندہ رہتی ہے اسی لیے شادی کے بعد بھی خورشید عالم کے دل کے کسی گوشے میں پیر و جادستور زندہ ہے۔ ایثار و قربانی کا پتلا پیر و جا دستور ایک ایسا کردار ہے جو کہانی پڑھنے کے بعد حواس پر چھا جاتا ہے۔ قرۃ العین حیدر کو اس بات پر قدرت حاصل ہے کہ وہ پلاٹ اور کرداروں کو کسی سہل پسند انہ تضاد یا مشابہت کے علاوہ دوسرے اور نسبت زیادہ مبہم اور غیر بدیہی عناصر کی مدد سے ایک منضبط ہئیت میں پیوست کر سکیں مگر مذکورہ افسانے میں ان کا کمال ہے کہ انھوں نے محبوبہ ( پیر و جادستور) کی خوب صورت آنکھوں کو خاک ہونے سے بچا کر ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔ اس انسانی محبت کو اس بلندی پر پہنچادیا گیا ہے جس میں کھو کر بھی پانے کا احساس موجود ہے۔ قرۃ العین حیدر کا یہ افسانہ اپنی غیر معمولی فضا اور اثر کی بنا پر بالکل منفر د حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ایک وجدانی کیفیت کا افسانہ ہے جس میں کوئی مشکل پسندی نہیں نہ کوئی تہذ یہیں، سائنسی یا اساطیری انداز سے کہانی کو الجھانے کی کوشش کی گئی ہے بلکہ نہایت خوبصورتی اور سادگی سے محبت کی حقیقت کو بیان کیا ہے۔ خاص طور پر عورت کی محبت اور وفا کی انتہا اس افسانے میں اہمیت کی حامل ہے۔ قرۃ العین حیدر کے افسانوں میں فضا سازی یا منظر نگاری کو خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ فضا سازی یا منظر نگاری سے قرۃ میں فضاسازی یا کو مراد صرف فطری مناظر کا بیان نہیں ہے بلکہ کسی گھر کا ماحول، پکنک پارٹی یا کسی سفر کا بیان بھی ملتا ہے۔ وہ اپنے افسانوں میں کرداروں کی کرداروں کے اعمال سے زیادہ مناظر کی پیش کش ہوتی عالم اور الماس بیگم کی منگنی کی پارٹی اور موزیکل کنسرٹ میں آنے والے تمام شرکا اور ماحول کی اتنی دلکش منظر نگاری کی ہے جس میں سوچ کو پیش کرتی ہیں وہیں ان کے افسانو درہ افسانے میں خورشیدقاری محو ہو جاتا ہے۔ قرة العین حیدر کی زبان کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان کے افسانوں میں انگریزی کے الفاظ کی بہتات ہے جس سے ایک طرح کا بے تکابین معلوم ہوتا ہے۔ انگریزی الفاظ بے شک ان کے یہاں زیادہ ملتے ہیں اور کہیں کہیں تو بیزاری بھی ہونے لگتی ہے لیکن یہ بات بھی ملحوظ نظر ہونی چاہیے کہ وہ جس ماحول میں رہتی ہیں اور جس ماحول کے خاکے تراشتی ہیں وہ انگریزی کا ہی ماحول ہوتا ہے۔ جیسا کہ مذکورہ افسانے میں بھی انگریزی الفاظ حتی بعض جگہوں پر انگیریزی جملے بھی موجود ہیں باوجود اس کے ان کی زبان پیاری ہے۔ اور بڑی آسانی سے انہوں نے اپنے موضوع کو اس افسانے میں بیان کیا ہے۔

  

سریندر پرکاش

سریندر پرکاش ۱۹۳۰ میں لائل پور ہندوستان میں پیدا ہوے۔وہ ممبئی کے رہائش پذیر تھے۔  ابتدائی تعلیم اپنے والد سے گھر پر حاصل کی۔ سریندر پر کاش ہی نے با قاعدہ تعلیم کہیں سے بھی حاصل نہیں کی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ ساڑھے تین برس کی عمر میں لائل پور کے ایک سکول میں داخلہ لیا لیکن پہلے روز ہی ماسٹر نے ایک ایسا تھپڑ مار ڈالا کہ پھر کبھی اسکول کا رخ نہ کیا۔ بعد میں میں لکھنے لکھانے کا سلسلہ تاجور سامری کی تحریک سے 1945ء میں شروع کیا اور اپنا قلمی نام سریند وشٹ رکھا۔ سریندر پرکاش اردو افسانہ نگاروں میں ایک منفرد شخصیت کے حامل ہیں۔ انھوں نے ملک کی تقسیم کا درد محسوس کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوں میں ملک کے ہزارے کا کرب اور اس کے بعد پیش آنے والے حالات کی منظر کشی ملتی ہے۔ جب سریندر پرکاش اپنے افسانے تخلیق کر رہے تھے تب ترقی پسند تحریک اپنے عروج تھی۔ اس کے اثرات افسانوں پر بھی پا رہے تھے لیکن انھوں نے اپنے لئے ایک نئی راہ منتخب کی اور نئی طرز تحریر کو اختیار کیا۔ ان کے ہم عصروں میں انتظار حسین، بلراج کومل ، کمار پاشی، بلراج مینزا، انور سجاد، رشید امجد ، شفق اور شوکت حیات کا شمار ہوتا ہے۔ لیکن ان کا فن تخلیق ان کو سب قلم کاروں کی محفل میں منفرد مقام دلاتا ہے۔

سریندر پر کاش اپنے افسانے عقل اور منطقی مطالبات کے تقاضوں کے تحت پیش کرتے ہیں۔ انہیں علامتوں کو استعمال کرنے کا ہنر بہت اچھی طرح آتا ہے۔ ان کے افسانوں میں ڈرامائی انداز کے ساتھ ساتھ جذبات اور نفسیات کی ایک دنیا آباد رہتی ہے۔ ان کے افسانوں میں جیتی جاگتی دنیا کے کردار نظر آتے ہیں۔ انھوں نے خالص ہندوستانی آب و ہوا میں اپنے افسانوں کا محل تعمیر کیا ہے۔ اس کی مثال میں ہم ان کا افسانہ "بجو کا" پیش کر سکتے ہیں جو خالصتا ہندوستانی معاشرے کی آب و ہوا میں سانس لیتا نظر آتا ہے۔ انھوں نے اپنے افسانے " بجو کا کا کردار ہوری، پریم چند کے افسانے سے ادھار لیا ہے۔ کہانی کا تانا بانا اسی کردار کے چاروں طرف بنا گیا ہے۔ اس افسانے میں ہوری ایک ہندوستانی کسان کی ترجمانی کر رہا ہے۔ اس کے کھیتوں میں فصل تیار کھڑی ہے۔ اس کو اس بات کی خوشی ہے کہ اس کی فصل اب صرف اس کی ہے ، اس پر کسی ظالم و جابر حکومت کا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے کیونکہ اب ملک آزاد ہو چکا ہے۔ لیکن جب وہ اپنے کھیت پر فصل کاٹنے جاتا ہے تو دیکھتا ہے کہ کوئی اس کی فصل کاٹ رہا ہے۔ یہ کوئی اور نہیں اس کے ذریعہ بنایا ہوا بھوکا ہے۔ جس کو کھیتوں کی حفاظت کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔

وہ اپنے افسانوں میں ایک پر اسرار ، خوفناک، مبہم اور انجانی دنیا خلق کرتے ہیں جن میں کردار پر چھائیاں نما معلوم ہوتے ہیں۔ ان کرداروں کی شناخت ان کے ظاہری اعمال اور ان کے ناموں سے نہیں ہوتی بلکہ ان کی باطنی صورت حال سے ہوتی ہے۔مجموعہ "برف پر مکالمہ میں گیارہ افسانے ہیں۔ اس مجموعے کے افسانوں میں دیو مالائی عناصر کار فرما نظر آتے ہیں۔ اس سلسلے میں انھیں انتظار حسین سے مدد ملی۔مختصر یہ کہ سریندر پرکاش کا شمار اردو کے ممتاز علامتی افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کے یہاں موضوعات ، اسالیب اور تکنیک میں تنوع پایا جاتا ہے۔ زبان و بیان ے غیر معمولی قدرت داستانی فضا کی تعمیر میں چابکدستی ، بظاہر غیر متعلق اور غیر اہم واقعات کو نزاکت و لطافت سے جوڑنے اور تجریدی علامتی رنگ و آہنگ تیارکرنے کی بے پناہ صلاحیت نے ان کے افسانوں کو انفرادیت کا حامل بنا دیا ہے۔ سریندر پر کاش کا انتقال ۲۰۰۲ کو ممبئی میں ہوا۔

 

 

بجوکا                                        سریندر پرکاش

پریم چند کی کہانی کا ’’ہوری‘‘ اتنا بوڑھا ہو چکا تھا کہ اس کی پلکوں اور بھوؤں تک کے بال سفید ہو گئے تھے کمر میں خم پڑگیا تھا اور ہاتھوں کی نسیں سانولےکھردرے گوشت سے ابھر آئی تھیں۔اس اثنا میں اس کے ہاں دو بیٹے ہوئے تھے، جو اب نہیں رہے۔ ایک گنگا میں نہا رہا تھا کہ ڈوب گیا اور دوسرا پولیس مقابلے میں مارا گیا۔ پولیس کے ساتھاس کا مقابلہ کیوں ہوا اس میں کچھ ایسی بتانے کی بات نہیں۔ جب بھی کوئی آدمی اپنے وجود سے واقف ہوتا ہے اور اپنے اِرد گرد پھیلی ہوئی بے چینی محسوس کرنے لگتا ہے تو اس کا پولیس کے ساتھ مقابلہ ہو جانا قدرتی ہو جاتاہے۔ بس ایسا ہی کچھ اس کے ساتھ ہوا تھا۔۔۔ اور بوڑھے ہوری کے ہاتھ ہل کے ہتھے کو تھامے ہوئے ایک بار ڈھیلے پڑے، ذرا کانپے اور پھر ان کی گرفت اپنے آپ مضبوط ہو گئی۔ اس نے بیلوں کو ہانک لگائی اور ہل کا پھل زمین کا سینہ چیرتا ہوا آگے بڑھ گیا۔ان دونوں بیٹوں کی بیویاں تھیں اور آگے ان کے پانچ بچے، تین گنگا میں ڈوبنے والے کے اور دو پولیس مقابلہ میں مارے جانے والے کے۔ اب ان سب کی پرورش کا بار ہوری پر آن پڑا تھا، اور اس کے بوڑھے جسم میں خون زور سے گردش کرنے لگا تھا۔

اس دن آسمان سورج نکلنے سے پہلے کچھ زیادہ ہی سرخ تھااور ہوری کے آنگن کے کنویں کے گرد پانچوں بچے ننگ دھڑنگ بیٹھے نہا رہے تھے۔ اس کی بڑی بہو کنویں سے پانی نکال نکال کر ان پر باری باری انڈیلتی جا رہی تھی اور وہ اچھلتے ہوئے اپنا پنڈا ملتے پانی اچھال رہے تھے۔ چھوٹی بہو بڑی بڑی روٹیاں بنا کر چنگیری میں ڈال رہی تھی اور ہوری اندر کپڑے بدل کر پگڑی باندھ رہا تھا۔ پگڑی باندھ کر اس نے طاقچے میں رکھے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھا۔۔۔ سارے چہرے پر لکیریں پھیل گئیں۔ اس نے قریب ہی لٹکی ہوئی ہنومان جی کی چھوٹی سی تصویر کے سامنے آنکھیں بند کر کے دونوں ہاتھ جوڑ کر سر جھکایا اور پھر دروازے میں سے گزر کر باہر آنگن میں آ گیا۔

’’سب تیار ہیں؟‘‘ اس نے قدرے اونچی آواز میں پوچھا۔

’’ہاں باپو۔۔۔‘‘ سب بچے ایک ساتھ بول اٹھے۔ بہوؤں نے اپنے سروں پر پہلودرست کیے اور ان کے ہاتھ تیزی سے چلنے لگے۔ ہوری نے دیکھا کہ کوئی بھی تیار نہیں تھا۔ سب جھوٹ بول رہے تھے۔۔۔ اس نے سوچا یہ جھوٹ ہماری زندگی کے لیے کتنا ضروری ہے۔ اگر بھگوان نے ہمیں جھوٹ جیسی نعمت نہ دی ہوتی تو لوگ دھڑا دھڑ مرنے لگ جاتے۔ اس کے پاس جینے کا کوئی بہانہ نہ رہ جاتا۔ ہم پہلے جھوٹ بولتے ہیں اور پھر اسے سچ کرنے کی کوشش میں دیر تک زندہ رہتے ہیں۔ہوری کے پوتے پوتیاں اور بہوئیں۔۔۔ ابھی ابھی بولے ہوئے جھوٹ کو سچ ثابت کرنے میں پوری تندہی سے جٹ گئیں۔ جب تک ہوری نے ایک کونے میں پڑے کٹائی کے اوزار نکالے۔۔۔ اور اب وہ سچ مچ تیار ہو چکے تھے۔

ان کا کھیت لہلہا اٹھا تھا۔ فصل پک گئی تھی اور آج کٹائی کا دن تھا۔ ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے کوئی تہوار ہو۔ سب بڑے چاؤ سے جلد از جلد کھیت پر پہنچنے کی کوشش میں تھے کہ ا نھوں نے دیکھا سورج کی سنہری کرنوں نے سارے گھر کو اپنے جادو میں جکڑ لیا ہے۔

ہوری نے انگوچھا کندھے پر رکھتے ہوئے سوچا۔ کتنا اچھا سمے آ پہنچا ہے، نہ اہلمد کی دھونس نہ بنئے کا کھٹکا، نہ انگریز کی زور زبردستی اور نہ زمیندار کا حصہ۔۔۔ اس کی نظروں کے سامنے ہرے ہرے خوشے جھوم اٹھے۔

’’ چلو بابو‘‘، اس کے بڑے پوتے نے اس کی انگلی پکڑ لی، باقی بچے اس کی ٹانگوں کے ساتھ لپٹ گئے۔ بڑی بہو نے کوٹھری کا دروازہ بند کیا اور چھوٹی بہو نے روٹیوں کی پوٹلی سر پر رکھی۔بیر بجرنگی کا نام لے کر سب باہر کی چاردیواری والے دروازے میں سے نکل کر گلی میں آ گئے اور پھر دائیں طرف مڑ کر اپنے کھیت کی طرف بڑھنے لگے۔

گاؤں کی گلیوں، گلیاروں میں چہل پہل شروع ہو چکی تھی۔ لوگ کھیتوں کو آ جا رہے تھے۔ سب کے دلوں میں مسرّت کے انار چھوٹتے محسوس ہو رہے تھے۔ سب کی آنکھیں پکی فصلیں دیکھ کر چمک رہی تھیں۔ ہوری کو لگا کہ جیسے زندگی کل سے آج ذرا مختلف ہے۔ اس نے پلٹ کر اپنے پیچھے آتے ہوئے بچوں کی طرف دیکھا۔ وہ بالک ویسے ہی لگ رہے تھے جیسے کسان کے بچے ہوتے ہیں۔ سانولے مریل سے۔۔۔ جو جیپ گاڑی کے پہیوں کی آواز اور موسم کی آہٹ سے ڈر جاتے ہیں۔ بہوئیں ویسی ہی تھیں جیسے غریب کسان کی بیوہ عورتیں ہوتی ہیں۔ چہرے گھونگھٹوں میں چھپے ہوئے اور لباس کی ایک ایک سلوٹ میں غریبی جوؤں کی طرح چھپی بیٹھی۔

وہ سر جھکا کر آگے بڑھنے لگا۔ گاؤں کے آخری مکان سے گزر کر آگے کھلے کھیت تھے۔ قریب ہی رہٹ خاموش کھڑا تھا۔ نیم کے درخت کے نیچے ایک کتا بے فکری سے سویا ہوا تھا۔ دور طویلے میں کچھ گائیں، بھینسیں اور بیل چارہ کھا کر پھنکار رہے تھے۔ سامنے دور دور تک لہلہاتے ہوئے سنہری کھیت تھے۔۔۔ ان سب کھیتوں کے بعد ذر ا دور جب یہ سب کھیت ختم ہو جائیں گے اور پھر چھوٹا سا نالہ پار کر کے الگ تھلگ ہوری کا کھیت تھا جس میں جَھونا پک کر انگڑائیاں لے رہا تھا۔

وہ سب پگڈنڈیوں پر چلتے ہوئے دور سے ایسے لگ رہے تھے جیسے رنگ برنگے کپڑے سوکھی گھاس پر رینگ رہے ہوں۔۔۔ وہ سب اپنے کھیت کی طرف جا رہے تھے۔ جس کے آگے تھل تھا۔ دور دور تک پھیلا ہوا، جس میں کہیں ہریالی نظر نہ آتی تھی بس تھوڑی بے جان مٹی تھی، جس میں پاؤں رکھتے ہی دھنس جاتا تھا۔ اور مٹی یوں بھربھری ہو گئی تھی کہ جیسے اس کے دونوں بیٹوں کی ہڈیاں چتا میں جل کر پھول بن گئی تھیں اور پھر ہاتھ لگاتے ہی ریت کی طرح بکھر جاتی تھیں۔ وہ تھل دھیرے دھیرے بڑھ رہا تھا۔ ہوری کو یاد آیا پچھلے پچاس برسوں میں وہ دو ہاتھ آگے بڑھ آیا تھا۔ ہوری چاہتا تھا کہ جب تک بچے جوان ہوں وہ تھل اس کے کھیت تک نہ پہنچے اور تب تک وہ خود کسی تھل کا حصہ بن چکا ہو گا۔

پگڈنڈیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ اور اس پر ہوری اور اس کے خاندان کے لوگوں کے حرکت کرتے ہوئے ننگے پاؤں۔۔۔

سورج آسمان کی مشرقی کھڑکی میں سے جھانک کر دیکھ رہا تھا۔

چلتے چلتے ان کے پاؤں مٹی سے اٹ گئے تھے۔ کئی اِرد گرد کے کھیتوں میں لوگ کٹائی کرنے میں مصروف تھے وہ آتے جاتے کو رام رام کہتے اور پھر کسی انجانے جوش اور ولولے کے ساتھ ٹہنیوں کو درانتی سے کاٹ کر ایک طرف رکھ دیتے۔انھوں نے باری باری نالہ پار کیا۔ نالے میں پانی نام کو بھی نہ تھا۔۔۔ اندر کی ریت ملی مٹی بالکل خشک ہو چکی تھی اور اس پر عجیب و غریب نقش و نگار بنے تھے۔ وہ پانی کے پاؤں کے نشان تھے۔۔۔ اور سامنے لہلہاتا ہوا کھیت نظر آ رہا تھا۔ سب کا دل بلیوں اچھلنے لگا۔۔۔ فصل کٹے گی تو ان کا آنگن پھوس سے بھر جائے گا اور کوٹھری اناج سے، پھر کھٹیا پر بیٹھ کر بھات کھانے کا مزہ آئے گا۔ کیا ڈکاریں آئیں گی پیٹ بھر جانے کے بعد ان سب نے ایک ہی بار سوچا۔اچانک ہوری کے قدم رک گئے۔ وہ سب بھی رک گئے۔ ہوری کھیت کی طرف حیرانی سے دیکھ رہا تھا۔ وہ سب کبھی ہوری کو اور کبھی کھیت کو دیکھ رہے تھے کہ اچانک ہوری کے جسم میں جیسے بجلی کی سی پھرتی پیدا ہو ئی۔ اس نے چند قدم آگے بڑھ کر بڑے جوش سے آواز لگائی۔

"ابے کون ہے۔۔۔ ے۔۔۔ ے۔۔۔؟"

اور پھر سب نے دیکھا ان کے کھیت میں سے کوئی جواب نہ ملا۔ اب وہ قریب آ چکے تھے اور کھیت کے دوسرے کونے پر درانتی چلنے کی سڑاپ سڑاپ چلنے کی آواز بالکل صاف سنائی دے رہی تھی۔ سب قدرے سہم گئے۔ پھر ہوری نے ہمت سے للکارا۔

’’کون ہے حرام کا جنا۔۔۔ بولتا کیوں نہیں؟‘‘ اور اپنے ہاتھ میں پکڑی درانتی سونت لی۔

اچانک کھیت کے پرلے حصے میں سے ایک ڈھانچہ سا ابھرا اور جیسے مسکرا کر انہیں دیکھنے لگا ہو۔۔۔ پھر اس کی آواز سنائی دی۔

’’میں ہوں ہوری کاکا۔۔۔ بجوکا!‘‘ اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑی درانتی فضا میں ہلاتے ہوئے جواب دیا۔

سب کی مارے خوف کے گھُٹی گھُٹی سی چیخ نکل گئی۔ ان کے رنگ زرد پڑ گئے اور ہوری کے ہونٹوں پر گویا سفید پپڑی سی جم گئی۔۔۔ کچھ دیر کے لیے سب سکتے میں آ گئے اور بالکل خاموش کھڑے رہے۔۔۔ وہ کچھ دیر کتنی تھی؟ایک پل ایک صدی یا پھر ایک یُگ۔۔۔ اس کا ان میں سے کسی کو اندازہ نہ ہوا۔ جب تک انھوں نے ہوری کی غصہ سے کانپتی ہوئی آواز نہ سنی انہیں اپنی زندگی کا احساس نہ ہوا۔

’’ تم۔۔۔ بجوکا۔۔۔ تم۔ ارے تم کو تو میں نے کھیت کی نگرانی کے لیے بنایا تھا۔۔۔ بانس کی پھانکوں سے اور تم کو اس انگریز شکاری کے کپڑے پہنائے تھے جس کے شکار میں میرا باپ ہانکا لگاتا تھا اور وہ جاتے ہوئے خوش ہو کر اپنے پھٹے ہوئے خاکی کپڑے میرے باپ کو دے گیا تھا۔ تیرا چہرہ میرے گھر کی بے  کار ہانڈی سے بنا تھا اور اس پر اسی انگریز شکاری کا ٹوپا رکھ دیا تھا ارے تو بے جان پتلا میری فصل کاٹ رہا ہے؟ "

ہوری کہتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا اور بجوکا بدستور ان کی طرف دیکھتا ہوا مسکراتا رہا تھا۔ جیسے اس پر ہوری کی کسی بات کا کوئی اثر نہ ہوا ہو۔ جیسے ہی وہ قریب پہنچے انھوں نے دیکھا۔۔۔ فصل ایک چوتھائی کے قریب کٹ چکی ہے اور بجوکا اس کے قریب درانتی ہاتھ میں لیے مسکرارہاہے۔ وہ سب حیران ہوئے کہ اس کے پاس درانتی کہاں سے آ گئی۔۔۔ وہ کئی مہینوں سے اسے دیکھ رہے تھے۔ بے جان بجو کا دونوں ہاتھوں سے خالی کھڑا رہتا تھا۔۔۔ مگر آج۔۔۔ وہ آدمی لگ رہا تھا۔ گوشت پوست کا ان جیسا آدمی۔۔۔ یہ منظر دیکھ کر ہوری تو جیسے پاگل ہو اٹھا۔ اس نے آگے بڑھ کر اسے ایک زوردار دھکا دیا۔۔۔ مگر بجوکا تو اپنی جگہ سے بالکل نہ ہلا۔ البتہ ہوری اپنے ہی زور کی مار کھا کر دور جا گرا۔۔۔ سب لوگ چیختے ہوئے ہوری کی طرف بڑھے۔ وہ اپنی کمر پر ہاتھ رکھے اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔ سب نے اسے سہارا دیا اور اس نے خوف زدہ ہو کر بجوکا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’تَو۔۔۔ تُو مجھ سے بھی طاقتور ہو چکا ہے بجوکا! مجھ سے۔۔۔؟ جس نے تمہیں اپنے ہاتھوں سے بنایا۔ اپنی فصل کی حفاظت کے واسطے۔‘‘

"بجوکا حسبِ معمول مسکرارہا تھا، پھر بولا، ’’تم خواہ مخواہ خفا ہو رہے ہو ہوری کاکا، میں نے تو صرف اپنے حصے کی فصل کاٹی ہے۔ ایک چوتھائی۔۔۔"

’’لیکن تم کو کیا حق ہے میرے بچوں کا حصہ لینے کا۔ تم کون ہوتے ہو؟‘‘

’’میرا حق ہے ہوری کاکا۔۔۔ کیوں کہ میں ہوں۔۔۔ اور میں نے اس کھیت کی حفاظت کی ہے۔‘‘

’’لیکن میں نے تو تمہیں بے جان سمجھ کر یہاں کھڑا کیا تھا اور بے جان چیز کا کوئی حق نہیں۔ یہ تمہارے ہاتھ میں درانتی کہاں سے آ گئی؟‘‘

بجوکا نے ایک زور دار قہقہہ لگایا، ’’تم بڑے بھولے ہو۔۔۔ ہوری کاکا! خود ہی مجھ سے باتیں کر رہے ہو۔۔۔ اور پھر مجھ کو بے جان سمجھتے ہو۔۔۔؟‘‘

’’لیکن تم کو یہ درانتی اور زندگی کس نے دی۔۔۔؟ میں نے تو نہیں دی تھی!‘‘

’’یہ مجھے آپ سے آپ مل گئی۔۔۔ جس دن تم نے مجھے بنانے کے لیے بانس کی پھانکیں چیری تھیں۔ انگریز شکاری کے پھٹے پرانے کپڑے لائے تھے، گھر کی بے کار ہانڈی پر میری آنکھیں، ناک اور کان بنایا تھا۔ اسی دن ان سب چیزوں میں زندگی کلبلا رہی تھی اور یہ سب مل کر میں بنا اور میں فصل پکنے تک یہاں کھڑا رہا اور ایک درانتی میرے سارے وجود میں سے آہستہ آہستہ نکلتی رہی۔۔۔ اور جب فصل پک گئی وہ درانتی میرے ہاتھ میں تھی۔ لیکن میں نے تمہاری امانت میں خیانت نہیں کی۔۔۔ میں آج کے دن کا انتظار کرتا رہا اور آج تم اپنی فصل کاٹنے آئے ہو۔۔۔ میں نے اپنا حصہ کاٹ لیا، اس میں بگڑنے کی کیا بات۔۔۔‘‘ بجوکا نے آہستہ آہستہ سب کہا۔۔۔ تاکہ ان سب کو اس کی بات اچھی طرح سمجھ میں آ جائے۔’’نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔ یہ سب سازش ہے۔ میں تمہیں زندہ نہیں مانتا۔ یہ سب چھلاوہ ہے۔ میں پنچایت سے اس کا فیصلہ کراؤں گا۔ تم درانتی پھینک دو۔ میں تمہیں ایک تنکا بھی لے جانے نہیں دوں گا۔۔۔‘‘ ہوری چیخا اور بجوکا نے مسکراتے ہوئے درانتی پھینک دی۔

گاؤں کی چوپال پر پنچایت لگی۔۔۔ پنچ اور سر پنچ سب موجود تھے۔ ہوری۔۔۔ اپنے پوتے پوتیوں کے ساتھ بیچ میں بیٹھا تھا۔ اس کا چہرہ مارے غم کے مرجھایا ہوا تھا۔ اس کی دونوں بہوئیں دوسری عورتوں کے ساتھ کھڑی تھیں اور بجوکا کا انتظار تھا۔ آج پنچایت نے اپنا فیصلہ سنانا تھا۔ مقدمہ کے دونوں فریق اپنا اپنا بیان دے چکے تھے۔

آخر دور سے بجوکا خراماں خراماں آتا دکھائی دیا۔۔۔ سب کی نظریں اس طرف اُٹھ گئیں وہ ویسے ہی مسکراتا ہوا آرہا تھا۔ جیسے ہی وہ چوپال میں داخل ہوا۔ سب غیر ارادی طور پر اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کے سر تعظیماً جھک گئے۔ ہوری یہ تماشا دیکھ کر تڑپ اٹھا، اسے لگا کہ جیسے بجوکا نے سارے گاؤں کے لوگوں کا ضمیر خرید لیا ہے۔ پنچایت کا انصاف خرید لیا ہے۔ وہ تیز پانی میں بے بس آدمی کی طرح ہاتھ پاؤں مارتا ہوا محسوس کرنے لگا۔

آخر سرپنچ نے اپنا فیصلہ سنایا، ہوری کا سارا وجود کانپنے لگا، اس نے پنچایت کے فیصلے کو قبول کرتے ہوئے فصل کا چوتھائی حصہ بجوکا کو دینا منظور کرلیا۔ اور پھر کھڑا ہوکر اپنے پوتوں سے کہنے لگا۔

’’سنو۔۔۔ یہ شاید ہماری زندگی کی آخری فصل ہے۔ ابھی تھل کھیت سے کچھ دوری پر ہے۔ میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں، اپنی فصل کی حفاظت کے لیے پھر کبھی بجوکا نہ بنانا۔ اگلے برس جب ہل چلیں گے۔۔۔ بیج بویا جائے گا اور بارش کا امرت کھیت میں سے کونپلوں کو جنم دے گا۔ تو مجھے ایک بانس پر باندھ کر ایک کھیت میں کھڑا کر دینا۔۔۔ بجوکا کی جگہ پر۔ میں تب تک تمہاری فصلوں کی حفاظت کروں گا، جب تک تھل آگے بڑھ کر کھیت کی مٹی کو نگل نہیں لے گا اور تمہارے کھیتوں کی مٹی بھُربھُری نہیں ہو جائے گی۔ مجھے وہاں سے ہٹانا نہیں۔۔۔ وہیں رہنے دینا۔۔۔ تاکہ جب لوگ دیکھیں تو انہیں یاد آئے کہ بجوکا نہیں بنانا۔۔۔ کہ بجوکا بے جان نہیں ہوتا۔۔۔ آپ سے آپ اسے زندگی مل جاتی ہے اور اس کا وجود اسے درانتی تھما دیتا ہے اور اس کا فصل کی ایک چوتھائی پر حق ہو جاتا ہے‘‘، ہوری نے کہا اور پھر آہستہ آہستہ اپنے کھیت کی طرف بڑھا۔ اس کے پوتے اور پوتیاں اس کے پیچھے تھے اور پھر اس کی بہوئیں اور ان کے پیچھے گاؤں کے دوسرے لوگ سر جھکائے ہوئے چل رہے تھے۔

کھیت کے قریب پہنچ کر ہوری گرا اور ختم ہو گیا، اس کے پوتے پوتیوں نے اسے ایک بانس سے باندھنا شروع کیا اور باقی کے لوگ یہ تماشا دیکھتے رہے۔ بجوکا نے اپنے سر پر رکھا شکاری ٹوپا   اتار کر سینے کے ساتھ لگا لیا اور اپنا سر جھکا دیا۔

 

افسانہ " بجو کا " کا تنقیدی جائزہ

اردو میں علامتی افسانہ نگاری کی تاریخ بہت ہی مختصر ہے۔ اردو میں علامتی افسانے لکھنے کا رواج جدیدیت کے زیر اثر آیا۔ آزادی سے قبل بھی کئی افسانہ نگاروں نے علامتی افسانہ لکھنے کی کامیاب کوشش کی ہے جن میں احمد علی اور کرشن چندر کا نام آتا ہے۔ لیکن با قاعدہ طور پر اردو افسانے میں علامت نگاری کا رجحان چھٹی دہائی کے نصف آخر میں آیا۔ جدیدیت کے رجحان میں علامت نگاری کا رواج عام ہو اتو تقیا ۔ ہر بڑے فنکار نے اس تکنیک کا سہارا لیتے ہوئے کامیاب افسانے لکھے اور علامت نگاری کے استعمال میں اپنی انفرادیت کے ساتھ پیش قدمی کی جن میں اقبال، بلراج منیر ، رشید امجد، غیاث احمد گدی، شوکت حیات، انتظار حسین اور سریندر پر کاش کے نام قابل ذکر ہیں۔ سریندر پر کاش جدیدیت کے نظریے سے وابستہ افسانہ نگار اور سچے جذبوں کے قلم کار ہیں۔ اپنے گردو پیش کو بغور دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں۔ ان کی دل کش اور سحر انگیز تحریر نے اردو افسانے کے نظام کو علامتوں کی ایسی پوشاک عطا کی جس کی بدولت اردو افسانے میں استعاروں کے جال سے علامتی معنوں کی ایک وسیع اور روشن فضا قائم ہو گئی ہے۔ ان کے افسانے اپنے اندر ایک نئی سوچ اور فکر رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے افسانوں میں جدیدیت کے ساتھ ساتھ علامت کے ساتھ بھی رشتہ جوڑا ہے۔ ان کا تخلیقی سفر بہت طویل ہے

" بجو کا " سریندر پرکاش کا ایک یاد گار علامتی افسانہ ہے۔ جسے ہمارے نقادوں نے اساطیری افسانہ بھی کہا ہے۔ اس افسانے پر بہت سے نقادوں نے اپنی آرا کا کھل کر اظہار کیا ہے۔ مگر ابھی بھی اس پر بہت کچھ لکھا جانا باقی ہے۔ یہ افسانہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس میں مصنف نے کئی تجربے کیے ہیں اور اپنی بات کو پیش کرنے کے لیے نہ صرف منفرد اسلوب بلکہ ایک نئے پس منظر کا بھی استعمال کیا ہے اور ساتھ ہی اساطیر کا بھی۔ سریندر پرکاش نے اپنی کہانی کو دلچسپ بنانے کے لیے ایک ایسے کردار کا انتخاب کیا ہے جو پریم چند کے ناول میں برسوں پہلے مر چکا ہے۔ ہوری اس افسانے کا مرکزی کردار ہے۔ جس کے ارد گرد کہانی گھومتی ہے۔ ہوری دو بیٹوں کا باپ ہے مگر بد قسمتی سے دونوں عین جوانی میں اسے اکیلا چھوڑ گئے ایک گنگا میں ڈوب گیا جب کہ دوسرا پولس انکاؤنٹر میں مارا گیا۔ بوڑھا ہوری اپنی دونوں بہوئیں اور پوتے پوتیوں کے ساتھ آزاد ہندوستان کا خواب دل میں سجائے ایک نئے سویرے کی امید لیے زندگی گزار رہا ہے۔ سریندر پرکاش نےافسانے کا آغاز اسی کردار سے کیا ہے۔ پریم چند سے مستعار لیے ہوئے کردار ہوری کو مصنف نے ایک ہندوستانی کسان، محنت کش طبقے اورمزدوروں کی اجتماعی تصویر میں پیش کیا ہے۔

" پریم چند کی کہانیوں کا ہوری اتنا بوڑھا ہو چکا تھا کہ اس کی پلکوں اور بھو جس کے بال سفید ہو گئےتھے۔ کمر میں خم پڑ گیا تھا اور ہاتھوں کی نہیں سانولے کھردرے گوشت سے ابھر آئی تھیں۔"

بجو کا سریندر پرکاش کا ہی نہیں بلکہ اردو افسانے کی تاریخ کا بہت ہی مشہور و معروف افسانہ ہے۔ اس افسانے میں مصنف نے منشی پریم چند کے کردار ہوری ” کا سہارا لیتے ہوئے پوری کہانی کا تانا بانا بنا ہے۔ سریندر پرکاش نے ہوری کے ذریعے دیہی زندگی کی وہ منظر کشی کی ہے جو پریم چند کا خاصا تھا۔ بجو کا کی کہانی کا آغاز منشی پریم چند کی کہانی کے ہیر و ہوری ” سے ہوتا ہے “ہوری ”ایک محنت کش کسان ہے جس کے دو بیٹے تھے۔ ایک گنگا میں ڈوب کر مر گیا اور دوسرا پولیس مڈ بھیڑ میں مارا گیا۔ اب ہوری کے اوپر ان دونوں بیٹوں کی بیویوں اور ان کی پانچ اولادوں کی پرورش کا بوجھ ہے۔ پریم چند کا ہوری اب بوڑھا ہو چکا ہے۔ اس کی فصل پک کر تیار ہو چکی ہے۔ آج اسے اپنے خاندان کے ساتھ مل کر فصل کی کٹائی کے لیے جانا ہے۔ ہوری ساری تیاریوں کے ساتھ گھر کے تمام افراد کے ساتھ خوشی خوشی کھیت کی طرف جارہا ہے۔ گاؤں کی گلی پار کرتے ہی کھیتوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ گاؤں کی گلی گلیاروں میں چہل پہل شروع ہو چکی تھی۔ کھیتوں میں بھی کافی چہل پہل تھی۔ ہر طرف کسان اور مزدور فصلوں کی کٹائی میں مصروف تھے ۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی تہوار ہو۔ سب بڑے چاؤ سے جلد سے جلد کھیت پر پہنچنے کی کوشش میں تھے۔ جیسے جیسے کھیت نزدیک آرہے تھے سب کے دلوں میں مسرت کے انار پھوٹتے محسوس ہو رہے تھے۔ سب کی آنکھیں فصلیں دیکھ کر چمک رہی تھیں۔ ہوری کھیت کی طرف جاتے وقت یہ سوچ رہا تھا کہ کتنا اچھا وقت آگیا ہے۔ ساری فصل پر صرف اس کا حق ہے نہ کسی لالہ کا ڈر نہ زمیندار کی حصہ داری اور نہ ہی انگریزوں کی زور زبردستی ہے۔ اسی درمیان سبھی لوگ کھیت تک پہنچ گئے سب دل ہی دل میں بہت خوش تھے کہ اب گھر کی کوٹھری میں اناج بھرے گا اور سب مزے سے کھٹیا پر بیٹھ کر بھات کھائیں گے کیا ڈکاریں آئیں گی۔ اسی اثنا میں سبھی لوگ کھیت کے قریب پہنچ گئے۔ مگر کھیت میں داخل ہوتے ہی اچانک ہوری کے قدم رک گئے۔ سب کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں کیوں کہ پکی ہوئی فصل میں بے چینی کے آثار تھے اور فصل کے کٹنے کی آواز مسلسل آرہی تھی۔ وہ سب کبھی کھیت کو کبھی ہوری کو دیکھ رہے تھے کہ اچانک ہوری کے جسم میں جیسے بجلی کی سی پھرتی پید اہوئی۔ ہوری نے کون ہے کی آواز دی، پھر للکارا اور جاننا چاہا کہ کون اس کی فصل کاٹ رہا ہے۔ تو کھیت سے بجو کا نمو دار ہوتا ہے۔ اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑی درانتی ہوا میں لہراتے ہوئے جواب دیا "میں ہوں ہوری کا کا، جو کا۔ یہ منظر دیکھ کر سب پر سکتہ طاری ہو گیا کہ وہ کوئی اور نہیں بلکہ ہوری کے ہاتھوں کا بنایا ہوا بجو کا تھا۔ جس نے ہوری کی تقریبا ایک چوتھائی فصل کاٹ لی اور اس پر اپنا حق جتاتا ہے۔ ہوری کا خون جوش مارتا ہے وہ اسے دھکے دیتا ہے تو خود بخود اپنی طاقت کی مار سے زمین پر گر جاتا ہے۔ دوبارہ اٹھتا ہے اور اس کو یاد کراتا ہے کہ اس نے اپنے گھر کی بے کار ہانڈی، انگریزی شکاری کی دی ہوئی شرٹ اور اس پر انگریز کے دیے ہوئے ٹوپے رکھ کر اس نے اس کو بانس کی پھانکوں سے بنایا ہے کھیت کی حفاظت کے لیے اور وہ بے جان ہے۔ وہ اس کی فصل کیوں کاٹ رہا ہے اور اس کے ہاتھ میں موجود درانتی کہاں سے آئی۔ بجو کا کہنے لگا کہ اس نے تو صرف اپنے حصے کی فصل کاٹی ہے اور تیار فصل میں ایک چوتھائی اس کا حصہ ہے۔ کیوں کہ اس نے پوری فصل کی حفاظت کی ہے۔ بجو کا نے کہا کہ وہ کھیت پکنے تک یہاں کھڑا رہا۔ جاڑہ، گرمی، برسات اپنی صحت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے تمہاری فصل کی حفاظت کی ہے۔ اس میں کوئی خیانت نہیں کی۔ آج اگر اس نے اپنا حصہ لیا ہے تو اس میں حیرانی کی کیا بات ہے۔ ہوری ان باتوں کو سازش قرار دیتا ہے اور دھو کہ مانتا ہے۔ معاملے کو پنچایت میں لے جاتا ہے۔ پنچایت دونوں فریق کا بیان سن کر فیصلہ سناتی ہے اور فیصلہ بجو کا کے حق میں ہوتا ہے۔ ہوری کو بہت گہرا صدمہ ہوتا ہے اسے لگتا ہے کہ بجو کانے گاؤں والوں کا ضمیر اور پنچایت کا انصاف خرید لیا ہے۔

ہوری فیصلے کا احترام کرتا ہے اور بجو کا کو اپنی فصل کا ایک چوتھائی دے دیتا ہے جسے وہ اپنے خون پسینے سے سینچا تھا۔ اس واقعے کے بعد ہوری اپنے پوتے پوتیوں کو نصیحت کرتا ہے کہ آئندہ کبھی بھی اپنی فصل کی حفاظت کے لیے بجو کانہ بنانابلکہ اگلے برس ہل چلیں گے ، بیچ بویا جائے گا اور بارش کا پانی امرت بن کر کونپلوں کو جنم دے گا تو مجھے ایک بانس پر باندھ کر کھیت میں کھڑا کر دینا۔ یہ کہہ کر ہوری جیسے ہی اپنے کھیت کے قریب پہونچتا ہے وہیں گر کر ختم ہو جاتا ہے۔ اور اس کے پوتے پوتیاں اس کی وصیت کے مطابق اسے ایک بانس سے باندھنا شروع کرتے ہیں۔ سارے لوگ تماشہ مین بنے رہتے ہیں۔ بجو کانے اپنے سر پر رکھا شکاری ٹو پا اتار کر اپنا سر تعظیم میں جھکا دیتا ہے۔ ہوری ایک استعارہ ہے ہندوستانی کسان کا جس کی پوری زندگی استحصالی خنجر سے لہولہان ہے جس کا درد قاری اپنے شعور میں محسوس

کرتا ہے۔

سریندر پر کاش جدید افسانے کی ایک اہم شخصیت ہیں۔ اپنی کے اس طویل عرصے میں ان کا فن کئی طرح کے تجربوں سے گذرا۔ انہوں نے اپنے افسانوں میں تحریری رنگ کے بجائے علامتی رجحان کو اپنایا۔اساطیر اور ادب کا تعلق بہت پرانا اور بہت گہرا ہے، جسے اگر سادہ لفظوں میں بیان کرنے کی کوشش کی جائے تو یوں کہا جاسکتا ہے کہ اساطیر نے ادب کو ہمیشہ ایک سے ایک نیا موضوع دیا۔ اردو افسانے کا تعلق بھی ابتدا ہی سے اساطیر کے ساتھ جڑا رہا ہے۔ افسانہ اور افسانہ نگار دونوں کو اس کی ضرورت تھی۔ اردو کے ابتدائی افسانہ نگاروں نے شعوری اور لاشعوری طور پر اساطیر کو اپنی تخلیق کا حصہ بنایا۔ چاہے وہ راشد الخیری ہوں یا سجاد حیدر یلدرم ۔ بیشتر نقادوں نے سجاد حیدر یلدرم کے افسانے “خارستان و گلستان ” کو اردو کا پہلااساطیری افسانہ قرار دیا ہے۔ اردو افسانے میں اساطیری پہلو کی آمد واضح انداز میں 1960 کی دہائی کے آخر میں ہوئی جب ترقی پسند تحریک دم توڑ رہی تھی اور جدیدیت اپنے شباب پر تھی۔ لہذا سریندر پرکاش نے بھی جدیدیت کا دامن تھاما اور اس کی ڈگر پر چل پڑے۔ اسی لیے ان کی تحریروں میں جدیدیت کا رنگ غالب نظر آتا ہے۔ انہوں نے اپنے ہم عصر افسانہ نگاروں کی نسبت اساطیر سے زیادہ تخلیقی فائدہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے اساطیر اور تخلیق کے رشتے میں مضمر ترسیل اور اظہار کے امکانات کو پوری طرح پہچان کر افسانے تخلیق کیے ہیں۔ زیر نظر مجموعہ باز گوئی کے دیباچے میں شمس الرحمن فاروقی سریندر پر کاش کے اساطیر کے حوالے سے لکھتے ہیں:

" جب سریندر پرکاش انسانی المیہ اور انسانی طربیہ کو یکجا کر دیتے ہیں تو اس وقت وہ پھر اپنی نقاب اوڑھ کر قاری کو تخیر ، تجسس اور خوف میں مبتلا کر دیتے ہیں اور اس طر حاج ایسا افسانہ خلق کرتےہیں جسے مکمل معنوں میں اسطوراتی (Mythopoeic) کہا جا سکتا ہے۔ اسطوراتی افسانے کے میدان میں سریندر پر کاش اپنی برتری ہر ایک پر ثابت کر دیتے ہیں۔"         (باز گوئی، پیش لفظ، شمس الرحمن فاروقی ، صفحہ ،12،)

زیر نظر افسانہ بجو کا سریندر پرکاش کا معرکتہ الآرا افسانہ ہے جس میں اسطوری امیجز کی اچھی عکاسی دیکھنے کو ملتی ہے۔ اس میں منشی پریم چند کے کردار ہوری کو مرکزی کردار کے طور پر لایا گیا ہے۔ بو کا میں بجو کا کو جو کہ محض کپڑے سے بنتا ہے اور پرندوں کو فصل سے دور رکھنے کے کام آتا ہے، ایک فوق الفطری عصر دے دیا گیا ہے۔ یہاں بجو کا پر داستانوں کی طرح کسی پری، دیو یا جادو گرنی نے نہ کوئی منتر پھونکا نہ کوئی جادوئی پانی کا چھڑکاؤ کیا بلکہ یہاں بجو کا میں خود بخود جان پڑ گئی ہے۔ بجو کاکا گوشت پوست کا آدمی بن جاناہوری کے ساتھ ساتھ قاری کو بھی حیرت و پریشانی میں ڈال دیتا ہے۔

مصنف نے اپنی ساری قوت کو بجو کا کو استحکام بخشنے میں صرف کر دی ہے۔ بجو کا گھاس پھونس اور بانس کی کماچوں سے بنا ایک بے جان پتلہ ہوتے ہوئے بھی جاندار ہے۔ ایک چوتھائی کھیت کاٹنے کا عمل، اس کے وجود سے درانی نکلنے، پھر اس کے ہاتھ در انتی لگنے کا واقعہ ، یہان سریندر پرکاش کا اساطیری رنگ اپنا ہلکا سا نقش چھوڑ رہا ہے۔ مصنف نے بیجو کا کو زندہ کر کے سب کو حیرت و استعجاب میں ڈال دیا ہے۔ مہدی جعفر بجو کا کے حوالے سے رقم طراز ہیں:

 " آٹھویں دہائی کے اواخر میں ان کا افسانہ بجو کا بھی مافوق البشر کیفیت سے مملو ہے۔ طرہ یہ کہ بجو کا میں جان بھی پڑ گئی ہے۔ سریندر پرکاش کا اسطور ان کے سارے افسانے پر چھایا رہتا ہے۔"                              (معیار، دہلی، شمارہ نمبر 3، ص188)

سریندر پرکاش نے بجو کا کو زندہ انسان کا روپ دے کر جو داستانوی فضا قائم کی ہے اس کی مثال ناپید ہے۔ بجو کا داستانوں جیسا اساطیری کردار معلوم پڑتا ہے۔ بجو کا کو اکثر ناقدین نے نفسیاتی الجھن کا افسانہ قرار دیا ہے جہاں ہوری اس وہم میں مبتلا رہتا ہے کہ اب ہمارا ملک کسی کا غلام نہیں ہے۔ اب ہم آزاد ہو چکے ہیں۔ اب ساری فصل پر صرف اس کا حق ہے نہ کسی لالہ کا ڈر ، نہ زمیندار کی حصہ داری اور نہ ہی انگریزوں کی زور زبر دستی۔ لیکن وہ بھول جاتا ہے کہ موجودہ نظام میں ایک اساطیری کردار بجو کا بھی ہے جسے اس نے خود اپنے ہاتھوں سے فصل کی حفاظت کے لیے بنایا ہے۔ جو بے جان تھا مگر اب اس میں جان آگئی ہے اور اس نے خود ایک چوتھائی فصل پر اپنا حق سمجھ کر کاٹ لیا ہے۔ اردو میں اساطیر شناسی روایت کی وہ سطح تو نہیں جو مغرب کی زبانوں میں ہے لیکن پھر بھی سریندر پرکاش کا نام اور کام غنیمت ہے۔ انہوں نے اپنے افسانوں کے ذریعے اساطیری روایات کے مفہوم کے گرد پھیلے ہوئے ابہام کو دور کرنے کی پوری کوشش کی ہے لیکن مرزا غالب کے لفظوں میں ابھی بیان کے لیے مزید وسعت کی ضرورت ہے کہ اس علم کی نمود کے لیے یہ بہت ضروری ہے۔ اساطیری ترکیب سے الفاظ ادھار لیے جائیں تو کہنا پڑتا ہے یہ اساطیر کی تفہیم کے سریندر پر کاش کا عہد ہے۔ یہاں ایک شہ سوار کی نہیں مولانا افراد میں اردو یونیورسٹی کئی شہ سواروں کی ضرورت ہے۔ سریندر پر کاش کا یہ افسانہ آزادی کے بعد کے ہندوستانی کسان کی ترجمانی کرتا ہے۔ آزادی کے بعد کاہوری ( پریم چند سے مستعار لیا ہوا) اپنے کھیت میں پکی ہوئی فصل دیکھ کر خوش ہوتا ہے کہ اب اس فصل پر صرف اس کا حق ہے۔ نہ الہند کی دھونس ، نہ بنے کا ٹکا نہ انگریز وں کی زور زبر دستی اور نہ زمیندار کا حصہ ، وہ یہ سوچ کر مسرور ہے کہ ہندوستان سے سامراجی نظام کا اور آمریت کے خاتمے سے لگان کا بھی خاتمہ ہو گیا ہے لیکن اسے خبر نہیں تھی کہ جو بجو کا اس نے اپنے ہاتھوں سے تعمیر کیا تھا وہ بھی اپنا حصہ لینے کے لیے اس کے سامنے تن کر کھڑا ہو جائے گا اور نہ ملنے کی صورت میں قانونی کاروائی بھی کر گزرے گا۔

پریم چند نے کسانوں کی حالت زار پر غالبا سب سے زیادہ لکھا۔ ان کا ناول گودان ” کسانوں کی زبوں حالی اور آشفتہ طبعی کی ایسی سچی تصویر ہے کہ بعض ناقدین اسے کسانوں کا المیہ کہنے پر مجبور ہو گئے۔ حالاں کہ گودان میں کسانوں کی یہ تصویر آزادی سے پہلے کی تھی۔ سریندر پرکاش نے جب آزادی کے بعد بھی کسانوں کی وہی حالت اور وہی استحصال دیکھا تو وہ آزادی کے بعد کے ہوری کو ، اس کی بے بسی کو اور کسانوں کے اس ایسے کو بیان کرنے سے خود کو روک نہ سکے۔ اس ضمن میں اگر گودان ” اور “بجو کا” کا بین السطوری مطالعہ کیا جائے تو گودان اور بجو کا کے تقریباً چالیس برسوں کے زمانی فاصلے کے دوران ہونے والی سیاسی و سماجی شکست وریخت کے ساتھ ساتھ کسانوں کی ابتر حالت کا بھی بخوبی اندازہ ہو جائے گا۔ ہندوستان جب آزاد ہوا تو آزادی کا تصور ہر شخص کا مختلف تھا۔ ہندوستانی عوام یہ تصور کیے ہوئے تھی کہ حکومت اس کے ذریعے بنائی گئی ہے۔ اس لیے حکومت اس کی اپنی ہے۔ اس کے لیے ہے اور اس کی محافظ ہے۔ حکومت کے کارندے اس کے حاکم نہیں بلکہ اس کے محافظ ہیں۔ غالباً یہ بھی ایک المیہ ہے کہ یہی محافظ مختلف حیلے سے عوام کا خون بہانے سے بھی نہیں چوکتے۔ جیسا کہ ہوری کے بیٹے کے ساتھ ہوا۔ اور پولیس کے ذریعے مارا گیا۔ کیوں مارا گیا؟ اس کی توضیح افسانے میں یوں کی گئی ہے کہ وہ اپنے وجود سے واقف ہو گیا تھا اور ارد گرد پھیلی ہوئی بے چینی محسوس کرنے لگا تھا۔یہ امر بالکل واضح ہے کہ "بجو کا" کی وجہ تخلیق المیاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ سریندر پرکاش نے اس المیے کو محسوس کیا تھا کہ ملک آزاد ہونے کے باوجود ۔ آمریت کے خاتمے اور جمہوری نظام کے نفاذ باوجو د ہندوستان کا یہ طبقہ پہلے سے زیادہ سراسیمہ تھا۔ غالباً یہی وجہ تھی کہ سریندر پرکاش نے اس المیے کو اس خوبی سے اپنے بیانیے کا حصہ بنایا کہ کسانوں کی بد حالی آشکار ہونے کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے جمہوری نظام معیشت پر بھی کاری ضرب واضح طور پر محسوس کی جاسکتی ہے۔

ہوری کسی فرد واحد کا نام نہیں بلکہ ہندوستانی کسانوں کی علامت ہے جو مختلف النوع استحصالی درانتی سے زخم خوردہ ہے۔ پریم چند کا ہوری زمینداروں اور ساہوکاروں کے معاشی ظلم و جبر سے نبردآزما تھا جب کہ سریندر پرکاش کے ہوری پر جمہوری قانون کے ذریعے معاشی استحصال ہوتا ہے۔ استحصال دونوں کرداروں پر ہوا لیکن المیہ یہ ہے کہ نئے زمانے کا ہوری اپنے استحصال کے لیے بیجو کا' اپنے ہاتھوں سے بناتا ہے۔ نئے قانون نے کسانوں کے ہاتھوں بنائے بجو کا کو معاشی طور پر ان کا نگراں مقرر کر دیا ہے۔ جس کی حیثیت نگراں کی نہیں بلکہ حکومتی کارندے کی ہے جسے ایک چوتھائی کی حصے کی فکر زیادہ ہے۔

یہ المیہ ہیں تو اور کیاہے کہ جس بجو کا کو ایک کسان بانس کی پھلیوں ے تیار کر تا ہے، اسے کپڑے پہناتا ہے نیز اسے اپنے اثاثے کے تحفظ پر مامور کرتا ہے۔ وہی بجو کا اس اثاثے کے تحفظ کے صلے میں اپنا حق لینے کے لیے زندہ، چلتا پھرتا اور بولتا ہوا بجو کا بن جاتا ہے۔ در اصل بجو کا آزادی کے بعد بنائی گئی عوامی حکومت اور اس کے منشور کا نگراں ہے جس کے ہاتھ میں انجانے میں ہم نے خود ہی درانتی پکڑا دی ہے۔ سریندر پرکاش کا ہوری اس المیے سے واقف ہو جاتا ہے کہ اس عہد کے صنعت کار ، جمہوری نظام اور نیا معاشی قانون کسانوں کے لیے ایک ایسی استحصالی چکی ہے جس میں وہ ساری عمر پستا رہے گا۔ جبھی تو وہ اپنے پوتوں کو وصیت کرتا ہے۔

میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں۔ اپنی فصل کی حفاظت کے لیے پھر کبھی بجو کا نہ بنانا۔ اگلے برس جب ہل چلیں گے ۔ بیج بویا جائے گا اور بارش کا امرت کھیت میں سے کونپلوں کو جنم دے گا۔ تو مجھے ایک بانس پر باندھ کر کھیت میں کھڑا کر دینا۔ میں تب تک تمہاری فصلوں کی حفاظت کروں گا جب تک تھل آکر کھیت کی مٹی کو نگل نہیں لے گا۔ مجھے وہاں سے ہٹانا نہیں۔ وہیں رہنے دینا، تا کہ جب لوگ دیکھیں تو انہیں یاد آئے کہ بجو کا نہیں بنانا۔ کہ بجو کابے جان نہیں ہو تا۔ آپ سے آپ اسے زندگی مل جاتی ہے۔ اور اس کا وجو د ا سے درانتی تھما دیتا ہے۔ اور اس کا فصل کی ایک چوتھائی پر حق ہو جاتا ہے۔ ” (باز گوئی، ص 115) کہانی اس المیے پر ختم نہیں ہوتی بلکہ کہانی کا اصل المیہ تو یہ ہے کہ ہوری اپنے کھیت کے قریب پہنچ کر دم توڑ دیتا ہے اوراس کے پوتے پوتیوں نے اس کے مردہ جسم کو ایک بانس سے باندھنا شروع کر دیا ہے۔ جب کہ بجو کا یہ دلدوز منظر دیکھ کر سر سے ٹوپی اتار کرسینے سے لگا لیتا ہے اور سر جھکا لیتا ہے۔ یعنی بجو کا کے روپ میں پوشیدہ جمہوری نظام کا ڈھانچہ اس وقت خاموش تماشائی بنا رہتا ہے۔ ہوری کی موت سے بھی اسے کوئی فرق نہیں پڑتا، اسے صرف نئے جمہوری قوانین کے تحت فصل کے ایک چوتھائی حصے سے غرض ہے۔ سریندر پرکاش کی یہ کہانی رمز یہ پیرائے میں پیش کی گئی ہے۔ لیکن یہ رمزیت فن پارے کی تفہیم میں حائل نہیں ہوتی بلکہ افسانے کو فکری اور فنی بلندی عطا کرتی ہے۔ کہانی کا اشاراتی انداز بیان ہی اس افسانے کی فنی روح ہے جس کو بہم پہونچانے میں سریندر پرکاش نے بڑی ہنر مندی کا ثبوت دیا ہے، جس کے لیے وہ الفاظ کے استعمال میں بڑی ہوش مندی سے کام لیتے ہیں، یہی فہم ان کے رمز یہ انداز کو بڑی تقویت فراہم کرتا ہے۔ ان کار مزید انداز اس قدر دقیق بھی نہیں کہ قاری اصل معنی کا ادراک نہ کر سکے اور افسانہ محض چیستاں بن کر رہ جائے ، نہ ہی نیر مسعود اور انتظار حسین کی کہانیوں کی طرح ذہنی مشقت کا مطالبہ کرتا ہے بلکہ ان کی رمزیت اور ایمائیت کا رشتہ ادب کے عام قاری سے ہے۔

ایک اقتباس اور ملاحظہ ہو جس میں بجو کا کو دھکا دینے سے ہوری کا خود ہی گر جانے سے جمہوریت یالیڈران کی طاقت اور عوام کی آواز کو کمزور بتانے کی کوشش کی گئی ہے گویا یہ یہ طاقتور حکما اور کمزور رعایا کا استعارہ ہے:

" اس نے آگے بڑھ کر اسے ایک زور دار دھکا دیا۔۔۔ مگر بجو کا تو اپنی جگہ سے بالکل نہ ہلا۔ البتہ ہوری اپنے ہی زور کی مار کھا کر دور جا گرا۔"

ناقدین نے پلاٹ کے لیے پہلا جز اس کی سرخی کو قرار دیا ہے۔ سرخی کے اعتبار سے سریندر پرکاش کا افسانہ 'بجو کا ایک مقناطیسی کشش رکھتا ہے۔ اس میں نیا پن بھی ہے اور محض ایک لفظ میں جمہوری نظام کا استعارہ پیش کر دیا گیا ہے جس پر قاری کی نظر پڑتے ہی اس کا ذہن ایک تجسس میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ پلاٹ کا مسئلہ محض سرخی متعین کرنے پر ہی ختم نہیں ہو جاتا ہے بلکہ اس کے بعد کے مراحل میں فنکار کی اصل آزمائش ہوتی ہے لیکن سریندر پر کاش کا فنکارانہ ذہن اس آزمائش میں بھی پوری طرح کامیاب نظر آتا ہے کیونکہ وہ واقعات کی ترتیب میں پلاٹ کے تقاضوں کو پوری ہنر مندی سے ادا کرتے ہیں۔ اس کہانی کے پلاٹ کی تیاری میں انہوں نے افسانے کی پہلی سطر کے ذریعہ ایک ضخیم ناول کے پلاٹ کا پورا منظر نامہ پیش کر دیا ہے اور یہ کہتے ہوئے "پریم چند کی کہانی کاہوری اتنا بوڑھا ہو چکا تھا’ انوکھی تکنیک سے آگے بڑھ جاتے ہیں اس لیے ہم ان کی کہانی کے پلاٹ کو ناقص بھی قرار نہیں دے سکتے۔ اسی طرح پلاٹ کی تیاری میں وہ تجسس اور تسلسل کی ڈور کہانی ختم ہونے تک اپنے ہاتھ سے چھوٹنے نہیں دیتے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ افسانہ اپنے آغاز سے انجام تک قاری کو انہماک اور توجہ سے غافل نہیں ہونے دیتا۔ البتہ افسانہ کے آخری پیراگراف کے آغاز میں تصور کو معمولی ٹھوکر کا احساس ہوتا ہے جب تخلیق کار ہوری کو اچانک موت کے منہ میں دھکیل دیتا ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ فنکار نے اچانک دامن جھاڑ کر کہانی ختم کر دی۔ اس نقص کے باوجود مجموعی پلاٹ جیسے جیسے ارتقا پاتا ہے قاری کی دلچسپی لمحہ بہ لمحہ بڑھتی جاتی اور انجام پر پہنچنے کا اضطراب انگڑائی لینے لگتا ہے اور قاری ایک تاثر کی فضا میں کہانی کے مراحل طے کرتا ہے۔ ان کے پلاٹ کی یہ خوبیاں ان کے افسانے کی فنی خوبیوں کا پتہ دیتی ہیں۔ پلاٹ کے ارتقا کے لئے کردار نگاری کا اہم رول ہوتا ہے۔ اس افسانہ کا مرکزی کردار ہوری" کہانی کا مضبوط ستون ہے۔ اور دوسرا اہم کردار "بیجو کا "کا ہے جو جمہوریت کا کارندہ ہے اور اینٹی ہیر و یا شر کا عکاس ہے۔ دونوں اپنی نوعیت کے متحرک کردار ہیں اور سماج کے متضاد رویوں کے ترجمان ہیں۔ لیکن دونوں کرداروں میں بو کا کا کردار انسانی توجہ کو اپنی جانب زیادہ مرکوز رکھتا ہے۔ سریندر پرکاش نے جس طرح اس کے حلیہ کی منظر کشی کی ہے وہ بڑی معنی خیز ہے کہ اس کی مسکراہٹ اور چال میں میٹھے فریب کا گمان ہوتا ہے جبکہ ہوری وہی پر انا ہوری ہے لیکن اس کی زندگی میں پہلے جیسی بے چارگی نہیں ہے بلکہ اب اس میں جرات ، بصیرت اور نئے ہندوستان کی ذہنی کشمکش جیسی کیفیات پیدا ہو گئی ہیں۔

سریندر پرکاش نے اپنے اس افسانے میں ماحول اور فضا کا حقیقی عکس پیش کرنے کے لیے جزئیات نگاری سے بھی کام لیا ہے ان کی جزئیات نگاری میں فطرت کے عناصر کا خاص مقام ہے جن کے ذریعہ وہ مطلوبہ منظر کی متحرک تصویر نہایت ہی کم لفظوں میں پیش کر دیتے ہیں۔

سریندر پرکاش کا یہ افسانہ بین المتونیت تکنیک میں لکھا گیا ہے۔ Intertextuality کے لیے اردو میں بین المتونیت کی اصطلاح رائج ہے ۔ بین المتونیت کی اصطلاح فرانسیسی نظریہ ساز جولیا کرسٹیوا نے 1966 میں اپنی کتاب Semiotic میں وضع کی۔ Intertextuality کا لفظ اس نے لاطینی لفظ Intertexto سے وضع کیا۔ جس کا مطلب ہے " بنتے ہوئے کو باہم ملانا"( To (intermingle while weaving اور اس سے جو اصطلاحی مفہوم اس نے اخذ کیا وہ اس نے سوسئیر کے لسانی فلسفے اور میخائل باختن کے مکالمیت (Dialogism ) سے اخذ کیا۔ ابوالکلام قاسمی کہتے ہیں کہ بین المتونیت اتنی وسیع اور جامع اصطلاح ہے کہ اس کے دائرہ کار میں محض کتابی اور تحریری متن نہیں آتا بلکہ لسانی اظہار کے ساتھ ساتھ سماجی یا ثقافتی مظاہر ، بہت سے حقائق جن کا اظہار نہیں کیا جاسکتا اور روایتی تصورات ، کہاوتوں، مختلف قصوں اور کہانیوں کے اسالیب اس طریق کار کے ذریعے متن کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔ کسی بھی ناول، افسانے، فلم یا ڈرامے میں متنوع عناصر اور متون کام آتے ہیں اور یہ متون پہلے سے موجود ہوتے ہیں۔ پہلے سے موجود متون اپنے متن کی تشکیل کے لیے اپنے سے ماقبل متون کے محتاج ہوتے ہیں۔ یوں متن در متن ایک سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ اس لیے کوئی بھی متن خود کفیل نہیں ہوتا بلکہ متن اپنی تشکیل کے لیے دوسرے متون کا محتاج ہے۔ اس لیے ایک متن کی تعبیر کے دوران دوسرے کئی متون کی گرہیں کھلتی چلی جاتی ہیں اور کئی نئے متون سامنے آجاتے ہیں۔ دراصل بین المتونیت کو مابعد جدید تکنیک میں اس لیے بھی اہمیت حاصل ہے کہ اس کو کئی دوسری تکنیک کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔ جن میں مہا فکشن ، تاریخی میٹا فلکشن ، فنی مخلوطه ، خوف و تحیر اور پیروڈی وغیرہ شامل ہیں۔ بجو کا افسانہ ایک بین المتونی افسانہ ہے۔ اس افسانے میں پہلے کی لکھی ہوئی کہانی یا متن کو بنیاد بنا کر نئی کہانی تشکیل دی گئی ہے۔ مصنف نے منشی پریم چند کے ناول گنود ان ” کی کہانی کو بنیاد بنا کر نیا متن تیار کیا ہے جو اپنے آپ میں منفر د ہے۔ پورے افسانے میں سریندر پرکاش کی کوشش یہی ہوتی ہے کی نیا متن پرانے متن کو اساس تو بنائے لیکن اس میں کچھ ایسی بنیادی تبدیلی کر دیں جو اسے ایک منفرد، نیارنگ اور مزاج بخش دے۔ ساتھ ہی یہ پرانی کہانی یا متن سے الگ نظر آئے۔افسانہ "بجو کا" کی زبان سادہ لیکن ادبیت سے پر ہے اور چھوٹے چھوٹے جملوں میں معنی خیز مفہوم پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ چونکہ افسانہ دیہی فضا میں لکھا گیا ہے اس لئے اس میں متعدد جگہ دیسی زبان کا استعمال بھی کیا گیا ہے جو الفاظ آج بھی دیہی علاقوں کے روز مرہ زبان میں مستعمل ہیں۔ ان کا یہ فنکارانہ کمال ہے کہ وہ سادگی میں بھی پر کاری پیدا کر دیتے ہیں۔ مثلاً: وہ سب پگڈنڈیوں پر چلتے ہوئے دور سے ایسے لگ رہے تھے جیسے رنگ برنگے کپڑے سوکھی گھاس پر رینگ رہے ہوں۔" " سورج آسمان کی مشرقی کھڑکی میں سے جھانک کر دیکھ رہا تھا۔ "

خلاصہ کلام یہ کہ بیجو کا مختصر بیانیہ کی تکنیک میں لکھا گیا ایک کامیاب افسانہ ہے۔ جس میں ڈرامائیت کا معمولی عنصر بھی پایا جاتا۔ جو کہانی کو دلچسپی کی صفت سے مزین کر دیتا ہے۔ چونکہ ہوری مرکزی کردار ہے اس لئے اس کے نقوش کو ابھارنے میں فنی شعور سے کام لیا گیا ہے۔ جس کے لئے ہوری، اس کی زندگی کا اہم سرمایہ کھیت اور بجو کا کے استحصالی رویہ کی پیش کش میں فنی چابکدستی کا اظہار کیا گیا ہے۔ پلاٹ کو ترتیب دینے کی نیت سے واقعات کی تفصیل نہایت ہی اختصار اور ایجاز سے پیش کی گئی ہے کہ یہ کہانی ایک نشست کی قرات کے مساوی ہے۔ جس کی وجہ سے کہانی کا واحد اثر زائل ہونے سے محفوظ رہتا ہے اور کہانی فنی نقطہ نظر سے کامیابی کے دائرے میں داخل ہو جاتی ہے۔ افسانہ میں منظر کشی، ہندوستانی ماحول ، مزیت اور بجو کا کا تصور سریندر پر کاش کو فن کی بلندی عطا کر تا ہے۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سریندر پرکاش نے اردو ادب کو بجو کا جیسا ایک زندہ کر دار عطا کیا ہے۔

  

سلام بن رزاق  کی افسانہ نگاری

سلام بن رزاق جدید اردو افسانے کا ایک ایسا معتبر اور قد آور نام ہے جنہوں نے اپنی تخلیقی بصیرت اور فنی مہارت سے اردو افسانے کو ایک نئی معنویت اور وقار عطا کیا۔ ان کی افسانہ نگاری محض قصہ گوئی کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسے فنکار کا اظہار ہے جو اپنے عہد کے دکھوں، سماجی ناہمواریوں اور انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں کو پوری دیانتداری سے محسوس کرتا ہے۔ سلام بن رزاق کی ولادت 15 نومبر 1941ء کو مہاراشٹر کے ضلع رائے گڑھ کے ایک قصبے پنویل میں ہوئی۔ ان کا تعلق ایک متوسط گھرانے سے تھا، جس کی وجہ سے انہوں نے زندگی کے نشیب و فراز کو بہت قریب سے دیکھا۔ ان کی ابتدائی تعلیم پنویل ہی میں مکمل ہوئی، جس کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے لیے بمبئی (ممبئی) کا رخ کیا اور وہاں سے ڈپلومہ ان ایڈوکیشن کی سند حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے تدریس کے شعبے کو اپنا ذریعہ معاش بنایا اور میونسپل کارپوریشن کے اسکول میں مدرس کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، یہاں تک کہ وہ 1999ء میں سبکدوش ہوئے۔ سلام بن رزاق کی ادبی زندگی کا آغاز ساٹھ کی دہائی میں ہوا، یہ وہ دور تھا جب اردو افسانہ جدیدیت کے زیر اثر علامت اور تجرید کے نئے تجربات سے گزر رہا تھا۔ سلام بن رزاق نے بھی اس لہر کو محسوس کیا لیکن انہوں نے اپنی ایک الگ راہ نکالی جہاں بیانیہ کی قوت اور علامت کا حسن ایک دوسرے میں ضم نظر آتے ہیں۔ ان کی افسانہ نگاری کی سب سے بڑی خصوصیت ان کی عصری حسیت ہے، وہ اپنے عہد کے سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل سے آنکھیں نہیں چراتے بلکہ ان ناسوروں کو بے نقاب کرتے ہیں جو انسانیت کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ بمبئی جیسے عظیم الشان شہر کی زندگی ان کے افسانوں کا خاص پس منظر رہی ہے، جہاں انہوں نے فٹ پاتھوں پر رینگتی زندگی، کچی بستیوں کے مسائل اور متوسط طبقے کی معاشی جدوجہد کو بڑی فنکاری سے سمیٹا ہے۔ ان کے افسانوں میں جہاں ایک طرف طبقاتی کشمکش نظر آتی ہے، وہی دوسری طرف وہ انسانی جذبوں اور رشتوں کے ٹوٹنے کا کرب بھی بیان کرتے ہیں۔ سلام بن رزاق کے افسانوی مجموعوں میں 'ننگی دوپہر کا سپنا'، 'معبر' اور 'شکستہ بتوں کے درمیان' خاصے مشہور ہوئے، جن میں ان کے فن کا ارتقاء واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں 2004ء میں ہندوستان کے باوقار ادبی انعام 'ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ' سے نوازا گیا، جو ان کے افسانوی مجموعے 'شکستہ بتوں کے درمیان' پر دیا گیا۔ سلام بن رزاق کی افسانہ نگاری میں علامت نگاری کا استعمال بہت ہی متوازن اور معنی خیز ہے، وہ علامت کو معنویت بڑھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں نہ کہ کہانی کو الجھانے کے لیے، یہی وجہ ہے کہ ان کا افسانہ عام قاری کے لیے بھی اتنا ہی پراثر ہوتا ہے جتنا کہ نقاد کے لیے۔ ان کے مشہور افسانے 'ابراہیم سقا' میں انہوں نے ایک ایسے کردار کی تخلیق کی جو مادہ پرستی کے اس دور میں بھی ایثار اور انسانیت کی اعلیٰ مثال پیش کرتا ہے، یہ افسانہ ان کی فنی پختگی اور سماجی ہمدردی کا بہترین نمونہ ہے۔ ان کی تحریروں میں طنز کی ایک لہر بھی موجود ہے جو معاشرے کی منافقت اور اخلاقی پستی پر چوٹ کرتی ہے، لیکن اس طنز میں تلخی کے بجائے ایک گہرا دکھ چھپا ہوتا ہے۔ سلام بن رزاق نے اپنی کہانیوں کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ ادب صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ سماج کی اصلاح اور انسانی ضمیر کو بیدار کرنے کا ایک مؤثر ہتھیار ہے۔ ان کی زبان و بیان نہایت سادہ، سلیس اور روزمرہ کی گفتگو کے قریب ہے، جس کی وجہ سے ان کے کردار جیتے جاگتے محسوس ہوتے ہیں۔ انہوں نے اردو افسانے کو تجریدیت کے بند گلی سے نکال کر دوبارہ زندگی کی شاہراہ پر لا کھڑا کیا، جہاں حقیقت اور علامت کا سنگم ملتا ہے۔ ان کی وفات 7 مئی 2024ء کو ممبئی میں ہوئی، ان کے انتقال سے اردو افسانہ ایک ایسے فنکار سے محروم ہو گیا جس نے اپنی پوری زندگی ادب کی آبیاری اور انسانی اقدار کی پاسداری میں گزاری۔ سلام بن رزاق کا فن ہمیشہ زندہ رہے گا کیونکہ انہوں نے ان سچائیوں کو موضوع بنایا جو آفاقی ہیں اور جن کا تعلق ہر دور کے انسان سے ہے۔ ان کی افسانہ نگاری اردو ادب کی تاریخ میں ایک روشن باب کی حیثیت رکھتی ہے جو آنے والے قلمکاروں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگی۔ انہوں نے اپنے افسانوں کے ذریعے بمبئی کی تمدنی زندگی اور وہاں کے بدلتے ہوئے سماجی ڈھانچے کی جو تصویر کشی کی ہے، وہ ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ سلام بن رزاق نے ثابت کیا کہ ایک بڑا ادیب وہی ہوتا ہے جو اپنے قلم کے ذریعے وقت کی نبض پر ہاتھ رکھے اور معاشرے کی دکھتی رگوں کو چھو کر ان کا مداوا تلاش کرنے کی کوشش کرے۔ ان کی فکری گہرائی، فنی پختگی اور انسانیت دوستی انہیں اپنے ہم عصروں میں ایک منفرد اور بلند مقام عطا کرتی ہے۔

 

ندی                                        سلام بن رزاق

ندی بہت بڑی تھی۔ کسی زمانے میں اس کا پاٹ کافی چوڑا رہا ہوگا۔ مگر اب تو بے چاری سوکھ ساکھ کر اپنے آپ میں سمٹ کر رہ گئی تھی۔ ایک زمانہ تھا جب اس کے دونوں کناروں پر تاڑ اور ناریل کے آسمان گیر درخت اگے ہوئے تھے جن کے گھنے سائے ندی کے گہرے، شانت اور شفاف پانی میں یوں ایستادہ نظر آتے جیسے کسی پر جلال بادشاہ کے دربار میں مصاحب سرنیوڑ ھائے کھڑے ہوں۔ مگر اب درختوں کی ساری شادابی لُٹ چکی تھی اور ان کے ٹُنڈ مُنڈ خشک صورت تنے کسی قحط زدہ علاقے کے بھوکے کنگال لوگوں کی طرح بے رونق اور نادار لگ رہے تھے۔ندی بہت بڑی تھی اور اس کا پاٹ اب بھی گزری ہوئی عظمت اور وسعت کی غمازی کرتا نظر آتا۔ مگر اب اس طرح خشک ہوگئی تھی کہ جگہ جگہ چھوٹےچھوٹے بے ڈھگے ٹاپو ابھر آئے تھے۔ حدِّ نظر تک چھوٹے بڑے بےشمار ٹاپو۔

اب ان ٹاپوؤں پر کہیں کہیں خودرو گھاس اور جنگلی جھاڑیاں بھی اگ آئی تھیں، جن میں ہزاروں لاکھوں ٹڈے اور جھینگر شب وروز پھدکتے رہتے۔ گھاس کے نیچے کیچڑ میں لاکھوں کیڑے رینگتے کلبلاتے رہتے اور جب دوپہر کی تپا دینے والی دھوپ میں کم کم گدلا بدبودار پانی تپنے لگتا تو ندی کی مچھلیاں اس طرح ادھر ادھر منہ چھپاتی پھرتیں جیسے کسی پردہ دار گھرانے کی بہو بیٹیاں بھرے بازار میں بے نقاب کردی گئی ہوں۔ مچھلیوں کی تعداد دن بہ دن کم ہوتی جا رہی تھی اور ٹڈے، جھینگر،کیڑے مکوڑوں اور مینڈکوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ دوپہر ڈھلے ندی کے نیم گرم، گدلے پانی سے چھوٹے بڑے بے شمار مینڈک نکلتے اور ان ٹاپوؤں پر بیٹھ کر ٹراتے رہتے۔ ہر ٹاپو پر ایک بڑے مینڈک کا قبضہ تھا اور ہر ایک کے چھوٹے چھوٹے سیکڑوں معتقد یا حلقہ بگوش تھے۔ جو ہر دم اس کی ٹراہٹ کی تائید میں خود بھی ٹراتے رہتے۔

’’میں اس ندی کا وارث ہوں۔‘‘ بڑا مینڈک۔

’’ہاں! آپ اس ندی کے وارث ہیں۔‘‘ چھوٹے مینڈک۔

’’اس ندی کے ایک ایک ٹاپو پر میرا اختیار ہے۔‘‘

’’اس ندی کے ایک ایک ٹاپو پر آپ کا اختیار ہے۔‘‘

’’میں۔۔۔ میں۔۔۔ چاہوں تو ۔۔۔‘‘

بڑا مینڈک مناسب دعوے کے لیے آنکھیں مٹکا مٹکا کر ادھر ادھر دیکھتا اور ذرا سے توقف کے بعد کہتا۔

’’میں چاہوں تو ایک جست میں اس چمکتے سورج کو آسمان سے نوچ کر پاتال میں پھینک دوں۔‘‘

’’آپ چاہیں تو۔۔۔‘‘ چھوٹے مینڈک دھوپ سے اپنی آنکھوں کو مچماتے ہوئے حسبِ عادت بڑے مینڈک کی تائید کرتے کہ بڑے مینڈک کی خوشنودی ان کی زندگی کا واحد مقصد تھا۔

پھر پاس ہی کے کسی ٹاپو سے ایک موٹے پیٹ اور پتلی ٹانگوں والا کوئی مینڈک گمبھیر آواز میں اپنے معتقد سے پوچھتا۔

’’کون ہے یہ؟ کون ہے یہ احمق؟‘‘

ایک طراّر مینڈک پُھدک کر کہتا۔

’’وہی ہمارا ذلیل پڑوسی ہے۔ جس کے اجداد حضور کے کفش برداررہ چکے ہیں۔‘‘

’’اوہو، اس نمک حرام سے کہو کہ سورج پر کمند ڈالنے سے پہلے ہمارے قدم چومے کہ خورشید ہمارے نقشِ کف پاکے سوا کچھ نہیں۔‘‘

اس کی لن ترانی کے جواب میں کسی تیسرے ٹاپو سے آواز آتی۔

’’یہ کون گستاخ ہے۔ اسے آگاہ کر دو، اپنی زبان کو قابو میں رکھے کہ ہم زبان دروازوں کی زبانیں یوں کھینچ لیتے ہیں جیسے ملک الموت جسم سے روح۔‘‘

’’خاموش، خاموش، اس ندی کا ایک ایک ٹاپو ہماری زد میں ہے۔‘‘

اس کے بعد ہر ٹاپو سے ایک نئی آواز بلند ہونے لگتی۔ ہر آواز پہلی آواز سے زیادہ تیز ہر دعویٰ پہلے دعوے سے زیادہ بلند ورافع۔ ایسا شور مچتا کہ بے چاری مچھلیاں خوفزدہ ہوکر چہ بچوں کی تہوں میں جا چھپتیں۔ درختوں کی شاخوں پر بیٹھے پرند پھڑ پھڑا کر اڑتے اور جدھر جس کا سینگ سماتا چلا جاتا ٹرّا ٹراّ کر مینڈکوں کے گلے رُندھ جاتے، پھول پھول کر پیٹ پھٹ جاتے اور بیسوں مینڈک اپنے ہی بلند بانگ دعووں کے وزن تلے دب دب کر کچل جاتے۔ اور پھر دھیرے دھیرے تمام ٹاپوؤں پر ایک خوفناک سکوت طاری ہوجاتا نہ کسی مینڈک کی ٹرٹرنہ کسی جھینگرکی جھائیں جھائیں۔ مگر یہ سکوت ایک مختصر سے وقفے کے لیے ہوتا۔ دوسرے دن پھر مینڈک اپنے اپنے ٹاپوؤں پر جمع ہوتے اور پھر وہی لاف گزاف۔ ایک دن اسی طرح بڑے چھوٹے مینڈک اپنے اپنے ٹاپوؤں سے گلا پھاڑ پھاڑ کر چیخ رہے تھے، ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال رہے تھے۔ ایک دوسرے کو ذلیل کر رہے تھے، گالیاں بک رہے تھے۔ مچھلیاں چھوٹے چھوٹے چہ بچوں میں اوپری سطح پر تیرتی اس لڑائی کو خوف اور حیرت سے دیکھ رہی تھیں۔ چھوٹے چھوٹے کیڑے مکوڑے گھاس اور پودوں کی جڑوں میں دبک گئے تھے۔ ندی کے کنارے پھدکتی چڑیاں دم بخود اس بحث کو سن رہی تھیں۔

تبھی ندی کے ایک گوشے میں کچھ ہلچل سی ہوئی۔ پہلے تو سطح آب پر بڑے بڑے بلبلے پیدا ہوئے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے کوئی پانی کی سطح پر نمودار ہوا۔ یہ ایک بےحد بوڑھا مگر مچھ تھا۔ اتنا بوڑھا کہ اس کی کیچلیاں جھڑ چکی تھیں۔ دُم کے دانتے کندے پڑ گئے تھے اور اس کی پشت پر باریک باریک سبزہ اگ آیا تھا۔ اس نے اپنی پوری قوت سے دُم کو اس کیچڑ آلود پانی کی سطح پر دے مارا۔ ایک زور کا چھپا کا ہوا اور پانی کے چھینٹے اڑ کر دور دور تک پہنچے۔ مختلف ٹاپوؤں پر شور مچاتے مینڈک یک بیک چپ ہو گئے۔ سب اپنی پچھلی ٹانگوں پر اچک اچک کر اس آواز کی سمت دیکھنے لگے۔ آخر سبوں نے بوڑھے مگر مچھ کو دیکھ لیا۔ سبھی مینڈک بوڑھے مگرمچھ کا بے حد احترام کرتے تھے بلکہ بعض اس سے خوف زدہ بھی رہتے تھے۔ کیوں کہ ان کے آباواجداد کے مطابق بوڑھا مگر مچھ اس ندی کی بدلتی ہوئی تاریخ کا چشم دید گواہ تھا۔

اس کی عمر کا کوئی اندازہ نہیں تھا کہ اس کی ہستی صدیوں کے دوش پر قرنوں کا فاصلہ طے کر چکی تھی۔ تمام مینڈکوں نے ٹراّ ٹرا کر بوڑھے مگرمچھ کی جے جے کار کی۔ بوڑھے مگرمچھ نے اپنی بھاری دُم پٹک کر اور اپنا لمبا چوڑا جبڑا کھول کر خوشی کا اظہار کیا۔ پھر رینگتا ہوا ایک اونچی چٹان پر چڑھ گیا۔ چٹان پر پہنچ کر اس نے ندی کے اطراف نگاہ ڈالی۔۔۔ اب ندی۔۔۔ ندی کہاں تھی؟ وہ تو بس چند ٹاپوؤں اور چہ بچوں کا مجموعہ ہوکر رہ گئی تھی۔ جگہ جگہ ریت کے خشک تو دے ابھر آئے تھے۔ کہیں کہیں گڈھوں میں پانی کے بجائے صرف کیچڑ تھا۔ ندی کے دونوں کناروں پر خودرو گھاس ضرور اگی ہوئی تھی مگر پانی کی کمی کے کارن گھاس کا رنگ بھی زرد پڑتا جا رہا تھا۔ ناریل، سپاری اور تاڑ کے درخت بانس کے جنگل کی طرح خشک اور ویران لگ رہے تھے۔ ندی کی اس بدلی ہوئی کیفیت کو دیکھ کر مگرمچھ کا دل بھر آیا۔ قریب تھا کہ اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کے جھرنے بہہ نکلتے۔ اس نے کمالِ ضبط سے ان آنسوؤں کو روکا۔ مباداندی کے یہ بے ضمیر باسی انھیں حسبِ روایت مگرمچھ کے آنسو کہہ کر ان کی تضحیک نہ کریں پھر اس نے اپنے دیدے گھما کر ادھر ادھر ٹاپوؤں پر بیٹھے مینڈکوں کو دیکھا۔ سارے مینڈک دم سادھے بیٹھے تھے۔ مگرمچھ نے پھنکار کر گلا صاف کیا، پھر بھرائی آواز میں بولا:

’’اے ندی کے باسیو! کبھی تم نے اس بلند چٹان سے ندی کو دیکھا ہے؟‘‘

تمام مینڈک ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ پھر سبوں نے بیک زبان اعتراف کیا۔

’’نہیں۔۔۔ ہم نے اس بلند چٹان سے کبھی ندی کو نہیں دیکھا۔‘‘

’’دیکھو! یہاں سے ندی کو دیکھو تو تم پر تمہارے بے بضاعت ٹاپوؤں کی حقیقت آشکار ہو جائےگی۔‘‘

’’مگر ہم وہاں سے ندی کو کیوں دیکھیں کہ ندی تو ہمارے لہو میں جاری و ساری ہے۔‘‘

’’عریاں حقیقتوں کو سیمابی لفظوں کا لباس نہ پہناؤ کہ الفاظ جذبے کے اظہار کا بہت ادنیٰ ذریعہ ہیں۔ خود تسلّی، عارضی اطمینان کی سبیل ضرور ہے مگر یہی اطمینان مکمل تباہی کا پہلا بگل بھی ہے۔‘‘

تبھی ایک کونے سے ایک پستہ قد زرد فام مینڈک نے ٹرا کر کہا:

’’میں دیکھ سکتا ہوں۔ بلندی سے میں ندی کا نظارہ کر سکتا ہوں۔‘‘

تمام مینڈک اس زرد فام مینڈک کی طرف مڑے۔ وہ پندرہ بیس مینڈکوں کے کاندھوں پر چڑھا سینہ پھلائے نہایت حقارت سے ان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ پھر اس نے مگرمچھ سے مخاطب ہوکر کہا:

’’اے دانائے راز! کیا میں ان تمام سفالی ہستیوں سے سر بلند نہیں ہوں کہ یہ ندی کراں تا کراں میری نگاہ کی زد میں ہے۔‘‘

ابھی اس کے الفاظ فضا میں گونج ہی رہے تھے کہ مینڈکوں کا اہرام لرزا اور ایک دوسرے کے کاندھوں پر چڑھے ہوئے مینڈک دھپ دھپ نیچے لڑھک گئے۔ دو چار کمزور مینڈکوں کی تو آنتیں نکل آئیں۔ بعض وہیں ڈھیر ہوگئے۔ ارد گرد کے ٹاپوؤں کے مینڈک بے تحاشا قہقہے لگانے لگے۔ ہنسی قہقہے، فقرے بازی اور شور و غوغا سے تھوڑی دیر تک کان پڑی آواز سنائی نہیں دی۔

آخر مگرمچھ کو مداخلت کرنی پڑی۔

’’خاموش، خاموش اے ندی کے باسیو! خاموش، یہ جائے مسرت نہیں مقام عبرت ہے کہ تمہاری چھوٹی چھوٹی نفرتوں نے تمہارے قد گھٹا دیے ہیں اور تم۔۔۔ تم سب اپنی ہی لاشوں پر قہقہے لگانے کے لیے زندہ ہو۔‘‘

’’اے صاحب عقل و دانش! کیا ہمیں اپنے دشمن کی مات پر خوش ہونے کا حق نہیں۔ یہ فتنۂ حرام عرصۂ دراز سے دوسروں کے کاندھوں پر چڑھ کر ہمیں دھمکاتا رہتا تھا۔‘‘

’’دشمن!‘‘ مگرمچھ نے ایک گہری سانس کھینچی۔

’’تم نہیں جانتے کہ بعض اوقات دشمنی بھی تمہارے ظرف کا پیمانہ بن جاتی ہے۔ آنکھیں کھول کر دیکھو مرنے والے کی صورت میں تمہیں اپنی صورت دکھائی دےگی۔ کان کھول کر سنو۔ اس کی آواز میں تمہیں اپنی آواز سنائی دے گی۔ دشمن کی شناخت مشکل ہے اس لیے کہ دوست کی شناخت مشکل ہے۔‘‘

’’اے مدّبر وقت! تو ہی ہمیں کوئی تدبیر بتا کہ ہمارے دل نفرتوں کے غبار سے دُھل جائیں اور ہمارے سینے محبتوں کے نور سے معمور ہو جائیں۔ تجھے ہم عقل و فہم کا پتلا اور تجربات کا مرقع جانتے ہیں۔‘‘

’’اگر ماحول سازگارنہ ہوتو تدّبر تضحیک کا نشانہ اور تجربہ تہمت کا بہانہ بن جاتا ہے یاد رکھو گھورے پر کبھی گلاب نہیں کھلتے۔ تم نے نفرت بوئی تھی نفرت ہی کاٹوگے۔۔۔‘‘

’’مگر تیرے سوا کون ہماری رہنمائی کر سکتا ہے کہ ہم بالاتفاق رائے تجھے اپنا مرّبی سمجھتے ہیں۔‘‘

ایک چتکبرا مینڈک پھدک کر مگرمچھ کے قریب ہوتا ہوا مکھن چپڑے لہجے میں بولا۔ اور پھر اس انداز سے چاروں طرف دیدے گھمائے جیسے اپنے ہم جلیسوں سے کہہ رہا ہو۔ میرا کاٹا کبھی بھولے سے نہ پانی مانگے۔

بوڑھا مگرمچھ اس چالاک مینڈک کی نیت بھانپ گیا۔ ایک نگاہ غلط انداز اس پر ڈالی اور پھر دوسرے مینڈکوں سے مخاطب ہوا۔

’’مرّبی ایک ایسے بد طینت شخص کو کہتے ہیں جو زیر دستوں کی دست گیری محض اس لیے کرتا ہے کہ وہ تاحیات اس کی غلامی کا دم بھرتے رہیں۔‘‘

مگرمچھ کے اس کرارے جواب نے مختلف ٹاپوؤں میں ایک غلغلہ ڈال دیا۔ دیر تک مینڈک ٹراتے اور قہقہے لگاتے رہے اور وہ چت کبرا مینڈک غصے اور ندامت سے پیچ و تاب کھانے لگا۔ جب شور ذراکم ہوا تو چت کبرا مینڈک ہوا میں قلابازی کھاتا ہوا چیخا۔

’’اَنا۔۔۔ اے ناصح نامہربان، تیری تلخ نوائی نے میری انا کو لہو لہان کر دیا۔ اپنی انا کی حفاظت میری زندگی کا مقصد اعلیٰ ہے۔ میں تلوار کا گھاؤسہہ سکتا ہوں۔ اپنی انا پر ضرب نہیں سہہ سکتا۔‘‘

’’ اَنا‘‘۔۔۔ مگرمچھ نے اس چھوٹے سے مینڈک کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے حقارت سے کہا۔

  ’’ چیونٹی اپنے منہ میں شکر کا دانہ لیے چلتی ہے تو اپنی دانست میں سات پہاڑوں کا بوجھ اس پر لدا ہوتا ہے۔ تم اپنی ڈیڑھ انچ کی انانیت کو آخر اس قدر اہمیت کیوں دیتے ہو جو پانی کے ایک ریلے سے بہہ جاتی ہے، ہوا کے ایک معمولی جھونکے سے اڑ جاتی ہے۔ جب تک تمہاری انانیت تمہارے وجود کا حصہ نہیں بنتی، وہ چھپکلی کی کٹی دُم کی مانند بے حقیقت اور حقیر ہے۔ تمہاری مشکل یہ ہے کہ تم سب چھوٹے چھوٹے جزیروں میں بٹے ہو اور ہر کوئی اپنے جزیرے کو        کرّہ ارض کے برابر سمجھتا ہے۔ ‘‘

مگرمچھ کا یہ وار بہت صاف اور تیکھا تھا۔ شدید تکلیف سے ان کے لہو میں گرہیں پڑ گئیں۔ انھوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ غصہ ذلّت اور ندامت نے ان کی عجیب کیفیت کر دی تھی۔ انھیں لگ رہا تھا کوئی انھیں رسّی کی طرح بٹتا جا رہا ہے۔ مگر وہ کیا کر سکتے تھے کہ ان کے پاس نہ سانپ کا سا پھن تھا، نہ بچھو کا ساڈنک۔ البتہ وہ چیخ سکتے تھے کہ اب ان کی چیخ ہی ان کے وجود کی گواہی بن سکتی تھی۔ لہذا ایک لمحے کی خاموشی کے بعد وہ بیک زبان ٹرّانے لگے۔ اپنی ہستی کی انتہائی بنیادوں سے ٹرّانے لگے۔ مگرمچھ ضبط و تحمل سے ان کی ٹراہٹ سنتا رہا۔ اور خاموشی سے ان کے گلوں کی پھولتی پچکتی جھلیوں کو دیکھتا رہا۔ جب ٹراتے ٹراتے ان کی گردنوں کی جھلیاں لٹک گئیں، پیٹ پچک گئے۔ تب مگرمچھ نے آہستہ سے گردن اٹھائی۔ یہاں سے وہاں تک بکھرے ہوئے مینڈکوں پر ایک متاسفانہ نگاہ ڈالی، چھوٹے بڑے، نیلے پیلے، کالے، سفید، دبلے پتلے، موٹے تگڑے۔ سارے کے سارے مینڈک منہ کھولے، گردنیں ڈالے گہری گہری سانسیں لے رہے تھے۔ اب ان کی آخری چیخ بھی ان کے سینے کی لحد میں سوچکی تھی۔ آخر ایک طویل وقفے کے بعد مگرمچھ گویا ہوا۔’’اے ندی کے باسیو! تم میں سے ہر کوئی خود غرضی کے محور پر پھرکی کی طرح گھوم رہا ہے۔ تمہاری نظروں میں سارے رنگ یوں گڈ مڈ ہو گئے ہیں کہ اب رنگوں کی تمیز ممکن نہیں۔ لہذا اب میرے پاس تم سب کے لیے ایک سفّاک دعا کے سوا کچھ نہیں ہے۔ میں دعا مانگتا ہوں۔ دعا کے اختتام پر بآوازِ بلند ’آمین‘ کہنا۔ یہی تمہاری نجات کا آخری حیلہ ہے۔"

مینڈکوں نے مگرمچھ کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ بس اپنے کرچی کرچی وجود کے ساتھ ٹُکر ٹُکر اسے گھورتے رہے۔ اب اجالے کے پر سمٹنے لگے تھے۔ سورج ایک کیکرکے دوشاخے میں پھنسا پھڑ پھڑا رہا تھا۔ اس کے خون کی لالی قطرہ قطرہ ندی کے چہ بچوں میں سونا گھول رہی تھی۔ فضا میں ایک عجب سی دل کو مسوس دینے والی اداسی بس گئی تھی۔ تبھی مگرمچھ نے آسمان کی طرف منہ اٹھایا۔ آنکھیں بند کرلیں اور دعا مانگنے لگا۔

’’  اے بحروبر کے مالک! اے خشکی کو تری اور تری کو خشکی میں بدلنے والے۔۔۔ زمانہ بیت گیا یہ ندی سوکھتی جا رہی ہے اور ہم کہ جنھیں ایک ہی ندی کے باسی کہلانا تھا، الگ الگ ٹاپوؤں میں بٹ گئے ہیں۔ اے قطرے سے دریا بہانے والے اور ندیوں کو سمندر سے ملانے والے ہمارے رب! ہماری اس سوکھی ندی میں کسی صورت باڑھ کا سامان پیدا کر، تاکہ ہم جوان چھوٹے چھوٹے ٹاپوؤں میں تقسیم ہو گئے ہیں پھر اسی ندی میں گھل مل جائیں۔ اور اس کے وسیع دامن میں جذب ہوکر اسی کا ایک حصہ بن جائیں!

"سیلاب! صرف ایک تندو تیز سیلاب!!"

مگرمچھ دعا ختم کرکے تھوڑی دیر تک آنکھیں موندے مینڈکوں کے ’آمین‘ کہنے کا منتظر رہا۔ مگر جب کافی دیر گزر جانے کے بعد بھی کہیں سے ’آمین‘ کی صدا نہیں آئی تب اس نے آنکھیں کھول دیں۔ ارد گرد کے ٹاپو خالی پڑے تھے۔ تمام مینڈک ندی کے کم کم، گدلے اور بدبودار پانی میں ڈبکیاں لگا چکے تھے۔

 

افسانہ ندی کا خلاصہ

سلام بن رزاق کا افسانہ "ندی" ان کے علامتی اور سماجی افسانوں میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ یہ افسانہ انسانی زندگی کے بہاؤ، وقت کی بے رحمی اور سماجی و تہذیبی تبدیلیوں کی ایک خوبصورت عکاسی کرتا ہے۔

افسانے کا آغاز اور پس منظر

افسانے کی شروعات ایک قدیم بستی اور اس کے قریب بہتی ہوئی ایک ندی سے ہوتی ہے۔ یہ ندی بستی کے لوگوں کے لیے صرف پانی کا ذریعہ نہیں بلکہ ان کی تہذیب، خوشحالی اور زندگی کی علامت ہے۔ بستی کے لوگ ندی سے گہری عقیدت رکھتے ہیں اور ان کی زندگی کے تمام اہم واقعات (خوشی، غمی، میلے) اسی ندی کے کناروں پر انجام پاتے ہیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بستی کا نقشہ بدلنے لگتا ہے۔ ترقی اور صنعتی انقلاب کے نام پر ندی کے گرد و نواح میں تبدیلیاں آنے لگتی ہیں۔ ندی جو کبھی شفاف اور پرشور تھی، آہستہ آہستہ آلودگی کا شکار ہونے لگتی ہے۔ افسانہ نگار نے یہاں ندی کے ذریعے انسانی اقدار کے زوال کو دکھایا ہے۔ جیسے جیسے ندی گدلی ہوتی ہے، ویسے ہی بستی کے لوگوں کے اخلاق اور باہمی تعلقات میں بھی گراوٹ آنے لگتی ہے۔

افسانے میں "ندی" کو وقت اور زندگی کے استعارے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ ندی کا بہنا زندگی کے تسلسل کو ظاہر کرتا ہے، لیکن جب اس میں رکاوٹیں آتی ہیں یا وہ خشک ہونے لگتی ہے، تو یہ ایک تہذیب کی موت کا اشارہ ہوتا ہے۔ بستی کے کچھ بوڑھے کردار اس تبدیلی پر کڑھتے ہیں اور ماضی کی اس پاکیزہ ندی کو یاد کرتے ہیں جو اب یادوں کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔

افسانے کا مرکزی نکتہ قدیم اور جدید کی کشمکش ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو ندی کی تقدس کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں، اور دوسری طرف وہ قوتیں ہیں جو اسے صرف ایک مادی چیز سمجھ کر اپنی تجارت اور فیکٹریوں کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ ندی کا آہستہ آہستہ نالہ بن جانا دراصل انسان کے اندر موجود احساسِ مروت اور ہمدردی کے خشک ہونے کا ماتم ہے۔

افسانے کا اختتام ایک اداسی اور سوچ بچار پر ہوتا ہے۔ ندی جو کبھی بستی کی پہچان تھی، اب ایک بے نام اور گندی لکیر بن کر رہ گئی ہے۔ یہ صورتحال قاری کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم نے ترقی کی دوڑ میں اپنی اصل پہچان اور فطرت سے کتنا فاصلہ اختیار کر لیا ہے۔

سلام بن رزاق نے اس افسانے میں یہ پیغام دیا ہے کہ اگر کوئی قوم اپنی فطری جڑوں (ندی) اور تہذیبی اقدار کو فراموش کر دے گی، تو اس کا وجود بے معنی ہو جائے گا۔ یہ افسانہ ماحولیاتی آلودگی کے ساتھ ساتھ انسانی ضمیر کی آلودگی پر بھی ایک گہرا طنز ہے۔

 

دم افعی                                                       اکرام باگ

آج رامپور کے تمام ذی حیثیت لوگ پنچایت گرام میں بیٹھے کسی گمبھیر مسئلہ کو حل کر رہے تھے۔ پاس ہی نیم کا پیڑ اپنے ننگے بدن کو دیکھ سر جھکائے خاموش کھڑا تھا۔ پنچایت گرام میں بھی لوگ سر جھکائے خاموش تھے۔ آخر سکوت کا یہ پردہ گاؤں کے سرپنچ فخرو چاچا نے اٹھایا۔ فخرو چاچا گاؤں کی آخر نشانی تھے۔ ان کی آنکھوں نے تین حکومتوں کو اجڑتے اور بستے دیکھا تھا اور اس پر چاچا کو بڑا فخر تھا اور ہر بات میں اپنے تجربات کو بڑھا چڑھاکر پیش کرنا ان کی عادت سی بن گئی تھی۔

چاچا نے اپنی تجربہ کار نگاہیں لوگوں پر ڈالتے ہوئے کہا، ’’آج اس بات کا فیصلہ ہونا ہی چاہئے۔‘‘ تمام لوگوں نے بہ یک وقت ’’ہاں‘‘ کہا۔ چاچا نے لوگوں کے اشتیاق کو دیکھا ور گویا ہوئے، ’’معلوم نہیں وہ اجنبی کون ہے۔ گاؤں آکر ایک ہفتہ ہو گیا مگر آج تک کسی نے اس کی شکل۔۔۔ صرف بھیمو نے شاید اسے دیکھا ہے۔‘‘ انھو ں نے بھیمو کی طرف ایک نظر ڈالتے ہوئے کہا، ’’شکل کسی نے نہیں دیکھی، اس بات سے ہمیں کوئی سروکار نہیں ہے۔ دراصل زمانہ ہی خراب آ گیا ہے۔ ورنہ ہمارے زمانے میں کوئی نیا مہمان آتا تو وہ آٹھ روز لوگوں سے ملنے میں گزار دیتا۔ جب لارڈ مونٹ بیٹن ہمارے گاؤں کے قریب سے گزر رہا تھا تو میں نے اس کی شکل نہیں دیکھی۔ یہ میری اپنی بات تھی مگر یہاں پر میں گاؤں کا سرپنچ ہوں، اس لیے گاؤں کی ہر بات کی ذمہ داری مجھ پر عائد ہوتی ہے۔ ہر روز رات اس اجنبی کے مکان سے رونے کی بڑی بھیانک آواز آتی ہے۔ جب میں نے پہلی دفعہ رونے کی آواز سنی تو مجھے محسوس ہوا آج بھی کوئی گورا ہمارے آدمی کو بازار میں گھسیٹ رہا ہو۔‘‘

چاچا تھوڑی دیر تک اپنے حواس درست کرتا رہا۔ لوگ دم روکے سنتے رہے۔ پھر تھوڑی دیر بعد اس نے سانسیں درست کرتے ہوئے کہا، ’’مجھے تو شمو کا قصہ یاد آ گیا۔ شاید اتوار کا دن۔۔۔ ہاں اتوار ہی تو تھا۔ اس روز گورے نے شمو کی بیٹی مالن کو دن دھاڑے اغوا کر لیا اور شمو اسی طرح رات بھر روتا رہا۔ اس بھیانک اور دردناک آواز سے گاؤں والوں کی نیندیں حرام ہو گئیں۔ بچے ڈر کے مارے اپنی ماؤں کے سینوں میں سر چھپا لیتے ہیں اور اس پر طرہ یہ کہ اس بھلے مانس نے اس کا نام پتہ بغیر پوچھے ہی مکان دے دیا۔‘‘ چچا نے فتّو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

لوگوں کی نظریں فتو پر مرکوز ہو گئیں۔ چاچا نے ایک عجیب سی خوشی محسوس کی اور سوچا لوگ آج بھی اس کی باتوں میں دلچسپی لیتے ہیں۔ چاچا نے اپنا گلا کھنکارا اور کہا، ’’پرسوں بھیمو مجھ سے کہہ رہا تھا کہ ایک آدمی نے اسے دیکھتے ہی بھاگنا شروع کیا، جو کوئی اسے راستہ میں ملتا، وہ اسے دیکھ کر اس طرح بھاگتا گویا کوئی گورا پیچھے لگا ہوا ہو۔‘‘ چاچا کو انگریزوں سے ازلی بغض تھا۔ فتو کی حالت غیر ہو رہی تھی۔ اس نے چند روپوں کے لالچ میں آکر مکان کرایہ پر دے دیا تھا اور کرتا بھی کیا۔۔۔ آٹھ زندگیاں اور بھوک کا بےرحم دیوتا! اسے کیا معلوم تھا کہ کرایہ دار اتنا پراسرار ہوگا جس کی جواب دہی کے لیے اسے پہلی دفعہ پنچایت گرام آنا پڑےگا۔

اس نے دیکھا سب اس کی جانب غصہ کی نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ وہ گھبراکر اٹھ گیا اور کہنے لگا، ’’کچھ دن ہوئے مجھے ایک خط ملا تھا۔۔۔ خط میں لکھا تھا، میں آرہا ہوں۔ زیادہ دن نہیں رہوں گا۔ ایک دن کا کرایہ دو روپیہ دوں گا۔ نیچے کچھ عجیب قسم کے دستخط تھے۔ ’’اس نے اچانک اپنے جیب سے خط نکالا اور چاچا کو دے دیا۔ لوگ اس خط کی جانب اس طرح دیکھنے لگے گویا پہلی دفعہ کسی خط کو دیکھا ہو۔ دستخط متوجہ کیے بغیر نہ رہ سکتے تھے۔ کچھ مبہم الفاظ تھے صرف ایک حرف ’ش‘ واضح نظر آ رہا تھا۔ فتو نے دیکھا لوگوں کا غصہ کچھ تھم رہا ہے تو اس نے کہا، ’’آپ لوگ جانتے ہیں کہ وہ گھر بھوتوں کی وجہ سے بدنام ہو گیا ہے۔ کوئی بھی اسے خریدنے اور کرایہ لینے پر تیار نہ تھا۔ میں نے بھی تنگ آکر وہاں رہنا چھوڑ دیا۔ اس صورت میں کوئی آدمی ایک دن کا دو روپیہ کرایہ دے تو میری خوشی کا کیا ٹھکانہ؟ خوشی کی وجہ سے میں نے چابی دیتے وقت اس کا نام پتہ کچھ بھی نہیں پوچھا۔ چابی دیتے وقت چند لمحوں کے لیے میں نے اس کا چہرہ دیکھا تھا۔‘‘

وہ تھوڑی دیر چپ رہا اور ایسا معلوم ہونے لگا گویا آگے کی بات کہنے میں اسے موزوں الفاظ نہ مل رہے ہوں۔ پھر اس نے خاموشی کو توڑتے ہوئے کہا، ’’کچھ عجیب سا چہرہ تھا۔ میں نے تو اسے بارہا دیکھنا چاہا مگر میری نظریں خود بہ خود جھک جاتی تھیں۔ آنکھوں میں وحشت اور یاس کی لکیریں اور چہرہ آگ کی طرح سرخ۔‘‘ اچانک بھیمو اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا، ’’میں نے بھی اس بھاگتے ہوئے آدمی کی ایک جھلک دیکھی تھی۔ اس کا چہرہ بھی آگ کی طرح سرخ تھا۔‘‘

لوگوں میں چہ می گوئیاں شروع ہو گئیں۔ دھرم داس جو ہمیشہ اپنے ساتھ اخبار رکھا کرتا تھا، کہنے لگا، ’’وہ ضرور پاکستانی پیراشوٹ ہوگا۔ ہمیں اسے پکڑ کر حکومت کے حوالے کر دینا چاہیے۔ اس سے ہمارے گاؤں کا نام بھی ہوگا اور انعام بھی ملے گا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ لوگوں کی جانب اس طرح دیکھنے لگا گویا ابھی ابھی حکومت نے اسے انعام سے نوازا ہو۔ حمید نے نعیم کے کان میں کہا، ’’دیکھنا وہ ہندو مہا سبھائی ہوگا جو گاؤں میں فساد برپا کرکے چلا جائےگا۔‘‘ نعیم نے اس طرح گردن ہلائی گویا سارا معاملہ اس کی سمجھ میں آ گیا ہو۔ چندر کانت جواب صرف نام کے جاگیردار رہ گئے تھے اور بہت دیر سے خاموش تھے، کہنے لگے، ’’کہیں وہ چین نواز کمیونسٹ نہ ہو۔ میرا خیال ہے وہ سوفی صدی کمیونسٹ ہے، ورنہ چہرے پر لال رنگ کیوں لگواتا؟‘‘ یہ کہہ کر وہ فتح مندانہ نگاہوں سے لوگو ں کی جانب دیکھنے لگے۔ادھر ہیرا چند جو کمیونسٹ تھا اور دو دفعہ الیکشن ہار چکا تھا، تلملا اٹھا اور اٹھ کر انقلابی انداز میں کہنے لگا، ’’میں دیکھ رہا ہوں کہ اس ملک میں تباہی کی ایک آندھی آنے والی ہے۔ جب تک عوام امریکی گیہوں کھاتے رہیں گے وہ ترقی نہیں کر سکتے۔ انقلاب نہیں آ سکتا۔‘‘ ادھر دھرم داس نے چندر کانت کے کان میں کہا، ‘‘ سالا کل ہی تو گیہوں کے لیے دو گھنٹے تک کیئو میں ٹھہرا تھا۔‘‘ اچانک چاچا کو کچھ یاد آیا اور انھو ں نے جیب سے کچھ کاغذات نکالے۔ لوگ ناک بھوں چڑھانے لگے۔ چاچا نے ایک کاغذ دکھاتے ہوئے کہا، ’’یہ کیا ہے؟‘‘

لوگو ں نے اکتاہٹ سے جواب دیا، ’’مغل بادشاہو ں کی محصول ادائیگی کی رسید ہے۔‘‘

’’اور یہ کیا ہے؟‘‘

’’یہ انگریزوں کی محصول ادائیگی کی رسید ہے۔‘‘

’’اور یہ؟‘‘

’’ہماری حکومت کی رسید ہے۔‘‘ لوگوں نے اطمینان کا سانس لیا۔ چاچا کچھ دیر مسکراتے رہے اور سوچا باپ کی ادا کی ہوئی نقل رسید آج کام میں آ گئی۔

’’میں نے تین حکومتوں کو اجڑتے اور بستے ہوئے دیکھا ہے۔ میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ضرور وہ کوئی گورا ہے جو ایک بار پھر آہستہ آہستہ ہماری حکومت کو ختم کرنے آیا ہے۔‘‘ دھرم داس ہنس پڑا۔ رام سنگھ اپنے پوپلے منہ میں بڑبڑایا، سالامسلم لیگی۔ اجنبی کے بارے میں چہ می گوئیاں بڑھتی ہی جا رہی تھیں۔ آخر کار طے پایا کہ رات جب وہ حسب معمول روتا ہے، جاکر اس سے دریافت کیا جائے کہ وہ کون ہے، کہاں سے آیا ہے اور کیا کرتا ہے۔ تھوڑی دیر بعد پنچایت گرام خالی پڑا تھا۔ سورج ڈوب چکا تھا اور اندھیرا آہستہ آہستہ پھیل رہا تھا۔رات جب اپنا سایہ لمبا کر چکی تھی، ا چانک پھر وہی رونے کی آواز ابھری۔

لوگ اجنبی کے گھر کی طرف بڑھنے لگے۔ اچانک رونے کی آواز بند ہو گئی۔ مجمع ٹھٹک پڑا۔ چاچا نے زنجیر کھٹکھٹانا ہی چاہی تھی کہ آواز آئی۔ سب لوگ کھڑکی میں منہ ڈالے دیکھنے لگے۔ وہ اجنبی اپنا منہ چھت کی طرف کیے کہہ رہا تھا، ’’میں جانتا ہوں تیرے ننانوے نام ہیں مگر آج تو ایک اور نام کا اضافہ کر لے ’دھوکہ باز۔۔۔ ‘اگر مجھے معلوم ہوتا کہ انسان اتنا شاطر ہوگا تو میں نے اسی وقت آدم کو سجدہ کر لیا ہوتا۔ آج میں اقرار کرتا ہوں کہ مٹی آگ سے عظیم ہے۔ میں تجھ سے بھیک مانگتا ہوں کہ مجھے عبادت کے قابل بنا کیونکہ لاکھوں برس ہوئے اسے بھول چکا ہوں یا مجھ میں بدی کی طاقتیں انسان سے زیادہ عطا فرما۔ اب میں ایک بے کار شے ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ رونے لگا۔

لوگ کمرے کی طرف بڑھ ہی رہے تھے کہ چاچا نے منع کیا اور اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کیا اور کہا، ’’نہ جانے کون ہے بے چارہ۔ خدا سے کہہ رہا ہے کہ میں نے گناہ کیا اب مجھے معاف کر۔۔۔ معلوم ہوتا ہے زمانہ کا ستایا ہوا ہے۔ ہمارا کیا لےگا دو تین روز رہ کر واپس چلا جائےگا۔۔۔ بےچارہ۔۔۔‘‘

لوگ سر پنچ کی بات سے مطمئن واپس لوٹنے لگے۔ رات اور کچھ گہری ہو گئی تھی اور فضا میں ہچکیوں کی آواز عجیب اسرار پیدا کر رہی تھی۔

 

افسانہ "دمِ افعی" کا خلاصہ

اکرام باگ کا افسانہ "دمِ افعی" (سانپ کی دم) انسانی نفسیات، سماجی تعصبات اور گروہی سوچ کی عکاسی کرنے والا ایک بہترین علامتی افسانہ ہے۔ کہانی کا آغاز رامپور گاؤں کے پنچایت گرام سے ہوتا ہے، جہاں گاؤں کے تمام بااثر لوگ ایک "گمبھیر مسئلے" پر غور کرنے کے لیے جمع ہیں۔ گاؤں کا بوڑھا سرپنچ، فخرو چاچا، جو تین حکومتوں کے دور دیکھنے کا دعویٰ کرتا ہے، اس گفتگو کا آغاز کرتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ گاؤں میں ایک اجنبی آکر مقیم ہو گیا ہے جسے کسی نے صحیح طرح دیکھا نہیں ہے، لیکن اس کے گھر سے ہر رات کسی کے زور زور سے رونے کی بھیانک آوازیں آتی ہیں۔اجنبی کے بارے میں گاؤں والوں کے شکوک و شبہات ان کے اپنے اپنے مخصوص نظریات اور تعصبات کے عکاس ہیں۔غرض یہ کہ ہر شخص اس اجنبی کو اپنے خوف اور نفرت کے آئینے میں دیکھ رہا ہے۔ مکان کا مالک فتو خوفزدہ ہے کہ اس نے محض کرائے کے لالچ میں ایک پراسرار آدمی کو جگہ دے دی ہے۔آخر کار یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ رات کو جب رونے کی آواز آئے گی، تو سب مل کر اس کے گھر جائیں گے۔ رات کو جب مجمع اجنبی کے گھر پہنچتا ہے، تو وہ اسے ایک عجیب و غریب حال میں پاتے ہیں۔ اجنبی اپنا منہ چھت کی طرف کیے خدا (یا کسی مافوق الفطرت ہستی) سے مخاطب ہے اور کہہ رہا ہے: "اگر مجھے معلوم ہوتا کہ انسان اتنا شاطر ہوگا تو میں نے اسی وقت آدم کو سجدہ کر لیا ہوتا۔" وہ اعتراف کرتا ہے کہ مٹی (انسان) آگ (جن یا شیطان) سے زیادہ عظیم ہے، لیکن انسانی شر اور شاطرانہ چالوں نے اسے بھی مات دے دی ہے۔ وہ خود کو ایک "بے کار شے" قرار دے کر رونے لگتا ہے۔

اجنبی کی یہ باتیں سن کر گاؤں والوں کا رویہ اچانک بدل جاتا ہے۔ فخرو چاچا، جو پہلے اسے گورا یا دشمن سمجھ رہا تھا، اب اسے "زمانے کا ستایا ہوا" قرار دے کر ہمدردی کا اظہار کرتا ہے۔ لوگ مطمئن ہو کر واپس لوٹ جاتے ہیں، جبکہ فضا میں اجنبی کی ہچکیوں کی آواز ایک پراسرار دکھ کی طرح گونجتی رہتی ہے۔یہ افسانہ ظاہر کرتا ہے کہ انسان کس طرح نامعلوم چیزوں سے ڈرتا ہے اور اپنے تعصبات کی بنیاد پر دوسروں کے بارے میں رائے قائم کرتا ہے۔ کہانی کا علامتی پہلو (ابلیس یا شیطان کا انسان کی شرارتوں سے ہار مان لینا) یہ پیغام دیتا ہے کہ آج کا انسان بدی اور مکاری میں شیطان سے بھی آگے نکل چکا ہے۔

امیر بخش کون؟

وہ ہڑ بڑا کر بستر سے اُٹھ بیٹھا۔ اس کی سانس زور زور سے چلنے لگی ۔ کمرے میں زیرو پاور کا بلب روشن تھا۔ اور پنکھا پوری رفتار پر تھا۔ اس کی بیوی اور بچے دوسرے کمرے میں سوئے ہوئے تھے۔ اس نے دیوار پر لگی گھڑی کی طرف دیکھا۔ رات کے تین بج رہے تھے۔ باہر سے کتوں کے بھونکنے کی آوازیں آرہی تھی۔ اس کے دل کی رفتار تیز تیز تھی لیکن خود اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ آخر یہ ماجرا کیا ہے؟

کیا میں واقعی جنگل میں تھا ؟

رات گہری ہوتی جارہی ہے۔ کیا مجھے کسی نے پکارا ۔۔۔۔۔۔۔۔ امیر بخش ! نہیں

میرا نام تو سلطان احمد ہے۔“

نیند کی وادیوں میں بے خواب آنکھیں، جسم اور روح کے درمیان کرب تماشا اور اس سے پرے ہنوز ایک انسانی جسم جو غیر مصرف واقعات سے نبرد آز مانورانی چہرۂ لبی سفید ڈاڑھی سر پر صافہ ہاتھ میں تہی، اور میں جسم وروح کے درمیان کرب تماشا۔ ۔۔۔۔بزرگ گویا ہوئے۔ " سچ ہے برخوردار! رات آرام کے لیے بنائی گئی ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ روح بھی پتھر کے مانند ساکت و جامد ہو اور جسم محض ایک خوش نما اور دیدہ زیب پیکر ۔ ایسا کیوں تم سوچتے ہو کہ ہر نفس، نفس آسودگی اور فرحت کے لیے بے قرار ہوتا ہے۔ یہ درخت یہ پہاڑ یہ ندی یہ نالے یہ زمین یہ آسمان یہ ساری کائنات یہ آفاق تم نے اشرف المخلوقات ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ کیا ہم نے اس سفاک لمحوں کی بازگشت نہیں سنی جو ہمارے ہونے اور نہ ہونے کے درمیان کسی لمحے سے وابستہ ہے؟ پھر کیوں تم ایک بے کرب ہزیمت سے دو چار ہو ؟ کرب یہ نہیں ہے کہ جان عزیز اپنے مالک حقیقی کی طرف لوٹ گئی۔ کرب تو وہ ہے جو ان کے ساتھ چند زمینی نمائش اور آنکھوں کو خیرہ کرنے والی چیزوں سے منسلک ہو گیا۔ حیات کا کارنامہ یہ تو نہیں ہے۔ جب آنکھ کھلے خوشنما مناظر موجود ہوں ۔ حیات تو اس عمل سے عبارت ہے کہ اشرف المخلوقات نے جو حالات خود پیدا کیے ان کی پاداش اٹھائے اس کے پہلے کہ کائنات اس پر تنگ ہو جائے ۔“اے میرے بزرگ !

ضمیر شب ۔۔۔ مجرم ضمیری۔۔۔۔ میری بینائی اوپری سطح سے عبارت ہے۔

میں بصد احترام وعقیدت آپ کی جناب میں ہزار ہا سلام پیش کرتا ہوں ۔ آپ کون ہیں اور میں ذلیل وخوار بدنصیب، قسمت کا مارا حالات کا ستایا ہوا۔۔۔۔۔ ایک ادنی سا شخص ۔۔ میرے چہرے پر کوئی نور نہ رونق ۔۔۔۔ میرے گردا گرد بے موسم سناٹا ہے اور اس سناٹے میں آپ محترم کی آمد اور اس آمد کا نہ اعلان اور نہ تشہیر ۔ میں کہ ان لمحوں کی بازگشت جو وجود آدم سے متعلق ۔ لیکن میں اس جہان آب و گل میں کون سی ذمہ داری سنبھال رہا ہوں ....؟ میں کہ ایک زیاں خیز سرمایہ جو کسی بھی وقت رواں دواں ندی میں خس و خاشاک کی طرح بہہ جاؤں گا۔ مگر کیا میں اپنی بے حیثیتی کا اظہار کروں ۔ جو آپ پر عیاں ہو ۔ نہیں کہ میں مجبول و ناکارہ محض ہوں ۔۔۔ ندی کے بہاؤ میں بے بس و بے یار و مددگار بھی نہیں ۔ پھر بھی مصرف یار کا کوئی راستہ سجھائی نہیں دیتا.. اپنے دوست صلاح الدین، متقی پرہیز گار صلاح الدین کے سامنے بھی میری ندامت نا قابل تلافی ہے۔ صلاح الدین راستے کو راستہ منزل کو منزل اور شب کو شب اور دن کو دن کہتے ہیں۔ اور ان کے نزدیک ہر شخص کو کسی مصرف کا یارا ہوتا ہے۔ لیکن صلاح الدین تو اپنی آنکھوں کے نور اور اپنی زبان سے نکلے ہوئے لفظوں کے معنی خیز مفاہیم پیدا کرنے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے۔ میں صلاح الدین کی ذہنی صلاحیتوں کا معترف ہوں ۔ لیکن خود غور کرتا ہوں تو لگتا ہے میں اپنا مصرف ہی نہیں جانتا۔ بس وجود کے ہونے پر احساس کی گرفت کر لیتا ہوں ۔ صلاح الدین مسجد سے گھر تک اور گھر سے عوام کے رابطوں تک پوری دنیا بسائے ہوئے ہیں۔ آپ محترم! کچھ کہتے کیوں نہیں؟ صرف مسکرا رہے ہیں ۔ کوئی تو وجہ ہوگی ۔ آپ میری طرف متوجہ ہوئے ہیں۔ ایسا تو ممکن نہیں کہ بے وجہ اس طرف آپ نے قدم رنجہ فرمایا ہو۔ اے بزرگ ! میری خطاؤں میں سب سے بڑی خطا شاید یہی ہے کہ حیثیت کے با معنی اور بے معنی ہونے پر غور کر رہا ہوں۔ ایک ایسا وقت ہم پر آن پڑا ہے کہ ہر طرف شور بھاگ دوڑ ۔۔۔ ہر طرف بس انسان بھاگ رہا ہے۔ اس طرح کیوں بھاگ رہا ہے۔ کوئی منزل اس کے سامنے ہو گی ؟ ۔۔۔۔۔۔ وہ کہیں دم ہی نہیں لے رہا۔۔۔۔۔ بس بھاگ رہا ہے۔ کوئی سکون نہیں، ٹھہراؤ نہیں ۔۔۔۔ پھر میں کیوں سوچتا ہوں کہ بھاگنے والا رکتا تھوڑاہی ہے وہ بس بھاگتا ر ہے گا۔ اے محترم ! میں بھی بھاگنا چاہتا ہوں، ان سب کے ساتھ، لیکن مجھے منزل کی نشاندہی کرنے والا نظر نہیں آتا۔ تو پھر کیوں کر بھاگوں اور کہاں بھاگوں ۔۔۔۔؟ آپ بھی تو اور ۔ ۔ کچھ نہیں کہتے۔ صرف مسکراتے ہی رہتے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ میں بیدار آنکھوں سے خواب دیکھ رہا ہوں۔ ہذیان بک رہا ہوں ۔ میری حالت پر غور کیجیے۔ اور مجھے اپنے ہونے کا اور نہ ہونے کا احساس تو ہونا ہی چاہیے۔ بار بار ایسا کیوں ہوتا ہے کہ میں کبھی اپنے ہونے اور کبھی نہ ہونے کے احساس سے گذرتا ہوں؟ آپ کچھ کہتے ہیں ۔ ۔۔۔۔؟ " میرے عزیزا کہو کہتے رہو۔۔۔۔۔" میرے محترم ! میں گومگو کی حالت سے دو چار ہوں ۔ میں کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہا ہوں ۔ پھر خواب تو خواب ہوتے ہیں۔ خواب اگر کسی طرف اشارہ نہ کرتے ہوں تو پھر ان کا مطلب ہی کیا ہے۔ کیا میں نے خواب آور حقیقت کے درمیان گھڑی کے پنڈولم کی طرح بس ادھر سے ادھر گھومتا رہوں گا ۔ وہ کون ہے جو اپنی سمت کا تعین کر کے میری طرف رواں دواں ہو گا ... بزرگ نے مسکراتے ہوئے کہا۔ " ہر ایک کو اپنے ہونے اور نہ ہونے کے درمیان ہی خود کوتلاش کرنا ہو گا۔“ بزرگ محترم ! میں کہ بے بال پرندے کی طرح بے سمت اور بے ارادہ ہو کر رہ گیا ہوں ۔ شاید ہونے کے درمیان زخمی ہونا بھی ایک عمل ہے؟ میں پھر آپ سے رجوع ہوتا ہوں اے بزرگ محترم! میرے اور آپ کے درمیان جو فاصلہ ہے وہ کیوں کر دور ہوسکتا ہے؟ میں نہ آپ میں حلول کر سکتا ہوں اور نہ آپ مجھ میں ۔ یہ کونسی دوری ہے کہ میں آپ سے الگ الگ ہی ہوں اور آپ مجھ سے دور دور ہیں . پھر وہ کون سے لمحے ہو سکتے ہیں، جوایک دوسرے کے قریب ہو سکتے ہیں ؟ وہ زار و قطار روتا ہے۔ اس کی آنکھیں سرخ ہوگئی ہیں ۔اسے چاروں طرف اند حیر انظر آرہا ہے۔ میری آنکھوں کی بینائی کہاں ہے۔ آپ مجھے نظر نہیں آرہے ہیں ۔ آپ سامنےہیں نا اے بزرگ محترم! بزرگ چند قدم آگئے بڑھ کر اس کے شانے پر ہاتھ رکھتے ہیں۔ ” رونے سے تمھارا بوجھ تو کسی قدر ہلکا ہو سکتا ہے مگر یہ تمھارے مسئلے کا حل نہیں ہوسکتا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم فاصلے پر غور کرتے رہو گے تو فاصلے بڑھتے ہی رہیں گے۔ میں نے تم سے کہا ہے کہ فاصلوں پر نہیں، بلکہ اپنے ہونے اور نہ ہونے پر غور کرو انکار یا اثبات ! ہونے سے کیا مراد ہے اور نہ ہونے سے کیا ؟ تم ہو کر نہ ہونے کے اضطراب میں کیوں مبتلا ہو تم ہو اور تمھا رے ہونے سے ہی یہ کائنات رنگارنگ ہے۔ اگر تم نہ ہوتے تو کچھ بھی نہ ہوتا۔ اب نہ ہونے سے ہونے کے کرب میں گزر جاتا ہے۔ ہر ایک کی اپنی رفتار ہے جو گزرتی رہتی ہے وہ جو اس رفتار پر نظر رکھتے ہیں۔ انھیں نہ ہونے کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ پھر ہونے اور نہ ہونے کے کرب میں گزر جاتا ہے۔ ہر ایک کی اپنی رفتار ہے جو گزرتی رہتی ہے وہ جو اس رفتار پر نظر.رکھتے ہیں۔ انھیں نہ ہونے کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ پھر ہونے اور نہ ہونے کی بات شروع ہو کر کہاں ختم ہوگی ؟ وہیں پر نہ جہاں آدمی کے ہونے اور آدمی کے نہ ہونے ، جہاں بیچ اور جھوٹ کا رزم نامہ بیان عمل کے درمیان جھولنے لگتا ہے بیان بیان نہ ہو کر عمل ہو جاتا ہے تو ہونے کا شدید تر احساس پیدا ہونے لگتا ہے۔ اس عالم آب و گل میں تم آدمی بن کر آدمی کی شناخت کر سکتے ہو اور جب تم آدمی سے الگ ہو جاؤ گے تو بیابان تمھاری آنکھوں میں درآئے گا۔“

آگ اور خون کے نظارے معمول بن کر رہ گئے ہیں۔ کسی پل اور کسی وقت بھی کوئی دھما کا ہوسکتا ہے۔ بازار اور دکانیں بند ہوسکتی ہیں، لوگوں میں اچانک بھگدڑ مچ سکتی ہے۔ اور نعرے ہی نعرے چاروں طرف ۔۔۔۔۔۔ خون دھول دھوئیں اور آہ وزاری کےمناظر ۔۔۔۔

بو لنے والے اپنے لب وا کر کے دلکش اور دل پذیر انداز اختیار کر جاتے ہیں۔ وہ چ کو جھوٹ میں تبدیل کرنے کے گر سے خوب واقف ہیں۔ اور وہ جو خاموش رہتے ہیں، اپنے شعور اور عقل پر بھروسہ کر کے فکر وتردد کے دوراہے پر کھڑے ہوتے ہیں ۔ امیر بخش بولو۔ مت چپکے رہو ۔ اب چپ میں جانیں جاتی ہیں۔

" محترم بزرگ! کیا یہ ممکن نہیں کہ سفید کبوتر پھر اڑیں، چاروں طرف پرندے چہچبائیں اور آسمان سے موت کے بجائے شبنم ٹیکے۔ ۔۔؟ مجھے بولنا کیا ضروری ہے؟"رات گہری ہوتی جارہی ہے۔ میری آنکھ کھل گئی ۔ مجھے کس نے پکارا۔۔۔۔؟

میرا نام تو سلطان احمد ہے۔ پھر امیر بخش کون ہے؟

  کا خلاصہ افسانہ "امیر بخش کون؟"

 افسانہ "امیر بخش کون؟" جدید اردو افسانوی ادب میں وجودیت (Existentialism)، خود شناسی اور فرد کے داخلی کرب کا ایک شاہکار بیانیہ ہے۔ یہ افسانہ ایک فرد کی مادی زندگی اور اس کی باطنی حقیقت کے درمیان جاری جنگ کی عکاسی کرتا ہے۔افسانے کا آغاز ایک ہولناک اور نفسیاتی لمحے سے ہوتا ہے۔ مرکزی کردار، جس کا نام سلطان احمد ہے، رات کے پچھلے پہر (تین بجے) اچانک ایک ایسی پکار سے ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھتا ہے جو خواب اور حقیقت کے درمیان کہیں معلق ہے۔ کمرے میں زیرو پاور کا بلب روشن ہے، پنکھا پوری رفتار پر ہے اور اس کی بیوی بچے برابر کے کمرے میں سو رہے ہیں۔ یہ سب کچھ اس کی مادی زندگی کے سکون کا اشارہ ہے، لیکن سلطان احمد کا دل تیزی سے دھڑک رہا ہے اور اسے سمجھ نہیں آ رہا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے۔اس کی بدحواسی کی سب سے بڑی وجہ وہ نام ہے جو اس کے کانوں میں گونجا: "امیر بخش!" وہ خود سے سوال کرتا ہے کہ یہ امیر بخش کون ہے؟ جبکہ اس کا دنیاوی نام تو سلطان احمد ہے۔ یہیں سے افسانہ نگار "نام" اور "ذات" کے درمیان اس گہرے فرق کو واضح کرتا ہے جو جدید انسان کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ سلطان احمد اس کی سماجی پہچان ہے، لیکن امیر بخش شاید اس کی وہ اصل روح یا وہ باطنی وجود ہے جو مدتوں سے پکارا نہیں گیا۔

         سلطان احمد خود کو خواب اور حقیقت کے درمیان ایک ایسے برزخ میں پاتا ہے جسے افسانہ نگار نے "جسم اور روح کے درمیان کربِ تماشا" کا نام دیا ہے۔ اس نیم بیداری کے عالم میں اسے ایک بزرگ کی نورانی شخصیت نظر آتی ہے جن کا چہرہ تاباں، ڈاڑھی سفید اور ہاتھ میں تسبیح ہے۔ یہ بزرگ دراصل سلطان احمد کے اپنے ضمیر یا ایک آفاقی مرشد کی علامت ہیں۔بزرگ اسے انسانی زندگی کی اصل حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ رات صرف جسمانی آرام کے لیے نہیں بنائی گئی، بلکہ یہ روح کی بیداری کا وقت ہے۔ وہ اسے جتاتے ہیں کہ انسان محض ایک دیدہ زیب پیکر (جسم) نہیں ہے بلکہ اسے "اشرف المخلوقات" ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ بزرگ اسے احساس دلاتے ہیں کہ کائنات کی ہر شے (پہاڑ، ندی، آسمان) انسان کے لیے مسخر کی گئی ہے، تو پھر وہ کیوں ایک بے کرب ہزیمت اور ناامیدی کا شکار ہے؟سلطان احمد بزرگ کے سامنے اپنی بے بسی اور ذلت کا اظہار کرتا ہے۔ وہ خود کو "ذلیل و خوار"، "بدنصیب" اور "حالات کا ستایا ہوا" ایک ادنیٰ شخص قرار دیتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ اس کے گرد "بے موسم سناٹا" ہے اور اس کا وجود ایک ایسا "زیاں خیز سرمایہ" ہے جو کسی بھی وقت وقت کی ندی میں خس و خاشاک (کوڑے کرکٹ) کی طرح بہہ جائے گا۔وہ اپنے دوست صلاح الدین کا ذکر کرتا ہے جو ایک عملی اور مذہبی انسان ہے۔ صلاح الدین کے نزدیک زندگی کے تمام نقشے واضح ہیں؛ وہ راستے کو راستہ اور منزل کو منزل کہتا ہے۔ سلطان احمد اس کے برعکس خود کو "بے مصرف" سمجھتا ہے۔ یہ تضاد اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جدید انسان کس طرح دوسروں کی عملی کامیابیوں کو دیکھ کر اپنی ذات کی معنویت کے بارے میں شکوک کا شکار ہو جاتا ہے۔سلطان احمد بزرگ سے سوال کرتا ہے کہ اس عہد میں ہر طرف ایک شور اور بھاگ دوڑ ہے۔ ہر انسان بغیر کسی سمت کے بھاگ رہا ہے، کوئی ٹھہراؤ نہیں ہے، کوئی سکون نہیں ہے۔ وہ خود بھی اس بھیڑ کا حصہ بننا چاہتا ہے لیکن اسے کوئی ایسی منزل نظر نہیں آتی جس کی طرف وہ قدم بڑھائے۔یہاں افسانہ نگار نے جدید تہذیب کی مادی دوڑ پر گہرا طنز کیا ہے جہاں انسان کے پاس رفتار تو ہے لیکن بصیرت نہیں۔ سلطان احمد کا یہ اضطراب اس بات کی علامت ہے کہ وہ اس لایعنی زندگی سے نکلنا چاہتا ہے مگر اسے صحیح راستے کا علم نہیں۔ وہ بزرگ سے اپنی حالتِ زار پر غور کرنے کی التجا کرتا ہے۔بزرگ اسے زندگی کا سب سے بڑا سبق دیتے ہیں:

                  "ہر ایک کو اپنے ہونے اور نہ ہونے کے درمیان ہی خود کو تلاش کرنا ہو گا۔"

وہ سلطان احمد کو سمجھاتے ہیں کہ اس کا اصل مسئلہ "ہو کر بھی نہ ہونے" کی کیفیت ہے۔ یعنی وہ مادی طور پر موجود ہے لیکن اس کے پاس کوئی عمل یا مقصد نہیں ہے۔ بزرگ اسے بتاتے ہیں کہ جب انسان "آدمی" بن کر دوسرے آدمیوں کی شناخت کرتا ہے اور حق و باطل کے معرکے میں اپنا حصہ ڈالتا ہے، تب اس کے "ہونے" کا احساس پختہ ہوتا ہے۔ اگر وہ اس انسانی رشتہ سے کٹ جائے گا تو اسے ہر طرف بیابان اور سناٹا ہی نظر آئے گا۔ بزرگ زور دیتے ہیں کہ بیان (الفاظ) جب عمل میں بدل جاتا ہے، تبھی انسان اپنی حقیقت پاتا ہے۔

         افسانے کے آخری حصے میں بزرگ سلطان احمد کو عصری حالات کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ باہر کی دنیا آگ، خون، دھماکوں اور ہنگاموں سے بھری پڑی ہے۔ بازار بند ہیں، بھگدڑ مچی ہے اور ہر طرف آہ و زاری ہے۔ وہ لوگ جو بولنے کا فن جانتے ہیں، وہ سچ کو جھوٹ میں بدل رہے ہیں۔ جبکہ وہ لوگ جو شعور رکھتے ہیں، وہ مصلحت کی چادر اوڑھ کر خاموش ہیں۔بزرگ سلطان احمد کو جھنجھوڑتے ہیں کہ "امیر بخش! بولو، مت چپ رہو۔ اب چپ رہنے میں جانیں جاتی ہیں۔" یہ جملہ افسانے کا کلائمکس ہے، جہاں "امیر بخش" کو پکارنے کا مطلب اس کے سوئے ہوئے ضمیر کو پکارنا ہے۔ خاموشی کو ایک بدترین جرم قرار دیا گیا ہے کیونکہ جب سچ کے سامنے خاموشی اختیار کی جاتی ہے تو معاشرہ تباہی کی طرف بڑھتا ہے۔سلطان احمد نہایت معصومیت سے سوال کرتا ہے کہ کیا یہ ممکن نہیں کہ ہم بولنے کے بجائے خاموش رہیں اور آسمان سے موت کے بجائے شبنم ٹپکے؟ کیا سفید کبوتر پھر سے نہیں اڑ سکتے؟افسانہ وہیں ختم ہوتا ہے جہاں سے شروع ہوا تھا۔ سلطان احمد کی آنکھ کھل جاتی ہے، وہ خود کو پھر سلطان احمد کے روپ میں پاتا ہے، لیکن وہی غیبی پکار اس کے تعاقب میں ہے: "رات گہری ہوتی جا رہی ہے، مجھے کس نے پکارا؟ میرا نام تو سلطان احمد ہے، پھر امیر بخش کون ہے؟" یہ سوال قاری کے ذہن پر ایک دستک کی طرح رہ جاتا ہے کہ کیا ہم صرف ایک سماجی نام ہیں یا ہمارے اندر کوئی "امیر بخش" بھی چھپا ہے جسے بولنے کا حکم دیا گیا ہے؟

 

حنظل                               بیگ احساس

جب شہر کی زمین تنگ ہو گئی تو لوگ سر چھپانے کے لیے ویرانوں کوآباد کرنے لگے ۔ اس کا آبائی باغ بھی ایک ویرانہ تھا ۔ عرصہ ہوا درختوں نے پھل دینا بند کر دیا تھا ۔ کم سے کم اس نے کبھی ان پھلوں سے فائدہ نہیں اٹھایا تھا ۔ اس کے حصے میں سخت زمین اور سوکھے درخت آئے تھے ۔ اسے اکثر اپنے آبا واجداد پر غصہ آتا تھا کہ انھوں نے اس کے لئے شہر میں کچھ نہیں چھوڑا ۔ ویرانے میں یہ سخت زمین چھوڑی ہے جس کا کوئی مصرف نہیں ۔ لیکن اسی سخت زمین اور سوکھے درختوں نے اس کی غربت دور کر دی تھی وہ اس قابل ہو گیا تھا کہ اپنے لیے بھی ایک عمدہ مکان تعمیر کر سکے ۔ اس نے اپنے لیے زمین کا ایک اچھا سا ٹکڑا رکھ لیا ۔ اس ٹکڑے کے گرد پہلے ہی سے احاطے کی دیواریں بنی ہوئی تھیں مگر وہ دیوار میں بہت شکستہ تھیں ۔ ایک بڑا سا کنواں بھی تھا جس کی دیوار میں پتھر کی تھیں اور پانی پر کائی کی موٹی سی تہہ جمی ہوئی تھی ۔

 ایک مبارک دن اس نے مکان کی بنیاد کے لیے کھدوائی کا کام شروع کروایا ۔ زمین بے حد سخت تھی اس کے اندر جڑوں کا جال پھیلا ہوا تھا ۔ موٹی اور باریک جڑوں کا جال -- ! مزدوروں کے ہتھیار اس جال میں الجھ کر رہ جاتے ۔ تنگ آکر مزدوروں نے کام چھوڑ دیا ۔ وہ دوسرے مزدور لے آیا ۔ لیکن وہ بھی دوسرے ہی روز چلے گئے ۔ اس بار جو مزدور آئے انہوں نے زیادہ مزدوری کا مطالبہ کیا لیکن وہ اس کے مکان کی بنیادوں کے لیے کھدوائی کا کام نہ کر سکے ۔ وہ مزدور بھی لوٹ گئے ۔ اسے بھی پتہ چلا کہ اس ساری زمین میں جڑوں کا جال پھیلا ہوا ہے ۔ اس کی پریشانی کا علم اس آبادی کے سب سے معمر آدمی کو ہوا ۔ وہ اسے دلاسہ دینے کو آیا کیوں کہ اس نے اپنی دولت کا بہت بڑا گنوادیا تھا مگر مکان کی بنیادیں تک نہیں ڈال سکا ۔ معمر آدمی نے بتایا کہ یہاں دراصل وہ درخت تھا جس کی شہرت پورے ملک میں تھی ۔ اس کے آبا و اجداد میں سے کسی نے یہ درخت لگایا تھا ۔ اس کے پھل اپنے میٹھے اور ذائقہ دار تھے کہ انہوں نے بادشاہ وقت کی خدمت میں بھیجے اور بادشاہ وقت کو یہ پھل اتنے پسند آئے کہ انھوں نے ایک بڑی جاگیر انعام میں دے کر اس درخت کو لے لیا ۔ یہ سارا باغ اسی زمین پر لگایا گیا تھا ، اس کے آبا واجداد نے کتنی کوشش کی کہ اس ذائقہ دار پھل کا ایک اور درخت اگا سکیں لیکن ممکن نہ ہوسکا خود بادشاہ وقت نے اپنے باغ میں اس کا تخم لگانے کی کوشش کی لیکن ان پھلوں کا کوئی درخت نہیں اگ سکا ۔ ہر موسم میں وہ کوشش کرتے لیکن رائیگاں جاتی ۔ اس کے بعد تو چوبیس گھنٹے اس درخت پر پہرہ بٹھادیا گیا ۔ درخت پر بور آتے ہی یہ پہرہ سخت ہو جاتا ۔ کسی کی مجال نہ تھی کہ نظر اٹھا کر ان پھلوں کی طرف دیکھتا ۔ پھر اس درخت کے گرد حصار کھینچ دیا گیا ۔ اس نسل کے بعد تمھارے ابا واجداد کی کسی نسل کا کوئی فرد اس درخت کے پھل نہیں چکھ سکا ۔ سارے کے سارے پھل شاہی محل میں پہنچ جاتے اور شاہی محل سے دوسری ریاستوں کو تحفے میں بھیجے جاتے ۔ تمھاری کئی نسلیں اس درخت کے پھل چکھنے کی خواہش کو سینے میں دبائے ختم ہو گئیں ۔

            کچر ایسی آندھی آئی کہ محل مسمار ہوگئے ۔ درخت نے بھی پھل دینا بند کر دیا شاہی خاندان کے کسی فرد نے اس درخت کو کٹوادیا اور یہ زمین تمھارے ابا و اجداد کو واپس کر دی ۔ تمھارے خاندان کے ہر فرد نے انتظار کیا کہ اس پیز سے کونپل پھوٹے اور پھر سے خوشحالی کے دن آجائیں ۔ کیوں کہ جب بھی اس پیڑ کی جڑوں کو اکھاڑنے کی کوشش کی گئی زمین میں جڑیں زندہ اور ہری بھری ملیں " معمر شخص نے جاتے ہوئے کہا " بیٹا کئے ہوئے درختوں پر مکان نہیں اتا دونوں ان دیواریں اٹھانے کا تصورکی بنانا چاہیے ۔ درختوں کو کاٹ کر دیواریں اٹھانے کا تصور ہی تباہ کن ہے ۔ " پھروہ معمر آدمی چلا گیا ۔ اس نے اپنے مکان کا نقشہ بدل دیا ۔ جہاں جہاں اسے جڑوں کی موجودگی کا گمان تھا اس حصے کو اس نے چھوڑ دیا اور پھر بنیادیں کھدوائی گئیں اور دیوار میں بننے لگیں ۔ ایک چھت بھی اس مکان پر لگ گئی ۔ مکان بنوانے کے بعد ایک بار اس نے اپنا عکس دیکھا تو وہاں کوئی اور تھا جس کے سر کے بال سفید ہوچکے تھے ۔ چہرے پر جھریاں تھیں وہ بڑی مشکل سے اس مسخ شدہ چہرے سے اپنا کھویا ہوا چہرہ تلاش کر سکا ۔ وہ بے حد اداس رہنے لگا ۔ سامنے والی زمین بے کار پڑی تھی جب کہ اب وہاں زمین کی قیمت بہت بڑھ گئی تھی ۔ اس نے سوچا کہ اس زمین کو فروخت کر دے لیکن اس واقعے کی اتنی شہرت ہو چکی تھی کہ کوئی بھی اس زمین کو خرید نے تیار نہ تھا ۔ مایوس ہو کر اس نے اس بارے میں سوچنا ہی چھوڑ دیا ۔ ایک صبح وہ ٹہل رہا تھا تو اس نے دیکھا کہ اس جگہ جہاں وہ کٹا ہوا درخت تھا وہاں ایک ننھا سا پودا نکل آیا ہے ۔ اس کی مسرت کی انتہا نہ رہی ۔ اس نے آس پاس کی زمین پاٹ دی اور دن رات اس پودے کی دیکھ بھال کرنے لگا ۔ شاید یہ پودا اسی درخت کا تسلسل تھا جس کے پھل کھانے کی حسرت میں اس کی کئی نسلیں ختم ہو گئیں ۔ وہ اس پودے کو سینچتا رہا ۔ بہت دور سے وہ میٹھے پانی کے کنویں سے پانی لاتا اور اس پودے کو پانی دیتا ۔ مسلسل دیکھ بھال سے یہ پودا بڑی تیزی سے بڑھنے لگا پھر اس کی حفاظت کےلیے کانٹوں کا حصار بنا دیا ۔اب پودا درخت بنتا جا رہا تھا ۔ اسے دیکھ دیکھ کر وہ خوش ہوتا رہا ۔ اس کی کمر جھکتی جارہی تھی ۔ اسے دو ہی فکریں تھیں ایک تو یہ کہ جلد سے جلد پودا درخت بن جائے دوسرے یہ کہ وہ اس کے پھل اپنے بچوں کے حوالے کر سکے کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ ان پھلوں کا سب سے زیادہ فائدہ اس کے بچوںکو ہوگا ۔

وه پودا درخت بنتا گیا لیکن بڑا عجیب و غریب درخت تھا ۔ بالکل سیدھا اس کی شاخیں نہیں نکلی تھیں ۔ اسے تشویش ہونے لگی کہ بغیر شاخوں کے پھل کیسے آئیں گے ؟ اب درخت اس کے مکان سے بھی اونچا ہو گیا تھا ۔ لیکن نہ تو اس درخت سے سایہ ہی ملتا تھا اور نہ کوئی پھل ہی آیا تھا ۔ اس کے بچوں نے اصرار کیا کہ وہ اس درخت کو گرا دے کیا فائدہ ایسے درخت کا جو سایہ دیتا ہے اور نہ پھل ۔!

        لیکن ایک موسم ایسا بھی آیا کہ اس درخت کی ایک چھوٹی سے ٹہنی پر کو ئل آمیٹھی اور اس کی کوک سن کو وہ آیا ۔ نظر اٹھا کر دیکھا تو درخت پر پھول آئے تھے وہ خوش ہو گیا ۔ ساری آبادی میں یہ بات پھیل گئی کہ اس درخت میں پھول آئے ہیں وہ بے حد خوش تھا ۔ پھر پھل بھی آیا ۔ لیکن ایک ہی پھل بہت اونچائی پر تھا وہ جب پھل پوری طرح پک گیا تو اس نے اپنے بیٹے سے کہا " اس درخت کا پھل اس دور کا سب سے میٹھا پھل تھا ۔ اس کا ذائقہ چکھنے کی حسرت میں میرے آباواجداد اس دنیا سے چلے گئے ۔ لیکن یہ پھل شاید اب تمھاری اور تمھارے بیٹے کی قسمت میں لکھا ہے ۔ بیٹا یہ پھل اب بہت خوشحالی لائے گا ۔ میں چاہتا ہوں کہ اس پھل کو تم اپنے ہاتھوں سے توڑو اور خود ہی اسے چکھو بھی ۔۔ " اس پھل کے پکنے کی شہرت ساری آبادی میں ہو گئی تھی ۔ شام کو دیکھتے ہی دیکھتے ایک جشن کی فضا بن گئی ۔ لوگ چپ چاپ وہاں جمع ہوتے گئے وہ سب دبی دبی زبان میں اس بوڑے کے عزم وارادے کی تعریفیں کر رہے تھے جب اُس علاقے کے سب ہی مرد اور عورتیں وہاں جمع ہو گئیں تو اس نے اپنے بیٹے سے کہا وہ درخت پر چڑھ کر پھل توڑے ۔ لیکن اس کا بیٹا بے بسی سے پھل کی طرف دیکھتا رہا اسے درخت پر چڑھنا نہیں آتا تھا ۔ بوڑھے کو پہلی بار احساس ہوا کہ اسے اپنے بیٹے کو درخت پر چڑھنا سکھانا چاہیے تھا اس نے وہاں پر جمع لوگوں سے کہا ان میں سے کوئی درخت پر چڑھے اور پھل توڑ کر اس کے حوالے کر دے ۔ تب مجمع سے ایک ننگا دھرنگا بچہ باہر آیا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ ایک بندر کی طرح درخت پر چڑھ گیا اس نے پھل توڑا اور تنے سے پیر چپکا کر پھسلتا ہوا نیچے آگیا ۔ جب پھل بوڑھے کے ہاتھوں میں پہنچا تو اس کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو چمکنے لگے ۔

       اس نے مجمع سے کہا ۔ " یہ پھل ہمارے بچوں کے لیے ہوگا ۔ ابھی ہمارے پاس ایک پھل ہے کل اور شاخیں نکلیں گی اور پھل آئیں گے ۔ اس دور کے بادشاہوں نے ہماری پچھلی نسل کو اور ہمیں اس پھل سے محروم کر رکھا تھا اب ایسا نہیں ہوگا " ان سبھوں نے خوشی کے نعرے لگائے ۔ اب وہ بوڑھا اس چھوٹی سی آبادی کا بے تاج بادشاہ بن گیا تھا ۔ کیوں کہ ایک تو وہاں پر موجود تمام لوگوں نے اسی سے زمین خریدی تھی اور دوسرے اب وہ زمین کے سب سے اچھے ٹکڑے کا مالک بھی تھا ۔ اس نے پھل کو کاٹنا ۔ اس کی بوندیں زمین پر گریں اور وہاں پر موجود کئی لوگوں کے منہ میں پانی بھر آیا ۔ " یہ پھل ہمارے بچوں کے لیے ہے " اس نے کہا ۔ آبادی کے سارے بچوں کی گنتی کی گئی ۔ اس نے اس پھل کے برابر ،برابر ٹکڑے کئے ۔ اور سارے بچوں میں بانٹ دیا ۔ بیٹے بتاؤ ذائقہ کیسا ہے ۔ اس نے بچوں سے پوچھا ۔ لیکن بچے خاموش رہے ۔ اس نے ایک ایک بچے سے ذائقہ کے بارے میں پوچھا ۔ لیکن کسی بچے نے کچھ نہیں بتایا ۔ اب وہ سب مل کر بچوں سے ذائقہ کے بارے میں دریافت کرنے لگے ۔ ایک شور اٹھا ۔ تھوڑی دیر بعد انھیں احساس ہوا کہ صرف وہی شور کر رہے ہیں بچے ان کی بات سمجھنے سے قاصر ہیں اور وہ سارے بچے گونگے اور بہرے ہوچکے ہیں ۔ " مارو بوڑھے کو " کسی نے آواز لگائی ۔ وہ سب اسے پیٹنے لگے ۔ تب آبادی کا سب سے معمر آدمی پھر ایک بار وہاں آیا ۔ اس نے سب کو روکا ۔اسے مارنے سے کیا فائدہ ۔ یہ سب اس منحوس درخت کی وجہ سے ہوا ہے ۔ " انھوں نے سوچا معمر آدمی ٹھیک ہی تو کہہ رہا ہے ۔ بوڑھے کا کیا قصور ؟ گرادو اس درخت کو کئی نوجوان چینے ۔

نہیں ۔۔ شہرو ۔۔۔ " معمر آدمی نے کہا " درخت گرے گا تو کئی گھر مسمار ہو جائیں گے ۔ اسے تھوڑا تھوڑا کر کے کاٹ دو ۔ وہ سب کہیں سے آرے لے آئے ۔ تھوڑا تھوڑا کر کے انھوں نے درخت کاٹنا شروع کیا ۔ جب درخت استنا کٹ گیا کہ ان کے گھروں کو خطرہ نہیں رہا تو وہ سب چلے گئے ۔ بوڑھا آدمی تنہا رہ گیا ۔ اس کا بیٹا اور پوتا بھی اس بھیڑ کے ساتھ غائب ہوگئے تھے ۔ معمر آدمی بھی اب وہاں نہیں تھا ۔ اس نے آری اٹھائی اور درخت کے تنے پر چلانےلگا۔اب کوئی اس مکان کے پاس سے نہیں گذرتا ۔ کیوں کہ ہر وقت ایسی آواز میں آتی ہیں جیسے کوئی درخت کے تنے پر آری چلا رہا ہو ۔

 

افسانہ "حنظل" کا خلاصہ

کا افسانہ "حنظل" (کڑوا پھل) جدید اردو افسانوی ادب میں ایک گہری علامتی، سیاسی اور سماجی معنویت رکھنے والی تحریر ہے۔ یہ افسانہ وراثت کے زہر، نظام کے استحصال اور نسلِ نو کی محرومیوں کا ایک دردناک نوحہ ہے۔افسانے کا آغاز شہر کی زمین تنگ ہونے اور لوگوں کے ویرانوں کی طرف ہجرت سے ہوتا ہے۔ مرکزی کردار (بوڑھا) اپنے آبا و اجداد کے اس باغ میں واپس آتا ہے جو اب ایک ویرانہ بن چکا ہے۔ وہ اپنے بزرگوں پر غصہ کرتا ہے کہ انہوں نے اس کے لیے شہر میں کچھ نہ چھوڑا، بلکہ ایک سخت زمین اور سوکھے درختوں کا بوجھ اس کے کندھوں پر ڈال دیا۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ یہی زمین اس کی غربت دور کرنے کا سبب بنتی ہے اور وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہاں اپنا مکان تعمیر کر سکے۔اس کے حصے میں آنے والے ٹکڑے میں ایک شکستہ دیوار اور ایک کائی سے بھرا ہوا پرانا کنواں ہے۔ یہ شکستہ دیواریں اور کائی دراصل اس کے خاندان کے زوال اور ماضی کے تعفن کی علامتیں ہیں۔

جب وہ مکان کی بنیاد کھدوانے کا کام شروع کرتا ہے، تو اسے ایک عجیب و غریب مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ زمین کے اندر "جڑوں کا ایک جال" پھیلا ہوا ہے۔ یہ جڑیں اتنی سخت اور گہری ہیں کہ مزدوروں کے ہتھیار ٹوٹ جاتے ہیں اور وہ کام چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں۔ کئی بار مزدور بدلے جاتے ہیں، مزدوری بڑھائی جاتی ہے، مگر جڑیں اکھڑنے کا نام نہیں لیتیں۔یہ جڑیں دراصل "ماضی کی روایات اور استحصالی نظام" کی علامت ہیں۔ بوڑھا ایک جدید مکان (مستقبل) تعمیر کرنا چاہتا ہے، لیکن ماضی کی جڑیں اسے زمین میں قدم جمانے نہیں دے رہیں۔بستی کا ایک معمر آدمی بوڑھے کو اس زمین کی حقیقت بتاتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ یہاں ایک ایسا درخت تھا جس کا پھل ملک بھر میں مشہور تھا۔ وہ اتنا میٹھا تھا کہ بادشاہِ وقت نے اسے اپنی جاگیر بنا لیا تھا۔ کئی نسلوں تک بوڑھے کے آبا و اجداد اس درخت کے پھل کے لیے ترستے رہے، لیکن بادشاہ کے پہرے اتنے سخت تھے کہ کسی کی مجال نہ تھی کہ پھل کی طرف نظر اٹھا کر بھی دیکھے۔ بادشاہ نے اس درخت کا تخم (بیج) کہیں اور لگانے کی کوشش کی، مگر وہ کہیں اور نہ اگ سکا۔پھر ایک آندھی آئی، شاہی محل مسمار ہو گئے اور درخت نے بھی پھل دینا بند کر دیا۔ شاہی خاندان کے کسی فرد نے غصے میں آ کر وہ درخت کٹوا دیا اور زمین واپس کر دی۔ معمر آدمی بوڑھے کو نصیحت کرتا ہے کہ "کٹے ہوئے درختوں پر مکان نہیں بنتا، دیواریں اٹھانے کا تصور ہی تباہ کن ہے۔"

         بوڑھا مکان کا نقشہ بدل کر تدبیر کرتا ہے اور بالاآخر ایک چھت ڈالنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ لیکن وقت اسے بوڑھا کر دیتا ہے، اس کے بال سفید ہو جاتے ہیں اور وہ اداس رہنے لگتا ہے۔ ایک صبح وہ دیکھتا ہے کہ اسی کٹے ہوئے درخت کے تنے سے ایک ننھی سی کونپل پھوٹ رہی ہے۔ یہ دیکھ کر اس کی خوشی کی انتہا نہیں رہتی۔ اسے لگتا ہے کہ اس کی نسلوں کی محرومی اب ختم ہونے والی ہے۔وہ دن رات اس پودے کی نگہداشت کرتا ہے، میلوں دور سے میٹھا پانی لا کر اسے سینچتا ہے اور اس کے گرد کانٹوں کا حصار بنا دیتا ہے۔ اس کے لیے یہ پودا صرف ایک درخت نہیں بلکہ "آنے والی نسلوں کی خوشحالی کا خواب" ہے۔پودا بڑی تیزی سے بڑھتا ہے لیکن وہ ایک عجیب درخت بنتا ہے۔ اس کی کوئی شاخ نہیں نکلتی، وہ صرف ایک تنے کی صورت میں اوپر کی طرف جاتا ہے۔ بوڑھے کے بچے اسے بے سود سمجھ کر گرانے کا مشورہ دیتے ہیں کیونکہ وہ نہ سایہ دیتا ہے اور نہ پھل۔ مگر بوڑھا پرامید رہتا ہے۔ بالاآخر ایک موسم میں درخت پر پھول آتے ہیں اور پھر ایک ہی پھل، بہت اونچائی پر نمودار ہوتا ہے۔

بوڑھا اپنے بیٹے سے کہتا ہے کہ یہ اس دور کا سب سے میٹھا پھل ہے جس کی حسرت میں اس کے بزرگ مر گئے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کا بیٹا اسے توڑے اور چکھے۔

پھل پکنے کی خبر پوری بستی میں پھیل جاتی ہے اور ایک جشن کا سماں پیدا ہو جاتا ہے۔ بوڑھا اپنے بیٹے کو درخت پر چڑھنے کا حکم دیتا ہے، لیکن اسے احساس ہوتا ہے کہ اس کا بیٹا درخت پر چڑھنا جانتا ہی نہیں ہے۔ یہ بوڑھے کی تربیت کی ناکامی اور "مستقبل کی نسل کی نااہلی" کی علامت ہے۔ آخر کار بستی کا ایک "ننگا دھرنگا بچہ" (جو فطرت سے قریب ہے) بندر کی طرح درخت پر چڑھ کر وہ پھل توڑ لاتا ہے۔جب پھل بوڑھے کے ہاتھ میں آتا ہے، تو وہ اسے اپنی بستی کے بچوں میں بانٹنے کا اعلان کرتا ہے۔ وہ اسے اپنی زمین کا "بے تاج بادشاہ" محسوس کرنے لگتا ہے کیونکہ اب اس کے پاس وہ "شاہی ثمر" ہے جو کبھی غریبوں کے لیے شجرِ ممنوعہ تھا۔بوڑھا پھل کاٹتا ہے، اس کے ٹکڑے کرتا ہے اور بستی کے تمام بچوں میں بانٹ دیتا ہے۔ وہ اشتیاق سے بچوں سے ذائقہ پوچھتا ہے، مگر کوئی بچہ جواب نہیں دیتا۔ تھوڑی ہی دیر میں بستی والوں پر یہ ہولناک انکشاف ہوتا ہے کہ وہ پھل میٹھا نہیں بلکہ "حنظل" (نہایت کڑوا اور زہریلا) تھا۔ اسے کھاتے ہی بستی کے تمام بچے گونگے اور بہرے ہو چکے ہیں۔یہ افسانے کا سب سے بڑا المیہ اور نقطہ عروج ہے۔ وہ خواب جو نسلوں سے دیکھا جا رہا تھا، ایک زہریلی حقیقت بن کر سامنے آتا ہے۔ بچے اس لیے گونگے بہرے ہو گئے کہ وہ نظام جس کی جڑوں سے یہ درخت پھوٹا تھا، وہ خود مسموم (زہریلا) تھا۔بستی والے غصے میں بوڑھے پر پل پڑتے ہیں اور اسے مارنے لگتے ہیں۔ معمر آدمی دوبارہ آتا ہے اور کہتا ہے کہ قصور بوڑھے کا نہیں بلکہ اس "منحوس درخت" کا ہے۔ لوگ اس خوف سے درخت کو جڑ سے نہیں کاٹتے کہ وہ ان کے گھروں پر گر جائے گا، بلکہ اسے تھوڑا تھوڑا کر کے آرے سے کاٹنا شروع کرتے ہیں۔بوڑھا تنہا رہ جاتا ہے۔ اس کا بیٹا اور پوتا بھی اسے چھوڑ کر ہجوم میں شامل ہو جاتے ہیں۔ بوڑھا اس کٹے ہوئے تنے پر خود آری چلانے لگتا ہے۔ بستی والے اب اس کے مکان کے پاس سے نہیں گزرتے کیونکہ وہاں سے ہر وقت آری چلنے کی وہ کربناک آواز آتی ہے جو ناکام خوابوں اور ادھوری زندگیوں کا ماتم ہے۔

 

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.