Swami Ramanand Teerth Marathwada University, Nanded.
سوامی رامانند تیر تھ مراٹھواڑہ یو نیور سٹی ، ناندیڑ۔
Faculty of Humanities
شعبہ انسانیات
Effective from Academic year 2024 – 2025
روبہ عمل تعلیمی سال-2024-2025
(As per NEP-2020)
نئی تعلیمی پالسی 2020کے مطابق))
B.A., B.Com., B.Sc. First Year, Semester- I
بی۔اے۔،بی ۔کام۔، بی ایس ۔سی۔سال اوّل(میقات اوّل)
Second Language-I (Urdu Shayeri)
ثانو ی زبان اُردو ( اُردو شاعری)
غزل کی تعریف ،فن اور خصوصیات:
اردو میں متعدد اصناف شاعری پائی جاتی ہیں۔ ان تمام اصناف سخن میں غزل کو سب سے زیادہ مقبولیت حاصل ہے ۔ اسی لیے کم وبیش ہر شاعر نے غزل میں طبع آزمائی کی ہے۔غزل کے لغوی معنی " با زنان گفتن" یعنی عورتوں سے باتیں کرنے کے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں غزل میں صنف نازک یا محبوب سے اپنے جذبات عشق و محبت کا اظہار، اس کے حسن و جمال کی تعریف، رفتار و گفتار کا انداز ، آرائش وزیبائش کی دلکشی یا فراق و وصال کی باتیں کی جاتی ہیں لیکن صدیوں تک ارتقائی منزلیں طے کرنے کے بعد آج جب ہم غزل کے موضوعات اور مضامین کا جائزہ لیتے ہیں تو تدریجی طور پر غزل کا دائرہ کار وسیع سے وسیع تر ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ آج کے زمانے میں غزل صرف محبوب سے گفتگو کرنے کا نام نہیں۔ بلکہ اس میں فلسفہ و تصوف، اخلاق و حکمت اور عشق و محبت کے علاوہ بے شمار موضاعات اور مضامین کو اپنے دامن میں سمو لینے کی گنجائش موجود ہے۔اصطلاح شاعری میں غزل اس صنف شاعری کو کہتے ہیں جس کا ہر شعر ایک اکائی اور وحدت کی حیثیت رکھتا ہے اور معنوی اعتبارسے ایک مکمل نظم ہی ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں غزل کے دو مصرعے ایک مکمل خیال کو پیش کرنے کے لیے کافی ہیں، مثلاَ:
دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے غالؔب
غزل عربی زبان کا لفظ ہے۔ جوعربی قصیدے کے اولین جزو تشبیب“ سے مشتق و ماخوذ ہے۔ قصیدہ کے دیگر اجزا جیسے گریز، مدرح ، دعا وغیرہ کے مقابلہ میں یہ حصہ یا جزر وسب سے دلکش اور جاندار ہوتا ہے۔ تشبیب میں عربی شعراء عام طور پر موسم بہار، مناظر قدرت، محبوب کا سراپا، اس کے حسن و جمال، آرائش و زیبائش اور کبھی اس کی اونٹنی کی تعریف کرتے ہیں۔ عربی قصیدے سے تشبیب کو علیحدہ کر کے غزل ایجاد کی۔ فارسی شاعری میں اس نومولود صنف سخن نے صدیوں تک اپنے ارتقاء اور نشو ونما کی بے شمار منزلیں طے کیں۔ جہاں تک صرف غزل کے اردو میں آغاز اور نشونما کا تعلق ہے، اردو شعراء نے دیگر اصناف شاعری کے تتبع میں بنی بنائی شکل میں غزل غزل کو بھی فارسی شاعری سے حاصل کیا اور اپنے ابتدائی دور سے ہی صنف غزل کے سر پر شہرت اور مقبولیت کا تاج رکھا۔ اردو کے قدیم ترین دور میں مذہبی رہنماؤں اور صوفیائے کرام نے اس صنف کا اپنی خانقاہوں میں استقبال کیا ، بعد میں دکنی سلاطین نے اسے شاہی محلات کی زینت بنایا اور پھر عوام نے جی کھول کر غزل کی آو بھگت کی اور اس صنف میں داد سخنوری کا حق ادا کیا۔ اس طرح غزل ابتداء سے دوبرحاضر تک اردو شاعری کی آبرو بنی رہی۔
؎ کل بھی سرتاج بھی شاعری کی یہی
آبرو ئے سخن آج بھی ہے غزل اثرؔ
ہیئت کے اعتبار سے غزل کے تمام اشعار ایک ہی بحر اور ایک ہی قافیہ کی پابندی کرتے ہیں۔ پہلے شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتے ہیں۔ اس کے بعد ہر شعر کے ثانی مصرعے میں کسی قافیہ دوردیف کا التزام ہوتا ہے اور آخری شعر میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے۔ ہیت Fom کے اعتبار سے غزل کے اجزائے ترکیبی چار ہیں۔ ا مطلع ۲۔ قافیہ 3 ردیف 4 مقطع غزل کے پہلے شعر کو جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ وہم ردیف ہوتے ہیں مطلع کہا جاتا ہے۔ مطلع کی خاص لطافت اور خوش آہنگی ، مصرعوں کے ہم قافیہ ردیف ہونے میں پوشیدہ ہیں ۔ مطلع کے بعد سارے اشعار میں پہلا مصرعہ قافیہ کا پابند نہیں ہوتا لیکن تمام مصرعہ ثانی ہم قافیہ دوردیف ہوتے ہیں۔ درج ذیل اشعار ملاحظہ کیجیے۔
ہستی اپنی حباب کی سی ہے
نمائش سراب کی سی ہے
نازکی اس کے لب کہ کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
بار بار اس کے در پہ جاتا ہوں
حالت اس اضطراب کی سی ہے
میں جو بولا ، کہا کہ یہ آواز
اسی خانہ خراب کی سی ہے
میر ان نیم باز آنکھوں میں
ساری مستی شراب کی ہی ہے
اس غزل کا پہلا شعر مطلع کہلاتا ہے۔ کیوں کہ اس شعر کے دونوں مصرعوں میں حباب اور سراب قافیہ ہیں اور اسی طرح ردیف کی کی ہے ہے جو تمام اشعار کے قافیوں سے منسلک ہے۔ دیگر اشعار کے قافیے اضطراب، خانہ خراب گلاب اور شراب ہیں۔ اگر ایک سے زائد ابتدائی اشعار کے دونوں مصرعوں میں قافیہ اور ردیف یا صرف قافیہ ہو تو ایسے اشعار کو حسن مطلع یا مطلع ثانی کہتے ہیں۔ صنف غزل کے اشعار میں ردیف ایک اضافی چیز ہے۔ لیکن یہ اس قدر کثرت سے استعمال کی جاتی رہی ہے کہ اس کی حیثیت بھی غزل کی ہیئت کے ایک مستقل جزو کی سی ہو گئی ہے۔ بغیر ردیف کے بھی غزل کہی جاتی ہے، جسے غیر مردف غزل کہتے ہیں۔ علامہ اقبالؔ کی ایک غیر مردف غزل کے چند اشعار ملاحظہ ہوں ۔
غزل
تن کی دولت چھاؤں ہے آتا ہے دھن جاتا ہے دھن
تن کی دولت چھاؤں ہے آتا ہے دھن جاتا ہے دھن
پھول ہیں صحرا میں یا پریاں قطار اندر قطار
اودے اودے نیلے نیلے پیلے پیلے پیرہن
برگ گل پر رکھ گئی شبنم کا موتی باد صبح
اور چمکاتی ہے اس موتی کو سورج کی کرن
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن
من کی دنیا من کی دنیا سوز و مستی جذب و شوق
تن کی دنیا تن کی دنیا سود و سودا مکر و فن
من کی دولت ہاتھ آتی ہے تو پھر جاتی نہیں
تن کی دولت چھاؤں ہے آتا ہے دھن جاتا ہے دھن
پانی پانی کر گئی مجکو قلندر کی یہ بات
تو جھکا جب غیر کے آگے نہ من تیرا نہ تن
ان اشعار کے مطلعے اور دوسرے اشعار کے مصرعہ ثانی میں صرف قافیہ دھن ، من، چمن،پرہن،کرن ،بن ،فن،بن،تن، استعمال ہوئے ہیں۔ ردیف کا استعمال کہیں نہیں ہوا۔ غزل کا ہر شعر اپنی جگہ آزاد ہوتا ہے لیکن غزلیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کے تمام اشعار میں تسلسل اور ارتباط ہوتا ہے ایسی غزلوں کو غزل مسلسل کہتے ہیں۔ دکنی اردو غزلوں میں مربوط غزل کی متعدد مثالیں مل جاتی ہیں۔ پہلے صاحب دیوان شاعرمحمد قلی قطب شاہ کے علاوہ غواصی، عبد اللہ قطب شاہ علی عادل شاہ شاہی اور دوسرے شاعروں کے دیوان میں اس قبیل کی غزلوں کو بعض محققین نے اپنی طرف سے عنوان لگا کر نظم کے دائرے میں لائے ہیں۔ دکنی اور معیاری اردو کے بعد مسلسل غزلیں شاذ و نادر ہی ملتی ہیں۔
بعض اوقات شعراء غزل میں کچھ اشعار کو ایک دوسرے سے مربوط کر دیتے ہیں جنہیں قطعہ بند کہتے ہیں۔ غزل میں قطعہ لانا شاعر کا بجز ہے کہ وہ ایک خیال کو ایک شعر میں مکمل نہ کر سکا۔ مثال کے طور پر میر تقی میر کے درج ذیل اشعار ملاحظہ ہوں۔ غزل کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی غنائیت ہے۔ اس صنف میں جذبات و احساسات کو موثر طریقے سے پیش کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ غزل کے اشعار میں منتشر خیالی بھی ہوتی ہے، اشماریت اور ایمائیت بھی۔ ایک شعر میں محبوب کے فراق کی بات کہی جاتی ہے تو دوسرے شعر میں وصال کی۔ ایک شعر سیاست پر ہو سکتا ہے تو دوسرا فلسفے پر ۔ ایک میں دنیا کی نا پائیداری کا ذکر ہوتا ہے تو دا مرے میں دنیا کی مسرتوں اور خوشیوں کو سمیٹ لینے کا۔ ایک طرح دیکھا جائے تو غزل کا مطلع در اصل نقطہ آغاز ہے اورمقطع نقطہ اختتام۔ جس مخصوص ذہنی رو اور موڈ کے تحت شاعر نے یکے بعد دیگرے اشعار نظم کئے تھے، ان کا سلسلہ اب ختم ہوا۔ غزل میں مطلع اور مقطع کا ایک نفسیاتی جواز ضرور ہے۔ مطلع کے معنی ہے طلوع ہونے کی جگہ، لہذا مطلع وہ شعر ہوا جس سے غزل کا آغاز ہورہا ہے۔ غزل کا پہلا شعر یعنی جس شعر سے غزل کی ابتدا ہوتی ہے، اسے مطلع کہا جاتا ہے۔ خیال رہے کہ لفظ مطلع کے معنی ” طلوع ہونے یا نکلنے کی جگہ کے ہیں۔ چونکہ غزل مطلع ہی سے شروع ہوتی ہے، اس لیے پہلے شعر کا مطلع کہلانا بہت مناسب اور بامعنی ہے۔ اسی کے ساتھ مطلعے کے لیے یہ شرط بھی ہے کہ اس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں۔ اس سے یہ یقین ہو جاتا ہے کہ اس غزل کی بحر کیا ہوگی۔ اس کے قافیہ ردیف کیا ہوں گے۔ مقطع کے معنی ہیں قطع ہونے کی جگہ ۔ اصولی طور پر غزل کے آخری شعر کو مقطع کہا جاتا ہے ، کیوں کہ مقطع“ کے معنی ہیں وہ جگہ جہاں کوئی چیز منقطع ہو جائے یا کاٹ دی جائے۔ چونکہ آخری شعر پر غزل کا خاتمہ ہوتا ہے اس لیے یہ شعر مقطع کہلاتا ہے۔ یہاں یہ حقیقت بھی پیش نظر رہے کہ فارسی اور اردو میں اکثر شعرانے غزل کے آخری شعر میں اپنے تخلص کے استعمال کا التزام کیا ہے، اس بنا پر مقطع کے لیے بڑی حد تک یہ شرط بھی لازم ہوگئی کہ اس شعر میں شاعر کا خلص استعمال ہوا ہو ۔ اب عام طور سے مقطع اس شعر کو سمجھا جاتا ہے جو غزل کا آخری شعر ہو اور اس میں تخلص لا یا گیا ہو۔ آخری شعر میں شاعر کے تخلص سے انداز وہ ہو جاتا ہے کہ اب اس نے اپنی بات ختم کر دی ہے۔ ایک ہی خیال و موضوع کے تسلسل کی تمام اشعار میں پابندی ضروری نہیں۔ تاہم وزن کا ایک مخصوص مزاج ہوتا ہے۔ جو تمام اشعار میں پایا جاتا ہے۔ یہ درست ہے کہ غزل کو ہم کسی ایک موضوع میں قید نہیں کر سکتے ۔ تا ہم تمام اشعار کو ایک رنگ میں رنگ دینا ضروری ہے۔ غزل کے تمام اشعار مختلف الخیال ہونے کے باوجود ایک ہی پہنی رد اور موڈ کے دھاگے میں پر دئے ہوئے ہوتے ہیں۔
چونکہ غزل کے دو مصرعوں میں ایک مکمل اور بڑے سے بڑا خیال پیش کر دیا جاتا ہے۔ اس لئے اس کی سب سے اہم منفی خصوصیت ایجاز و اختصار ہے۔ یعنی کم سے کم الفاظ میں بڑی سے بڑی بات کہہ دی جائے۔ اس کے لئے شاعر کا قادر الکلام ہونا ضروری ہے۔ اس لئے غزل کا شاعر علامتوں، کنایوں، اشاروں تشبیہوں اور صنائع بدائع کا اپنے اشعار میں کثرت سے استعمال کرتا ہے۔ ایجاز و اختصار سے بھی اہم صفت یہ ہے کہ شعر کے دونوں مصرعے آپس میں پوری طرح گتھے ہوئے ہوں ۔ اور ایک لفظ دوسر۔ لفظ دوسرے لفظ کی طرف اشارہ کرتا ہو۔
میر تقی میؔر
محمدتقی نام تاریخ ولادت1135ھ مطابق1722ء۔ شرفائے اکبر آباد سے تھے۔ والد کے انتقال کے بعدتقریبا تیرہ برس کی عمر میں دہلی کا سفر کیا، وہاں امیر الامراء صمصام الدولہ نے ان پر مہربان ہوکر ایک روپیہ روز مقرر کردیا ۔ جب سےآگرہ واپس آگئے اور یہ روزینہ انہیں صمصام الدولہ کی وفات1151ھ1729تک ملتا رہا ۔ اب یہ آمد بند ہوئی تو پھر یہ پریشان ہوکر غالباً 17سال کی عمر میں دوبارہ دلی پہنچے اور اپنے سوتیلے ماموں خان آرزو کے یہاں مقیم ہوئے اور ان کے یہاں ادب و انشاء کی تعلیم خان آرزو اور میر جعفر وغیرہ سے حاصل کی اور سعادت امروہوی وغیرہ کی ترغیب سے ریختہ گوئی شروع کی ۔کچھ عرصہ بعد خان آرزو سے ناراضگی ہوگئی اور یہ علیحدہ رہنے لگے اب چوں کہ اپنی شاعری کے باعث معروف ہوچکے تھے اس لیے مختلف رؤساء انہیں وقتاً فوقتاً ملازمت سے نوازتے رہے۔ مثلا رعایت خاں، جاوید خاں خواجہ سرا، دیوان مہا نرائن راجہ جگل کشور، مہاراجہ ناگر مل وغیرہ جن کے ساتھ یہ بھرتپور، آگرہ اور راجپوتوں کے دیگر مقامات پر دس گیارہ سال گھومتے رہے ۔ اس عرصہ میں دلی افغانوں، جاٹوں اور مرہٹوں کے حملوں کے باعث تباہ و برباد ہوچکی تھی ۔ آخر کار جب سوداؔ کا لکھنؤ میں انتقال ہوگیا تو 1196ھ مطابق1782ء میں یہ لکھنؤ آگئے۔ اور نواب آصف الدولہ نے تین سوروپے ماہ وار مقرر کردیے۔ لیکن چونکہ مزاج میں نزاکت بھی بہت تھی اس لیے نواب سے نہ نبھی لیکن بہ قول مولف گلشن ہند، تنخواہ میں کوتاہی نہیں ہوئی اور آصف الدولہ کے بعد (1212ھ مطابق1797ء )میں انتقال کیا ۔ چونکہ میر کی ابتدائی زندگی بڑی مصیبتوں کی زندگی تھی یعنی لڑکپن ہی میں والدین وفات پاگئے ۔ جوانی میں قریبی عزیزوں نے مروت سے آنکھ چرائی اس کے علاوہ جنون میں گرفتار ہوئے اور کافی عرصے تک گرفتار رہے۔ بے زری الگ، ملک کی حالت ابتر الگ غرض کہ ذاتی اور ملکی ا ثرات نے ان کو اتنا مایوس اور پژمردہ بنادیا کہ طبیعت ثانحہ بن کر ان کی روح میں سرایت کرگئی اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قائم ہوگئی۔ان کی تمام آرزوؤں اور حسرتوں کا خون ہوگیا اور یہی خون ہے جو ہم ان کے کلام میں جاری و ساری دیکھتے ہیں چوں کہ غزلوں میں گہرے غم و اندوہ ہجرومصائب کے معاملات ایک خاص لطف پیدا کردیتے ہیں اس لیے میر کی طبیعت کے لیے غزل مناسب ترین ٹھہری، قواعد اور زبان پرقابو تھا ہی طبع نازک دروں نے اس پر اور صیقل کردی نتیجہ یہ ہوا کہ غزل گوئی میں سرتاج الشعراء ٹھہرے اور آج تک ان کا پایہ اس صنف غزل میں اولین ہے ۔ { بحوالہ : ریختہ}
غزل
ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا
دل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا
سم جو کھائیے تو طالع زلیخا کی
عزیز مصر کا بھی صاحب اک غلام لیا
خراب رہتے تھےمسجد کے آگے مے خانے
نگاہ مست نے ساقی کی انتقام لیا
وہ کج روش نہ ملا راستے میں مجھ سے کبھی
نہ سیدھی طرح سے ان نے مرا سلام لیا
مزا دکھاویں گے بے رحمی کا تری صیاد
گر اضطراب اسیری نے زیر دام لیا
مرے سلیقے سے میری نبھی محبت میں
تمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا
اگرچہ گوشہ گزیں ہوں میں شاعروں میں میرؔ
پہ میرے شور نے روئے زمیں تمام لیا
مرزا اسد اللہ خان غالبؔ
نجم الدولہ، دبیر الملک، مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب بہادر نظام جنگ (1797-1869) اردو زبان کے سب سے بڑے شاعروں میں ایک سمجھے جاتے ہیں۔ یہ تسلیم شدہ بات ہے کہ 19 ویں صدی غالب کی صدی ہے۔ جبکہ 18 ویں میر تقی میر کی تھی اور 20 ویں علامہ اقبال کی۔ غالب کی عظمت کا راز صرف ان کی شاعری کے حسن اور بیان کی خوبی ہی میں نہیں ہے۔ ان کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ زندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جا کر سمجھتے تھے اور بڑی سادگی سے عام لوگوں کے لیے بیان کر دیتے تھے۔ غالب جس پر آشوب دور میں پیدا ہوئے اس میں انہوں نے مسلمانوں کی ایک عظیم سلطنت کو برباد ہوتے ہوئے اور باہر سے آئی ہوئی انگریز قوم کو ملک کے اقتدار پر چھاتے ہوئے دیکھا۔ غالباً یہی وہ پس منظر ہے جس نے ان کی نظر میں گہرائی اور فکر میں وسعت پیدا کی۔ غالب 27 دسمبر 1797ء کو کالا محل، آگرہ میں پیدا ہوئے۔ مشہور پاکستانی ماہر فلکیات سید صمد حسین رضوی (متوفی 2009ء) کی تحقیق کے مطابق غالب 8 جنوری 1797ء کو پیدا ہوئے تھے۔ غالب کے دادا مرزا قُوقان بیگ ہندوستان آمد کے بعد چند دن لاہور میں مقیم رہے اور پھر دہلی میں شاہی ملازمت اِختیار کر لی۔ کچھ عرصے بعد یہاں سے مستعفی ہو کر مہاراجا جے پور کے پاس نوکری قبول کر لی اور آگرہ میں سکونت اِختیار کی۔[4] 1795ء یا 1796ء میں غالب کے والد مرزا عبد اللہ بیگ خان کا عقد آگرہ کے ایک فوجی افسر خواجہ غلام حسین خان کی بیٹی عزت النساء بیگم سے ہوا۔ آگرہ میں ہی اِن دونوں سے غالب پیدا ہوئے۔ آگرہ میں 1799ء میں غالب کے چھوٹے بھائی مرزا یوسف علی بیگ خان پیدا ہوئے جو 1857ء کی جنگ آزادی کے دوران 18 اکتوبر 1857ء کو قتل ہو گئے تھے۔ غالب کے والد مرزا عبد اللہ بیگ خان ریاست الور میں ملازم تھے اور وہاں 1802ء میں راج گڑھ کے مقام پر ایک جھڑپ میں قتل ہوئے جبکہ غالب کی والدہ کے متعلق آثار و قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جنوری 1840ء تک بقیدِ حیات تھیں۔1802ء میں والد کی وفات کے بعد غالب کے چچا مرزا نصر اللہ بیگ خان اُن کے سرپرست بنائے گئے جو مرہٹوں کی جانب سے آگرہ کے قلعہ دار تھے۔ 18 اکتوبر 1803ء کو جب آگرہ پر انگریزی افواج نے حملہ کیا تو مرزا نصر اللہ بیگ خان نے قلعہ آگرہ لارڈ لیک کے حوالے کر دیا جس پر انگریزی افواج آگرہ میں داخل ہوگئیں اور مرہٹوں کا اثر ختم ہو گیا۔ لارڈ لیک نے مرزا نصر اللہ بیگ خان کو 1700 روپئے مشاہدے کے ساتھ چار سو گھڑسواروں کا رِسالدار مقرر کر دیا۔ اپریل 1806ء میں مرزا نصر اللہ بیگ خان ہاتھی سے گر کر زخمی ہوئے اور انتقال کرگئے۔ اُن کے پسماندگان میں غالب اور اُن کے چھوٹے بھائی مرزا یوسف علی بیگ خان بھی شامل تھے۔4 مئی 1806ء کو نواب احمد بخش خان‘ نواب ریاست فیروزپور جِھرکا نے انگریزوں سے سفارش کرکے پسماندگان کا وظیفہ دس ہزار روپئے مقرر کروا دیا جس میں غالب کی دادی‘ تین پھوپھیاں اور چھوٹا بھائی بھی شامل تھا۔ 7 جون 1806ء کو وظیفہ کی یہ رقم دس ہزار سے کم کرکے پانچ ہزار کردی گئی۔ابتدائی ماخذوں سے پتا چلتا ہے کہ غالب کی شعرگوئی کا آغاز 1807ءر اولین تخلص اسد تھا لیکن بعد ازاں اُنہوں نے ایک اور شاعر میر اَمانی اسد سے کلام کی مشابہت کے بعد اپنا تخلص غالب اختیار کر لیا تاہم شاعری میں کبھی کبھی اسد بطور تخلص کے ملتا ہے۔ 1816ء سے غالب بطور تخلص کے استعمال کرنا شروع کیا جو تا وقت آخر جاری رہا۔ { بحوالہ :وکیپیڈیہ}
غزل
دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں
خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں میں
کیوں گردش مدام سے گھبرا نہ جاے دل
انسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں
یارب زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لیے
لوح جہاں پہ حرف مکرر نہیں ہوں میں
حد چاہیے سزا میں عقوبت کے واسطے
آخر گناہ گار ہوں کافر نہیں ہوں میں
کس واسطے عزیز نہیں جانتے مجھے
لعل و زمرد و زر و گوہر نہیں ہوں میں
رکھتے ہو تم قدم مری آنکھوں سے کیوں دریغ
رتبے میں مہر و ماہ سے کم تر نہیں ہوں میں
کرتے ہو مجھ کو منع قدم بوس کس لیے
کیا آسمان کے بھی برابر نہیں ہوں میں
غالبؔ و ظیفہ خوار ہو دو شاہ کو دعا
وہ دن گئے کہ کہتے تھے نوکر نہیں ہوں میں
سید علی محمد شاد ؔ عظیم آبادی
نام علی محمد، شاد تخلص۔ 1846ء کو پٹنہ میں پیدا ہوئے۔ عربی، فارسی اور دینیات کی تعلیم لائق اساتذہ سے حاصل کی۔ شاعری میں الفت حسین فریاد عظیم آبادی سے تلمذ حاصل تھا۔ شادنے کچھ غزلوں پر صفیر بلگرامی سے بھی اصلاح لی تھی۔ میر انیس اور مرزا دبیر کی صحبتوں سے بھی بہت فیض یاب ہوئے۔ شاد انگریزی اور ہندی زبان سے بھی واقف تھے۔ شاد کا ننھیال پانی پت تھا۔ ایک مرتبہ وہ وہاں گئے اور حالی سے ملاقات کی۔ علی گڑھ بھی گئے اور سرسید سے ملاقات ہوئی۔ ان کے ہندودیوان اور خزانچی نے ان کی ریاست وجاگیر کا بڑا حصہ فروخت کردیا اور روپیہ خرد برد کردیا۔ جو شخص ہزاروں اور لاکھوں میں کھیلتا تھا اسے اپنی آخری زندگی صرف سوروپیہ ماہانہ کی امداد پر گزر بسر کرنی پڑی۔ شاد کئی سال تک پٹنہ میں آنریری مجسٹریٹ رہے۔ ان کی ادبی خدمات کے صلے میں سرکار سے ’’خان بہادر‘‘ کا خطاب ملا۔ شاد کو اپنے زمانے کا میر کہا گیا ہے۔’’مئے خانہ الہام‘‘ کے نام سے ان کا دیوان چھپ گیا ہے۔ مراثی ، رباعیات، مثنویات اور نثر کی کئی کتابیں ان کی یادگار ہیں۔7؍جنوری1927ءکوپٹنہمیںانتقالکرگئے۔شاد نے تمام صنف سخن میں طبع آزمائی کی ہے۔ قصیدہ، مرثیہ ،مثنوی، قطعہ، رباعی ، غزل تمام اصناف پر آپ کا کلام موجود ہے۔ غزل آپ کی محبوب صنف سخن رہی ہے۔ شاد عظیم آبادی بہاراسکول کے سب سے زیادہ کامیاب شاعر ہیں ۔ تمام ناقدین نے ان کی شاعری کی تعریف کی ہے۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد اول)،محمد شمس الحق،صفحہ:214
۱-غزل
تمناوں میں الجھایا گیا ہوں
کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں
ہوں اس کوچے کے ہر ذرے سے آگاہ
ادھر سے مدتوں آیا گیا ہوں
نہیں اٹھتے قدم کیوں جانب دیر
کسی مسجد میں بہکایا گیا ہوں
دل مضطرسے پوچھ اے رونق ِ بزم
میں خود آیا نہیں لایا گیا ہوں
سویرا ہے بہت اے شور ِمحشر
ابھی بے کار اٹھوایا گیا ہوں
لحد میں کیوں نہ جاؤں منہ چھپا کر
بھری محفل سے اٹھوایا گیا ہوں
کجا میں اور کجا اے شادؔ دنیا
کہاں سے کس جگہ لایا گیا ہوں
صفیؔ اورنگ آبادی
صفیؔ اورنگ آبادی کا اصل نام بہاؤالدین صدیقی تھا وہ اورنگ آباد کے جون بازار کے علاقے میں 12 فروری، 1893 میں پیدا ہوئے مگر بعد میں ان کا نام " بہبود" علی صدیقی تبدیل کر دیا گیا۔ ان کے والد حکیم محمد منیر صاحب نے صفی کو ایک یونانی طبعیب بننا چاہتے تھے لیکن صفی نے تعلیم کو درمیان میں ہی چھوڑ دیا اور ملازمت شروع کردی . اس کی بعد انھوں نے کئی ملازمتیں اختیار کیں۔ لیکن ان کا ملازمت میں دل نہ لگتا تھا کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ ملازمت بہت بڑی " غلامی" ھوتی ہے۔ پھر انھوں کبھی نوکری نہیں کی۔ پھران کے شاگرد میں اضافہ ھونا شروع ھو گیا اور ان کا زیادہ تر وقت شاگردوں کے اصلاح کلام میں گذرتا تھا۔ . صفی اورنگ آبادی کا یہ کمال تھا کہ وہ طبلے کی تھاپ پر ردیف اور قافیہ تلاش کرتے تھے۔ وہ تا حیات مجرد رھے۔ وہ مرد درویش تھے۔ طبعیت میں سچے اور سادہ تھے۔ صفی اورنگ آبادی داغ دہلوی کے بعد اردو شاعری کے ایک ایسے شاعر ہیں جنھوں نے محاوارات اور ضرب الامثال نئی اظہاری حسیت سے شاعری میں برتا۔ ان کا شاعرانہ اظہار فطری تھا۔ صفی اورنگ آبادی کا انتقال حیدرآباد دکن میں 21 مارچ، 1954 کو ھوا۔ 1965 میں ان کے ایک شاگرد خواجہ شوق نے ان کا مجموعہ کلام " پرگندہ" کے نام سے شائع کیا۔ 1963 میں مبارز الدیں رفعت ان کے کلام کا انتخاب چھاپا۔ جن کے نام " فردوس صفی" (1968)، "گلزار صفی"" (1987)، "کلام صفی اورنگ آبادی"، (1993)، ہیں۔ ان کی "سوانح عمری صفی اورنگ آبادی" 1989 میں شائع ھوئی۔ صفی اورنگ آبادی کے ایک شاگرد اخگر نے " تلامذہ صفی" (1991)، "اصلاحات صفی" (1993)، "خمزیات صفی" (1998) اور "انشائے صفی" کے نام سے مرتب اور شائع کی ہیں۔
غزل
عاشق بنا بھی لیتے ہیں اپنے یار کو لوگ
دنیا میں ہزار طرح کے ہزار لوگ
ہم تم جو مل کے بیٹھیں تو اٹھتی ہیں انگلیاں
کیا مل کے بیٹھتے نہیں دنیا میں چار لوگ
موقوف ہے جو آپ دیدار ِ حشر پر
بس آج ہی مر گئے امیدوار لوگ
حاسد ہیں اتفاق کہ دشمن سخن تراش
انھیں ہزار تہمتیں، بیٹھیں جو چار لوگ
لوگوں سے اٹھتی جاتی ہیں ایماندار یا ں
دنیا سے اٹھتے جاتے ہیں ایماندار لوگ
رونا بغیر درد صفی کس سے ہو سکے
ہم بے قرار لوگ ہیں بے اختیار لوگ
میں بدگمان ہوں میری سمجھ کا قصور ہے
بے اعتبار آپ نہ بے اعتبار لوگ
کیا دل لگائیں گے حُسن فروشوں سے اے صفیؔ
ملتے ہیں روز ایسے تو باون ہزار لوگ
ناصر کاضمیؔ
غزل
کچھ یاد گار شہر ستم گر ہی لے چلیں
آئے ہیں اس گلی میں تو پتھر ہی لے چلیں
یوں کس طرح کٹے گا کڑی دھوپ کا سفر
سر پر خیال یار کی چادر ہی لے چلیں
رنج سفر کی کوئی نشانی تو پاس ہو
تھوڑی سی خاک کوچۂ دلبر ہی لے چلیں
یہ کہہ کے چھیڑتی ہے ہمیں دل گرفتگی
گھبرا گئے ہیں آپ تو باہر ہی لے چلیں
اس شہر بے چراغ میں جائے گی تو کہاں
آ اے شب فراق تجھے گھر ہی لے چلیں
بشر نوازؔ
غزل
ہر نئی رت میں نیا ہوتا ہے منظر میرا
ایک پیکر میں کہاں قید ہے پیکر میرا
میں کہاں جاؤں کہ پہچان سکے کوئی مجھے
اجنبی مان کے چلتا ہے مجھے گھر میرا
جیسے دشمن ہی نہیں کوئی مرا اپنے سوا
لوٹ آتا ہے مری سمت ہی پتھر میرا
جو بھی آتا ہے وہی دل میں سما جاتا ہے
کتنے دریاؤں کا پیاسا ہے سمندر میرا
تو وہ مہتاب تکیں راہ اجالے تیری
میں وہ سورج کہ اندھیرا ہے مقدر میرا
نظم کی تعریف ،فن اور خصوصیات:
نظم شاعری کی ایک ایسی قسم ہے جو کسی ایک عنوان کے تحت کسی ایک موضوع پر لکھی جاتی ہے۔ نظم میں شروع سے آخر تک خیال کا ربط اور تسلسل ضروری ہے۔ اس کے لیے نہ تو کسی خاص موضوع کی کوئی قید ہوتی ہے اور نہ ہیئت کی۔ نظم زندگی کے کسی بھی واقعے مسئلے ، خیال اور جذبے کو بنیاد بنا کر کہی جاسکتی ہے۔نظم غزل کی ہیئت میں بھی ہو سکتی ہے، مثنوی کی ہیئت میں بھی اور مخمس ، مسدس، ترکیب بند اور ترجیع بند کی ہیت میں بھی نظم کے دائرے میں قصیدہ ، مرثیہ، مثنوی ، شہر آشوب اور دیگر اصناف بھی شامل ہیں لیکن موضوعاتی امتیاز اور جدا گانہ خصوصیات کی وجہ سے بعض اصناف کے نام متعین کر دیے گئے ہیں۔
بقول "احتشام حسین :
" نظم کا لفظ جب شاعری کی ایک مخصوص صنف کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو اس سے وہ نظمیں مقصود ہوتی ہیں جن کا کوئی معین موضوع ہو اور جن میں بیانیہ فلسفیانہ یا متفکرانہ انداز میں شاعر نے کچھ خارجی اور کچھ داخلی یا دونوں قسم کے تاثرات پیش کیے ہوں ۔“
· نظم کی فنی خصوصیات :
نظم کا وصف یہ ہے کہ قاری کو فوری لطف فراہم کرے اور اس کی روح کو متاثر کرے۔ نظم میں ایک عنوان کے تحت مخصوص موضوع پر اس طرح اظہار خیال کیا جاتا ہے کہ ربط و تسلسل قائم رہے اور شدت جذبات کے ساتھ موثر طریقے سے بات کو پیش کیا جائے۔ نظم کی تشکیل کے لیے کچھ اجزا یا عناصر ضروری ہیں جن سے نظم کی تشکیل عمل میں آتی ہے۔ نظم کے اجزائے ترکیبی درج ذیل ہیں :
ربط و تسلسل : نظم میں ربط و تسلسل ضروری ہے یعنی تمام مصرعے باہم مربوط ہونے چاہیے۔ نظم کا ہر ایک جز و دوسرے جزو کے ساتھ جڑا ہوا اور مربوط ہونا چاہیے۔ نظم کا ایک مرکزی خیال ہوتا ہے جس کے اردگر نظم کا پورا تانا بانا بنا جاتا ہے۔
عنوان: نظم کا ایک عنوان ہوتا ہے اور پوری نظم میں اسی عنوان یا موضوع پر اظہار خیال کیا جاتا ہے۔
شعری حسن ترتیب: حسن ترتیب نظم کی امتیازی خصوصیت اور اس کی تخلیق کا ایک لازمی جزو ہے۔ الفاظ اور مصرعوں کی عمدہ ترتیب اور بندش ہی نظم کو دلفریب اور پر اثر بناتی ہے۔ اگر نظم میں الفاظ اور مصرعوں کی بندش اور انہیں سلیقے سے برتنے میں کمی رہ جائے گی تو نظم بے مزہ اور بے رنگ ہو جائے گی ۔
رمزیت داشاریت: نظم میں ایک ہی موضوع پر تسلسل کے ساتھ اظہارخیال کیا جاتا ہے۔ نظم میں غزل کی طرح بہت زیادہ اختصار ہیں ہوتا تاہم کیاجاتاہے۔ کی بہت اختصارنہیں بیان میں رمزیت وا شاریت ہوتی ہے۔ رمزہ کنائے کے پیرائے میں بیان ہوتا ہے جس سے شعری حسن پیدا ہوتا ہے۔
وضاحت بیان: نظم میں بیان کے اعتبار سے تفصیل اور وضاحت ہوتی ہے۔ پوری نظم ایک ہی موضوع پر ہوتی ہے اس لیے نظم نگار اس میں موضوع کو وضاحت کے ساتھ بیان کرتا ہے۔
جزئیات نگاری: نظم میں شاعر جزئیات نگاری سے کام لیتا ہے۔ طویل نظموں میں جزئیات نگاری زیادہ واضح طور پر ظاہر ہوتی لیکن مختصر نظموں میں جزئیات نگاری کی گنجائش اتنی زیادہ نہیں ہوتی۔
شعری آہنگ یا شعریت: شعریت کسی بھی شعری پیکر کی روح ہے۔ نظم میں شعریت ہونی چاہیے یعنی وہ جذبات کی شدت، والہانہ کیفیت اور شعری آہنگ سے بھر پور ہو۔
وحدت تاثر :نظم میں شاعر کواس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ وہ نظم میں اس طرح موضوع کو اس طرح ترتیب دے کہ قاری کے ذہن پر ایک تاثر قائم ہوتا کہ اس میں شدت اور گہرائی ہو۔
زبان و بیان: نظم کی زبان دلکش ہوتی ہے ۔ غزل کے مقابلے نظم میں صراحت ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود اشاروں کنایوں میں بات کہی جاتی ہے۔ رمز یہ اسلوب اور علامتی پیرائے اظہار کا استعمال کر کے اس میں تاثر اور تجسس پیدا کیا جاتا ہے ۔ نظم کی زبان فطری ہو اور بیان میں تصنع نہ ہو۔
فیض احمد ٖفیضؔ : 1911ء -1984ء
فيض احد نام فیض تخلص1911ء میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے ۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے معلمی کا پیشہ اختیار کیا۔ ایم ۔ اے۔ انگریزی میں کیا تھا ، لیکن ، اردو، فارسی ، عربی میں مہارت رکھتے تھے ۔ صحافت سے دلچسپی تھی ۔ اس لیے متعدد اخبارات و رسائل کی ادارت کے فرائض بھی انجام دیے ۔ اشترا کی ذہن رکھتے تھے اور کمیونسٹ پارٹی کے سرگرم رکن تھے اس لیے حکومت پاکستان کی نظر میں مشکوک رہے ۔ باغیانہ سرگرمیوں کے الزام میں مقدمہ بھی چلا جو راولپنڈی سازش کیس کے نام سے مشہور ہے ۔ برسوں قید و بند کی زندگی گزاری اور بے شمار تکلیفوں کا سامنا کیا ۔ ۱۹۸۴ء میں وفات ہوئی ۔
فیض جب کالج میں زیر تعلیم تھے اسی وقت سے شعر کہنے لگے تھے۔ کالج میگزی" راوی" میں متعدد نظمیں شائع ہوئیں ، جن میں سے بعض ان کے پہلے مجموعہ کلام "نقشِ فریادی " میں میں شامل ہیں ۔ ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاعری سے فیض کی طبیعت کو بے حد مناسبت تھی لہٰذا نو مشقی کے زمانے میں بھی تمام شعری وسائل سے کام لینا جانتے تھے اور بہت اچھے شعر کہتے تھے ۔ اس وقت شاعری کا موضوع مجازی عشق تھا۔ عشق کا سیلاب وقت بیتنے کے ساتھ گزر گیا تو شاعری کا محرک بھی ختم ہو گیا ۔ چنانچہ شعر کہنا ترک کر دیا۔ خاموشی میں کچھ ہی دن گزرے تھے کہ ترقی پسند تحریک کا آغاز ہو گیا مظلوموں کی حمایت کے نعرے میں ایسی کشش تھی کہ فیض پوری طرح اس کے ہم نوا ہو گئے۔ شعر کہنے کے لیے ایک نیا محرک ہاتھ آگیا فیض نے اپنا غم بھلا کے دنیا کے غم کو گلے لگا یا نظم" مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ “ اسی زمانے کی یادگار ہے ۔ اس نظم کا ایک شعر ہے ۔
اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
ترقی پسند تحریک خطابیہ شاعری کا مطالبہ کرتی تھی ۔ حالات کے تقاضے سے مجبور ہو کر فیض کو ایسی شاعری بھی کرنی پڑی جس میں براہ راست تخاطب تھا ، شعریت کم تھی ۔ سیاسی لیڈر کے نام 'ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے ، ایرانی طلبا کے نام ، زرد کتے، ایسی ہی نظمیں ہیں ۔ یہ شاعری کم ہیں، پروپگنڈہ زیادہ کچھ نظموں میں پیوند کاری ہے جیسے سشیشوں کا مسیحا رقیب سے، مرے ہمدم مرے دوست ، لیکن سچا شاعر کیسے اپنے اصلی رنگ کو دبائے رکھ سکتا ہے ۔ انھوں نے رمز وا یعنی اشارے کنائے کا سہارا لے کر اپنے مخصوص انداز کی شاعری کی ۔ ہم لوگ ، صبح آزادی، تنہائی اور دریچہ ایسی لافانی نظمیں ہیں جس میں شاعر نے ادبی ڈکٹیٹروں کی پروا کیے بغیر اپنے انداز کی شاعری کی ہے اور لازوال تخلیقات پیش کی ہیں ۔ غزل میں یہی صورت حال ہے ۔ انھوں نے غزل کی مخصوص علامتیں استعمال ضرور کی ہیں مگر فیض کی غزل میں ان کے الگ معنی ہیں ۔ کہتے ہیں محبوب مگر مراد ہوتا ہے ملک یا قوم ۔ کہتے ہیں رقیب مطلب ہوتا ہے ملک و قوم کا دشمن ۔ جب ناصح کا ذکر کرتے ہیں تو اشارہ ہوتا ہے ملک دشمن عناصر کی طرف جو ہمدردوں کے روپ میں غلط صلاح دیتے ہیں ۔فیض ایک ایک لفظ کا انتخاب غور و فکر کے بعد کرتے ہیں۔ شعروں میں تراش خراش کا عمل مسلسل جاری رکھتے ہیں اور تمام شعری وسائل کا سہارا لیتے ہیں ۔ ان کے شعروں میں دلکش ترنم پایا جاتا ہے۔ پیکر تراشی میں انھیں بڑی مہارت حاصل ہے۔ پر لطف تشبیہوں اور استعاروں ے وہ جیتے جاگتے پیکر تراشتے میں فیؔض ،میؔر و غاؔلب کے ہم پلہ نہ سہی مگر وہ ہمارے عہد کے ایک نامور شاعر ہیں ۔
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ
میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات
تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے
تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات
تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے ؟
تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائے
یوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائے
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اوربھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم
ریشم و اطلس و کمخواب میں بنوائے ہوئے
جا بجا بکتے ہوئے کوچہ و بازار میں جسم
خاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہلائے ہوئے
جسم نکلے ہوئےامراض کے تنوروں سے
پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے
لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجیے
اب بھی دل کش ہے ترا حسن مگر کیا کیجیے
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ کا تنقیدی جائزہ
یہ نظم فیض کے پہلے شعری مجموعے" نقش فریادی" سے لی گئی ہے ۔ یہ نظم فیض کی شاعری میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا مرکزی خیال اردو شاعری میں ایک اہم رجحان بن گیا۔ فیض آخر تک عشق اور انقلاب کے نقیب رہے۔ ایک عاشق اور مجاہد کی کشمکش میں مبتدا ر ہے لیکن اس نظم سےوہ رومانی فضا کے اثر سے نکل آئے۔ یہیں سے ان کا سفر شدید داخلیت سے خارجیت کی جانب گامزن ہوا۔ یہ نظم اتنی مقبول ہوئی کہ نے شعر اغم دوراں کو غم جاناں کی شدت میں کمی کا جواز ٹھہرنے لگے۔ ڈاکٹر مسعود حسین خاں لکھتے ہیں:
" مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ سے فیض کے یہاں دو قسم کی تبدیلیاں ہوتی ہیں پہلی یہ کہ رومان اور خالص جمالیاتی اقدار کے علاوہ زندگی کی دوسری قدریں بھی ان کے یہاں ابھرنے لگتی ہیں ۔ دوسری یہ کہ حقیقت پسندی کے نقطہ نظر کی وجہ سے رخ محبوب کے سیال تصور کی مثالیت ختم ہونے لگتی ہیں۔"
یہ نظم تین بند اور بیسں مصرعوں پر مشتمل ہے۔ یہ ایک سادہ بیانیہ اور پابند نظم ہے۔ نظم مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ سے شروع ہوتی ہے اور راسی پر ختم ہوتی ہے پہلے بند میں شاعر اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ اس نے اپنا سب کچھ اپنے مجبوب کو ہی سمجھا تھا محبوب جے وجود سے اس کی حیا ت درخشاں ہے محبوب کا غم ہی سب کچھ تھا ۔اس غم میں اس نے دنیا کے سارے غم بھلا دیے تھے۔ اس کی صورت سے سارے عالم میں بہارتھی اور پھر وہ اپنے محبوب کی آنکھوں کو دنیا کی سب سے قیمتی شئے سمجھتا رہا۔ اس کی آنکھوں کے سوا دنیا میں کچھ بھی نہیں رکھا ہے۔ دوسرے بند میں وہ پہلے بند کے تسلسل میں کہتا ہے کہ اپنے محبوب کا حصول اس کے لیے تقدیر کا سب سے بڑا عطیہ تھا۔ جیسے اس نے تقدیر کو جھکا دیا اس پر فتح پالی ہو ۔ایسا ہو تو نہیں لیکن شاعر کی شیدید خواہش تھی کہ ایسا ہو جائے ۔ اس کے بعد دو مصرعوں میں شاعر گریز کرتا ہے۔ یہ نظم کا انتہائی اہم موڑ ہے۔ یہاں سے شاعر اپنی محبت کی دنیا سے نکل آتا ہے۔ اس کی نظر محبوب کے وجود سے ہٹ کر دوسری طرف منعطف ہوتی ہے۔ اسے احساس ہوتا ہے کہ محبت کے غم کے علاو و دنیا میں بے پنا غم بھرے ہوئے ہیں ۔ وہ اپنی ذات کے خول سے باہر آتا ہے۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ وصل کی راحت ہی سب کچھ نہیں ہے۔
؎ اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
اگلے بند میں نظم کا موڈ بالکل بدل جاتا ہے ۔ گرہ کھلنے لگتی ہے کہ شاعر کے خیالات میں یہ تبدیلی کیوں آئی ۔ شاعر محسوس کرتا ہے کہ صدیوں سے انسان پر ظلم ہو رہا ہے۔ ایک تاریک بہیمانہ طلسم ہے جس میں انسان گرفتار ہے۔ انسانی جسم کو ریشم اطلس و کمخواب میں لپیٹ کر کوچہ و بازار میں جابجا بیچا جارہا ہے۔ فیض کا اشارہ جسم فروشی کی طرف ہے۔ جو صدیویں سے جاری ہے۔ سماج میں بھوک ہے بیماری ہے۔ لاکھوں لوگوں کے پاس نہ روٹی ہے اور نہ دوا امراض ہیں ناسوروں سے پیپ بہہ رہی ہے۔ ڈاکٹر مسعود حسین خاں لکھتے ہیں:
"اگر یہ اشعار جوؔش کے قلم سے لکھتے تو دھچکانہ لگتا یوں کہ ان کی بغاوتوں کے ہم عادی رہے ہیں لیکن فیض کے یہاں غاز دور خسار اور ضیائے تقسیم کے ساتھ خون اور پیپ کا تصور بہت سے شاعر اور نقاد چیخ اٹھے۔ وہ تو خود ہی فیض نے جب نظم کے خاتمہ پر اس کا ازالہ اس طرح کیا ہے کہ:
اب بھی دلکش ہے ترا حسن مگر کیا کیجیے
لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجیے
یہ مصر عے شاعر کی کشمکش کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن تین مصرعوں کو دو ہرا کر شاعر اس بات پر مہر ثابت کرتاہے کہ وہ غم جاناں سے غم دوراں کی طرف آگیا ہے۔ اوراس کے پاس غم دوراں کی زیادہ اہمیت ہے۔ وہ اس بات کی سمجھنے لگا کہ انفردی دکھ ارو سکھ اور راحتوں سے ہٹ کر کچھ اور دکھ ہیںؐ جو کہیں زیادہ ا ہم ہیںاور فوری توجہ چاہتے ہیں کیا کیجیے یہ غیر اردی پن جھلکتا ہے شاعر انھیں نظر انداز نہیں کر سکتا ۔فیض کی یہ الجھن اور کشمکش حقیقی تھی اس لیے اس نظم میں تا ثیر کی شدت پائی جاتی ہے۔ پہلا مصرعہ قاری کوا پنی گرف میں لیتا ہےپھر وہ نظم میں کھو تا چلا جاتا ہے اس نظم میں فیض پیپ اور نا سوروں کا ذکر کرتے ہیں جس سے جمالیاتی احساس و ٹھیس پہنچتی ہے بعدمیں فیض نے ایسے لفظیات کور دکردیا۔ فیض کی شاعری میں رومان اور انقلاب کے درمیان کشکم اورذہینی الجھن کاسلسلہ اسی نظم سے شروع ہوتا ہے۔ یہ نظم خیال جذبے اور احساس کا ایسا دائرہ بناتی ہے جس میں قاری محصور ہوجاتا ہے ۔ اس کے کئی مصرعے زبان زد خاص و عام ہو گئے۔ جیسے
تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
فیض کی یہ ایک اہم نظم ہے جو ان کی شاعری کے مزاج کی عکاسی کرتی ہے۔
سکندر علی وجدؔ : 1914ء- 1938ء
سکندر علی نام وجد تخلص ۱۹۱۴ ء میں اورنگ آباد میں پیدا ہوئے۔ وہیں بتدائی تعلیم حاصل کی عثمانیہ یونیورسٹی سے بی اے کا امتحان پاس کیا۔ پھرسول کے امتحان میں کامیاب ہوکر سرکاری ملازمت میں داخل ہوئے اور ترقی کر کے ڈسٹرکٹ سیشن جج کے منصب تک پہنچے لہو تر رنگ ، آفتاب تازه ، اوراق مصور ، بیاض مریم انکے کلام کے مجموعے ہیں ۔وجؔد نے غزلیں بھی کہیں جن کا موضوع حسن و عشق اور قلبی واردات ہے لیکن اصلا وہ نظم کے شاعر ہیں۔ اپنے عہد کے سیاسی معاملات اور طبقاتی کشمکس کو انھوں نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ اپنی نظموں میں پیش کیا ہے لیکن ان کی نظمیں صرف انہی موضوعات تک محدود نہیں۔ ان کی شاعری کا کینوس بہت وسیع ہے شاعر کے اردگرد دور تک پھیلی ہوئی جو زندگی ہے شاعر نے اس سے مواد حاصل کیا ہے بقول وہ جؔد ہر آرٹ کی طرح شاعری بھی شاعر سے پوری زندگی کا مطالبہ کرتی ہے جو شاعراس مطالبے کی تکمیل نہیں کرتا اس کی شاعری تشنہ رہ جاتی ہے ۔ اپنی شاعری کے بارے میں وجد فرماتے ہیں" میں نے اظہار خیال کے لیے کلاسیکی اسلوب منتخب کیا اور فن شعر کے اصولوں کی پابندی کرنے کی بھی امکانی کوشش کی ہے۔ شاعری میں نے تجربے کرنے کی مجھے فرصت نہیں ملی۔ میری شاعری ، میری زندگی ، انسان کی عظمت اور ترقی ہندوستان کی تاریخ و سیاست اور یہاں کے فنون لطیفہ سے طاقت اور حسن حاصل کرتی رہی ہے۔ رقاصہ، نیلی ناگن، آثار سحر ،خانہ بدوش معطر لمحے ان کی دلکش نظمیں ہیں ۔
اجنتا
سکند علی وجدؔ
جہاں خون جگر پیتے رہے اہل ہنر برسوں
جہاں گھلتا رہا رنگوں میں آہوں کا اثر برسوں
جہاں کھنچتا رہا پتھر پر عکس خیر وشر برسوں
جہاں قائم رہے گی جنت قلب و نظر برسوں
جہاں نغمے جنم لیتے ہیں رنگینی برستی ہے
دکن کی گود میں آباد وہ خوابوں کی بستی ہے
شراب و شعر کی تاثیر ٹھنڈی ہواؤں میں
باہر زندگی غلطاں سبزے کی اداؤں میں
نوائے زندگی رقصاں ہے جھرنے کی صداؤں میں
بیان ممکن نہیںوہ لطف ملاتا ہے دعاوں میں
یہاں صدیوں سے رائج پرسکون شرینمقالی ہے
یہاں کا ذرہ ذرہ مظہر شان جمالی ہے
تجلی رازِ عرفاں شاہکار ابن آدم ہے
سرِفطرت عمل کی بارگاہِ حسن میں خم ہے
تمدن منعکس ہو جس نے ایسا ساغر جم ہے
جمال زندگی رہنِ جلال عزمِ گوتم ہے
امید جان تازہ پھر دل بسمل میں آئی تھی
تلاش ِامن میں تہذیب اس منزل میں تھی
جگر کے خون سے کھینچے گئے ہیں نقش لاثانی
تصدق جنک ہر خط پر تحیّر خانٔہ مانی
مشکل ہے شباب وحسن میں تخیل انسانی
تقدس کے سہارے جی رہا ہے ذوقِ عریانی
حسینان ِ ا جنتا کا جنوں سرتاج ہے گویا
یہاں جذبات کے اظہار کی معراج ہے گویا
گلستان سےجو گزرا کارواں فصلِ بہار ی
بہا نہ مل گیا اہلِ جنوں کو حسن کاری کا
چٹانوں پر بنایا نقش دل کی بے قراری کا
سکھایا گُر اسے جذبات کی آئینہ داری کا
دل ِ کوہسار میں محفوظ اپنی داستان رکھدی
جگر داروں نے بنیادِ جہاں جاویدانی رکھ دی
کہیں پیداہے ساری کیفیت صحن گلستان کی
کہیں رونق نظر آتی ہے بازارو شبستاںکی
کہیں حیر تزبانِ حال ہے حالِ پریشانی کی
لکیریں ہیں کہ شریانیں کی دلِ انسانو حیواں کی
کہیں ظلمت کے پیچھے روشنی محسوس ہوتی ہے
کہیں تو موت میں بھی زندگی محسوس ہوتی ہے
ہنر مندوں نے تصویروں میں گویا جان بھر دی ہے
ترازو دل میں ہو جاتی ہے وہ کافر نظر دی ہے
اداؤں سے عیاں ہے لذت درد جگر دی ہے
کھلیں گے راز اس ڈر سے دہن پر مہر کردی ہے
یہ تصویریں بظاہر ساکت وخاموش رہتی ہیں
مگر اہل نظر پوچھے تو دل کی بات کہتی ہیں
کرشمہ ہے یہ ارباب ہمم کی سعی پیہم کا
جنھیں احساس تک باقی نہ تھا کچھ شادی و غم کا
دلوں پر عکس کھنچ آیا تھا جن کے حسن عالم کا
قلم کو نقش ازبر ہوگیا تھا اسم اعظم کا
چٹانوں پر شباب وحسن کی موجیں رواں کر دیں
فسوں کاروں نے رنگوں میں مقید بجلیاں کردی
حریم کعبہ فن مبعد نا زک خیالاں ہے
جہاں نور ونکہت مسکین آشفتہ حالاں ہے
جنوں افشاں فضا میں مستی چشم ِ غزالہ ہے
لب جوئےکہستاں جلوہ گاہِ خوش جمالاں ہے
ملا ہے ز ندگی کو بانکپن ان کلاہوں سے
نظر والوں چشمشیریں برستی ہیں نگاہوں سے
حریف نغمہ جاں بخش یہ خاموش گویائی
کمال فکروفن حسن تناسب شان زیبائی
حقیقت بنگی جذبات کی صدرنگ رعنائی
لبوں پر ضو فگن ہے نو ر اعجاز مسیحائی
نگاہوں میں عجب انداز ہے خارا گذاری کا
دلوں پر نقش رہ جاتا ہے جن کی بے نیازی کا
جہاں چھوڑا خوشی سے جاویداں پیغام کی خاطر
صف آرا تھے شکستِ گردشِ ایام کی خاطر
جھکایا سر نہ اپنا شہرت و انعام کےخا طر
جئے بھی کام کی خاطر مرے بھی کام کی خاطر
زمانے کی جبیں پر عکس چھوڑے ہیں نگاہوں کے
رہیں گے نقش ان کے ، نام مٹ جائیںگے شاہوں کے
رُباعی کی تعریف ،فن اور خصوصیات:
اردو شاعری کی ہئیتی اصناف میں مصرعوں کی تعداد کے اعتبار سے رباعی ایک مختصر صنف سخن ہے۔ اگر چہ اس کی اصل ایران ہے لیکن رباعی کی اصطلاح عربی لفظ " ربع "سے بنی ہے جس کے معنی ہیں ” چار"۔ رباعی شاعرانہ اصطلاح میں اس صنف کا نام ہے جو صرف چار مصرعوں یا دو بیتوں پر مبنی ہوتی ہے۔ ان چار مصرعوں میں فکر و خیال کے لحاظ سے، ایک مکمل مضمون ادا کیا جاتا ہے۔ رباعی کا پہلا ، دوسرا اور چوتھا مصرع ہم قافیہ ہوتا ہے۔ تیسرے مصرع میں قافیہ نہیں ہوتا اور اگر قافیہ لایا جائے تو کوئی عیب نہیں ۔ ابتدائی دور میں اسے ” ترانہ“ کہا جاتا تھا۔ چوں کہ یہ ایک مطلع اور ایک بیت پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس لیے اس کو دو بیتی بھی کہا گیا ہے۔ لیکن ترانہ اور دو بیتی رباعی کے موجودہ اوزان میں نہیں کہے جاتے تھے۔ رباعی ایک خاص وزن سے منسوب ہوگئی ہے۔
رباعی کی فنی خصوصیات:اصناف شعر میں رباعی اس ہئیتی نظم کو کہا جاتا ہے جومختصر ہو اور محض چار مصرعوں پر مشتمل ہو۔ رباعی کا پہلا ، دوسرا اور چوتھا مصرع مقفی ( ہم قافیہ ) ہوتا ہے اور تیسرا مصرع غیر مقفی (بے قافیہ ) ہوتا ہے۔ لیکن اس مصرع میں بھی قافیہ لا نا جائز ہے۔ اگر کسی رباعی کے چاروں مصرعے ہم قافیہ ہوں تو ایسی رباعی کو رباعی غیر خصی یا مصرع‘ کہا جاتا ہے اور اگر رباعی کے صرف تین مصرعے اول، دوم اور چہارم ہم قافیہ ہوں اور تیسرے مصرع میں قافیہ نہ ہو تو رباعی خصی یا ناقص یا غیر مصرع کہیں گے۔ صنف رباعی مخصوص اوزان میں لکھی جاتی ہے۔ یہ صنف ہر حال میں مقررہ عروضی نظام ہی کی پابند رہتی ہے۔ ماہرینِ علم عروض نے رباعی کے لیے ان اوز ان کی پابندی کو لازمی قرار دیا ہے ۔ اس صنف کی ہئیتی شناخت ان مخصوص اوز ان میں مضمر ہے۔ اہل عروض اس بات پر متفق ہیں کہ ان مخصوص اوز ان سے ہٹ کر لکھی ہوئی چو مصرعی نظموں کو رباعی نہیں کہا جاسکتا۔ عروضیوں نے رباعی کے چوبیس (۲۴) اوزان معین کر دیے ہیں جن کا تعلق بحر ہزج سے ہے۔ علمائے علم عروض نے دوسرا اہم نکتہ یہ بھی پیش کیا ہے کہ رباعی میں اس کا التزام رکھنا رباعی گو کے لیے ضروری نہیں کہ رباعی کے چاروں مصرعے ان چوبیس اوزان میں سے صرف کسی ایک ہی وزن میں ہوں ۔ بلکہ اس میں یہ چھوٹ دی ہے کہ رباعی کے چار مصرعے، چار مختلف اوزان میں لکھے جاسکتے ہیں اس کے باوجود بہت کم رباعی نگار ہیں جنھوں نے اس آزادی کا بھر پور استعمال کیا ہے۔ عموماً چند مخصوص اوزان ہی میں رباعیاں لکھی گئی ہیں۔ یہ خیال درست نہیں ہے کہ رباعی کا وزن صرف لا حول ولاقوۃ الا باللہ ہی ہے ۔ رباعی کے چوبیس اوزان میں سے ایک وزن یہ بھی ہے اور رباعی کے بعض مصرعے اس وزن پر ہو سکتے ہیں۔
چاروں مصرعوں میں نزاکت اور جذبے کی لطافت کو محوظ رکھتے ہوئے چاروں مصرعوں میں ایسی ترتیب پیدا کرنا کہ ایک ارتقائی تاثر پیدا کر سکے خاصہ مشکل ہے۔ رباعی کے ابتدائی دو مصرعے معنی خیز ہوتے ہیں ۔رباعی کے آخری دو مصرعے بالخصوص چوتھا مصرع یعنی آخری مصرع پوری رباعی کے مجموعی تاثر کا نقطۂ عروج ہوتا ہے۔ اس پر رباعی کے حسن واثر اور زور کا انحصار ہے۔ اگرچہ یہ ضروری نہیں ہے لیکن عموما تیسرا مصرع عروضی ہئیت میں باقی مصرعوں سے قدرے مختلف ہوتا ہے۔ یہ دراصل نقطۂ عروج کی ابتدا ہے یہ خیال کے بہاؤ میں ایک لمحاتی رکاوٹ اور موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس موڑ سے عروج شروع ہو کر چوتھے مصرع پر اپنی آخری حد کو پہنچتا ہے۔رباعی کا چوتھا مصرع خاص کر پہلے تینوں مصرعوں سے زیادہ شاندار اور اہم ہوتا ہے کیوں کہ اس مصرع پر شاعر کے خیال کی تان ٹوٹتی ہے۔ یہ مصرع نہ صرف ابتدائی مصرعوں کا خلاصہ یا نچوڑ ہوتا ہے بلکہ رباعی کی اصل جان ہوتا ہے۔ اس لیے یہ مصرع اپنی پوری معنویت کے ساتھ پر اثر ہوتا ہے۔ شاعر رباعی میں جو کچھ کہنا چاہتا ہے وہ ایجاز واختصار اور حکیمانہ لہجے کے ساتھ چوتھے مصرع ہی میں پیش کرتا ہے۔ اس میں غزل کا ایجاز بھی ہوتا ہے اور نظم کا رابط تسلسل بھی پایا جاتا ہے۔
رباعی گو شاعر:
امجد حیدر آباد
امجد حیدر آبادی کا نام سید احمد حسین تھا ۔ امجد تخلص کرتے تھے ۔ ان کے والد صوفی سید رحیم علی بڑے خدا رسیدہ بزرگ تھے ۔ ان کا انتقال امجد کے بچپن میں ہی ہوگیا تھا ۔ مکتب کی ابتدائی تعلیم کے بعد مدرسہ نظامیہ حیدر آباد میں درس نظامی کی تعلیم حاصل کی ۔ عربی فارسی زبانوں میں مہارت حاصل کی ۔ امجد نے معاشی ضرورتوں کے تحت پہلے معلم کی حیثیت سے دارالعلوم اسکول میں ملازمت اختیار کی بعد میں ریاست حیدر آباد کے محکمہ محاسبی میں منتظم مامور ہوئے ۔ ۱۹۰۸ میں موسی ندی کے سیلاب میں ان کی والدہ بیوی بچے نذر اجل ہوئے ۔ یہ حادثہ امجد حیدرآبادی کیلئے بہت جاں گسل ثابت ہوا .امجد حیدر آبادی کی شہرت کی بنیاد ان کی رباعیاں ہیں ۔ بقول فرمان فتحپوری ’’ امجد اول و آخر رباعی گو شاعر ہیں ‘‘ امجد نے رباعی صنف میں کثرت سے طبع آزمائی کی اور اس صنف کے وقار کو بلند کیا ۔ امجد کی رباعیوں کے موضوعات اخلاقی ، روحانی اور پند ونصائح پر مشتمل ہیں ۔
۱۔رباعی
کس متن کی تفسیر ہوں معلوم نہیں
کس ہاتھ کی تحریر ہوں معلوم نہیں
میں ہوں کے مرے پردے میں اور کوئی
صورت ہوں کے تصویر ہوں معلوم نہیں
۲-رباعی
ہر چیز مسبب سبب سے مانگو
منت سے ،خو شامدسے، ادب سے مانگو
کیوں غیر کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہو
بندے ہو اگر رب کے تو رب سے مانگو
۳-باعی
اک کی تاک میں لگا رہتا ہے
خون ایک کا اک کے ہاتھ سے بہتا ہے
انسان کی خبثِ باطینی آگئے
شیطان بھی لاحول ولا پڑھتا ہے
خواجہ الطاف حُسین حالیؔ
۱۹۳۷ء میں بہ مقام پانی پت پیدا ہوئے ۔ نوسال کے تھے کہ ان کے والد کا انتقال ہوگیا۔ اس لیے تعلیم و تربیت کا معقول انتظام نہ ہوسکا ۔ لیکن انہیں حصول تعلیم کا بہت شوق تھا اس لیے فارسی اور عربی مختلف لوگوں سے شروع کی تھی کہ ان کے عزیزوں نے مجبور کرکے ان کی شادی کردی لیکن علم کے شوق نے انہیں زیادہ مجبور کیا ۔اور روپوش ہوکر دہلی چلے آئے یہاں مولوی نوازش علی سے صرف و نحو اور منطق پڑھی غالب سے فارسی پڑھی اور ایک دو فارسی کی غزلیں بھی کہہ کر غالبؔ کو دکھائیں عربی کی تعلیم کی تکمیل نہیں ہونے پائی تھی کہ پانی پت بلالیے گئے اس اثنا میں عذر ہوگیا اور چھ سات برس پانی پت ہی میں رہے اور مختلف لوگوں سے منطق و فلسفہ حدیث و تفسیر وقتاً فوقتاً پڑھتے رہے ۔ اتفاقا نواب مصطفی خاں کی مصاحبت میسر آگئی اور یہ انہیں کے پاس جہاں گیر آباد آگئے ۔ اب شعر و سخن کا شوق پھر ابھرا نواب کی طرح یہ بھی غزلیں جانگیر آباد سے دہلی غالبؔ کے پاس بھیجنے تھے ۔ شیفتہؔ کی صحبت نے ان کی مذاق اور غالبؔ کی شاگردی نے ان کے کماشاعری پر بہت اثر کیا ۔ شیفتہ کی وفات کے بعد یہ لاہور میں گورنمنٹ بک ڈپو میں ملازم ہوگئے ۔ جہاں انہیں نگریزی سے اردو میں ترجمہ کی ہوئی کتابتیں درست کرنا پڑتی تھیں اس لیے ان کی انگریزی خیالات اور انگیزی طرزادا سے مناسبت پیدا ہوگئی اور جب ہالرائڈ ڈائرکٹر تعلیمات کے ایما سے لاہور میں جدید شاعری کے مشاعرے کی بنیاد ڈالی گئی تو حالیؔ نے چار مثنویاں ۔ (1)برکھارت (2)نشاط امید (3)مناظرۂ رحم و اصاف (4)حب وطن پڑھیں جو ۔۔۔مقبول ہوئیں 1333ھ مطابق1914ء میں مولانا نے وفات پائی ۔ تصانیف:۔حیات سعدی ۔ مقدمۂ شعر و شاعری ،یادگار غالب ، حیات جاوید وغیرہ بہت مشہور ہیں ۔ جدید شاعری کے علم بردار ہونے اور اردو شاعری میں اصلیت جوش اور سادگی کی روح پیدا کردینے کے علاوہ دہلویت ان کے کلام میں کس خوبی ، کمال استادی سے رچی ہوئی ہے اس کا اندازہ ذیل کے انتخاب سے ہوگا۔بحوالہ: ریختہ
پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے
اسلام کا گر کر نہ ابھرنا دیکھے
مانے نہ کبھی کہ مد ہے ہر جزر کے بعد
دریا کا ہمارے جو اتر نا د یکھے
۲-رباعی
بلبل کی چمن میں ہم زبانی چھوڑی
بزم شعر امیں شعر خوانی چھوڑی چھوڑی
جب سے دلِ زندہ تو نے ہم کو چھوڑا
ہم نے بھی تری رام کہانی
2-رباعی
جو لوگ ہیں نیکیوں میں مشہور بہت
ہوں نیکیوں پر اپنے نہ مغرور بہت
نیکی ہی خود ایک بدی ہے گر ہو نہ خلوص
نیکی سے بدی نہیں ہے کچھ دور بہت
3-رباعی
عنوان ہو کے مضمون بدلنا ہوگا
ہر قول فلاطون بدلنا ہوگا
اللہ کا قانوناٹل ہے بےشک
انسان کا قانون بدلنا ہوگا
۲-رباعی
ذرے ذرےسے اک جہان پیدا کر
خود اپنی جبیں میں آستاں پیدا کر
جینا ہے اگر خضر کا احسان نہ لے
ہر سانس سے عمرِ جاوداں پیدا کر
۳-رباعی
رندی میری،طاعت سے تری بہتر ہے
زاہد! یہ فضلیت سے تری بہتر ہے
آدم نے اسے چھوڑ کے ثابت یہ کیا
دنیا مری جنت سے تیری بہتر ہے