5.Notes. (B.A.) Second Year Optional Urdu-V(Inshiya aur Drama)

Swami Ramanand Teerth Marathwada University, Nanded.

سوامی رامانند تیر تھ مراٹھواڑہ یو نیور سٹی ، ناندیڑ۔

 Faculty of Humanities

شعبہ انسانیات

Effective from Academic year 2020

روبہ عمل تعلیمی سال2020-

B.A. Second Year, Semester- III

بی۔اے۔سال دوّم(میقات سوّم)

Optinal Urdu-V (Marsiya aur Rubai)

( انشائیہ اور ڈرامہ)اختیاری  اُردو   

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈرامہ کی تعریف و فن:

ڈراما ایک بصری فن ہے اس میں واقعات دیکھے جاتے ہیں اور کردار پہچانے جاتے ہیں ، جو کچھ ہوتا ہے بر ملا ہوتا ہے۔ ڈراما محض پڑھنے کے لئے نہیں ہے بلکہ وہ دیکھنے اور دکھانے والے کے درمیان باہمی شرکت کا ایک وسیلہ ہے۔ یہ ان دونوں کے درمیان مضبوط اور مستحکم روایت کا ایک سلسلہ ہے۔ڈرامے صرف ادبی کارنامے نہیں ہوتے بلکہ ان کے ذریعے کسی قوم کے تہذیبی عناصر کو اظہار کا وسیلہ بھی ملتا ہے۔ ڈرامے کو معاشرے کے شعور اور لاشعور کی بازیافت بھی کہا جاتا ہے۔ آرٹ میں، خواہ صنف کوئی بھی ہو ، معاشرہ اپنے خواب اور اپنی دبی کچلی خواہشات کی جھلک  دیکھتا ہے لیکن ڈرامے میں یہ صورت زیادہ واضح اور صریح ہوتی ہے کیونکہ ڈراما لازمی طور پر اجتماعی شرکت کا فن ہے۔ ڈرامے اور دوسری اصناف میں یہ ایک بہت اہم فرق ہے کہ ڈراما محض مکالمے میں لکھی تحریر کا نام نہیں ہے اور نہ اسے افسانے یا داستان کی طرح صرف پڑھا جا سکتا ہے۔ ڈراما ن بعض واقعات و کردار کا مجموعہ ہوتا ہے نہ فلسفیانہ خیالات کا حامل ہے تو  یہ کہیں تزکیہ نفس ہے تو کہیں موکش یعنی نجات کا ذریعہ اس میں پلاٹ، کردار، مکالمہ اور زبان کے ساتھ ساتھ صوت ، آهنگ ، روشنی ، سارہ اور سکوت بھی شامل ہوتے ہیں ۔ سنسکرت میں ڈرامے کے مترادف جو لفظ استعمال ہوتا ہے وہ رو پک ہے۔ یہ لفظ "روپ سے مشتق ہے۔ اس سے مراد کرداروں اور کیفیات کو شخص کرنا اور جذبے کے فطری مظاہرات کو پیش کرنا ہے۔چونکہ اس میں کردار مختلف روپ لے کر آتے ہیں اس لئے اسے رو پک کہا جاتا ہے۔ ناٹک تو رو پک کی دس اقسام میں سے ایک ہے۔ ناٹیہ شاستر میں ڈرامے کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ( او    میتھا تمرتی نامیم،) یعنی کسی واقعے کو پھر سے کرنا ڈراما ہے۔

ڈرامے کی تعریف:     انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا کی رو سے لفظ ڈراما اس یونانی لفظ سے لیا گیا ہے جس کے معنی ہیں " کر کے دکھائی ہوئی چیز"۔

شیلڈن چینی لکھتا ہے کہ "ڈراما اس یونانی لفظ سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں " میں کرتا ہوں" اور جس کا اطلاق کی ہوئی چیز پر ہوتا ہے۔"

بوطیقا میں ارسطو نے ڈرامے کی کوئی باقاعدہ تعریف پیش نہیں کی مگر اس سلسلے میں پیش کی گئی اس کی توضیحات سے ڈرامے کی تعریف اس طرف مرتب کی جاسکتی ہے۔

"دراما انسانی افعال کی ایسی نقل ہے جس میں الفاظ کی موزونیت اور ننے کے ذریعے کرداروں کو محو گفتگو اور مصروف عمل ہو بہو ویسا ہی دکھایا جائے جیسے کہ وہ ہوتے ہیں یا ان سے بہتر یا بدتر انداز میں پیش کیا جائے ۔"( ترجمہ عزیز احمد، دہلی 1977 میں (47)

ڈرامہ کی مختلف ادیبوں اوردانشوروں نے لا تعداد تعریفیں پیش کی ہیں ان سب کا نچوڑ اسطرح ہے ۔

"کسی قصے یا واقعے کو کرداروں کے ذریعے تماشائیوں کے روبرو پھر سے عملاً پیش کرنے کو ڈراما کہتے ہیں۔"

ان تعریفات میں کرنا "کیا ہوا "کر کے دکھائی ہوئی چیز "عملا پیش کرنا ۔ جیسے الفاظ کی تکرار ہے جس سے ڈرامے میں عمل کی اہمیت کی غمازی ہوتی ہے۔ دراصل ڈراما ناول یا افسانے کی طرح صرف تحریری ادب نہیں ہے جو لکھے یا پڑھے جانے کی حد تک محدود ہو بلکہ اس کا لازمی رشتہ اسٹج  سے ہے۔ یہ مکمل اسی وقت ہوتا ہے جب اسے ادا کاروں کے ذریعے اسٹیج پر عملاً پیش کر دیا جاتا ہے۔ چنانچہ ڈرامے کی تحریری شکل (Script) کی اہمیت اس نقشے کی سی ہے جو کسی عمات کی تعمیر سےپہلے تیار کیا جاتا ہے۔ گوکہ نقشے میں عمارت  کی تمام تفصیلات موجود ہوتی ہیں پھر بھی نقشہ تیار ہو جانے سے عمارت کی تکمیل نہیں ہوتی اسی طرح اسکرپٹ تیار ہو جانے سے ڈراما مکمل نہیں ہو جاتا۔ جس طرح عمارت کی تکمیل کے لیے نقشے کے بعد اینٹ پتھر سیمنٹ لوہا لکڑی کا ریگر اور مزدور کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح ڈرامے کی تکمیل کے لیے اسکرپٹ کے علاوہ ادا کار تماشائی اسٹیج آواز روشنی، موسیقی، کاسٹیومس اور دوسری بہت سی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ مختصر یہ کہ ڈرامے کی تکمیل اس کی پیش کش کے بغیر ممکن نہیں ہوتی ۔

ڈرامہ کے وجود میں آنے کی محرک دو انسانی جبلیتں ہیں ۔یعنی اہار ذات اور نقالیکی جبیلت اظہار ذات سے مراد یہ کہ انسان جو کچھ سوچتا ،محسوس کرتا ہے یا تجربات حاصل کرتا ہے اسے دوسروں کو بتانا چاہتا ہے اس پر جو رنج و خوشی گذرتی ہے اس میں وہ دوسروں کو شریک کر کے  پر سکون محسوس کرتا ہے۔ اس لیے انسان جن مشاہدات خیالات تجربات اور جذباتی کیفیات سےگزرتا ہے انہیں اپنی ذات تک محدود نہیں رکھ سکتا اگر انہیں صرف اپنے تک محدود رکھے تو اس کے اندر ایک ہیجانی کیفیت کے تحت ابلاغ کی مسلسل خواہش پیدا ہوتی رہتی ہے۔ اس خواہش کی تکمیل اظہار ذات ہے۔ یہ انسان کی ذہنی صحت کے لیے ضروری ہے۔ اسی لیے نقالی کا مادہ بھی انسانی فطرت میں ازل سے موجود ہے بچوں کا توتلی زبان میں نقل اتارنا ۔کسی کو چڑھانے کے لیے اس کی آواز میں حرکات کی نقل کرنا انسانی فطرت ہے۔اور صنف ڈارمہ ان جبلتوں کی سب سے زیادہ مرہون منت ہے۔ناٹیہ شاستر میں ڈرامے کی تعریف اس طرح کی گئی ہے۔ "اومیتھا نکرتی تاٹیم "یعنی کسی واقعے کو پھر سے کرنا ناٹیہ ہے۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا سکتا ہے کہ مغربی اور ہندوستانی ڈرامے کے اجزا و عناصر مختلف ہوں تو ہوں دونوں ڈراموں کی بنیادی تعریف میں زیادہ فرق نہیں۔

ڈرامے کے اجزائے ترکیبی:

ارسطو کے مطابق ڈرامے کے اجزائے ترکیبی چھ ہیں۔      1 پلاٹ    2 کردار    3 مکالمہ    4 زبان     5 موسیقی    6آرائش   ان کی اہمیت بھی اس ارتقائی ترتیب کے مطابق ہے۔

 پلاٹ:       جب مختلف واقعات کو ایک فطری تسلسل بامعنی و باطنی ربط و آہنگ اور ہم آہنگی کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے تو اسے پلاٹ کہتے ہیں۔ پلاٹ میں اسباب و علل پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ چنانچہ ناول کے حوالے سے ای۔ ایچ فارسٹر کہانی اور پلاٹ کا فرق واضح کرتے ہوئے کہتا ہے ۔ " بادشاہ مر گیا اور رانی مرگئی" یہ ایک کہانی یا واقعہ ہوا لیکن اس بات کو اسباب و علل کا سہارا لیتے ہوئے اس طرح کہا جائے کہ "بادشاہ مر گیا اس کے  غم میں رانی مرگی ۔" تو یہ صرف واقعہ یا کہانی نہیں رہا بلکہ پلاٹ بن گیا۔ یہ بات ناول کی طرح ڈرامے کے پلاٹ پر بھی صادق آتی ہے۔ ان پلاٹ میں واقعات کی ترتیب ایک خاص ڈھنگ کی ہوتی ہے۔ واقعات ایک کے بعد ایک اس طرح آگے بڑھتے ہیں کہ ان میں منطقی ربط بھی ہوتا ہے اور دلچسپی میں اضافہ بھی ہوتا رہتا ہے۔ اچھے پلاٹ میں کوئی بھی واقعہ یوں ہی رونما نہیں ہوتا بلکہ ہر واقعہ اپنے پچھلے واقعے کا منطقی نتیجہ ہوتا ہے۔وقت محدود ہونے کی وجہ سے ڈرامے کا پلاٹ ایجاز و اختصار کا متقاضی ہوتا ہے۔ لہذا اس کی تراش خراش اور تشکیل میں ایک خاص فنی مہارت کےکی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں واقعات کو اس طرح ترتیب دیا جاتا ہے کہ ان میں مسلسل ارتقا ہو یہاں تک کہ وہ نقطہ عروج کو پہنچ جائیں۔عام طور سے پلاٹ دو طرح کے ہوتے ہیں۔ اکہرے اور تہہ دارا کہرے سے مراد یہ ہے کہ اگر کسی شخص سے متعلق مختلف واقعات بیان کیے تو وہ سب آپس میں مربوط ہوں اور ان میں قریب قریب ایک ہی طرح کے جذبات کی رنگارنگی ہو۔ تہہ دار پلاٹ سے مراد یہ ہے کہ اگر کسی شخص  سے متعلق مختلف واقعات بیان کیے جائیں تو ضروری نہیں کہ ان کا آپس میں ربط ہو۔ دوسرے کرداروں کی مدد سے جزوی واقعات بھی اس کی شخصیت سے وابستہ ہو جا ئیں اور اس میں قصہ در قصہ پیدا ہوتا چلا جائے ۔ پیش کش کے لحاظ سے اکہرا اور سادہ پلاٹ زیادہ موزوں ہوتا ہے۔ پلاٹ میں میر معمولی پیچیدگی حرکت و عمل میں رکاوٹ بننے کے ساتھ ساتھ تماشائیوں کی اکتاہٹ اور الجھن کا بھی سبب بنتی ہے۔

 کردار: لفظ کردار عموما دو معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ اس سے اشخاص کی اچھائی اور برائی کا احاطہ کیا جاتا ہے کہ یہ اچھے کردار کا آدمی ہے اور یہ برے۔ اسی طرح قوموں کے کردار کی بھی بات کی جاتی ہے۔ڈرامے میں کردار  تخلیق کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ کسی کو داڑھی لگادی گئی اور کسی کو مونچھیں۔ کوئی امیر عورت کے لباس میں ہے تو کوئی نوکرانی کے اصل چیز توانسانی نفسیات ہے ۔میکپ اور پوشاکیں  تو نفسیات کواجاگر  کرنے کے لیے ہوتی ہیں ۔  لہذاہر کردار میں اس کی فطرت کے لحاظ سے  نفسایت اجاگر ہونی چاہیے۔ کسی فن پارے کے ایسے کردار جن کی گفتگو افعال حرکات و سکنات اور جذباتی حالت کے اظہار میں زندگی کی حقیقی عکاسی پائی جاتی ہو یا جن میں ایسی ہمہ گیری ہو کہ جو زمانہ اور وقت گذر جانے کے باوجود انہیں زندہ رکھ سکے معیاری کردار کہے جاسکتے ہیں۔ ان میں انفرادیت کے باوجود ایک ایسی عمومیت ہوتی ہے کہ وہ اپنے سماج   کے کسی  طبقے کی روایات نظریات کے ترجمان بن جاتے ہیں۔ انکا مزاج اپنے عبد او معاشرے سے کسی ایک سےہم آہنگ ہوتا ہے۔ کردار نگاری کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ کرداروں کی ایسی گفتگو پیش کی جائے جو ان کی فطرت ماحول اور معاشرت کے مطابق ہو  شخص  جس طبقے یا سما ج سے تعلق رکھتا ہو زبان بھی اس کے مطابق ہو ۔ مختلف طبقوں اور گروہوں کے لوگوں کی گفتگو سے ان کا طبقاتی فرق بھی ظاہر ہو۔ کردارموقع محل کی موزونیت و مناسبت کے ساتھ ساتھ اپنے مرتبے ماحول کے مطابق گفتگوکر یں اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام کرداروں کی زبان و بیان اسلوب حقیقت کے قریب ہو مثلاً بادشاہ کی گفتگو کا انداز پرشکوہ و باوقار ہو۔

 مکا لمہ:          جو کچھ کہا جاتا ( بیان کیا جاتا ہے )مکالمے میں سب شامل ہے۔ خواہ  وہ کسی امر کو مثبت طریقے پر ثابت کرے یا  منفی یا محض   کسی رائے کا اظہار کرے۔ اسٹیج ڈرامے میں حرکت و عمل اور اجسام کی موجودگی کے مقابلے میں مکالمے کی حیثیت ثانوی ہوتی ہے۔ ڈراما چونکہ اسی پر دکھائی دیتا ہے اس لیے اکثر کرداروں کو پیش کر دینا کافی ہوتا ہے۔ انھیں بیان نہ بھی کیا جائے تو صورت حال مکمل ہو جاتی ہے۔ یعنی اسٹیج  ڈرامے میں بہت سے بے  لکھے مکالے ہوتے ہیں جو زبان سے نہیں جسمانی موجودگی یا حرکات وسکنات سے ادا کیے جاتے ہیں۔ اس سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ ڈرامے میں مکالموں کی زیادتی مناسب نہیں کیوں کہ ڈرامے میں "کیا کہا" سے زیادہ" کیا کیا "اہم ہے۔ مکالے حرکت و عمل کو قوت بخشے اور قصے کو آگے بڑھانے کے لیے ہوتے ہیں۔ چونکہ ڈرامے کا وقت محدود ہوتا ہے ۔اس میں الفاظ کا انتخاب اس طرح کرنا چاہیے جس طرح ٹیلیگرام کے لیے کیا جاتا ہے۔ اگر کام ایک جملے سے چل جاتا ہے تو دوسرا جملہ ہرگز نہیں لکھنا چا ہیے خواہ وہ کتنا ہی خوبصورت ہو ۔ ڈرامے کے لیے خوبصورت جملہ وہ ہے جس کی ضرورت ہوا وہ نہیں جس میں خوبصورتالفاظ ہو۔

مکالموں کا موقع ومحل سے مناسبت رکھنا بھی بہت ضروری ہے ۔ انہیں کردار کی ذہنی سطح اور معاشرت کے بھی مطابق ہونا چاہیے۔ ڈراما نگار کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ ہر کردار کواس کی گفتگو اور لہجے کی مدد سے بھی ابھارے۔ ہر دو انسان میں جو فرق ہوتا ہے وہی ان کے مکالموں میں بھی ہونا چاہیے۔ مکالموں میں فطرت و معاشرت کی صحیح عکاسی کے لیے مختلف طبقوں کی زبان پر دسترس ہونی چاہیے۔ اور نہ صرف زبان بلکہ زبان کے پیچھے جو تہذیبی عوامل کام کرتےہیں ان سے بھی واقفیت ہونی چاہیے تب ہی وہ اپنے کرداروں کو ان کی معاشرت کے مطابق الفاظ دے سکے گا۔

مختصر یہ کہ مکالموں میں موزونیت ہو یہ  بے ربطی و  تکرار  سے پاک ہوں صاف اور واضح ہوں مختصر ہوں اور موقعہ محل کے لحاظ سے ہوں ۔ یہ سادہ سلیس اور کتابی زبان کے بجائے بات چیت کی زبان میں ہوں ،ان سے کرداروں کی نفسیات و معاشرت کی ترجمانی ہو۔

 زبان: ڈرا ما کرداروں کے عمل و گفتگو کے ذریعے وجود میں آتا ہے اور گفتگوکسی نہ کسی زبان میں ہوتی ہے۔ اس لیے ڈرامے میں زبان کا مسئلہ بہت اہم ہو جاتا ہے۔ زبان کے نقطہ نظر سے پہلے تو یہ دیکھنا ہوگا کہ ڈارامہ  نظم میں ہے یا نثر میں کیوں کر نظم کی زبان نثر سے قدرے مختلف ہو جاتی ہے۔ شروع شروع میں ڈرامے نظم میں لکھے جاتے تھے اور کافی دنوں تک لکھے جاتے رہے۔ بیسویں صدی میں نثر کے فروغ سے منظوم ڈراموں کو کانی ددھچکہ پہنچا۔ نثری  ڈرامے کے جواز میں کہا جاتاہے کہ منظوم ڈرامہ کی بے ساختگی کو مجروح کرتا ہے اور نثر میں زیادہ بے تکلف اور فطری انداز برقرار رہتا ہے لیکن منظوم ڈرامے کے حامیوں کا خیال ہے کہ اگر شاعری بہترین الفاظ کی بہترین ترتیب کا نام ہے تو ڈرامے کو اس بہترین ترتیب سے کیوں محروم رکھا جائے ۔

کبھی کبھی ڈرامے کی زبان کا انحصار اس کے موضوع پر ہوتا ہے۔ مثلا ڈراما تاریخی یانیم تاریخی موضوع پر مبنی ہے یاکسی ہلکے پھلکے سماجی موضوع پر۔ چنانچہ ایک تاریخی ڈرامے کی زبان اور ایک ہلکے پھلکے سماجی ڈرامے کی زبان میں قدرنا فرق ہو جائے گا۔ڈارامے کے تماشائیوں میں ہر طبقے اور ہر اہلیت کے لوگ ہو سکتے ہیں۔ اس سے بھی ڈرامے میں روز مرہ بول چال کی زبان کا نظر یہ تقویت پاتا ہے۔ ڈرامے کی روایت پر نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسے اگر تبلیغ کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے اور تبلیغ صرف پڑھے لکھے لوگوں تک محدود نہیں ہوتی ۔ اس سے بھی عام بول چال کی زبان یا کم از کم سادہ سلیس اور عام فہم زبان کی وکالت ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ تماشائی کہانی کی مکمل تفہیم چاہتا ہے۔ اس لیے ڈراما نگار کوایسی زبان استعمال کرنی چاہیے جو ناظرین سمجھتے ہوں یا جو عام طور پر بولی اور سمجھی جاتی ہو۔

 موسیقی اور آرائش:

موسیقی کو ڈرامے کے اجزائے ترکیبی میں ارسطو پانچواں درجہ دیتا ہے۔ اسے وہ اس لئے پسند کرتا ہے کہ یہ ٹریجڈی کی تمام مسرت بخشنے والی چیزوں میں سب سے بڑھ کر ہے۔ ارسطو آرائش کو چھٹا درجہ دیتا ہے۔ اس کے نزدیک یہ کوئی ضروری چیز نہیں وہ اس کے اثر کا معترف ہوتے ہوئے بھی اسے زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔ اس کا خیال ہے کہ اس کا تعلق شاعر سے زیادہ کا ریگر سے ہے۔

اُردو ڈرامہ کا آغاز و ارتقاء:

اُردو ڈرامے کے سلسلے میں پہلا قدم لکھنو کے مشہور نواب واجد علی شاہ نے اٹھایا نواب کو رقص و سرود اور ناچ نوٹنکی وغیرہ سے بے پنا دلچسپی تھی جو ان کو ایک طرح سے وراثت میں ملی تھی۔ طبیعت میں حسن پرستی اور نفاست پسندی کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ رقص و موسیقی کا ذوق جنون کی حد تک تھا۔ پھر کچھ حالات بھی ایسے تھے ۔ دولت کی فروانی تھی چنانچہ انہوں نے "کرشن لیلا "اور "ار اس لیلا" سے متعلق کھیل' رہس' کو پسند کیا جس میں کرشن گوپیوں سے وعدہ کرتے رہتے ہیں کہ وہ ان کی تمنا جلد پوری کریں گے۔ گوپیوں کی بے قراری، کرشن کی قربت و صحبت پھر اس کے بعد کرشن کا غائب ہو جاتا ، جمنا کے کنارے ان کا ظاہر ہونا، گو پیوں کا گھیرا بنا کر گھر لینا ، اس طرح تمام رات گو پیوں کے ساتھ بسر کرنا 'رہس' کہلاتا تھا، جسے نواب بے حد پسند کرتے تھے کیونکہ اس میں ہر طرح کا تعیش اور تفریح کا سامان نظر آتا ۔ پروفیسر مسعود حسن رضوی ادیب کا خیال ہے کہ واجد علی شاور جس کے آداب وفن سے پوری طرح واقف تھے اور اس سے انہیں بے حد لگاؤ تھا۔ اپنے دربار میں انہوں نے با قاعد و ر' رہس خانہ' بنوا یا خود اس میں شریک ہوتے ، ہدایتیں دیتے ۔ اس کے تعلق سے انہوں نے "رادھا کنہیا" کا قصہ لکھااور اسے با قاعدہ دربار میں پیش کیا جس میں خود نواب بھی شامل ہوئے۔

پر وفیسر مسعود حسن رضوی ادیب نے واجد علی شاہ کے اس رہس کو اُردو کا پہلا ڈراما کہا ہے لیکن زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ" رادھا کنہیا "کا قصہ باضابطہ ڈراما نہیں بلکہ رہس ہے جو محض کرشن لیلاؤں سے متاثر ہو کر ترتیب دیا گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کی پیش کش میں ان کی اپنی جدت طبع اور افتاد ذہنی کام کرتی رہی اور رقص و سرورکی کچھ نئی شکلیں سامنے آئیں۔ ایک قصہ کو کرداروں کے ذریعے پیش کرنے کی یہ کوشش ڈرامے کی ابتدائی منزل ہے اور اس لیے ان کی اس کوشش کو اُردو ڈرامے کا پہلا قدم تو کہا جا سکتا ہے لیکن اس کو اُردو کا پہلا ڈراما کہہ پانا مشکل ہے ۔ ہر چند کہ رادھا کنہیا، جیسے کھیل دربار میں کھیلے گئے اور عوام سے ان کا براہ راست کوئی تعلق نہ تھا، پھر بھی ان کی دھوم دور دور تک پہنچی۔  اس عہد کے معروف شاعر آغا حسن امانت نے کم و بیش اسی طرز پر ایک کھیل تیار کیا جس کا نام" اندر سبھا ر"کھا۔

یہ عام خیا ل ہے کہ اندر سبھا اگست 1852 میں  لکھی گئی  اور دیڑھ سال بعد جنوری 1854 میں پہلی بار کھیلی گئی ۔پہلی بار عوام کے سامنے ڈرامال ایک چیز آئی جس میں اس عہد کے لکھنو کے مذاق ومزاج کا پورا پورا خیال رکھا گیا تا چنانچہ یہ  خوب مقبول ہوا اور گھر گھر اس کے چرچے سنے گئے۔ مختلف مثنویوں کے حصوں کو لے کر پریوں ، دیو  اور گلفام   کے علاوہ اندر کی شوقین طبیعت کے ذریعہ اس عہد کے معاشرے کی بھر پور تصویر پیش کی گئی ۔امانت نے واجد علی شاہ کے' رہس' اور ان کے قصوں سے متاثر ہو کر اندر سبھا ترتیب دی۔ شہرت ، مقبولیت ، کردار و رقص کی ساخت اعتبار سے اتنا بڑا کام ضرور ہوا کہ ڈرامے کے عناصر جاگ گئے اور اس عہد کے دیگر شاعروں نے شاعری کے علاوہ اس صنف کی طرف توجہ دینی شروع گی۔ْ

 پارسی تھیٹر :ایک طرف لکھنو میں واجدعلی اور امانت کی کاوشیں جو اپنے پیچھے  تہذیب و تعیش  اور اس لیلا ؤں کا ایک طویل پس منظر رکھتی ہے  اور اپنے عہد   کی سیرو تفریح عیش دومستی اور بکھرتے ہوئے معاشرے، کھوکھلی ہوتی ہوئی سماجی اور سیاسی صورتوں پر بھر پور طنز کرتی ہیں تو دوسری طرف ڈرامے کے مستقبل کے امکانات بھی پیدا کرتی ہیں۔ عین اسی عہد میں لکھنو سے کافی دور بمبئی میں مغربی اثرات کے تحت پارسی تھیٹر بہت تیزی سے اپنے بال و پر کھول رہا تھا اور و متبذل سماجی اور سیاسی حالات ایک نئے دور کا آغاز کر رہے تھے۔ انگریزوں کے بڑھتے ہوئے غلبے نے ان کی تہذیب و مذاق کو بھی زندہ کیا۔ انگریزی تہذیب اور ڈرامالازم و ملزوم ہیں ۔ انگریزوں نے ہندوستان میں داخل ہونے کے پچاس برس کے اندر تقریباً ڈیڑھ سو ڈرامے پیش کیے۔ان ڈراموں کی وجہ سے اتنا اندازہ ہوتا ہے کہ اٹھارہویں صدی کے نصف آخر تک بمبئی میں اقاعدہ ایک تھیٹر قائم ہو چکا تھا لیکن ایک مخصوص عہد تک اس میں صرف انگریزی ڈرامے ہی ہوتے رہے۔ ہندوستانیوں کو دیکھنے کی اجازت نہ تھی۔

 1835ء میں بعض دشواریوں کی وجہ سے یہ تھیٹر نیلام ہوگیا اور اس کی عمارت کو سمار کر دیا گیا  اور جب اسے دوبارہ بنانے کی فکر ہوئی تو ایسے میں ایک مراٹھی  شخص "جگن ناتھ شنکر سیٹھ" نے اس کی تعمیر کی پیش کش کی جسے انگریزی حکومت نے بعض مصلحتوں سے منظور کر لیا۔ تیزی سے جب یہ تھیٹر بن کر تیار ہوا تو اس میں سب سے پہلے مراٹھی ڈرامے پیش ہوئے جس سے سیٹھ کو کافی نقصان ہوا۔ تب  خیال آیا کہ مراٹھی  ڈراموں کی جگہ پر دو ایک اردو ڈرامے  کھیلے جائیں جس سے نقصان کی تلافی ہو سکے اور شہرت بھی مل سکے۔ چنانچہ اسی اسٹیچ پر پہلی بار "ڈاکٹر بھا دوا جی لاڈ" کا لکھا ہوا "راجا گوپی چند اور جلندھر" نام کا ڈراما  6 نومبر 1853ء پیش کیا گیا۔

ڈرامے کے ارتقا میں پارسی تھیٹروں کے اہم کردار کا نتیجہ یہ ہوا کہ نہ صرف عوام میں ڈراموں سے دلچسپی پیدا ہوئی بلکہ دوسرے ڈراما نگاروں نے  بھی پارسی تھیٹر کے طرز پر ڈرامے لکھنا شروع کیے۔ ان ڈراما نگاروں میں طالب بنارسی ، احسن لکھنوی ، بیتاب بنارسی اور آغا حشر کاشمیری کے نام شامل ہیں۔ طالب بنارسی نے تجارتی کمپنیوں کے لیے ڈرامے لکھے جن میں نیا پن تھا اور داستانی رنگ بھی۔ انہوں نے بعض اہم اور کامیاب ڈرامے لکھے۔

احسن لکھنوی نے 1897ء سے ڈرامے لکھنا شروع کیے۔ سب سے پہلے انہوں نے مثنوی زہر عشق کوڈرامے کی شکل میں لکھا جوان کے نانا نواب مرزا شوق کی تصنیف  تھی آٹھ سال تک انہوں نے ڈرامے لکھے پھر اس میدان سے کنارہ کش ہو گئے ۔ آغاحشر کاشمیری( پیدائش 3 اپریل 1897 -وفات 28 اپریل 1935 ) اس دور کے سب سے اہم ،ہنگامی  اور قابل قدر ڈرامہ نگار ہیں انھوں نے  پہلا  ڈرامہ "آفتاب محبت" پھر اس میدان میں ایسے کار ہائے نمایاں انجام دیے  جن سے وہ اپنے قدما اور ہم عصروں میں آگے نکال گئے۔ آغا حشر کاشمیری تقریباً 23 سال تک ڈرامے کی دنیا سے وابستہ رہے طبع زاد   ڈرامے لکھے  ترجمے کیے ،ہندی ڈرامے لکھے اور ہر طرح  کے ڈراموں میں عوام کی پسند یدگی ،فنی نزاکت اور اسٹیج کے  لوازمات کاپورا خیال رکھا۔" اسیر حرص ، مار آستین، مرید شک" جیسے ڈراموں سے اپنا سفر شروع کیا لیکن یہ ڈرامے زیادہ تر اس انداز کے ہیں جیسا کہ اس  وقت کا  ماحول تھا حشر نے جلدی اس حصار سے اپنے آپ کو نکال لیا اور آگے بڑھ کر"سفیدخون "سید  ہوس ، شہید ناز "جیسے ڈرامے لکھے۔ آخر میں انہوں نے "یہودی کی لڑکی "خواب ہستی" رستم و سہراب "آنکھ  کا نشہ"جیسے  ڈرامے لکھے۔ ان ڈراموں میں ان کا فن، سلیقہ اور تجارتی نقطۂ نظر عروج پر ہے ۔ اردو میں ادبی ڈراموں کی روایت اس وقت شروع ہوئی جب محمد حسین آزاد نے ایک تمثیل نما ڈراما ”اکبر“ لکھا۔ اس کے بعد 1888ء میں میں " تاثیر خواب" اور میں نے جہا گیر اور نور جہاں کے واقعات پر ایک ڈراما لکھنا شروع کیا لیکن دماغی توازن بگڑ جانے کی وجہ سے وہ ادھورا رہ گیا۔ عبد الماجد دریا باری کا ڈراما زود پشیماں بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے جو اس وقت (1917ء ) لکھا گیا جب اصلاحی تحریک اس میں معاشرے کی اصلاح بھری پڑی ہے ۔ پریم چند کا ڈراما " کر بلا " ایک تاریخی ڈراما ہے جو طویل مکالموں اور خود کلامی کے اسلوب سے پر ہے۔

برج نرائن چکبست بنیادی طور پر اردو کے قومی شاعر کی حیثیت سے تسلیم کیے گئے اور دو عورتوں کے مسائل کو بھی حل کرنے کا جذ  رکھتے تھے ان کا ڈراما" کملا" اسی جذبے کا متشدد اظہار ہے۔ لڑکیوں کی شادی ، ذات پات کے مسائل اور دیگر معاشرتی امور پر اس میں اچھی طرح سے روشنی  ڈالی گئی یہ ڈراما بھی چونکہ اصلاح کی غرض سے لکھا گیا ہے اس لیے اس میں بھی اصلاحی رنگ غالب ہے،  آزاد، شرر، رسوا، پریم چند، عبد الماجد دریا بادی ، چکبست وغیرہ کے ذریعہ ایک طرح سے اُردو میں ادبی ڈراموں کا سلسلہ شرو ع ہوا ۔

ادبی ڈراموں کی روایت میں ایک اہم ترین موڑ امتیاز علی تاج کا ڈراما " انار کلی" ہے جو 1922ء میں لکھا گیا اور 1932ء میں پہلی بار شائع ہوا اس ڈرامے نے بقول پر و فیسرمحمد حسن " ڈرامے کی دنیا میں امتیاز حاصل کیا اور ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ انار کلی ایک تاریخی ڈراما ہے۔  جس کی تاریخی قضاء کرداروں کی گھن گرج، مکالموں کی لطافت، پوری فضا کی چمک دمک غرضکہ ہر پہلو کو ادبی حلقے میں بے حد پسند کیا گیا۔ اس ڈرامے میں تصادم تھا جو روایتی ہرگز نہیں ہے۔ انسانی کردار کی پیچیدگیاں و اعلیٰ قدریں محبت کی عظمت ، غرضکہ اس ڈرامے میں سب کچھ ملتا ہے، بس نہیں ملتا ہے تو اس بات کا خیال جوڈرامے کو اسٹیج تک پہنچانے کے لیے کیا جاتا ہے چنانچہ انارکلی اپنی غیر معمولی شہرت و عظمت کے باوجود اسٹیج نہیں کیا جاسکا۔ انار کلی کی اس مقبولیت اور ادبی ڈرامے کی مضبوط ہوتی ہوئی روایت سے کچھ اور سنجیدہ لوگوں نے بھی ڈرامے کی طرف توجہ دی  عابد حسین اور محمد مجیب خاص ہیں جن کے ڈرامے " پردہ غفلت" اور "خانہ جنگی" اپنے موضوعات کی سنجیدگی ، اصلاحی مقصد اور تقاضائے وقت سے وابستگی کے باعث اعلیٰ ادب کا حصہ بن گئے۔

بیسویں صدی ک تیسری اور چوتھی دہائی تک پہنچتے پہنچے ڈراما اپنے تیکنیکی  وسائل اور اسٹیج کے لوازمات میں دن دونی رات چوگنی ترقی کر نے لگا  ۔پہلے خاموش پھر اس کے بعد بولتی ہوئی فلموںکا چلن شروع ہوا، اس کے بعد ریڈ یو  عام ہو جس نے ریڈیائی  ڈرامہ کوجنم دیا ساتھ ہی  مختلف تعلیمی عالمی اداروں میں اپنی مقبول ہونے لگا کمپنوں اور کلبوں نے ایک بابی ڈراموں کو سیع کرنا شروع کیا پھر تو نیشنل  اسکول  آف ڈراما قائم ہوا۔اس دور تک کے نتیجے میں  اردو ڈرامے نے بھی اتار چڑھاؤ دیکھے۔ ترقی پسند تحریک کا آغاز ہوا اور ساتھ ہی "اپٹا "کی شکل میں عوام تھیٹر  کا قیام عمل میں آیا جس نے ڈرامے کی دنیا میں اسے ایک نیا اور جیتا جاگتا رخ دے دیا اور ڈراما ادبی و تجارتی رخ سے الگ ہو کر سماجی شعور میں ڈوب کر ایک نئے رنگ و آہنگ اور تیور میں نظر آنے لگا۔ خواجہ احمد عباس کا ڈراما " زبیدہ" ایٹم بم اور انّناس " کرشن چندر کا "سرائے کے باہر " "کتاب کا کفن، نیل کنٹھ ، بیدی کا "سات کھیل ،نقل مکانی" خواجہ سرا "عصمت چغتائی کا" دھانی بانکیں" سردار جعفری کا یہ" کس کا خون ، منٹو کا" اس منجدھار میں" وغیرہ ۔اب اُردو ڈراما کسی حد تک نئے لوازمات سے مالا مال  ہو کر آج کی دنیا اور آج کے مطالبات سے جوڑ  گیا بڑے بڑے ڈراموں سے آنکھیں ملانے لگا۔ اسی دور میں کچھ ادیبوں اور شاعروں سے متعلق بھی ڈرامے لکھے گئے ۔ غالب صدی کے موقع پر سید محمد مہدی نے" غالب کون ہے؟“ لکھا۔ اعجاز حسین نے "آتش ، مجاز، انشا اور اکبرالہ آبادی" پر ڈرامے لکھے۔ محمد حسن نے غالب پرڈ رامے لکھے  ۔ محمد مجیب نے "آگر و بازار " ڈراما لکھا۔ محمد حسن نے اس صنف کی طرف خصوصی توجہ دی۔ "پیسہ اور پر چھائیں " اور " ضحاک" جیسے اچھے ڈرامے لکھے۔ حبیب تنویر ،ابراہیم یوسف ، ساگر سرحدی ، شمیم حنفی ،ز اہدہ زیدی ،ظہیر انور وغیرہ نے قابل قدر ڈرامے لکھ کر اس صنف کو آگے بڑھانے میں اہم رول ادا کیا۔

 

انشائیہ مچھر کا تجزیہ

اس انشائیے کے پہلے جملے پر غور کیجیے۔ بظاہر ایک معمولی اور چھوٹا سا جملہ ہے، جس میں مصنف کی حیثیت واحد متکلم کی ہے۔ جس کا مخاطب انشائیے کا قاری یا انسان ہے۔ مصنف کا انداز نہایت ہمدردانہ ہے ۔ اس کو انسان کی تکلیف یاپر یشانی کا احساس ہے۔ یہ پریشانی ایک ننھے سے پرندے کی وجہ سے ہے جو بھنبھناتا ہے اور انسان کو ستاتا ہے۔ اس جملے سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ یہ بھنبھنایا ہوا ننھا سا پرندہ، جو انسان کو بہت ستاتا ہے آخر ہے کون؟ وہ کوئی مکھی ہے، پھر ہے، بھڑ ہے بھنورا ہے یا کوئی اور لفظ بھنبھنا اسے اتنا ضرور واضح ہو جاتا ہے کہ پروانہ یا جان ہیں اور یہ بھی واضح ہے کہ وہ ٹیٹری یا گور یا کی نسل کا پرندہ بھی نہیں ہے۔

   اب دوسرے جملے پر آئیے۔ جس میں اس ننھے سے پرندے کے ستانے کا اثر بتایا گیا ہے یعنی اس پرندے نے رات کی نیند حرام کر دی ہے، یہاں قاری قیاس کر لیتا ہے کہ وہ نھا ساپرندہ بھڑ بھنور یا کبھی نہیں ہوسکتا۔ ممکن ہے کہ مچھر ہو جس کے بھنبھنانے اور ستانے کی وجہ سے قاری یا انسان کی نیند خراب ہوئی۔ تیسرے جملے میں مصنف اطلاع دیتا ہے کہ ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی یہودی یعنی ان تمام مذاہب کے ماننے والے متفقہ طور پر اس سے ناراض و نا خوش ہیں ۔ اس بظاہر سادہ سے جملے میں مصنف نے اپنی فنی چابک دستی سے ایک نہایت لطیف پہلو یہ بھی پیش کر دیا ہے کہ دنیا کے ان تمام بڑے اور اہم مذاہب کے ماننے والے جو ہمیشہ باہمی نا اتفاقی کے شکار رہتے ہیں ایک دوسرے سے کبھی متفق نہیں ہوتے۔ وہ سب اس ننھے سے پرندے سے (جو بھنبھنا تا ہے آپ کو ستا تا اور جس نے آپ کی نیند حرام کر دی ہے ) متفقہ طور پر ناراض ہیں۔ چوتھے جملے میں مصنف مزید اطلاع فراہم کرتا ہے کہ ہر روز اس کے مقابلے کے لیے ہمیں تیار ہوتی ہیں ۔ یہاں تک بھی مصنف (واحد متکلم ) اس پرندے کا کچھ اتا پتا نہیں دیتا لیکن پانچویں جملے میں جو کہ ایک مرکب جملہ ہے مگر مچھروں کے جنرل کے سامنے کسی کی نہیں چلتی کہ کر واضح اشارہ دے دیتا ہے کہ تھا  ننھاسا پرندہ یقینا مچھر ہے۔ مصنف اپنے قاری کو یہاں تک لا کر اس بھنبھناتے ہوئے ننھے سے پرندے کو ہوشیار، اہم اور طاقت ور کے روپ میں پیش کرتا ہے جس کے مقابلے کے لیے ہمیں تیار کرنے اور جنگ کے نقشے بنانے کے باوجود انسان کو شکست پر شکست ہوتی چلی جاتی ہے اور مچھروں کا لشکر بڑھا چلا آتا ہے۔

دوسرے پیراگراف میں انسان کے بڑے ڈیل ڈول کا ذکر کر کے ، یہ کہ کر کہ زرا سے بھٹکے پر قابو نہیں پا سکتا اس کی بے بسی اور نا چاری کو ابھارا گیا ہے۔ اور مچھروں سے نجات پانے کے ضمن میں اس کی ناکام کوششوں کا ذکر کرکے یہ بتایا گیا ہے کہ پھر اپنی یورش سے باز نہیں آتے اور یہ بھی کہ وہ ڈرتے نہیں بلکہ اعلان کر کے آتے ہیں۔ آخری مرکب جملے میں بے چارہ آدم زاد کہ کر مچھر کے مقابلے میں انسان کی بے چارگی کواور نمایاں کیا گیا ہے۔ تیسرے پیراگراف میں انسان کے طبقے (امیر، غریب) اس کے ساجی مرتبے (اعلی، اونی) اس کے عہد عمر ( بچپن، بڑھاپا ) اور اس کی جنس (مرد، عورت) کے حوالے سے یہ بتایا گیا ہے کہ ان میں کسی سے بھی تعلق رکھنے والا فرد مچھر کے حملے یاوار سے محفوظ نہیں۔ یہاں تک کہ اس کے پالتو جانوروں کو بھی مچھر سے گزند پہنچتی ہے کیونکہ مچھر اس اصول سے واقف ہے کہ دشمن کے دوست بھی دشمن ہوتے ہیں لہذا محض اس وجہ سے کہ وہ جانور انسان کی اطاعت گزاری کرتے ہیں، پھر انہیں بھی ایذا پہنچاتا ہے۔

 

آدمی چھروں کے خلاف بھر پورا بھی ٹین کرتے ہیں۔ اس میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ ہر شخص اپنی فہم وفراست کے مطابق دوسرے اشخاص میں پھر کے خلاف جوش و جذبہ پیدا کرنے کے درپے ہوتا ہے لیکن ستم ظریفی یہ کہ چھروں پر آدمی کی ان کارگزاریوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ خواجہ حسن نظامی اپنے انشائیوں میں خالص مزاج ہی کو ترجیح دیتے ہیں لیکن کبھی بھی وہ ہار یک پردوں میں نظر کی چٹکی لینے سے بھی نہیں چوکتے ۔ اسے ہم ان کے مخصوص مزاج کی کرشمہ سازی کا بھی نام دے سکتے ہیں۔ اس نثر پارے میں وہ پہلے ہندو مسلم سکھ اور عیسائی کا حوالہ دے چکے ہیں۔ اس کے بعد وہ کالے گورے کے نسلی امتیاز کو بڑے سبک طریقے سے نمایاں کرتے ہیں کہ مچھر چونکہ ان دونوں کا دشمن ہے اور یہ دونوں یعنی کالے اور گورے خود ایک دوسرے کے دشمن ہیں لیکن مچھر کی دشمنی کے معاملے میں دونوں ایک ہو جاتے ہیں اور اس کی نسل کشی پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ اس پہلو کو خواجہ حسن نظامی نے بڑی لطافت اور نزاکت کے ساتھ پیش کرنے کی سعی کی ہے کہ ایک طرف مچھر کی نسل ہے، دوسری طرف کالے و گورے کی نسل ہے۔ جس زمانے میں یہ انشائیہ لکھا گیا تھا اس وقت ہندوستان پرانگریزوں کی حکوت تھی۔ وہ لوگ ہندوستانیوں کوتیر کمتر جھ کر کا آدمی کہا کرتے تھے (اس منافرت کی وجہ یہ تھی کہ  گوری رنگت کے   حامل تھے ) اسی زمانے میں امریکہ میں کالوں گوروں کے درمیان شدید تنازعات کا سلسلہ جاری تھا جو کسی نہ کسی شکل میں اب تک برقرار ہے۔ خواجہ حسن نظامی نے آدمی کے مقابلے میں پھر کو بہت طاقت ور ، ذہین اور بڑامد بر بتایا ہے جو ایک ایسے کردار کے روپ میں سامنے آتا ہے جسے دوسروں کو اذیت دینے میں بڑا لطف آتا ہے ۔ جو ہمیشہ دوسروں کو نقصان بلکہ نقصانِ عظیم پہنچانے کی جستجو میں رہتا ہے اور جو انسان دوستی محبت ، ہمدردی خلوص اور دردمندی کے جذبات سے اسی طرح عاری ہے جس طرح چھر ہے جو آدمی کے مقابلے میں نہ تو شعور رکھتا ہے اور نہ ذہن ۔

 جب کہ آدمی اپنے شعور اور اپنی ذہانت سے جس قسم کے آلات حرب و ضرب ایجاد کر رہا ہے وہ اس کی وحشیانہ اور جنگجویانہ ذہانت ہی کی دلیل ہے۔ مچھر اگر طاعون کی وبا پھیلانے کا محرک ہے تو انسان ہیروشیما اور ناگا ساکی کو ایٹم بم کا نشانہ بناکر لاکھوں انسانوں کو آن کی آن میں موت کے گھاٹ اتار سکتا ہے۔ انسانوں کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ آج کا انسان اور انسان کی بنائی ہوئی حکومت یا یہ کہیے کہ موجودہ سیاست پہلے سے کہیں زیادہ خطر ناک ارادوں کی حامل ہے۔ خواجہ حسن نظامی نے مچھر کو غلاظتوں کا زائیدہ و پروردہ، کم ذات، بزدل اور کمینہ بتاتے ہوئے آدمی کو اس کے مقابلے میں گورا چٹا اور خوش وضع کہا ہے اور آدمی کے ساتھ اس کی دشمنی کو بے عقلی اور جہالت قرار دیا ہے۔ اس نکتے میں گہرے طنز کا پہلو مضمر ہے۔ مصنف کا عہد دراصل عہد حکومی سے عبارت تھا جس میں ہندوستان، انگریزوں کی ایک کالونی تھا، گوروں کے زیر نگیں تھا جو یہاں کے باشندوں کو جاہل، غیر مہذب، بزدل، بدشکل، بد ہئیت اور حقیر سمجھتے تھے جیسا کہ مچھر ہوتا ہے۔

 اگلے پیراگراف میں حسن نظامی نے مچھر کے منہ سے کھری کھری سنوا کر یہ بتا دیا ہے کہ ان مچھروں کو اتنا کمزور اور جاہل بھی نہ سمجھیں ۔ تمہاری نظروں میں اس حقیر بھنگے کی ذات و اوقات کچھ نہیں لیکن اگر یہ اپنی والی پر آجائیں گے تو آپ کی ساری خوش وضعی ، خوبصورتی اور علمیت خاک میں ملادیں گے۔ وہ آگے چل کر لکھتے ہیں: زمانہ خود فیصلہ کر دے گا کہ میدانِ جنگ میں کالا بھتنا لمبے لمبے پاؤں والا ، بے ڈول فتح یاب ہوتا ہے یا گورا چٹا آن بان والا ۔مندرجہ بالاسطر میں لکھتے وقت ممکن ہے کہ خواجہ حسن نظامی کے ذہن میں اہل ہند کے نمائندہ اور جنگ آزادی کے اس عظیم رہنما کا تصور موجودرہا ہو جس کی ظاہری وضع قطع دیکھ کر بیشتر گورے اس کی ذات وصفات ، بے پناہ ذہانت و صلاحیت اور طاقت و ہمت کا انداز ہی نہیں کر پاتے تھے اور بسا اوقات رکیک پھبتیاں اڑاتے تھے۔ اس کے بعد خواجہ صاحب نمرود کی یاد دلاتے ہیں جو خدائی کا دعوی کرتا تھا کسی کو خاطر میں نہ لاتا تھا۔ مچھر کو ناز ہے کہ میرے ہی ایک بھائی مچھر نے اس مغرور و سرکش کی خدائی خاک میں ملائی۔ یہ ایک تنبیہ تھی۔ ان انگریز حاکموں کے لیے جو ہندوستانیوں پر زندگی کا دائرہ تنگ کرتے جارہے تھے اور جن کی نظر میں ان کی وقعت کیڑوں مکوڑوں سے زیادہ نہ تھی۔

مچھر کو آخر انسانوں میں ایسے لوگ بھی مل جاتے ہیں جو ان کو ذلیل و حقیر نہیں سمجھتے بلکہ معزز خیال کرتے ہیں اور وہ ہیں صوفی صافی حضرات جو وسیع المشرب ہوتے ہیں، انسان دوستی اور یک جہتی پر یقین رکھتے ہیں۔ خلق خدا کو کمتر و بے وقعت نہیں جانتے ، ان کے لیے انسان اور مچھر سب کی زندگی یکساں طور پر اہمیت رکھتی ہے۔ ایسے صوفیوں اور خدارسیدہ لوگوں کو کاٹنے پر وہ شرمندگی محسوس کرتا ہے اور اسی احساس کے تحت تسکین دل کی خاطر اپنی اس حرکت کو وہ ان کی قدم بوسی سے تعبیر کرتا ہے، تا ہم احساس ندامت دور نہیں کر پاتا۔ آخر میں مچھر کا یہ بیان خاصا توجہ طلب ہے اور عبرت کا درس دیتا ہے: سواگر سب انسان ایسا طریقہ اختیار کرلیں جیسا کہ صوفی صاحب نے کیا تو یقین ہے کہ ہماری قوم انسان کو ستانےسے خود بخود باز آجائے گی ورنہ یادر ہے کہ میرا نام چھر ہے۔ لطف سے جینے نہ دوں گا اور بتا دوں گا کہ کمین اور پیچ ذات اعلی ذات والوں کو یوں پریشان اور بے چین کر سکتی ہے۔"

ایک ننھے سے بھنگے پر لکھے گئے مختصر سے انشائیے کی ان اختتامیہ سطروں پر پہنچ کر قاری انشائیے کی گہرائی و گیرائی اور تہ در تہ معنویت کو پوری طرح محسوس کر لیتا ہے کہ فاضل مصنف نے اپنے عہد میں مروجہ ذات پات کے فرسودہ نظام کو کس ہوشیاری اور جرات مندی کے ساتھ چیلنج کر کے کمال فنکاری کے ساتھ سرزنش اور فہمائش کے کام بیک وقت انجام دے دیے ہیں۔

انارکلی  کا خلاصہ:

انار کلی کی کہانی دلچسپ بھی ہے اور المیاتی تاثر کی حامل بھی، یہ کہانی اس طرح ہے۔در با را کبری کی کنیزوں میں دلا رام ممتاز حیثیت رکھتی ہے۔ وہ اپنی بہن کی بیماری کے سلسلے میں کچھ دنوں کی چھٹی لے کر گھر جاتی ہے۔ اس کی غیر موجودگی میں دربار میں رقص کرنے کے لئے نادرہ نام کی کنیز آتی ہے۔ اکبر اعظم اس کے حسن ، رقص اور نغمے سے خوش ہو کر اسے انار کلی کا خطاب دیتا ہے اور ولی عہد سلطنت شہزادہ سلیم اسے اپنا دل دے بیٹھتا ہے۔ دلارام واپس آتی ہے تو دربار کا نقشہ بدلا ہوا پاتی ہے۔ اب ہر ایک کی زبان پر انار کلی کا نام ہے۔ انار کلی سے پہلے سلیم کا کسی قدر التفات دلارام کی طرف تھا۔ دلا رام انارکلی کی ہر دل عزیزی تو برداشت کر سکتی تھی لیکن سلیم کو کسی قیمت پر کھونا نہیں چاہتی تھی کیونکہ اس کی نظر ہندوستان کی ملکہ کے تاج پر تھی۔ جب اسے اپنا یہ خواب ٹوٹتا اور بکھرتا ہوا نظر آیا تو وہ اپنی تمام عیاری و چالاکی کے ساتھ انارکی کو راستے سے ہٹانے کے درپے ہوگئی۔

ایک دیر شام جب انار کلی سلیم سے ملنے پائیں باغ میں جارہی تھی تو اس کی چھوٹی بہن ثریا اسے چھیڑتی ہے۔ ثریا سلیم اور انارکی کی ہم راز ہے۔ دلارام کھبے کی آڑ سے ثریا اور انارکلی کی گفتگوسن لیتی ہے اور جب پائین باغ کی تنہائی عاشق و معشوق کے درمیان کے سارے فاصلے مٹا دیتی ہے تو دلارام اپنی موجودگی وہاں ظاہر کر دیتی ہے۔دوسرے دن سلیم کسی بہانے سے دلا رام کو اپنے ایوان میں بلواتا ہے اور اس راز کو راز رکھنے کی قیمت پوچھتا ہے۔ ولا رام اس کے جواب میں سلیم سے اپنے عشق کا اظہار کر دیتی ہے۔ پردے کے پیچھے سے بختیار باہر آتا ہے۔ جسے سلیم نے پہلے سے وہاں چھپارکھا تھا۔ اس طرح دلارام پر بھی وہی جرم عائد ہوتا ہے جس کی مرتکب انار کلی ہے۔

دلارام اس وقت سلیم کے قدموں پر گر کر اسے یقین دلاتی ہے کہ وہ ہر طرح سے اس کی وفادار ہے۔ سلیم نہ صرف یہ کہ اس پر اعتبار کر لیتا ہے بلکہ اسے اپنا ہم راز بنا کر اپنے اور انارکی کے درمیان رابطے کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ جشن نوروز کے موقع پر سلیم دلارام سے ملاقات کی کوئی راہ نکالنے کو کہتا ہے۔ دلا رام انار کلی سے ملوانے کا وعدہ کرتی ہے مگر ملواتی اس طرح ہے کہ سلیم اور انار کلی کا آمنے سامنے بیٹھنے کا انتظام کرواتی ہے۔ اور ایک قد آدم آئینہ اس طرح نصب کرواتی ہے کہ بادشاہ دونوں کو دیکھ سکیں۔رقص کے درمیان میں انار کلی شریا سے پانی مانگتی ہے۔ دلارام عرق میں شراب ملا کر پہلے سے تیار رکھتی ہے اور مردارید کے ذریعےانارکلی کو دلواتی ہے۔ انار کلی اسے پی لیتی ہے اور نشے کی وجہ سے قدرے بیبا کانہ انداز میں اشارے کنائے کرتی ہے۔ اس وقت دلا رام اکبر کے قریب جا کر اس کی توجہ انار کلی کی طرف مبذول کرا دیتی ہے۔ اکبر غصے میں آکر انار کلی کو قید کر وا دیتا ہے۔

انارکلی کی رہائی کے لئے کئی لوگ درخواست کرتے ہیں خصوصاً مہارانی انار کلی کو نہ صرف رہا کرنے بلکہ اسے سلیم کو دے دینے کی سفارش کرتی ہے مگر اکبر سلیم کو ایک رومان پرست شہزادے کے بجائے ایک عالی حوصلہ شہنشاہ کی شکل میں دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ سلیم کا ایک کنیز سے دیوانہ وار محبت کرنا پسند نہیں کرتا، پھر بھی یہ ممکن تھا کہ وہ رحم کی درخواستیں قبول کر لیتا لیکن اسے شبہ ہوا کہ دلا رام شاید اس معاملے کے کچھ اور راز جانتی ہے کیونکہ اس نے اس کی توجہ انارکلی کے اشاروں کی طرف مبذول کروائی تھی۔ اکبر دلارام سے باز پرس کرتا ہے وہ کہتی ہے کہ یہ لوگ چھپ چھپ کر پائین باغ میں ملا کرتے تھے اور آپ کے خلاف سازش کرتے تھے، کیونکہ انار کلی ہندوستان کی ملکہ بننا چاہتی ہے۔ صاحب عالم بے قصور ہیں انار کلی انھیں اکساتی تھی ، اس نے صاحب عالم سے کہا ایک طرف باپ ہے اور دوسری طرف محبوبہ اس میں سے جو پسند ہو چن لو۔ میں چھپ کر یہ باتیں سن رہی تھی کہ صاحب عالم کی نظر مجھ پر پڑ گئی ، انھوں نے مجھے دھمکی دی کہ انارکلی کا لفظ زبان سے نکالا تو پچھتانا پڑے گا، میں سہم کر خاموش ہوگئی۔ ادھر سلیم بختیار کے ذریعے داروغہ زنداں کو رشوت دے کر انار کلی سے ایک ملاقات طے کروالیتا ہے اور ملاقات کے لئے زنداں پہنچتا ہے۔ وہاں انار کلی سے کہتا ہے میں تمہیں یہاں سے لے جانے کے لئے آیا ہوں۔ یہ بات داروغہ زنداں سن لیتا ہے۔ چنانچہ بادشاہ سلامت کے اچانک زنداں کے معائنے پر آجانے کا بہانہ کر کے اور بادشاہ سلامت کے واپس جانے کے بعد انار کلی سے ملوانے کا وعدہ کر کے اسے اپنی کوٹھری میں چھپا دیتا ہے پھر باہر سے دروازہ بند کر کے خود بادشاہ سلامت کے پاس پہنچ کر سارا واقعہ اس طرح بیان کرتا ہے کہ صاحب عالم نے بزور شمشیر انار کلی کو لے جانے کی کوشش کی اور انارکلی نے انھیں اس کے لئے اکسایا۔ ابھی دلارام کی گفتگو بادشاہ سے ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ داروغہ زنداں وہاں پہنچ کر یہ قصہ بادشاہ کو سناتا ہے جسے سن کر جلال اکبری مزید بھڑک اٹھتا ہے۔ رحم کی سابقہ تمام درخواستیں مستر د کر دی جاتی ہیں اور انار کی دیوار میں چنوا دی جاتی ہے۔ بعد کو اصل راز کھلتا ہے تو بادشاہ اپنے کئے پر بہت پچھتاتا ہے۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.