8. Notes (B.A.) Second Year Optinal Urdu-VIII (Nazm Aur Jadeed Gazal)

نظم کے معنی ومفہوم

 شاعری کا ایک ایسا انداز ، جس میں کسی موضوع ،عنوان یا پھر کسی خاص فکر کو پیش نظر رکھ کر تمام خیالات کو اس کے اطراف و جوانب کی پیشکشی کے لئے استعمال کیا جائے تو اس قسم کی شاعری کو تم کہا جا تا ہے نظم کالفظ عربی سے فاری میں منتقل ہوا ، جس کے معنی لڑی یا شعر کے ہوتے ہیں قسم کے معنی بندوبست یا انتظام کے بھی ہوتے ہیں ۔ شاعری میں کسی موضوع کو منتخب کر کے اس موضوع سے متعلق شاعری میں خیال تسلسل اور رابطہ کا بندوبست یا انتظام کرنے کا شعری عمل "نظم " کہلاتا ہے ۔ نظم کی روایت اردو شاعری میں بہت بعد میں فروغ پائی ، جبکہ انگریزی ادب میں شاعری کو Poetry اور نظم کو Poem کی حیثیت سے شہرت حاصل ہو چکی تھی ۔ نظم کا لفظ معنوی اعتبار سے عربی زبان سے فارسی میں مکمل ہوا اور فارسی سے اردو میں عام شہرت کا حامل ہوا ۔ طویل عرصہ تک اردو میں نظم کے حقیقی معنی انتظام یا بندوبست کے لئے جاتے رہے ۔ شعری اظہار کے طور پرنظم کے اصلی ،وصفی اور لغوی مفہوم کی نمائندگی عربی اور فارسی لغات میں موجود ہے ۔لغت  میں عام طور پر نظم کے معنی پرونا یا پھر ضبط میں لانا کے ہوتے ہیں ، جیسے نظم سے لفظ نظیم وجود میں آیا ، جس کے معنی پرو دیا گیا کے ہوتے ہیں ۔ عام طور پر نظم کے معنی موتی پرونا ، آراستہ کرنا موزوں کر نا یا پھر کسی چیز کو جوڑنا کے مفہوم میں لیا جا تا ہے ۔ اس کے علاوہ منظوم کے معنی نظم کیا ہوا یا اگر موزوں کلام یا پر شعر لکھنے کے معنی میں استعمال کیا جا تا ہے نظم کے ایک معنی لڑی یا سلک کے بھی ہوتے ہیں ۔لغت میں نظم کے معنی موزوں کلام ، شعر ، چھند ، کبت اور ضد نثر کے طور پر استعمال کئے گئے ہیں نظم کو ایک اصطلاح کے طور پر استعمال کرنے کا کام ’’جامع اللغات " کے ذریعہ انجام دیا گیا ۔ عربی میں نظم کے اصلی معنی اور وصفی معنی کے علاوولغوی معنی بھی بیان کر دیئے گئے ہیں لیکن نظم کو شعری اظہار کے اعتبار سے ثانوی مقام بھی دیا گیا ہے ، جس کے تحت چند شعروں کے مجموعے کو بھی نظم کہا جا تا ہے ۔ لیکن جد یدنظم کی تعریف یہ بتائی گئی ہے کہ اشعار کا ایسا مجموعہ جو کسی ایک مضمون یا موضوع کے علاوہ کسی عنوان کی مناسبت سے بیان کیا جاۓ تو اسے نظم کا درجہ دیا جا تا ہے ۔ اس طرح نظم لکھنا کسی بھی موضوع یا عنوان کے مختلف جہات کو ایک لڑی میں پرونے کا عمل قرار دیا جاۓ گا ۔ اس اعتبار سے اصطلاحی طور پر قلم شاعری کی ایک ایسی خصوصیت ہے ، جس میں عنوان سے متعلق تمام اہم خصوصیات کو یکجا کر دیا جا تا ہے ۔ اس کے باوجود بھی نظم کر نے والا یا Verifier اور نظم نگار بھی شاعر لینی Poet کے فرق کو محسوس کرنا ضروری ہے ۔ کسی بھی موضوع کو لفظوں کی بندش میں پرودینا Verification کہلاتا ہے ۔ اس کے بجاۓ نظم کے حسن اور زبان وفن کی تمام خصوصیات کو نظم میں شامل کر کے مفہوم کے تمام گوشوں کی جامع اور موثر انداز سے شعری نمائندگی کر نا Poetry یا نظم نگاری کی دلیل بنتی ہے ۔ طویل عرصہ تک نظم کے معنی مختلف شعری اصناف مشن کے لئے جاتے رہے ، لیکن رفتہ رفتہ کلام موزوں کو ہی نظم نہیں کہا گیا بلکہ شاعری اور نظم کرنے کی تقلیقی اور فنی حیثیت کو نظم کی حیثیت سے قبول کیا جا تا رہا ۔ اس طرح اصطلاحی طور پر تمام شعری اصناف سے ہٹ کر موضوع کے اظہار کے لئے شاعری کے انداز کو اظہارکی تخلیقی خصوصیت کا درجہ دے کر قبول کیا جا تا رہا ۔ فن شعری کے تقاضوں کی تعمیل کی جاۓ تو اسے علم قرار دیا جاۓ گا ۔ اس کے بجاۓ صرف لفظوں کی بندش کی تکمیل کی جائے اور قافیہ اور ردیف کوضروری تصور کرتے ہوۓ صرف تک بندی کا حق ادا کیا جاۓ تو ایسی قسم Verification کی تعریف میں شامل کی جاۓ کی ہے ۔ نظم لکھنا درحقیقت کسی موضوع کے احاطہ کے ساتھ ساتھ موضوع کے امکانات اور اس کی فطری ضروریات کو شعر میں ڈھالنا ہی نظم نگاری کی خصوصیت ہے ۔ اس طرح نظم کے قدیم معنی و مفہوم سے بالکل مختلف شعری انداز عصر حاضر کی نظموں میں دکھائی دیتا ہے آج کے دور میں شاعری کی مختلف اصناف جیسے مثنوی ، مرثیہ ، قصیدہ ، رباعی ، غزل ، شہر آشوب ، ریختی ، واسوخت کو اہمیت حاصل ہے ۔ اس طرح نظم نگاری کے اپنے اہم نکات اور اس کی خصوصیات کی وجہ سے نظم گوئی کو بھی ایک صنف شاعری کا درجہ حاصل ہو گیا ہے ۔

نظم کا فن

 نظم نگاری کے بارے میں عام طور پر یہ سمجھا جا تا ہے کہ شاعر کے ذہن میں جب تک کوئی آفاقی تصور نہ ہونظم کا وجود میں آنا ممکن نہیں ۔ کیونکہ نظم کافن مختلف اجزاء پر مشتمل ہے ۔ نظم کے مختلف اجزاء اور اس کے حصے پوری نظم کی تعمیر وتشکیل میں برابر کے حصہ دار ہیں ۔کسی بھی حصہ کوکم یا زیادہ نہیں قرار دیا جا سکتا ۔ نظم میں داخلی اور خارجی تصورات کا شامل ہونا ضروری ہے ۔ اس کے علاوہ شاعر کا مشاہدہ اور تجربہی نہیں بلکہ اس کے جذبات اور احساسات کے علاوہ تخیل کی حسیت جیسے عوامل ایک مرکب جمالیاتی وحدت کا ذریعہ حاصل کرتے ہیں ، تو ہی نظم کا وجود ہوسکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کر نظم کی کوئی ایک نایت مقر نہیں ، بلکہ ہر شاعر اپنی مرضی کے مطابق کسی بھی فلم کی پیشکشی کے لئے کوغزل کی ہیئت یا پھر مثلث یا مربع کے مخمس اور مسدس ہی نہیں بلکہ آزا داور معری لب ولہجے میں بھی نظم کوئی کا حق ادا کیا جا سکتا ہے ۔ نظم کے فن میں سب سے بڑی ضرورت تسلسل ، روانی اور اس کے  توسط سے موضوع کی بھر پور نمائند کی کواہمیت حاصل ہے ہوتی ہے ۔ اگر نظم کے دوران اس عمل پر توجہ نہیں دی گئی تو لازمی طور نظم کا بنیادی وصف متاثر ہو گا ۔ دنیا کے مختلف موضوعات جیسے فطرت قدرت ، سائنس ، سماج ، معاشرت ، نفسیات ، ادب ، قدرتی مناظر اور دنیا کی ایجادات و اختراعات کے علاوہ شخصیات اور ان کے کارناموں کو تسلسل کے ساتھ لڑی کے پس منظر میں بطور شاعری پیش کیا جاۓ تو ایسی شاعری کوظلم کا درجہ دیا جا تا ہے ۔ آج کے دور میں سیاسی بدحالی ، دہشت گردی ، کردارکشی عصمت ریزی جنسی بے راہ روی ، اخلاقی گراوٹ اور سیاسی اور معاشی طور پر استحصال کو بنیاد بنا کر بھی نظم نگاری کا حق ادا کیا جارہا ہے نظم نگاری میں شاعر کو نہ صرف ارادی اور غیر ارادی محسوسات کو پیش کرنا پڑتا ہے ۔ بلکہ بھری بھی اور سی احساسات کو بھی نمائندگی دینی پڑتی ہے ۔ اس طرح نظم کا موضوع حد درجہ وسیع ہو جا تا ہے ، جس میں مذہبیات ، روحانیات ، سماجیات ، نفسیات ، ترقیات ،  اور افکار ہی نہیں بلکہ ہر قسم کے مثبت ومنفی رویے بھی کام میں لاۓ جاتے ہیں ۔ اس طرح نظم کا فن موضوع یا عنوان کو تسلسل کے ساتھ شاعری میں بیان کرتے ہوئے تمام شعری اور فنی خصوصیات کو پیش نظر رکھنا ہی نظم کی تکمیل کا وسیلہ ہے ۔

اردونظم کے موضوعات

نظم نگاری کی شروعات سے لے کر ترقی پسند شاعری کے دور تک اردونظم کے موضوعات کا تعلق رسم ورواج ، عید و تہوار اور موسموں کے علاوہ قدرتی مناظر تک محدود تھا ، بلکہ یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ ’’انجمن پنجاب لاہور ‘‘ کے موضوعاتی مشاعروں سے قبل تک نظیر اکبر آبادی ایک ایسے واحد شاعر تھے ، جنہوں نے اپنی نظموں میں موضوعات کے تنوع کے ساتھ ساتھ ہئیت کے تنوع کو بھی برقرار رکھا ۔ اس لئے نظیر اکبر آبادی کو اردو کے ممتاز اور مایہ ناز نظم نگار ہی نہیں بلکہ سماج پسند شاعر کا درجہ حاصل ہوتا ہے ۔ ان کی زندگی میں خود ان کی شاعری کی قد رنہیں ہوئی ۔ غرض انسان کی فطرت اور اس کے رویے ہی نہیں بلکہ اس کی مفلسی ، ناداری اور تنو مندی کے ساتھ ساتھ صحت اور خدا پرستی کے علاوہ دنیا کے بے شمار موضوعات کو عوان کا درجہ دے کر نظیر اکبر آبادی نے کامیاب نظم گوئی کی روایت کا آغاز کیا ۔ مولا نا حالی اور محمد حسین آزاد نے انجمن پنجاب لاہور کے توسط سے فطری موضوعات کو نظم میں شامل کیا ۔ چنانچہ چاند ، چاندنی رات ، زمین ، آسمان ، جھاڑ ، پہاڑ قدرتی نظارے اور سادہ آنکھ سے نظر آنے والے مختلف مناظر کو نیچرل شاعری کے توسط سے نظم کا حصہ بنایا گیا ۔ حالی اور آزاد کی تقلید کرتے ہوۓ شبلی نعمانی نے قوم پرستی کو بنیاد بنا کر اسلامی واقعات اور مذہب اسلام کی سچائی کو نظموں میں پیش کرنا شروع گیا ۔ انہوں نے اپنی مشہورنظم ’ ’ خیر ’’مقدم ڈاکٹر انصاری ‘ ‘ کے توسط سے خیر مقدمی نظم کی بنیاد رکھی ۔ اس طرح اردونظمکے موضوعات میں تنوع پیدا ہوتا گیا ۔ چکبست اور سرور جہاں آبادی نے نظم کے موضوعات میں تبدیلی پیدا کرتے ہوئے تخیل اور مشاہدے کی قوت کی حسین آمیزش کی نمائندگی کی ۔اسی دوران انسان کے ذہنی اور روحانی کشمکش کے انداز کو بھی نظم کا حصہ بنایا گیا ۔ قومی احساس کو جگانے کا اہم کارنامہ مولانا حالی نے اپنی طو یل نظم ” مسدس حالی ‘ ‘ کے ذریعہ انجام دیا ۔ اس دور میں اردو نظم کے موضوع میں خوشگوار تبد یلی لاتے ہوۓ اکبر الہ آبادی نے طنزیہ اور مزاحیہ نظم کی روایت کا آغاز کیا ۔ 1905 ء کے بعد اختر شیرانی نے نظم کی روایت کو رومانی احساسات سے وابستہ کر کے پیکر اور پیکر یت کی نمائندگی کی ۔ اختر شیرانی کے کلام میں انگریزی شاعری کے طرز سانیٹ کا انداز بھی دکھائی دیتا ہے ، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ علی گڑھ سے تعلیم یافتہ طلباء نے اردوظلم کے موضوعات کومشرقی شعریات سے الگ کر کے مغربی شعریات سے وابستہ کرنے میں کامیابی حاصل کی ۔اس طرح اردو نظم جو ابتداء میں محدود موضوعات کی نمائند بھی ، رفتہ رفتہ اس کے موضوعات میں نئے اضافے ہونے لگے ۔ چنانچہ چرند پرند ہی نہیں بلکہ بہار ، جنگل ، پہاڑ اور انسان کی ایجاد کردہ چیزوں پر ہی نہیں بلکہ قدرت کے موجودات پر بھی نظمیں لکھ کر اردو کے شاعروں نے نظم نگاری کےموضوعات میں اضافہ کر کے شاعری کے منفر د مختلف انداز کی حیثیت سے نظم نگاری کے طریقے کو بھر پور ترقی دی ۔ چنانچہ آج ار دونظم  میں دنیا کے بے شمار موضوعات کا احاطہ موجود ہے اور نظم کی شاعری خیالات کے علاوہ افکار کی نمائندگی کرنے میں پوری طرح کامیاب ہے ۔

نظم کی قسمیں :

اردو نے اپنے لچکدار رویے کے باعث ہندوستانی زبانوں ہی سے نہیں بیرونی ملک کی زبانوں سے بھی الفاظ اصناف اسالیب اور آداب کے تعلق لین دین کیا ہے جس سے اردو کے شعری سرمایہ ا ضافہ ہوا ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ بیشتر ہیتوں نے اردو میں اعتبار نہیں پایا لیکن یہ کوشش رائیگا ں بھی نہیں گئی اردو کا شعری منظر نامہ  بھر پور ،منور اور معطر ضرور ہوا ۔

معریٰ نظم

معری نظم ایسی نظم کو کہتے ہیں جس میں وزن بھی ہوتا ہے اور ارکان بحر کی پابندی بھی کی جاتی ہے ۔ البتہ اس میں قافیہ اور ردیف سےکام نہیں لیا جاتا۔چونکہ یہ قافیہ سے عاری ہوتی ہے اس لیے ابتدا اس کو غیر مقفع کہا گیا لیکن بعد میں معریٰ نظم  کی اصطلاح کو سب نے تسلیم کر لیا ۔اسے انگریزی میں (Blank Verse) کہتے ہیں۔1875   لاہور میں انجمن اسلام کے جلسے میں ایسا مشاعرہ منعقد ہوا جس میں طرح مصرعہ دینے کی بجاۓ موضوع دیا گیا اور قافیہ وردیف کی تجدید کردی گئی ۔ اردو میں معریٰ  شاعری کا پہلا مولانامحمد حسین آزاد کے یہاں ملتا ہے ۔ بعد میں ترقی پسند شاعروں نے بھی ردیف اور قافیوں کا استعمال ترک کیااورمعری نظمیں بھی کہنے لگے اور پھر تو یہ ایک مزاج ایک رواج سا بن گیا ۔ اردو میں معری نظم کا سرمایہ اتنا وافر نہ سہی نلیکن خاطر خواہ ضرور ہے۔ہمارے  ممتاز اور صف اول کے شاعروں نے بھی اس ہئیت کو اختیار کیا ۔

پابند نظم

 پابند نظم اس نظم کو کہتے ہیں جس میں ردیف قافیہ اور بحر کے مقررہ اوزان کی پابندی کی جاتی ہے ۔ پابند ظلم میں نہ موضوعات کی قید ہوتی ہے اور نہ اشعار  کی تعداد کی شاعری کسی بھی موضوع پر اور کتنی ہی تعداد میں اشعار کہ سکتا ہے ۔ بعض شاعروں نے چار چھ اشعار پرمشتمل پابند نظمیں بھی کی ہیں ۔ اردو شاعری کا بڑا حصہ پابند نظموں پر مشتمل ہے ۔ ابتدا سے لے کر تا حال تقریبا تمام شاعروں نے پابند نظم نگاری کی ہے اور آج بھی آزاداور معری نظموں کے باوجود پابند نظم نگاری ہی زیادہ ہے ۔ ہم یہاں جوش ملیح آبادی کی ایک پابندظم بدلی کا چاند درج کر رہے ہیں ۔

 خورشید وہ دیکھو ڈوب گیا ، ظلمت کے نشان لہرانے لگے    مہتاب وہ ہلکے بادل سے چاندی کے ورق برسانے لگا

وہ سانولے پن پر میداں کے ہلکی سی صباحت دوڑ چلی     تھوڑا سا ابھر کر بادل سے وہ چاند جبیں جھلکانے لگا

لو ڈوب گیا پھر بادل میں بادل میں وہ خط سے دوڑ گئے      تو پھر وہ گھٹائیں چاک ہوئیں ، ظلمت کا قدم تھرانے لگا

بادل میں چھپا تو کھول دیئے بادل میں در بیچے ہیرے کے   گردوں پر جو آیا تو گر دوں دریا کی طرح لہرانے لگا

آزاد نظم

آزاد نظم بھی مغرب  سے لی گئی ہئیت ہے اور اردو میں یہ ہئیت بے حد قبولیت رکھتی  ہے  ۔ اس میں قافیہ ردیف کی پابندی نہیں ہوتی بحرکی بھی تحدید نہیں  لیکن ایسا نہیں ہے اس میں بحر نہیں ہوتی ۔ بحر کے ارکان اور اس کے اوز ان یا صوتی بندیشوں کی پابندی ہوئی ہے ۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ معری  نظم میں بحر کے مقررہ اوزان  استعمال ہوتے ہیں یعنی اگر پہلے مصرع میں بحر کے  چار ارکان استعمال ہوۓ ہیں تو اس کی پابندی نظم کے ہر مصرے میں ہوتی ہے جب کہ آزاد نظم   ارکانِ بحر تعداد ہر مصرعہ میں متعین نہیں ہوتی  جس کی وجہ سے مصرعے چھوٹے بڑے ہو جاتے ہیں ۔ فرض کیجیے کہ نظم کے پہلے مصرعے  میں بحر میں چار بار فاعلن کی تکرارہوئی ہے   ۔  نظم آزار میں بعد کے مصرعوں میں کہیں ایک ،کہیں دو، کہیں تین، کہیں چار اور کہیں چھ بار فاعلن کا استعمال ہوسکتا ہے ۔  مخدوم محیی الدین کی نظم ’’سناٹا‘‘

  کوئی دھڑکن

  نہ کوئی چاپ

نہ کوئی سنچل

نہ کوئی موج

نہ ہلچل

نہ کسی کی سانس کی گرمی

نہ بدن

ایسے سنّاٹے اک آدھ تو پتہ کحڑکے

 

 

جدید اردو غزل

پروفیسر رشید احمد صدیقی نے غزل کو ’’ اردو شاعری کی آبرو‘‘ کہا ہے ۔حقیقت یہی ہے کہ اردو غزل واقعی آبروئے شعرِ اردو ہے ۔ صدیوں کے عبور و مرور کے باوجود یہ صنف آج بھی موجبِ دلکشی ہے ۔اس صنف پر اعتراضات بھی ہوئے ٗ لیکن اردو غزل کا جادو آج بھی قائم ہے۔تجرباتِ انسانی کی دنیا چوں کہ محدود نہیں ٗ اس لیے غزل کی قوتِ اظہار بھی کسی حد کو گوارا نہیں کرتی ۔ انسان کے متنوع خیالات کی رنگا رنگی سے صنٖف غزل رنگین ہو گئی ہے۔
غزل میں سوز و گداز کی دنیا بھی آباد ہوئی ہے اور محبوب کے حسن و جمال کی محفل بھی سجائی گئی ہے ۔لیکن ہر دور میں غزل نے اپنی انفرادیت قائم رکھی ہے ۔غزل آپ بیتی بھی اور جگ بیتی بھی ۔غزل کی داخلیت اہلِ احساس کو متاثر کرتی ہے ۔اس کا دائرہ چوں کہ زندگی اور زمانے کو محیط ہے ٗ اس لیے اس کے اختصار میں ایک جہانِ معنی ٰ آباد ہوتا ہے۔
عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ جدید اردو غزل کا آغاز ہندوستان کی پہلی جنگِ آزادی کے بعد ہوا ۔مولانا الطاف حسین حالی اور محمد حسین آزاد نے جدید اردو غزل کی بنیاد ڈالی ۔اس روایت کو بعد کے زمانے میں علامہ اقبال اور جوش ملیح آبادی نے آگے بڑھایا اور نئی رو ش پیدا کی ۔اسی طرح علی گڑھ تحریک اور ترقی پسند تحریک نے ادب ٗسماج اور سیاست کی تاریخ میں جو فعال کردار ادا کیا ٗ اس کی اہمیت سے کسی کو انکار ممکن نہیں۔گزشتہ چھے دہائیوں کے دوران اردو غزل میں جو تبدیلیاں اور اضافے ہوئے ٗ اس میں ترقی پسند شعرائے اردو اور جدید غزل نگاروں کا بڑا حصہ ہے ۔یہ غزل کی ہمہ گیری اور گہرائی کا بین ثبوت ہے کہ اس نے دبستانِ دہلی کے زیرِ اثر آہ و فغاں اور نالہ و فریاد اور داخلیت کے تاثرات قارئین میں پیدا کیے تو دبستانِ لکھنو کے تحت عیش کوشی ٗ ظاہر داری اور عامیانہ جذبات کے علا وہ محبوب کے لب ورخسار اور ظاہری سراپے کے نقوش گہرے کیے اور بعد کے زمانے میں جدت پسندی کا دور دورہ ہوا تو جدید غزل نے تہذیب و اقدار کے انتشار ٗ ؤہوسِ اقتدار ٗ سیاسی مصلحت اندیشی ٗ فرد کی تنہائی ٗ مذہب کی بے قدری اور انسانی داخلی کرب و اضطراب کی آئینہ داری کی اور ترجمانئ ماحول سے کبھی چشم پوشی نہیں کی۔جدید اردو غزل کا معیار مقرر کرتے ہوئے نامی انصاری لکھتے ہیں :
’’
جدید غزل با وجود نئی نئی علا متوں اور اسا لیبِ بیان کے نئے نئے سانچوں کے ٗسننے والوں کو متاثر بھی کرتی ہے اور ان کے ذہنوں کو مسرت و انبساط کا احساس بھی عطا کرتی ہے۔نئی شاعری کا محور عام طور سے تنہائی کا المیہ ٗ وجود کا بکھرنا ٗ چہرے کی غیریت ٗ ذات کا کرب ٗ لفظ کی نارسائی اور شکست خوردگی کی فضا ہے ٗ جسے جدید شعراٗ علامات و استعارات کے نئے نئے سانچوں میں ڈھال کر پیش کرتے ہیں۔( 1)
آزادی کے بعدانگریز سامراج کی غلامی کا دور ختم ہوا ۔ بدلے ہوئے حالات میں جن شعراء نے غزل کو نیا موڑ دیا ٗ ان میں ابنِ انشا ٗ خلیل الرحمن اعظمی اور نا صر کاظمی کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ان کے علا وہ جنہوں نے غزل کی جمالیات کو نئے تجربوں سے مالا مال کرتے ہوئے عصری زندگی کے مسائل اور تقا ضوں کے تحت جدید غزل کی آبیاری کی ٗ ان میں عبد الحمید عدم ٗ سیف الدین سیف ٗ باقی صدیقی ٗ نشور واحدی ٗ جمیل مظہری ٗ حبیب جالب ٗ حفیظ ہوشیارپوری ٗ صوفی غلام مصطفی تبسم ٗ عزیز حامد مدنی ٗ حمید الماس اور کئی دوسرے شعراء شامل ہیں۔

دھیان کی سیڑھیوں پہ پچھلے پہر
کوئی چپکے سے پاؤں دھرتا ہے
ہمارے گھر کی دیواروں پہ نا صر
اداسی بال کھولے سو رہی ہے                          ( ناصر کاظمی)

عجیب سکون کا عالم ہے یاس کا عالم
یہ دلکشی تو غمِ انتظار میں بھی نہیں            ( سیف)

ہم ایسے دور میں پیدا ہوئے حمید الماس
دماغ چپ ہے ٗ تمیز حواس ختم ہوئی                      ( الماس)

بیسویں صدی کی چھٹی دہائی میں جدیدیت کی تحریک نے سر ابھارا ۔ جسے ترقی پسند تحریک کا رد عمل کہا جا سکتا ہے۔ اس تحریک کے زیرِ اثر عصری آگہی اور سیاسی مسائل کو جدید غزل نگاروں نے غزل کا موضوع بنایا۔کبھی انسان کے لیے زمین ہی سب کچھ تھی ٗ اُس کے مسائل زمین کے مسائل تھے ٗ اس کی فلاح و بہبودی زمین سے واابستہ تھی ۔پھر وہ زمانہ آیا کہ انساں کو فضا پر دسترس حاصل ہوئی ۔آج چاند اور مریخ انسانی رہ گزر میں ہیں۔جدید غزل نگار وں کے یہ اشعار ملا حظہ ہوں:

یہ مہر و ماہ ارض و سما مجھ میں کھو گئے
اک کائنات بن کے ابھرنے لگا ہوں میں                ( جاں نثار اختر )

ہو اکرے گی تعاقب کہاں تلک میرا
کہ مجھ پہ ختم ہے لمحوں کا سلسلہ آخر                    ( عتیق اللہ)

جدید اردو غزل کے لیے الفاظ کا استعمال ٗ مصرعوں کا در و بست اور ان کی نشست و برخاست خاص اہمیت رکھتی ہے ۔اس میں جذبات اور احساسات کا اظہار بے تکلفی سے ہوتا ہے ۔زبان مروجہ انداز سے دور ٗ عام محاوروں سے پرے ٗ کاروباری زندگی کی زبان دکھائی دیتی ہے۔ غیر رومانی ٗ نا ہموار سی ! اس کو کیا کیا جائے کہ آج انسانی زندگی ہی ایسی ہے ۔غیر شاعرانہ ٗ کھردرا انداز بیان ٗ اکھڑا اکھڑا لب و لہجہ ٗ سخت مجرد الفاظ ٗ یہی جدید غزل کی پہچان ہے۔جدید غزل نگار کے نزدیک جذبے کی اہمیت ہے ۔وہ اپنے مافی الضمیرکا اظہار کسی شعری اسلوب اور پر تکلف انداز میں کرنا بلکہ جدید شعرا ء کی عمیق فکر ٗ تہذیب سے گہرے تعلق اور ماحول کے مطالعے کا نتیجہ ہے ۔ جدید غزل کا ایک طرف کلاسکیت سے اس کا رشتہ محکم ہے تو دوسری طرف ساخت اور باخت سے نئے پن اور ندرت کا احساس ہوتا ہے۔جدید شعراء کے ہاں ما ضی کے ورثے کے طور پر میر کے لہجے کی غم ناکی اور درد مندی ہے تو غالب کا مفکرانہ اسلوب موج تہہ نشیں کی صورت میں ملتا ہے ۔یہ تقلید میر و غالب سہی ٗ مگر اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ جدید غزل اپنے شاندار اور قابلِ فخر ما ضی سے اٹوٹ اور گہرا رشتہ رکھتی ہے۔

میں سوچتا تھا کہ وطن جا کے پڑ رہوں گا کبھی
مگر فساد میں وہ گھر بھی جل گیا ہے میاں                            ( جاں نثار اختر)

ہوا ہے تجھ سے بچھڑنے کے بعد معلوم
کہ تو نہیں تھا ٗ ترے ساتھ ایک دنیا تھی                            ( احمد فراز )

مرا یہ حشر ہونا تھا ایک دن
کبھی ایک چیخ تھا ٗ اب خموشی ہوں                                  ( سلیمان اریب )

منزل تو خیر کب تھی ہمارے نصیب میں
ہاں یہ ہوا کہ گھر سے بہت دور آ گئے                              ( اصغر گو رکھپوری )

مختصر یہ کہ جدید غزل اپنے بے شمار اوصاف کے باعث جدید ہے ۔اس میں کچھ منفی رنگ بھی نمایاں ہیں اورکہیں کہیں سطحیت کا احساس بھی ہوتا ہے ۔ان باتوں سے قطع نظر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ٗ جن خوبیوں کی بنا پر غزل پائیدار ہوتی ہے ٗ وہی خوبیاں جدید غزل میں موجود ہیں ۔جس کے سبب وہ آج بھی سر خرو اور مہتمم بالشان ہے۔

 

 


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.