خاکہ نگاری
اردو کی غیر افسانوی نثر
میں خاکہ نگاری مختصر اور دلچسپ صنف ہے دراصل اس صنف کا رواج اردو میں انگریزی ادب
کے زیراثر ہوا۔ خاکہ کی اہم خوبی یہ ہے کہ اس کے ذریعہ ایک ہی نشست میں ہم کسی
اہم، غیر اہم شخصیت سے واقف ہو سکتے ہیں خاکہ نویس چند واقعات کے ذریعہ اسے ہمارے
سامنے پیش کر دیتا ہے۔ غیر جانبداری ، ہمدردی اس صنف کی بنیادی شرائط ہیں۔ ورنہ
خاکہ نویسی کا مقصد پورا نہ ہو سکے گا۔
خاکہ کی تعریف وخصوصیات:
خاکہ کے لیے انگریزی میں Sketch کا لفظ رائج رہے۔ غیر افسانوی نثر کی مختلف اصناف میں خاکہ کو
خصوصی اہمیت حاصل ہے خا کہ میں فنکار کسی فرد کی زندگی اور کردار کی چند جھلکیاں
اس طرح پیش کرتا ہے کہ پڑھنے والا اس فرد سے واقف ہو جائے۔ اردو میں ادبی خاکے کا
موضوع عموما حقیقی اور خیالی دونوں قسم کی شخصیتیں رہی ہیں۔ خاکے جیسی ہی دوسری
صنف سوانح نگاری بھی ہے فرق صرف اتنا ہے کہ خاکہ نگار اپنی بات اختصار سے کہتا ہے
جیسا کہ ذکر آچکا ہے وہ چند واقعات کے ذریعہ اپنے کردار کی شخصیت کو نمایاں کرتا
ہے۔ اس کے برعکس سوانح نگار کسی فرد کی پیدائش سے موت تک کے تمام واقعات و حالات
کو پیش کرتا ہے وہ سوانح کے مرکزی کردار کو ایک جیتے جاگتے انسان کی طرح ہمارے
سامنے لاتا ہے وہ اس کی زندگی کے حالات تفصیل سے بیان کرتا ہے جب کہ خاکہ نویس
مختصر واقعات کے ذریعہ اپنے کردار کی تصویر نمایاں کرتا ہے۔ خاکے کے لیے بعض دوسری
اصطلاحات بھی مروج رہی ہیں ۔ مرقع شخصی مرقع اور تصویروغیرہ۔موضوع کے اعتبار سے
خاکہ کی دو قسمیں ہیں شخصی خاکہ، خیالی خا کہ شخصی خاکہ کی اقسام میں تعارفی
سرسری،تاثراتی مداحیہ، توصیفی، بیانیہ اور سنجیدہ۔ ذاتی خود نوشت اور انٹرویو وغیرہ
کو شامل کیا جاسکتا ہے۔
خاکہ کو اشاروں کا آرٹ
کہا جاتا ہے جس میں رمزیہ انداز میں کسی شخصیت کی زندگی کے بہت سے پہلوؤں کو سمیٹ
لیا جاتا ہے۔ خلیق انجم نے اسے نثر میں غزل کا فن کہا ہے جس طرح غزل کے دو مصرعوں
میں شاعر بڑے سےبڑے واقعہ کو پیش کر دیتا ہے۔ اس طرح خاکہ نگار مختصر الفاظ کے
ذریعہ کسی شخصیت کو حیات نو بخش دیتا ہے۔ شخصیت کے نمایاں پہلوؤں کے انتخاب کے
علاوہ ہمدردی وغیرہ جانبداری کے اصول پر عمل پیرا ہو کر فنکار ایک خوبصورت خاکہ کی
تخلیق کر سکتا ہے۔ خاکہ کے مرکزی کردار کی خوبیوں اور خامیوں کو بیان کر کے ہی وہ
حقیقی معنوں میں خاکہ نگاری کا فرض ادا کر سکتا ہے۔ کیونکہ انسان صرف فرشتہ یا
شیطان نہیں ہوسکتا بلکہ ان دونوں کے مجموعہ کا نام ہے۔ انسان اچھے ، بُرے، غریب،
امیر، عام ، اوسط ہو سکتے ہیں۔ لہذا خا کے ایسے لوگوں کے بھی لکھے گئے ہیں جو ر
ہنما، عالم، مدبر ، وزیر، صحافی، ناقد ، شاعر، ادیب نہیں تھے بلکہ مالی اور چپر
اسی تھے مگر ان کی ذاتی صفات نے انھیں عمر جاوداں عطا کر دی اس سلسلے میں مولوی
عبدالحق کا نام " نام دیو مالی " نور خان اور رشید احمد صدیقی کا کندن
قابل ذکر ہیں۔ اختصار، وحدت تاثر، کردار، واقعہ نگاری ، منظر کشی اور دلکش زبان و
بیان خاکہ کی اہم خصوصیات ہیں۔ خاکے کا مختصر ہونا اس کا خصوصی وصف ہے حالانکہ
طویل خا کے بھی لکھے گئے ہیں۔ مختصر خاکے کی مثال عبد الحق کا خاکہ حکیم امتیاز
الدین ہے یہ ڈیڑھ صفحہ پرمشتمل ہے۔
خاکہ
نگاری کا ارتقاء
اُردو نثر میں خاکہ نگاری
کے اولین نقوش کا تعین ناممکن ہے۔ اُردو میں اس صنف کے ابتدائی خدو خال جنھیں Proto
Type Sketch کہا جا سکتا ہے ۔ قدیم تذکروں اور دیگر تصانیف
میں پائی جاتی ہیں۔ لیکن ایک مستقل صنف نثر کی حیثیت سے اُردو میں خاکہ نگاری کا
آغاز انگریزی ادب کے زیر اثر ہوا۔اردو نثر میں اس صنف کی باقاعدہ ابتدا ء اگر چہ
انیسویں صدی کے اواخر میں ہو چکی تھی لیکن صحیح معنوں میں اس کا ارتقاء اور بحیثیت
ایک آزاد صنف خاکہ نگاری کا وجود بیسویں صدی میں عمل پذیر ہوا۔
میر کے نکات الشعراء (۱۱۲۵ھ) اور اس کے بعد کے
تذکروں میں خاکہ نگاری کے ابتدائی خدو خال دستیاب ہوتے ہیں لیکن یہ نقوش ادھورے
اور نامکمل ملتے ہیں اس لیے وہ خاکہ نہیں کہہ سکتے ۔ تذکروں میں شخصیت کو بیان
کرتے وقت بڑے ہی اختصار و ایجاز کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ بعض تذکروں میں شعراء کے
بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ لیکن باوجود اس کے ان سے شعراء کی مکمل
شخصیت اُبھر کر سامنے نہیں آتی ۔ تذکروں کے تعارفی بیانات کو خاکہ کا پر تو کہا جا
سکتا ہے لیکن انھیں صنف خاکہ میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ تذکروں کے بعد انشاء کی ”
دریائے لطافت "میں بھی چند شخصی تصویروں کی جھلکیاں واضح نظر آتی ہیں۔ ان میں حلیہ اور ہیئت نگاری
زیادہ اور شخصی فطرت کی ترجمانی کم ہے۔ اس کے علاوہ ان کے اپنے تاثرات کی کمی کا
احساس بھی ہوتا ہے جس کے سبب ان کے تحریر کردہ خاکے Proto
type خا کے کہے جاسکتے ہیں۔ غیر افسانوی نثر میں
صنف خاکہ نگاری چند انفرادی نقوش اور خصوصیات کی حامل ہوتی ہے ۔ خاکہ نویس کردار کی
سیرت کی دھوپ چھاؤں ، اس کے عادات و اطوار، اس کے سیاہ و سفید کی ایسی تصویر کشی
کرتا ہے جس سے شخصیت کے اہم پہلو سامنے آتے ہیں۔ تذکرۂ ہندی، گلشن بے خار، مجموعہ
نغز ، خوش معرکہ زیبا محبوب الزمن اور تذکرہ گل رعنا میں بھی کہیں کہیں ایسے خاکوں
کی جھلک دیکھائی دیتی ہے۔ لیکن مولانا
محمد حسین آزاد کی " نیر نگ خیال ا"ور" آب حیات "میں بعض
معلومات اسے انداز میں فراہم کی گئی ہیں اور کرداروں کے مخصوص گوشوں پر اس انداز میں
روشنی ڈالی گئی ہے کہ شعراء کی یہ چلتی پھرتی اور منہ بولتی تصویر میں خاکہ سے بہت
قریب نظر آتی ہیں۔ اس میں پیش کردہ شخصی تصاویر کو خاکوں کے واضح نقوش قرار دے
سکتے ہیں اور اس طرح آب حیات نہ صرف تذکرہ تاریخ بلکہ خاکہ نگاری اور انشاء پردازی
کا مجموعہ اور مرکب بھی بن گئی۔ اس کا اسلوب ایسا اچھوتا اور قلمی تصاویر اتنی
جاندار ہیں کہ اس کی دلچسپی ہر دور میں
باقی رہے گی اور اس قسم کی پیش کش میں اولیت کا سہرا ہمیشہ آزاد کے سررہے گا۔
آزاد سے بہتر حلیے شاید ہی کسی خاکہ نگار نے تحریر کیے ہوں ۔ جن شخصیات کو اُنھوں نے دیکھا نہیں ان کی خیالی تصاویر بھی اس طرح کھینچی ہیں کہ حقیقت کا رنگ پیدا ہو گیا ہے۔ آب حیات اس حیثیت سے کافی اہم ہے کہ اس میں آزاد نے قدیم ادبی روایات کو زندگی کے نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا ہے شخصی مرقع کشی کے لحاظ سے اگر آب حیات کو دیکھیں تو اس میں میر، انشاء مصحفی ، ذوق ، غالب کے تذکروں میں جابجا خاکے کی جھلکیاں ملتی ہیں ۔ شعراء کے اتنے مفصل خاکے آب حیات ہی میں پہلی مرتبہ پیش کیے گئے ہیں۔ اس لحاظ سے آزاد وہ پہلے شخصیت نگار ہیں جنھوں نے اس صنف کی بنیادیں استوار کیں ۔ آزاد کی پیش کی ہوئی تصاویر آج بھی دھند لی نہیں ہو ئیں ۔ مرزا ہادی رسوا اور عبدالحلیم شرر نے ان کی رکھی ہوئی بنیادوں پر اس صنف کی عمارت کھڑی کرنے کی کوشش میں نمایاں حصہ ادا کیا ہے ۔ شرر نے سیر رجال ونسواں کے علاوہ چیدہ شخصیتوں کے تین اہم سلسلے بھی لکھے ہیں۔ ان میں بھی ہم کو شخصی مرقعوں کے زیادہ واضح خدوخال ملتےہیں۔ ان کے ہاں ہم کو عظیم اور معمولی ہر دو قسم کے کردار ملتے ہیں۔ ان کا حلیہ ،لباس، پڑھنے پڑھانے کا انداز، اخلاق و عادات، انداز گفتگو، وضعداری ان کے کارنامے غرض کہ مختلف حیثیتوں کی دلچسپ عکاسی اپنے مخصوص لب ولہجہ میں کی ہے۔ شرر کا عام طرز بیان شگفتہ اور رواں ہے لیکن ان کے خاکوں میں اسلوب کی دلکشی نمایاں نہیں تخیل میں گہرائی کی کی محسوس ہوتی ہے۔ کردار کے مطالعہ سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہم ۔ مختلف المزاج کرداروں کا مطالعہ نہیں کئے جارہے ہیں بلکہ کرداروں میں ایک قسم کی یکسانیت کا احساس ہوتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ ہم شرر کے ان مضامین کو فنی نقطۂ نظر سے مکمل خاکوں میں شمار نہیں کر سکتے ۔ البتہ اُردو خاکہ نگاری کی تاریخ میں ابتدائی نمونے کی حیثیت سے ان کی اہمیت مسلم ہے۔ شرر کے بعد مرز امحمد ہادی رسوا نے" وضع داران لکھنو" کے نام سے شخصیات پر مضامین کا مجموعہ شائع کیا ہے۔ ان کی پیش کش کے انداز میں جذبات، خلوص، اعتماد اور قطعیت ضرور ہے۔ لیکن اُنھوں نے شخصیتوں کی سیرت کے کسی ایک پہلو ہی کو اُجاگر کیا ہے ۔ اس حیثیت سے ان کی پیش کر دو شخصی مضامین کو نیم شخصی مرقع کہنا درست ہو گا ۔ رسوا کے بعد خواجہ حسن نظامی نے دلی کی اکثر بڑی شخصیتوں کی تصویر کشی کی جنہیں وہ قلمی چہرے کہا کرتے تھے۔ لیکن ان کی تصویروں میں شخصیت کی پوری ترجمانی نہیں۔ انھیں صرف حلیہ کہہ سکتے ہیں اور انہی کو اُنھوں نے بہت زیادہ نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تصویروں میں حرکت نہیں اور وہ بالکل سپاٹ ہیں ۔ ان کے ہاں ہم کو خاکے کے اہم لوازم یعنی حایہ نگاری، سیرت کی عکاسی ، منظر نگاری، واقعہ نگاری سبھی کچھ ملتے ہیں۔ اس کے باوجود انھیں مکمل خاکہ کہنا اس لیے ممکن نہیں کہ ان شخصیتوں کا جامع خاکہ پیش کرنا حسن نظامی کا بنیادی نصب العین نہیں تھا۔ البتہ خاکے کے ابتدائی خدوخال میں حسن نظامی کی اس تصنیف کو ہمیشہ اہمیت حاصل رہے گی۔ عبد الحلیم شرر، مرزا ہادی رسوا اور خواجہ حسن نظامی کی مندرجہ بالا تصانیف کو اُردو خاکہ نگاری کی تاریخ میں بنیادی اہمیت حاصل رہے گی ۔ مکمل خاکے یقینا ان تخلیقات میں ہمیں نہیں ملتے۔ لیکن یہ تخلیقات خاکہ نگاری کے کامیاب نقوش کی حیثیت کی حامل ہیں۔ اُردو میں باقاعدہ خاکہ نگاری کا آغاز مرزا فرحت اللہ بیگ کے خاکوں سے ہوتا ہے۔ جنہوں نے بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں شخصی خاکوں کی طرف توجہ کی اور شخصی خاکہ نگاری کو ایک مستقل صنف کے درجے پر پہنچادیا۔ ان کا طویل خاکہ نذیر احمد کی کہانی کچھ ان کی کچھ میری زبانی اردو ادب کا ایک قابل قدر بہترین خاکہ ہے ۔ عبد الحق ( چند ہم عصر ) ، بشیر الدین ہاشمی (گفت و شنید ) ، آغا حیدر حسن دہلوی ( پس پرده) ، عبد الماجد دریا بادی (محمد علی) ، محمد شفیع دہلوی ( دیلی کا سنبھالا )، خواجہ غلام السیدین آندھی میں چراغ ) ، رشید احمد صدیقی ( گنج ہائے گراں مایہ، ہم نفسان رفتہ اور خنداں ) اور عبد الرزاق کا نپوری ( یاد ایام ) نے بھی شخصی خاکے تحریر کیے۔ بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں اُردو ادب کئی نئے رجحانات و تحریکات سے اثر پذیر ہوا۔ ترقی پسند تحریک کے زیر اثر ایک منصوبے کے تحت شخصیتوں کے خاکے تحریر کیے جاتے رہے لیکن ان تخلیق کاروں کی نظر اشخاص سے زیادہ تحریک پر تھی اس لیے کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی ۔ تاہم ان کی توجہ حقیقت نگاری پر رہی ۔ اس دور کے خاکہ نگاروں میں عصمت چغتائی، علی سردار جعفری ، کرشن چندر، کیفی اعظمی، فکر تونسوی، ساحر لدھیانوی ، سعادت حسن منٹو، شوکت تھانوی، اشرف صبوی ، مالک رام ، رئیس احمد جعفری، دیوان سنگھ مفتون ، غلام احمد ، فرقت کا کوروی تمکین کا ظمی، چراغ حسن حسرت، انجاز حسین محمد طفیل علی جواد زیدی ، الطاف حسین قریشی، معین الدین دردانی ، عبد المجید سالک، شاہد احمد دہلوی ، عبدالاحد خاں تخلص بجو پالی، ضیاء الدین احمد برنی نریش کمار شاد، شورش کا شمیری مجتبی حسین، صالحہ عابد حسین، یوسف ناظم ، خواجہ احمد فاروقی ، کنہیا لال کپور قر ۃالعین حیدر، مشتاق احمد یوسفی ، ندافاضلی ، ضیاء الحسن فاروقی بنگن ناتھ آزاد، عوض سعید ظہیر احمد صدیقی ، و باب عندلیب، عنوان چشتی ، عرش ملسیانی ، صباح الدین عبدالرحمن وغیر ہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ ختم شد
وکیل صاحب
رشید احمد صدیقی
ایک وکیل صاحب کی کہانی
جنہوں نے اپنے گھر والوں کے دباؤ میں آکر اپنی وکالت کی تعلیم مکمل تو کر لی،لیکن
تعلیم سے فراغت کے بعد کوئی کام نہ ملنے کی وجہ ان کی زندگی بڑی تنگدستی اور
بدحالی سے گزرتی ہے جیسا کہ عموماً اکثر وکلاء کا یہیں حال ہوتا ہے۔ ہر صبح
وکیل صاحب اس امید کے ساتھ گھر سے نکلتے ہیں کہ آج کچھ نہ کچھ کام ضرور مل جائے
تاکہ بیوی بچوں کی ضروریات پوری کی جا سکے،لیکن واپسی میں مایوسی اور ناامیدی کے
سوا کچھ ہاتھ نہیں لگتا۔اس قصہ کا اصل مزہ رشید صاحب کا انداز بیان ہےجو اس
قصے کو مزید دلچسپ بناتا ہے۔
متعدد ناکام حملوں
کے بعد ایک روز جون کے مہینے میں معلوم ہوا کہ ہمارا ہیرو یونیورسٹی میں حق
بخشوانے میں کامیاب ہوا اور ایک نیا سوٹ، پرانی ٹائی اور اس سے پرانی ٹوپی جو ایام
دماغ سوزی کی تفسیر روغنی ہو کر رہ گئی تھی، زیبِ سر کر کے کلکٹر صاحب کے بنگلے سے
لے کر نینی تال کی بلندیوں تک ڈپٹی کلکٹر کا گز بن گیا تھا۔گرمی کا
موسم جنون و مراق کے لیے مضر ہوتا ہے۔ اسی لیے نینی تال ،مسوری، شملہ،کسولی وغیرہ
میں جب دو ایک گرمیاں سر سے گزر جاتی ہیں تو بقول شخصے” مغز کی گرمی”چھٹ جاتی ہے۔
مکان واپس آتے ہی والدین جو بی- اے پاس ہو جانے کے بعد پڑھانا اتنا ہی ضروری
سمجھتے ہیں جتنا حکما منضبح کے بعد مسہل دینا اور لیڈرانِ قوم اسپیچ کے بعد چندہ
لینا۔ ان کو قانون کا امتحان پاس کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ یہ بھی ایک مدت کی
سرگرانی کے بعد “نے محقق بود نہ دانش مند” ہو کر واپس آئے۔ اب جو دیکھیے تو ایک
ٹوٹے ہوئے سائبان میں ایک خانہ ساز کرسی پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ سامنے ان کے خیالات کی
طرح ڈانواں ڈول ایک میز ہے جس کا ایک پاؤں کسی حادثے کی نذر ہو گیا تھا،اس کے نیچے
تین اینٹیں تلے اوپر رکھی ہوئی ہیں۔ اوپر تین چار کتابیں ہیں جن کودیکھ کر دل ہی دل
میں کڑھتے تھے، اتنے میں ایک گاؤں سے کوئی دہقاں اونچی دھوتی،کندھے پر لاٹھی اور
لاٹھی کے سرے پر اس کا ایک جوڑا جوتا،جس پر تیل اور گرد کی تہیں جم چکی تھیں۔ پشت
پر پیتل کا یک لوٹا اور ایک میلی مختصر پوٹلی باہم دست و گریباں، کچھ بوکھلایا ہوا
کچھ چوکنا رک کر آتے ہوئے دیکھا۔ فوراً سب سے موٹی کتاب کو اس بد حواسی کے ساتھ
کھینچ کر بیچ میں سے پڑھنا شروع کر دیا کہ دوسری کتابیں میز پر منتشر ہوگئیں۔ اس
خلفشار میں میز کا پایہ اینٹ پر سے کھسک گیا لیکن ڈگمگائی ہوئی میر کو ایک طرف سے
اپنے پاؤں سے سنبھال کر فوراً دریائے فکر میں غوطے لگانے لگے، ساتھ ہی ساتھ
کنکھیوں سے دہقاں کو بھی دیکھتے جاتے تھے۔ بد قسمتی سے اس کا رخ دوسری طرف مائل ہو
گیا۔ انہوں نے مایوسی سے کتاب کو میز پر ٹیک دیا۔ میز پہلے ہی سے ڈگمگا رہی تھی ،
ہل چل سے قلابازی کھا گئی قہرِ درویش برجانِ درویش۔ سر جھکائے ہوئے کانٹے
درست کر رہے تھے کہ ایک دوسرا موکل نظر آیا معاً اپنی حالتِ زار کا اندازہ
کیا اور سر اٹھا کر کرسی پر واپس آنا چاہتے تھے لیکن یہ بھول گئے کہ
سر میز کے نیچے ہے۔ اٹھے تو سر میز سے ٹکرا گیا کسان قریب آیا ،چوٹ کی وجہ سے ایک
ہاتھ مقامِ ماؤف پر ، آنکھیں ڈبڈبائی ہوئیں ، کچھ خفت ،کچھ غصہ لیکن یہ سب
حالتیں اس امید پر قابل ِبرداشت تھیں جو نووارد کی ذات سے وابستہ تھی۔
آنکھوں کے اشارے سے مطلب
دریافت کیا۔کون اندازہ کر سکتاہے کہ اس نگاہ میں یاس و امید کے کیسے مدو جزر اٹھ
رہے تھےکتنے ایسے ہیں جو اس بد نصیب کی ان مبارک اور خوش آئند امیدوں کا اندازہ
لگا سکتے ہیں جو اس نے طالب علمی کے زمانے میں محنت کاور کلفت کی گھڑیوں میں
،شب کی تاریکی، صبح کی سپیدی اور شام کے دھندلکے میں مستقبل کے لیے قائم کر رکھی
تھیں۔ نو وارد نے ایک دوسرے وکیل کا پتہ دریافت کیا ۔ غریب نے ایک طرف کو اشارہ
کردیا۔کسان روانہ ہو گیا ۔وکیل صاحب کی مایوس نگاہیں کچھ دور تک جانے والے کے ساتھ
گئیں پھر تھک ہار کر کہیں رہ گئیں۔
دن کے نو بجے ہیں وکیل
صاحب نے کچھ کھاپی کر بستہ سنھالا۔ شہر کے چوراہے پر یکے کے انتظار میں جا کر کھڑے
ہوئے ایک ہاتھ میں بدرنگ چھتری، دوسرے میں بستہ ، بغل میں چوغہ کی پوٹلی دو آنے
سواری پر مُصر یہ ڈیڑھ آنے سے زیادہ دینے پر تیار نہیں۔ جتنے یکے والے سامنے سے
گزرے سبھی سے رد و قدح ہوئی کسی نے ان کا خیال نہیں کیا، کسی نے سخت و سست بھی کہ
دیا۔ غلط راستے پر کھڑے تھے ایک گھوڑے سےٹکراتے بچے۔ کانسٹبل نے ڈانٹا اور یہ بے
چارے سمٹا کر ایک طرف ہو لیے۔ ایک نہایت حقیر اور شکستہ دو سواریاں پہلے سے موجود
تھیں، اس میں ایک زنانی سواری بھی تھی۔ یکہ بان پیرِ فرتوت بقول سودا گھوڑا
جسے آگے سے تو بڑا کھلایا جائے اور پیچھے سے لاٹھی ماری جائے تو چلنے پر آمادہ ہو
ورنہ پاؤں کے نیچے پہیے لگانے کی ضرورت ہو۔بہ ہزار دقت ڈیڑھ آنے پر معاملہ طے وا۔
یکہ بان کے ساتھ تیسری سواری ہو کر بیٹھے ، بستہ بغل میں سر پر چھتری ۔ یکہ روانہ
ہوا ۔ گھوڑے کی چال ان سواریوں کی حالتِ زار کے مطابق تھی۔ ہر ایک پر وجد طاری تھا
اور ہچکولوں کی تال وسم پر سر دھنتا تھا یا وکیل صاحب ضابطۂ فوجداری یا ضابطۂ
دیوانی کی معلوم نہیں کس دفعہ میں غلطاں و پیچاں تھے کہ گھوڑے نے ٹھوکر لی بستہ
معہ پوٹلی کے زمین پر آرہا۔ اور خود کہنیوں کے بل گھوڑے کی پیٹھ پر آرہے۔
کرایہ کے یکےاور گاڑیوں
کو کچہری کے دروازے تک جانے کی اجازت نہ تھی۔ احاطہ کے باہر وکیل صاحب اتر گئے اور
نظر بچا تے ہوئے کچہری کی عمارت میں آئے۔ بستہ عرائض نویسوں اور محرر کے بوریے پر
رکھا ، پوٹلی سے نکال کر گاؤن زیبِ تن کیا ایک مدت گزری کبھی اس چوغہ کا رنگ سیاہ
تھا امتدادِ زمانہ اور وکیل صاحب کے پیش رووں کی سرپرستی سے اس کی رنگت ان
بالوں کی سی ہو گئی تھی جن پر عرصہ سے خضاب نہ لگایا گیا ہو۔ پچھلے دامن کی گوٹ
علیٰحدہ ہو کر نیم بیضاوی شکل میں ان کی بے گناہی پر خندہ دنداں نما تھی۔ اس دامن
کی شہادت کے بارے میں بعض اشخاص شبہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ سعادت ایک موکل کی دراز
دستی سے حاصل ہوئی تھی۔
وکیلوں کے کمرے میں پہنچے
،یہاں کس کا کون پرسانِ حال ہوتا ۔ ہمارا ہیرومایوسی و درماندگی کی تصویر بنا ہوا
ایک گوشہ میں بیٹھ کر سب سے سستے سگریٹ کی ڈبیا نکال کر آخری سگریٹ پینے لگا۔
خیالات کا ہجوم کمرے میں ہوا کا گزر نہیں ۔ دھوئیں کے حلقے فضا میں تحلیل ہورہے
تھے، شور پکار سے کمرہ گونج رہا تھا۔ سامنے ایک بوڑھے بنگالی وکیل کرسی پر بیٹھے
ہوئے تھے۔ ایک میلا بھدے قسم کا کورٹ اسی کپڑے کا پائجامہ، پاؤ میں کریب سول پر
لگی ہوئی تھی۔ چاروں طرف موکل جھکے ہوئے تھے۔کچھ نوجوان وکیل ارد گرد بیٹھے ہوئے
تھے جن کو وہ کبھی کبھی بنگلہ زبان میں کچھ نہ کچھ سمجھا تے جاتے تھے۔ تھوڑی دیر
میں ایک شخص ہانپتا کانپتا کمرے میں آیا اور کہنے لگا ،حضور پکار ہو رہی ہے ۔
بوڑھا بنگالی اجلاس پر پہنچا ۔ چپراسی نے جھک کر سلام کیا اور اس نے پہنچ کر دو ہی
ایک جملے کہے، مقدمے کی سماعت ملتوی کر دی گئی، تاریخ بھی بدل دی گئی ۔
روپیوں کے بوجھ سے بنگالی وکیل کی مضبوط جیب کسی قد راور لٹک گئی۔اسی دوران میں
حلوائی کا چھوٹا لڑکا پیپل کے ایک ہی پتے کے ہرے دونے میں دو گلاب جامن
لایا۔ پیتل کے منجھے ہوئے لوٹے میں پانی بھرا ہوا تھا۔ بنگالی وکیل نے
کریپ سول کا جوتا علیٰحدہ کیا۔ دونوں گلاب جامنوں کو داہنے ہاتھ کی انگشتِ شہادت
اور انگوٹھے سے اٹھا کر ٹھیک حلق کے اند یکے بعد دیگرے ٹپکا دیا۔ پورے لوٹے کا
پانی ایک سانس می گیا۔ انگوٹھے کو منہ سے ، منہ کو انگوٹھے سے پوچھا اور مسئلوں کی
ورق گردانی میں مصروف ہو گیا۔ کوئی اندازہ نہیں کر سکتا کہ یہ شخص کتنی دولت کا
مالک تھا۔ رائے بہادر ،سیـآئیـای،
پانچ ہزار روپیہ ماہوار آمدنی اور بینک آف انگلینڈ میں دس لاکھ کا حصہ دار۔
——حاضر
ہے،عدالت میں پکار ہوئی ۔ چپراسی نے کرخت آواز میں مستغیثہ کو آواز دی۔ ایک غریب نوجوان
شریف عورت میلے کچلے لباس میں عدالت کے دروازے پر متوحش کھڑی تھی۔ اس بدنصیب سے
چپراسی کو کوئی رقم وصول نہی ہوئی تھی۔ بڑے سخت لہجے میں پوچھا تیرا وکیل کون ہے۔
غریب عدالت سے ناواقف طرح طرح کے لوگوں کا ہجوم ، عدالت کا ایوان ، ہر طرف
دوڑ، دھوپ اور ڈانٹ ڈپٹ ، یہ غریب ایک دور افتادہ گاؤں کی رہنے والی جس نے سادہ دل
کسان اور مویشیوں کے علاوہ کچھ اور نہیں دیکھا تھا۔ اس ہنگامے سے اور زیادہ
مبہوت ہو گئی ۔ چپراسی نے جواب نہ پاکر دھتکار دیا۔ سامنے سے ایک وکیل کا گزر ہوا،
سر چھوٹا پیٹ بڑا، نیت کھوٹی، آواز بھاری۔ عورت نے آنکھوں سے پانی کس مپرسی کی
خاموش داستان سنا دی۔ وکیل اس عورت کی طرف سے اسی مقدمے کی پیروی کر چکا تھا۔ عورت
کی بے بسی کو نظر انداز کر کے فیس کا طالب وہا۔ غریب نے ہزاروں منتیں کیں، بیوگی
اور بے مائگی کا سانحۂ غم رو روکر سنایا لیکن وکیل نے توجہ نہ کی اور آگے بڑگ گیا۔
غریب نے ایک بار پھر عدالت تک پہنچنا چاہا لیکن چپراسی سختی سے مانع ہوا اور
مقدمہ عدم پیروی میں خارج ہو گیا۔
ایک اور وکیل صاحب کلکتہ
ہائی کورٹ میں مدت تک کام کر چکے تھے، زمانے کی گردش سے مفلوک الحال ہو گئے تھے،
زندگی کا آفتاب لبِ بام تھا۔ کہولت اور کمزوری کے باعث نشست و برخاست میں دقت ہوتی
ہے، لیکن قانون کے روگ میں اب تک مبتلا ہیں۔ عدالت میں ان کا وجود سب پر وبال ہے۔
وکلاء یا حکام کی لائبریری میں ان کا گزر ہوتا ہے تو لوگ بے رخی سے پیش آتے ہیں
تازہ نظائر کے مطالعے کے شائق ہیں اور ان کا خلاصہ اپنی اس نوٹ بک میں درج کرتے
جاتے ہیں جس کے اطراف کی جلد مدت ہوئی حقِ رفاقت ادا کرکے واصل بحق ہو چکی ہے اور
اِ دھر اُدھر کے دس بیس اوراق بھی غائب ہو چکے ہیں۔ ہاتھ میں میلے اور مل گجے
کاغذات کا ایک پلندہ رہتا تھا جس کی نسبت یقین کے ساتھ کوئی رائے قائم نہیں کی جا
سکتی تھی۔ ملکی مسائل اور سیاسی اصول پر اس سرگرمی اور جوش کے ساتھ گفتگو
کرتے کہ لوگ متحیر رہ جاتے ۔ قانونی نکات خوب سمجھتے تھے لیکن ان کا حلیہ ان کی
حالت ان کی کہولت کچھ ایسے اسباب تھے کہ ان کی طرف کوئی رخ نہیں کرتا تھا۔
ان کی وضعداری کو دیکھیے
،دس بچے دن سے پانچ بجے شام تک نیچے نہ بیٹھتے اور کبھی ایک پیسہ نہ کمایا شام کو
گھر کی مراجعت کرتے تو آدھ گھنٹے سے کم وقت کرایہ چکانے میں صرف نہیں کرتے تھے۔
یکہ والے ان کی صورت دیکھ کر پناہ مانگتے تھے۔ کہ الف لیلیٰ کے اس
تسمہ پا بوڑھے کی مانند تھے جس کے پاؤں جس کسی کی گردن میں حمائل ہو جاتے
تھے اس کی جان لے چھوڑتے تھے۔ وکلاء کے کمرے سے علیٰحدہ محرروں اور عرائض
نویسوں کی نشست گاہ سے متصل ایک صاحب قابلِ توجہ ہیں جو منصفی کے وکیل ہیں ۔ سر پر
پٹھے جو بیچ سے علیٰحدہ کر دیے گئے تھے، بال خضاب سے سیاہ ، چہرے پر جھریاں آنکھوں
میں سرمے کی تحریر ململ کی بنددار اچکن زیبِ تن، عمامہ بر فرق جیسے ابھی کہیں سکے
عقد پڑھا کر چھوہارے لیے ہوئے چلے آ رہے ہیں۔ بڑی مہری کا پائجامہ جس میں چار انگل
چوڑی لگی ہوئی حاشیہ کے اندر سرخ ڈورے دے دیے گئے تھے۔ اردو کی قانونی کتابوں کا
بستہ سامنے تھا جس میں عرضی دعوے وغیرہ لکھنے کے مجرب نسخے تہہ کیے ہوئے تھے۔ کہا
جاتا ہے ان کے شاگرد ہمارے وہ وکیل صاحب بھی رہ چکے تھے جن کا ذکر
ابتداء میں آیا ہے۔ ایک شاگرد مسودہ لے کر اصلاح کے لیے حاضر ہوئے انہوں نے دبیز شیشوں
کی عینک ناک کے کنارے پر رکھ کر میلے کچیلے ڈورے سر کے پیچھے کھسکا کر باندھ دیے ۔
کاغذ کو ہاتھ میں لے کر انتہائی فاصلے سے پڑھنا شروع کیا۔ پہلے ہی لفظ پر رکے،
مسودہ زمین پر پٹک دیا، عینک لکڑی کے ایک خول میں جس کا ڈھکنا اسی وقت سے غائب تھا
جب سے وکیل صاحب نے اس وادی میں قدم رکھا تھا، بند کر دی گئی۔ غریب شاگرد گھبرایا
کچھ دیر تک وکیل صاحب پیچ و تاب کھاتے رہے ، آخر کار شاگرد نے ڈرتے ڈرتے عتاب کی
وجہ دریافت کی تو فرمایا”میاں تمھیں عرضی دعویٰ لکھنا کیا آئےگا خاک مدتوں سے ساتھ
ہو، اتنا مغز مارتا ہوں لیکن تمھارے دماغ میں کوئی بات نہیں گھستی، بس اب ہو چکا
بدنامی مول لینا نہیں چاہتا”۔
شاگرد :آخر کیا غلطی ہوئی
میں نے حتی الوسع نہایت کوشش سے مسودہ تیار کیا ہے۔
وکیل صاحب :اچھا تو ایک
موقع او ردیتا ہوں، غور سے پڑھ جاؤ سامنے ہی غلطی ہے ہاں۔
شاباش شاگرد ایک ایک لفظ
غور سے پڑھ گیا ، مسودے کو الٹ پلٹ کر دیکھتا رہا لیکن کوئی غلطی نہ پاکر کاغذ
واپس کر دیا۔ اور عرض کیا” وکیل صاحب مجھے تو اب بھی کوئی غلطی نظر نہ آئی”۔
وکیل صاحب برافروختہ ہو
کر بولے “کیوں خلاصہ فریاد ہے، لکھا ہے بسم اللہ ہی غلط”۔ شاگرد خاموش ہو گیا اور
مایوس و ملول گھر واپس آیا۔ ایک بیوی اور دو بچے موجود تھے۔ بچے دوڑکر لپٹ گئے
جیوبوں میں ہاتھ ڈال دیے” ابا میرے لیے کیا لائے ہیں؟ میں تو آج ناشپاتی ضرور لوں
گی،اماں پیسے نہیں دیتی ،کہتی ہیں ابا کچہری سے ناشپاتی لائیں گے” چھوٹی لڑکی ماں
کے پاس سے دوڑ کر بدقسمت باپ کے گھٹنوں میں لپٹ گئی۔ ابا کچہری نہ جایا کرو تم
نہیں تھے، فاطمہ کی ماں(ہمسائی) آن کر اماں سے روپے مانگتی تھی اور جب اماں نے کہا
کہ تم کچہری سے آن کر دے دوگے تو وہ بہت بگڑی اور شور مچانے لگی۔ اماں اب تک رو
رہی تھیں، کھانا بھی نہیں کھایا ہے۔ کچہری سے آتے ہو تو بیمار معلوم ہوتے ہو۔ میرے
ساتھ دن بھر رہا کرو ہم تم ساتھ جھولا جھولیں گے۔ کیوں اما اب بابابھی ساتھ رہیں
گے تو گھر میں آکر کوئی شور نہیں مچائے گا”۔
بیوی جو ان کے لیے چشمِ
براہ تھی ناہموار قدموں کی چاپ سن کر سمجھ گئی کہ آج بھی حالات میں کوئی امید افزا
تبدیلی نہیں ہوئی تھی، لیکن متبسم ہو کر خیر مقدم کیا۔ بیوی کے اس اندازِ پذیرائی
سے شوہر کے جذبات متلاطم ہو گئے اس نے بچوں کو گود میں لیا اور پر نم آنکھوں سے
بیوی کی طرف دیکھتے ہوئے بولا “خدا کاشکر ہے میری قسمت قابلِ رشک نہیں”۔
سوانح نگاری
یا درفتگاں اور اپنے
مرحومین کی شخصیت اور کارناموں کو زندہ اور باقی رکھنے کی خواہش ایک فطری جذبہ ہے
نیز ہر حساس شخص کو ہمیشہ ایسے قابل تقلید نمونوں کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جس کی
پیروی کر کے وہ اپنی شخصیت کی تعمیر کر سکے اور اپنے معاشرے اور انسانیت کی اصلاح
کا فریضہ انجام دے سکے، اسی فطری خواہش کی تکمیل کے طور پر قابل تقلید اور بزرگ
شخصیتوں کی سوانح عمریاں لکھی گئیں۔
سوانح کی تعریف و تفہیم :
سوانح نگاری وہ نثری
تصنیف ہے جس میں کسی اہم شخصیت کے حالات و واقعات کی مکمل تصویر دلکش اور مؤثر
انداز میں ترتیب کے ساتھ پیش کی جائے ، سوانح نگاری میں انداز بیان کی دلکشی
وتخلیل کی آمیزش ضروری ہے ورنہ سوانح نگاری تاریخ بن کر رہ جائے گی ،سوانح کسی بھی
شخص کے لکھے جاسکتے ہیں لیکن بہتر یہ ہے کہ سوانح کے لیے کسی ایسی شخصیت کومنتخب
کیا جائے جو پڑھنے والوں کے لیے آئیڈیل اور نمونہ ثابت ہو، جس سے لوگوں کو اپنی
عملی زندگی میں حوصلہ تحریک مل سکے ، جیسا کہ مولوی عبدالحق فرماتے ہیں کہ عظیم
انسانوں کے پر عظمت کا رنامے پڑھ کر ہمارے دلوں میں بھی ان جیسا بنے اور کچھ
کرگزرنےکی خواہش پیدا ہوتی ہے۔
سوانح نگاری تاریخ سے
یقیناً مطابقت رکھتی ہے لیکن اب اس کا شمار ادب میں بھی ہونے لگا ہے ،سوانح صرف
انسان کی زندگی وموت، خاندان تعلیم اور مشاغل زندگی ہی تک محدود نہیں بلکہ اس کا
تعلق فرد کے ظاہر و باطن ، اخلاق و عادات، انسانی نفسیات اور اس کی زندگی کے نشیب
و فراز کے تمام پہلوؤں سے ہے، سوانح نگار کو ان تمام باتوں پر توجہ دینی چاہیے جس
سے متعلقہ شخص کی مکمل تصویر ابھر کر سامنے آ سکے، سوانح نگار کو علمی واقعات اور
ظاہری حالت سے زیادہ باطنی کیفیت ، نفسیاتی حالت پہنی ارتقاء اور موضوع کی
کمزوریوں اور خوبیوں پر زیادہ توجہ دینی چاہے تاکہ زندگی کی واضح تصویر اور انسانی
شخصیت کے اساسی پہلو سامنے آجائیں۔
سوانح کا آغاز
وارتقاء:
سوانح نگاری کے اولین
نقوش دکئی شعراء کی مثنویوں ، مرثیوں ، میلاد ناموں اور رسول پاک کی سیرت و شخصیت
سے متعلق لکھی جانے والی کتابوں میں ملتے ہیں، شعراء نے اپنی مثنویوں میں کسی ایک
فرد یا چند افراد کی شخصیت اور کارناموں پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے، اس سلسلے میں
نصرتی کی وہ مثنوی خاص طور سے قابل ذکر ہے جس میں اس نے اپنے والد اور بعض دوسری
شخصیتوں کی زندگی اور ان کے کارناموں کا تذکرہ بڑی تفصیل سے کیا ہے ، اس کے علاوہ
رومی اور ذوقی وغیرہ نے بھی اپنی مثنویوں میں بعض افراد کی سیرت و سوانح کو بڑی
عمدگی سے بیان کیا ہے ، اردو تذکروں میں بھی ہمیں سوانح نگاری کی جھلک دکھائی دیتی
ہے، ان تذکروں میں تذکرہ نگاروں نے شعراء کے حالات زندگی قلم بند کیے ہیں اور ساتھ
ہی کچھ اشعار بطور نمونہ پیش کیے ہیں ، مرزا علی لطف کے گلشن ہند ، شیفتہ کے گلشن
بے خار اور کریم الدین کے طبقات الشعراء اس سلسلے میں خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں
، یہ ایک حقیقت ہے کہ ان تذکروں کو سوانح نگاری کے لیے مواد کے طور پر تو استعمال
کیا جا سکتا ہے لیکن انہیں کسی طرح بھی سوانح عمری کے زمرے میں شامل نہیں کیا
جاسکتا ، مولانا محمد حسین آزاد کی آب حیات تذکروں کے مقابلے میں سوانح عمری سے
زیادہ قریب تر ہے، اسے شاعروں کا تذکرہ ہونے کے ساتھ ساتھ ادبی تاریخ ہونے کی بھی
حیثیت حاصل ہے، اس میں بہت سی ادبی شخصیتوں کی سیرت و سوانح کی تصویر کشی بڑے دلکش
انداز میں کی گئی ہے گرچہ آب حیات بھی فن سوانح نگاری کے معیار پر پوری نہیں اترتی
لیکن اردو تذکروں کے مقابلے میں اس میں سوانح نگاری کے نقوش زیادہ روشن نظر آتے
ہیں۔
صحیح معنوں میں سوانح
نگاری کی ابتدا حالی اور شبلی کی لکھی ہوئی سوانح عمریوں سے ہوتی ہے، ان دونوں
بزرگوں نے انگریزی سوانح عمریوں میں برتے جانے والے فنی اصولوں کو پیش نظر رکھتے
ہوئے اردو ادب کے سرمائے میں ایسی سوانح عمریوں کا اضافہ کیا جوفنی معیار پر پوری اترتی
ہیں، حالی نے حیات سعدی، یادگار غالب اور حیات جاوید کے نام سے تین سوانح عمریاں
لکھیں جنہیں سوانح نگاری کا نقطہ آغاز قرار دیا جا سکتا ہے ، حالی افادی و مقصدی
نقطہ نظر کے حامل تھے، انہوں نے ایسی شخصیتوں سر قلم اٹھاما جنہوں نے اپنے زمانے
کومختلف حیثیتوں سے متاثر کیا اور انقلاب آفرس کارنامے انجام دے، حالی کوان شخصیتوں
پر قلم اٹھایا جنہوں نے اپنے زمانے کو مختلف حیثیتوں سے متاثر کیا اور انقلاب
آفریں کارنامے انجام دیے، حالی کوان شخصیتوں سے حد درجہ عقیدت تھی ، خصوصا سرسید
سے انہیں بے پناہ عقیدت تھی ، جوش عقیدت میں انہوں نے سرسید کے روشن پہلوؤں کی
مبالغہ آمیز تصویر پیش کی ہے اور ان کی کمزوریوں کی حتی الامکان پردہ پوشی کرنے کی
کوشش کی ہے، ان کی اس مروت اور مشرقی شرافت کی وجہ سے حیات جاوید میں پائی جانے
والی اس کمزوری کی نشاندہی نقادوں نے عام طور سے کی ہے، علامہ شبلی نے اسے مدلل
مداحی یا کتاب المناقب سے تعبیر کیا ہے، حالی کا خیال تھا کہ ابھی کر یٹکل طریقے
سے بیوگرافی لکھنے کا وقت نہیں آیا ، حالی کی اس کمزوری کے باوجود ان کی لکھی ہوئی
سوانح عمریوں کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے ، انہیں کی کوششوں سے اردو زبان میں سوانح
عمری لکھنے کا شوق عام ہوا۔
حالی کے بعد شبلی نے کئی سوانح عمریاں لکھ کر
اردو ادب کے سرمائے میں بہترین سوانح عمریوں کا اضافہ کیا ، المامون ، الفاروق ،
سیرۃ النعمان ،الغزالی ، پھر سیرت النبی ان کی لکھی ہوئی شاہ کار سوانح عمریاں ہیں
،علامہ نے یہ سوانح عمریاں سلسلہ ناموران اسلام کے تحت لکھیں ، علامہ شبلی
مسلمانوں کو ان کا شاندار ماضی یاد دلاکر انہیں ماضی سے رشتہ جوڑنے اور اپنی کھوئی
ہوئی عظمت کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے آمادہ کرنا چاہتے تھے، انہوں نے اپنی سوانح
عمریوں کے لیے مواد جمع کرنے کے سلسلے میں کافی محنت کی اور دستیاب مواد کو شگفتہ
زبان میں بڑے سلیقے سے پیش کیا ہے، ان کے دل آویز اسلوب کی وجہ سے ان کی سوانح
عمریاں ادبی حیثیت کی حامل ہیں اور ان کے مطالعہ سے ادبی مسرت کا احساس ہوتا ہے۔
حالی وشبلی نے سوانح
نگاری کے عمدہ نمونے پیش کر کے ایک طرح سے سوانح عمری کی راہ متعین کر دی ، ان کے
بعد بہت سی سوانح عمریاں لکھی گئیں جن میں سید سلیمان ندوی کی حیات شبلی، اسلم
جیراج پوری کی حیات حافظ، شیخ اکرام کی شبلی نامہ عبدالرزاق کانپوری کی ”البرامکہ
، قاضی عبدالغفار کی ” آثار ابو الکلام اور مولانا عبد الماجد دریابادی کی حکیم
الامت-نقوش و تاثرات اور محمد علی ذاتی ڈائری خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں، ان کے
علاوہ کچھ اور سوانح عمریاں لکھی گئی ہیں جن میں حالی شبیلی کی روایات کی توسیع کے
ساتھ ساتھ مغربی زبانوں میں لکھی جانے والی سوانح عمریوں سے متاثر ہوکر اردوسوانح
نگاری میں نیا تجربہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
مولانا الطاف حسین حالی کی سوانح نگاری:
مولانا الطاف حسین حالی (۱۸۳۷ ء - ۱۹۱۴ ء ) جدید اردو کے معمار
ہیں، انہوں نے اردو نثر اور اردو شاعری دونوں کو نئی ادبی جہات سے آشنا کیا ، اردو
ادب میں صحت مند عناصر داخل کرنے میں ان کا بڑا ہاتھ ہے، اردو نثر کو علمی موضوعات
کا وسیلہ اظہار سرسید نے بنایا لیکن اپنی تعلیمی و اصلاحی مشغولیتوں کی وجہ سے اس
طرف پوری توجہ نہ دے سکے ، اس کام کو ان کے رفقاء نے آگے بڑھایا جن میں اولیت حالی
کو حاصل ہے۔ حالی کو نثر و نظم دونوں ہی اصناف ادب پر یکساں طور پر قدرت حاصل تھی
، اردو نظم نگاری کو نئے رجحانات سے آشنا کرانے میں مولانا محمد حسین آزاد کے ساتھ
حالی کا نام سب سے نمایاں ہے، مولانامحمد حسین آزاد کے ذریعہ لاہور میں منعقد کیے
جانے والے نئے انداز کے مشاعروں کے لیے حالی نے بہت سی نظمیں لکھیں جو اردو نظم
نگاری کے لیے نئے دور کا پیش خیمہ ثابت ہوئیں، مولانامحمد حسین آزاد کی تحریک پر
لکھی جانے والی ان نظموں میں ”برکھا رت ، حب وطن“ اور ” مناظرہ رحم و انصاف وغیرہ
قابل ذکر ہیں، ان نظموں میں سادگی ، سلاست اور فکری ربط و تسلسل کے ساتھ ساتھ حالی
کا خلوص ، حب وطن اور در دانسانیت نمایاں ہے، ان نظموں کے علاوہ مناجات بیوہ چپ کی
داد اور مرثیہ غالب“ کا شمار بھی حالی کی بہترین نظموں میں ہوتا ہے ، حالی کوسب سے
زیادہ شہرت ان کی شاہکار نظم ”مسدس“ سے ملی جو مد و جز را سلام کے نام سے مشہور
ہے، ی نظم حالی نے سرسید کی تحریک پر لکھی ہے، ” مسدس‘ ایک نظم ہی نہیں بلکہ
مسلمانوں کی قومی زندگی کی نشاۃ ثانیہ کے لیے ایک تحریک کا درجہ رکھتی ہے، اس میں
نظم نگاری کی تمام خوبیاں موجود ہیں۔
حالی کی نثری تصانیف بھی
اردو ادب کا سرمایہ ہیں ، ان کی نثری تصنیفات پر ایک نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے
کہ انہوں نے تنقید اور سوانح نگاری کا موضوع خاص طور پر منتخب کیا ، ” مقدمہ شعر و
شاعری“ حالی کی شاہکار تصنیف ہے، یہ فن شعر پر ایک بلند پایہ حکیمانہ تنقید ہے، اس
کتاب کو بہت سے نقادوں نے اولین تنقیدی کتاب قرار دیا ہے ، حالی نے مشرقی و مغربی
تنقیدی رجحانات و روایات کی آمیزش سے باقاعدہ تنقیدی اصول مرتب کیے، قدیم غزل اور
مثنوی کو مخرب اخلاق قرار دے کر اصلاح کی ضرورت پر زور دیا، شعر و ادب میں اخلاق
وافادی نقطہ نظر کی اہمیت واضح کی ، شعر و ادب کو زندگی کا عکاس و تر جمان ہونے کا
احساس دلایا، اس طرح مقدمہ سے اردو زبان میں تنقید کے نئے دور کا آغاز ہوا۔
سوانحی ادب کے سرمائے میں
بھی حالی نے قابل قدر اضافہ کیا ، سوانح نگاری کے لیے جس پختہ خیالی ، توازن اور
غیر جانبداری کی ضرورت ہوتی ہے وہ ان میں بدرجہ اتم موجود تھی ، یادگار غالب “
”حیات سعدی اور حیات جاوید‘ ان کی یادگار سوانحی تصانیف ہیں ، یاد گار غالب کو
اردو کی پہلی با قاعدہ سوانحی کتاب قرار دیا جاتا ہے، اس میں حالی نے غالب کےحالات
زندگی کے ساتھ ساتھ ان کی شعری و ادبی خوبیوں کو بھی اجاگر کیا ہے، یہ کہنا بے
جانہ ہوگا کہ یادگار غالب سے غالب شناسی کی ابتدا ہوئی۔
حیات سعدی‘ فارسی کے
مشہور شاعر سعدی شیرازی کی حیات و شخصیت سے متعلق ہے ، حالی کو سعدی سے ذہنی
مناسبت تھی ، خلوص، سادگی اور اخلاقی اقدار کو اپنی زندگی میں برتنے میں حالی سعدی
سے بہت مماثلت رکھتے ہیں، دراصل حالی نے حیات سعدی میں اپنے آپ کو تلاش کرنے کی
کوشش کی ہے ، علامہ شبلی جو ان کی دوسری سوانحی تصانیف کو مدلل مداحی قرار دیتے
ہوئے ہدف تنقید بناتے ہیں وہ بھی اسے بہترین ادبی کتاب اور دلچسپ محققانہ سوانحی
تصنیف قرار دیتے ہیں۔ ”حیات جاوید میں حالی نے سرسید کی شخصیت اور ان کے کارناموں
کو اپنا موضوع بنایا ہے ، حالی سرسید کی خدمات کے حددرجہ معترف تھے ، انہیں سرسید
سے بے پناہ محبت و عقیدت تھی ، اس عقیدت کی وجہ سے انہوں نے سرسید کے روشن پہلو ؤں
کو ابھارنے میں سارا زور قلم صرف کیا ہے اور ان کی کمزورویوں کی پردہ پوشی کی کوشش
کی ہے جو سوانح نگاری کے فنی اصولوں کے منافی ہے ،شبلی نے اس کتاب کو مدلل مداحی “
اور ”کتاب المناقب“ قرار دے کر اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے۔
”حیات جاوید" تنقیدی جائزہ:
حیات جاوید مولانا حالی
کی شاہکار سوانحی تصنیف ہے جس میں انہوں نے سرسید کی شخصیت اور ان کے کارناموں کا
بڑے تفصیلی انداز میں جائزہ لیا ہے، سرسید کی خدمات اور ان کے کارناموں کا دائرہ
بڑا وسیع ہے، ۱۸۵۷ء
کی شکست وریخت کے نتیجے میں ہند وستانیوں بالخصوص مسلمانوں میں پائی جانے والی
مایوسی اور احساس شکست کو ختم کر کے انہیں حالات کا جوانمردی سے مقابلہ کرنے پر
آمادہ کرنے کے لیے انہوں نے جو کوششیں کیں وہ ہماری قومی تاریخ کا روشن باب ہیں ،
انگریزوں کے خلاف محاذ آرائی کو وہ اجتماعی خود کشی تصور کرتے تھے، ان کا خیال تھا
کہ انگریزوں کا مقابلہ جہنی قوت اور علمی تفوق ہی سے کیا جاسکتا ہے، لہذا انہوں نے
مسلمانوں کی علمی و ذہنی سطح بلند کرنے ، ان کے اندر صحت مند سائنٹفک نقطہ نظر
پیدا کرنے او را نہیں جدید علمی رجحانات سے آشنا کرنے کے لیے اپنی پوری زندگی وقف
کر دی ، ساتھ ہی اردو زبان وادب کو موجودہ تقاضوں او علمی موضوعات سے ہم آہنگ کرنے
کے لیے کارگر تدابیر اختیار کیں محمڈن کالج ( موجود علی گڑھ یو نیورسٹی ) کا
قیام،سائنٹفک
سوسائٹی کی تشکیل اور تہذیب الاخلاق کا اجراء انہیں کی
کوششوں کا عملی مظہر ہیں۔
مندرجہ بالا سطور میں
سرسید کی جن خصوصیات و خدمات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے مولانا حالی نے حیات جاوید
میں ان خصوصیات کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا ہے، خطبات احمدیہ، آثار الصنادید اور
اسباب بغاوت ہند کے حوالہ سے سرسید کی حب نبوی، ان کی مؤرخانہ بصیرت اور سیاسی
شعور پر روشنی ڈالی ہے، حیات جاوید کے پہلے حصہ میں پیدائش سے موت تک کی وہ
تفصیلات پیش کی ہیں جن سے ان کی شخصیت کو سمجھنے اور ان کی نفسیاتی اور باطنی
کیفیات تک پہنچنے میں مددملتی ہے ، کتاب کے دوسرے حصے میں ان کی اصلاحی ، سیاسی ،
مذہبی اور علمی اور ادبی خدمات کا جائزہ لیا گیا ہے،غرضیکہ سرسید کی زندگی کا کوئی
پہلو ایسا نہیں ہے جس کا ذکر اس کتاب میں موجود نہ ہو۔
سوانح نگاری کے فنی معیار
پر یہ کتاب چند معمولی فروگزاشتوں سے قطع نظر کھری اترتی ہے ،سوانح نگاری میں
موضوع کے انتخاب کی بڑی اہمیت ہوتی ہے ، حالی نے سرسید جیسی متحرک اور انقلابی
شخصیت کو بطور موضوع کے منتخب کیا ہے جن سے انہیں پوری طرح ذہنی مطابقت اور نقطۂ نظر
میں ہم آہنگی ہے ، اسی طرح مواد کی فراہمی میں تمام دستیاب مآخذ سے مدد لی ہے، پھر
سارے مواد کو اس طرح مرتب کر کے پیش کیا ہے کہ موضوع کی شخصیت کے تمام پہلو روشن
ہو جاتے ہیں البتہ غیر جانبداری جو سوانح نگار کے لیے ضروری ہے اس کو حالی پوری
طرح نہیں برت سکے ، ہیر و پرستی اور جوش عقیدت کی وجہ سے وہ سرسید کی شخصیت کے صرف
روشن پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہیں اور ان کی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے یا انہیں ہلکا کر
کے پیش کرنے کی غرض سے بے جا تاویلات سے کام لیتے ہیں ، ان کے خیال میں ابھی ” کر
شکل بیوگرافی‘ کا وقت نہیں آیا ہے ،عظیم شخصیتوں کی کمزوریوں کو بے نقاب کرنے سے
لوگوں کی نگاہ میں ان کی زندگی ہلکی ہو جائے گی اور ان کی متحرک زندگی سے جوتحریک
اور کچھ کر گزرنے کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے وہ اس صورت میں یقینی طور پر متاثر ہوگا
جو افادی نقطۂ نظر کے حامل حالی کو کسی صورت میں منظور نہیں ، علامہ شبلی نے حیات
جاوید کو مدلل مداحی اور کتاب المناقب قرار دے کر حالی کی سوانح نگاری کے اسی
کمزور پہلو کی طرف اشارہ کیا ہے۔
غیر افسانوی نثر کی ایک
اہم صنف خود نوشت ہے ۔ اپنی زندگی اور اس کے اہم پہلوؤں کے بارے میں خود لکھنا خود
نوشت کہلاتا ہے۔ اپنے تجربات اور احساسات کو بیان کا کرنا انسان کا شیوہ رہا ہے۔
تجس پسند انسانی فطرت کے لیے نوع کے تجربات نہ صرف کارآمد رہے ہیں بلکہ اسے انسانی
جبلت سے تعبیر کیا گیا ۔ رفتہ رفتہ یہ فن ترقی کرتا گیا اور اس طرح داخلی کیفیات
کے اظہار و اقرار کا یہ بیان با قاعدہ ایک فن گیا۔ اسے خود نوشت کے علاوہ آپ بیتی
بھی کہتے ہیں۔ پروفیسر رفیع الدین ہاشمی اس صنف کی تعریف اس طرح متعین کرنے کی
کوشش کرتے ہیں ۔اپنی زندگی کے احوال و واقعات کا بیان" آپ بیتی " کہلاتا
ہے ۔ اسے خود نوشت Autobiography
بھی کہہ سکتے ہیں ۔ آپ بیتی محض احوال واقعات کا مجموعہ نہیں ہوتی بلکہ اکثر اوقات
لکھنے والے کی داخلی کیفیتوں ، ولی احساس شخصی اور عملی تجربوں ، زندگی کے جذباتی
پہلوؤاں اور بحیثیت مجموعی زندگی کے بارے میں اس کے نقطہ نظر کی ترجمانی کرتی ہے۔
فن خود نوشت میں لکھنے
والا ہی مرکزی موضوع ہوتا ہے۔ یعنی وہ اپنی زندگی کے احوال بیان کرتا ہے۔ اس کا
مواد خود اس کی ذات ہوتی ہے اور جو کچھ وہ بیان کرتا ہے اس کی تصدیق وہ خود کرتا
ہے۔ یعنی یہ ایک ایسی داستان ہوتی ہے جس میں لکھنے والا خود اپنے وجود کو لوگوں کے
سامنے پیش کرتا ہے۔ یہ مربوط داستان در اصل بیان کرنے والے کے افکار ونظریات سے پر
دہ اٹھاتی ہے اور اس کی ذات کو اندھیرے سے اجالے کی طرف لاتی ہے۔ آپ بیتی کے بارے
میں ماہنامہ نقوش کے مدیرمحمد قلیل کا خیال ہے۔
آپ بیتی کسی انسان کی
زندگی کے تجربات، مشاہدات محسوسات ، نظریات اور عقائد کی ایک مربوط داستان ہوتی
ہے۔ جو خود اس نے بے کم و کاست اور راست راست قلم بند کی ہو ۔ جسے پڑھ کر اس کی
زندگی کے نشیب و فراز معلوم ہوں ۔ اس کے نہاں خانوں کے پردے اٹھ جائیں اور ہم اس کی
خارجی زندگی کے سوا اس کی داخلی زندگی کے حجرے میں بھی جھانک سکیں۔
کسی شخص کی آپ بیتی در
اصل زندگی کی ایک رنگا رنگ داستان ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کو بیان کرنے کا
کوئی ایک خاص انداز یا اسلوب نہیں ہوتا بلکہ یہ لکھنے والے پر منحصر ہے کہ وہ اسے
کس طرح بیان کرے۔ خود لکھنے والے کی زندگی اور اس کے گوناگوں کارتا سے بھی اہم
کردار ادا کرتے ہیں۔ زندگی جس قدر ہمہ گیر اور ہمہ رنگ ہو گی خود نوشت بھی اسی قدر
روشن اور تنوع آمیز ہوگی ۔ مشکل حالات اور زندگی کے ناپسندید و حالات و واقعات کو
بیان کرنا ایک جو کھم بھرا کام ہے مگر خود نوشت نگار کا اصل امتحان اسی نوع کے
واقعات سے ہوتا ہے۔ پروفیسر وہاج الدین علوی نے خود نوشت کی مختلف تعریفوں کے
تناظر میں اس فن کے کچھ اہم اور ضروری عناصر کی نشاندہی کی ہے۔ ان عناصر سے خود
نوشت کو بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے:
ا۔ خود نوشت کسی فرد واحد کی داستان ہوتی ہے جو اس نے
خود اپنے قلم سے تحریر کیا ہو۔
2۔
خود نوشت سوانح نگاری کا محور مصنف کی ذات ہوتی ہے دوسرے اشخاص یا واقعات کا ذکر
محض ذیلی اور ضمنی طور پر ہوتا ہے۔
3۔خود نوشت سوانح میں سچائی کا عنصر ہوتا ہے۔
4۔خود نوشت میں اس فرد واحد کے تجربات، مشاہدات اور
جذبات کی بھر پور عکاسی ہوتی ہے اور اس کی نفسیاتی کیفیات کا پر تو بھی دکھائی دیتا
ہے۔
5- خود نوشت سواغ زندگی کے اہم ادوار پر محیط
ہوتی ہے یعنی اس میں صاحب سوانح کی اپنی زندگی کے ہر دور کے نمائندہ واقعات ہوتے ہیں
اس کے بچپن ، جوانی اور بڑھاپے نیز اس کے عروج و زوال اور نشاط و غم کی داستان ہوتی
ہے ۔
خود نوشت کسی ایک شخص کی
زندگی پر محیط ہوتی ہے لیکن کوئی بھی شخص اکیلا نہیں ہوتا بلکہ اس کے ساتھ ایک
معاشرہ اور سماج ہوتا ہے اس لیے ایک شخص کی زندگی کے حالات بھی اس عہد کے معاشرہ
اور سماج کی عکاسی کرتے ہیں ۔ تزک بابری بظاہر ایک بادشاہ کی داستان حیات ہے مگر اس
سے اس زمانے کے ہندستان پر روشنی پڑتی ہے۔
خود نوشت نگاری کا ارتقاء:
ارد و خود نوشت کی روایت
بہت قدیم ہے ۔ البتہ باضابطہ طور پر اس کا آغاز انیسویں صدی کے آخر میں ہوا ۔ اردو
کی بعض اصناف ادب کی طرح خود نوشت بھی ایک ان ہے جو انیسویں صدی میں براہ راست
انگریز ادب سے اثر انداز ہو کر لکھی گئی لیکن فارسی اور عربی ادب میں اس کی روایت
کافی مضبوط اور معتبر انداز میں موجود تھی۔ انگریزی ادب میں Autobiography کی اصطلاحصحیح طور پر اٹھارہویں صدی میں استعمال ہوئی ہے۔
فارسی ادب میں آپ بیتی کی
روایت خاصی پرانی ہے۔ ابتدا میں " تاریخ " اور " آپ بیتی میں کچھ
خاص فرق نہیں رکھا جاتا تھا۔ فارسی ادب میں کئی معلمین ایسے بھی گذرے ہیں جن کے یہاں
ان دونوں اصناف کا امتزاج ملتا ہے۔ اگر چہ بے ضابطہ طور پر یہ سلسلہ زمانہ قدیم سے
چلا آرہا تھا لیکن مسلمانوں کے دور عروج میں آپ بیتی کی صنف نے خاصا فروغ پایا۔ امیر
تیمور کے ملفوظات ، ترک بابری اور تزک جہانگیری سے آپ بیتی کے ابتدائی نقوش کا
انداز ولگایا جا سکتا ہے۔ فارسی ادب میں آپ بیتی کے فروغ میں مغل شہنشاہوں کی تورکیں
اہمیت کی حامل ہیں۔ مشہور ترک تریک جہانگیری" جسے جہانگیر بادشاہ نے روز نا
بچوں کی صورت میں قائمبند کیا اور یوں ایک لحاظ سے یہ اس کی آپ بیتی قرار پائی اس
ترک میں بغیر کسی رنگ آمیزی کے حالات و واقعات کو نہایت سچائی کے ساتھ لکھا گیا
ہے۔ فارسی کی ایک آپ بیتی شیخ علی حزیں کی اس زمرے میں خاص اہمیت کی حامل ہے۔ شیخ
علی حزیں نے اپنے دور کے تاریخی اور سوانحی حالت پر روشنی ڈالی ہے۔
عربی ادب میں آپ بیتی کی
روایت پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ فارسی ادب کی طرح عربی ادب میں بھی آپ
بیتی کا رواج کافی قدیم ہے۔ کیونکہ علمائے اسلام میں حضرت امام غزالی ، ابن الجوزی
اور ابن خلدون نے آپ بیتیوں کی شکل میں اپنی زندگی کے مشاہدات و تجربات بیان کیے ہیں۔اردو
میں صوفیا کرام کے ملفوظات خود نوشت کے ابتدائی نقوش کہے جا سکتے ہیں۔ اردو کی
متعدد اصناف میں ہمیں خود نوشت کے ابتدائی نقوش مل جاتے ہیں۔ البتہ مکتوب ،
سفرنامہ روز نامچہ، رپوتاژ ، وغیرہ میں کثرت سے خود نوشت کے اثرات نمایاں ہیں ۔
اردو میں مرزا غالب ، مولانا شبلی نعمانی ، مولانا ابوالکلام آزاد، اکبر الہ آبادی،
علامہ اقبال، مہدی افادی، سید سلیمان ندوی ، رشید احمد صدیقی ، چودھری محمد علی
ردولوی اور مولانا عبد الماجد دریابادی کے مکتوبات نہ صرف یہ کہ ذاتی حالات و
واقعات کے حوالے سے اہم ہیں بلکہ سوانحی حالات کی ترتیب میں انہیں بنیادی ماخذ کی
حیثیت حاصل ہے۔
روز نامچہ روز مرہ
واقعات، تجربات و مشاہدات اور احساسات کو قلم بند کرنے کا نام ہے۔ اس کا رواج
زمانہ قدیم سے چلا آرہا ہے۔ روزنامچہ چونکہ روزانہ لکھی جانے والی ڈائری کی صورت میں
ہوتا ہے لہذا اس میں لکھنے والے کی زندگی کی ترتیب نمایاں نظر آتی ہے۔ آپ بیتی کے
ابتدائی نقوش میں روز نامچہ بنیادی اہمیت کا حامل ہے ۔ خواجہ حسن نظامی لکھتے ہیں۔
"میں نے جب کبھی اپنی
زندگی کا روز نامچہ لکھا تو محسوس ہوا گو یا عرفان ہستی کا کھا تا لکھ رہا ہوں کیونکہ
جب اس
کو دیکھتا ہوں آمد و خرچ
کا حساب یاد آتا ہے ۔
خواجہ حسن نظامی کا یہ اقتباس آپ بیتی اور روز نامچے کے
بنیادی تعلق پر روشنی ڈالتا ہے۔ میری تقی میر کے نکات الشعراء سے لے کر مولا نا
محمد حسین آزاد کی آب حیات تک جتنے بھی تذکرے لکھے گئے انہیں سوانحی ادب میں کافی
اہمیت حاصل رہی ہے ۔ ولی سے لے کر انیسویں صدی تک کے شعرا کے جو حالات ملتے ہیں ان
میں تذکروں کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ قدیم مثنویوں اور سفر ناموں میں بھی ہمیں خود
نوشت کے اثرات دیکھنے کومل جاتے ہیں۔ میر تقی میر کی فارسی خود نوشت 'ذکر میز کے
نام سے ہے، جس کا اردو ترجمہ ثار احمد فاروقی نے تلاش میز کے نام سے کیا ہے۔
اردو میں خود نوشت لکھنے
کا باضابطہ طور سے رجحان 1857 کے بعد سے شروع ہوا۔ چنانچہ ابتدائی خود نوشتوں میں
شہر بانو بیگم کی بیتی کہانی (1885) نواب صدیق حسین خاں کی آپ بیتی ابقاء المنن
بالقاء المحن (1885) اور جعفر تھانیسری (1838 -1905) کی آپ بیتی کالا پانی (1885)
کا نام لیا جاتا ہے۔ البتہ محققین نے جعفر تھانیسری کی آپ بیتی تواریخ مجیب ( کالا
پانی ) کو اردو کی پہلی باضابطہ آپ بیتی تسلیم کیا ہے ۔ اس ضمن میں علم الدین سالک
لکھتے ہیں :
"ہمارے یہاں آپ بیتیوں کا رواج ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد
شروع ہوا۔ جس قدر ملک ترقی کرتا گیااسی قدر زیادہ آپ بیتیاں لکھی جاتی رہیں۔
چنانچہ سب سے پہلے آپ بیتی جو اردو زبان میں لکھی گئی وہ مولانا محمد جعفر تھانیسری
کی ” کالا پانی ہے۔“
حکومت سے غداری کے الزامات کے تحت قید کیا گیا
تھا۔ اس زمانے میں انہوں نے انگریزوں کے جبر و استبداد اور اس دور کے روز مرہ
احوال کو اس کتاب میں سمونے کی کوشش کی ہے۔ حقیقی معنوں میں یہ ایک مکمل خود نوشت
تو نہیں کہی جاسکتی لیکن اس طرح اس جزائر پر گزارنے والا پہلا ذاتی تجربہ تھا۔
مولانا جعفر تھا میسری کی یہ کتاب صرف ایک سرگزشت یا خود نوشت ہی نہیں بلکہ اس عہد
کا تاریخی دستاویز بھی ہے اور اردو زبان کی ابتدائی خود نوشت میں سے ایک ہے۔
سالک علم الدین ، آپ بیتیوں
کے بعض نمایاں پہلو مشمولہ نقوش ، آپ بیتی نمبر ، ادارہ فروغ اردو، لاہور ۱۹۶۴ ، ص (۵۴) مولانا جعفر تھا عیسری نے
میں سال تک انڈمان جزائر میں بہ حیثیت مجاہد آزادی کے قید و بند کی زندگی گزاری ،
ان کو برطانیہ۱۸۵۷ء
کی جنگ آزادی کے حالات و واقعات کے مناظر میں لکھی جانے والی دوسری اہم آپ بیتی ”
داستان غدر ہے۔ جس میں ظہیر دہلوی اپنی زندگی کے حالات واقعات تفصیل سے بیان کرنے
کے بجائے جنگ آزادی کے حالات و واقعات کو مرکزی حیثیت کے طور پر پیش کیا ہے ۔ اگر
چہ محققین اسے بھی مکمل آپ بیتی قرار نہیں دیتے لیکن اسلوب کے اعتبار سے یہ ادبی
نثر کا بہترین نمونہ ہے۔ اسی طرح منشی عنایت حسین کی ایام غد ر اور عبد الغفور
نساخ کی حیات نساخ بھی اہمیت کی حامل ہے۔ نساخ کی سیرت و شخصیت ، جفاکشی و ایمانداری
کے ساتھ دل لکھنو اور بعض دوسرے مقامات کے سفر کا بیان بھی خود نوشت کا حصہ ہے۔
انھیں ڈ پٹی کلکٹر بننے کا شوق تھا اور بالآخر اس عہدہ پر فائز (1862) ہوئے اور
بنگال کے مختلف مقامات انھیں دیکھنے کا موقع ملا۔ غالب، شیفتہ، آزردہ ، اور حالی
وغیرہ سے نساخ کی ملاقات ہوئی ۔ نساخ میں خود نمائی کا عنصر بہت زیادہ ہے۔ بہت کی
تفصیلات خود نوشت سے نہیں معلوم ہو تیں یعنی شادی کا ذکر تو ہے مگر بال بچوں کے
بارے میں کوئی تفصیل نہیں ہے۔ اپنے دلی جذبات واحساسات کا بیان بھی نہیں ہے۔