Swami
Ramanand Teerth Marathwada University, Nanded.
Faculty
of Humanities
UNDERGRADUATE
PROGRAMME OF HUMINATIES
Effective from Academic
year 2024 – 2025
(As per NEP-2020)
Under Graduate
First Year Programme, Semester I
Title
: Qasida aur Ghazal (Optional)-II
سوامی رامانند تیر تھ مراٹھواڑہ یو نیور سٹی ، ناندیڑ۔
شعبہ انسانیات
تعلیمی سال 2024-2025 سے مؤثر
نئی تعلیمی پالسی 2020کے مطابق))
بی۔اے۔سال
اوّل(میقات اوّل)
اختیاری اُردو ( قصیدہ اور غزل)
قصیدے
کی تعریف و فن:
قصیدہ
عربی لفظ قصد سے نکلا ہے۔ قصد ارادہ کو کہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ قصیدہ کے ساتھ ہی
قصد کو کیوں وابستہ کیا گیا۔اس کا جواب یہ ہے کہ لفظ قصیدہ ہی ہمیں قصد کی طرف لے
جاتا ہے۔ اصل میں سوال تو یہ قائم ہونا چاہیے کہ دیگر شعری اصناف میں قصد کا کتنا
دخل ہے اور یہ قصیدہ کے قصد سے کتنا مختلف ہے۔ اگر بادشاہ اور مذہبی رہنما کے تعلق
سے لکھی جانے والی شاعری کو قصیدہ کہا گیا تو اس کی کوئی فکری اور فنی بنیادیں ہوں
گی ۔ یہی بنیادیں اسے دیگر اصناف سے مختلف اور منفرد بھی ثابت کرتی ہیں۔ تعریف و
توصیف کے عناصر یا حوالے دیگر شعری اصناف میں بھی تلاش کیے جاسکتے ہیں ۔ ان حوالوں
کو پڑھ کر ہم یہ نہیں کہتے ہیں کہ ان کا رشتہ قصیدے کی صنف سے ہے۔ ہم دیگر شعری
اصناف میں صنف قصیدہ کی بنیادی خوبیوں کو دیکھ کر یہ ضرور کہتے ہیں کہ ان میں
قصیدے کا رنگ پیدا ہو گیا ہے۔ گویا یہ قصیدہ تو نہیں لیکن قصیدے کے اسلوب سے قریب
ہیں ۔سوال یہ ہے کہ قصیدہ کا قصد اسے اس قدر دیگر شعری اصناف سے الگ کرتا ہے۔ اس
سوال سے یہ سوال بھی وابستہ ہے کہ کیا قصیدے میں آمد کی وہ صورت نہیں ہوتی جو
شاعری کو ایک خاص شعری اظہار کا نمونہ بنا دیتی ہے۔ اس اظہار کو ہم روانی، کیفیت
اور بھی دیگر ناموں سے پکارتے ہیں۔ آمد کے مقابلے میں آورد کا لفظ اسی جانب اشارہ
کرتا ہے۔ آمد اور آورد کی منطق کو شاعری میں ایک حد تک ہی عملی طور پر ثابت کیا جا
سکتا ہے۔کہاں آمد کا سفر شروع ہوتا ہے اور کہاں سے آور داپنے سفر کا آغاز کرتا ہے،
اس عمل کو سائنٹفک طریقے سے سمجھنا مشکل ہے۔ البتہ شعری اظہار سے آمد اور آورد کی
صورت سمجھی جاسکتی ہے۔ قصیدہ کے ساتھ آمد کا لفظ شاید ہی کسی نے استعمال کیا ہو
گا۔ قصد کا لفظ شاعری کے ایک ایسے تصور کو ذہن میں ابھارتا ہے جس میں صناعی کا اہم
کردار ہے اور یہ تیاری اور صناعی حیات اور کائنات کے مظاہر سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔
مظاہر سے مراد خارجی اشیا ہیں جنہیں ہم دیکھتے ہیں مگر ان میں مبالغے کے عناصر
دکھائی نہیں دیتے ۔ قصیدہ گوان اشیا کے اظہار میں تجرید سے کام لیتا ہے۔ اس تجرید
سے اردو تنقید ایک معروف اصطلاح خیال بندی کا تاثر پیش کرتی ہے۔ خیال بندی اشیا سے
کہیں زیادہ اشیا کے تصور سے تعلق رکھتی ہے۔ طالب علم کے طور پر ہمیں یہ مجھنا
چاہیے کہ خیال بندی چاہے خیال کی جس بلندی پر فائز ہو جائے اشیا کی حقیقت سے اس کا
رشتہ کبھی منقطع نہیں ہو سکتا۔ اردو کی کلاسیکی شاعری میں خیال بندی ایک اسلوب ایک
اظہار کا نام ہے۔ عموما یہ سمجھا جاتا ہے کہ خیال بندی شدت احساس سے خالی ہوتی ہے۔
قصیدہ
بادشاہ یا مذہبی رہنما کی تعریف میں لکھا جاتا ہے۔ عموما جو تعریفی کلمات بادشاہ
یا مذہبی پیشوا کے لیے لکھے جاتے ہیں ان میں عمومیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس صورت میں
قصیدہ نگار کی کوشش ہوتی ہے کہ مدوح کے تعلق سے کوئی ایسی بات پیدا کی جائے جس سے
فکر کی سطح پر انفرادیت پیدا ہو۔ جس زمانے میں قصیدہ ایک صنف کے طور پر مستحکم ہوا
تمام اہم شعرا اپنے طور پر قصیدہ کو فکری اور لسانی سطح پر بلند کرنے کی کوشش کر
رہے تھے۔ ناقدین نے یہ بھی لکھا ہے کہ قصیدہ کے لیے ایک خاص ذہن کا ہونا ضروری ہے۔
ہر شاعر قصیدہ کے رنگ کو اختیار نہیں کر سکتا۔ اگر وہ قصیدہ کہے گا بھی تو اس میں
شکوہ پیدا نہیں ہوگا۔ گویا قصیدہ قادر الکلامی کے ساتھ ایک مخصوص تخلیقی اور
تخیلاتی ذہن کا متقاضی ہے۔ قصیدہ طبیعت میں ایک خاص قسم کی تیزی اور طراری چاہتا
ہے۔ قصیدہ کا شکوہ ہی اسے اظہار کی سطح پر مشکل بھی بناتا ہے اور خیال بند بھی ۔
قصیدے کی شعریات پر شکوہ اظہار ہی سے پہچانی جاتی ہے۔ طبیعت میں اگر وفور ہے تو اس
کا اثر شعری اظہار پر بھی ہوتا ہے۔ آخر کوئی سبب تو ہے کہ سودا کے قصیدے کا آہنگ سودا
کو دوسرے قصیدہ نگاروں سے مختلف ثابت کرتا ہے یہاں اس جانب بھی اشارہ کرنا ضروری
ہے کہ قصیدہ کو ام الاصناف کہا جاتا ہے۔ یعنی قصیدہ تمام اصناف کی ماں ہے۔ دیگر
اصناف اسی قصیدہ سے وجود میں آئی ہیں۔ غزل بھی قصیدہ سے نکلی ہے۔ غزل قصیدہ کی ہیت
ہی میں کہی جاتی ہے۔ قصیدہ کا ہر شعر فکری لحاظ سے مکمل تو نہیں ہوتا مگر قصیدہ کے
بہت سے اشعار اور مصرعے غزل کے اشعار کی طرح مقبول ہوئے ۔
غزل بھی قصیدہ سے نکلی ہے۔ غزل قصیدہ کی ہیئت ہی میں کہی جاتی ہے۔ قصیدہ کا ہر شعر فکری لحاظ سے مکمل تو نہیں ہوتا مگر قصیدہ کے بہت سے اشعار اور مصرعے غزل کے اشعار کی طرح مقبول ہوئے ۔ گویا قصیدے کے اشعار میں وہ جامعیت بھی ہے جو غزل کے اشعار کی خوبی ہے۔ قصیدہ کسی بھی بحر میں لکھا جا سکتا ہے مگر اس شرط کے ساتھ کہ اس کا ہر شعر ایک ہی قافیہ اور ردیف میں ہو۔ یہ ایک طرح کی پابندی ہے جو قصیدہ نگار کی تخلیقیت کا امتحان لیتی ہے۔ بحر کا انتخاب بھی قصیدہ نگار کی طبیعت کو ظاہر کرتا ہے۔ بحر اپنے ساتھ زبان کو بھی لاتی ہے اور زبان بحر کے نظام میں ڈھلتی جاتی ہے۔ بحر اور زبان کا رشتہ دوئی کا نہیں ہوتا۔ قصیدہ کا تعلق ایک شخصیت سے ہوتا ہے اور ایک قصیدہ مجموعی طور پر اس شخصیت کے ارد گرد اپنا فکری اور لسانی نظام قائم کرتا ہے۔ کسی بادشاہ یا مذہبی پیشوا کے سلسلے میں قصیدہ نگار کا ذہن کتنی دور تک سفر کرتا ہے اس کا رشتہ قصیدہ نگار ہی کے ذہن سے ہے۔ بادشاہ کی بادشاہت تو سب کے لے یکساں ہوتی ہے۔ بادشاہ کا عدل، مساوات، دریادلی اور دیگر خوبیاں یکساں طور پر سب کو متاثر کرتی ہیں ۔ قصیدہ نگاران یکساں خوبیوں کے اظہار میں مبالغے سے کام لیتا ہے۔ مبالغے کے لیے زبان کا بھی پرشکوہ ہونا ضروری ہے۔ اظہار کی سطح پر یہ معلوم ہو کہ ممدوح کتنا طاقتور ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ مبالغہ حقیقت ہی کا زائیدہ ہے، لیکن کسانی اظہار قاری کو مبالغے کے تئیں مایوس نہیں کرتا۔ قصیدے کی شعریات کا بنیادی سبق یہ ہے کہ قصیدہ کی بنیاد ہی مبالغہ پر ہے۔ مبالغہ ایک خاص زبان و اسلوب کا تقاضہ کرتا ہے۔ مبالغہ یوں تو ادبی اظہار کی ایک بڑی خوبی ہے، لیکن مبالغہ بھی ایک طرح کا نہیں ہوتا۔ قصیدے کی اجزائے ترکیبی پر اگر نگاہ ڈالی جائے تو یہ حقیقت بھی نظر میں واضح ہو جائے گی کہ قصیدہ کو ایک فن پارہ کے طور پر برتنا آسان نہیں ہے۔ قصیدے کے یہ مختلف حصے ایک معنی میں تکنیکی عناصر بھی ہیں ۔ کوئی بھی شاعران اجزائے ترکیبی کو نظر انداز کر کے قصیدہ نہیں کہہ سکتا۔ قصیدہ کے لفظ سے ہی ذہن میں کسی بادشاہ یامذہبی پیشوا کا تصور ابھرتا ہے اور ساتھ ہی اس کے اجزائے ترکیبی کی ترین شعرا ہیں اور آج تک ان ہی دو قصیدہ نگاروں کے حوالے سے اردو کی قصیدہ نگاری پہچانی جاتی ہے۔ مگر سچ یہ ہے کہ اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں بعض دیگر شعرا نے بھی اپنی قصیدہ نگاری کے ذریعہ اس صنف کو ثروت مند بنانے کی کوشش کی ہے۔
اردو
قصیدے کی خصوصیات اور اجزائے ترکیبی :
بہ
لحاظ مضمون اردو قصیدے کی بنیاد عموم مدح یا پھر دم پر قائم ہے۔ شوکت الفاظ کے
علاوہ قصیدے کی خصوصیت و اہمیت نادر و بلند اور پرشکوہ مضامین کی وجہ سے ہے۔ مدح
اور ذم کے ساتھ اردو قصائد میں کیفیت بہار، گردش زمانہ، پند و نصائح ، اخلاق و
حکمت ،ملکی اور قومی حالات و مسائل اور زندگی میں پیش آنے والے روز مرہ کے واقعات
کو بھی جگہ دی جاتی رہی ہے۔ ہئیتی نقطۂ نظر سے قصیدے اور غزل میں زیادہ فرق نہیں ۔
البتہ نظم کی طرح قصیدہ کا بھی ایک عنوان ہوتا ہے اور خیالات و مضامین آپس میں
مربوط اور مسلسل ہوتے ہیں۔ اس طرح اردو قصائد کا تصور مدح اور ذم کے مضامین سے
وابستہ ہے تاہم اس صنف شاعری میں دیگر موضوعات کا قحط وفقدان بھی نہیں ہے۔ چنانچہ
اوپر بیان کئے گئے موضوعات کے علاوہ رؤسا اور بزرگانِ دین کے اوصاف حمیدہ کے
بیانات بھی اردو قصائد کی اہم خصوصیات میں شامل ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ بادشاہوں
،روسا اور امراء کے درباروں نے ہمیشہ اردو شاعری کی اس ممتاز اور اہم کلاسیکی صنف
کی قدر و قیمت کی جانب توجہ کی ہے اور اس کے فروغ ومنزلت کی راہ کو ہموار کرنے میں
دلچسپی اور مدد سے کام لیا ہے۔ شاندار، توانا اور پر شکوہ الفاظ کے علاوہ تشبیہات
و استعارات کی جدت ، تراکیب کا نیا پن اور محاوروں کے برملا اور بلیغ استعمال نے
اردو قصیدہ نگاری کو ہمیشہ قدر و منزلت عطا کی تخیل کی بلندی اور غیر معمولی
مبالغہ آرائی بھی قصیدے کے اختصاصی پہلو اور امتیازات ہیں جس کی وجہ سے اردو شاعری
کی یہ صنف دل سے زیادہ دماغ کی شاعری کہی جاتی ہے۔
قصیدے
کے اجزائے تراکیبی:
تشبیب:
قصیدے میں اجزائے ترکیبی کے لحاظ سے پانچ
عناصر ہوتے ہیں۔ ابتدائی حصہ جو تمہید کے طور پر بیان کیا جا تا ہے تشبیب یا نسیب
کہلاتا ہے جس میں عموماً بہار یہ مضمون حسن و شباب ، رندی دسرمستی زمانے کی شکایت،
دنیا کی بے ثباتی ، علوم وفنون کی بے قدری خودستائی ، تصوف و اخلاق وغیرہ موضوعات
کو با العموم موضوع سخن بنانے کی روایت رہی ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو قصیدہ کی
تعمیرو تشکیل میں تشبیب کا نہایت اہم اور مفید کردار رہا ہے کہ اس سے قصیدہ کی
معنوی اور موضوعی دنیا کافی وسیع اور متنوع ہوتی ہے۔ قصیدے میں شاعر کا اصل مدعا
ممدوح کی تعریف کر کے اسے خوش کرنا اور اعتماد میں لینا ہوتا ہے اور جس کے عوض اسے
ممدوح بنانے کے لئے قصیدہ گو ہمیشہ ایک خوشگوار فضا اور ماحول تیار کرنے کی کوشش
کرتا ہے جو مدح کے مضامین نظم کرنے سے قبل تمہید کے طور پر قصیدے کی زینت کا حصہ
ہوتے ہیں اور جسے سن کر محدوح پوری طرح شاعر کی جانب متوجہ ہو جاتا ہے۔
تشبیب
میں پہلے شعر کی بڑی اہمیت ہوتی ہے جو غزل کی مانند قصیدے کا مطلع کہلاتا ہے اور
جس میں اکثر ردیف و قافیہ یا پھر صرف قافیہ کا التزام ہوتا ہے۔ قصیدے کے مطلع کے
متعلق عام خیال ہے کہ اُسے پر شکوہ اور جدت خیال کا حامل ہونا چاہئے تا کہ اسے
سنتے ہی ممدوح ہمہ تن متوجہ ہو جائے اور بعد میں آنے والے اشعار اُس پر خوشگوار
اثرات چھوڑ سکیں۔ تشبیب کی ایک اہم خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں بیان کردہ مضامین
ممدوح کے منصب کے نہ صرف مطابق ہوتے ہیں بلکہ بعد میں آنے والے مدحیہ اشعار سے
معنوی ربط و مناسبت بھی رکھتے ہیں۔ ایک اور اہم بات تشبیب سے متعلق یہ بھی ذہن
نشیں رکھنے کی ہے کہ اس میں اشعار کی تعداد عمو مامدح سے زیادہ ہوتی ہے مگر یہ
کوئی اصول یا کا یہ نہیں۔ خاص اور قابل غور بات اس قدر ہے کہ تشبیب کے پرشکوہ
اشعار قصیدے کے معنی ولطف کو دو بالا کر دیتے ہیں۔
گریز
: یہ قصیدے میں تشبیب اور مدح کے درمیان ایک
منطقی رابطے کی کڑی ہے اور تشبیب سے گریز کر کے شاعر مدح کی طرف قدم بڑھاتا ہے۔
مگر اس احتیاط اور فن کاری کے ساتھ کہ یہ محسوس ہو جیسے بات سے بات نکل آئی ہے۔
اصطلاح میں گریز دوسرکش بیلوں کو ایک جوئے میں جو تنے کے معنی میں لیا گیا ہے جو
ایک بڑی مہارت کی بات ہے ۔ گریز ، قصیدے کے دیگر اجزائے ترکیبی کے مقابلے میں بیحد
مختصر ہوتا ہے اور پورے قصیدے کو معنوی کڑیوں میں مربوط رکھنے کے لئے اہم اور
منطقی ذہن کا مقتضی ہوتا ہے۔ بہادر شاہ ظفر کی مدح میں غالب نے ایک مختصر قصیدہ
تحریر کیا ہے جس کی تشبیب نہایت دلکش ہے اور جس میں وہ پہلی تاریخ کے چاند سے
پوچھتے ہیں کہ تو کس کو جھک کر سلام کر رہا ہے؟ جواب نہ ملنے پر شاعر بڑی فنکاری
کا مظاہرہ کرتے ہوئے گریز کے اشعار کی طرف آتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ جلیل القدر
شخصیت شہنشاہ بہادرشاہ ظفر کی ہے۔
مدح :گریز
کے بعد قصیدے کا تیسرا اہم جزو مدح ہے۔ اس میں مدوح کی ذات کے جملہ اوصاف کا بیان
ہوتا ہے۔جس میں شاعرانہ مبالغہ آرائی سے کام لے کر شاعر قصیدے کی عالی شان عمارت
قائم کرتا ہے اور اسی حصے میں شاعر کی قوتِ اظہار اور تخیل آفرینی کے جو ہر بھر
پور انداز میں کھلتے ہیں نیز ممدوح کے جملہ متعلقات جیسے فوجی ساز و سامان، ہاتھی
، گھوڑے، تیر تلوار اور دیگر جنگ کے آلات کو بھی موضوع سخن بنایا جاتا ہے اور ان
سب چیزوں کی تعریف و توصیف میں وہی زور بیان صرف کیا جاتا ہے جو خود ممدوح کے ذاتی
صفات کے اظہار میں ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ مدح میں حفظ مراتب کا خیال از حد ضروری ہے
نیز تعریف ایسی ہو جو مدوح کے شایان
شان ہو۔
عرض مطلب یامد عا
:یہ قصیدے کا چوتھا جزو ہے، جس میں قصیدہ
گو، مدح گوئی کے بعد اپنے ذاتی حالات اور اغراض و مطالب کا اظہار کرتا ہے۔ مدح و
تعریف کی داد طلب کرنے کے علاوہ مدوح سے مالی منفعت اور صلہ واکرام کا حصول بھی
شاعر کا خاص مقصد ہوتا ہے مگر یہ ضروری نہیں کہ ہر قصیدے میں
شاعر اپنا مدعا بیان کرے۔ اس طرح عرض مطلب قصیدے کا لازمی جزو نہیں ہے ۔
دعا :قصیدے
کا آخری جزو دعا ہے جس میں قصیدہ گو اپنے ممدوح کو درازی عمر، بلندی اقبال، شان و
شوکت اور زر و مال میں افزونی و ترقی وغیرہ کی دعا دے کر قصیدہ ختم کر دیتا ہے۔ اس
لحاظ سے دعائیہ اشعار مدحیہ قصیدے کے لئے ایک طرح سے ضروری
اور لازمی ہو جاتے ہیں جس میں بقول شمیم
احمد:
"ممدوح
کے علاوہ اس کے اقربا اور دوستوں کو بھی دعا دی جاتی ہے۔ بعض قصیدوں میں یہ بھی
ہوتا ہے کہ دوستوں کو دعا دینے کے ساتھ ممدوح کے دشمنوں کو بد دعا دی جاتی ہے۔ اس
طرح قصیدہ اوّل تا آخر ایک منظم اور سوچے سمجھے پلان پر تیار کردہ شعری تخلیق ہے۔
اس کے لئے اس کے مضامین اور اظہار میں زیبائش و آرائش کے سارے لوازمات بہ اہتمام
اور پوری شعوری کوشش سے داخل کئے جاتے ہیں۔ ان وجوہ سے زبان و بیان کے معاملے میں
قصیدہ دیگر اصناف سخن کے مقابلہ زیادہ وہ تم بالشان صنف سخن ہے۔“
اردو
قصیدے کا آغاز وارتقاء:
اردو
میں قصیدہ نگاری کی ابتدا دکن سے ہوئی۔ اس سلسلے میں سلطان محمد قلی قطب شاہ (۱۵۲۵ء۔۱۶۱۲ء) کے علاوہ وکی اور
نصرتی کے نام قابل ذکر ہیں۔ قدیم دکنی اور نامانوس الفاظ کی کثرت کے سبب ان شعراء
کے قصائد کی زبان کو دکنی اردو کہا گیا ہے۔ ولی جو خود صوفیانہ مزاج کے مالک تھے،
ان سے بادشاہوں اور امیروں کی قصیدہ خوانی کی زیادہ توقع نہیں کی جاسکتی ۔ تاہم ان
کے کلیات میں چند قصائد بھی شامل ہیں۔ حضرت شاہ وجیہہ الدین کی مدح ہیں لکھا ہوا
ایک قصیدہ اگر چہ قابلِ ذکر ہے تا ہم علمائے ادب کی رائے ہے کہ وہ فن قصیدہ نگاری
کی کسوٹی پر پورا نہیں اترتا ہے۔
اردو
قصید و نگاری کا زریں عہد مرزا محمد رفیع سوؔدا (۱۷۱۲ء تا ۱۷۸۱ء) سے شروع ہوتا ہے ۔ اگر
چہ سودؔا اردو شاعری کی تمام اصناف پر قادر تھے مگر قصیدہ اور بجو سے ان کی طبیعت
کو خاص مناسبت تھی ۔ کہا جاتا ہے کہ سودا بڑے زودرنج بھی تھے اور زراز راسی بات پر
لوگوں سے خفا ہو جایا کرتے تھے۔ اسی لئے ان کے متعلق مشہور ہے کہ ذرا کسی سے بگڑی
اور انھوں نے اُس کی ہجو کہی ۔ وہ انتہائی ذہین اور نابغہ روزگار تھے۔ سودا نے جو
قصائد لکھے ہیں اس سے ان کی ذہنی طباعی تخلیقی صلاحیت اور استادی کا بخوبی اندازہ
لگایا جا سکتا ہے۔ انھوں نے فارسی شاعروں کے کامیاب قصائد کی روشنی میں قصیدے لکھ
کر اردو قصیدہ نگاری کو معراج کمال تک پہنچادیا۔ سوؔداکے قصائد میں بڑا زور، ندرت
بیان اور شگفتگی ہوتی ہے ۔ ساتھ ہی بلند آہنگ الفاظ کا استعمال، پر شکو داب ولہجہ
اور مضمون آفرینی یعنی بات میں بات پیدا کرنا سودا کے اسلوب کی اہم خصوصیات ہیں ۔
سوؔدا
کے بعد ان کے معاصرین میں میر تقی میؔر نے بھی چند قصیدے لکھے ہیں مگر ان کی طبیعت
اس صنف سخن کے لئے موزوں نہ تھی ۔ غزل کی طرح افسردگی اور بیچارگی کا رنگ ان کے
قصائد پر بھی غالب ہے۔ درد وغم کا اظہار، جو میر کی غزلوں کی اہم خصوصیت ہے، وہی
مزاج اور لب ولہجہ ان کے قصیدوں کا بھی ہے۔ میؔر کے ایک مشہور قصیدے کا مطلع ہے۔
میؔر
کے بعد انشاؔ اور مصحؔفی نے بھی میرسے بہتر قصیدے لکھے تاہم ان شاعروں کو کبھی
قبول عام اور شہرت نصیب نہ ہوئی ۔ انشا کی غیر سنجیدگی اور مصحفی میں زور طبیعت کی
کمی نے انھیں اس صنف شاعری میں آگے نہ بڑھنے دیا۔ اس کے بعد دہلی کے شاعروں میں ذوؔق
، غاؔلب اور مومن خاں مومؔن نے قصیدہ نگاری کی طرف توجہ کی مگر ذوؔق کو چھوڑ کر
دونوں ہی باکمالوں کی شہرت غزل گو کی حیثیت سے ہوئی ۔ پھر بھی ، ان دونوں شاعروں
نے قصیدہ گوئی کے میدان میں کافی شہرت اور کامیابی حاصل کی ۔ سودا کے مقابلے میں
اگر چہ ذوق کے یہاں فطری سادگی کا فقدان ہے تاہم ذوق نے کلام کی چستی اور بندش کی
دل آویزی سے بڑی حد تک قصیدے میں بےساختنگی پیدا کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ در
اصل قصیدے کی کامیابی اس کے اجزائے ترکیبی میں ایک خوشگوار رابط اور مختصر گریز
کہنے کی مہارت پر قائم ہے۔ ذوق کے قصائد اس خصوصیت کے حامل ہیں۔ قصیدہ در مدح
بہادر شاہ اسکی عمدہ مثال ہے۔ صرف دو شعر بطور نمونہ کلام ملاحظہ کر لئے جائیں۔
اردو
قصیدے کے ارتقائی سفر میں ذوق کے معاصرین میں دوسرا اہم نام مرزا اسد اللہ خاں
غالب کا ہے۔ قدرت نے انھیں بڑا ذہین ا ور
اعلی دماغ بنایا تھا۔ غالب نے چند ایک ہی قصیدے لکھے مگر ان کے مطالعے سے
پتہ چلتا ہے کہ انھوں نے مدحیہ قصائد میں بڑا ز ور صرف کیا ہے اور جوش بیان و زور
بیان کا بے مثل نمونہ پیش کر دیا ہے ۔ جذت اور فکر کے لحاظ سے غالب نے اردو قصیدہ نگاری
کو ایک نیا مزاج بخشا خاص طور پر تشبیب کے بیان میں ان کی پیشکش نہایت جاندار ہوتی
ہے۔
غالب
کے معاصرین میں مومن خاں مومن کے قصائد میں نازک خیالی کا بڑا دخل ہے، تاہم مرزا
غالب جیسی جامعیت اور آفاقیت نہیں ہے۔ مومن نے بادشاہوں کی مدح سرائی سے حتی
الامکان احتراز کیا ہے۔ دو ایک قصیدے کو چھوڑ کر ان کی یہاں مذہبی قصائد اور
خلفائے راشدین کی مدح میں ہی قصیدے دیکھنے کو ملتے ہیں جن میں جذبات قلبی اور
احساسات ذاتی کے علاوہ شعری محاسن اور فنی لوازم یہ حد کمال دیکھے جا سکتے ہیں۔
انیسویں
صدی کے ربع آخر تک اردو قصیدہ نگاری کی ارتقائی منزل اور رفتار میں کمی واقع ہونے
لگی۔ بادشاہ اور امراء کی تعریف کی جگہ اردو قصیدہ نگاروں نے بزرگان دین کی شان
میں قصیدے لکھنے شروع کر دئے کہ ۱۸۵۷ء
کے بعد نہ بادشاہت رہی نہ امیر و امراء کا رعب و وبدبہ اور مالی حیثیت کہ جس کی وجہ سے اردو قصیدہ
گویوں کی معاشی حیثیت برقرار و بہتر رہتی اور انھیں اک گونہ آرام واطمینان میسر
آتا۔ چنانچہ شیخ ابراہیم ذوق کے بعد اردو قصیدہ گویوں میں جو نام سب سے زیادہ
تابناک اور روشن نظر آتا ہے وہ محسن کا کوروی کا ہے "مدیح خیرالمرسلین “ کے
عنوان سے لکھا ہوان کا قصیدہ ؎
؎ سمت کاشی سے چلا جانب متھرا بادل برق کے کاندھے پہ لاتی
ہے صبا گنگا جل
بہت زیادہ مشہور ہوا اور جس نے اردو قصیدہ نگاری کی تاریخ میں محسن کاکوروی کو لازوال شہرت اور بلندی عطا کر دی محسن کا کوروی سے قصائد میں تخیل کی نزاکت اور بلندی بہت ہے ۔ مضامین کی خوبی کے ساتھ ان کے قصائد میں ایک خاص اثر بھی پایا جاتا ہے ۔ ساتھ ہی تشبیہات، استعارات اور تلمیحات سے انھوں نے مرزا محمد رفیع سودا کی طرح بڑا حسن پیدا کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ محسن کا کوروی کے بعد قصیدے کا خاتمہ ہی ہو گیا۔ مگر ان کے معاصرین میں عزیز لکھنوی اور منیر شکوہ آبادی، امیر مینائی اور جلال لکھنوی وغیرہ نے بھی چندا چھے قصائد لکھے۔ تاہم ان میں سے کوئی بھی نازک خیالی مضمون آفرینی اور قافیہ پیائی کی حدوں سےباہر نہ نکل سکا۔
قصیدے کے زوال کے اسباب:
اردو قصیدہ نگاری کی ابتدا مالی منفعت حصول زر ، عزت و
تکریم اور ثواب اخروی وغیرہ کی بنیاد پر ہوئی۔ صلہ وانعام کی لانچ اور ایک دوسرے
پر سبقت لے جانے کی خواہش کے نتیجے میں فارسی قصیدہ گویوں کی طرح اردو شعراء کے
یہاں بھی زیادہ بلند و دقیق مضامین کی تلاش ایک عام بات ہو گئی، جس نے بلا شبہ بہ
اعتبار مضمون و اسلوب اردو شاعری کو وسعت و توانائی کی بلندیوں پر پہنچادیا۔ شجاع
الدولہ سے لے کر آصف الدولہ تک اور شاہ عالم سے بہادر شاہ ظفر تک کا پورا عہد
اندرونی طور پر معاشی مفلوک الحالی کا دور رہا ہے۔ ایسے حالات میں سودا جیسے قادر
الکلام اور عظیم ترین فنکار نے بھی ذاتی مدح سرائی میں بزرگان دین کی منقبت اور
رسول اکرم کی نعت کو ترجیح دیتے ہوئے اپنی فنکارانہ قابلیت کا مظاہرہ کیا۔ ذوق و
غالب نے بہادرشاہ ظفر کے دامن میں پناہ لی اور ماڈی اکتساب کیا لیکن ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد یہ سلسلہ قائم نہ رہ سکا اور وہ
محمد حین جو اپنی مدح سننے سے زیادہ شاعر کے کمال فن کا اعتراف انعام واکرام کی
صورت میں کرتے تھے، دنیا سے رخصت ہو گئے اور قصیدہ گویوں کو جو سر پرستی امراء
نوابوں اور بادشاہوں کی جانب سے حاصل تھی وہ ختم ہونے لگی جس نے بلا شبہ اردو
قصیدہ نگاری کے زوال میں سب سے زیادہ اہم رول ادا کیا۔ وتی کی طرح لکھنو کی سرزمین
اردو شعر و ادب کا دوسرا اہم مرکز تھی لیکن یہاں کے حالات اور ادبی فضا قصیدے سے
کہیں زیادہ مرثیہ گوئی کے لئے موزوں تھی۔ اس لئے قصیدے کی صنف کو خاطر خواہ ترقی
میسر نہ آسکی۔ قصیدہ گو شاعروں نے ادبی فضا اور موقع و محل کو نظر میں رکھ کر
نوابین اودھ کے مذہبی عقائد اور دلچسپیوں کے مطابق قصیدے کے تمام اجزاء اور اسالیب
کو مرثیہ میں ضم کرتے ہوئے اپنی جولانی طبع کے جو ہر دکھائے ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ
قصیدہ گوئی کی جگہ اردو مرثیہ نگاری کو کہیں زیادہ فروغ حاصل ہوا اور قصیدے کی
شاہراہ ویران و سنسان ہوتی چلی گئی۔
قصیدے کے زوال کا ایک بڑا سبب یہ بھی تھا کہ ۱۸۷۴ء کے بعد حاکی میکی ، آزاد، اسمعیل میرٹھی اور لنظم
طباطبائی وغیرہ کے ہاتھوں قلم جدید کو بڑا عروج حاصل ہوا۔ مولانا حالی اور اس دور
کے تمام اہم شعراء اردو شاعری میں جونئی تبدیلی چاہتے تھے ، وہ قصیدے کے مزاج و
اسلوب سے ممکن نہ تھی ۔ فطری جذبات اور حقیقت پسندی کا اظہار اس عہد کے شعراء کا
اصل منشا و مذاق بن چکا تھا جبکہ اردو قصیدے کی بنیاد مبالغہ اور غلو پر قائم تھی۔
نتیجہ یہ ہوا کہ زندگی کے بدلتے ہوئے مزاج کو ہم آہنگ کرنے میں اردو قصائد زیادہ
کارآمد ثابت نہ ہو سکے اور اردو شاعری کی یہ غیر معمولی صنف زوال کا شکار ہوگئی ۔
اس طرح علی گڑھ تحریک کے
زیر اثر اردو شاعری میں سادگی، اصلیت اور جوش کا جو رجحان عام طور پر پسندیدگی کی
نگاہ سے دیکھا جانے لگا تھا وہ قصیدہ کے اسلوبیاتی ڈھانچے کو زیادہ راس نہ آسکا
نتیجہ یہ ہوا کہ دورشاہی اور نوابین کے خاتمے کے ساتھ اردو قصیدہ نگاری کا بڑی
تیزی سے زوال شروع ہو گیا۔ قصیدے کے زوال کا ایک پہلو یہ بھی رہا ہے کہ عموماً
اردو قصائد کسی مخصوص شخص کی مدح میں لکھے جاتے رہے۔ اس طرح قصیدے کی یہ صنف کسی
اجتماعی حیثیت کی حامل نہ ہو سکی جبکہ وقت کی تبدیلی کے ساتھ تمام ادبی سرما یا
جاتاعلی اور جمہوری بنتا گیا۔ اخبار و رسائل، پریس اور عوامی مشاعروں کے فروغ نے
شہرت و تشہیر اور معاشی حالات کو بہتر بنانے میں کسی حد تک اردو شعراء کی بڑی مدد
کی جس سے بالواسطہ طور پر اردو قصیدہ نگاری پر منفی اثرات مرتب ہوئے اور اردو
شاعری کی یہ شاندار اور توانا صنف ہماری ادبی تاریخ کا محض
ایک یاد گار حصہ بن کر رہ گئی۔اتنا ہی نہیں تقسیم ہند اور ملک کی برطانوی غلامی سے
آزادی کے بعد اردو زبان و ادب پر جو پیغمبری وقت آن پڑا ہے، اس نے بھی قصیدہ نگاری
کی مقبولیت کو بڑی حد تک متاثر کیا ہے۔ یہاں تک کہ اعلیٰ تعلیمی دانش گاہوں میں
بھی قصیدے کی تدریس آج بیحد مشکل کام بن چکی ہے۔ اردوزبان کے جاننے اور پڑھنے
والوں کا معیار افسوس ناک حد تک گر چکا ہے۔ ایسے میں قصیدہ جیسی مشکل اور رعنائی
فکر کی نمائندہ شاعری کے زوال اور اس کے اسباب کو بہ آسانی سمجھا جا سکتا ہے۔
مرزا
محمد رفیع سوداکی قصیدہ نگاری:
مرزا
محمد رفیع سودا ۱۷۰۷ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام مرزا محمد شفیع
تھا، جو تجارت کرتے تھے، اجداد کا پیشہ سپہ گری تھا اور وہ بخارا یا کابل سے ہجرت
کر کے ہندوستان آئے تھے۔ ابتدائی تعلیم رواج زمانہ کے مطابق مکتب ہی میں حاصل کی ،سوادا
نے فارسی زبان وادب کا گہرا مطالعہ کیا
تھا۔ مرز امحمد شفیع کے انتقال کے وقت سود اسن شعور کو پہنچ چکے تھے، والد دہلی کے
اچھے تاجروں میں تھے اور گھرانہ بہت خوش حال تھا، سودا کی شخصیت اپنے دوسرے معاصر
شاعروں سے کافی مختلف تھی، وہ ایک بھر پور اور طرح دار شخصیت کے مالک تھے ۔ سودا
کا زمانہ دہلی میں ہے امنی اور خلفشار کا زمانہ تھا، اس پر آشوب حالات سے اس دور
کے ہر شاعر متاثر نظر آتے ہیں، خود سودا کی زندگی پر بھی ان حالات نے اثر ڈالا ،
جن کا اظہار ان کی شاعری میں جگہ جگہ موجود ہے لیکن سودا کی شخصیت کچھ ایسی واقع
ہوئی تھی کہ انھوں نے ایسے حالات میں بھی زندگی کو گوارا بنالیا تھا، اور آخیر عمر
تک وہ ایک منظم زندگی گزارنے میں کامیاب رہے۔ سودا کے عہد میں مجلسی علم کو با
قاعدہ ایک فن تصور کیا جاتا تھا، اس وقت کے شرفا مروجہ علوم کے علاوہ اس فن پر بھی
پوری توجہ دیتے تھے ، شعر و شاعری اسی مجلسی علم کا ایک حصہ تھی۔ شرفا اپنی
اولادوں کی تربیت کے لیے گھر پر استاد کا انتظام رکھتے تھے، جو بچوں کو آداب مجلس
سکھاتے اور ان میں شعر و شاعری کا شوق پیدا کرتے تھے ۔ غرض کہ شگفتہ مزاجی ،
برجستگی، شعر و شاعری سے دلچپسی محفل میں نشست و برخاست کے آداب اور سلیقے اور
بڑوں کا ادب واحترام وغیرہ وہ خصوصیات تھیں جو اس دور میں ہر مہذب انسان کے لیے
ضروری تسلیم کی جاتی تھیں۔ سودا کی تربیت بھی اسی انداز سے ہوئی تھی۔ ان کی زندگی
کو ہمہ رنگ بنانے میں ان کے مزاج کو بھی بڑا دخل تھا۔ ان کا مزاج فطرتا کچھ ایسا
واقع ہوا تھا کہ اس نے انھیں اپنے دور کے تمام مشہور شاعروں سے ممتاز کر دیا تھا۔
ان کی شخصیت اور مزاج کی خوبی یہ تھی کہ وہ ہمیشہ ہی ایک خوش خلق ، گرم جوش، بشاس
رو، شیریں زبان، یار باش اور ظریف انسان نظر آتے تھے ۔ زندگی میں خوش رہنا ، ہنسنا
ہنسانا ان کا سب سے مرغوب مشغلہ تھا۔ سودا کے معاصر تذکرہ نگاروں کے بیان سے بخوبی
معلوم ہو جاتا ہے کہ سودا کے اندر مذکورہ تمام خوبیاں موجود تھیں۔
کچھ تذکرہ نگار کے مطابق
سودا نے شعر کہنے کی ابتدا فارسی زبان میں کی لیکن بعض فارسی کے استاد شاعروں کے
مشورہ سے انھوں نے فارسی زبان میں شاعری ترک کردی اور زبان ریختہ ( اردو) کو
اپنایا، اور شاہ ظہور الدین حاتم کے شاگرد ہوئے ، جب اچھے شاعر کی حیثیت سے سودا
کی شہرت ہوئی تو دہلی میں ان کے کئی قدردان پیدا ہو گئے ۔ یہاں سے سودا کی مصاحب
پیشگی کی ابتدا ہوتی ہے۔ اب سودا نے اس پیشہ کو اپنا ذریعہ معاش بنالیا اور آخر
وقت تک اسی پیشہ سےوابستہ رہے۔دہلی میں سودا کے پہلے مربی بسنت خاں خواجہ سرا تھے
، جومحمد شاہی عہد کے بہت بااثر امیر تھے،سودا نے بسنت خاں خواجہ سرا کی شان میں
دو قصیدے لکھے ہیں۔ جب دہلی پر احمد شاہ ابدالی کا پہلا حملہ ہوا اور
دہلی ایک مرتبہ پھر اجڑ گئی ،سودا نے اس وقت دہلی نہیں چھوڑا کیوں کہ ابھی ان کے
مربی عمادالملک کا اقتدار بحال تھا، لیکن ابدالی کے دوسرے حملہ کے وقت عمادالملک
کو دہلی چھوڑ نا پڑا، اب دہلی میں سودا کا کوئی پرسان حال نہیں تھا، اس لیے سودا
نواب مہربان خاں رند کے پاس فرخ آباد پہنچ گئے ۔ اودھ کے با قاعدہ ادبی مرکز بننے
سے قبل فرخ آباد ایک ایسا مقام تھا جہاں نواب احمد خاں بنگش کے دیوان مہربان خان
رند کی فیاضیوں نے کچھ شاعروں کو اپنی طرف متوجہ کر لیا تھا، ان میں میر سوز بھی
تھے، جو رند کے استاد تھے۔ تقریبا دس برس تک سود مسلسل فرخ آباد ہی میں مقیم رہے
اور رند کی سرپرستی انھیں حاصل رہی۔ رند کی شان میں ایک قصیدہ، ایک مثنوی اور بہت
سے اشعار کلیات سودا میں موجود ہیں۔
اردو
قصیدہ نگاری کی تاریخ میں سودا کو ایک بلند پایہ قصیدہ نگار کا مرتبہ حاصل ہے۔
مصحفی نے اپنے تذکرہ تذکرہ ہندی میں سودا کار دو قصیدہ نگاری کا نقاش اول قرار دیا
ہے۔ میر تقی میر نے اپنے تذکرہ ”نکات الشعراء میں سودا کی استادی کو تسلیم کیا ہے۔
تمام ہم عصر تذ کرہ نگار اس رائے پر متفق ہیں کہ اردو قصیدہ نگاری کے میدان میں
سودا کا ہم پلہ کوئی دوسرا شاعر نہیں ہے ۔ ”آب حیات میں محمد حسین آزاد نے تو یہاں
تک کہہ دیا ہے کہ:
”وہ
(سودا) فارسی کے نامی شہسواروں کے عناں در عناں ہی نہیں گیا بلکہ اکثر میدانوں میں
ان سے آگے نکل گیا۔ اس کا نزا کے مضمون ظہورکی و نظیری کو شرماتا ہے اور زور بیان
انور کی اور خاقانی کو دباتا ہے“۔ (آب حیات : ص ۱۴۵)
سودا کی خوبی یہ ہے کہ
انھوں نے اپنے زیادہ تر قصیدے فارسی قصائد کی زمین اور طرز میں لکھے، اور فارسی
میں قصیدہ گوئی کو جو روایت موجود تھی ، اس کی بھر پور تقلید اور پیروی کی ۔لیکن
سودا کی یہ پیروی محض کورانہ تقلید نہیں تھی، بلکہ فارسی میں موجود مضامین اور
اسلوب کو انھوں نے ایسی ہنرمندی اور ندرت کے ساتھ پیش کیا کہ وہ ہندوستانی ماحول
کی عکاس اور اردوزبان وادب کا قیمتی سرمایہ بن گئیں۔
قصیدہ گوئی چوں کہ ایک
مشکل ترین فن تھا، اس لیے اس میدان میں صرف وہی شاعر کامیاب ہوسکتا تھا جو اردو
زبان کے علاوہ فارسی اور عربی زبانوں کی شاعری سے بھی اچھی طرح واقف ہو۔ سودا کے
اندر یہ علمی لیاقت موجود تھی ، ساتھ ہی خدا نے انھیں اعلیٰ درجے کا ذہین وفطین
بھی بنایا تھا۔ قصیدہ گوئی کے شرائط میں ذہانت و فطانت کے علاوہ تخیل کی بلند پروازی
کا ہونا بھی ضروری تھا اور سودا اس شرط کو بھی اچھی طرح پوری کرنا جانتے تھے، ان
کے مزاج میں زبر دست قسم کی تیزی بھی پائی جاتی تھی، جو قصیدہ گوئی کے مزاج سے
مناسبت بھی رکھتا تھا۔ سودا کے انھیں صفات کے متعلق محمد حسین آزاد
لکھتے ہیں :
"گرمی
اور مزاج کی تیزی بجلی کا حکم رکھتی تھی اور اس شدت کے ساتھ کہ نہ کوئی انعام اسے
بجھا سکتا تھا اور نہ کوئی خطرہ اسے دبا سکتا تھا“۔ (آب حیات : ص ۱۴۶)
سودانے زیادہ تر قصیدے
فارسی قصائد کی طرز اور زمین میں لکھے ہیں، مثلاً ان کا مشہور لامیہ قصیدہ، جو
حضرت علی کی مدح میں لکھا گیا ، جس کا مطلع یہ ہے:
؎ اٹھ گیا بہن ودے کا چمنستاں سے عمل تیغ اردی نے کیا ملک خزاں
مستاصل
یہ قصیدہ فارسی کے دو قصائد کو سامنے رکھ کر
لکھا گیا ہے،
مجموعی طور پر سودا نے
ایک بھر پور زندگی گزاری۔ ان کی آمدنی اور ان کی معیار زندگی کو دیکھتے ہوئے یہ
کہنا غلط نہ ہوگا کہ وہ متمول اور اشرافیہ طبقے سے تعلق رکھتے تھے ، موسیقی اور سگ
پروری کے شوق کے علاوہ سودا نے جس اعلیٰ معیار کی زندگی گزاری، وہ ایک متمول اور
فارغ البال مشخص ہی گزار سکتا تھا۔سودا نے قصیدہ، ہجویات اور شہر آشوب کے علاوہ
متعدد مثنویاں ، بہت سی غزلیں ، مریجے ،سلام ، واسوخت ، رباعیاں اور قطعات بھی
لکھے ہیں اور فنی طور پر ہر صنف کے اصول وضابطے کو کامیابی اور ہنر مندی سے اپنایا
ہے ۔
تضحیک روزگار محمد
رفیع سوؔدا
اورنگ زیب عالمگیر کے انتقال کے بعد مغل سلطنت کو زوال آنا شروع
ہوا اور یہ عظیم سلطنت جو شمال سے جنوب تک پھیلی ہوئی تھی ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی ۔ شاہ عالم
، بہادر شاہ اور جہاں دار شاہ کے بعد فرخ سیر بادشاہ ہوا ۔ اسکے بعد رفیع الدرجات رفیع
الدولہ اور پھر محمد شاہ بادشاہ ہوا ۔ اس زمانے میں سیاسی حالات انتہائی پستی کو پہنچ
چکے تھے ۔ سازشوں کا دور دورہ تھا ۔ نچلے طبقے کے لوگ بادشاہ کے مزاج میں دخیل ہوتے
جارہے تھے ۔ لوٹ کھسوٹ اور رشوت کا بازار گرم تھا ۔ اسی زمانے میں مرہٹہ سرداروں نے
سر اٹھایا اور شاہی فوج کو شکست دی ۔ اس زمانے میں نادر شاہ نے دلی پر حملہ کیا اور
خون کی ندیاں بہادیں ، دلی کو لوٹ کر تباہ و تاراج کر دیا ۔ محمد شاہ کے بعد احمد شاہ
تخت پر بیٹھا ۔ اس زمانے میں دہلی کا برا حال تھا ۔ دہلی گویا لوٹ مار کرنے کی وجہ
سے دلی تباہ و بربا د ہو چکی تھی ان تمام
حالات کے پس منظرمیں سودا نے ایک ہجویہ
قصیدہ تخلیق کیا ۔
سودا
کے اس قصیدے کا مطالعہ کرنے سے پہلے اس کے بارے میں کچھ بنیادی باتوں کا جان لینا
ضروری ہے۔ اس ضمن میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ یہ قصیدہ ہجو یہ ہے، لیکن اس میں
کسی شخص کی ہجو نہیں بیان کی گئی ہے، بلکہ یہاں زمانے کی ہجو مضحکہ خیز صورت میں
بیان ہوئی ہے۔ یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس میں زمانے کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ یہاں
یہ بات اچھی طرح سمجھنے کی ہے کہ ہماری مشرقی تہذیب میں زمانہ قدیم سے یہ تصور چلا
آرہا ہے کہ وقت یا زمانہ ہرلمحہ حرکت میں ہے اور اسی کے زیر اثر دنیا میں تبدیلیاں
رونما ہوتی رہتی ہیں، انقلاب آتے رہتے ہیں۔ اسی تصور کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وقت
یا زمانے کی حرکت دراصل آسمان کی گردش کی مظہر ہے۔ اسی وجہ سے وقت کی گردش اور
زمانے کی گردش کا تصور قائم ہوا ہے۔ خیال رہے کہ لفظ ” روزگار کے معنی زمانے کے
ہیں اس لیے گردش روزگار سے بھی زمانے اور وقت کی گردش مراد ہوتی ہے۔ آسمان کے بارے
میں مشرق کا قدیم تہذیبی تصور یہی ہے کہ یہ ہر وقت گردش میں رہتا ہے اور دنیا میں
کسی کو بھی ایک حالت میں نہیں رہنے دیتا۔ اسی بنا پر آسمان کو ظالم ستم گر، بے
رحم، شریر، فتنہ پرور، دشمن وغیرہ کہا جاتا ہے۔ چنانچہ اس تصور کے لحاظ سے آسمان،
زمانہ اور وقت سب ایک ہیں جو دنیا اور اہل دینا کے لیے رنج و مصیبت کا موجب ہیں۔
انسان
زمانے کو اپنی پریشانی اور تباہی و بربادی کا ذمے دار سمجھتا ہے، اور اسی لیے اس
کی شکایت کرتا ہے۔ لیکن چونکہ وقت پر انسان کا کوئی زور نہیں چلتا اس لیے کبھی
کبھی انسان کا رد عمل غصے اور احتجاج وغیرہ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس روشنی
میں دیکھیے تو سودا کا یہ قصیدہ وقت اور زمانے کے خلاف اس رد عمل کا فنکارانہ
اظہار ہے۔ یہاں سودا انسان کے اس غصے اور احتجاج کو ظریفانہ پہلو سے بیان کرتے
ہیں۔ اس کے لیے انہوں نے جو پیرایہ اختیار کیا ہے وہ اتنا پرلطف ، دلکش اور متاثر
کن ہے جس کی کوئی دوسری مثال اردو شاعری میں نہیں ملتی۔
یہ
قصیدہ کل 81 / اشعار پر مشتمل ہے، جس میں شروع سے آخر تک سودا کی شاعرانہ مہارت ،
ظریفانہ پہلوؤں کی تصویر کشی اور لطف زبان و بیان کا اعلیٰ معیار دیکھا جا سکتا
ہے۔ اس قصیدے کی ایک امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں سودانے ایک فرضی قصے کے وسیلے
سے زمانے کی خرابیوں کا بیان کیا ہے اور اس بیان میں طنز و ظرافت کے بیحد مضحک پہلو
پیدا کیے ہیں۔ انہوں نے ایک نہایت نحیف و نزار گھوڑے کو زمانے کی علامت بنا کر اس
کی صفات کو ایسے پہلوؤں سے ظاہر کیا ہے کہ بیک وقت زمانہ اور اہل زمانہ کی زبوں
حالی بھی نمایاں ہوتی ہے اور اس کی مضحکہ خیز صورت بھی سامنے آتی ہے۔ اس کے ساتھ
زمانے کی خرابی انسانوں پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے، اس کا نقشہ بھی آنکھوں کے
سامنے پھر جاتا ہے۔ قصیدے کی ابتدا آسمان کے ذکر سے ہوتی ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ
آسمان جب سے وقت کے گھوڑے پر سوار ہوا ہے تب سے ایک لمحےکو بھی وہ نہیں رکا ہے۔ اس
کے بعد لوگوں کی بدحالی کا عمومی ذکر کر کے سودا اپنے ایک دوست اور مہربان کا ذکر
کرتے ہیں جن کے پاس ایک نہایت نحیف و نزار گھوڑا تھا۔ اس گھوڑے کی زبوں حالی اور
ضعف و ناطاقتی کا کم و بیش ہیں اشعار میں نہایت دلچسپ بیان کرنے کے بعد سودا کہتے
ہیں کہ ایک دن انہیں کسی کام سے اس گھوڑے کو مستعار لینے کی ضرورت پیش آئی۔ انہوں
نے جب اس خواہش کا اظہار اپنے دوست سے کیا تو اس کے جواب میں انہیں گھوڑے کے بارے
میں جو تفصیلات بتائی گئیں وہ انتہائی دلچسپ اور مضحکہ خیز ہیں۔ ان کے دوست نے کئی
ایسے واقعات کا ذکر کیا جن سے گھوڑے کی بدحالی اور خود اس کے مالک کی نا گفتہ بہ
کیفیات کی جیتی جاگتی تصویر سامنے آتی ہے۔ واضح رہے کہ قصیدے کا بڑا حصہ انہیں
واقعات اور کیفیات کے بیان پر مشتمل ہے۔
اس
کے بعد آخری تین اشعار میں سودا نے قصیدے کا اختتام بھی انتہائی پر لطف انداز میں
کیا ہے۔ انہوں نے اپنے دوست سے گھوڑے کی کیفیات کا بیان سننے کے بعد کہا کہ اے
دوست گھوڑے کے بارے میں اتنی بے سروپا باتیں بیان کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔ آپ کا
اتناکہہ دینا ہی کافی تھا کہ میرا گھوڑا ابلق ہے۔ میں اتنا ہوشیار ہوں کہ خود ہی
سمجھ جاتا کہ اس گھوڑے کے پردے میں آپ نے کس کا بیان کیا ہے۔
اس
قصیدے کے تعلق سے لوگوں میں ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ اس میں سودا نے خصوصی طور
پر اپنے زمانے کی بدحالی اور اخلاقی برائیوں کا بیان کیا ہے۔ یہ بات اس لیے درست
نہیں ہے کہ جیسا شروع میں کہا گیا، زمانے کی گردش اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے
والے دنیا کے حالات ہماری تہذیب میں مدت دراز سے انسانی فکر و خیال کا اہم موضوع
رہے ہیں۔ اسی بنا پر آسمان اور زمانے کی شکایت کو شعرا نے کثرت سے بیان کیا ہے۔ اس
سے ظاہر ہوتا ہے کہ اخلاقی اور معاشرتی خرابیاں کم و بیش ہر دور میں اور دنیا کے
ہر حصے میں موجود رہی ہیں اور ہر تہذیب انہیں اپنے اپنے طور پر بیان کرتی آئی ہے۔
چنانچہ سودا نے اس قصیدے میں مشرقی تہذیب کی ایک آفاقی صورت حال کو موضوع بنا کر
انسانی زندگی کی ایسی تصویر پیش کی ہے جسے ہر زمانے میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہی سبب
ہے کہ موضوع کی آفاقیت اور پیش کش کے نہایت بلند معیار کی بنا پر اس قصیدے کی معنویت
ہر دور میں قائم رہے گی ۔
غزل
کی تعریف اور ہیئت:
غزل کو اردو شاعری کی آبرو اور بہت اہم صنف سخن قرار دیا گیا ہے۔ آبرو سے مراد یہ کہ اردو شاعری کا ذکر آتے ہی ذہن غزل کی کی جانب چلا جاتا ہے۔ صنف سخن اس لیے قرار دیا گیا ہے کہ یہ مختلف نشیب وفراز کے باوجود آج بھی اسی آب و تاب کے ساتھ رواں دواں ہے۔غزل کا خاص وصف ایجاز و اختصار ہے۔ غزل عربی زبان کا لفظ ہے۔ عام طور پر غزل سے مراد عورتوں سے باتیں کرنا یا عورتوں کی باتیں کرنا ہے۔ گویا غزل میں حسن و عشق کا ذکر ہوتا ہے ۔۔ دوسرے الفاظ میں غزل میں صنف نازک یا محبوب سے اپنے جذبات عشق و محبت کا اظہار، اس کے حسن و جمال کی تعریف، رفتار و گفتار کا انداز ، آرائش وزیبائش کی دلکشی یا فراق و وصال کی باتیں کی جاتی ہیں لیکن صدیوں تک ارتقائی منزلیں طے کرنے کے بعد آج جب ہم غزل کے موضوعات اور مضامین کا جائزہ لیتے ہیں تو تدریجی طور پر غزل کا دائرہ کار وسیع سے وسیع تر ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ آج کے زمانے میں غزل صرف محبوب سے گفتگو کرنے کا نام نہیں۔ بلکہ اس میں فلسفہ و تصوف، اخلاق و حکمت اور عشق و محبت کے علاوہ بے شمار موضاعات اور مضامین کو اپنے دامن میں سمو لینے کی گنجائش موجود ہے۔ علمائے ادب نے غزل کی دو وجہ تسمیہ قرار دی ہیں ۔ پہلی توجیہ شمس قیس رازی کے مطابق یہ ہے کہ ہرن کو غزال کہا جاتا ہے اور ہرن کی ایک مخصوص آواز کو غزل الکلب کہا جاتا ہے۔ یہ آواز ہرن اس وقت نکالتا ہے جب وہ شکاری کتوں سے گھر جانے کے سبب سہما ہوا ہوتا ہے ۔ ایسی حالت میں اس کے حلق سے غز غزہ کی درد بھری آواز نکلتی ہے جسے سن کر شکاری کتے اضطراب کا شکار ہوتے ہیں اور ہرن کا تعاقب کرنا چھوڑ دیتے ہیں ۔ اس آواز میں بے بسی و مایوسی کے ساتھ ساتھ امید کی بھی کیفیت ہوتی ہے۔ لہذا اس تعریف کی رو سے غزل میں نہ صرف حسن وعشق کے جذبات کی ترجمانی ہوتی ہے بلکہ اس میں انسانی زندگی کی کشمکش ، کاوش اور امید و بیم کی حالت کا بھی تذکرہ ہوتا ہے۔ دوسری وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ قصیدہ کی تشبیب جسے نسیب بھی کہا جاتا ہے، اس میں اگر محبوب کا سرا پا بیان کیا جائے تو اسے غزل کہتے ہیں ۔ قصیدہ جب عربی زبان سے سفر کرتا ہوا فارسی میں پہنچا تو فارسی گو شعرا نے تشبیب انسیب کے حصہ کو قصیدہ سے الگ کر کے ایک نئی صنف بنادی۔ اسی لیے غزل کے متعلق کہا جاتا ہے کہ غزل قصیدہ کے بطن سے پیدا ہوئی ہے۔ غزل خالص ہیئتی صنف ہے ۔ حالانکہ عام طور پر اسے حسن و عشق کی کیفیات اور جذبات کے اظہار کا موثر وسیلہ قرار دیا جاتا رہا ہے، لیکن اس نے ان تمام حدود کو عبور کر کے عہد جدید میں بھی اپنی پہچان قائم کی ہے ۔ بہیت کے اعتبار سے غزل کے پہلے شعر کو مطلع کہتے ہیں جس کے دونوں مصرعے ہم ردیف اور ہم قافیہ ہوتے ہیں ۔ مطلع کے بعد آنے شعر کے بھی دونو مصرعے ہم ردیف اور ہم قافیہ ہوں تو اسے مطلع ثانی کہا جاتا ہے۔ مطلع کے بعد آنے والا شعر جس کا دوسرا مصرع ہم ردیف اور ہم قافیہ ہوا سے حسن مطلع کہتے ہیں ۔ غزل کا آخری شعر جس میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے اسے مقطع کہتے ہیں ۔ ہم وزن الفاظ کو قافیہ کہتے ہیں پہلے شعر یعنی مطلع کے دونو مصرعوں میں اور باقی تمام اشعار کے ہر دوسرے مصرعے میں ان کی پابندی کی جاتی ہے۔ قافیہ کے بعد آنے والے لفظ کو ردیف کہتے ہیں جو پہلے شعر کے دونوں مصرعوں میں اور باقی اشعار کے ہر دوسرے مصرعے میں قافیہ کے بعد مکرر آتا ہے ۔ غزل میں کم سے کم پانچ اور زیادہ سے زیادہ اکیس اشعار ہوتے ہیں لیکن اس کی پابندی کم کی جاتی ہے۔ میؔر کی مندرجہ ذیل غزلدرجہ بالا بحث کی صراحت کردے گی:
ہستی اپنی حباب کی سی ہے نمائش سراب کی سی ہے
نازکی
اس کے
لب کہ کیا کہیے پنکھڑی
اک گلاب کی سی ہے
بار بار اس
کے در پہ جاتا ہوں حالت
اس اضطراب کی سی ہے
میں جو بولا
، کہا
کہ یہ آواز اسی خانہ خراب
کی سی ہے
میر ان
نیم باز
آنکھوں میں ساری
مستی شراب کی ہی ہے
اس غزل کا پہلا شعر مطلع ہے جس میں 'حباب،سریب،گلاب، قافیہ ہیں اور،
کی سی ہے ،ردیف ہےاور آخری شعر مقطع ہے جس میں میرؔ تخلص استعمال ہوا ہے۔بھی قابل
ذکر ہے کہ شعر میں قافیے کا ہونا تو لازمی ہے لیکن ردیف کا ہونا ضروری نہیں ۔ یعنی
قافیہ کے بغیر شعر نہیں ہوسکتا مگر ردیف کے بغیر شعر ہوسکتا ہے۔ چنانچہ ایسی غزل
جس میں ردیف نہیں ہوتی اسے غیر مردف کہا جاتا ہے۔
مطلع: غزل کا پہلا شعر مطلع کہلاتا ہے۔مطلع یعنی طلوع ہونے یا نکلنے کی جگہ کی ہیں خیال رہے کہ مطلع کے لیے یہ شعط بھی لازمی ہے کہ اس کے دونوں مصروں میں قافیہ ہو مثلامیرؔ کی غزل کا یہ شعر :
؎ ہستی
اپنی حباب
کی سی ہے نمائش
سراب کی سی ہے
کیوں کہ اس شعر کے دونوں
مصرعوں میں "حباب "اور "سراب "قافیہ ہیں اور اسی طرح ردیف "کی
سی ہے" ہے جو تمام اشعار کے قافیوں سے منسلک ہے غزل کی ابتدا مطلعے سے ہوتی
ہے اور بعد کے تمام اشعار کی صورت مطلعے کی نہیں ہوتی یعنی باقی تمام اشعار کے صرف دوسرے مصرعوں (مصرعہ ثانی) میں
قافیہ وردیف کی پابندی ہوتی ہے۔ لیکن اسا تذہ نے بعض اوقات غزل میں ایک سے زیادہ
مطلعے بھی کہے ہیں ۔ اس سے ان کا مقصد اپنے شاعرانہ کمال اور فنی مہارت کا اظہار
کرنا ہوتا تھا۔ چنانچہ غزل میں دو مطالعوں کی مثال تو اکثر نظر آ جاتی ہے، اور
کبھی کبھی تین تین اور چار چار مطاعوں کے ساتھ بھی غزلیں کہی گئی ہیں ۔ اگر ایک
غزل میں ایک سے زیادہ مطلع استعمال ہوتے ہیں تو انھیں مطلع ثانی ، مطلع ثالث وغیرہ
کہا جات ہے۔
مقطع :غزل کا آخری شعر جس
میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے، مقطع کہلاتا ہے۔ چوں کہ مقطع کے معنی انتہا
یا خاتمے کی جگہ کے ہیں،اسی لیے غزل کے آخری شعر کو مقطع کہا جاتا ہے۔ یعنی اس شعر
سے غزل کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے۔ مثال دیکھیں :
؎ مؔیر ان
نیم باز
آنکھوں میں ساری
مستی شراب کی ہی ہے
قطعہ:
غزل کا ہر شعر معنی کے لحاظ سے مکمل ہوتا ہے اور کسی دوسرے شعر سے مربوط نہیں
ہوتا۔ لیکن قدیم شعرا نے غزل میں بعض اوقات کسی بات کو ایک سے زیادہ اشعار میں
مسلسل بیان کیا ہے۔ اس طرح یہ اشعار معنی و مفہوم کے اعتبار سے باہم مربوط ہوتے
ہیں ۔ ان مربوط اشعار کو قطعہ کہا جاتا ہے۔ قطعہ میں کم سے کم دو اشعار کا
ہونالازمی ہے، اور زیادہ سے زیادہ تعداد کی قید نہیں ۔ غزل میں قطعہ کی شرط یہ بھی
ہے کہ یہ مطلع سے شروع نہیں ہوتا۔ چنانچہ اکثر قطعات غزل کے بیچ میں یا مقطع سے
پہلے رکھے گئے ہیں۔ کبھی کبھی منقطع کو قطعہ کے آخری شعر کے طور پر لایا گیا ہے۔
؎ کل پاؤں ایک
کاسئہ سر پر جو آگیا یکسروہ
استخوان شکستوں سے چور تھا
؎ کہنے لگا کہ دیکھ کے چل راہ بے خبر میں بھی کبہو کسو کا سر پر غرور
تھا
غزل
کی فنی خصوصیات
چوں
کہ غزل میں کسی بات یا خیال کا بیان ایک شعر میں مکمل کرنے کی شرط ہوتی ہے، اور
ایک شعر یعنی محض دو مصرعوں میں چند ہی الفاظ لائے جا سکتے ہیں، اس لیے لامحالہ
بات کو اشاروں میں کہنا ضروری ہوتا ہے۔ اس بات کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ غزل کے
شعر میں بات کو کھول کر اور طوالت کے ساتھ بیان کرنے کی گنجائش نہیں ہوتی ۔ اسی
لیے غزل کی سب سے بنیادی صنفی خصوصیت اس کا رمز یہ اور اشاراتی طرز بیان
سمجھا جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ہے کہ جب بات کو اشاروں میں کہا جاتا ہے تو اس
میں معنی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اگر کسی بات کو
واضح انداز میں براہ راست بیان کیا جائے تو اس کے معنی عام طور سے مکمل اور محدود
ہوتے ہیں، لیکن بات کو اگر نا مکمل چھوڑ دیا جائے اور صرف اشاروں میں کہا جائے تو
اس صورت میں ایک ہی بات کے ایک سے زیادہ معنی نکلنے کے امکان رہتے ہیں۔ یہ بات اس
حقیقت کی روشنی میں اور بھی اہم ہو جاتی ہے کہ شاعری نثر کے مقابلے میں کم سے کم زیادہ معنی نکلنے کے
امکان رہتے ہیں۔ یہ بات اس حقیقت کی روشنی میں اور بھی اہم ہو جاتی ہے کہ شاعری
نثر کے مقابلے میں کم سے کم الفاظ کا تقاضا کرتی ہے۔ اس طرح شاعری اپنی فطرت کے
لحاظ سے کم الفاظ میں زیادہ سے زیادہ معنی کی حامل ہوتی ہے۔ غزل میں اشاریت کی صفت
کا ایک نتیجہ یہ بھی ہے کہ اس میں براہِ راست بیان کی جگہ عام طور سے بالواسطہ
بیان کو اختیار کیا جاتا ہے ۔ اس سے شعر میں وہ کیفیت پیدا ہوتی ہے جو ہمارے فکر و
احساس کو تاثیر سے مملو اور تازگی کی حامل صورت حال سے ہم کنار کرتی ہے۔
کلاسیکی غزل کی ایک امتیازی صفت یہ ہے کہ اس میں کسی مخصوص واقعے یا کسی خاص صورت حال کا بیان نہیں ہوتا۔ اس میں عام طور سے کسی بات کو اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ وہ بات کسی عام کیفیت یا کسی عمومی انسانی تجربے کا اظہار بن جاتی ہے۔ یہی سبب ہے که مختلف موقعوں پر اور الگ الگ صورت حال میں غزل کے اشعار ہمارے فکر و احساس کی نہایت مکمل اور با معنی ترجمانی کرتے ہیں ۔ غزل کی ایک صنفی خصوصیت اس کا ایجاز و اختصار بھی ہے۔ یہاں ایجاز سے مراد یہ ہے کہ غزل کے شعر میں بڑی سے بڑی بات اور نہایت وسیع خیال کو چند لفظوں میں پوری معنویت اور تاثیر کے ساتھ بیان کیا جا سکتا ہے۔ چوں کہ غزل بنیادی طور پر عشقیہ شاعری ہے، اس لیے عشق سے متعلق خیالات و افکار کو بھی غزل کی صنفی خصوصیت میں شامل سمجھا جاتا ہے۔
غزل
کے موضوعات:
غزل
کے موضوعات کا دائرہ بہت وسیع ہے ۔ اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں که غزل بنیادی
طور پر عشقیہ شاعری ہے، اس لیے غزل کا سب سے حاوی موضوع تو عشق ہی ہے، جس کا ثبوت
یہ ہے کہ فارسی اور اردو میں کئی سو سال کے عرصے میں کہی ہوئی غزلوں پر نظر ڈالی جائے
تو ان میں سب سے زیادہ تعداد ان اشعار کی ملے گی جب کا تعلق حسن و عشق سے متعلق
باتوں سے ہے۔ لیکن اس کے ساتھ غزل کی صنف کی یہ بھی ایک خصوصیت ہے کہ اس میں حیات
و کائنات کے تعلق سے بے شمار ایسی باتوں کا بیان کیا جاتا رہا ہے جن کا کوئی تعلق
عشق و محبت سے نہیں ہے۔ ان موضوعات میں اخلاقیات ،حکمت و فلسفہ، دنیا کی بے ثباتی
، زندگی و موت کی حقیقت، انسانی زندگی کے مختلف النوع پہلو وغیرہ سب کچھ داخل ہیں۔ان
موضوعات کے تحت انسان اور کائنات سے متعلق بے شمار پہلو ہیں جن کا رشتہ انسانی زندگی،
فلفہ و حکمت، تہذیب و ثقافت، پند و نصائح اور فکر و خیال کے بہت سے تصورات سے ہے۔ مثلاً
دنیا کی بے ثباتی اور زندگی کی نا پائیداری کے موضوع پر غزل میں بہت سے اشعار کہے گئے
ہیں۔ اسی طرح رندی اور سرمستی کے مضامین بھی یہاں وافر تعداد میں نظر آتے ہیں، لیکن
خیال رہے کہ یہ مضامین زیادہ تر عشقیہ موضوع کے دائرے میں رکھ کر بیان ہوئے ہیں۔ اب
غزل کے دیگر نمایاں موضوعات کی کچھ مثالیں اس طرح ہیں۔
دنیا
کی بے ثباتی: دنیا کے فانی ہونے کا تصور
مشرق و مغرب کی بہت سی تہذیبوں میں زمانہ قدیم سے موجود ہے۔ مشرقی تہذیب میں اس تصور
کا انعکاس مذہب اور ادب کے مختلف شعبوں میں نہایت واضح صورت میں نظر آتا ہے۔ چنانچہ
مشرقی شاعری بالخصوص غزل کی روایت پر جب ہم نظر ڈالتےتو اس میں ایسے بے شمار اشعار
نظر آتے ہیں جن میں دنیا کو فانی اور بے ثبات کہا گیا ہے۔ اس تصور کے تحت ہمارے یہاں
یہ خیال بھی بہت عام رہا ہے کہ جب دنیا کو ثبات نہیں تو اس سے دل لگا نا عبث ہے۔ یہ
تصور غزل میں اس تواتر کے ساتھ پیش کیا گیا ہے کہ اسے ایک نمایاں موضوع کی حیثیت حاصل
ہوگئی ہے۔ خیال رہے کہ دنیا کے فانی اور بے ثبات ہونے کے تصور میں یہ پہلو بھی شامل
ہے کہ دنیاعیش و آرام کی جگہ نہیں، بلکہ یہ ایسا ویرانہ ہے جو آبادنما ہے اور جس کی
رونق اور چہل پہل محض دھوکا ہے۔ اس لیے یہاں قیام کرنا مصائب و آلام کا موجب ہے۔ اس
کے ساتھ یہ خیال بھی ہماری تہذیب میں مدتوں سے مستحکم چلا آرہا ہے کہ دینا کسی کے ساتھ
اچھا سلوک نہیں کرتی ۔ اس لیے ہمیں دنیا کی چاہت سے کنارہ کش رہتا چاہئے۔
زندگی
کی نا پائیداری: انسانی زندگی کا نا پائیدار
ہونا دنیا کی بہت بڑی حقیقت ہے۔ اس حقیقت کو بھی ہمارے تہذیبی تصورات میں خاص اہمیت
حاصل ہے۔ زندگی کی نا پائیداری کا اظہار غزل میں شعرا نے مختلف پہلوؤں کے ساتھ کیا
ہے۔ چنانچہ بھی زندگی کو چند روزہ کہا گیا اور بھی زندگی کو بایت عارضی کہہ کر اس کی
بے ثباتی کو ظاہر کیا گیا ہے۔ اس طرح یہ موضوع بھی غزل کے نمایاں موضوعات میں داخل
سمجھا جاتا ہے۔ چند اشعار دیکھیے :
؎ ہستی اپنی حباب
کی سی ہے یہ نمائش
سراب کی سی ہے
؎ فرصت زندگی سے
مت پوچھو سانس بھی ہم نہ
لینے پائے تھے
پند
و نصائح: فارسی اور اردو غزل کی روایت
میں اخلاقی امور کو موضوع بنا کر بڑی تعداد میں اشعار کہے گئے ہیں۔ چنانچہ بد نصیحت
کے مضامین کو بھی نزل میں نمایاں اور مستقل موضوع کی حیثیت حاصل ہے۔ ان اخلاقی مضامین
میں زیادہ تر جو باتیں بیان ہوئی ہیں، ان میں ضرور واخوت کی برائی کو اکثر موضوع بنایا
گیا ہے۔ اس کے علاوہ انسانی ہمدردی اور بھلائی وغیرہ سے متعلق اشعار بھی نزل میں خاصی
تعداد میں ملتے ہیں۔
فلسفہ و حکمت:چونکہ
شاعری کے بنیادی عناصر میں تخیل کا بڑا دخل ہے، اس لیے شعرا نے زندگی اور دنیا کے بارے
میں بہت سے حقائق کو حکیمانہ رنگ میں بیان کیا ہے۔ غزل میں ایسے اشعار کی تعداد بھی
خاصی ہے اور ان میں بسا اوقات ایسے گہرے نکات پیدا کیے گئے ہیں جن سے فکر و شعور کی
بہت سی راہیں کھلتی ہیں۔ اردو کے بیشتر اعلی درجے کے غزل گویوں کے یہاں فلسفیانہ اور
حکیمانہ خیالات پر منی اشعار مو ما دیکھے جاسکتے ہیں۔ کچھ مثالیں
ملاحظہ ہوں:
؎ بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آسان ہونا آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
آتش
؎ ہوس کو ہے نشاط کار کیا کیا نہ ہو مرنا تو جینے کا
مزہ کیا غالب
عشق کے علاوہ دیگر موضوعات
میں اوپر جن کا ذکر ہوا، انھیں غزل میں عام طور سے دیکھا جا سکتا ہے ۔ ان موضوعات پر
منی اشعار سے اساتذہ کا کلام یکسر خالی نہیں ۔ غزل میں شعرا نے بعض اوقات اپنی شعر
گوئی کی خوبی اور اپنی تعریف کے مضامین بھی بیان کیے ہیں ۔
اُردو
غزل کا عہد
بہ عہد ارتقاء
غزل
عربی لفظ ہے لیکن شاعری کی یہ صنف اہل عرب کی پیداوار نہیں بلکہ ایران میں اس کا
جنم ہوا۔ چونکہ عرب کا مزاج شرح و تفصیل کا قائل تھا ہر بات پھیلا کر پیش کی جاتی
تھی لہذا وہاں قصیدہ، مرثیہ یار جزیہ قلعات مقبول تھے۔ جب کہ ایران کا مزاج اختصار
پسند تھا۔ اس لئے جب ایران مسلم عرب کے زیر اقتدار آیا تو ایرانی شعرا نے عرب کی
عشقیہ شاعری سے جملہ اصناف روایات اور اسالیب تو قبول کر لئے لیکن تفصیل کے بجائے
اختصار کو اپنا یا ۔ اسی طرح عربی قصیدے سے فارسی غزل وجود میں آئی۔ اور اس بات پر
سب کو اتفاق ہے کہ غزل قصیدہ کی تشیب سے برآمد ہوئی ہے۔ تشبیب کا مطلب ہے معشوق کا
حال جانا اور اس کے عشق میں اپنا حال بیان کرنا۔ غزل اور قصیدہ کی تقریب میں چند
باتیں مشترک ہیں۔ دونوں کے موضوعات بالعموم ایک جیسے ہوتے ہیں۔ دونوں ہی میں عشق و
محبت کی واردات کو مرکزی حیثیت دی جاتی ہے ۔ دونوں ہی کی بیت ایک سی ہیں یعنی مطلع
اور قافیہ وردیف کی پابندی یکساں ہے ۔ لیکن دونوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ غزل کا
ہر شعر مستفی ہوتا ہے جب کہ تقریب کے تمام اشعار ہا ہم مربوط و مسلسل ہوتے ہیں۔ اس
طرح اردو شاعری کی یہ صنف ہمیں ایرانی شاعری سے ورثے میں ملی ہے۔ فارسی اور اردو
غزل کے موضوعات کا ماخذ در اصل وہ تخیل ، طرز فکر واحساس اور شعری اسلوب تھا جو
اسلام سے پہلے اور اسلام کے وجود میں آنے کے بعد عربی زبان کے قصیدے کا طرۂ امتیاز
تھا۔ خلافتِ را
شده کے زمانے
میں مسلمانفاتحین کے
ساتھ عربی زبان کے قصیدے ایران پہنچے اور پھر ایران
کی فارسی شاعری مسلمانوں کے ساتھ ہندوستان پہنچی۔ تاریخی نقطہ نظر سے امیر
خسر واردو کے پہلے غزل گو شاعر مانے جاتے ہیں اور اُن کی غزل:
؎ ز حال مسکین مکن تغافل ورائے نیناں بنائے بتیاں
نہ تاب
ہجراں ندارم اے جاں نہ لیہو کا ہے لگائے چھتیاں
کو پہلی غزل ( اس پوری
غزل کا پہلا مصرع فارسی میں اور دوسرا خالص ہندوی برج بھاشا کا ہے )۔امیر خسرو سے
تین سو سال بعد تک غزل کے جو نمونے ہمیں ملتے ہیں ان میں فارسی اور پراکرت کی
آمیزش ہے۔ بابر کے زمانے میں فارسی کے مشہور شاعر شیخ جمالی کنبوہ نے فارسی کے
ساتھ ساتھ ریختہ میں بھی شاعری کی ۔ لیکن اس کی زبان فارسی آمیز ہے ۔ اکبر کے
زمانے میں بہرام سقہ بخاری نے بھی ریختہ کہی ۔ جہانگیر کے زمانے تک فارسی کے ساتھ
ساتھ اردو بھی شاعری کی زبان بن چکی تھی۔ اس دور میں افضل پانی پتی فارسی اور اردو
کے بڑے شاعر تھے ۔ شاہجہاں کے زمانے تک اردو نے خاصی اہمیت حاصل کر لی تھی اور
آہستہ آہستہ فارسی کی جگہ لے رہی تھی اس دور میں بھی کچھ غزلیں ماتی ہیں ۔ اس عہد
میں منشی ولی رام اور چندر بھان کا نام بھی آتا ہے۔ جنہوں نے غزلیں کہیں۔ ان دونوں
شعراء کی غزلوں کے مطالعہ سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اردو غزل نے زبان و بیاں میں
اپنا راستہ تلاش کر لیا تھا۔ اور نگ زیب کے زمانے میں بھی شاعری کا یہی رنگ تھا۔
اور نگ زیب کے زمانے میں شیخ ناصر علی سرہندی، فارسی اور اردو کے مشہور شاعر تھے
ان کی غزلوں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اس زمانے تک شعراء نے اردو غزل کہنے کا
طریقہ جان لیا تھا۔
اردو
غزل کا باقاعدہ آغاز دکن سے شروع ہوتا ہے۔ اور اس کا سلسلہ ولؔی اور اس کے معاصرین
تک جاملتا ہے۔ قلی قطب شاہ کواردو کا پہلا صاحب دیوان شاعر مانا جاتا ہے اسکی
شاعری اردو غزل میں ہندوستانی روایت کا نقطۂ آغاز ہے۔اس کے یہاں اردو غزل کے جو
نمونے ملتے ہیں وہ اس بات کا پتہ دیتے ہیں کہ سلطنت خوشحال دور سے گزر رہی تھی اور
بادشاہ عیش وعشرت میں مشغول رہا کرتا تھا۔ اس کی زبان ساده اور اس نے اپنی غزلوں عشقیہ مضامین باندھے ہیں لیکن
ساتھ ہی ساتھ غزل کے نئے موضوعات بھی ملتے ہیں۔ مثال کے طور پر :
؎ پیا باج پیالہ پیا جائے نا پیا باج یک تل جیا
جائے نا
اس دور میں شعر و ادب کی
خوب ترقی ہوئی۔ دکنی دور میں اردو غزل پر فارسی کے اثرات نمایاں تھے جس میں تقلید
اور کا چلن عام تھا، فارسی شاعری کی تقلید کی جارہی تھی۔ لیکن اس بات سے انکار
نہیں کیا جا سکتا کہ دکنی شعراء نے چونکہ فارسی کے اثرات بڑی حد تک قبول کر لیے
تھے ۔اس لئے فارسی و ہندی کے امتزاج سے اردو غزل کی نشونما میں نا قابل فراموش
کردار ادا کیا لیکن انہوں نے فارسی کی پیروی کم نہیں اور فارسی کے اشعاروں اور
تشبوں سے کام لینے کے بجائے نئے اشعار وضع کئے ۔ دکنی شعراء نے غزل کے علاوہ تصوف
اور اخلاق کے مضامین بھی باندھے۔ انہوں نے استعارہ، کنایہ اور تشبیہ کے علاوہ ضائع
، بدائع سے بھی کام لیا۔ لہذا اس دور میں غزل کا تدریجی ارتقاء شروع ہو چکا تھا۔
فیروز بیدری، محموؔد، ملا خیاؔلی ، غواصؔی، این نشاطؔی ، نصرتؔی وغیرہ دکنی دور کے
مشہور شعراء ہیں لیکن ولؔی دکنی اور سراجؔ اورنگ آبادی دو ایسے شاعر ہیں جنہوں نے
اردو غزل کو اس مقام پر پہنچا دیا جس کے افق پر شمال اور دکن ایک ہوتے نظر آتے ہیں
انہوں نے اردو غزل کو ایک نئی پہچان ، نیا انداز، نئی ترکیبیں، نئی تشبیہیں اور
نئے موضوعات بخشے ۔ یہ اردو غزل کا بالکل نیا انداز تھا جہاں حسن و عشق کے ساتھ
ساتھ زندگی کے تجربات بھی شامل تھے۔
؎ مت آئینے کو دکھلا اپنا
جمال روشن تجھ
مکھ کی تاب دیکھے آئینہ آب ہوگا
؎ مفلسی سب بہار کھوتی ہے مرد کا اعتبار
کھوتی ہے
ان اشعار میں زندگی کے
سوتے پھوٹ رہے ہیں سیدھے سادے لفظوں میں زندگی کی حقیقت دل پر اثر چھوڑ جاتی ہے
اور ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ اور پھر ولی کے سفر د ہلی نے غزل کا رُخ شمالی
ہند کی طرف موڑ دیا۔ ولی کے دیوان نے شمالی ادب پر خاصہ اثر ڈالا ۔ اہل شمال نے
ولی کی تقلید شروع کر دی ۔ اور ریختہ کہنے لگے لیکن فارسی غزل کی پیروی سے خود کو
علیحدہ نہیں کیا بلکہ اس کی استعارہ اور تشبیہیں اردو غزل میں منتقل کیں اس طرح اردو غزل میں
ہندوستانی تہذیب کے ساتھ فارسی غزل کا وصف شامل ہو گیا۔ لیکن اردو غزل میں ایک دور
ایسا بھی آیا جہاں غزل میں ابتذال آیا یہ وہ دور تھا جب دلی لٹ چکی تھی اور لکھنو
عروس البلاد بنا ہوا تھا۔ دولت کی ریل پیل تھی۔ لہذا شعراء نے دہلی کی روایت پر
لکھنو کی نئی ابھرتی ہوئی تہذیب کو فوقیت دی اور وہ طرز اختیار کیا جو معاشرے کے
لئے ناقابل قبول تھا۔ یہاں اردو شاعری کا آغاز ایہام گوئی سے ہوا اور یہاں اس کا
ایسا چلن ہوا کہ اس کے سامنے تمام رنگ سخن پھیکے پڑگئے ۔ یہ دور ایسا دور تھا۔
جہاں سماجی اور سیاسی دونوں سطحوں پر تہذیب مٹ رہی تھی ۔ نہ تو جغرافیائی حدود کے
کچھ معنی تھے اور نہ ہی سلطنت کی تنظیم نو کی فکر ۔ جس میں معنویت کی جگہ سطحیت ،
بناوٹ اور ظاہر پرستی نے لے لی تھی ۔ غزل میں داخلیت کی جگہ واقعہ نگاری اور
معاملہ بندی کے مضامین پیش کئے جا رہے تھے ۔ ہر طرف حسن پرستی ، عشق بازی ، امرد
پرستی اور حقیقت سے آنکھیں چرا کر مسائل سے دور رہنے کا دور تھا ۔ غزل
میں خارجیت کا رنگ چڑھ گیا تھا عشق کے حقیقی جذبات اور کیفیات کی ترجمانی ہو گئی
تھی اور اس کی جگہ کھل کر معاملات عشق بیان کئے جانے لگے تھے یہاں غزل میں داخل
جذبات و کیفیات کے اظہار کے بجائے محاورہ بندی اور زبان وفن پر قدرت جتانے کے لئے
سخن آزمائی کی جانے لگی ۔ اس دور کے دو اہم شاعر شاہ حاتؔم اور شاہ مبارک علی آبؔرو
ہیں۔ اس دور کے دوسرے شعراء جنہوں نے اسی انداز کی شاعری کی ان میں جراؔت ، انشؔاء
نگیؔن شامل ہیں۔
1739ء
میں نادرشاہ کے حملے اور قتل عام نے دلی کا شیرازہ بکھیر دیا۔ لوگوں نے قنوطیت کی
راہ اپنالی اور خود بادشاہ وقت محمد شاہ نے گوشہ نشینی اختیار کر لی۔ ایسے ماحول
میں ایہام گوئی بے وقت کی راگنی بن گئی اس کا زور نہ صرف ٹوٹ چکا تھا بلکہ اس کی
جگہ ایک نئی تحریک نئی روایت کی تشکیل کے لئے پر تول رہی تھی۔ نئے ماحول اور نئے
مزاج کو ایک نئے رنگ سخن کی ضرورت تھی لہذا ایہام گوئی کی جگہ حقیقت پسندی نے لے
لی اور اس دور کا اہم شاعر مرزا مظہر جان جاناں ہے ۔ جنہوں
نے اردو غزل میں اصلاح کی کوشش کی اور فارسی بند شوں سے
اردو غزل کو نکھارا یہاں تک آتے آتے اردو غزل بہت صاف اور نکھری ہو ئی نظر آتی ہے۔ مثال کے طور
پر:
؎ خدا کے واسطے اس
کو نہ ٹوکو یہی
ایک شہر میں قاتل رہا ہے
؎ یہ حسرت رہ گئی کیا کیا مزوں سے زندگی کرتے
اگر ہوتا چمن اپنا
، گل اپنا ، باغباں اپنا (مظہر جان جاناں )
لیکن بعد کے شعراء میں
شیخ غلام ہمدانی مصحفؔی، شیخ امام بخش ناسؔخ اور خواجہ حیدر علی آتشؔ ایسے شاعر
ہیں جنہوں نے غزل کو ابتذال سے نکالا۔ لیکن اس دور کی اصل شناخت شعرا کی اس تثلیث
سے ہوتی ہے جس کی تشکیل میں سودا اور درد سے وجود میں آتی ہے اور اردو غزل وہ درجہ
اختیار کر لیتی ہے جسے رشک فارسی کہنا چاہیے۔
میؔر
اس دور کے سب سے بڑے غزل گو کے روپ میں ابھرے انہوں نے بڑا کام یہ کیا کہ اپنی
شاعری کی بنیاد عام بول چال کی بنیاد پر رکھی اور غزل کی روایت کے تمام
تقاضے پورے کیے :
؎ دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے یہ نگر
سو مرتبہ لو ٹا گیا
سودا نے اپنی شاعری میں
فارسی روایات کو سمو یا جوانڈ وایرانی سنگم سے ایک نئی زبان ابھر کر ابھری۔ سودا
کی غزلوں کی خوبی یہ بھی ہے کہ انہوں نے غزل میں نئی نئی ترکیبیں ایجاد کیں۔
؎ گل پھینکے ہیں غیروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
اے
خانہ برانداز چمن کچھ
تو
ادھر بھی
یہ اردو غزل کا زریں دور
تھا جس میں اردو شاعری بام عروج تک پہنچی۔ اس کے بعد اردو شاعری کا دور آتا ہے ۔
جہاں مغل حکومت کا زوال مکمل ہور ہا تھا۔ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر برائے نام
بادشاہ تھے۔ سب کچھ ایک نئی قوم کے ہاتھوں میں جا چکا تھا۔ لیکن اس دور میں اردو
غزل اپنی پوری آب و تاب سے چمکی اور پورے ہندوستان میں دھوم مچا رہی تھی ۔ خود
بادشاہ بہادر شاہ ظفر شاعری کا دلدادہ تھا۔ اس دور کے تین اہم شاعر غالؔب، مؤمؔن
اور ذوؔق ہیں۔ ذوق غزلوں سے زیادہ قصیدے کے لئے مشہور ہیں۔ لیکن ان کی غزلیں بھی
اعلیٰ معیار کی ہیں اور انہوں نے اپنی غزلوں میں محاوروں کا پر جستہ استعمال کیا
ہے:
؎ اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مرجائیں گے
مر کے بھی چین نہ
پایا
تو کدھر جائیں گے (ذوق)
دوسرے شاعر مومؔن ہیں جن
کی غزلیں حسن و عشق تک محدود ہیں لیکن مومن کی غزلوں میں عشق کا پراناطر نہیں بلکہ
تازگی اور نیا انداز ہے۔ ان کے عشقیہ اشعار لوگوں کے دلوں کی دھڑکن تیز کر دیتے
ہیں۔ ایمائیت اُن کی غزلوں کا خاص وصف تھا۔
؎ تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے ور نہ دنیا میں
کیا نہیں ہوتا
لیکن اس دور کا سب سے اہم
شاعر جس کے بغیر غزل کی تاریخ ادھوری رہے گی وہ غالؔب ہے۔ جس کے انوکھے انداز بیان
نے اردو غزل کو ایک نئی راہ دکھائی۔ وہ کہتے ہیں۔
؎ ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے
کہتے
ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیان اور
ان کی سب سے زیادہ تعریف
بھی کی گئی اور سب سے زیادہ تنقید بھی کی گئی ۔ غالؔب نے زندگی کے ہر پہلوکوغزل
میں جگہ دی۔ زندگی کی چھوٹی سی چھوٹی باتوں کو بھی اس طرح بیان کیا کہ ان باتوں سے
کوئی نظریں نہیں چرا سکتا۔ انہوں نے حیات و کائنات کے مسائل کو فکری گہرائیوں کے
ساتھ پیش کیا یہی وجہ ہے کہ انہیں اپنے عہد کا جدید شاعر مانا جاتا ہے۔ غالؔب کی
غزلوں میں وسعت اور گہرائی ملتی ہے ۔ مثال کے طور پران اشعار کو دیکھئے:
؎ نہ سنو گر برا کہے کوئی
نہ کہو گر برا کے کوئی
؎ روک لوگر خطا کرے کوئی
بخش دو گر خطا کرے کوئی (غالب)
اس دور میں غزل میں جو
اہم بات نظر آتی ہے وہ ہے حالات سے ٹکرانے کا حوصلہ۔ کیوں کہ اس دور میں غزل نے
1857ء کا وہ طوفان دیکھا تھا جس کی زد میں پورا ہندوستان آ گیا تھا۔ لیکن اس دور
میں بھی غالب پہلا شاعر تھا جس نے اس تخریب میں تعمیر کا پہلود یکھا اور اسے اردو
غزل میں جگہ دی۔
عہد
غالب کے بعد اردوغزل میں ایک ٹہراؤ سا آگیا تھا اور یہ زوال پذیر ہونے لگی تھی
لیکن بیسویں صدی میں داؔغ ،حسرؔت، اصغؔر، فاؔنی جگرؔ ، حالیؔ ، شؔاد، یگانہ اور
اقباؔل نے اس میں ایک نئی روح پھونکی۔ حالیؔ سے اردو غزل میں ایک نیا دور شروع
ہوتا ہے۔ جب انہوں نے اپنی کتاب " مقدمہ شعر و شاعری “ لکھی اور غزل کی اصلاح
کا بیڑا اٹھایا۔ یہ ایک تحریک تھی جس کے ذریعہ حالیؔ نے غزل کے مزاج کو بدلنے کی
کوشش کی اور غزل میں اخلاق اور سیاسی نظریات بھی شامل کیے گئے۔
بیسویں
صدی میں غزل جن جدتوں سے آشنا ہوئی۔ اس میں قومی تحریک کے ساتھ ساتھ پہلی جنگ عظیم
نے بھی اس کے مزاج کو بدلنے میں اہم رول ادا کیا۔ یہ صدی پچھلی صدی کے متقابلے میں
زیادہ پیچیدہ تھی کیوں کہ مغربی تعلیم ، سائنسی ایجادات اور صنعتی انقلاب نے لوگوں
کے نظریات میں تبدیلی پیدا کی ۔ اب غزل میں حسن و عشق
کے ساتھ ساتھ قومی ہلکی ،تہذیبی اور اخلاقی موضوعات بھی شامل کیے گئے ۔ ان میں حسرؔت
، فاؔنی ،شاؔد، یگاؔنہ ، اصغؔر اور جگرؔ جدید غزل کے پیش رومانے گئے ۔ انہو نے غزل
کو نئے علائم ورموز سے آگاہ کیا اور ایک نے غنائی آہنگ سے روشناس کیا لیکن غزل کی
روایت سے انحراف نہیں بلکہ قدیم اور جدید کے باہمی اشتراک سے اردو غزل گذرتی رہی۔
یہ دور حیات و کائنات کی نئی تنقید کا دور تھا۔ جہاں نئی نفسیات نئے اشارات ، نئے
احساسات ، نئے اسلوب، نئے مضامین اور نئی طرز فکر جنم لے رہی تھی۔ انفرادیت اجتماعیت
کی جگہ لے رہی تھی۔
؎ ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی
اک طرفہ تماشہ
سے حسرت کی طبیعت بھی
؎ نہیں آتی یا دان کی مہینوں تک نہیں آتی
مگر جب یاد آتے
ہیں تو اکثر یاد آتے ہیں
اسی زمانے میں غزل میں
ایک منفرد آواز ابھری یہ اقبال کی آواز تھی اس طرح حالی نے غزل کے افق کو کشادہ
کرنے کی کوشش کی اور اقبال نے اسے پائیہ تکمیل تک پہنچایا۔ اقبال کی غزلوں کو
دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ اقبال کی نگاہیں کچھ تلاش کر رہی ہیں وہ غزل کے موجودہ
رنگ سے خوش نہیں ہیں، انہیں کسی اور دنیا کی تلاش ہے۔ اقبال نے اپنی غزلوں کے ذریعہ
ایک پیغام دیا اور انسانی طاقت و عظمت کا احساس دلایا ہے۔ اقبال نے غزل کو نئے
اسلوب بھی لفظیات ، نئے موضوعات دیئے اور اپنے فلسفیانہ افکار کو اظہار کا ذریعہ بنایا۔
؎ تیرے عشق کی انتہا چاہتا ہوں میری سادگی دیکھ کیا چاہتا
ہوں
؎ کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں
کہ
ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں میری جبین نیاز میں
؎ خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
حسرؔت، فاؔنی اور اقباؔل
کے بعد غزل ایک نئی دنیا سے آشنا ہوئی۔ جس میں رومانی لہجے نے ایک نیا لباس تن
کیا۔ موضوعات اور اسالیب بیان میں بھی بدلاؤ آیا یا اردو غزل میں ایک نیا موڑ تھا
جس کا سلسلہ آنے والے دنوں میں ترقی پسند تحریک سے جڑ گیا۔ فراق کی غزلیہ شاعری
جوان نسل کے دلوں کی دھڑکن بن گئی اور اس طرح اثر انداز ہوئی کہ اردو غزل کا مزاج
ہی بدل گیا۔فراق کے بعد غزل نے اپنا رنگ بدلا اور بیسویں صدی کی تیسری اور چوتھی
دہائی میں ترقی پسند تحریک ابھر کر سامنے آئی۔
ترقی
پسند شعراء کے سامنے غزل کی ایک طویل روایت تھی ۔ شروع میں ان شعرا نے اسی کلاسیکی
روایات کو اپنا یا لیکن جب ترقی پسند تحریک سے جڑے تو ان کی آواز میں بھی احتجاجی
لئے، باغیانہ لہجہ، سرکشی اور بلند آہنگی آگئی مقصدیت اور انقلابی تحریک کے زیر
اثر کبھی کبھی براہ راست اور سپاٹ قسم کے شعر کہنے لگے چونکہ یہ اندازہ غزل کے
مزاج کے خلاف تھا اس لیے اس پر اعتراضات ہونے لگے تو زیادہ تر لوگ غزل کہنا چھوڑ
کر نظم کی طرف توجہ دینے لگے لیکن جو ثابت قدم تھے وہ غزل سے جڑے رہے اور کلاسیکیت
کے ساتھ ساتھ مقصدی شاعری بھی کی ان میں پہلا نام مجرؔوح کا آتا ہے ۔ اور پھر فیؔض
کا ۔ مجروؔح کہتے ہیں :
؎ مجھے سہل ہو گئیں منزلیں وہ ہوا کے رخ بھی بدل گئے
تیرا ہاتھ ہاتھ میں آ
گیا کہ چراغ راہ میں جل گئے
اور فیض کہتے ہیں:
؎ ہم پر
ورش لوح
و قلم کرتے رہیں گے جو
ہم پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے
اہم ترقی پسند شعراء میں
فیض احمد فیؔض ،معین احسن جذؔبی ، غلام ربانی تابؔاں ، اسرار الحق مجاؔز ، ساحر لدھیانوؔی، سردار جعفرؔی، احمد ندیمؔ قاسمی، مجروؔح سلطان
پوری، مخدؔوم محی الدین، جان نثار اختؔر اور کیفی اعظمی کے نام لیئے جاتے ہیں ۔
ترقی پسند شعراء نے غزل کے مروجہ موضوعات میں سیاسی خیالات اور انقلاب کی جذبات کے
اظہار کے لئے ایک نئی زبان تخلیق کی انہوں نے ساتھ قدیم علامات اور استعارات کو
نئے مفاہم دیئے اور نیا لب ولہجہ عطا کیا۔
؎ نہ جانے کس
لئے
امیدوار بیٹھا ہوں اک
ایسی راہ پر جو تیری رہ گذر ہی نہیں
؎ تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں کسی بہانے تمہیں یاد کر نے لگتے ہیں
ملک
کی تقسیم کے بعد اردو غزل میں خیالات بدل گئے ۔ جس مقصد کے تحت ترقی پسند تحریک نے
جنم لیا تھا آزادی اور پھر اس کے بعد فسادات نے مقصد کی جگہ حقیقت پسندی کا رخ
اپنایا۔ اس دور کی غزل میں تفکر کا عصر نمایاں ہے اور رومان کی جگہ حقیقت نے لے لی
۔ آزادی کے بعد ترقی پسندوں کے دو گروہ بن گئے ایک وہ جو ترقی پسندی کا اب بھی
حامی تھا اور دوسرا وہ جس نے یہ مجھ لیا کہ اب ترقی پسند تحریک کا مقصد پورا ہو
گیا اور اب یہ دم تو ڑ رہی ہے اس دوران ادیبوں اور شاعروں کا ایک اور طبقہ وجود
میں آیا جو حلقہ ارباب ذوق کہلایا جنہوں نے ترقی پسندوں پر چوٹیں کیں۔ حلق ندار
باب ذوق کے شعراء نے حیات انسانی کے داخل مسائل اور نفسیاتی کیفیات کے اظہار اور
دلی جذبات کو تصویر کشی تک محمد و در کھاحلفیہ اور باب ذوق کا نمائندہ شاعر میراجی
اور ن۔ م۔ راشد ہے۔
؎ نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستہ بھول گیا کیا
ہے تیرا ، کیا ہے میرا اپنا پر ایا بھول گیا
گزشتہ
کئی سالوں سے ہمارا سماج بہت سی تبد بلیوں سے گزرا ہے اور یہ تبدیلیاں سماجی اور
سیاسی دونوں سطحوں پر ہو ئیں ۔ آزادی کے بعد وہ سیاسی مسائل باقی نہیں رہے جو اس
دور میں اردو غزل کا اہم موضوع بن چکے تھے لہذا اجتماعیت انفرادیت میں بدلنے لگی ۔
نئے لوگوں نے غزل کا مزاج اور اس کا منتظر نامہ بدل کر رکھ دیا۔ انہوں نے عصری
آگہی پر زور دیا۔ اب غزل فرو کی ذات کو مرکزی محور مان کر معاشرے سے اس کے رابطے
اور رشتے کا تعین کر رہی ہے۔ جہاں فرد کی ذات، اس کا کرب اور اُس کرب کا احساس ہی
اس کی بنیاد ہے۔ اب غزل کی زبان بدل گئی نئے استعارے اور علائم وضع کیئے گئے جدید
غزل گو شعراء نے دور حاضر میں معاشرتی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ عشق کی بدلتی ہو ئی
گو نا گوں کیفیات اور واردات کو حقیقت نگاری کا روپ دیا ۔ ناصر کاظمی جدید اردو
غزل کا اہم نام ہے۔ جنہوں نے جدید غزل کو ایک نئی سمت عطا کی۔ انہوں نے غزل میں
جذبہ عشق کے اظہار کے بجائے عشق کی مختلف کیفیات کی پیکر تراشی پر توجہ صرف کی اور
اپنی عہد کے سیاسی و سماجی حالات کے اثرات کو غزل کے داخلی رنگ میں پیش کیا ۔دور جدید میں سیاسی و
سماجی مسائل کی جگہ عصر حاضر کے انسان کے موجودہ مسائل نے لے لی ہے اور اظہار کے
نت نئے اسالیب سے فول کی صنف نہ صر روشناس ہوئی بلکہ موضوعات میں بی وسعت ہوئی۔
جدید غزل نےاستعاروں کوئی جہتوں اورعلامتوں کو ہے اظہار کی نئی بصیرت پیش کرتے
ہیں۔ اور آج بھی اردو غزل مقبولیت کے اس مقام پر ہے جہاں مختلف زبانوں پر میں اس
پر طبع آزمائی کی جارہی ہے۔
میرتقی میؔر
کی غزل گوئی:
میر
تقی میؔر 28 مئی 1722 کو اکبر آباد یعنی آگرہ میں ایک صوفی گھرانے میں پیدا ہوئے ۔
آپ کے اجداد حجاز سے ہندوستان آبسے تھے۔ میر کے والد میر محمد علی صاحب کرامت صوفی
درویش تھے اور اپنی انہیں خصوصیات کی بنا پر متقی میاں کے نام سے مشہور تھے۔ میر
کی ابتدائی تعلیم و تربیت والد اور ان کے مرید خاص امان اللہ نے فرمائی۔ میرا بھی
محض گیارہ برس کے ہی تھے کہ والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ چھوٹے بھائی اور بہن کی کفالت کا بوجھ اور فکر معاش اور در بدری میر کا مقدر بن گئی۔
سوتیلے بھائی محمد حسن نے میر کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔ چنانچہ اپنا اور اپنے
چھوٹے بھائی اور بہن کا پیٹ پالنے کے لئے 1734 میں میر نے دہلی کی راہ لی۔ تھوڑی
تگ و دو کے بعد والد کے ارادت مند صمصام الدولہ نے ان کے لئے ایک روپیہ یومیہ
وظیفہ مقرر کر دیا۔ 1739 میں صمصام الدولہ
کا انتقال ہو گیا اور میر کا یہ وظیفہ بھی بند ہو گیا۔ چنانچہ میر کو پھر آگرہ
لوٹنا پڑا جہاں غم دوراں کے ساتھ ساتھ وہ غم جاناں سے بھی روبرو ہوئے۔ کہتے ہیں کہ
یہاں میرکسی سے دل لگا بیٹھے تھے جواہل خاندان کوناگوارگزرا۔ میر کی مثنوی خواب و
خیال اس عشق کی روداد ہے۔ عشق و عاشقی میں حالات بگڑتے چلے گئے اور چار و ناچار
میر تقی میر نے پھر دہلی کی راہ لی اور اپنے سوتیلے ماموں خان آرزو کے مہمان ہوئے۔
کچھ وقت ٹھیک ٹھاک گزرا لیکن سوتیلے بھائی کی لگائی بجھائی نے خان آرزو کو بھی میر
تقی میرؔ سے بددل کر دیا اور میر سے یہ آسرا اور صحبت فیض بھی چھن گئی۔ میر کے لیے
یہ دوسرا بڑا جھٹکا تھا۔ وہ اپنا ذہنی توازن بھی کھو بیٹھے۔ ہوش وحواس درست ہونے
کے بعد میر تقی میر نے زندگی کا اپن سفر پھر شروع کیا۔ اپنی معاشی ضرورتوں کے لئے
پہلے رعایت خان کی مصاحبت اور پھر جاوید خاں خواجہ سرا کی سرکار میں ملازمت اختیار
کی ۔ لیکن جاوید خاں کے قتل کے بعد میر پھر بیکار ہو گئے۔ اس دوران باری باری
انہوں نے کئی امرا کے یہاں ملازمت کی لیکن خود داری اور نازک مزاجی نے انھیں کہیں
جمنے نہیں دیا۔ احمد شاہ ابدالی کے حملے سے دہلی اجڑی تو میر نے دہلی چھوڑ دی اور
قرب وجوار کے مختلف علاقوں میں گزر بسر کرتے رہے ۔ آخر کار 1781 میں بڑی امیدوں سے
انہوں نے لکھنو کی راہ لی۔
اپنی فکری اور فی
نیرنگیوں کے سبب جلد ہی میر تقی میر لکھنو کے ادبی افق پر چھا گئے ۔ شاہی سرپرستی
بھی حاصل ہوگئی ۔ نواب آصف الدولہ نے بہت عزت و احترام کے ساتھ دربار اودھ سے
وابستہ کر لیا تنخواہ تین سو روپے ماہانا مقرر ہوئی۔ دہلی میں میر کو ملنے والا سب
سے زیادہ مشاہرہ 22 روپے ماہوار رہا تھا۔ نواب کی قدردانی کے سبب میر تقی میر شان
سے زندگی بسر کرنے لگے لیکن پھر نہ جانے کس کی نظر لگ گئی۔ میر کی زندگی کے آخری
چند برس پریشان حالی میں گزرے۔رفتہ رفتہ بیماریوں نے بھی گھیر لیا اور 22 ستمبر
1810 کو اردو کے اس البیلے شاعر نے ہمیشہ کے لئے آنکھیں موند لیں لکھنو میں ہی
سپردخاک بھی ہوئے۔ ارد و شعر وسخن میں میر
تقی میر کا مرتبہ سب سے بڑا اور بلند ہے ۔ وہ خدائے سخن بھی مانے جاتے ہیں اور
شہنشاہ غزل بھی۔ اپنے فکر و خیال تخلیقی قوت اور منفر در رنگ سخن سے میر نے اردو شاعری
بالخصوص غزل کا دامن فکر وفن کے ایسے زندہ اور بچے موتیوں سے بھر دیا جو صدیوں سے
اردو کا اعتبار اورسرمایہ افتخار ہیں۔ میر
نے یوں تو مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی ہے لیکن غزل آپ کا بنیادی شناخت نامہ ہے۔
غزلوں میں آپ کے فکر وفن اور رنگ سخن کی انفرادی نیرنگیاں یہاں پوری طرح نکھر کر
سامنے آئی ہیں۔ یہ احساس و جذبات کا ایسا رواں دواں دریا ہے جس میں ہر در اہر معنی
و مطالب کا ایک جہان پوشیدہ ہے۔ غزل کی روایت پر میر کے اثرات بے شمار ہیں۔ انہوں
اردو غزل کو اپنی دھرتی اپنا آکاش دیا۔ فکر و خیال کی نئی روشنائی ، تازہ شعور،
وسیع دستور اور منفرد لب ولہجہ دیا۔
فکر
و خیال کی ندرتیں اور وسعتیں ، جذبوں کے بچے کھرے رنگ، دلکش شعری پیکر اور حسن
بیان میر کی غزلوں کا طرہ امتیاز ہیں ۔ اظہار کی برجستگی اور پر کاری نے ان کی
دلکشی اور تاثیر دو بالا کر دی ہے۔ ان کے اشعار میں فکر و خیال کی گہرائی اور
گیرائی ہی نہیں ایک نشتریت اور کاٹ بھی ہے جو سیدھے دل میں اتر جاتی ہے۔ صدیاں بیت
گئی ہیں لیکن میر کی غزلوں میں فکر وفن کا یہ جادو آج بھی سر چڑھ کر بول رہا ہے۔
ان کے مضامین و مطالب خوب ہیں اور رنگ سخن خوب تر ۔ میر احساس اور جذبوں کے شاعر
ہیں۔ میر لفظ و معنی کے بے مثال جادوگر ہیں ۔لفظوں کو اس سلیقے سے چنتے اور برہتے
ہیں کہ وہ خیال پیکر میں ڈھلتے چلے جائیں۔ مضامین اور لفظیات میں فنکارانہ ہم
آہنگی اور صوتی آہنگ نے میر کی غزلوں میں ایک ترنم ایک نغمگی پیدا کر دی ہے۔ میر
کی غزلوں میں یوں تو بہت تنوع اور رنگارنگی ہے لیکن ان کی بنیاد مشق اور غم پر کی
ہوئی ہے۔ غزلوں کا خیر بھی یہیں سے اٹھتا ہے۔ میر کا تصور عشق بہت وسیع اور ہمہ
گیر ہے۔ اس میں ذات بھی ہے اور کائنات بھی۔ یہ زندگی کا ثبوت بھی ہے اور تقاضا بھی
۔ زندگی کے تمام حرکت و عمل اور آداب اس سے ہی وابستہ ہیں۔ چاہت، امید لگن اور
حوصلہ یا جنون سب اسی در کا فیض ہیں۔ یہ زندگی کی جدو جہد کے لئے آمادہ بھی کرتا
ہے اور رہبری بھی۔
میر
تقی میر کا تخلیقی جہاں حقیقتوں کا بولتا ہوا آئینہ ہے۔ اس میں زندگی کے مختلف رنگ
بھی ہیں اور عہد کی دھڑکنیں بھی ۔ چونکہ میر کی زندگی اور ان کا عہد بار بار اور
لگا تار مصائب سے جو جھتا رہا ہے۔ زندگی کو انہوں نے بہت قریب سے دیکھا۔ ہر رنگ
اور پہلو سے دوچار ہوئے۔ بچپن میں یقیمی ہمشکل میں آنکھ چرانے یا آنکھ دکھانے والے
رشتے ، دل اور دلی کی تباہی غرض غم جاناں سے غم دوراں تک، میر کی زندگی در دو آلام
کا شکار رہی۔ زندگی کی مجبوریوں محرومیوں اور ناکامیوں نے میر کے فکر و احساس کو
دردوغم کی ایک لامتناہی اور چٹیل وادی میں لا چھوڑا تھا۔ دل اور امید شکن تجربات و
مشاہدات کے سبب حسرت، یاس اور غمنا کی ان کے شعور ہی نہیں لاشعور میں بھی ڈھل گئی۔
میر کی غزلوں کا خمیر ان کے دردانگیز تجربات و مشاہدات کی نم مٹی ہی سے اٹھتا ہے
تخلیقی وجدان نے یہیں نمو پایا۔ طائر فکر و خیال نے یہیں سے اڑان بھری۔ ان کی
افتاد طبع اور شعری لہجہ یہیں پروان چڑھا۔ یہی وجہ ہے کہ میر کی بیشتر غزلوں پر
دردوغم کا دبیز سایہ منڈلاتا نظر آتا ہے۔ عشق
کی طرح ہی میر کا تصور غم سپاٹ اور ا کہر انہیں۔ درد و غم ابتداہی سے شعر وسخن میں
ڈھلتے رہے ہیں لیکن میر نے اسے نئی وسعتیں اور تہداری بخشی ہے۔ کہیں کہیں یہ
احتجاجی تیور بھی لئے ہوئے ہے۔ یہ رنج والم انفرادی بھی ہے اور اجتماعی بھی ۔ شعری
قالب میں ڈھل کر یہ دردو غم سوز و گداز کی فضا تیار کر دیتا ہے۔ چنانچہ میر تقی
میر کے ہر شعر میں ایک بلا کی تڑپ اور کسک سراٹھاتی ہے:
؎ اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا لہو آتاہے جب نہیں آتا
اپنا دردو غم تو سب بیان
کرتے ہیں لیکن آپ بیتی کو جگ بیتی کا رنگ دے دینے کا ہنر میر تقی میر کا امتیازی
بلکہ انفرادی شعری کارنامہ ہے۔ انہوں نے غم ذات کو غم کا ئنات کا رنگ و آہنگ دے کر
آفاقی اور ہمہ گیر حیثیت بخش دی ہے۔ قاری یا سامع فطری طور پر ان کے احساس و
تجربات سے ہم رشتہ ہو جاتا ہے۔ اسے یہ اپنے دل کی بات لگتی ہے۔ ان میں خیال کی
نیرنگیاں ہیں تو فکر معنی کی وسعتیں بھی۔ دل کا درد ہی نہیں جذبوں کی آنچ بھی۔ بلا
کا سوز و گداز ، کسک اور خودسوزی کی کیفیت جو قاری کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔عصری
آگہی میر تقی میر کی غزلوں کا بڑا اور امتیازی وصف ہے۔ وقت کی بے ہنگم چاپ، سماج
کی دھڑکنیں اور سرگوشیاں انہیں بار بار چونکاتی ہیں۔ یہ باخبری میر کے اشعار میں
بھی جھلکتی ہے۔ ان میں دہلی کی سیاسی و سماجی زندگی کے عکس ہی نہیں دلی کا دل بھی
دھڑکتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ آب حیات میں مولانامحمد حسین آزاد نے یوں ہی نہیں لکھا
کہ" اگر کوئی ولی کی تاریخ پڑھنا چاہے تو وہ دیوان میر پڑھ لئے“۔ تاریخ گواہ
ہے۔
کہ میر تقی میر کا زمانہ
سیاسی زوال ، اقتصادی، بدحالی ، معاشرتی افراتفری اور اخلاقی انحطاط کا زمانہ تھا۔
یہ صورتیں میر کے اشعار میں بھی جابجاسر
اٹھاتی ہیں کہیں براہ
راست اور کہیں بالواسطہ درد و غم کے اس ہجوم میں بھی زندگی کی للک بیچائے اور
جگائے رکھنا بھی میر تقی میر کا فکری او تخلیقی کارنامہ ہے۔ ان کا غم یاسیت نہیں
حوصلہ اور امید جگاتا ہے۔ زندگی کے مسائل اور مصائب کو میر یوں بیان کرتے ہیں کہ
سننے اور پڑھنے والے کو ان مسائل سے لڑنے اور جو جھنے کا حوصلہ ملے ۔ میر کی غزلوں
میں زندگی کا بے پناہ ولولہ جلوہ گر ہے۔ زندگی کے تمام تر جذبے یہاں پورے رنگ،
ڈھنگ اور گہما گہمی کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ انسان دوستی اور ہمدردی کا جذ بہ بھی
یہیں نمو پاتا ہے۔
زبان و بیان کے تعلق سے
بھی میر تقی میر اپنی مثال آپ ہی ہیں۔ دل میں اتر جانے والا انتہائی صاف ، شستہ
اور عام فہم بیانیہ دراصل گفتگو عوام سے مقصود تھی اس لئے میر نے شعر گوئی کے لیے
روز مرہ یعنی عام بول چال کی زبان اپنائی لیکن اس سلیقے سے کہ ادبی وقار اور معیار
پر کہیں کوئی حرف نہ آئے۔ غیر مانوس اور مشکل تراکیب سے بھی وہ پر ہیز کرتے ہوئے
نظر آتے ہیں۔ میر تقی میر کے اس رنگ سخن نے سہل ممتنع کے زندہ اور بولتے ہوئے
مرقعے تراشے ہیں۔ یہاں سادگی تو ہے مگر پر کاری اور معنی خیزی کے ساتھ ۔ بول چال
کی زبان میں میر بہت گہری باتیں کرتے ہیں جو دل سے دل میں اترتی جاتی ہیں بلکہ بچ
تو یہ ہے کہ اپنے مخصوص فنکارانہ برتا ؤ اور منفرد حسن بن سے میر تقی میر نے ان
عوامی لفظیات اور لب و لہجے کو ادبی شناخت اور وقار بخش دیا ہے۔ میر کے یہاں صنائع
و بدائع بھی عوامی لب و لہجے ہی سے مستعار ہیں۔ لفظ ولہجہ کے فنکارانہ برتاؤ نے
ایک خاص ترنم اور نفسگی بھی پیدا کر دی ہے جو سونے پر سہاگے کا کام کرتی ہے:
؎ کھلنا کم کم کلی نے سیکھا ہے اس کی آنکھوں کی نیم
خوابی
؎ پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے
باغ تو سارا جانے ہے
اردو غزل کی طویل اور
مالدار روایت میں میر تقی میر سب سے بڑے شاعر ہیں۔ ہم عصر ہی نہیں بعد کے بھی تمام
شعرا نے بھی شعر وسخن
میں میر کی عظمت اور فکری
وفنی ندرتوں اور امتیاز کا دل کھول کر اعتراف کیا ہے مجموعی طور پر کہا جاسکتا ہے
کہ میر تقی میر اردو زبان وادب کا نمائندہ چہرہ اور ان کا کلام شعر دفن کا سرمایہ
افتخار ہیں۔
مرزا اسد اللہ خان غالؔب کی غزل گوئی:
جس
زمانے میں مغلیہ سن کا چراغ ٹمٹما رہا تھا اورمشرقی تہذیب کا آفتاب غروب ہونے کو
تھا اس وقت شعر و ادب کی دنیا میں چند
ایسی شمعیں روشن ہوئیں جنھوں نے آنکھوں کو خیرہ کر دیا ۔ مرزا اسد اللہ خان غالب
اس عہد کے سب سے نامور شاعر ہیں ۔ ان کے دم سے اردو شاعری کی دنیا میں ایک انقلاب
پیدا ہو گیا۔ بقول پروفیسر آل احمد سرور
" غالب سے پہلے اردو شاعری دل والوں کی دنیا تھی ، غالب نے اسے ذہن دیا"
انھوں نے غزل میں نئے موضوعات اور نئے مضامین داخل کرکے اس کا دامن وسیع کر دیا
۔اردو ادب میں غالب کو بہت بلند رتبہ حاصل ہے ۔ وہ ہماری زبان کے بہت بڑے نثر نگار
بھی ہیں اور بہت بڑے شاعر بھی ۔ یہ بات
بھی ذہن میں رکھنے کی ہے کہ پہلے وہ اسد تخلص کرتے تھے ۔اس تخلص ترک
کو کر کے غالب تخلص اختیار کیا ۔ غالب کا نام اسد اللہ خاں اور عرقیت مزا
نوشہ تھی مغل بادشاہ کی طرف سے نجم الدولہ
دبیر الملک اور نظام جنگ کے خطابات عطا ہوئے تھے ۔۱۷۹۶ء میں آگرے میں مرزا
کی ولادت ہوئی ۔ ان کا سلسلۂ نسب افراسیاب بادشاہ توران تک پہنچتا ہے ۔ ان کے
داداشاہ عالم کے زمانے میں ایران سے دہلی
پہنچے۔ یہاں انھیں اعزاز و اکرام سے نوازا گیا اور پہاسو کا علاقہ بطور جاگیر عطا
ہوا جو آگے چل کر ہاتھ سے نکل گیا۔ ان کے والد عبد اللہ بیگ ملازمت کے سلسلے میں
مختلف مقامات پر رہے ۔ آخرکار راجہ بختاور سنگھ کے ملازم ہوئے ۔ ۱۸۰۱ء میں کسی
لڑائی میں مارے گئے اور چچا نے پرورش کی ذمہ داری قبول کی ۔ یہ اکبر آباد کے
صوبیدار تھے ۔ مرزا صرف نو برس کے تھے کہ چا کا انتقال
ہوگیا۔ سرکار انگریزی کی طرف سے مرحوم کے وارثوں کی پنیشن مقرر ہوگئی جس میں
سے سات سو روپے سالانہ مزا کو بھی ملتا
تھا۔ کچھ دوں بہادرشاہ کے کلام پر کبھی اصلاح دی پچاس روپے ماہانہ یہاں سے بھی
مقرر تھا ۔ ۱۸۵۷ء کا ہنگامہ ہوا تو انگریزی سلطنت نے مرزا کو باغیوں سے کا میں
شمار کر کے پنشن بند کر دی میغل سلطنت کا تو خاتمہ ہو ہی چکا تھا۔ مرزا کی گز شکل
ہوگئی ۔ ہو ۔ سو روپے مہینہ نواب رامپور کی سرکار رامپور کی سرکار سے ملتا
تھا۔ بڑی دوڑ دھوپ کے بعد غالب اپنی بے گناہی ثابت کرنے میں کا میاب ہوئے اور انگریزی سرکارے
پنیشن بحال ہوگئی ۔ غالب کو اپنے حسب نسب اپنے
شاعرانہ رتبہ دونوں پر ناز تھا۔ وہ شاہانہ زندگی گزارنے کے خواہش مند تھے مگر یہ
آرزو پوری نہ ہوئی۔ ۱۸۶۹ء میں وفات پائی۔ اس وقت بہتر برس کے تھے ۔
غالب نے شعر کہنا تو اسی وقت شروع کر دیا تھا جب
، و وہ آگرے میں تھے لیکن اس وقت تک ان کی
شاعری میں فارسیت کا غ کا غلبہ تھا ۔ دہلی آنے پر بھی بھی وہی انداز رہا۔ لوگوں کو
غالب کی اس روش پر بہت شکایت تھی ۔ آخر
کار خود غالب کو اس کا احساس ہوا اور انھوں نے اپنا سخن رنگ بدلنے کی کوشش کی کی۔ چنانچہ مشکل گوئی رفتہ
رفتہ ان کے کلام سے دور ہوتی گئی۔ یہاں تک کہ وہ سادہ وسہل زبان میں شعر کہنے لگے
۔ غالب کے شعر صرف اسی لیے مشکل نہیں ہوتے کہ ا ان میں فارسی الفاظ کی کثرت ہے بلکہ
اس کا ایک سبب اور بھی ہے۔ ان کا تخیل بہت بلند ہے ۔ خیال کی پرواز کبھی اتنی اوپر
ہو جاتی ہےکہ شعر پہیلی بن جاتا ہے اس لیے
بعض شعر تولوگوں کی سمجھ میں اس وقت آئے جب
شاعر نے خود ان کا مطلب بیان کیا ۔ تہہ داری بھی غالب کے کلام کی ایک اہم صفت ہے یعنی پہلی نظر میں شعر
کا ایک مفہوم سمجھ میں آتا ہے غور کیجیے تو اس کی تہہ سے دوسرے معنی نکلتے ہیں ۔ اس
تہہ داری نے بھی ان کے کلام کو مشکل بنایا دیا تین چیزی ہیں جن کے سبب غالب کا کلام
کبھی کبھی ہماری سمجھ سے بالاتر ہو جاتا ہے : (1) فارسیت کا غلبہ یعنی مشکل فارسی الفاظ
کا ستعمال (۲) تخیل
کی بلند پروازی اور (۳) تہہ
داری ۔
غالب
کی اس مشکل گوئی کی لوگوں کو شکایت ہوئی جب غالب کے شعروں کو مہل کہا گیا تو انھوں
نے جواب دیا ہے
؎ ستائش کی تمنا نہ سلہ کی پروا گر
نہیں ہیں مرے اشعارمیں معنی نہ سہی
لیکن یہ رد عمل وقتی تھا۔
وہ آہستہ آہستہ سہل گوئی کی طرف آئے یہاں تک کہ انھوں نے اپنے کلام کا ایک انتخاب تیار
کیا اور باقی کو منسوخ کر دیا لیکن یہ منسوخ کلام ضائع ہونے سے بچ گیا اور آج بھی موجود
ہے ۔ غالب کسی کے نقش قدم پر چلنا گوارا نہیں کرتے ۔ انھوں نے اپنا راستہ آپ نکالا
اور سب سے الگ نکالا۔ ایک فارسی شعر میں انھوں نے کہا ہے کہ دوسروں کے پیچھے چلنے سے
آدمی اپنی منزل کھو دیتا ہے ۔ اس لیے جس راستے سے کارواں گزرا ہے ۔ میں اس راستے پر
چلنا پسند نہیں کرتا۔ اپنا راستہ الگ نکالنے کی خواہش نے بھی غالب کے کلام کو پیچیدہ
بنایا۔شوخی و ظرافت بھی غالب کے کلام کی ایک اہم خصوصیت ہے ۔ وہ ایک ہنس مکھ انسان
تھے اور اپنی دلچسپ باتوں سے دوسروں کو بھی خوش رکھنا چاہتے تھے ۔ ان کی زندگی کے واقعات
کا مطالعہ کیجیے، ان کے خطوط پڑھیے یا ان کے دیوان کی ورق گردانی کیجیے، انکی پر لطف
باتیں ، ان کے دلچسپ لطیفے ، چٹکلے قدم قدم پر آپ کو اپنی طرف متوجہ کریں گے۔ وہ ہر
ایک سے چھیڑ چھاڑ کرتے نظر آتے ہیں ۔ نہ زاہد کو بخشتے ہیں، نہ جنت ، دوزخ اور فرشتوں
کو چھوڑتے ہیں ، نہ محبوب کو معاف کرتے ہیں ۔ حد یہ ہے کہ خود اپنا مذاق اڑانے سے نہیں
چور کہتے ۔
؎
جس میں لاکھوں برس کی حوریں ہوں
ایسی جنت کا کیا کرے کوئی
؎ وہ لحد پہ بوئے مے تھی کہ
نہ آسکے فرشتے میں عذاب
میں پھنسا تھا جو نہ بادہ خوار ہوتا
؎ آئینہ دیکھ اپنا سا منھ لے کے رہ گئے صاحب کو دل نہ دینے پہ
کتنا غرور تھا
غالب کے کلام کی ایک خصوصیت
یہ ہے کہ اس میں غور و فکر کا انداز پایا جاتا ہے۔جگہ جگہ احساس ہوتا ہے کہ وہ کچھ
سوچ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں جا بجا سوال ملتے ہیں ۔ وہ فلسفی نہیں مگر
ان کا انداز فلسفیا یہ ہے مفکر نہیں مگر نظر حکیمانہ ہے۔ اسی لیے پروفیسر آل احمد سرور
نے فرمایا ہے کہ غالب نے اردو شاعری کو ذہن دیا۔
؎ جب
کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود پھر
یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے؟
غالب اردو کے بہت بڑے شاعر
ہیں اور بلاشبہ وہ اپنے عہد کی آواز ہیں ۔ ان کے کلام کی مقبولیت کسی دور میں کم نہیں
ہوئی اور یقین ہے کہ ان کے پرستاروں کا دائرہ آئیندہ اور بڑھے گا۔
داغؔ
دہلوی
نواب مرزا خاں نام – داؔغ تخلص ۔ نواب شمس الدین
خان کے بیٹے تھے ۔ ۱۸۳۱ء میں دہلی میں پیداہ ہوئے مشکل سے سے سات برس کے تھے کہ داغ یتمی کو پایا۔
ماں نے بہادر شاہ کے بیٹے مرزا فخرو سے عقد ثانی کر لیا ۔ اس طرح انہیں ماں کے ساتھ
لال قلعے میں داخل ہونے کا موقع ملا مغل سلطنت کو مسلسل زوال ہورہا تھا اور یہ چراغ
بہت جلد ہمیشہ کے لیے گل ہو جانے کو تھا لیکن یہاں شاعری کی گرم بازاری تھی ۔ ذوقؔ
بادشاہ کے استاد تھے ۔ اکثر شہزادے انہی کو اپنا کلام دکھاتے تھے ۔ ذوقؔ کے کے رنگ میں ہی شعرکہنے اور ان کے ساتھ مشاعروں میں
جانے لگے ۔ اب وہ مرزا خاں نہیں ، نواب مرزا
خان داغ تھے جن کی شہرت پر لگا کے اڑنے لگی ۔
۱۸۵۶ء میں مرزا فخرو کا انتقال
ہو گیا۔ داغ کو اپنی ماں کے ساتھ لال قلعہ چھوڑنا پڑا ۔ اگلا سال یعنی ۱۸۵۷ء تو قیامت بن کر آیا۔ داغ
کو بے شمار پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ دہلی کے بیشتر شاعروں کی طرح معاش کی تلاش
میں انہیں بھی وطن چھوڑنا پڑا۔ آخر کا رام
پہنچے ۔ رام پور کے نواب خود شاعر تھے اور شاعروں کے قدردان ۔ یوسف علی خاں
نام تھا ر ناظم تخلص ۔ انھوں نے داغ کی پذیرائی کی۔ ولی عہد ریاست کلب علی خاں کا مصاحب
خاص مقرر کیا ۔ رام پور میں داغ کی بہت قدر و منزلت ہوئی ۔ یہاں انھوں نے اپنی زندگی
کے بیالیس برس نہایت خوش حالی اور عزت و احترام کے ساتھ بسر کیے ۔ اس کے بعد وہ حیدر
آباد چلے گئے۔ یہاں ان کی اور بھی زیادہ قدر ہوئی۔ محبوب علی خاں والی دکن کے استاد
مقرر ہوئے ۔ انھوں نے اصلاح سخن کا کام بڑے
پیمانے پر کیا۔ ملک کے گوشے گوشے سے شاعر سبیل ڈاک اپنا کلام اصلاح کے لیے بھیجتے تھے
جسے درست کرنے کے بعد واپس کر دیا جاتا تھا ۔ اپنی شاعری کے ابتدائی زمانے میں علامہ
اقبال بھی داغ سے اصلاح لیتے تھے ۔ گلزار داغ ، مہتاب داغ ، یادگار د اغ اور مثنوی
فریاد داغ وغیرہ ان سے یادگار ہیں ۔ بے شک صف اول کے اردو شاعروں میں داغ کا شمار نہیں
اور میر، غالب، اقبال کے ساتھ ان کا نام نہیں لیا جاسکتا لیکن وہ اردو کے بہت مقبول
اور بے حد مشہور شاعر ہوئے ہیں۔ فکرکی گہرائی تخیل کی بلندی اور جذبے کی شدت ان کے
یہاں ناپید ہے لیکن زبان و بیان کے معاملے میں ان کا نام ناقابل فراموش ہے ۔ زبان کا
چٹخارہ ان کے یہاں ایسا تھا کہ سننے والے داد دیتے ۔ بلکہ بہت سے لوگ تو آج بھی ان کے انداز بیان پر
فریفتہ ہیں ۔ محاورہ بندی میں آج تک کوئی ان کا ثانی پیدا نہیں ہوا۔ ۔ حسن و عشق کے کھلے ہوئے بے باکانہ معاملات، شوخی
اور چلبلا پن ، انداز بیان کا تیکھا ئیں ۔
ان کے کلام کی نما نمایاں خصوصیات ہیں ۔ ظاہر ہے اس انداز کی شاعری میں عریانی اور
عامیانہ پن سے دامن بچانا مشکل ہے ۔ یہ عیب اکثر جگہ نمایاں ہو جاتا ہے۔ درد و گداز
نہ ہونے کے برابر ہے تشبیہات و استعارات میں ندرت بھی نا پید ہے ۔ ان کے کلام میں جو
کچھ بھی ہے سامنے کی باتیں ہیں لیکن انداز بیان دل کو موہ لینے والا ضرور ہے ۔