10.Notes - (B.A)Third Year Sem-V(ML-Urdu(Optional) Paper -X)

 Swami Ramanand Teerth Marathwada University, Nanded.


سوامی رامانند تیر تھ مراٹھواڑہ یو نیور سٹی ، ناندیڑ۔


Faculty of Humanities

شعبہ انسانیات 

Effective from Academic year 2021-2022


B.A., Third Year, Semester- V

بی۔اے۔،سال سوّم(میقات پنجم)

Optinal Urdu X (Adabi Tanqeed)

اختیاری اُردو   ( ادبی تنقید)


ادب کیا ہے

ادب کو انگریزی میں لٹریچر کہتے ہیں لیکن لفظ ادب میں شرافت و اخلاق اور شائستگی کا مفہوم بھی شامل ہے جو انگریزی کے لفظ لٹریچر میں موجود نہیں ہے - یعنی عربی کے لفظ ادب کے لحاظ سے وہی ادب عظیم کہلایا جائے گا جس کا مضمون بھی مؤدب ہو اور پیرایہ اظہار بھی-ادب کی تعریف اسی طرح مشکل ہے جس طرح دوسرے فنون کی۔ خاص طور پر ایسی تعریف جس پر سب کو اتفاق ہو۔ بعض لوگ مثلاً میتھو آرنلڈ ہر اس علم کو جو کتاب کے ذریعہ ہم تک پہنچے ادب قرار دیتے ہیں۔ والٹر پے ٹر (Walter Pater) کا خیال ہے کہ ادب واقعات یا حقائق کو صرف پیش کردینے کا نام نہیں بلکہ ادب کہلانے کے لیے اظہار بیان کا تنوع ضروری ہے۔ ایک تعریف کے مطابق ادب میں الفاظ کی ترتیب افکار اور احساسات کا اظہار اس طرح کیا جاتا ہے کہ پڑھنے اور سننے والے میں مسرت کا احساس پیدا ہو۔ اس کے لئے تجربات کو ادب ایک بلند تر سطح پر پہنچا دیتا ہے۔

ادب ’زندگی‘ کے اظہار کا نام ہے۔ ادب چونکہ لفظوں کی ترتیب و تنظیم سے وجود میں آتا ہے اور ان لفظوں میں جذبہ و فکر بھی شامل ہوتے ہیں اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ لفظوں کے ذریعے جذبے، احساس یا فکر و خیال کے اظہار کو ادب کہتے ہیں۔ یہ ایک ایسی تعریف ہے جس میں کم و بیش ہر وہ بات جس سے کسی جذبے، احساس یا فکر کا اظہار ہوتا ہے اور جو منہ یا قلم سے نکلے، ادب کہلائے گی۔ لیکن میری طرح یہ آپ بھی جانتے ہیں کہ ہر وہ بات جو منہ سے نکلتی ہے یا ہر وہ بات جو قلم سے ادا ہوتی ہے، ادب نہیں ہے۔عام طور پر اخبار کے کالم یا اداریے ادب نہیں کہلاتے حالانکہ ان میں الفاظ بھی ہوتے ہیں اور اثر و تاثیر کی قوت بھی ہوتی ہے۔ ہم سب خط لکھتے ہیں لیکن ہمارے خطوط ادب کے ذیل میں نہیں آتے لیکن اس کے برخلاف غالب کے خطوط ادب کے ذیل میں آتے ہیں۔ غالب اور دوسرے خطوط کے فرق کو دیکھتے ہوئے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ایسی تحریر کو ادب کہا جا سکتا ہے جس میں الفاظ اس ترتیب و تنظیم سے استعمال کیے گئے ہوں کہ پڑھنے والا اس تحریر سے لطف اندوز ہو اور اس کے معنی سے مسرت حاصل کرے۔

یہ اسی وقت ممکن ہے جب لفظ و معنی اس طور پر گھل مل گئے ہوں کہ ان میں ’رس‘ پیدا ہو گیا ہو۔ یہی رس کسی تحریر کو ادب بناتا ہے۔ اس مسرت کا تعلق ہمارے باطن میں چھپے ہوئے اس احساس سے ہو گا جس کا ہمیں ادراک ہوا ہے۔ یہ وہ تحریر ہو گی جس نے ہمارے شعور اور ہمارے تجربوں کے خزانے میں اضافہ کیا ہے اور ان دیکھے تجربات سے اس طرح مانوس کر دیا ہے کہ وہ تجربے ہمارے اپنے تجربے بن گئے ہیں۔ یہ وہ تحریر ہو گی جس کا اثر وقتی اثر کا حامل نہیں ہو گا بلکہ اس میں ابدیت ہو گی اور جو زمان و مکان سے آزاد ہو کر آفاقیت کی حامل ہو گی۔ مکالمات افلاطون ہمیں آج بھی متاثر کرتے ہیں اور ہمارے تجربات و شعور میں، احساس مسرت کے ساتھ اضافہ کرتے ہیں۔ جس تحریر میں بیک وقت یہ سب خصوصیات موجود ہوں گی وہ تحریر ادب کہلائے گی اور جتنی زیادہ یہ خصوصیات ہوں گی وہ تحریر اسی اعتبار سے عظیم ادب کے ذیل میں آئے گی۔عام فہم انداز میں تو تمام انسانوں ہی کا مجموعہ سماج کہلاتا ہے لیکن اگر کوئی یہ سوال اٹھانا شروع کردے کہ انسان کیا ہے تو پھر انسان اور سماج دونوں کے وجود پر سوال اٹھنا شروع ہو جاتے ہیں اور دونوں ہی پیچیدہ تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ انسان صرف گوشت پوست کا لوتھڑا تو نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا صاحب شعور اور صاحب نطق جانور ہے جو صرف ایک وجود کا نام نہیں ہے بلکہ اس وجود کی بقا کے لئے درکار تمام مادی، جغرافیائی اور ماحولیاتی نظام کا نام بھی ہے۔اس تعریف کے مطابق کوئی انسان اس وقت تک مکمل انسان کہلا ہی نہیں سکتا جب تک اسے اپنی بقا کے لئے تمام تر ”معیاری“ اور ”مناسب ماحول“ حاصل نہیں ہو جاتا۔ ”معیاری“ اور ”مناسب ماحول“ کیا ہوتا ہے۔ کیونکہ فطرت نے ہمیں اپنے جینے کے لئے کوئی معیاری اور مناسب ماحول فراہم نہیں کیا، اس کے لئے انسان نے خود تگ و دو کی ہے۔ اس لئے یہ اضافی صفات بن گئی ہیں۔گروہ اور اجتماع اپنی سادہ شکل سے پیچیدہ شکل کی طرف سفر کرتے رہے ہیں اس لئے یہ ”مناسب“ اور ”معیاری“ تقابلی صفات بھی ہوتی گئیں۔ لوگوں کے تمام گروہ اور اجتماع کے ارتقائی مراحل سے گزرنے کے عمل کے دوران اور سماج کی موجودہ شکل تک سفر کے مراحل طے کرتے ہوئے یہ دونوں اصطلاحات اچھی خاصی ”سیاسی“ اصطلاحات بن گئیں۔

سماج کی تعریف صرف یہاں پر ختم نہیں ہوتی۔ جدید سماج نے انسان کی مادی اور شعوری ترقی کے درمیان ایک روزبروز پیچیدہ ہوتی صورتحال کو جنم دیا ہے جو قدیم سماجوں میں اتنی پیچیدہ نہیں تھیں۔ اس معیاری اور مناسب ماحول کے فرد کی انفرادی زندگی میں بھی کچھ معنی ہوتے ہیں اور پورے سماج کی اجتماعی زندگی میں بھی یہ ”معیاری“ اور ”مناسب“ اپنے معنی رکھتے ہیں۔پہلے بات جدید فرد کی تعریف سے شروع کرلیتے ہیں۔ دور جدید کا انسان ایک ایسا انسان ہے جو موجودہ دور کے تمام تر مناسب ماحول اور انسانی علم و آگہی اور سائنس نے اس میں جو بھی بہتری پیدا کی ہے، کو اپنا ماحول خیال کرتے ہوئے، اس کے لئے جدوجہد کرنے والا عامل ہے لیکن جب اسے ”مناسب“ اور ”معیاری“ ماحول حاصل نہیں ہوتا، تو وہ اپنے حالات، گردونواح اور ماحول کا جائزہ لیتا ہے اور اپنے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جو اس کے اس ماحول کے حصول کی راہ کی رکاوٹ بنتے ہیں۔

اپنے اس سوال کے جواب میں وہ سماج کے مختلف گروہوں، انفرادی سطح پر اس سمت میں کوشش کرنے والے افراد کی کوششوں اور حتیٰ کہ ریاستی ادارے کے کردار کا جائزہ لیتا ہے تو وہ پریشان ہوجاتا ہے اور اسے ہر کوئی اپنی راہ کی رکاوٹ لگتا ہے۔ اسے یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ یہ سارا ماحول انسان کا پیدا کردہ ہے لیکن اس میں اسے اپنے لئے کوئی گنجائش نظر نہیں آتی بلکہ اسے محسوس ہوتا ہے کہ انسانوں میں سے چند ایک ہی اس پر قابض ہیں اور صرف وہی ان آسائشوں کے حصول کو اپنا زیادہ حق سمجھتے ہیں اور وہ اس ماحول پر اس کے حق کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔جونہی یہ شعور اس کے اندر پیدا ہوتا ہے، تو اس وقت فرد ایک انسان نہیں رہتا بلکہ دو ہوجاتا ہے۔ یعنی ایک وہ فرد جو عام طور پر عملی زندگی میں اپنی مادی ضروریات اور ”مناسب اور معیاری ماحول“ کی تگ و دو میں پھر رہا ہوتا ہے اور دوسرا اس کے اندر کا تخیلاتی انسان ہوتا ہے جو اس کے اندر رہنے کے باوجود باہر آنے کی آزادیوں سے محروم ہوتا ہے۔ وہ آزاد ہونے کے باوجود ایک کرب اور بے بسی کا شکار رہتا ہے۔اس مرحلے پر انسان کی ایک سطح پر اپنے آپ سے بھی ایک کشمکش شروع ہوجاتی ہے تو دوسری سطح پر اپنے سماج، اپنی ریاست اور ریاستی مشینری کے ساتھ بھی ایک جنگ جاری رہتی ہے۔ یعنی باہر کا مادی انسان جو جتنا مادی ماحول اسے نصیب ہوتا ہے، اس میں زندگی بسر کرنے کے لئے بضد ہوتا ہے جبکہ اس کے اندر کا انسان وہی مناسب یا معیاری جو اس کے لئے ”مثالی“ ماحول ہوتا ہے کو تلاش کرنے یا پھر اس طرح کا کوئی اور نیا ماحول تراشنے کی تگ و دو میں رہتا ہے۔

اس طرح حقیقی مادی انسان اور اس کے اندر موجود رہنے والے تصوراتی اور تخیلاتی انسان کے درمیان مسلسل جنگ رہتی ہے۔ تصوراتی اشخاص کی مختلف اقسام ہو سکتی ہیں۔ ایک قسم تو سادہ لوگوں کی ہو سکتی ہے جو اپنے تصورات میں فرد، سماج، ریاست اور ریاستی مشینری کو جیسے ہے اور جہاں ہے کی بنیاد پر قبول کرلیتے ہیں اور صرف اپنی تمام تر صلاحیتوں کو اس میں ایڈجسٹ ہونے کے لئے صرف کرتے ہیں۔ عمومی طور پر افراد کا یہ گروہ مذل کلاس کے افراد پر مشتمل ہوتا ہے۔

دوسری قسم علمی اور فکری سطح پر کاوش کرنے والے لوگوں کی ہے۔ اگرچہ ان افراد کو بھی مختلف اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے لیکن یہاں ہم ایک محدود دائرے میں اپنی توجہ افراد کے جمع غفیر میں صرف خود شناسی اور خود آگہی کے متلاشی افراد پر مرکز کرتے ہیں۔ ایسے لوگ اس مرحلے پر خود شناسی کے عمل سے گزرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ انہیں یہ آگاہی حاصل ہونا شروع ہوجاتی ہے کہ انسان حقیقت میں کیا ہے اور کیا نہیں ہے۔ جہاں تک ”کیا ہے“ کا سوال ہے تو وہ اپنی سرشت میں ”کیا نہیں ہے“ سے بہت زیادہ محدود ہے۔


تنقید کی تعریف

اچھے بُرے میں فرق اور کھرے کھوٹے میں تمیز کرنے کی صلاحیت بچے سے لے کر بوڑھے یک ہر انسان میں کم ہو یا زیادہ مگر ہوتی ضرور ہے اور یہ نہ ہو تو جینا دشوار ہو جائے۔ زمین پر قدم رکھنے والا پہلا انسان بھی اس صلاحیت سے محروم نہ رہا ہو گا جبھی تو اس نے ترقی کی بے شمار والا منزلیں طے کر لیں ۔ جب اس نے زندگی کا سفر شروع کیا تو یہ حالت تھی کہ پیٹ بھرنے کا کوئی مناسب انتظام نہیں ، بدن لباس سے محروم ، موسم کی سختیوں اور وحشی جانوروں سے محفوظ رہنے کو جائے پناہ نہیں اور آج یہ عالم ہے کہ آرام و آسائیش کے سارے وسیلے میسر ہیں ۔ یہ سب اس سمجھ بوجھ کا کرشمہ ہے جس سے وہ برابر کام لیتا رہا۔ مثلاً پہلے اس نے اپنے جسم کو پتوں سے چھپایا ۔ پھر اس نتیجے پر پہنچا کہ کھال پتوں سے بہتر ہے تو پتوں کی جگہ کھاں نے لے لی ۔ پہلے اس نے پیڑوں پر پناہ لی پھر غاروں کو محفوظ تر پایا تو یہی اس کی پناہ گاہ ٹھہرے ۔ آگے چل کر اس نے حریر و کمخواب بُنا اور ایسی عمارتیں تعمیر کیں جنھیں آسمان جھک کر بوسہ دے۔ یہ سب اس کی سمجھ اور پر کھنے کی صلاحیت ہی کا انعام تھا ۔ یہ اس کی قوت فیصلہ ہی تو تھی کہ بیکار بنجروں سے وہ بے نیاز نہ گزر گیا اور زرخیز وادیوں کو اپنا مسکن بنالیا۔اس سمجھ ، پر کھ اور قوتِ فیصلہ کا ایک نام تنقیدی شعور بھی ہے ۔ انسانی زندگی کا کارواں اسی تنقیدی شعور کے سہارے آگے بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچا اور یہ سفر جاری ہے۔ اسی لیے ٹی ۔ ایس ۔ ایلیٹ نے زندگی کے۔ لیے تنقید کو اتنا ہی ضروری بتایا جتنی کہ سانس !

زندگی کے ہر شعبے کی طرح ادب کے لیے بھی تنقید اور تنقیدی شعور ناگزیر ہے ۔ ادب سے سروکار رکھنے والی تنقید کو ادبی تنقید کہا جاتا ہے اور یہاں اسی پر گفتگو مقصود ہے ۔ ادب میں تنقید کی دو نوعیتیں ہیں۔ ایک تو وہ تنقید ہے جو فن پارے کی تخلیق میں فن کار کی مدد کرتی ہے اور دوسری وہ جو تخلیق کے مکمل ہو جانے کے بعد اس فن پارے اور اس کو دیکھنے کیا پڑھنے والے کے درمیان رابطے کا کام دیتی ہے ۔ آئیے اب ان دونوں پر بالترتیب غور کریں۔ ادب میں تنقید کی کار فرمائی اسی وقت شروع ہو جاتی ہے جب فنکار کے ذہن میں کسی فن پارے کی داغ بیل پڑنے لگتی ہے۔ گویا تخلیقی عمل کے ساتھ ساتھ تنقیدی عمل بھی شروع ہو جاتا ہے ۔ ایک مفکر نے کہا ہے کہ جب بت تراش کوئی مورت بنانے کے لیے چھپنی ہتھوڑا سنبھالتا ہے تو اس سے پہلے وہ مورت اس کے ذہن میں مکمل ہو چکی ہوتی ہے ایسی طرح کوئی شاعر نظم لکھنے کو قلم اٹھاتا ہے تو نظم کا خا کا اس کے ذہن میں تیار ہو چکا ہوتا ہے۔ یہ کام تنقیدی شعور کے بغیر ممکن نہیں ۔ تنقیدی شعور ہی شاعر کی رہنمائی کرتا ہے کہ نظم کیسے شروع ہو کس طرح آگے بڑھے اور کہاں ختم ہو ۔ غرض یہ کہ جب کوئی فن پارہ فن کار کے ذہن میں جنم لینے لگتا ہے تو یہیں سے تنقید اپنا کام شروع کر دیتی ہے ۔ اور جب وہ فن پارہ ظاہری شکل اختیار کرنے لگتا ہے تو تنقید کا عمل تیز تر ہو جاتا ہے ۔

اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ مصور تصویر بناتے بناتے ہاتھ روک لیتا ہے ، دو قدم پیچھے ہٹ کر ادھر بنی تصویر کو مختلف زاویوں سے دیکھتا ہے ، کچھ سوچتا ہے ، پھر آگے بڑھتا ہے اور برش حرکت میں آجاتا ہے ۔ اس منزل سے شاعر و ادیب کو بھی گزرنا پڑتا ہے جو کچھ وہ لکھتا ہے اس پر بار بار غور کرتا ہے ، لفظوں میں الٹ پھیر اور ردو بدل کرتا ہے بقول حاکی ایک ایک لفظ کے لیے اسے ستر ستر کنویں جھانکنے پڑتے ہیں ۔ وہ اپنے فن سے جتنا زیادہ خلوص رکھتا ہے اتنا ہی زیادہ تراش خراش سے کام لیتا ہے اور صیقل کر کر کے اپنے شعر یا اپنی عبارت کو سنوارتا رہتا ہے ۔ حالی نے یونانی شاعر ورجل کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ دن دن بھر اپنے شعروں پر غور کرتا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ جس طرح ریچنی اپنے بدصورت بچوں کو چاٹ چاٹ کر خوبصورت اور چمکدار بنا لیتی ہے اسی طرح شاعر اپنے شعروں پر محنت کر کے انھیں نکھارتا ہے ۔ یہ محنت تنقیدی محنت ہی ہوتی ہے ۔ یہ تنقیدی محنت اور یہ تنقیدی نظر فن کو لازوال بنا دیتی ہے ۔

ٹی ۔ ایس ۔ ایلیٹ نے کہا ہے کہ جب ایک تخلیقی ذہن دوسرے سے بہتر ہوتا ہے تو اکثر اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ جو بہتر ہوتا ہے وہ تنقیدی صلاحیت زیادہ رکھتا ہے اور بقول میتھیو آرنلڈ کے" گوئٹے اور بائرن دونوں بڑے شاعر تھے لیکن گوئٹے بائرن کے مقابلے میں عظیم تر ہے تو اس لیے کہ اس کا تنقیدی شعور زیادہ پختہ تھا "۔ دوسروں کی تنقیدی راے بھی فنکار کے لیے راہ نما ہو سکتی ہے ۔ غالب کی مشکل گوئی پر نکتہ چینی ہوئی تو انھوں نے انداز کلام بدل دیا اور پہلے کہے ہوئے کلام کے بڑے حصے کو رد کر دیا۔یہ تھا تنقید کا ایک رخ جو صرف فن کار سے تعلق رکھتا ہے ۔ اب ہم دوسرے رخ کی طرف آتے ہیں۔

جب کوئی فن پارہ مکمل ہو جاتا ہے تو لوگ اسے دیکھتے یا پڑھتے ہیں ۔ ان ناظرین و قارئین کی اپنی تنقیدی نظر ہوتی ہے ۔ یہ اپنی استعداد کے مطابق فن پارے سے محظوظ ہوتے ہیں ۔ یہ کسی فنی کارنامے کو پسند یا نا پسند تو کرتے ہیں لیکن ان میں سے زیادہ تر اپنی پسند نا پسند کا سبب نہیں بتا سکتے ، اس کا رنامے کا ادب یا فن کی دنیا مین کیا مقام ہے ، بیہ ملے نہیں ہے۔ تنقید فن پارے اور اس کے پڑھنے والے کے درمیان مستحکم رشتہ قائم کرتی ہے ۔ یہ فن پارے کو جانچتی اور پرکھتی ہے ، اس کی خوبیوں اور خرابیوں کا پتہ لگاتی ہے ، یہ جاننے کی کوشش کرتی ہے کہ وہ کیا اسباب تھے جنھوں نے فن کار کو یہ کارنامہ پیش کرنے پر اکسایا اور یہ فیصلہ کرتی ہے کہ اس کارنامے کو ادب دفن کی دنیا میں کیا رتبہ حاصل ہے ۔ اعلا درجے کی تنقید اچھے برے کا دو ٹوک فیصلہ نہیں کرتی بلکہ فیصلہ کرنے میں قاری کی مدد کرتی ہے۔ ایسا کرنے میں وہ اپنا راستہ لہ اگر لیتی ہے ۔ کبھی وہ فن پارے کی صراحت کرتی ہے ، کبھی تشریح و ترجمانی اور کبھی تحلیل و تجزیے سے کام لیتی ہے ۔

تنقید نگار کسی فن پارے کے معائب و محاسن کا پتہ لگانے اور اس کی گہرائی میں پہنچنے کے لیے کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھتا ۔ وہ فن پارے کو ہر زاویے سے دیکھتا، ہر ممکن طریقے سے کھنگالتا اور اس کی تمام باریکیوں سے آگاہی حاصل کرتا ہے۔ پھر اس سے آگے بڑھ کے وہ فنکار کو سمجھنے اور اس کے ذہن میں اترنے کی کوشش کرتا ہے ۔ اس کے بعد وہ اس کے عہد اور ماحول کا جائزہ لیتا ہے۔ جتنے علوم مدد گار ہو سکتے ہیں وہ ان سب کی مدد سے چھان ہیں اور تلاش و جستجو کا عمل اس وقت تک جاری رکھتا ہے جب تک اسے اپنے مقصد میں کامیابی نہ ہو جائے یعنی وہ فن پارے کی نہ تک نہ پہنچ جائے ۔ گویا وہ ادب اور فن کی دنیا کا کولمبس ہے ۔

تنقید سے متعلق ایک اور غلط فہمی پیدا ہو گئی ہے۔ بعض نقادوں کا خیال ہے کہ تنقید کو صرف خوبیوں سے سرد کار رکھنا چاہیے ، بعض کا خیال ہے اسے صرف خرابیوں سے خبردارکرنا چاہیے لیکن یہ دونوں باتیں غلط ہیں ۔ تنقید دونوں پہلووں پر غور کرنے کے بعد کسی کارنامے کی قدر وقیمت کا تعین کرتی ہے ۔تنقید کے لیے غیر جانب داری کو بہت اہم قرار دیا گیا ہے لیکن یہ معاملہ نہایت پیچیدہ ہے ۔ ایک حساس انسان ہی اچھا تنقید نگار ہو سکتا ہے اور احساس کے ساتھ غیر جانب داری ممکن نہیں ۔ اس لیے تنقید نگار کی کسی نظریے سے وابستگی قابل اعتراض نہیں جو چیز ضروری ہے وہ ہے خلوص . جب وہ کسی کارنامے کو تنقید کی کسوٹی پر پرکھے تو ادب اور فن کی طرف اس کا رویہ مخلصانہ ہو۔

تنقید ضرورت و اہمیت:

تنقید ادب کے لیے ضروری ہے یا نہیں اس سلسلے میں ہمیشہ مختلف رائیں دی گئی ہیں ۔ بہت سے علمائے ادب ہیں جنھوں نے تنقید کو ادب کے لیے غیر ضروری بلکہ مضر اور مہلک بتایا ہے ۔ ان کا خیال ہے کہ اس سے ادب کی نشو و نما پر برا اثر پڑتا ہے ، قاری کو موقع ملنا چاہیے کہ وہ کسی ادبی کارنامے سے براہ راست اور بغیر کسی وسیلے کے لطف اندوز ہو اور یہ کہ تنقید نگار غیر ضروری اور ناپسندیدہ واسطہ بن کر ادب پارے اور اس کے قاری کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور خواہ مخواہ اس کے ذہن میں الجھاؤ پیدا کرتا ہے۔ چنانچہ فلا بیر نے تنقید کو" ادب کے جسم کا کوڑھ بتایا "ٹینی سن نے اسے "گیسوے ادب کی جوں کہا،" چیخوف نے "تنقید نگار کو اس مکھی سے تشبیہہ دی جو گھوڑے کو ہل چلانے سے روکتی ہے" ۔ ایمرسن نے اس خیال کا اظہار کیا کہ" جو شعر کہنے میں ناکام رہتا ہے وہ اپنی ناکامی کا بدلہ لینے کے لیے تنقید نگار بن جاتا ہے" اور شاعروں پر نکتہ چینی کرتا ہے ۔ ڈرا ئڈن نے کہا کہ" نقادوں میں نفرت کا جذبہ بہت شدید ہوتا ہے" ۔ بائرن نے یہ کہ کر تنقید نگار پر چوٹ کی کہ" نقاد پر بھروسہ کرنے سے پہلے ہر نا ممکن، بات کا یقین کر لو "۔ خود ہمارے ادب میں تنقید سے نفرت کرنے والوں کی تعداد کچھ کم نہیں ۔ جوش جب تک زندہ رہے تنقید کے خلاف رہے ۔در اصل سنجیدہ لوگ اس تنقید کو نا پسند کرتے ہیں جو صرف عیب جوئی اور نکتہ چینی سے سروکار رکھتی ہے ۔ مثلاً کسی زمانے میں والٹیر نے شکسپیر پر بے جا نکتہ چینی کی تھی ۔شاعر کیٹس پر اس کے بعض ہم عصروں نے ایسے حملے کیے تھے کہ وہ دق کے مرض میں مبتلا ہو کے مرگیا ۔ رشید وطواط نے خاقانی اور فرخی نے فردوسی پر گندگی اچھالی ، سودانے میر اور رجب علی بیگ سرور نے میرا من کو طنز و تمسخر کا نشانہ بنایا۔ مرزا یگانہ نے غالب شکنی پر فخر کیا ۔ یہ سب بری اور غیر منصفانہ تنقید بلکہ بعض و عداوت اور ذاتی پرخاش کی مثالیں ہیں۔ ایسی تنقید یقینا قابل نفریں ہے ورنہ ادب کے لیے تنقید کی ضرورت مسلم ہے ۔ رچرڈس نے کہا ہے کہ تنقید نگار ادب کے ساتھ وہ سلوک کرتا ہے جو ڈاکٹر جسم کے ساتھ کرتا ہے یعنی اس کی صحت کا خیال رکھتا ہے ۔ تنقید نگار کو بجا طور پر مالی سے تشبیہ دی جاتی ہے ۔مالی چمن سے گھاس پھوس کو نکال پھینکتا ہے، پھولوں اور پودوں کی نگہداشت کرتا ہے۔ تنقید نگار اپنی تحریروں سے ایسی فضا پیدا کر دیتا ہے جو اعلا درجے کے ادب کی تخلیق کے لیے سازگار ہو۔ وہ ایک طرف قاری کی ذہنی تربیت کرتا ہے تو دوسری طرف فن کار کا رفیق و مدد گار ثابت ہوتا ہے ۔

لیکن یہ خدمات صرف وہ تنقید نگار انجام دے سکتا ہے جو بغض و عناد سے پاک ہو ، جو داخلیت اور ذاتی پسند نا پسند سے بلند ہو کر ادب کو پرکھنے کا حوصلہ رکھتا ہو یعنی اس کی تنقید میں خارجیت اور معروضیت ہو ، جو محاسن کو اجاگر کرنے کے باوجود محض داد و تحسین میں گم ہو کے نہ رہ جائے ، جو معائب کا پتہ بھی لگائے انھیں واضح کرے مگر اس کا اندازہ ہمدردانہ ہو ، جس کا مطالعہ وسیع ہو اور جو ادب کے علاوہ فلسفہ، جمالیات ، سائینس ، عمرانیات ، معاشیات ، اقتصادیات اور نفسیات جیسے علوم پر حاوی ہو ، عالمی ادب کے قدیم و جدید رحجانات سے پوری طرح باخبر ہو، نہ روایت کا پرستار ہو نہ اس سے بیزار ، وسیع نظر اور آفاقی ذہن رکھتا ہو ، جس کا طریق کار سائنسی ہو اور جو کسی ادبی دفنی کارنامے سے آگے بڑھ کے فن کار تک اور پھر فن کار سے اس کے عہد و ماحول تک پہنچے ، اس کا تجزیہ کرے ۔ ایسا تنقید نگار صحیح معنی میں تنقید نگار کہلانے کا مستحق ہے اور ایسی تنقید کو کسی بڑے سے بڑے تخلیقی کارنامے کے ہمسر قرار دینا عین انصاف ہے ۔

ادبی تنقید کے اصول

ادبی تنقید کے اپنے اصول اور ضابطے ہیں جن کا احاطہ کرنے کے لیے ایک پوری کتاب درکار ہے۔ یہاں نہایت اختصار کے ساتھ ان کا ذکر کیا جارہا ہے اور چند صفحوں میں صرف اسی کی گنجائیش بھی ہے۔فن پارے کو دو پہلووں سے دیکھا اور پر کھا جا سکتا ہے۔ اس میں کیا پیش کیا گیا ہے اور کسی طرح پیش کیا گیا ہے ۔ ا س کیا ؟ اور کیسے ؟ کے لیے ہماری زبان میں دو نام موجود ہیں۔ "مواد" اور ہئیت ۔ ان دونوں کا آپس میں جان و تن کا سا رشتہ ہے ۔ ایک کو دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا لیکن فن پارے کو سمجھنے اور سمجھانے اور اس کی قدر وقیمت کا تعین کرنے کے لیے نقاد نہیں الگ الگ کر کے دیکھنے پر مجبور ہے ۔ادبی تنقید کا پہلا کام یہ دیکھنا ہے کہ فن پارے میں جو تجربہ پیش کیا گیا ہے یا یوں کہیے کہ جذبہ یا خیال سمویا گیا ہے اس کی کیا اہمیت ہے جو بات کہی گئی ہے وہ معمولی اور فرسودہ ہے یا تازہ اور فکر انگیز !

ادبی تنقید کا اگلا قدم یہ دیکھنا ہے کہ فن کار اپنے تجربے کو پر اثر انداز میں پیش کر سکا ہے یا نہیں کیونکہ پیش کش کا انداز ہی وہ شے ہے جو کسی فن پارے میں دلکشی پیدا کرتا ہے اور اس کے لیے فن کار کو متعد دفنی وسائل سے کام لینا پڑتا ہے ۔جس طرح مصور اپنے تجربے کو رنگوں کے ذریعے پیش کرتا ہے اسی طرح شاعر یا ادیب اپنے خیات و جذبات کو لفظوں کے ذریعے پیش کرتا ہے ۔ لفظ ہی اس کا میڈیم یعنی ذریعہ اظہار ہوتے ہیں شعر و ادب محض لفظوں کا کھیل نہیں لیکن ادب پارہ الفاظ اور ان کی موزوں ترتیب سے ہی وجود میں آتا ہے اس لیے یہی ادبی تنقید کی خصوصی توجہ کا مرکز رہتے ہیں ۔ادبی تنقید کے کئی ایسے دبستان ہیں جو ادب کو کسی خاص نظریے کی روشنی میں جانچتے ہیں۔ کوئی یہ دیکھتا ہے کہ اس سے کسی خاص نظریے مثلااشتراکیت کا پرچار ہوتا ہے یا نہیں، کوئی یہ سوال کرتا ہے کہ اس سے مذہب یا اخلاق کی تعلیم ملتی ہے کہ نہیں کسی کو ادب سے عہد دماحول د ماحول کی عکاسی کی توقع ہوتی ہے۔ بعض علمائے ادب نے شاعر کو ان چیزوں سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے مگر اصل بات یہ ہے کہ شعر و ادب میں نظریے کا ہونا یا نہ ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ ادبی تنقید یہ دکھتی ہے کہ ادب واقعی ادب ہے بھی کہ نہیں ۔ادبی تنقید اس محنت اور کاوش کو بھی نظر میں رکھتی ہے جو کسی فن پارے پر صرف ہوئی ہے۔ فن کار کی محنت سے ہم اکثر بے خبر ہوتے ہیں اور نہیں جانتے کہ اس کی تخلیق کتنی تراش خراش کے بعد ہم تک پہنچی ہے ۔ مسودے نہ مل جاتے تو کون جان سکتا تھا کہ ولیم بلیک کی سادہ سی شاعری اور شکسپیر کے ڈراموں ڈراموں کی نوک پکا پلک کتنی بار سنواری گئی ہے اور اقبال نے ایک ایک مصرعے کو چالیس چالیس بار بدلا ہے ۔ اسی سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ ادب الہام نہیں ، شعوری کوشش اور فن کار کی محنت پیہم کا ثمرہ ہوتا ہے۔

یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ ادب پارے کی ترسیل ہوئی ہے یا نہیں یعنی وہ پڑھنے یا سننے والے تک پہنچا بھی ہے یا نہیں۔ سہگل نے کہا ہے کہ جب فن کار اپنے تجربے کو دوسروں تک پہنچانا چاہتا ہے تبھی فن وجود میں آتا ہے ۔ یہ البتہ درست ہے کہ علمی نشر کی خوبی وضاحت و صراحت ہے تو افسانہ و شاعری میں ابہام سے حسن پیدا ہوتا ہے ۔ادبی تنقید کے لیے بے تعصبی اور غیر جانب داری بہت ضروری ہے۔ نقادمیں منصفانہ مزاج نہ ہو تو وہ تنقید کا حق ادا نہیں کر سکتا ۔وہی ادب پارہ قابل قدر ہے جو زمان و مکاں کی حدود سے بلند ہو کر ابدی اور آفاقی ہو جائے۔تنقید کا حق صحیح معنی میں اسی کو ہے جس کا مطالعہ وسیع اور نظر گہری ہو۔ کلیم الدین احمد کے الفاظ میں نقاد کو جس ساز و سامان کی ضرورت ہے وہ علم کے مختلف شعبوں کے بہترین خیالات سے آگہی ہے۔ یہ نہیں کہ وہ ہر فن مولا ہو ، وہ سارے علوم میں مہارت رکھتا ہو۔ یہ نا ممکن سی بات ہے لیکن یہ تو اس کے بس کی بات ہے کہ وہ بہترین خیالات ، تازہ ترین اور فرحت بخش تصورات سے واقفیت بہم پہنچائے ۔


دبستان

شعر و ادب کی تخلیق میں تاریخ ، تہذیب ، عہد و ماحول ، اقتصادی حالات ، فن کار کی شخصیت ، اس کی شخصیت کے نامعلوم گوشے اور ان جیسے نہ جانے کتنے عوامل کارفرما رہتے ہیں۔ اگر فن ن پارے پر مختلف زاویوں سے روشنی نہ ڈالی جائے تو اس کے تمام پہلو اجاگر نہیں ہو سکتے۔ اسی لیے کہا گیا کہ تنقید کا حق وہی ادا کر سکتا ہے جس کا مطالعہ وسیع ہو اور جو زیادہ سے زیادہ علوم پر گہری نظر رکھتا ہو ۔ بقول ایک مفکر کے یہ ضروری ہے کہ نقاد کے ذہن میں بہت سے ذہنوں کی صلاحیتیں جمع ہو گئی ہوں مگر تخصیص کے اس دور میں یہ بات تقریبا ناممکن ہے۔ چنانچہ ناقدین اپنی اپنی استعداد اور دلچسپی کے مطابق ادب کو پر کھتے ہیں۔ مثلاً کوئی اس نقطۂ نظر سے کسی تخلیق کا مطالعہ کرتا ہے کہ اس سے ہمارے ذہن پر کس قسم کے اثرات مرتب ہوتے ہیں ، کوئی ان اسباب کی جستجو کرتا ہے جنھوں نے کسی فن پارے کو دلکشی عطا کی کسی کو تصنیف کے آئینے میں مصنف کی شخصیت کا عکس نظر آتا ہے تو کسی کی توجہ فن کار کے نظریے پر مرکوز رہتی ہے ۔ اس طرح تنقید کے مختلف دبستان وجود میں آتے ہیں کسی ایک زاویے سے ادب کا مطالعہ کرنے والے نقادوں کو یکجا کر دیا جائے تو یہ ایک دبستان کہلائے گا ۔ تنقید کے مختلف دبستان ہیں ۔

 

جمالياتي تنقيد

ہمارے عہد کا ایک مفکر سارتر شاعری کو مصوری، موسیقی اور سنگ تراشی کی صف میں جگہ دیتا ہے ۔ ظاہر ہے مصوری ، موسیقی اور سنگ تراشی ۔ ان تینوں فنون لطیفہ ( Fine Arts ) کا صرف ایک ہی مقصد ہے ۔ لطف اندوزی یا حصول انبساط - آسان لفظوں میں اس بات کو یوں کہہ لیجیے کہ ان تینوں چیزوں سے صرف مسرت حاصل کی جا سکتی ہے۔ انسان گا ناسنے اور خوش ہو جائے، تصویر یا مجسمہ دیکھے تو اسے ایک سرور حاصل ہو اور بیس ! سارتر کا کہنا ہے کہ یہی کام شاعری کا ہے۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ مصوری ، موسیقی، سنگ تراشی اور شاعری میں وہ کیا شے ہے جو ہمیں خوش کر دیتی ہے ۔ وہ شے ہے حسن کاری و یا اظہار حسن کے بغیر فنون لطیفہ کا وجود میں آنا ممکن نہیں ۔ شعر اگر حس محبتم ہے تو تنقید نگار کا یہ فرض ٹھہرا کہ شعر میں حسن کے جتنے عناصر موجود ہیں ان کا پتہ لگائے اور ان کا تجزیہ کرے۔ جو تنقید یہ ذمہ داری قبول کرے اسے جمالیاتی تنقید کہا جاتا ہے ۔ جارج سنتیا نا اس تنقید کو تنقید ہی نہیں مانتا جو شعر میں حسن کاری کے عمل کو نظر انداز کرے ۔ آسبورن کے نزدیک ایسا تنقیدی فیصلہ جو شاعری میں حسن کاری کے عمل پر غور کیے بغیر صادر کیا گیا ہو ، درست نہیں ہو سکتا ۔ بالکل یہی بات نثر کے سلسلے میں کہی جا سکتی ہے ۔

شعر کی جمالیاتی قدروں کا اعتراف آج کی بات نہیں۔ جب تنقید کا با ضابطہ وجود نہیں تھا ۔اس وقت بھی شعر پڑھنے یا سننے والے کو اس کا احساس ضرور تھا کہ شعر میں یقینا کوئی ایسی چیز ہوتی ہے جو دل پر جادو سا کر دیتی ہے۔ مگر اس جادو کا تجزیہ کرنا آسان نہ تھا۔ اس لیے ناقدین بھی سرسری طور پر تعریفی کلمات ادا کر کے یہ سمجتے رہے کہ تنقید کا حق ادا ہو گیا ۔ یہاں تک کہ اٹھارویں صدی کے وسط میں بام گارٹن نے فلسفہ حسن کے لیے ایک اصطلاح Aesthetics استعمال کی ۔ اس کے بعد سے اس علم نے ترقی کرنی شروع کی۔ڈیکارٹ ، کانٹ اور گوئٹے وغیرہ نے فلسفۂ جمال پر غور کیا اور اس سلسلے میں اہم باتیں کہیں ۔ ان کے بعد ہیگل کا نام آتا ہے ۔ اس نے کہا کہ حیاتی صورتوں کے ذریعے تصور کے اظہار کا نام حسن ہے ۔ ہیگل بہت بڑا مفکر گزرا ہے اس کے خیالات نے یورپ کو بہت متاثر کیا۔ جدیدزمانے میں کروچے نے جو نظریہ پیش کیا وہ اظہاریت (Expressionism) کہلایا۔ اس نے کہا کہ فن کار جب کوئی فن پارہ پیش کرتا ہے تو اس سے پہلے اس کے ذہن میں فن پارے میں کی مکمل تخلیق ہو چکی ہوتی ہے ۔ پیش کش اس تخلیق کا ظاہری عمل ہے ۔ اس نظریے سے بہت سے مفکروں نے اختلاف کیا ۔ اس کے بعد جارج سنتیانا اور آسبورن وغیرہ نے اس میدان میں قابل قدر کارنامے انجام دیے ۔یہ جان لینے کے بعد کہ شعر وادب میں دلکشی و رعنائی کا راز وہ حسن ہے جو اس کے اندر موجود ہے یہ غور کرنا لازمی ہو جاتا ہے کہ حسن آخر ہے کیا ۔ اس مسئلے پر صدیوں سے غور کیا جاتا رہا ہے۔ حسن کے بارے میں علما و مفکرین مختلف نظریے پیش کرتے رہے ہیں ۔ قدیم یونانی حسن کو تنز یہی مانتے تھے۔ یعنی حسن کی کوئی شکل نہیں اور اسے دیکھا نہیں جاسکتا۔

حسن ایک پر اسرار شے ہے اور چند سطروں میں اس کی تعریف ممکن نہیں لیکن مفکرین اس سلسلے میں جن خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں یہاں ان کا خلاصہ پیش کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے ۔ بام گارٹن نے حقیقت اور حسن کو ایک ہی شے کے دو روپ بتایا اور کہا کہ جس چیز کا علم ہمیں تعقل کے ذریعے ہوتا ہے اسے حقیقت کہتے ہیں اور جس چیز کا علم احساس ر علم کے ذریعے ہوتا ہے اسے حسن کا نام دیتے ہیں حسن کے بارے میں اور بہت سی باتیں کہی ! گئیں مثلاً یہ کہ حسن تناسب اور ہم آہنگی کا نام ہے یا یہ کہ جس ترتیب و تنظیم کا نام ہے ب گر اس کی تردید کی کہ کرکی گئی کہ آسمان پر بکھرے بے ترتیب ستارے بھی حسین لگتے ہیں ۔ افلاطونس بہت پہلے کہ چکا تھا کہ حسن ایک نور ہے جو توازن ، ہم آہنگی ، ترتیب و تناسب سے بالا تر ہے ۔ کسی نے کہا خوبصورت رنگ اور روشنی ہی حسن ہے کیسی کو سیدھی ، ترچھی اور پہر یا دار لکیروں میں حسن نظر آیا ۔ اسی طرح کسی نے سادگی کو حسن کہا کسی نے صناعی کو۔یہ بھی کہا گیا کہ حسین شے وہ ہے جو مفید ہو۔ اس خیال کو ، دبھی کیا گیا اور مثال یہ دی گئی کہ قلعہ جب کھنڈر بن جاتا ہے تو سیاحوں کے لیے زیادہ پرکشش ہوتا ہے ۔ اسی طرح جمال و جلال کی بحث چلی اور نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں ہی حسن کے روپ ہیں ۔ نتھنے سے پھول کی دیکشی بھی ہمیں اپنی طرف کھینچتی ہے اور ہمالیہ کی عظمت و رفعت بھی ۔ ایک بحث یہ چلی کہ حسن موضوعی ہے یا معروضی ۔ مطلب یہ کہ حسن کسی چیز میں ہوتا ہے یا اسے دیکھنے والے کی آنکھ میں۔ فیصلہ یہ ہوا کہ کچھ حسن تو رخ لیلی میں ہوتا ہے اور باقی چشم مجنوں میں ۔ بہر حال اس پر سب متفق ہیں کہ حسن اور مسرت ایک ہی شے کے دو نام ہیں اور تمام علماے جمالیات ہم خیال ہیں کہ حسن مسرت انگیزی کا باعث ہوتا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ شعرو ادب میں حسن کس طرح جلوہ گر ہوتا ہے اور اس کی نوعیت کیا ہوتی ہے ۔ سب سے پہلے یہ بات ذہن نشیں کر لینی چاہیے کہ شعر و ادب میں حسن کاری کا عمل صرف ظاہری شکل و صورت تک محدود نہیں ۔ صدیوں پہلے افلاطون نے یہ کہہ کر کہ علوم ، اعمال اور قوانین بھی حسین ہوتے ہیں اس حقیقت کی وضاحت کر دی تھی کہ حسن صرف پیش کش میں نہیں بلکہ جو چیز پیش کی جا رہی ہے اس میں بھی ہوتا ہے ۔ گویا شعر میں حسن معنی کی بھی کم سے کم اتنی ہی اہمیت ہے جتنی حسن صورت کی ۔

یہ غلط فہمی نہ ہونی چاہیے کہ شاعری میں فکری عنصر کا سرے سے دخل ہی نہیں ۔ ہیگل نے بہت پہلے اس تصور کو غلط قرار دے دیا تھا کہ وجدانیات کے سوا شاعری کو کسی چیز کی ضرورت نہیں ۔ اس کا خیال ہے کہ غور و فکر کے بغیر کامیاب شاہکار وجود میں آہی نہیں سکتا ۔ آرنلڈ نے شاعر کے لیے مفکر ہونا ضروری قرار دیا ہے ۔ ایلیٹ نے بصراحت کہا ہے کہ شاعری بے شک کسی احساس یا جذبے کا اظہار ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ شاعری معنی یا مضمون سے بے نیاز ہے یا بڑی شاعری میں اس کی ضرورت نہیں۔ والٹر پیٹر نے ادب کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ اچھا ادب اور اعلا ادب (Good /Great) جو ادب صرف حسن صورت رکھتا ہو اسے اچھا ادب کہا جا سکتا ہے مگر اعلا ادب کے لیے ضروری ہے کہ اس میں ظاہری حسن کے ساتھ موضوع کی عظمت بھی پائی جائے۔ چنانچہ جمالیاتی تنقید کے ضابطے میں پہلا مقام فکر کی عظمت کا ہوا ۔

اس کے بعد یہ دیکھنا ہوگا کہ اس حسین خیال کو جو جامہ پہنایا گیا ہے وہ اس کے بدن پر سجتا ہے یا نہیں یعنی خیال کا موزوں اظہار ہوا ہے یا نہیں اور یہ اسی وقت ممکن ہے کہ فن کار موزوں الفاظ کے انتخاب اور ان کی موزوں ترتیب میں کامیاب ہوا ہو ۔ کولرج کے نزدیک الفاظ کی بہترین ترتیب نثر ہے اور بہترین الفاظ کی بہترین ترتیب شعر - فلا بیر کی یہ رائے درست نہ سہی کہ ہر بات کو ادا کرنے کے لیے پہلے سے کچھ الفاظ اور ان کی ترتیب مقرر ہے ۔ جب تک فن کار کی رسائی ان تک نہیں ہو جاتی وہ بات ادا ہو ہی نہیں سکتی یہ لیکن شعر و ادب میں موزوں الفاظ کے انتخاب اور ان کی مناسب ترتیب کو جمالیاتی تنقید کے نقطہ نظر سے بہت نمایاں مقام دیا جانا چاہیے۔

لفظوں اور فقروں کی خوش آوازی تخلیق کو دل آویز بناتی ہے ۔ بے شک نثر کے مطالبات الگ ہیں اور شاعری کے الگ مگر خوش آوازی دونوں کے لیے ضروری ہے ۔ نثر کا بھی ایک آہنگ ہوتا ہے۔ کہا گیا ہے کہ نشر ایسی ہونی چاہیے جسے بہ آواز بلند پڑھا جاسکے جبکہ شعر زیادہ کامیاب ہو گا اگر اسے گایا بھی جاسکے۔شعر و ادب میں صناعی بھی ضروری ہے۔ اس کے لیے مختلف صنعتوں سے کام لیا جاتا ہے۔نثر میں کم اور شاعری میں زیادہ مگر دیکھنے کی بات یہ ہے کہ صنعت غالب نہ ہو جائے یعنی ایسا نہ ہو کہ ذہن اسی میں الجھ کے رہ جائے ۔ اگر ایسا ہو تو یہ عیب ہے۔ یہ وہ اہم نکتے ہیں جنھیں جمالیاتی نقاد کسی ادب پارے پر تنقید کے وقت پیش نظر رکھتا ہے۔ اس بنیادی گفتگو کے بعد اردو میں جمالیاتی تنقید کے آغاز و ارتقا کا جائزہ لینا چاہیے۔

اس سلسلے میں ہماری نظر سب سے پہلے مشاعروں پر جاتی ہے جن کا رواج زمانہ قدیم سے چلا آرہا ہے ایسے ثبوت موجود ہیں کہ مشاعروں میں داد کے ساتھ کبھی کبھی شعر کے حسن وقیع پر روشنی بھی ڈالی جاتی تھی ۔ اس وقت زیادہ زور زبان و بیان پر تھا ۔ تذکروں کی تنقید کا انداز بھی یہی ہے ۔ جب تنقید نے ہماری زبان میں با قاعدہ فن کا درجہ حاصل کر لیا تو اہل نظر اس طرف متوجہ ہوئے۔ ان کی تنقید کا غالب رحجان جمالیاتی ہی تھا ۔ ان بزرگوں میں محمد حسین آزاد ، مولانا شبلی نعمانی ، مہدی افادی عبد الرحمن بجنوری ، نیاز فتح پوری ،محمد حسن عسکری ، اثر لکھنوی ، فراق گورکھپوری وغیرہ اہم ہیں ۔ ان بزرگوں نے ان وسائل کا پتہ لگانے کی کوشش ضرور کی جن سے شاعری میں حسن پیدا ہوتا ہے مگر دشواری یہ ہے کہ ان میں اکثر نقاد تنقید کرتے کرتے جذبات کی رو میں بہ گئے اور ان کی تنقید میں تاثرات کا غلبہ ہو گیا ۔

ترقی پسند تنقید

وہ ادب جو مارکس کے خیالات کی اشاعت کرتا ہے اور کمیونزم (اشتراکیت) کے پرچار کو اپنا مقصد سمجھتا ہے مارکسی ادب کہلاتا ہے۔ ہماری زبان میں جو ادب ان خیالات کو فروغ دیتا ہے اور محنت کشوں کی حمایت کرتا ہے ترقی پسند ادب کہلاتا ہے ۔ اسی طرح وہ تنقید جو ادب کو مارکسی نظریات کی کسوٹی پر پرکھتی ہے مارکسی تنقید کہلاتی ہے ۔ ہمارے یہاں اس تنقید کو ترقی چند تنقید کہا جاتا ہے ۔ آئیے اب اس کے آغاز و ارتقا کا جائزہ لیں ۔

انقلاب روس ( ۱۹۱۷ء) کے بعد مزدوروں کو اپنی طاقت کا اندازہ ہوا اور ان کے حامیوں کو احساس ہوا کہ محنت کش اور بیدار ہو جائیں تو دنیا کا بگڑا نظام سنور سکتا ہے ہندوستان بھی روس کے حالات سے متاثر ہوا مگر یورپ میں تو بیداری کی لہرسی دوڑ گئی ۔ یورپ کی مختلف یونیورسٹیوں میں جو ہندوستانی طالب علم تعلیم پارہے تھے انھیں اپنی ذمہ داری کا احساس ہوا اور ان کے دل میں ایک ادبی انجمن بنانے کا خیال پیدا ہوا ۔ ان نوجوانوں میں سجاد ظہیر، ملک راج آنند محمد دین تاثیر ، جیوتی گھوش شامل تھے۔ انجمن کا نام Progressive writers' association یعنی انجمن ترقی پسند مصنفین طے پایا۔ یہ واقعہ ۱۹۳۲ ء کا ہے۔اسی سال سجاد ظہر تعلیم سے فارغ ہو کر ہندوستان لوٹ آئے اور یہاں بھی انجن قائم ہوگئی۔ اس کا باقاعدہ مینی فیسٹو (منشور ) شائع ہوا ۔ اس میں اعلان کیا گیا کہ اب ادیب غیر جانب دار نہیں رہ سکتے ۔ وہ مظلوموں کی حمایت کریں گے ۔ ادب کی بنیاد میں زندگی میں پیوست ہیں اور زندگی مسلسل تغیر و تبدل کی کہانی ہے ۔ زندہ اور سچا ادب وہی ہے جو سماج کو بدلنا چاہتا ہے ، اسے عروج کی راہ دکھاتا ہے اور انسانیت کی خدمت کی آرزو رکھتا ہے منشور میں اس یقین کا اظہار کیا گیا کہ ہمارے ملک کا ادب زندگی سے اپنے کو وابستہ کرے گا اور زندگی کے ارتقا کا علمبردار ہوگا۔ ایک اہم بات یہ کہی گئی کہ حسن ، آرٹ وغیرہ کی نقاب پہن کر ادب کار زار حیات سے راہ فرار اختیار نہیں کر سکتا۔ ہمیں پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا کہنا ہے اور کن سے کہنا ہے کیسے کہنا ہے کا سوال بعد میں پیدا ہوتا ہے۔ مطلب یہ کہ مواد کو ہئیت پر فوقیت حاصل ہوگی ۔

تحریک کو پہلے مولوی عبدالحق، منشی پریم چند اور جوش ملیح آبادی کی سرپرستی حاصل ہوئی ۔ بعد کو کارواں بڑھتا گیا اور وافر مقدار میں وہ ادب وجود میں آنے لگا جو مندرجہ بالا اعلان نامے کے معیار پر پورا اترتا تھا ۔ اسی کے ساتھ ترقی پسند تنقید کی داغ بیل پڑھی جس نے ادب کی قدر و قیمت کا تعین کرنے کے لیے سخت معیار مقرر کیے ۔ دیکھتے ہی دیکھتے اردو تنقید پر ترقی پسندی کا غلبہ ہوگیا۔ بقول خلیل الرحمن عظمي :

"ترقی پسند تحریک نے شاعری اور افسانہ نگاری کے علاوہ اردو زبان کے جس شعبے کو سب سے زیادہ متاثر کیا وہ ادبی تنقید ہے ۔ اگر یہ کہا جائے تو کچھ بے جانہ ہو گا کہ اس تحریک کی بدولت اردو تنقید کو ایک نیا ذہن، ایک نیا مزاج اور ایک منفرد کردار نصیب ہوا "

ترقی پسند تنقید اردو ادب کو ایک مقررہ سمت کی طرف لے جانا چاہتی تھی ۔ اس کے سامنے ادب کے مقررہ اصول تھے ۔ ترقی پسند نقادوں نے رسالوں جلسوں اور اعلان ناموں کے ذریعے اپنے مقاصد کو واضح کیا۔ خلیل الرحمن عظمی کی کتاب " اردو میں ترقی پسنداد بی تحریک" سے ان مقاصد کا خلاصہ یہاں پیش کیا جاتا ہے :

1)    ادب ایک آلہ کار : ترقی پسندوں نے بار بار اور واضح طور پر اعلان کیا کہ ادب کو جماعت کا خدمت گزار ہونا چاہیے اور اس سے زندگی کو سنوار نے میں مدد لی جانی چاہیے ۔

2)    ادب عوام کے لیے : ادب کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ اس سے زیادہ سے زیادہ لوگوں ، بلکہ صاف لفظوں میں یوں کہنا چاہیے کہ عوام کو فائدہ پہنچے۔ ترقی پسند ادیب اس پر ہمیشہ زور دیتے رہے کہ ان کا ادب عوامی ادب ہے۔

3)    ادیب جانبدار : ترقی پسند ادب کی بنیاد اس پر ہے کہ ظلم و نا انصافی کی اس دنیامیں ادیب غیر جانب دار نہیں رہ سکتا ۔ وہ ایک حساس، دردمند دل رکھتا ہے اور محنت کشوں کا ساتھ دینے پر مجبور ہے ۔

4)    ترقی پسندی اور اشتراکیت : ترقی پسندوں نے کبھی اسے چھپانے کی کوشش نہیں کی کہ وہ اشتراکی ہیں۔ سجاد ظہیر نے کہا تھا کہ سرمایہ داری نظام نے دنیا کو برباد کر رکھا ہے اشتراکیت کے ذریعے ہی ختم کیا جاسکتا ہے ۔

5)    ادب اور سیاست : ترقی پسند نقادوں نے کہا کہ آج ادب کو سیاست سے علیحدہ نہیں رکھا جا سکتا۔ جو ادب سیاست میں حصہ لیتا ہے اس پر لوگ نعرہ بازی کا الزام لگاتے ہیں۔ اسے پروپیگینڈہ بناتے ہیں یہیں اس سے ڈرنا نہیں چاہیے ۔

6)    سیاست میں عملی حصہ : یہ بھی کہا گیا کہ صرف قلمی خدمت کر کے ادیب اپنی ذمہ داری سے سبکدوش نہیں ہو جاتا ۔ اسے مزدوروں اور کسانوں کے ساتھ مل جل کر رہنا چاہیے اور ان کی حمایت کی جو تحریکیں چلیں ان میں عملی حصہ لینا چاہیے ۔

7)    ادب اجتماعی زندگی کا ترجمان : کہا گیا کہ ادیب کوئی جوگی نہیں ، سماج کا ایک فرد ہے اور ادب اس کی ذاتی ملکیت نہیں ۔ اس لیے یہاں انفرادیت کی گنجایش نہیں ۔

8)    ادب میں اجتماعی زندگی کی تصویر نظر آنی چاہیے۔ پیغام زیادہ اہم ہے : ادب کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ مواد اور ہئیت ۔ مواد سے مراد ہے وہ بات جو کہی جارہی ہے اور سنیت سے مراد ہےاس بات کے کہنے کا انداز ۔ اعتدال پسند نقادوں نے مواد اورہئیت دونوں کی اہمیت کو تسلیم کیا لیکن بعض نے یہ بھی کہا کہ ادب میں سجاوٹ غیر ضروری ہے اور ادب کے فنی تقاضے اتنے اہم نہیں جتنی ادب کی مقصدیت ۔ اسی طرح وہ رمزیت اور اشاریت کوترقی پسند ادب کے لیے مضر خیال کرتے ہیں ۔یہ میں ترقی پسند تنقید کے اہم بنیادی اصول اور جن تنقید نگاروں نے ترقی پسند تنقید کو فروغ دیا وہ میں اختر حسین رائے پوری سجاد ظہیر ، مجنوں گورکھپوری ، احتشام حسین، ممتاز حسین سردار جعفری وغیره۔

اختر حسین راے پوری نے ایک مضمون ، ادب اور زندگی" کے عنوان سے لکھ کر اہل علم کو اپنی طرف متوجہ کیا ۔ یہ اردو میں پہلا مضمون ہے جس میں ادب کو مارکسی نظریات کی رو دب کو مارکسی نظریات کی روشنی میں پر کھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ سجاد ظہیر کا شمار ترقی پسند تحریک کے بانیوں میں ہوتا ہے مگر ان کے تنقیدی نظریات میں اعتدال و توازن پایا جاتا ہے ۔ وہ ادب کو پروپیگنڈا بنانے کے خلاف ہیں اور جذباتیت سے دور رہتے ہیں۔ ان کا مضمون ، اردو کی جدید انقلابی شاعری " اس کا گواہ ہے۔ مجنوں گورکھپوری پہلے تاثراتی تنقید نگار تھے ۔ بعد کو وہ ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہو گئے۔ انھوں نے اپنی تحریروں میں اس پر زور دیا کہ ادب اور سماج کا رشتہ اٹوٹ ہے لیکن جب ترقی پسندوں نے ادب کے تقاضوں کو مسلسل نظر انداز کیا تو وہ اس تحریک سے بدفن ہو گئے ۔


نفسیاتی تنقید

نئے علوم اور جدید سائنس نے عجیب رازوں کے چہروں سے نقاب ہٹائی ہے ۔ ان میں سے ایک راز یہ ہے کہ ہمارے ذہن کے اندر بہت سی ان جانی دنیا میں آباد ہیں۔ ہم جو کچھ کہتے یا کرتے ، دنیاؤں کا عکس بہر طور نظر آتا ہے۔ جو علم ہمارے ذہن کے ان تہ خانوں میں سرد کار رکھتا ہے کہ انسان کس طرح سوچتا ہے ، کس طرح محسوس کرتا ہے اور کس موقعے پر اس کے کیا جذبات ہوتے ہیں۔ اس علم نے نہیں بتایا کہ ہمارا ذہن ایک تہ خانے کے مانند ہے جس میں طرح طرح کا سامان محفوظ رہتا ہے ۔ اس کا ایک حصہ تو وہ ہے جس کے بارے میں ہم خوب جانتے ہیں کہ اس میں کیا کیا موجود ہے ۔ اسے شعور کہتے ہیں۔ دوسرے حصے میں گھپ اندھیرا ہے۔ اس کے بارے میں خود ہمیں کچھ خبر نہیں ۔ یہاں وہ ساری چیز میں جمع رہتی ہیں جنھیں ہر طرف ناپسند کیا جاتا ہے مثلاً جنسی خواہشات ، لالچ، خود غرضی وغیرہ ۔ مطلب یہ کہ انسان کی جو خواہشات پوری نہیں ہوتیں اور جو اتنی بڑی ہوتی ہیں کہ وہ ان کا ذکر بھی نہیں کر سکتا وہ اس اندھیری کوٹھڑی میں جا چھپتی ہیں۔ ذہن کے اس حصے کو ایک طرح کا گودام کہا جا سکتا ہے ۔ اس گودام میں وہ مال بھرا رہتا ہے جس کی کہیں کھپت نہیں ۔ ذہن کے اس گوشے کا نام ہے لاشعور ۔ ہماری زندگی میں شعور سے زیادہ لاشعور کی کار فرمائی ہے ۔ اور اس کی دنیا شعور کی دنیا سے کہیں بڑی اور طاقت ور ہے ۔ ہماری وہ خواہشات جو پوری نہیں ہو پاتیں اور جن کے ذکر تک کو سماج ناپسند کرتا ہے وہ دنیا کے خوف سے لاشعور میں جا چھپتی ہیں اور انھیں جب بھی موقع ملتا ہے وہ شعور کے طبقے میں داخل ہونے کی کوشش کرتی ہیں لیکن شعور اس موقع پر پولیس کانسٹبل کا کام کرتا ہے اور انھیں پھر لاشعور کے طبقے میں دھکیل دیتا ہے ۔ جب ہم سوتے ہیں تو ہمارے ساتھ شعور بھی سو جاتا ہے اس وقت ان دبی ہوئی کچلی ہوئی خواہشوں کو کھل کھیلنے کا موقع ملتا ہے اور یہ خواب کی شکل میں ہمیں نظر آتی ہیں ۔ شعور اور لاشعور کے درمیان ایک تیسرا طبقہ بھی ہے جسے تحت الشعور کہا جاتا ہے ۔ یہاں وہ چیزیں ہوتی ہیں جنھیں پوری طرح بھولے بھی نہیں اور جو اچھی طرح یاد بھی نہیں ۔ یہ وہ باتیں ہیں جو دماغ پر زور دینے سے شعور کی سطح پر ابھر آتی ہیں ۔

ذہن کو ان تین طبقوں میں تقسیم کرنے والا فرائڈ ہے ۔ وہ تحلیل نفسی کا موجد ہے تحلیل نفسی کا مطلب ہے ذہن کی تہ میں چھپی ہوئی باتوں کا پتہ لگانا ۔ دوسرے لفظوں میں انسانی ذہن کے پیچ و خم کا مطالعہ کرنا ۔فرائڈ کے شاگرد ایڈلر نے بھی بعض اہم باتیں کہی ہیں جن کا جاننا ضروری ہے ۔ اس کا خیال ہے کہ احساس کمتری انسانی زندگی میں بہت اہم رول ادا کرتا ہے ۔ احساس کمتری کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص کسی چیز سے محروم ہوتا ہے تو وہ دوسروں کے مقابلے میں خود کو حقیر یا کمتر سمجھنے لگتا ہے ایڈلر کہتا ہے کہ یہ احساس شروع سے آخر یک انسان کو گھیرے رہتا ہے ۔ مثلاً کمز ورحیم ، کم ذہنی صلاحیت اور تجربے کی کمی کے سبب بچہ اپنے ماں باپ کا محتاج ہوتا ہے ۔ اس لیے یہیں سے اس میں کمتری کا احساس پیدا ہو جاتا ہے ۔ آگے چل کر بھی اسے یہی تجربہ ہوتا ہے کہ قدم قدم پر وہ دوسروں کے سہارے اور سماج کی مدد کا محتاج ہے ۔ غرض انسان کو ساری زندگی احساس کمتری سے نجات نہیں ملتی ۔ اب دیکھنے کی بات یہ ہے کہ کون اسے کس طرح برداشت کرتا ہے اور کس کا کیا رد عمل ہوتا ہے۔ اسی رد عمل سے انسان کی شخصیت تعمیر ہوتی ہے ۔ کوئی احساس کمتری پر قابو پانے کے لیے خود کو دوسروں سے برتر ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ اسے احساس برتری کہا جاتا ہے ۔ انگریزی شاعر پوپ بہت لاغر تھا ۔ وہ خود کو دوسروں سے زیادہ صحت مند ظاہر کرنے کے لیے تلے اور کئی کئی جوڑی کپڑے اور نیچے اوپر کئی کئی جرابیں پہن لیتا تھا ۔ غالب کی داد و دہش ان کی تنگ دستی کا رد عمل تھی ۔ پریم چند کے افسانے کفن کے کردار گھیسو اور مادھو جب نشے کے عالم میں بچی ہوئی پوریاں بھکاری کو دے ڈالتے ہیں تو گویا ساری زندگی کی فاقہ مستی کا بدلہ لے لیتے ہیں۔ مرزا عظیم بیگا چنتائی کی صحت خراب تھی وہ مرزا پھو یا کہلاتے تھے اور اپنے خاندان کے لوگوں میں پھوٹ ڈلوا کے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے تھے ۔

ایک صورت یہ بھی ممکن ہے کہ احساس کمتری سے چھٹکارا پانے کے لیے انسان خیالی دنیا میں کھو جائے اور جو کچھ وہ حقیقت میں نہ پاسکا اسے فرضی دنیا میں پالینے کی کوشش کرے یعنی فرض کرلے کہ یہ چیزا سے حاصل ہو گئی ۔ مثلاً میر اپنی محبوبہ کو نہ پاسکے اور دیوانے سے ہو گئے تو نہیں چاند میں ایک حسینہ نظر آنے لگی جو رات کی تنہائی میں چاند سے اتر کے ان کے پاس آبیٹھتی اور ساری ساری رات باتیں کرتی تھی ۔ احساس کمتری سے نجات پانے کی یہ دوسری صورت خطر ناک ہے ۔ اس سے طرح طرح کی نفسیاتی پیچیدگیاں اور ذہنی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔

فرائڈ کے دوسرے شاگر د ژونگ کے نظریات اور زیادہ اہم ہیں ۔ اس نے اجتماعی لاشعور کا نظریہ پیش کیا ۔ کہتا ہے جس طرح کسی فرد کی زندگی میں اس کا شخصی لا شعور اہم کردار ادا کرتا ہے اسی طرحاجتماعی لاشعور بھی ان جانے طور پر کام کرتا رہتا ہے ۔ اجتماعی لاشعور ان تجربات کی اجتماعی یاد داشت ہے جن سے عالم انسانیت گزرتا ہے یہ تجربات انسانی لاشعور میں محفوظ رہتے ہیں اور ممکن نہیں کہ وقتا فوقتا ان کا اظہار نہ ہو۔ ژونگ دیو مالا اور داستانوں کی اہمیت پر بہت زور دیتا ہے۔ ان کو وہ قوموں کی زندگی میں وہ درجہ دیتا ہے جو خوابوں کو انفرادی زندگی میں حاصل ہے ۔ادب اصلا انسان کا مطالعہ ہے اور انسان کو اس کے ذہن میں اترے بغیر سجھنا ممکن نہیں۔اس لیے انسانی نفسیات سے آگہی کے بغیر ادب کا خالق ادب تخلیق نہیں کر سکتا ۔ انیسں کو دبیر پر فوقیت حاصل ہے تو اس کا خاص سبب یہ ہے کہ وہ انسانی نفسیات کو سمجھنے میں دبیر سے کہیں آگے ہیں ۔ لیکن نفسیات کا علم بہت پیچیدہ ہے ۔ انسانی ذہن بھول بھلیاں کے مانند ہے کہ اس میں اترنے کے بعد کبھی راستہ ملتا ہے، کبھی نہیں ملتا ۔ جو انسان جتنا حساس، جتنا وسیع المطالعہ اور جتنے مختلف النوع تجربات کا حامل ہوگا اس کا ذہن اتنا ہی زیادہ پر بیچ ہو گا ۔ ایک اچھے فن کار میں یہ تینوں چیزیں موجود ہوتی ہیں اس لیے اس کی ذہنی پچپید گیوں کو سمجھنا زیادہ دشوار ہوتا ہے۔ لیکن تنقید نگار یہ ذمہ داری قبول کرنے پر مجبور ہے۔

تنقید نگار جب یہ جاننا چاہتا ہے کہ کسی ادبی وفنی کارنامے کے وجود میں آنے کے کیا اسباب تھے تو وہ خارجی اور داخلی دونوں اسباب پر غور کرتا ہے۔ مثلاً وہ یہ دیکھتا ہے کہ یہ فن پارہ کن معاشی و معاشرتی حالات اور کس ادبی ماحول کی پیدا وار ہے لیکن اس کے لیے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ اس تخلیق کے وقت فن کار کی ذہنی کیفیت کیا تھی اور وہ کیا چیزیں تھیں جو اس کے ذہن میں ہلچل سی مچائے ہوئے تھیں جن کے سبب یہ تخلیق وجود میں آئی۔ لیکن یہ کام آسان نہیں ہے ۔ نفسیاتی معالج جب کسی نفسیاتی مریض کا علاج کرتا ہے تو مرض کی تشخیص اور مرض کے اسباب جاننے کے لیے اسے مریض سے متعلق بہت معلومات کی ضرورت ہوتی ہے جس کا فراہم ہونا آسان نہیں ہوتا ۔ اسی لیے نفسیاتی معالج کو اکثر نا کامی ہوتی ہے ۔

نفسیاتی تنقید نگار کا کام اور بھی دشوار ہے کبھی کبھی تو اس کا موضوع ایسا فن پارہ یا ایسا فن کار ہوتا ہے جو اس تنقید نگار سے سیکڑوں برس یا ہزاروں میل کے فاصلے پر ہو تا ہے ۔ یہ دوری نہ ہو تب بھی ایک دشواری ہے۔ مریض تو شاید اپنے مرض سے چھٹکارا پانے کے لیے ڈاکٹر سے بچے بول دے لیکن فن کار سے سچ اگلوا لینا کوئی سہل بات نہیں ۔ میرخان آرزو کو ایک جگہ اپنا محسن بتاتے ہیں دوسری جگہ جانی دشمن۔ غالب کہیں خود کو شیعہ لکھتے ہیں کہیں سنی۔ کبھی کہتے ہیں میں نے فارسی ملا عبد الصمد سے سیکھی کبھی کہتے ہیں کہ بے استادا نہ کہلاؤں اس لیے یہ کردار میں نے خود گڑھ لیا ہے ۔ ایسے میں نفسیاتی تنقید نگار کی دشواریاں اور بڑھ جاتی ہیں لیکن ہم تسلیم کرنے پر بھی مجبور ہیں کہ یہ گتھیاں کسی حد تک سلجھائی جا سکتی ہیں تو وہ بھی تحلیل نفسی سے ۔فن کار کا ذہن عام انسان کے ذہن سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے ۔ اس کے ذہن کی تہہ یعنی لاشعور میں کچھ ایسی قوتیں بھی سرگرم عمل رہتی ہیں جن کے بارے میں اور تو اور خود فن کار بھی کچھ نہیں جانتا۔ یہ قوتیں کسی فن پارے کی تخلیق کا محرک بن جاتی ہیں اور بالکل ان جانے طور پر اس تخلیق میں سرایت کر جاتی ہیں ۔ انھیں ڈھونڈ نکالنا ماہر نفسیات کے لیے بھی آسان نہیں لیکن وہ اپنی سی کوشش کرتا ہے اور تھوڑا بہت جو کچھ سمجھ پاتا ہے کبھی کبھی اس سے اہم نتائج بھی برآمد ہوتے ہیں ۔

شخصی محرکات کا پتہ لگانے سے آگے نفسیات کا علم عاجز ہے۔ وہ یہ نہیں بتا سکتا کرکسی ادب پارے کی کیا قدر وقیمت ہے ، اس میں کیا خوبی یا کیا خرابی ہے اور ادب میں اس کا کیا مقام ہے۔ نفسیاتی تنقید صرف دو کام کر سکتی ہے ۔ اول تو یہ کہ کسی تخلیق کے وجود میں آنے کے داخلی اسباب و محرکات کا پتہ لگائے ۔ دوسرے یہ کہ فن کار نے جو علامتیں ، استعار نے اورتشبیہیں استعمال کی ہیں یا جن فنی تدابیر سے کام لیا ہے ان کا نفسیاتی تجزیہ کر کے فن کار کے ذہن یک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرے ۔ گویا نفسیاتی تنقید کا میدان تنگ ہے اور ضروری نہیں کہ وہ اس مخصوص میدان میں بھی کامیاب ہو اور صحیح نتائج بر آمد کرلے ۔ موجودہ زمانے میں نفسیات نے بہت ترقی کی ہے اور اسے سائنس کہا جاتا ہے ۔ لیکن اسے سائنس تسلیم کر لیا جائے تو بھی ماننا پڑے گا کہ یہ ناقص سائنس ہے اور اس پر پورا بھروسا نہیں کیا جا سکتا ۔

بھر پور اور کامیاب تنقید وہ ہے جو کسی ادبی وفنی کارنامے کو کسی ایک عینک اور کسی مخصوص زاویے سے نہ دیکھے بلکہ جتنے وسائل اور جتنے طریقے ممکن ہیں ان سب کو استعمال کرے ۔ وہ اقتصادی روابط سے گزر کر فن پارے تک پہنچے ، معاشرتی اور سیاسی ماحول کے واسطے سے اسے سمجھنے کی کوشش کرے ، فلسفہ جمال کی عینک سے اسے دیکھے لیکن یہ بھی نہ بھولے کہ فن کار کے باطن سے گزرے بغیر بھی فن پارے تک رسائی ممکن نہیں ۔ یہ آخری راستہ بہر حال علم نفسیات اور تحلیل نفسی سے ہو کر گزرے گا ۔ یہ راستہ بال سے باریک اور تلوار کی دھار سے تیز ہے مگر اس پر سے گزرنا اس پر سے بہر حال ضروری ہے اس پر سے گزرتے ہوئے تنقید نگار کو اپنے حواس بیدار رکھنے ہوں گے۔ یہاں ذرا سی لغزش تنقید نگار کو بھٹکا دینے کے لیے کافی ہے ۔ انگریزی میں آئی ۔ اے ۔ رچرڈس اور آدن وغیرہ نے نفسیاتی تنقید کے اچھے نمونے پیش کیے لیکن اردو میں خالص نفسیاتی تنقید کے نمونے کم یاب ہیں ۔

سائنٹفک تنقيد

سائنٹفک ادبی تنقید سے مراد ہے معروضی (Objective) تنقید یعنی ادب کو ایسے معیاروں سے پرکھنے کی کوشش جن میں سائنس کی سی صحت ، قطعیت اور غیر جانب داری ہو۔ یہاں یہ گنجائش نہیں کہ نقاد اپنی ذاتی پسند نا پسند یا نجی تعصبات کی بنیاد پر کوئی فیصلہ صادر کر دے ۔ یہ رد عمل ہے اس تمام تنقید کے خلاف جس کے پاس کوئی اصول نہیں ، کوئی ضابطہ نہیں ۔ بس ایک من کی موج ہے کہ جدھر چاہے نقاد کو بہائے جائے ۔ ادب اور تنقید کے بھی قوانین ہو سکتے ہیں اور ان کی روشنی میں کسی فن پارے کی قدر و قیمت کا تعین کیا جا سکتا ہے ۔ سائنٹفک تنقید کے سلسلے میں ایک دشواری یہ رہی کہ مختلف دبستان مثلاً تاریخی ، ماکسی جمالیاتی ، استقرائی ۔ سب نے اپنے اپنے اصول وضع کیے اور ان پر ادب کو پرکھا۔ اس لیے یہب اس بات کے دعویدار رہے کہ ان کی تنقید سائنٹی تک ہے ۔ مگر یہ دعویٰ غلط ہے ۔ مثلاً جمالیاتی تنقید اس کا سراغ تو لگا لیتی ہے کہ کوئی فن پارہ ہمیں پسند ہے تو اس کا کیا سبب ہے اور اس میں وہ کون ساحسن ہے جو ہمیں اپنی طرف کھینچ لیتا ہے مگر وہ یہ بھول جاتی ہے کہ وہ کیا مادی اسباب تھے جنھوں نے اس فن پارے کو جنم دیا۔ اسی طرح نفسیاتی تنقید فن کار کے ذہن تک تو رسائی حاصل کر لیتی ہے مگر باقی تمام چیزوں سے بے خبر رہتی ہے ۔اصلیت یہ ہے کہ صرف وہ تنقید سائنٹفک تنقید کہلانے کی مستحق ہے جو کسی ایسے وسیلے کو نظر انداز نہ کرے جس سے فن یا فن کار پر روشنی پڑ سکتی ہو ۔ وہ حسب ضرورت تاریخی ، استقرائی ، جمالیاتی ، عمرانی ، نفسیاتی ۔ گویا تنقید کے تمام دبستانوں سے مدد لیتی ہے ۔ وہ ہر فن کو نظرانداز کرتی ہے نہ فن کار کو اور دونوں کو ہر زاویے سے دیکھنے اور پرکھنے کی کوشش کرتی ہے ۔شارب ردولوی لکھتے ہیں کہ سائنٹی فک تنقید ادبی تخلیقات اور فن کار سے متعلق تمام مباحث کو اپنے اندر سمولیتی ہے اور جمالیاتی، نفسیاتی ، سماجی اور مروجہ خیالات کی روشنی میں فنی تخلیق کی اہمیت کا پتہ لگاتی ہے ۔ یہ نظریہ تنقید ادبی فضا میں ایسے ذریعے کا کام کرتی ہے جو ادب کے سمجھنے میں معاون و مددگار ہوتا ہے ۔

سائنٹی فک نظر یہ تنقید روایت پرستی کو پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھتا۔ ادب کے فروغ کے لیے وہ نئے نئے تجربوں کو ضروری سمجھتا ہے ۔ وہ فن کار کے خیالات کو بجنسہ پیش نہیں کرتا بلکہ ان پر فیصلہ بھی صادر کرتا ہے۔ ادب براے ادب کو وہ اس لیے شبہ کی نظر سے دیکھتا ہے کہ وہ فن کو سماج سے جدا کر دیتا ہے۔ تصوف پرستوں کو وہ پسند نہیں کرتا کیونکہ یہ لوگ ایسی اندرونی اور نجی دنیاؤں کو آباد کرتے ہیں جن کا حقیقت کی دنیا سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا ۔ نیز تنقید کا یہ نظر یہ ماضی کی روایات کا احترام کرتا ہے لیکن ماضی پرستی کی ترغیب نہیں دیتا ۔سائنٹفک تنقید اپنے اصول رکھتی ہے ۔ یہ اصول کسی فرد یا کسی گروہ کی خواہش یا ذاتی پسند سے نہیں بنائے جا سکتے بلکہ خود تخلیق سے اخذ کیے جاتے ہیں اور وہ اس طرح کہ اس تخلیق کے محرکات پر ، اس کے عہد اور عہد کے حالات پر ، مصنف کے خیالات و رجحانات پر غور کرنے کے بعد یہ وضع کیے جاتے ہیں۔ جو نقاد انھیں وضع کرے اس کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ معروضی نقطہ نظر رکھتا ہو اور فن پارے کا ہمدردی اور گہرائی سے مطالعہ کرنے کی صلاحیت کا مالک ہو اور اس کے مزاج میں جلد بازی نہ ہو۔ادب میں نظریے کی گنجایش ہے یا نہیں اس موضوع پر برابر بحث ہوتی رہی ہے لیکن چونکہ سائنٹی تک تنقید کسی پہلو کو نظر انداز نہیں کرتی اس لیے وہ یہ تسلیم کرتی ہے کہ فن کار کی شخصیت اور فن کار کے نظریات بہر حال اس کی تخلیق میں جگہ پاتے ہیں خواہ وہ نمایاں ہوں یا زیر زمین اتنی بات پر اب اہل نظر کا اتفاق ہے کہ نظریات بہت کھلے ہوئے نہیں ہونے چاہئیں ۔ ضروری ہے کہ ان سے فن مجروح نہ ہو ورنہ ادب پارہ رعنائی و دلکشی کھو بیٹھے گا۔

جمالیاتی نظر یہ بھی مغرب کی پیداوار ہے اور وہیں یہ پھلا پھولا ۔ اتنا ضرور ہے کہ اردو تنقید بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی ۔ اس سلسلے میں پہلا نام سرسید کا ہے ۔ ان کا ذہن منطقی تھا اور وہ ہرچیز کو قتل اور سائنس کی کسوٹی پر کسنے کے عادی تھے ۔ عدیم الفرصتی نے موقع نہ دیا کہ وہ تنقید کیطرف سنجیدگی سے توجہ کر سکیں مگر رہبری کا فرض انھوں نے بہر حال ادا کر دیا۔ ان کے تنقیدی نظریات بڑے با وزن اور دقیع ہیں مگر وہ ان کے مختلف مضامین میں منتشر ہیں ۔ تاہم انھوں نے اپنے رفقا کے دلوں میں یہ احساس ضرور پیدا کر دیا کہ ادب و تنقید کے لیے قوانین وضع کرنے کی ضرورت ہے ۔

محمد حسین آزاد تاثراتی تنقید نگار ہیں مگر تنقید ادب کے لیے انھوں نے کئی اہم اصول وضع کیے ۔ اردو تنقید کے نظریہ سازوں میں شبلی کا نام لینا بھی ضروری ہے لیکن جس نقاد کے یہاں سائنٹی تک بنیادوں پر تنقید کی مکمل عمارت اٹھتی اور سر بلند ہوتی نظر آتی ہے وہ حالی ہیں جنھوں نے اردو کو تنقید کا ایک جامع نظام دیا، ادب اور زندگی کے محکم تعلق کی وضاحت کی مقصدیت کو ادب کی روح قرار دیا ، شعر کی ماہیت پر روشنی ڈالی ، اچھی شاعری کی خصوصیات متعین کیں اور اردو کی شعری اصناف میں ان خصوصیات کی تلاش کی۔ اس لیے اردو کی سائنٹی فک تنقید حالی کے احسان سے گراں بار ہے ۔

ترقی پسند نقادوں میں پروفیسر احتشام حسین پہلے شخص ہیں جنھوں نے تنقید کے متوازن اصول مرتب کیے ۔ ہر چند کہ شدت پسندی ان کے مزاج میں بھی ہے اور اشتراکیت سے ویکسی طرح دامن نہیں چھڑا سکے مگر انھوں نے ادب کی بنیادی قدروں کو بہر حال اہمیت دی ۔ اس لیے ائنٹی تک نقادوں میں ان کا شمار بھی لازم ہے۔ پروفیسر محمد حسن اور قمر رئیس مارکسی نظریات کےحامل ہیں مگر شعر و ادب کے مسائل پر ان کی نظر گہری ہے اور وہ اوصاف ان کی نظروں سے اوجھل نہیں ہوتے جو ادب کی ابدیت اور آفاقیت کے ضامن ہیں۔ ممتاز حسین نے بھی ترقی پسند تنقید کو وسعت دی اور اسے ٹھوس بنیا دیں فراہم کیں۔


رومانوی تنقید

رومانی تنقید روایت کی ادبی تحریک کے زیر اثر وجود میں آئی۔ رومانیت، رومان، رومانی طرز احساس اور رومانی کرب و غیر و جیسے اصطلاحات عام طور پر مشہور ہیں۔ رومانس کے معنی الگ الگ دور میں الگ الگ لیے گئے ہیں۔ 1638 میں رومانس بطور جھوٹی کہانی کے اور ۱۹۵۹ء میں بطور جعلی اور جھوٹی کہانی کے لیے گئے ہیں ۔اسی طرح روایت سے مراد ایسے قصےتھے اور کہانیاں ہیں جن میں رومانس کا عنصر بھی ہو اور جھو ٹی بھی ہوں یعنی تخیل کی بناء پر جھوٹی اور ماورائی کہانیاں بیان کرنا ادب برائے ادب کے زمانے میں رائج تھا۔ ایسی باتیں جنھیں پڑھ کر یا سن کر لوگ کچھ دن کے لیے حقیقت سے دور ہو جاتے تھے اور اس میں اس قدر گم ہو جاتے تھے کہ ان کو ذہنی تسکین کا باعث سمجھتے تھے۔

در اصل رومانیت کی تحریک مغرب کی دین ہے۔ انگلستان میں ورڈزورتھ اور کولرج نے شاعری اور تنقید کا آغاز کیا اور انہیں کو انگریزی میں رومانیت کی ادبی تنقید اور رومانی  تنقید کا بانی سمجھا جاتا ہے۔  ورڈزورتھ نے جن خیالات کا اظہار کیا انہیں کو اس تنقید کا بنیاد مانا گیا۔ یعنی تخیلاتی اور جذباتی باتیں جو انسان کے خوشی کا باعث ہوں انہی باتوں کو اس نے اپنی تنقید کا موضوع بنایا۔اس طرح یہ کہا جا تا ہے کہ مسرت، حسن اور جذبات رومانیت کی سائش قرار پائے۔ رومانی تنقید نگاروں نے اپنی تنقید میں انہیں تصورات کو ڈھونڈ نے کے کوشش کی  کیونکہ رومانی نثر نگاروں کا ماننا تھا کہ شاعری کی بنیاد حقیقت پر نہیں بلکہ مسرت پرہے۔

اسی لیے وہ خوشی اور ذہنی تسکین کے لیے اپنی تحقیقات پیش کرتے تھے۔ اس لیے انہوں نے اعلی شاعری کے لیے یہ معیار بنادیا کہ عمد ہ شاعری وہ ہے جسے ہر بار پڑھنے سے نئی طرح کی مسرت و خوشی حاصل ہو۔ رومانی تنقید نگاروں نے فن پارے میں انہیں نقاد کو تلاش کرنے کی کوشش کی ۔ ان کی نظر میں زیادہ علوم کے مطالعے سے اچھا شاعر نہیں بن سکتا۔ بلکہ ان کے خیال میں رومانی نقاد شاعر کے تخیل کی کار فرمائی کا اندازہ کر کے اس کی تنقید کرتا ہے۔ اس لئے رومانی کاروان تمام چیزوں کو تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے جس سے کسی بھی فن پارے میں خوشی کا احساس ہوتا ہو۔

رومانی تنقید اور شاعری ایک طرح سے بغاوت تھی جس نے تخلیقی سطح پر اپنا ظہار کیا۔ رومانی اور رومانی طرز احساس برقرار رہو گے لیکن رومانی تنقید  میں حسن مسرت اور جذبات و احساسات پر جوز ور دیا گیا تھا اسکا شدید رد عمل ہوں۔ رومانی تنقید کا جمالیاتی تنقید اور ادب برائے ادب کے نظریے سے فرق کرنا بھی آسان نہیں رہا۔ اس لیے مار کسی تنقید نے ان سب کی خدمت کی۔لیکن جہاں تک رومانی تنقید کا سوال ہے روز یادہ دن تک قائم نہیں رہ سکی اور اس تنقید کے حوالے سے نیاز فتح پوری مہدی افادی، مجنوں گورکھ پوری کے نام لیے جاسکتے ہیں جنہوں نے رومانی تحقید کو پیش کرنے میں اہم رول ادا کیا۔ یہ تحریک اردو میں زیادہ دن تک نہ چل سکی اور اس کے رد عمل کے طور پر دوسری تحریکیں وجود میں آئی اور اس طرح رومانی تنقید اردو ادب میں زیادہ کامیاب ثابت نہ ہو سکی۔اردو ادب کے رومانی تنقید نگار:

فراق گورکھپوری:

فراق گورکھپوری نے اردو کی رومانوی شاعری کو ایک نئے طرز سے پیش کیااوران کے اس کاوش کو بہت سے جدت پسندوں سے زیادہ جدید شمار کیا گیا۔ اردو ادب کی مختصرتاریخ میں ڈاکٹر انور سدید لکھتے ہیں:

"جس طرح لفظوں کے رنگ برنگے پھولوں سے فراق نے اپنی عبارت کو سجایا ہے اس سے شعراء کے کلام کی بنیادی روح ہم پر ضرور منکشف ہو جاتی ہے۔"

انہوں نے  اپنی تنقیدی کتاب’’ اندازے‘‘ کے مضامین میں مصحفی، غالب، حالی داغ، ذوق، حسرت اور ریاض  جیسے شعراء کے کلام سےہی تخلیقی بازیافت کی ہے اور اس کو اس انداز میں پیش کیا ہے ان کا کلام تروتازہ محسوس ہونے لگتا ہے ان کی دو کتب’’ اردو کی عشقیہ شاعری‘‘ اور’‘ اردو غزل گوئی‘‘ میں  مغرب کے تنقیدی شعور کو مشرقی انداز میں پیش کیا ہے فراق کی تنقید  کے اہم عناصر میں ان کے منفرد خوبی، باریک بینی، اسلوب کی لذت اور ذوق ملتا ہے۔

 یوسف حسین خان:

یوسف حسین خان کی خاصیت یہ ہے متفرق موضوعات پر لکھنے کی بجائے کسی ایک ہی موضوع پر مربوط  اورجامعہ لکھنے والے نقاد ہیں اپنی کتاب اردوغزل میں انہوں نے اس صنف ادب کو قدیم اور جدید ادوار کی روشنی میں پرکھا اور جانچا ہے وہ تنقید میں فن پارے کے داخلی اور صوتی حسن کو اجاگر کرتے ہیں۔ یہی جمالیاتی انداز ان کی کتاب’’ روح اقبال‘‘’’ حسرت کی شاعری‘‘اور’’ غالب و آہنگ غالب‘‘ میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے  کہ وہ شاعر کا تجزیہ نہیں کرتے بلکہ یہ اس کے تجربے میں شامل ہونے کی کوشش کرتے ہیں جس سے شاعر فن پارہ تخلیق کرتے وقت گزرا تھا۔

عابد علی عابد:

عابد علی عابد نے تنقیدی اصولوں کی  تدوین کرتے ہوئے مغرب کی علمی بصیرت اور مشرق کی خوش اسلوبی و خوش ذوقی دونوں  سے یکساں فائدہ اٹھایا ہے اور مزید یہ کہ اپنے مخصوص جمالیاتی مزاج کے مطابق تنقیدی فیصلے صادر کئے ہیں  انہوں نےشعر میں داخل اور خارج سے موسیقی کا آہنگ اور صوتی حسن دریافت کیا اور معنوی خوبیوں کے ساتھ ساتھ لفظی دلالتوں، تشبیہات اور استعارات کے فنکارانہ استعمال کو زیادہ اہمیت دی ہے ۔انہوں نے’’ اصول انتقاد ادبیات‘‘ اور’’ اسلوب‘‘ جیسی کتب لکھیں اور ان میں نظریاتی  مباحث کیے ہیں’’ توضیح و تشریح اقبال‘’ میں ان کا رویہ خالصتاً  رومانوی ہے

آل احمد سرور:

آل احمد سرور کی تنقید کے بنیادی عناصر اعلی ظرفی، کشادہ دلی اور ہمدردی ہیں۔ڈاکٹر انور سدید آل احمدسرور کی تنقید کے حوالے سے لکھتے ہیں :

"انہوں نے اپنی تنقیدی کتابوں میں مغربی علوم و نظریات سے بھی استفادہ کیا ہے لیکن فوقیت مشرق کے تہذیبی انداز کو دی ہے"

ان کی تنقید میں ان کے ذاتی نقطہ نظر کو بھی خاص اہمیت حاصل ہے لیکن اس کے باوجود جمال پسندی ان کے تنقیدی مزاج کا ایک جزو لازم ہے وہ فن پارے کے حسن کو بڑے لطیف انداز میں پیش کرتے ہیں۔ اپنی تنقیدی کتب’’ نئے پرانے چراغ‘‘’’ ادب اور نظریہ تنقید کیا ہے‘‘اور’’ تنقیدی شاعری‘‘ میں جہاں وہ مغربی علوم سے استفادہ کرتے ہیں وہیں فوقیت مشرق کے تہذیبی انداز کو  بھی دیتے  نظر آتے ہیں اسی لیے بعض  نقادوں نے ان کی تنقید میں حالی کے اثرات کی طرف نشاندہی کی ہے۔

سید وقار عظیم:

سید وقار عظیم اردو ادب کے معروف استاد اور نقاد ہیں بعض لوگ انہیں مارکسی تنقید کا نقاد شمار کرتے ہیں لیکن وہ خود کسی خاص نظریے سے فرد کی وابستگی کوضروری خیال نہیں کرتے ان کے تنقیدی رویے کی خصوصیات میں فن پارے کے فنی اور جمالیاتی پہلوؤں پر ہمدردانہ نظر رکھنا ہے وقار عظیم نے افسانے کی تنقید پر خصوصی توجہ دی ہے اور بہت سے افسانہ نگاروں اور  افسانوں کی انفرادیت کو اس وقت اہمیت دی اور اجاگرکیا  جب اپنے کام کی وجہ سے یہ کوئی خاص شہرت نہ رکھتے تھے۔ان کی اہم تنقیدی کتب میں ’’داستان سے افسانے تک‘‘’’ نیا افسانہ‘‘ اور’’ اقبال شاعر اور فلسفی‘‘ اردو میں خاص مقام  رکھتی ہیں۔

ڈاکٹر خورشید الاسلام:

ڈاکٹر خورشید الاسلام  کی تنقید کی نمایاں خصوصیات میں  ذوقی زاویے اور وجدانی جہات نمایاں ہیں یہ کسی بھی ادیب کے تخلیقی تجربے کو خاص اہمیت دیتے ہیں اور اس میں شمولیت کو ضروری سمجھتے ہیں انہوں نے مرزا ہادی رسوا اورعبدالرحمن بجنوری کے حوالے سے جو تنقید کی ہے اسے رومانوی تنقید میں خاص اہمیت حاصل ہےاوران کی کتاب’’ تنقیدیں‘‘ اس سلسلے کی ایک اہم ترین کڑی ہے اس کتاب کو پڑھ کر قاری اپنی روح کو معطر محسوس کرتا ہے۔

حمید احمد خاں:

ان کی تنقید کی خصوصیات میں  نکتہ آفرینی کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے وہ ادب کو مغرب کے نظریے سے دیکھتے اور مشرق کے نظریے سے اس کا تجزیہ کرتے نظر آتے ہیں۔  ڈاکٹر انور سدید حمید احمد خاں کی فکر و نظر کی وضاحت کرتے  ہوئےلکھتے ہیں :

’’حمید احمد خاں کا ادبی ذوق مغربی سر چشموں سے سیراب ہوا تھا لیکن ان کی فکر ونظر کی ترتیب میں اسلام اور مشرقی تہذیب نے حصہ لیا اقبال، غالب اور حالی  سے ان کا مزاج ہم آہنگ تھا گلزار نسیم  اور سرشار کی دریافت میں بھی انہوں نے مشرقی بصیرت استعمال کی انہوں نے تاثر میں نکتہ آفرینی کو اہمیت دی‘‘ان کی  کتاب’’ مرقع غالب‘‘ میں ان کا رومانوی اور جمالیاتی نظریہ غالب نظر آتا ہے اس کے علاوہ مہدی افادی نے’’  آدھ گھنٹہ شبلی کے ساتھ شعرالعجم پر ایک فلسفیانہ نظر‘‘ اور’’ اردو لٹریچر کے عناصر خمسہ‘‘اور عبدالماجد دریابادی نے’’ صدق جدید‘‘’’ فلسفہ حیات‘‘’’ فلسفہ اجتماع اور’’ انشائے مآجد‘‘جیسی کتب لکھ کر اردو کی رومانوی تنقید میں اپنا حصہ ڈالا۔

 

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.