Swami
Ramanand Teerth Marathwada University, Nanded.
سوامی رامانند
تیر تھ مراٹھواڑہ یو نیور سٹی ، ناندیڑ۔
Faculty of Humanities
شعبہ انسانیات
Effective from Academic year 2020
روبہ عمل تعلیمی سال2020-
B.A. Second Year, Semester- III
بی۔اے۔سال دوّم(میقات
سوّم)
Optinal Urdu-VI
(Marsiya aur Rubai)
اختیاری اُردو ( مر ثیہ اور رباعی)
.................................................................................................
مرثیہ کی تعریف:
مرثیہ
عربی زبان کے لفظ ”رثی“ سے ماخوذ ہے۔ رثی کے معنی ہیں مردے پر رونا اور آہ وزاری
کرنا۔ عرب میں عزیزوں و بزرگ اشخاص کی موت پر رنج و غم کے جذبات سے بھرے ہوئے جو
اشعار عربی زبان میں کیے جاتے تھے انھیں اصطلاحا "مرثیہ" کہا جاتا تھا۔
اس سے واضح ہوا کہ مرثیہ ایسے شخص کے اوصاف کا بیان ہے جو وفات پا چکا ہو۔ قصیدے
میں بھی کسی شخص کے اوصاف کا بیان ہوتا ہے لیکن ایسے شخص کا جو زندہ ہو۔ متن میں
غم و افسوس اور ذاتی غم کی ترجمانی شخصی مرثیے کی شناخت تصور کی جاتی ہیں جیسے
الطاف حسین حاؔلی نے غاؔلب کی وفات پر ان کا مرثیہ لکھا یا علامہ اقباؔل نے داؔغ
کی وفات پر ان کا مرثیہ تحریر کیا۔ اردو میں صنف مرثیہ کا بیش بہا خزانہ موجود ہے۔
جمیل جالبی نے مرثیے کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے:
"اس میں حضرت امام حسین کی شہادت پر شاعر اپنے غم ورقت انگیز جذبات کا اظہار کر کے اہل مجلس میں غم ورقت کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ تا کہ وہ بین و ماتم کی طرف رجوع ہو کر ثواب حاصل کر سکیں۔ بین و ماتم مرثیے کا بنیادی مقصد ہے۔‘‘
(
جمیل جالبی ، تاریخ ادب اردو، جلد چہارم، حصہ اول، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی،
2013ء،ص،541)
اس
طرح اردو مرثیہ دو حصوں میں تقسیم ہو گیا یعنی شخصی مرثیہ اور دوسرا وہ مرثیہ جس
میں حضرت امام حسین اور ان کے اعزا و انصار کی شہادت کو موضوع بنا کر ان کی مدح
سرائی مذہبی عقیدت اور غم والم کے جذبات کے ساتھ کی گئی ہو۔ چنانچہ اس دوسرے نوع
کے مرثیوں نے اردو میں خوب خوب ترقی کی۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مریے کی
شناخت موضوع ہے۔ ہیئت ہے یا دونوں ۔ ہیئت سے مراد یہ ہے کہ کوئی بھی شعری صنف اپنی
ایک مخصوص ظاہری شکل رکھتی ہے۔ جو کسی مخصوص نظام کے تحت تشکیل پاتی ہے۔ ظاہری شکل
کا نظام یا تو قوافی کی کسی مخصوص ترتیب پر مبنی ہو گا جیسے غزل کے تمام ثانی
مصرعوں کا ہم قافیہ ہونا یا مثنوی کے ہر شعر کے دونوں مصرعوں کا ہم قافیہ ہونا اور
ہر شعر کے بعد قافیوں کا بدل جانا یا مصرعوں کی تعداد کا کم یا زیادہ ہونا مثلاً
مسمط کی مختلف شکلیں یا نظم معریٰ میں قافیوں کا استعمال نہ ہونا یا مصرعوں کے
ارکان میں کمی بیشی ۔ چنانچہ مختصر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہر شعری بیت اپنی ایک الگ
ظاہری شکل رکھتی ہے جس سے ہم پہچان لیتے ہیں کہ یہ فلاں ہیئت ہے۔مرثیے کے لئے ابتدا
میں کوئی شعرہئیت مخصوص نہیں تھی بہت دنوں تک اس کی شناخت موضوع ہی رہا جسے مختلف
ہیتوں میں لکھا جا تارہا۔
سودؔا
کے عہد سے اسے مسدس کی شکل میں لکھا جانے لگا۔ اور آگے چل کر بڑی حد تک یہی بیت اس
کے لیے مخصوص ہو گئی ۔ مسدس چھ مصرعوں کا ایک بند ہوتا ہے ہر بند کے اولین چار
مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں اور آخری دو مصرعے اپنا الگ قافیہ رکھتے ہیں۔ گو کہ
کربلائی مرثیے بیشتر اس ہیئت میں لکھے گئے ہیں۔ پھر بھی مرثیے کی اصل شناخت موضوع
ہی ہے۔ اصناف سخن کی درجہ بندی میں کسی منطقی اصول کے کمیاب ہونے کی وجہ سے کبھی
کبھی بڑی الجھنیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ انیس و دبیر کے زیادہ تر مرثیےمسدس کی شکل میں
ہی ہیں۔ لیکن کوئی انھیں مسدس انہیں اور پیر نہیں کہتا۔ برخلاف اس کے حالی کی نظم "مد
و جزر اسلام "مسدس کی شکل میں ہے تو اسے مسدس حالی کہا جاتا ہے کوئی اسے
مدوجز راسلام نہیں کہتا۔ متنوع اور ہمہ گیر شاعری کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو کر
بلائی مرثیےمحدود امکانات رکھتے تھے۔
لیکن
مرثیہ گویوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے اسے ہمہ گیر وسعت عطا کر دی اور اس صنف
سخن کو عظیم شاعری کی صف میں لا کھڑا کیا۔ اس کے لئے انھوں نے شعر کے جملہ محاسن
کو ہر وقت پیش نظر رکھا۔ مزید یہ کہ واقعہ نگاری، مختلف مواقع کی تصویر کشی ،
اعلیٰ درجے کی کردار نگاری، نازک سے نازک احساسات کی مؤثر عکاسی اور مناظر فطرت کے
شگفتہ و بلیغ بیانات نے صنف مرثیہ میں جان ڈال دی اور یہ صنف محض رونے رلانے اور
المیہ جذبات کے اظہار تک محدود نہیں رہی۔ اس میں ایک ہمہ گیری پیدا ہوگئی اور یہ
صنف سخن اردو میں ایک محترم و مہتم بالشان صنف کے درجے پر پہنچی گئی بلکہ عالمی
ادب میں نیچرل شاعری کی صف اول میں شمار ہونے لگی۔ مزید یہ کہ کر بلائی مراثی کا
ذکر کرتے وقت ہم مرثیےکا تصور ایک ایسی صنف کے طور پر کرتے ہیں جوکربلا میں پیش آئے
تمام واقعات سے متعلق ہو نہ کہ کسی شخص کی ذات سے۔ مرثیے کی الگ شناخت کے سلسلے
میں یہ بات بھی اہم ہے کہ یہ صرف لکھ اور پڑھ دینے کی حد تک محدود نہیں بلکہ یہ
مجمع کے روبرو پیش بھی کی جاتی ہے۔
کربلائی
مرثیے اصلاً اجتماع کے سامنے پڑھے جانے کےلئے ہی لکھے جاتے رہے ہیں۔ قصیدے بھی کسی
مدوح کو سنانے کے لئے ہی لکھے جاتے تھے لیکن اس کا سامع یا مخاطب صرف ایک مخلص
ہوتا تھا جبکہ مرثیےکا سامع ایک مجمع ہوتا تھا۔ اس طرح اس میں عوامی ترسیل کی
خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں۔ یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہئے کہ مکمل مرثیے میں نوجز
ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس میں یہ بھی آسانی ہے کہ اگر ضرورت ہو تو سوائے شہادت اور بین
کے کسی بھی جز کو حذف کر کے مرثیےکو مختصر کر کے بھی پڑھا جا سکتا ہے۔شمالی ہند
میں مؔیر وسودؔا کے دور تک شاعری کی ہر ہیئت میں مرثیہ کہا گیا۔ اس سے اندازہ ہوتا
ہے کہ اس دور میں مرثیہ مناسب ہیئت کی تلاش میں تھا۔ شاعری کی ہر ہیئت کو آزمایا
جا رہا تھا کہ جسے مؤثر پایا جائے اس صنف کے لئے چن لیا جائے۔ اس دور کے ختم ہوتے
ہوتے مربع اور مسدس کی شکلیں ہی زیادہ مقبول رہیں پھر بھی زیادہ مرغوبیت مسدس کی
ہی رہی۔
مرثیے
کے اجزائے ترکیبی:
مرثیے
کے اجزائے ترکیبی نو ہیں۔ اردو کی کسی دوسری صنف سخن میں اتنے اجزا نہیں پائے جاتے
فنی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو مرثیے میں جذبات نگاری اور واقعات کی تصویر کشی پر
خاص زور دیا جاتا ہے۔ واقعات میں بھی سب سے زیادہ اہمیت رزم آرائی کو حاصل ہے۔
مرثیہ نگاروں نے اس پر خصوصی توجہ صرف کی ہے۔ مرثیے سے اردو میں مراد واقعات کربلا
کا بیان ہے اور اس سانحہ میں پیش آنے والے واقعات کی تعداد کافی زیادہ ہے اور یہ
واقعات ایک خاص ترتیب سے پیش آئے ، لہذا ان واقعات کی ترتیب کا خیال رکھتے ہوئے
حسب ذیل اجزا متعین ہو گئے۔ چہرہ ، سراپا ، رخصت آمد، رجز، رزم ”شہادت“، بین"
لیکن یہ ضروری نہیں کہ یہ اجزا ہر مریثے میں پائے ہی جائیں اور ضروری نہیں کہ
مذکورہ ترتیب بھی قائم رہے۔
1) چہرہ: چہرے کو مر ثیے کی تمہید
کہا جا سکتا ہے۔ اکثر مرثیوں کا آغا زحمد، نعت، منقبت اور مناجات سے ہوا ہے۔ کچھ
مرثیہ نگاروں نے اپنے کلام کی خوبیاں بیان کرنے سے مریثے کا آغاز کیا ہے۔ اس میں رات کا سماں، صبح کا
منظر، دنیا کی بے ثباتی ، سفر کی دشواریاں اکٹر تمہید کے طور پر بیان کی گئی ہیں۔
2) سراپا: اس جز میں مرثیے کے ہیر و
یا جن بہادروں کا آگے ذکر آنے والا ہے۔ ان کے قد و قامت، چہرہ مہرہ ، خط و خال ،
ان کے فضائل و خصوصیات کی تصویر کشی شروع میں ہی کر دی جاتی ہے۔ مثلا:
سوکھے لبوں پہ حمد الہی رخوں
پہ
نور خوف و ہراس درنج
و کدورت دلوں سے دور
فیاض
حق شناس، اولوالعزم ذی شعور
خوش فکر و بذلہ سنج و ہنر
پرور و غیور
کانوں کو
حسن
صوت سے
حظ برملا ملے باتوں میں وہ
نمک کہ دلوں کو مزا ملے
3) رخصت : اس
جز میں امام حسین کے اعزا و اقارب کا ذکر ہوتا ہے جو ایک ایک کر کے جنگ کے لئے
جاتے ہیں۔ جاتے وقت امام حسین سے اجازت لے کر عزیز واقارب سے ملاقات کر کے جنگ کے
لئے رخصت ہوتے ہیں مثلا:
حُر نے رو کر سر تسلیم جھکایا بہ ادب شہ نے رومال رکھا آنکں پر ،رونے لگے سب
جب چڑھا گھوڑے پر وہ عاشق سلطان عرب شاہ بولے کہ عجب دوست چھٹا ہائے غضب
دمبدم یاں سے جو آواز
بکا جاتی تھی گریئہ آل محمد کی صدا آئی تھی
4) آمد: مرثیے
کے اس حصے میں ہیرو کا گھوڑے پر سوار ہو کرشان وشوکت کے ساتھ میدان کارزار میں جنگ
کے لئے آنا دکھایا جاتا ہے۔ اس میں ہیرو کے گھوڑے کی تعریف بھی کی جاتی ہے اور یہ
بھی دکھایا جاتا ہے کہ کسی دلیر کے میدان جنگ میں پہنچنے سے کس طرح دشمن کی فوج
میں خوف و ہراس پھیل جاتا ہے۔ جناب امام کا میدان جنگ میں پہنچنے کا عالم ملاحظہ
ہو:
پہنچا
جو اس شکوہ سے خیرالورا کا لال
کانپے جبل، لرزنے لگا عرصۂ قتال
ٹوٹے
جو مورچے
تو پکارے ی بد خصال
بھا گو کہ آئے شیر الٰہی پئے جدال
دیکھا جو ورعب قبلہ عالی مقام عالموں
نے جھک کر ہاتھ بڑھائے سالم کو
5) رجز: ہیر
ومیدان جنگ میں پہنچ کر دشمنوں کو للکارتا ہے اور فخریہ انداز میں اپنے نسب کی
تعریف، اسلاف کے مجاہدانہ کارناموں کا بیان اور جنگ کے فن میں اپنی مہارت کا ذکر
کرتا ہے، مثلاً:
تم
کیا پہاڑ بیچ میں گر ہو تو ٹال دیں
شیروں کو
ہم ترائی سے باہر نکال دیں
مہلت نہ ایک کو دم
جنگ
و جدال دیں پانی تو کیا ہے آگ
میں گھوڑے کو ڈال دیں
منہ
دیکھتے رہیں جو نگہباں ہیں گھاٹ کے لے
جائیں گھر یہ تیغ سے دریا
کو کاٹ کے
6) رزم: یہ
مرثیے کا سب سے اہم حصہ ہے۔ مرثیہ گویوں نے اس کے تفصیلی بیان میں اپنا سارا زور
صرف کر دیا ہے۔اس میں ہیرو کا کسی نامی پہلوان یادشمن کی فوج سے بہادری کے ساتھ لڑ
نا دکھایا جا تا ہے اس میں ہیرو کے گھوڑے، تلوار اور دوسرے ہتھیاروں کی تعریف بھی
کی جاتی ہے۔اردو مرثیہ نگاروں نے اس حصے میں بڑی مہارت کے ساتھ جنگ کے جیتے جاگتے
مرقعے پیش کئے ہیں اور فن سپہ گری سے اپنی واقفیت کا ثبوت پیش کیا ہے۔ دوسرے اجزا
کے مقابلے اس جز میں شاعر کو شکست وفتح کے ہزار منظر دکھانے کا موقع ملتا ہے۔
دشمنوں کی شکست کا ایک منظر دیکھئے:
تھی ابتری سپاہ صلالت شعار
میں اس صف
میں تھی وہ صف یہ
قطار اس قطار میں
سو
بار جو لڑے
تھے اکیلے ہزار میں وہ جائے امن
ڈھونڈتے تھے کا رزار میں
چہرے تھے زرد خوف
سے حیدر کے لال کے نامرد منہ چھپاتے تھے
گھونگھٹ میں ڈال کے
7) شہادت: مرثیہ نگار کو اس جز میں
مرقع کشی اور جذبات نگاری کا ہنر دکھانے کا خوب موقع ملتا ہے کیونکہ اس میں ہیرو
کا بہادری کے ساتھ جنگ کرتے ہوئے دشمنوں کے نرغے میں گھر جانا ، زخمی ہونا اور آخر
کار اپنے معبود حقیقی سے جاملنا دکھایا جاتا ہے، جیسے:
گرتے
ہیں اب حسین فرس پر سے، ہے غضب نکلی رکاب پائے مطہر سے، ہے غضب
پہلو شگافتہ ہوا خنجر سے ہے غضب خش میں جھکے، عمامہ گرا سر سے ہے غضب
قرآن رحل زیں سے سرفرش گر پڑا دیوار کعبہ بیٹھ گئی، عرش گر پڑا
8) بین: بین
عموماً مرثیےکا آخری حصہ ہوتا ہے۔ شہادت کے بعد شہید کے عزیز و اقارب بالخصوص عزیز
عورتوں کا بین وآہ وزاری اس حصے میں پیش کی جاتی ہے۔ مریثے کا یہ حصہ پر اثر ہوتا
ہے اور سننے والوں کے لئے ضبط اگر یہ بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ مثال:
چلائی
تھی ارے مرا پیارا ہے کس طرف اے
آسماں! وہ عرش کا تارا ہے کس طرف
اے
ابر شام!
چاند
ہمارا ہے کس طرف اے
ارض کربلا! وہ سدھارا ہے کس طرف
ہے ہے
سناں سے جان گئی
مہمان کی میت
کدھر کو ہے مرے کڑیل جوان
کی
عموماً ثواب حاصل کرنے کی خاطر مر ثیےلکھے جاتے تھے۔ سامعین غم حسین میں آنسو بہا کر عاقبت سدھارتے تھے۔ اس لئے ابتدا میں فن شاعری پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی تھی۔ لیکن رفتہ رفتہ اس رویے میں تبدیلی آئی اور شعری وسائل یعنی الفاظ کے استعمال ان کے دروبست، تشبیہ استعارہ ،صنائع و بدائع کے استعمال پرنہ ورد یا جانے لگا اور مرقع نگاری اور منظر کشی کی بہترین مثالیں پیش کی گئیں۔ اور یہ صنف شعر دوسری اصناف کے مقابل کھڑی ہوگئی ۔
مرثیے کے اقسام:
مرثیے
کا شمار اردو کی چار بڑی اصناف شعر میں ہوتا ہے اور جیسا کہ پہلے کہا گیا اس کی
صنفی پہچان موضوع پر منحصر ہے۔ حالانکہ جب مسدس کی ہیئت میں زیادہ مرثیے لکھے گئے
تو مسدس بھی اس کی شناخت میں کسی حد تک داخل ہو گیا پھر بھی اس کی اصل شناخت موضوع
ہی رہا۔ موضوع جب مرثیے کی شناخت ٹھہرا تو یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر مر ثیے
کا موضوع ہے کیا۔ دراصل پیغمبر اسلام "حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم "کے
وصال کے کچھ عرصہ بعد حکومت عربوں کے اس گروہ کے ہاتھ میں آگئی جس کا سرغنہ ”
بنوامیہ" تھا۔ اس گروہ میں ایسے لوگ تھے جنھیں اسلام کے معاشرتی اور سیاسی
نظام کی کوئی فکر نہیں تھی بس وہ اقتدار کو اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے تھے چاہے وہ
جس طرح بھی ہو۔ چنانچہ 61 ھ یعنی رسول اللہ کی وفات کے پچاس سال بعد اس گروہ کے
ایک شخص یعنی "امیر معاویہ" کے بیٹے یزید نے خلافت یعنی اللہ کے رسول کی
نیابت کا اعلان کیا اور مسلمانوں سے بیعت مانگی یعنی مسلمان اسے خلیفہ تسلیم کریں۔
علی
کے بیٹے اور پیغمبر اسلام کے چھوٹے نواسے حضرت حسین نے بیعت سے انکار کر دیا،
کیونکہ یزید کے اندر بہت ہی برائیاں تھیں وہ خلیفہ ہونے کے اہل نہیں تھا۔ اسے
خلیفہ تسلیم کر لینے کا مطلب یہ تھا کہ اسلام میں بہت سی بدعتیں راہ پا جاتیں ۔
حضرت حسین کو اس انکار کی قیمت چکانی پڑی۔ گھر چھٹا۔ مدینہ سے بہت دور عراق میں
دریائے فرات کے کنارے، بہتر ساتھیوں کے ساتھ ، جن میں کوئی بچپن کا دوست تھا تو
کوئی محبت کرنے والا ، باقی بھائی بھیج، بھانجے اور بیٹے ۔ ان سب کو یزید کی فوج
نے گھیر لیا۔ تین دن تک یزید کی فوج سے حسین کی بات چیت ہوتی رہی۔ حسین نے بیعت سے
تو انکار کیا مگر ساتھ میں یہ بھی کہا کہ مجھے یزید کے پاس لے چلو، میں اس سے بات
کرلوں گا لیکن ان کی یہ بات نہیں مانی گئی۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ میں یزید کی
حکومت سے باہر نکل جاؤں گا۔ مجھے چلے جانے دو مگر یہ بات بھی نہیں مانی گئی ۔ لہذا
حسین نے یزید کی بیعت کے مقابلے میں اپنا سر دینا پسند کیا اور 61 ھ کے محرم کی دس
تاریخ کو اپنے ساتھیوں، دوستوں اور دوستوں
اور عزیزوں کے ساتھ تیسرے پہر تک شہید ہوگئے ۔ اس کے بعد ان کے خاندان کے باقی
لوگوں کو جن میں عورتوں اور بچوں کے علاوہ مردوں میں صرف حضرت حسین کے بیمار بیٹے
زین العابدین تھے۔ ان سب کو قیدی بنا کر یزید کی راجدھانی دمشق بھیج دیا گیا۔
مرثیوں میں اس سانحہ کربلا کی تفصیلات کو شاعروں
نے نظم کیا ہے۔ یہی مرغے کا موضوع ہے اسی سے اس صنف کی شناخت ہوتی ہے۔ لیکن اردو
میں ایسے مرثیوں کی بھی کمی نہیں جو مختلف لوگوں کی اموات پر اظہار غم کے لئے لکھے
گئے ہیں۔ لہذا ہم اردو مر ثیے کو دو اقسام میں بانٹ سکتے ہیں۔ ایک وہ جو حضرت امام
حسین اور ان کے ساتھیوں کی شہادت اور کربلا کے دیگر واقعات پر مبنی ہیں۔ دوسرے وہ
جومختلف مشاہیر ملک یا اپنے عزیزوں کی موت پر لکھے گئے ہیں۔ گو کہ ان دونوں اقسام
کے مرثیوں کے لئے ”مر ثیے“ کی ہی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ کربلائی مرثیوں کے
لئے مسدس کی ہیئت مقبول ہوئی لیکن شخصی مرثیوں کے لئے کوئی ہئیت مخصوص نہیں ۔ غاؔلب
نے مرثیہ عارف غزل میں ، حاؔلی نے مرثیہ غالب ترکیب بند میں، اقباؔل نے اپنی والدہ
کا مرثیہ مثنوی کی ہیئت میں لکھا۔ چکبسؔت نے شخصی مرثیے مسدس کی شکل میں لکھے۔
شخصی مرثیوں میں بھی مرنے والے کے اوصاف حمیدہ کا ذکر کیا جاتا اور اسے خراج عقیدت
پیش کی جاتی ہے۔
اُردو
مرثیہ کا ارتقاء:
۔
مرثیے کا آغاز وار نقاد کن میں
اردو کی دیگر اصناف ادب کی طرح اردو مرثیے کا
ارتقا بھی دکن سے ہی ہوا۔ اب تک دکن میں جس قدیم مرثیے کا پتہ چلا ہے وہ قلی قطب
شاہ کا تصنیف کردہ ہے۔ اس سے پہلے بھی کچھ مرثیے لکھے گئے ہیں لیکن وہ دستیاب نہیں
ہیں۔ قلی قطب شاہ کا یہ مرثیہ سولہویں صدی عیسوی کے دوسرے نصف کی تخلیق ہے۔ یہ بات
اس لئے بھی قرین قیاس ہے کہ سولہویں صدی عیسوی کے پہلے نصف میں وہ مجلس“ کے انداز
کی ایک طویل نظم کا پتہ چلتا ہے جس کا نام "نوسرہا "ہے اور مصنف شیخ
اشرف ہے جس نے اسے 909 ھ میں تصنیف کیا۔ بیجا پور اور گولکنڈہ میں شاہی عاشور خانے
موجود تھے اور یہاں مرثیہ خوانی ہوتی تھی۔ بیجا پور میں عادل شاہ ثانی اور گولکنڈو
میں سلطان عبد اللہ قلب دکن میں مرثیے کا معیار ابتدا سے ہی کافی بلند رہا۔ شمالی
ہند میں تو مرثیہ بگڑے شاعر کی جاگیر سمجھا جا تا رہا لیکن دکن میں اس کی بنیاد
اونچے درجے کے شاعروں کے ہاتھوں پڑی، جس میں ابتدا سے ہی فن کی چاشنی شامل رہی اور
ساتھ ہی مرثیے کا مقصد بھی آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوا۔
سترھویں صدی
میں دکن میں زبان منجھ کر کافی صاف ہو گئی تھی۔ اس کے پہلے نصف صدی کے مرثیہ
نگاروں میں ظل اللہ ، عبد اللہ قطب شاہ کافی اہم ہیں۔ عادل شاہی حکومت قلب شاہی
سلطنت سے بڑی بھی تھی اور اس کا قیام بھی قطب شاہی حکومت سے پہلے ہوا تھا مگر اس
میں مرثیہ نگاری قطب شاہی حکومت کے بعد شروع ہوئی۔ عادل شاہی سلطنت میں جن مرثیہ
نگاروں کا کلام ملتا ہے ان میں مرثیہ نگاری کے لحاظ سے مرزا بیجاپوری سب سے نمایاں
ہے۔
1886ء بیجاپور اور 1887ء میں گولکنڈہ پر اورنگ زیب
کی حکومت قائم ہو گئی۔ قلب شاہی اور عادل شاہی سلطنتوں کے خاتمے سے وہ چیزیں ختم
نہیں ہوئیں جو دکن کی تہذیبی زندگی کا جز بنی ہوئی تھیں۔ البتہ اب بسنت یا دسہرے
کے میلے میں یا محرم کے جلوس میں بادشاہ شامل نہیں ہوتے تھے۔ درباری سر پرستی میں
محرم سے لنگر اور شاہی ذاکر و مرثیہ خواں بھی نہیں رہے۔ لیکن عزاداری کی جور میں
امراد عوام میں مروج تھیں وہ جاری رہیں۔ جلوس نکلتے تھے اور مجلسیں منعقد ہوتی
تھیں۔ اس عہد کے مرثیہ گویوں میں ذوقی ، بحری،اشرف ، ندیم اور تقسم احمد ممتاز
ہیں۔
اور نگ زیب
کے انتقال کے بعد مغلیہ سلطنت کے بھی ٹکڑے ہونے لگے۔ بااثر صوبے داروں نے اپنی
حکومتیں قائم کر لیں۔ چنانچہ 1723 ء میں نظام الملک آصف جاہ کی سرکردگی میں دکن کی
آصف جاہی سلطنت کا قیام ہوا۔ اس نئی سلطنت نے دوسری تہذیبی سرگرمیوں کے ساتھ عزاداری
اور مرثیہ خوانی کی روایتوں کو بھی جاری رکھا۔ مسیح الزماں نے اپنی کتاب ”اردو
مرثیہ کا ارتقا میں اس عہد کے دو ممتاز مرثیہ نگاروں ہاشم علی اور درگاہ قلی خان
دوراں پر تفصیل سے لکھا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ہاشم علی برہان پوری کے دو دستیاب
مربیوں کے کچھ اشعار سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ 1736ء 1747 ء تک ضرور مرثیے کہتے
رہے۔ ہاشم علی نے اپنی تمام عمر مرثیہ گوئی میں بسر کی اور اپنے مرثیوں کو ردیف
وار ایک مجموعے میں جمع کر کے اس کا نام دیوان حسینی رکھا جس کا ایک نسخہ دستیاب
ہے۔
۔ شمالی ہند میں مرثیے کا آغاز وارتقا:
عہد اور نگ زیب میں محرم کے جلوسوں اور مجالس کا
رواج شمالی ہند میں بھی کافی ہو گیا تھا۔ اس عہد کے مرثیے ملتے ہیں۔ ایک طرف تو
اٹھارھویں صدی عیسوی میں اردو میں شعر کہنے کا رواج بڑھا، دوسری طرف اور نگ زیب کے
انتقال کے بعد عقائد کی آزادی کی فضا بھی بنی اور اب عزاداری کی رسوم / مجلسیں
عقیدتمندوں کے مکانوں میں ہونے کے ساتھ ساتھ عوام کی مجلسوں میں بھی ہونے لگیں۔
صلاح کے بعد شاہ مبارک آبر داوراختیار کرنے لگی تو ایسے مرثیوں اور ایسی کتابوں کی
ضرورت محسوس ہوئی جنھیں عوامی مجلسوں میں پڑھ کر سنایا جا سکے ۔ عوام میں اردو رائج
ہی تھی اس لئے ایسی کتاب کی ضرورت محسوس ہوئی جسے عوام سمجھ سکیں ،الہند فضل علی
فضلی کی "کربل کتھا "وجود میں آئی۔فضلی نے کربل کتھا 1732ء میں فارسی کی
مشہور و مقبول کتاب روضۃ الشہد‘
کو سامنے رکھ کر آسان اردو میں لکھی جس کی بارہ فصلیں ہیں۔ کربل کتھا کے دیباچے سے
معلوم ہوتا ہے کہ یہ جلسوں میں پڑھنے کے لئے لکھی گئی۔ اس سے یہ اندازہ لگانا غلط نہ
ہوگا کہ یہ خصوصاً ان لوگوں کے لئے لکھی گئی جو فارسی نہ جاننے کی وجہ سے مجلسوں میں
روضۃ الشہد کو سمجھ
نہیں پاتے تھے۔
درگاہ قلی
خاں نے قیام دہلی کے دوران اپنی جو یادداشت لکھی ہے اس میں مرثیہ خوانوں اور مرثیہ
نگاروں کا بھی ذکر ہے۔ ان کے بیان سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اس وقت دہلی میں بہت
سے عاشور خانے تھے جن میں مجلسیں منعقد ہوتی تھیں۔ درگاہ قلی خاں نے اس وقت کے
مرثیہ گویوں میں جن لوگوں کا ذکر کیا ہے۔ ان میں لطف علی خاں، ندیم، مسکین، حرس
اور غمگین اہم ہیں۔ میر تقی میر اور سودا اس عہد کے اہم مرثیہ گو تسلیم کئے جاتے
ہیں اس لئے نہیں کہ میعاردو ادب میں اپنی دیگر تخلیقات کی وجہ سے بہت بلند مقام
رکھتے ہیں، بلکہ اس لئے کہ انھوں نے اپنی صلاحیتوں سے مرثیے کو بھی وقار بخشا ہے۔
انھوں نے مرثیے صرف حصول ثواب کے لئے نہیں لکھے بلکہ مرثیے کی ادبی اہمیت کو مدنظر
رکھا اور اس صنف کی راہ روشن کی۔
سودا کے
کلیات میں مرثیوں کی تعداد بہتر ہے۔ ان کے مرثیوں پر نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے
کہ مرثیہ اس عہد میں ابھی تجرباتی دور سے گزررہا تھا۔ انھوں نے ہیئت اور مواد کے
بہت سے تجربے کئے اور مرثیے کو طرح طرح کے سانچوں میں ڈھالا۔ ان کے تقریباً ہر
مرثیے میں ایک نہ ایک نیا پہلو ہوتا ہے۔ کسی میں سوال وجواب ہیں، کسی میں نیچر کی
زبانی یا کسی غیر متعلق شخصص کی طرف سے واقعہ کربلا کا بیان ہے۔سودا مر ثیے کی
ادبی سطح کو بلند کرنا چاہتے تھے لیکن اسے وہ عوام سے الگ کرنا بھی نہیں چاہتے تھے
کیونکہ وہ جانتے تھے کہ مرثیے کا تعلق عوام سے بھی ہے۔ چنانچہ وہ سودا جو قصیدے
میں مشکل الفاظ استعمال کرتا ہے مرثیے میں اس سے پر ہیز کرتا ہے۔
میر تقی میر
نے بھی اچھے خاصے مرثیےلکھے ہیں۔ وہ اپنے مرثیوں میں گر یہ خیز پہلوؤں پر زیادہ
زور دیتے ہیں۔ میر نے مرثیے کو وزن اور ادبیت عطا کی ہے۔ میر نے اپنے مرثیوں میں
اپنے عہد کی رسوم اور معاشرت کے عناصر بھی داخل کئے ہیں۔میر کے مرثیوں میں بہت سے
ایسے ہیں جن میں انھوں نے آسمان کو مخاطب کر کے سوال کیا ہے کہ ایسا واقعہ کیونکر
ہو گیا۔ میر کے مرثیوں میں ایسے ٹکڑے بھی ہیں جنھیں واقعہ نگاری کا نمونہ قرار دیا
جا سکتا ہے۔ اس عہد کے بہت سے مرثیہ گویوں میں میرحسن، شیر علی افسوس، حیدر بخش
حیدری، قیام الدین قائم ، قلندر بخش جرات قابل ذکر ہیں۔ یہ سب دہلوی طرز شاعری کے
پروردہ ہیں اور یہ سب مشہور شاعر ہیں لیکن ان میں سے کم ہی مر ثیےشائع ہوئے۔
شمالی ہند کے
ابتدائی دور کے مرثیے کتب خانوں اور ذاتی ذخیروں میں نظر آتے ہیں۔ ان کے دیکھنے سے
اندازہ ہوتا ہے کہ دکن میں اردو مرھیے نے جو معیاری روایت قائم کر دی تھی دہلی کے
مرثیہ نگاروں نے اس سے کوئی خاص فائدہ نہیں اٹھایا۔ اب اگر بات کریں لکھنو کی تو
اردو مرثیہ لکھنو میں اپنے عروج کی انتہا تک پہنچا۔ اودھ کے نوابین شیعہ مسلک سے
تعلق رکھتے تھے اور دوسری تہذیبی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ عزاداری میں بھی شغف رکھتے
تھے۔ لہذا انھوں نے اسے کار ثواب جان کر اس کی خوب سر پرستی کی اور مرثیہ نگاری
اور مرثیہ خوانی نے اودھ میں خوب ترقی کی۔صرف ہیئت کے ہی اعتبار سے مسدس کو ترجیح
نہیں دی بلکہ معنوی ساخت پر بھی نظر رکھی ۔ اس میں شاعرانہ نزاکتیں بھی پیدا کیں۔
اودھ کی
مرثیہ نگاری کے دوسرے دور میں جسے دور تعمیر کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے خلیق
فصیح ضمیر اور دیگر کا نام آتا ہے۔ مرثیہ گوتو اور بھی ہیں لیکن یہاں صرف ان کو
لیا گیا ہے جنھوں نے اس دور میں مرثیے کی نمایاں خدمت کی اور الگ الگ پہلوؤں سے
اسے فروغ دیا۔ اس جائزے کی حدود کے پیش نظر ان کا بھی الگ الگ تفصیلی جائزہ نہ لے
کر کے اس دور میں ان کے ذریعے مرثیے نے جو کچھ حاصل کیا اس کا مجموعی طور پر جائزہ
اس دور کی ایک بڑی خصوصیت مرثیے کا وہ ڈھانچہ ہے جو مقرر ہوا۔ پھر لکھنو کی
عزاداری میں ان مرثیہ نگاروں کے انتہاک نے مریے کو وسعت کی طرف مائل کیا۔ سامعین
کے مذاق سخن کے اعتبار سے ادبی محاسن اور شاعرانہ نزاکتوں پر زور دیا۔ مناظر اور
واقعات کے بیان میں تسلسل کے ساتھ ایک اندرونی ربط اور گہرائی پیدا کی ،ان مرثیہ
نگاروں نے جذبات نگاری کی طرف توجہ دی۔سماجی زندگی کے بہت سے پہلو دکھائے جن سے اس
عہد کے شرفا کی اخلاقی اور معاشرتی قدریں اجاگر ہوئیں۔ جنگ کے مناظر کی تفصیل سے
ایسے عناصر داخل کئے جن سے اردو شاعری کے لئے نیا میدان پیدا ہوا۔اسی دور میں ان
مرثیہ نگاروں اور ان کے کچھ دوسرے ہم عصروں کے ذریعہ مرثیے کا وہ ڈھانچہ مقرر ہوا
جس میں چہر، ماجرا ، سراپا، رخصت، آمد،
رجز، جنگ، شہادت اور بین شامل ہیں۔ اس عہد میں زیادہ تر مرثیے مسدس میں لکھے گئے۔
اس دور میں صرف مریے کی ہیئت ہی مقرر نہیں ہوئی بلکہ اندرونی ساخت کی تنظیم بھی
ہوئی جو ایک تخلیق کوفی بلندی عطا کرتی ہے۔
اس کے بعد
اردومر یے کا دور عروج شروع ہوتا ہے جس میں مرثیےکے آسمان کا سب سے روشن ستارہ
انیس ودبیر ہیں۔ ان کے علاوہ دوسرے ستارے بھی ہیں لیکن ان کے سامنے ان کی روشنی
ماند پڑ گئی ہے۔ اس مختصر سے سبق میں انیس کی مرثیہ نگاری کا جائزہ لینا مشکل ہی
نہیں ناممکن ہے۔ ویسے بھی انہیں پر درجنوں کتا ہیں لکھی جا چکی ہیں۔ یہاں ان کی
مرثیہ نگاری کے کچھ سکتے بیان کئے جائیں گے۔لکھنوی معاشرت کا بنیادی جز نفاست،
سلیقہ اور تناسب و توازن کا احساس تھا اور یہ احساس انیس کی مراثی میں سب سے زیادہ
نظر آتا ہے۔ انیس کے کلام کی فصاحت صرف الفاظ کی ہمواری اور صوتی مناسبت تک محدود
نہیں ہے بلکہ معنوی توازن و تناسب کا خوبصورت امتزاج ہے۔ ارسطو کے مطابق المیہ
ہمیشہ جذبات انسانی کو مخاطب کرتا ہے۔ ترحم و ہمدردی کے جذبات کو ابھارنا ہی المیہ
کی کامیابی ہے۔ انیس کے مراثی ترحم اور ہمدردی کے جذبات کو ابھارنے میں بھی پوری
طرح کامیاب ہیں۔ اس طرح یہ المیہ کی تعریف پر بھی پورے اترتے ہیں۔ کردار نگاری کے
حوالے سے بات کریں تو ناول یاڈراما نگار ایسے کردار کو جگہ دے جو تاریخی ہوتے ہیں
تو اس کی پابندیاں بڑھ جاتی ہیں۔ اگر وہ کردار تاریخی ہونے کے ساتھ مذہبی بھی ہوں
تو اس کی دشواریاں اور بڑھ جاتی ہیں۔ انہیں کے لئے بھی یہی حدیں اور مجبوریاں
تھیں۔ لیکن اپنی تخلیقی قوت سے اپنے کرداروں کی متحرک تصویر میں اس طرح پیش کی ہیں
کہ ہم انھیں اپنے سے زیادہ قریب محسوس کرنے لگتے ہیں۔ مرتبہ ایک بیا نیہ صنف شعر
ہے اور اس کی اہم خصوصیت واقعہ نگاری ہے۔ انہیں مداحی شبیر کو اپنے لئے فخر ضرور
سمجھتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی خیال رکھتے ہیں کہ یہ مداحی صرف لفاظی
نہ ہو بلکہ مرقع کشی تک پہنچ جائے۔
انیس میدان
کارزار کی جیتی جاگتی تصویر آنکھوں کے سامنے کر دیتے ہیں۔ مبالغے کے اتنے کم
استعمال سے جنگ آزماؤں کی ایسی واضح تصویر کھینچتا انیس کے فن کا کمال ہے۔مناظر
فطرت کی تصویر کشی اہم درجہ رکھتی ہے۔ انیس نے مناظر قدرت کو صرف بیان ہی نہیں کیا
بلکہ اسے اپنے قارئین و سامعین کے لئے پھر سے تخلیق کیا ہے۔سادگی، روانی اور بے
تکلفی کی مثالیں انیس کے کلام میں جا بجا ملیں گی ۔ ان کے کلام کی دلکشی اور حسن ہی
ان کی سب سے بڑی خصوصیت ہے۔انیس لفظوں کی ترتیب اور مٹھاس، روزمرہ اور محاورے کی
خوبی، الفاظ کے انتخاب اور بندشوں کی چستی کے ساتھ ساتھ مضمون کی اہمیت پر بھی زور
دیتے ہیں یعنی وہ دونوں کے توازن کو کامیاب شاعری کے لئے ضروری سمجھتے ہیں۔
انیس کے ہم
عصروں میں دبیر سب سے زیادہ مقبول و مشہور ہوئے۔ وہ1803ء میں دہلی میں پیدا ہوئے
مگر انھوں نے ساری زندگی لکھنو میں گزاری اور لکھنؤ کی ہی ادبی روایات اور علمی
فضا میں ان کی ادبی صلاحیتیں پروان چڑھیں۔ دبیر شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک دیندار
شخص تھے اور اپنی شاعری کو دین کی خدمت سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک مریے کا اصل مقصد
آل رسول کے مصائب کو بیان کر کے لوگوں کو ر لا نا تھا۔ دبیر کے کلام کی ایک خوبی
سادگی بیان ہے جسے وہ رخصت، شہادت ، بین اور واقعات کے بیان میں مد نظر رکھتے ہیں۔
دبیر کے ذہن میں مرھیے کو مذہبی جذبات کا آئینہ بنانے کا خیال زیادہ تھا۔ وہ مرھیے
کے کرداروں کو انسانوں کی طرح پیش کرنے کے بجائے فوق فطری ہستیاں دکھانا چاہتے
تھے۔ اس لئے جہاں بھی موقع ہوتا ہے معجزاتی واقعات پیش کر دیتے ہیں۔دبیر کو
روایتوں کے نظم کرنے میں خاص دلچسپی تھی ۔ یہ ایک طرح سے ان کی خصوصیات میں شامل
ہے۔ لیکن وہ روایتوں کو منتخب کرنے میں ان کی تاریخی صحت وغیرہ کا خیال نہیں رکھتے
تھے۔ دبیر مکالموں میں لب و لہجے کا لحاظ ، محاورے اور روز مرہ کی مناسبت خاص طور
سے مدنظر رکھتے ہیں اور جذبات کی ترجمانی میں اس سے مدد لیتے ہیں۔ بین میں دبیر کا
لہجہ بہت پراثر اور کامیاب ہے۔ بین کے دل گداز اور جگر خراش بیان ایسا ہوتا ہے کہ
سخت سے سخت دل بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اودھا لکھنو کے مرثیہ نگاروں کی
ایک لمبی فہرست ہے لیکن انیس ودبیر ہی نہ صرف لکھنو بلکہ پورےاردوادب میں سب سے
مقبول ومعروف مرثیہ نگار تسلیم کئے جاتے ہیں۔
دستِ خدا کا بازوِ حسین ہے
مرثیہ کے پہلے بند میں شاعر جناب امام
حسین کے بارے میں کہہ رہا ہے کہ امام حسین حضرت علی کے فرزند ہیں اور حسین اپنے
کمال حسن کی زینت اور عزت اپنے وجود سے بڑھاتے ہیں۔ یہ حسین رسول خدا کا خوبصورت
یوسف جیسا حسین نواسہ ہے، جس کے لئے رسول نے فرمایا کہ حسین مجھے سے ہے اور میں حسین
سے ہوں، اس لئے حسین کا مرتبہ بہت بلند ہے ۔ وہ جوانان جنت کے سردار، جنت کے پھلوں
کی خوشبو حسین ہیں اور چونکہ رسول کا قول ہے کہ حسین مجھے سے ہیں تو اس کا مطلب یہ
کہ حسین دین اور ایمان کے برابر ہیں اور ان کے دہن کا مرتبہ قرآن کے برابر ہے۔
یعنی حسین وہی بات کرتے ہیں جو قرآن کے مطابق ہے۔ اس لیے آپ کو قرآن ناطق کہا جاتا
ہے یعنی امام حسین ایک بولتا ہوا قرآن ہیں۔
دوسرے
بند میں شاعر حضرت اما حسین کی منزلت بیان کر رہا ہے کہ رسول نے فرمایا ہے کہ حسین
مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں ۔ اس لیے جو مجھ سے محبت کرتا ہے اس پر حسین کی
محبت واجب ہے۔ اس طرح حسین کی محبت ایمان کی سند ہے اور حسین سے محبت مثل نماز ،
ہر مسلمان پر فرض ہے۔ حسین کی ایک زیارت، سترحج کے برابر کا مرتبہ رکھتی ہے اس لیے
پوری دنیائے اسلام پر حسین کی محبت واجب ہے۔ اور اگر کوئی دین اور دنیا دونوں کو
بنانا چاہتا ہے تو پھر وہ امام حسین کی فرمابرداری میں آئے۔ اس سے چین اور آرام
نصیب ہوتا ہے۔ مسلمانوں کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ امام حسین کے زیر دست ہی یعنی
ہاتھ کے نیچے ہی ایمان ہے۔زیر نظر شعر میں لفظ بیعت کا استعمال کر کے شاعر ہلکا سا
اشارہ اس واقعہ کی طرف دے رہا ہے جہاں یزید نے امام حسین سے بیعت طلب کی تھی اور
یہ حکم جاری کر دیا تھا کہ یا حسین کی بیعت لاؤ یا پھر ان کا سرلاؤ جس کے سبب یہ
واقعہ کر بلا عمل میں آیا۔
تیسرے
بند میں شاعر کہتا ہے کہ کتابوں میں لکھا ہوا موجود ہے کہ جب امام اہم یعنی حضرت
امام حسین اپنے تمام اہل خانہ کےساتھ اپنا گھر، اپنا شہر چھوڑنے پر آمادہ ہوئے کہ
یزید جیسے بدکردار شخص کی بیعت نہ کریں گے اور اس کی حکومت سے باہر نکل جائیں گے
تو اس ارادہ سے جب مدینہ سے روانہ ہوئے تو کچھ دن کے لیے خانہ کعبہ میں بھی جا کر
سب کے ساتھ قیام پذیر ہوئے تھے ۔شاعر کہتا ہے کہ اہل بیت اطہار کعبے میں آئے اور
بھی قابل احترام ہو گئے یعنی کعبہ میں قیام کے بعد اہل بیت رسول سب، اہل بیت خدا
ہو گئے ۔ ان کا مرتبہ اور بلند ہو گیا۔ مگر رسول اور اہل بیت رسول سے دشمنی انھیں
یہاں بھی چین اور سکون سے نہیں رہنے دیتے اور خاص کر کوفے کے رہنے والے انھیں خطوط
بھیج بھیج کر کہ آپ ہمارے یہاں آ جائیے ہم آپ کی مدد کریں گے جبکہ ایسا بالکل نہیں
ہے وہ دھوکا دے کر خطوط بھیج رہے ہیں ان کے یہ خطوط ۔ پیک اجل ۔ موت کا پیغام ہیں
اور وہی ہوا کہ کوفیوں کے بلانے پر امام حسین نے اپنے نانا کے مزار کو چھوڑا اور
کوفے کے لیے روانہ ہو گئے تو راستے میں کربلا میں یہ سانحہ عظیم برپا ہوا۔
چوتھے
بند میں شاعر ایک روایت بیان کرتا ہے کہ جو حضرت عباس کے بیٹے کی زبانی بیان کی
ہوئی ہے کہ ایک دن جب اہل بیت رسول، خانہ کعبہ میں مہمان تھے تو ہم نے اپنی آنکھ
سے یہ دیکھا کہ جناب امام حسین کعبہ کے در پر کھڑے ہیں اور کعبہ کی ڈیوڑھی ان کا
پیرچوم رہی ہے اور امام حسین کا ہاتھ حضرت جبرئیل کے ہاتھ میں ہے۔
پانچوے
بند میں بڑے ادب کے ساتھ جناب حضرت امام حسین کی تھیلی کومل کر حضرت جبرئیل خدا کے
مقرب فرشتے یوں آواز دے رہے ہیں بڑے زور وشور سے کہ اپنے کو رسول خدا کی امت کہنے
والو یہ جو اس وقت کربلا کے ریگ زار پر تم سے کو گفتگو ہے یہ نبی کا نواسہ حسین ہے۔
اگر تم حسین کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہو یعنی ان کو اپنا ر ہنما تسلیم کرتے ہو تو اس
کے معنی یہ ہیں کہ تم نے خدا کی بیعت کی ہے ۔ خدا کو مانے والے ہو۔ اگر بیچ بیچ تم
خدا اور رسول خدا کے ماننے والے ہو اور ان پر ایمان رکھنے والے ہو تو یہی تمہارا
امتحان ہے کہ تم لوگ اس وقت امام حسین کی بیعت کرو۔
چھٹے
بند میں شاعر اس وقت کا نقشہ پیش کر رہا ہے جب حسینی قافلہ کربلا کی زمین میں آکر
قیام پذیر ہوتا ہے۔ ایسے قیمتی اور خوبصورت موتی جیسے جوانان کب کربلا کی اس زمین
پر اس سے پہلے آئے تھے۔ اس میعنی قافلے میں پھول سے بچے بھی ہیں ، ستارے سے چمکتے
نوجوان اور خورشید کی طرح روشن جوانان حسین ہیں جن میں اکثر اپنی خوبصورتی میں
چاند کے مثل ایسے بے مثال قافلے میں کربلا کے ریگ زار پر ر کے دیکھنے کو آس پاس کے
گاؤں اور بستی والے آئے اور مرد ہی نہیں ان بستیوں کی عورتیں بھی اپنی اپنی نقا
میں اوڈر دے کر قافلہ کے ان لوگوں کو دیکھنے آ گئیں اور سارے اصحاب، انصار و
خاندان والوں کو دیکھ کر سب کے منھ سے یہی نکلتا رہا کہ حسینی سیاہ بے حد قابل
تعریف ہے اور یہی نہیں جیسے تمام حضرات با کمال دکھائی دے رہے ہیں ویسے ہی اس فوج
کا بادشاہ یعنی امام حسین بھی بےمثل ہیں۔
ساتویں
بند میں شاعر کہتا ہے کہ حسینی قافلہ جب کربلا کے میدان میں ٹھہر گیا اور سامنے سے
فوج مخالف بڑھتی چلی آرہی تھی تو امام حسین کے ایک دوست نے یہ آواز بلند کی آگے
بڑھ کر یہ کہا کہ اے فوج تا بکار تم اپنے کو مسلمان کہتے ہو اور خدا کے رسول کا
کلمہ پڑھتے ہو اور یہ تمھارے سامنے کربلا کے میدان میں ٹھہرا ہوا قافلہ اور اس کا
سردار حسین کون ہے؟ تمھارے ہی رسول کا نواسہ ہے، جس پر تمھارے فاجر و فاسق بادشاہ
یزید نے اپنا ظلم و جبر ڈھایا کہ مجبوراً ان کو اپنے نانا کے وطن کو ترک کرنا پڑا
اور یہاں کا راستہ اپنا نا پڑا ہے۔ اے ظالموں تم کو پتہ ہونا چاہئے کہ یہ جو
تمھاری بستی میں عالقمہ بہہ رہی ہے یہ نہر اس غریب مسافر یعنی حسین کی مادر گرامی حضرت
فاطمہ زھرا کی نہر ہے جو انھیں مہر میں ملی تھی۔
نویں
میں شاعر کہتا ہے کہ کربلا میں جب یہ
قافلہ پہنچ کر اپنے ٹھہرنے کا انتظام کرنے لگا اور سارے مرد اپنے خیمے لگا چکے تو
پھر عورتیں جو امام حسین کے ساتھ تھیں ان کی باری آئی کہ وہ اپنے اپنے خیموں میں
آجائیں کہ اتنے میں یہ آواز سنائی دی کہ اے لوگوں دور ہو جاؤ اس لیے کہ اپنے اپنے
خیموں میں رسول زادیاں اور دیگر مستورات اتر رہی ہیں اور اتنے میں جیسے ہی جناب
زینب کی سواری ان کے خیمے کے دروازے آئی تو خود اہتمام پردہ اور انتظام کے لئے
امام حسین آگئے ۔ اس لئے کہ حسین اپنی بہن زینب کی بے حد عزت اور قدر کرتے تھے۔
امام حسین کو وہاں آتے دیکھ کر گھر کے بچوں میں علی اکبر اور حضرت قاسم جو امام
حسین کے بڑے بیٹے تھے ان لوگوں نے پردے کے لیے قنات پکڑی اور جناب حضرت عباس جو
امام حسین اور زینب کے چھوٹے بھائی تھے۔ انتہائی بہادر اور دلیر تھے والد حضرت علی
کی طرح اور اب کربلا کے میدان میں حسینی فوج کے سردار تھے وہ اپنا نیزہ تان کے
خیموں کے چاروں طرف گھومنے لگے کہ دشمن کوئی حرکت نہ کرنے پائے۔
دسویں
بند میں شاعر جناب زینب کی برتری اور
پاکیزگی کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ پاکیزگی اور طہارت کے جتنے مرتبے جناب فاطمہ
زھرا بنت رسول زوجہ حضرت علی کو حاصل تھے وہ اپنی ماں کے بعد جناب زینب جو حضرت
علی کی بیٹی تھیں ان کو حاصل تھے۔ اس لیے اے کربلا کے مسافرو، ذرا دیر کے لیے
خاموش ہو جاؤ جناب زینب کی سواری اتر رہی ہے اور یہی نہیں بلکہ اس کا بھی خیال رہے
کہ جب تک زینب اپنے خیمے میں اتر کر نہ پہنچ جائیں اس وقت تک کوئی دوسرا ناقہ ادھر
نہ آنے پائے ۔ جناب زینب کے مرتبہ اور شان کے اعتبار سے حسن ادب یعنی لحاظ ادب کا
حسن اس درجہ کا ہو کہ خدا کو پسند ہو۔ اس لیے جناب زینب کے احترام اور مرتبہ کے
لیےوہ لوگ جو بلند قامت ہوں بیٹھ جائیں تا کہ بے پردگی کا کوئی امکان ندر ہے۔
اردو
شاعری کی ہئیتی
اصناف میں مصرعوں کی تعداد کے اعتبار سے رباعی ایک مختصر صنف سخن ہے۔ اگر چہ اس کی
اصل ایران ہے لیکن رباعی کی اصطلاح عربی لفظ " ربع "سے بنی ہے جس کے
معنی ہیں ” چار"۔ رباعی شاعرانہ اصطلاح میں اس صنف کا نام ہے جو صرف چار
مصرعوں یا دو بیتوں پر مبنی ہوتی ہے۔ ان چار مصرعوں میں فکر و خیال کے لحاظ سے،
ایک مکمل مضمون ادا کیا جاتا ہے۔ رباعی کا پہلا ، دوسرا اور چوتھا مصرع ہم قافیہ
ہوتا ہے۔ تیسرے مصرع میں قافیہ نہیں ہوتا اور اگر قافیہ لایا جائے تو کوئی عیب
نہیں ۔ ابتدائی دور میں اسے ” ترانہ“ کہا جاتا تھا۔ چوں کہ یہ ایک مطلع اور ایک
بیت پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس لیے اس کو دو بیتی بھی کہا گیا ہے۔ لیکن ترانہ اور دو
بیتی رباعی کے موجودہ اوزان میں نہیں کہے جاتے تھے۔ رباعی ایک خاص وزن سے منسوب
ہوگئی ہے۔
رباعی کی فنی خصوصیات:اصناف
شعر میں رباعی اس ہئیتی نظم کو کہا جاتا ہے جومختصر ہو اور محض چار مصرعوں پر
مشتمل ہو۔ رباعی کا پہلا ، دوسرا اور چوتھا مصرع مقفی ( ہم قافیہ ) ہوتا ہے اور
تیسرا مصرع غیر مقفی (بے قافیہ ) ہوتا ہے۔ لیکن اس مصرع میں بھی قافیہ لا نا جائز
ہے۔ اگر کسی رباعی کے چاروں مصرعے ہم قافیہ ہوں تو ایسی رباعی کو رباعی غیر خصی یا
مصرع‘ کہا جاتا ہے اور اگر رباعی کے صرف تین مصرعے اول، دوم اور چہارم ہم قافیہ
ہوں اور تیسرے مصرع میں قافیہ نہ ہو تو رباعی خصی یا ناقص یا غیر مصرع کہیں گے۔
صنف رباعی مخصوص اوزان میں لکھی جاتی ہے۔ یہ صنف ہر حال میں مقررہ عروضی نظام ہی
کی پابند رہتی ہے۔ ماہرینِ علم عروض نے رباعی کے لیے ان اوز ان کی پابندی کو لازمی
قرار دیا ہے ۔ اس صنف کی ہئیتی شناخت ان مخصوص اوز ان میں مضمر ہے۔ اہل عروض اس
بات پر متفق ہیں کہ ان مخصوص اوز ان سے ہٹ کر لکھی ہوئی چو مصرعی نظموں کو رباعی
نہیں کہا جاسکتا۔ عروضیوں نے رباعی کے چوبیس (۲۴) اوزان معین کر دیے ہیں جن
کا تعلق بحر ہزج سے ہے۔ علمائے علم عروض نے دوسرا اہم نکتہ یہ بھی پیش کیا ہے کہ
رباعی میں اس کا التزام رکھنا رباعی گو کے لیے ضروری نہیں کہ رباعی کے چاروں مصرعے
ان چوبیس اوزان میں سے صرف کسی ایک ہی وزن میں ہوں ۔ بلکہ اس میں یہ چھوٹ دی ہے کہ
رباعی کے چار مصرعے، چار مختلف اوزان میں لکھے جاسکتے ہیں اس کے باوجود بہت کم
رباعی نگار ہیں جنھوں نے اس آزادی کا بھر پور استعمال کیا ہے۔ عموماً چند مخصوص
اوزان ہی میں رباعیاں لکھی گئی ہیں۔ یہ خیال درست نہیں ہے کہ رباعی کا وزن صرف لا
حول ولاقوۃ الا باللہ ہی ہے ۔ رباعی کے چوبیس اوزان میں سے ایک
وزن یہ بھی ہے اور رباعی کے بعض مصرعے اس وزن پر ہو سکتے ہیں۔
چاروں
مصرعوں میں نزاکت اور جذبے کی لطافت کو محوظ رکھتے ہوئے چاروں مصرعوں میں ایسی
ترتیب پیدا کرنا کہ ایک ارتقائی تاثر پیدا کر سکے خاصہ مشکل ہے۔ رباعی کے ابتدائی
دو مصرعے معنی خیز ہوتے ہیں ۔رباعی کے آخری دو مصرعے بالخصوص چوتھا مصرع یعنی آخری
مصرع پوری رباعی کے مجموعی تاثر کا نقطۂ عروج ہوتا ہے۔ اس پر رباعی کے حسن واثر
اور زور کا انحصار ہے۔ اگرچہ یہ ضروری نہیں ہے لیکن عموما تیسرا مصرع عروضی ہئیت
میں باقی مصرعوں سے قدرے مختلف ہوتا ہے۔ یہ دراصل نقطۂ عروج کی ابتدا ہے یہ خیال
کے بہاؤ میں ایک لمحاتی رکاوٹ اور موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس موڑ سے عروج شروع ہو
کر چوتھے مصرع پر اپنی آخری حد کو پہنچتا ہے۔رباعی کا چوتھا مصرع خاص کر پہلے
تینوں مصرعوں سے زیادہ شاندار اور اہم ہوتا ہے کیوں کہ اس مصرع پر شاعر کے خیال کی
تان ٹوٹتی ہے۔ یہ مصرع نہ صرف ابتدائی مصرعوں کا خلاصہ یا نچوڑ ہوتا ہے بلکہ رباعی
کی اصل جان ہوتا ہے۔ اس لیے یہ مصرع اپنی پوری معنویت کے ساتھ پر اثر ہوتا ہے۔
شاعر رباعی میں جو کچھ کہنا چاہتا ہے وہ ایجاز واختصار اور حکیمانہ لہجے کے ساتھ
چوتھے مصرع ہی میں پیش کرتا ہے۔ اس میں غزل کا ایجاز بھی ہوتا ہے اور نظم کا رابط
تسلسل بھی پایا جاتا ہے۔
رباعی گو شاعر:
امجد حیدر آباد
امجد
حیدر آبادی کا نام سید احمد حسین تھا ۔ امجد تخلص کرتے تھے ۔ ان کے والد صوفی سید
رحیم علی بڑے خدا رسیدہ بزرگ تھے ۔ ان کا انتقال امجد کے بچپن میں ہی ہوگیا تھا ۔
مکتب کی ابتدائی تعلیم کے بعد مدرسہ نظامیہ حیدر آباد میں درس نظامی کی تعلیم
حاصل کی ۔ عربی فارسی زبانوں میں مہارت حاصل کی ۔ امجد نے معاشی ضرورتوں کے تحت
پہلے معلم کی حیثیت سے دارالعلوم اسکول میں ملازمت اختیار کی بعد میں ریاست حیدر
آباد کے محکمہ محاسبی میں منتظم مامور ہوئے ۔ ۱۹۰۸ میں موسی ندی کے سیلاب میں ان
کی والدہ بیوی بچے نذر اجل ہوئے ۔ یہ حادثہ امجد حیدرآبادی کیلئے بہت جاں گسل
ثابت ہوا .امجد حیدر آبادی
کی شہرت کی بنیاد ان کی رباعیاں ہیں ۔ بقول فرمان فتحپوری ’’ امجد اول و آخر
رباعی گو شاعر ہیں ‘‘ امجد نے رباعی صنف میں کثرت سے طبع آزمائی کی اور اس صنف کے
وقار کو بلند کیا ۔ امجد کی رباعیوں کے موضوعات اخلاقی ، روحانی اور پند ونصائح پر
مشتمل ہیں ۔
خواجہ الطاف حُسین حالیؔ
۱۹۳۷ء
میں بہ مقام پانی پت پیدا ہوئے ۔ نوسال کے تھے کہ ان کے والد کا انتقال ہوگیا۔ اس
لیے تعلیم و تربیت کا معقول انتظام نہ ہوسکا ۔ لیکن انہیں حصول تعلیم کا بہت شوق
تھا اس لیے فارسی اور عربی مختلف لوگوں سے شروع کی تھی کہ ان کے عزیزوں نے مجبور
کرکے ان کی شادی کردی لیکن علم کے شوق نے انہیں زیادہ مجبور کیا ۔اور روپوش ہوکر
دہلی چلے آئے یہاں مولوی نوازش علی سے صرف و نحو اور منطق پڑھی غالب سے فارسی پڑھی
اور ایک دو فارسی کی غزلیں بھی کہہ کر غالبؔ کو دکھائیں عربی کی تعلیم کی تکمیل
نہیں ہونے پائی تھی کہ پانی پت بلالیے گئے اس اثنا میں عذر ہوگیا اور چھ سات برس
پانی پت ہی میں رہے اور مختلف لوگوں سے منطق و فلسفہ حدیث و تفسیر وقتاً فوقتاً
پڑھتے رہے ۔ اتفاقا نواب مصطفی خاں کی مصاحبت میسر آگئی اور یہ انہیں کے پاس جہاں
گیر آباد آگئے ۔ اب شعر و سخن کا شوق پھر ابھرا نواب کی طرح یہ بھی غزلیں جانگیر
آباد سے دہلی غالبؔ کے پاس بھیجنے تھے ۔ شیفتہؔ کی صحبت نے ان کی مذاق اور غالبؔ
کی شاگردی نے ان کے کماشاعری پر بہت اثر کیا ۔ شیفتہ کی وفات کے بعد یہ لاہور میں
گورنمنٹ بک ڈپو میں ملازم ہوگئے ۔ جہاں انہیں نگریزی سے اردو میں ترجمہ کی ہوئی
کتابتیں درست کرنا پڑتی تھیں اس لیے ان کی انگریزی خیالات اور انگیزی طرزادا سے
مناسبت پیدا ہوگئی اور جب ہالرائڈ ڈائرکٹر تعلیمات کے ایما سے لاہور میں جدید
شاعری کے مشاعرے کی بنیاد ڈالی گئی تو حالیؔ نے چار مثنویاں ۔ (1)برکھارت (2)نشاط
امید (3)مناظرۂ رحم و اصاف (4)حب وطن پڑھیں جو ۔۔۔مقبول ہوئیں 1333ھ مطابق1914ء
میں مولانا نے وفات پائی ۔ تصانیف:۔حیات سعدی ۔ مقدمۂ شعر و شاعری ،یادگار غالب ،
حیات جاوید وغیرہ بہت مشہور ہیں ۔ جدید شاعری کے علم بردار ہونے اور اردو شاعری
میں اصلیت جوش اور سادگی کی روح پیدا کردینے کے علاوہ دہلویت ان کے کلام میں کس
خوبی ، کمال استادی سے رچی ہوئی ہے اس کا اندازہ ذیل کے انتخاب سے ہوگا۔بحوالہ:
ریختہ