Swami Ramanand Teerth Marathwada University, Nanded.
سوامی رامانند تیر تھ مراٹھواڑہ یو نیور سٹی ، ناندیڑ۔
Faculty of Humanities
شعبہ انسانیات
Effective from Academic year 2024 – 2025
روبہ عمل تعلیمی سال-2024-2025
(As per NEP-2020)
نئی تعلیمی پالسی 2020کے مطابق))
B.A. First Year, Semester- I
بی۔اے۔سال اوّل(میقات اوّل)
Generic Elective (Urdu Ka Afsanvi Adab)
جنرک الیکٹیو(اُردو کا افسانوی ادب)
داستان
کی تعریف و فن
قصہ کہنا اور قصہ سنا
انسان کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ یہ اور بات کہ آج کی تیزرفتار زندگی اس کی مہلت
ہی نہیں دیتی۔ کسی زمانے میں دن بھر کا تھکا ہارا انسان رات کو دوستوں کے حلقے میں
بیٹھنا اور اپنی کہتا ، دو سروں کی سنتا۔ جسے جو یاد ہو تاوه سناتا اور کوشش کرتا
کہ توجہ کا مرکز بنا رہے قصّے سے زیادہ دلچسپ اور کون سی چیز ہو سکتی تھی۔ اس طرح قصّے
نے جنم لیا۔ وہ وقت گزر گیا اور رات کی
مصرو فیتیں بھی پیدا ہو گئیں مگر ایک ایسا طبقہ پھر بھی باقی رہا جسے وقت گزاری کے
لیے دلچسپ مشغلوں کی ضرورت تھی۔ بے فکروں کو وقت کاٹنے کے جو شغل سوجھے قصہ ان میں
سے ایک تھا۔
داستان
کے اجزائے ترکیبی
۱)طوالت:۔طوالت
داستان کی اولین شرط تھی۔ داستان کی ضرورت وقت گزاری کے لیے تھی اور خالی وقت بے حساب
تھا۔ داستانیں پڑھی نہیں سنی جاتی تھیں۔ رات کے وقت بادشاہ اور امیر اپنی خواب
گاہوں میں اور عام لوگ چوک چوراہے یا کسی مکان میں دیر رات تک داستان سنتے۔
بادشاہوں اور امیروں کے ہاں معمول تھا کہ داستان کو اس وقت تک مسلسل بیان جاری
رکھا جب تک سننے والے سونہ جائیں۔ اگلی رات داستان کی ڈور وہیں سے تھام کی جاتی
تھی جہاں پچھلی شب ٹوٹی تھی۔ اس لیے ضروری ہوا کہ داستان طولانی ہو۔ اس کے لیے سال
سا نسخہ یہ استعمال کیا جا تا کہ کہانی میں کہانی جوڑدی جاتی۔ مشہور ہے کہ کسی
بادشاہ نے شرط رکھی تھی کہ میں اس لڑکی سے شادی کروں گا جو کبھی نہ ختم ہونے والا
قصہ سنائے۔ جس رات قصہ ختم اسی رات ملکہ صاحبہ کا کام تمام۔ اس کی داستان ایک ہزار
اور ایک راتوں چلتی رہی۔ یوں اس کی جان بچی۔
۲)پلاٹ:۔پلاٹ کا تصور داستان میں کس طرح ممکن ہے جبکہ قصے کو بے جا طور پر طول دیا جاتا تھا اور نل میں نل کی طرح قصے میں قصے کو جوڑ کر اسے شیطان کی آنت بنایا جاتا تھا۔ناول میں بھی ایک سے زیادہ کہانیاں ہوسکتی ہیں مگر ضروری ہے کہ انہیں پوری طرح ایک دوسرے میں پیوست کر دیا جائے لیکن اردو کی اکثر داستانوں میں پلاٹ کی کوئی خاص اہمیت دیکھائی نہیں دیتی اور نہ ہی داستان نگاروں نے اس کا خیال رکھا ہے اس لیے داستان سے پلاٹ کا مطالبہ نہیں کیا جاسکتا۔
۳)فوق فطری عناصر:۔فوق
فطری عناصر داستان کی دوسری خصوصیت ہے۔ ہمارا ہی نہیں بلکہ تمام قدیم عالمی ادب-
ہومر کی ایلیڈ اور اوڈیسی ، فاؤسٹ کی ڈوائن کامیڈی، شکسپئر کے ڈرامے ، ملٹن کی
فردوس گم شده، فردوسی کا شاہنامہ‘ کالی داس کے ڈرائے رامائن مہا بھارت فوق فطری
عناصر سے پر ہیں۔ یہی زمانے کی ریت رہی
ہے۔شاعری سے داستان کا بہت گہرا رشتہ ہے۔ دونوں درد انسانی کا مداوا ہیں۔ دونوں کا
اصل مقصد حظ اندوزی، تفنن طبع اور وقت گزاری ہے۔ دونوں کی بنیادجھوٹ پر ہے۔ دونوں
میں تخیل کی کار فرمائی ہے۔ تخیل اور جھوٹ
کے اسی امتزاج نے فوق فطری عناصر کو جنم دیا۔ انسان کو اصلی زندگی میں جو میسرمیں
نہیں ہوتا اسے وہ خیالوں کی دنیا میں پانے کی کوشش کرتا ہے۔ داستان گو نے تخیل کے
بل بوتے پر دی جن، پری، جارو جادو گرنی جیسی مخلوق کو جنم دیا۔ طلسمی محلات تعمیر کیے۔
سحر،اسم تسخیر ، اسم اعظم ، لوح، نقش، سلیمانی ٹوپی، جادو کا عصا، جادو کا سرمہ،
جیسی چیزوں کے سہارے خیر کی قوتوں کو شر کی قوتوں پر فتح پاتے دکھایا۔یہاں جو کچھ
ہے نا قابل یقین ہے جس سے لطف اندوز ہونے کا نسخہ کولرج کے نزدیک یہ ہے کہ ہم ذرا
دیر کو اپنی خوشی سے بےیقینی کو بالائے
طاق رکھ دیں۔ اس کو وہ wiling suspension of
disbelief کا نام دیتے ہیں لیکن جب داستان کے فروغ کا
زمانہ تھا تو ہمارے بزرگ ان سب چیزوں کو تسلیم کرتے تھے جنھیں آج عقل ماننے سے
انکار کرتی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ آج سائنس کے زمانے میں بھی ایسی باتوں پر یقین
کرنے والے بہت مل جاتے ہیں۔
۴) کردار نگاری:۔کردار
نگاری کا تصور بھی داستانوں کے زمانے میں آج سے مختلف تھا۔ آج وہ کردار پسند کیے
جاتے ہیں جو ہر پلوسے حقیقی زندگی کے کردار نظر آئیں۔ ان میں وہ خوبیاں اور عیب
پائے جائیں جوسچ مچ کے انسانوں میں ہوتے ہیں مگر اس طرح کے کردار داستانوں کے لیے
قطع ناموزوں تھے۔ وہاں ضرورت تھی ایسے کرداروں کی جن کی انسان پرستش کرسکے، جن سے
بے حد نفرت کرے، جن سے خوف زدہ ہو جائے یا کم سے کم جنھیں دیکھ کر جن کے کارناے سن
کر وہ حیرت میں پڑ جائے۔ہماری داستانوں میں صرف اونچے طبقے کے لوگ یعنی شہزادے اور امیر زادے پیش کیے جاتے ہیں۔ باغ و
بہار میں ایک سوداگر زادے کا قصہ ہے باقی تمام داستانوں میں بادشاہوں اور شہزادوں
کا ذکر ہے۔ پیشہ ور لوگ جیسے خدمتگار خواجہ سرا چڑی مار مغلانی ،مهترانی لوغیرہ کے
کردار برائے نام ہیں۔ حاتم طائی
میں ایک پہیلی،کچھ دہقان باغ و بہار اور گل بکاولی میں
چند لکڑہارے۔ اصل کردار سب اونچے طبقے کے ہیں۔ اونچے طبقے کے کرداروں کی پیش کش
بھی ناقص اور یکرخی ہے۔ نیک لوگ شروع سے
آخر تک نیک ہیں اور بد سراسربد۔غیبی امداد
داستانوں کے کرداروں کو موقع ہی نہیں دیتی کہ ان کی صلاحیتیں بروے کار آئیں۔ خطرہ
درپیش ہو تو سلیمانی ٹوپی اوڑھ کر ہیرو دشمن کی نظروں سے او جھل ہو جاتا ہے، اژرہے
گھیرلیں تو وہ اپنا عصا زمین میں گاڑ دیتا ہے جو تنا ور درخت بن جاتا ہے اور ہیرو
اس پر چڑھ کے محفوظ ہو جاتا ہے۔ یہاں عمروعیار کی زنبیل ہے کہ اس کی سمائی کا اندازہ ہی نہیں ، ایسی جڑی بوٹیاں ہیں جنھیں
کھا کر انسان طوطا بن جاتا ہے اور پھر دوسری بوٹی کھا کر انسان کے روپ میں لوٹ آتا
ہے۔ ایسے مہرے ہیں جو سردی گرمی، بھوک پیاس اور ہر بلا سے محفوظ رکھتے ہیں۔داستانوں
کے کردار انسان ہی نہیں حیوان بھی ہیں اور عجیب و غریب مخلوق بھی۔ یہاں دانا الّوہیں دانش مند بندر ہیں واعظ طوطے ہیں زخمی
مرغ ہے خوفناک اژرہے ہیں۔ ایسی مخلوق ہے جو نصف انسان اور نصف حیوان مثلا گھوڑا یا
مور ہے۔ یہ بھی حسب ضرورت اپنا اپنا پاٹ ادا کرتے ہیں۔
۵) درس اخلاق:۔درس
اخلاق داستان کا مقصد نہ سہی لیکن تمام داستانوں میں کسی نہ کسی شکل میں موجود
ضرور ہے۔ ہر جگہ حق کی اور باطل کی شکست ہوتی ہے۔ اس میں نیکی کی ترغیب پوشیدہ ہے۔
عموما داستان کا انجام اچھّوں کی کامیابی پر ہوتا ہے۔ خاتمہ بالخیر اسی کو کہتے ہیں۔ آخر میں اکثر دعا کی جاتی ہے
کہ’’ جس طرح انھوں کے دن پھرے اسی طرح ہمارے ،تمہارے دن بھی پھریں۔‘‘ اس میں یہ
اشارہ پنہاں ہے کہ تم بھی انھوں‘‘ کی طرح نیکیاں کرو تاکہ ایمانی انعام پاؤ۔
۶) معاشرت کی مرقع کشی:۔مرقع
کشی ہماری داستانوں کی ایک اہم خصوصیت ہے ۔پروفیسر گیان چند نے لکھا ہے کہ ان داستانوں
سے لکھنو اور دلی کی شاہی تہذیب کی پوری تاریخ مرتب ہو سکتی ہے۔ ہر جنس کی ایسی
تفصیل ہے کہ ایک انسائیکلو پیڈیا تیار ہو جائے۔ طرح طرح کے کھانے ملبوسات، سواری
کے جانوروں کی تفصیل شکاری جانوروں کے نام چوروں کے فرق ملازموں کے درجات کیا ہے
جو ان میں موجودیں۔
۷) منظر نگاری:۔منظر
نگاری کے نقطہ نظر سے بھی یہ داستانیں اردو ادب کا ایک بیش با ذخیره ہیں۔ داستان
کے مصنفوں نے اس طرف خاص توجہ کی ہے اور منظر کشی کا حق ادا کردیا ہے۔ اس زمانے
میں جب ہمارے شعرو ادب پر شہری زندگی کی فضا غالب تھی ان مصنفوں نے ہیرو کی مہم
جوئی کے سارے ریگ زار، پہاڑ، دریا، سبزه زار اس کے علاوہ مختلف موسموں اور مختلف
اوقات جیسے صبح و شام سب کی تصویر کشی کا حق ادا کردیا ہے۔ اس کے علاوہ شادی بیاہ
میلے عرس وغیرہ کے مناظر بھی بہت سلیقے سے پیش کیے ہیں۔
حوالہ: اردو نثر کا تنقیدی مطالعہ،سُنبل نگار
میرامّن دہلی میں 1748 کے لگ بھگ پیدا ہوئے۔ ان کا
خاندان شہنشاہ ہمایوں کے زمانے سے عالمگیر ثانی کے عہد تک منصب داروں میں شامل رہا
ہے۔ ان کے پاس اچھی خاصی جاگیر تھی مگر
سورج مل جاٹ نے ان کی جاگیر چھین لی، ادھر احمد شاہ درّانی نے اس طرح تباہی
مچائی کہ سب کچھ تاراج ہو گیا۔ میر امّن پر مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ وہ کسی طرح
عظیم آباد (پٹنہ) پہنچے۔ وہاں کچھ برس قیام کیا مگر وہاں بھی حالات نے ساتھ نہیں
دیا۔ مجبوراً کلکتہ کا سفر کرنا پڑا۔ وہاں بھی کچھ دن بیکاری میں گزارے۔ اس کے بعد
نواب دلاور جنگ نے اپنے چھوٹے بھائی میر کاظم خاں کی اتالیقی پر مامور کر دیا۔
یہاں بھی دو سال کے بعد طبیعت اچاٹ ہو گئی۔ یہاں کے بعد میر بہادر علی حسینی کے
توسط سے جان گل کرسٹ سے شناسائی ہوئی اور میرامن فورٹ ولیم کالج میں ملازم ہو گئے۔
جہاں 4 جون 1806 تک تصنیف و تالیف کا کام کرتے رہے۔فورٹ ولیم کالج سے وابستگی کے
بعد میرامّن کو پہلا کام قصہ ’چہار درویش‘ کے اردو ترجمہ کا ملا۔ انہوں نے جان گل
کرسٹ کی ہدایت کے مطابق ٹھیٹھ ہندوستانی گفتگو میں اس کتاب کا ترجمہ کیا اور اتنا
عمدہ ترجمہ کیا کہ کالج کی طرف سے اس پر 500 روپیہ کا انعام دیا گیا۔ انہوں
نے عطا حسین خان تحسین کے ’نو طرز مرصع‘ کو سامنے ضرور رکھا مگر اپنے طور پر اتنی
تبدیلیاں کر دیں کہ اصل کتاب گم ہو گئی۔ ’باغ و بہار‘ میں چار درویشوں کی سرگزشت ہے
اور آزاد بخت اس کے مرکزی کردار ہیں۔’باغ وبہار‘ کے علاوہ ’گنج خوبی‘ بھی میرامّن
کی ترجمہ کی ہوئی کتاب ہے۔ ملا حسین واعظ کاشفی کی ’اخلاق محسنی‘ کا یہ ترجمہ ہے
مگر اسے ’باغ و بہار‘ جیسی مقبولیت نصیب نہیں ہوئی۔ میرامّن کے سوانحی حالات
تذکروں میں نہیں ملتے۔ اس لیے ان کی تاریخ پیدایش کے بارے میں قطعیت کے ساتھ کچھ
نہیں کہا جا سکتا۔ دیگر احوال بھی نہیں ملتے۔ کہا جاتا ہے کہ 1806 میں میر امّن کا
انتقال ہو ا۔
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n88148467
ناول
کی تعریف و فن
ناول ایک ایسا نثری قصہ
ہے جس میں ہماری حقیقی زندگی کا عکس نظر آتا ہے یہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہماری
امنگیں اور آرزوی جھلکتی ہیں جس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ ہمارے سامنے کیا مشکلیں
آتی ہیں اور ہم ان پر کس طرح قابو پاتے ہیں گویا تاول زندگی کی تصویر کشی کا فن
ہے۔ ناول اطالوی زبان کے لفظ ”ناویلا “ سے نکلاہے جس کے معنی ہیں نیا یہ نام اس لئے رکھا گیا کہ ناول ایک
نئی چیز تھی اردو ادب میں ناول انگریزی
ادب کے راستے سے آیا۔ ہمارے اہل قلم نے انگریزی ناول دیکھے اور پسند کئے تو داستان
کو ترک کر کے ناول کو اپنا لیا۔
1) اكلا ویوز کے مطابق :
’’ناول اس زمانے کی
حقیقی زندگی اور طور طریقوں کی تصویر ہوتی ہے جس میں کہ وہ لکھا گیا ہو“
2)
ج-جے ۔ پیرسٹلے کے مطابق:
’’ناول بیانیہ نثرہے جس میں خیالی کرداروں
اور واقعات سے سروکار ہو تا ہے‘‘
3) اندر ائے مراۓکے
مطابق:
حقیقی ناول بھی رومانی
نہیں ہو سکتا اس کے لئے حقائق کو سہار اور حقیقی سوسائٹی کا پس منظر ضروریہ ہے‘‘۔
ناول کے اجزائے ترکیبی:۔
ناول کے اجزاء ترکیبی کیا
ہیں یعنی وہ کیا چیزیں ہیں جن کا کسی اول میں پایا جانا ضروری ہے۔ ان کے نقط لطرے
جن چیزوں کا ناول میں پایا جانا ضروری ہے وہ ہیں : قصہ
، پلاٹ، کردار نگاری مکالمہ نگاری منظر کشی اور نقط نظر اب ان اجزا کا مختصر تعارف
اس طرح ہے۔
۱)قصّہ پن: قصہ وہ بنیادی شے ہے جس کے بغیر کوئی ناول
وجود میں نہیں آسکتا۔ کوئی واقعہ ،کوئی حادثہ کوئی، قصہ ،فن کار کو قلم اٹھانے پر
مجبور کردیتا ہے۔ ایک ضروری بات اور پڑھنے والے کو یہ قصہ بالکل سچا لگنا چاہیے۔
دوسری بات یہ کہ قصہ جتنا جاندار ہو گا قاری کی دلچسپی اس میں اتنی ہی زیادہ ہوگی۔
اب یہ فن کار کی زمہ داری ہے کہ وہ اس دلچسپی کو برقرار رکھے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ
کہانی اس طرح آگے بڑھے کہ پڑھنے والا یہ جاننے کے لیے بے تاب رہے کہ آگےکیا ہونے
والا ہے۔ گویا کہانی پن بر قرار رہے۔
۲) پلاٹ:پلاٹ قصّے کو
ترتیب دینے کا نام ہے۔ ایک کامیاب فن کار واقعات کو اس طرح ترتیب دیتا ہے جیسے
موتی لڑی میں پروئے جاتے ہیں۔ ان واقعات میں ایسا منطقی تسلسل ہونا چاہیے کہ ایک
کے بعد دوسرا واقعہ بالکل فطری معلوم ہو۔واقعات ایک دوسرے سے پوری طرح پیوست ہوں
تو پلاٹ مربوط یا گٹھا ہوا کہلائے گا اور ایسا نہ ہو تو پلاٹ ڈھیلا ڈھالا کہا جائے
گا جو ایک خامی ہے۔امراؤ جان ادا‘‘ کا پلاٹ گٹھا ہوا اور کسا ہوا ہے جب کہ فسانہ
آزاد“ کا پلاٹ ڈھیلا ڈھالا ہے۔ ناول میں ایک قصہ ہو تو پلاٹ اکہرا یا سادہ کہلائے
گا۔ ایک سے زیادہ ہوں تو مرکب جیسا کہ ناول’’ امراؤ جان ادا‘‘ میں ہے۔
۳) کردار نگاری:کردار
نگاری ناول کا تیسرا اہم جزو ہے۔ ناول میں جو واقعات پیش آتے ہیں ان کے مرکز کچھ
جاندار ہوتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ یہ انسان ہی ہوں۔ حیوانوں سے بھی یہ کام لیا
جاسکتا ہے۔ یہ افراد قصّہ کردار کہلاتے ہیں۔ یہ جتنے حقیقی یعنی اصل زندگی کے قریب
ہوں گے ناول استانی کامیاب ہو گا۔کردار دو خانوں میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔ ایک
پیچیده (راونڈ) رو سرے پاٹ (فلیٹ)۔ انسان حالات کے ساتھ تبدیل ہوتا ہے۔ جو کردار حالات کے ساتھ تبدیل ہوتے ہیں وہ
راونڈ کہلاتے ہیں جیسے پریم چند کاہوری اور امرکانت، مرزا ہادی رسوا کے امراؤ جان
اور سلطان مرزا۔ اسی طرح کے کردار جیتے جانئے کردار کہلاتے ہیں اور ادب کی دنیا
میں امر ہو جاتے ہیں۔جو کردار ارتقا سے محروم ہوتے ہیں اور پورے ناول میں ایک ایسے
رہتے ہیں وہ سپاٹ یا فلیٹ کہلاتے ہیں۔ نذیر احمد کے مرزا ظاہر دار بیگ اور سرشار
کے خوجی اس کی مثال ہیں۔ یہ دلچسپ ہو سکتے ہیں مگر سچ مچ کے انسانوں سے ملتے جلتے نہیں
ہوسکتے۔
۴) مکالمہ نگاری:ناول کے کردار آپس میں جو بات چیت کرتے ہیں وہ مکالمہ کہلاتی ہے۔ اسی بات چیت کے ذریعے ہم ان کے دلوں کا حال جان سکتے ہیں اور انہی کے سہارے قصّہ آگے بڑھتا ہے۔مکالمے کے سلسلے میں دو باتیں ضروری ہیں۔ ایک تو یہ کہ مکالے غیر ضروری طور پر طویل نہ ہوں کہ قاری انھیں پڑھنے میں اکتا جائے۔ دوسری بات اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ وہ یہ کہ مکالمہ جس کردار کی زبان سے ادا ہو رہا ہے اس کے حسب حال ہو۔ مثلا عالم کے مکالے ایسے ہوں جیسے پڑھے لکھے آدی کے ہو سکتے ہیں۔ یہ بھی خیال رکھنا چاہیے کہ مکالے کردار کی ذہنی کیفیت کے آئینہ دار ہوں۔ مثلا کوئی شخص غصے کے عالم میں گفتگو کرتا ہے تو اس کا انداز بیان کچھ اور ہوتا ہے۔ خوشی کی حالت میں کچھ اور کامیاب فن کار مکالے لکھتے وقت ان باتوں کو دھیان میں رکھتا ہے۔نذیراحمد ،سرشار ،رسوا ، اور پریم چند ہماری زبان کے نہایت کامیاب مکالمہ نگار ہیں۔
۵)
منظر کشی:منظر کشی سے چاول کی دلکشی اور تاثیر میں
اضافہ ہو جاتا ہے۔ منظر کشی کامیاب ہو تو جھوٹا قصہ بھی سچا لگنے لگتا ہے۔ ’’امراؤ
جان ادا‘‘ میں رسوا نے خانم کے کوٹھے کا نقشا اسی کامیابی کے ساتھ کھینچا ہے کہ
پورا ماحول ہمارے پیش نظر ہو جا تا ہے۔ عرس۔’ میلے نواب سلطان کی کوٹھی کا ذکر ہے
تو ایسا کارگر کہ لگتا ہے ہم خود وہاں جاپہنچے ہیں۔ پریم چند کو بھی منظر نگاری
میں بڑی مہارت حاصل ہے۔ جو ناول نگار ناول میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لیے نہیں
بلکہ صرف منظر نگاری کا کمال دکھانے کے لیے مختلف موسموں اور مقاموں کی تصویر
کھینچتے ہیں ۔
۶) نقطہ نظر: نقطہ نظر جسم میں خون کی طرح فن کار کے قلم سے نکلی ہوئی ایک ایک سطر میں جاری و ساری ہوتا ہے۔ ہر انسان اور خاص طور پر فن کار کائنات اور اس کی ہرشے کو اپنے زاویہ نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ہر معاملے میں اپنی ایک رائے رکھتا ہے۔ جب وہ کسی موضوع پر قلم اٹھاتا ہے تو گویا اس پر اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے اور اپنا نقطہ نظر واضح کرتا ہے۔ وہ پختہ کار ہے تو اپنی راے کا برملا اظہار نہیں کرتا۔ وہ خور کچھ نہیں کہتا بلکہ قاری سے وہ بات کھلوالیتا ہے جو اس کے اپنے دل میں ہے۔غرض یہ کہ ہر تخلیق کے پیچھے کوئی نقطہ نظر کارفرما ہوتا ہے اور مصنف اسی کی خاطر تخلیق کا کرب جھیلتا ہے۔ مولوی نذیر احمد نے ابن الوقت یہ واضح کرنے کے لیے لکھا کہ بے سوچ سمجھ نقالی انسان کو ذلیل و خوار کر دیتی ہے۔ ان کاہر ناول اصلای نقطۂ نظر کا حامل ہے۔
افسانہ
کی تعریف و فن
داستان ناول اور افسانہ
دراصل ایک ہی نثری صنف کے مختلف روپ ہیں۔ ان تینوں کو ملا کر افسانوی ادب یا فکشن
کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ ان تینوں کی
بنیادی خصوصیت ایک ہے اور وہ ہے قصہ پن۔ یعنی ہر قدم پر یہ جاننے کی خواہش کے آگے
کیا ہوا اور اس کے بعد کیا ہونے والا ہے۔ یہ کہانی پین یا قصہ پین ہی فکشن کی جان
ہے۔جب انسان کو بہت فرصت تھی تو وہ ایسے تھے سنتا اور سناتا تھا جو بہت طویل ہوتے
تھے۔ اس زمانے میں وہ ایسی باتوں اور ایسی چیزوں پر یقین کر لیتا تھا جو عقل کو
دنگ کر دیتی ہیں۔ ان کو فوق فطری عناصر کہا جاتا ہے۔ داستانوں میں ان کی بہتات
ہوتی تھی۔ مگر زمانے کا ورق پلٹا انسان کی مصروفیت بڑھی اور غیر فطری باتوں پر سے
اس کا ایمان اٹھ گیا۔ زندگی کے حقیقی واقعات کو اس نے اپنے قصوں کا موضوع بنایا
اور غیر ضروری طوالت سے دامن بچایا تو ناول وجود میں آیا۔ مصروفیت اور بڑھی تو
افسانہ وجود میں آیا۔ افسانہ چھوٹا سا ہو تا ہے اس لیے اس میں پوری زندگی کو پیش
نہیں کیا جا سکتا۔ اس میں زندگی کے کسی ایک رخ سے اور کردار کے کسی ایک پہلو سے
سروکار ہو تا ہے۔ افسانے کے اجزائے تو کبھی بھی وہی ہوتے ہیں جو ناول کے ہیں مگر
افسانے کا پرانہ چھوٹا ہوتا ہے اس لیے ان کے اجزائے ترکی کے برتنے کا انداز بھی
بدل جاتا ہے۔
افسانے سے مراد ایسی نثری کہانی ہے جس میں کوئی ایسا واقعہ بیان کیا گیا ہو جس کی ابتدا ہو، ارتقاء ہو، اور خاتمہ ہو اور جو زندگی کی بصیرت میں اضافہ کرے۔ دوسرے لفظوں میں وہ نثری کہانی جس سے میں زندگی کے کسی ایک گوشے یا رخ کو کم سے کم الفاظ میں اجاگر کیا جائے۔ افسانہ مغربی ادب کے موضوعات ابتدا سے ہی مقامی عناصر پر مشتمل رہے ہیں۔ مستعار لیا گیا ہے لیکن اس نے انیسویں صدی کے آغاز میں مختصر افسانے کی ابتداء کی، لکھتے ہیں ”مختصرجس واشنگٹن ارنگ افسانے کو پڑھ کر قاری کے دل پر ایک خاص کیفیت گزر جاتی ہے اور یہی مختصر افسانے کی درسال پرانا ہے .فسانے کی یہ بھی تعریف کی گئی ہے کہ مختصر افسانہ افسانوی ادب کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ ہے۔ افسانے کے جدید نقاد ڈاکٹر فردوس فاطمہ نصیر افسانے کی تعریف یوں کرتی ہیں مختصر افسانہ وہ صنف ادب ہے جس میں نہایت اختصار کے ساتھ نثر میں زندگی کے کسی ایک پہلو کی خیر کن جھلک فی طریقہ پر دکھائی جائے ۔
افسانہ کے اجزائے
ترکیبی:اجزائے ترکیبی تو افسانے کے بھی وہی ہیں جو ناول کے ہوتے ہیں
مگر افسانے کا پیمانہ چھوٹا ہو تا ہے اس
لیے ان کے برتنے کا انداز بدل جاتا ہے۔ ان اجزاے ترکی کا ذکر کرنے سے پہلے یہ عرض
کرنا ضروری ہے کہ اس معاملے میں اہل نظر کی را میں بدلتی رہی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل
پلاٹ، کردار نقطہ نظر اور وحدت تاثر کے بغیر افسانے کا تصور ہی ممکن نہ تھا لیکن
زیادہ پرانی بات نہیں کہ بغیر پلاٹ کی کہانیاں لکھی گئیں اور دو ’’نا
کہانی‘‘ کہلا ئیں۔
۱)پلاٹ:پلاٹ سے مراد ہے واقعات
یا افسانے میں کوئی ایک واقعہ پیش کیا گیا ہے تو اسنے مختلف اجزا کی ترتیب۔ افسانے
میں کوئی قصہ پیش کرتا تو عام طور پر ممکن نہیں ہوتا لیکن کسی واقعے یا چند واقعات
کے بغیر افسانے کا وجود میں آنا ممکن نہیں۔ اچھے افسانے کی ایک شناخت یہ ہے کہ اس
میں ایک لفظ بھی غیر ضروری نہ ہو۔ غیر ضروری تفصیل سے افسانے میں جھول پیدا ہو
جاتا ہے اور قاری کی توجہ مرکزی خیال پر مرکوز نہیں رہ پاتی- انتشار اور پراگندہ
پانی سے احتراز افسانے کی اثر پذیری ہے۔ کردار افسانے کے لیے بھی اسی طرح ضروری ہے
جس طرح ناول کے لیے لیکن افسانے کا پیمانہ مختصر ہونے کے سبب افسانہ نگار کی
دشواریاں زیادہ ہیں۔ ناول نگار کو مختلف زاویوں سے کردار پر روشنی ڈالنے اور اسے
اجاگر کرنے کا موقع ملتاہے جب کہ افسانہ نگار کردار کا کوئی ایک پہلو ہی کامیابی
کے ساتھ پیش کر سکتا ہے۔ افسانہ نگار کو بڑی محنت کر کے کردار کو اس طرح تراشنا
پڑتا ہے کہ وہ قاری کے دل میں گھر کر سکے۔ناول میں کردار کا ارتقا آسانی سے دکھایا
جاسکتا ہے جب کہ افسانے میں اس کی گنجائش کم ہوتی ہے۔ اس سے عہدہ برآہونے کے لیے
بڑی مہارت درکار ہے۔ پریم چند کے افسانے ”زیور کا ڈبہ نمک کا داروغہ منٹو کا نیا
قانون‘ اور ’بابو گوپی
ناتھ اس کی اچھی مثالیں ہیں۔
۲) نقطۂ نظر:نقطۂ نظر سے کسی
انسان کو مفر نہیں خاص طور پر مصنف کو کیونکہ وہ زیادہ حساس اور باشعور ہو تا ہے۔
یہ الگ بات کہ ایک اچھافنکار اپنا نقطۂ نظر قاری پر تھوپتا نہیں۔ اس کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ کھل کر کچھ
نہ کہے بلکہ اپنی تخلیق کو اس طرح پیش کرے کہ فن کار کے دل کی بات آپ سے آپ قاری
کے دل میں آجائے۔ مثلا منٹو نے ہندو مسلم فسادات سے متعلق افسانے (سیاه حاشئے) اس طرح پیش کیے کہ قاری کو فرقہ پرستی سے نفرت
ہو جاتی ہے۔ پریم چند کا افسانہ ’’نمک کا داروغہ‘‘ پڑھ کر ہمارے دل میں دیانت داری
اور اصول پرستی کی قدر بڑھ جاتی ہے۔
۴)ماحول اور فضا:ماحول
اور فضا کی مختصر افسانے میں بہت اہمیت ہے۔ فضا آفرینی کامیاب افسانہ نگاری کے لیے
بہت ضروری ہے۔ اس سے کہانی کی تاثیر میں اضافہ ہوجاتاہے۔ کرشن چندر نے اس تکنیک سے
اپنے افسانوں میں بہت کام لیا ہے۔ فضا آفرینی سے یہ مراد ہے کہ افسانہ نگار ماحوں
یایی تصویر کھینچے کہ قاری کے دل پر وہ کیفیت طاری ہو جائے جو وہ پیدا کرنا چاہتا
ہے۔ افسانے کا موضوع غریبی ہے تو غربت اور غریبوں کے رہن سہن کی ایسی تصویر کھینچی
جائے کہ قاری کو غریبوں سے ہمدردی ہو جائے۔ جن افسانہ نگاروں نے
ماحول کی تصویر کشی اور فضا آفرینی پر زیادہ توجہ
کی وہ زیادہ کامیاب افسانے پیش کر سکے۔
۵)اسلوب:اسلوب افسانے کا
ایسا حصہ ہے جس سے اسے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ مختر افسانے کا فن غزل کے فن سے بہت
ملتا جلتا ہے۔ بے مصرف ایک لفظ کی بھی
یہاں گنجائش نہیں۔ یہ کفایت لفظی کا فن ہے میں کم سے کم لفظوں میں زیادہ سے زیادہ
بات کہہ جانے کا بہتر ہے۔ کیا لکھنا چاہیے سے زیادہ افسانہ نگار کے لیے ہے جاننا
ضروری ہے کہ کیا تمہیں لکھنا چاہیے۔ مطلب یہ کہ ہر غیر ضروری لفظ اور ہر غیر ضروری
فقرے کو قلم زد کردیا جاتا اسے جو لفظ یا جو فقرہ افسانے کے آگے بڑھنے میں مددگار
نہ ہو وہ غیر ضروری ہے۔افسانے کا اسلوب موضوع کے مطابق ہونا چا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ
افسانے کی زبان کو ساده و رواں ہونا چاہیئے ہے مگر سادگی کے ساتھ دلکشی بھی ضروری ہے لیکن
بعض افسانہ نگارا زبان لکھتے ہیں کہ قارئین یا سامعین ایک ایک فقرے پر اس طرح
داددیں جیسے مشاعرے میں شعر پر دی جاتی ہے۔
۶)آغاز و اختتام:آغاز
و اختتام پر بھی افسانے کی کامیابی اور ناکامی کا دار ہے۔ افسانے کا آغاز اس طرح
ہونا چاہیئے ہے کہ قاری فورا اس طرف متوجہ
ہو جائے۔ اب یہ افسانہ نگار کا ہنر ہے کہ اس توجہ کو افسانے سے ہٹنے نہ دے۔ ہر
لحظہ یہ تجسس باقی رہے کہ اب کیا ہونے والا ہے اور جب کہانی ختم ہو تو اس طرح کہ
پڑھنے والا مدتوں اس کی گرفت سے نکل نہ سکے۔ بعض روسی افسانہ نگاروں نے ایسی
کہانیاں لکھی ہیں کہ جب وہ کاغذ پر ختم ہو گئیں تو قاری کے ذہن میں شروع ہو گئیں
لیکن ان کے ذہن میں ایک ایسا سوالیہ نشان ابھر آیا کہ مدتوں اس کا جواب ڈھونڈتے
رہے۔
۷)وحدت تاثر:وحدت تاثر کو
کہانی کی اساس کہا جاتا ہے۔ کچھ دنوں پہلے اس کی شدید مخالفت کی گئی اور کہا گیا
کہ اصل زندگی میں انتشار اور بکھراؤ کی کیفیت ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ افسانے میں
یہ کیفیت نہ پائی جائے۔ وحدت تاثر سے یہ مراد ہے کہ افسانے سے قاری کے ذہن پر کوئی
ایک کیفیت طاری ہو- یہ نہ ہو کہ ابھی خوشی کی کیفیت ہے ذرا دیر میں ساری فضا
سوگوار ہو گئی۔ کسی زمانے میں وحدت تاثر کو افسانے کے لیے سب سے زیادہ ضروری قرار
دیا گیا۔ آج بعض لوگ اس کے حامی ہیں تو بعض اس کے مخالف۔
راجندر
سنگھ بیدی
راجندر سنگھ بیدی جدید
اردو فکشن کا وہ نام ہیں جس پر اردو افسانہ بجا طور پر ناز کرتا ہے۔ وہ یقینا
منفرد بےمثال اور لاجواب ہیں۔جدید اردو افسانے کے تین دیگر ستونوں،سعادت حسن
منٹو،عصمت چغتائی اور کرشن چند کے مقابلہ میں ان کی تحریریں زیادہ گمبھیر،زیادہ
تہہ دار اور
بیدی یکم ستمبر 1915 کو
لاہور میں پید اہوے۔ ان کے والد ہیرا سنگھ لاہور کے صدر بازار ڈاکخانہ کے پوسٹ
ماسٹر تھے۔ بیدی کی ابتدائی تعلیم لاہور چھاونی کے اسکول میں ہوئی جہاں سے انھوں
نے چوتھی جماعت پاس کی اس کے بعد ان کا داخلہ ایس بی بی ایس خالصہ اسکول میں کرا
دیا گیا ،انھوں نے وہاں سے1931 میں فرسٹ ڈویزن میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ میٹرک
کے بعد وہ ڈی اے وی کالج لاہور گئے لیکن انٹرمیڈئیٹ تک ہی پہنچے تھے کہ والدہ
کا،جو ٹی بی کی مریضہ تھیں، انتقال ہو گیا۔ والدہ کے انقال کے بعد ان کے والد نے
ملازمت سے استعفے دے دیا اور1933 میں بیدی کو کالج سے اٹھا کر ڈاک خانے میں بھرتی
کرا دیا۔ ان کی تنخواہ 46 روپے ماہوار تھی۔ 1934ء میں صرف 19 سال کی عمر میں ان کی
شادی کر دی گئی۔ خالصہ کالج کے زمانہ سے ہی انھوں نے لکھنا شروع کر دیا تھا۔
ڈاکخنہ کی نوکری کے زمانہ میں وہ ریڈیو کے لئے بھی لکھتے تھے۔ 1946 میں ان کی
کہانیوں کا پہلا مجموعہ":دانہ و دام" شائع ہوا اور ان کی اہمیت کو ادبی
حلقوں میں تسلیم کیا جانے لگا۔ان کی کہانیوں کا دوسرا مجموعہ "گرہن"
1942 میں ہی شائع ہو چکا تھا 1949ءمیں انھوں نے اپنا تیسرا مجموعہ کوکھ جلی"
شائع کرایا۔
بیدی بطور اسٹوری رایئٹر
ڈ،ائلاگ رائٹر،اسکرین رائٹر ڈائرکٹر یا پپروڈیوسر جن فلموں کا حصہ رہے ان میں بڑی
بہن ۔داغ ۔مرزا غالب ۔ دیو دا س۔گرم کوٹ ۔ملاپ۔ بسنت بہار ۔مسافر ۔ مدھومتی ۔ میم
دیدی ۔ آس کا پنچھی۔بمبئی کا بابو۔ انورادھا۔ رنگولی ۔۔ میرے صنم ۔ بہاروں
کے سپنے ۔ انوپما ۔ میرے ہمدم میرے دوست ۔ ستیہ کام ۔ دستک ۔ گرہن ۔ ابھیمان
۔پھاگن ۔نواب صاحب ۔ مٹھی بھر چاول ۔آنکھن دیکھی ۔ اور ایک چادر میلی سی
شامل ہیں۔1956 میں انھیں گرم کوٹ کے لئے بہترین کہانی کا فلم فیر ایوارڈ
ملا۔دوسرا فلم فیر ایوارڈ ان کو مدھومتی کے بہترین مکالموں کے کئے اور پھر
1971 میں ستیہ کام کے مکالموں کے لئے دیا گیا۔ 1906 میں نینا گپتا نے ان کی کہانی
"لاجونتی" پر ٹیلی فلم بنائی۔1965 میں ان کو اک چادر میلی سی کے کئے
ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ دیا گیا۔اس کے بعد 1978 میں ان کو ڈرامہ کے لئے غالب ایوارڈ
سے نوازا گیا۔ان کی یاد میں حکومت پنجاب نے اردو ادب کا راجندر سنگھ بیدی ایوارڈ
شروع کیا ہے۔بیدی کی زندگی کے آخری ایام بڑی کسمپرسی اور بے بسی میں گزرے۔1982 میں
ان پر فالج کا حملہ ھوا اور پھر کینسر ہو گیا۔1984 میں ان کا انتقال ہو گیا۔ حوالہ:
ریختہ
راجندر سنگھ بیدی کے
افسانے "کورنٹائن" کا خلاصہ
راجندر سنگھ بیدی کا
افسانہ "کورنٹائن" انسانی نفسیات، سماجی
رویوں اور انسان کی اندرونی کشمکش کا گہرا عکاس ہے۔ یہ کہانی تقسیمِ ہند کے تناظر
میں لکھی گئی ہے، جس میں وبا کے دوران انسانی جذبات، محبت، نفرت اور بے بسی کو
اجاگر کیا گیا ہے۔ افسانہ ایک ایسے کردار کے گرد گھومتا ہے جو بیماری کی وجہ سے
تنہائی میں رہنے پر مجبور ہے، اور اس کیفیت میں وہ مختلف نفسیاتی، سماجی اور
جذباتی مراحل سے گزرتا ہے۔افسانہ اس زمانے کی عکاسی کرتا ہے جب متعدی امراض پھیلنے
کے خوف سے مریضوں کو کورنٹائن (قرنطینہ) میں ڈال دیا جاتا تھا۔ اس عمل کا مقصد
باقی لوگوں کو بیماری سے محفوظ رکھنا ہوتا تھا، لیکن یہ تنہائی بعض اوقات مریض کے
لیے ناقابلِ برداشت بن جاتی تھی۔ راجندر سنگھ بیدی نے اسی احساسِ تنہائی اور بے
بسی کو اپنی کہانی کا بنیادی موضوع بنایا ہے۔
افسانے کا مرکزی کردار
ایک ایسا انسان ہے جو ایک متعدی بیماری میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ ڈاکٹروں کے حکم پر
اسے کورنٹائن میں رکھا جاتا ہے تاکہ دوسرے افراد بیماری سے محفوظ رہ سکیں۔ یہ وقت
اس کے لیے انتہائی مشکل ہوتا ہے کیونکہ وہ ایک سماجی مخلوق ہے اور دوسرے انسانوں
کے بغیر زندہ رہنا اس کے لیے اذیت بن جاتا ہے۔
تنہائی اور بے بسی: کورنٹائن
میں رہنے والے انسان کو سب سے پہلے جس چیز کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ تنہائی ہے۔
اسے ایک الگ تھلگ جگہ پر رکھا جاتا ہے جہاں اس سے کسی کو ملنے کی اجازت نہیں ہوتی۔
یہاں تک کہ اس کے اپنے قریبی لوگ بھی اس سے دور رہتے ہیں۔ شروع میں وہ اس حقیقت کو
قبول نہیں کر پاتا اور مسلسل چیختا چلاتا ہے، مگر آہستہ آہستہ وہ اس صورتحال سے
سمجھوتہ کرنے لگتا ہے۔
نفسیاتی تبدیلیاں: تنہائی
میں گزارے گئے لمحات میں وہ اپنے ماضی کے بارے میں سوچنے لگتا ہے۔ اس کے ذہن میں
پرانی یادیں تازہ ہونے لگتی ہیں۔ وہ سوچتا ہے کہ کس طرح صحت مند زندگی میں وہ
دوسروں سے بے نیاز رہتا تھا، لیکن آج جب وہ خود ایک آزمائش میں مبتلا ہے تو کوئی
اس کے قریب نہیں آتا۔ وہ سوچتا ہے کہ لوگ ایک بیمار انسان کو اتنی آسانی سے بھول
کیوں جاتے ہیں؟ یہ خیالات اس کے ذہن میں بے چینی اور اضطراب کو جنم دیتے ہیں۔
محبت اور اپنائیت کی کمی: اس
دوران اسے اپنی زندگی میں موجود رشتوں کا حقیقی چہرہ نظر آتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ
جو لوگ اس سے محبت کے دعوے کرتے تھے، وہی سب سے پہلے اسے چھوڑ گئے۔ وہ سوچتا ہے کہ
دنیا میں حقیقی محبت کا وجود ہے بھی یا نہیں؟
سماجی رویے: افسانے
میں بیدی نے سماج کے اس رویے پر تنقید کی ہے جس میں بیمار انسان کو فوراً نظرانداز
کر دیا جاتا ہے۔ جو لوگ پہلے اس کے قریب تھے، وہ سب اپنی جان بچانے کے لیے دور ہو
گئے۔ وہ سوچتا ہے کہ کیا یہی انسانیت ہے؟ اس کا دل ان تضادات کو سمجھنے سے قاصر
رہتا ہے۔
وبا اور سماج کی بے حسی: افسانے
میں دکھایا گیا ہے کہ وبا کے دوران لوگوں میں ہمدردی اور محبت کے بجائے خوف اور
خود غرضی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ جو لوگ پہلے ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے تھے،
وہی بیماری کے خوف سے قریب آنے سے بھی گریز کرنے لگتے ہیں۔ مرکزی کردار کی تنہائی
صرف جسمانی نہیں بلکہ جذباتی اور نفسیاتی بھی ہے۔
آخری لمحات اور نیا شعور: کئی
دنوں کی اس تنہائی کے بعد جب اسے رہائی ملتی ہے، تو وہ ایک بدلا ہوا انسان بن چکا
ہوتا ہے۔ وہ سوسائٹی کے رویوں کو نئے انداز میں دیکھتا ہے۔ اسے یہ سمجھ آجاتی ہے
کہ انسان کی زندگی کا اصل مطلب صرف جسمانی صحت نہیں بلکہ جذباتی اور سماجی وابستگی
بھی ہے۔ اس کا دل چاہتا ہے کہ وہ دوسروں کے لیے کچھ کرے تاکہ کوئی اور اس بے بسی
کا شکار نہ ہو۔
راجندر سنگھ بیدی کا
افسانہ "کورنٹائن" انسانی فطرت، تنہائی اور
معاشرتی رویوں کا بہترین عکاس ہے۔ یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ بیماری صرف جسم پر ہی
اثر نہیں ڈالتی بلکہ انسان کی نفسیات اور جذبات پر بھی گہرا اثر چھوڑتی ہے۔ افسانہ
یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا ہمارا سماج واقعی اتنا بے حس ہے کہ ایک بیمار انسان کو
تنہا چھوڑ دے؟ یا ہم اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے کچھ کر سکتے ہیں؟یہ کہانی
ایک سبق ہے کہ زندگی میں حقیقی رشتے وہی ہوتے ہیں جو مشکل وقت میں انسان کا ساتھ
دیتے ہیں۔ بیدی نے نہایت خوبصورتی سے یہ دکھایا ہے کہ کس طرح ایک آزمائش انسان کے
نظریات کو بدل سکتی ہے اور اسے ایک نئی سوچ دے سکتی ہے۔
سعادت حسن منٹو ولادت:۔
1912
ء وفات:۔1955
ء
سعادت
حسن منٹو کے والد غلام حسن منٹو قوم اور ذات کے کشمیری امرتسر کے ایک محلے کوچہ
وکیلاں میں ایک بڑے خاندان کے ساتھ رہتے تھے۔منٹو 11 مئی 1912کو موضع سمبرالہ، ضلع لدھیانہ میں پیدا ہو ئے۔ ان کے
والد لدھیانہ کی
کسی تحصیل میں تعینات تھے- دوست انہیں ٹامی کے نام سے پکارتے تھے۔ منٹو اپنے گھر
میں ایک سہما ہوا بچہ تھا۔ جو سوتیلے بہن بھائیوں کی موجودگی اور والد کی سختی کی
وجہ سے اپنا آپ ظاہر نہ کر سکتا تھا۔ ان کی والدہ ان کی طرف دار تھیں۔ وہ ابتدا ہی
سے اسکول کی تعلیم کی طرف مائل نہیں تھے۔ ان کی ابتدائی تعلیم گھر میں ہوئی۔ 1921ء میں
اسے ایم اے او مڈل اسکول میں چوتھی جماعت میں داخل کرایا گيا۔
ان کا تعلیمی کریئر
حوصلہ افزا نہیں تھا۔ میٹرک کے امتحان میں تین مرتبہ فیل ہونے کے بعد انہوں نے 1931 میں یہ امتحان پاس کیا تھا۔ جس کے بعد انہوں نے
ہندو سبھا کالج میں ایف اے میں داخلہ لیا لیکن اسے چھوڑ کر، ایم او کالج میں سال
دوم میں داخلہ لے لیا- انہوں نے انسانی نفسیات کو اپنا موضوع بنایا۔ سعادت حسن
منٹو ایک حساس شخصیت کا مالک تھا۔ وہ کسی وجہ سے کسی کو نا پسندکرتا تو پھر خاطر
میں نہیں لاتا تھا۔ اس کی انا اگر مجروح ہوتی تو آگے والے کی شامت ہی آ
جاتی۔ پاکستان بننے
کے بعد انہوں نے بہترین افسانے تخلیق کیے۔ جن میں ٹوبہ ٹیک سنگھ، کھول دو، ٹھنڈا
گوشت، دھواں، بو شامل ہیں۔ ان کے کئی افسانوی مجموعے اور خاکے اور ڈرامے شائع ہو
چکے ہیں۔ کثرتِ شراب نوشی کی وجہ سے 18 جنوری1955ء ان کا انتقال ہوا۔
سعادت حسن منٹو اردو کا واحد کبیر
افسانہ نگار ہے جس
کی تحریریں آج
بھی ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں۔ وہ ایک صاحب اسلوب نثر نگار تھے جس کے افسانہ
مضامین اور خاکے اردو ادب میں بے مثال حیثیت کے مالک ہیں۔ منٹو ایک معمار افسانہ
نویس تھے جنہوں نے اردو افسانہ کو ایک نئی راہ دکھائی-افسانہ مجھے لکھتا ہے منٹو
نے یہ بہت بڑی بات کہی تھی۔ منٹو کی زندگی بذات خود ناداری انسانی جدوجہد بیماری
اور ناقدری کی ایک المیہ کہانی تھی جسے اردو افسانے نے لکھا۔ منٹو نے دیکھی پہچانی
دنیا میں سے ایک ایسی دنیا دریافت کی جسے لوگ قابل اعتنا نہیں سمجھتے تھے یہ دنیا
گمراہ لوگوں کی تھی۔ جو مروجہ اخلاقی نظام سے اپنی بنائی ہوئی دنیا کے اصولوں پر
چلتے تھے ان میں اچھے لوگ بھی تھے اور برے بھی۔ یہ لوگ منٹو کا موضوع تھے اردو
افسانے میں یہ ایک بہت بڑی موضوعاتی تبدیلی تھی جو معمار افسانہ نویس کی پہلی اینٹ
تھی۔ اس کے افسانے محض واقعاتی نہیں ہیں ان کے بطن میں تیسری دنیا کے پس ماندہ
معاشرے کے تضادات کی داستان موجود ہے۔
منٹو کے افسانے ”ہتک“ کا جائزہ:
سعادت حسن منٹو کا افسانہ
”ہتک“ ناصرف منٹو بلکہ اردو ادب کے چند بہترین افسانوں میں سے ایک ہے۔ منٹو کے
بارے میں عام طور پر جو خیال پایا جاتاہے وہ یہ ہے کہ منٹو کے افسانوں کے کردار نہ
نوری ہوتے نہ ناری بلکہ خالص خاکی ہوتے ہیں۔ منٹو ایک ماہر نفسیات دان کی طرح اپنے
کرداروں کے نفسیاتی رویوں کی پرتیں اس طرح سے کھولتا ہے کہ بظاہر ”رام“ نظرآنے
والا کردار کسی موڑ پر بالکل ”راون“ بن جاتا ہے اور ”روان“ کہیں ”رام“ نظر آنے
لگتاہے۔ سگمنڈ فرائیڈ کے نظریے تحلیل نفسی کے تحت منٹو اپنے کردار وں کے لاشعور
میں چھپی ناآسودہ اور ان کہی خواہشات اور جذبات کو سامنے لے کر آتا ہے۔ کرداروں کے
اعتبار سے اگر منٹو ایک ماہر ِ نفسیات ہے تو اپنے معاشرے کے لیے وہ ایک بے رحم
جراح ہے جو ”جراحی کرتے ہوئے کلوروفارم بھی استعمال نہیں کرتا۔“
تفہیم منٹو کے ذیل میں جو
عمومی نظریہ ہمارے ہاں پایا جاتاہے اُس کے مطابق اس افسانے ”ہتک“ کا سیدھا سا مطلب
یہی ہے کہ ”سوگندھی“ نام کی ایک جسم فروش عورت ہے۔ جسے ایک سیٹھ دھتکار کر چلا
جاتا ہے۔ اس دھتکار سے اس کی انا ء کو شدید چوٹ پہنچتی ہے اور اس کو نفسیاتی طور
پر ناقابل ِ برداشت صدمہ پہنچتا ہے۔ جس کے بعد وہ اس سیٹھ سے انتقام لینا چاہتی
ہے۔ لیکن جب اس سیٹھ تک رسائی کی کو ئی صورت نظر نہیں آتی۔ تو پھر اپنی ٹھیس کھائی
ہوئی انا ء کی تسکین کے لیے وہ اپنے عاشقوں سے انتقام لیتی ہے۔ ویسے ہی دھتکار کر
ان کی تصویریں اپنے کمر ے باہر پھینکتی ہے۔ ان چہرے کے خدو خال کا مذاق اڑاتی ہے
اور حقارت سے پیش آتی ہے۔ اس عمل کے ذریعے وہ اپنے آپ کو نفسیاتی طور پر بحال کرتی
ہے اور پھر ایک خارش زدہ کتے کو گلے لگا کر سو جاتی ہے۔ یو ں یہ افسانہ سوگندھی کے
نفسیاتی مسائل اور معاشرے کی بے حسی کی ایک تصویر پیش کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔لیکن
اگر اس افسانے کو اس وقت کے سیاسی و سماجی منظر نامے کو سامنے رکھ کر پڑھا جائے تو
یہ افسانہ معنی کے کئی در وا کرتا ہے۔ میرے خیال میں اس افسانے کو منٹو نے برصغیر
پاک و ہند پر انگریزی استعماریت کے تنا ظر میں لکھا ہے۔ سوگندھی نامی طوائف دراصل
برصغیر پاک وہند کا استعارہ ہے۔ جس نے ہر باہر سے آنے والے گلے میں بانہیں ڈال کر
اسے خوش آمدید کہا ہے۔ اور اپنی عزت، دولت اور حرمت سب کچھ اس کی جھولی میں ڈالی
ہے۔ آریا حملہ آوروں سے لے کر انگریزوں تک برصغیرنے سب کے سامنے سوگندھی کی طرح
خود کو پیش کیا ہے۔ منٹو جب سوگندھی کے خدو خال بتاتا ہے تو اس کی بھری بھری
چھاتیوں کاخاص ذکر کرتا ہے۔ جو واضح طور پر برصغیر کے قدرتی وسائل اورذخائر سے
مالا مال ہونے کی طرف اشارہ ہے، جو گاہک/ حملہ آوروں کے لیے خاص کشش کا باعث بنتا
ہے۔ جس کو دیکھ کر وہ کھنچے چلے آتے ہیں۔
اب ایک مدت تک بہت سے لوگ
سوگندھی کے حسن و شباب کے مزے لوٹتے ہیں۔ لیکن پھر ایک وقت آتاہے جب یہ حسن و جمال
ڈھلنا شروع ہو جاتاہے۔ پھر ایک سیٹھ جو کار پہ آتا ہے اس کو دھتکار کر چلا جاتاہے۔
بالکل اسی طرح جس طرح ایک مدت تک استعمارکار اس برصغیر کی مال و دولت کے مزے لوٹتے
رہے۔ یہاں کے کپڑے، ہیرے جواہرات، مصالحہ جات اور طرح طرح کے نوادرات لوٹتے رہے
اور جب یہاں سے لوٹنے کو کچھ نہ رہا تو پھر سوگندھی کی طرح برصغیر کو بھی حقارت سے
ٹھکرا کر چلے گئے۔سیٹھ کی یہ دھتکار سوگندھی کے لیے فکر کی نئی راہیں کھولتی ہے۔
وہ اس سیٹھ سے انتقام لینے کا سوچتی ہے۔ مگر اس کو جلد سمجھ آجاتی ہے کہ اس سیٹھ
سے انتقام لینا اس کے بس کی بات نہیں ہے۔ تو پھر وہ اپنے دوسرے عاشقوں کو دھتکار
کر اپنی ہتک کا انتقام لیتی ہے۔ ان عاشقوں میں مادھولال سب سے اہم ہے۔ اب مادھو
لال کا کردار بھی بڑا غور طلب ہے کہ وہ پولیس کانسٹیبل ہے۔ پولیس کا محکمہ
استعمارکار کاخاص محکمہ رہا ہے۔ جس کے ذریعے وہ اپنے مقاصد حاصل کرتا ہے۔ لوٹ ما ر
کرتاہے اور بغاوت کچلتاہے۔ اب استعمار کار سے انتقام نہ لے سکنے بعد وہ اس کے وضع
کردہ نظام کے گماشتوں سے بغاوت کا اعلان کرتی ہے۔ انہیں اسی شدت سے دھتکار دیتی
ہے۔ اور پھر ایک خارش زدہ کتے کو گلے لگا لیتی ہے۔یہ خارش زدہ کتا دراصل مقامی
استعمارزدہ انسان کا استعارہ ہے۔ جسے اس نے کبھی قابلِ التفات نہیں سمجھا۔ اب آخر
کار سوگندھی کو سمجھ آتی ہے اور وہ اسی مقامی مفلوک الحال اور اپنے جیسے دھتکارے
ہوئے طبقے کو گلے لگا لیتی ہے۔ یہاں شاید منٹو فرانز فینن کی طرح مقامی لوگو ْں کو
استعمارکار کے وضع کردہ قوانین سے بغاوت کرنے کا مشورہ دے رہا ہے۔
اس افسانے میں ایک اور
بات قابلِ غور ہے کہ اس افسانے کے تقریباً ہر کردار کے نام اور کام سے اس کا مذہب
پتا چلتا ہے سوائے اس سیٹھ کے۔ سوگندھی کے کمرے میں گنیش جی کی تصویرہے اور وہ
اپنی کمائی کو ہر بار گنیش جی کی تصویر پر سے وار تی ہے۔ اس طرح سوگندھی کوپوجا کرنے
سے سکون ملتاہے۔ اسی طرح باقی کردار وں کے بھی مذہب نظر آتے ہیں۔ لیکن سیٹھ کی بس
رعونت، حقارت اورغرور نظر آتا ہے۔ یہاں منٹو شاید اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہے
ہیں کہ مذہب صرف غریب غربا اور پسے ہوئے طبقات کا مسئلہ ہے۔ اور وہی اس کو سینے سے
لگائے پھر رہے ہیں معاشی طور پر آسودہ لوگ اس فکر سے ماورا ء ہیں۔
اسی طرح یہ افسانہ سوچ
اور فکر کی راہیں کھولتاہے۔ ممکن ہے منٹو نے سوگندھی اور سیٹھ کے درمیان پائی جانے
والی نفرت کے ذریعے ہمارے معاشرے میں پائی جانے والی طبقاتی کشمکش کی طرف اشارہ
کیا ہو۔ یہ بھی ممکن ہے سیٹھ اور سیٹھ کی کار ایک تہذیب کی نمائندگی کررہی ہے اور
سوگندھی ایک دوسری تہذیب کی۔ یوں سیٹھ اور سوگندھی کی مڈبھیڑ دراصل دوتہذیبوں کا
ٹکراؤ ہے۔ غرض یہ افسانہ اپنے دامن میں بہت وسیع مفاہیم اور معانی سموئے ہوئے اسے
محض ایک جسم فروشی عورت کا انتقام سمجھ لینا کافی نہیں۔
افسانہ فوٹو گرافر کا خلاصہ:
فوٹو
گرافر افسانے میں کہانی پہاڑی علاقے میں موجود ایک بے حد خوبصورت اور دلفریب گیسٹ
ہاؤس کے گرد گھومتی ہے ۔ یہ گیسٹ ہاؤس بل کھاتی سڑک سے ہوتے ہوئے جھیل کنارے واقع
ہے ۔ گیسٹ ہاؤس چونکہ ٹورسٹ علاقے میں موجود نہیں اس لیے یہاں بہت کم سیاح آتے ہیں
۔ آنے والوں میں اکثر نوبیاہتا جوڑے یا کوئی اکا دکا مسافر ہوتے ہیں ۔ گیسٹ ہاؤس
کے ساتھ ہی افسانے کا ایک اہم کردار اس گیسٹ ہاؤس کے دروازے پر بیٹا فوٹو گرافر ہے
۔ جو گیسٹ ہاؤس کے دروازے پر بچھی ٹین کی کرسی پر بیٹھا مہمانوں کا انتظار کرتا
ہے۔فوٹوگرافر اسی قصبے کا باشندہ ہے ، جہاں یہ گیسٹ ہاؤس واقع ہے ۔ فوٹوگرافر کا
کردار کوئی عام کردار نہیں بلکہ گیسٹ ہاؤس کے دروازے پر بیٹھے بیٹھے اس نے بدلتی
دنیا کے کئی رنگ اور تماشے دیکھتے ہیں ۔ وہ اس گیسٹ ہاؤس کے دروازے پر تب سے موجود
ہے جب برطانوی راج میں یہاں بڑے بڑے عمد دداران، فسٹر اور امیر لوگ آتے تھے اور
رات رات بھر محافل سمجھتی تھیں ۔
فوٹو
گرافر کی آنکھوں نے یکھا جب دوسری جنگ عظیم کے دنوں میں یہاں امریکی لوگوں کا آنا
جانا ہونے لگا ۔ پھر ملک کو آزادی ملی اورگیسٹ ہاؤس پر اکا دکا سیاح ، سرکاری
افسران ، چند نوبیاہتا جوڑے اور وہ لوگ آنے لگے جو تنہائی چاہتے تھے ۔ گیسٹ ہاؤس میں
فوٹوگرافر کے کیمرے کی آنکھ تھی جو یہ سب دیکھتی تھی مگر خاموش تھی۔ گیسٹ ہاؤس میں
ایک نوجوان لڑکی اور لڑکا آئے لڑکی ایک رقاصہ جبکہ نوجوان مشهور موسیقار تھا ۔
دونوں سے یہاں کوئی واقف نہ تھا ۔ دونوں ماہ عسل کی بجائے یہاں آرام کی غرض سے آئے
تھے ۔
نوجوان
لڑکے لڑکی کی طرح ہی ایک یورپین سیاح بھی موجود تھا ۔ جو پچر پوسٹ کارڈ کے ذریعے
گھر والوں کو اپنا حال لکھنے میں مصروف تھا ۔ گیسٹ ہاؤس کا ایک اور کرادر مالی بھی
تھا جو مسافروں کو تازہ پھولوں کے گلدستے دیتا ۔ لڑکا لڑکی گیسٹ ہاؤس سے باہر سیر
کو جانے لگے تو فونوگرافر ان سے تصویر اتارنے کی فرمائش کرتا ہے تو لڑکی اسے جواب
دیتی ہے کہ انہیں ۔ دیر ہو رہی ہے ۔ مگر فوٹو گرافر نے کہا کہ وہ بس ان کے چند
لمحے چرانا چاہتا ہے ۔ باہر تو ویسے بھی راز حیات کی جنگ جاری ہے یہ کہ کر فوٹو
گرافر ان کی ایک خوبصورت تصویر اتارتا ہے ۔ اگلے دن مالی نے لڑکی کو وہ فوٹولا کر
دی جسے اس نے بنا دیکھے ہی دراز میں ڈال دیا اور جانے سے قبل اسے اٹھانا بھول گئی
۔وقت بہت کیا فوٹوگرافر بوڑھا ہو گیا مگر اب بھی وہ گیسٹ ہاؤس کے دروازے پر ٹین کی
کرسی بچھائے بیٹھا رہتا اور آنے والے سیاحوں کی تصاویر اتارتا تھا۔ اب یہاں فضائی
سروس شروع ہو جانے کی وجہ سے مسافروں کی تعداد بڑھ گئی تھی۔ ایک روز ایک خاتون
اپنا اٹیچی کیس لیے گیسٹ ہاؤس کے دروازے سے داخل ہوئی ۔ اس نے فونوگرافر کو چونک
کر دیکھا ۔ فوٹو گرافر نے بھی دیکھا کہ وہ ایک حسین لڑکی نہیں بلکہ ایک ادھیڑ عمر
خاتون تھی ۔ خاتون کمرے میں چلی گئی ۔ صبح جب اس نے اپنے کمرے کے سنگھار میز کی
دراز کھولی تو اس میں بچھے کاغذ تلے تلے لفافہ نظر آیا ۔ مگر ساتھ ہی ایک کا کروچ
اس کے ہاتھ پر چڑھ دوڑا ۔ ہاتھ جھٹکے پر اضافہ نیچے گرا جس میں ایک نوجوان لڑکی
اور لڑکا امر سندری پاروتی کے مجسمے کے قریب کھڑے مسکرارہے تھے۔
خاتون
بڑبڑائی کمال ہے پندرہ سال بعد بھی یہ تصویر کائنڈ تھے موجود ہے ۔ یہاں صفائی کا
نظام کتنا ناقص ہو گیا ہے ۔ ان برسوں میں اس خاتون میں کئی تبدیلیاں آگئی تھیں ۔
چہرے پر ۔ جھریاں ، انداز میں چڑ چڑا پن اور بے زاری ، اس کا ساتھی بھی راز حیات
کے گھمسان میں کہیں کھو گیا تھا۔ سب کچھ جوں کا توں موجود تھا مگر زندگی انسانوں
جو کھا رہی تھی اور کاکروچ باقی تھے۔