Swami
Ramanand Teerth Marathwada University, Nanded.
سوامی رامانند تیر تھ مراٹھواڑہ یو نیور سٹی ، ناندیڑ۔
Faculty of Humanities
شعبہ انسانیات
Effective from Academic
year 2024 – 2025
روبہ عمل تعلیمی سال-2024-2025
(As per NEP-2020)
نئی تعلیمی پالسی 2020کے مطابق))
B.A. First Year,
Semester- I
بی۔اے۔سال
اوّل(میقات اوّل)
VSEC:
Vocational Skill Enhancement Courses
پیشہ ورانہ مہارت بڑھانے کے کورسز(تر جمہ نگاری)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ نگاری:
ترجمے کے بغیر دنیا کے بیشتر کام نہیں چل سکتے ۔ قدیم
زمانے سے لے کر ہمارے زمانے تک دنیا میں رونما ہونے والی علمی فنی سائنسی اور
تکنیکی معلومات ہمیں ترجموں کے ذریعے ہی حاصل ہوتی ہیں۔ ہمارے زمانے میں فنی اور
تکنیکی دریافتیں ، انکشافات اور معلومات بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور یہ دریافتیں
اور معلومات ہر ملک کے لیے ضروری ہیں ۔ ملک ترقی یافتہ ہو، ترقی پذیر ہو یا پس ماندہ ہو یہ مقصد صرف ترجمے کے ذریعے پورا ہوتا ہے۔دنیا
کے تمام ترقی پذیر اور پس ماندہ ملکوں کے لیے لازمی ہے کہ وہ علمی آگہی بنی نئی
دریافتوں اور عالمی بصیرتوں کو بڑے پیمانے پرکم سے کم وقت میں حاصل کریں کیوں کہ
یہ ان کی موت اور زندگی کا سوال ہے۔
ترجمہ عربی زبان کا لفظ ہے۔ عرب تہذیب میں اگر کسی شخص
کی سوانح لکھی جاتی ہے تو اس سوانح حیات یا حالات زندگی کو تر جمہ کہتے ہیں ۔ یہی
معنی زمانہ قدیم میں اردو میں بھی رائج تھے لیکن بہت معروف نہیں تھے۔ ترجمہ کا تلفظ
بہر حال اول و سوم مفتوح کے ساتھ ہے۔ کہیں کہیں مضموم بھی سنائی دیتی ہے۔ شاید اس
وجہ سے کہ اسم فاعل ترجمان سوم مضموم کے ساتھ بر وزن بد گمان بولا جاتا ہے ۔ اول و
سوم مفتوح قابل ترجیح ہے ۔ ترجمے کو انگریزی میں Translation کہتے ہیں اور ترجمہ کرنے والے کو Translator یا مترجم کہتے ہیں اس کا تلفظ بر وزن مقابل
ہے۔
ترجمے کی تعریف:
ٹرانسلیشن
کا لفظ مغرب کی جدید زبانوں میں لاطینی سے آیا ہے اور اس کے لغوی معنی ہیں پارلے
جانا ۔ اردو اور فاری میں ترجمے کا لفظ عربی زبان سے آیا ہے ۔ اہل لغت اس کے کم سے
کم چار معنی درج کرتے ہیں ۔ ایک سے دوسری زبان میں نقل کلام تفسیر و تعبیر دیباچہ
اور کسی شخص کے احوال کا بیان ۔ اور یہ سب معانی باہم مربوط ہیں۔ ترجمہ ایک ایسا
پیچیدہ اور مشکل عمل ہے جس کے ذریعے کسی تصنیف کو اس کی جملہ خصوصیات کے ساتھ اصل
زبان سے کسی دوسری زبان میں کچھ اس طرح منتقل کیا جاتا ہے کہ ترجمے کی زبان میں اصل تصنیف دوبارہ اپنی پرانی شکل میں زندہ جاوید ہو جاتی
ہے۔ترجمہ محض ایک زبان کے خیالات کو دوسری زبان میں پیش کر دینے کا نام نہیں ہے
بلکہ خیالات اور احساسات کو اس ترتیب کے ساتھ منتقل کرنے کا نام ہے کہ مصنف نے کسی
جگہ پر زور دیا ہے کہاں پر طنز ہے کہاں پر محاورہ یا روز مرہ ہے ۔ یہ سچ ہے کہ ترجمے میں اصل کی ساری خوبیاں شروع سے آخر تک
نہیں پیدا کی جاسکتیں لیکن بہت سی خوبیاں ضرور سموئی جاسکتی ہیں۔
عالمی ادب کے تصور کو ایک ٹھوس حقیقت میں تبدیل کرنے کے
لیے ترجمہ ایک ناگزیر وسیلہ ہے۔ یہ خیال تقابلی ادبیات کے فرانسیسی نژاد امریکی
پروفیسرایلبرٹ گیرار نے اپنی عمدہ تصنیف "مقدمہ ادب عالم میں ظاہر کیا
تھالیکن ساتھ ہی ساتھ بڑی دردمندی سے یہ ٹھوس حقیقت بھی تسلی کی تھی کہ ترجمہ نام
ہے ایک سعی نا مشکور کا جس کے صلے میں شدید مشقت کے بعد صرف حقارت ملتی ہے ۔"
ترجمہ وہ دریچہ ہے جس سے دوسری قوموں کے احوال ہم پر
کھلتے ہیں لیکن جدید عہد میں یہ ایک ضرورت بھی ہے جس کے پہلے ہم عالمی سطح کی علمی
ادبی سرگرمیوں میں شریک نہیں ہو سکتے ۔ چنانچہ اپنی قومی زبان کی اہمیت کو برقرار
رکھنے اسے آفاقی علوم سے و ا آن کرانے اور جدید ٹکنالوجی کا ساتھ دینے کے لیے ترجمہ ایک
بنیادی ضرورت ہے۔
ایک زبان سے دوسری زبان میں مطلوبہ مواد کی منتقلی کا
عمل ترجمہ کہلاتا ہے۔ ترجمہ ترسیل علم کا کام انجام دیتا ہے۔ یعنی اس کے ذریعے وہ
علمی اور ادبی مقاصد پورے ہو سکتے ہیں، جن کی کسی خاص زمانے میں ضرورت ہوتی ہے ۔
علم کی وسعت اور علمی سائنسی دریافتوں کی کثرت سے بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچانے
میں ترجموں سے بڑی مددملتی ہے۔ یعنی ترجمہ " مفتاح العلوم" ہے ۔ علم کی
اس کنجی سے علوم وفنون کے خزانے دوسروں کے لیے بھی کھل جاتےہیں۔
ترجمہ بڑا مشکل اور نازک کام ہے، جس کے لیے دونوں زبانوں
پر قدرت رکھنا ضروری ہے۔ نہ صرف زبانوں پر بلکہ موضوع پر اور دونوں زبانوں کی
قواعد نزاکتوں اور کلچر پر بھی ترجمہ نگار کو عبور حاصل کرنا چاہیے۔ ترجمہ لفظی نہ
ہو ۔ دیکھی کھی بٹھانے کا کام نہیں بلکہ معانی و مطالب سیاق و سباق مقصد و نقطہ
نظر کی منتقلی کا نام ترجمہ ہے۔ مترجم میں اگر عقل سلیم نہ ہو سمجھ بوجھ سے کام نہ
لیتا ہو تو لفظی ترجمہ مضحکہ خیز معنی دیتا ہے اور اصل مفہوم و مطلب غائب ہو جاتا
ہے جیسے Outstanding Scientists کا لفظی ترجمہ کسی نے باہر کھڑے ہوئے سائنس
داں کیا ہے جب کہ اس کا صحیح ترجمہ "ممتاز سائنس داں“ ہوتا ہے۔ اردو کا ایک
مشہور محاورہ ہے " میرا دل باغ باغ ہو گیا۔ انگریزی میں اس کا لفظی ترجمہ
مشہور ہے ۔ My heart became garden and" "garden جوار دو محاورے کا مضحکہ خیز ترجمہ ہے۔
ترجمے
کے ذریعے صرف زبان کی سطح پر ہی انسانی علوم میں اضافہ نہیں ہوتا بلکہ ذہنی کشادگی
کے ذریعے بعض اوقات معاشرےکے بنیادی مزاج اور رہن سہن میں بھی ایک تغیر پیدا ہوتا
ہے۔ اس لیے کہ ترجمے کا دائرہ صرف ادب تک ہی محدود نہیں بلکہ تمام انسانی علوم اور
دریافتیں اس میں شامل ہیں اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ علم یا دریافت کسی قوم کی
میراث نہیں ہوتی بلکہ پوری نسل انسانی اس سے استفادہ کرتی ہے تو دراصل اس کا وسیلہ
ترجمہ ہی ہوتا ہے جس کے ذریعے تو میں عالمی تناظر میں نہ صرف ایک دوسرے کے جذبات و احساسات میں شریک ہوتی ہیں بلکہ ایک دوسرے کے علمی اور
تحقیقی کاموں سے بھی فیض حاصل کرتی ہیں۔
ترجمہ کا فن:
ترجمے
کے لغوی معنی ہیں دوسری زبان میں بدلنا یا ایک زبان سے دوسری زبان میں مطلب ادا
کرنا ۔ ایک اصطلاح کے طور پر بھی ترجمے کا مطلب اس سے مختلف نہیں ہے۔ قدیم زمانے
سے لے کر اب تک دنیا میں علوم کی ترقی اور اشاعت میں ترجموں کا بہت اہم رول رہا
ہے۔ زمانہ قبل مسیح میں افلاطون اور ارسطو جسے فلسفیوں نے جو کچھ قدیم یونانی زبان
میں لکھا دہ تر جموں کے ذریعے ہی دوسری زبانوں تک پہنچا۔ اسی طرح اسلام کے عروج کے
دور می بوعلی ابن سینا اور نے میں اور پھر دوسری میں بو علی ابن سینا موس الخوازی
اور البیرونی نے عربی زبان میں جو علمی کتابیں لکھیں وہ پہلے لاطینی اور پھر دوسری
زبانوں میں ترجمہ ہو کر ساری دنیا میں میں معیار جو اور دنیا پھیلیں ۔ آج بھی دنیا
کی مختلف زبانوں میں اعلی معیار کی جو علی اور حقیقی کتابیں لکھی جارہی ہیں وہ
ترجمے کے ذریعے ہی دنیا کے دوسرے ملکوں میں پہنچ رہی ہیں ۔ اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ دنیا کی تہذیب و تمدن کی ترقی میں ترجمے کا
بہت اہم حصہ رہا ہے۔
ترجمہ
ایک مستقل فن کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہر آدمی ایک زبان سے دوسری زبان میں ترجمہ نہیں
کر سکتا۔ اس کام میں طبیعت کا میلان اور شوق ہوناضروری ہے۔ ایک زبان سے دوسری زبان
میں صرف لفظی مفہوم بیان کر دینے کو مکھی پہ مکھی مارنا کہتے ہیں۔ ترجمے میں مترجم
کی سوجھ بوجھ خوش ذوقی اوردونوں زبانوں کے الفاظ کی معنوی اور صوتی خوبیوں کا علم
بھی ضروری ہوتا ہے ۔ اس کے بغیر ترجمہ کامیاب نہیں کہا جائے گا۔بے شک ترجمے کا فن
ایک مشکل فن ہے۔ اس کے لیے ایک خاص صلاحیت خاص ڈسپلین (Discipline) اور کچھ خاص اور مستند معلومات درکارہوتی ہیں ۔ اس لیے
کہا جا سکتا ہے کہ کامیاب ترجمے کے لیے مترجم کو درج ذیل شرطیں پوری کرنی چاہئیں۔
·
مترجم کو دونوں زبانوں پر قدرت ہونی چاہیے۔ ہر زبان کی
اپنی باریکیاں خوبیاں اور نفاستیں ہوتی ہیں۔ ان کی پوری سمجھ ہونی چاہیے۔ یہیں ہیں
بلکہ ترجمہ کرتے ہوئے ایک زبان کی خوبیوں کو دوسری زبان میں منتقل کرنے کی صلاحیت
بھی ضروری ہے۔
·
ہر زبان میں محاوروں کہاوتوں اور روزمروں کا اپنا سرمایہ
ہوتا ہے۔ ہر ادیب اور عالم اپنی مادری زبان میں لکھتے ہوئے ان کا استعمال کرتا ہے
اور ان کے وسیلے سے اپنی تحریر کو رواں اور دلکش بناتا ہے۔ مترجم کو اصل تخلیق /
مقالے کی زبان اور ترجمے والی زبان کے محاوروں اور کہاوتوں پر یکساں قدرت ہونی
چاہیے۔
·
ہر قوم کی زبان میں اس کی تہذیب کی لطافت اور نزاکت چھپی
ہوتی ہے۔ اس کو اہل زبان ہی جانتے ہیں۔ خاص طور سے تخلیقی ادب یعنی شاعری افسانہ
وغیرہ میں تہذیبی عناصر زیادہ جگہ پاتے ہیں۔ مترجم اپنی مادری زبان کے تہذیبی
پہلوؤں سے یقینا واقف ہوتا ہے لیکن جس زبان میں ترجمہ کر رہا ہے اس کی تہذیبی فضا
سے بھی اس کی واقفیت جس حد تک ممکن ہو ضروری ہے۔
·
اگرترجمہ کسی غیر
تخلیقی تحریر یعنی علم و فن کی کسی تصنیف
کا ہورہا ہے تو اس کے لیے اس علم یافن کی اصطلاحات کا علم بھی ضروری ہے اور یہ علم
اصل زبان اور تر جنے والی زبان دونوں کا ہونا چاہیے۔ ورنہ ترجمہ ناقص رہے گا اور
اس کا مقصد پورا نہ ہو سکے گا۔ فن ترجمہ نگاری کے ایک ماہر گوپال شرمانےترجمہ اور
تکنیکی اصطلاحات کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا ہے:
"Technical terms should be so mover into the
texture of translation that the genius of language is not distorted."
یعنی
تکنیکی اصطلاحات کو ترجمے کے تارو پود میں اس طرح سمویا جانا چاہیے کہ زبان کی
فطری روح مسخ نہ ہو ۔“
اس
کام میں بڑی دشواری اس وقت پیش آتی ہے جب ترجمے والی زبان میں اس علم یا فن کی
اصطلاحات موجود نہ ہوں ۔ اس صورت میں موزوں و مناسب اصطلاحات کی تلاش کی جاتی ہے
اور اگر موزوں اصطلاحات نہ ملیں تو ان کو وضع کیا جاتا ہے اور اصطلاحات بنانے یا
وضع کرنے کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں جن کی پابندی ضروری ہے۔
ترجمے
کی قسمیں:
ترجمے کئی طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک عام روایتی اور کی ترجمہ
ہوتا ہے لو اور کسی قسم کا ترجمہ ہو۔ اسے سبک رواں اور عام فہم ہو ضروری ہے تا کہ ترجمے
کا اصل مقصد یعنی ترسیل و ابلاغ بہ آسانی ممکن ہو سکے۔ ترجمے کے کچھ اقسام
کا یہاں ذکر کریں گے جن سے ترجمے کے دوران عموماً سابقہ پڑتا ہے۔ انگریزی میں
ترجمے کے فن پر تھیوڈ ر ساوری نے ایک کتاب شائع کی ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ ترجمے کے
فن اصولوں اور اس کے طریق کار عالموں اور مترجموں نے مختلف طرح کے خیالات کا اظہار
کیا ہے۔ تھیوڈر نے ان کا خلاصہ اس طرح کیا ہے۔تھیوڈ رساوری کا خیال ہے کہ در حقیقت
ترجمے کی دو قسمیں ہی ہوتی ہیں۔
(ا) آزاد ترجمہ (2) لفظی ترجمہ (3)
متنی ترجمہ (4)لفظی ترجمہ: (5)بامحاور
ترجمہ: (6) منظوم
ترجمہ :
(1) آزاد ترجمہ: وہ آزاد ترجمے کی خصوصیات گناتے ہوئے کہتا ہے کہ آزادتر
جمہ بالکل اصل کی طرح ہو۔ اسے پڑھتے ہوئے یہ بھی محسوس نہ ہو کہ وہ کس زبان سے کیا
گیا ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مترجم اصل متن سے کچھ انحراف بھی کر سکتا ہے۔
آزاد ترجمہ کرتے وقت ایک طرح سے مترجم اصل مصنف کافرض ادا کرتا ہے یعنی اصل مصنف
کی تخلیق کے تاثر کو ترجمے میں پیش کرتے ہوئے اسے بد دیانتی نہیں کرنی چاہیے۔اس کے
برعکس لفظی ترجمے میں مترجم اصل متن سے ذرا بھی انحراف نہیں کر سکتا ۔ وہ متن کا
پابند اور وفادار ہوتا ہے۔ دیانت داری برتنے کے باوجود اُسے ترجمے کی افادیت کا
خیال رکھنا پڑتا ہے۔ اور یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ ترجمہ دلچسپی اور آسانی سے پڑھا
جائے۔ اس میں پیچیدگی اور الجھاؤ پیدا نہ ہو۔ اس کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ مترجم
اپنی زبان کے محاورات اور اظہارات پر پورا عبور رکھتا ہو۔ یہ تر جمہ مضمون کے عین مطابق
نہیں ہوتا بلکہ فکر و خیال کی کچھ آزادی کے ساتھ اظہار میں بھی آزادی برتی جاتی ہے
۔ ہوتا یہ ہے کہ ایک پیرا گراف محض، پڑھایا
جاتا ہے اوراس کے مفہوم کواپنے انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ خیال یہ رکھا جاتا ہے کہ
پیش کردہ متن کے معانی و مفاہیم ادا ہو جائیں ہے۔ مثلاً جس کے نتیجے میں انداز بیان
میں فطری بہاؤ پیدا ہو جاتا ہے ۔ ایسے ترجمے ادبی اعتبار سے عمدہ سمجھے جاتے ہیں ۔
جیسے علی حیدر کا نظم طباطبائی نے "Elegy Written in a Country Churchyard" کا ترجمہ "گور غریباں" کے عنوان
سے کیا تھا اس میں مفہوم کی پابندی کے ساتھ ہم قافیہ ہواس کی ادائیگی آزادی کو پیش
نظر رکھا گیا تھا۔
2) لفظی ترجمہ:ایک عام روایتی اور رکی ترجمہ ہوتا ہے جس میں عبارت و مفہوم
و مطالب کے گہرے احساس اور شعور کے بغیر لفظ بہ لفظ ترجمہ کر دیا جاتا ہے۔مجموعی حیثیت
سے یا ایک ناقص ترجمہ سمجھا جاتا ہے کیوں کہ اس سے ترجمے کا مقصد ادا نہیں ہوتا۔
3) با محاورہ ترجمہ:اس قسم کے ترجمے میں مترجم ترجمے کے تقاضوں اصول وضوابط مضمون
کی گہرائی اور اسلوب کی صفائی کا خیال رکھتا ہے۔ اس میں زبان و بیان کے اسانی شعور
و احساس کے دوش بدوش مضمون کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مضمون کا حق ادا کیا
جاتا ہے۔ یہ ایک کامیاب ترجمہ کہلاتا ہے۔
4) متنی ترجمہ:بعض ترجمے ایسے ہوتے ہیں جن میں True to the text ہوناضروری ہوتا
ہے۔ جیسے قانونی عدالتی دفتری اور سانتی تر
جیے جن کا اصل معنی مراد کے مطابق ہونا ضروری ہے۔ اسلیے اس میں کافی محتاط رہنا پتا
ہے۔ اس میں لفظ محاورے اور اصطلاحات کے استعمال میں احتیاط برتنی پڑتی تعلق حقیقت ہے
اور پوری ہوش مندی سے سمجھنا اور ادا کرنا پڑتا ہے۔
5)منظوم ترجمہ : شعر کا شعر میں ترجمہ منظوم ترجمہ کہلاتا ہے۔ کسی بھی شعری تخلیق کو جب ہم اس
کے مرکزی خیال اور مجموعی تاثیر کے ساتھ دوسری زبان میں شعری عمل کے ذریعے ڈھالتے ہیں
تو اسے منظوم ترجمہ کہا جاتا ہے۔ اگر بغور دیکھیں تو یہ باز تخلیقی عمل کی ایک صورت
ہے۔ کیوں کہ یہاں صرف الفاظ کو دوسری زبان کے الفاظ سے بدل دینے سے ہی کام مکمل نہیں
ہوتا ۔ بلکہ شعری تصنیف کی پوری فضا کو اس کے تمام تر تہد ہی حوالوں کے ساتھ ترجمے
کی زبان میں اس طرح منتقل کرنا ہوتا ہے کہ اس زبان ( ترجمے کی زبان ) کےبھی ادبی و
شعری مزاج کے تمام تر تقاضوں سے عہدہ برآ ہوا جا سکے۔ جہاں تک منظوم ترجمے کے اصول
و تقاضوں کا تعلق ہے تو دونوں زبانوں
یعنی تصنیف کی زبان اور ترجمے کی زبان سے واقفیت
تو پہلی شرط ہے ہی۔ مترجم سے یہ بھی اس کے ساتھ ہی منظوم شہ پارہ جس زبان کا بر آ ہونے
کے لیے مترجم کا نہ صرف موزوں طبع ہونا توقع کی جاتی ہے کہ وہ شعری ذخیرے اور شعری
روایات سے بھی آشنا ہو۔ اسے اگر ان سے پوری واقلیت نہ ہو تو صحیح آہنگ اور صحیح فارمیٹ
کا انتخاب کرنا مشکل ہوگا۔ منظوم ترجمے کے لیے صحیح ہایت کا انتخاب بھی ضروری ہے۔ ایک
بات اور بھی کی جاتی ہے کہ نظم کا منظوم ترجمہ کرنے سے پہلے اگر اس کا نٹری ترجمہ کر
لیا جائے تو کام آسان ہو جائے گا۔ اور کوئی اہم پہلو نہیں چھوٹے گا۔ بڑی ترجمے میں
تو کچھ جملے بدلے جاسکتے ہیں کچھ اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ لیکن منظوم ترجمے میں ایسا نہیں
کیا جا سکتا۔ مترجم کو منظوم ترجمے میں شعری تصنیف کی روح اور جذبے کو سمور بنا چاہیے۔
جگر مراد آبادی کا ایک شعر ہے۔
؎ اے
متاع سخن کے دیوانے ماورائے
سخن بھی ہے اک بات
ضابطے کی شاعری اور اچھی شاعری میں فرق ماورائے سخن والی بات ہوتی ہے۔ منظوم ترجمے میں ماورائے سخن کی جہت پر توجہ دینا اور اس کو سمجھنا یہ جہت ترجمے میں لانا ضابطے کے ترجمے (Regulation Translation) کی سطح سے اوپر اٹھنے کی عادت ڈالنا 'مترجم کی کامیابی کی ضمانت ہے۔منظوم ترجمے کے وقت امترجم کو یہ امر ذ ہن میں رکھنا چاہیے کہ کیا وہ فن کار کے اصل منشا و مقصد کو اس کی تمام تر شعری فضا کے ساتھ اپنے قاری تک پہنچا سکا ہے۔ کیوں کہ منظوم ترجمے میں محض مفہوم کی ترسیل تک ہی معاملہ محدود نہیں رہتا۔ بلکہ شعری تصنیف کی دو فضا جو تشبیہات استعارات احساس جمال قوت تخلیل اور جذبہ و احساس کے باہمی اتصال وامتزاج سے وجود میں آئی ہے ۔ اس تک قاری کی رسائی ہوئی ضروری ہے ۔ ہر زبان کا اپنا تشبیہاتی واستعاراتی سرمایہ ہوتا ہے ۔ اپنے محاورے تراکیب اور علامتیں ہوتی ہیں۔ ضروری نہیں ہے کہ دوسری زبان میں وہ لفظ بہ لفظ موجود ہوں اس لیے مترجم کو چاہیے کہ ان کے لفظی ترجمے پر زور نہ دے بلکہ ان کے مفہوم اور معنی کی ترجمانی ترجمے کی زبان میں پائے جانے والے ان کے مترادفات و مماثلات کےذریعے کرے۔
ترجمے کے مسائل:
لفظوں اور اصطلاحوں کے مناسب انتخاب کا مسئلہ سب سے بڑا ہے
۔ ہر معاشرے کی اپنی ایک زبان ہوتی ہے اس کی اپنی ثقافت ہوتی ہے اور اس کے اقدار ہوتے
ہیں، علاقائی اور جغرافیائی تقاضے ہوتے ہیں اور وہی تقاضے زبان و بیان اور لہجہ طے
کرتے ہیں۔ مترجم کو مذکورہ تمام پہلوؤں کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ اگر کوئی چیز یا معاشرے
کا کوئی پہلوالیا ہے جس کے ترجمے کے لیے ترجمے کی زبان میں لفظ یا اصطلاح موجود نہ
ہو تو اسے جوں کا توں استعمال کر لینا چاہیے اور حاشیے میں اس کی وضاحت کر دینی چاہیے
۔ مثلاً کشمیر میں گنا نہیں ہوتا ۔ اس کے ترجمے کے لیے بہتر تو یہ ہو گا اسے جوں کا
توں لے لیا جائے ۔ اور حاشیے میں اس کی وضاحت کر دی جائے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ
مترجم کو کافی پڑھا لکھا ہونا چاہیے تا کہ اس کے پاس گئے (Sugarcane) کے بارے میں
پورا علم ہو بھی کہیں دو اس علاقہ مخصوص لفظ کی حاشیے میں وضاحت کر پائے گا۔
دوسرا اہم مسئلہ اصطلاح کے وضع کرنے کا ہے علمی تراجم کے
دوران بالخصوص اصطلاحوں کا مسئلہ در پیش ہوتا ہے ۔ اگر ترجمے کی زبان میں تصنیف کی
زبان کی تمام اصطلاحوں کے متبادل موجود نہ ہوں تو ان کی متبادل اصطلاحیں وضع کی جائیں
اور جہاں یہ ممکن نہیں یا وضع کردہ اصطلاحیں عام نہ ہو پائیں، وہاں دوسری زبان کی اصطلاحیں
اپنی اصل شکل میں استعمال کی جائیں اور اس کے لیے ایک طریقہ کار تیار کیا جانا چاہیے
۔ بہتر یہ ہوگا کہ ہر شعبہ ترجمہ میں اس کا ایک خاص کلچر پیدا کیا جائے اور ممکن ہو
تو وضع اصطلاح کے لیے ایک الگ ادارہ قائم کیا جائے جس میں متعدد مضامین کے ذولسان ماہرین
کی خدمات سے استفادہ کیا جائے ۔
تراجم کے دوران ایک مسئلہ یہ درپیش ہوتا ہے کہ کیسے دونوں
زبانوں کا فقرے اور محاورے کی سطح تک جانکار دستیاب ہو۔ اور اگر دونوں زبانوں کو مذکورہ
سطح تک جاننے والا دستیاب بھی ہو جائے تو موضوع سے کما حقہ واقفیت رکھنے والا ملنا
مشکل ہے۔ یعنی تینوں کاایک ہی شخصیت میں یکجا ہونا ضروری ہے ورنہ اچھا تر جمہ ممکن
نہیں۔ہر ادبی فن پارہ اپنی تہذیب کے سائے میں سانس لیتا ہے۔ اگر ترجمے میں اس کا رشتہ
اس کی تہذیب سے ٹوٹ جائے تو وہ بے جان نظر آنے لگتا ہے۔ اگر تصنیف کے مواد اور اس کی
زبان وغیرہ سے مکمل اور سختی سے وفاداری نبھائی جائے تو ترجمے کی روانی اور سلامت و
غیرہ متاثر ہو سکتی ہے اور اگر حسن بیان کا خیال رکھا جائے تو ترجمہ وفاداری کے تقاضوں
کو پورا نہیں کرتا۔ ایک فرانسیسی ادیب نے اس لیے کہا تھا کہ ترجمہ ایک عورت کی طرح
ہے جو یا تو خوب صورت ہے یا وفادار دونوں نہیں ۔ لیکن بعض ترجمے بہ یک وقت خوبصورت
اور وفادار ہو سکتے ہیں جس طرح بعض عورتیں بذات خود خوبصورت اور اپنے شوہر کے تئیں
وفادار ہوسکتی ہیں بشرطیکہ مترجم اپنے فن سے مکمل وابستگی کا مظاہرہ کرے اور اپنے فن
کے تقاضوں کو بہ حسن و خوبی پورا کرے۔
تراجم کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ مترادفات کا انتخاب اور
استعمال بھی ہے۔ اکثر ترجمے کی زبان میں ایسے مترادفات ہم نہیں ہوتے کہ اصل مفہوم کو
پیش کیا جا سکے ۔ اس میں کچھ زبان کے مزاج اور اس کے تہذیبی پس منظر کو بھی دخل ہوتا
ہے کچھ اشیا ء وکو ائف کی کسی زبان میں عدم موجودگی کو بھی۔ اس لیے مترجم کو مجبورا
قرب المعنی مترادفات کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ البتہ جہاں لفظوں کے معنوی شیڈ میں زیادہ
فرق آ جائے وہاں فٹ نوٹ میں وضاحت کرنی پڑتی ہے۔
ترجمے کے دوران مریم کو دو بہنوں اور تباہیوں کاسفرکرنا پڑتا
ہے اور یہ علمی وتہذیبی سفر بہت دشوار خطاب ہے کیوں کہ دونوں کے درمیان بار یک فرق
کو لوظ خاطر رکھتے ہوئے ہی قدم بڑھانا پڑتا ہے ۔ ایسا نہ کر پانے کی صورت میں مترجم
ڈگر سے بھٹک سکتا ہے اور اس کی یہ کوشیں رائیگاں ہوں گی اور اگر کہیں مرجم ترجے کا
ترجمہ کر رہا ہوتا ہے تو اس کی مشکل میں ایک پرت کا مزید اضافہ ہو جاتا ہے اور ایسی صورت میں اسے تین زبانوں اور
تہذیبوں کو لوظ رکھنا پڑتا ہے۔ ترجمے کے دوران ایک اہم مسئلہ طویل جملوں کا ہوتا ہے
۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے موزوں طریقہ یہ ہونا چاہیے کہ ایسےطویل جملوں کوکئی مرتبہ
پڑھنے کے بعد چھوٹے چھوٹے جملوں میں بانٹ دینا چاہیے ۔ اور ان کی باقاعدہ تفہیم کے
بعد اس طرح ترجمہ کیا جانا چاہیے کہ تصنیف کی زبان کے طویل جملے کی معنوی نوعیت و کیفیت
ترجمے کی زبان میں بجنسہہ برقرار رہے۔
ان تمام مشکلات کا حل ڈھونڈ نے اور اس عرق ریزی سے کام کرنے
کے باوجود ترجمے اور مترجم کی وہ حیثیت نہیں جو اصل تصنیف کی ہوتی ہے۔ ترجمہ اور مترجم
کو ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔عام طور پر کسی ترجمے کو اچھا سمجھ کر جب اس کی تعریف کی
جاتی ہے تو یہ کہا جاتا ہے کہ اس میں بڑی روانی ہے زبان با محاورہ و سلیس ہے اور مضمون
واضح ہے لیکن اگر اس بات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے تو اندازہ ہو سکتا ہے کہ صرف روانی
وسلاست ترجمے کے بنیادی اجزا نہیں ہیں۔ آپ خود ہی اندازہ کیجیے کہ سنجیدہ پیچیدہ تحریر
کا ترجمہ صرف رواں و سلیس کیسے ہو سکتا ہے جب کہ زبان کا مزاج اور جملوں کی ساخت ترجمے
کی زبان کے مزاج اور جملوں کی ساخت سے مختلف ہے۔ ایسی صورت میں مترجم کی ذمے داری یہ
ہوتی ہے کہ ترجمے کی زبان کو اسی حد تک آسان کرے کہ تصنیف کے معنی کا دامن نہ چھوٹنے
پائے۔
اُردو میں ترجمہ کی روایت
اردو میں با قاعد وترجمے کی روایت دو ڈھائی سو برس پرانی
ہے۔ اس کا آغاز قرآن شریف کے ترجمے اور بزرگوں کے اقوال و ہدایات سے ہوا تھا۔
مدرسہ غازی الدین (قیام: 1792ء) جو بعد میں ترقی کر کے اور فیشل کالج دیلی بنا میں
علمی اور تعلیمی سرگرمیوں کے تحت ترجمے کرائے گئے ۔ یہاں شعبہ مشرقیہ میں سنسکرت
عربی و فاری کے علاوہ سماجی علوم اور جدید مغربی سائنس کی تعلیم اردو میں دی جاتی
تھی ۔ ترجمے کا کام دہلی کالج ورناکلر
ٹرانسلیشن سوسائٹی کی سرپرستی میں ہوتا
تھا۔ آل احمد سرور کی تحقیق کے مطابق یہاں 117 کتابیں ترجمے اور تصنیف و تالیف کے
ذریعے تیار کرائی گئیں ۔ فورٹ ولیم کالج کلکتہ (قیام 1800ء) میں اردوزبان و ادب
اور اس کے علمی وتعلیمی میدان میں ترجمے کے ذریعے ہی ایک انقلاب آیا۔ وہاں پرانے
قصے کہانیوں کو لے کرہی کتا بیں لکھی گئیں ۔ ترجمے ہوئے اور تاریخ پر بھی کتابی
شکل میں کئی بڑے کام ہوئے۔ اس سلسلے میں سائنٹفک سوسائٹی علی گڑھ (قیام : 1863 ء )
کا نام بھی لیا جا سکتا ہے جو سرسید احمد خاں کے ذریعے پروان چڑھی۔ سوسائٹی کی
علمی مجلس، جسے کونسل مشیر کہتے تھے نے مختلف موضوعات سے متعلق 48کتابوں کے تراجم
کی تجویز پیش کی تھی۔ انسٹی ٹیوٹ نے نیچرل سائنس ٹکنالوجی پولیٹیکل اکانومی اور
ہندوستان ،یونان، جاپان، چین اور مصر و ایران کی تارخ دارالترجمہ علیہ ہر تقریبا
17 کتا بیں شائع کیں۔ سر سید احمد خاں نے سوسائٹی کے مقاصد کو سائنسی علوم کے اردو
تراجم تک محدود رکھا۔ انجمن ترقی اردو (قیام: 1903ء )کے مقاصد میں اردو زبان کو
فروغ دینا اردو میں جدید علوم پر تصنیف و تالیف کا کام کرنا دنیا کی اہم کتابوں کے
اردو میں ترجمے کرانا تحقیق کے سائنٹفک اصولوں کی مدد سے اردو کے کلاسیکی سرمائے
کو ترتیب دینا وغیرہ اہم مشاغل شامل تھے ۔ یہاں ایک بڑا نام جامعہ عثمانیہ حیدرآباد
(دکن) کا آتا ہے جہاں دار الترجمہ عثمانیہ کا قیام 1917ء میں عمل میں آیا۔ جامعہ
عثمانیہ میں قدیم وجدید مشرقی و مغربی علوم و فنون کی تعلیم اردو میں دی جاتی تھی۔
اس مقصد کے پیش نظر دارالترجمہ میں نصاب کی تیاری کے لیے تصنیف و تالیف کا کام
شروع ہوا۔ عربی وفاری اور انگریزی وغیرہ سے متعدد کتابیں ترجمہ کی گئیں۔ اصطلاح
سازی کے لیے کمیٹی بنائی گئی جس کی سفارشات کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہزاروں نئی نئی
اصطلا میں وضع کی گئیں ۔ یہاں لکھنؤ کی رسد گاہ کے ایک کارکن مولوی کمال الدین کا
ذکر بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا، جنہوں نے رسد گاہ کے ناظم کرنل و یکاک کی
نگرانی میں کوئی بارہ رسالوں کا ترجمہ کیا جو بعیت حرارت طبیعیات ریاضی، مقناطیس،
کیمیا وغیرہ پر مشتمل تھے۔ انجمن پنجاب اور اور مینٹل کالج لاہور نے بھی متعدد
علمی، ادبی اور سائنسی کتابوں کا ترجمہ کر کے انہیں شائع کیا ہے ۔ ہندوستان کی
مرکزی حکومت کے زیر نگرانی اردو کی ترقی اور بقا کے لیے ترقی اردو بیور و قائم ہوا
(قیام : 1971 ء) جو آج قومی اردو کونسل برائے فروغ اردو زبان کے نام سے جانا جاتا
ہے۔ یہاں تعلیم ادب 'سائنس اور دوسرے جدید علوم کی کتابوں کی تیاری اور ان کی
اشاعت کے علاوہ ترجمے کا کام بھی ہوتا ہے۔
اٹھارھویں صدی کے اختتام پر ترجمے کے ذریعے اردو میں جو
علوم متعارف ہوئے ان میں تاریخ تصوف فلسفہ ،علم نجوم علم ہئیت ، مذہب و اخلاقیات،
جغرافیہ، علم حیات، طب اور زبان و ادب اہم ہیں۔ اردو کا عربی بحر کی فارسی اور
سنسکرت سے گہرا تعلق رہا ہے ۔ ترجمے کے راستے سے ہمارے یہاں مشرقی علوم داخل ہوئے
سماجی علوم کی دوسری شاخیں اور Pure و نیچرل سائنس جن کی ابتدا دلی کالج اور
سائنٹفک سوسائٹی علی گڑھ سے ہوئی تھی پر انگریزی سے جدید مغربی علوم کی تعلیم کے
لیے کتابیں ترجمہ ہوئیں۔ دہلی کالج کے پرنسپل اسپر نگر نے 1845ء میں قدیم و جدید
سائنسی علوم کو نصاب میں جار شامل کر کے متعدد کتابیں انگریزی سے ترجمہ کرائیں۔
مثلاً الجبراء علم مثلث تحلیل مستوى علم بعیت ریاضیات، جغرافیہ علم اقلیدس،
معاشیات طبیعیات جراحی حرکیات نباتیات، سکونیات، علم کیمیا اور طبیعیات وغیرہ ۔
سائنس، طب، تکنالوجی، زبان وقواعد اور اصطلاح سازی کی تبلیغ و اشاعت میں انجمن
ترقی اردو (ہند) نے بھی اہم رول ادا کیا ہے۔ اس سلسلے کو دارالترجمہ عثمانیہ اور
جامعہ عثمانیہ حیدرآباد (دکن) نے انتہا پر پہنچایا۔
ترجمے کی ضرورت واہمیت:
بنیادی طور پر رجم
لسانی اور مذہبی مفاہمہ ہے جونہ اصل کی لذت
کو پوری طرح پاسکتا ہے اور نہ اسے مکمل طور پر محرومی کو قبول کر سکتا ہے۔ آج کی دنیا
میں زبانوں کی مقبولت پھیلا اور اہمت کا دارو مدار بڑی حد تک ان کے مفید ہونے پر ہے
اور افادیت کا کوکس حد اپنے پیمانہ یہ ہے کہ کوئی زبان اپنے زمانے کے علمی سرمائے اور
ادبی ذخیرے کو کس حد تک اپنے پڑھنے والوں تک پہنچانے کی اہل ہے۔ اردو زبان کی خوش بختی
ہے کہ اس نے ترجموں کی روایت کو ابتدا سے پایا اور اپنے دریچے باہر سے آنے والی ہواؤں
کے لیے کھولے اور بین الاقوامی کلچر کے نقوش سے اپنی محفل کو آباد کیا۔
جب کسی قوم اور ملک و معاشرے کا تخلیقی عمل ست روی کا شکار
ہو اور نئے نظریات اور فکری پیرایوں کی تشکیل و تدوین کی اہلبیت کسی قدر سلب ہو چکی
ہو تو اس وقت خیالات اور نظریات کی تجدید اور تشکیل نو کی خاطر غیر ملکی ادبیات افکار
اور دیگر شعبہ ہائے تخلیقات کے متواتر تراجم کی ضرورت نہ صرف ایک اجتماعی تقاضے کی
سطح پر ابھرتی ہے بلکہ ادبی اورعلمی سطح پر بھی ناگزیر ہو جاتی ہے کیوں کہ تصورات اور
افکار کی سطح پر ملک و معاشرے کے جمود کو ختم کرنے کا ایک ذریعہ دوسری قوموں کے تصورات
و افکار کو اپنی زبان میں ترجمے کے ذریعے منتقل کرنا ہوتا ہے۔ ثقافتی سطح پر ترجمہ
دو مختلف تہذیبوں کے مخصوص رویوں کے روبرو ہونے کا عمل ہے ۔ ایک طرف نئے معاشرتی سیاسی،
علمی وادبی نظریات کی آفرینش کے لیے براہ راست تراجم کی ضرورت ہوتی ہے تو دوسری طرف
اپنی زبان کی نئی تشکیل اور وسعت کے لیے اس میں نئے تصورات نئے الفاظ و اصطلاحات اور
نئے جذباتی پیرایوں کو منتقل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
عہد جدید میں زندگی گزارنے کے لیے اپنے ارد گرد سے آگاہی
لازمی ہے ۔ ہر زبان کو عہد جدید سے رابطہ استوار رکھنے کے لیے ایک دوسری زبان پر انحصار
کرنا پڑتا ہے۔ ہمیں اردو زبان کی توسیع اور تعمیر کے لیے انگریزی سے علمی وادبی سطح
پر رابط قائم رکھنا ہوگا کیوں کہ بیرونی دنیا سے ہمارا رابطہ اس زبان کے توسط سے ہے
۔ دوسری طرف اردو زبان میں نئے اسلوب پیدا کرنے کے لیے اسے نہ صرف مقامی زبانوں سے
تراجم کے ذریعے جوڑنے کی ضرورت ہے بلکہ جدید قاری سے بھی اس کا تعلق استوار کیا جانا
چاہیے۔ دراصل تر جمے کاعمل انسانی تمدن مزاج اور تاریخ کی دریافت اور شاعت کا ایک بھر
پور ذرئیعہ ہے ۔ انسان جو رنگوں زبانوں جغرافیائی بندشوں کے ذریعے ایک زبان کی معاشرت
اور اور سیاسی اختلافات کی وجہ سے انسان ہوتے ہوئے بھی ایک دوسر کے لیے اجنبی ہے ترجمے کے ذریعے ایک زبان کی ثقافت کو دوسری زبان میں منتقل کیا جاتا ہے اور اس
طرح تر جمے کے ذریعے ملکوں اور معاشرے کے درمیا ن مغائزت کو دور کیا جاتا ہے۔
اپنے آپکو جذباتی اور ذہنی سطح پر باخبر رکھنے کے
لیے دوسروں کا دکھ درد جانئے اور اس میں شریک ہونے کے لیے ترجمہ ہی ایک اہم وسیلہ ہے۔
جوانسانوں میں اشتراک کا ذریعہ بنتا ہے۔ چنانچہ زبان کی توسیع قوم ملت کے اذہان و قلوب
میں وسعت تمدن سے متعارف ہوئے انسانی کائنات کی دریافت اور تاریخ سے با قاعدہ آگہی
کے لیے ایک سے زیادہ زبانوں سے رابطہ پیدا کرتاضروری ہوتا ہے۔
ذرائع آمد و رفت میں وسعت اور سرعت آجانے کی وجہ سے دنیا
کی مختلف زبانیں بولنے والوں میں ارتباط اور اختلاط روز بروز بڑھتا جارہا ہے اور ایک
دوسرے کو بجھنے اور سمجھانے کے لیے ضرورتا ایک دوسرے کی زبان سیکھنی پڑتی ہے اور ملوکیت
میں وہ افراد یا طبقے ہمیش ممتاز رہے، جنہوں نے حاکموں کی زبان سیکھنے میں سبقت حاصل
کی ۔ حاکموں نے بھی محسوس کیا کہ امن و استحکام کے لیے صرف زور بازو ہی کافی نہیں ہے
بلکہ دلوں کو بھی جیتے کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے لیے محکوم قوموں کی زبان اور ثقافت
سے آشنائی ضروری ہے۔ اجنبیت اور مغائرت کو دور کرنے میں ترجموں کا بڑا رول رہا ہے۔
علم کی وسعت اور علمی و سائنسی دریافتوں کی کثرت سے بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچانے
میں ترجموں نے بڑی مدد کی ہے۔ یورپ کے نشاۃ ثانیہ میں عربی کے تراجم کا بھی ہاتھ رہا
ہے۔ ترجمہ وہ کنجی ہے جس کے ذریعے علوم وفنون کے خزانے سب کے لیے کھل جاتے ہیں ۔ اس
لیے روز بروز ترجموں کی اہمیت بڑھتی جارہی ہے۔ دراصل کسی دوسری زبان سے براہ راست استفادہ
کرنے والے ہمیشہ تھوڑی تعداد میں ہوتے ہیں لہذا ترجموں کی اہمیت و ضرورت ہمیشہ برقرار
رہے گی ۔ ہندوستان میں متعدد زبا نیں رائج
ہیں ان میں بہت کی قدیم اور ترقی یافتہ زبانیں ہیں۔ قومی ہم آہنگی اور ملک کے دوسرے
حصوں میں رہنے والوں کے رسم ورواج اقدار اور ثقافت کو سمجھنے کے لیے ہندوستان کی مختلف
علاقائی زبانوں کےاچھے ادب میں ترجمہ کرنا ضروری ہے۔
ترجمے کے اصول :
تھیوڈر دساوری نے آزاد اور لفظی ترجمہ کے عنوان سے ایک مقالہ
لکھا تھا جسے آصفہ جمیل نے اردو میں ترجمہ کیا تھا۔ اس اردو ترجمے کو پروفیسر قمر رئیس
نے اپنی مرتبہ کتاب ترجمے کا فن اور روایت میں شامل کیا ہے۔ تھیوڈر کا کہنا ہے کہ ترجمہ
کرنے والوں کو ہمیشہ ترجمے کے فن کے بارے میں ہر ممکن معلومات حاصل کرنی چاہیے۔ مترجم
کو یہ خیال رکھنا چاہیے کہ ہر فن میں تین طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک تو وہ جو آپ کو
ہدایت دیتے ہیں اور دوسرے وہ جو آپ کی اصلاح کرتے ہیں اور تیسری قسم کے لوگ وہ ہیں
جو خود کو بہتر ثابت کرنے کے لیے بغیر کچھ جانے نکتہ چینی کرتے ہیں۔ ان تینوں میں سب
سے اہم وہ لوگ ہیں جو آپ کو ہدایت دیتے ہیں ۔ کیوں کہ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے متعلقہ
فن کے بارے میں ممکنہ معلومات حاصل کی ہیں اور ان کی دلیلوں کی بنیاد اصولوں اور نظریات
پر ہوتی ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ترجمے کے اصول کیا ہونے چاہئیں۔ ترجمے کے
اصول مختصر طور پر بیان کرنا مکن نہیں ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا کے ہر ملک میں ترجمے
کا کام بہت بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے لیکن ترجمے کے ایسے اصول ابھی تک وضع نہیں کیے
گئے جنھیں دنیا کے تمام مترجم تسلیم کرتے ہوں۔ تمام خون میں ایسے ماہرین کی تعداد خاصی
ہوتی ہے جو متعلقہ فن کے اصول اور نظریات مرتب کرتے ہیں لیکن یہ ترجمے کے فن کی بدنصیبی
ہے کہ اس کے لیے باقاعدہ اصول ابھی تک مرتب نہیں کیے گئے۔ جن لوگوں نے ترجمے کے تھوڑے
بہت اصول بنائے ہیں ان کا آپس میں بہت اختلاف ہے ۔ مختلف مترجموں کے بیانات کا اگر
ہم جائزہ لیں تو انھوں نے جو اصول مرتب کیے ہیں ان میں اتنے اختلافات ہیں کہ کوئی مترجم
جب ان اصولوں کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ کسی اصول کو مانے یا
کس اصول کو نہ مانے۔تھیوڈر نے ترجمہ نگاری کے درج ذیل مختلف اصول و نظریات کی فہرست
دی ہے:
1. ترجمہ میں اصل متن
کے الفاظ کا ترجمہ ہونا چاہیے۔
2.
ترجمہ اصل متن کے معانی و مفاہیم پر مشتمل ہونا چاہیے۔
3.
ترجمہ اصل تصنیف کی طرح پڑھا جانا چاہیے۔
4.
ترجمہ کو ترجمہ کی ہی طرح پڑھا جانا چاہیے۔
5.
ترجمہ میں اصل تصنیف کے اسلوب کی جھلک ہونی چاہیے۔
6. ترجمہ کو مترجم کے
منفرد اسلوب کا نمائندہ ہونا چاہیے۔
7.
ترجمہ اصل متن کے ہم عصر کی طرح پڑھا جانا چاہیے۔
8.
ترجمہ کو مترجم کے ہم عصر کی طرح پڑھا جانا چاہیے۔
9. ترجمہ میں اصل تصنیف
سے حذف و اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
10. - ترجمہ میں اصل
متن سے حذف واضافہ بھی ممکن نہیں ۔
11. نظم
کا ترجمہ نثر میں ہونا چاہیے۔
12. نظم
کا ترجمہ نظم میں ہونا چاہیے۔
شاہ عبد القادر نے لفظی ترجمے پر آزاد ترجمے کو ترجیح دی۔
یہ آزاد ترجمہ بس اس حد تک آزاد ہے کہ انھوں نے یہ خیال رکھا کہ قرآن شریف کا ترجمہ
پڑھنے والا قرآن کو آسانی سے سمجھ سکے۔ اُنھوں نے عربی الفاظ کے لیے ایسے اردو الفاظ
منتخب کیے تھے۔
شاہ عبد القادر نے قرآن شریف کا اردو میں جو ترجمہ کیا ہے،
اس سے پہلی بار اردو میں ترجمے کے یہ تین اصول مرتب ہوئے :
I.
یہ ہرگز مناسب نہیں ہے کہ مترجم اصل متن کے ہر لفظ کے نیچے
اس کا ہم معنی لفظ لکھ دے۔ اس طرح کے ترجمے سے عبارت گنجلک ہو جاتی ہے، بیشتر مفاہیم
نا قابل فہم ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات اصل متن کا مطلب کچھ سے کچھ ہو جاتا ہے۔
II. دوسرا اصول یہ مرتب ہوا کہ مترجم یہ خیال رکھے کہ وہ کن لوگوں کے لیے کتاب کا ترجمہ کر رہا ہے۔ اگر وہ ایسے لوگوں کے لیےترجمہ کر رہا ہے جو فارسی اور عربی سے واقف ہیں تو اس کو یہ آزادی ہے کہ ترجمے میں عربی اور فارسی کے ایسے الفاظ استعمال کرے، جو اس کے پڑھنے والوں کی سمجھ میں آسکیں۔ مترجم اگر ان زبانوں یعنی عربی اور فارسی کے اجنبی الفاظ کا استعمال کرے گا تو ترجمہ مشکل ہوگا اور اجنبی الفاظ کی وجہ سے اس میں رکاوٹ کی پیدا ہو جائے گی اور عبارت میں روانی نہیں رہے گی۔
III.
تیسرا اصول یہ مرتب ہوتا ہےکہ اگر ترجمہ نام لوگوں کے لیے
کیا جارہا ہے تو ترجے کی زبان ، آسان اور قابلِ فہم ہو۔ ایسے الفاظ استعمال کیے جائیں
جنھیں کم پڑھے لکھے لوگ بھی سمجھ سکیں۔ عربی اور فارسی الفاظ سے بوجھل ترجمے کی ایک
بنیادی خرابی یہ ہے کہ اس کے قارئین کا حلقہ بہت پڑھے لکھے لوگوں تک محدود ہو جاتا
، اگر زبان آسان اور عام فہم ہو تو ہر طبقے کے لوگ ترجمے کو شوق سے پڑھیں گے۔