Urdu Ke Gyan Peeth

                                                       اُردو کے گیان پیٹھ


                         ہندوستان آزاد ہونے کے بعد ہندستان میں قومی  سطح پر دیے جانے والے جن اعزازات کاآغاز کیا گیا۔ ان میں ”جوہر ِ ہند“(بھارت رتن)کو اعلٰی ترین سیولین  اعزاز کا موقوف حاصل ہے۔پدما  ایوارڈ س جن میں  پدما بھوشن، پدماوبھوشن اور پدماشری  شامل ہیں۔فوجیوں کے لیے ”پرم ویر  چکر‘،شوریا چکر،وغیرہ  اعزازات  دئے  جاتے ہیں۔جو ہر سال  فوجیوں کی  اعلٰی کار کردگی  پر دیے جاتے ہیں۔ ان کے  علاوہ  بچوں کی بہادری  پر   (Indian council for child welfare)   کی جانب ہر سال یومِ اطفال کے موقع پر ’بریوری‘ ایوارڈ دیے جاتے ہیں۔کھیل کے میدان میں ”راجیو گاندھی کھیل رتن ایوارڈ“کھیلوں کے  تمام شعبہ جات میں سب سے بہتریں کھلاڑی کو دیا جا تاہے۔اس کے علاوہ مختلف کھلوں میں انفرادی کارناموں پر ’ارجن ایوارڈ‘ بھی دیا جاتاہے۔فلمی میدان میں ’دادا بھائی پھالکے ایوارڈ‘سب سے اعلٰی اعزاز ہے۔اور ادب کی دُنیا کا اعلٰی ترین ایوارڈ ”گیان پیٹھ ایوارڈ ہے۔

Gyanpeeth Prize
Gyan Peeth

گیا ن پیٹھ ایوارڈ حکومت ِ ہند کی جانب سے دیے جانے والا سب سے بڑا ادبی انعام سمجھا جاتا ہے ۔یہ انعام ہندوستانی آئین کے آٹھویں شیڈیول کے تحت شامل کی گیں ’۲۲‘ ہندوستانی اور انگریزی زبان کے کسی شاعر یا ادیب کو ہر سال دیا جاتا ہے۔اس انعام کی بُنیا دٹائمس آف انڈیا‘کے ناشر ساہو جین  خاندان کے قائم کردہ ’بھارتیہ گیان ٹرسٹ‘نے                                ۱۹۶۱؁ میں رکھی تھی“۔  ۱؎ ترجمہ (wikipedia.org/wiki/JnanpithAward )

پس منظر:۔

                        ساہوجین نے ۱۹۶۱                    ء میں ایک تصور پیش کیا۔ جس کا مقصد قومی شہرت یافتہ وہ بین الاقوامی معیار رکھنے والی ہندوستانی و انگریزی زبانوں کی معیاری کتابوں کا انتخاب کرے۔ اسی سال نومبر کو بانی صدر ’گیان پیٹھ‘سا ہو جین نے کچھ ادبی ماہرین کو مدعو کیا تاکہ اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں پر غور و  فکر کیا جائے۔جن میں کاکا کیلکر (دتّا بالکرشن  کیلکر،مجاہدآزادی، صحافی،سماجی مصلح)  ہری ونش رائے بچن(شاعر) رام دھاری سنگھ  دینکر(ہندی شاعر اور مضمون نگار) جتندر کمار(ہندی ادیب) جگدیش چندر ماتھر(ہندی ڈرامہ نگار) وغیرہ دیگرادبی ماہرین کی آرا سے ایک مسودہ صدرجمہوریہ ”راجندر پرساد“ کو پیش کیا گیا۔ اس منصوبے کی عمل آوری پر انہوں نے دلچسپی ظاہر کی تھی۔اس منصوبہ پر”آل انڈیا گجراتی ساہتیہ پریشد کی سالانہ اجلاس یعنی ”بھارتیہ بھاشہ پریشد

1961ء میں بھی  چرچا کی گئی۔ ۲/ اپریل1962ء کومختلف زبانوں کے تقریباََ تین سو(۳۰۰)  مصنفین کو دہلی مدعو کیا گیا۔ یہاں ”دھرم ویر بھارتی“(شاعر،ادیب،مدیر ہفت وار دھر م یوگ( 1960 سے موت تک) نے دو اجلاس  منعقد کرکے مسودہ اور ایک  خط صدر جمہوریہ کو پیش کیا گیا۔۱۶/ مارچ                                  ؁۱۹۶۳                ء                        کو صدر جمہوریہ کی صدارت میں پہلی سلیکشن کمیٹی کی میٹنگ طے پائی۔اِس درمیان ۲۸/ فروری کو صدر جمہوریہ کا انتقال ہونے کے بعد صدارت کی ذمہ داری ’کیلکر‘ اور ’سمپورنانند‘ (مُدرس، سیاست داں،دوسرے وزیرِ اعلٰی اُتر پردیش)ان دونو ں حضرات نے صدر کی کار کردگی کو انجام دیا۔پہلے انتخابی بورڈ کے ممبران میں ’کیلکر، نہار رنجن (مورخ)  کرن سنگھ، آر۔آر۔دیواکر(ادیب)وی۔رگھوون(سنسکرت اسکالر) بی۔گوپال ریڈی(اُتر پردیش گورنر)ڈاکٹر ہر کشن مہتاب (سیاست داں،وزیرِاعلٰی اُڑیسہ)رام جین اور لکشمی چندر جین اور بورڈ کے صدر سمپورنانند تھے۔پہلے انعام کا انتخاب               ؁۱۹۲۱  سے                                ؁۱۹۵۱  کے درمیان شائع ہونے والی ادبی سر گر میوں سے کیا گیا۔نو (۹) زبانوں کی الگ الگ کمیٹیاں بنائی گیئں جن کا کام نامزدگیوں کے ترجمے انگریزی  اور  ہندی میں کرنا تھا۔آخری راونڈ میں ’ْقاضی نذرالسلام،بنگالی‘’ڈی۔وی۔گنداپّا،کنڈا‘’وشوناتھن ستیانارائن،تیلگو‘’اور جی۔شنکر کررپّا،ملیالم‘ کے درمیان مقابلہ آرائی تھی۔ملیالم زبان کے شاعر،مضمون نگار،و ادبی نقاد،کررپّا کو سرسوتی کی مورتی اور ایک لاکھ روپیے کا چیک دہلی کے وگیان بھون میں پہلے گیان پیٹھ ایوارڈ کی شکل میں تفویض کیا گیا۔   ۲؎         ترجمہ (wikipedia.org/wiki/Jnanpith_Award) 

            ؁۱۹۶۵      سے اب تک کل۵۵ گیان پیٹھ ایوارڈ تقسیم کیے جا چکے ہیں جن میں سے اُردو  زبان و ادب کوچار اعزاز حاصل ہوئے ہیں جن کی تفصیل اسطرح ہے۔

۱ ۔ پہلا گیان پیٹھ ایوارڈ                                              ؁۱۹۶۹                   

            اردو  زبان و ادب کا پہلا گیان پیٹھ ایوارڈ حاصل کرنے والے شاعر و نقاد ”رگھو پتی سہائے فراق ؔ گورکھپوری تھے۔یہ ہندوستان کا اب تک کا پانچواں اور اُردو کا پہلا اعزاز تھا۔فراقؔ گورکھپوری جدید شاعری کے علمبر دار  اور تاثراتی تنقید کے بانی ہیں۔فراق کا پورا نام  ”رگھو پتی سہائے فراقؔ گورکھپوری تھا۔وہ ۲۸/ اگست ۱۸۹۶   ؁ء کو گورکھپور میں پیدا ہوئے۔والد کا پیشہ وکالت تھا۔ابتدائی تعلیم گورکھپور، اعلٰی تعلیم الہ آباد میں مکمل کی۔ ڈپٹی کلیکٹر کی ملازمت ٹھکراکر تحریک ِ آزادی میں شریک ہوئے جس کی پاداش میں جیل بھیجے گئے۔جیل سے رہائی کے بعد کرسچن کالج لکھنو میں لکچرر ہوئے پھر انگریزی میں  ایم۔ اے۔ کیا۔ الہ آباد یونیورسٹی میں اُستاد ہوگئے۔فراق ؔ بہ حیثیت ممتاز شاعر، نظم، غزل، رباعی، اور قطعہ  کے لیے اپنی منفرد شناخت کے حامل ہیں۔روحِ کائنات، مشعل،روپ،شبستان،گُل ِ رعنا،اور گُل ِ نغمہ ان کے شا ہکار مجموعے ہیں۔فراقؔ کو مختلف اعزازات سے نوازا گیا۔   ؁۱۹۶۱ ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ، ۹۱۶۸   ؁ء میں سویت لینڈ نہرو ایوارڈ، حکومت ِ ہند نے انہیں پدم بھوشن خطاب سے سررفراز کیا۔۱۹۷۰ ؁ء میں وہ ساہتیہ اکیڈمی کے فیلوبنائے گئے۔اور ”گلِ نغمہ“ کے لیے ان کو ادب کے سب سے بڑے اعزاز گیان پیٹھ  ایوارڈ سے؁۱۹۶۹   میں نوازا گیاجو ہندوستان میں ادب کا نوبل انعام تصور کیا جا تا ہے۔   ۱۹۸۱    ؁ء  میں انھیں غالب ایوارڈ بھی دیا گیا۔

۲)  دوسرا گیان پیٹھ1989:۔

                                                اردو کا دوسرا  گیان پیتھ ایوارڈ حاصل کرنی والی خا تون عینی آپا کے  نام سے  معروف  اردو کی  نامور  ادیبہ،ناول نگار، اور افسانہ نگار،  قرۃ العین حیدر کی پیدائش 20 /  جنوری  1962ءکو  علی گڑھ  اتر پردیش میں ہوئی۔  ان کے والد سیو یل ملازم سجاد حیدر یلدرم اور والدہ نذر سجاد حیدر  دونوں ہی مشہور ناول نگار تھے۔  لکھنؤ یونیورسٹی سے گریجویٹ قرۃالعین حیدر نے ’ڈیلی  ٹیلی گراف‘  لندن اور ’السٹریٹیڈ ویکلی آف انڈیا‘ میں کچھ عرصے تک صحافت کے فرائض انجام دیے۔  

                        لیکن وہ  اردو ادب  میں اپنی مؤثر تحریروں کے لیے مشہور ہیں۔  ان کی پہلی کہانی ”بی چوہیا“  بچوں کے رسالے ”پھول“ میں شائع ہوئی تھی۔ اس وقت  وہ  صرف گیارہ  سال کی تھیں۔ ”پت جھڑکی آواز“ ان کی کہانیوں کا مجموعہ ہے۔ ان کے ناولوں میں ”میرے بھی صنم خانے“ ”آخری شب کے ہمسفر“” کار جہاں دراز ہے“(نیم سوانح عمری)”گردش رنگیں چمن“اور”چاندنی بیگم“ شامل ہیں۔  لیکن ان کی زندگی کا بہترین ناول”آگ کا دریا“(؁1959)  جس میں ہندوستان کے ڈھائی سو برس کی تاریخ سے گزرتے ہوئے آدمی کے  درد کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ یہ  ناول چوتھی صدی سے شروع ہوکر ہندوستان کی آزادی  اور پاکستان کی تشکیل تک پھیلا ہوا ہے۔  اس ناول میں مصنفہ نے دو  قومی نظریے کو خارج کیا ہے۔ قرۃ العین حیدر نے اپنے ناولوں اور کہانیوں کے موضوعات،تاریخ،معاشرے  اور  بدلتی ہوئی انسانی اقدار سے مستعار لے کر ان میں اپنے تجربات، تجزیات اور تخیل کو سمویاہے۔  وہ ساہتیہ کلا اکادمی سمیت کئی  یادگار  ثقافتی و ادبی تنظیموں کی روکن،سینٹرل فلم سینسر بورڈ،حکومت ِہند ا کی چیئرمین، کی مشیر  اور انجمن ترقی اردو کی ایگزیکٹیو کمیٹی کی رکن رہیں۔ وہ ترقی اردو بیورو میں بھی رکن کی حیثیت سے شامل تھیں۔قرۃ العین حیدر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ اسلامیہ کے شعبے اردو میں وزیٹنگ پروفیسر رہی ہیں۔  وہ جامعہ اسلامیہ  کے خان عبدالغفارخان چیر کی پروفیسر امیر ریٹس بھی تھی۔ انہوں نے شکاگو کے کیلیفورنیا ٹیکساس اور  اریزونا سمیت کئی یونیورسٹی میں لیکچر دیئے۔ اور ریگا،لیٹویا اور پشکن فیسٹول (روس)میں منعقدہ  مصنفین کی کانفرنس میں ہندوستان کی نمائندگی کی۔ 

                        قرۃ العین حیدر کو ۱۹۶۷ ؁  میں ”پت جھڑ کی آواز“ کیلئے ساہتیہ اکادمی  ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ ان کی ان کو۱۹۶۹ ؁ میں سوویت لینڈ نہرو ایوارڈ، ۱۹۸۵ ؁ میں غالب ایوارڈ، ۱۹۸۹ ؁   میں ”آخری شب کے ہمسفر“ کے لیے گیان پیٹھ ایوارڈ، ۱۹۸۴ ؁ میں پدم شری اور   ۲۰۰۵ ؁   میں پدم بھوشن سے بھی نوازا گیا۔جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ۲۰۰۷ ؁ میں ان کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری بھی تفویص کی۔ قرۃالعین حیدر کا انتقال ۱۲/ اگست  ۲۰۰۷ ؁کو  نوئیڈا  اترپردیش میں ہو۔ا ان کی آخری آرام گاہ جامعہ اسلامیہ کے قبرستان  میں ہے۔  ۳؎

                                                                                                 (جشن ِ آزادی از مہر فاطمہ حسین،ص۸۰۱)

۳) تیسرا گیان پیٹھ ایوارڈ  ۱۹۹۷ ؁

                                                مشہور شاعر،افسانہ نگار، مجاہد آزادی اور مارکسی نظریات کے زبردست حامی اور  سرگرمی کارکن  علی سردار جعفری کا جنم ۹۲/ نومبر  ۳۱۹۱؁ء کو اُترپردیش کے بلرام پور،گونڈا میں ہوا تھا۔  ان کے  والد کا نام جعفرطیار  اور  والدہ کا نام زاہدہ خاتون  تھا ۔سردار جعفری  نے علیگڑھ،دہلی اور لکھنؤ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔انہوں نے جدوجہد آزادی میں  سرگرم کردار  ادا کیا۔اور  ۶۳۹۱؁ء میں انجمن ِ ترقی پسند مصنفین قائم کی۔  وہ کیمونسٹ پارٹی آف انڈیا کے سرگرم رکن تھے۔ 

                          علی سردار جعفری نے اپنی  تخلیقات کے ذریعے حُب الوطنی، امن،بھائی چارے  اور محبت کا پیغام عام کیا۔ انہوں نے پرولتاریوں، محروم اور کمزور طبقہ کی حمایت میں بھی آواز بلند کی ۔ وہ دنیائے  اردو ادب میں1938ء میں اپنے افسانوی  مجموعے”منزل“ کے ذریعے داخل ہوئے۔لیکن انہوں نے اپنی تلخ نظموں سے اردو ادب کو  مالامال کیا۔  ان کی نظموں کا پہلا مجموعہ”پرواز“1943ء  میں اور دوسرا مجموعہ”نئی دنیا کو سلام“1984ءمیں شائع ہو۔ان کی تخلیقات کے دیگر مجموعے ہیں،خون کی لکیر1950ء  امن کا ستار،  ہ پتھرک ی دیوار، ایک خواب ،اور پیراہن شرر، اور لہو پکارتا ہے، پیغمبر سخن1970ء  میں انہوں نے کبیر،میر تقی میر اور مرزا غالب کا تقابلی مطالعہ پیش کیا۔  ہندوستان و پاکستان کے درمیان1965ء  کی  لڑائی سے بے حد خفا سردار جعفری نے ”کون دشمن“نظم لکھی اور دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ تہذیب کا خاکہ کھنچتے  ہوئے امن   اور دوستی کی ضرورت پر زور دیا۔  ”آجودھیا“نامی  نظم میں انہوں نے بابری مسجد کے انہدام پر افسوس ظاہر کیا۔ اور اس کو سیکولر اقدار پر زبردست حملہ قرار دیا۔    

                        وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی1990ء  میں جب لاہور(پاکستان) کے سفر پر گئے تو انہوں نے پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کو علی سردار جعفری کی تحریر کردہ  اور  سیما سہگل  کی صدا بندر جنگ مخالف نظمیں پیش کی تھی۔علی سردار جعفری نے ٹی وی سیریل کہکشاں بھی بنایا تھا۔ جو حسرت جے پوری، جوش ملیح آبادی اور فراق گورکھپوری وغیرہ اردو کے ساتھ شعراء کی زندگی اور تخلیقات پر  مبنی  تھا۔انہوں نے کبیر اور علامہ اقبال پر تیار دستاویزی  فلموں کی کہانیاں بھی لکھیں۔

                        علی سردار جعفری کو   1965ء میں سوویت لینڈ نہرو ایوارڈ، 1967ء  میں پدم شری،  1978ء میں پاکستان کے اقبال گولڈ میڈل،1997ء میں گیان پیٹھ ایوارڈ اور 1999ء  ہائرورڈ یونیورسٹی(امریکہ) کے بین الاقوامی امن ایوارڈ سے نوازا گیا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نیو نے  1986ء میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری عطا کی۔ یکم  اگست  2000ء کو اردو ادب کا روشن ستارہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔   ۴؎                                                   (جشن ِ آزادی از مہر فاطمہ حسین،ص۶۹)

۴) چوتھا گیان پیٹھ ایوارڈ :۔

اخلاق محمد خان شہریار (۶۱/جون1963ء تا ۳۱/  فروری2012ء) ۶۱/ جون 1963ء اناوا اتر پردیش میں ایک مسلم راجپوت خاندان میں پیدا ہوئے ان کے والد ابو محمد خان ایک پولیس افسر تھے۔شہر یار ایتھلیٹ بننا چاہتے تھے  تاہم والد پولیس کی ملا زمت میں شامل کروانا چاہتے تھے تب ہی وہ خلیل الرحمٰن کی رہنمائی میں گھر سے بھاگ گئے۔فکر معاش کی تکمیل کے لئے وہ علی گڑھ مسلم یونیور سٹی میں اردو فکشن پڑھانے لگے  جہاں انھوں نے بعد میں (Ph.D) مکمل کی۔ شہریار نے اپنی پیشہ وارانہ زندگی کا آغاز”انجمن ِ  ترقی ِاردو“ کے ادبی معاون کی حیثیت سے کیا۔اس کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اردو کے لیکچرر   1986ءمیں  وہ پروفیسر اور پھر  1996ء میں وہ شعبہ اردو کے صدر نشین کے طور پر مستعفٰی ہوئے۔شہر یار کا پہلا مجموعہ کلام  ”اسم ِ اعظم“ 1965ءد و سرا”ساتواں در“1969  ؁ء  تیسرا ”سحر کے موسم“1978ء اور ان کا شاہکار ”خواب کے در بند ہیں“1978ء میں شائع ہوا۔جسے ساہیتہ اکادمی اعزاز حاصل ہوا۔شہریار کے  کلام ”خواب کے در بند ہیں“ کا انگریزی ترجمہ                       THE GATWAY TO DREAM IS CLOSE“ کے عنوان سے   1992ء  میں شائع ہوا۔ان کی بیشتر نظموں کے ترجمے فرانسسی، روسی اور جرمن زنانوں میں کیے گئے ہیں۔شہر یار نے چند فلموں کے لیے نغمے بھی لکھئے ان میں فلم ”امراؤ جان ادا“ لے لیے لکھے گئے نغمے بالی ووڈ کے بہتریں نغمے مانے جاتے ہیں۔  ۵؎               (ترجمہ  ویکی پیڈیا  wikipedia.org/wiki/Akhlaq_Mohammed_Khan)

                                                                                               

                                                                       

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.