جون کے جوہر


جون کے جوہر

مانا کہ اردو ادب کی عمر دنیائے ادبیات کے مقابلے کم ضرور ہے لیکن اس کم عمری میں بھی اس ادب میں وہ جوہر نصیب ہوئے  جنھوں نے ا س کی چمک میں بے انتہا اضافہ کیا ۔ ایسے ہی کچھ جوہر پارے اردو ادب میں بھی ہیں  جن  کی آمد ماہ ِ جون میں ہوئی ۔جس طرح مئی کی شعلہ بار گرمی کو خطئہ  ہند میں بارش کی  بوندیں ہی ختم کر سکتی ہیں، جب جون کی آمد کے ساتھ  یہاں بارش کی پہلی بوندیں پڑتی ہیں تب ایک خوش گوار ماحول چاروں طرف پیدا ہو جا تا ہے ۔جہاں کاشتکاروں کے چہروں پر رونق بکھر جاتی ہے۔ اور کھیت، میدان ، پہاڑ  وغیرہ   سرسبز   ہو جاتے ہیں ۔اور یہی پہلی  بوندیں مخلوق ِ الٰہی کے لیے سوندھی سوندھی  خوشبو ،و انواع قسم کی نعمتیں پیدا کر نے کی وجہ بنتی ہیں ۔ اردو ادب میں اسی جون کے مہینے میں کچھ ادیب و شاعروں  کی آمد ہوئی ،جنھوں نے ادب کی سر زمین کو اپنی تخلیقی کاوشوں کی  بوندوں  سے تر کر کے ادب کی سر زمین کو خشبودار  و سر سبز و شاداب کریا جن کا ذکر مختصر طور پر یہاں کیا  جا رہا ہے۔           

علامہ شبلی نعمانی:۔

اردو دنیا میں شبلی کسی تعارف کے مہتاج نہیں ،وہ عظیم مورخ ، عالم ِ دین، سیاسی مفکر، شاعر اور ا ردو   تنقید کے  بانیوں  میں نمایاں حیثیت کے حامل ہیں ۔ ’’ شبلی کی تاریخ ولادت یکم جون  ہے  ان کے والد  کا نام شیخ حبیب اللہ تھا ۔شیخ صاحب اپنے خاندان کے سب سے معزز ،ممتاز اور خوشحال شخص تھے۔  زمینداری، نیل کی تجارت اور وکالت ان کا ذریعہ معاش تھی، شعر و سخن کا  بھی اچھا  مذاق رکھتے تھے۔‘‘                                                                          (ہندوستانی ادب کے معمار، شبلی ۔از: ظفر احمد صدیقی ،ص۔۹)

شبلی ؔ اعلی  ٰ  تعلیم حاصل کرنے کے بعد وکالت کے پیشے سے منسلک  ہوئے  ،لیکن طبعیت کی عدم مناسبت سے انھوں نے وکالت ترک کر کے مختلف ملازمتیں کیں۔   لیکن علی گڑھ کے قیام نے انھیں   معاشی ،مادی، علمی اور سماجی سطح پر بے حد فائدہ پہنچایا۔ یہیں  پر وہ  مورخ ،سوانح نگار ،مصنف، خطیب ،شاعر و نقاد بنے اور شمس العلما  کا خطاب بھی حاصل کیا ۔بحیثیت مورخ ان کے مضامین’’ مسلمانوں کی گزشتہ تعلیم   ،کتب خانہ اسکندریہ، اور الجزیہ ‘‘  اہمیت کے حامل ہیں ۔سوانح نگاری میں ’’ المامون ،ا لفاروق، سیرت  النعمان، الغزالی،سوانح مولانا روم۔ سیرت النبی ‘‘ جیسی اہم سیرتیں تحریر لکھیں ۔

            شبلی کے شعری جوہر پاروں میں مثنوی ’’ صبح امید ‘‘ سر فہرست ہے۔ ان کے اردو کلام میں مثنوی، مرثیہ اور نظمیں شامل ہیں وہیں ان کے فارسی کلام میں دو مجموعے ’’ دستہ گُل‘‘ اور ’ بوئے گُل‘ کو کا فی شہرت حاصل ہے۔ شبلی نقاد کی حیثیت سے بھی ایک الگ شناخت رکھتے ہیں ۔ انھیں اردو تنقید کے بنیاد     گزراوں  میں شامل کیا جا تا ہے ۔ان کے تنقیدی کار نامے ’’ شعر العجم  و موازنہ انیس و دبیر ‘‘ نے تنقید میں نمایا ں مقام عطا کیا ۔

۲- پنڈیت رتن ناتھ شر شار

            اردو دُنیا میں سر شار کو شہرت ان کے شہکار ناول ’’ فسانہ آزاد سے ملی۔ وہ ایک متر جم ، ادیب و شاعر تھے ۔’’ سر شار  ۵ ؍ جون ؁۱۸۴۶  عیسوی کو لکھنو میں پیدا ہوئے‘‘                                                      ( رتن ناتھ سر شار ،شخصیت اور کارنامے  ،از۔پریم پال اشک ،ص ۹)

ڈپٹی نظیر احمد کے بعد اردو ناول نگاری میں سر شار کا نام ہی سامنے آتا ہے جو اپنے ناولوں ’’ سیر ِکہسار ، جام ِ کہسار ،جام ِ سر شار ،کامنی ،اور فسانہ آزاد ‘‘ وغیرہ کی وجہ سے نمایاں شناخت حاصل کی ۔شاید اسی وجہ سے انھیں اردو کا ’’ چارلس ڈکنز‘‘ کہا جاتا ہے۔ سر شار   نے اپنی معرکتہ الآرا تصنیف ’’فسانہ آزاد کو قسطوں میں اودھ اخبار میں شائع کیا۔ سر شار کے ناولوں کا موضوع لکھنوی معاشرہ اور وہاں  کی اجتماعی زندگی ہے۔ سر شار نے اپنی تخلیقات میں لکھنوی زندگی کو ہر زاویہ سے پیش کیا ۔مجموعی طورپر دیکھا جائے  تو سر شار کی تحریروں میں ظرافت غالب ہے ان کی زبان ،کردار اور مکالموں  کی تعریف کرتے ہوئے پروفیسر مسر ت لکھتے ہیں:

            ’’سر شار نے اپنی مکالمہ نگاری سے بھی اپنی کردار نگاری کو جاندار بنا دیا ہے ان کرداروں میں مکالمے نہ صرف

اس کردار کو ندرت بخشتے ہیں بلکہ اس کے اپنے طبقے اور پیشے کا بھی تعین کرتے ہیں مکالمے کے ذرئعیہ کرداروں

 کو ابھارنے اور ان میں تنوع پیدا کرنے کی بہترین مثالیں سر شار نے اردو ناول نگاری کو دی ہیں ‘‘            

( بیسویں صدی میں اردو ناول۔ص۔۲۶)

 ۳- سیماب اکبر آبادی

                                    ؎            عمر دراز   مانگ  کے  لائی  تھی      چار       دن

                                    دو    آرزوں   میں  کٹ    گے  دو    انتظار میں

انتہائی مشہور شعر کے خالق سیماب اکبر آبادی ہیں ۔جو ممتاز ترین قبل از جدید شاعروں میں سیکڑوں شاگردوں کے ساتھ نمایاں مقام رکھتے ہیں ۔ان کا نام سید عاشق حسین صدیقی اور سیماب تخلص تھا ۔اپنی ولادت کے تعلق سے سیماب شعرالحیات (کلیم عجم۔ص ۱۶۱)

میں لکھتے ہیں :

’’ میں الثانی ؁۱۲۹۹ھ مطابق ؁۱۸۸۰ بروز دو شنبہ وقت صبح اکبر آباد (آگرہ) کے محلہ نائی منڈی ،ککو گلی ،

املی والے مکان میں پیدا ہوا‘‘اپنی ہجری سنہ ولادت کی نشاندہی انھوں نے اپنے ایک شعر میں یوں کی ہے۔‘‘              

                                                                                                ( کار امروز ۔ص ۲۵۳)  

                                    ؎            ستاسی سال بعد میرؔ ہے تخلیق غالب کی

                                    یہی وقفہ  ہے  میری اور  غالؔب  کی ولادت میں

اس شعر کی وضاحت یوں ہے کہ میر تقی میرؔ کی ولادت ؁۱۱۲۵ ہجری میں ہوئی اس کے ٹھیک ستاسی سال بعد ؁۱۲۱۲

ہجری کوغالبؔ کی ولادت ہوئی اور  غالب ؔ  کے  ٹھیک ستاسی سال بعد یعنی ؁۱۲۹۹ ہجری کو سیماب کی ولادت ہوئی۔

سیماب نے کم عمری سے ہی غزلیں کہنا شروع کر دیا تھا ۔وہ روایتی غزل کے بجائے جدّت پسندی کے قائل تھے اسلیے       انھوں  نے غالبؔ  کون  اپنی توجہ کا مرکز بنایا ۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ غزل کی روایات سے انحراف کیا بلکہ ان روایات و محاسن کی پاسداری و حفاظت بھی کی، ان دونوں کی آمزش سے ایک نیا لب و لہجہ ’’کلیم ِ عجم‘‘ سیماب کے پہلے غزلوں کے دیوان کے روپ میں منظر عام پر آیا ۔ سیماب کی تحریروں اور خطابات کا مشاہدہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہےکہ انھوں  نے جگہ جگہ نظم کی حمایت کی۔ ان کی نظموں کے موضوعات میں اسلامی رنگ اور اس دور کے سیاسی و سماجی حالات  ان کے پہلے  نظموں کے مجموعے ’’ نیستاں ‘‘ کی شکل میں منظر عام پر آئے۔ سیماب قادر الکلام شاعر تھے ۔انھوں نے قرآن ِ حکیم کا مظوم  ترجمہ بھی کیا ۔ان کی تخلیقات میں ’’ کلیم ِ عجم،سدرۃ المنتہی، لوحِ محفوظ ،ورائے سدرہ، کار امروز،ساز و آہنگ،الہام ِ منظوم،(مثنوی مولاناروم کا منظوم ترجمہ)’’وحی منظوم‘‘ (قرآن مجید کامنظوم ترجمہ)’عالم آشوب‘(رباعیات)’تغیر غم‘( سلام و مراثی)’شعری انقلاب‘ ( انقلابی نظموں )کا شمار ہوتا ہے۔

۴- گوپال متل:۔ 

گوپال مثل ہمہ جہت فنکار تھے۔ وہ شاعر ، نثر نگار ، مدیر  اور ناشربھی تھے۔ مدیر کی حیثیت سے انھوں نے تقریبا چھبیس سال ماہنامہ ’’تحریک ‘‘شائع کیا اور ایک پوری نسل کی رہنمائی کی۔ انگریزی زبان پر ان کی دسترس کاپتہ سینکڑوں کتابوں سے بھی چلتا ہے جن کا ترجمہ انھوں نے با محاورہ اردو میں کیا۔’’ گو پال متل کا تعلق سر زمین پنجاب سے ہے وہ مشرقی پنجاب کی ایک ریاست مالیہ کوٹلہ میں ۶؍ جون ؁۱۹۷۰ کو پیدا ہوئے۔‘‘                                        ( گوپال متل ایک مطالعہ ۔از۔ محمد عبدالحکیم ایم ۔اے۔ص۲۲)

متل صاحب نے اردو کی ادبی صحافت میں اہم کردار ادا کیا ۔ متل صاحب کے چار شعری مجموعے ’’دو راہا ‘صحرا میں ازان‘شرار نغمہ‘ارو سچے بول‘‘شائع ہوئے۔ان کی ادبی خدمات کے لیے انھیں غالبؔ ایوارڈ،بہار اردو اکادمی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

۵-خواجہ احمد عباس

            عباس صاحب اردو کے ہمہ جہت عظیم فنکار گزرے ہیں۔وہ  عمدہ صحافی ،ناول نگار، افسانہ نگار اور فلمی دنیا سے وابستہ رہے۔’’ ۷؍ جون ؁۱۹۱۴ کو خواجہ احمد عباس پانی پت میں پیدا ہوئے۔‘‘                         ( آج کل،خواجہ احمد عباسنمبر،ڈسمبر ؁۱۹۸۸۔ص۶)

بحیثیت ناول نگار ان کا پہلا ناول ’’انقلاب‘‘ انگریزی میں لکھے جانے کے باوجودپہلے جرمن،فرانسسی اور انگریزی میں شائع ہونے کے خو دانھوں نے  اردو  میں شائع ہوا۔ ان کے پہلے افسانہ  ’’ابابیل ‘‘ کے ساتھ کچھ اسی طرح کے حالت پیش آئے۔کئی جگہوں سے واپس آنے کے بعدجامعہ ملیہ اسالمیہ کے مجلہ ’’ جامعہ‘‘ میں شائع ہوا۔اس کے بعد دنیا کی مختلف زبانوں میں شائع ہوا۔’’ ایک لڑکی ، پاوں میں پھول،میں کون ہوں ،پانچ دانے پیار کے،پیرس کی ایک شام، کہتے ہیں جس کو عاشق،بیسویں صدی کے لیلیٰ مجنو،مارڈن الف لیلیٰ‘‘ وغیرہ ان کے افسانوی مجموعے ہیں ۔فلمی زندگی  کی بات کر یں   تو انھوں نے کئی فلمیں لکھی،مکالے لکھے ،منظر نگاری کی،اور فلمیں بھی بنائی۔ان کی  سُپر ہٹ فلمیں ’’ میرا نام جوکر ، شری 420 ، قابلِ ذکر ہیں ۔ان کی ادبی و فلمی خدمات کے لیے انھیں قومی و بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا۔جن میں پدم شری،و ملک کی کئی اکادمیوں کے ایوارڈ شامل ہیں۔

۶-شہر یار

            گیان پیٹھایوارڈ یافتہ ،ممتاز جدید شاعر ،نغمہ نگار ،فلم امرا و جان ادا کے نغمہ نگار کی حیثیت سے کافی شہرت پانے والے شہر یار یعنی’’کنور اخلاق محمد خان عرف شہر یار کا جنم ۱۶ ؍ جون ؁۱۹۳۶ کو آنولا ضلع بریلی میں ہوا۔‘‘             (شہر یار ،از۔سرورالہدایٰ،ص۔۴۳)

علی گڑھ مسلم یونیور سٹی سے ایم۔اے اردو کرنے کے بعد یہیں سے صدر شعبہ اردو کی حیثیت سے سبکدوش بھی ہوئے۔انھوں نے شاذ تمکینت کے مشہورے پر اپنا نام شہر یار رکھا۔شہر یار کی زندگی سراط مستقیم کی طرح نہیں رہی لیکن اسے شعری سراط مستقیم پر لانے کی کامیاب کوشش خلیل الرحمٰن اعظمی صاحب نے کی جس کی وجہ سے کنور اخلاق محمد خان میں پوشیدشہر یار منظر عام پر آیا۔شہر یار نے اپنی شاعری میں زندگی کی تلخیوں ، نامرادیوں ،آسودگیوں ،کے ساتھ ساتھ زندگی کی نشیب وفراز کا کھل کر اظہار کیا ۔ان کی نظموں ،غزلوں کا مطالعہ کریں تو ہمیں جگہ جگہ اس بات کاا حساس ہوتا ہے کہ انھوں نے زندگی کے نشیب و فراز، تلخیوں اور نامرادیوں کو شعری پیرائے میں ڈھالنے کی کا میاب کوشش کی ۔ان کی کچھ نظمیں ’’ زندہ رہنے کا یہ احساس‘‘ ایک کالی نظم ‘ اپنی یاد میں ‘ آرزو‘ کھیل کا نتیجہوغیرہ ہیں ۔نہ جانے ایسے کتنے عنوانات ہیں جنکو انھوں نے اپنی نظموں  کے موضوعات میں جگہ دی یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام کے ترجمے فرانسسی، جرمن،روسی،مرا ٹھی ،بنگالی اور تیلگو میں ہو چکے ہیں ۔ان کی ادبی خدمات کے لیے انھیں گیان پیٹھ ایوارڈ اور ساہتیہ اکادمی ایوارڈ کے علاوہ متعدد اعزازات سے نوازا گیا تھا۔

۷- کنہیا لال کپور

            اپنی سلیس زبان او ر سماجی ناہمواریوں کے لیے پہچانے جا نے والے معروف طنز و مزاح نگا ر ’’ کنہیالال کپور ۲۷؍ جون؁۱۹۱۰ کو پیدا ہوئے۔‘‘                                                                           ( کنہیالال کپور ،حیات و کارنامے۔از۔یس۔جے۔صادق،ص۹)

کپور صاحب ہمارے ادب کے کامیاب طنز و مزاح نگار ہیں۔ ان کے تصانیف کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔ان تصانیف کی خصوصیت یہ ہے کہ ان سے ہر زمانے اور ہر مقام کے لوگ لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فطرت ِ انسانی سے وہ بخوبی واقف تھے۔جس کا استعمال انھوں نے اپنی تخلیقات میں کیا۔ساتھ ہی انھیں زبان پر بے پناہ قدرت تھی ۔اس لیے وہ صاف سُتھری زبان لکھتے تھے۔جس کی مثالیں ہمیں  ان کے کچھ مضامین و مشہور مجموعوں میں ملتی ہے۔جیسے ’’ فلسفہ قناعت، کامریڈ شیخ چلی،انکم ٹیکس،چینی شاعر،غالبؔ جدید شعراکی مجلس میں ،سنگ وخشت،شیشہ و تیشہ،جنگ ورباب،نوک نشتر،بال و پر،نرم و گرم‘‘ وغیرہ۔

            جون میں اردو کے جن فنکاروں کی  آمد ہوئی ان میں سے کچھ  مختصر جوہر پاروں کا یہاں تذکرہ کیا گیا ۔ جنھوں نے اپنی فنکارانہ چمک سےا ردو کی سر زمین کو منور کرکے احساسات کی بھینی بھینی خشبو پھیلانے  کی کامیاب کوشش کی ۔بھلے  کتنے ہی  وقت کے ساتھ  نئے نئے فنکار منظر عام پر رونما ہوتے رہیں گے ۔لیکن ماضی کے ان فنکاروں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔          

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.