لفظوں
کی طاقت
جانوروں
اور انسانوں میں ایک واضح فرق قوت ِ گویائی کاہے۔ورنہ احساسات اور جذبات تو ان میں
بھی پائے جاتے ہیں ۔شاید اسی بنیاد پر انسان کو اشرف المخلوقات کہا گیا ۔اسی قوتِ
گویائی کی بنیاد پر انسان نے بہت کچھ کھویا اور پایا بھی۔آج دنیا میں سینکڑوں زبانیں
ہیں ۔اور ان کے کروڑوں الفاظ جو انسان کی زندگی میں کافی نشیب و فراز کے حامل ہوتے
ہیں ۔ہمارے الفاظ دوسروں کے لئے رنگ کے نانند ہوتے ہیں اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم
اپنے لفظوں کی مدد سے اپنی زندگی رنگ دار بنانے کے لئے استعمال کرتے ہیں یا بے رنگ
کرنے کے لئے۔جب کہ الفاظ کا زخم روح پر لگتاہے جوکبھی نہیں بھرتا ،اس لئے الفاظ کا
انتخاب ہمیشہ عقلمندی سے کرنا چاہیئے۔
پچھلے دنوں یعنی۱۰ ؍ فروری ۲۰۲۱ کو اورنگ آباد (مہاراشٹرا) سے شائع ہونے والے
مراٹھی روزنامہ ’’ پونیہ نگری‘‘ (PUNYA
NAGRI)میں
’’ ڈاکٹر دتّا کوہینکر‘‘ کا مضمون ’’
शबदांची ताकद‘‘کے عنوان سے شائع ہوا ۔اس مضمون میں
انھوں نے دو واقعات بیان کیے جن کا مختصر ترجمہ اسطرح ہے۔
پہلا واقعہ:
’’ چرچل بادشاہ کا
دربار لگا ہوا تھا ۔اس دربار میں ایک خاتون کو اپنی بات پیش کرنے کے لیے بہت ہی کم
وقت دیا گیا تھا ۔جس پر وہ بہت ناراض ہو ئی اور غصے سےآگ بگولہ ہوگئی ۔جب چرچل
دربار ختم ہونے کے بعد روانہ ہونے لگا تو
اس خاتون نے چر چل سے کہا کہ’’ میں اگر تمہاری بیوی ہوتی تو میں تجھے زہر دے کر
ماردیتی‘‘ اس کے جوب میں چر چل نے بہت ادب اور احترام سے کہا کہ ’’ اگر میں آپ کا
شوہر ہوتا تو میں خوشی خوشی وہ زہر پی لیتا ،آپ اتنی خوبصورت جو ہو‘‘یہ الفاظ سن
کر وہ شرم سے پانی پانی ہوگئی اور پھر
دوبارہ کبھی اس نے چرچل کی مخالفت نہیں کی‘‘۔۱؎
دوسرا واقعہ:
’’ ایک کار خانہ
خسارہ کا شکار ہوگیا جس کو حکومت او ر کارخانے کے ملک نے بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔اس کار خانے میں صرف سات مزدور
کام کرتے تھے ۔ان مزدوروں نے کار خانے کے مالک سے ملاقات کی اور اور کہا کہ آپ کے
کار خانے کی ملازمت کی وجہ سے ہم نے اپنے گھر بناے
،اپنے بچوں کی اچھی تعلیم و پر ورش کی ،ان کی شادیاں کیں اور آج ہم سکون سے دو وقت
کی روٹی کھاسکتے ہیں ، اگر یہ کارخانہ بند ہو جائے تو ہم بے بس ہو جائیں گے ۔ان لفظوں
کا اثر مالک پر ہوا اور اس نے اپنے بھا ئے کے کار خانے میں انھیں ملازمت دلادی‘‘۔۲؎
درجہ بالا دو واقعات پر غور کریں تو ہمیں یہ ایک عام واقعے محسوس ہوں گے لیکن اُس
وقت اُن لوگوں نے اُن موقوں پر جو الفاظ استعمال کر کے اپنے مسائل حل کیے وہ ان کی
زندگی کے لیے کا اہمیت رکھتے ہیں ۔یہاں ایک بات قابل غور ہے کہ ہم لفظوں کو اتنے محدود دائرے میں مقید نہیں کر
سکتے لفظوں کی طاقت کا اندازہ یا کوئی پیمانہ نہیں جس سے ان کی پیمائش کی جا سکے
۔لفظ اپنی ایک الگ پہچان ،وسعت رکھتے ہیں ۔وہ ساری پابندیوں سے بالا تر ہوتے ہیں ،جس
کی لا تعداد مثالیں ہمیں جگہ جگہ دکھائی دیتی ہے۔
اردو
زبان کے ارتقا کے متعلق اب تک مختلف نظریات ہمارے سامنے آچکے ہیں۔ لیکن کچھ عرصہ پہلے ایک
نیا نظریہ روزنامہ منصف (حیدرآباد)میں شائع ہوا ۔جس میں اردو زبان کے ارتقا کی ایک
نئی نوعیت بتائی گئی ۔واضح رہے کہ اس نظریہ کا ذکر یہاں اسلیے مقصود ہےاس تحقیقی
مضمون میں کسی کے کہے ہوئے الفاظ ہی اردو زبان
کے وجود میں آنے کی وجہ بنے۔اس مضمون کا عنوان’’ ایک عورت کی فریا ہےاردو زبان‘‘
تھا۔اس مضمون کا اختصار کچھ اسطرح ہے کہ:
’’آٹھویں صدی عیسوی میں مسلمانوں کا ایک تجارتی قافلہ ہندستان کے ساحل یعنی بحر عرب سے ہوتاہوا گزر رہاتھا وہ سندھ کا علاقہ تھا ۔ اس پر ایک سندھی
حکمراں راجاداہر کی حکومت تھی ۔اس کی فوج نے اس قافلے کو لوٹ لیااور
تمام ارکان ِ قافلے کو قید کر لیا جا تا
ہے ۔جب کہ ایرانی فوج کا سپہ سالار حجاج بن یوسف تھا جو کہ نہایت نڈر اور بہادر ، امیر کہلاتا تھا
۔قافلے کے قیدیوں میں سے ایک قیدی فرار ہو جاتا ہے اور ایران پہنچ کر حجاج بن یوسف کو قافلے کے لوٹے
جانے کے ساتھ ہی ساتھ یہ بات بھی بتاتا ہے
کہ اسی قافلے میں ایک قیدی عورت حجاج بن یوسف کے نام کی دہائی دیتی ہے اور
کہتی ہے کہ اے حجاج بن یوسف تو ہمارا حاکم و امیر ہے اللہ کو گواہ جان کر تجھ سے
فر یاد کرتی ہوں اور دہائی دیتی ہوں کہ قید سے ہمیں رہائی نہیں دلای تو آخرت میں
میرے یہ ہاتھ ہوں گے اور تیرا دامن ہوگا
میں تجھ سے انصاف طلب ہونگی ۔ اس مفرور قیدی سے اتنا سُننا تھا کہ حجاج بن
یوسف آگ بگولہ ہو اُٹھا اور کہا کہ ہم اس
خاتون کی دہائی پر لبیک کہتے ہیں ارو ارادہ کرتے ہیں کہ ان قیدیوں کو جب تک رہائی نہ
مل جائے اُ س وقت تک سکون سے نہیں بیٹھیں گے
۔حجاج بن یوسف نے ان کی رہائی کے لیے عمل کرنا شروع کیا سب سے پہلے اس نے
ایک سپہ سالار کو ایک لاکھ فوج کے ساتھ سند ھ کے علاقے پر چڑھائی کے لیے بھیجا ،
ناکام رہا ۔پھر ایک لاکھ فوج کو روانہ کیا لیکن پھر بھی نکامی ہاتھ لگی ۔تب حجاج
بن یوسف نے بہت سوچ سمجھ کر اپنے بھتیجے جس کا نام محمد بن قاسم عمر ۱۷ سال تھی،دو
لاکھ سپاہیوں کے ساتھ سندھ پر چڑھائی کے لیے روانہ کیا ۔محمد بن قاسم ایک بہادر
نوجوان، جنگی حربوں سے واقف تھا ۔ لشکر
میں عرب، ایرانی، افغانی ، تر کستانی ، اور مغل ہر قسم کے فوجی شامل تھے ۔جن کی زبانیں مختلف تھیں ۔ جب یہ فوج ہندوستان کے
علاقے سندھ پر پہنچی تو راجا داہر کی فوج کو شکست دی اور اس کے بعد اپنے امیر حجاج بن یوسف کے کہنے کے مطابق
قیدیوں کو رہائی دلا کر ایران بھیج دیا ۔ محمد بن قاسم نے اپنے چچا جو کہ فوج کے سپہ سالار ِ اعلیٰ اور امیر
بھی تھے، کے حکم کے مطابق سندھ کے علاقے میں ہی مقیم ہوا ،اور اسی کے
ساتھ یہاں کی علاقائی زبان سندھی، گجراتی،
پنجابی اور پھر آنے والی فوج کے مختلف زبانوں کا میل جول ہوا ۔جس کی وجہ سے ایک
نئی زبان جسے ہم اردو کہتے ہیں اسکا بیج بویا گیا۔اور پھر یہ زبان زمانے کے ساتھ
ساتھ پھلنے پھولنے اور ارتقا پذیر ہوئی ۔کہنے کا مطلب یہ تھا کہ راجا داہر کی قید میں موجود ایک عورت اگر حجاج بن یوسف کے
نام رہائی کے لیے دہائی نہ دیتی، گُہار نہ
لگاتی تو شاید حجاج بن یوسف کا ضمیر نہ
جاگتا اور نہ وہ اپنی فوج کو ہندوستان بھجتا اور نہ ہی کسی نئی زبان کا وجود عمل
میں آنا ممکن تھا‘‘۔۳؎
اس
مضمون سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ اگر وہ
عورت قید کی حالت میں دہائی بھرے الفاظ ادا
نہیں کرتی تو شاید اتنی بڑی زبان وجود میں نہیں آتی ۔ اور
ایک دلچسپ واقعہ جو لفظوں کی اہمیت کو واضح کرتا ہے ۔مجتبیٰ حُسین اردو دُنیا میں
کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں ۔ مجتبیٰ حُسین نے اپنے خاکے’’ یادوں میں بسا آدمی ‘‘
جو مخدوم محیی الدین کی شخصیت پر لکھا گیا ہے
اس خاکہ میں مجتبیٰ حُسین کا کہانا
ہے کہ مخدوم اکثر ادیبوں ،دوستوں اور فنکاروں کو جان بوجھ کر چھیڑ تے تھے۔ جو
لفظوں کی طاقت کا بہترین مظہربھی ہے ۔اس واقعہ کو مجتبیٰ نے اُس خاکہ میں پیش کیا جو اِس طرح ہے:
’’ایک رات سلیمان
اریبؔ کے گھر پر حیدر آباد کے مشہور آرٹسٹ
سعید بن محمد سے کہا’’ شاعری، مصوری سے کہیں زیادہ طاقتور میڈیم ہے ‘‘
سعید بن محمد نے
برش بکف جواب دیا ’’ مصوری اور شاعری کا کیا تقابل۔شعر میں تم جو چیزیں بیان نہیں
کر سکتے ہم رنگوں اور فارم میں بیان کر دیتے ہیں ۔تم کہو تو میں ساری اردو شاعری کو
پینٹ کر کے رکھ دوں ۔‘‘
مخدومؔ بولے ’’ ساری
اردو شاعری تو بہت بڑی بات ہے ،تم اس معمولی مصرعے کوہی پینٹ کر کے دکھادو۔
ع ’’ پنکھڑی اک گلاب
کی سی ہے‘‘
سعید بن محمد بولے
’’ یہ کونسی مشکل بات ہے ،میں کینوس پر گلاب کی ایک پنکھڑی بنادوں گا‘‘
بولے ’’ پنکھڑی گلاب
کی تو پینٹ ہوگئی مگر ’سی‘ کو کیسے پینٹ کرو گے؟‘‘
سعید بن محمد بولے
’’ سی بھی بھلا کوئی پینٹ کرنے کی چیز
ہے؟‘‘
مخدومؔ بولے ’’
مصرعے کی جان تو ’سی‘ ہی ہے۔ سعید آج میں تمہیں جانے نہیں دوں گا جب تک تم ’سی‘ کو پینٹ نہیں
کرو گے ۔‘‘
یہ سنتے ہی سعید بن
محمد وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔۴؎
موجودہ دور ڈیجیٹل دور کہلاتا ہے مگر اس دورمیں بھی لفظوں
کی بڑی اہمیت ہے۔آج لفظ ایک دوسرے کو جوڑنے کے بجائے توڑنے اور محبتوں کو عام کرنے
کے بجائے نفرتیں پھیلانے کیلئے بھی استعمال کیےجارہےہیں ۔ لیکن ہم کچھ عرصہ پیچھے
جائیں تو دیکھیں گے کہ معاملہ با لکل اس کے
بر عکس تھا ۔الفاظ کبھی کسی لغت سےاز خود باہر نہیں آتے۔ کبھی چلتے
پھرتے بھی نظر نہیں آتے۔ کبھی کسی کواز خود نقصان بھی نہیں پہنچاتے۔ کبھی کسی سے لڑتے پھرتے بھی
محسوس نہیں ہوتے۔ اس کے باوجود ان میں اتنی جان ہے کہ چاہے تو کسی میں جان ڈال دے۔
چاہے تو جان نکال لے۔ چاہے توکسی کی جان کو ألجها دے ۔ چاہے تو ان کی وجہ سے کسی کی
جان میں جان آ جاے ۔ یاد کیجئے بادشاہوں کے دربار میں کچھ کہنے کی
جرأت کرنے والا پہلے ہی یہ کہہ دیتا تھا کہ "جان کی امان پاؤں تو عرض کروں
!" لفظوں کی یہی خصوصیات نہیں ہے،بلکہ اس کی ایک بڑی خصوصیت اس کا تضاد بھی ہے۔ ا لفاظ مہذب بھی ہوتےہیں غیرمہذب بھی۔ عزت افزائی کیلئے بھی استعمال ہوتےہیں
اور بے عزت کرنے کیلئے بھی۔ الفاظ پھول
بھی ہیں کانٹے بھی۔ شبنم بھی ہیں شعلہ
بھی۔ یہ بامعنی بھی ہوتے ہیں اور بے معنی
بھی۔ انسان سے انسان کے رابطے کو یقینی بھی بناتے ہیں اور انسان سے انسان کا رابطہ توڑنے کےلیے بھی کافی
کار آمدثابت ہوتے ہیں ۔
فکر کو مہمیز بھی کرتے ہیں اور فکر کو
الجھاتےبھی ہیں۔ ان میں جوہرسے زیادہ طاقت ہے مگر یہ نہایت نحیف اور کمزور بھی ہے۔
لفظوں سے خوشگوار احساسات کودوچار کیا جاسکتاہے، ان سے سحروں
کومنور اور شاموں کو سرور عطا کیا جاسکتا ہے ، اور ان کودلوں کی ترجمانی کا ذریعہ
بنایا جاسکتاہے۔ یہ ندی کے بہتے پانی کی طرح ہے جس کے قریب ٹھہر کر انسان اپنی
پیاس بجھاتا ہے اور آگے بڑھ جاتا ہے چنانچہ جب تک دنیا میں رہتا ہے لفظ کے ذریعہ
اظہار کی اپنی ہر مراد پوری کرتا ہے مگر ایک وقت آتا ہے جب اس کا اور لفظ کا ناطہ
ٹوٹ جاتا ہے۔ تب لفظ رہ جاتا ہے انسان گزر جاتا ہے۔
حواشی:
۱؎۱۰؍ فروری ۲۰۲۱ صفحہ : ۲۔مراٹھی روزنامہ ،پونیہ نگری،اورنگ
آباد ،مہاراشٹرا۔
۲؎ ۱۰؍ فروری ۲۰۲۱صفحہ : ۲۔مراٹھی روزنامہ ،پونیہ نگری،اورنگ
آباد ،مہاراشٹرا۔
۳؎ از: ڈاکٹر مقبول سلیم ۔روزنامہ منصف : ۷؍ نو مبر ۲۰۰۷
۴؎اقتباس ،آدمی نامہ:از ۔مجتبیٰ حُسین۔صفحہ ۳۸۔