اُردو ہے میر انام
؎ اُردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغؔ
سارے
زمانے میں دھوم ہماری زبان کی ہے
19 ویں
صدی کے نصف میں جب داغ ؔ دہلوی نے اعزازی طور پر اردو زبان کی دھوم کا ذکر کیا تھا
تو ہو سکتا ہے اُنھیں آنے والے وقتوں میں اس کی شہرت کا اندازہ رہا ہوگاکہ یہ زبان بہت ترقی کرے گی۔لیکن اس
زبان کا المیہ یہ رہا کہ اس پر طرح طرح کے حملے کیے گئے۔ جس طرح اسی زبان میں صنف
ِ غزل مختلف اعتراضات کا شاکا ر ہی اس کے باوجود وہ غزل اپنے شرین و پر اثر انداز کے ذریعے اعتراضات کرنے والوں کو اپنا اسیر بانا لیتی
ہے اسی
طرح اردو زبان بھی اپنے اندر غزل کی طرح ایک عجیب قوتِ شرینی رکھتی ہے۔جو اس
کی شہرت کا سبب بھی بنی۔آئیے دیکھیں اردو
کی کچھ بینادی و دلچسپ باتیں جو اسے دوسری زبانوں سے خوبصورت بناتیں ہے۔
اُردو
کے معنٰی:۔اُردو ترکی زبان کا لفظ ہے جس کے معنٰی ”لشکر“ کے ہیں۔ڈاکٹر سینتی کُمار
چیٹرجی لکھتے ہیں:
”اُردو
الطالوی لفظ ہے اور (الف مضمون‘ واو معروف
ساکن،ر،ساکن،د، پر مختصر ضمہ یعنی چھوٹے او کی ماترا،
اور
پڑت کی شکل میں ملتا ہے۔اردو اس لفظ کی فارسی شکل ہے۔ترکی لفظ کے معنٰی ہے ”تنبو، خیمہ،قیام گاہ،
پڑاو،لبتی
یا سردار کا پڑاو، ترکی یا منگول بادشاہوں کے
کیمپ یا خیمے ہی انکے دربار ہوتے تھے۔ ۱؎ (ڈاکٹر
عتیق صدیقی،متر جم،ہند آریائی اور ہندی۔ صفحہ ۔170)
محمد
آزاد آبِ حیات میں لکھتے ہیں:
”
ترکی میں اُردو بازار یا لشکر کو کہتے ہیں“۔ ۲؎
بقول
محمود شیر انی:
”سب سے پہلے یہ لفظ
جہاں کشائے جوینی میں ملتا ہے“۔ ۳؎ (جلد
اول،پنجاب میں اُردو۔ صفحہ ۔140)
”ہندوستان میں یہ لفظ تزکِ بابری میں ملتا ہے“ ۴؎ (جلد اول،پنجاب میں اُردو۔صفحہ۔140)
تعریف:۔
اردو جو آج بر صغیر ہند وپاک کے علاقے میں بولی جانے والی زبان ہے۔اپنے علاقے کی مختلف علاقائی اور ہمسائیہ ملکوں کی زبانوں کا مجموعہ کہلائی جاتی ہے۔
اُردو
کی ابتداء:۔
دہلی سلطنت کو اردو کا
بانی کہا جا تاہے مسلمان فاتحین کے دور میں جب سلطنت بر صغیر کے طول و عرض میں
پھیلی تو مختلف ریاستیں سلطنت میں شامل کی گیئں ہر سلطنت کی اپنی ایک الگ زبان
تھی،پر ایک مشترکہ زبان کی بنیاد ڈالنے کا کا م شروع کیاگیا۔آسان زبان میں ہم کہہ
سکتے ہیں کہ اردو کی بنیا د بر صغیر (موجودہ ہند و پاک)میں مسلمان فاتحین کی آمد
پر رکھی گئی اور بنیادی استدلال یہ ہے کہ اردو زبان کا آغاز مسلمان فاتحین کی ہند
میں آمد، مقامی لوگوں سے میل جول اور مقامی زبان پر اثر وتاثر سے ہوا اور ایک نئی
زبان وجود میں آئی جسکا نام اردو ہے۔اردو کا آبائی علاقہ ”دکن“ میرٹھ“اور ”لکھنو“ کو کہا جا تا ہے۔جبکہ
دہلی سے سرکاری سر پرستی حاصل ہوئی۔اردو زبان کے متعالق متعد محقیقین نے اپنی تحقیقوں میں مختلف نظریات کو پیش کیا
ہے جو اردو کے آغاز کو واضح کرتے ہیں۔
۱) محمد حُسین آزاد 1910 ء۔ 1832ء :
آزاد
کے مطابق اردو بر ج بھاشا سے نکلی ہے۔
”اتنی
بات تو ہر شخص جانتا ہے کہ ہماری اردو زبان برج بھاشا سے نکلی ہے اور برج بھاشا
خاص
۲)حافظ محمود خان شیرانی 1964 ء 1880ء
:۔
ہندوستان
میں غزنوی سلطنت کے قیام کے بعد دھیرے دھیرے مسلمان ہندوستان میں پھیل گئے ی۔ یہ
لوگ فارسی اور ترکی بولتے تھے۔پنجاب میں مسلمانوں نے تقریباََ دوسو سال تک قیام کیا۔اس مدت میں
ان کے اہل ِ پنجاب کے درمیان مضبوط سماجی روابط قائم ہوگے اس گہرے میل جول اور
مضبوط سماجی روابط کی بنیاد پر حافظ شیرانی
نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ وہ زبان جسے ہم ”اردو“ کہتے ہیں سرزمینِ پنجاب میں
پیدا ہوئی اور وہیں سے ہجرت کرکے دہلی پہنچی حافظ محمود خان شیرانی نے اس نظریہ کو
اپنی تصنیف”پنجاب میں اُردو“بڑے مفصیل اور مددلل انداز میں پیش کیا ہے وہ لکھتے ہیں:
”اردو
دہلی کی قدیم زبان نہیں بلکہ وہ مسلمانوں کے ساتھ دہلی جا تی ہے اور چونکہ مسلمان
پنجا ب
سے
ہجرت کرکے دہلی جا تے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ وہ پنجاب سے کوئی زبان اپنے ساتھ لے
کر گئے ہوں گے“۔ (حافظ محمود شیرانی،پنجاب میں ارود۔ صفحہ ۹۱)
۳) سید سلیمان ندوی 1953
- 1884 :۔
سید
سلیمان ندوی نے اپنی تصنیف نقوشِ سُلیمانی
/اعظم گڑھ میں اردو کی جائے پیدائش سندھ قرار دیتے ہیں،وہ لکھتے ہیں:۔
”مسلمان
سب سے پہلے سندھ میں پہنچے ہیں اس لیے قریں قیاسی یہی ہے کہ جس کو ہم آج اردو کہتے
ہیں
اسکا ہیولی اسی وادیِ سندھ میں تیار ہوا ہوگا“۔( نقوشِ
سُلیمانی /اعظم گڑھ 1939،قیاس ہے۔ صفحہ ۱۲)
۴) پروفیسر
مسعود حُسین خان :۔
اردو
کی ابتدا نواحِ دہلی میں ہوئی اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے پروفیسر مسعود حُسین خان
رقم طراز ہیں کہ:
”اردو
کے ارتقاء میں اُن تمام بولیوں کے اثرات مختلف زمانوں میں پڑتے رہے ہیں۔ہریانی
قدیم
اردو کی تشکیل میں حصہ لیا،کھڑی بولی نے جدید اردو کا ڈول تیار کیا، برج بھا شا نے
اردو کا
معیار ی لب و لہجہ متعین
کرنے میں مدد دی اور میواتی نے قدیم اردو
پر اپنے اثرات چھوڑے“۔
(اردو زبان کی تاریخ۔مرزا خلیل بیگ صفحہ ،60)
دیگر
محقیقین نے اپنے مختلف نظریات پیش کیے ہیں جن میں شوکت سبز واری،ڈاکڑ سیہل
بخاری،اور پروفیسر گیان
چند جین نے کھڑی بولی کو اردو کا اصل قرار
دیتے ہیں۔
ساخت یاطریقہ
کار:۔
ساخت
کے اعتبار سے اردو مخلوط زبان ہے جو دائیں جانب فارسی،عربی کی طرح لکھی جاتی
ہے۔اردو فارسی رسم الخط کی تشریح ہے عام طور پر اردو نستعلیق رسم الخط مین لکھی جا
تی ہے اس میں فارسی اور عربی الفاظ کی کثرت سے استعمال ہوتے ہیں۔
اردو گو:۔
”بین
الا قوامی سطح پر اردو کے بولنے والوں کی تعداد 104 ملین ہے“۔(vistawide.com) 2001ء کی مردُم شماری کے مطابق ”81061078“ اتنی
تعداد ہے۔ 2001ء سے پہلے یہ تعداد ” 5153611“ تھی۔ہندوستان
میں2011ء کی مردُم شماری کے مطابق ” 50772631“ یعنی کُل آبادی کا19.4فیصد
آبادی ہے۔ایسے اردو گو جن کی مادری زبان اردوہے۔ جنکی مجموعی تعداد چھ سے سات کڑوڑ
تک ہے۔جن میں سے پانچ کڑوڑ ہندوستان میں جو ہندوستا ن کی آبادی کا چھ فیصد ہے۔اور
باقی بڑا حصہ پا کستان میں بھی مقیم ہے۔اسکے علاوہ بڑی تعداد بنگلہ دیش، سعودی عرب،
متحد عرب امارات سمیت مشرق وسطی، انگلینڈ،امریکہ، یورپ اور دُنیا کیباقی ممالک میں
بھی ہے۔جو کہ بر صغیر سے ہی وہا ں جا کر آباد ہوئی ہے۔ ادھر ہندوستان کی کچھ ریاستوں میں اردو بولنے
والوں کی کثیر آبادی موجود ہے جن میں اُتر پردیش،بہار،تلنگانہ،جمو کشمیر،دہلی و دیگر
ریاستوں میں بھی اردو بولنے والوں کی کا فی تعداد موجود ہے۔
اردو
ادب:۔
اردو
اصنافِ ادب کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے اصنافِ شعریا نظم اور اصنافِ نثر جن
کی تفصیل اسطرح ہے۔
۱) حمد:۔
حمد
ایک عربی لفظ ہے جس کے معنٰی”تعریف“ کے ہیں۔اللہ کی تعریف میں کہی جانے والی نظم
کو حمد کہتے ہیں۔عربی فارسی اور اُردو میں اسکی کثرت دیکھی جا سکتی ہے۔حمد کا لب
ولہجہ انتہائی عاجزانہ وانکسارانہ ہو تا ہے۔
۲)نعت:۔
پیغمبر
ِ اسلام حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مدح،تعریف و توصیف کمالات و اختیارات کے شعری انداز ِ بیان
کو نعت کہا جا تا ہے۔ اردو و فارسی میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ صلم کے اوصاف
ِ حمیدہ اور خصائص جمیلہ بیان کرنے کو ”نعت“ کہتے ہیں۔نعت لکھنے والے کو نعت گو
شاعر جبکہ پڑھنے والے کو نعت خواں یا ثناء خواہ کہا جا تاہے۔
۴) مفقبت:۔
لفظ
”منقبت“ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی تعریف میں لکھے ہوئے اشعار کو کہا جا تا ہے۔
۵) قصیدہ:۔
قصیدہ
لفظ ”قصد“ سے مشتق ہے اصطلاح شاعری میں قصیدہ ایسی شاعری کو کہا جا تا ہے جس میں
قصد یا ارادے سے کسی کی تعریف یا مذمت کی جا تی ہے تعریف ہو تو قصیدہ مدحیہ کہلا
تا ہے۔اور مذمت ہو توہجو یہ۔قصدہ کے اجزائے ترکیبی،تشبیب، گریز،مدح، عرض مطلب،دُعا
ہیں۔اردو ادب میں فارسی ادب سے داخل ہوا۔اردو میں مرزا محمد رفیع سوداؔ اور ابراہیم
ذوقؔ وغیر ہ قصیدہ گو شعراء شہرت رکھتے ہیں۔
۶) غزل:۔
غزل کے لغوی معنی عورت سے باتیں کرنا یا عورتوں کی باتیں
کرنا،یعنی غزل عشق و محبت کی واردات قلبی کی ترجمانی ہوتی ہے اصطلاحی شاعری میں
غزل سے مراد وہ صنف نظم ہیں جس کا ہر ایک شعر الگ مضمون کا حامل ہو اور اس میں عشق
و عاشقی کی باتیں بیان ہوئی ہو خواہ وہ عشق حقیقی ہو یا مجازی۔لیکن آجکل غزل میں
عشق و عاشقی کے علاوہ دنیا کا کوئی بھی مضمون زیر بحث لایا جاسکتا ہے اس کا آغاز
فارسی زبان سے ہوتا ہے لیکن اس سلسلے میں اس کی اس کے عربی زبان سے تعلق سے بھی
انکار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ عربی صنف قصید ہ میں موجود تشبیب سے ہی غزل کی پیدئش ہوئی۔ غزل کے موضوعات میں بڑی
وسعت اور رنگارنگی ہوتی ہے۔ غزل اردو کی مقبول ترین صنف سخن ہے اس کی مخصوص ہیئت
ہوتی ہے۔غزل کا پہلا شعر مطلع کہلا تا ہے
جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں
اورآخری شعر کو مقطع کہا جاتا ہے جس میں عام طور پر شاعر اپنا تخلص استعمال
کرتا ہے غزل کا سب سے اچھا شعر بیت الغزل کہلاتا ہے مطلع کے دونوں مصروں کے ردیف
اور ان کے قافیہ ایک ہی ہوتا ہے غزل کے
اشعار میں معنوی تسلسل نہیں ہوتا۔ ہر شعر معنوی اعتبار سے اپنے طور پر مکمل ہوتا
ہے اس کا دوسرے اشعار سے معنوی ربط نہیں ہوتا لیکن بعض غزلوں میں د و یا تین ایسے
اشعار ایسے ہوتے ہیں مل کر ایک ہی معنٰی دیتے ہیں۔ایسے اشعار قطعہ کہلاتے ہیں۔ غزل کے اشعار کی تعداد تیں، پانچ، تک متعین کی گئی ہے
لیکن عام طور پرسات، نو، گیارہ، اشعار پر
مشتمل ایک غزل ہوتی ہے۔محمد قلی قطب شاہ، غواضی ؔ، نصرتی ؔ،ولی،ؔ میرؔ، درؔ د، آتشؔ، غالبؔ، مومنؔ، حسرتؔ، فانیؔ، جگرؔ، مجروحؔ، اور
ناصر ؔکاظمی وغیرہ اردو کے چند مشہور غزل گو شعرا ہیں۔
مرثیہ:۔
مرثیہ
عربی لفظ”رثا“ سے مشتق ہے۔ جس کے معنی بکا
اور بیان کرنے کے ہیں۔مرثیہ شاعری کی ایسی صنف کو کہا جاتا ہے جس میں کسی کی وفات
پر اظہار غم اور مرنے والے کے اوصاف بیان کئے جائیں یعنی مرنے والے کے لئے رونا
اور اس کی خوبیاں بیان کرنا مرثیہ کہلاتا ہے۔مر ثیہ کے کل آٹھ اجزائے ترکیبی ہیں۔
جن میں چہرہ، سراپا، رخصت ،آمد، رجز ،اور
شہادت، بین کا شمار ہے۔یہ اردو کی
مقبول صنف سخن ہے۔اس میں ابتدا ہی سے توجہ دی گئی، دکنی کے کم و بیش تمام شاعروں
نے مرثیے لکھے۔ مرثیہ عربی سے فارسی اور فارسی سے اردو میں داخل ہوا۔ لیکن اردو
اور فارسی میں مرثیہ صنف زیادہ تر اہل بیت یا واقعہ کربلا کے لیے مخصوص ہے۔ لیکن
اس کے علاوہ بھی بہت سی عظیم شخصیات کے
مرثیے لکھے گئے ہیں۔ اردو میں مرثیہ کی
ابتداد کن سے ہوئی، دکن میں عادل شاہی اور
قطب شاہی سلطنت کے بانی اپنے یہاں امام باڑوں میں مرثیہ خوانی کرواتے تھے۔اردو کا
سب سے پہلا مرثیہ گو دکنی شاعر ملا وجہیؔ تھا۔لکھنؤ میں اسے خصوصی ترقی حاصل ہوئی
اور میر انیس و دبیرؔ جیسے شعرا نے مرثیے کو اعلی مقام عطا کیا۔اردو
میں غیر مذہبی شخصیات قومی مرثیوں کی بھی کمی نہیں شخصی مرثیوں میں حالی ؔ،اقبال،
سرور جہاں آبادی، چکبستؔ، اور صفی لکھنوی کے نام قابل ذکر ہیں۔ ان شعرا نے مختلف
علمی ادبی اور سیاسی شخصیات کی وفات پرمرثیہ لکھے ہیں۔
مثنوی:۔
مثنوی
اُس تویل نظم کو کہتے ہیں جس میں کو ئی قصہ یا کوئی واقعہ تسلسل کے ساتھ بیان کیا
گیا ہو۔چونکہ مثنوی مین لمبی لمبی بات کو تفصیل سے بیان کر نے اور ہر طرح کے مضمون
ادا کر نے کی گنجا ئش ہے۔ مثنوی کی ابتدا ایران میں ہوئی شاہنامہ فردوسی اور مثنوی
مولانا روم فارسی کی بے مثال مثنویاں ہیں۔ شعری
اصناف میں مثنوی کو اسکی بعض
خوبیوں کی وجہ سے فوقیت اور برتری حاصل ہے چنانچہ علی کہتے ہیں یہ سب سے زیادہ
مفید اور کار آمد صنف ہے۔اور قدیم دکنی
شعرا کرام نے مثنوی بیناد ڈالی۔ لیکن میں سب سے پہلے مثنوی فخرالدین نظامی کی”کدم راو پدم راو“ ملتی ہے۔”قطب مشتری“ ملاوجہی ابن انشا طی کی
پھول بن،سحر البیان میرحسن کی گلزار نسیم
مر زا شوق کی زہر عشق مثنوی مشہور و معروف
ہے۔
رباعی:۔
عر بی میں ربع
کے معنٰی چار کے ہیں رباعی میں چار
مصرعے ہوتے ہیں۔ اس لیے چار مصروں والی نظم کو رباعی کہتے ہیں۔رباعی کا ایک نام دو
بیتی بھی ہے۔بیت کے معنٰی شعر کے ہیں۔اس لیے دو بیتی کے معنٰی ہوئے دو شعر والی
نظم۔رباعی قطعے سے مختلف ہو تی ہے۔قطعے میں اشعار کی تعداد دو سے زیادہ ہوسکتی ہے
لیکن رباعی میں نہیں۔دوسری بات یہ کہ پہلے دوسرے اور چوتھے مصرعے ہم قافیہ یا ہم
قافیہ و ہم ردیف ہوتے ہیں چوتھا مصرعہ۔رباعی کی ایک خاص شناخت یہ ہے کہ اس کے لیے
ایک خاص بحر مقرر ہے جبکہ قطعے کے لیے ایسی کوئی پابندی نہیں۔رباعی میں جو مضمون پیش
کیا جاتا ہے وہ اچھوتا ہوتا ہے۔اور ضروری ہے کہ رباعی کا چوتھا یعنی آخری مصرع زیادہ
پُر زور ہو اور محسوس ہو کہ رباعی کا پورا مضمون اس میں سمیٹ آیا ہو۔
نظم:۔
نظم
کا لفظ عام طور سے ننثرکے
مخالف استعمال کیا جاتا ہے اور جملہ اصناف شاعری کو بھی نظم کی کہتے ہیں اسے دیوار
سے غزل اور دیگر اصناف شعری کے تحت آتے ہیں اسی طرح شاعری کی مخصوص ایک صرف کوئی
نظم کہتے ہیں جسے عام طور پر غزل کے مقابلے میں پیش کیا جاتا ہے وجہ کے برخلاف نظم
کی ہیئت مخصوص نہیں ہوتی لیکن اس کے اشعار میں خیال یادیں مضمون کا تسلسل پایا
جاتا ہے کیونکہ کسی ایک موضوع پر کہی جاسکتی ہے نظیر اکبرآبادی محمد حسین آزاد
الطاف حسین حالی، اسماعیل میرٹھی۔ چکبست۔ سرور جہاں آبادی ،اقبال، جوش، فیض اور
متحدہ شعراءنے نظم نگاری کو فروغ دیا۔
یہ چند اہم شعری اصناف ہیں
اس کے علاوہ اور دیگر شعری اصناف ہیں جن کی تفصیل کچھ اس طرح ہے۔شہر آشوب واسوخت
اور ریختی پیروڈی کی ہجو قطعہ ، ترکیب ترجیح بند پابند نظم معریٰ نظم آزاد نظم اور
نثری نظم وغیرہ وغیرہ
نثر:۔نثر کے دو مختلف حصے ہیں ایک افسانے نظم دوسری غیر
افسانوی نثر
افسانوی نثر
1) داستان:۔
داستان اردوافسانوی ادب کی قدیم ترین صنف ہے داستان بنیادی طور
پر اس طویل اور مسلسل قصے کو کہتے ہیں جس میں حُسن و عشق کی رنگینیاں،زمو بزم کی حیریت
انگیز معرکہ آرائیاں،شہزادوں شہزادیوں،دیو،جن،پری،وغیرہ محیرالعقول واقعیات دلچسپ
انداز میں بیان کیے جائیں اور ان کے بیان میں زبان اور بیان کی حلاوت آفرینی کا بھی
خاص خیال رکھا جائےجس سے غیر معمولی اور نا قابل تسخیر فضا پیدا ہو اور قلبی سکون
کا سامان فراہم ہو۔خواہشوں اورتمناؤں کی تکمیل کے لئے انسان خوابوں ں کا سہارا لیتا
ہے ا صلاًداستان بھی خوابوں ہی کی دنیا کا ایک حصہ ہے جس سے انسان اپنی مرادیں پوری
کرلیتا ہے اور خوابوں کی جنت میں ہو آتا ہے۔پروفیسر کلیم الدین احمد کا کہنا ہے
کہ:
”داستان کہانی کی ایک طویل اور پیچدہ بھاری بھرکم صورت ِ
حال ہے“۔
(فن ِ داستان گوئی، صفحہ ۴۱)
داستان کا مرکزی کردار ایک مثالی بھی ہوتا ہے جس
میں ہمت و جرات حمیت و غیرت حسن و جمال اور عاشق مزاجی کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے وہ
ناممکنات کو ممکن کر دکھاتا ہے اور اپنی پوری توانائی کے ساتھ جلوہ گر ہوتا
ہے۔اردو کی مشہور داستانوںمیں “سب رس“ ملا وجہی ؔ
”باغ و بہار“ میر امنؔ ”فسانہ عجائب“رجب علی بیگ سرورؔ کافی شہرت رکھتے ہیں۔
2)
۲۔ناول:۔
ناول ایک ایسا نثری قصہ ہے جس میں ہماری حقیقی زندگی کا
عکس نظر آتا ہے یہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہماری امنگیں اور آرزوئیں جھلکتی ہیں۔ جس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ ہمارے سامنے کیا
مشکلات آتی ہیں اوران پر کس طرح قابوں پاتے ہیں۔ گویا ناول زندگی کی تصویر کشی کا
فن ہے ناول اطالوی زبان کے لفظ ”نوریلا“"Noralla" سے لیا گیا ہے جس کے معنی ہیں نیا۔ یہ نام اس لئے رکھا گیا
ناول ایک نئی چیز تھی۔ ار دو میں ناول انگریزی ادب کے راستے سے آیا ہمارے اہل قلم
نے انگریزی ناول کو دیکھا اور پسند کیا تو داستان کوتج دیا اور اس کی جگہ ناول کو
اپنا لیاگیا۔ اردو کا پہلا ناول”مولوی ڈپٹی نذیر احمد“ نے1869ء میں ”میراۃ العروس“ کے نام سے شائع کیا۔اس کے
علاوہ ”فسانہ آزاد“ توبتہ النصوح“فردوس بریں“ امراؤ جان ادا“ لندن کی ایک رات“ ٹیڑھی
لکیر“آگ کا دریا“ وغیرہ کافی شہرت رکھتے ہیں۔
(3افسانہ:
داستان ناول اور افسانہ دراصل ایک ہی نثری صنف کے مختلف
روپ ہیں۔ ان تینوں کو ملاکر”افسانوی ادب“یا”فکشن“کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ ان تینوں کی بنیادی خصوصیت ایک ہے اور وہ
ہے اور وہ قصہ پن یعنی ہر قدم پر یہ جاننے کے خواہش کیا آگے کیا ہونے والا ہے اور یہکہانی
پن اور قصہ پن فکشن کی جان ہے جب انسان کو بہت ہی فرصت تھی تو وہ ایسے ْقصے
سننتا اور سناتا تھا جو بہت طویل ہوتے
تھے۔ ُاس زمانے میں وہ ایسی باتوں اور ایسی چیزوں پر یقین کر لیتا تھا جو عقل کو
دنگ کر دیتی تھی۔ ان کوفوق فطری عناصر کہا جاتا ہے۔ داستانوں میں ان کی بہتات ہوتی
تھی مگر زمانے کاورق پلٹا انسان کی مصروفیت پڑھیں اور غیر فطری باتوں پر اسکا ایمان اٹھ گیا۔زندگی کے حقیقی واقعات کو اس نے
اپنے قصوں کا موضوع بنایا۔ اور غیر ضروری باتوں سے دامن بچایا تو ناول وجود میں آیا
مصروفیت اور بڑھی تو افسانہ وجود میں آیا۔افسانہ چھوٹا سا ہوتا ہے اس لیے اس میں
پوری زندگی کو پیش نہیں کیا جا سکتا اس میں زندگی کے کسی ایک رخ سے اور کردار کی
کسی ایک پہلو سے سروکار رہتا ہے۔اردو کے اہم افسانہ نگاروں میں ”منشی پریم چند“سجاد حیدر یلدرم“ سعادت حسن
منٹو“کرشن چندر“ عصمت چغتائی“ قر اۃالعین حیدر“ خواجہ احمد عباس“ حیات اللہ انصاری“
انتظار حسین“ وغیرہ کو کافی شہرت حاصل ہے۔
۴۔ڈرامہ:۔
ڈرامہ ادب کی ایک صنف ہے لیکن ایک معاملے میں ادب سے
بالکل الگ بھی ہے۔ ادب لفظوں کے بغیر وجود
میں نہیں آسکتا لیکن ڈرامہ ایسا ہوسکتا ہے جس نے ایک لفظ بھی استعمال نہ کیا گیا
ہو بلکہ اشارہ سے کام یلا گیا۔ڈرامہ الفاظ سے نہیں عمل سے بنتا ہے اس لیے ارسطونے
اسے عمل کی نقل کہا ہے۔ ڈرامہ زندگی کی ایسی نقل جو اداکاروں کے ذریعے
دیکھنے والوں کے سامنے اس طرح پیش کی جاتی ہےہندوستان اور یونان دنیا کے دو ایسے
ملک ہیں جہاں ڈرامے نے پہلے پہل آنکھ کھولی۔چناچہ ڈرامہ کے اصول بھی سب سے پہلے یہیں
زیر ِغور آئے۔بھرتمنی نے پندوستان میں اور ارسطو نے یو نان میں ڈرامے کے مائل پر
غور کیا اور اس کے اصول وضع کیے۔اردو زبان میں محققین کی ایک بڑی تعداد”نواب واجد
علی شاہ“ کو اردو کا پہلا ڈرامہ نگار اور ان کے ڈرامے کو اردو کا پہلا ڈرامہ مانتے
ہیں۔عام خیال ہے کہ ”امانت لکھنوی“ نے1852ء
میں ڈرامہ ”اند سبھا“لکھا۔اس ڈرامہ کی
شہرت کے بعد اردوزبان میں مختلف ڈرامہ نگاروں نے ڈرامے لکھے جن میں ”حبیب تنویر“ عبدالحلیم شرر“ امتیاز علی تاج“
خواجہ احمد عباس“عصمت چغتائی“منٹو“ آغاحشرکاشمیری“ پروفیسر محمد مجیب“راجندر سنگھ
بیدی“ اور حیات اللہ انصاری مشہور ڈرامہ نگار ہیں۔
غیر افسانوی ادب
روزہ
ازل سے ہی انسان اپنے احساسات و ضروریات اور خیا لات کے اظہار کے لیے کو ئی نہ
کوئی ذریعہ ڈھونڈتا رہا ہے تخلیقی ذہن کے افراد
مسرت و غم ، محبت و نفرت ، ذوق و شوق اور ہر طرح کے باطنی خواہشات و جذبات
کے اظہا ر کے لئے فن کا سہارا لیتے ہیں۔ فن مہذب قوموں کی تاریخ کا لوازمہ ہے۔ ادب
بھی فنون لطیفہ کی ایک اہم شاخ ہے ۔ادب حسن خیا ل ،مواد کی ترتیب اور الفاظ کے
مخصوص استعمال کا حسین اظہار ہے۔ادب کی تخلیق کا عمل ذہن کی اپج اور حسن بیان سے
وابستہ ہے ۔تخلیقی ادب کو دو حصوں میں تقسیم
کیا گیا ہے ،افسانوی ادب اور غیر افسانوی ادب،تخلیقی عمل میں دنیا کی
حقیقتوں ،مسائل ، تجربات مشاہدات اور
احساسات کو قصہ پن کے بغیر ادب اور فن کے
تقاضوں کی تکمیل کے ساتھ پیش کیا جائے تو ایسی نثر ’’
غیر افسانوی نثر ‘‘ کہلا تی ہے ۔ غیر افسانوی ادب میں قصہ بیان کر نے کے بجائے
ادیب زندگی میں در پیش واقعات پر اپنے
احساسات اختیار کردہ مخصوص صنف کی ہئیت کے دائرہ کار میں پیش کر تا ہے ۔فرضی کر
داروں اور فرضی واقعات کا تانابان جوڑ کر ْقصے کہانیوں کے رنگ میں انسانی تہذیب کا
قدیم ترین وصف بیان کیا جائے تو اس طرح کے ادب کو افسانوی ادب
کہا جا تا ہے۔ چناچہ داستا ن ، ناول ،افسانہ ڈرامہ جیسی اصناف کوافسانوی نثر کا
درجہ حاصل ہے ۔ غیر افسانو ی نثر میں
مقالہ ،مضمون، سوانح ،خاکہ ،سفر نامہ ،خود نوشت سوانح ،آپ بیتی،طنزو مزح
،مکتوب ،انشائیہ اور رپورتاژ جیسی اصناف کو شامل کیا جا تا ہے۔
طویل
عرصے تک اردو میں افسانوی نثر کا چلن عام
رہا اور پھر غیر افسانوی ادب کی ابتدا ئی نقوش بھی دکنی رسالوں سے ظاہر ہونے لگے
ہندوستان پر انگریزوں کے تسلط اور ان کی جانب سے نئے علوم وفنون کے فروغ کی کوششوں
کی وجہ سے غیر افسانوی ادب کو پھلنے پھولنے کا موقع فراہم ہوا ۔ جن کی تفصیل کچھ اس طرح ہے۔
۱ ) مضمون نگاری:۔
کسی
بھی عنوان پر معلومات یکجا کر کے اس کی
ذیلی موضوعات پر روشنی ڈالتے ہوئے دلچسپ اور جامع مواد کو ترتیب ،تسلسل اور روانی
کے ساتھ پیش کرنا مضمون کہلا تا ہے۔ مضمون میں ادب ،سائنس، مذہب، ٹیکنالوجی، امراض
،علاج ،سیاست، سماج، معاشرت، غرض ہر موضوع پر خیالات کا اظہار ہوسکتا ہے۔ مختلف
موضوعات پر معلامات فراہم کر کے اکثر اُسےایک
ہی نشست میں مطالعہ کے قابل بنایا جاتا ہے ،اردو میں مضمون نگاری کی روایت انگریزی کے ادب کی دین ہے۔چنانچہ
۱۸۲۴ میں جب دلی کالج قام کر کےانگریزوں نے علوم و فنون کی ترقی پر توجہ دی تو اس کالج سے وابستہ ماسٹر
رام چندر نے سب سے پہلے ’’ مضمون نگاری کی بیناد رکھی ۔ جنکے نقشے قدم پر چلتے
ہوئے’’ ماسٹر پیارے لال ‘‘اور ’’ شمس العما ذکااللہ‘‘ نے مضموں
نگاری کی رویت کو فروغ دیا۔
۲) سفر نامہ:۔
اردو میں داستانوی سفر ناموںکی
روایت عام تھی ہندوستان میں انگریزوں کی آمد کے بعد سفر ناموں میں حقائق پر منبی
واقعایات ،تجروبات ،مشاہدات اور چشم دید مناظر کا ذکر کیا جا نے لگا ۔بادشاہوں کے
مقربین خاص نے روز نامچوں اور ڈئریوں کی شکل میں سفر نامے لکھے۔ تجارت ،حصولِ علم
، تبلیغ دین ،سیاسی مقصد ،تلاش معاش ،اور
اس نوعیت کے کتنے ہی مقاصد ہیں جن کے لئے انسان ہمیشہ سفر میں رہا ہے ۔کبھی گھوڑے کی پیٹھ پر اور کبھی طیاروں میں
بیٹھ کر۔ اردو میں سفر ناموں کی روایت کا
آغاز ۱۸۴۷ میں ہوا جب کے ’’محمد یوسف خان
کمبل پوش‘‘ نے ’’عجائبات فرہنگ ‘‘ لکھی ۔اس
کتاب میں سفر انگلستان کے دلچسپ حالات بیان کیے گئے ہیں اس کے بعد سر سید احمد خان
نے’’ مسافر ان لندن ‘‘ن اور شبلی نعمانی نے ’’سفر نامہ مصر و روم و شام‘‘ تحریر
کیا جنھیں اردو کے ابتدائی سفر نا مہ کا موقف حاصل ہے۔
۳) مکتوب:۔
لوگ ایک دوسرے سے فاصلے پر رہتے ہیں ،خیال اور
ایک دوسرے کی حالات جانے کے لئے بے چین رہتے ہیں ۔ماضی میں نظروں سے دور رہنے
والوں کے آپسی تبادلہ خیال کا ایک ہی ذریعہ خطوط ہی تھا ۔ خط عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی
’’لکیر‘‘ سطر‘‘ یا تحریر کے ہیں زمانے کی تبدیلیوں کے ساتھ لفظ ’’خط‘‘ کے معنی و مفہوم میں بھی
تبدیلی آئی اور یہ لفظ مکتوب یا ’’نامہ‘‘ کے معنی میں مستعمل ہونے لگا۔مختلف النوع
جذبات ، احساسات ،خیا لات ،اور اطلا عات تحریر کر کے اس کی تر سیل کا انتظام کرنا
مکتوب نگاری کی خصوصیت ہے ۔ مکتوب نگار صرف یہ کہ خط میں اپنے حالات کا ذکر کرے گا
بلکہ جس کے نام خط لکھا گیا ہے۔ اس کے حالات
سے واقفیت حاصل کرنے کا جذبہ بھی مکتوب نگاری میں کار فر ما رہتا تھا ۔گویا
مکتوب نگاری دو انسانوں کے ما بین تعلقات کی ترجمانی کر نے والی ایک ایسی صنف ِ
نثر ہے جس میں غیر افسانوی انداز میں خیالات کی تر سیل ہوتی ہےاور حقیقت حال کا
بیان ہو تا ہے ۔اس اعتبار سے کا تب اور مکتوب الیہ کے تعلقات پر مبنی متن ہی ایک
ایسا وسیلہ ہے جس کی وجہ سے اس کی آبیاری ممکن تھی ۔اردو کے بیشتر مصنفین اور
ادیبوں کے خطوط ادب کا قیمتی سر مایہ ہیں ۔اردو میں مکتوب نگاری کا آغاز اونچے معیار سے یعنی ’’مرزا غالب‘‘ کے خطوط سے
ہوا ،۔’’مرزا غاؔلب ‘‘نے اردو کے خطوط
۱۸۴۶ میں تحریر کیے اس سے قبل فارسی
مکتوب نگاری کا چلن عام تھا۔
۴) آپ بیتی:۔
خود پر بیتے ہوئے حالات کو آپ بیتی کہتے ہیں ۔بن باس کی زندگی،
قید کے حالت،نظر بندی ،کے دور کے حالات
اور واقعات کا ذکر بھی آپ بیتی کے ذریعے ممکن ہے ۔۱۸۵۷ کے غدر کے دوران ہندوستان کے باشندوں پر مصائب
گذرے ہیں انہیں ’’ آپ بیتی ‘‘ کی صورت میں بیان کیا گیا ۔محمد تھانیسری کی کتاب ’’
کالا پانی ‘‘ کو اردو کی اولین آ پ بیتی کی حٰثیت سے شہرت حاصل ہے۔فنی اعتبار سے
آپ بیتی ایک ایسی تحریر ہے جس میں خود پر گذرے ہوئے اچھے اور پرے حالت کے علاوہ
صدمات اور تاثرات کا بھی اظہار کیا جاتا ہے ۔آپ بیتی ایک غیر افسانو صنف نثر ہے جس
میں جذبات اور احساسات اور ذاتی تاثرات کی دنیا آباد ہو تی ہے وہ حقائق بیان کیے
جاتے ہیں جن سے آپ بیتی لکھنے والاگذرا ہے گو یا آپ بیتی میں نہ تو قصہ کا گذر ہو
تا ہے اور نہ فر ضی واقعات کا بیان ممکن ہے۔
۵ (خود نوشت سوا نح :۔
اگر کو ئی انسان اپنی زندگی کے
حالات بقلم خود تحریر کر کے اور حقائق کی روشنی میں حالات پیش کرے تو ایسی تحریر
خودنوشت سوانح قرار دی جائےگی ۔ خود نوشت
سوانح ایک غیر افسانوی صنف ہے جس میں کوئی شخص اپنے حافظے کے بل بوطے پر ہی نہیں
بلکہ اس کی زندگی کے بارے میں کسی طرح کا کوئی مواد سے استفادہ کر کے شخصی تاثرای کے ساتھ اپنی
سوانح حیات ترتیب دیتا ہے ۔خود نوشت سوانح میں ساری زندگی کے حالات پر محیط کتابی
شکل میں پیش ہو سکتی ہے یا چند قابل ذکر واقعات کے ساتھ ایک مضمون کی شکل میں عام
طور پر علما،دانشور ،اہل قلم ،سیاست داں اور نمور اشخاص اپنی زندگی کے حالات کے
دلچسپ پہلوں کو خود نوشت سوانح میں قلمبند کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ عالمی زبانوں
میں مظوم آپ بیتی اور منظوم خود نوشت سوانح لکھنے کا چلن عام ہے اور ،اردو میں بھی
اس کی مثالیں موجود ہے ۱۸۵۷ کے حالات میں
خود نوشت سوانح کی صنف کو فروغ حاصل ہوا جس طرح مولانامحمد جعفر تھانیری کی کتاب ’’کالا پانی ‘‘
کو اردو کی اولین آپ بیتی کا درجہ حاصل ہے
۔اسطرح بعض مورخین کا خیا ل ہے کہ علامہ
ظہیر دہلوی کی تصنیف ’’ ایام غدر‘‘ کو وردو کی اولین خود نوشت سوانح کا درجہ دیا
جا سکتا ہے۔ہندوستان کی جدوجہد آزادی میں حصہ لینے والے بیشتر سیاسی رہنماوں نے
اپنی خودنوشت سوانح حیات تحریر کی ارو آزادی کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا مہاتما
گاندھی نے اپنی خودنوشت سوانح MY LIFE AND EXPERIMENTS WITH TRUTH انگریزی میں لکھی اس کا اردو ترجمہ’’ تلاش حق ‘‘کے زیر عنوان شائع کیا گیا ۔اردو میں طبع زاد خود نوشت سوانح عمریوں کی
کوئی کمی نہیں اور ساتھ ہی ترجمہ شدہ سوانح عمریاں بھی کثرت سے لکھی گئی ہیں ۔
۶) سوانح:۔
سوانح نگاری سے قبل تذکر ہ نگاری کو شہرت حاصل تھی ۔کسی بھی نامور شخص کی زندگی
کے حالات تفصیل کے ساتھ ایک کتاب میں پیش کرنے کا رواج نہ تھا ۔’’خواجہ الطاف حسین
حالؔی‘‘ نے سوانح نگاری کی بنیاد رکھی ۔ سوانح نگاری کوانگریزی زبان میں Biography
کہتے ہیں ۔Bio کے معنی کے حیات اورgraphy کے معنی نگاری(لکھنا) کے ہیں ۔
سوانح میں کسی مشہور شخص کی زندگی کے محاسن اور بیان کیے جائیں تو ایسی سوانحی کتاب تصویر کے ایک رخ کی نمائندگی کرے گی جب کہ
کتاب میں مستند اور جامع مواد کی پیش کرنا ضروری ہوتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ہی اس حقیقت پر
بھی نظر رکھنی پڑتی ہے کہ جس شخص پر سونح
لکھی جا رہی ہے اس کی زندگی کے تمام کارناموں کو کتاب میں سلسلہ وار بیان کردیا
جائے۔
پرفیسر ’’ گیان چند جین
‘‘اپنی تصنیف ’’ ادبی اصناف ‘‘ میں سوانح کی وضسحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’ اس میں کسی شخص کے
حالات اور شخصیت کے بارے میں لکھا جاتا ہے ۔یہ ایک مختصر مضمون بھی ہو سکتا
ہے۔پوری کتاب بھی۔‘‘
(گیان
چند نجین ،ادبی اصناف ۔صفحہ ۱۳۷)
مولانا حالی کو اردو کے اولین اور سب سے بہترین
سوانح نگار کا درجہ حاصل ہے انھوں نے سب سے پہلے ’’ حیات سعدی ‘‘ اور بعد میں ’’
یادگار غالب ‘‘اور پھر سب سے آخر میں’’ حیات جاوید‘‘ لکھ کر اردو ادب میں سوانح کی بنیاد رکھی ۔
۷) انشائیہ:
مضمون کا ایک ایساہلکا پھلکا انداز جس میں بے ساختہ بے تکلفانہ کسی
موضوع پر اظہار خیال کیا جائے تو اسے انشائیہ قرار دیا جاتا ہے۔ انشائیہ کی تعریف
میں کئی کتابیں لکھی جا چکی ہیں ۔ انشائیہ کے لیے انگریزی میں Personal or light essay (
Essay)
بھی کہا جاتا ہے۔ دکنی میں لکھی گئی وجہی کی نثری کتاب ”سب رس ‘‘ کے
بارے میں بعض محققین کا خیال ہے کہ انشائیہ کے ابتدائی نقوش اس میں موجود ہیں،
لیکن اکثر نقاد اس نقطہ نظر سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ صنف سرسید کے
انگلستان کے سفر کے بعد عالم وجود میں آئی کیونکہ سرسید نے لندن کے اخبارات اور
انگریز کی رسالوں کے مطالعہ کے بعد ہی محسوس کیا کہ مضمون کے ذریعے بھی سماجی اور
ثقافتی تبدیلی لائی جاسکتی ہے اور جب وہ لندن سے ہندوستان لوٹے تو ” Essay ‘ کو اردو میں رواج دینے کی کوشش کی ۔
انہوں نے تہذیب الاخلاق میں ایسے بےشمار مضامین شائع کیے جن میں بےتکلفی بے ساختہ
پن اور فکر کی گہرائی موجوئی ۔ یہی مضامین اپنے مواد اور متن کے اعتبار سے اردو کے
بہترین انشایئے قرار دیے گئے ۔ گو کہ انشائیوں کے ابتدائی نقوش سرسید سے پہلے بھی
ملتے ہیں لیکن با قاعده انشایئہ نگاری کا
آغاز سرسید سے ہوا اور سرسید نے جس قد رانشائیہ لکھے ۔انھیں مضامین سر سید کے نام سے شائع کیا
گیا۔ سرسید سے قبل اگر چہ مضمون نگاری کا
آغاز ہو چکا تھا اور مختلف عنوانات پر مضامین لکھنے کی روایت بھی عام ہو چکی تھی
لیکن یہی حقیقت ہے کہ مضمون اور انشائی دومختلف قسم کے طرز اظہار ہیں ۔ انشائیہ میں مضمون کی خصوصیات نہیں ہوتیں بلکہ انشائیہ
نگار اپنے ذاتی تجربات اور مشاہدات کو ہلکے پھلکے اور شگفتہ انداز میں اپنی تحریر
کا موضوع بناتا ہے جس کی وجہ سے مضمون اور انشائیہ میں موجود فرق کو محسوس کرنا
آسان ہو جاتا ہے۔
۸) خاکہ :
خاکہ نہایت مختصر سے
عرصے میں اردو ادب کی اہم صنف بن گیا ہے۔ اختصار نویسی کے اس دور میں خاکے کو سوانح پر ترجیح دی گئی ہے۔انگریزی اور میں خاکے کے لیے Sketch کالفظ مروج ہے ۔ خاکہ در حقیقت ایک مضمون کی حیثیت رکھتا ہے جس
طرح مضمون میں مختلف موضوعاتی نکات کا جائزہ پیش کیا جا تا ہے اسی طرح خاکہ میں
کسی ایک شخصیت کی زندگی کے اہم نکات کی دلچسپ انداز میں نشاندہی کی جاتی ہے۔ اس
اعتبار سے خاکہ نگاری ایک ایسی صنف ہے جس کے ذریعہ شخصیت کا ناک نقشہ
عادات و اطوار کردار اور کارناموں کے اہم نقوش واضح کیے جاتے ہیں ۔ خاکہ نگاری میں
طویل سواری سے زیادہ دلچسپ مواد پیش ہوتا ہے گو کہ خاکے میں سوانح مواد بھی شامل ہوتا ہے لیکن ایک خاکہ نگار کو
بنیادی طور پرشخصیت کے تمام گوشوں کی نشاندہی کی ضرورت نہیں بلکہ و مختصر انداز
میں شخصیت کی مرقع کاری کا کام انجام دیتا ہے۔ اس اعتبار سے خاکہ نگاری کی صنف
سوانح سے ضرور استفادہ کرتی ہے لیکن اپنے انداز کی وجہ سے نا کہ بذات خودصنف نثر
کا ایسا زبردست طرز اظہار ہے جس میں شخصیت کے منفی اور مثبت دونوں رویوں کی
نشاندہی ہو جاتی ہے۔ اردو میں خاکہ نگاری کے ہلکے نقوش سب سے پہلے تذ کروں میں مل
جاتے ہیں ۔محمد حسین آزاد نے اپنی مشہور تصنیف ’’آب حیات ‘‘تحریر کی تھی اس کتاب
میں شامل مختلف شخصیتوں کے حالات میں خاکوں کے ادھورے نقوش تو ابھرتے ہیں لیکن
مرقع کاری کا انداز مفقود ہے۔ مرزا فرحت اللہ بیگ کی ڈپٹی نذیر احمد کی کہانی کچھ
ان کی کچھ میری زبانی‘ کو اردو کی پہلی طویل خاکہ نگاری کی کتاب قرار دیا گیا ہے۔
۹) رپورتاژ:۔
کسی جلسے ، محفل، کانفرنس
،سمپوزیم، مشاعرہ یا اس نوعیت کی دیگر تقاریب کی مکمل کارروائی قلمبند کی جائے تو
اسے رپورتاژ کہتے ہیں ۔ لیکن کوئی ادیب
اسی ادبی چاشنی کے ساتھ چشم دید واقعات
کے طور پر شخصی تاثرات شامل کر کے پوری دلچسپیاں پیدا کرتے ہوئے بیان کرےتو اسے
رپورتاژ کہتے ہیں۔ رپورتاژ میں ادیب کسی ادبی محفل ،مشاعرہ، سمپوزیم یا پروگرام کی
تفصیلی رپورٹ شخصی تاثرات کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ رپورتاژ میں اہل قلم حضرات زبان
اور بیان کے جو ہر نمایاں کرتے اور ہر پیچیدہ علمی و ادبی مسلہ کو دلچسپ انداز سے
نمایاں کرنے میں کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ بنیادی طور پر رپورتاژ ادبی اور فنی خصوصیات سے مالا مال مضمون ہوتا ہے۔ رپورتاژ
نگارعلمی و ادبی جولانی کے ساتھ ادب کے اہم نکات کو شامل کر کے ایک دلچسپ رپورٹ
تیار کرتا ہے جس میں باریک بینی اور بذلہ جی کوبھی دخل ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے
پہلے’’ سجاد ظہیر ‘‘ نے ’’یادیں ‘‘لکھ کر
پورتاژ نگاری کی بنیادرکھی ۔ کرشن چندر کے بعد اردو کے بیشتر ترقی پسند تحریک کے
قلم کاروں نے اس صنف میں طبع آزمائی کی اور دور حاضر میں بھی اس صنف کی اہمیت میں
اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
۱۰) طنز و مزاح نگاری:
ہر
زبان کے ادب میں طنز و
مزاح ایک اہم مقام رکھتا ہے اور جب ہم کسی
زبان میں موجودہ مزاحیہ ادب کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس دور تمدنی، معاشی ،سیاسی،اور
ثقافتی حالت سے بھی آگاہی حاصل کرتے ہیں مزاحیہ ادب کے فکری رجحانات بھی پیش کرتا
ہے ۔ مزح ایک ایسا فطری جذبہ ہے جس کی بنیاد پر خوش طبعی ہےاور جس کا نتیجہ
شادمانی کی کیفیت ہے ایسا مزا جس میں بے ساختہ
ہنسی کا عنصر موجود ہو انسان کو زندگی کا لطف عطا کرتا ہے اور تناؤ کے ماحول کو
خوشگوار بناتا ہے اور انسان کے خیالات طرز زندگی پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت بھی
رکھتا ہے ۔سسنسکرت کے عالموں نے انسانی جذبات کو نو رسوں میں تقسیم کیا ہےجن میں
سے ایک رس ’’ ہاسیہ رس‘‘ ہے جسے زندگی کا بہت اہم جزو مانا جاتا ہے۔
ادب
کا تعلق انسانی زندگی کی مختلف جہتوں سے ہوتا ہے جس میں سے ایک دجہت نشاط و مسرت
ہے زندگی کے اسی پہلو کو جب ادیب پیش کرتا ہے تو اس کی تحریر میں ایک ایسی شگفتگی
پیدا ہو جاتی ہے جس کا نتیجہ نشاط اور انبساط ہے۔طنز ایک ایسا پیرایئہ اظہار ہے جس
میں نشتراور چبھن ہوتی ہے ۔یہ نشتر اور
چبھن اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ادیب پر
برہمی کا جذبہ طاری ہوتا ہےبقول ڈاکٹر وزیر آغا خان :
’’طنز زندگی سے
برہمی کا نتیجہ ہے اور اس میں اغلب عنصر نشتریت کا ہوتا ہےطنز نگار جس چیز پر ہنستا ہے اس سے
نفرت کرتا ہے اور اسے تبدیل کرنے کا خواہاں ہوتا ہے۔‘‘ (اردو
ادب میں طنز و مزاح صفحہ ۔۲۶)
لفظ مزاح انگریزی لفظ Humor کے مفہوم میں استعمال کیا جاتا ہے بقول
صالحہ عابد حسین :’’ وہ مذاق
جو پستی کی طرف جھکنے کے بجائے بلندی کی طرف ابھرتا ہے جس میں نفاست ،ندرت ،ستھرا
پن پایا جاتا ہے اسے ظرافت (مزاح) کہتے ہیں۔‘‘ طنز انگریزی لفظ Satire کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے یہ دراصل یونانی
اصطلاح ہے . طنز و مزاح کی متعدد قسمیں ہیں جیسے ہزل ،تمسخر ،تضحیک،ہجو،نوک جھونک،لعن طعن تعریض،تنقیص،ضلع جگت، فقرہ بازی ، لطائف،
فنٹاسی، پیراڈیاور آئیرنی وغیرہ۔
اردو میں طنز و مزاح کے ابتدائی نقوش داستانوں میں دکھائی دیتے ہیں ۔رجب علی بیگ سرور
نے ’’فسانہ عجائب‘‘ میں ’’کانپور کی برسات
‘‘کا خوبصورت طنزیہ و مزاحیہ انداز میں
ذکر کیا ہے۔معیاری طنز و مزاح کی بنیاد
غالب نے رکھی۔ ڈپٹی نذیر احمد سرسید کے رفقا ک میں سے تھے مرزا غالب کے انتقال کے چار سال بعد انھوں نے ’’توبتہ
النصوع ‘‘ لکھی اور ان کے قلم سے مرزا ظاہردار بیگ تخلیق ہوا۔جو طنز و مزاح کا
عمدہ نمونہ ہے۔اودھ پنچ ۱۸۷۷ میں لکھنؤ سے جاری ہوا یہ اخبار لندن پنچ کی طرز پر جاری کیا گیا تھا اور اسی دور کے اہم طنز و مزاح نگاروں میں ’’
سید محمد آزاد ،منشی احمد علی شوق،مرزا مچھو بیگ ،ستم ظریف،اکبر الہ بادی وغیرہ
شامل تھے۔اس سلسلے کو فروغ دینے والوں میں ’’مشتاق احمد یوسفی‘‘رشید احمد صدیقی‘‘ مجتبیٰ
حسین وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔
درجہ بالا میں چند مروجہ اور مقبول اصناف کا ذکر کیا گیا
ہے۔ غیر افسانوی نثر کا کینوس بے حد وسیع ہے۔ نثر لکھنے کے کئی ایسے پیرائے ہیں جن
کو مستقل صنف کا درج نہیں ملا۔ روزنا مہ
نگاری جیسی مقبول صنف یا دیگر تمام اصناف کا ذکر یہاں ممکن نہیں ۔ غیر افسانوی نثر
اپنی واقعیت پسندی اور حقیقت پسندی کے
باعث زمانے کے ساتھ زیادہ مقبول ہوگی اور مسلسل وسعت حاصل کرتی جائے رہی ہے۔