3۔Notes - (B.A, B.Com, B.Sc)Second Year Sem-III(SL-Urdu Paper -III)

 

Swami Ramanand Teerth Marathwada University, Nanded.

سوامی رامانند تیر تھ مراٹھواڑہ یو نیور سٹی ، ناندیڑ۔

 Faculty of Humanities

شعبہ انسانیات

Effective from Academic year 2025

روبہ عمل تعلیمی سال2025-

B.A. Second Year, Semester- III

بی۔اے۔سال دوّم(میقات سوّم)

SL (Second Language) MIL: Modern Indian languages

Paper Code: AECURDGE1201, Title: (Jadeed Urdu Ghazal)

ثانوی زبان اُردو   ( جدید اُردو غزل)

 

 

جدید غزل کا تعارف 

ہر زمانے کی شاعری پچھلے دور کی شاعری سے نئی اور جدید ہوتی ہے۔ مثلا قلی قطب شاہ کی شاعری کے مقابلے میں ولؔی کی شاعری جدید ہے۔ اسی طرح آؔبرو کے مقابلے میں میؔر کی ، میر کے مقابلے میں غاؔلب کی ، غالؔب کے مقابلے میں اقباؔل کی اور اقباؔل کے مقابلے میں فیؔض کی شاعری جدید ہے۔ لیکن اصطلاحی طور پر جس شاعری کو جدید شاعری کا نام دیا گیا اس کی ابتدا حالؔی اور آؔزاد کی کوششوں سے ہوتی ہے۔ اس ضمن میں خلیل الرحمن اعظمی کا یہ اقتباس قابل توجہ ہے:

شاعری کے سلسلے میں "جدید" کی صفت بطور اصطلاح ہمارے یہاں اس وقت استعمال میں آئی جب آؔزاد اور حاؔلی نے شعوری طور پر مقصدی افادی اور اصلاحی قسم کی نظمیں لکھنے اور اس رجحان کو فروغ دینے کی کوشش کی ۔"    

درج بالا اقتباس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ جدید شاعری کی ابتدا اس وقت ہوئی جب آزاؔد اور حاؔلی نے انجمن پنجاب کے زیراہتمام منعقد ہونے والے مشاعروں میں شاعری کو مقصدی اور افادی بنانے پر زور دیا اور برسوں سے چلی آ رہی شاعری کی عام روش سے ہٹ کر نئے طرز کی بنیاد ڈالی۔ عام یا مروجہ روش سے ہٹ کر جب کوئی نئی راہ اپنائی جاتی ہے کبھی نئے رنگ و روپ اور نئے طرز کو راہ ملتی ہے جو رفتہ رفتہ آگے چل کر اپنی ایک الگ شناخت متعین کر لیتی ہے۔ 1857 کے بعد کی شاعری عام روش سے ہٹ کر ایک نئی ڈگر اور نئے طرز کے ساتھ شعری منظر نامے پر ظہور پذیر ہوئی جسے اردو شاعری کی تاریخ میں جدید شاعری“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

غدر کے ہنگامے کے بعد جب زندگی معمول پر آنا شروع ہوئی تو صدیوں پرانی مغل حکومت کا خاتمہ ہو چکا تھا اور اس کی جگہ انگریزی حکومت کو استحکام حاصل ہو گیا تھا۔ اس نئے نظام کے باعث سماج میں مغربی اثرات نے اپنے پیر پھیلانے شروع کر دیےجس کا شعر و ادب پر بھی گہرا اثر پڑا ۔ غزل بھی اس سے اپنا دامن نہ بچا سکی۔ حاؔلی نے غزل کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا۔ انھوں نے اس وقت کی شاعری میں رائج اسا تذہ کی نقالی، اوہام پرستی تصنع ، قافیہ پیمائی،  شوقیانہ پن، آورد اور مبالغہ جیسی چیزوں کے استعمال کی مخالفت کی اور روایت پرستی اور ماضی پرستی کے خلاف آواز بلند کی ۔ بقول حالؔی:

؎              حالی اب آؤ پیروی مغربی کریں    

                              بس اقتدائے مصحفی میر کر چکے 

اور حقیقت کی ترجمانی پر زور دیا۔ ان کوششوں کے نتیجے میں شعرا نے زندگی کو قریب سے دیکھنا شروع کیا جس سے غزل میں نئے نئے تجربات داخل ہونے لگے، غم جاناں کی جگہ غم دوراں کو اہمیت ملنے لگی۔ غزل نے ایک نیا موڑ لیا اور صداقت و حقیقت سے اس کا رشتہ استوار ہوا۔ جدید سماج کی اچھائی اور برائی دونوں کو اس میں پیش کیا جانے لگا۔ اس کے نتیجے میں اردو شاعری حسن و عشق ، گل وبلبل ، ہجر و وصال،لب ورخسار کے محدود ودائرے سے نکل کر آزاد فضا میں سانس لینے لگی اور اس کا رشتہ زمینی حقائق سے جڑتا چلا گیاجدید غزل میں حیات و کائنات کے مختلف پہلوؤں کو جگہ ملنے لگی۔

اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ حاؔلی اور ان کے رفقا ء   کی کوششوں کے نتیجے میں وجود میں آنے والی وہ غزلیہ شاعری جس میں خیالی، فرضی ، فرسودہ روایتی موضوعات تصنع ، آورد اور قافیہ پیمائی کے بجائے سماج کے اصل مسائل اور زمینی حقائق کی سچی تصویریں پیش کی گئی ہوں ، جس میں جدید سماج کی حسیت ،اس کی ذہنی و نفسیاتی اور تہذیبی قدروں کی پیچیدگیوں اور اس کے معاملات و مسائل کو موضوع سخن بنایا گیا ہو، اسے’جدید غزل“ کے نام سےتعبیر کیا گیا۔

جدید غزل کی خصوصیات ، موضوعات واسلوب

اردو غزل میں جدت کا رنگ موضوعاتی سطح پر ہو یا اسلوبیاتی سطح پر، یہ سیاسی ، معاشی، معاشرتی ، تہد ہیں اور سماجی تبدیلیوں کا مرہون منت ہے۔ غاؔلب نے عشقیہ موضوعات کے دوش بدوش حیات و کائنات کے مسائل کو فلسفیانہ انداز میں پیش کرنے کی جو شروعات کی تھی اسے حالی نے اپنی اصلاحی کوششوں سے عام کرنے کی کوشش کی نتیجہ میں داؔغ دہلوی، اکبؔر الہ آبادی، چکبؔست اور اقباؔل وغیرہ نے آگے بڑھایا ۔ قومی ، ملی، سیاسی ، معاشرتی ،سماجی اور اخلاقی موضوعات کو غزل میں رواج دیا۔

ریاؔض خیرآبادی، شادؔ عظیم آبادی، حسرؔت موبانی ، اصؔغر گونڈوی، جگؔؔؔؔؔؔؔؔؔر مراد آبادی، اثؔر لکھنوی اور فراؔق گورکھ پوری وغیرہ نے غزل کو شوخی و بذلہ سنجی صنف لطیف کی ذات میں پوشیدہ مسرت و حظ کے پہلوؤں سے آشنا کیا۔ زندگی کی مثبت قوتوں کا احساس دلایا اور ایک نیا اور اچھوتا تصور عشق پیش کیا جس کی تمام تر نوعیت بشری صفات کی حامل ہے اور تعیش، لذت اندوزی و ہوسنا کی سے پاک صاف ہے۔ اصغر گونڈوی ، فانی بدایونی ، یاس یگانہ چنگیزی اور فراق وغیرہ نے عشقیہ مسائل کے ساتھ ساتھ اس میں عصری فکر و فلسفہ کی آمیزش سے گہرائی و گیرائی پیدا کی ۔ ان شعراء نے حیات وموت جبر و اختیار، خودی و خودداری اور خود پرستی وغیرہ موضوعات کی پیش کش میں تغزل کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہ دیا جس کے سبب غزل کا حسن دوبالا ہوا۔ ترقی پسند شعراء میں جذؔبی مجاؔز ، مجرؔوح اور فؔیض وغیرہ نے غزل میں انقلابی واشترا کی خیالات داخل کر کے اسے ایک ذہنی بغاوت سے آشنا کیا۔ بیشتر ترقی پسند غزل گو شاعروں نے احتجاجی لے،، باغیانہ لہجہ، سرکشی اور بلند آہنگی کو غزل میں عام کیا۔ آزادی، مساوات، خودداری، اور انسانی عظمت جیسے موضوعات سے غزل کو قوت و توانائی بخشی مگر نظریاتی وابستگی ، مقصدیت اور احتجاج کے سبب غزل میں اکہر اپن ، ،خطابت، بر ہنہ گفتاری اور خیالات میں یکسانیت وسپاٹ پن پیدا ہوا۔

آزادی کے بعد کی غزل میں خوابوں کی شکست وریخت کے اثرات بہت واضح دکھائی دیتے ہیں ، رہ نماور ہنزن کا امتیاز ختم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ زندگی کی بنیادی ضروریات کی عدم تکمیل اور انسانی قدروں کے زوال کی کیفیات نمایاں ہیں۔ جدیدیت کی تحریک کے زیر اثر جو غزل وجود میں آئی اس کی خصوصیات کا جہاں تک تعلق ۔ میں جدید حسیت کاپیدا کردہ روحانی اضطراب ، لاسمتیت ، بے معنویت، اقدار و عقائد کی شکست وریخت، روایتی طرز زندگی سے یقین کا اٹھ جانا اور حیات و کائنات کے بارے میں بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہو جانا، تلاش ذات کا مسئلہ وغیرہ شامل ہیں ۔ پاکستانی شعراء کے یہاں جس طرح ہجرت کا مسئلہ ظاہر ہوا ہے اس سے ہندوستان کی جدید غزل عاری ہے انہوں نے اپنے فکری و جذباتی پس منظر میں جس طرح اسے دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی ہے اور تہذیبی و فلسفیانہ رنگ میں ڈھال کر جس طرح بیان کرنے کی کوشش کی ہے وہ نئی غزل میں اپنی مثال آپ ہے۔ پاکستانی شاعروں نے تقسیم کے بعد کے سیاسی و سماجی حالات و واقعات کو داخلی و خارجی رنگ میں بڑی تفصیل سے پیش کیا ہے جب کہ ہندوستان کے شاعروں نے نئی غزل میں سیاسی وسماجی مسائل کی ترجمانی سے اپنے آپ کو دور رکھا ہے۔

شاعری میں جدت صرف موضوعات کی مرہون منت نہیں ہوتی اس میں اسلوب بیان کا بھی دخل ہوتا ہے اس لیے یہ خیال بھی ضروری ہے کہ طریقہ اظہار کیا ہو ، جدید غزل سے پہلے بھی شعراء نے یہ عمل انجام دیا تھا اور جدید غزل گویوں نے بھی غزل کے فرسودہ لفظیات کے ڈھانچے کو توڑنے کا عمل انجام دیا۔ روزمرہ کی زندگی میں استعمال ہونے والے الفاظ سے اپنی غزل میں بے تکلفی کا انداز پیدا کیا۔

اسلوبیاتی سطح پر بیسویں صدی کی غزل میں دور جحان نمایاں نظر آتے ہیں ایک وہ جن کے یہاں تشکیک وتر در اور زندگی کی بے معنویت کے احساس کے سبب بے چینی و اضطراب ہے نتیجہ میں انہیں اسلوب پر قابو نہیں اور ان کی زبان اکھڑی اکھڑی ہے، ابہام اور ژولیدہ بیانی ہے۔ اسلوب کی مرصع سازی اور زبان کی لطافت وصفائی کے لئے ان کے پاس اکھڑی اکھڑی ہے، ابہام اور ژولیدہ بیانی ہے۔ اسلوب کی مرصع سازی اور زبان کی لطافت وصفائی کے لئے ان کے پاس موقع نہیں اس لئے علامتیں بھی تلازمات  کے بغیر استعمال ہوئی ہیں نتیجہ میں ترسیل و ابلاغ کی کمی کا شکار معلوم ہوتی ہیں۔

دوسرے رجحان کی نمائندگی وہ شعراء کرتے ہیں جو آزادانہ فکر کے مالک ہیں، جن کا اپنے سماج ومعاشرے سے گہرا ربط ہے، جو حیات و کائنات کے مسائل اور سیاسی و سماجی حقائق کا بخوبی ادراک و عرفان رکھتے ہیں اس لئے ان کی غزلوں میں مختلف رنگ و آہنگ ملتے ہیں۔ علامتی و بالواسطہ طریقہ اظہار کے باوجود ان کی غزلوں میں ابہام نہیں پیدا ہوتا۔ ایجاز واختصار ان کی غزل کی خوبی ہے اس مقصد کے حصول کے لئے انہوں نے رموز وعلائم ،تشبیہات واستعارات سے کام لیا ہے نئی اور جدید علامتیں وضع کی ہیں مگر یہ علامتیں اپنے تلازمات  کے ساتھ استعمال ہوئی ہیں اس لئے انہوں نے غزل کے شعری نظام کو استحکام عطا کرنے میں معاونت کی ہے۔ نئی علامتوں کی تشکیل کا ایک اہم فائدہ غزل کو یہ ہوا کہ اس کا تعلق اپنی زمین سے اور گہرا ہوگیا اور غیرملکی عناصرکی کارفرمائی رفتہ رفتہ اپنے آپ کم ہونے لگی ہے۔

 

جدید غزل کی تاریخ، آغاز و ارتقا

غزل میں جدت کے جو اثرات غالب و مؤمن وغیرہ نے شروع کئے تھے اسے حالی نے با قاعدہ ایک تحریک کی صورت میں پیش کیا جس کے دور رس اثرات غزل پر مرتب ہوئے حالی کا دور سماجی وسیاسی اعتبار سے انتشار وانقلاب کا دور تھا حالات دن بدن بدل رہے تھے مگر بعض شاعر ایسے بھی تھے جنہوں نے بدلتے ہوئے حالات کے زیر اثر اپنے کو بدلنے کی کوشش نہیں کی جس کی نمایاں ترین مثال داغ دہلوی ہیں۔

نواب مرزا خاں داغ دہلوی کی پوری زندگی درباروں میں گزری ، لال قلعہ میں نشو و نما پائی پھر رام پور اور حیدرآباد سے وابستہ رہے اس لئے ان کی غزل میں جدید رجحانات کی تلاش ایک کار عبث لگتی ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ داغ نے اردو غزل میں ایک نیا رنگ پیدا کیا اور اسے ایک نیا آہنگ دیا ہے اور وہ اس میں پوری طرح کامیاب بھی ہوئے ہیں یہ اور بات کہ یہ رنگ بذات خود بہت زیاد ہمیت کا حامل نہیں۔

 اصفر نے انہیں فلسفیانہ رنگ دیدیا ہے۔اصغر گونڈوی کے ساتھ ساتھ فانی بدایونی کا بھی یہی حال نظر آتا ہے ہر چند کہ فائی زندگی سے بیزار ر ہے مگر اس کے باوجود ان کی غزل میں زندگی کا شدید احساس ہے، ہر وقت غم ان کے اوپر طاری رہتا ہے مگر وہ زندگی کی مسرتوں کو چھوڑنے کے لئے کبھی اپنے آپ کو آمادہ نہ کر سکے ۔ فانؔی کی یہی سب سے نمایاں خوبی ہے کہ غزل میں المیہ رجحان کی ترجمانی کے باوجود غزل کو زندگی کی مسرتوں کا احساس دلایا، فانؔی ،میؔر اور غاؔلب دونوں سے متاثر ہیں ان کی غزلوں میں میؔر کی جذبات پرستی اور غاؔلب سے نظر کا حسین امتزاج دکھائی دیتا ہے ۔ ان کی امتیازی خوبی یہ ہے کہ ان کے یہاں تصوف کے رجحان نے فلسفیانہ انداز اختیار کر لیا ہے۔ وہ اپنی غزلوں میں ذات واجب اور اس کی معرفت کے علاوہ حیات انسانی اور اس کی حقیقت سے متعلق مسائل کو خوبصورت انداز میں پیش کرتے ہیں۔ زندگی ،موت ، جبر و اختیار اور اس قسم کے نہ جانے کتنے مسائل ہیں جنہیں انہوں نے اپنے کلام کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ نمونے کے طور پر چند اشعار:

؎              زندگی جبر ہے اور جبر کے آثار نہیں                           

ہائے اس قید کو زنجیر بھی درکار نہیں

؎              زیست تھی فائی بقدر فرصت تمہید

 شوق                        عمر بھر ہم پرتو نور بشر دیکھا کیسے

ظاہر ہے ان اشعار کی نوعیت فلسفیانہ ہے ان میں گہرائی و گیرائی ہے مگر یہ تغزل کا انداز لئے ہوئے ہیں ۔ سرسید تحریک سے قبل ہی تبدیلی کا عمل شروع ہو چکا تھا مگر سرسید تحریک کے زمانے تک اس میں شدت نہیں پیدا ہوئی تھی اس لیے کہ سرسید تحریک کا مقصد اصلاحی تھا اور اصلاح کا دائرہ تعلیم ، مذہب اور معاشرت تک محدود تھا۔ سیاسی پہلوؤں کی طرف سرسید اور ان کے رفقا کی توجہ نہ تھی اس لیے اس عہد میں کوئی گہر سیاسی شعور نہیں دکھائی دیتا۔ کانگریس پارٹی کے قیام کے بعد انگریزوں کی مخالفت اور حب الوطنی کے جذبے میں شدت پیدا ہوئی ، آزادی کے لئے جدو جہد شروع ہوئی جس نے سماجی زندگی کے طور طریقوں کو بدل ڈالا کیوں کہ اس میں ایک انقلابی رنگ تھا اور اس انقلابی رنگ نے ہماری غزل کو بھی متاثر کیا۔ اکبر الہ آبادی ، پنڈت برج نارائن چکبست اور علامہ اقبال کی غزلوں میں اس انقلابی رنگ کو واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔

چکبست کے یہاں قومی وطنی ، اور سیاسی موضوعات کی ترجمانی بہت واضح ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کا شعور سیاسی کشمکش کے زمانے میں پختگی کی منزل تک پہنچا تھا ۔ حب الوطنی ، آزادی اور انگریزوں سے نفرت کے جذبے کو انہوں نے عام ہوتے ہوئے دیکھا تھا اور اس سے متاثر ہوکر اپنی غزلوں میں ان کی ترجمانی کی:

؎              زباں کو بند کریں یا مجھے اسیر کریں                

مرے خیال کو بیڑی پنہا نہیں سکتے

؎              انہیں یہ فکر سے ہر دم نئی طرز جفا کیا ہے

                      ہمیں یہ شوق ہے دیکھیں ستم کی انتہا کیا ہے

اقباؔل ,داؔغ کے شاگرد تھے مگر ان کی شاعری کا رنگ داؔغ سے جدا گانہ ہے ان پر ملکی اور ملی مسائل کا گہرا اثر دکھائی دیتا ہے اس لئے انہوں نے قومی وملی مسائل کو ہی اپنی غزل میں پیش کیا اور اپنے عہد کے بنیادی مسائل کی ترجمانی کے ساتھ ساتھ غزل کو نیا انداز و آہنگ بھی عطا کیا ، قدیم علامات و تراکیب کے استعمال کے دوش بدوش نئی لفظیات و علامات بھی وضع کیں ان کے اس عمل سے بھی غزل میں وسعت پیدا ہوئی اور مستقبل میں نئے تجربات کے زمین بھی ہموار ہوئی:

؎              نالہ ہے بلبل شوریدہ ترا خام ابھی                 

              اپنے سینے میں اسے اور ذرا تھام ابھی

؎              بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق                         

عقل سے محو تماشائے لب بام ابھی

؎              کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں

                  کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں جبین نیاز میں

اقبال نے غزل کی قدیم لفظیات و علامات میں نئے مفاہیم پیدا کرنے کی بھی کوشش کی ہے ۔ ان کی غزلوں کے اکثر اشعار میں ایک قسم کا تسلسل بھی دیکھنے کو ملتا ہے جو اس میں نظم کی سی کیفیت پیدا کر دیتے ہیں مگر ان کی عظمت کا راز صرف اس بات میں مضمر ہے کہ انہوں نے ان تمام جدتوں کے باوجود آبگینہ غزل کو ٹھیس نہیں لگنے دی اور غزل میں تغزل کی کیفیت کو زندہ رکھا اور اپنی سعی و کاوش سے غزل کو نئی راہ پر گامزن ہی نہیں کیا بلکہ ایک ایسی فضا بھی قائم کی جس کے زیر اثر غزل میں جدت کے نئے تجربات کا سلسلہ شروع ہوا بیسویں صدی کے آغاز میں جو سیاسی بیداری عام ہوئی تھی اس نے زندگی کہ  مسائل کوپیش کیا۔

ریاض خیر آبادی نے اردو غزل کو ایسی شگفتگی شوخی و بذلہ سنجی سے آشنا کیا جو اس عہد کے لئے بالکل نئی چیز تھی ، انہوں نے صنف لطیف کی اہمیت کا احساس دلایا، عورت اور شراب ان کی غزل کےپسندیدہ موضوعات ہیں انہوں نے اپنی زندگی میں عورت کو اپنایا اور اس کی ہستی سے اپنی زندگی و شاعری میں رنگ بھرا اور عورت کی ذات میں مسرت و حظ کے جتنے بھی پہلو ہو سکتے تھے ان کی ترجمانی کی ، یہ ٹھیک ہے کہ کہیں کہیں ان پہلوؤں کی ترجمانی میں وہ ابتذال وعریانیت کی حدوں میں بھی داخل ہوئے ہیں مگر بحیثیت مجموعی ان کے یہاں عورت کے بیان میں ایک قسم کا توازن و اعتدال دیکھنے کو ملتا ہے، جہاں تک شراب کی بات ہے تو وہ خود تو اس سے دور رہے مگر اپنی شاعری کو اس سے علاحدہ نہ رکھ سکے اور مئے و میخانہ کے ذریعے انہوں نے شوخی و شگفتگی پیدا کی مثال کے طور پر ان کے یہ اشعار دیکھیے :

؎              پاؤں تو ان حسینوں کا منھ چوم لوں ریاض

                                    آج ان کی گالیوں نے بہت ہی مزہ دیا

ریاض خیر آبادی کی غزلوں میں نہ تو عشق کا کوئی اعلیٰ وارفع تصور ملتا ہے نہ ہی حسن کا رچا ہوا نداق ، پھر بھی صنف نازک کی رنگینی و رعنائی اور اس سے لطف اندوزی کا بیان ضرور ہے۔ جدید غزل کی تاریخ میں ریاض خیر آبادی کا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے صنف نازک سے پیدا ہونے والی رنگینی و سرمستی کا احساس کرنے کے دوش بدوش صنف نازک کی اہمیت کے تصور کو عام کیا اور اسے حیات انسانی کا ایک لازمی عصر قرار دیا ۔

ریاض کے ہم عصر اور جدید غزل کے نمائندہ شاعر شاد عظیم آبادی کی غزل میں بھی یہ رجحان موجود ہے مگران کے یہاں وہ شوخی و چلبلا پن نہیں جو ریاض خیر آبادی یا داغ دہلوی کی غزلوں میں دکھائی دیتا ہے۔شاد نے عنفوان شباب میں صنف نازک کے حسن و شباب کی رنگینیوں اور رعنائیوں کو بخوبی محسوس کیا اور اپنی غزلوں میں اس کی ترجمانی بھی کی مگر آخر عمر تک آتے آتے صنف نازک سے والہانہ شیفتگی انحیں تصوف کی سرحدوں میں داخل کر دیتی ہے اور وہ حسن حقیقی کے پرستار بن جاتے ہیں۔

شاد عشق مجازی کے دور میں بھی عقلی نقطہ نظر کے حامل نظر آتے ہیں وہ جذبات کی رو میں کم ہی بہتے ہیں یہی وجہ تے کہ عشق کا جذبہ ان پر کوئی ایسی کیفیت طاری نہیں کرتا جو حقیقت سے بعید معلوم ہو ، ان کیفیات کے بیان میں ان کا طرہ امتیاز یہ ہے کہ وہ انسان کی تبدیل ہوتی ہوئی نفسیات کے پہلو کو نظر انداز نہیں ہونے دیتے جس کے سبب ان کے یہاں اس طرح کے اشعار بھی دکھائی دیتے ہیں:

؎ ڈھونڈہو گے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم               

تعبیر ہے جس کی حسرت وقلم اے ہم سفر و وہ خواب ہیں ہم

؎              تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں

                                       کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں

بیسویں صدی میں انقلابات کے زیراثر پیدا ہونے والی آزاد خیالی اور صاف گوئی کا اثر اپنی مکمل صورت میں جن جدید غزل گو شاعروں کے کلام میں نظر آتا ہے ان میں حسرت موہانی، اصغر گونڈوی، فانی بدایونی ، اثر لکھنوی، جگر مراد آبادی اور فراق گورکھپوری وغیرہ کو اہم مقام حاصل ہے۔ ان شاعروں نے حقیقت میں غزل کو جدید بنایا ہے۔ ان کے کلام میں وسعت ہمہ گیری  ، تنوع اور رنگا رنگی موجود ہے۔ ان میں سے بعض نے غزل میں عشقیہ موضوعات کے علاوہ دیگر موضوعات سے بھی سروکار رکھا ہے مگر یہاں گفتگو غزل کے بنیادی موضوع عشق سے متعلق ہے جس کو ان سب نے ایک نئے انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ فضل الحسن حسرت موہانی ان سب میں سرفہرست ہیں انہوں نے اردو غزل کو ایک نئے اور اچھوتے تصور عشق سے آشنا کیا، جو نیا ہونے کے باوجود اجنبی اور نامانوس نہیں معلوم ہوتا، یہ موجودہ عہد کے انسان کا عشق ہے جس کی تمام تر نوعیت بشری صفات کی حامل ہے ۔ حسرت موہانی نے انسانی حسن کو نہایت قریب سے دیکھا اور اس سے لطف اندوز بھی ہوئے ہیں مگر اس لطف اندوزی میں تعیش اور ہوسنا کی کا وہ انداز نہیں جو داغ دہلوی اور ریاض خیر آبادی کے یہاں کبھی کبھی جھلکتا ہے۔ حسرت موہانی نے عورت اور اس کے حسن کی اہمیت کو بخوبی محسوس کیا ہے اور یہی عورت ان کا معشوق ہے جس کے دم سے ان کی زندگی میں رنگینی و رعنائی ہے۔ حسرت موہانی نے اپنی غزل میں بھی اسی پہلو کی خوب صورت ترجمانی کی ہے۔ عورت سے والہانہ لگاؤ ہی حسرت کی زندگی کی معراج ہے اور اس تعلق کے نتیجے میں عاشق کو جن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے ان سب کی نہایت دل کش و پر اثر عکاسی بھی کی ہے۔ انہوں نے اپنے معشوق کی گلابی رنگت، اس کی نیم خوابی، اس کے قہر و عتاب اور شوخی وطراری کا نہایت تفصیلی بیان کیا ہے، یہ خصوصیت حسرت کے علاوہ کسی دوسرے غزل گو کے یہاں نظر نہیں آتی۔

؎              آئینے میں وہ دیکھ رہے تھے بہار

حسن                          آیا مرا خیال تو شرما کے رہ گئے

حسرت موہانی کے اس عشق میں فلسفیانہ گہرائی نہیں ہے لیکن نفسیاتی کیفیات کا خوب صورت بیان ضرور موجود ہے۔ حسرت اس لحاظ سے جدید اردو غزل کی تاریخ میں منفرد ہیں لیکن اس رجحان کے اثرات بعض نہایت سنجیدہ شعراء کے یہاں بھی مل جاتے ہیں جس کی ایک مثال اصغر گونڈ وی ہیں۔ اور اس کی اہمیت کا بھی انہیں شدید احساس ہے اس انسانی حسن سے ایک والہانہ وابستگی بھی ہے اور اس کا خوبصورت بیان بھی ان کی شاعری میں موجود ہے مثال کے طور پر درج ذیل اشعار دیکھیے :

؎              عارض نازک پر ان کے رنگ سا اک آگیا                    

ان گلوں کو چھیڑ کر ہم نے گلستاں کردیا

؎              داستاں ان کی اداؤں کی ہے رنگیں لیکن                      

اس میں کچھ خون تمنا بھی ہے شامل میرا

ان اشعار میں وہی کیفیت ہے جس کی ابتداء داغ دہلوی ریاض خیر آبادی یا حسرت موہانی کے ہاتھوں ہوئی اور جس نے اردو غزل میں ایک قسم کی جدت پیدا کی یہ ٹھیک ہے کہ یہ اصغر گونڈوی کا اصل میدان نہیں پھر بھی وہ اس میدان میں اپنے ہم عصروں سے پیچھے نہیں دکھائی دیتے۔

بیسویں صدی میں اردو غزل کو جدید رجحانات سے ہم کنار کرنے والوں میں فراق گورکھپوری بھی پیش پیش رہے ہیں ، فراق کے یہاں زندگی کی شادکامیوں کا احساس بہت شدید ہے انہوں نے بھی انسانی حسن کو بہت قریب سے دیکھا اور محسوس کیا ہے اور اس کے لمس سے اپنے خون میں گرمی و روانی کا احساس جگایا ہے جس کے سبب خیال کی پیش کش میں سطحیت وعریا نیت کا انداز نہیں پیدا ہوتا۔ انسانی جسم کی اہمیت کو فراق نے جس طرح محسوس کیا ہے اسی طرح اپنی غزلوں میں سطحیت وعریانیت کا انداز نہیں پیدا ہوتا۔ انسانی جسم کی اہمیت کو فراق نے جس طرح محسوس کیا ہے اسی طرح اپنی غزلوں میں ان کی ترجمانی بھی کی ہے اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اپنی غزلوں میں عشق کا کوئی بلند و بالا تصور نہیں پیدا کر سکے مگر ان کے پیش کردہ تصور عشق میں انسانی صفات ضرور نمایاں ہوتے ہیں فراق نے اپنے آپ کو حسن و عشق تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ حیات و کائنات کے مسائل کی ترجمانی سے اپنی غزل کے موضوعات میں تنوع پیدا کیا۔ کائنات ان کی نظر میں بہت عزیز ہے اور وہ اس کائنات کی باتیں کرتے ہیں اور اس کی اہمیت کا احساس دلاتے ہیں ، حیات انسانی ان کی نظر میں ارتقاء سے عبارت ہے جو جہد مسلسل کے بغیرممکن نہیں اور یہی جہد مسلسل انسان کا مقصد حیات ہے، اسی سے کائنات میں انقلابات رونما ہوتے ہیں اور اسی سے دنیا گہورا ہ جنت بھی بنتی ہے۔ انہوں نے اس کائنات کے جتنے بھی ممکنہ مسائل ہو سکتے ہیں ان سب کو اپنی غزل میں سمونے کی کوشش کی ہے  فراق نے زمانے کی تبدیل ہوتی کیفیت اور زندگی سے متعلق تبدیل ہوتے تصورات سے ہماری غزل کو آشنا کرنے کا جو کارنامہ انجام دیا ہے اسے غزل کی تاریخ میں یادر کھا جائے گا۔ فلسفیانہ رجحان ہوں تو بیسویں صدی میں آزادی سے قبل افق غزل پر نمودار ہونے والے ہر شاعر کے کلام میں دکھائی دیتا ہے مگر جس حسن و خوبی سے اسے یاس یگانہ چنگیزی نے اپنی غزل کا حصہ بنایا ہے اس کی مثال اس دور میں کسی اورشاعر کے یہاں نظر نہیں آتی ۔

یگانہ کی غزل میں خالص فلسفہ ہے جس میں زندگی پر غالب ہونے اور اس کے ہر پہلو کو زیر دام کرنے کا خیال بنیادی حیثیت رکھتا ہے وہ زندگی کو توانا اور صحت مند دیکھنا چاہتے ہیں۔یگانہ کے نزدیک انسانیت کا دوسرا نام خود داری ہے لیکن ان کی یہ خودداری کہیں کہیں خود پرستی کی حد میں بھی داخل ہو جاتی ہے، اس سے انکار نہیں کہ یگانہ کی غزلوں میں حیات و کائنات کے دوسرے مسائل بھی بیان ہوئے ہیں مگران تمام مسائل کا محور و مرکز خودداری و خود پرستی ہی محسوس ہوتا ہے۔ درج ذیل اشعار میں ان کے انہیں فلسفیانہ مسائل کی ترجمانی کو بخوبی محسوس کیا جاسکتا ہے:

؎              کار   گاہ   دنیا   کی   نیستی   بھی ہستی ہے

                       اک طرف اجڑتی ہے اک سمت بہتی ہے

؎              کیا بتاؤں کیا ہوں میں ، قدرت خدا ہوں                       میں

 میری خود پرستی بھی عین حق پرستی ہے

؎              سرا پا راز ہوں میں کیا   بتاؤں کون ہوں                        کیا ہوں

 سمجھتا ہوں مگر دنیا کو سمجھانا نہیں آتا

ان اشعار میں گہرائی ہے، فکر کا نیا انداز ہے اور ایک نیا آہنگ ہے۔ یگانہ کے یہاں مسائل حسن و عشق کی ترجمانی بھی کم نہیں مگر ان کے مفکرانہ مزاج نے انہیں بھی فلسفیانہ طرز کا حامل بنادیا ہے۔ شاؔد، حسرؔت ، اصغؔر، فانؔی ، جگرؔ ،  اور فراؔق وغیرہ جدید غزل کے معمار ہیں ان میں سے ہر ایک نےہماری غزل کو نئی وسعتوں سے ہم کنار کرنے اور غزل کے نئے افق تلاش کرنے کا عمل انجام دیا ہے ان کی غزلوں میں نیا انداز فکر،  اور نیا آہنگ موجود ہے مگر یہ انداز صرف انہی تک محدود نہیں ان کے دیگر معاصرین صفؔی لکھنوی ، عزؔیز لکھنوی ، ثاقؔب لکھنوی، سیماؔب اکبر آبادی، سائلؔ دہلوی اور انؔورحسین ،آرزؔو لکھنوی وغیرہ کے یہاں بھی یہ انداز اپنے جلوے دکھاتا ہے حالاں کہ ان میں سے بیشتر کے یہاں قدیم رنگ غالب ہے مگر کہیں کہیں روایت کے دوش بدوش جدت کے پہلو بھی دکھائی دیتے ہیں ان تمام شاعروں نے اپنے مخصوص تصورات حسن و عشق اور مسائل حیات و کائنات کی ترجمانی کے ذریعے اردو غزل کونئی منزلوں سے ہم کنار کیا اور ان موضوعات کی پیش کش کے جو نئے انداز اختیار کیے اس نے پوری طرح اردو غزل کو جدت کے سانچے میں ڈھال دیا ۔پہلی جنگ عظیم کے زمانے میں اور اس سے ذرا بعد افق شاعری پر جوؔش ملیح آبادی، احسان داؔنش، آنؔند نرائن ملا، روشؔ صدیقی ، ساغؔر نظامی، حامد اللہ افسؔر اور حفؔیظ جالندھری وغیرہ نے بھی غزل میں جدید عناصر کی آمیزش کی اور ایک نئے طرز کی بنیاد رکھی، یہ نیا طر ز ہر ایک کے یہاں بعض انفرادی خصوصیات کے سبب پیدا ہوا ہے۔

 

فیض احمد فیضؔ : 1911ء -1984ء

فيض  احد نام فیض تخلص1911ء میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے ۔ اعلیٰ   تعلیم حاصل کر کے معلمی کا پیشہ اختیار کیا۔ ایم ۔ اے۔ انگریزی میں کیا تھا ،  لیکن ، اردو، فارسی ، عربی میں مہارت  رکھتے تھے ۔ صحافت سے دلچسپی تھی ۔ اس لیے متعدد اخبارات  و رسائل کی ادارت کے فرائض بھی انجام دیے ۔  اشترا کی ذہن رکھتے تھے اور کمیونسٹ پارٹی کے سرگرم رکن تھے اس لیے حکومت پاکستان کی نظر میں مشکوک رہے ۔ باغیانہ سرگرمیوں کے الزام میں مقدمہ بھی چلا جو راولپنڈی سازش کیس کے نام سے مشہور ہے ۔ برسوں قید و بند کی زندگی گزاری اور بے شمار تکلیفوں کا سامنا کیا ۔ ۱۹۸۴ء میں وفات ہوئی ۔

فیض جب کالج میں زیر تعلیم تھے اسی وقت سے شعر کہنے لگے تھے۔ کالج میگزی" راوی" میں متعدد نظمیں  شائع ہوئیں ، جن میں سے بعض ان کے پہلے مجموعہ کلام "نقشِ فریادی "  میں میں شامل ہیں ۔ ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاعری سے فیض کی طبیعت کو بے حد  مناسبت تھی لہٰذا نو مشقی کے زمانے میں بھی تمام شعری وسائل سے کام لینا جانتے تھے اور بہت اچھے شعر کہتے تھے ۔ اس وقت شاعری کا موضوع مجازی عشق تھا۔ عشق کا سیلاب وقت بیتنے کے ساتھ گزر گیا تو شاعری کا محرک بھی ختم ہو گیا ۔ چنانچہ شعر کہنا ترک کر دیا۔ خاموشی میں کچھ ہی دن گزرے تھے کہ ترقی پسند تحریک کا آغاز ہو گیا مظلوموں کی حمایت کے نعرے میں ایسی کشش تھی کہ فیض پوری طرح اس کے ہم نوا ہو گئے۔ شعر کہنے کے لیے ایک نیا محرک ہاتھ آگیا فیض نے اپنا غم بھلا کے دنیا کے غم کو گلے لگا یا نظم" مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ “ اسی زمانے کی یادگار ہے ۔ اس نظم کا ایک شعر ہے ۔

؎              اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا                        

راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

ترقی پسند تحریک خطابیہ شاعری کا مطالبہ کرتی تھی ۔ حالات کے تقاضے سے مجبور ہو کر فیض کو ایسی شاعری بھی کرنی پڑی جس میں براہ راست تخاطب تھا ، شعریت کم تھی ۔ سیاسی لیڈر کے نام 'ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے ، ایرانی طلبا کے نام ، زرد کتے، ایسی ہی نظمیں ہیں ۔ یہ شاعری کم ہیں، پروپگنڈہ زیادہ لیکن سچا شاعر کیسے اپنے اصلی رنگ کو دبائے رکھ سکتا ہے ۔ انھوں نے رمز وا  یعنی اشارے کنائے کا سہارا لے کر اپنے مخصوص انداز کی شاعری کی ۔ ہم لوگ ، صبح آزادی، تنہائی اور دریچہ ایسی لافانی نظمیں ہیں جس میں شاعر نے ادبی ڈکٹیٹروں کی پروا کیے بغیر اپنے انداز کی شاعری کی ہے اور لازوال تخلیقات پیش کی ہیں ۔ غزل میں یہی صورت حال ہے ۔ انھوں نے غزل کی مخصوص علامتیں استعمال ضرور کی ہیں مگر فیض کی غزل میں ان کے الگ معنی ہیں ۔ کہتے ہیں محبوب مگر مراد ہوتا ہے ملک یا قوم ۔ کہتے ہیں رقیب مطلب ہوتا ہے ملک و قوم کا دشمن ۔ جب ناصح کا ذکر کرتے ہیں تو اشارہ ہوتا ہے ملک دشمن عناصر کی طرف جو ہمدردوں کے روپ میں غلط صلاح دیتے ہیں ۔فیض ایک ایک لفظ کا انتخاب غور و فکر کے بعد کرتے ہیں۔ شعروں میں تراش خراش کا عمل مسلسل جاری رکھتے ہیں اور تمام شعری وسائل کا سہارا لیتے ہیں ۔ ان کے شعروں میں دلکش ترنم پایا جاتا ہے۔ پیکر تراشی میں انھیں بڑی مہارت حاصل ہے۔ پر لطف تشبیہوں اور استعاروں ے وہ جیتے جاگتے پیکر تراشتے میں فیؔض ،میؔر و غاؔلب کے ہم پلہ نہ سہی مگر وہ ہمارے عہد کے ایک نامور شاعر ہیں۔

 

غزل                                             

فیض احمد فیضؔ

رنگ  پیراہن  کا   خوشبو  زلف   لہرانے     کا  نام  

              موسم   گل   ہے  تمہارے    بام  پر    آنے  کا نام

دوستو   اس   چشم  و  لب  کی  کچھ کہو جس کے بغیر

                 گلستاں   کی   بات  رنگیں ہے نہ  مے خانے کا نام

پھر  نظر  میں پھول مہکے دل میں پھر شمعیں جلیں                  

پھر  تصور   نے   لیا   اس  بزم   میں جانے کا نام

دلبری   ٹھہرا   زبان    خلق   کھلوانے    کا   نام                    

اب   نہیں  لیتے   پری  رو زلف بکھرانے کا نام

اب  کسی     لیلیٰ   کو    بھی    اقرار   محبوبی  نہیں

                   ان    دنوں   بدنام   ہے  ہر  ایک دیوانے کا نام

محتسب   کی   خیر   اونچا   ہے  اسی کے فیض سے

                   رند  کا    ساقی   کا  مے   کا   خم  کا  پیمانے   کا نام

ہم   سے   کہتے  ہیں   چمن  والے  غریبان چمن

                     تم  کوئی   اچھا   سا   رکھ لو  اپنے   ویرانے کا نام

فیضؔ  ان  کو   ہے  تقاضائے  وفا  ہم سے جنہیں

                    آشنا   کے   نام   سے   پیارا  ہے  بیگا نے  کا نام

 

غزل                                                          

قیصؔرالجعفری

دیواروں     سے   مل   کر رونا اچھا لگتا ہے                   

ہم   بھی    پاگل   ہو جائیں گے    ایسا لگتا ہے

کتنے   دنوں  کے  پیاسے ہوں گے یارو سوچو تو                

شبنم   کا   قطرہ   بھی   جن   کو    دریا لگتا ہے

آنکھوں   کو   بھی   لے ڈوبا یہ دل کا پاگل پن

                آتے    جاتے    جو    ملتا   ہے  تم سا لگتا ہے

اس   بستی   میں   کون ہمارے آنسو پونچھے گا                 

جو    ملتا    ہے    اس    کا دامن بھیگا لگتا ہے

دنیا   بھر   کی         یادیں ہم سے ملنے آتی ہیں

                  شام   ڈھلے اس سونے گھر میں میلہ لگتا ہے

کس   کو     پتھر   ماروں قیصرؔ کون پرایا ہے                    

شیش   محل   میں اک اک چہرا اپنا لگتا ہے

 

مجروح سلطان پوری

مجروح سلطان پوری 1919ء میں اتّر پردیش کے ضلع سلطان پور میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام اسرار حسن خان تھا۔ ان کے والد  محمد حسن خان پولیس میں ملازم تھے اور مجروح ان کی اکلوتی اولاد تھے۔ محمد حسن خان نے تحریک خلافت کے زیر اثر بیٹے کو انگریزی تعلیم نہیں دلائی اور ان کا داخلہ اک مدرسہ میں کرا دیا گیا جہاں انھوں نے اردو کے علاوہ عربی اور فارسی پڑھی۔ مدرسہ کا ماحول سخت  تھا جس کی وجہ سے مجروح کو مدرسہ چھوڑنا پڑا  اور 1933ء میں انھوں نے لکھنؤ کے طبّیہ کالج میں داخلہ لے  کر  حکیم کی سند حاصل کی۔ مجروح نے 1935 ء میں شاعری شروع کی۔ اور اپنی پہلی غزل سلطان پور کے اک مشاعرہ میں پڑھی۔ ان کا ترنم غضب کا تھا۔ ان کی ذہنی تربیت میں جگر مرادآبادی اور پروفیسر رشید احمد صدیقی کا بڑا ہاتھ رہا۔ رشید احمد صدیقی نے انھیں فارسی اور اردو کی کلاسیکی شاعری کے مطالعہ کا مشورہ دیا۔ علی گڑھ میں ان کو داخلہ نہیں مل سکتا تھا اس لئے رشید صاحب نے ان کو تین سال تک اپنے گھر پر رکھا۔ دوسری طرف جگر صاحب ابھرتے ہوئے خوش گلو شاعروں کو ہر طرح پروموٹ کرتے تھے۔ خمار بارہ بنکوی، راز مرادابادی اور شمیم جے پوری سب ان کے ہی حاشیہ برداروں میں تھے۔ جگر صاحب مجروح کو بھی اپنے ساتھ مشاعروں میں لے جانے لگے۔ ایسے ہی اک مشاعرہ میں وہ مجروح کو لے کر بمبئی پہنچے تو سامعین میں اس وقت کے مشہور فلم ڈائرکٹر اے۔آر کاردار بھی تھے۔ وہ مجروح کی شاعری سے بہت متاثر ہوئے اور انھیں  بہت بڑی تنخواہ پر اپنی فلموں کے گیت لکھنے کے لئے ملازم رکھ لیا۔ اس وقت وہ فلم "شاہجہاں" بنا رہے تھے جس کے میوزک ڈائرکٹر نوشاد  اور ہیرو کے ایل سہگل تھے جو فلموں میں اپنی آواز میں گایا کرتے تھے۔ اس فلم کا  مجروح کا لکھا ہوا اور سہگل کا گیا ہوا گانا " جب دل ہی ٹوٹ گیا  ہم جی کے کیا کریں گے"  امر ہو گیا۔ سہگل کی وصیت تھی کہ ان کے مرنے پر یہ گانا ان کی ارتھی کے ساتھ بجایا جائے۔ مجروح نے اپنی تقریباً 55 سال کی فلمی زندگی میں بے شمار گانے لکھے جن میں سے بیشتر ہٹ ہوئے۔ان کی کوشش ہوتی تھی کہ فلمی گانوں میں بھی وہ جس قدر ممکن ہو ادبیت کو قائم رکھیں اور جب کبھی ان کو پروڈیوسر یا ڈائرکٹر کے اصرار کے سامنے  ادب سے سمجھوتہ کرنا پڑتا تھا تو اندر ہی اندر گھٹتے تھے۔ لیکن وہ اپنے پیشہ میں پوری طرح پروفیشنل تھے اور بے جا ناز نخرے نہیں کرتے تھے۔ 1965ء میں انھیں فلم دوستی کے گانے "چاہوں گا میں تجھے سانجھ سویرے" کے لئے بہترین نغمہ نگار کا فلم فیر اوارڈ دیا گیا پھر 1993ء میں ان کو فلمی دنیا کے سب سے بڑے "دادا صاحب پھالکے اوارڈ" سے نوازا گیا۔ ان کی ادبی خدما ت کے لئے ان کو غالب انعام اور "اقبال سمّان"  سے بھی نوازا گیا۔ ادبی اور فلمی سرگرمیوں  کے سلسلہ میں انھوں نے روس امریکہ برطانیہ اور خلیجی ملکوں سمیت  درجنوں ملکوں کے دورے کئے۔ بڑھاپے میں وہ پھیپھڑے کی بیماری میں مبتلا تھے۔ 24 مئی 2000ء کو بمبئی کے لیلا وتی اسپتتتال میں ان کا انتقال ہو گیا۔جگن ناتھ آزاد کے الفاظ میں مجروح کی شاعری خیال اور جذبہ کے امتزاج  کا اک نگار خانہ ہے  جس میں زندگی کے کئی رنگ جھلکتے ہیں۔ انسان کی عظمت پر مجروح کا اٹل یقین  زندگی کی ٹھوس حقیقتوں پر مبنی ہے۔ روایت کا احترام اور روایت میں توسیع  مجروح کے کلام کی خصوصیت ہے۔اس میں پیکر تراشی کے نقوش جا بجا اضافہ کرتے چلے جاتے ہیں۔ مشفق خواجہ کا کہنا ہے کہ جدید اردو غزل کی تاریخ میں مجروح سلطان پوری کی  حیثیت اک رجحان ساز غزل گو کی ہے ۔انھوں نے غزل کے کلاسیکی مزاج کو برقرار رکھتے ہوئے اسے جس طرح اپنے عہد کے مسائل کا آئینہ دار بنایا وہ کچھ انھیں کا حصہ ہے۔پرانی اور نئی غزل  کے درمیان  امتیاز کرنے کے لئے  اگر کسی ایک مجموعۂ غزل کی نشاندہی کی جائے تو وہ مجروح سلطان پوری کا مجموعۂ کلام "غزل" ہو گا۔

غزل                                           

مجروؔح سلطان پوری

ہم  ہیں   متاع   کو چہ  و  بازار   کی    طرح

                   اٹھتی   ہے   ہر   نگاہ   خریدار    کی   طرح

اس   کوئے تشنگی میں بہت ہے کہ ایک جام                  

ہاتھ   آ گیا   ہے  دولت   بیدار   کی طرح

وہ  تو   کہیں   ہے اور مگر دل کے آس پاس

                   پھرتی   ہے   کوئی   شے   نگہ   یار کی طرح

سیدھی  ہے   راہ شوق پہ یوں ہی کہیں کہیں

                  خم   ہو گئی   ہے  گیسوئے  دلدار  کی طرح

بے   تیشہ  نظر    نہ        چلو  راہ    رفتگاں

                   ہر  نقش    پا  بلند   ہے    دیوار    کی طرح

اب    جا  کے   کچھ  کھلا    ہنر  ناخن   جنوں

                  زخم   جگر   ہوئے  لب   و  رخسار کی طرح

مجروحؔ  لکھ  رہے   ہیں  وہ   اہل  وفا  کا   نام

                   ہم   بھی کھڑے ہوئے ہیں گناہ گار کی طرح

 

غزل                                           

معرؔاج فیض آبادی

ہم    غزل   میں   ترا   چرچا  نہیں  ہونے  دیتے

                           تیری   یادوں  کو  بھی   رسوا  نہیں  ہونے دیتے

کچھ   تو    ہم    خود  بھی  نہیں چاہتے شہرت اپنی

                           اور   کچھ   لوگ    بھی  ایسا   نہیں   ہونے  دیتے

عظمتیں    اپنے   چراغوں   کی   بچانے  کے لیے

                           ہم   کسی    گھر   میں    اجالا    نہیں   ہونے دیتے

آج   بھی   گاؤں   میں   کچھ   کچے مکانوں والے                          

گھر   میں   ہمسائے   کے   فاقہ نہیں ہونے دیتے

ذکر   کرتے   ہیں    ترا   نام     نہیں   لیتے    ہیں

                          ہم    سمندر     کو   جزیرہ    نہیں    ہونے  دیتے

مجھ   کو   تھکنے   نہیں   دیتا   یہ   ضرورت   کا پہاڑ                          

میرے   بچے    مجھے  بوڑھا   نہیں   ہونے دیتے


سکندر علی وجدؔ

سکندر علی نام، وجدؔ تخلص، 1914ء میں اورنگ آباد میں پیدا ہوئے۔ وہیں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ عثمانیہ یونیورسٹی سے عثمانیہ یونیورسٹی سے بی۔ اے کا امتحان پاس کیا پھر سول سروس کے امتحان میں کامیاب ہوکر سرکاری ملازمت میں داخل ہوئے اور ترقی کر کے ڈسٹرکٹ سیشن جج کے منصب تک پہنچے۔ لہو ترنگ‘، آفتاب تازہ، اوراق مصور، بیاض مریم، ان کے کلام کے مجموعے ہیں۔وجدؔ نے غزلیں بھی کہیں جن کا موضوع حسن و عشق اور قلبی واردات ہے لیکن اصلاً وہ نظم کے شاعر ہیں۔ اپنے عہد کے سیاسی معاملات اور طبقاتی کشمکس کو انہوں نے بری خوبصورتی کے ساتھ اپنی نظموں میں پیش کیا ہے لیکن ان کی نظمیں صرف انہی موضوعات تک محدود نہیں۔ ان کی شاعری کا کینوس بہت وسیع ہے۔ شاعر کے اردگرد دور تک پھیلی ہوئی جو زندگی ہے شاعر نے اس سے مواد حاصل کیا ہے۔ بقول وجدؔ ’’ہر آرٹ کی طرف شاعری بھی شاعر سے پوری زندگی کا مطالعہ کرتی ہے جو شاعر اس مطالبے کی تکمیل نہیں کرتا اس کی شاعری تشنہ رہ جاتی ہے۔ اپنی شاعری کے بارے میں وجدؔ فرماتے ہیں ’’میں نے اظہار خیال کے لئے کلاسیکی اسلوب منتخب کیا اور فن شعر کے اصولوں کی پابندی کرنے کی بھی امکانی کوشش کی ہے۔ شاعری می نئے تجربے کرنے کی مجھے فرصت نہیں ملی۔ میری شاعری، میری زندگی، انسان کی عظمت اور ترقی ہندوستان کی تاریخ و سیاست اور یہاں کے فنون لطیفہ سے طاقت اور حسن حاصل کرتی رہی ہے۔‘‘ رقاصہ، نیلی ناگن، آثارسحر، خانہ بدوش، معطر لمحے ان کی دلکش نظمیں ہیں۔

غزل                                                             سکندر علی وؔجد

فلک   یہ   جور  و ستم   مجھ سے ناتواں   کے لیے

                           میں ہی  تھا کیا ترے ظلموں کے امتحاں کے لیے

میں   مستعد   ہوں   اگر  نالہ  و  فغاں   کے لیے

                           تو   کچھ  سے  کچھ ابھی ہو  جائے آسماں کے لیے

پھنسا   کے   یار   کی  زلفوں  میں ہم نے دل

 دیکھو                          خریدی    اور  بلا   ایک   اپنی   جاں    کے لیے

کہے   گا   نا صحا   کیا    فائدے     کی   تو   میرے                          ہوئے   ہیں

 خلق   ہی عاشق فقط زیاں کے لیے

نہ           خرچ   با خدا   عمر   عزیز      اپنی       کر                         ملا    نہیں    

تجھے   یہ  نقد      رائیگاں    کے لیے

نہ   یہ    کہ    ہر کس  و ناکس کے بھاٹ جائیے

 بن                         پئے   امید   زر  نقد  و   حرص   ناں     کے لیے

وہ   جو   زبان   کہ  ہو   اس   کی مدح سے ساکت

                          مجال   نطق   نہ   ہو   عیشؔ   اس   زباں کے لیے

 

 

شہر یار

کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور رمی کھیلنا پسند کرتے تھے۔ خلیل الرحمن اعظمی سے قربت کے بعد شاعری کا آغاز ہوا۔ کچھ غزلیں کنور محمد اخلاق کے نام سے شائع ہوئیں۔ خلیل الرحمان اعظمی کے مشورے پر اپنا نام شہریار رکھا۔ ان کے والد پولس انسپکٹر تھے۔ انجمن ترقی اردو (ہند )علی گڑھ میں لٹریری اسسٹنٹ بھی رہے اورانجمن کے رسائل اردو ادب اور ہماری زبان کی ادارت بھی کی۔ مغنی تبسم کے ساتھ شعر وحکمت کی ادارت بھی کی۔ ان کی شہرت میں مظفر علی کی گمن اور امراؤ جان جیسی فلموں کا اہم رول ہے۔ فلم انجمن کے گانے بھی انہی کے لکھےہوئے ہیں۔ ساہیتہ اکادمی کے لیے بیدار بخت نے مری این ائر کی مدد سے ان کے منتخب کلام کا انگریزی میں ترجمہ کیا۔ ایک انگریزی ترجمہ رخشندہ جلیل نے بھی کیا ہے۔ سنگ میل پبلی کیشنز پاکستان سے ان کا کلیات شائع ہوا جس میں ان کے چھے مجموعے شامل ہیں۔ یہی کلیات 'سورج کو نکلتا دیکھوں' کے نام سے ہندوستان سے شائع ہو چکا ہے۔ ان کے کلام کا ترجمہ فرانسیسی ،جرمن، روسی، مراٹھی، بنگالی اور تیلگو میں ہو چکا ہے۔ گیان پیٹھ اور ساہتیہ اکیڈمی سمیت متعد د اعزازات سے نوازے گئے۔ 13 فرروری2012 کو داعی اجل کو لبیک کہا۔

 

 

غزل                                                            شہر ؔیار

    زندگی  جب  بھی  تری  بزم  میں  لاتی ہے

ہمیں                                         یہ   زمیں  چاند   سے   بہتر  نظر  آتی     ہے   ہمیں

سرخ  پھولوں  سے  مہک اٹھتی ہیں دل کی راہیں

                            دن   ڈھلے   یوں   تری   آواز   بلاتی ہے  ہمیں

یاد    تیری    کبھی   دستک   کبھی  سرگوشی   سے                          

رات   کے    پچھلے   پہر  روز     جگاتی ہے ہمیں

ہر   ملاقات    کا    انجام   جدائی     کیوں  ہے

                            اب    تو   ہر   وقت    یہی   بات ستاتی ہے ہمیں

 

 

 


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.