مثنوی کی تعریف اور فن
مثنوی لفظ ثنا سے مشتق ہے
اور اس کے معنی ہیں ؛ دو ؛ دو ؛ کیا ہوا ۔ مثنوی کے ہر شعر میں اس کا قافیہ ،قافیہ
و ردیف الگ الگ ہوتا ہے ۔ اس طرح دو ؛ دو
ہم قافیہ مصرعوں کی رعایت سے ہی اس صنف کو مثنوی کہا جا تا ہے ۔ مثال کے طور پر:
وہ اجلا
سا میداں چہکتی
سی ریت اگا نور سے
چاند تاروں کا
کھیت
درختوں
کے سائے سے
مہ کا ظہور
گرے جیسے چھلنی سے چھن چھن کے نور
پہلے شعر میں ریت اور
کھیت ؛ قافیہ ، دوسرے شعر میں ظہور اور نور : یہ دونوں بھی فافیہ ہیں ۔ پہلے اور
دوسرے شعر کے قافیہ مختلف ہیں اس طرح یہ مثنوی کی ہیت یا بناوٹ کہلاتی ہے ۔ چوں کہ
صنف مثنوی میں ہر شعر میں قافیہ تبدیل ہوتا ہے اور مثنوی نگار کو قافیہ کی تلاش
میں پریشان نہیں ہونا پڑتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اردو شاعری میں طویل مثنویاں کافی
تعداد میں لکھی گئی ہیں اور طویل داستانوں کے ساتھ ساتھ ان میں مختصر قصے بھی نظم
کیے گئے ہیں ۔مثنوی میں ہرقسم کے موضوعات کو جگہ دی گئی ہے ان میں حسن وعشق ، رزم
و بزم ، تصوف و اخلاق ، فلسفہ و سماج غرض کہ ہر قسم کے موضوعات کو نظم کیا گیا ہے
۔ ان مثنویوں میں فوق الفطری کردار بھی فعال نظر آتے ہیں جیسے کہ جن ، پری ، دیو
وغیرہ دکن میں رزمیہ مثنویاں خاصی تعداد میں لکھی گئی ہیں جب کہ شمالی ہند میں
عشقی مثنویاں لکھی گئی ہیں ۔ جیسے مثنوی زہر عشق ،سحر البیان اور گلزارنسیم وغیرہ
۔ان کے علاوہ مولانا آزاد اور مولاناحالی نے مناظر فطرت اور سماجی مسائل کو
مثنویوں کا موضوع بنایا ہے ۔ غرض یہ کہ مثنوی کی دنیا بڑی وسیع ہے اور اس دنیا میں
ہر طبقے ، ہر تہوار ، ہر رسم ورواج ، لباس ، سواریاں ، شائستہ زبان کے ساتھ ساتھ
بولی ٹھولی ، محاورے ، ضرب المثل ، ہر مذاق کا بیان ، جذبات نگاری ، منظر نگاری ،
کردار نگاری ، مکالمہ نگاری ، ڈرامہ نگاری قومی یکجہتی فرض یہ کہ سب ہی کچھ ملتا
ہے ۔
مثنوی کی ابتدا حمد ونعت سے کی جاتی ہے اس میں
اپنے رب کی تعریف اور رسول پاک ﷺ کی نعت بیان کی جاتی ہے ، بہت سے شعراء نے منقبت
بھی لکھی ہے مثنوی کے اندر مذہبی مسلک اور عقائد کی کوئی قید نہیں ہے ۔ مثنوی کا
دوسرا جز مدح حاکم فرمانںرواںِ وقت ہوتا ہے ان کی تعریف کرنا اس لیے ضروری ہوتا ہے
کہ در باروں سے وابستہ ہونے کی وجہ سے ان کے لئے روزی روٹی کا مسئلہ ہوتا ہے اور
حکمراں کی تعریف وسیلہ روز گا ر تھا ۔مثنوی کوطویل نظم یا منظوم داستان بھی کہا جا
تا ہے کیونکہ اس کے اندر کوئی واقعہ تسلسل کے ساتھ بیان کیا جا تا ہے ۔ حالی نے اس
لیے اس صنف کو سب سے زیادہ کارآمد بتایا ہے کیونکہ اس کے اندر ہرطرح کے مضامین
بیان کرنے کی گنجائش ہے ۔ مثنوی نگار نفس قصہ اور موضوع کی طرف زیادہ توجہ دیتے
ہیں مثنوی کا خاکہ تیار کر کے اس کی تکمیل کی جاتی ہے اس وجہ سے واقعات کی ترتیب
وتعمیر میں تعمیر میں تسلسل ہونا ضروری ہے ، واقعہ نگاری فطری بھی ہوسکتی ہے اور
غیر فطری بھی یعنی اس میں انسانی کرداروں کے ساتھ ساتھ فوق الفطری کر دار بھی
فعالیت کے ساتھ نظر آتے ہیں ۔ان کرداروں کے جذبات ، احساسات ، اور نفسیات کا اظہار
رواں دواں نظر آتا ہے ، کردار اپنے مکالمے کے ذریعہ مثنویوں میں فعال نظر آتے ہیں
اس لیے مثنوی نگار کو جذبات نگار ، نفسیات نگار اور مکالمہ نگار ہونا بھی ضروری
ہوتا ہے ۔ مثنوی کے واقعات میں عروج ، جد و جہد ، کلائمکس اور خاتمہ ہوتا ہے ،
مثنویوں کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ زیادہ تر مثنویوں کا خاتمہ دل چسپ اور
خوشگوار ہوتا ہے اور ہیرو ہیروئن آخر میں مل جاتے ہیں مثنویاں اپنے دور کے ماحول
کی عکاسی کرتی ہیں ۔ ڈاکٹر گیان چند جین نے کہا ہے کہ
" تمام اصناف سخن میں مثنویوں میں تہذیب کی
مرقع کشی سب سے زیادہ ہوئی ہے‘‘ ۔
دکن کی مثنویوں میں دکنی
سماج و معاشرت جلوہ گر ہے تو شمالی ہند کی مثنویوں میں دہلی اور لکھنوی معاشرت کی
جھلکیاں بہ خوبی دیکھی جاسکتی ہیں ، اس دور کا نظام جاگیردارانہ تھا اور یہی طبقہ
اعلی شمار ہوتا تھا گویا کہ شعراء کے لئے میں جا گیردار ، نواب اور حکمراں آئیڈ
میں ہوا کرتے تھے اس لئے مثنویوں میں یہی طرز حیات بیان کی جاتی تھی۔ ہماری
زندگیوں میں ہر موقع کے رسم ورواج کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ بچوں کی پیدائش پر چھٹی
، چلہ ، عقیقہ وغیرہ کا رواج ہے اور مثنویوں میں ایسے رسم ورواج کا اہتمام کیا جا
تا ہے ، اسی طرح سے شادی بیاہ میں بہت سی رسمیں ادا کی جاتی ہیں ، میلے ٹھیلے جلوہ
جلوس ، کھیل کود ، بازیاں جیسے چوسر وغیرہ کا بیان مثنویوں کا ایک اہم حصہ ہے ،
اسی طرح سے جاگیردارانہ نظام میں نواب یا حکمراں ، ان کے وارث دائیاں ، ا تالق ، رمال وغیرہ کا بیان بھی بڑے دلچسپ
پیرائے میں کیا جا تا ہے ۔ مثنویوں میں مذہبی عقائد اور مزارات کا بھی ذکر ہوتا ہے
۔ لباس کی اقسام نیز سرتا پا زیورات وغیرہ کا ذکر
ملتا ہے ان کے علاوہ رقص وسرور کی محفلیں اوران کی تفصیلات بھی مثنویوں میں
جلوہ گر رہتی ہیں ۔ اسی طرح سے اس زمانے کے شعرا اور ان کی کتابوں کے نام بھی
مثنوی میں ملتے ہیں جیسے ظہوری اور نظیر کا انتخاب اور کچھ انتخاب سودا ، میر اور
میرحسن کے بھی اس دور کے شعر وادب کے ذوق کو ظاہر کرتے ہیں ۔ مثنوی سحر البیان میں
بیان طویل ہے لیکن مثنوی گلزار نسیم کا سب سے بڑا وصف اس کا اختصار اور جامعیت ہے
بڑے سے بڑے واقعے کو نسیم نے اختصار سے ایک دوشعر میں بیان کر دیا ہے ۔ لکھنوی طرز
معاشرت کی ایک اہم مثنوی : زہر شق ہے اس کے اشعار ضرب المثل بن گئے ہیں اور اس
مثنوی کوعریانی اور فحاشی کی مثال کہا جا تا ہے جب کہ سچائی یہ ہے کہ : زہر عشق :
ناتو عریاں ہے اور نہ ہی فحش ۔ وہ معاشرت میں جنم لینے والی ایک عشق کی چھوٹی سی
کہانی ہے جو کہ موجودہ دور میں ایک سادہ بات ہی کہی جاسکتی ہے ، اس مثنوی میں نہ
تو لباس کا ذکر ہے اور نہ ہی زیور کا اور نہ کسی رسم رواج کا بیان ہے صرف واردات
کا اظہار کیا گیا ہے جو کہ لکھنوی معاشرت کا عام رجحان تھا ۔
مثنوی کا آغاز و ارتقا
اردومنثوی کو دکن میں فروغ
حاصل ہوا ۔ دکن کی شاعری میں مثنوی لکھنے کا زیادہ رجحان ملتا ہے ، اور اسی رجحان
کی وجہ سے نویں صدی ہجری سے گیارہویں صدی ہجری کے درمیان کافی تعداد میں مثنویاں
لکھی گئیں ہیں ۔ وکن کی پہلی مثنوی ’’کدم راؤ پدم راؤ ‘ ‘ ہے جو کہ فخر الدین
نظامی نے لکھی ہے ۔ اس دور میں میراں جی شمس العشاق نے ’’شہادۃ الحقیقت ‘‘اور
’’خوش نامہ‘‘ تصوف سے متعلق ، سید اشرف
بیابانی کی ’ ’ نوسر ہار ‘‘ برہان الدین جانم کی ’’ارشاد نامہ ‘‘ وصیت الہادی ،
حجت البقاء, نسیم الکلام، صفت الکلام ؛ عبدل کی ابراہیم نامہ اور ملا وجہی کی قطب
مشتری اہم مثنویاں ہیں ۔ ملا وجہی کی مثنوی ’ ’ قطب مشتری ‘ ‘ دکن کی پہلی طبع
زادمثنوی ہے ۔ اس کو ملا وجہی نے ۱۶۰۹ ء میں تصنیف کیا تھا ۔ اس مثنوی کا موضوع
قلی قطب شاہ اور مشتری کی عشق کی داستان کا بیان ہے ۔ والی گولکنڈہ ابراہیم کے
بیٹے قلی قطب شاہ کو خواب میں ایک حسینہ دکھائی دیتی ہے اور وہ اس کے عشق میں
مبتلا ہو کر کافی پریشانیاں اٹھا کر اس کو حاصل کر لیتا ہے ۔ اس طرح سے دونوں کی
شادی ہو جاتی ہے ۔ اس کہانی کا پلاٹ سادہ اور تسلسل کے ساتھ ہے ۔ اس کے کردار بے
شمار ہیں جن کے اندر فوق الفطری کردار بھی شامل ہیں لیکن منظر نگاری کے لحاظ سے یہ
مثنوی بہت اہم مانی جاتی ہے ۔ اس کے اندرگلوں اور باغوں کی منظر نگاری دکش اور
اعلی درجے کی ہے ۔ خواصی نے تین مثنویاں لکھیں : سیف الملوک بدیع الجمال بطولی
نامہ اور میناستوتی ہیں مقیمی کی چندر بدن اور مہیار بھی قابل قدر مثنوی ہے ۔ اسی
دور کی اہم مثنویوں میں نصرتی کی ’ ’ گلشن عشق‘‘اور’’علی نامہ ۔ اس کے علاوہ ابن
نشاطی کی پھول بن ‘ بھی قابل ذکر ہے ۔ نصرتی نے گلشن عشق 1675 ء میں لکھی تھی اس
میں منوہر اور مالتی کو موضوع بنایا گیا
ہے ۔ اس میں حمد اور نعت ، منقبت حکمراں کی تعریف اور ت کے موضوع پر روشنی ڈالی
گئی ہے ۔ نیز اس کا سبب تالیف بھی بیان کیا گیا ہے ۔ یہ ایک طویل مثنوی ہے ۔ اس کے
اندر رابیہ نو ہر ، مالتی ، چاندر تین اور چھپادتی کے عشق کی داستان کو ظلم کی گیا
ہے ۔ قصہ مربوط ہے ، مثنوی کے بھی اجزا کا اہتمام کیا گیا ہے ، زبان و بیان کے
اعتبار سے اس مثنوی کو بہترین مثنوی تسلیم کیا جا تا ہے ۔ نصرتی کی علی نامہ 1665
ء میں لکھی گئی تھی اور یہ ایک راز میہ مشنوی ہے ۔ یہ شاہ نامہ کے انداز میں لکھی
گئی ہے ، اس لیے اس کو دکن کا شاہ نامہ کہا جا تا ہے ۔ قلعہ پنالہ علی عادل شاہ نے
فتح کیا تھا ، اس کا بیان اس مثنوی میں کیا گیا ہے ۔ اس میں با قاعدہ عنوان تحریر
کیے گئے ہیں ۔ ابتدا میں حمد ونعت ، منقبت ، مدح اور پھر میدان جنگ کے نقشے ،
فوجوں کے معر کے اور ہتھیاروں کا استعمال اور فتح کا ذکر کیا گیا ہے ۔ نصرتی کی
زبان و بیان پر قدرت اس مثنوی کی خوبی ہے ۔ مثنوی ” پھول بن ‘ ‘ ابن نشاطی نے
تحریر کی ہے ۔ یہ ایک فارسی قصہ ہے جس کو اردو کا جامہ پہنایا گیا ہے اور اس میں
مذہبی پند و نصائح بیان کیے گئے ہیں ۔ ابن نشاطی کی زبان پر پنجابی زبان کے اثرات
ہیں ۔ یہ مثنوی دکنی زبان کی ممتاز مثنویوں میں شمار کی جاتی ہے ۔ سراج اورنگ
آبادی کی بوستان خیال لچھمی نارائن شفیق کی تصویر جاناں بھی اس دور کی قابل ذکر
مثنویاں ہیں ۔ جنیدی کی ماہ پیکر طیبی کی بہرام گل اندام ، فائز کی رضوان اور روح
افزا ، ہاشمی کی یوسف زلیخا ، رستمی کی طویل مثنوی خاور نامہ دکن کی بہترین
مثنویاں تسلیم کی جاتی ہیں ۔ اس زمانے میں مذہبی نوعیت کی مثنویوں میں عشرت کی چت
لگن ، بحری کی من لگن اور ولی ویلوری کی روضتہ الشہداء اشرف کی جنگ نامہ قابل ذکر
مثنویاں ہیں ، جب کہ رومانی قصے میں عاجز کی قصہ لعل و گہر اور آگاہ کی تکر ارعشق
کافی مشہور ہیں ۔ دکن میں مذہبی نوعیت کی صوفیانہ ، رزمیہ ، بزمیہ غرض سب ہی قسم
کے موضوعات پر شعرا نے طبع آزمائی کی ہے ۔ زبان کے لحاظ ان میں دکن کی زبان
استعمال کی گئی ہے جو کہ فطری ہے ۔ اس کے علاوہ کچھ فارسی اور سنسکرت کے قصوں کو
بھی اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے ، ۔ شمالی ہند میں اردو مثنویاں اتنی زیادہ تعداد
میں تو نہیں لکھی گئیں جتنی کہ دکن میں لکھی گئی ہیں۔شمالی ہند میں افضل جھنجھانوی
کی بکٹ کہانی کو جو کہ ایک بارہ ماسہ کے طرز پرلکھی گئی ہے پہلی مثنوی تسلیم کی جا
تا ہے ۔ میر اور سودا نے بھی قابل ذکر مثنویاں لکھی ہیں ۔ میرکی مثنوی دریائے عشق
کا موضوع عشق کی ایک ایسی داستان ہے جس کا انجام عاشق اور محبوب کے دریا میں ڈوب
مرنے پر ہوتا ہے ۔ عشق اور شعلہ بھی میر کی مثنوی ہے۔ میر کی مثنویوں میں دنیا کی
بے ثباتی اور حالات کی نارسائی کا بیان ہے ۔ خواجہ میر درد کے بھائی میراثر نے بھی
ایک مثنوی خواب و خیال کے نام سے تصنیف کی ہے جو معشوق کی سراپا نگاری کا اچھا نمونہ ہے ۔ اس میں بجراور تمناے
وصال کا بھی ذکر ہے ۔ اس مثنوی کی زبان کی تعریف کرتے ہوے ڈاکٹر عبدالحق نے لکھا
ہے :
جدید اردوزبان کی جب سے بنیاد
پڑی ہے شاید ہی کوئی مثنوی زبان کی سلاست آور روانی فصاحت اور شیرینی روز مرہ کی
صفائی ، قافیوں کی نشست اور مسرتوں پرستی زنانے اور مردانے محاوروں کے بے خلاف
استعمال میں مثنوی خواب و خیال کا مقابلہ کر سکتی ہے ۔
شمالی ہند میں سب سے بہترین مثنوی میر حسن کی
سحرالبیان ہے ۔ میں اس نے مثنوی سحر البیان ۱۱۹۹ ہجری ۸۳ یاء میں تصنیف کی ۔ میر
حسن نے کل گیارہ ( ۱۱ ) مثنویاں لکھی ہیں جن میں سحرالیان میر حسن کی شاہکارمثنوی
ہے ۔ یہ ایک ایسی مثنوی ہے جس نے ادب کی تاریخ میں اپنے مصنف کا نام زندہ و جاوید
کر دیا ۔ اس مثنوی میں شہزادہ بے نظیر اور شہزادی بدرمنیر کی مشق کی داستان بیان
کی گئی ہے ۔ اس کا ذکر آگے تفصیل سے آئے گا ۔ شمالی ہند ہی نہیں بلکہ اردوزبان
وادب کی تاریخ میں پنڈت دیا شنکرنسیم کی مثنوی گلزار نیم قابل تعریف مثنوی ہے ۔ یہ
ایک عشقیہ مثنوی ہے جو لکھنو میں لکھی گئی تھی ۔ یہ مشنوی لکھنوی تہذیب کی آئینہ
دار ہے ۔ جس کو نسیم نے ۱۸۳۵ ء میں لکھا تھا ۔ اس میں تاج الملوک اور گل بکاولی کی
عشقیہ داستان کا بیان ہے ۔ اس کا ذکر بھی آگے تفصیل سے آۓ گا ۔ گلزار نسیم کے بعد قتیل
کی مثنوی طلسم الفت اور واجدعلی شاہ کی مثنوی حزین اختر قابل ذکر ہیں ۔ اس دور میں
حکیم تصدق حسین عرف نواب مرزا شوق کی مثنوی زہرعشق ایک اہم مثنوی ہے جو کہ لکھنو
کی تہذیب کی آئینہ دار ہے جس کے ذکر کے بغیر مثنوی کی تاریخ مکمل نہیں ہوسکتی ۔
مرزا شوق سے پانچ مثنویاں منسوب ہیں : قریب عشق ، بہار عشق ، زہر عشق ، لذت عشق
اور مجرم مشق لیکن زبر عشق شوق کی شہرت کا باعث بنی ۔ اس میں کوئی بھی فوق الفطری
کردار نہیں ہے بلکہ اس میں جیتے جاگتے اور چلتے پھرتے کردار ہیں جو کہ نہ تو سراپا
شیطان ہیں اور نہ ہی سراپا فرشتے بلکہ د وبہترین خصوصیات کے حامل کر دار بنایا -
اس کے ہیرومرزا شوق خود ہیں ۔ ان کو پڑوسی سودا گر کی بیٹی میں سے مشتق ہو جا تا ہے ۔ دونوں چپ چپ کر ملنے
لگتے ہیں اور جب بھید کھل جاتا ہے تو دونوں بدنامی کے ڈر سے زہر کھا لیتے ہیں ، جس
میں لڑ کا تو پیچ جا تا ہے لیکن لڑ کی جان دے دیتی ہے ۔ اس مثنوی میں جذبات نگاری
بہت عمدہ ہے ۔ دنیا کی بے ثباتی کا بیان اثر انگیز ہے ۔ ز ہر مشتق اپنی عریانی کے
عیب کے باوجود بہترین مثنوی میں شمار کی جاتی ہے ۔ حالی اور آزاد نے انجمن پنجاب
کے مشاعروں کی بنیاد ڈالی تو مثنولوں کے موضوع بدل گئے ۔ شقیہ داستانوں کے بجائے
اب مناظر فطرت اور حب الوطنی مثنویوں کے موضوع ہے ۔ اس سلسلے میں حالی کی حب وطن ،
منا بات بیوہ ، آزاد کی خواب امن اس قبیل کی مثنویاں ہیں ۔ علامہ اقبال نے بھی کئی
مثنویاں لکھی ہیں ۔ان کی مثنویوں میں سید کی لوح تربت ساقی نامہ اہم ہیں ، لیکن ان
میں ساقی نامہ سب سے اعلی درجے کی مثنوی ہے ۔ سردار جعفری کی جمہوری سیلی.،علمی
خانہ جنگی ، جوش کی مثنوی جنگل کی شہزادی و جمنا کنارے اور یہ سہاگن بڑی دلکش اور
پرتاثیر مثنویاں ہیں ، حفیظ جالندھری کی
مثنوی شاہنامہ اسلام اس دور کی طویل مثنوی ہے
مثنوی کا سماجی اور تہذیبی پس
منظر:۔
اردو شاعری کی مثنوی ایک اہم
صنفِ سخن ہے جس میں داستان، عشقیہ، صوفیانہ اور تاریخی موضوعات پر طویل بیانیہ
اشعار کہے گئے ہیں۔ اس صنف نے برصغیر کی تہذیب و ثقافت کو نہ صرف محفوظ کیا بلکہ
اسے عام لوگوں تک پہنچانے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ اردو مثنویوں میں ہمیں اس
وقت کے سماجی، سیاسی اور تہذیبی حالات کا عکس واضح طور پر نظر آتا ہے۔مثنوی دراصل
وہ صنفِ شاعری ہے جس میں طویل بیانیہ اشعار ہوتے ہیں، اور ہر شعر کے دونوں مصرعے
ہم قافیہ ہوتے ہیں۔ اس میں کسی داستان، واقعے یا نصیحت آموز قصے کو تفصیل سے بیان
کیا جاتا ہے۔ فارسی اور اردو شاعری میں مثنوی کو خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ اس میں
ایک مربوط اور مسلسل کہانی بیان کی جاتی ہے جو نثر کی طرح مفصل اور شاعری کی طرح
دلنشین ہوتی ہے۔
اردو مثنویوں کا سماجی پس منظر:اردو مثنویوں کے مطالعے سے
ہمیں اس دور کے سماجی حالات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ یہ مثنویاں اس دور کے طرزِ
زندگی، رسوم و رواج، طبقاتی نظام، اخلاقی قدروں اور انسانی رویوں کی عکاسی کرتی
ہیں۔
1. طبقاتی
فرق اور سماجی زندگی: مثنویوں میں اس وقت کے معاشرتی طبقات کی جھلک نمایاں
نظر آتی ہے۔ امیر اور غریب، بادشاہ اور فقیر، عالم اور جاہل، ہر طبقے کی زندگی کا
عکس ان میں ملتا ہے۔ مثلاً میر حسن کی مثنوی "سحرالبیان" میں امرا اور
شرفا کے رہن سہن، لباس، تفریحی مشاغل اور محبت کے معاملات کی بھرپور تصویر کشی کی
گئی ہے۔
2. عورت
کا مقام:
اردو مثنویوں میں عورت کے کردار کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ اس میں عورت کے جذبات،
احساسات اور اس کی سماجی حیثیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ بعض مثنویوں میں عورت کو
مظلوم دکھایا گیا ہے تو کہیں اس کی ذہانت، وفاداری اور محبت کی عکاسی کی گئی ہے۔
"سحرالبیان" اور "زہرِ عشق" جیسی مثنویاں اس کی بہترین مثالیں
ہیں۔
3. اخلاقی
اور اصلاحی پہلو:
مثنویوں میں اخلاقی تعلیم اور اصلاحِ معاشرہ کا بھی عنصر نمایاں ہے۔ صوفیانہ
مثنویاں بالخصوص اس سلسلے میں نمایاں ہیں جن میں نیکی، راست بازی، حق گوئی اور
محبتِ الٰہی کا درس دیا گیا ہے۔ مولانا جلال الدین رومی کی مثنوی "مثنوی
مولانا روم " اور اردو میں پنڈیت دیا شنکر نسیمؔ کی "مثنوی گلزارِ نسیم" اسی اصلاحی
پہلو کی عکاسی کرتی ہیں۔
4. رسم و رواج اور معاشرتی اقدار: مثنویوں میں شادی بیاہ، عیدین، میلوں، تہواروں اور دیگر تقریبات کا ذکر کیا جاتا ہے، جس سے ہمیں اس وقت کے رسم و رواج کا اندازہ ہوتا ہے۔ "گلزارِ نسیم" اور "سحرالبیان" میں اس وقت کی معاشرتی زندگی اور سماجی میل جول کا حسین عکس موجود ہے۔
اردو مثنویوں کا تہذیبی پس
منظر:اردو
مثنویوں میں نہ صرف سماجی حالات بلکہ تہذیب و ثقافت کے مختلف پہلو بھی نمایاں ہوتے
ہیں۔ یہ مثنویاں ہمیں اس وقت کی زبان، ادب، فنونِ لطیفہ، موسیقی، رہن سہن اور طرزِ
تعمیر سے آگاہ کرتی ہیں۔
1. زبان
و بیان:
اردو مثنویوں میں زبان کا انداز نہایت سادہ، مگر شاعرانہ ہوتا تھا۔ ان میں فارسی
اور عربی کے الفاظ کی بھرمار ہوتی تھی، جو اس دور کے ادبی رجحان کو ظاہر کرتی ہے۔
مثلاً میر حسن کی "سحرالبیان" اور "گلزار ِ نسیم " میں شائستہ
زبان اور فصاحت و بلاغت کی مثالیں موجود ہیں۔
2. ادبی
تہذیب:
اردو مثنویوں نے نہ صرف زبان کو ترقی دی بلکہ شعری جمالیات کو بھی نکھارا۔ ان میں
استعارے، تشبیہات اور صنائع بدائع کا خوبصورت استعمال ملتا ہے۔ یہ مثنویاں برصغیر
کی تہذیبی تاریخ میں ادب کی ترقی کے اہم سنگ میل سمجھی جاتی ہیں۔
3. موسیقی
اور رقص:
اس وقت کے درباروں اور معاشرتی زندگی میں موسیقی اور رقص کو خاص مقام حاصل تھا۔
اردو مثنویوں میں ان فنونِ لطیفہ کا ذکر بار بار ملتا ہے، جو اس وقت کے تہذیبی
ماحول کی نمائندگی کرتا ہے۔ خاص طور پر درباری زندگی اور مشاعروں کے احوال کو
مثنویوں میں عمدہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
4. لباس
اور طرزِ زندگی:
اس دور میں شاہی لباس، زیورات، کھانے پینے کی عادات، عمارتوں کی خوبصورتی اور طرزِ
زندگی کے دوسرے پہلو مثنویوں میں جابجا بیان کیے گئے ہیں۔ خاص طور پر "گلزارِ
نسیم" اور "سحرالبیان" میں اس وقت کے طرزِ زندگی کی خوبصورتی اور
نزاکت نمایاں ہے۔
اردو مثنوی محض ایک ادبی صنف نہیں بلکہ برصغیر کی سماجی اور تہذیبی تاریخ کی ایک اہم دستاویز بھی ہے۔ ان مثنویوں میں ہمیں اس وقت کے سماجی حالات، اخلاقی قدریں، معاشرتی رسم و رواج، ادبی تہذیب اور روزمرہ زندگی کی جھلکیاں ملتی ہیں۔ اردو مثنویوں نے نہ صرف ادب میں اپنا مقام بنایا بلکہ برصغیر کے تہذیبی ورثے کو محفوظ رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ آج بھی اگر ہم اپنے ماضی کی جھلک دیکھنا چاہیں تو اردو مثنویوں کا مطالعہ ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔
میر حسن کی مثنوی نگاری
کہا جاتا ہے کہ میر حسن نے اگر
مثنوی سحر البیان نہیں لکھی ہوتی تو بھی ان کا نام تاریخ ادب میں باقی رہتا وہ اس
لیے کہ وہ میر خلیق کے والد اور میر انیس کے دادا تھے لیکن میر حسن کو اس کی ضرورت
نہیں انھوں نے ایک شاہ کار تخلیق کیا جو کہ خود زندہ رہے گا اور اپنے خالق کو بھی
زند د ر کھے گا۔
میر حسن دہلی میں پیدا ہوئے
تھے ان کے والد سودا کے ہم عصر میں نام حسین ضاحک تھے ۔ ابتدائی تعلیم انھوں نے
اپنے والد سے حاصل کی ۔ دہلی اس وقت طوائف الملو کی کا شکار تهی و دیار باربیس کر
بار بار اجڑ رہی تھی ۔ باہری حملوں کی باعث دہلی کے کوچے اوراق مصور بنے ہوئے تھے
اور ایسے حالات میں لوگوں کو نان ناشتیہ میسر نہ تھا ، اہل فن واہل کمال کی حالت
دگرگوں تھی۔ چنانچہ اہل کمال دہلی سے ترک سکونت کر کے ملک کے مختلف مقامات کا رخ
کر رہے تھے، اہل دہلی کا رخ اودھ کی طرف زیادہ تھا یہی وجہ ہے کہ میر اور سودا
جیسے شعراء نے بھی لکھنوکی طرف رخ کیا ۔ میر حسن کے والد بھی تلاش معاش کے سلسلے
میں فیض آباد پہلے آئے ۔ اس وقت میر حسن کی عمر بارہ سال کی تھی ۔میر حسن کو شاعری
وراثت میں میں تھی یہ فیضان خدا داد بھی تھا اس لیے میر حسن نے ہر صنف میں طبع
آزمائی کی اس کےساتھ انھوں نے ایک تذکر د بھی تصنیف کیا۔
اردو شاعری میں میر حسن اپنی
لازوال تصنیف مثنوی سحر البیان کے علاوہ کئی وجوہ سے زندہ ہیں ۔ میر حسن نے تقریبا
گیار ہ مثنویاں لکھی ہیں لیکن شہرت عام اور بقائے دوام کا تاج میر حسن کے سر پر
مثنوی سحر البیان ہی نے رکھا ہے۔میر حسن نے اپنی اس تصنیف پر بڑا فخر کیا ہے اور
اپنی ناموری کا ذریعہ قرار دیا ہے
کہ رہے گا جہاں میں مرا اس سے
نام
کہ رہے یادگار جہاں یہ کام
میں حسن کی شہرت اور مقبولیت کی وجہ مثنوی سحر البیان ہے۔ اس دور میں میرحسن نے مربوط اور باکمال مثنوی لکھ کر ایسی شمع روشن کی جس کی روشنی میں کئی مثنویاں لکھی گئیں ۔
مثنوی سحرالبیان کی خصوصیات
مثنوی سحر البیان کی کہانی
سیدھی اور سپاٹ ہے لیکن میر حسن نے ڈرامائی انداز اپنایا ، اس کے علاوہ منظر نگاری
اور جذبات نگاری کی کا میاب عکاسی کی ہے ۔ اس میں شاعر نے خیالی کرداروں کو کھنو
کے جاگیردارانہ نظام کے نواب زادوں کو حقیقی انداز میں ڈھال کر پیش کیا ہے اوران
کے احساسات و جذبات نیز نفسیات کے بیان کا حق ادا کر دیا ہے ۔ لکھنو کی تہذیب میں
محفل کی آرائش پر خاصی توجہ دی جاتی تھی اور مثنوی سحرالبیان میں میر حسن نے اس کا
خاص اہتمام کیا ہے ، یہ مثنوی ایک ایسا آئینہ ہے جس میں لکھنو کی تہذیب جلوہ گر ہے
، اس میں سارے کردار چلتے پھرتے اور باتیں کر تے ہو ے دکھائی دیتے ہیں ان میں سے
کچھ کردار تو زندہ و جاوید ہو گئے ہیں جیسے نجم النساء کا کردار ایک متحرک اور
فعال کردار ہے جو کہ ادب میں زندہ کردار ہے ۔ جزئیات نگاری اس مثنوی کا نمایاں وصف
ہے جذبات اور احساسات کا بیان بہت مفصل انداز میں کیا گیا ہے ، مختلف فنون صنعتوں
اور پیشوں کی اصطلاحات مفصل بیان کی گئی ہیں ۔ مثلا نجوم موسیقی ، رسم الخط ، پھولوں
، زیورات ، سوار یوں وغیرہ کی اصطلاحات کا بیان نہایت مفصل انداز میں پیش کیا گیا
ہے ۔ کہا جا تا ہے کہ مثنوی سحر البیان کی شہکا ری اس کی سحرالبیانی کی وجہ سے ہے
، الفاظ کی صنعت گری ، رعایت لفظی ، میر حسن کی طرز نگارش کا بہترین نمونہ ہے ۔
میر حسن نے مثنوی سحر البیان صاف اور با محاورہ زبان میں تصنیف کی ہے جس کی وجہ سے
اس کے کئی اشعار ضرب المثل بن گئے ہیں مثلا
سدا
عیش دوراں دکھاتا نہیں گیا وقت
پھر ہا تھ آ تا نہیں
برس پندرہ یا کہ سولہ کا سن جوانی کی راتیں ، مرادوں کے دن
مثنوی دہلی اور لکھنو کی تہذیب کا مشتر کہ ورثہ کہلاتی
ہے اس میں دلی جذ بہ سچائی اور تا ثیر ہے ساتھ ہی ساتھ اس جوانی کی راتیں ، مرادوں
کے دن میں کاریگری اور صنعت پر وری بھی ہے ، اس مثنوی کی خصوصیات کو سمجھنے کے لیے
ذیل میں چند اشعار بطورنمونہ پیش کیے جاتے ہیں ۔
ا ۔ باغ
کی آرایش وزیبائش کا بیان ….
عمارت کی خوبی دروں کی وہ شان لگے جس میں زربفت کے سائبان
چھتیں اور پردے بند ھے زرنگار دروں پر کھڑی دست بستہ بہار
۲۔ باغ کا منظر …….
گلوں کا
لب نہر پر
جھومنا اسی اپنے
عالم میں منھ چومنا
وہ جھک جھک کے گرنا خیابان پر نشے کا
سا عالم گلستان پر
نہر کے کنارے بہار کا
خوبصورت منظر بیان کیا ہے پھول جھوم رہے تھے اور ایک دوسرے کے منھ چوم رہے تھے ،
حسن تعلیل کا بیان کیا ہے درخت پاس پاس اس طرح کھڑے ہیں کہ ان کی شانیں لپٹی ہوئی
محسوس ہوتی ہیں جس طرح سے عموما نشےمیں احباب ایک دوسرے کی گردن میں بانہیں ڈال کر
اپنائیت کا اظہار کر تے ہیں ۔
۳۔ خواضوں اور کنیزوں کا بیان …….
کنیراں مہرو کی ہر طرف ریل چنبیلی کوئی
اور کوئی لائے بیل
شگوفہ کوئی اور کوئی کام روپ کوئی چپت لکن ، اورکوئی شیام روپ
ان اشعار میں مختلف کیروں کے نام نظر آتے ہیں اور یہ
نام پھولوں کے ناموں پر ہیں ، یہ ساری کنیزیں میں چمکتے دمکتے چہروں والی ماہروہیں
یہاں پر ان کی ریل پیل ہے چنبیلی ، شگوفہ کام روپ، چت لگن، اور شام روپ وغیرہ ان
کے نام ہیں ۔
۴۔ بدرمنیر بے نظیر کی جدائی کے عالم میں بے قرار ہے……….
دوانی کی ہرسمت پھرنے لگی درختوں میں جا جا کے گرنے لگی
نہ
اگلا سا ہنسنا کہ وہ بولنا نہ کھانا نہ پینا
نہ لب کھولنا
بے نظیر کو ماورخ نے ایک
کنویں میں قید کر دیا تھا تو بدرمنیر کی ایسی حالت ہوئی کہ وہ ہنسا بولنا کھا
ناپینا سب بھول گئی ۔
۵۔ مکالمہ نگاری
ملاحظہ ہو………….
کہا گر کسی نے کہ کچھ کھائیے کہا خیر بہتر ہے منگوائیے
کہا مجھ سے پیاری نہ بیزار ہو پھر آ ؤں گا بولی وہ مختار ہو
میرحسن زبان کے ماہر تھے لکھنوی اور دہلوی زبان ان کے گھر کی لونڈی تھی دہلی کی سادگی اور لکھنو کی پر کاری ان کی زبان کا امتیازی وصف ہے ۔ بہر حال میر حسن نے سحرالبیان میں بیان پر توجہ مرکوز کی اور اس لیے اس کا نام سحرالبیان رکھا ہے ، اس مثنوی کی تصنیف کو تقریبا دوسوسال کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن آج بھی زبان و بیان اور تہذیب و معاشرت کی عکاسی کے اعتبار سے یہ مثنوی بے مشل مانی جاتی ہے ۔
سحرالبیان کا خلاصہ
مثنوی سحرالبیان میرحسن کی
شاہکار مثنوی ہے ۔ اس مثنوی کو مروجہ
اجزاء کی پابندی کے تحت حمد ، نعت ، منقبت ، اور فرمانرواۓ وقت کی تعریف کرتے ہوۓ اپنی ناموری کا ذریعہ قرار
دیا ہے ، اور اس کے بعد قصہ شروع ہوتا ہے ۔ اس میں بادشاہ وقت کی پریشانی کی وجہ
اولاد نہ ہونا قرار دیا ہے ۔ تجھی نجومی اور رمال اولاد ہونے کی پیشن گوئی کرتے
ہیں اور جب اولاد پیدا ہوتی ہے تو یہ بھی کہا جا تا ہے کہ شہزادے کو بار و سال تک
خطرہ در پیش ہے اس لیے اس کو باہر نہ نکالا جاۓ ۔ شہزادہ بے نظیر تولد ہوتا
ہے تو اس کی پرورش پوری حفاظت کے ساتھ کی جاتی ہے ، یہ مان کر کہ اس کے بارہ سال
مکمل ہو گئے ہیں خوشی کے اظہار کے لیے جلوس کی تیاریاں ہوتی ہیں شہزادے کو نہلا
دھلا کر لباس زیب تن کرا یا جا تا ہے ۔
بڑی شان و شوکت کے ساتھ جلوس نکلتا ہے جلوس سے واپس آنے کے بعد شہزادہ کھلی چھت پر
چاندنی رات میں سونے کی خواہش کرتا ہے اور بادشاہ اس کو اجازت دے دیتا ہے لیکن
بارہ سال کا وقت پورا ہونے میں ابھی ایک دن باقی تھا چنانچہ جب شہزادہ کھلی چھت پر
سورہا تھا تو اس طرف سے ماورخ پری کا گزر ہوا وہ شہزادے بے نظیر کے بے نظیر حسن پر
فریفتہ ہوگئی اور سوتے ہوئے شہراوے کو پرستان لے گئی ۔ جب شہزادے کی آنکھ کھلی تو
وہ پری کے گھر قید تھا ، دن بھر پری بے نظیر کے ساتھ رہتی اور رات کو وہ اپنے
والدین کے پاس چلی جاتی تھی شہزا دو بے نظیر کا دل وہاں پرگھبرا تا تھا اس لئے پری
اس کو کل کا گھوڑالا کر دیتی ہے اور اس گھوڑے پر شہزادہ سیر کو جانے لگا ایک رات
شہزادہ بے نظیر شہزادی بدرمنیر کے باغ میں پہنچ گیا دونوں کی ملاقات ہوئی اور
دونوں ایک دوسرے کے عشق میں گرفتار ہو گئے ۔ اس طرح سے ہررات دونوں کی ملاقاتیں
ہونے لگیں جب ان ملاقاتوں کا پتا ایک دیو کے ذریعہ سے پری کو چلتا ہے تو دو غصہ
میں بے نظیر کو ایک کنو میں میں قید کر دیتی ہے ۔ بدرمنیر ہررات شہزادے کا انتظار
کرتی ہے اور اس کے فراق میں وہ تڑپتی ہے ایک رات وہ خواب میں شہزادے کو کنو میں
میں قید دیکھتی ہے ۔ شہزادی کی سہیلی نجم النساء ( جو کہ وزیر زادی ہے ) سے
بدرمنیر کی حالت نہیں دیکھی جاتی ہے اور وہ جو گن کا بھیس بنا کر شہزادے کی تلاش
میں نکلتی ہے اور جب وہ بین بجاتی ہے تو جن کا بیٹا فیروز شاہ اس پر عاشق ہو جا تا
ہے ، نجم النساء اس کی مدد سے شہزادے کو پری کی قید سے آزاد کراتی ہے ۔ آخر میں سب
مل جاتے ہیں اور بے نظیر کی شادی بدرمنیر سے اور نجم النساء کی شادی فیروز شاہ سے
ہو جاتی ہے ۔ مثنوی کا انجام خوش گوار ہوتا ہے اور شاعر آخر میں سب کے لیے دعا
کرتا ہے ۔
نظم
کی تعریف:
شاعری کا ایک ایسا انداز ، جس میں کسی موضوع ،عنوان یا پھر کسی خاص فکر کو پیش نظر
رکھ کر تمام خیالات کو اس کے اطراف و جوانب کی پیشکشی کے لئے استعمال کیا جائے تو
اس قسم کی شاعری کو تم کہا جا تا ہے نظم کالفظ عربی سے فاری میں منتقل ہوا ، جس کے
معنی لڑی یا شعر کے ہوتے ہیں قسم کے معنی بندوبست یا انتظام کے بھی ہوتے ہیں ۔
شاعری میں کسی موضوع کو منتخب کر کے اس موضوع سے متعلق شاعری میں خیال تسلسل اور
رابطہ کا بندوبست یا انتظام کرنے کا شعری عمل "نظم " کہلاتا ہے ۔ نظم کی
روایت اردو شاعری میں بہت بعد میں فروغ پائی ، جبکہ انگریزی ادب میں شاعری کو Poetry اور نظم کو Poem کی حیثیت سے شہرت حاصل ہو چکی تھی ۔ نظم کا
لفظ معنوی اعتبار سے عربی زبان سے فارسی میں مکمل ہوا اور فارسی سے اردو میں عام
شہرت کا حامل ہوا ۔ طویل عرصہ تک اردو میں نظم کے حقیقی معنی انتظام یا بندوبست کے
لئے جاتے رہے ۔ شعری اظہار کے طور پرنظم کے اصلی ،وصفی اور لغوی مفہوم کی نمائندگی
عربی اور فارسی لغات میں موجود ہے ۔لغت
میں عام طور پر نظم کے معنی پرونا یا پھر ضبط میں لانا کے ہوتے ہیں ، جیسے
نظم سے لفظ نظیم وجود میں آیا ، جس کے معنی پرو دیا گیا کے ہوتے ہیں ۔ عام طور پر
نظم کے معنی موتی پرونا ، آراستہ کرنا موزوں کر نا یا پھر کسی چیز کو جوڑنا کے
مفہوم میں لیا جا تا ہے ۔ اس کے علاوہ منظوم کے معنی نظم کیا ہوا یا اگر موزوں
کلام یا پر شعر لکھنے کے معنی میں استعمال کیا جا تا ہے نظم کے ایک معنی لڑی یا
سلک کے بھی ہوتے ہیں ۔لغت میں نظم کے معنی موزوں کلام ، شعر ، چھند ، کبت اور ضد
نثر کے طور پر استعمال کئے گئے ہیں نظم کو ایک اصطلاح کے طور پر استعمال کرنے کا
کام ’’جامع اللغات " کے ذریعہ انجام دیا گیا ۔ عربی میں نظم کے اصلی معنی اور
وصفی معنی کے علاوولغوی معنی بھی بیان کر دیئے گئے ہیں لیکن نظم کو شعری اظہار کے
اعتبار سے ثانوی مقام بھی دیا گیا ہے ، جس کے تحت چند شعروں کے مجموعے کو بھی نظم
کہا جا تا ہے ۔ لیکن جد یدنظم کی تعریف یہ بتائی گئی ہے کہ اشعار کا ایسا مجموعہ
جو کسی ایک مضمون یا موضوع کے علاوہ کسی عنوان کی مناسبت سے بیان کیا جاۓ تو اسے نظم کا درجہ دیا جا تا
ہے ۔ اس طرح نظم لکھنا کسی بھی موضوع یا عنوان کے مختلف جہات کو ایک لڑی میں پرونے
کا عمل قرار دیا جاۓ گا ۔ اس اعتبار سے اصطلاحی
طور پر قلم شاعری کی ایک ایسی خصوصیت ہے ، جس میں عنوان سے متعلق تمام اہم خصوصیات
کو یکجا کر دیا جا تا ہے ۔ اس کے باوجود بھی نظم کر نے والا یا Verifier اور نظم نگار بھی شاعر لینی Poet کے فرق کو محسوس کرنا ضروری ہے ۔ کسی بھی
موضوع کو لفظوں کی بندش میں پرودینا Verification کہلاتا ہے
۔ اس کے بجاۓ نظم کے حسن اور زبان وفن کی
تمام خصوصیات کو نظم میں شامل کر کے مفہوم کے تمام گوشوں کی جامع اور موثر انداز
سے شعری نمائندگی کر نا Poetry یا نظم نگاری کی دلیل بنتی ہے ۔ طویل عرصہ تک نظم کے معنی مختلف
شعری اصناف مشن کے لئے جاتے رہے ، لیکن رفتہ رفتہ کلام موزوں کو ہی نظم نہیں کہا
گیا بلکہ شاعری اور نظم کرنے کی تقلیقی اور فنی حیثیت کو نظم کی حیثیت سے قبول کیا
جا تا رہا ۔ اس طرح اصطلاحی طور پر تمام شعری اصناف سے ہٹ کر موضوع کے اظہار کے
لئے شاعری کے انداز کو اظہارکی تخلیقی خصوصیت کا درجہ دے کر قبول کیا جا تا رہا ۔
فن شعری کے تقاضوں کی تعمیل کی جاۓ
تو اسے علم قرار دیا جاۓ
گا ۔ اس کے بجاۓ صرف لفظوں کی بندش کی تکمیل
کی جائے اور قافیہ اور ردیف کوضروری تصور کرتے ہوۓ صرف تک بندی کا حق ادا کیا جاۓ تو ایسی قسم Verification کی تعریف
میں شامل کی جاۓ کی ہے ۔ نظم لکھنا درحقیقت
کسی موضوع کے احاطہ کے ساتھ ساتھ موضوع کے امکانات اور اس کی فطری ضروریات کو شعر
میں ڈھالنا ہی نظم نگاری کی خصوصیت ہے ۔ اس طرح نظم کے قدیم معنی و مفہوم سے بالکل
مختلف شعری انداز عصر حاضر کی نظموں میں دکھائی دیتا ہے آج کے دور میں شاعری کی
مختلف اصناف جیسے مثنوی ، مرثیہ ، قصیدہ ، رباعی ، غزل ، شہر آشوب ، ریختی ،
واسوخت کو اہمیت حاصل ہے ۔ اس طرح نظم نگاری کے اپنے اہم نکات اور اس کی خصوصیات کی
وجہ سے نظم گوئی کو بھی ایک صنف شاعری کا درجہ حاصل ہو گیا ہے ۔
اردونظم کے موضوعات
نظم نگاری کی شروعات سے لے کر ترقی پسند شاعری کے دور تک اردونظم کے موضوعات کا تعلق رسم ورواج ، عید و تہوار اور موسموں کے علاوہ قدرتی مناظر تک محدود تھا ، بلکہ یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ ’’انجمن پنجاب لاہور ‘‘ کے موضوعاتی مشاعروں سے قبل تک نظیر اکبر آبادی ایک ایسے واحد شاعر تھے ، جنہوں نے اپنی نظموں میں موضوعات کے تنوع کے ساتھ ساتھ ہئیت کے تنوع کو بھی برقرار رکھا ۔ اس لئے نظیر اکبر آبادی کو اردو کے ممتاز اور مایہ ناز نظم نگار ہی نہیں بلکہ سماج پسند شاعر کا درجہ حاصل ہوتا ہے ۔ ان کی زندگی میں خود ان کی شاعری کی قد رنہیں ہوئی ۔ غرض انسان کی فطرت اور اس کے رویے ہی نہیں بلکہ اس کی مفلسی ، ناداری اور تنو مندی کے ساتھ ساتھ صحت اور خدا پرستی کے علاوہ دنیا کے بے شمار موضوعات کو عوان کا درجہ دے کر نظیر اکبر آبادی نے کامیاب نظم گوئی کی روایت کا آغاز کیا ۔ مولا نا حالی اور محمد حسین آزاد نے انجمن پنجاب لاہور کے توسط سے فطری موضوعات کو نظم میں شامل کیا ۔ چنانچہ چاند ، چاندنی رات ، زمین ، آسمان ، جھاڑ ، پہاڑ قدرتی نظارے اور سادہ آنکھ سے نظر آنے والے مختلف مناظر کو نیچرل شاعری کے توسط سے نظم کا حصہ بنایا گیا ۔ حالی اور آزاد کی تقلید کرتے ہوۓ شبلی نعمانی نے قوم پرستی کو بنیاد بنا کر اسلامی واقعات اور مذہب اسلام کی سچائی کو نظموں میں پیش کرنا شروع گیا ۔ انہوں نے اپنی مشہورنظم ’ ’ خیر ’’مقدم ڈاکٹر انصاری ‘ ‘ کے توسط سے خیر مقدمی نظم کی بنیاد رکھی ۔ اس طرح اردونظمکے موضوعات میں تنوع پیدا ہوتا گیا ۔ چکبست اور سرور جہاں آبادی نے نظم کے موضوعات میں تبدیلی پیدا کرتے ہوئے تخیل اور مشاہدے کی قوت کی حسین آمیزش کی نمائندگی کی ۔اسی دوران انسان کے ذہنی اور روحانی کشمکش کے انداز کو بھی نظم کا حصہ بنایا گیا ۔ قومی احساس کو جگانے کا اہم کارنامہ مولانا حالی نے اپنی طو یل نظم ” مسدس حالی ‘ ‘ کے ذریعہ انجام دیا ۔ اس دور میں اردو نظم کے موضوع میں خوشگوار تبد یلی لاتے ہوۓ اکبر الہ آبادی نے طنزیہ اور مزاحیہ نظم کی روایت کا آغاز کیا ۔ 1905 ء کے بعد اختر شیرانی نے نظم کی روایت کو رومانی احساسات سے وابستہ کر کے پیکر اور پیکر یت کی نمائندگی کی ۔ اختر شیرانی کے کلام میں انگریزی شاعری کے طرز سانیٹ کا انداز بھی دکھائی دیتا ہے ، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ علی گڑھ سے تعلیم یافتہ طلباء نے اردوظلم کے موضوعات کومشرقی شعریات سے الگ کر کے مغربی شعریات سے وابستہ کرنے میں کامیابی حاصل کی ۔اس طرح اردو نظم جو ابتداء میں محدود موضوعات کی نمائند بھی ، رفتہ رفتہ اس کے موضوعات میں نئے اضافے ہونے لگے ۔ چنانچہ چرند پرند ہی نہیں بلکہ بہار ، جنگل ، پہاڑ اور انسان کی ایجاد کردہ چیزوں پر ہی نہیں بلکہ قدرت کے موجودات پر بھی نظمیں لکھ کر اردو کے شاعروں نے نظم نگاری کےموضوعات میں اضافہ کر کے شاعری کے منفر د مختلف انداز کی حیثیت سے نظم نگاری کے طریقے کو بھر پور ترقی دی ۔ چنانچہ آج ار دونظم میں دنیا کے بے شمار موضوعات کا احاطہ موجود ہے اور نظم کی شاعری خیالات کے علاوہ افکار کی نمائندگی کرنے میں پوری طرح کامیاب ہے
نظم کی قسمیں :
اردو نے اپنے لچکدار رویے کے باعث ہندوستانی زبانوں ہی
سے نہیں بیرونی ملک کی زبانوں سے بھی الفاظ اصناف اسالیب اور آداب کے تعلق لین دین
کیا ہے جس سے اردو کے شعری سرمایہ ا ضافہ ہوا ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ بیشتر ہیتوں
نے اردو میں اعتبار نہیں پایا لیکن یہ کوشش رائیگا ں بھی نہیں گئی اردو کا شعری
منظر نامہ بھر پور ،منور اور معطر ضرور
ہوا ۔
معریٰ نظم
معری نظم ایسی نظم کو کہتے ہیں جس میں وزن بھی ہوتا ہے
اور ارکان بحر کی پابندی بھی کی جاتی ہے ۔ البتہ اس میں قافیہ اور ردیف سےکام نہیں
لیا جاتا۔چونکہ یہ قافیہ سے عاری ہوتی ہے اس لیے ابتدا اس کو غیر مقفع کہا گیا
لیکن بعد میں معریٰ نظم کی اصطلاح کو سب
نے تسلیم کر لیا ۔اسے انگریزی میں (Blank Verse) کہتے
ہیں۔1875 لاہور میں انجمن اسلام کے جلسے
میں ایسا مشاعرہ منعقد ہوا جس میں طرح مصرعہ دینے کی بجاۓ موضوع دیا گیا اور قافیہ
وردیف کی تجدید کردی گئی ۔ اردو میں معریٰ
شاعری کا پہلا مولانامحمد حسین آزاد کے یہاں ملتا ہے ۔ بعد میں ترقی پسند
شاعروں نے بھی ردیف اور قافیوں کا استعمال ترک کیااورمعری نظمیں بھی کہنے لگے اور
پھر تو یہ ایک مزاج ایک رواج سا بن گیا ۔ اردو میں معری نظم کا سرمایہ اتنا وافر
نہ سہی نلیکن خاطر خواہ ضرور ہے۔ہمارے
ممتاز اور صف اول کے شاعروں نے بھی اس ہئیت کو اختیار کیا ۔
پابند نظم
پابند نظم اس نظم کو کہتے
ہیں جس میں ردیف قافیہ اور بحر کے مقررہ اوزان کی پابندی کی جاتی ہے ۔ پابند ظلم
میں نہ موضوعات کی قید ہوتی ہے اور نہ اشعار
کی تعداد کی شاعری کسی بھی موضوع پر اور کتنی ہی تعداد میں اشعار کہ سکتا
ہے ۔ بعض شاعروں نے چار چھ اشعار پرمشتمل پابند نظمیں بھی کی ہیں ۔ اردو شاعری کا
بڑا حصہ پابند نظموں پر مشتمل ہے ۔ ابتدا سے لے کر تا حال تقریبا تمام شاعروں نے
پابند نظم نگاری کی ہے اور آج بھی آزاداور معری نظموں کے باوجود پابند نظم نگاری
ہی زیادہ ہے ۔ ہم یہاں جوش ملیح آبادی کی ایک پابندظم بدلی کا چاند درج کر رہے ہیں
۔
خورشید وہ دیکھو ڈوب گیا ،
ظلمت کے نشان لہرانے لگے
مہتاب وہ ہلکے بادل سے چاندی کے ورق برسانے لگا
وہ
سانولے پن پر میداں کے ہلکی سی صباحت دوڑ
چلی تھوڑا سا
ابھر کر بادل
سے وہ چاند جبیں جھلکانے لگا
لو
ڈوب گیا پھر بادل میں بادل میں وہ خط سے دوڑ گئے تو پھر وہ گھٹائیں چاک ہوئیں ، ظلمت کا قدم تھرانے لگا
بادل
میں چھپا تو کھول دیئے بادل میں در بیچے ہیرے کے گردوں پر
جو آیا تو گر دوں دریا کی طرح
لہرانے لگا
آزاد نظم
آزاد
نظم بھی مغرب سے لی گئی ہئیت ہے اور اردو
میں یہ ہئیت بے حد قبولیت رکھتی ہے ۔ اس میں قافیہ ردیف کی پابندی نہیں ہوتی بحرکی
بھی تحدید نہیں لیکن ایسا نہیں ہے اس میں
بحر نہیں ہوتی ۔ بحر کے ارکان اور اس کے اوز ان یا صوتی بندیشوں کی پابندی ہوئی ہے
۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ معری نظم میں بحر
کے مقررہ اوزان استعمال ہوتے ہیں یعنی اگر
پہلے مصرع میں بحر کے چار ارکان استعمال
ہوۓ ہیں تو اس کی پابندی نظم کے
ہر مصرے میں ہوتی ہے جب کہ آزاد نظم
ارکانِ بحر تعداد ہر مصرعہ میں متعین نہیں ہوتی جس کی وجہ سے مصرعے چھوٹے بڑے ہو جاتے ہیں ۔
فرض کیجیے کہ نظم کے پہلے مصرعے میں بحر
میں چار بار فاعلن کی تکرارہوئی ہے
۔ نظم آزار میں بعد کے مصرعوں میں
کہیں ایک ،کہیں دو، کہیں تین، کہیں چار اور کہیں چھ بار فاعلن کا استعمال ہوسکتا
ہے ۔ مخدوم محیی الدین کی نظم ’’سناٹا‘‘
کوئی
دھڑکن
نہ
کوئی چاپ
نہ
کوئی سنچل
نہ
کوئی موج
نہ
ہلچل
نہ
کسی کی سانس کی گرمی
نہ
بدن
ایسے سنّاٹے اک آدھ تو پتہ کڑک
بنجاررہ نامہ
ٹک حرص و ہوا کو چھوڑ میاں مت
دیس بدیس پھرے مارا قزاق اجل
کا لوٹے ہے
دن رات بجا کر نقارا
کیا بدھیا
بھینسا بیل شتر کیا گونیں
پلا سر بھارا کیا گیہوں چانول موٹھ مٹر کیا آگ دھواں اور انگارا
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا
گر تو
ہے لکھی بنجارا اور کھیپ بھی تیری بھاری ہے اے غافل
تجھ سے بھی چڑھتا اک اور بڑا بیوپاری ہے
کیا شکر مصری قند گری کیا سانبھر میٹھا کھاری
ہے کیا داکھ
منقےٰ سونٹھ مرچ کیا کیسر لونگ سپاری ہے
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا
تو بدھیا
لادے بیل بھرے جو پورب پچھم جاوے گا یا سود
بڑھا کر لاوے گا یا ٹوٹا
گھاٹا پاوے گا
قزاق اجل
کا رستے میں جب بھالا مار گراوے گا دھن دولت
ناتی پوتا کیا اک کنبہ کام نہ آوے گا
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا
ہر منزل میں اب ساتھ ترے یہ
جتنا ڈیرا ڈانڈا ہے زر دام درم کا بھانڈا ہے بندوق سپر اور کھانڈا ہے
جب نایک تن کا نکل گیا جو ملکوں ملکوں ہانڈا ہے پھر
ہانڈا ہے نہ بھانڈا ہے نہ حلوا ہے نہ مانڈا ہے
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا
جب چلتے
چلتے رستے میں
یہ گون تری رہ جاوے گی اک
بدھیا تیری مٹی پر پھر گھاس نہ چرنے آوے گی
یہ کھیپ جو تو نے لادی ہے سب
حصوں میں بٹ جاوے گی دھی پوت جنوائی بیٹا کیا بنجارن پاس نہ آوے گی
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب
لاد چلے گا بنجارا
یہ کھیپ بھرے جو جاتا ہے یہ
کھیپ میاں مت گن اپنی اب کوئی
گھڑی پل ساعت میں یہ کھیپ بدن کی ہے کفنی
کیا تھال کٹوری چاندی کی کیا پیتل کی ڈبیا ڈھکنی کیا برتن
سونے چاندی کے کیا مٹی کی ہنڈیا چینی
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا
یہ دھوم دھڑکا ساتھ لیے کیوں
پھرتا ہے جنگل جنگل اک تنکا
ساتھ نہ جاوے گا موقوف ہوا جب ان اور جل
گھر بار اٹاری چوپاری کیا خاصا نین سکھ اور
ململ چلون پردے فرش نئے کیا لال پلنگ اور رنگ محل
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا
کچھ کام نہ آوے گا تیرے یہ لعل
و زمرد سیم و زر جب پونجی
باٹ میں بکھرے گی ہر آن بنے گی جان اوپر
نوبت نقارے بان نشان دولت حشمت
فوجیں لشکر کیا مسند تکیہ ملک مکاں کیا چوکی کرسی تخت
چھتر
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا
کیوں جی پر بوجھ اٹھاتا ہے ان
گونوں بھاری بھاری کے جب موت
کا ڈیرا آن پڑا پھر دونے ہیں بیوپاری کے
کیا ساز جڑاؤ زر زیور کیا گوٹے تھان کناری کے کیا
گھوڑے زین سنہری کے کیا ہاتھی لال عماری کے
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا
مفرور نہ ہو تلواروں پر مت
پھول بھروسے ڈھالوں کے سب پٹا
توڑ کے بھاگیں گے منہ دیکھ اجل کے بھالوں کے
کیا ڈبے موتی ہیروں کے کیا ڈھیر خزانے مالوں کے کیا بغچے تاش مشجر کے کیا تختے شال دوشالوں
کے
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا
کیا سخت مکاں بنواتا ہے خم
تیرے تن کا ہے پولا تو اونچے کوٹ
اٹھاتا ہے واں گور گڑھے نے منہ کھولا
کیا رینی خندق رند بڑے کیا برج کنگورا انمولا گڑھ
کوٹ رہکلہ توپ قلعہ کیا شیشہ دارو اور گولا
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب
لاد چلے گا بنجارا
ہر آن نفع اور ٹوٹے میں کیوں
مرتا پھرتا ہے بن بن ٹک
غافل دل میں سوچ ذرا ہے ساتھ لگا تیرے دشمن
کیا لونڈی باندی دائی دوا کیا بندا چیلا نیک
چلن کیا مندر مسجد تال کنواں کیا کھیتی باڑی پھول
چمن
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا
جب مرگ پھرا کر چابک کو یہ بیل
بدن کا ہانکے گا کوئی ناج سمیٹے گا تیرا کوئی گون سیے اور ٹانکے
گا
ہو ڈھیر اکیلا جنگل میں تو خاک لحد کی پھانکے
گا اس جنگل میں پھر آہ نظیرؔ اک
تنکا آن نہ جھانکے گا
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا
بنجارہ نامہ کا خلاصہ
نظیر کی یہ نظم بھی مخمس ترکیب
بند کی ہیئت میں لکھی گئی ہے۔ نظم میں شاعر نے بے ثباتی دنیا کا نقشہ کھینچا ہے
اور انسان کو اس دنیا کے مال و اسباب سے محبت اور ان پر فخر نہ کرنے کی تلقین کی
ہے ۔ اظم معنوی اعتبار سے بہت بلند مرتبہ کی حامل ہے ۔ عوامی بیانیہ اور تاثر کے
سبب اعظم کو مقبولیت عام حاصل ہے ۔ نظم اپنے قاری کے دل پر سیدھا اثر ڈالتی ہے اور
اسے فکر کی ترغیب دیتی ہے ۔ نظیر کی یہ نظم اپنے مترنم لہجے کے سبب اردو کی غنائی
شاعری کی ایک عمدہ مثال ہے۔ ٹیپ کے مصرعے نظم کے بیانیہ میں جہاں صوتی آہنگ میں
اضافہ کرتے ہیں وہیں دوسری جانب نظم کے بیانیہ میں واقعات کی ترتیب کو بھی ایک
تسلسل میں قائم کرتے ہیں ۔
نظیر نے اس نظم میں بے ثباتی
دنیا کی نہایت ہی پُر سوز تصویر کشی کی ہے ۔ نظم میں شاعر نے بنجارے کی خانہ بدوش
زندگی کے ذرایہ بستی نا پائیدار کی تمثیل بیان کرتا ہے۔ نظم کا بیانیہ واحد غائب
رادی کے بیان سے شروع ہوتا ہے۔ راوی انسانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہتا ہے ۔ کہ اس
دنیا کی لالچ اور ہوس کی خاطر جو تو ایک ملک سے دوسرے ملک کے لیے مارا مارا پھر
رہا ہے یہ سب رائیگاں ہے، چاہیے کہ تو اس کے حرص و ہوس سے کنارہ اختیار کرلے ۔ اس
کا سبب بیان کرتے ہوئے راوی کہتا ہے کیوں کہ قزاق اجل یعنی موت کا فرشتہ دن رات
موت کا نقارہ بجا کر اس دنیا کو میٹنے میں لگا ہوا ہے۔ راوی اگلے دو مصرعوں میں ان
چرند و پرند اور اشیا کا ذکر کرتا ہے جو روزمرہ کی زندگی کا لازمی جز ہیں ۔ مشال
بدھیا، بھینسا ، بیل ، شتر، گوئی ، گیہوں ، مٹر، آگ وغیرہ ۔ ان سب کے بیان کے بعد
ٹیپ کے مصرعے سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا‘ کے ذریعہ راوی اپنے
موضوع کو پوری شدت کے ساتھ واضح کر دیتا ہے ۔ یہ شدت ٹیپ کے مصرعے میں مستعمل
دولفظ ٹھاٹھ اور بنجارا سے پیدا کیا گیا ہے۔
نظم کے دوسرے بند میں بھی راوی
اپنے کردار کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے۔ کہ اگر تیرا خیال ہے کہ تو ایک دولت مند
بنجا را ہے اور تیرے پاس مال و مطاع بھی بہت زیادہ ہے مگر تو اس غفلت میں نہ رہ
کیوں کہ اس دنیا میں کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی تجھ سے بھی امیر اور صاحب ثروت
موجود ہے۔ نظم کے پہلے بند کی ہی طرح تیسرے اور چوتھے مصرعے میں بھی شاعر روزمرہ
کی اشیا مثلا شکر ، مصری ، قند، گری ، راکھ سونٹھ وغیرہ کا ذکر کرتا ہے۔ پھر
پانچویں مصرعے کے ذریعہ ان تمام چیزوں کی نا پائیداری کو بیان کرتا ہے ۔
تیسرے بند میں بھی راوی دنیا
میں انسان کے مال و متاع اکٹھا کرنے کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ تو ہر
وقت اس نفع ونقصان کے الجھادے میں پھنسا رہتا ہے اور موت کا تجھے ذرا بھی خیال
نہیں جب کہ وہ بغیر کسی اطلاع کے کبھی بھی تجھے اپنے نرنے میں لے لے گی اور تیری
یہ ساری دولت یہی کی یہی رکھی رہ جائے گی حتی کہ تیرے اہل و عیال اور کنبے والے
بھی تیرے کام نہ آئیں گے۔
چوتھے، پانچویں اور چھٹے بند
میں بھی شاعر انھیں خیالات کو انسانی زندگی کی مختلف تصویروں کے ذریعہ بیان کرتا
ہے۔ راوی کہتا ہے کہ عمر کی اس منزل میں تو نے جو کچھ مال و اسباب جمع کیے ہیں ان
سب کی حقیقت اس وقت کچھ نہیں رہ جائے گی جب بدن سے روحپرواز کر جائے گی ۔ یہ مال
وزر جو تو نے جمع کیے ہیں سب تیری اولادوں میں بٹ جائے گی لیکن وہی اولادیں تیرے
مرنے کے بعد کچھ کام نہیں آئیں گی ۔ یہ مال ودولت ، زروجواہرات ، روپے پیسے جن کے
فراق میں تو اپنی زندگی کا ہر ایک لمحہ گنواتا ہے یہ سب کچھ یہیں رہجاتا ہے اور
تجھے خالی ہاتھ ہی اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔
نظم کے ساتویں بند میں راوی
بیان کرتا ہے کہ دولت کی یہ چمک دمک جس پر تجھے ناز ہے۔ یہ بات سمجھنی چاہیے کہ جب
موت کا وقت آجائے گا تو ایک تنکے کے برابر بھی دولت تیرے کسی کام نہ آئے گی ۔ مال
و دولت اور محل سب کچھ یہیں کا یہیں رہ جائے گا کچھ بھی تیرے ساتھ جانے والے نہیں
ہیں ۔
آٹھویں اور نویں بند میں راوی
اپنے مخاطب کو براہ راست تلقین کرتا ہے کہ یہ عمل و زمرد، تیم وزر کچھ بھی تیرے
کام نہیں آئے گا اور تیرے مرتے ہی یہ تمام چیزیں ٹکڑوں میں تقسیم ہو جائیں گی ۔ ان
دونوں بندوں کے تیسرے اور چوتھے مصرعے میں شاعر جن الفاظ کا بیان کرتا ہے مشام
نقارے، دولت و حشمت ، فوجیں ، لشکر ، مسند ، ملک ، مکاں، چوکی ، کرسی ، تخت ، چھتر
، اسی طرح ساز ، جڑاؤ زیور، گوئے، گھوڑے، ہاتھیل اال وغیرہ۔ ان کے ذریعہ صاف ظاہر
ہے کہ نظم کے راوی کا مخاطب کوئی مخصوص کردار نہیں ہے۔ بلکہ وہ اپنے معاشرے کے
تمام طبقے کے لوگوں کو مخاطب کر کے کہہ رہا ہے کہ سب کچھ یہیں رہو جانے اور فنا ہو
جانے والا ہے جیسے کہ انسان کی زندگی فانی ہے اور اس کے مرتے ہی سب کچھ بے معنی
اور بے سود ہو جاتا ہے۔
دسویں ہند میں راوی اپنے مخاطب
سے کہتا ہے کہ تجھے اپنی طاقت وقوت پر غرور نہیں کرنا چاہیے۔ یہ تلواریں ، ڈھال
وغیرہ کسی کام نہیں آئیں گی جب موت کا بھالا اپنی رفتار سے آئے گا ۔ موتی ، ہیرے
خزانے وغیرہ کسی کام نہیں آئیں گے۔
گیارہویں بند میں راوی انسانی
زندگی کی ایک دوسری تصویر پیش کرتے ہوئے کہتا ہے ۔ کہ کیوں یہ سخت مکان اپنے لیے
بناتا ہے جب کہ خود تیرا بدن اتنا کمزور ہے۔ تو اونچی اونچی کوٹھیاں بنا تا ہے
لیکن تیرا مقدر تو زمین کا ایک چھوٹا سا گڑھا ہی ہے ۔ یہ خندقیں ، برج کنگورا، کوٹ
، رہالہ ، قامہ ، توپ ، شیشے دار سب کچھ یہی پڑا رہ جاوے اور موت تجھے اپنے شکنجے
میں لے لے گی ۔ ۔اظم کے بارہویں بند میں راوی اپنے مخاطب سے کہتا ہے کہ کیوں تو
غفلت میں پڑا ہر لمحہ نفع و نقصان کے فکر میں لگا رہتا ہے وہ کہتا ہے کہ غور وفکر
کرنا چاہیے تجھے اپنی زندگی میں کیوں کہ موت تیری دشمن ہے اور ہرلمحہ تاک میں رہتی
ہے ۔اس دنیا میں لونڈی ، باندی ، دائی ، دوا، مندر، مسجد ، تال، باغ اور چمن سب
کچھ فنا ہو جانے والا ہے۔ یہاں مسجد اور مندر کے لفظ کے ذریعہ شاعر نے مذہب کو بھی
شامل کیا ہے۔ گویا کہ انسانی زندگی اور اس کے تمام لو ازامات کے ساتھ انسان کے
عقیدے اور تصورات سب کچھ اس کے ساتھ ہی فنا ہو جانے والے ہیں ۔
آخری بند میں راوی کہتا ہے کہ
جب موت اپنا چپا بک پھرا کر بیل بدن کا ہانکے گا۔ نظم کے اس تمثیل کی معنویت اور
اس کے عوامی بیانیہ سے رابطہ اس درجہ پُر تاثر اور تخلیقی ہے کہ قاری اس کی شدت
اور اس کے سوز و گداز دونوں سے ہی لطف اندوز بھی ہوتا ہے اور متاثر بھی ۔ راوی
کہتا ہے کہ جب موت روح کو بدن سے کھینچ لے گی تو اس کے بعد لوگ تیرے اس بدن کے لیے
جو کسی کام کا نہیں رہ جائے گا اس کے لیے کفن کا انتظام کریں گے۔ اور پھر لوگ تجھے
دفن کر کے واپس لوٹ جائیں اور تو زمین کے اندرا کیلے پڑا رہے گا۔ کوئی بھی تجھے
دیکھنے یا تیری خبر ہیری کے لیے بھی موجود نہ ہوگا ۔
نظم کا خلاصہ یہ ہے کہ شاعر
انسانوں کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ جس طرح دنیا میں بجا و ایک جگہ قیام نہیں کرتا اس
کو ترک سکونت کرنی ہی پڑتی ہے ۔ اس طرح انسان بھی اس دنیا میں مسافر کی طرح آتا ہے
جسے ایک نہ ایک دن سب کچھ چھوڑ کر چلے جانا ہوتا ہے۔ نظم نگار نے اس بیانی کی
تخلیق میں مختلف مناظرے کا مولیے ہیں جسے ہر بندے آپ کے مصرعے کے ذریعہ ایک دوسرے
الگ بھی کیا گیا ہے
علامہ اقبال
علامہ
اقبال ۹ نومبر ۱۸۷۷ء کو سیال کوٹ میں پیدا ہوئے، والد محترم کا نام شی نور محمد
تھا اور ماں کا نام امام بی بی تھا، اقبال کے بزرگ سپرو برہمن تھے اور کشمیر ان کا
وطن تھا، قبول اسلام کے بعد ان کا خاندان ترک وطن کر کے سیالکوٹ میں آباد ہو گیا
تھا۔ اقبال کی عمر چار سال چار مہینے ہوگئی تو دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے انھیں
مکتب میں بٹھا دیا گیا، شیخ نور محمد کے ایک دوست جو کہ شاہ صاحب کہلاتے تھے اور
جن کا نام سید میر حسن تھا، انھوں نے مشور ہ دیا کہ اقبال کی تعلیم صرف درس قرآن
تک ہی محدود نہ ہونی چاہیے تو یہ کام انھوں نے شاہ صاحب کو ہی سونپ دیا۔ اور وہ
اردوہ فارسی اور عربی ادب کی تعلیم حاصل کرنے گئے ۔ انچہ نو برس کی عمر میں اقبال
ارکان مشن اسکول میں داخل کیے گئے ۔ شاہ صاحب بھی اس اسکول سے وابستہ ہو گئے تھے
ان کو یہاں پر بھی ان کی رہنمائی حاصل رہی اور ان کی صحبت میں اقبال میں شعری ذوق
پیدا ہو گیا ۔ انھوں نے ۱۸۹۱ میں مڈل اور ۱۸۹۳ میں امتیاز کے ساتھ میٹرک پاس کیا
ہیں سے انھوں نے انٹر میڈیٹ کا امتحان بھی پاس کیا، اس کے بعد بی اے کی ڈگری حاصل
کرنے کے لیے انھوں نے گورنمنٹ کالج میں داخلہ لیا۔ بی اے کرنے کے بعد انھوں نے اسی
کان سے فلسفے سے ایم ، اسے کیا تعلیم کے دوران ان کو خلیفے کے پروفیسر آر ملا سے
فیض یاب ہونے کا موقع بھی ملا۔
اقبال
نے کم عمری یعنی میلاک کرانے سے پہلے ہی روایتی انداز کی شاعری شروع کردی تھی
انھوں نے داغ دہلوی کی و قاعد وشاگردی اختیار کی مگر جلد ہی نئے انداز کی شاعری کی
طرف مائل ہوئے ، انجمن حمایت اسلام کے بڑے بڑے جلسوں میں میں کہنے لگے تو ان کی
شہرت دور دور تک جھیل کی۔ 1902ء میں بھی تعلیم کے لئے انگلستان کے ۱۹۰۸ء میں واپس
آئے تو وہ بالکل ہی بالے ہوئے تھے اب ان کی شاعری قوم وملت کی فلاح و بیروہ کے لئے
وقف تھی ۔علامہ اقبال نے اور میٹل کالج اور گورنمنٹ کالج میں ملازمت کی ، اس کے
بعد انھوں نے وکالت شروع کر دی، وکالت میں وہ بہت کامیاب نہیں ہوئے ، حکومت
برطانیہ نے ۱۹۲۳ء میں ان کو سر کا خطاب دیا۔
اقبال اپنے عہد کے بلند پایا
شاعر نثر نگار اور ایک بڑے مفکر تھے، اقبال کا پہلا مجموعہ کلام : بانگ درا ۱۹۲۴ء
میں شائع ہوا، ابتدائی دور کی شاعری میں انھوں نے زیادہ تر وطنی نظمیں لکھی ہیں
اور بعض نظموں میں انسان اور فطرت کا تقابل کرتے ہوئے انسان کی حقیقت کو جاننے کی
اور انسانی زندگی کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی ہے۔اقبال نے اپنے تصور خودی کے
وسیلے سے فرد کی شخصیت کی تعمیر کے لیے ایک مثالی معاشرے کی تشکیل کا پیغام دیا
ہے، اقبال ایک نہایت ہی بلند پایا منکر اور شاعر تھے، انھوں نے اپنی بلند پایا
نظموں کے ذریعہ اردو شاعری کی وقعت میں اضافہ کیا ہے۔ فارسی میں انھوں نے : اسرار
خودی رموز بے خودی ؛ اور جاوید نامہ جیسے عظیم شعری کارنامے انجام دیے ہیں۔
فارسی شاعری میں ان کے اور
مجمو بھلے، پیام مشرق اور زبور نجم وغیرہ بھی ہیں، بانگ درا ضرب کلیم : بال جبرئیل
اورارمغان حجاز ان کے اردو مجموعے کلام ہیں، اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعہ سے
انسانوں کو قوم ،نسل ، ملک ، زبان وغیرہ کے امتیازات سے بلند ہوکر ساری نوع انسانی
کی فلاح و بہبود کو اپنا نصب العین بنانے کی تلقین کی ہے۔
۱۰ جنوری ۱۹۳۴ء کو اقبال کو نزلہ ہوا ، جو کہ
انفلوئنزا میں تبدیل ہو گیا ، پھر ان کی آواز بیٹھ گئی ، دل کا عارضہ بھی ہو گیا۔
مرض بڑھتے ہی گئے صحت خراب ہو گئی ، آخر کار ۲۱ ر اپریل ۱۹۳۸ ء کو جب سورج طلوع
ہورہا تھا تب اردو شاعری کا یہ آفتاب غروب ہو چکا تھا، لاہور کی شاہی مسجد میں ان
کی تدفین عمل میں آئی ۔
شعاع امید
سورج نے ديا
اپنی شعاعوں کو
يہ پيغام دنيا ہے عجب
چيز ، کبھی صبح
کبھی شام
مدت سے تم آوارہ
ہو پہنائے فضا ميں بڑھتی ہی
چلی جاتی ہے
بے مہری ايام
نے ريت کے ذروں پہ چمکنے ميں
ہے راحت نے مثل صبا
طوف گل و لالہ ميں آرام
پھر ميرے
تجلی کدہ دل
ميں سما جاؤ چھوڑو
چمنستان و بيابان
و در و بام
(2)
آفاق کے ہر گوشے سے اٹھتی ہيں
شعاعيں بچھڑے ہوئے خورشيد سے
ہوتی ہيں ہم آغوش
اک شور ہے ، مغرب ميں اجالا
نہيں ممکن افرنگ مشينوں
کے دھويں سے ہے سيہ پوش
مشرق نہيں گو لذت نظارہ سے
محروم ليکن صفت
عالم لاہوت ہے
خاموش
پھر ہم کو اسيی سينہ روشن ميں
چھپا لے اے مہر
جہاں تاب ! نہ
کر ہم کو فراموش
(3)
اک شوخ کرن ، شوخ
مثال نگہ حور آرام سے
فارغ ، صفت جوہر
سيماب
بولی کہ مجھے
رخصت تنوير عطا ہو جب
تک نہ ہو مشرق کا ہر اک ذرہ جہاں تاب
چھوڑوں گي نہ
ميں ہند کی تاريک فضا کو جب
تک نہ اٹھيں خواب سے مردان گراں خواب
خاور کی اميدوں کا
يہی خاک ہے مرکز اقبال کے اشکوں سے يہی خاک ہے سيراب
چشم مہ و پرويں ہے اسي خاک
سے روشن يہ خاک کہ
ہے جس کا خزف ريزہ درناب
اس خاک سے اٹھے ہيں وہ
غواص معانی جن کے ليے
ہر بحر پر آشوب ہے پاياب
جس ساز کے نغموں سے حرارت تھی
دلوں ميں محفل کا
وہی ساز ہے
بيگانہ مضراب
بت خانے کے دروازے پہ سوتا ہے
برہمن تقدير کو
روتا ہے مسلماں تہ محراب
مشرق سے ہو بيزار ، نہ مغرب سے
حذر کر فطرت کا
اشارہ ہے کہ ہر شب کو سحر کر
شعاع امید کا خالا صہ
اقبال کی شاعری کا ایک خاص وصف
خطابیہ اور تمثیلی انداز ہے جس میں وہ مخصوص صفات کی بنا پر پرندوں مخصوص تاریخی
اور مذہبی شخصیات یا قدرتی مناظر چاند، سورج، ستارے، لالہ گل وغیرہ کو اپنے پیغام
کا ذریعہ بنا کر اس میں خاص تاثر اور کشش پیدا کر دیتے ہیں ۔
نظم کا پہلا بندان ہی خصوصیات
کا حامل ہے جس میں فضا پر چھائی ہوئی مایوں بیسویں صدی کے اس ہندوستان میں لے جاتی
ہے جہاں ۱۸۵۷ء کی ناکم جنگ عظیم کے نتیجے میں ملی ۔ بد حالی اور ۱۹۱۴ء کی عالمی
جنگ جس نے مایوسی کے ساتھ ایک انتشار بھی پیدا کر دیا تھا۔ اس پس منظر میں نظم کا
پہلا تمہیدی بند جس میں سورت کا اپنی شعاعوں سے والہا نہ تخاطب اپنے آپ میں
فنکارانہ کمال کا نمونہ ہے۔ سورج کا کام دنیا میں روشنی پھیلا نا ہے ، شعاعوں کا
کام بھی کا ئنات کو پر نور کرتا ہے مگر نظم کے اس بند میں جو منظر ابھرتا ہے اس سے
محسوس ہوتا ہے کہ شما میں اپنے مقصد یعنی دنیا سے تاریکی رفع کرنے میں ناکام رہی
ہیں۔ لہذا سورج اس صورت حال سے مایوس ہو کر ان سے مخاطب ہوتا ہے کہ تمہاری تمام تر
کوششوں کے باوجود دنیا کی تاریکی کم نہیں ہوتی بلکہ بڑھتی ہی جاتی ہے۔ شعاعوں کا
ہر عمل رائیگاں ہو چکا ہے۔ نہ تو ان کی قبلی دنیا کو روشن کر پارہی ہے اور نہ ان
کا طواف دنیا کے چمن کو شاد و آباد ہی کر پار ہا ہے۔ اس عمل سے مایوس ہو کر سورج
اپنی شعاعوں سے مایوں بھرے لہجے میں واپس لوٹ آنے کو کہتا ہے۔ اقبال کے مزان کے
برخلاف اس بند کی پوری فضا مایوں کن اور ناامیدی کا مظہر ہے مگر ایسا لگاتا ہے کہ
اقبال اس پہلے اور دوسرے بند کے ذریعہ اپنی بات کہنے کے لیے ماحول تیار کر رہے ہیں
۔ اقبال کا مقصود دراصل ہندوستانی قوم کو بیدار کرنا ہے جس میں انھوں نے سورج اور
شعاعوں کے ذریعے خطاب کیا ہے جو اقبال کا مخصوص اسلوب و انداز ہے۔
نظم کا دوسرا بند بھی اسی
مایوسی بھری فضا کا مظہر ہے۔ پہلے بند میں جس طرح سورج شعاعوں سے مخاطب ہے وہ
انہیں اپنے مقصد میں نا کام پا کر واپس لوٹ آنے کے لیے کہتا ہے ۔ دوسرے بند میں
شما میں بھی اس بات سے رنجیدہ ہیں کہ جس کام کے لیے دو سورت سے بچھڑ گئی تھیں وہ
اس میں ناکام ہیں ۔ اس ناکامی کے لیے جہاں اقبال ایک طرف مغرب کی صد سے بڑھی ہوئی
مادیت پرستی اور مشینوں کی حکومت سے روحانی ترقی کے در بند ہونے پر رنجیدہ ہیں ۔
مغرب کے مقابلے میںاقبال مشرقی اقدار کے دلدادہ تھے مگر آج مشرق میں جو خامیاں
درآئیں ان میں کاہلی ہستی ، بے عملی اور تقدیر پرستی نے اس کی جد و جہد اور جوش و
خروش کو ختم کر ایک سکوت طاری کر دیا ہے جس کی وجہ سے دین و دنیا دونوں جوش و
ولولے سے خالی ہوگئی ہیں۔ مشرق و مغرب کی ان ہی کمزوریوں سے مایوس ہو کر شعا میں
اپنی کم مائیگی کے احساس میں مبتلا واپس سورج کے سینے میں چھپ جانے کو بے تاب نظر
آتی ہیں ۔در اصل ان دونوں بندوں میں اقبال نے تیسرے بند جو اس نظم کا مرکز بھی ہے
اور مقصود بھی کے لیے پس منظر تیار کیا ہے۔ ان دو بندوں کو نظم کی تمہید بھی کہہ
سکتے ہیں۔ تیسرے بند میں اچانک فضا تبدیل ہو جاتی ہے جہاں اقبال کا مخصوص رجائی
رنگ انجر کر آتا ہے۔ اس مایوس کن فضا میں انھیں شعاوں کے درمیان امپا تک ایک شوخ
کرن مختلف انداز میں مخصوص صفات کے ساتھ نمودار ہوتی ہے ۔ جس کی نگاہوں کی شوخی
دورکی مانند ہے تو طبیعت سیماب پائے۔ یہیں سے نظم میں ایک نئی فضا بھر نے لگتی ہے۔
رائے میں شاعر اقبال کی روح نظر آتی ہے اور سورج کے پیغام میں اقبال کا پیغام ۔
اقبال در اصل اس شوخ کی مشرق سے شدید محبت مشرق کے ہر ذرے کو جہاں تاب کرنے اور
بطور خاص ہند کی تاریک فضا کو پر نور کرنے کے پختہ ارادے میں اقبال کی حب الوطنی
کا جذ بہ یہ بام عرش پر نظر آتا ہے۔ وہ جس طرح مغرب کے برخلاف مشرقی قدروں کے
دلدادہ تھے ۔ ہند کی اس تاریخ کو یاد کر کے فخر کرتے ہیں ، چشم مہ و پروین جس خاک
سے روشن تھیں ، جس خاک نے غواص و معانی پیدا کیے آج اسی ہند کی حالت زار سے رنجیدہ
اور مغموم ہیں نظم کے اس بند میں اقبال نے ہندوستان کے ہندو اور مسلمانوں کی تقدیر
پڑتی ، بے عملی اور ستی کو ان کی بدحالی کے لیے ذمہ دار شہرایا ہے۔ اقبال کا مشرق
سے محبت کا شدید جذ بہ اپنے آپ میں فخر یہ ہونے کے ساتھ مالی وطنیت کا وسیع نظر یہ
قابل ذکر ہی نہیں بلکہ قابل قدر رکھی ہے جس میں مشرق و مغرب دونوں کی تاریکی دور
کرنے کا پختہ اور مخلصانہ ارادہ انہیں ہندوستان سے محبت کے ساتھہ عالمی وطنیت کا
پیرو کا رثابت کرتا ہے۔
سکند علی وجدؔ
نام سکندر علی اور تخلص وجد تھا۔ ۲۲؍جنوری۱۹۱۴ء
کو ویجاپور، ضلع اورنگ آباد(حیدرآباد ،دکن) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اورنگ
آباد میں ہوئی اور وہیں ۱۹۳۰ء میں شاعری کا آغاز ہوا۔ ۱۹۳۵ء میں عثمانیہ یونیورسٹی
سے بی اے کا امتحان پاس کیا۔۱۹۳۸ء میں حیدرآباد سول سروس کے امتحان میں کام یاب
رہے۔ ۱۹۳۸ء سے ۱۹۳۹ء تک عدالتی کام کی ٹریننگ کے سلسلے میں سیتا پور(یوپی) میں
رہے۔ بعد ازاں اورنگ آباد میں اسپیثل آفیسر، ڈیپارٹمنٹل انکوائریز رہے۔ ۱۶؍مئی۱۹۸۳ء
کو اورنگ آباد میں وفات پاگئے۔ ’’لہو ترنگ‘‘ کے نام سے ان کی شاعری کی کتاب چھپ
گئی ہے۔ ’’بیاض مریم‘‘ بھی ان کا شعری مجموعہ ہے۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:51
تاج محل
اے بار
گاہ حسن ترا فیض عام ہے دریائے مبر ولطف رواں صبح و شام ہے
تو کشتہ وفا
کا سہانا پیام ہے فانی زمیں
پر نقش بقائے دوام
ہے
جادو نگاہ
عشق کا پتھر
پہ چل گیا الفت کا خواب قالب مرمر
میں ڈھل گیا
گلشن طراز
خون دل حسن کار ہے اس باغ
بے خزاں میں ہمیشہ بہار ہے
پانی پر
عکس قلب صفت بے قرار ہے جمنا ترے
شباب کی آئینہ دار
ہے
ہیت سے
تیری دلکشی بے
پناہ کی گنبد پہ
کانپتی ہے کرن
مہر و ماہ کی
یہ زر و نرم دھوپ پہ پر کیف وقت شام کندن بنے
ہوئے درودیوار و سقف و بام
خورشید کر
رہا ہے تجھے آخری سلام وہ قلب شرق
چیر کے نکلا مہ تمام
جو نہی رواں
سفینہ مہتاب ہو گیا تو
موج خیز قلزم
سیماب ہو گیا
ہزاد عصر
ہیں تری گل کاریوں پر دنگ منظر
کش بہار چمن
ہے جبیں سنگ
کلیوں کا وہ نکھار وہ
گلہائے رنگ رنگ فانوس شمع
کشتہ سے لیٹے ہوئے پتنگ
رنگینیاں ہیں
جو ہر اہل کمال کی چھنتی ہے
جالیوں سے نزاکت خیال کی
تو نقش آرزو
ہے مجسم زمین پر آنکھوں
نے تیرے حسن کی سے پی ہے اس قدر
اک سر خوشی ہے قلب میں ، سر
شار ہے نظر بیٹھا ہوں پائے وقت
کی آہٹ سے بے خبر
ارزاں قدم قدم پر
سکون حیات ہے تیری حریم
ناز میں دن ہے نہ رات ہے