2.Notes - (B.A, B.Com, B.Sc)First Year Sem-II(SL-Urdu Paper -II)

 

B.A., B.Sc., B.Com. B.F.A. and B.S.W. (First Year) Semester II, Paper – II (Urdu Nasr)

یونٹ نمبر1 :داستان             

    UNIT No.1.DASTAN.

داستان کی تعریف وفن

قصہ کہنا اور قصہ سنا انسان کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ یہ اور بات کہ آج کی تیزرفتار زندگی اس کی مہلت ہی نہیں دیتی۔ کسی زمانے میں دن بھر کا تھکا ہارا انسان رات کو دوستوں کے حلقے میں بیٹھنا اور اپنی کہتا ، دو سروں کی سنتا۔ جسے جو یاد ہو تاوه سناتا اور کوشش کرتا کہ توجہ کا مرکز بنا رہے قصّے سے زیادہ دلچسپ اور کون سی چیز ہو سکتی تھی۔ اس طرح قصّے  نے جنم لیا۔ وہ وقت گزر گیا اور رات کی مصرو فیتیں بھی پیدا ہو گئیں مگر ایک ایسا طبقہ پھر بھی باقی رہا جسے وقت گزاری کے لیے دلچسپ مشغلوں کی ضرورت تھی۔ بے فکروں کو وقت کاٹنے کے جو شغل سوجھے قصہ ان میں سے ایک تھا۔

داستان کے اجزائے ترکیبی

۱)طوالت:

طوالت داستان کی اولین شرط تھی۔ داستان کی ضرورت وقت گزاری کے لیے تھی اور خالی وقت بے حساب تھا۔ داستانیں پڑھی نہیں سنی جاتی تھیں۔ رات کے وقت بادشاہ اور امیر اپنی خواب گاہوں میں اور عام لوگ چوک چوراہے یا کسی مکان میں دیر رات تک داستان سنتے۔ بادشاہوں اور امیروں کے ہاں معمول تھا کہ داستان کو اس وقت تک مسلسل بیان جاری رکھا جب تک سننے والے سونہ جائیں۔ اگلی رات داستان کی ڈور وہیں سے تھام کی جاتی تھی جہاں پچھلی شب ٹوٹی تھی۔ اس لیے ضروری ہوا کہ داستان طولانی ہو۔ اس کے لیے سال سا نسخہ یہ استعمال کیا جا تا کہ کہانی میں کہانی جوڑدی جاتی۔ مشہور ہے کہ کسی بادشاہ نے شرط رکھی تھی کہ میں اس لڑکی سے شادی کروں گا جو کبھی نہ ختم ہونے والا قصہ سنائے۔ جس رات قصہ ختم اسی رات ملکہ صاحبہ کا کام تمام۔ اس کی داستان ایک ہزار اور ایک راتوں چلتی رہی۔ یوں اس کی جان بچی۔

۲)پلاٹ:

پلاٹ کا تصور داستان میں کس طرح ممکن ہے جبکہ قصے کو بے جا طور پر طول دیا جاتا تھا اور نل میں نل کی طرح قصے میں قصے کو جوڑ کر اسے شیطان کی آنت بنایا جاتا تھا۔ناول میں بھی ایک سے زیادہ کہانیاں ہوسکتی ہیں مگر ضروری ہے کہ انہیں پوری طرح ایک دوسرے میں پیوست کر دیا جائے لیکن اردو کی اکثر داستانوں میں پلاٹ کی کوئی خاص اہمیت دیکھائی نہیں دیتی اور نہ ہی داستان نگاروں نے اس کا خیال رکھا ہے اس لیے داستان سے پلاٹ کا مطالبہ نہیں کیا جاسکتا۔

۳)فوق فطری عناصر:

فوق فطری عناصر داستان کی دوسری خصوصیت ہے۔ ہمارا ہی نہیں بلکہ تمام قدیم عالمی ادب- ہومر کی ایلیڈ اور اوڈیسی ، فاؤسٹ کی ڈوائن کامیڈی، شکسپئر کے ڈرامے ، ملٹن کی فردوس گم شده، فردوسی کا شاہنامہ‘ کالی داس کے ڈرائے رامائن مہا بھارت فوق فطری عناصر سے پر ہیں۔ یہی  زمانے کی ریت رہی ہے۔شاعری سے داستان کا بہت گہرا رشتہ ہے۔ دونوں درد انسانی کا مداوا ہیں۔ دونوں کا اصل مقصد حظ اندوزی، تفنن طبع اور وقت گزاری ہے۔ دونوں کی بنیادجھوٹ پر ہے۔ دونوں میں تخیل  کی کار فرمائی ہے۔ تخیل اور جھوٹ کے اسی امتزاج نے فوق فطری عناصر کو جنم دیا۔ انسان کو اصلی زندگی میں جو میسرمیں نہیں ہوتا اسے وہ خیالوں کی دنیا میں پانے کی کوشش کرتا ہے۔ داستان گو نے تخیل کے بل بوتے پر دی جن، پری، جارو جادو گرنی جیسی مخلوق کو جنم دیا۔ طلسمی محلات تعمیر کیے۔ سحر،اسم تسخیر ، اسم اعظم ، لوح، نقش، سلیمانی ٹوپی، جادو کا عصا، جادو کا سرمہ، جیسی چیزوں کے سہارے خیر کی قوتوں کو شر کی قوتوں پر فتح پاتے دکھایا۔یہاں جو کچھ ہے نا قابل یقین ہے جس سے لطف اندوز ہونے کا نسخہ کولرج کے نزدیک یہ ہے کہ ہم ذرا دیر کو اپنی خوشی سے بےیقینی  کو بالائے طاق رکھ دیں۔ اس کو وہ wiling suspension of disbelief کا نام دیتے ہیں لیکن جب داستان کے فروغ کا زمانہ تھا تو ہمارے بزرگ ان سب چیزوں کو تسلیم کرتے تھے جنھیں آج عقل ماننے سے انکار کرتی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ آج سائنس کے زمانے میں بھی ایسی باتوں پر یقین کرنے والے بہت مل جاتے ہیں۔

۴) کردار نگاری:

کردار نگاری کا تصور بھی داستانوں کے زمانے میں آج سے مختلف تھا۔ آج وہ کردار پسند کیے جاتے ہیں جو ہر پلوسے حقیقی زندگی کے کردار نظر آئیں۔ ان میں وہ خوبیاں اور عیب پائے جائیں جوسچ مچ کے انسانوں میں ہوتے ہیں مگر اس طرح کے کردار داستانوں کے لیے قطع ناموزوں تھے۔ وہاں ضرورت تھی ایسے کرداروں کی جن کی انسان پرستش کرسکے، جن سے بے حد نفرت کرے، جن سے خوف زدہ ہو جائے یا کم سے کم جنھیں دیکھ کر جن کے کارناے سن کر وہ حیرت میں پڑ جائے۔ہماری داستانوں میں صرف اونچے طبقے کے لوگ یعنی  شہزادے اور امیر زادے پیش کیے جاتے ہیں۔ باغ و بہار میں ایک سوداگر زادے کا قصہ ہے باقی تمام داستانوں میں بادشاہوں اور شہزادوں کا ذکر ہے۔ پیشہ ور لوگ جیسے خدمتگار خواجہ سرا چڑی مار مغلانی ،مهترانی لوغیرہ کے کردار برائے نام ہیں۔ حاتم طائی میں ایک پہیلی،کچھ دہقان باغ و بہار اور گل بکاولی میں چند لکڑہارے۔ اصل کردار سب اونچے طبقے کے ہیں۔ اونچے طبقے کے کرداروں کی پیش کش بھی ناقص اور یکرخی  ہے۔ نیک لوگ شروع سے آخر تک نیک ہیں اور بد سراسربد۔غیبی  امداد داستانوں کے کرداروں کو موقع ہی نہیں دیتی کہ ان کی صلاحیتیں بروے کار آئیں۔ خطرہ درپیش ہو تو سلیمانی ٹوپی اوڑھ کر ہیرو دشمن کی نظروں سے او جھل ہو جاتا ہے، اژرہے گھیرلیں تو وہ اپنا عصا زمین میں گاڑ دیتا ہے جو تنا ور درخت بن جاتا ہے اور ہیرو اس پر چڑھ کے محفوظ ہو جاتا ہے۔ یہاں عمروعیار کی زنبیل ہے کہ اس کی سمائی  کا اندازہ ہی نہیں ، ایسی جڑی بوٹیاں ہیں جنھیں کھا کر انسان طوطا بن جاتا ہے اور پھر دوسری بوٹی کھا کر انسان کے روپ میں لوٹ آتا ہے۔ ایسے مہرے ہیں جو سردی گرمی، بھوک پیاس اور ہر بلا سے محفوظ رکھتے ہیں۔داستانوں کے کردار انسان ہی نہیں حیوان بھی ہیں اور عجیب و غریب مخلوق بھی۔ یہاں دانا  الّوہیں دانش مند بندر ہیں واعظ طوطے ہیں زخمی مرغ ہے خوفناک اژرہے ہیں۔ ایسی مخلوق ہے جو نصف انسان اور نصف حیوان مثلا گھوڑا یا مور ہے۔ یہ بھی حسب ضرورت اپنا اپنا پاٹ ادا کرتے ہیں۔

۵) درس اخلاق:

درس اخلاق داستان کا مقصد نہ سہی لیکن تمام داستانوں میں کسی نہ کسی شکل میں موجود ضرور ہے۔ ہر جگہ حق کی اور باطل کی شکست ہوتی ہے۔ اس میں نیکی کی ترغیب پوشیدہ ہے۔ عموما داستان کا انجام اچھّوں کی کامیابی پر ہوتا ہے۔ خاتمہ بالخیر  اسی کو کہتے ہیں۔ آخر میں اکثر دعا کی جاتی ہے کہ’’ جس طرح انھوں کے دن پھرے اسی طرح ہمارے ،تمہارے دن بھی پھریں۔‘‘ اس میں یہ اشارہ پنہاں ہے کہ تم بھی انھوں‘‘ کی طرح نیکیاں کرو تاکہ ایمانی انعام پاؤ۔

۶) معاشرت کی مرقع کشی:

مرقع کشی ہماری   داستانوں کی ایک اہم خصوصیت  ہے ۔پروفیسر گیان چند نے لکھا ہے کہ ان داستانوں سے لکھنو اور دلی کی شاہی تہذیب کی پوری تاریخ مرتب ہو سکتی ہے۔ ہر جنس کی ایسی تفصیل ہے کہ ایک انسائیکلو پیڈیا تیار ہو جائے۔ طرح طرح کے کھانے ملبوسات، سواری کے جانوروں کی تفصیل شکاری جانوروں کے نام چوروں کے فرق ملازموں کے درجات کیا ہے جو ان میں موجودیں۔

۷) منظر نگاری:

منظر نگاری کے نقطہ نظر سے بھی یہ داستانیں اردو ادب کا ایک بیش با ذخیره ہیں۔ داستان کے مصنفوں نے اس طرف خاص توجہ کی ہے اور منظر کشی کا حق ادا کردیا ہے۔ اس زمانے میں جب ہمارے شعرو ادب پر شہری زندگی کی فضا غالب تھی ان مصنفوں نے ہیرو کی مہم جوئی کے سارے ریگ زار، پہاڑ، دریا، سبزه زار اس کے علاوہ مختلف موسموں اور مختلف اوقات جیسے صبح و شام سب کی تصویر کشی کا حق ادا کردیا ہے۔ اس کے علاوہ شادی بیاہ میلے عرس وغیرہ کے مناظر بھی بہت سلیقے سے پیش کیے ہیں۔   حوالہ: اردو نثر کا تنقیدی مطالعہ،سُنبل نگار

  

میرامّن دہلوی 

میرامّن دہلی میں 1748 کے لگ بھگ پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان شہنشاہ ہمایوں کے زمانے سے عالمگیر ثانی کے عہد تک منصب داروں میں شامل رہا ہے۔ ان کے پاس اچھی خاصی جاگیر تھی مگر  سورج مل جاٹ نے ان کی جاگیر چھین لی، ادھر احمد شاہ درّانی نے اس طرح تباہی مچائی کہ سب کچھ تاراج ہو گیا۔ میر امّن پر مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ وہ کسی طرح عظیم آباد (پٹنہ) پہنچے۔ وہاں کچھ برس قیام کیا مگر وہاں بھی حالات نے ساتھ نہیں دیا۔ مجبوراً کلکتہ کا سفر کرنا پڑا۔ وہاں بھی کچھ دن بیکاری میں گزارے۔ اس کے بعد نواب دلاور جنگ نے اپنے چھوٹے بھائی میر کاظم خاں کی اتالیقی پر مامور کر دیا۔ یہاں بھی دو سال کے بعد طبیعت اچاٹ ہو گئی۔ یہاں کے بعد میر بہادر علی حسینی کے توسط سے جان گل کرسٹ سے شناسائی ہوئی اور میرامن فورٹ ولیم کالج میں ملازم ہو گئے۔ جہاں 4 جون 1806 تک تصنیف و تالیف کا کام کرتے رہے۔فورٹ ولیم کالج سے وابستگی کے بعد میرامّن کو پہلا کام قصہ ’چہار درویش‘ کے اردو ترجمہ کا ملا۔ انہوں نے جان گل کرسٹ کی ہدایت کے مطابق ٹھیٹھ ہندوستانی گفتگو میں اس کتاب کا ترجمہ کیا اور اتنا عمدہ ترجمہ کیا کہ کالج کی طرف سے اس پر 500  روپیہ کا انعام دیا گیا۔ انہوں نے عطا حسین خان تحسین کے ’نو طرز مرصع‘ کو سامنے ضرور رکھا مگر اپنے طور پر اتنی تبدیلیاں کر دیں کہ اصل کتاب گم ہو گئی۔ ’باغ و بہار‘ میں چار درویشوں کی سرگزشت ہے اور آزاد بخت اس کے مرکزی کردار ہیں۔’باغ وبہار‘ کے علاوہ ’گنج خوبی‘ بھی میرامّن کی ترجمہ کی ہوئی کتاب ہے۔ ملا حسین واعظ کاشفی کی ’اخلاق محسنی‘ کا یہ ترجمہ ہے مگر اسے ’باغ و بہار‘ جیسی مقبولیت نصیب نہیں ہوئی۔ میرامّن کے سوانحی حالات تذکروں میں نہیں ملتے۔ اس لیے ان کی تاریخ پیدایش کے بارے میں قطعیت کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ دیگر احوال بھی نہیں ملتے۔ کہا جاتا ہے کہ 1806 میں میر امّن کا انتقال ہو ا۔

اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر :  n88148467

 سیر تیسرے درویش کی

میر امن دہلوی

تیسرا درویش کوٹ باندھ بیٹھا اور اپنی سیر کا بیان   اس طرح سے کرنے لگا

احوال اس فقیر کا اے دوستاں سنو

یعنی جو مجھ پہ بیتی ہے وہ داستاں سنو

جوکچھ کہ شاہ عشق نےمجھ سےکیاسلوک 

 تفصیل دارکرتا ہوں اس کا بیان سنو

یہ کمترین بادشاہ زادہ عجم کا ہے۔ میرے ولی نعمت وہاں بادشاہ تھی اور سوائے میرے کوئی فرزند نہ رکھتے تھے۔ میں جوانی کے عالم میں مصاحبوں کے ساتھ چوپڑ، گنجفہ، شطرنج، تختہ نرو کھیلا کرتا تھا۔ یا سوار ہو کر سیر و شکار میں مشغول رہتا۔ایک دن کا ماجرا ہے کہ سواری تیار کروا کر اور سب یار آشناؤں کو لے کر میدان کی طرف نکلا۔ باز بہری، جرح، باشا، سرخاب اور تیتروں پر اڑاتا ہوا دور نکل گیا۔ عجب طرح کا ایک قطعہ بہار کا نظر آیا کہ جیدھر نگاہ جاتی تھی، کوسوں تلک سبز اور پھولوں سے لال زمین نظر آتی تھی۔ یہ سماں دیکھ کر گھوڑوں کی باگیں ڈال دیاں، اور قدم قدم سیر کرتے ہوئے چلے جاتے تھے۔ ناگاہ اس صحرا میں دیکھا کہ ایک کالا ہرن اس پر زربفت کا جھول اور بھنوت کلی مرصع کی اور گھونگرو سونے کے زردوزی پٹے میں ٹکے ہوئے گلے میں پڑے، خاطر جمع سے اس میدان میں کہ، جہاں انسان کا دخل نہیں اور پرندہ پر نہیں مارتا، چرتا پھرتا ہے۔ ہمارے گھوڑوں کی سم کی آواز پا کر چوکنا ہوا اور سر اٹھا کر دیکھا اور آہستہ آہستہ چلا۔

مجھے اس کو دیکھنے سے یہ شوق ہوا کہ رفیقوں سے کہا تم یہیں کھڑے رہوں۔ یہ اسے جیتا پکڑوں گا۔ خبردار تم قدم آگے نہ بڑھائیو اور میرے پیچھے نہ آئیو۔ اور گھوڑا میری رانوں تلے ایسا پرند تھا کہ بارہا ہرنوں کے اوپر دوڑا کر ان کی کرچھالوں کو بھلا کر ہاتھوں سے پکڑ لیے تھے، اس کے عقب دوڑایا۔ وہ دیکھ کر چھلانگیں بھرنے لگا اور ہوا ہوا۔ گھوڑا بھی باد سے باتیں کرتا تھا لیکن اس کی گرد کو نہ پہنچا، وہ رہوار بھی پسینے پسینے ہو گیا اور میری بھی جیب مارے پیاس کو کٹخنے لگی پر کچھ بس نہ چلا۔ شام ہونے لگی۔ اور میں کیا جانوں کہاں سے کہاں نکل آیا۔ لاچار ہو کر اسے بھلاوا دیا۔ اور ترکش سے تیر نکال کر اور قربان سے کمان سنبھال کر چلے میں جوڑ کر کشش کان تلک لا کر، ران کواس کی تاک، اللہ اکبر کہہ کر مارا۔ بارے پہلا ہی تیر اس کے پاؤں ترازو ہوا۔ تب لنگڑاتا ہوا پہاڑ کے دامن کی سمت چلا۔ فقیر بھی گھوڑے پر سے اتر پڑا اور پا پیادہ اس کے پیچھے لگا۔ اس نے کوہ کا ارادہ کیا اور میں نے بھی اس کا ساتھ دیا۔ کئی اتار چڑھاؤ کے بعد ایک گنبد نظر آیا۔ جب پاس پہنچا ایک باغیچہ اور ایک چشمہ دیکھا۔ وہ ہرن تو نظر سے چھلاوا ہو گیا۔ میں نہایت تھکا تھا ہاتھ پاؤں دھونے لگا۔

ایک بارگی آواز رونے کی اس برج کے اندر سے میرے کان میں آئی جیسے کوئی کہتا ہے کہ اے بچے! جس نے تجھے تیر مارا، میری آہ کا تیر اس کے کلیجے میں لگیو۔ وہ اپنی جوانی سے پھل نہ پاوے اور خدا اس کو میرا سا دکھیا بنا دے میں یہ سن کر وہاں گیا۔ دیکھا تو ایک بزرگ ریش سفید اچھی پوشاک پہنے ایک مسند پر بیٹھا ہے اور ہرن آگے لیٹا ہے۔ اس کی جانگھ سے تیر کھینچتا ہے اور بددعا دیتا ہے۔میں نے سلام کیا اور ہاتھ جوڑ کہا۔ کہ حضرت سلامت یہ تقصیر نادانستہ اس غلام سے ہوئی۔ میں یہ نہ جانتا تھا خدا کے واسطے معاف کرو۔ بولا کہ بے زبان کو تو نے ستایا ہے، اگر آن جان تجھ سے یہ حرکت ہوئی، اللہ معاف کرے گا، میں پاس جا بیٹھا، اور تیر نکالنے میں شریک ہوا۔ بڑے طاقت سے تیر کو نکالا اور زخم میں مرہم بھر کر چھوڑ دیا۔ پھر ہاتھ دھو کر اس پیر مرد نے کچھ حاضری جو اس وقت موجود تھی، مجھے کھلائی میں نے کھا پی کر ایک چارپائی پر لنبی تانی۔ماندگی کے سبب خوب پیٹ بھر کر سویا۔ اس نیند میں آواز نوحہ و زاری کی کان میں آئی۔ آنکھیں مل کر جو دیکھتا ہوں تو اس مکان میں نہ وہ بوڑھا ہے نہ کوئی اور ہے۔ اکیلا میں پلنگ پر لیٹا ہوں اور وہ دالان خالی پڑا ہے، چاروں طرف بھیانک ہو کر دیکھنے لگا۔ ایک کونے میں پردہ پڑا نظر آیا۔ وہاں جا کر اسے اٹھایا۔ دیکھا تو ایک تخت بچھا ہے۔ اور اس پر ایک پری زادی عورت برس چودہ ایک کی، مہتاب کی صورت، اور زلفیں دونوں طرف چھوٹی ہوئیں، ہنستا چہرہ، فرنگی لباس پہنے ہوئے عجب ادا سے دیکھتی ہے اور بیٹھتی ہے اور وہ بزرگ اپنا سر اس کے پاؤں پر دھرے بے اختیار رو رہا ہے، اور ہوش حواس کھو رہا ہے۔ میں اس پیر مرد کا یہ احوال اور اس نازنین کا حسن و جمال دیکھ کر مرجھا گیا اور مردے کی طرح بے جان ہو کر گر پڑا۔ وہ مرد بزرگ میرا یہ حال دیکھ کر شیشہ گلاب کا لے آیا اور مجھ پر چھڑکنے لگا جب میں جیتا اٹھ کر اس معشوق کے مقابل جا کر سلام کیا، اس نے ہر گز نہ ہاتھ اٹھایا اور نہ ہونٹھ ہلایا میں نے کہا اے گل بدن اتنا غرور کرنا اور جواب سلام کا نہ دینا کس مذہب میں درست ہے؟

کم بولناادا ہے ہر  چند، پر نہ اتنا                                   مند جائے چشم عاشق تو بھی وہ منہ نہ کھولے

واسطے اس خدا کے جس نے تجھے بنایا ہے کچھ تو منہ سے بول۔ ہم بھی اتفاقا یہاں آ نکلے ہیں۔ مہمان کی خاطر ضرور ہے۔ میں نے بہتیری باتیں بنائیں، لیکن کچھ کام نہ آئیں۔ وہ چپکی بت کی طرح بیٹھی سنا کی۔ تب میں نے بھی آگے بڑھ کر ہاتھ پاؤں پر چلایا۔ جب پاؤں کو چھیڑا تو سخت معلوم ہوا۔ آخر یہ دریافت کیا کہ پتھر سے اس لعل کو تراشا ہے، اور اس آذر نے اس بت کو بنایا ہے۔ تب اس پیر مرد بت پرست سے پوچھا کہ میں نے تیرے ہرن کی ٹانگ میں کھپرا مارا۔ تو نے اس عشق کی ناوک سے میرا کلیجہ چھید کر وار پار کیا۔ تیری دعا قبول ہوئی۔ اب اس کی کیفیت مفصل بیان کر کر یہ طلسم کیوں بنایا ہے۔ اور تو بستی کو چھوڑ کر جنگل پہاڑ کیوں سیتا ہے۔ تجھ پر جو کچھ بیتا ہے مجھ سے کہہ۔

جب اس کا بہت پیچھا لیا تب اس نے جواب دیا کہ اس بات نے مجھے تو خراب کیا، کیا تو بھی سن کر ہلاک ہو چاہتا ہے؟ میں نے کہا لو اب بہت چکر کیا۔ مطلب کی بات کہو۔ نہیں تو مار ڈالوں گا۔ مجھے نہایت در پے دیکھ کر بولا۔ اے جوان حق تعالیٰ ہر ایک انسان کو عشق کی آنچ سے محفوظ رکھے۔ دیکھ تو اس عشق نے کیا کیا آفتیں برپا کی ہیں۔ عشق ہی کے مارے عورت خاوند کے ساتھ ستی ہوتی ہے اور اپنی جان کھوتی ہے۔ اور فرہاد مجنوں کا قصہ سب کو معلوم ہے۔ تو اس کے سننے سے پھل پاوے گا؟ ناحق گھر بار، دولت دنیا چھوڑ کر نکل جاوے گا، میں نے جواب دیا بس اپنی دوستی تہہ کر رکھو، اس وقت مجھے اپنا دشمن سمجھو۔ اگر جان عزیز ہے تو صاف کہو۔ لاچار ہو کر آنسو بھر لایا اور کہنے لگا کہ مجھ خانہ خراب کی یہ حقیقت ہے کہ بندے کا نام نعمان سیاح ہے، میں بڑا سوداگر تھا۔ اس سن میں تجارت کے سبب ہفت اقلیم کی سیر کی اور سب بادشاہوں کی خدمت میں رسائی ہوئی۔ ایک بار یہ خیال جی میں آیا کہ چاروں وانگ ملک تو پھرا، لیکن جزیرہ فرنگ کی طرف نہ گیا اور وہاں کے بادشاہ کو اور رعیت و سپاہ کو نہ دیکھا اور رسم و راہ وہاں کی کچھ نہ دریافت ہوئی۔ ایک دفعہ وہاں بھی چلا چاہیے۔ رفیقوں اور شفیقوں سے صلاح لے کر ارادہ مصمم کیا۔ اور تحفہ ہدایا جہاں تہاں کا جو وہاں کے لائق تھا لیا۔ اور ایک قافلہ سوداگروں کا اکٹھا کر کر جہاز پر سوار ہو کر روانہ ہوا۔ ہوا جو موافق پائی، کئی مہینوں میں اس ملک میں جا داخل ہوا۔ ہر ایک بازار و کوچے میں پختہ سڑکیں بنی ہوئیں اور چھڑکاؤ کیا ہوا۔ صفائی ایسی کہ تنکا کہیں پڑا نظر نہ آیا کوڑے کا تو کیا ذکر ہے۔ اور عمارتیں رنگ برنگ کی، اور رات کو رستوں میں دو رستہ قدم بقدم روشنی۔ اور شہر کے باہر باغات کہ جن میں عجائب گل بوٹے اور میوے نظر آئے کہ شاید سوائے بہشت کے کہیں اور نہ ہوں گے، جو وہاں کی تعریف کروں سو بجا ہے۔غرض سوداگروں کے آنے کا چرچا ہوا۔ ایک خواجہ سر معتبر سوار ہو کر اور کئی خدمت گار ساتھ لے کر قافلے میں آیا۔ اور بیوپاریوں سے پوچھا کہ تمہارا سردار کونسا ہے؟ سبھوں نے میری طرف اشارت کی۔ وہ محلی میرے مکان میں آیا۔ میں تعظیم بجا لایا، باہم سلام علیک ہوئی۔ اس کو سوزنی پر بٹھایا۔ تکیے کی تواضع کی۔ بعد اس کے میں نے پوچھا کہ صاحب کے تشریف لانے کا باعث ہے؟ فرمایئے۔ جواب دیا کہ شہزادی سے سنا ہے سوداگر آئے ہیں اور بہت جنس لائے ہیں، لہٰذا مجھ کو حکم دیا کہ جا کر ان کو حضور میں لے آؤ۔ پس تم جو کچھ اسباب لائق بادشاہوں کی سرکار کے ہو، ساتھ لے چلو اور سعادت آستانہ بوسی کی حاصل کرو۔

میں نے جواب دیا کہ آج تو ماندگی کے باعث قاصر ہوں۔ کل جان و مال سے حاضر ہوں گا۔ جو کچھ اس عاجز کے پاس موجود ہے، نذر گزرانوں گا۔ جو پسند آوے، مال سرکار کا ہے یہ وعدہ کر کر عطر پان دے کر خواجہ کو رخصت کیا اور سب سوداگرون کو اپنے پاس بلا کر جو جو تحفہ جس کے پاس تھا، لے لے کر جمع کیا۔ اور جو میرے گھر میں تھا وہ بھی لیا۔ اور صبح کے وقت دروازے پر بادشاہی محل کے حاضر ہوا۔

باری باری خبرداروں نے میری خبر عرض کی۔ حکم ہوا کہ حضور میں لاؤ۔ وہی خواجہ سرا نکلا اور میرا ہاتھ ہاتھ میں لے کر دوستی کی راہ سے باتیں کرتا ہوا لے چلا۔ پہلے خواص پر سے ہو کر ایک مکان عالی شان میں لے گیا۔ اے عزیز! تو باور نہ کرے گا، یہ عالم نظر آیا گویا پر کاٹ کر پریوں کو چھوڑ دیا ہے۔ جس طرف دیکھتا تھا نگاہ گڑ جاتی۔ پاؤں زمیں سے اکھڑے جاتے تھے۔ بہ زور اپنے تئیں سنبھالتا ہوا رو برو پہنچا۔ جونہیں بادشاہ زادی پر نظر پڑی۔ غش کی نوبت ہوئی اور ہاتھ پاؤں میں رعشہ ہو گیا۔ بہر صورت سلام کیا۔ دونوں طرف دست راست اور دست چپ، صف بہ صف نازنینان پری چہرہ، دست بست کھڑی تھیں۔ میں جو کچھ قسم جواہر اور پارچہ پوشاکی اور تحفہ اپنے ساتھ لے گیا تھا، پیش کیا۔ جب کشتیاں حضور میں چنی گئیں، ازبس کہ سب جنس لائق پسند کی تھی، خوش ہو کر خانساماں کے حوالے ہوئی اور فرمایا کہ قیمت اس کی بموجب فرد کے کل دی جاوے گی۔ میں تسلیمات بجا لایا اور دل میں خوش ہوا کہ اس بہانے سے بھلا کل بھی آنا ہو گا۔ جب رخصت ہو کر باہر آیا تو سودائی کی طرح کہتا کچھ تھا اور منہ سے سدے کچھ نکلتا تھا۔ اسی طرح سرا میں آیا، لیکن حواس بجا نہ تھے۔ سب آشنا دوست پوچھنے لگے کہ تمہاری کیا حالت ہے؟ میں نے کہا اتنی آمدورفت سے گرمی دماغ پر چڑھ گئی ہے۔

غرض وہ رات تلیھے کاٹی۔ فجر کو پھر جا کر حاضر ہوا، اور اسی خواجہ کے ساتھ پھر محل میں پہنچا۔ وہی عالم جو کل دیکھا تھا۔ بادشاہ زادی نے مجھے دیکھا اور ہر ایک کو اپنے اپنے کام پر رخصت کیا۔ جب پرچھا ہوا۔ خلوت میں اٹھ گئیں اور مجھے طلب کی۔ جب میں وہاں گیا، بیٹھے کا حکم کیا۔ میں بھی آداب بجا لا کر بیٹھا۔ فرمایا کہ یہاں جو تو آتا اور یہ اسباب لایا، اس میں منافع کتنا منظور ہے۔ میں نے عرض کی کہ آپ کے قدم دیکھنے کی بڑی خواہش تھی۔ سو خدا نے میسر کی، اب میں نے سب کچھ بھر پایا۔ اور دونوں جہان کی سعادت حاصل ہوئی۔ اور قیمت کچھ فہرست میں ہے، نصف کی خرید ہے اور نصف نفع ہے۔ فرمایا نہیں جو قیمت تو نے لکھی ہے وہ عنایت ہو گی، بلکہ اور بھی انعام دیا جائے گا بشرطیکہ ایک کام تجھ سے ہو سکے تو حکم کروں۔ میں نے کہا کہ غلام کا جان و مال اگر سرکار کے کام آوے تو میں اپنے طالعوں کی خوب سمجھوں اور آنکھوں سے کروں۔ یہ سن کر قلم دان یاد فرمایا۔ ایک شقہ لکھا اور موتیوں کے درمیان میں رکھ کر ایک رومال شبنم کا اور لپیٹ کر میرے حوالے کیا اور ایک انگوٹھی نشان کے واسطے انگلی سے اتار دی اور کہا کہ اس طرف کو ایک بڑا باغ ہے۔

دل کشا اس کا نام ہے۔ وہاں تو جا کر ایک شخص کے خسرو نام داروغہ ہے، اس کے ہاتھ میں یہ انگشتری دیجئو، اور ہماری طرف سے دعا کہیو اور اس رقعہ کا جواب مانگیو۔ لیکن جلد آئیو۔ اگر کھانا وہاں کھائیو تو پانی یہاں پیئو۔ اس کام کا انعام تجھے ایسا دوں گی تو دیکھے گا۔ میں رخصت ہوا۔ اور پوچھتا پوچھتا چلا۔ قریب دو کوس کے جب گیا، وہ باغ نظر پڑا۔ جب پاس پہنچا، ایک عزیز مسلح مجھ کو پکڑ کر دروازے میں باغ کے لے گیا۔ دیکھوں تو ایک جوان شیر کی صورت، سونے کی کرسی پر زرہ داؤدی پہنے، چار آئینہ باندھے فولادی خود سر پر دھرے، نہایت شان و شوکت سے بیٹھا ہے اور پانچ سو جوان تیار ڈھال تلوار ہاتھ لئے اور ترکش کامان باندھے مستعد پرا باندھے کھڑے ہیں۔ میں نے سلام کیا، مجھے نزدیک بلایا۔ میں نے وہ خاتم دی اور خوشامد کی باتیں کر کر وہ رومال دکھایا۔ اور سقے کے بھی لانے کا احوال کہا۔ اس نے سنتے ہی انگلی دانتوں سے کاٹی اور سر دھن کر بولا کہ شاید تیری اجل تجھ کو لے کر آئی ہے۔ خیر باغ کے اندر جا، سرو کے درخت میں ایک آہنی پنجرا لٹکتا ہے اس میں ایک جوان قید ہے۔ اس کو یہ خط دے کر جواب لے کر جلدی پھرا۔ میں شتاب باغ میں گھسا۔ باغ کیا تھا، گویا جیسے جی بہشت میں گیا۔ ایک پر ایک چمن رنگ بہ رنگ کا پھول رہا تھا اور فوارے چھوٹ رہے تھے۔ جانور چہچہے مار رہے تھے میں سیدھا چلا گیا اور اس درخت میں وہ قفس دیکھا اس میں ایک حسین نظر آیا میں نے ادب سے سر نیہوڑ لیا اور سلام لیا اور وہ خریط سر بمہر پنجرے کی تیلیوں کی راہ سے دیا۔ وہ عزیز رقعہ کھول کر پڑھنے لگا اور مجھ سے مشتاق وار احوال ملکہ کو پوچھنے لگا۔ ابھی باتیں تمام نہ ہوئیں تھیں کہ ایک فوج زنگیوں کی نمودار ہوئی اور چاروں طرف سے مجھ پر آ ٹوٹی اور بے تحاشا برچھی و تلوار مارنے لگی ایک نہتے کی بساط کیا؟ ایک دم میں چور زخمی کر دیا۔ مجھے کچھ اپنی سدھ بدھ نہ رہی۔ پھر جو ہوش آیا اپنے تئیں چارپائی پر پایا کہ دو پیادے اٹھائے لیے جاتی ہیں اور آپ میں بتیاتے ہیں۔

ایک نے کہا اس مرد کی لوتھ کو میدان میں پھینک دو۔ کتے کوے کھا جائیں گے دوسرا بولا اگر بادشاہ تحقیق کرے اور یہ خبر پہنچے تو جیتا گڑوا دے اور باقی بچوں کو کولہو میں پڑوا دے۔ کیا ہمیں اپنی جان بھاری پڑے ہے جو ایسی نامعقول حرکت کریں۔میں نے یہ گفتگو سن کر دونوں جاجوج ماجوج سے کہا واسطے خدا کے مجھ پر رحم کرو۔ ابھی مجھ میں ایک رمق جان باقی ہے۔ جب مر جاؤں گا جو تمہارا جی چاہے گا، سو کیجو، مردہ بدست زندہ لیکن یہ تو کہو مجھ پر یہ کیا حقیقت بیتی۔ مجھے کیوں مارا؟ اور تم کون ہو؟ بھلا اتنا تو کہہ سناؤ۔

تب انہوں نے رحم کھا کر کہا وہ جوان جو قفس میں بند ہے اس بادشاہ کا بھتیجا ہے اور پہلے اس کا باپ تخت نشین تھا۔ رحمت کے وقت یہ وصیت اپنے بھائی کو کی کہ ابھی میرا بیٹا جو وارث اس سلطنت کا ہے، لڑکا اور بے شعور ہے۔ کاروبار بادشاہت کا خیر خواہی اور ہوشیاری سے تم کیا کیجو۔ جب بالغ ہو اپنی بیٹی سے شادی اس کی کر دیجیو اور مختار تمام ملک اور خزانے کا کیجو۔یہ کہہ کر انہوں نے وفات پائی اور سلطنت چھوٹے بھائی پر آئی۔ اس نے وصیت پر عمل نہ کیا بلکہ دیوانہ اور سودائی مشہور کر کے پنجرے میں ڈال دیا اور چوکی گاڑھی چاروں طرف باغ کے رکھی ہے کہ پرندہ پر نہیں مار سکتا۔ اور کئی مرتبے زہر ہلاہل دیا ہے لیکن زندگی زبردست ہے اثر نہیں کیا۔ اب وہ شہزادی اور یہ شہزادہ دونوں عاشق و معشوق بن رہے ہیں۔ وہ گھر میں تلپھتی اور یہ قفس میں تڑپھے ہے۔ تیرے ہاتھ شوق کا نامہ اس نے بھیجا۔ یہ خبر ہر کاروں نے بہ جنس بادشاہ کو پہنچائی۔ حبشیوں کا دستہ متعین ہوا، تیرا یہ احوال کیا اور اس جوان قیدی کے قتل کی وزیر سے تدبیر پوچھی۔ اس نمک حرام نے ملکہ کو راضی کیا ہے کہ اس بے گناہ کو بادشاہ کے حضور اپنے ہاتھ سے شہزادی مار ڈالے۔

میں نے کہا چلو مرتے مرتے یہ بھی تماشا دیکھ لیں۔ آ کر راضی ہو کر وہ دونوں اور میں زخمی چپکے ایک گوشے میں جا کھڑے ہوئے، دیکھا تو تخت پر بادشاہ بیٹھا ہے اور ملکہ کے ہاتھ میں ننگی تلوار ہے اور شہزادے کو پنجرے سے باہر نکال کر رو بہ رو کھڑا کیا ملکہ جلاد بن کر شمشیر برہنہ لئے ہوئے اپنے عاشق کو قتل کرنے کو آئی۔ جب نزدیک پہنچی تلوار پھینک دی اور گلے میں چمٹ گئی۔ تب وہ عاشق بولا کہ ایسے مرنے پر میں راضی ہوں۔ یہاں تیری آرزو ہے، وہاں بھی تیری تمنا رہے گی۔ ملکہ بولی کہ اس بہانے سے میں تیرے دیکھنے کو آئی تھی۔ بادشاہ یہ حرکت دیکھ کر سخت برہم ہوا اور وزیر کو ڈانٹا کہ تو یہ تماشا دکھلانے کو لایا تھا؟ محلی ملکہ کو جدا کر کے محل میں لے گئے اور وزیر نے خفا ہر کر تلوار اٹھائی اور بادشاہ زادے کے اوپر دوڑا کہ ایک ہی وار میں کام اس بیچارے کا تمام کرے۔ جوں چاہتا ہے کہ تیغا چلاوے، غیب سے ایک تیر ناگہانی سے اس کی پیشانی پر بیٹھا کہ دوسار ہو گیا اور وہ گر پڑا۔ بادشاہ یہ واردات دیکھ کر محل میں گھس گئے، جوان کو پھر قفس میں بند کر کر باغ میں لے گئے۔ میں بھی وہاں سے نکلا۔ راہ میں سے ایک آدمی مجھے بلا کر ملکہ کے حضور میں لے گیا۔ مجھے گھائل دیکھ کر ایک جراح کو بلوایا اور نہایت تاکید سے فرمایا کہ نوجوان کو چنگا کر کے غسل شفا کے دے۔ یہی تیرا مجرا ہے اس کے اوپر جتنی محبت تو کرے گا ویسا ہی انعام اور سرفرازی پاوے گا۔ غرض وہ جراح بموجب ارشاد ملکہ کے تک و دو کر کے ایک چلے میں نہلا دھلا مجھے حضور میں لے گیا۔ ملکہ نے پوچھا کہ اب تو کچھ کسر باقی نہیں رہی؟ میں نے کہا کہ آپ کی توجہ سے اب ہٹا کٹا ہوں۔ تب ملکہ نے ایک خلعت اور بہت سے روپے جو فرمائے تھے، بلکہ اس سے بھی دوچند عطا کئے اور رخصت کیا۔

میں نے وہاں سے رفیق اور نوکر چاکروں کو لے کر کوچ کیا۔ جب اس مقام پر پہنچا سب کو کہا۔ تم اپنے وطن جاؤ۔ اور میں نے اس پہاڑ پر یہ مکان اور اس کی صورت بنا کر اپنا رہنا مقرر کیا۔ اور نوکروں اور غلاموں کو موافق ہر ایک کی قدر کے روپے دے کر آزاد کیا اور یہ کہہ دیا کہ جب تلک جیت رہوں گا، میرے قوت کی خبر گیری تمہیں ضرور ہے۔ آگے مختار ہو۔ اب وہی نمک حلالی سے میرے کھانے کی خبر لیتے ہیں اور میں بہ خاطر جمع اس بت کی پرستش کرتا ہوں۔ جب تلک جیتا ہوں میرا یہی کام ہے۔ یہ میری سرگزشت ہے جو تو نے سنی۔ یا فقر! میں نے بہ مجرد سنتے اس قصے کی کفنی گلے میں ڈالی اور فقیروں کا لباس کیا اور اشتیاق میں فرنگ ملک کے دیکھے کے لیے روانہ ہوا۔ کتنے ایک عرصہ میں جنگل پہاڑوں کی سیر کرتا ہوا مجنوں اور فرہاد کی صورت بن گیا۔

آخر میرے شوق نے اس شہر تلک پہنچایا۔ گلی کوچے میں باولا سا پھرنے لگا۔ اکثر ملکہ کے محل کے آس پاس رہا کرتا۔ لیکن کوئی ڈھبایسا نہ ہوتا جو وہاں تک رسائی ہو۔ عجیب حیرانی تھی کہ جس واسطے یہ محنت کر کر گیا، وہ مطلب ہاتھ نہ آیا۔ ایک دن بازار میں کھڑا تھا کہ ایک بارگی آدمی بھاگنے لگا اور دکاندار دکانیں بند کر کے چلے گئے۔ یا وہ رونق تھی یا سنسان ہو گیا۔ ایک طرف سے ایک جوان رستم کا سا کلہ جڑا شیر کی مانند گونجتا اور تلوار دو دوستی جھاڑتا ہوا، زرہ بکتر گلے میں ٹوپ جھلم کا سر پر طمنچے کی جوڑی کمر میں، کیفی کی طرح بکتا جھکتا نظر آیا۔ اور اس کے پیچھے غلام بنات کی پوشاک پہنے ایک تابوت مخمل کا شانی سے مڑھا ہوا سر پر لئے چلے آتے ہیں۔ میں نے یہ تماشا دیکھ کر ساتھ چلنے کا قصد کیا۔ جو کوئی آدمی میری نظر پڑتا، مجھے منع کرتا لیکن میں کب سنتا ہوں، رفتہ رفتہ وہ جوان مرد ایک عالی شان مکان میں چلا۔ میں بھی ساتھ ہوا۔ اس نے پھرتے ہی چاہا کہ ایک ہاتھ مارے اور مجھے دو ٹکڑے کرے۔ میں نے اسے قسم دی کہ میں بھی یہی چاہتا ہوں۔ میں نے اپنا خون معاف کیا۔ کسو طرح مجھے اس زندگی کے عذاب سے چھڑا دے کہ نہایت تنگ آیا ہوں۔ میں جان بوجھ کر تیرے سامنے آیا ہوں، دیر مت کر، مجھے مرنے پر ثابت قدم دیکھ کر خدا نے اس کے دل میں رحم ڈالا اور غصہ ٹھنڈا ہوا۔ بہت توجہ اور مہربانی سے پوچھا کہ تو کون ہے؟ اور کیوں اپنی زندگی سے بیزار ہوا ہے؟ میں نے کہا ذرا بیٹھئے تو کہوں۔ میرا قصہ بہت درو و دراز ہے۔ اور عشق کے نیچے میں گرفتار ہوں۔ اس سبب سے لاچار ہوں۔ یہ سن کر اس نے اپنی کمر کھولی اور ہاتھ منہ دھو دھا کر کچھ ناشتا کیا۔ مجھے بھی عنایت ہوا۔ جب فراغت کر کے بیٹھا، بولا۔ کہہ تجھ پر کیا گزری؟ میں نے سب واردات اس پیر مرد کی اور ملکہ کی اور وہاں اپنے جانے کی کہہ سنائی۔ پہلے سن کر رویا اور یہ کہا کہ اس کم بخت نے کس کس کا گھر گھالا۔ مراد کو پہنچے اور تو اندیشہ نہ کر اور خاطر جمع رکھ حجام کو فرمایا کہ اس کی حجامت کر کے حمام کروا دے۔ ایک جوڑا کپڑا اس کے غلام نے لا کر پہنایا۔ تب مجھ سے کہنے لگا کہ یہ تابوت جو تو نے دیکھا، اس شہزادے مرحوم کا ہے، جو قفس میں مقید تھا۔ اس کو دوسرے وزیر نے آخر کمر سے مارا، اس کو تو نجات ہوئی کہ مظلوم مارا گیا۔ میں اس کا کوکا ہوں۔ میں نے اس وزیر کو بہ ضرب شمشیر مارا اور بادشاہ کے بھی مارنے کا ارادہ کیا۔ بادشاہ گڑگڑایا اور سوگند کھانے لگا کہ میں بے گناہ ہوں۔ میں نے اسے نامرد جان کر چھوڑ دیا۔ تب سے میرا کام یہی ہے کہ ہر مہینے کی نو چندی جمعرات کو میں اس تابوت کو اسی طرح شہر میں لئے پھرتا ہوں، اور اس کا ماتم کرتا ہوں۔ اس کی زبانی یہ احوال سننے سے مجھے تسلی ہوئی کہ اگرچہ یہ چاہے گا تو میرا مقصد بر آوے گا۔ خدا نے بڑا احسان کیا جو ایسے جنونی کو مجھ پر مہربان کیا۔ سچ ہے خدا مہربان تو کل مہربان۔

جب شام ہوئی اور آفتاب غروب ہوا۔ اس جوان نے تابوت کو نکالا اور ایک غلام کے عوض وہ تابوت میرے سر پر دھرا اور اپنے ساتھ لے کر چلا۔ فرمانے لگا کہ ملکہ کے نزدیک جاتا ہوں۔ تیری سفارش تابہ مقدور کروں گا۔ تو ہرگز دم نہ ماریو، چپکا بیٹھا سنا کیجو۔ میں نے کہا جو کچھ صاحب فرمائے ہیں وہی کروں گا، خدا تم کو سلامت رکھے جو میرے احوال پر ترس کھاتے ہو۔ اس جوان نے قصد بادشاہی باغ کا کیا، جب اندر داخل ہوا ایک چبوترا سنگ مرمر کا ہشت پہلو باغ کے صحن میں تھا اور اس پر ایک نم گیرہ سفید بادلے کا موتیوں کی جھالر لگی ہوئی الماس کے استادوں پر کھڑا تھا اور ایک مسند مغرق بچھی تھی۔ گاؤ تکیہ اور بغلی تکیے زربفت کے لگے ہوئے۔ وہ تابوت وہاں رکھوایا اور ہم دونوں کو فرمایا کہ اس درخت کے پاس جا کر بیٹھو۔ بعد ایک ساعت کے مشعل کی روشنی نظر آئی۔ ملکہ آپ کئی خواصیں پس و پیش اہتمام کرتی ہوئیں تشریف لائیں لیکن اداسی اور خفگی چہرے پر ظاہر تھی۔ آ کر مسند پر بیٹھیں۔ فاتحہ پڑھی اور کچھ باتیں کرنے لگا۔ میں کان لگائے سن رہا تھا۔ آخر اس جوان نے کہا کہ ملکہ جہان سلامت! ملک عجم کا شہزادہ آپ کی خوبیاں اور محبوبیاں غائبانہ سن کر اپنی سلطنت کو برباد دے فقیر بن مانند ابراہیم ادہم کے تباہ ہوا، اور بڑی محنت کھینچ کر یہاں تک آ پہنچا۔ سائیں تیرے کارن چھوڑا شہر بلخ۔ اور شہر میں بہت دنوں سے حیران پریشان پھرتا ہے۔ آخر وہ قصد مرنے کا کر کے میرے ساتھ لگ چلا۔ میں نے تلوار سے ڈرایا۔ اس نے گردن آگے دھر دی کہ اب میں یہی چاہتا ہوں، دیر مت کر۔ غرض تمہارے عشق میں ثابت ہے میں نے خوب آزمایا۔ سب طرح پورا پایا۔ اس سبب سے اس کا مذکور میں درمیان لایا۔ اگر حضور سے اس کے احوال پر مسافر جان کر توجہ ہو تو خدا ترسی اور حق شناسی سے دور نہیں۔

یہ ذکر ملکہ نے سن کر فرمایا کہاں ہے؟ اگر شہزادہ ہے تو کیا مضائقہ؟ رو بہ رو آوے وہ کوکا وہاں سے اٹھ کر آیا اور مجھے ساتھ لے کر گیا۔ میں ملکہ کے دیکھنے سے نہایت شاد ہوا، لیکن عقل و ہوش برباد ہوئے۔ عالم سکوت کا ہو گیا۔ یہ ہواؤ نہ پڑا کہ کچھ کہوں۔ ایک دم میں ملکہ سدھاری اور کوکا اپنے مکان کو چلا۔ گھر آ کر بولا کہ میں نے تیری سب حقیقت اول سے آخر تک کہہ سنائی اور سفارش بھی کی، اب تو ہمیشہ رات کو بلا ناغہ جایا کر اور عیش خوشی منایا کر۔ میں اس کے قدم پر گر پڑا۔ اس نے گلے لگا لیا۔ تمام دن گھڑیاں گنتا رہا کہ کب سانجھ ہو، جو میں جاؤں۔ جب رات ہوئی میں اس جوان سے رخصت ہو کر چلا اور پائیں باغ میں ملکہ کے چبوترے پر تکیہ لگا کے جا بیٹھا۔ بعد ایک گھڑی کے ملکہ تن تنہا ایک خواص کو ساتھ لے کر آہستہ آہستہ آ کر مسند پر بیٹھیں۔ خوش طالعی سے یہ دن میسر ہوا، میں نے قدم بوس کیا۔ انہوں نے میرا سر اٹھا لیا اور گلے سے لگا لیا۔ اور بولیں کہ اس فرصت کو غنیمت جان میرا کہا مان۔ مجھے یہاں سے لے نکل، کسو اور ملک کو چل۔ میں نے کہا چلئے یہ کہہ کر ہم دونوں باغ کے باہر تو ہوئے پر حیرت سے اور خوشی سے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ راہ بھول گئے اور ایک طرف کو چلے جاتے تھے، پر کچھ ٹھکانا نہیں پاتے تھے۔ ملکہ برہم ہو کر بولیں اب میں تھک گئی تیرا مکان کہاں ہے، جلدی چل کر پہنچ۔ نہیں تو کیا کیا چاہتا ہے؟ میرے پاؤں میں پھپھولے پڑ گئے، رستے میں کہیں بیٹھ جاؤں گی۔

میں نے کہا کہ تیرے غلام کی حویلی نزدیک ہے، اب آ پہنچے، خاطر جمع رکھو اور قدم اٹھاؤ۔ جھوٹ تو بولا پر دل میں حیران تھا کہ کہاں لے جاؤں؟ عید راہ پر ایک دروازہ مقفل نظر پڑا۔ جلدی سے قفل کو توڑ کر مکان کے بھیتر گئے۔ اچھی حویلی، فرش بچھا ہوا شراب کے شیشے بھرے، قرینے سے طاق میں دھرے اور باورچی خانے میں نان کباب تیار تھے۔ ماندگی کمال ہو رہی تھی ایک ایک گلاب شراب پرتگالی کی اس گزک کے ساتھ پی اور ساری راہ باہم خوشی کی۔ جب اس چین سے صبح ہوئی، شہر میں غل مچا کہ شہزادی غائب ہوئی۔ محلہ محلہ، کوچہ کوچہ، منادی پھرنے لگی اور کٹنیاں اور ہرکارے چھوٹے کہ جہاں ہاتھ آوے پیدا کریں، اور سب دروازوں پر شہر کے بادشاہی غلاموں کی چوکی آ بیٹھی۔ گزر بانوں کو حکم ہوا کہ بغیر پروانگی، چیونٹی باہر شہر کے نہ نکل سکے۔ جو کوئی سراغ ملکہ کا لاوے گا ہزار اشرفی اور خلعت انعام پاوے گا۔ تمام شہر کٹنیاں پھرنے اور گھر گھر میں گھسنے لگیں۔ مجھے جو کم بختی لگی دروازہ بند نہ کیا۔ ایک بڑھیا شیطان کی خالہ، اس کا خدا کرے منہ کالا، ہاتھ میں تسبیح لٹکائے برقع اوڑھے، دروازہ کھلا پا کر ندھڑک چلی آئی اور سامنے ملکہ کے کھڑی ہو کر ہاتھ اٹھا کر دیا دینے لگی کہ الٰہی تیری نتھ جوڑی سہاگ کی سلامت رہے اور کماو کی پگڑی قائم رہے میں غریب رنڈیا فقیرنی ہوں۔ ایک بیٹی میری ہے کہ وہ دو جی سے پورے دونوں درد زہ میں مرتی ہے اور مجھ کو اتنی وسعت نہیں کہ ادھی کا تیل چراغ جلاؤں، کھانے پینے کو تو کہاں سے لاؤں۔ اگر مر گئی تو گورو کفن کیونکر کروں گی؟ آج دو دن ہوئے ہیں کہ بھوکی پیاسی پڑی ہے۔ اسے صاحب زادی! اپنی خیر کچھ ٹکڑا پارچہ دلا تو اس کو پانی پینے کا آدھار ہو۔

ملکہ نے ترس کھا کر اپنے نزدیک بلا کر چار نان اور کباب اور ایک انگوٹھی چھینگیا سے اتار کر حوالے کی کہ اس کو بیچ بانچ کر گہنا پاتا بنا دیجو۔ اور خاطر جمع سے گزران کیجو۔ اور کبھو آیا کیجو، تیرا گھر ہے، اس نے اپنے دل کا مدعا، جس کی تلاش میں آئی تھی بہ جنس پایا۔ خوشی سے دعائیں دیتی اور بلائیں لیتی دفع ہوئی۔ ڈیوڑھی میں نان کباب پھینک دیئے، مگر انگوٹھی کو مٹھی میں لے لیا کہ پتا ملکہ کے ہاتھ کا میرے ہاتھ آیا۔ خدا اس آفت سے جو بچایا چاہے اس مکان کا مالک جواں مرد سپاہی، تازی گھوڑے پر چڑھا ہوا، نیزہ ہاتھ میں لئے شکار بن سے ایک ہرن لٹکائے آ پہنچا، اپنی حویلی کا تالا ٹوٹا اور کواڑ کھلے پائے۔ اس دلالہ کو نکلتے دیکھا، مارے غصے کے ایک ہاتھ سے اس کے جھونٹے پکڑ کر لٹکایا اور گھر میں آیا۔ اس کے دونوں پاؤں میں رسی باندھ کر ایک درخت کی ٹہنی میں لٹکایا۔ سر تلے پاؤں اوپر کئے ایک دم میں تڑپہ تڑپہ مر گئیں۔ اس مرد کی صورت دیکھ کر یہ ہیبت غالب ہوئی کہ ہوائیاں منہ پر اڑنے لگیں اور مارے ڈر کے کلیجہ کانپنے لگا۔ اس عزیز نے ہم دونوں کو بدحواس دیکھ کر تسلی دی کہ بڑی نادانی تم نے کی۔ ایسا کام کیا اور دروازہ کھول دیا۔

ملکہ نے مسکرا کر فرمایا کہ شہزادہ اپنے غلام کی حویلی کہہ کر مجھے لے آیا اور مجھ کو پھسلایا۔ اس نے التماس کیا کہ شہزادے نے بیان واقعی کہا۔ جتنی خلق اللہ ہے بادشاہوں کے لونڈی غلام ہیں۔ انہیں کی برکت اور فیض سے سب کی پرورش اور نباہ ہے۔ یہ غلام بے دام و درم زر خریدہ تمہارا ہے۔ لین بھید چھپانا، عقل کا مقتضا ہے۔ اے شہزادے تمہارا اور ملکہ کا اس غریب خانے میں توجہ فرمانا اور تشریف لانا سعادت دونوں جہان کی ہے۔ اور اپنے فدوی کو سرفراز کیا۔ میں نثار ہونے کو تیار ہوں۔ کسو صورت میں جان و مال سے دریغ نہ کروں گا۔ آپ شوق سے آرام فرمائیے اب کوڑی بھر خطرہ نہیں۔ یہ مردار کٹنی اگر سلامت جاتی تو آفت لاتی۔ اب جب تلک مزاج شریف چاہے بیٹھے رہیے اور جو کچھ چاہیے درکار ہو اس خانہ زاد کو کہیے سب حاضر کرے گا اور بادشاہ تو کیا چیز ہے! تمہاری خبر فرشتے کو بھی نہ ہو گی۔ اس جواں مرد نے ایسی ایسی باتیں تسلی کی کہیں کہ تک خاطر جمع ہوئی۔ تب میں نے کہا شاباش تم مرد ہو۔ اس مروت کا عوض ہم سے بھی جب ہو سکے گا تب ظہور میں آوے گا۔ تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے کہا کہ غلام کا اسم بہزاد خاں ہے۔ غرض چھ مہینے تک جتنی شرط خدمت کی تھی۔ بہ جان و دل بجا لایا۔ خوب آرام سے گزری۔

ایک دن مجھے اپنا ملک اور ماں باپ یاد آئے اس لیے نہایت متفکر بیٹھا تھا۔ میرا چہرہ ملین دیکھ کر بہزاد خان روبرو ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ اس فدوی سے اگر کچھ تقصیر چرن برداری میں واقع ہو تو ارشاد ہو۔ میں نے کہا از برائے خدا یہ کیا مذکور ہے! تم نے ایسا سلوک کیا کہ اس شہر میں ایسے آرام سے رہے، جیسے اپنی ماں کے پیٹ میں کوئی رہتا ہے۔ نہیں تو یہ ایسی حرکت ہم سے ہوئی تھی کہ تنکا تنکا ہمارا دشمن تھا۔ ایسا دوست ہمارا کون تھا کہ ذرا دم لیتے۔ خدا تمہیں خوش رکھے بڑے مرد ہو۔ تب اس نے کہا اگر یہاں سے دل برداشتہ ہوا ہو۔ تو جہاں خیر عافیت سے پہنچا دوں۔ فقیر بولا کہ اگر اپنے وطن تک پہنچوں تو والدین کو دیکھوں، میری تو یہ صورت ہوئی، خدا جانے ان کی کیا حالت ہوئی جس واسطے جلا وطن ہوا تھا میری آرزو بر آئی۔ اب ان کی بھی قدم بوسی واجب ہے۔ میری خبر ان کو کچھ نہیں کہ مرا یا جیتا ہے؟ ان کے دل پر کیا قلق گزرتا ہو گا۔ وہ جوان مرد بولا کہ بہت مبارک ہے چلئے یہ کہہ کر ایک راس گھوڑا ترکی سو کوس چلنے والا اور ایک گھوڑی جلد جس کے پر نہیں کٹے تھے۔ لیکن شائستہ، ملکہ کی خاطر لایا اور ہم دونوں کو سوار کروایا۔ پھر زرہ بکتر پہن سلاغ باندھ اوپچی بن اپنے مرکب پر چڑھ بیٹھا اور کہنے لگا غلام آگے ہو لیتا ہے، صاحب خاطر جمع سے گھوڑے دبائے چل آویں۔ جب شہر کے دروازے پر آیا ایک نعرہ مارا اور تیرے قفل کر توڑا اور نگہبانوں کو ڈپٹ کر للکارا کہ برچودو! اپنے خاوند کو جا کر کہو کہ بہزاد خان ملکہ مہر نگار اور شہزادہ کا مار کو جو تمہارا داماد ہے ہانکے پکارے لئے جاتا ہے اگر مروی کا کچھ نشہ ہے تو باہر نکلو اور ملکہ کو چھین لو۔ یہ نہ کہیو کہ چپ چاپ لے گیا، نہیں تو قلعے میں بیٹھے آرام کیا کرو۔ کہ خبر بادشاہ کو جلد جا پہنچے۔ وزیر اور میر بخشی کو حکم ہوا کہ ان تینوں زاد مفسدوں کو باندھ کر لاؤ، یا ان کے سر کاٹ کر حضور میں پہنچاؤ، ایک دم کے بعد رغٹ فوج کا نمودار ہوا اور تمام زمین و آسمان گرد باد ہو گیا۔ بہزاد خاں نے ملکہ کو اس فقیر کو ایک در میں پل کے کہ بارہ پلے اور جون پور کے پل کے برابر کھڑا تھا۔ اور آپ گھوڑے کو تنگیا کر اس فوج کی طرف پھرا اور شیر کی مانند گونج کر مرکب کو ڈپٹ کر فوج کے درمیان گھسا۔ تمام لشکر کائی سا پھٹ گیا اور یہ دونوں سرداروں تلک جا پہنچا۔ دونوں کے سر کاٹ لئے جب سردار مارے گئے لشکر تتر بتر ہو گیا۔ وہ کہاوت ہے سر سے سر واہ جب بیل پھوٹی رائی رائی ہو گی۔ وہ نہیں آپ بادشاہ کتنی فوج بکتر پوشوں کے ساتھ لے کمک کو آئے۔ ان کو بھی لڑائی اس پکا جوان نے مار دی شکست فاس کھائی۔

بادشاہ پسپا ہوئے۔ سچ ہے فتح داد الٰہی ہے لیکن بہزاد خان نے ایسی جوانمردی کی کہ شاید رستم سے بھی نہ ہو سکتی تھی۔ جب بہزاد خان نے دیکھا کہ مطلق صاف ہوا، اب کون باقی رہا ہے جو ہمارا پیچھا کرے گا، بے وسواس ہو کر اور خاطر جمع کر جہاں ہم کھڑے تھے آیا اور ملکہ اور مجھ کو ساتھ لے کر چلا۔ سفر کی عمر کو تاہ ہوتی ہے۔ تھوڑے عرصے میں اپنے ملک کی سرحد میں جا پہنچے۔

ایک عرضی صحیح سلامت آنے کی بادشاہ کے حضور میں، جو قبلہ گاہ مجھ فقیر کے تھے، لکھ کر روانہ کی، جہاں پناہ پڑھ کر شاد ہوئے۔ دوگانہ شکر کا ادا کیا، جیسے سوکھے دھان میں پانی پڑا۔ خوش ہو کر سب امیروں کو جلو میں لے کر اس عاجز کے استقبال کی خاطر لب دریا آ کر کھڑے ہوئے۔ اور نواڑوں کے واسطے میر بحر کو حکم ہوا۔ میں نے دوسرے کنارے پر سواری بادشاہ کی کھڑی دیکھی۔ قدم بوسی کی آرزو میں گھوڑے کو دریا میں ڈال دیا۔ ہیلہ مار کر حضور میں حاضر ہوا مجھے مارے اشتیاق کلیجے سے لگا لیا۔ اب ایک اور آفت ناگہانی پیش آئی کہ جس گھوڑے پر میں سوار تھا شاید وہ بچہ اسی مادیان کا تھا جس پر ملکہ سوار تھی۔ باجنسیت کے باعث میرے مرکب کو دیکھ کر گھوڑی نے بھی جلد کر کر اپنے تئیں ملکہ سمیت میرے پیچھے دریا میں گرایا اور پیرنے لگی، ملکہ نے گھبرا کر باگ کھینچی، وہ منہ کی نرم تھی الٹ گئی۔ ملکہ غوطے کھا کر مع گھوڑے دریا میں ڈوب گئی۔ کہ پھر ان دونوں کا نشان نظر نہ آیا۔ بہزاد خان نے یہ حالت دیکھی کہ اپنے تئیں گھوڑے سمیت ملکہ کی مدد کی خاطر دریا میں پہنچایا۔ وہ بھی اس بھنور میں آ گیا، پھر نکل نہ سکا۔ بہتیرے ہاتھ پاؤں مارے، کچھ بس نہ چلا، ڈوب گیا۔ جہاں پناہ نے یہ واردات دیکھ کر مہا جال منگوا کر پھنکوایا، ملاحوں اور غوطہ خوروں کو فرمایا۔ انہوں نے سارا دریا چھان مارا۔ تھاہ کی مٹی لے لے آئے۔ پر وہ دونوں ہاتھ نہ آئے۔ یا فقرا! یہ حادثہ ایسا ہوا کہ میں سودائی اور جنونی ہو گیا اور فقیر بن کر یہی کہتا پھرتا ان نینوں کا یہی بسیکہ وہ بھی دیکھا یہ بھی دیکھ۔ اگر ملکہ کہیں غائب ہو جاتی یا مر جاتی تو دل کو تسلی آتی۔ پھر تلاش کو نکلتا یا صبر کرتا۔ لیکن جب نظروں کے رو بہ رو غرق ہو گئی تو کچھ بس نہ چلا۔ آخر جی میں یہی لہر آئی کہ دریا میں ڈوب جاؤں شاید اپنے محبوب کو مر کر پاؤں۔

ایک روز ایک رات کو اسی دریا میں بیٹھا اور ڈوبنے کا ارادہ کر کر گلے تک پانی میں گیا۔ چاہتا ہوں کہ آگے پاؤں رکھوں اور غوطہ کھاؤں۔ وہی سوار برقعہ پوش جنہوں نے تم کو بشارت دی ہے آ پہنچے۔ میرا ہاتھ پکڑ لیا اور دلاسا دیا کہ خاطر جمع رکھ۔ ملکہ اور بہزاد خان جیتے ہیں۔ تو اپنی جان ناحق کیوں کھوتا ہے؟ دنیا میں ایسا بھی ہوتا ہے خدا کی درگاہ سے مایوس مت ہو۔ اگر جیتا رہے گا تو تیری ملاقات ان دونوں سے ایک نہ ایک روز ہو رہے گی۔ اب تو روم کی طرف جا۔ اور بھی دو درویش دل ریش وہاں گئے ہیں۔ ان سے جب ملے گا اپنی مراد کو پہنچے گا۔ یا فقرا! یہ موجب حکم اپنے ہادی کے میں بھی خدمت شریف میں آ کر حاضر ہوا ہوں۔ امید قوی ہے کہ ہر ایک اپنے اپنے مطلب کو پہنچے۔ اس ٹکڑ گدا کا یہ احوال تھا جو تمام کمال کہہ سنایا۔

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


 خلاصہ سر تیسرے درویش کی،

میر امن دہلوی کی داستان باغ و بہار اردو ادب کی ایک اہم داستان ہے  یہ فارسی داستان قصے چہار درویش کا آسان اردو ترجمان ہے داستان میں چار درویشوں کے واقعات کوپیش کیا گیا ہے جسے ایک مرکزی پلاٹ یعنی آزاد بخت کے واقعے سے جوڑا گیا آزاد بخت ایک بہت بڑا بادشاہ ہے لیکن اولاد نہ ہونے کی مایوسی میں قبرستان پہنچ جاتا ہے تو اسے قبرستان میں چار درویش نظر اتے ہیں اور آزاد بخت ان کے واقعات سنتا ہے پہلے درویش اور دوسرا درویش کے واقعات ختم ہونے کے بعد تیسرا درویش اپنا خصہ شروع کرتا ہے

تیسرا درویش اپنا فضہ یوں بیان کرتا ہے کہ وہ عجم کا شہزادہ ہے اس کے والد بہت بڑے بادشاہ ہے شہزادے کے سوا ان کی کوئی اولاد نہ تھی تیسرے درویش کو شکار پر جانے کابہت شوق تھا ایک دن شہزادہ شکار کے لیے نکلا تو پہاڑی علاقے میں ایک خوبصورت   کالے رنگ ہرن   نظر آیا شہزادہ اسے پکڑنے کے لیے اس کے پیچھے گھوڑے دوڑانے لگا لیکن وہ آگے بھاگ گیا اور ایک حویلی کے قریب پہنچ گیا تو شہزادے نے اسے ایک تیر مارا جو اس کے پیر میں لگ گیا ہرن کو دیکھ کر جو اس حویلی میں ایک بزرگ سفید بالوں والا تیر مارنے والے کوسنے لگا تو وہ شہزادہ اس کے قریب پہنچ کر اسے اپنی غلطی کی معافی مانگتا ہے شہزادہ رات ہونے کی وجہ سے یہیں رک جاتا ہے اور کچھ دیر بعد اسے اس بزرگ کے رونے کی آواز آتی ہے دیکھنے پر پتہ چلتا ہے کہ  حسینہ کے مجسمے کے سامنے بیٹھ کر رو رہا ہے شہزادہ حیران ہوتا ہے اور اس کے رونے کا سبب پوچھتا ہے اس پر وہ بزرگ اپنا واقعہ سناتا ہے

وہ  بزرگ اپنا واقعہ یوں سناتا ہے کہ یہ مجسمہ فرنگ کی شہزادی کا ہے اور وہ  بزرگ اپنا نام بتاتا ہے کہ وہ نعمان سیاہ ہے وہ اور ایک سوداگر بھی ہے اس نے کئی شہزادے شہر کو دیکھا تھا لیکن جب وہ  یہ فرنگ کے شہر پہنچا اپنا مال بیچنے لگا شہزادی نے محل میں جب اس کا سارا مال خرید لیا اور اسے اور ایک کام دیا کہ ایک خط لے جا کر کچھ دور  ایک باغ ہے جس کا نام دل کشہ ہے اس باغ میں لوہے کے پنجرے میں جو نوجوان قیدہے اسے یہ خط دینا اور اس کا جواب لے کر آنا جیسے ہی نعمان سیاہ  باغ میں پہنچا ساری فوج نے اس پر حم کر لیا اور وہ زخمی ہو گیا اس حالت میں پوچھنے لگا کہ آخر یہ کیا ماجرہ ہے تو فوجیوں نے بتایا کہ وہ نو جوان جو قفس میں بند ہے وہ اس شہر کا بادشاہ کا بھتیجہ بادشاہ نے مرتے وقت یہ وصیت تھی کہ جس وقت شہزادہ بالغ ہو جائے اسے اپنی بیٹی کی شادی کر دینا اور ساری سلطنت اسے دے دینا لیکن چچا کے دل میں لالچ آئی اور اس نے شہزادے کو پاگل قرار دے کر ایک قفس میں بند کر دیا اور چچا خود بادشاہ بن بیٹھا لیکن اس کی لڑکی مہر نگار اس سے عشق کرتی تھی لیکن سلطنت اسے ہاتھ سے جانے کے ڈر سے چچا نے اپنی لڑکی کی شادی شہزادے سے نہیں کرتا اور تخت و تاج اپنے قبضے میں رکھ لیتا ہے سارا واقعہ سن کر نعمان سیاہ شہزادی کے پاس واپس آتا ہے اور شہزادی نے اسے سارے سامان کا پیسہ دے کر رخصت کیا لیکن فرنگ کی شہزادی کی خوبصورتی دیکھ کر میں اس سے عشق کرنے لگا تھا واپس آ کر اس پہاڑ پر ایک حویلی تیار کی اور اس شہزادی کا خوبصورت مجسمہ تیار کر کے یہی زندگی گزار دی

     تیسرا درویش فرنگ کی شہزادی کی خوبصورتی دیکھ کر متاثر ہوتا ہے اور اپنا تختہ چھوڑ کر فرنگ کے شہزاد شہر پہنچتا ہے تو دیکھتا ہے کہ بازار میں سب لوگ بھاگ رہے ہیں دکانیں بند ہو رہی ہے اور ایک بہادر نوجوان ایک تابوت لے جا رہا ہے پوچھنے پر پتہ چلا کہ وہ تابوت اس قفس میں بند شہزادے گا ہے جسے وزیر نے قتل کر دیا تھا اور نوجوان اس کا کوئی چچا زاد بھائی تھا اور اپنے بھائی کے قتل کا بدلہ وزیر کو مار کر لے چکا تھا تیسرا درویش اس نوجوان کے پیچھے جاتا ہے اور اس سے پیار سارا واقعہ دریافت کرتا ہے کہ بادشاہ نے وزیر کے ذریعے قفس میں بند شہزادے کو قتل کر دیا اور اس نوجوان نے وزیر کو ختم کر دیا اور اپنا غصہ ظاہر کرنے کے لیے وہ اپنے بھائی کا تابوت لے کر گھومتا ہے اب تیسرا درویش بھی اپنا سارا واقعہ اس نوجوان کو سناتا ہے تو وہ نوجوان اسے وعدہ کرتا ہے کہ وہ شہزادی سے ملائے گا وہ نو جوان تیسرے درویش کو لے کر شہزادی کے پاس جاتا ہے تیسرا درویش شہزادی سے مل کر اپنے عشق کی داستان سناتا ہے اور شہزادی بھی فورا راضی ہو جاتی ہے اور کہیں دور جانے کا مشورہ دیتی ہے تیسرا درویش شہزادی کو لے کر اپنے ملک کی طرف روانہ ہوتا ہے لیکن خوشی میں راستہ بھول جاتا ہے راستے میں ایک حویلی نظر اتی ہے جس پر تالا ہوتا ہے اس تالے کو توڑ کر تیسرا درویش شہزادی کو حویلی میں لے جاتا ہے اس حویلی میں وہ کچھ دیر دل رہتے ہیں شہزادی کے محل سے غائب ہونے پر جاسوس چھوڑے جاتے ہیں اور شہزادی کو ڈھونڈنے پر بادشاہ انعام رکھتا ہے انعام کی لالچ میں ایک جاسوس بوڑھیا اس حویلی تک پہنچ جاتی ہے بھیک مانگنے کے بہانے وہ شہزادی سے انگوٹھی بھی حاصل کر لیتی ہے اور وہ بڑھیا بادشاہ سے انعام پانے کی لالچ میں جیسے ہی انگوٹھی لے کر حویلی سے باہر نکلتی ہے اسے حویلی کا مالک بہزاد خان نظر آتا ہے بہزاد خان اس بڑھیا کو دیکھ لیتا ہے اور شاید حویلی کا تالا اسی نے توڑا ہے یہ سوچ کر اسے جھاڑ سے الٹا لٹکا کر مارتا ہے اور یہ بڑھیا وہی مر جاتی ہے یہ دیکھ کر تیسرا درویش اور شہزادی ڈر جاتے ہیں اور بہزاد خان سے اپنا سارا واقعہ کہتے ہیں بھائی بہزاد خان اچھا انسان ہونے کے ساتھ باعمل اور بہادر انسان ہے وہ تیسرے درویش اور شہزادی کو تسلی دیتا ہے اور انہیں اس شہر سے باہر جانے کے ذمہ داری لیتا ہے بادشاہ کی فوج ان پر حملہ کرتی ہے اور بہزادخان اکیلا ان سے مقابلہ کرتا ہے اور آخر کار تیسرا درویش اور شہزادی کو دوسرے درویش کے ملک تک پہنچاتا ہے جب یہ خبر تیسرے درویش کے والد بادشاہ کو ملتی ہے تو بادشاہ ان کے استقبال کے لیے دریا کے پار ا کھڑے ہوتے ہیں تیسرا درویش اپنے والد کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے اور اسی خوشی میں اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیتا ہے اس کا دیکھا دیکھی جس گھوڑے پر شہزادہ سوار تھا وہ بھی پانی میں پانی میں چلی جاتی ہے لیکن شہزادی اور وہ گھوڑی غائب ہو جاتی ہیں انہیں ڈھونڈنے کے لیے بہزاد خان بھی دریا میں اتر جاتا ہے لیکن تینوں کا کوئی پتہ نہیں چلتا سارا دریا  چھان مارا جاتا ہے وہ نہیں ملتے ہیں تیسرا درویش کئی دنوں تک شہزادی کا پتہ نہ چلنے پر ایک روز رات کو اسی دریا میں ڈوبنے کے خاطر اترتا ہے لیکن وہیں سوار نقاب پوش ہاتھ پکڑ لیتا ہے اور اس کو روم کی طرف جانے کی بشارت دیتا ہے                                   ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

                       رجب علی بیگ سرور

سرور، مرزا رجب علی بیگ نام رجب علی بیگ، سرور تخلص۔ لکھنؤ میں تقریباً۸۶۔۱۷۸۵ء میں پیدا ہوئے۔ لکھنؤ ہی میں فارسی عربی کی تعلیم حاصل کی۔ اپنے زمانے کے مشہورخطاطوں میں شمار کیے جاتے تھے۔ موسیقی سے بھی اچھی واقفیت رکھتے تھے۔شاعری میں آغانوازش عرفیت، مرزا خانی سے تلمذ حاصل تھا۔ ان کے دوستوں میں اور احباب کے علاوہ مرزا غالب بھی تھے۔ کہا جاتا ہے کہ غازی الدین حیدر کے حکم سے وہ لکھنؤ سے جلا وطن کردیے گئے تھے۔ ۱۸۴۶ء میں واجد علی شاہ کے درباری شعرا میں داخل ہوئے۔ وہ دہلی ، میرٹھ اور راجپوتانہ بھی گئے۔ ۱۸۶۲ء میں سرور اپنی آنکھوں کے علاج کے لیے کلکتہ گئے اور واجد علی شاہ سے ملے جو اس وقت مٹیا برج میں نظر بند تھے۔ بالآخرآنکھوں کا علاج لکھنؤ میں کرایا۔ اس کے بعد سرور بنارس ایشری پرشاد نرائن سنگھ کے پاس چلے گئے اور وہیں اپریل ۱۸۶۹ء قصبہ رام نگر بنارس میں انتقال کرگئے۔ ’’فسانۂ عجائب‘‘ ان کی مشہور کتاب ہے۔ اس کے علاوہ نثر میں ان کی متعدد تصانیف ہیں۔ ’’فسانۂ عجائب‘‘ میں جواشعار ان کے درج ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے کوئی دیوان مرتب نہیں کیا۔ خواجہ عبدالرؤف صاحب عشرت کے پاس ان کا ایک غیرمرتب دیوان موجود تھا۔
                 بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد اول)،محمد شمس الحق،صفحہ:133

بندر کی تقریر 

 رجب علی بیگ سرور

صاحبو! دنیائے  دوں نیرنگی زمان سلفہ پرور بوقلموں عبرت و دید کی جائے۔ گرماگرم آیند دردن کا بازار ہے کس و ناکس جنس ناپائدار ہے لہو  ولعب کا خریدارہے  ۔ اپنے کام میں مصروف قضاہے ۔ جو شے ہے فنا ہے۔ معا ملات قضاء وقدرت سے نا چارہے ۔ یہی مسئلہ جبر و  اختیار ہے ، کو ئی کسی کی عداوت میں ہے ، کوئی سی شیدا ہے ۔ جسے  دیکھا آزاد نا پایا کسی نی کسی بکھیڑے میں مبتلاہے۔ ایک کواتنا سوجھتا  نہیں، کیا لین دین ہورہاہے سود کی امید میں سراسر زیاں ہے، سڑی ہونے کا سوداہے۔ اس کی قدرت ناطقہ دیکھو ۔ مجھ سے بے زبان ناچیز کو یہ تکلیف گویائی  عنایت کیا۔ تم سب کا سامعون میں چہرہ لکھ دیا۔ باتیں سننے کو ساتھ چلے چلے آتے ہو ۔جدائی   شتاق ہے۔ حال زار پر رحم کھا آنسوں بہاتے ہوئے یہ  رحمی  کی صفت ہے شان قہا ری دیکھو  اسی تقریر کی دھوم سے ایک ظالم شوم سے مظلوم کا مقابلہ ہوتاہے ، یقین  کا مل  ہے وہ قتل کرے گا۔ بے گناہ کے خون سے ہا تھ بھرے گا ، سودا الوجہ نی  الدارين ہوگا تب اسے آرام وچین ہوگا ۔ یہ گویا ئی گویا پیام مرگ  ہے۔ دنیا جائے آزمائش ہے۔ نادان جانتے ہیں یہ مقام قابل  آرام و آسائش ہے۔ دوروزه ریت کی خاطر کیا کیا سازوسامان پیداکرتے ہیں ۔ فرعون بے سامان ہو کر زمین پر پاوں نہیں دھرتے ہیں. جب سرکو  اٹھا آنکھ بند کر چلنے ہیں  خاکساروں کے سر کچلتے  ہیں آخر کار  حسرت و ارمان فقط لے کر مرتے ہیں ۔ جان اس کی جستجو میں کھو تے  ہیں، جو شئے  ہاتھ آئے، ذلت سے جمع ہو، پریشانی و  مشقت سے پاس رہے ،خست سے چھوٹ جائے یاس و حسرت سے پھرسر پر ہاتھ دھر روتے ہیں ۔

                        نا سخ

دنیاایک زال   بیسواہے      

  بےمہر وفابے حیاہے

 مردوں کے لئے یہ زن ہے رہزن            

  دنیا کی عدد سے دین کی دشمن

 رہتی نہیں ایک جاپہ جم                             

   کر پھر تی  ہے  برنگ  نرد   گھر گھر

انجام شاه گدا دوگز کفن اور تختہ تا بوت سے سوا ہ نہیں کسی نے ادہی یا محموری کا دیا یا بہ تحریرکر بلا کسی کو گزی  گاڑ ھا میسر ہوا۔ بصد کرب و بلا اس نے مندل کا تختہ لگایا۔ اس نے بیری چیلوں میں چھپا یا کسی نے بعد دفن سنگ مرمر کا مقبرہ بنا یا کسی نے سنگ مرمر کو  گورگڑھا پایا ۔کسی کا   مزار مطلا منقش رنگارنگ ہے کسی کی مانندسینئہ جاہل گورتنگ ہے۔ حسرت دنیائے کفن چاک ہوا۔ بستر دونوں کا فرش خاک ہوا ۔ نہ امیر،سمیر  وقاوم کا فرش بچھا سکا، نہ فقرپھٹی شطری اور ٹوٹا بور الاسکا۔ بعدچندے جب گردش چرخ نے گنبد گرایا، اینٹ سے اینٹ بجایا تو  ایک نے بتایا کہ دونوں میں یہ گورشاہ ہے ، یہ لحدفقیری ہے۔ اس کو مرگ جوانی نصیب ہوئی یہ استخوان بو سیده پیرہے۔سو یہ بھی   خوش نصیب نیک کمائی والے گو رگڑھا  کفن پاتے  ہیں  نہیں تو  سیکڑوں چھاتی پر ہاتھ رکھ کر مرجاتے ہیں۔ لوگ درگورکہہ کر چلے آتے ہیں۔ کتّے، بلّی ،چیل، کوّے، بی ، جیل بوٹیاں نوچ نوچ کھاتے ہیں۔ دامن دشت عریاں کفن گو رہے، چراغ سحر  کا سحن ہوتا ہے ، یاس و حسرت کے سوا کوئی نہ  سرہانے روتا ہے، تمنا  چھٹ کوئی  پائنتی  نہ ہوتا ہے۔ سالہا مقبروں کی عمارت عالی ادر سازوسامان کی دیکھ بھالی میں سریع السیرہے۔ ہزاروں رنج  گوربے  چراغ غریباں کی دید میں بیٹھے بٹھائے سہے طرفی نقل ہے  ہکہ والی وارث ان کے سریر سلطنت مسند حکومت پر شب وروز جلوہ افروز ہے مگر تنبیہ غا فلوں کو قدرت حق سے گنبدوں میں آشنا زاغ وزغن  میناروں مسکن  بوم شوم قبروں پر کتّے  لوٹتے  دیکھے۔

 مزار غریباں تاسف  کی جا ہے                       

وہ سوتے ہیں پھرتے جو کل  جابجاتھے

رنگ چمن  صرف  خزاں دیکھا                        

ڈھلاہواحسن  گل رخاں دیکھا

 اگرگل خنداں پیر جوبن ہے، بہارہے ، غور کیا توپہلو  نازنین میں نشتر سے زیا دخلش خارہے . سینہ فگارہے۔ دنیا میں دن رات ذق ذ ق  بق بق ہے ۔ کوئی  چہچہے  کرتاہے،کسی کوقلق ہے۔ نوش کے ساتھ گزند نیش ہے، ہرر ہرو کوکڑی  منزل درپیں ہے۔

مؤلف

 بلبل کو خزاں میں جان کھوتے پایا                                    صیاد کو سر پٹک   کے  روتے  پایا

گلچیں  کی بھی نیند اڑ گئی لیک سرور                       جو اہل دول تھے ان کو سوتے پایا

مدتوں صدائے مرغ سحر کے نہ اٹھائے ، کبھی دم نہ ما را ، شکوہ لب پرنہ  لائے۔ برسوں ند ائے اللہ اکبر کے صدمے سہے  شکر کیا، چپ رہے۔ مینوں گھر کی آواز نے دم بندکیا، قلق  ہی پرلیا ، نا لہ بند کیا ۔ سو چے تو وصل مہرویاں خواب کی کبھی حرم ومحترم  میں  مسکن رہا، گاه دھونی رمائی  کنشت ودیر  کی ۔ عالم سے آئیہ حدیث وعظ وپند سنا ۔ ناقوس برہمن سن سردھنتا۔ وہ بدکیش مانع ملّت صنم لطف زیست حظ نض  کا دشمن تھا ۔ تامل کیا اندیش رخنہ پر داز اہل ایمان ودین کا رہزن تھا۔ تامل کیا توان دونوں سے دور حسد  بغض ، بیر ہونا معلوم ، اپنے نزدیک ان کا انجام بخیر ہونا معلوم ۔ واللہ اعلم کے لوگ کیاسمجھے۔ خود اچھے ٹھہرے اورکوبراسمجھے ۔مطلب کی بات ہیات دونوں کی سمجھ میں نہ آئے بایں نادانی ان سے خدا سمجھے۔

مولف

اچھے کو برا برے کواچھاسمجھے 

کتنی یہ بری سمجھ ہےاچھا مجھے

دنیا فقط رہ گذرہے۔ ہردم مثال تار نفس در پیش  سفر ہے ۔ تاز لیست ہزاروں مفسدے ہیں ۔ ڈر ہے مرنے کے بعد باز پرس کا خطرہ ہے۔ کسی طرح انسان کو مفرہیں ۔ کون سا نفع ہے جس کی تلاش میں ضرر نہیں ہے۔حاصل کاریہ ہے کہ دنیا میں جینے کی خوشی کرے نہ مرے کاغم کرے۔ تامقدر کسی کی خاطرنہ برہم کرے وگر نہ شعر   ؎

نیم شبے آہ زندپیرزال                                  دولت صدسال کند پائمال |

دل شکستہ کی دلداری ، پافتادہ کی مدد گاری کرے ہواو ہوس جو دل  سے دور ہو جائے تومال سے باکمال سے عجیب نخو ت نزدیک نہ آئے۔ عنایت ایزدی پر قانع ہرنعمت سپاس خدمت کر کے، منہیات کا مانع ہورنج  کا حامل رہے۔ سب رنگ میں شامل رہے زمانہ کے مکروہات سے گھبرائے  نہیں صحبت غیر جنسی  سے نفرت کرئے  تو  بدنای پاس آئے  نہیں ہے۔ دولت کا اعتبار کیا مفلسی سے ننگ وعار کیا ، ایک دن مرنا ہے ، جینامستعارہے ۔ اس پرکس کا اختیار ہے۔ نیک عمل کا خیال رکھے کہ قید ہستی زیست کا نام ہے، رہائی یہاں  سے انجام ہے ۔ شعر   ؎

 کسی کے مرگ  پر اے دل نہ کیجئے چشم تر ہرگز                  

بہت ساروئیےان پرجو اس جینے پرمرتے  ہیں

 عمر خضر کی تمّنا اورحشمت خسروانہ ، خزانہ قا رون کی فکر میں ہر ایک صبح و مسا ذلیل و خوارہے تحصیل لاحاصل کوشش اس امرمیں سراسر بیکار ہے بقول ناسخ   ؎

 ہاتھ آئی ہے کب علم و ہنرسے دولت                            

ملتی ہےقضااورقدرے دولت

جو علم و ہنر رکھتے ہیں وہ ہی محروم                              

مانوس ہے بل احمق و خرسے دولت

روپے کا جمع ہونا، جواہر کی تلاش میں دن کا جاگنا، چاندی سونے کی امید رات کانہ سو نا۔ سیمیں تن لعل لبوں سے بہم ہونا جنھیں میسر ہر بارہے انھیں  مفارقت دنیا ناگوارہے اور یہ کلام ہے۔

مولف

 یاں کے جانے سے جی الجھتا ہے 

  کیا ہی دلکش سراے فانی ہے

 سلف سے  اہل کمال دنیا کے مال سے محروم رہے جو سزادار حکومت تھے  وہ محکو م رہے ۔شعر      ؎

اسپ تازی شده مجروح بزی پالاں                        طوق زریں ہمہ در گردن خرمی بینم

 لیکن کبھی صبح  عشرت ہے ، گاه الم کی شام ہے۔ دنیا عجب مقام ہے، نہ امیر ہوتے عرصہ ، نہ فقیرہوتے کچھ دیر ہے ۔ اس کارگاه بے  ثبات میں عجب اندھیرہے۔.                                  

    سودا

ہے  چرخ جب سےابلق ایام پر سوار           

  رکھا تا نہیں  یہ   ہاتھ عناں  کا   بیک قرار

 جن نےطویلے  بیچ   کئی دن  کا ذکرہے                      ہر گز عراقی وعربی  کا نہ تھاشمار

 اب دیکھتا ہوں میں کہ زمانے کے ہاتھ سے                       

موچی سے کشف پا کو گٹھا تے ہیں وہ ادھار

اور جب وعدہ آپہنچا تو نہ روپیہ  کام آتا ہے ،نہ فوج ظفر موج سے کچھ ہو۔نہ تہمیتں  جرار بچا تا ہے نہ کوئی آشنا دو ست آڑے آئے۔ ان عزیزو اقربا  پنجہ ملک الموت سے چھڑا ہے  ۔ اگریہی مائع قضاء وقدر کے ہوتے جمشید و کاوس ، دارا رسکندربصد  حسرت و افسوس جان د کھوتے  ۔ نیک عمل کرے تو وہ ساتھ جاتا ہے۔ احتیاج کسی کی برلائے یا اللہ کچھ د ے، یہ البتہ  کام آتا ہے۔ وگر نہ  دنیا سراب زندگی برتر  ازحباب ہے ،پابنداس کا خراب ، ترک کرنے والا نایاب ہے۔                          شعر

ترک دنیا کا سوچ کیا ناسخ                                

 کچھ بڑی السی کائنات نہیں

 شعر

اس گلشن ہستی میں عجیب سیرہے لیکن               جب آنکھ  کھلی  گلی کی تو مو سم ہے خزاں کا

الا مقتضاے عقل یہ ہے کہ عالم اسباب میں کسی اسباب کا پابند نہ ہو ،تعلق خاطر نہ رکھے ۔ ہمیشہ اس نے بھلے سے برائی کی۔ جوگیا یہاں سے یعنی  جہان گذراں سے اس کا شاکی تھا  پادشاه سے فقیرتک، جوان سے پیرتک ، حققت میں نفس امارناکار ه ہے۔ اس کوبہر  کیف  پچھاڑے گردہواوہوس سے دامن جھاڑے۔آدمی کولازم ہے وہ بات پیدا کرے تا صفحئہ  دنیا پرچندے برنیکی نام یاد رہے۔

 شعر

  اس طرح جی  کے بعد مرنے کے                      یاد  کوئی تو گا ہ  گا ہ   کر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 بندر کی تقریر کا خلا صہ:

داستان فسانہ عجائب رجب علی بیگ سرور کی تخلیق ہے جس نے انہیں شہرت دوعام عطا کی اس داستان کو میر امن دہلوی کی داستان باغ و بہار کے جواب میں لکھا گیا تھا داستان فسانہ عجائب میں فنکار نے پرتکلف انداز بیان ،مقفع مسجع عبارت ،رنگین بیانی، صنعتوں کا عمدہ استعمال کیا ہے سرور نے جس طرز پر اس داستان کو تخلیق کیا ہے وہ ان کا ہی ملکہ ہے زیر مطالعہ تحریر بندر کی تقریر اسی داستان فسانہ  عجائب سے ماخوظ ہے

داستان فسان عجائب میں شہزادہ جانے عالم اور ان کے دوست وزیرزادے کا واقعہ پیش کیا گیا ہے اس خصے  میں شہزادہ جان عالم کو اس کا وزیر جادو کے زور پر بندر بنا دیتا ہے اور خود شہزادے کا روپ دھارن کر کے حکومت پر قبضہ کرلیتا ہے پھر یہ بندر ایک چڑی مار کے قبضے میں چلا جاتا ہے نقلی شہزادے کو ہمیشہ اس بات کا ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں اس کا راز فاش نہ ہو جائے لہذا جب اسے اس بات کا علم ہوتا ہے کہ انسانوں کی طرح بولنے والا بندر اس کی سلطنت میں موجود ہے تو وہ اس ریاست کے تمام بندروں کو ختم کرنا شروع کرتا ہے تاکہ جان عالم بھی ختم ہو جائے لیکن جب منادی ہوتی ہے کہ سلطنت میں یہ اعلان عام ہوتا ہے یہ سلطنت کی حدود میں تمام بندروں کو قتل کیا جائے اس وقت چڑی مار کسی دوسرے علاقے میں مقیم رہتا ہے جس سرائے میں وہ چڑی مار رہتا ہے اس سرائے کی ملکہ ایک دن اچانک وہاں آ جاتی ہے اور اس کی نظر اس بندر پر پڑ جاتی ہے اور وہ اس بندر کا ذکر ایک سوداگر سے کر دیتی ہے سو اگر بندر کو خریدنے جاتا ہے لیکن چڑی مارفروخت کے لیے راضی نہیں ہوتا بندر کے سمجھانے پر وہ اس شر ط پر راضی ہو جاتا ہے کہ وہ اسے شہزادے کے حوالے نہیں کرے گا اور سوداگر ایسا ہی کرتا ہے اور اس بات  کا خاص خیال رکھتا ہے لیکن ایک روز نفلی شہزادے کو اس کا علم ہو جاتا ہے اور پھر مجبورا سوداگر کو اس کے حوالے کر دیتا ہے لیکن جب سوداگر بندر کو شہزادے کے حوالے کرنے کو نکلتا ہے تو بندر اس وقت ایک تقریر کرتا ہے جس میں زمانے کی بے ثباتی اور انسان کی زندگی کی ناپائیداری کو بیان کرتا ہے لوگ اس کی تقریر سے بہت متاثر ہوتے ہیں اور وہ آہ و بکا کرنے لگتے ہیں اس طرح وہ ملکہ کی سلطنت میں پہنچ جاتا ہے ملکہ جب بندر کی داستان سنتی ہے تو وہ یہ جان جاتی ہے کہ یہ بندر ہی جان عالم ہے اور جب بندر کو صولی پر چڑھانے کا وقت آتا ہے تو اسی شور وغل کے ماحول میں ملکہ طوطے کی گردن مروڑ دیتی ہے اور طوتے کی روح بندر کے جس میں چلی جاتی ہے اور پھر بندر کو آگ میں چلا دیا جاتا ہے نفلی شہزادہ جب ملکہ سے ملنے آتا ہے تو ملکہ اس کی خوب خاطر تواضے کرتی ہے شہزادہ حیران ہو جاتا ہے کیونکہ ملکہ نے اس  پہلے کبھی بھی مڑ کر بھی نہیں دیکھا تھا بہرحال ملکہ شہزادے سے ایک بکری کا بچہ طلب کرتی ہے شہزادہ حکم بجا لاتا ہے دو تین دن کے بعد ملکہ اس بچے کو مار دیتی ہے اور شہزادے سے کہتی ہے کہ تمہیں اگر میری خوشی عزیز ہے تو اس بچے کو زندہ کرو شہزادہ ملکہ کو منانے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے لیکن آخر میں اسے اپنی روح اس مردہ بکری کے بچے کے جسم میں منتقل کرنا پڑتا ہے اپنا جسم خالی دیکھ کر شہزادہ جان عالم طوتے سے نکل کر اپنے جسم آ جاتا ہے جان عالم  کو دیکھ کر نقلی  شہزادہ جو بکری کا بچہ بنا ہوا ہے خوفزدہ ہو جاتا ہے جان عالم وزیر کو سپاہیوں کے ذریعے مار دیتا ہے پھر مہر نگار انجمن آراء اور جان عالم تینوں ملکہ خوشی مناتے ہیں سوداگر اور  چڑی مار کو بلایا جاتا ہے اور بیش بہائے  انعامات سے نوازا جاتا ہے۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یونٹ نمبر ۲۔ناول                                   UNIT No.2: NOVEL

ناول کی تعریف و فن

ناول ایک ایسا نثری قصہ ہے جس میں ہماری حقیقی زندگی کا عکس نظر آتا ہے یہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہماری امنگیں اور آرزوی جھلکتی ہیں جس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ ہمارے سامنے کیا مشکلیں آتی ہیں اور ہم ان پر کس طرح قابو پاتے ہیں گویا تاول زندگی کی تصویر کشی کا فن ہے۔ ناول اطالوی زبان کے لفظ ”ناویلا “ سے نکلاہے جس کے معنی ہیں         نیا یہ نام اس لئے رکھا گیا کہ ناول ایک نئی چیز تھی اردو ادب  میں ناول انگریزی ادب کے راستے سے آیا۔ ہمارے اہل قلم نے انگریزی ناول دیکھے اور پسند کئے تو داستان کو ترک کر کے  ناول کو اپنا لیا۔

1)   اكلا ویوز کے مطابق :

’’ناول اس زمانے کی حقیقی زندگی اور طور طریقوں کی تصویر ہوتی ہے جس میں کہ وہ لکھا گیا ہو“

2)    ج-جے ۔ پیرسٹلے کے مطابق:

’’ناول بیانیہ نثرہے جس میں خیالی کرداروں اور واقعات سے سروکار ہو تا ہے‘‘

3)   اندر ائے مراۓکے مطابق:

حقیقی ناول بھی رومانی نہیں ہوسکتااس کے لئے حقائق کو سہاراور حقیقی سوسائٹی کا پس منظر ضروریہ ہے‘‘۔

ناول کے اجزائے ترکیبی:۔

ناول کے اجزاء ترکیبی کیا ہیں یعنی وہ کیا چیزیں ہیں جن کا کسی اول میں پایا جانا ضروری ہے۔ ان کے نقط نظرجن چیزوں کا ناول میں پایا جانا ضروری ہے وہ ہیں : قصہ ، پلاٹ، کردار نگاری مکالمہ نگاری منظر کشی اور نقط نظر اب ان اجزا کا مختصر تعارف اس طرح  ہے۔ 

۱)قصّہ پن:  

قصہ وہ بنیادی شے ہے جس کے بغیر کوئی ناول وجود میں نہیں آسکتا۔ کوئی واقعہ ،کوئی حادثہ کوئی، قصہ ،فن کار کو قلم اٹھانے پر مجبور کردیتا ہے۔ ایک ضروری بات اور پڑھنے والے کو یہ قصہ بالکل سچا لگنا چاہیے۔ دوسری بات یہ کہ قصہ جتنا جاندار ہو گا قاری کی دلچسپی اس میں اتنی ہی زیادہ ہوگی۔ اب یہ فن کار کی زمہ داری ہے کہ وہ اس دلچسپی کو برقرار رکھے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ کہانی اس طرح آگے بڑھے کہ پڑھنے والا یہ جاننے کے لیے بے تاب رہے کہ آگےکیا ہونے والا ہے۔ گویا کہانی پن بر قرار رہے۔

۲) پلاٹ:

پلاٹ قصّے کو ترتیب دینے کا نام ہے۔ ایک کامیاب فن کار واقعات کو اس طرح ترتیب دیتا ہے جیسے موتی لڑی میں پروئے جاتے ہیں۔ ان واقعات میں ایسا منطقی تسلسل ہونا چاہیے کہ ایک کے بعد دوسرا واقعہ بالکل فطری معلوم ہو۔واقعات ایک دوسرے سے پوری طرح پیوست ہوں تو پلاٹ مربوط یا گٹھا ہوا کہلائے گا اور ایسا نہ ہو تو پلاٹ ڈھیلا ڈھالا کہا جائے گا جو ایک خامی ہے۔امراؤ جان ادا‘‘ کا پلاٹ گٹھا ہوا اور کسا ہوا ہے جب کہ فسانہ آزاد“ کا پلاٹ ڈھیلا ڈھالا ہے۔ ناول میں ایک قصہ ہو تو پلاٹ اکہرا یا سادہ کہلائے گا۔ ایک سے زیادہ ہوں تو مرکب جیسا کہ ناول’’ امراؤ جان ادا‘‘ میں ہے۔

۳) کردار نگاری:

کردار نگاری ناول کا تیسرا اہم جزو ہے۔ ناول میں جو واقعات پیش آتے ہیں ان کے مرکز کچھ جاندار ہوتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ یہ انسان ہی ہوں۔ حیوانوں سے بھی یہ کام لیا جاسکتا ہے۔ یہ افراد قصّہ کردار کہلاتے ہیں۔ یہ جتنے حقیقی یعنی اصل زندگی کے قریب ہوں گے ناول استانی کامیاب ہو گا۔کردار دو خانوں میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔ ایک پیچیده (راونڈ) رو سرے پاٹ (فلیٹ)۔ انسان حالات کے ساتھ تبدیل ہوتا ہے۔  جو کردار حالات کے ساتھ تبدیل ہوتے ہیں وہ راونڈ کہلاتے ہیں جیسے پریم چند کاہوری اور امرکانت، مرزا ہادی رسوا کے امراؤ جان اور سلطان مرزا۔ اسی طرح کے کردار جیتے جانئے کردار کہلاتے ہیں اور ادب کی دنیا میں امر ہو جاتے ہیں۔جو کردار ارتقا سے محروم ہوتے ہیں اور پورے ناول میں ایک ایسے رہتے ہیں وہ سپاٹ یا فلیٹ کہلاتے ہیں۔ نذیر احمد کے مرزا ظاہر دار بیگ اور سرشار کے خوجی اس کی مثال ہیں۔ یہ دلچسپ ہو سکتے ہیں مگر سچ مچ کے انسانوں سے ملتے جلتے نہیں ہوسکتے۔

۴) مکالمہ نگاری:

ناول کے کردار آپس میں جو بات چیت کرتے ہیں وہ مکالمہ کہلاتی ہے۔ اسی بات چیت کے ذریعے ہم ان کے دلوں کا حال جان سکتے ہیں اور انہی کے سہارے قصّہ آگے بڑھتا ہے۔مکالمے  کے سلسلے میں دو باتیں ضروری ہیں۔ ایک تو یہ کہ مکالے غیر ضروری طور پر طویل نہ ہوں کہ قاری انھیں پڑھنے میں اکتا جائے۔ دوسری بات اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ وہ یہ کہ مکالمہ جس کردار کی زبان سے ادا ہو رہا ہے اس کے حسب حال ہو۔ مثلا عالم کے مکالے ایسے ہوں جیسے پڑھے لکھے آدی کے ہو سکتے ہیں۔ یہ بھی خیال رکھنا چاہیے کہ مکالے کردار کی ذہنی کیفیت کے آئینہ دار ہوں۔ مثلا کوئی شخص غصے کے عالم میں گفتگو کرتا ہے تو اس کا انداز بیان کچھ اور ہوتا ہے۔ خوشی کی حالت میں کچھ اور کامیاب فن کار مکالے لکھتے وقت ان باتوں کو دھیان میں رکھتا ہے۔نذیراحمد ،سرشار ،رسوا ، اور پریم چند ہماری زبان کے نہایت کامیاب مکالمہ نگار ہیں۔

 ۵) منظر کشی:

             منظر کشی سے چاول کی دلکشی اور تاثیر میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ منظر کشی کامیاب ہو تو جھوٹا قصہ بھی سچا لگنے لگتا ہے۔ ’’امراؤ جان ادا‘‘ میں رسوا نے خانم کے کوٹھے کا نقشا اسی کامیابی کے ساتھ کھینچا ہے کہ پورا ماحول ہمارے پیش نظر ہو جا تا ہے۔ عرس۔’ میلے نواب سلطان کی کوٹھی کا ذکر ہے تو ایسا کارگر کہ لگتا ہے ہم خود وہاں جاپہنچے ہیں۔ پریم چند کو بھی منظر نگاری میں بڑی مہارت حاصل ہے۔ جو ناول نگار ناول میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لیے نہیں بلکہ صرف منظر نگاری کا کمال دکھانے کے لیے مختلف موسموں اور مقاموں کی تصویر کھینچتے ہیں ۔

۶) نقطہ نظر:

نقطہ نظر جسم میں خون کی طرح فن کار کے قلم سے نکلی ہوئی ایک ایک سطر میں جاری و ساری ہوتا ہے۔ ہر انسان اور خاص طور پر فن کار کائنات اور اس کی ہرشے کو اپنے زاویہ نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ہر معاملے میں اپنی ایک رائے رکھتا ہے۔ جب وہ کسی موضوع پر قلم اٹھاتا ہے تو گویا اس پر اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے اور اپنا نقطہ نظر واضح کرتا ہے۔ وہ پختہ کار ہے تو اپنی راے کا برملا اظہار نہیں کرتا۔ وہ خور کچھ نہیں کہتا بلکہ قاری سے وہ بات کھلوالیتا ہے جو اس کے اپنے دل میں ہے۔غرض یہ کہ ہر تخلیق کے پیچھے کوئی نقطہ نظر کارفرما ہوتا ہے اور مصنف اسی کی خاطر تخلیق کا کرب جھیلتا ہے۔ مولوی نذیر احمد نے ابن الوقت یہ واضح کرنے کے لیے لکھا کہ بے سوچ سمجھ نقالی انسان کو ذلیل و خوار کر دیتی ہے۔ ان کاہر ناول اصلای نقطۂ نظر کا حامل ہے۔

ڈپٹی  نذیر احمد

  نذیر احمد کی پیدائش 6 دسمبر1836 کوضلع بجنور میں ہوئی۔ ان کے والد مولوی سعادت علی معلم تھے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی۔ دلی کے اورنگ آبادی مدرسےمیں مولوی عبد الخالق سے درس لیا۔مدرسہ کی تعلیم  کےبعد نذیر احمد نے دلی کالج میں داخلہ لیا، یہاں انہیں وظیفہ بھی مل گیا۔ دلی میں 8 سال گزارنے کے بعد بسلسلہ ملازمت گجرات پہنچے۔ جہاں80 روپئے  ماہوار پر انہیں نوکری مل گئی۔ اس کے بعد ترقی کرتے ہوئے وہ کانپور میں ڈپٹی انسپکٹر مدارس ہو گئے۔ 1857 کے انقلاب میں دلی واپس آئے۔ یہاں سے نظام دکن نے انہیں حیدر آباد بلا لیا۔ جہاں ان کی تنخواہ1240  روپئے مقرر ہوئی۔ انہیں دفاتر کا معائنہ اور کار کردگی کی مفصل روداد پیش کرنے کی ذمہ داری دی گئی۔ نذیر احمد نے بہت محنت اور لگن سے کام کیا اس لیے انہیں ترقی ملتی گئی۔ وہ صدر تعلقہ دار بن گئے۔ اس دوران انہوں نے نظام دکن کے بچوں کو پڑھانے کا بھی کام کیا۔ ڈپٹی نذیر احمد جب جالون میں تھے تو انہیں بچوں کے لیے کچھ کتابوں کی ضرورت محسوس ہوئی مگر وہ دستیاب نہ ہو سکیں تو انہوں نے خود بچوں کے لیے کتابیں لکھنے کا کام شروع کر دیا۔ ’مراۃ العروس‘ ’منتخب الحکایات‘ وغیرہ  ان کی اپنے بچوں کے لیے لکھی ہوئی کتابیں ہیں۔

ڈپٹی نذیر احمد نے بہت سے ناول تحریر کئے جن کا مقصد اصلاحی تھا اور ان ناولوں میں زیادہ زور لڑکیوں کی تعلیم و تربیت اور امورخانہ داری پر تھا۔ ان کے مشہور ناولوں میں ’مراۃ العروس‘ ’بنات النعش‘’ توبۃ النصوح‘ ’فسانہ مبتلا‘ ’ابن الوقت‘’ ایامی ‘اور ’رویائے صادقہ‘ ہیں۔مراۃ العروس ‘ان کا سب سے مشہور ناول ہے۔ جس کے کردار اکبری اور اصغری آج بھی بہت اہمیت کے حامل ہیں ۔یہ ناول جب شائع ہوا تھا تو حکومت نے ایک ہزار روپے انعام سے نوازا تھا۔1869 میں شائع ہوئے والے اس ناول کو زیادہ تر لوگ اردو کا پہلا ناول مانتے ہیں۔ ’ابن الوقت ‘ بھی نذیر احمد کا بہت مشہور ناول ہے ،جس میں مغربی تہذیب و تمدن کی نقالی پر طنز کیا گیا ہے۔ کچھ لوگوں کے خیال میں اس میں سر سید احمد خان کو تضحیک کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔مگر ڈپٹی نذیر احمد نے اس کی تردید کی ہے کیوں کہ وہ خود سر سید کی تحریک سے نہ صرف متاثر تھے بلکہ سر سید کے مشن کی تبلیغ اور ترویج کے لیے ہمیشہ سرگرم رہتے تھے۔ وہ سر سید کے تمام نظریات اور تصورات کے قدرداں تھے اور مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے پلیٹ فارم سے اہم قومی خدمات بھی انجام دی ہیں۔

ڈپٹی نذیر احمد نے ناولوں کے علاوہ جو اہم علمی کام کئے ہیں ان میں قرآن کا ترجمہ، قانون انکم ٹیکس، قانون شہادت بہت اہم ہیں ۔ ڈپٹی نذیر احمد کی بیشتر کتابیں بہت مقبول ہوئیں اور ان کی کتابوں کا انگریزی کے علاوہ پنچابی، کشمیری، مراٹھی، گجراتی، بنگلہ، بھاکا وغیرہ میں ترجمے ہوئے۔ ’مراۃ العروس ‘ کا ترجمہ انگریزی میں 1903 میں لندن سے شائع ہوا۔ 1884 میں ’توبۃ انصوح‘  کا ترجمہ سر ولیم میور کے دیباچہ کے ساتھ شائع ہوا۔ڈپٹی نذیر احمد کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ ان کی ادبی اور مغربی خدمات کے صلےمیں برطانوی حکومت نے شمس العلما کا خطاب دیا تھا ۔آخری عمر میں ڈپٹی نذیر احمد پر فالج کا حملہ ہوا اور 3 مئی 1912ء میں دلی میں وفات پا گئے۔         بحوالہ ریختہ

مرزا ظاہر داربیگ

                                                                                                                                                مولوی نذیراحمد

کلیم شیخ چلی کے سے منصوبے سوچتا ہوا اپنے دوست مرزا کے مکان پرپہنچا۔ ہر چند ابھی کچھ ایسی رات نہیں گئی تھی لیکن مرزا جیسے نکّمے  بے فکر ے کبھی کے  لمبی تان کر سو چکے تھے ۔ کلیم نے جو دروازے پر دستک دی تو جواب ندارد۔ اس مقام پر مرزا کا تھوڑاسا حال لکھ دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ اس شخص کی کیفیت تھی کہ شاید اس کا نا نا وہ بھی حقیقی نہیں، ابتدائے عملداری سرکارمیں صاحب ریذیڈنٹ کی اردلی کاجمعدار تھا۔ اول تو ایسی عالی جاہ سرکار دوسرے باعتبار منصب ا رد لی کاجور تیسرے ان دنوں کی بدعنوانی اس پر خود اس کی رشوت ستانی بہت کچھ کمایا ۔ یہاں تک کہ اس کا اعتداد دہلی کے روداروں میں ہوگیا مرزا کی ماں اوائل عمرمیں بیوہ ہوگی۔ جمعدارنے با وجودیکہ دور کی قرابت تھی جستہ اللہ اس کاتکفل  اپنے ذمے لے لیا۔ جمعدار اپنی حیات میں تو اتنا سلوک کرتا رہا کہ مرزا کویتیمی  اور اس کی ماں کو بیوگی بھول کر بھی یاد نہ  آئی ہوگی ۔ لیکن جمعدار کے مرنے پر اس کے بیٹے پوتے، نواسے کثرت سے تھے ، انھوں نے بے اعتنائی کی اور اگرچہ جمعدار بہت کچھ وصیت کرمرے  تھے مگران کے ورثا نے ہزار دقت محلسرائے کے پہلومیں ایک بہت چھوٹا سا قطعہ ان کے رہنے کو دیا اور سات روپے مہینے کے کے کرائے کی درکا ئیں مرزا کے نام کر دیں۔ یہ تو حال تھا کہ مرزا کی ماں، مرزا کی بیوی تین آدمی اور کل سات روپے کی کل کائنات اس پر مرزا کی شیخی  اورنمود۔ یہ مسخرااس ہستی پر چاہتا تھا کہ جمعدار کے بیٹوں کی برابری  کرے جن کو صدہا روپے ماہوار کی مستقل آمد نی تھی۔ اگرچہ جمعدار والے اس کو منہ نہیں لگاتے تھے مگر یہ بے غیرت زبردستی ان  میں گھُستا تھا۔ یہ کسی کو بھائ جان کسی کو ماموں جان ، کسی کوخالو جان بناتا اور وہ لوگ اس کے ارمان رشتوں ناتوں سے جلتے اوردق ہوتے۔اونچی  حیثیت کے لوگوں میں بیٹھنا اس کے حق میں اور بھی زبوں تھا۔  ان کی دیکھا دی اس نے تمام عادتیں  امیر زادوں کی سی اختیار کر رکھی تھیں ۔ مگرامیرزادگی نبھے تو کیسے نبھے ۔ دوکانیں گروی ہوتی جاتی تھیں۔ ماں بیجاری بہیترابکتی  مگر کون سنتا تھا۔ مرزا کو جب دیکھو پاوں میں ڈیڑھ ہاشے کی جوتی ، سر پر دہری بیل کی بھاری کا مدار ٹوپی  بدن میں ایک چھوڑ دو روانگرکھے ۔ ادیرشبنم یا بانکی تن زیب نیچے کوئی اور طرحدار ڈھا کے کا نینو ۔ جاڑا ہوا تور بانات گرسات روپے گز سے  کم نہیں۔ خیر یہ تو صبح وشام۔ اورتیسرے پہر کاشانی مخمل کی آصف خانی جس میں حر یر کے سنجاب کے علاوہ گنگا جمنی کمخواب کی عمدہ بیل ٹکی ہوئی  ، سرخ نیفہ، پائجامہ اگر ٹھیلے پانچوں کا ہواتو کلی  داراوراس قدر ینچا کہ ٹھوکر کے اشارے سے دو دو قدم آگے اور تنگ مُہری کا ہوا تو نصف ساق تک چوڑیاں اور اوپر جلد بدن کی طرح منڈھا ہوا ۔ریشمی ازار بند گھنٹوں میں لٹکتا ہوا۔ارو اس میں بے قُفل کی کُنجیوں کا گُچّھا غرض دیکھا تو مرزا ا صاحب اس خاص شکل سے چکلا بنے ہوئے سر بازار چھم چھم چلے جارہے ہیں ۔ کلیم سے اور مرزا سے محفل مشاعرہ میں تعارف پیدا ہوا۔کہ اب مزا  صاحب کلیم کے مکان پر تشریف لانے لگے۔ یہاں تک کہ اب چند روز سے تو دونوں میں ایسی گاڑھی چھننے لگی تھی کہ گویا  ایک جان دو قالب  تھے۔ کلیم کو تو مرزا کے مکان پر جانے کا کبھی بھی اتفاق نہیں ہوا ۔ مگرمرزا شام کو تو کبھی کبھی، لیکن صبح کو بلا ناغہ آتے اور تمام تمام دن کلیم  کےپاس رہتے ۔مرزا نے اپنا حال اصلی کیم پر ظاہر نہیں ہونے دیا۔اور بی زبوں پاس رہتے۔ کلیم یہی جانتا تھا کہ جمعدار کا تمام تر کہ مرزا کو ملا اور وہ جمعدار کی محلسرائے کو مرزا کی محلسرائے اور جمعدار کی دیوان خانے کو مرزا کا دیوان خانہ اور کے بیٹے پو توں کے نو کر کو مر زا کے نو کر سمجھتا تھا اور اسی غلط فہمی میں گھر سے نکلا تو سیدهاجمعدارکی محل سرائے کی ڈیوڑھی پر جا موجود ہوا۔ بار بار کے پکارنے اور کنڈی کھڑ کھڑانے سے رولونڈیاں چراغ لیے ہوئی اندر سے نکلیں اوران میں سے ایک نے پوچھا کون  صاحب ہیں اور اتنی رات گئے کیا کام ہے ؟“

کلیم : جار مرزا کوبھیج دو۔

لونڈی : کون مرزا ؟

کلیم: ظاہردار بیگ جن کا مکان ہے اور کون مرزا۔

 لونڈی: یہاں کوئی ظاہردار بیگ نہیں ہے۔

              اتنا کہہ کر قریب تھا کہ لونڈی پھر کواڑ بند کر لے کلیم نے کہا :

              ’’ کیوں جی کیا جمعدار صاحب کی محلسرائے نہیں ہے۔‘‘

لونڈی : ہے کیوں نہیں ۔

 کلیم: پھر تم نے یہ کیا کہا کہ یہاں کوئی ظاہردار بیگ جمعدار کے وارث اور جا نشین نہیں ہے؟

 لونڈی : جمعدارکے وارثوں کو خدا سلامت رکھے ۔ مواظاہرد اربیگ جمعدار کا وارث بنے والا کون ہوتا ہے؟

دوسری لونڈی : اری کبمخت یہ کہیں مرزا بانکے کے بیٹے کونہ پوچھتےہوں۔ وہ ہر جگہ اپنے تئیں جمعدار کا بیٹا بنایا کرتا ہے ( کلیم  کی طرف مخاطب ہو کر)  کیوں میاں وہی ظاہر دار بگ ہے ناجن کی رنگت زرد زرد ہے۔ آنکھیں کرنجی، چھوٹا قد، دبلا ڈیل۔ اپنےتئیں بہت بنائے  سنوارے رہا کرتے ہیں۔

کلیم: ہاں ہاں، وہی ظاہر دار بیگ ۔

لونڈی : تو میاں اس مکان کے پچھواڑے اُ پلوں کی ٹال کے برابر  اور ایک چھوٹا سا کچا مکان ہے وہ اس میں رہتے ہیں۔

کلیم نے وہاں جاکر آواز دی تو کچھ دیر بعد مرزا صاحب ننگ دھڑنگ جانگیہ پہنے ہوئے باہر تشریف لائے اور کلیم کو دیکھ کر شرمائے اور بوے " آہا  ، آپ ہیں، معاف کیجئے گا، میں نے سمجھا کوئی  اورصا جب ہیں۔ بندے کو کپڑے پہن کر سونے کی عادت نہیں ہے میں ذرا کپڑے  پہن آوں تو آپ کے ہمراہ  چلوں‘‘

کلیم: چلے گا کہاں میں آپ ہی کے پاس تک آیا تھا۔

 مرزا ! پھر اگر کچھ دیر تشریف رکھنا منظور ہو تو میں اندر ہی پردہ کر لوں۔

کلیم: میں آج شب تو آپ ہی کے یہاں رہنے کی نیت سے آیا ہوں۔

 مرزا : بسم اللہ ! تو چلئے۔ اسی مسجد میں تشریف رکھئے بڑی فضاکی جگہ ہے ۔ میں ابھی آیا کلیم نے جو مسجد میں آکر دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک نہایت پرانی چھو ٹی  سی مسجد ہے۔ وہ بھی مسجد ضرار کی طرح دیران، وحشتناک ، نہ کوئی حافظ ہے نہ ملا،نہ طالب علم  ،نہ مسافر، ہزارہا چمگادڑیں اس میں رہتی ہیں کہ ان کی تسبیح   بے ہنگام سے کان کے پردے پھٹ جاتے ہیں ۔ فرش پر اس قد ربیٹ پڑی ہے کہ بجاۓ خود کحڑنجے کا   فرش بن گیا ہے۔ مرزا کے انتظار میں کلیم کو چاروناچار اسی مسجد میں ٹحہرنا پڑا۔ – مرزآئے  بھی تو اتنی دیر کے بعد کے کلیم  مایوس ہوچکا تھا۔ قبل اس کے کلیم شکایت کرے مرزا صاحب بطور دفع دخل مقدر فرمانے لگے کہ بندے کے گھر میں کئی دن سے طبیعت علیل ہے خفقان کا عارض اختلاج قلب کا روگ ہے۔ اب جو میں آپ کے پاس سے گیا توان کوغشی میں پا یا اس وجہ سے دیر ہوئی ۔ پہلے یہ تو  آپ فرمائے کہ اس وقت بنده نوازی فرمانے کی کیا وجہ ہے ۔کلیم نے باپ کی طلب، اپنا انکار بھائی کی التجا ،ماں کا اصرار  تمام ماجرا کہہ سُنایا ۔

 مرزا : پھر اب کیا ارادہ ہے۔

کلیم:  سوائے  اس کے کہ اب گھر جانے کا ارادہ تو نہیں ہے۔ اور جوآپ  کی صلاح ہو۔

مرزا: نیت شب حرام ، صبح توہو۔ آپ بے تکلف استراحت فرمایئے کیوں بھاگتا۔میں جاکر بچھونا وغیرہ بھیجے دیتا ہوں اور مجھ کو مریض  کی تیمارداری کی  اجازت دیجیے کہ آج   علالت میں اشتداد ہے۔

  کلیم : یہ ماجرا کیا ہے۔ تم تو کہا کرتے تھے کہ ہمارے ہاں دُ ہری محلسرائیں ،

متعّد دیوان خانے ،کئ پا ئیں باغ ہیں، حوض اورحام اور کڑے   اور دوکانیں اور سرائیں ہیں میں تو جانتا ہوں عمارت کی قسم میں کوئی چیز ایسی نہ ہوئی جس کو تم نے اپنی ملک نے بتایا ہو ،یا  یہ  حال ہے کہ ایک متّنفس کے واسطے ایک شب کے لئے تم کو جگ میسر نہیں۔ یہ جو حالات تم نے اپنی زبان سے بیان کئے ان سے یہ ثابت ہوتا تھا کے جمعدار کے تمام تر کہ پر تم قابض  اور متصّرف ہو۔  لیکن  میں اس تمام جاہ وحشمت کا ایک شمہ بھی نہیں رکھتا۔

مرزا: آپ کو میری نسبت سخن  سازی کا احتمال ہونا سخت تعجب کی بات ہے ۔ اتنی بات مدت  سے آپ سے محبت رہی مگرافسوس ہے آپنے  میری طبیعت اور میری عادت کو نہ  پہچا نا ۔ یہ اختلاف هالت جو آپ دیکھتے ہیں  اس کی ایک وجہ ہے۔ بندے کو جمعدارصاحب مغفورنے متبنّی  کیا تھا اور اپنا جانشین کرمرے  تھے۔ شہر کے کُل  روسا سے واقف و آگاہ ہیں۔ ان کے انتقال کے بعد لوگوں نے اس میں رخنہ اندازیاں کیں۔ بندے کو آپ جانتے ہیں کہ بکھیڑے سے کوسوں بھاگتا ہے صحبت نا ملائم دیکھ کر کنارہ کش ہوگیا۔ لیکن کسی کوانتظام کا سلیقہ، بندوبست کا حوصلہ  نہیں۔ اس روز سے اندر باہر واویلا مچی  ہوئی ہے۔ اور اس بات کے مشورے ہورہے ہیں کہ بندے کو منائے جائیں۔ ا

کلیم: لیکن آپ نے اس کا تذکرہ بھی نہیں کیا۔

مرزا : اگر میں آپ سے یا کسی سے تذکرہ کرتا تو استقلال مزاح سے بےاور غیرت و حمیت سے بے نصیب ٹھہرتا۔ اب آپ کو کھڑے رہنے میں تکلیف ہوتی ہے اجازت رکے جاکر بچھونا   بجھوادوں  اور مریض  کی تیمارداری کروں۔

 کلیم : خیرمقام مجبوری ہے لیکن پہلے ایک چراغ توبھیج  دیئجے۔ تاریکی  کی وجہ سے طبیت اور بھی گھبراتی ہے۔

 مرزا : چراغ کیا  میں نے لیمپ روشن کرانے کا ارادہ کیا تھا لیکن گرمی کے دن ہیں پروانے بہت جمع ہو جائیں گے اور آپ زیاد ہ پریشان ہوجئے  گا اور اس مکان میں ا بابیلوں کی کثرت  ہے۔ روشنی دیکھ کر گرنا شروع ہوں گی اورآپ کا بیٹھنا دشوار کر دیں گی ۔ تھوڑی دیر صبرکیجئے  کہ ماہتاب نکل آتا ہے۔کلیم جب گھر سے نکلا تو کھانا تیار تھا لیکن وہ اس تر طیش میں تھا کہ اس نے کھانے کی مطلق پروا نہ کی اور بے  کھانئے نکل کھڑا ہوا۔ مرزاکے ملنے کے بعده منتظر تھا کہ  آخر مرزا کچھ پوچھیں  گے  تو کہہ  دوں گا۔ مرزا کو ہر چند کھانے کی نسبت پوچھنا ضرور تھا کیونکہ اول تو کچھ ایسی رات زیادہ نہیں گئی تھی، دوسرے یہ اس کو معلوم ہوچکا تھا کلیم  گھر سے لڑ کر نکلا ہے۔ تیسرے دونوں میں بے تکلفی غایت درجہ کی تھی  لیکن مرزا قصدا ٌاس بات سے معترض نہ ہوا۔ اور کلیم بے چارے کا بھوک کے مارے یہ حال کہ مسجد میں آنے سے پہلے اس کی انتڑریوں  نے   قل ہواللہ پڑھنی شروع کردی تھی۔ جب اس نے دیکھا کہ مرزا  کسی  طرح اس پہلو پر نہیں آتا۔ اور عنقریب تمام شب کے وا سطے  رخصت ہوا چاہتا ہے تو بیجا رے بے غیرت بن کر خودکہا کہ ’’ سنو یارمیں نے کھانا بھی نہیں کھایا ۔‘‘

مرزا: سچ کہو؟  نہیں جھوٹ بہکاتے ہو۔

 کلیم : تمہارے سر کی قسم میں بھوکا ہوں۔

 مرزا : مرد خدا ! تو آتے ہی کیوں نہیں کہا۔ اب اتنی رات گئے کیا ہوسکتاہے۔دکانیں سب بند ہوئیں۔ اور جو ایک دو کھلی بھی  ہیں تو باسی  چیزیں رہ گئی ہوں گی جن کے کھانے سے فاقہ بہتر ہے۔ گھرمیں آج آگ تک نہیں سُلگی۔ مگر ظاہرہے تم  سے بھوک کی سہارہونی مشکل معلوم ہوتی ہے کہ دیو اشتہا کو زیرکرنا بڑی ہمت والورکا کام ہے۔ ایک تد بیرسمجھ میں آتی ہے کہ جاوں چدامی بھڑ بھونجے کے یہاں سے گرم گرم خستہ چنے کی دال بنالاؤں بس ایک دھیلے کی مجھ کو تم کو کافی ہوگئی ۔ رات کا وقت ہے۔ ابھی کلم کچھ کہنے بھی نہ پایا تھا کہ مرزا جلدی سے اٹھ باہر گئے اورچشم  زدن میں چنے بھنواا لائے ۔ مگردھیلے کے کہر کر گئے تھے، یا توکم کے لائے یا راہ  میں دو چار پھنکے لگائے ۔ اس واسطے کلیم  کے روبرو رو دو تین مٹھی  چنے سے زیادہ  نہ  تھے۔

 مرزا : یار ہو تو تم بڑے خوش قسمت کہ اس وقت بھاڑ مل گیا۔ ذرا واللہ   ہاتھ تولگا و ، دیکھو تو کیسے بھُلس رہے ہیں اور سوندھی سوندھی خوشبوی عجیب ہی دلفریب ہے کہ میں بیان نہیں ہوسکتا تعجب ہے کہ لوگوں نے خس اور مٹی  کا عطر نکالا مگر بھنے ہوئے چنوں کی طرف کسی کاذہن  منتقل نہیں ہوا۔ کوئی فن  ہو کمال بھی کیا چیز ہے ۔ دیکھئے اتنی رات تو گی ہے، مگر چدامی کی دکان پر بھیڑ لگی ہوئی ہے۔ بندے نے  بہ تحقیق  سُنا ہے کہ حضور والا کے خاصے میں چھدامی کی دکان کا بچنا بلا ناغہ لگ کرجاتا ہے ۔ اور واقع میں  ذرا آپ غور سے دیکھے ، کیا کمال کرتا ہے کہ بھونے  میں چنوں کو سڈول بنا دیتا ہے۔ بھئی  تمھیں  میرے سر کی  سچ  کہنا، ایسے خوبصورت خوش قطع سڈول چنے تم نے پہلےبھی کبھی دیکھے تھے ؟ دال بنانے میں اس کو یہ کمال حاصل ہے کہ کسی را نے پرخاش تک نہیں ٹوٹے پھوٹنے کا کیا مذکور۔ اور رانوں کی رنگت رکھے، کوئی بسنتی ہے، کوئی پیستی غرض دونوں رنگ  خوشنما ۔ یوں توصدہا قسم کے غلے اور پھل زمین سے آگئے ہیں زمین  سے اُگتے ہیں ۔لیکن چنے کی لذت کو کوئی نہیں پاتا۔ آپ نے وہ ایک ظریف کی حکایت سُنی ہے ۔

کلیم: فرمایئے ۔

مرزا : چنا ایک مر تبہ حضرت میکا ئیل کی خدمت میں جن کو ارزاق عباد کا اہتمام سُرد فرما یا دے کر گیا کہ یا  حضرت امیں نے ایساکیاقصورکیا ہے کونہی میں نے سرزمین سے نکالا تیرسم چلنے لگا۔ اکولات اور بھی ہیں۔ مگر جیسے جیسے ظلم مجھ پر ہوتے ہیں کسی پر نہیں ہوتے نینو کے ساتھ تو میری قطع وبر مد ہونے لگتی ہے میری کونپلوں کو تڑ کر آدمی ساگ بناتے ہیں اور مجھے کچے کھا جاتے ہیں ۔ جب بارور  ہوا تو خدا جھوٹ نہ بلوائے   آدمی بکری بن کر لاکھوں من بوٹ چرتے ہیں ۔ اس سے نجات ملی تو ہوے کرنے شروع کئے۔ یا توتاخو برگ بھس بن کر بیلوں اور بھینسوں کے دوذخ شکم   کا ایندھن ہوا۔ رہا دانہ اسے چکی میں دا لیں، گھوڑوں کو کھلائیں، بھاڑ میں بھونیں،  بیسن بنائیں، کھولتے ہوئے پانی میں ابالیں، گھنگھیاں بنائیں غرض شروع سے آخر تک مجھ پر طرح طرح کی آفتیں نازل رہتی ہیں ۔  چنے کا حضرت میکائیل کے دربار میں اس طرح پر بیباکانہ چٹر پٹربولنا سن کر حاضرین در بار اس قدر ناخوش ہوئے کہ محض اسے کھانے کو دوڑا۔ چنا یہ ماجرا دیکھ کر بے انتطار حکم اخیررخصت ہوا۔

سوحضرت! یہ چنے ایسے لذت کے بنے ہیں کہ فرشتوں کے دندان آزا  بھی اس پر تیز ہیں۔ افسوس ہے کہ اس وقت نمک مرچ بہم نہیں اپنی پہنچ  سکتا ورنہ میرمّدو کے کبابوں   میں خستگی اوریہ سوندھا پن کہاں؟ غرض مرزا نے اپنی چرب زبانی سے چنوں کو گھی کی تلی  دال بنا کر اپنے دوست کلیم کو کھلایا ۔کلیم بھو  کا توتھا ہی، اس کو کبھی ہمیشہ سے کچھ زیادہ مزیدار معلوم ہوۓ۔ مرزا نے گھر جاکرا یک میلی دری اور ایک کثیف سا تکیہ بھیج دیا۔ دوہی گھڑی میں کلیم کی حالت کا اس قدر منتعیر  ہوجانا عبرت کا مقام ہے،ہے یا تو خلوت خانہ اور عشرت منزل میں تھا یا اب ایک مسجد میں آکر پڑا او سی کی ایسی جی کا حا ل تھوڑا سا ہم نے اوپر بیان کیا۔ گھر کے ایوان نعمت کو لات مارکر نکلا تھا تو پہلے ہی وقت چنے چبانے پڑے چراغ ،نہ چاریائی،نہ  بہن نہ  بھا ئی ،نہ مونس نہ غمخوار ،نہ نوکر  ، خدمتگار سجدمیں اکیلا بیٹھا تھا جیسے قید خانے میں حاکم کا گنہگار یا قفس میں مرغ نوگرفتار   اور کوئی ہوتا تو اس حالت پرنظر  کر کے تنبیہ پکڑتا، اپنی حرکت سے توبہ ہیں اور اپنے افعال سے استغفار کرتا ۔ اور اسی وقت نہیں ترسویرے گجروم ماں باپ کے ساتھ نماز صبح  میں جاشریک ہوتا لیکن کلیم کو اور بہت سے مضمون سوچنے تھے۔ اس نے رات بھر میں ایک قصیده تو مسجد کی  ہجو میں تیار کیا اور ایک مثن وی مرزا کی شان میں صبح ہوتے ہی آنکھ لگ گئی تو نہیں معلوم مرزا یا محلے کا کوئی اور عیارٹوپی  ،جوتی ،رومال  ، چھڑی  تکیہ، دری لیعنی جو چیز کلیم کے بدن سے منفک اوراس کے جسم سے جداتھی ، لے کر چمپت ہوا۔ یوں بھی کلیم بہت دیر میں سو کر اٹھتا تھا۔ اور آج تو ایک وجہ خاص تھی پھر سوا پہر دن چڑھاے  جاگا تو دیکھتا کیا ہے کہ فرش مسجد پر پڑا ہے۔ اور نیند کی حالت میں جوکروٹیں لی ہیں توسیروں گردکا بھبوت اور چمگادڑوں کی بیٹ  ضاد بن کررتھپا  ہوا ہے حیران ہوا کہ قلب ماہیت ہوکر میں کہیں بھُتنا  تونہیں بن گیا۔ مرزا کو ادھر دیکھا اُدھر دیکھا  کہیں پتہ نہیں مسجد تھی ویران اس میں پانی کہاں، صبر کر کے بیٹھ رہا کہ کوئی اللہ  کا بنده ادھر کو آنکلے تو اس کے ہاتھ مرزا کو بلواؤں، یا منہ دھو کر خود مرزا تک جاؤں۔ اس میں دوپہر ہونے کو آئی۔ بارے ایک لڑکا کھیلتا ہوا آیا ۔ جونہی زینے پر چڑھا کے کلیم اس سے عرض مطلب کرنے کے لئے دیکھا۔ وہ لڑکا اس کی ہئیت کذائی دیکھ کر بھاگا  ۔ خدا جانے اس نے اس کو بھو ت سمجھا ،یا سڑی     خیال کیا کلیم نے بہتر پکار ا  ا س لڑکے نے پیٹھ  پھیر نہ  کر دیکھا۔ ناچارکلیم نے جب ہزار مصیبت دوسرے فاقے سے شام پکڑی۔ اور جب اندھیرا ہوا تو االّو  کی طرح اپنے نشیمن سے نکلا۔ سیدرها مرزا کے مکان پر گیا۔ آواز دی تو یہ جواب ملا  کہ ده تو بڑے سویرے قطب صاحب سدھارے ہیں کلیم نے چا ہا کہ اپنا  تعارف ظاہر کر کے ممکن ہو تو منہ دھونے کو پانی مانگے اور مرزا کی پھٹی پُرانی  جوتی  اورٹو پی ، تاکہ کسی طرح گلی کوچے میں چلنے کے قابل ہوجائے یہ سوچ  کراس نے کہا کیوں حضرت ! آپ مجھ سے بھی واقف ہیں ؟"اندرسے آواز آئی " ہم تمہاری آواز تو نہیں پہچانتے ، ، اپنانام ونشان بتاو تو معلوم  ہو ۔‘‘

کلیم: میرانام کلیم ہے اور مجھ سے اور مرزا ظاہر دار بیگ  سے بڑی دوستی  ہے، بلکہ میں شب کو مرزا صاحب ہی کی وجہ سے مسجد میں تھا۔

گھر والے : وہ دری اور تکہ کہاں ہے جو رات تمہارے سونے کے لئے بھیجا گیا تھا و تکیہ  اور دری کا نام سن کر تو کلیم بہت چکرا یا۔ اور ابھی جواب دینے میں متا مل تھا کہ اندر سے آواز آئی یا مرزا زبردست بیگ دیکھنا یہ مردود کہیں چل نہ دے۔ دوڑ کر تکیہ دری تو اس سے لے لو  ۔‘‘ کلیم ہے بات سن کر بھاگا۔ ابھی گلی کے نکڑ  تک نہیں پہنچا  تھا کہ زبردست بیگ نے چور چور کہ کر   جالیا۔ ہر چند کلیم نے مرزا ظاہر دار بیگ  کے ساتھ اپنے حقوق معرفت ثابت کئے۔ مگر زبردست کا ٹھینگاسرپر ا س نے ایک مانی اورپکڑ  کر کوتوالی لے گیا۔ کوتوال نے سرسری طور پر دونوں کا بیان شنا اور کلیم سے اس کا حسب ونسب پوچھا۔ ہر چند کلیم اپنا پتہ بتانے میں جھینپتاتھا ،          مگرچارو ناچار اس کو بتانا پڑا ۔ لیکن اس کی حالت ظاہری الیسی ابتر ہورہی تھی کہ اس کا سچ بھی جھوٹ معلوم ہوتا تھا۔ کوتوال نے سن کر ہی کہا کہ’’ میاں نصوح جن کو اپنا والد  بتاتے ہو میں ان کو جانتا ہوں اور یہ بھی مجھ کو معلوم ہے کران کے بڑے بیٹے کا یہی نام ہے جو تم نے اپنا بیان کیاہے۔ محلے کا اپنے گھر کا نشان بھی جو تم نے کہا سب ٹھیک مگرکلیم تو ایک مشہور ومعروف آدمی ہے۔ آج شہر میں اس کی شاعری کی دهم ہے۔ تمہاری حیثیت یہ کہ ننگے سر ننگے پاؤں، بدن پرکچڑ پھٹی  ہوئی ، مجھ کوبار نہیں ہوتا۔ اچھاا ب رات کو کیا ہوسکتا ہے ، جرم سنگین ہے۔ ان کو حوالات میں رکھو  صبح ہو، میں ان کے والد کو بلواؤں تو ان کے بیان کی تصدیق ہو ۔ کلیم پیش کر رو دیا اور کہا۔

 کلیم : میں دہی بدنصیب ہوں جس کی شعرگوئی کاشہرہ آپ نے سناہے۔اور آپ کو یقین نہ ہو تو میں اپنے افکا  ر کتازہ آپ کو سناؤں۔ چنانہچہ  کل شب کو جو مسجدد مرزا کی شان میں کہا تھا، سناو ں ۔کوتوال نے اتنی رعایت کی کہ دوسپا ہی کلیم کے ساتھ کئے اور ان کو حکم دیا کہ ان کو میاں نصوح کے پاس لے جاد۔ اگر وہ ان کو اپنا فرزندبتا ئیں  تو چھوڑ دینا  ورنہ داپس  لاکر حوالات میں قید رکھنا۔ کلیم پراس کیفیت سے باپ کے روبرد آنا جیساکچھ شاق گذرا ہوگا ظاہر ہے۔ مگر کیا کرسکتا تھا۔ سپاہی اس کو کشاں کشاں لے ہی گئے۔

(توبہ النصوح سے)

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قاضی وعبدالغفار

قاضی عبد الغفار کی ولادت  علی گڑھ ،؁۱۸۸۹ میں ہوئی ۔وہ صحافی بھی تھے اورکئی تحقیقی کتابوں کے مصنّف بھی ۔ چناچہ ان کا مطالعہ بھی وسیع  تھا اور زبان پر بھی پوریگرفت حاصل تھی ۔  ان کا ناول ’’لیلی کے خطوط" ایک نئے انداز کا ناول ہے ۔ ان کی تکنیک اس کی تکنیک اس لحاظ سے منفرد  ہے کہ یہاں بہت سے خطوط مل کر ایک ناول کو جنم دہتے ہیں۔ یہ ایک طوائف  کی دردناک کہانی ہے جسے فلسفیانہ انداز میں پیش کیا گیاہے۔ اس تخلیق میں مصّنف  نے نفسات انسانی سے گہری واقفیت اور سماجی شعور کا ثبوت فراہم کیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لیلی کے خطوط (انتخاب)

  قاضی عبدالفقار

قصبہ کے ٹوٹے ہوئے مکان میں ایک بڑھیا رہتی تھی۔ ایک دن اس کا جی  چاہا کہ کھیر پکائے ۔ دودھ لینے کے لئے اس نے اپنے بچے  کو بازار بھیجا ۔بچہ دودھ لے کر  آرہا تھا کہ راستے میں ایک گرتی ہوئی پتنگ  نظر آئی۔ سڑک پر بہت سے لڑکے اس پتنگ  کو لوٹنے کے لئے دوڑے۔ وہ بھی دوڑا۔ دودھ کا پیالہ اس کے ہاتھ سے  ٹوٹ کر گر گیا اور اس کے ٹکڑے زمین پر پڑے رہ گئے تھوڑی دیر کے بعد ایک رئیس کے صاجزادے اپنی موٹر دوڑاتے ہوئے  اس سڑک پر گذرے۔ پیالہ کا ایک نو ک دار ٹکڑا موٹر کے ٹائر میں گھس گیا۔ ٹائر کے پھٹ جانے کی وجہ  سے ان کو کچھ دیر قصبہ میں ٹھہرنا  پڑا ۔ وہ اپنا ٹائر درست کرا رہے تھے کہ سامنے کے مکان کے ایک دریچہ  میں انھوں نے ایک حسین لڑکی کو دیکھا۔۔۔ دیکھتے ہی وہ عاشق ہوگئے۔ کچھ عرصہ تک اس لڑکی کے ماں باپ سے سلام پیام ہونے کے بعد ان رئیس زادہ کا اس لڑکی سے نکاح ہوگیا - اس ازدواج سے سات اولادیں پیدا ہوئیں۔ ان ساتوں میں سے ہر ایک، ایک نے گھ کا چراغ بنا۔ ایک نیا قاندان دنیامیں اسی سے پیدا ہوا۔ اس خانزان سے ایک نئی برادری پیدا ہوئی اور ایک صدی کے اندر ہی اس جوڑے کی اولاد نے چند قصبے  آبادکر لئے۔

اب اگر اس دن صبح کو  بڑھیا کے دل میں کھیر کھانے کی خواہش پیدا نہ ہوئی ہو  تی اور بات کھیر کھانے کے اس نے کھچڑی کھانے کا ارادہ کیا ہوتا تونہ  ده باز از سے دودھ منگا تی  ،نہ  رئیس زادے کے موٹر کا ر خراب ہوتا، اس کا نکاح قصبہ کی اس لڑکی سے ہوتا، نہ   سات اولا دیں ہوتیں  اورنہ  سات نئے گھر آباد ہوتے ، نہ سات خاندان ہوتے۔ بڑھیا کی ذراسی خواہش نے دنیا کی آبادی میں کتنا اضا فہ کر دیا۔

خان صاحب کی بیوی بہت تنک مزاج اور ضدی تھیں ۔ خاں صاحب کا مزاج نازک  اورجلد  مشتعل ہونے والا تھا۔ گھر میں صبح  کی چائے  کے وقت ماما نے مکھن کی گولی نالی میں گرا دی۔ بیگم صاحب نے غصہ کی حالت میں ماما کے دوطمانچے مار دیئے ۔ مانا نے اپنے شوہر سے شکایت کی۔ شوہر خاں  صاحب سے شکوہ کرنے آیا ۔ خاں صاحب چائے  پرمکھن نہ ملنے کی وجہ سے بدمزاج ہو رہے تھے۔ انھوں نے ماما کے شوہر کے گھونسہ مار دیا۔ اس کی تلی  پھٹ گئی اور خاں صاحب قتل کے الزام میں ماخوذ ہو گئے اور سات برس کے لیے جیل خانے گئے۔ بیوی اس صدمہ میں مر  گئیں ۔۔۔ ! جائداد قرضہ میں   نیلام ہوگئی ! ۔۔۔۔آج نہ خا ن صاحب کا کو ئی یاد کرنے والا باقی ہے نہ ان کی بیوی کی قبر پر چراغ جلانے والا !

اور بات صرف اتنی تھی کہ صبح  کو مکھن کی ایک گولی نالی میں گر گئی تھی ۔ وہ مکھن اگر اس دن نالی میں نہ گرا ہوتا تو شاید یہ خاندان اس طرح تباه نہ ہوتا۔

ایک مٹھی بھر خاک ، ایک چیونٹی ، ایک مچھر، ایک تنکا ، ایک چُلّو بانی ، درخت کا ایک پتہ، پھول کا ایک کانٹا ، ایک خفیت سی  خواہش، ایک ذرا سا وہم ، بڑے سے بڑے واقعات اور بڑےبڑے نتائج  کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ سرراہ ایک معمولی واقعہ کے بطن سے اکثر خوفناک واقعات اور خونریز انقلابات پیدا ہوتے ہی سلطنتیں تباہ ہوجائی ہیں  ، شہنشاہوں کے تخت لٹ جاتے ہیں ! چڑ یا کسی درخت کا ایک بیج  لے کر اڑتی ہے کیسی بیابان اور ویرانے میں وہ بیج  اس کی چوری سے نکل کر زمین پر گرتاہے۔ ہوا کا ایک جھونکا  اس پیج پر ایک مٹھی بھر  خاک ڈال دیتا  ہے۔ بادل سے پانی کے چند قطرے اس بیج  پر گر جاتے ہیں - پچاس برس بعد اس بیابان میں سینکڑوں میل تک ایک گھنا جنگل چرندوں، پرندوں اور درندوں کامسکن ہوتاہے ! کس کو خبر ہے کہ اس دوران میں وہ پہلا بیچ کیوں کہ آیا تها؟   اس ابتدا اور اس انتہا کے تفاوت کو دیکھو۔اسباب و نتائج     کایہ  سلسلہ   کس قدر خوفناک اورکس قدردلچسپ ہے پھر شور کر و کہ  ہمارے ہر سانس کے ساتھ یہ اسباب پیدا ہوتے ہیں۔ ایسے خفیف کہ ہمیں خبر بھی نہیں ہوئی ۔۔۔۔۔لیکن ایک ہی دن میں یابرسوں میں ان اسباب سے ایسے نتائج پیدا ہوتے ہیں جس سے مورخ  کی تاریخ کے ہزاروں صفحات بھر جاتے ہیں ۔ ان صفحات کا آغاز ایک ذرا سا نقطتہ ہوتاہے !۔۔۔۔ مورخ بھی نہیں جانتا کہ جو واقعات وہ لکھ رہاہے ان کا سر چشمہ کہاں  تھا ۔ ذرا سوچوکہ  ہماری تمہاری زندگی کس قدر تاریک، ہمارے تمہارے اختیار سے کس قدر با ہراورفہم و ادراک سے کس قدر بالاتر ہے ۔مگر ہم  کو ۔۔۔۔۔اور عورتوں سے زیا دہ مردوں کو اس بات کا دعوی ہے کہ ہم سب کچھ جانتے ہیں ۔۔۔۔میرے   اور اپنے تعلقات پر غور کرو۔۔۔۔کتنی  ذرا سی بات تھی کہ تم اس شب محفل میں آتے اور جگہ کی تنگی کی وجہ سے میرے قریب بیٹھ گئے۔ بھر کتنی ذراسی بات تھی کہ میرا جلتا ہرا سگریٹ میرے ہاتھ سے چھوٹ کر فرش پر گر گیا اور تم نے اسے اٹھا کرکے دے دیا۔

بہر حال اگر اس شب کو جس کمرہ میں محفل جمی تھی وہ کمرہ اس قدر تنگ نہ ہو تا ۔ اگر میرا سگریٹ اتفاقیہ میرے ہاتھ سے نہ گرا  ہوتا اور اس طرح مجھ سے اور تم سے بیگانہ وارچند باتیں نہ ہوئی ہوتی تو گذشتہ دو برس میں میری تمھاری زندگی میں جو زلزلہ  آتا رہا ہے وہ کیسے پیدا ہو تا ۔ خدا جانے میں کہاں ہو تی اور تم کہاں ہوتے۔ اس شب کو تم مجھ پر عاشق ہونے  کا ارادہ کر کے آئے تھے ، وہ مجھے اس وقت چاہنے والوں کی تلاش تھی ۔ تم نے کبھی ایسی ہزاروں  محفلیں دیکھی تھیں اور میں بھی بہت سی فلموں میں اپنے حسن کا اشتہار دے چکی تھی ۔ گومیں  اس دنیا میں اس وقت بالکل نئی تھی اور اس پیشہ کے راه ورسم سے بخوبی واقفت نہ تھی۔

 تاہم اس چند منٹ کی ملاقات کے بعد بظاہر کوئی وجہ تھی کہ میں تم کو یاد رکھتی۔ اس شب کی مختصر ملاقات کے بعد چند روز تک میں اپنے پیشہ  میں مشغول رہی اور غالباتم بھی اپنے تعیش میں مصروف رہے۔ دوسرے دن صبح کو۔۔۔ بلکہ  اسی شب محفل برخاست ہونے سے پہلے ہی۔۔۔۔۔۔ بھول چکی تھی کہ تم کون ہو ؟ اور کون تھے ۔۔۔۔۔مگر۔۔۔۔۔ وہ بیج اس محفل سے کوئی پرندہ لے کر اڑ  گیا تھا۔ عرصہ تک ایک ویرانے میں پڑا رہا اور ہم تم اس کے نشووناسے بالکل بے خبر رہے۔ لیکن کوئی غیان تھا جو اس بیچ کی سیرواکرتا رہا۔ ہم کو خبر  نہ  تھی مگر مزرعئہ حیات میں یوہ تخم اپنی جگہ پیدا کرتا رہا ! آج اس کی شاخیں صحرا میں جھوم رہی ہیں۔ جہاں ایک سانس کے لئے ہوا نہ تھی وہاں اب آندھیاں چل رہی ہیں ۔۔۔۔کیا خبر ہے۔۔۔۔۔ کیا ہونا ہے ؟ محبت والفت کی آبادیاں آباد ہوں گی یا مایوسیوں اور مجبوریوں کے شعلے بھڑک بھڑکک کر اس جنگل کو  جلا  ڈالیں گے  کون بتا سکتا ہے کہ اس سر بز درخت کے سایہ میں بیٹھ کر زندگی گزاریں گے۔ اس کی گھنی  شاخوں میں ہم اپنے لئے کوئی آشنان بنائیں گے یا کسی دن ایک آندھی ایسی آئے گی کہ وہ درخت جڑ سے اکھڑ کر ہمارے سرپر  گر  ے گا اور اس کے پتے  کچلی ہوئی  لاشوں پر ایک سبز چادر ڈال دیں گے ۔۔۔۔۔کوئی کیا جانے ؟

تم اپنے عشق کی بانسری بجائے جاو ، میں اپنے حسن کا نغمہ سناے جاوں ؟ جو  کوئی   اس بساط زندگی پر اپنا کھیل کھیل رہا ہے وہ جس طرح چاہے گا اپنے مہروں کو چلاتا رہے گا ! ۔۔۔۔۔ ہم کیا جانیں ؛

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یونٹ نمبر ۳۔افسانہ   UNIT No.3.AFSANA

افسانہ کی تعریف و فن

داستان ناول اور افسانہ دراصل ایک ہی نثری صنف کے مختلف روپ ہیں۔ ان تینوں کو ملا کر افسانوی ادب یا فکشن کا نام بھی دیا جاتا  ہے۔ ان تینوں کی بنیادی خصوصیت ایک ہے اور وہ ہے قصہ پن۔ یعنی ہر قدم پر یہ جاننے کی خواہش کے آگے کیا ہوا اور اس کے بعد کیا ہونے والا ہے۔ یہ کہانی پین یا قصہ پین ہی فکشن کی جان ہے۔جب انسان کو بہت فرصت تھی تو وہ ایسے تھے سنتا اور سناتا تھا جو بہت طویل ہوتے تھے۔ اس زمانے میں وہ ایسی باتوں اور ایسی چیزوں پر یقین کر لیتا تھا جو عقل کو دنگ کر دیتی ہیں۔ ان کو فوق فطری عناصر کہا جاتا ہے۔ داستانوں میں ان کی بہتات ہوتی تھی۔ مگر زمانے کا ورق پلٹا انسان کی مصروفیت بڑھی اور غیر فطری باتوں پر سے اس کا ایمان اٹھ گیا۔ زندگی کے حقیقی واقعات کو اس نے اپنے قصوں کا موضوع بنایا اور غیر ضروری طوالت سے دامن بچایا تو ناول وجود میں آیا۔ مصروفیت اور بڑھی تو افسانہ وجود میں آیا۔ افسانہ چھوٹا سا ہو تا ہے اس لیے اس میں پوری زندگی کو پیش نہیں کیا جا سکتا۔ اس میں زندگی کے کسی ایک رخ سے اور کردار کے کسی ایک پہلو سے سروکار ہو تا ہے۔ افسانے کے اجزائے تو کبھی بھی وہی ہوتے ہیں جو ناول کے ہیں مگر افسانے کا پرانہ چھوٹا ہوتا ہے اس لیے ان کے اجزائے ترکی کے برتنے کا انداز بھی بدل جاتا ہے۔

افسانے سے مراد ایسی نثری کہانی ہے جس میں کوئی ایسا واقعہ بیان کیا گیا ہو جس کی ابتدا ہو، ارتقاء ہو، اور خاتمہ ہو اور جو زندگی کی بصیرت میں اضافہ کرے۔ دوسرے لفظوں میں وہ نثری کہانی جس سے میں زندگی کے کسی ایک گوشے یا رخ کو کم سے کم الفاظ میں اجاگر کیا جائے۔ افسانہ مغربی ادب کے موضوعات ابتدا سے ہی مقامی عناصر پر مشتمل رہے ہیں۔ مستعار لیا گیا ہے لیکن اس نے انیسویں صدی کے آغاز میں مختصر افسانے کی ابتداء کی، لکھتے ہیں ”مختصرجس واشنگٹن ارنگ افسانے کو پڑھ کر قاری کے دل پر ایک خاص کیفیت گزر جاتی ہے اور یہی مختصر افسانے کی درسال پرانا ہے .فسانے کی یہ بھی تعریف کی گئی ہے کہ مختصر افسانہ افسانوی ادب کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ ہے۔  افسانے کے جدید نقاد ڈاکٹر فردوس فاطمہ نصیر افسانے کی تعریف یوں کرتی ہیں مختصر افسانہ وہ صنف ادب ہے جس میں نہایت اختصار کے ساتھ نثر میں زندگی کے کسی ایک پہلو کی خیر کن جھلک فی طریقہ پر دکھائی جائے

 

افسانہ کے اجزائے ترکیبی:

اجزائے ترکیبی  تو افسانے کے بھی وہی ہیں جو ناول کے ہوتے ہیں مگر افسانے کا پیمانہ  چھوٹا ہو تا ہے اس لیے ان کے برتنے کا انداز بدل جاتا ہے۔ ان اجزاے ترکی کا ذکر کرنے سے پہلے یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ اس معاملے میں اہل نظر کی را میں بدلتی رہی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل پلاٹ، کردار نقطہ نظر اور وحدت تاثر کے بغیر افسانے کا تصور ہی ممکن نہ تھا لیکن زیادہ پرانی بات نہیں کہ بغیر پلاٹ کی کہانیاں لکھی گئیں اور وہ ’’نا کہانی‘‘ کہلا ئیں۔

۱)پلاٹ:

پلاٹ سے مراد ہے واقعات یا افسانے میں کوئی ایک واقعہ پیش کیا گیا ہے تو اسنے مختلف اجزا کی ترتیب۔ افسانے میں کوئی قصہ پیش کرتا تو عام طور پر ممکن نہیں ہوتا لیکن کسی واقعے یا چند واقعات کے بغیر افسانے کا وجود میں آنا ممکن نہیں۔ اچھے افسانے کی ایک شناخت یہ ہے کہ اس میں ایک لفظ بھی غیر ضروری نہ ہو۔ غیر ضروری تفصیل سے افسانے میں جھول پیدا ہو جاتا ہے اور قاری کی توجہ مرکزی خیال پر مرکوز نہیں رہ پاتی- انتشار اور پراگندہ پانی سے احتراز افسانے کی اثر پذیری ہے۔ کردار افسانے کے لیے بھی اسی طرح ضروری ہے جس طرح ناول کے لیے لیکن افسانے کا پیمانہ مختصر ہونے کے سبب افسانہ نگار کی دشواریاں زیادہ ہیں۔ ناول نگار کو مختلف زاویوں سے کردار پر روشنی ڈالنے اور اسے اجاگر کرنے کا موقع ملتاہے جب کہ افسانہ نگار کردار کا کوئی ایک پہلو ہی کامیابی کے ساتھ پیش کر سکتا ہے۔ افسانہ نگار کو بڑی محنت کر کے کردار کو اس طرح تراشنا پڑتا ہے کہ وہ قاری کے دل میں گھر کر سکے۔ناول میں کردار کا ارتقا آسانی سے دکھایا جاسکتا ہے جب کہ افسانے میں اس کی گنجائش کم ہوتی ہے۔ اس سے عہدہ برآہونے کے لیے بڑی مہارت درکار ہے۔ پریم چند کے افسانے ”زیور کا ڈبہ نمک کا داروغہ منٹو کا نیا قانون‘ اور ’بابو گوپی ناتھ اس کی اچھی مثالیں ہیں۔

۲) نقطۂ نظر:

نقطۂ نظر سے کسی انسان کو مفر نہیں خاص طور پر مصنف کو کیونکہ وہ زیادہ حساس اور باشعور ہو تا ہے۔ یہ الگ بات کہ ایک اچھافنکار اپنا نقطۂ نظر قاری پر تھوپتا  نہیں۔ اس کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ کھل کر کچھ نہ کہے بلکہ اپنی تخلیق کو اس طرح پیش کرے کہ فن کار کے دل کی بات آپ سے آپ قاری کے دل میں آجائے۔ مثلا منٹو نے ہندو مسلم فسادات سے متعلق افسانے (سیاه حاشئے)  اس طرح پیش کیے کہ قاری کو فرقہ پرستی سے نفرت ہو جاتی ہے۔ پریم چند کا افسانہ ’’نمک کا داروغہ‘‘ پڑھ کر ہمارے دل میں دیانت داری اور اصول پرستی کی قدر بڑھ جاتی ہے۔

۴)ماحول اور فضا:

ماحول اور فضا کی مختصر افسانے میں بہت اہمیت ہے۔ فضا آفرینی کامیاب افسانہ نگاری کے لیے بہت ضروری ہے۔ اس سے کہانی کی تاثیر میں اضافہ ہوجاتاہے۔ کرشن چندر نے اس تکنیک سے اپنے افسانوں میں بہت کام لیا ہے۔ فضا آفرینی سے یہ مراد ہے کہ افسانہ نگار ماحوں یایی تصویر کھینچے کہ قاری کے دل پر وہ کیفیت طاری ہو جائے جو وہ پیدا کرنا چاہتا ہے۔ افسانے کا موضوع غریبی ہے تو غربت اور غریبوں کے رہن سہن کی ایسی تصویر کھینچی جائے کہ قاری کو غریبوں سے ہمدردی ہو جائے۔ جن افسانہ نگاروں نے ماحول کی تصویر کشی اور فضا آفرینی پر زیادہ توجہ کی وہ زیادہ کامیاب افسانے پیش کر سکے۔

۵)اسلوب:

اسلوب افسانے کا ایسا حصہ ہے جس سے اسے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ مختر افسانے کا فن غزل کے فن سے بہت ملتا جلتا  ہے۔ بے مصرف ایک لفظ کی بھی یہاں گنجائش نہیں۔ یہ کفایت لفظی کا فن ہے میں کم سے کم لفظوں میں زیادہ سے زیادہ بات کہہ جانے کا بہتر ہے۔ کیا لکھنا چاہیے سے زیادہ افسانہ نگار کے لیے ہے جاننا ضروری ہے کہ کیا تمہیں لکھنا چاہیے۔ مطلب یہ کہ ہر غیر ضروری لفظ اور ہر غیر ضروری فقرے کو قلم زد کردیا جاتا اسے جو لفظ یا جو فقرہ افسانے کے آگے بڑھنے میں مددگار نہ ہو وہ غیر ضروری ہے۔

افسانے کا اسلوب موضوع کے مطابق ہونا چا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ افسانے کی زبان کو ساده و رواں ہونا چاہیئے  ہے مگر سادگی کے ساتھ دلکشی بھی ضروری ہے لیکن بعض افسانہ نگارا زبان لکھتے ہیں کہ قارئین یا سامعین ایک ایک فقرے پر اس طرح داددیں جیسے مشاعرے میں شعر پر دی جاتی ہے۔

۶)آغاز و اختتام:

آغاز و اختتام پر بھی افسانے کی کامیابی اور ناکامی کا دار ہے۔ افسانے کا آغاز اس طرح ہونا چاہیئے  ہے کہ قاری فورا اس طرف متوجہ ہو جائے۔ اب یہ افسانہ نگار کا ہنر ہے کہ اس توجہ کو افسانے سے ہٹنے نہ دے۔ ہر لحظہ یہ تجسس باقی رہے کہ اب کیا ہونے والا ہے اور جب کہانی ختم ہو تو اس طرح کہ پڑھنے والا مدتوں اس کی گرفت سے نکل نہ سکے۔ بعض روسی افسانہ نگاروں نے ایسی کہانیاں لکھی ہیں کہ جب وہ کاغذ پر ختم ہو گئیں تو قاری کے ذہن میں شروع ہو گئیں لیکن ان کے ذہن میں ایک ایسا سوالیہ نشان ابھر آیا کہ مدتوں اس کا جواب ڈھونڈتے رہے۔

۷)وحدت تاثر:

وحدت تاثر کو کہانی کی اساس کہا جاتا ہے۔ کچھ دنوں پہلے اس کی شدید مخالفت کی گئی اور کہا گیا کہ اصل زندگی میں انتشار اور بکھراؤ کی کیفیت ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ افسانے میں یہ کیفیت نہ پائی جائے۔ وحدت تاثر سے یہ مراد ہے کہ افسانے سے قاری کے ذہن پر کوئی ایک کیفیت طاری ہو- یہ نہ ہو کہ ابھی خوشی کی کیفیت ہے ذرا دیر میں ساری فضا سوگوار ہو گئی۔ کسی زمانے میں وحدت تاثر کو افسانے کے لیے سب سے زیادہ ضروری قرار دیا گیا۔ آج بعض لوگ اس کے حامی ہیں تو بعض اس کے مخالف۔

  علی عباس حسینی

علی عباس حسینی افسانہ نگار،نقاد اور ڈرامہ نویس کے طور جانے جاتے ہیں۔ ان کی پیدائش ۳ فروری ۱۸۹۷ کو موضع پارہ ضلع غازی پور میں ہوئی۔ مشن ہائی اسکول الہ آبادسے میٹرک اور انٹر میڈیٹ کیا۔کیننگ کالج لکھنؤ سے بی اے مکمل کرنے کے بعد الہ آباد یونیورسٹی سے تاریخ میں ایم اے کیا۔گورمنٹ  جوبلی کالج  لکھنؤ میں درس وتدریس سے وابستہ رہے۔یہیں سے ۱۹۵۴ میں پرنسپل کے عہدے سےسبکدوش ہوئے۔۲۷ ستمبر ۱۹۶۹ کو انتقال ہوا۔
علی عباس حسینی کو بچپن سے ہی قصے کہانیوں میں دلچسپی تھی۔ دس گیارہ برس کی عمر میں الف لیلی  کے قصے ،فردوسی کا شاہ نامہ، طلسم ہوش ربا اور اردو میں لکھے جانے والے دوسرے افسانوی ادب  کا مطالعہ کر چکےتھے۔  ۱۹۱۷ میں پہلا افسانہ ’غنچۂ ناشگفتہ‘ کے نام سے لکھا۔ اور ۱۹۲۰ میں ’سر سید احمد پاشا‘کے قلمی نام سے پہلا رومانوی ناول’قاف کی پری‘ لکھا۔’شاید کہ بہار آئی‘ ان کا دوسرا اور آخری نال ہے۔’رفیق تنہائی،باسی پھول،کانٹوں میں پھول،میلہ گھومنی،ندیا کنارے،آئی سی ایس اور دوسرے افسانے،یہ کچھ ہنسی نہیں ہے،الجھے دھاگے،ایک حمام میں، سیلاب کی راتیں، کے نام سے افسانوں کے مجموعے شائع ہوئے۔

ایک ایکٹ کے ڈرامے‘ ان کے ڈراموں کا مجموعہ ہے۔ علی عباس حسینی کی ایک پہچان فکشن کے نقاد کے طور پر بھی قائم ہوئی۔ انہوں نے پہلی بار ناول کی تنقید و تاریخ پر ایک ایسی مفصل کتاب لکھی جو آج تک فکشن تنقید میں حوالے کی حیثیت رکھتی ہے۔ ’عروس ادب‘ کے نام سے ان کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ شائع ہوا۔                                                                                                                                                                                                              حوالہ: ریختہ

نور و نار

                                                                                                                                               علی عباس حسینی

’’آپ جو جی چاہے سمجھیں! گاؤں والے جو دل میں آئے کہیں! مگر میں اس پاجی کی نماز جنازہ نہ پڑھاؤں گا! ہرگز ہز نہ پڑھاؤں گا! میرا داماد سہی، مگر تھا تو وہ زانی، شرابی اور جواری!‘‘ مولانا اجتبیٰ نے سمدھی کو ڈیوڑھی میں کھڑے کھڑے جواب دیا اور گھر کا دروازہ دھڑاک سے بند کر لیا۔ اس دھڑاک نے گویا مولانا کے جواب پرمہر لگا دی۔ اب اس پر نظر ثانی کی کوئی امید نہیں رہ گئی۔ سمدھی نے حسرت سے بند دروازے کو دیکھا اور آنکھوں میں آنسو بھرے گردن جھکائے نکل گئے۔ مولانا اجتبیٰ کے لئے بھی یہ فیصلہ کوئی آسان امر نہ تھا۔ اپنے ہی داماد کے جنازہ پر نماز پڑھانے سے انکار اور وہ بھی ایسی حالت میں جبکہ آس پاس کے کسی گاؤں میں نماز پڑھانے والا نہ ہو، اخلاق، مروت، انسانیت، عزیزداری، برادری کی تمام روایتوں کے خلاف تھا۔ مگر کیا کریں، خدا کے سامنے کھڑے ہو کر کیسے کہیں کہ اس مردے کے بارے میں اچھائیوں کے علاوہ ہم کچھ نہیں جانتے۔ وہ اپنے داماد کے کرتوتوں سے واقف تھے، وہ گاؤں والوں کو گواہ بنا کر ایسا سفید جھوٹ تو نہیں بول سکتے تھے۔ سب ہی تو جانتے تھے اظہر کو۔ پولیس کا داروغہ، رشوت، بے ایمانی، جھوٹ، شراب، جوا، عیاشی۔ کون سا عیب تھا جو اس میں نہ تھا اور پھر سمدھی صاحب کی یہ خواہش کہ اسی پاجی اظہرکی نماز جنازہ پڑھا دو! گویا اس کی ساری برائیوں سے مکر اور محض اچھائیوں کا اقرار کرو! خدا کے سامنے دیدہ دلیری سے جھوٹ بولو! ہونہہ! مولانا کالمبوترا چہرا سرخ تھا۔ ان کی داڑھی کے سفید بال کھڑے تھے اور ان کا چھریرا جسم، جو ایک چھڑی کی موٹھ کی طرح آگے سے جھکا تھا، اس وقت کانپ رہا تھا۔ وہ سمدھی کومایوس جاتے دیکھ کر دروازے کی کنڈی بند کر کے پاؤں پٹکتے اندر چلے آئے۔

ان کا گھر بہت بڑا نہ تھا۔ چھوٹا سا کچا صحن، اتررخ کے دالان اندردالان، پچھم طرف باورچی خانہ، اور پورب جانب دو کوٹھریاں۔ دکن کی طرف کوئی عمارت نہ تھی۔ دیوار سے ملی ہوئی زمین کو دوفٹ کی لمبان چوڑان میں گوڑ کر دھنیا اور پودینہ لگا رکھا تھا۔ اسی مزروعہ کے پاس کاٹھ کی گھڑونچی دومٹی کے گھڑے کٹوروں سے ڈھکے رہتے تھے اورایک چھوٹی سی چوکی پر دو تانبے کے بدقلعی جگہ جگہ سے پچکے ہوئے لوٹے۔ باہری دالان میں تختوں کے چوکے پر چھپا ہوا فرش بچھا تھا، جس پر دیوار سے لگا ہوا ایک گاؤ تھا۔ میلا چکٹ، دونوں پہلوؤں سے روئی کے پھونسڑے جھانکتے ہوئے۔ گاؤ کی بغل میں دری کی ایک جانماز تھی اور اوراد وظائف کی کچھ کتابیں۔ اورایک کاٹھ کا فیض آبادی قلمدان۔ اندر والے دالان میں ایک پلنگ بچھا تھا۔ اس کا باندھ جگہ جگہ سے مجروح تھا۔ اور اس کی ادوائن ہر بالشت پر گرہ دار۔ اسی کے سرہانے پرانی دری میں لپٹا ہوا مولانا کا بستر رکھا تھا۔ وہیں ایک کونے میں الگنی پر ایک تہمد لٹکتی تھی، ایک پیوند لگی قبا اور ایک بڑی مہری کا مارکین کا پائجامہ۔ پلنگ سے ملی ہوئی ایک تپائی پر ایک فیض آبادی زیور رکھنے والا صندوق رکھا تھا، جس پر جز دان میں لپٹی چند کتابیں تھیں اورسب سے اوپر قرآن! مولانا دالان والے تخت پر اس طرح آکر بیٹھے کہ اس کا جوڑجوڑ بولنے لگا، مگر انہوں نے اس کی فریاد پر دھیان نہ دیا۔ انہیں اس وقت غصے میں کچھ نہ سنائی دیتا تھا۔ مرنے والا، ان کی اکلوتی لڑکی ذکیہ کا شوہر تھا۔ وہ کوئی غیر نہ تھا۔ وہ اپنا ہی تھا، اسی لئے توانہیں اس کی ساری حرکتوں کی خبر تھی۔ رحیمن نے انہیں ایک ایک بات بتا دی تھی۔ وہ کبھی بھی اس بدمعاش اظہرکو معاف نہیں کر سکتے تھے۔ اس نے ان کی ذکیہ کو طرح طرح کے دکھ پہنچائے۔ اس کے سینے پرمونگ دلی۔ اس کے ہوتے رنڈی گھرمیں بٹھائی۔ شراب پی، جوا کھیلا اور اپنی ہی پونجی نہیں بلکہ ذکیہ کے سارے زیور بھی چوروں کی طرح چرا کر جوے میں ہار دیے۔ انہیں ظلموں نے تو ذکیہ کو بیمار ڈال کرعین جوانی میں دق کا شکار بنا دیا، اور ذکیہ کے مرنے نے مولانا کو قبل از وقت بوڑھا کر دیا، جھکا دیا، بالوں سے سیاہی، آنکھوں سے نور چھین لیا۔

ذکیہ ہی توان کی سب کچھ تھی۔ ساری پونجی، ساری خوشی، ساری امیدیں، فقیر کے گھر کا دیا، اس کی زندگی کا اجالا۔ ذکیہ کے بعدان کی زندگی کیا تھی، بالکل ایک بھول بھلیاں کہ بھٹکتے پھر و، نہ سرے کا پتہ، نہ منزل کی خبر۔ راستے میں نہ جلتا چراغ نہ روشن مشعل، نہ چھٹکی چاندنی، نہ جگمگاتی کرن! بس ایک ہڈیاں ٹھٹھرانے والی ٹھنڈک اور گھور اندھیرا!

اورمولانا اٹھ کرکھڑے ہو گئے۔ ان کا خون کھول رہا تھا، ان کے دل میں نہ جانے کتنی مرتبہ یہ خیال پیدا ہوا تھا کہ وہ اس مردود اظہر سے اپنی ذکیہ کا بدلہ ضرور لیں، اسے کسی موقع پر پورے گاؤں کے سامنے ذلیل و رسوا کریں۔ افسوس کہ اس کی بیماری اور موت نے اس کا موقع نہ دیا۔ لیکن آج جبکہ یہ کانٹا ٹوٹ کر ہمیشہ کے لئے پہلو میں کھٹکتا رہ گیا، سمدھی صاحب اصرار کررہے ہیں کہ اسی اظہر کی نماز جنازہ پڑھاؤ، اور سب کے سامنے جھوٹ بولو کہ یہ نیک تھا، اچھا تھا اور اس نے زندگی بھر نیکی اور بھلائی ہی کی ہے۔ اس کی صفائی خدا کے سامنے پیش کرو جو اپنی ذکیہ کا قاتل تھا۔ اوران کی آنکھوں میں ذکیہ کی صورت پھرنے لگی۔ وہ اس کا بوٹا سا قد، وہ اس کا دبلا پتلا جسم، وہ اس کے چھوٹے چھوٹے ہاتھ پاؤں اور وہ اس کا مسکراتا چہرہ! عجب دل پایا تھا اس بچی نے۔ نہ اسے کھانے کی فکر نہ پہننے کی۔ پیسے ہوں یا نہ ہوں، ہرحالت میں خوش۔ ترکاری گوشت نہ پکا ہو، روٹی چٹنی ہی سہی۔ ایک ہی وقت کھانا ملے کوئی عذر نہیں۔ نوکرانی گھر میں ہوئی تو اس کا ہر کام میں ہاٹھ بٹاتی رہی، نہ ہوئی سارا کام خود کر ڈالا۔ جب باپ کے سامنے دسترخوان لگاتی تو اس انداز سے کھلاتی اور کھاتی کہ معلوم ہوتا صرف دال روٹی ہی سامنے نہیں ہے بلکہ انواع اقسام کی نعمتیں دسترخوان پر چنی ہیں۔ اور مولانا کے لئے ہر نوالہ لذیذ سے لذیذ تر بن جاتا۔ وہ خوش ہو کر کہتے، ’’ذکیہ تو یقینی جنتی حور ہے۔‘‘ اور وہ بڑی سادگی سے کہتی، ’’ابا جان، میں ایسی خوش قسمت کہاں۔ پر خدا کا شکر ضرور ادا کرتی ہوں کہ آپ کو میری پکائی ہوئی ہر چیز پسند آتی ہے۔‘‘

اورمولانا اپنی تربیت و تعلیم پر خود عش عش کرنے لگتے۔ وہ سوچتے تھے دماغ اور دل میں فرق ضرور ہے۔ انہوں نے مذہب کو دماغ کے ذریعہ سمجھا تھا۔ ان کی کتابوں میں یہی لکھا تھا، ان کو تعلیم بھی دی گئی تھی اوران کی فکر بھی یہی کہتی تھی، اس لئے مجبورا ًمذہبی احکام مانو۔ مگر دل نے ہمیشہ بغاوت کی۔ جوکی روٹی میں وہ مزہ کیسے ہو سکتا ہے جو شیرمالوں میں ہے۔ سادے چاول اتنے خوش ذائقہ کیسے ہو سکتے ہیں جیسی کہ بریانی ہوتی ہے۔ مارکین اور گاڑھے کے پہننے میں جسم کو وہ آرام کہاں مل سکتا ہے جو مخمل اور ریشم میں ہے۔ خود اپنے ہاتھ سے گھر کی صفائی کرنے اور کھانا پکانے میں وہ راحت کہاں جو ماما دائیوں سے کام لینے میں ہے۔ لیکن ذکیہ نے مولانا ہی کی زبانی سنی سنائی باتوں کودل میں گرہ کر رکھا تھا، اس نے مذہبی احکام کواس طرح اپنایا تھا کہ وہ اس کی طبیعت، اس کا مزاج بن گئے تھے۔ وہ انہیں کے سانچے میں ڈھل گئی تھی۔ محسوس ہوتا کہ مذہب کی روح نے ذکیہ کی صورت میں جنم لیا ہے۔

اس طرح کی بچی اور بیاہ دی گئی اظہر جیسے رند لامذہب سے۔ عزیزوں نے اصرارکیاتھا کھاتا پیتا گھر ہے، لڑکا کماتا ہے۔ پولس کا داروغہ ہے، خوش مزاج ہے، جانا بوجھا ہے، ذکیہ کوخوش رکھے گا۔ ۔۔مگر۔۔۔مگر۔۔۔! اورمولانا پنجرے میں بند شیر کی طرح ٹہلنے لگے۔ ان کی نظریں اپنے غصہ کا شکار ڈھونڈ رہی تھیں۔ کوئی ایسی چیز جسے توڑ پھوڑ کر، جسے پھاڑ کر، جلا کر اپنے دل کا بخار نکال سکیں اور ان کی نظر ان چیزوں پر جا کر رکی جو اظہر نے اپنی زندگی سے مایوس ہونے پرذکیہ کی یادگار کے طور پر ان کے پاس بھیج دی تھیں۔ کاٹھ کا صندوق، جہیزمیں دی ہوئی وظائف کی کتابیں اور جزدان میں لپٹا ہوا قرآن۔ جب سے یہ چیزیں آئی تھیں مولانا نے انہیں کھول کر نہ دیکھا تھا کہ ان میں کیا رکھا ہے۔

وہ تیز قدم رکھتے ہوئے ان چیزوں کے قریب گئے اور انہوں نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے قرآن اٹھا کربستر پر رکھا۔ پھرانہوں نے اوراد و وظائف کی کتابیں اٹھا کر ایک ایک کو دیکھنا شروع کیا۔ ایک کتاب کے آخر میں چند صفحے سادے لگےتھے۔ ان پرذکیہ کے ہاتھ کی تحریر دکھائی دی۔ معلوم ہوا کہ آنکھوں میں سوئیاں سی چبھنے لگیں۔ مولانا نے تکلیف سے آنکھیں بند کر لیں، لیکن ان کی سوکھی انگلیاں مڑے ہوئے کاغذ کے کونے اسی طرح درست کرتی رہیں جس طرح ماں سوتے ہوئے بچے کی زلفیں سنوارتی ہے اور خود ان کا جسم اس طرح ہلتا رہا جیسے وہ پالنے میں کسی کو جھولا جھلا رہے ہیں۔ پھر انہوں نے سینے میں کھٹکتی ایک سانس لے کر آنکھیں کھولیں اور وہ ذکیہ کی تحریریں پڑھنے لگے۔

میرے نکاح کوآج تیسرا دن ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ کسی کو جسمانی اذیت پہنچانے میں اپنے کو خوشی کیسے محسوس ہوتی ہے اور لوگ اس تقریب کو شادی کیوں کہتے ہیں؟ میرے سرتاج نوکری پر گئے۔ مجھے معلوم نہ ہو سکا، انہیں کیا پسند ہے، کیا ناپسند۔ میں پہلے ہی دن سے برابر دعا کر رہی ہوں کہ خدا مجھے انہیں کی پسند کا بنا دے! خواہ اس میں مجھے کتنی ہی اذیت پہنچے۔ لوگ ساس نندوں کو برا کہتے ہیں۔ میری ساس نندیں تومجھ سے اس قدر محبت کرتی ہیں کہ چھوٹے سے چھوٹا کام بھی وہ مجھ ہی سے لینا چاہتی ہیں۔

ابا جان کو آج کل کھانا کون کھلاتا ہوگا؟ کلو شام ہی کو چلی جاتی ہوگی اور وہ کھاتے ہیں رات گئے۔ انہیں گرم روٹیاں کیسے ملتی ہوں گی؟ کچھ نہیں، انہیں چاہئے کہ وہ اپنا دوسرا نکاح کر لیں۔ بیٹی نہ ہوتو بیوی ضرور ہونا چاہئے!

مولانا نے رک کر ایک لمبی سانس پھر لی۔ وہ تھوڑی دیر فضا میں گھورتے رہے۔ پھر انہوں نے ڈائری کے کئی ورق سرسری نظر ڈال کر پلٹ دیے۔ شروع شروع میں دو دو چار چار چار جملوں میں بات کہہ دی جاتی تھی۔ اب پورے پورے صفحے رنگے ملنے لگے۔ گویا ابتدا میں زندگی کے کنارے پرپیراکی کی مشق کی جاتی تھی۔ پیر نے والی دو چار ہاتھ مارتی اور تھک کر پلٹ آتی۔ مگر اب وہ زندگی کی گنگا میں بھرپور اتر گئی تھی۔ دھارے کے خلاف بہت دور تک پیرتی ہوئی جاتی مگر ہمت کے بازو شل نہ ہوتے۔ مولانا کی نظر دفعتاً ٹھٹکی۔ اس نے لکھا تھا،

’’رحیمن کو اور مجھے چچا جان تھانے پر پہنچا گئے۔ میرے سرتاج نے ہماری بالکل اسی طرح پذیرائی کی جس طرح کوئی امیر کسی بڑی دعوت میں پلاؤ قورمہ کھانے کے بعد کسی غریب عزیز کے ہاں سے ٹھنڈی پوریوں کا حصہ اتارتا ہے۔ واپس بھی نہیں کی جاتی ہیں، کھائی بھی نہیں جاتی ہیں بس کسی چھینکے پر ڈال دی جاتی ہیں کہ پڑی سوکھیں۔ عمو جان چند گھنٹے بعد چلے گئے۔ وہ بھلا بھتیجی کی سسرال میں کیسے ٹک سکتے تھے۔ ان کومیری خوشی سے زیادہ اپنے دیہات کے رواج کا خیال تھا۔ اب یہ جو چچا جان کو اسٹیشن بھیجنے گئے تو دس بجے رات تک نہ پلٹے۔ نہ جانے کون سا کام نکل آیا۔ رحیمن سفر کے تکان سے چور تھی۔ میں نے اسے کھلا پلا کر سلا دیا۔ مگر خود انگیٹھیوں پر پتیلیاں رکھے بیٹھی رہی۔ جب ساڑھے دس بجے اندرآئے تو مجھے پتیلیوں کے پاس اکیلے بیٹھے دیکھا مگرکچھ بولے نہیں۔ میں نے گرم گرم کھانا سامنے رکھا تو پوچھا، ’’تم نے کھایا؟‘‘ میں نے کہا، ’’میں آپ کے پہلے کیسے کھا لیتی؟‘‘ جواب میں انہوں نے عجیب بات کہی، میں خاک نہ سمجھی۔ وہ بولے، ’’اچھا، یہ رنگ ہیں بھئی۔ یہ رنگ!‘‘

رحیمن دین ایمان کی باتوں سے بہت کم واقف ہے۔ آج مجھے اسے ٹوک کر کئی باتیں بتانا پڑیں۔۔۔ باہرکچھ شور سا ہو رہا تھا، وہ جھٹ باورچی خانے سے نکل دروازہ کھول کر جھانکنے لگی۔ میں نے کہا، ’’رحیمن باہر نہ جھانکو، جھانکنے تاکنے کو برا کہا گیا ہے۔‘‘ وہ بولی ’’بیٹا، تم نے تو آنکھیں ہوتے انہیں بند کر رکھا ہے۔ اب کیا میں بھی تمہاری جیسی ہو جاؤں، کچھ نہ دیکھوں۔‘‘ میں نے کہا، ’’بوا میری آنکھیں جوکچھ دیکھنے کے لئے بنی ہیں وہ میں سب دیکھتی ہوں۔ خود بنانے والے نے حکم دیا ہے ان چیزوں کومت دیکھو جو دوسرا چھپانا چاہتا ہے۔ جھانکنے والا کبھی اچھی چیز نہیں دیکھتا۔ نیکی ڈنکے کی چوٹ کی جاتی ہے، بدی ہمیشہ اوٹ میں کی جاتی ہے۔ تم جھانک کر دیکھوگی تو کبھی خوش نہ ہوگی!‘‘

رحیمن میری باتیں توپی گئی اور اس نے اپنی مشک کا دہانہ کھول دیا، ’’بی بی، تم نہ جھانکو نہ تاکو، نہ دیکھو نہ سنو، نہ ٹوکو نہ بولو اور میاں ہیں کہ الٹ کر پوچھتے بھی نہیں!‘‘ مجھے رحیمن کا یہ طعنہ بہت برا لگا۔ مرد اگر ہر وقت بیوی ہی کا منہ دیکھے گا تو وہ دنیا میں کام کر چکا۔ میں ان کو اس طرح کا ’بے کار‘ آدمی نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔ ان کو دس کوس کے حلقے میں مجرموں کی دیکھ بھال کرنا پڑتی، مقدموں، فوجدار یوں، چوریوں، ڈاکوؤں میں تفتیش کرنا پڑتی۔ بارہ گھنٹے، سولہ گھنٹے وردی پہنے، پیٹی کسے ڈیوٹی دینا پڑتی۔ بھلا ایسے میں وہ ہر وقت میرے پاس کہاں بیٹھے رہتے، اس لئے میں نے ذرا تیکھے پن سے کہا، ’’بوا، مجھے معلوم نہیں کہ دوسرے شوہر اپنی بیوی کے ساتھ کس طرح کا سلوک کرتے ہیں۔ میں تو جانتی ہوں کہ جیسا ایک میاں کو ہونا چاہئے ویسے ہی وہ بھی ہیں۔ میں نے اس کے پہلے کوئی بیاہ نہیں کیا کہ مجھے شوہر کے برتاؤ کے متعلق کوئی تجربہ ہو۔‘‘

میں یہ بھول گئی تھی کہ رحیمن اس وقت تک چار نکاح کر چکی تھی اور اب چونڈا پکنے پر بھی پانچویں کی تاک میں تھی۔ میں نے سادہ دلی سے ایک حقیقت بیان کردی تھی، لیکن ایسا معلوم ہوا کہ جیسے رحیمن کے مرچیں سی لگ گئیں۔ وہ تلملاکربولی، ’’اے ہے بھولی بی بی! اتنا توآپ بھی جانتی ہی ہوں گی کہ بیوی کے رہتے سہتے رنڈی نہیں رکھی جاتی، جوآپ کے میاں چھمی جان کو گلے کار ہار بنائے جگہ جگہ لئے پھرتے ہیں۔‘‘ نہ جانے وہ کیا سمجھتی تھی کہ چھمی جان کا نام لے کروہ مجھے آپے سے باہر کر دے گی، یامیں سوکن کے ذکرسے بدحواس ہو جاؤں گی، بے ہوش ہوکر گر پڑوں گی۔ اس لئے کہ اس نے یہ فقرہ کہہ کرمجھے اس طرح گھور کر دیکھا جیسے اس نے بڑا تیر مارا۔ میں سچ کہوں مجھ پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ میں نے کہا، ’’ایک تو سنی سنائی باتوں پر یقین نہ کرنا چاہئے۔ صحیح وہی چیز ہے جو اپنی آنکھ سے دیکھی جائے۔ سو نہ تم نے دیکھا نہ میں۔۔۔‘‘

وہ بھوچکی ہو کر میرا منہ دیکھنے لگی۔ میں نے کہا، ’’بوا اس میں تعجب کی کون سی بات ہے۔ خدا و رسول کا حکم بھی ہے کہ اگر کسی پر تہمت دھری جائے تواس پر یقین نہ کرو۔ پھرمیں کہتی ہوں اگر یہ سچ بھی ہے تو انہوں نے چھمی جان سے نکاح کر لیا ہوگا۔ اختیار ہوتے وہ گناہ کیوں کرنے لگے!‘‘ رحیمن سر ہلاتی باورچی خانہ میں چلی گئی۔ وہاں بیٹھ کر ماتھے پر ہاتھ مار کر بولی، ’’بیوی میں تم سے ہار گئی!‘‘ میں کچھ نہ سمجھی کہ میں نے اس میں ہار جیت والی بات کون سی کہی۔ میں نے وہی کہا جو مذہب کا حکم ہے۔ خیر، مجھے خوشی ہوئی کہ میں نے رحیمن کو آج کچھ دین و ایمان کی باتیں بتا دیں۔ آج عجیب واقعہ ہوا۔ کوئی گیارہ بجے رات کو دو سپاہی انہیں سنبھالے ہوئے ڈیوڑھی پر لائے۔ رحیمن کو آواز دی پردہ کرواؤ، داروغہ جی کو اندر لائیں۔ دل دھڑکنے لگا۔ یا اللہ کیا بات ہوئی جو آج سپاہی ان کو اندرلا رہے ہیں، کہیں چوٹ کھائی، کسی بیماری سے بے ہوش ہیں، کیا بات ہے۔ کس سے پچھواؤں کیا کروں۔ رحیمن ’’ٹانگ پسارے‘‘ خراٹے لے رہی تھی۔ اس کے سر پر کوئی ڈھول بھی پیٹتا تو اس کو خبرنہ ہوتی۔ مجبوراً خود اٹھی، برقعہ اوڑھ کرخود کنڈی کھول دی۔ وہ لوگ جب انہیں پلنگ پر لٹا کر چلے گئے تو میں نے آکر دیکھا۔ سارے کپڑے پہنے بے ہوش سے پڑے ہیں۔ یہ حالت دیکھتے ہی کلیجہ منہ کو آنے لگا۔ میں نے چاہا جھک کر ان کی اچکن کے بٹن کھول کر اسے اتار دوں تو ان کے کھلے منہ سے ایسی بو آئی کہ سر چکرانے لگا۔ میں نے سانس روک کر اچکن اتاری اور جوتا موزہ اتارا، پنڈا چھو کر دیکھا گرم نہ تھا، دل کی حرکت بھی ٹھیک تھی، ہاں نبض البتہ کچھ تیز چل رہی تھی۔

کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ کون سی بیماری ہے۔ پھر خود ہی خیال آیا کہ اگر کوئی خدشے خطرے کی بات ہوتی تو سپاہی ضرور ڈاکٹر حکیم کو بلاتے۔ پھر بھی میں رحل پر سے اپنا قرآن اٹھا لائی اور میں نے اس کے پاک ورقوں کی انہیں ہوا دی۔ اور تحفۃ العوام میں جتنی دعائیں بیماریوں کی لکھی ہیں، وہ سب پڑھ کران پر دم کر ڈالیں۔ لیکن بدبو سے میرا سر پھٹنے لگا۔ میں نے سوچا ان بیچارے کی کیا حالت ہوگی جو اس وقت بیمار بھی ہیں۔ اس لئے میں نے ان کے سر میں بہت سا ریڈی کلون لگا دیا اور ان کے کپڑوں میں، تکیوں میں، چادروں میں پوری شیشی عطر پوت ڈالا۔ رات بھر میں جاگتی رہی۔ آنکھوں سے نیند اڑ گئی تھی۔ نہ جانے کیسے کیسے برے خیالات آتے تھے۔ بار بار دل کو ڈھارس بندھاتی رہی کہ اللہ موجود ہے۔ اس کی مرضی کے بغیر پتہ نہیں ہل سکتا۔ وہ جو کچھ کرے گا بہتر ہی ہوگا۔ صبح کوجب وہ اٹھے تو بڑی دیر تک انگڑائی لے لے کر جسم توڑتے رہے۔ میں نے چاہا ہاتھ پاؤں دبا دوں، کسل دور ہو جائے۔ مگر انہوں نے ہاتھ رکھتے ہی اسے الگ کر کے کہا، ’’کیا درد اور بڑھانا چاہتی ہو؟‘‘ میں بھوچکا سی ہوگئی۔ میری ساس نے ہرشام پنڈلیاں دبواتے وقت کہا، ’’جیتی رہو بیٹی، جہاں تم ہاتھ لگاتی ہو جسم کا درد کافور ہو جاتا ہے۔‘‘ وہ اور جٹھانیاں، نندیں سب ہی تو میرے ہاتھ کی نرمی، سبکی اور صفائی کی تعریفیں کرتی ہیں۔ مگر ان سب کی پسند بیکار۔ جس کی خدمت کے لئے یہ ہاتھ بنے ہیں ان کو تو نہیں بھاتے۔ ان کے جسم کا درد توان سے بڑھتا ہے! مگر قبل اس کے کہ میں کچھ کہہ سکوں وہ اٹھ کر باہرچل دیے۔

جاتے وقت جب وہ رحیمن کے پاس سے گزرے تو اس نے ان کی طرف گھور کر کہا، ’’دولہا میاں شرم تو نہیں آتی!‘‘ اور انہوں نے اس کی بدتمیزی پر نہ اسے ڈانٹا، نہ پھٹکارا بلکہ سر اور نہوڑا لیا۔ میرا جی چاہا میں رحیمن سے پوچھوں کہ یہ کاہے کی شرم دلائی جا رہی ہے۔ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے! خود تو رات بھر پڑی سوتی رہیں۔ ان کے دشمنوں کی کیسی تو حالت تھی، کیسے بے سدھ پڑے رہے، نہ دین کی خبر، نہ دنیا کی۔ اور اس وقت اپنی بے پروائی پر شرمانے کی جگہ ان کو شرم دلانے لگیں۔ لیکن فوراً خیال آیا، ہوگا ان دونوں کے درمیان کوئی معاملہ، نہیں تو وہ یوں چپ سادھے کیوں چلے جاتے۔ اس لئے میں نے زبان روک لی۔ مجھے کسی کے بیچ میں بولنے کا کیا حق تھا؟

آج دیوالی کی رات ہے۔ شام سے چاروں طرف مکانوں پر دیے جل رہے ہیں۔ ہمارے ہاں تھانے پر بھی چراغاں ہے۔ مردانے میں بہت سے لوگ آئے ہیں۔ سنتی ہوں کہ آس پاس کے بڑے بڑے زمیندار بھی اکٹھا ہیں۔ آج بڑے کھیل تماشے ہوں گے۔ مجھے صبح ہی حکم ملا تھا۔ آج دعوت کے کھانے پکیں گے۔ میں نے رحیمن کے ساتھ مل کر کوئی بیسیوں طرح کی چیزیں تیار کر دی ہیں۔ مرغ مسلم، شامی کباب، گولے، سیخ، پلاؤ، زردہ، قورمہ، قلیا، مچھلی کا قورمہ، مچھلی کے کباب، جھلی ہوئی روٹیاں، پوریاں، پراٹھے، باقر خانی، بادام کا حلوہ، پستے کی لوزیں، شاہی ٹکڑے، شکرقند کی کھیر، ترکاریوں میں آلو، گوبھی، بھنڈی، شلجم، ٹماٹر، پلول جو اس دیہات میں مل سکا ہے یا شہر سے آسکا ہے، سب کچھ پکا ڈالا ہے۔ کیا معلوم کہ ان کے دوستوں کو کیا پسند ہے۔ اب فکر ہے تو یہی کہ ان تمام نعمتوں میں ان کوبھی کوئی چیز پسند آتی ہے یا نہیں۔ ابا جان کو میری پکائی ہوئی دال روٹی میں بھی مزہ آتا تھا۔ خدا محنت سوارت کرے اور وہ بھی ایک آدھ چیزیں چٹخارے لے کر کھائیں!

میں یہ لکھ رہی رہی تھی کہ رحیمن چیخی۔ میں دوڑی کہ کیا آفت آئی۔ وہ صحن میں کھڑی کوس رہی تھی، ’’موؤں کا ہیاؤ تو دیکھو، پولس والوں کا تھانہ ہے، سیکڑوں آدمی باہر کا بھی موجود ہے، رات کے ابھی گیارہ بجے ہیں اور ابھی سے لگے ڈھیلے پھینکنے۔‘‘ میں نے کہا، ’’کون ڈھیلا پھینک رہا ہے؟‘‘ وہ بولی، ’’چور!‘‘ مجھے ہنسی آگئی۔ اس بڑھیا کی بھی کیسی مت ماری گئی ہے۔ بھلا ہمارے ہاں تھانے میں چوروں کا کیا گزر؟ مانا کہ میں جس مکان میں رہتی ہوں اس کے پیچھے کھیت ہی کھیت ہیں اور ادھر کی دیوار بھی کچی اور نیچی ہے مگر سب جانتے ہیں کہ یہ مکان تھانے ہی کا حصہ ہے اور وہاں چور پکڑنے والے رہتے ہیں، چوری کرانے والے نہیں رہتے۔ بھلا کیسے کسی چور کی ہمت پڑ سکتی ہے کہ ڈھیلے پھینکے یا ہمارے ہاں سیند لگائے۔ مگر رحیمن کا اصرار ہے کہ ڈھیلے چوروں ہی نے پھینکے ہیں۔

اس نے کہا، ’’ارے بی بی، تم کیا جانو، دیوالی میں چور بھی اپنے اپنے دیوتا جگاتے ہیں۔ اگر آج کی رات وہ چوری کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو پھرسال بھر جس جس کو چاہیں موس لیں، کوئی ان کا بال بانکا نہیں کر سکتا۔‘‘ مجھے یقین نہیں آتا کہ چور بھی دیوی دیوتا کو مانتا ہوگا۔ اگر اسے ان پر یقین ہوتا تو وہ چوری ہی کیوں کرتا۔ ارے جس نے پیدا کیا ہے وہ تو ہر جگہ ہے اور سب کچھ دیکھتا ہے۔ پھر اس سے کوئی چھپ کر کہا ں چوری کرے گا اور چوری کر کے جائے گا کہاں؟ کسی اور نے کوئی جگہ بنا رکھی ہے جہاں اسے پناہ ملے گی؟ میں جب ان باتوں کو سوچتی ہوں تو مجھے ہنسی آ جاتی ہے۔ دنیا کے چونڈے پک گئے مگر اس میں رہنے بسنے والے اب بھی بچے ہی ہیں اور بچوں ہی جیسی حرکتیں کرتے ہیں۔ ان کی بھی عجیب باتیں ہوتی ہیں۔ جیسے میں ان سے بھی اپنے روپے، پیسے گہنے پاتے عزیز رکھتی ہوں۔ جو کچھ ہے وہ انہیں کا تو ہے۔ میرے بکس میں رکھے ہونے سے کیا ہوتا ہے۔ جب میں ان کی، میری جان ان کی، میرا رویاں رویاں ان کا تو پھر میری چیزیں میری کیسے رہ سکتی ہیں۔ سب کچھ ان کا ہے۔ لیکن بعض اوقات وہ ایسا تکلف برتتے ہیں کہ محسوس ہوتا ہے کہ جیسے انہیں شک ہے کہ میں یا میری چیزیں بالکل ان کی نہیں ہیں۔ رات ہی کی باتیں دیکھئے۔ ایک مرتبہ تو سو روپے خود مانگ کر لے گئے، دوسری بار گہنوں کا صندوقچہ مجھ سے چھپا کر جو لے جانے لگے تو ایسے گھبرائے کہ گر پڑے۔ مجھے اب بھی ان کی حرکت پر ہنسی آتی ہے۔

ہوایہ کہ رات کوئی گیارہ بجے جب سب لوگ کھانا وانا کھا چکے تو وہ باہر ہی اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھے رہے۔ میں نے عشا نوافل کے ساتھ پڑھی اور سو رہی۔ کوئی تین بجے ہوں گے کہ وہ دبے پاؤں اندر آئے۔ مگر میں آہٹ سے جاگ گئی۔ ان کے چہرے پرعجیب گھبراہٹ سی تھی۔ میں نے پوچھا کیا بات ہے۔ کوئی جواب نہ دیا بلکہ میرے پلنگ کی پٹی پر آکر بیٹھ گئے۔ میں اٹھنے لگی تو بولے، ’’نہیں، تم لیٹی رہو۔‘‘ پھر خود ہی میرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر بولے، ’’تمہارے پاس کچھ روپے ہیں؟‘‘ میں نے کہا، ’’ہیں کیوں نہیں۔‘‘ بولے، ’’کتنے؟‘‘ میں نے کہا، ’’پورے ایک سو!‘‘ کہنے لگے، ’’کہاں ہیں؟‘‘ میں نے کہا، ’’بکس میں ہیں۔ نکال دوں؟‘‘ بولے، ’’نہیں، کنجی دے دو، میں نکال لوں گا۔‘‘

میں نے سرہانے سے کنجی اٹھا کر دے دی۔ انہوں نے بکس کھولا۔ روپے نکالے اور کنجی لئے ہوئے چلے گئے۔ میں نہیں کہہ سکتی کہ مجھے اس وقت کیسی خوشی ہوئی۔ ابا جان نے جو ہاتھ روک کر خرچ کرنے کا سلیقہ سکھایا تھا اور کچھ نہ کچھ بچا کر رکھ چھوڑنے کی تاکید کی تھی وہ کیسے موقع پرکام آئی۔ میں نے تھانے پر آنے کے بعد گھر کے خرچ سے دس دس پندرہ پندرہ روپیہ مہینہ کر کے جو بچایا تھا، وہ آج ان کے کام آیا۔ ان کو دے کر انہیں خوش کیا، اس سے بہتر میری اور کیا خوش نصیبی ہو سکتی تھی۔ میں نے دل ہی دل میں خدا کا شکر ادا کیا، صبح اٹھتے ہی دو رکعت نماز شکر ادا کرنا طے کیا اور میں سو رہی۔ ایک گھنٹہ بعد پھر آہٹ سے آنکھ کھل گئی۔ مرغ بول رہے تھے، جھٹ پٹے سے پہلے کا دھندلکا تھا، ان کا چہرہ اچھی طرح سے دکھائی نہ دیتا تھا، مجھ پربھی نیندکی کسل تھی، بولا نہ گیا، میں چپکی لیٹی رہی۔ وہ آہستہ آہستہ قدم رکھتے ہوئے اس کمرے کی طرف گئے جہاں گہنوں کا صندوقچہ تھا۔ اور اسے اٹھا کر میرے پلنگ کی طرف پلٹ پلٹ کر دیکھتے ہوئے چلے۔ مجھے بے ساختہ ہنسی آگئی۔ ہنسی کی بات ہی تھی۔ چھ فٹ کا مردوا، جب اپنے ہی گھر میں بلی کی چال چلے اور اپنی ہی چیز لے جانے میں اس طرح کی حرکت کرے کہ معلوم ہوکہ کسی کی چوری کر رہا ہے تو ہنسی آئے یا نہ آئے لیکن میری ہنسی بے موقع ثابت ہوئی۔

وہ ایسا گھبرائے کہ سامنے ہی رکھی ہوئی میز انہیں نہ دکھائی دی۔ وہ اس کے پائے سے الجھے اور صندوقچہ سمیت فرش پرگر پڑے۔ میرا دل دھک سے ہو گیا۔ میری بے ساختہ ہنسی سے ان کو چوٹ لگی۔ لیکن جب تک میں یہ کہتی پلنگ سے اٹھوں اٹھوں کہ کہیں چوٹ تو نہیں آئی، وہ جلدی سے صندوقچہ اٹھا کر باہر بھاگ گئے۔ میں بڑی دیر تک ان کے اس بھاگنے پر ہنستی رہی۔ اس بھاگنے کی کیا ضرورت تھی؟ کیا کوئی شخص اپنی ہی چیز چرا سکتا ہے؟ آج مجھے یقین ہو گیا کہ رحیمن جوان کو طرح طرح سے بدنام کرتی ہے وہ سراسر جھوٹ اورغلط ہے۔ وہ واقعی بڑے سیدھے سادے شریف انسان ہیں، کوئی بدطینت آدمی اپنے کئے پر پچھتاتا نہیں۔ پھر کوئی کتناہی بڑا قصور کرے اگر اس نے توبہ کر لی تو پھرتو وہ اتنا ہی گناہوں سے پاک صاف ہو جاتا ہے جتنا کہ دودھ پیتا گود کا بچہ۔آج ہی کی بات کو لے لیجئے۔ صبح جو وہ گہنوں کا صندوقچہ لے کربھاگے تودس بجے دن تک گھرمیں نہ آئے۔ باہر کی آوازوں سے معلوم ہوتا تھا جیسے رات کے ساتھی ایک ایک کرکے چلے گئے مگر وہ پھر بھی اندر نہ آئے۔ میں نے سمجھا کسی کام میں ہوں گے۔ رحیمن سے کہا، ’’پچھوا لو، ناشتہ باہر ہی بھیج دیا جائے یا اندرآکر کریں گے۔‘‘ مگر وہ تو سیدھی بات کرنا جانتی ہی نہیں۔ اپنے مالک کو بھی ڈانٹنے اور نصیحت کرنے کا اپنے کو حقدار سمجھتی ہے۔ بڑبڑاتی ہوئی اٹھی اورڈیوڑھی پر جا کر اس نے باہر جھانک کر دیکھا۔ شاید وہ اکیلے ہی تھے۔ اس نے وہیں سے کھڑے کھڑے ڈانٹا، ’’واہ دولہ میاں واہ! آپ یہاں اکیلے بیٹھے مکھی مار رہے ہیں اور وہاں بٹیا ناشتہ لئے بیٹھی ہیں۔‘‘

مجھے رحیمن کا یہ اندازہ بہت برا لگا۔ وہ نوکرانی تھی اور وہ اس کے آقا۔ میں بیوی تھی اور وہ میرے سرتاج۔ ہمارا تو کام ہی تھا کہ ہم ان کی خوشی دیکھیں۔ ان کی فرصت کا انتظار کریں۔ یہی ہماری عین راحت ہے، یہی ہماری جنت! مگر قبل اس کے کہ میں رحیمن کو ٹوکوں وہ خود ہی سرجھکائے اندر چلے آئے۔ ان کی چال اتنی سست تھی کہ جان پڑتا تھا کوسوں کا چکر لگا کر آ رہے ہیں۔ میں نے لوٹے، منجن، صابون، بیسن کی طرف اشارہ کیا، ’’ذرا منہ ہاتھ دھو ڈالئے۔ رات بھر جاگے ہیں، کچھ کھا کر آرام کیجئے۔‘‘

مگر وہ کچھ بولے نہیں، مجھے بڑی حسرت سے دیکھا اور اپنے پلنگ پر جا کر گر پڑے۔ میں گھبرا کر جلدی سے پاس پہنچی۔ انہوں نے کروٹ لے کر منہ پھیر لیا۔ میرا کلیجہ منہ کو آ گیا۔ ہو نہ ہو، مجھ سے کسی بات پر ناراض ہیں۔ میں نے ڈرتے ڈرتے پنڈلی دبانے کے لئے ہاتھ بڑھائے۔ انہوں نے ٹانگیں کھینچ لیں اور مجھے زبردستی پلنگ پر بٹھا کر میری گود میں سر رکھ کر بولے، ’’میں تمہارا قصوروار ہوں، میں نے تمہارے سارے گہنے کھو دیے! مجھے سچے دل سے معاف کر دو!‘‘

مجھے ہنسی آگئی۔ میرا مرد بھی کتنا بھولا ہے۔ جیسے وہ گہنے میرے ہی تو تھے! انہوں نے گھبرا کر مجھے دیکھا۔ میں نے زبردستی متین بن کر کہا، ’’وہ گہنے پہنتی میں ضرور تھی، مگر تھے وہ آپ ہی کے! گر آپ نے انہیں کسی کودے دیا توآپ کی خوشی۔ میں آپ کے سرعزیز کی قسم کھاتی ہوں میں اس حالت میں بھی اتنی ہی خوش ہوں جتنی کہ پہلے تھی۔‘‘

میرے اس کہنے پربھی ان کے چہرے پرافسردگی کے آثار موجود پائے بلکہ اب ان میں شرمندگی کی جھلک بھی تھی۔ میں سوچنے لگی کہ میں کون سی بات ایسی کہوں یا کروں جس سے ان کے چہرے پررنج کی جگہ خوشی کی لہر دوڑنے لگی۔ انہوں نے جو معافی کی لفظ استعمال کی تھی، اس نے مجھے ایک ایسی بات یاد دلادی جس کی ہر مرد کو اپنی بیوی کی طرف سے فکر ہوتی ہے اور جن کے متعلق میں پہلے ہی دن سے دل میں ٹھانے بیٹھی تھی کہ میں ان سے ضرور کہوں گی۔ آج تک کہنے کا موقع ہی نہ ملا تھا۔ آج ان کو اس طرح اپنی گود میں سر رکھے دیکھ کر وہ بات یاد آگئی۔ میں نے ان کے سر کے بالوں سے کھیلتے ہوئے کہا، ’’میں نے سچے دل سے اپنا مہرآپ کومعاف کیا۔‘‘ وہ اس طرح اچھل پڑے جیسے میری بات ان کے دل پر گھونسا بن کر لگی۔ وہ ڈبڈبائی آنکھوں سے مجھے دیکھ کر بولے، ’’ذکو، مولانا جو تمہیں کہتے ہیں اس کا مجھے بھی آج یقین ہوگیا۔ تم واقعی جنتی حور ہو!‘‘ اور وہ میری گود میں منہ چھپا کر سسکنے لگے۔ رحیمن کہتی ہے تم نے اپنے میاں پر جادو کر دیا ہے اور چھمی جان نے تم پر۔ پہلے الزام کی وجہ وہ یہ بتاتی ہے کہ دیوالی کے دن والی گفتگو کے بعد ہی چھمی جان نکال دی گئیں۔ باہرکا بیٹھنا، آدھی آدھی رات تک گھومنا ترک کر دیا گیا۔ اب جب بھی سرکاری کاموں سے فرصت ملتی ہے وہ میرے ہی پاس بیٹھے رہتے ہیں اورمجھے اس طرح گھورتے ہیں کہ مجھے ہنسی آجاتی ہے، کبھی میں شرم سے پسینے پسینے ہو جاتی ہوں۔ سچ مچ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ مجھے آنکھوں کے ذریعہ کھا جانا چاہتے ہیں، سینے میں رکھ لینا چاہتے ہیں۔ خود کہتے ہیں میں اندھا تھا اب آنکھیں کھلی ہیں۔ تمہیں نے ان نینوں میں نور ڈالا ہے، تمہیں سے آنکھیں لڑاتا ہوں، تمہارے ہی حسن سے آنکھیں سینکتا ہوں، تمہیں کو دیکھ کر آنکھوں میں روشنی بڑھتی ہے، جی ہی نہیں بھرتا۔۔۔ نہ جانے اور کیا کیا کہتے ہیں۔ مجھ کوان کی چلتی ہوئی زبان روکنے کے لئے ان کے لبوں پر ہاتھ رکھ دینا پڑتا ہے۔ میں بہت خوش ہوں۔ اللہ سب کو ایسا ہی چاہنے والا میاں دے۔

دوسرے الزام کی وجہ رحیمن یہ بتاتی ہے کہ چھمی جان کے جانے کے ساتویں دن میرے ہاں اسقاط ہوا اوراس وقت سے جو طبیعت بگڑی ہے، تو سنبھلنے ہی کو نہیں آئی۔ گاؤں کی چمارن نے خوب خوب پیٹ ملا، شہر سے دائی بھی آئی اور ہفتوں رہ کر اور اپنی ساری ترکیبیں کر کے ہار کر چلی گئی۔ حکیم، وید، ڈاکٹر سب ہی آگئے مگر نہ کھانسی جاتی ہے، نہ حرارت۔ کل ڈاکٹرنی آئی تھی۔ کہتی تھی تم کو نسوانی خرابی سے دق ہو گئی ہے۔ بھوالی جانا پڑے گا۔ میں نے کہہ دیا میں نہ جاؤں گی۔ مجھے یقین ہے موت مقررہ وقت پر آئے گی، نہ ایک لمحہ بعد نہ ایک لمحہ پہلے۔ پھر میں اس کے قدم کیوں چھوڑوں جس کی وجہ سے زندگی جنت ہے۔ مرنے کے بعد وہ ملنے کی نہیں۔ میری جیسی گنہگاروں کا وہاں کیا گزر۔ پھرمیں آدھی چھوڑ کر ساری کے پیچھے کیوں دوڑوں؟ ہاں، ایک سوہان روح ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہ موئی بیماری ایک سے دوسرے کو ہو جاتی ہے۔ میں لاکھ چاہتی ہوں وہ مجھ سے الگ رہیں۔ اپنے کھانے کے برتن، گلاس، کٹورا، چائے کی پیالی، بستر، تولیہ ہرچیز الگ کر لی ہے۔ رحیمن پر تاکید رکھتی ہوں کہ میری استعمال کی ہوئی چیزیں ان کے پاس نہ پہنچنے پائیں۔ لیکن وہ ہیں کہ ہروقت لئے ہی رہتے ہیں۔ میری ہر چیز اس طرح استعمال کرتے ہیں جیسے مجھے کوئی بیماری ہی نہیں۔ اندر آئیں گے تو جھٹ میرے پلنگ پر بیٹھ جائیں گے۔ رات کو سوئیں گے تومجھے گودی میں لے کر سوئیں گے۔ کھانستے کھانستے اٹھ جاؤں گی تو برابر پیٹھ سہلائیں گے، تولیہ سے منہ پونچھتے رہیں گے اور کھانسی رکے گی تو منہ چوم لیں گے۔ بس خدا سے ہر وقت دعا ہے کہ وہ ہرطرح کی بیماری، آزاری سے محفوظ رہیں۔ اے میرے اللہ اپنی گنہگار بندی کی اتنی سی بات سن لے۔ مولانا کے آنسوؤں نے ان کا پڑھنا بند کر دیا۔ اور اب پڑھنا ہی کیا تھا۔ مصنف نے کتاب کی آخری سطریں لکھ دی تھیں۔ اور آج اظہر نے مر کر تمت بالخیر کا فقرہ بھی بڑھا دیا تھا۔۔۔! ساحل پر کھیلنے والے دونوں پیراک آج دریا پار کر چکے تھے! زندگی کی آنکھوں سے گرے ہوئے آنسوؤں کے دو قطرے سر چشمے میں جا کر مل گئے تھے، اور ذکو کے دل کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی دعا کیوں قبول نہ ہوئی، اس کا مولانا کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ اورمولانا کو ایسا محسوس ہوا جیسے ذکو اپنے دل نشیں اندازمیں ان سے کہہ رہی ہے، ’’ابا جان! ابا جان، ملاقات کی بھوکی روح اپنے ہمدم کو پاس بلا لینے میں کامیاب ہوئی۔ ہم جدائی کے زخم کو ناسور میں بدلنانہ چاہتے تھے۔ ہماری جنت ایک دوسرے کے ساتھ ہی رہنے میں ہے۔۔۔ اور ابا جان جسے میں اچھا سمجھتی تھی اسے آپ برا سمجھنے والے کون؟ اور جسے آپ نے گناہ کرتے نہیں دیکھا اس کے گناہ گار ہونے کا آپ کو یقین کیسے؟

اورمولانا اجتبیٰ کوخیال آیا، اظہر کی لاش مسجد کے سامنے اب بھی رکھی ہے اور لوگ منتظر کھڑے ہیں کہ امام آئے تو نماز پڑھی جائے اور وہ لپکتے، ہانپتے، سسکتے گھر سے نکلے اور صفوں کے آگے کھڑے ہو کر انہوں نے ہاتھ اٹھا کر گواہی دی،

’’سب کے بخشنے والے! ہم اس میت کے بارے میں سوائے نیکی اور بھلائی کے کچھ نہیں جانتے۔‘‘

 


                                                   کرشن چند        

کرشن چند اردو فکشن کی وہ قد اور شخصیت ہیں جن کے فن میں  تنوع،رنگارنگی،   شادابی،حقیقت،بشوخی اور طنز سبھی کچھ شامل ہے جبکہ رومانی حقیقت پسندی ان کا طرہء امتیاز ہے۔کرشن چندر نے اپنے افسانوں اور ناولوں کے ذریعےترقی پسند ادب کی قیادت کی اور اسے عالمی سطح تک پہنچا دیا۔انھون نے درجنوں ناول اور 500 سے زائد افسانے لکھے ان کی تصانیف کا ترجمہ دنیا کی مختلف زبانوں میں ہو چکا ہے۔ کرشن چندر کے پاس اک شاعر کا دل اور اک مصور کا قلم ہے،ان کے موضوعات ہندوستانی زندگی اور اس کے مسائل کے گرد گھومتے ہین ۔اردو افسانوں مین ہیئت کے لحاظ سے کرشن چندر نے نت نئے تجربات کئے ہین انھون نے افسانہ اور اسکیچ کے امتزاج سے اردو افسانہ نگاری مین اک نئی طرح ڈالی۔اور اسے اپنے منفرد اسلوب کے ذریعے افسانہ نگاری میں اک نئے اسکول کی داغ بیل ڈالی۔افسانوں اور ناولوں کے علاوہ انھون نے خاکے،انشائے، تبصرے اور رپورتاژ بھی لکھے جن سب پر ان کی مخصوس چھاپ موجود ہے۔

کرشن چندر 23 نومبر 1914 کو راجستھان کے شہر بھرت پور میں پیدا ہوئے جہان انکے والد گوری شنکرچوپڑا میڈیکل افسر ھے۔بعد میں انھون نے اس وقت کی  ریاست پونچھ مین ملازمت کر لی تھی۔کرشن چند کا بچپن وہیں گزارا۔ن کا پہلا ناول "شکست"1943 میں منظر عام پر آیا۔کرشن چندر شروع سے ہی ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہو گئے تھے اور 1938 میں کلکتہ میں منعقد کی گئی کل ہند انجمن ترقی پسند مصنفین کی کانفرنس میں  انھوں نے صوبہ پنجاب کے نمائندہ کی حیثیت سے شرکت کی تھی۔

کرشن چندر 1946 میں  بمبئی چلے گئے جہان ان کو بمبئی ٹاکیز مین ڈیرھ ہزار روپے ماہوار پر ملازمت مل گئی۔اس کمپنی مین ایک سال کام کرنے کے بعد وہ ملازمت ترک کرکے فلمون کے پروڈیوسر اور ڈائرکٹر بن گئے۔ان کی پہلی فلم 'سراے کے باہر" ان کے ایک ریڈیائی ڈرامے پر مبنی تھی۔1966 مین کرشن چندر کو سوویت لینڈ نہرو ایوارڈ سے نوازا گیا جس کے ساتھ پندرہ دن کے لئے سوویت یونین کے دورے کی دعوت بھی تھی۔ کرشن چندر نے سلمی صدیقی کے ساتھ روس کا دورہ کیا جہان ان کا پر جوش خیرمقدم کیا گیا۔ 1969 مین ان کو پدم بھوشن کے خطاب سے نوازا گیا۔31 مئی 2017 کو ان کی یاد مین محکمہ ء ڈاک و تار  نے دس روپے کا ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ان کو ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ کبھی نہیں ملا۔کرشن چندر دل کے مریض تھے۔ان کو 1967،1969 اور 1976  مین دل کے دورے پڑے تھے لیکن بچ گئے تھے۔5 مارچ 1977 کو ان کو ایک بار پھر دل کا دورہ پرا اور وہ 8 مارچ کو چل بسے۔                                                                                                                                                 بحوالہ : ریختہ

 کالو بھنگی

   کرشن چندر

میں نے اس سے پہلےہزار بار کالو بھنگی کے بارے میں لکھنا چاہا ہے لیکن میرا قلم ہر بار یہ سوچ کر رک گیا ہے کہ کالو بھنگی کے متعلق لکھا ہی کیا جا سکتا ہے۔ مختلف زایوں سے میں نے اس کی زندگی کو دیکھنے، پرکھنے، سمجھنے کی کوشش کی ہے، لیکن کہیں وہ ٹیڑھی لکیر دکھائی نہیں دیتی جس سے دلچسپ افسانہ مرتب ہو سکتا ہے۔ دلچسپ ہونا تو درکنار کوئی سیدھا سادا افسانہ، بے کیف وبے رنگ، بے جان مرقع بھی تو نہیں لکھا جا سکتا ہے، کالو بھنگی کے متعلق، پھر نہ جانے کیا بات ہے، ہر افسانے کے شروع میں میرے ذہن میں کالو بھنگی آن کھڑا ہوتا ہے اور مجھ سے مسکرا کر پوچھتا ہے’’چھوٹے صاحب! مجھ پر کہانی نہیں لکھوگے؟ کتنے سال ہو گئے تمہیں لکھتے ہوئے؟‘‘

’’آٹھ سال‘‘

’’کتنی کہانیاں لکھیں تم نے؟‘‘

’’ساٹھ اور دو باسٹھ‘‘

’’مجھ میں کیا برائی ہے چھوٹے صاحب۔ تم میرے متعلق کیوں نہیں لکھتے؟ دیکھو کب سے میں اس کہانی کے انتظار میں کھڑا ہوں۔ تمہارے ذہن کے ایک کونے میں مدت سے ہاتھ باندھے کھڑا ہوں، چھوٹے صاحب، میں توتمہارا پرانا حلال خور ہوں، کالو بھنگی، آخر تم میرے متعلق کیوں نہیں لکھتے؟‘‘

اور میں کچھ جواب نہیں دے سکتا۔ اس قدر سیدھی سپاٹ زندگی رہی ہے کالو بھنگی کی کہ میں کچھ بھی تو نہیں لکھ سکتا اس کے متعلق۔ یہ نہیں کہ میں اس کے بارے میں کچھ لکھنا نہیں چاہتا، دراصل میں کالو بھنگی کے متعلق لکھنے کا ارادہ ایک مدت سے کر رہا ہوں، لیکن کبھی لکھ نہیں سکا، ہزار کوشش کے باوجود نہیں لکھ سکا، اس لئے آج تک کالو بھنگی اپنی پرانی جھاڑو لئے، اپنے بڑے بڑے ننگے گھٹنے لئے، اپنے پھٹے پھٹے کھردرے بدہیبت پاؤں لئے، اپنی سوکھی ٹانگوں پر ابھری دریریں لئے، اپنے کولہوں کی ابھری ابھری ہڈیاں لئے، اپنے بھوکےپیٹ اور اس کی خشک جلد کی سیاہ سلوٹیں لئے، اپنے مرجھائے ہوئے سینے پر گرد آلود بالوں کی جھاڑیاں لئے، اپنے سکڑے سکڑے ہونٹوں، پھیلے پھیلے نتھنوں، جھریوں والے گال اور اپنی آنکھوں کے نیم تاریک گڈھوں کے اوپر ننگی چند یا ابھارے میرے ذہن کے کونے میں کھڑا ہے۔

اب تک ، کئی کردار آئے اور اپنی زندگی بتا کر، اپنی اہمیت جتا کر، اپنی ڈرامائیت ذہن نشین کراکے چلے گئے۔ حسین عورتیں، خوب صورت تخیلی ہیولے، اس کی چار دیواری میں اپنے دئے جلا کر چلے گئے، لیکن کالو بھنگی بدستور اپنی جھاڑو سنبھالے اسی طرح کھڑا ہے۔ اس نے اس گھر کے اندر آنے والے ہر کردار کو دیکھا ہے، اسے روتے ہوئے گڑگڑاتے ہوئے، محبت کرتے ہوئےنفرت کرتے ہوئے، سوتے ہوئے، جاگتے ہوئے، قہقہے لگاتے ہوئے، تقریر کرتے ہوئے، زندگی کے ہر رنگ میں، ہر نہج سے ہر منزل میں دیکھا ہے، بچپن سے بڑھاپے سے موت تک، اس نے ہر اجنبی کو اس گھر کے دروازے کے اندر جھانکتے دیکھا ہے اور اسے اندر آتے ہوئے دیکھ کر اس کے لئے راستہ صاف کردیا ہے۔ وہ خود پرے ہٹ گیا ہے ایک بھنگی کی طرح ہٹ کر کھڑا ہو گیا ہے، حتٰی کہ داستان شروع ہو کر ختم بھی ہو گئی ہے، حتٰی کہ کردار اور تماشائی دونوں رخصت ہوگئے ہیں، لیکن کالو بھنگی اس کے بعد بھی وہیں کھڑا ہے۔ اب صرف ایک قدم اس نے آگے بڑھا لیا ہے، اور ذہن کے مرکز میں آگیا ہے، تاکہ میں اسے اچھی طرح دیکھ لوں۔ اس کی ننگی چندیا چمک رہی ہےاور ہونٹوں پر ایک خاموش سوال ہے، ایک عرصے سے میں اسے دیکھ رہا ہوں، سمجھ میں نہیں آتا کیا لکھوں گا اس کے بارے میں، لیکن آج یہ بھوت ایسے مانے گا نہیں، اسے کئی سالوں تک ٹالاہے، آج اسے بھی الوداع کہہ دیں؟

میں سات برس کا تھا جب میں نے کالو بھنگی کو پہلی بار دیکھا۔ اس کے بیس برس بعد جب وہ مرا، میں نے اسے اسی حالت میں دیکھا۔ کوئی فرق نہ تھا، وہی گھٹنے، وہی پاؤں، وہی رنگت، وہی چہرہ، وہی چندیا، وہی ٹوٹے ہوئے دانت، وہی جھاڑو جو ایسا معلوم ہوتا تھا، ماں کے پیٹ سے اٹھائے چلا آرہا ہے۔ کالو بھنگی کی جھاڑواس کے جسم کا ایک حصہ معلوم ہوتی تھی، وہ ہر روز مریضوں کا بول و براز صاف کرتا تھا۔ ڈسپینسری میں فینائل چھڑکتا تھا، پھر ڈاکٹر صاحب اور کمپونڈر صاحب کے بنگلوں میں صفائی کا کام کرتا تھا، کمپونڈر صاحب کی بکری، اور ڈاکٹر صاحب کی گائے کو چرانے کے لئے جنگل میں لے جاتا، اور دن ڈھلتے ہی انہیں واپس ہسپتال میں لے آتا اور مویشی خانے میں باندھ کر اپنا کھانا تیار کرتا اور اسے کھا کر سوجاتا، بیس سال سے اسے میں یہی کام کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ ہر روز، بلا ناغہ اس عرصے میں وہ کبھی ایک دن کے لئے بھی بیمار نہیں ہوا۔ یہ امر تعجب خیز ضرور تھا، لیکن اتنا بھی نہیں کہ محض اسی کے لئے ایک کہانی لکھی جائے خیر یہ کہانی تو زبردستی لکھوائی جا رہی ہے۔ آٹھ سال سے میں اسے ٹالتا آیا ہوں، لیکن یہ شخص نہیں مانا۔ زبر دستی سے کام لے رہا ہے یہ ظلم مجھ پر بھی ہے اور آپ پر بھی۔ مجھ پر اس لئےکہ مجھے لکھنا پڑ رہا ہے، آپ پر اس لئے کہ آپ کو اسے پڑھنا پڑ رہا ہے۔ حلانکہ اس میں کوئی ایسی بات نہیں جس کے لئے اس کے متعلق اتنی سردردی مول لی جائے، مگر کیا کیا جائے کالو بھنگی خاموش نگاہوں کے اندر اک ایسی کھنچی کھنچی سی ملتحبیانہ کاہش ہے، اک ایسی مجبور بے زباں ہے، اک ایسی محبوس گہرائی ہے کہ مجھے اس کے متعلق لکھنا پڑ رہا ہے اور لکھتے لکھتے یہ بھی سوچتا ہوں کہ اس کی زندگی کے متعلق کیا لکھوں گامیں۔

کوئی پہلو بھی تو ایسا نہیں جو دلچسپ ہو، کوئی کونہ ایسا نہیں جو تاریک ہو، کوئی زاویہ ایسا نہیں جو مقناطیسی کشش کا حامل ہو، ہاں آٹھ سال سے متواتر میرے ذہن میں کھڑا ہے نہ جانے کیوں۔ اس میں اس کی ہٹ دھرمی کے سوا اور تو مجھے کچھ نظر نہیں آتا۔ جب میں نے آنگی کے افسانے میں چاندنی نے کھلیان سجائے تھے اور یرقانیت کے رومانی نظریئے سے دنیا کو دیکھا تھا۔ اس وقت بھی یہ وہیں کھڑا تھا جب میں نے رومانیت سے آگے سفر اختیار کیا اور حسن اور حیوان کی بوقلموں کیفیتیں دیکھتا ہوا ٹوٹے ہوئے تاروں کو چھونے لگا اس وقت بھی یہ وہیں تھا۔ جب میں نے بالکونی سے جھانک کر اَن داتاؤں کی غربت دیکھی، اور پنجاب کی سرزمین پر خون کی ندیاں بہتی دیکھ کر اپنے وحشی ہونے کا علم حاصل کیا اس وقت بھی یہ وہیں میرے ذہن کے دروازے پر کھڑا تھا۔ صُم بُکم۔ مگر اب یہ جائے گا ضرور۔ اب کے اسے جانا ہی پڑے گا، اب میں اس کے بارے میں لکھ رہا ہوں۔ للّلہ اس کی بے کیف، بے رنگ، پھیکی، سیٹھی کہانی بھی سن لیجئے تاکہ یہ یہاں سے دور دفان ہو جائے، اور مجھے اس کے غلیظ قرب سے نجات ملے، اور اگر آج بھی میں نے اس کے بارے میں نہ لکھا، اور آپ نے اسے پڑھا تو یہ آٹھ سال بعد بھی یہیں جما رہےگا اور ممکن ہے زندگی بھر یہیں کھڑا رہے۔

لیکن پریشانی تو یہ ہے کہ اس کے بارے میں کیا لکھا جا سکتا ہے ۔ کالو بھنگی کے ماں باپ بھنگی تھے، اور جہاں تک میرا خیال ہے اس کےسارے آباو اجداد بھنگی تھے اور سینکڑوں برس سے یہیں رہتےچلے آئےتھے۔ اسی طرح، اسی حالت میں، پھر کالو بھنگی نے شادی نہ کی تھی، اس نے کبھی عشق نہ کیا تھا، اس نے کبھی دور دراز کا سفر نہیں کیا تھا، حد تو ہے کہ وہ کبھی اپنے گاؤں سے باہر نہیں گیا تھا، وہ دن بھر اپناکام کرتااور رات کو سو جاتا ۔ اور صبح اٹھ کر پھر اپنے کام میں مصروف ہو جاتا بچپن ہی سے وہ اسی طرح کرتا چلا آیا تھا۔ ہاں کالو بھنگی میں ایک بات ضرور دلچسپ تھی۔ اور وہ یہ کہ اسے اپنی ننگی چندیا پر کسی جانور، مثلاًً گائے یا بھینس کی زبان پھرائے سے بڑا لطف حاصل ہوتا تھا۔ اکثر دوپہر کے وقت میں نے اسے دیکھا ہے کہ نیلے آسمان تلے، سبز گھاس کے مخملیں فرش پر کھلی دھوپ میں وہ ہسپتال کے قریب ایک کھیت کی مینڈھ پر اکڑوں بیٹھا ہے، اور گائے اس کس سر چاٹ رہی ہے۔ بار بار، اور وہ وہیں اپنا سر چٹواتا چٹواتا اونگھ اونگھ کر سو گیا ہے، اسے اس طرح سوتے دیکھ کر میرے دل میں مسرت کا ایک عجیب سا احساس اجاگر ہونے لگتا تھا۔ اور کائنات کے تھکے تھکے غنودگی آمیز آفاقی حسن کا گماں ہونے لگتا تھا۔ میں نے اپنی چھوٹی سی زندگی میں دنیا کی حسین ترین عورتیں، پھولوں کے تازہ ترین غنچے، کائنات کے خوب صورت ترین مناظر دیکھے ہیں لیکن نہ جانے کیوں ایسی معصومیت، ایسا حسن، ایسا سکون کسی منظر میں نہیں دیکھا جتنا اس منظر میں کہ جب میں سات برس کا تھا، اور وہ کھیت بہت بڑا اور وسیع دکھائی دیتا تھا اور آسمان بہت نیلا اور صاف، اور کالو بھنگی کی چندیا شیشے کی طرح چمکتی تھی، اور گائے کی زبان آہستہ آہستہ اس کی چندیا چاٹتی ہوئی۔ اسے گویا سہلاتی ہوئی کُسر کُسر کی خوابیدہ آواز پیدا کرتی جاتی تھی۔ جی چاہتا تھامیں بھی اسی طرح اپنا سر گھٹا کے اس گائے کے نیچے بیٹھ جاؤں اور اونگھتا اونگھتا سو جاؤں۔ایک دفعہ میں نے ایسا کرنے کی کوشش بھی کی تو والد صاحب نے مجھے وہ پیٹا وہ پیٹا، اور مجھ سے زیادہ غریب کالو بھنگی کو وہ پیٹا کہ میں خود ڈر کے مارے چیخنے لگا کہ کالو بھنگی کہیں ان کی ٹھوکروں سے مر نہ جائے۔ لیکن کالو بھنگی کو اتنی مار کھاکے بھی کچھ نہ ہوا، دوسرے روز وہ بدستور جھاڑو دینے کے لئے ہمارے بنگلے میں موجود تھا۔

کالو بھنگی کو جانوروں سے بڑا لگاؤ تھا۔ ہماری گائے تو اس پر جان چھڑکتی تھی اور کمپونڈر صاحب کی بکری بھی، حلانکہ بکری بڑی بے وفا ہوتی ہے، عورت سے بھی بڑھ کے، لیکن کالوبھنگی کی بات اور تھی، ان دونوں جانوروں کو پانی پلائے تو کالو بھنگی، چارہ کھلائے تو کالوبھنگی، جنگل میں چرائے تو کالو بھنگی، اور رات کو مویشی خانے میں باندھے تو کالو بھنگی، وہ اس کے ایک ایک اشارے کو اس طرح سمجھ جاتیں جس طرح کوئی انسان کسی انسان کے بچے کی باتیں سمجھتا ہے میں کئی بار کالو بھنگی کے پیچھے گیا ہوں، جنگل میں راستے میں وہ انھیں بالکل کھلا چھوڑ دیتا ہے، لیکن پھر بھی گائے اور بکری دونوں اس کےساتھ قدم سے قدم ملائے چلے آتے تھے، گویا تین دوست سیر کرنے نکلے ہیں، راستے میں گائے نے سبز گھاس دیکھ کر منہ مارا تو بکری بھی جھاڑی سے پتیاں کھانے لگتی اور کالو بھنگی ہے کہ سنبلو توڑ توڑ کے کھا رہا ہے اور بکری کے منہ میں ڈال رہا ہے اور خود بھی کھا رہا ہے۔ اور آپ باتیں کر رہا ہے اور ان سے بھی برابر باتیں کئے جا رہا ہے اور وہ دونوں جانور بھی کبھی غّرا کر کبھی کان پھٹپھٹا کر، کبھی پاؤں ہلاکر، کبھی دم دبا کر، کبھی ناچ کر، کبھی گا کر، ہر طرح سے اس کی گفتگو میں شریک ہو رہے ہیں۔ اپنی سمجھ میں تو کچھ نہیں آتا تھاکہ یہ لوگ کیا باتیں کرتے تھے پھر چند لمحوں کے بعد کالو بھنگی آگے چلنے لگتا تو گائے بھی چرنا چھو دیتی اور بکری بھی جھاڑی سے پرے ہٹ جاتی اور کالو بھنگی کے ساتھ ساتھ چلنے لگتی۔ آگے کہیں چھوٹی سی ندی آتی یا کوئی ننھا ننھا چشمہ تو کالو بھنگی وہیں بیٹھ جاتا بلکہ لیٹ کر وہیں چشمے کی سطح سے اپنے ہونٹ ملا دیتا اور جانوروں کی طرح پانی پینے لگتا،اور اسی طرح وہ دونوں جانور بھی پانی پینے لگتے، کیونکہ بیچارےانسان تو نہیں تھےکہ اوک سے پی سکتے، اس کے بعد اگر کالو بھنگی سبزے پر لیٹ جاتا تو بکری بھی اس کی ٹانگو ں کے پاس اپنی ٹانگیں سکیڑ کر، دعائیہ انداز میں بیٹھ جاتی اور گائے تو اس انداز سے اس کے قریب ہو بیٹھتی کہ مجھے ایسا معلوم ہوتا کہ وہ کالو بھنگی کی بیوی ہے اور ابھی ابھی کھانا پکاکے فارغ ہوئی ہے اس کی ہر نگاہ میں اور چہرے کے ہر اتار چڑھاؤ میں اک سکون آمیزگرہستی انداز جھلکنے لگتا، اور جب وہ جگالی کرنے لگتی تو مجھے معلوم ہوتا گویا کوئی بڑی سگھر بیوی کروشیا لئے سوزن کاری میں مصروف ہے اور یا کالو بھنگی کا سوئٹر بن رہی ہے۔

اس گائے اور بکری کے علاوہ ایک لنگڑا کتا تھا، جو کالو بھنگی کا بڑا دوست تھا۔ وہ لنگڑا تھا اور اس لئے دوسرے کتوں کے ساتھ زیادہ وہ چل پھر نہ سکتا تھا اور اکثر اپنے لنگڑے ہونے کی وجہ سے دوسرے کتوں سےپٹتا اور بھوکا رہتا اور زخمی رہتا۔ کالو بھنگی اکثر اس کی تیمار داری اور خاطر و تواضع میں لگا رہتا۔ کبھی تو صابن سے اسے نہلاتا، کبھی اس کی چچڑیاں دور کرتا، اس کے زخموں پر مرہم لگاتا، اسے مکّی کی روٹی کا سوکھا ٹکڑا دیتا لیکن یہ کتا بڑا خود غرض جانور تھا۔ دن میں صرف دو مرتبہ کالو بھنگی سے ملتا، دوپہر کو اور شام کو، اور کھانا کھاکے اور زخموں پر مرہم لگواکے پھر گھومنے کے لئےچلا جاتا۔ کالو بھنگی اور اس لنگڑے کتے کی ملاقات بڑی مختصر ہوتی تھی، اور بڑی دلچسپ، مجھے تو وہ کتّا ایک آنکھ نہ بھاتا تھا لیکن کالو بھنگی اسے ہمیشہ بڑے تپاک سے ملتا تھا۔ اس کے علاوہ کالو بھنگی کی جنگل کے ہر جانور چرند اور پرند سے شاناسائی تھی راستے میں اس کے پاؤں میں کوئی کیڑا آجاتا تو وہ اسے اٹھا کر جھاڑی پر رکھ دیتا، کہیں کوئی نیولہ بولنے لگتا تو یہ اس کی بولی میں اس کا جواب دیتا، تیتر، رت گلہ، گٹاری، لال چڑا، سبزہ مخی، ہر پرندے کی زبان وہ جانتا تھا۔ اس لحاظ سے وہ راھُل سنکر تائین سے بھی بڑا پنڈت تھا ۔ کم ازکم میرے جیسے سات برس کے بچے کی نظروں میں تو وہ مجھے اپنے ماں باپ سے بھی اچھا معلوم ہوتا تھا۔ اور پھر وہ مکّی کا بھٹا ایسے مزے کا تیار کرتا تھا، اور آگ پر اسے اس طرح مدھم آنچ میں بھونتا تھا کہ مکّی کا ہر دانہ کندن بن جاتا اور ذائقے میں شہد کا مزا دیتا، اور خوشبو بھی ایسی سوندھی سوندھی ، میٹھی میٹھی، جیسے دھرتی کی سانس۔ نہایت آہستہ آہستہ بڑے سکون سے، بڑی مشاقی سے وہ بھٹّے کو ہر طرف سے دیکھ دیکھ کر اسے بھونتا تھا، جیسے وہ برسوں سے اس بھٹّے کو جانتا تھا، ایک دوست کی طرح وہ بھٹّے سے باتیں کرتا، اتنی نرمی اور مہربانی اور شفقت سے اس سے پیش آتا گویا وہ بھٹا اس کا اپنا رشتے دار یا سگا بھائی تھا۔ اور لوگ بھی بھٹا بھونتے تھے مگر وہ بات کہاں۔ اس قدر کچے بد ذائقہ اور معمولی سے بھٹّے ہوتے تھے، وہ کہ انہیں بس مکّی کا بھٹا ہی کہا جا سکتا ہے لیکن کالو بھنگی کے ہاتھوں میں پہنچ کے وہی بھٹا کچھ کا کچھ ہو جاتا، اور جب وہ آگ پر سینک کے بالکل تیار ہو جاتا تو بالکل اک نئی نویلی دلہن کی طرح عروسی لباس پہنے سنہرا سنہرا نظر آتا۔ میرے خیال میں خود بھٹّے کو یہ اندازہ ہو جاتا تھا کہ کالو اس سے کتنی محبت کرتا ہے ورنہ محبت کے بغیر اس بے جان شے میں اتنی رعنائی کیسے پیدا ہو سکتی تھی۔ مجھے کالو بھنگی کے ہاتھ کے سینکے ہوئے بھٹّے کھانے میں بڑا مزہ آتا تھا، اور میں انھیں بڑے مزے میں چھپ چھپ کے کھاتا تھا۔ ایک دفعہ پکڑا گیا تو بڑی ٹھکائی ہوئی، بری طرح، بچارا کالو بھنگی بھی پٹا مگر دوسرے دن وہ پھر بنگلے پر جھاڑو لئے اسی طرح حاضر تھا۔ اور بس کالو بھنگی کے متعلق اور کوئی دلچسپ بات یاد نہیں آرہی میں بچپن سے جوانی میں آیااور کالو بھنگی اسی طرح رہا میرے لئے اب وہ کم دلچسپ ہو گیا تھا۔ بلکہ یوں کہیئے کہ مجھے اپنی طرف کھینچتا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں نے نیا نیا لکھنا شروع کیا تھا میں مطالعہ کے لئے اس سے سوال پوچھتااور نوٹ لینے کے لئے فاونٹن پن اور پیڈ ساتھ رکھ لیتا۔

’’کالو بھنگی تمہاری زندگی میں کوئی خاص بات ہے؟‘‘

’’کیسی چھوٹے صاحب؟‘‘

’’کوئی خاص بات، عجیب، انوکھی، نئی‘‘

’’نہیں چھوٹے صاحب‘‘ (یہاں تک تو مشاہدہ صفر رہا۔ اب آگے چلئے، ممکن ہے۔۔۔)

’’اچھا تم یہ بتاؤ تم تنخواہ لے کر کیا کرتے ہو؟‘‘ ہم نے دوسرا سوال پوچھا۔

’’تنخواہ لے کر کیا کرتا ہو‘‘ وہ سوچنے لگا۔ ’’آٹھ روپے ملتےہیں مجھے‘‘ پھر وہ انگلیوں پر گننے لگتا’’چار روپے کا آٹا لاتا ہوں، ایک روپے کا نمک ، ایک روپے کا تمباکو، آٹھ آنے کی چائے، چار آنے کا گڑ، چار آنے کا مصالحہ، کتنے روپے ہو گئے چھوٹے صاحب؟‘‘

’’سات روپے‘‘

’’ ہاں سات روپے۔ ہر مہینے ایک روپیہ بنئے کو دیتا ہوں۔ اس سے کپڑے سلوانے کے لئے روپے کرج لیتا ہوں نا، سال میں دو جوڑے تو چاہئیں، کمبل تو میرے پاس ہے، خیر، لیکن دو جوڑے تو چاہیئں، اور چھوٹے صاحب، کہیں بڑے صاحب ایک روپیہ تنخواہ میں بڑھا دیں تو مجا آجائے۔‘‘

’’وہ کیسے‘‘

’’گھی لاؤں گا ایک روپے کا، اور مکّی کے پراٹھے کھاؤں گا کبھی پراٹھے نہیں کھائے مالک، بڑا جی چاہتا ہے؟‘‘

اب بولئے ان آٹھ روپوں پر کوئی کیا افسانہ لکھے۔

پھر جب میری شادی ہو گئی، جب راتیں جوان اور چمکدار ہونے لگتیں اور قرب کے جنگل سے شہد اور کستوری اور جنگلی گلاب کی خوشبوئیں آنے لگتیں اور ہرن چوکڑیاں بھرتے ہوئے دکھائی دیتے اور تارے جھکتے جھکتے کانوں میں سرگوشیاں کرنے لگتے اور کسی کے رسیلے ہونٹ آنے والے بوسوں کا خیال کرکے کاپنے لگتے، اس وقت بھی میں کالو بھنگی کے متعلق کچھ لکھنا چاہتا اور پینسل کاغذ لے کے اس کے پاس جاتا۔

’’کالو بھنگی تم نے بیاہ نہیں کیا‘‘

’’نہیں چھوٹے صاحب‘‘

’’کیوں‘‘

’’اس علاقے میں میں ہی ایک بھنگی ہوں۔ اور دور دور تک کوئی بھنگی نہیں ہے چھوٹے صاحب۔ پھر ہماری شادی کیسے ہو سکتی ہے!‘‘ (لیجئے یہ راستہ بھی بند ہوا)

’’تمہارا جی نہیں چاہتا کالو بھنگی؟‘‘ میں نے دوبارہ کوشش کر کے کچھ کریدنا چاہا۔

’’کیا صاحب؟‘‘

’’عشق کرنے کے لئے جی چاہتا ہے تمہارا؟ شاید کسی سے محبت کی ہوگی تم نے، جبھی تم نے اب تک شادی نہیں کی‘‘

’’عشق کیا ہوتا ہےچھوٹے صاحب؟‘‘

’’عورت سے عشق کرتے ہیں لوگ‘‘

’’عشق کیسے کرتے ہیں صاحب؟ شادی تو ضرور کرتے ہیں سب لوگ، بڑے لوگ عشق بھی کرتے ہونگے چھوٹے صاحب۔ مگر ہم نے نہیں سنا وہ جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں۔ رہی شادی کی بات، وہ میں نے آپ کو بتا دی، شادی کیوں نہیں کی میں نے، کیسے ہوتی شادی میری، آپ بتایئے؟‘‘ (ہم کیا بتائیں خاک)

’’تمہیں افسوس نہیں کالو بھنگی؟‘‘

’’کس بات کا افسوس چھوٹے صاحب؟‘‘

میں نے ہار کر اس کے متعلق لکھنے کا خیال چھوڑ دیا۔

آٹھ سال ہوئےکالو بھنگی مرگیا۔ وہ جو کبھی بیمار نہیں ہوا تھا اچانک ایسا بیمار پڑا کہ پھر کبھی بستر علالت سے نہ اٹھا، اسے ہسپتال میں مریض رکھوا دیا تھا۔ وہ الگ وارڈ میں رہتا تھا ، کمپونڈر دور سے اس کے حلق میں دوا انڈیل دیتا۔ اور ایک چپراسی اس کے لئے کھانا رکھ آتا، وہ اپنے برتن خود صاف کرتا، اپنا بستر خود صاف کرتا، اپنا بول و براز خود صاف کرتا۔ اور جب وہ مر گیا تو اس کی لاش کو پولیس والوں نے ٹھکانے لگا دیا۔ کیونکہ اس کا کوئی وارث نہ تھا، وہ ہمارے ہاں بیس سال سے رہتا تھا، لیکن ہم کوئی اس کےرشتے دار تھوڑی تھے، اس لئےاس کی آخری تنخواہ بھی بحق سرکار ضبط ہوگئی، کیونکہ اس کا وارث نہ تھا۔ اور جب وہ مرا اس روز بھی کوئی خاص بات نہ ہوئی۔ روزکی طرح اس روزبھی ہسپتال کھلا، ڈاکٹر صاحب نےنسخے لکھے، کمپونڈر نے تیار کئے، مریضوں نے دوا لی اور گھر لوٹ گئے۔ پھر روز کی طرح ہسپتال بھی بند ہوا اور گھر آکر ہم سب نے آرام سے کھانا کھایا، ریڈ یو سنا، اور لحاف اوڑھ کر سو گئے۔ صبح اٹھے تو پتہ چلا کہ پولس والوں نے ازراہِ کرم کالو بھنگی کی لاش ٹھکانے لگوادی۔ اس پر ڈاکٹر صاحب کی گائے نے اور کمپونڈر صاحب کی بکری نے دو روز تک کچھ نہ کھایا نہ پیا، اور وارڈ کے باہر کھڑے کھڑے بیکار چلاتی رہیں، جانوروں کی ذات ہے نہ آخر۔

ارے تو پھر جھاڑو دے کر آن پہنچا! آخر کیا چاہتا ہے ؟ بتا دے۔

کالو بھنگی ابھی تک وہیں کھڑا ہے۔

کیوں بھئی، اب تو میں نے سب کچھ لکھ دیا، وہ سب کچھ جو میں تمہاری بابت جانتا ہوں، اب بھی یہیں کھڑے ہو، پریشان کر رہے ہو، لللّٰہ چلے جاؤ، کیا مجھ سے کچھ چھوٹ گیا ہے، کوئی بھول ہو گئی ہے؟ تمہارا نام، کالو بھنگی، کام، بھنگی، اس علاقے سے کبھی باہر نہیں گئے، شادی نہیں کی، عشق نہیں لڑایا، زندگی میں کوئی ہنگامی بات نہیں ہوئی، کوئی اچنبھا، معجزہ نہیں ہوا، جیسے محبوبہ کے ہونٹوں میں ہوتا ہے، اپنے بچے کے پیار میں ہوتا ہے، غالب کے کلام میں ہوتا ہے، کچھ بھی تو نہیں ہوا تمہاری زندگی میں، پھر میں کیا لکھوں، اور کیا لکھوں؟ تمہاری تنخواہ آٹھ روپے، چار روپے کا آٹا، ایک روپے کا نمک، ایک روپے کا تمباکو، آٹھ آنے کی چائے، چار آنے کا گڑ، چار آنے کا مصالحہ، سات روپے، اور ایک روپیہ بنیئے کا، آٹھ روپے ہو گئے، مگر آٹھ روپے میں کہانی نہیں ہوتی، آج کل تو پچیں پچاس سو میں نہیں ہوتی، مگر آٹھ روپے میں تو شرطیہ کوئی کہانی نہیں ہو سکتی، پھر میں کیا لکھ سکتا ہوں تمہارے بارے میں ۔

اب خلجی ہی کو لے لو ہسپتال میں کمپونڈر ہے بتیس روپے تنخواہ پاتا ہے، وراثت سے نچلے متوسط طبقے کے ماں باپ ملے تھے، جنھوں نے مڈل تک پڑھا دیا، پھر خلجی نے کمپونڈری کا امتحان پاس کر لیا، وہ جوان ہے، اس کے چہرے پر رنگت ہے، یہ جوانی یہ رنگت کچھ چاہتی ہے، وہ سفید لٹھے کی شلوار پہن سکتا تھا، قمیص پر کلف لگا سکتا ہے، بالوں میں خوشبودار تیل لگا کر کنگھی کر سکتا ہے، سرکار نے اسے رہنے کے لئے ایک چھوٹا سا بنگلہ نما کوارٹر بھی دے رکھا ہے، ڈاکٹر چوک جائے تو فیس بھی جھاڑلیتا ہے۔ اور خوب صورت مریضاؤں سے عشق بھی کر لیتا ہے، وہ نوراں اور خلجی کا واقعہ تمہیں یاد ہوگا، نوراں بھیتا سے آئی تھی، سولہ سترہ برس کی الھڑ جوانی، چار کوس سے سنیماکے رنگین اشتہار کی طرح نظر آجاتی تھی۔ بڑی بے وقوف تھی وہ اپنے گاؤں کے دو نوجوانوں کا عشق قبول کئے بیٹھی تھی۔

جب نمبردار کا لڑکا سامنے آجاتا تو اس کی ہو جاتی اور جب پٹواری کا لڑکا دکھائی دیتا تو اس کا دل اس کی طرف مائل ہونے لگتا اور وہ کوئی فیصلہ ہی نہیں کرسکتی تھی۔ بالعموم عشق کو لوگ ایک بالکل واضح ، قاطع، یقینی امر سمجھتے ہیں۔ درحالیکہ یہ عشق اکثر بڑا متذ بذب، غیر یقینی، گومگو حالت کا حامل ہوتا ہے، یعنی عشق اس سے بھی ہے اور اس سے بھی ہے، اور پھر شاید کہیں نہیں ہے اور ہے بھی۔ تو اس قدر وقتی، گرگٹی، ہنگامی، کہ ادھر نظر چوکی ادھر عشق غائب، سچائی ضرور ہوتی ہے، لیکن ابدیت مفقود ہوتی ہے۔ اسی لئے تو نوراں کوئی فیصلہ نہیں کر پاتی تھی۔ اس کادل نمبردار کے بیٹے کے لئے بھی دھڑکتا تھا اور پٹواری کے پوت کے لئے بھی، اس کے ہونٹ نمبردار کے بیٹے کے ہونٹوں سے مل جانے کے لئے بیتاب ہو اٹھتے اور پٹواری کےپوت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہی اس کا دل یوں کانپنے لگتا، جیسے چاروں طرف سمندر ہو، چاروں طرف لہریں ہوں، اور ایک اکیلی کشتی ہو اور نازک سی پتوار ہے اور چاروں طرف کوئی نہ ہو، اور کشتی ڈولنے لگے، ہولے ہولے ڈولتی جائے، اور نازک سی پتوار نازک سے ہاتھوں سے چلتی چلتی تھم جائے، اور سانس رکتے رکتے رک سی جائے، اور آنکھیں جھکتی جھکتی جھک سی جائیں، اور زلفیں بکھرتی بکھرتی سی جائیں، اور لہریں گھوم گھوم کر گھومتی ہوئی معلوم دیں، اور بڑے بڑے دائرے پھیلتی پھیلتے جائیں اور پھر چاروں طرف سناٹا پھیل جائے اور دل ایک دم دھک سے رہ جائے۔ اور کوئی ایک اپنی باہوں میں بھینچ لے، ہائے، پٹواری کے بیٹے کو دیکھنے سے ایسی حالت ہوتی تھی نوراں کی، اور وہ کوئی فیصلہ نہ کر سکتی تھی۔

نمبردار کا بیٹا، پٹواری کا بیٹا، پٹواری کا بیٹا، نمبردار کا بیٹا، وہ دونوں کو زبان دے چکی تھی، دونوں سے شادی کرنے کا اقرار کر چکی تھی، دونوں پر مر مٹی تھی، نتیجہ یہ ہوا کہ وہ آپس میں لڑتے لڑتے لہو لہان ہو گئے۔ اور جب جوانی کا بہت سالہو رگوں سے نکل گیا، انھیں اپنی بے وقوفی پر بڑا غصہ آیا، اور پہلے نمبردار کا بیٹا نوراں کے پاس کے پہنچا اور اپنی چھری سے اسے ہلاک کرنا چاہااور نوراں کےبازو پر زخم آگئے۔ اور پھر پٹواری کا پوت آیا اور اس نے اس کی جان لینی چاہی، اور نوراں کے پاؤں پر زخم آگئے مگر وہ بچ گئی، کیونکہ وہ بر وقت ہسپتال لائی گئی تھی اور یہاں اس کا علاج شروع ہو گیا۔

آخر ہسپتال والے بھی انسان ہوتے ہیں، خوب صورتی دلوں پر اثر کرتی ہے، انجکشن کی طرح، تھوڑا بہت اس کا اثرضرور ہوتا ہے،کسی پر کم کسی پر زیادہ، ڈاکٹر صاحب پر کم تھا، کمپونڈر پر زیادہ تھا۔ نوراں کی تیمارداری میں خلجی دل و جان سے لگا رہا۔ نوراں سے پہلے بیگماں، بیگماں سے پہلے ریشماں، اور ریشماں سے پہلے جانکی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا، مگر وہ خلجی کے ناکام معاشقے تھے کیونکہ وہ عورتیں بیاہی ہوئی تھیں، ریشماں کا تو ایک بچہ بھی تھا، بچوں کے علاوہ ماں باپ تھے، اور خاوند تھےاور خاوندوں کی دشمن نگاہیں تھیں۔ جو گویا حلجی کے سینے کے اندر گھس کے اس کی خواہشوں کے آخر ی کونے تک پہنچ جانا چاہتی تھیں، خلجی کیا کر سکتا تھا، مجبور ہوکے رہ جاتا، اس نے بیگماں سے عشق کیا، ریشماں سے اور جانکی سے بھی، وہ ہر روز بیگماں کےبھائی کو مٹھائی کھلاتا، ریشماں کے ننھے بیٹے کو دن بھراٹھائے پھرتا تھا، جانکی کو پھولوں سے بڑی محبت تھی، وہ ہر روز صبح اٹھ کے منھ اندھیرے جنگل کی طرف چلا جاتا اور خوب صورت لالہ کے گچھے توڑ کر اس کے لئے لاتا۔ بہترین دوائیں، بہترین غذائیں، بہترین تیمار داری، لیکن وقت آنے پر جب بیگماں اچھی ہوئی تو روتے روتے اپنے خاوند کے ساتھ چلی گئی، اور جب ریشماں اچھی ہوئی تو اپنے بیٹے کو لے کر چلی گئی۔ اور جانکی اچھی ہوئی تو چلتے وقت اس نے خلجی کے دئے ہوئے پھول اپنے سینے سے لگائے، اس کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں اور پھر اس نے اپنے خاوند کا ہاتھ تھام لیا اور چلتے چلتے گھاٹی کی اوٹ میں غائب ہو گئی۔ گھاٹی کے آخری کنارے پر پہنچ کر اس نے مڑکر خلجی کی طرف دیکھا، اور خلجی منھ پھیر کر وارڈ کی دیوار سے لگ کے رونے لگا۔

ریشماں کے رخصت ہوتے وقت بھی وہ اسی طرح رویاتھا۔ بیگماں کے جاتے وقت بھی اسی شدت، اسی خلوص، اسی اذیت کے کربناک احساس سے مجبور ہوکر رویا تھا، لیکن خلجی کے لئے نہ ریشماں رکی، نہ بیگماں ، نہ جانکی، اور پھر اب کتنے سالوں کے بعد نوراں آئی تھی۔ اور اس کا دل اسی طرح دھڑکنے لگا تھا۔ اور یہ دھڑکن روزبہ روز بڑھتی چلی جاتی تھی، شروع شروع میں تو نوراں کی حالت غیر تھی، اس کا بچنا محال تھامگر خلجی کی انتھک کوششوں سے زخم بھرتے چلے گئے، پیپ کم ہوتی گئی،سڑاند دور ہوتی گئی، سوجن غائب ہوتی گئی، نوراں کی آنکھوں میں چمک اور اس کےسپید چہرے پر صحت کی سرخی آتی گئی اور جس روز خلجی نے اس کے بازؤں کی پٹی اتاری تو نوراں بے اختیار اک اظہارِ تشکر کے ساتھ اس کے سینے سے لپٹ کر رونے لگی اور جب اس کے پاؤں کی پٹی اتری تو اس نے پاؤں میں مہندی رچائی اور ہاتھوں پر اور آنکھوں میں کاجل لگایا اور بالوں کی زلفیں سنواریں تو خلجی کا دل مسرت سے چوکڑیاں بھرنے لگا۔

نوراں خلجی کو دل دے بیٹھی تھی۔ اس نے خلجی سے شادی کا وعدہ کر لیا تھانمبردار کا بیٹا اور پٹواری کا بیٹا دونوں باری باری کئی دفعہ اسے دیکھنے کے لئے، اس سے معافی مانگنے کے لئے ، اس سے شادی کا پیمان کرنے کے لئے ہسپتال آئے تھے، اور نوراں انھیں دیکھ کر ہر بار گھبرا جاتی، کانپنے لگتی، مڑ مڑ کے دیکھنے لگتی، اور اس وقت تک اسے چین نہ آتا جب تلک وہ لوگ چلے نہ جاتے، اور خلجی اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں نہ لے لیتا، اور جب وہ بالکل اچھی ہوگئی تو سارا گاؤں اس کا اپنا گاؤں اسے دیکھنے کے لئے امڈ پڑا۔ گاؤں کی چھوری اچھی ہوگئی تھی، ڈاکٹر صاحب اور کمپونڈر صاحب کی مہربانی سے، اور نوراں کے ماں باپ بچھے جاتے تھے، اور آج تو نمبردار بھی آیا تھا۔ اور پٹواری بھی، اور وہ دونوں خردماغ لڑکے بھی جواب نوراں کو دیکھ دیکھ کر اپنے کئے پر پشیمان ہو رہے تھے اور پھر نوراں نے اپنی ماں کا سہارا لیا، اور کاجل میں تیرتی ہوئی ڈبڈبائی آنکھوں سے خلجی کی طرف دیکھا۔ اور چپ چاپ اپنے گاؤں چلی گئی۔ سارا گاؤں اسے لینے کے لئے آیا تھا اور اس کے قدموں کے پیچھے پیچھے نمبردار کے بیٹے اور پٹواری کے بیٹے کے قدم تھے اور یہ قدم اور دوسرے قدم اور دوسرے قدم اور سیکڑوں قدم جو نوراں کے ساتھ چل رہے تھے، خلجی کے سینے کی گھاٹی پر سے گزرتے گئے، اور پیچھے ایک دھندلی گردوغبار سے ا ٹی رہ گزر چھورڑگئے۔ اور کوئی وارڈ کی دیوار کے ساتھ لگ کے سسکیاں لینے لگا۔

بڑی خوب صورت رومانی زندگی تھی حلجی کی، حلجی جو مڈل پاس تھا، بتیس روپے تنخواہ پاتا تھا۔ پندرہ بیس اوپر سے کما لیتا تھا خلجی جو جوان تھا، جو محبت کرتا تھا، جو اک چھوٹے سے بنگلے میں رہتا تھا، جو اچھے ادیبوں کے افسانے پڑھتا تھا اور عشق میں روتا تھا۔ کس قدر دلچسپ اور رومانی اور پر کیف زندگی تھی حلجی کی۔ لیکن کالو بھنگی کےمتعلق میں کیا کہہ سکتا ہوں، سوائے اس کے کہ؛

۱ ۔کالو بھنگی نے بیگماں کی لہو اور پیپ سے بھری ہوئی پٹیاں دھوئیں۔                 

۲ ۔کالو بھنگی نے بیگماں کا بول و براز صاف کیا۔

۳ ۔کالو بھنگی نے ریشماں کی غلط پیٹیاں صاف کیں۔                                                   

۴ ۔کالو بھنگی ریشماں کے بیٹے کو مکّی کے بھٹّے کھلاتا تھا۔

۵ ۔کالو بھنگی نے جانکی کی گندی پٹیاں دھوئیں، اور ہر روز اس کے کمرے میں فینائل چھڑکتا رہا۔ اور شام سے پہلے وارڈ کی کھڑکی بند کرتا رہا۔ اور آتشدان میں لکڑیاں جلاتا رہا تاکہ جانکی کو سردی نہ لگے۔

۶ ۔کالو بھنگی نوراں کا پاخانہ اٹھاتا رہا۔

تین ماہ دس روز تک کالو بھنگی نے ریشماں کو جاتے ہوئے دیکھا، اس نے بیگماں کو جاتے ہوئے دیکھا، اس نے جانکی کو جاتے ہوئے دیکھا، اس نےنوراں کو جاتے ہوئے دیکھا تھا۔ لیکن وہ کبھی دیوار سے لگ کرنہیں رویا، وہ پہلے تو دو ایک لمحوں کے لئے حیران ہو جاتا، پھر اسی حیرت سے اپنا سر کھجانے لگتا اور جب کوئی بات اس کی سمجھ میں نہ آتی تو وہ ہسپتال کے نیچے کھیتوں میں چلا جاتا اور گائے سے اپنی چندیا چٹوانے لگتا۔ لیکن اس کا ذکر تو میں پہلے کر چکا ہوں پھر اور کیا لکھوں تمہارے بارے میں کالو بھنگی، سب کچھ تو کہہ دیا جو کچھ کہنا تھا، جو کچھ تم رہےہو، تمہاری تنخواہ بتیس روپے ہوتی، تم مڈل پاس یا فیل ہوتے، تمہیں میں کچھ کلچر، تہذیب، کچھ تھوڑی سی انسانی مسرت اور اس مسرت کی بلندی ملی ہوتی تو میں تمہارے متعلق کوئی کہانی لکھتا۔ اب تمہارے آٹھ روپے میں میں کیا کہانی لکھوں۔ ہر بار ان آٹھ روپوں کو الٹ پھیر کے دیکھتا ہوں چار روپے کا آٹا، ایک روپے کا نمک، ایک روپے کا تمباکو، آٹھ آنے کی چائے، چار آنے کا گڑ، چار آنے کا مصالحہ، سات روپے، اور ایک روپیہ بنئے کا۔ آٹھ روپے ہو گئے، کیسے کہانی بنے گی تمہاری کالو بھنگی تمہارا افسانہ مجھ سے نہیں لکھا جائے گا۔ چلے جاؤ دیکھو میں تمہارے سامنے ہاتھ جوڑتا ہوں۔ مگر افسوس ابھی تک یہیں کھڑا ہے۔ اپنے اکھڑے پیلے پیلے گندے دانت نکالے اپنی پھوٹی ہنسی ہنس رہا ہے۔

تو ایسے نہیں جائےگا اچھا بھئی اب میں پھر اپنی یادوں کی راکھ کریدتا ہوں شاید اب تیرے لئے مجھے بتیس روپوں سے نیچے اترنا پڑے گا۔ اور بختیار چپراسی کا آسرا لینا پڑے گا۔ بختیار چپراسی کو پندرہ روپے تنخواہ ملتی ہے اور جب کبھی وہ ڈاکٹر یا کمپونڈر یا ویکسی نیٹر کے ہمراہ دورے پر جاتا ہے تو اسے ڈبل بھتہ اور سفر خرچ بھی ملتا ہے۔ پھر گاؤں میں اس کی اپنی زمین بھی ہے اور ایک چھوٹا سا مکان بھی ہے جس کے تین طرف چیل کے بلند و بالا درخت ہیں اور چوتھی طرف ایک خوب صورت سا باغیچہ ہے، جو اس کی بیوی نے لگایا ہے۔ اس میں اس نے کڑم کا ساگ بویا ہے اور پالک اور مولیاں اور شلغم اور سبز مرچیں اور بڑی الیّں اور کدّو، جوگرمیوں کی دھوپ میں سکھائے جاتے ہیں۔ اور سردیوں میں جب برف پڑتی ہے اور سبزہ مر جاتا ہے تو کھائے جاتے ہیں۔ بختیار کی بیوی یہ سب کچھ جانتی ہے، بختیار کے تین بچے ہیں اس کی بوڑھی ماں ہے جو ہمیشہ اپنی بہو سے جھگڑا کرتی رہتی ہے، ایک دفعہ بختیار کی ماں اپنی بہو سےجھگڑا کرکے گھر سے چلی گئی تھی، اس روز گہرا ابر آسمان پر چھایا ہوا تھا اور پالے کے مارے دانت بج رہے تھے، اور گھر سے بختیار کا بڑا لڑکا ماں کے چلے جانے کی خبرلے کر دوڑتا دوڑتا ہسپتال آیا تھا اور بختیار اسی وقت اپنی ماں کو واپس لانے کے لئے کالو بھنگی کو ساتھ لے کر چل دیا تھا۔ وہ دن بھر جنگل میں اسے ڈھونڈتے رہے۔ وہ اور کالو بھنگی اور بختیار کی بیوی جو اب اپنے کئے پر پشیماں تھی اپنی ساس کو اونچی آوازیں دہے دے کر روتی جاتی تھی، آسمان ابر آلود تھا، اور سردی سے ہاتھ پاؤں شل ہوئے جاتے تھے، اور پاؤں تلے چیل کے خشک جھومر پھسلے جاتے تھے، پھر بارش شروع ہوگئی، پھر کریڑی پڑنے لگی اور پھر چاروں طرف گہری خاموشی چھا گئی، اور جیسے ایک گہری موت نے اپنے دروازے کھول دئے ہوں، اور برف کی پریوں کو قطار، اندر قطار باہر زمین پر بھیج دیا ہو، برف کے گالے زمین پر گرتے گئے، ساکن، خاموش، بے آواز، سپید مخمل، گھاٹیوں، وادیوں، چوٹیوں پر پھیل گئی۔

 

’’اماں‘‘ بختیار کی بیوی زور سے چلائی۔

’’اماں‘‘ بختیار چلایا۔

’’اماں‘‘ کالو بھنگی نے آواز دی۔

جنگل گونج کے خاموش ہوگیا۔

پھر کالو بھنگی نے کہا، ’’میرا خیال ہے وہ نَکرّ گئی ہوگی تمہارے ماموں کے پاس۔‘‘

نَکرّ کے دو کوس ادھر انھیں بختیار کی اماں ملی۔ برف گر رہی تھی اور وہ چلی جارہی تھی، گرتی ، پڑتی، لڑھکتی، تھمتی، ہاپنتی، کانپتی۔ آگے بڑھتی چلی جارہی تھی اور جب بختیار نے اسے پکڑا تو اس نے ایک لمحے کے لئے مزاحمت کی، پھر وہ اس کے بازوؤں میں گر کر بے ہوش ہوگئی اور بختیار کی بیوی نے اسے تھام لیا اور راستے بھر وہ اسے باری باری سے اٹھاتے چلے آئے، بختیار اور کالو بھنگی اور جب وہ لوگ واپس گھر پہونچے تو بالکل اندھیرا ہو چکا تھا اور انھیں واپس گھر آتے دیکھ کر بچے رونے لگے، اور کالو بھنگی ایک طرف ہوکے کھڑا ہوگیا۔ اور اپنا سر کھجانے لگا، اور اِدھر ادھر دیکھنے لگا۔ پھر اس نے آہستہ سےدروازہ کھولا، اور وہاں سے چلا آیا۔ ہاں بختیار کی زندگی میں بھی افسانے ہیں، چھوٹے چھوٹے خوب صورت افسانے، مگر کالو بھنگی میں تمہارے متعلق اور کیا لکھ سکتا ہوں۔ میں ہسپتال کے ہر شخص کے بارے میں کچھ نہ کچھ ضرور لکھ سکتا ہوں، لیکن تمہارے متعلق اتنا کچھ کریدنے کے بعد بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ تمہارا کیا کیا جائے، خدا کے لئے اب تو چلے جاؤ بہت ستا لیا تم نے۔

لیکن مجھے معلوم ہے، یہ نہیں جائےگا۔ اسی طرح میرے ذہن پر سوار رہے گا۔ اور میرے افسانوں میں اپنی غلیظ جھاڑو لئے کھڑا رہے گا، اب میں سمجھتا ہوں تو کیا چاہتا ہے، تو وہ کہانی سننا چاہتا ہے جو ہوئی نہیں لیکن ہو سکتی تھی، میں تیرے پاؤں سے شروع کرتا ہوں سن، تو چاہتا ہے نا کہ کوئی تیرے گندے کھردرے پاؤں دھو ڈالے دھو دھو کر ان سے غلاظت دور کرے ان کی بیائیوں پر مرہم لگائے، تو چاہتا ہے، تیرے گھٹنوں کیابھری ہوئی ہڈیاں گوشت میں چھپ جائیں، تیری رانو میں طاقت اور سختی آجائے، تیرے پیٹ کی مرجھائی ہوئی سلوٹیں غائب ہو جائیں، تیرے کمزور سینے کے گرد و غبار سے اٹے ہوئے بال غائب ہو جائیں۔ تو چاہتا ہے کوئی تیرے ہونٹوں میں رس ڈال دےانھیں گویائی بخش دے۔ تیری آنکھوں میں چمک ڈال دے، تیرے گالوں میں لہو بھر دے، تیری چندیا کو گھنے بالوں کی زلفیں عطا کرے، تجھے اک مصفّا لباس دیدے، تیرے ارد گرد ایک چھوٹی سی چار دیواری کھڑی کردے، حسین مصفّا پاکیزہ۔ اس میں تیری بیوی راج کرے، تیرے بچے قہقہے لگاتے پھریں، جوکچھ تو چاہتا ہے، وہ میں نہیں کر سکتا میں تیرے ٹوٹے پھوٹے دانتوں کی روتی ہوئی ہنسی پہنچانتا ہوں۔ جب تو گائے سے اپنا سر چٹواتا ہے مجھے معلوم ہے تو اپنے تخیل میں اپنی بیوی کودیکھتا ہے جو تیرے بالوں میں اپنی انگلیاں پھیر کر تیرا سر سہلا رہی ہے حتٰی کہ تیری آنکھیں بند ہو جاتی ہیں تیرا سر جھک جاتا ہے اور تو اس کی مہربان آغوش میں سو جاتا ہے اور جب تو آہستہ آہستہ آگ پر میرے لئے مکّی کا بھٹّا سینکتا ہےاور مجھے جس محبت سے اور شفقت سے وہ بھٹّا کھلاتا ہے تو اپنے ذہن کی پنہائی میں اس ننھے بچے کو دیکھ رہا ہوتا ہے جو تیرا بیٹا نہیں ہے جو ابھی نہیں آیا۔ جو ابھی نہیں آیا، جو تیری زندگی میں کبھی نہیں آئے گا، لیکن جس سے تونے ایک شفیق باپ کی طرح پیار کیا ہے، تو نے اسے گودیوں میں کھلایا ہے، اس کا منھ چوما ہے اسے اپنے کندھے پر بٹھا کر، جہاں بھر میں گھمایاہے، دیکھ لو، یہ ہے میرا بیٹا، یہ ہے میرا بیٹا، اور جب یہ سب کچھ تجھے نہیں ملا تو سب سے الگ ہو کر کھڑا ہوگیا اور حیرت سے اپنا سر کھجانے لگا، اور تیری انگلیاں لاشعوری انداز میں گننے لگیں، ایک ، دو، تین، چار، پانچ، چھ، سات، آٹھ۔ آٹھ روپے۔

میں تیری وہ کہانی جانتا ہوں جو ہوسکتی تھی، لیکن ہو نہ سکی کیونکہ میں افسانہ نگار ہوں، میں اک نئی کہانی گھڑ سکتا ہوں، اک نیا انسان نہیں گھڑ سکتا۔ اس کے لئے میں اکیلا کافی نہیں ہوں، اس کے لئے افسانہ نگار اور اس کا پڑھنے والا، اور ڈاکٹر، اور کمپونڈر، اور بختیار اور گاؤں کے پٹواری اور نمبردار اور دوکاندار، اور حاکم اور سیاست داں، اور مزدور اور کھیتوں میں کام کرنے والے کسان ہر شخص کی، لاکھوں، کروڑوں اربوں آدمیوں کی اکھٹی مدد چاہئے۔ میں اکیلا مجبور ہوں، کچھ نہیں کرسکوگا۔ جب تک ہم سب مل کر ایک دوسرے کی مدد نہ کرینگے، یہ کام نہ ہوگا، اور تو اسی طرح اپنی جھاڑوں لئے میرے ذہن کے دروازے پر کھڑا رہے گا، اور میں کوئی عظیم افسانہ نہ لکھ سکوگا۔ جس میں انسانی روح کی مکمل مسرت جھلک اٹھے، اور کوئی معمار عظیم عمارت نہ تعمیر کرسکے گا، جس میں ہماری قوم کی عظمت اپنی بلندیاں چھولے، اور کوئی ایسا گیت نہ گا سکے گاجس کی پہنائیوں میں کائنات کی آفاقیت چھلک چھلک جائے۔ یہ بھر پور زندگی ممکن نہیں جب تک تو جھاڑو لئے یہاں کھڑاہے۔ اچھا ہے کھڑا رہ۔ پھر شاید وہ دن کبھی آجائے کہ کوئی تجھ سے تیری جھاڑو چھڑا دے، اور تیرے ہاتھوں کو نرمی سے تھام کر تجھے قوس قزح کے اس پار لے جائے۔

راجندر سنگھ بیدی

راجندر سنگھ بیدی جدید اردو فکشن کا وہ نام ہیں جس پر اردو افسانہ بجا طور پر ناز کرتا ہے۔ وہ یقینا منفرد بےمثال اور لاجواب ہیں۔جدید اردو افسانے کے تین دیگر ستونوں،سعادت حسن منٹو،عصمت چغتائی اور کرشن چند کے مقابلہ میں ان کی تحریریں زیادہ گمبھیر،زیادہ تہہ دار اور زیادہ پُرمعنی ہیں۔بیدی کے افسانے انسانی شخصیت کے لطیف ترین عکس ہیں۔ان کے آئینہ خانے میں انسان اپنے سچّے روپ میں نظر آتا ہے اور بیدی اس کی تصویر کشی اس طرح کرتے ہیں کہ اس کی شخصیت کے لطیف گوشے ہی سامنے نہیں آ جاتے بلکہ فرد اور سماج کے پیچیدہ رشتے اور انسان کی شخصیت کے پُر اسرار تانے بانے  بھی روشن ہو جاتے ہیں اور اس طرح زندگی کی زیادہ بامعنی ،زیادہ بلیغ اور زیادہ خیال انگیز تصویر سامنے آ تی ہے جس میں احساس کا گداز بھی شامل ہوتا ہے،اور فکر کا تجسس اور تجربہ بھی۔ان کے فن میں استعارہ اور اساطیری تصورات کی بنیادی اہمیت ہے اور وہ اس طرح  کہ دیو مالائی ڈھانچہ ان کے افسانوں کے پلاٹ کی معنوی فضا کے ساتھ از خود تعمیر ہوتا چلا جاتا ہے۔بیدی اپنے کرداروں کی نفسیات کے ذریعہ زندگی کے بنیادی رازوں تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

بیدی یکم ستمبر 1915 کو لاہور میں پید اہوے۔ ان کے والد ہیرا سنگھ لاہور کے صدر بازار ڈاکخانہ کے پوسٹ ماسٹر تھے۔ بیدی کی ابتدائی تعلیم لاہور چھاونی کے اسکول میں ہوئی جہاں سے انھوں نے چوتھی جماعت پاس کی اس کے بعد ان کا داخلہ ایس بی بی ایس خالصہ اسکول میں کرا دیا گیا ،انھوں نے وہاں سے1931 میں فرسٹ ڈویزن میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ میٹرک کے بعد وہ ڈی اے وی کالج لاہور گئے لیکن انٹرمیڈئیٹ تک ہی پہنچے تھے کہ والدہ کا،جو ٹی بی کی مریضہ تھیں، انتقال ہو گیا۔ والدہ کے انقال کے بعد ان کے والد نے ملازمت سے استعفے دے دیا اور1933 میں بیدی کو کالج سے اٹھا کر ڈاک خانے میں بھرتی کرا دیا۔ ان کی تنخواہ 46 روپے ماہوار تھی۔ 1934ء میں صرف 19 سال کی عمر میں ان کی شادی کر دی گئی۔ خالصہ کالج کے زمانہ سے ہی انھوں نے لکھنا شروع کر دیا تھا۔ ڈاکخنہ کی نوکری کے زمانہ میں وہ ریڈیو کے لئے بھی لکھتے تھے۔ 1946 میں ان کی کہانیوں کا پہلا مجموعہ":دانہ و دام" شائع ہوا اور ان کی اہمیت کو ادبی حلقوں میں تسلیم کیا جانے لگا۔ان کی کہانیوں کا دوسرا مجموعہ "گرہن" 1942 میں ہی شائع ہو چکا تھا 1949ءمیں انھوں نے اپنا تیسرا مجموعہ کوکھ جلی" شائع کرایا۔

بیدی بطور اسٹوری رایئٹر ڈ،ائلاگ رائٹر،اسکرین رائٹر ڈائرکٹر یا پپروڈیوسر جن فلموں کا حصہ رہے ان میں بڑی بہن ۔داغ ۔مرزا غالب ۔ دیو دا س۔گرم کوٹ ۔ملاپ۔ بسنت بہار ۔مسافر ۔ مدھومتی ۔ میم دیدی ۔ آس کا پنچھی۔بمبئی کا بابو۔ انورادھا۔  رنگولی ۔۔ میرے صنم ۔ بہاروں کے سپنے ۔ انوپما ۔ میرے ہمدم میرے دوست ۔ ستیہ کام ۔ دستک ۔ گرہن ۔ ابھیمان ۔پھاگن ۔نواب صاحب ۔ مٹھی بھر چاول ۔آنکھن دیکھی ۔ اور ایک چادر میلی سی  شامل ہیں۔1956 میں انھیں گرم کوٹ کے لئے بہترین کہانی کا فلم فیر ایوارڈ   ملا۔دوسرا فلم فیر ایوارڈ ان کو مدھومتی کے بہترین مکالموں کے کئے اور پھر 1971 میں ستیہ کام کے مکالموں کے لئے دیا گیا۔ 1906 میں نینا گپتا نے ان کی کہانی "لاجونتی" پر ٹیلی فلم بنائی۔1965 میں ان کو اک چادر میلی سی کے کئے ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ دیا گیا۔اس کے بعد 1978 میں ان کو ڈرامہ کے لئے غالب ایوارڈ سے نوازا گیا۔ان کی یاد میں حکومت پنجاب نے اردو ادب کا راجندر سنگھ بیدی ایوارڈ شروع کیا ہے۔بیدی کی زندگی کے آخری ایام بڑی کسمپرسی اور بے بسی میں گزرے۔1982 میں ان پر فالج کا حملہ ھوا اور پھر کینسر ہو گیا۔1984 میں ان کا انتقال ہو گیا۔                                                                                                                  حوالہ: ریختہ

بھولا

راجندر سنگھ بیدی

میں نے مایا کو پتھر کے ایک کوزے میں مکھّن رکھتے دیکھا۔ چھاچھ کی کھٹاس کو دور کرنے کے لیے مایا نے کوزے میں پڑے ہوئے مکھن کو کنویں کے صاف پانی سے کئی بار دھویا۔ اس طرح مکھن کے جمع کرنے کی کوئی خاص وجہ تھی۔ ایسی بات عموماً مایا کے کسی عزیز کی آمد کا پتا دیتی تھی۔ ہاں! اب مجھے یاد آیا۔ دو دن کے بعد مایا کا بھائی اپنی بیوہ بہن سے راکھی بندھوانے کے لیے آنے والا تھا۔ یوں تو اکثر بہنیں بھائیوں کے ہاں جا کر انھیں راکھی باندھتی ہیں مگر مایا کا بھائی اپنی بہن اور بھانجے سے ملنے کے لیے خود ہی آ جایا کرتا تھا اور راکھی بندھوا لیا کرتا تھا۔ راکھی بندھوا کروہ اپنی بیوہ بہن کو یہی یقین دلاتا تھا کہ اگرچہ اس کا سہاگ لٹ گیا ہے مگر جب تک اس کا بھائی زندہ ہے، اس کی رکھشا، اس کی حفاظت کی ذمے داری اپنے کندھوں پر لیتا ہے۔ ننھے بھولے نے میرے اس خیال کی تصدیق کر دی۔ گنّا چوستے ہوئے اس نے کہا، ’’بابا ! پرسوں ماموں جی آئیں گے نا۔۔۔؟‘‘

میں نے اپنے پوتے کو پیار سے گود میں اٹھا لیا۔ بھولے کا جسم بہت نرم و نازک تھا اور اس کی آواز بہت سُریلی تھی۔ جیسے کنول کی پتیوں کی نزاکت اور سفیدی، گلاب کی سرخی اور بلبل کی خوش الحانی کو اکھٹا کر دیا ہو۔ اگرچہ بھولا میری لمبی اور گھنی داڑھی سے گھبرا کر مجھے اپنا منھ چومنے کی اجازت نہ دیتا تھا تاہم میں نے زبردستی اس کے سرخ گالوں پر پیار کی مہر ثبت کر دی۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا، ’’بھولے تیرے ماموں جی تیری ماتا جی کے کیا ہوتے ہیں ؟‘‘بھولے نے کچھ وقت کے بعد جواب دیا ’’ماموں جی!‘‘

مایا نے استوتر پڑھنا چھوڑ دیا اور ہنسنے لگی۔ میں اپنی بہو کے اس طرح کھل کر ہنسنے پر دل ہی دل میں بہت خوش ہوا۔ مایا بیوہ تھی اور سماج اسے اچھے کپڑے پہننے اور خوشی کی بات میں حصہ لینے سے بھی روکتا تھا۔ میں نے بار ہا مایا کو اچھے کپڑے پہننے ہنسنے کھیلنے کی تلقین کرتے ہوئے سماج کی پروانہ کرنے کے لیے کہا تھا۔ مگر مایا نے خو د اپنے آپ کو سماج کے روح فرسا احکام کے تابع کر لیا تھا۔ اس نے اپنے تمام اچھے کپڑے اور زیورات کی پٹاری ایک صندوق میں مقفّل کر کے چابی ایک جوہڑ میں پھینک دی تھی۔ مایا نے ہنستے ہوئے اپنا پاٹھ جاری رکھا۔

ہری ہری ہری ہر، ہری ہر، ہری

میر ی بار دیر کیوں اتنی کری

پھر اس نے اپنے لال کو پیار سے بلاتے ہوئے کہ ’’بھولے!۔۔ تم ننھی کے کیا ہوتے ہو ؟‘‘

’’ بھائی!‘‘ بھولے نے جواب دیا۔

’’ اسی طرح تیرے ماموں جی میرے بھائی ہیں۔‘‘

بھولا یہ بات نہ سمجھ سکا کہ ایک ہی شخص کس طرح ایک ہی وقت میں کسی کا بھائی اور کسی کا ماموں ہو سکتا ہے۔ وہ تو اب تک یہی سمجھتا آیا تھا کہ اس کے ماموں جان اس کے بابا جی کے بھی ماموں جی ہیں۔ بھولے نے اس مخمصے میں پڑنے کی کوشش نہ کی اور اچک کر ماں کی گود میں جا بیٹھا اور اپنی ماں سے گیتا سننے کے لیے اصرار کرنے لگا۔ وہ گیتا محض اس وجہ سے سنتا تھا کہ وہ کہانیوں کا شوقین تھا اور گیتا کے ادھیائے کے آخر میں مہاتم سن کر وہ بہت خوش ہوتا اور پھر جوہڑ کے کنارے پھیلی ہوئی دوپ کی مخملی تلواروں میں بیٹھ کر گھنٹوں ان مہاتموں پر غور کیا کرتا۔

مجھے دوپہر کو اپنے گھر سے چھے میل دور اپنے مزارعوں کو ہل پہنچانے تھے۔ بوڑھا جسم، اس پر مصیبتوں کا مارا ہوا، جوانی کے عالم میں تین تین من بوجھ اٹھا کر دوڑا کیا۔ مگر اب بیس سیر بوجھ کے نیچے گردن پچکنے لگتی ہے۔ بیٹے کی موت نے امید کو یاس میں تبدیل کر کے کمر تو ڑ دی تھی۔ اب میں بھولے کے سہارے ہی جیتا تھا ورنہ دراصل تو مر چکا تھا۔ رات کو میں تکان کی وجہ سے بستر پر لیٹتے ہی اونگھنے لگا۔ ذرا توقف کے بعد مایا نے مجھے دودھ پینے کے لیے آواز دی۔ میں اپنی بہو کی سعادت مندی پر دل ہی دل میں بہت خوش ہوا اور اسے سنکڑوں دعائیں دیتے ہوئے میں نے کہا، ’’مجھ بوڑھے کی اتنی پروانہ کیا کرو بٹیا۔‘‘ بھولا ابھی تک نہ سویا تھا اس نے ایک چھلانگ لگائی اور میرے پیٹ پر چڑھ گیا۔ بولا، ’’بابا جی! آپ آج کہانی نہیں سنائیں گے کیا ؟‘‘ ’’نہیں بیٹا! میں نے آسمان پر نکلے ہوئے ستاروں کو دیکھتے ہوئے کہا، میں آج بہت تھک گیا ہوں۔ کل دوپہر کو تمھیں سناؤں گا۔‘‘ بھولے نے روٹھتے ہوئے جواب دیا، ’’میں تمھارا بھولا نہیں بابا۔ میں ماتا جی کا بھولا ہوں۔‘‘

بھولا بھی جانتا تھا کہ میں نے اس کی ایسی بات کبھی برداشت نہیں کی۔ میں ہمیشہ اس سے یہی سننے کا عادی تھا کہ ’’بھولا بابا جی کاہے اور ماتا جی کا نہیں‘‘ مگر اس دن ہلوں کا کندھے پر اٹھا کر چھے میل تک لے جانے اور پیدل ہی واپس آنے کی وجہ سے میں بہت تھک گیا تھا۔ شاید میں اتنا نہ تھکتا، اگر میرا نیا جوتا ایڑی کو نہ دباتا اور اس وجہ سے میرے پاؤں میں ٹیسیں نہ اٹھتیں۔ اس غیر معمولی تھکن کے باعث میں نے بھولے کی وہ بات بھی برداشت کی۔ میں آسمان پر ستاروں کو دیکھنے لگا۔ آسمان کے جنوبی گوشے میں ایک ستارہ مشعل کی طرح روشن تھا۔ غور سے دیکھنے پر وہ مدھم سا ہونے لگا۔ میں اونگھتے اونگھتے سوگیا۔

صبح ہوتے ہی میرے دل میں خیال آیا کہ بھولا سوچتا ہو گا کہ کل رات بابا نے میری بات کس طرح برداشت کی؟ میں اس خیال سے لرز گیا کہ بھولے کے دل میں کہیں یہ خیال نہ آیا ہو کہ اب بابا میری پروا نہیں کرتے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ صبح کے وقت اس نے میری گود میں آنے سے انکار کر دیا اور بولا، ’’ میں نہیں آؤں گا۔تیرے پاس بابا ؟‘‘

’’ کیوں بھولے ؟‘‘

’’ بھولا بابا جی کا نہیں۔ بھولا ماتا جی کا ہے۔‘‘

میں نے بھولے کو مٹھائی کے لالچ سے منا لیا اور چند ہی لمحات میں بھولا بابا جی کا بن گیا اور میری گود میں آ گیا اور اپنی ننھی ٹانگوں کے گرد میرے جسم سے لپٹے ہوئے کمبل کو لپیٹنے لگا۔ مایا ہری ہر استو تر پڑھ رہی تھی۔ پھر اس نے پاؤ بھر مکھّن نکالا اور اسے کوزے میں ڈال کر کنویں کے صاف پانی سے چھاچھ کی کھٹاس کو دھو ڈالا۔ اب مایا نے اپنے بھائی کے لیے سیر کے قریب مکھّن تیار کر لیا۔ میں بہن بھائی کے اس پیار کے جذبے پر دل ہی دل میں خوش ہو رہا تھا۔ اتنا خوش کہ میری آنکھوں میں آنسو ٹپک پڑے۔ میں نے دل میں کہا: عورت کا دل محبت کا ایک سمندر ہوتا ہے کہ ماں، باپ، بھائی بہن، خاوند بچے سب سے وہ بہت ہی پیار کرتی ہے اور اتنا کرنے پر بھی وہ ختم نہیں ہوتا۔ ایک دل کے ہوتے ہوئے بھی وہ سب کو اپنا دل دے دیتی ہے۔ بھولے نے دونوں ہاتھ میرے گالوں کی جھریوں پر رکھے۔ مایا کی طرف سے چہرے کو ہٹا کر اپنی طرف کر لیا اور بولا، ’’ بابا تمھیں اپنا وعدہ یاد ہے نا۔۔؟‘‘

’’ کس بات کا۔۔۔بیٹا ؟‘‘

’’ تمھیں آج دوپہر کو مجھے کہانی سنانی ہے۔‘‘

’’ ہاں بیٹا۔۔!‘‘ میں نے اس کا منھ چومتے ہوئے کہا۔

یہ تو بھولا ہی جانتا ہو گا کہ اس نے دوپہر کے آنے کا کتنا انتظار کیا۔ بھولے کو اس بات کا علم تھا کہ بابا جی کے کہانی سنانے کا وقت وہی ہوتا ہے جب وہ کھانا کھا کر اس پلنگ پر جا لیٹتے ہیں جس پر وہ بابا جی یا ماتا جی کی مدد کے بغیر نہیں چڑھ سکتا تھا۔ چنانچہ وقت سے آدھ گھنٹہ پیشتر ہی اس نے کھانا نکلوانے پر اصرار شروع کر دیا۔ میرے کھانے کے لیے نہیں بلکہ اپنی کہانی سننے کے چاؤ سے۔

میں نے معمول سے آدھ گھنٹہ پہلے کھانا کھایا۔ ابھی آخری نوالہ میں نے توڑا ہی تھا کہ پٹواری نے دروازے پر دستک دی۔ اس کے ہاتھ میں ایک ہلکی سے جریب تھی۔ اس نے کہا کہ خانقاہ والے کنویں پر آپ کی زمین کو ناپنے کے لیے مجھے آج ہی فرصت مل سکتی ہے، پھر نہیں۔

دالان کی طرف نظر دوڑائی تو میں نے دیکھا۔ بھولا چار پائی کے چاروں طرف گھوم کر بستر بچھا رہا تھا۔ بستر بچھانے کے بعد اس نے ایک بڑا سا تکیہ بھی ایک طرف رکھ دیا اور خود پائینتی میں پاؤں اڑا کر چار پائی پر چڑھنے کی کوشش کرنے لگا۔ اگرچہ بھولے کا مجھے اصرار سے جلد روٹی کھلانا اور بستر بچھا کر میری تواضع کرنا اپنی خود غرضی پر مبنی تھا تاہم میرے خیال میں آیا۔ ’’آخر مایا ہی کا بیٹا ہے نہ۔۔۔ ایشور اس کی عمر دراز کرے۔‘‘

میں نے پٹواری سے کہا، تم خانقاہ والے کنویں کو چلو اور میں تمھارے پیچھے پیچھے آ جاؤں گا۔ جب بھولے نے دیکھا کہ میں باہر جانے کے لیے تیار ہوں تو اس کا چہرہ اس طرح مدھم پڑ گیا جیسے گزشتہ شب کو آسمان کے ایک کونے میں مشعل کی مانند روشن ستارہ مسلسل دیکھتے رہنے کی وجہ سے ماند پڑ گیا تھا۔ مایا نے کہا ، ’’ بابا جی، اتنی بھی کیا جلدی ہے۔؟ خانقاہ والا کنواں کہیں بھاگا تو نہیں جاتا۔۔ آپ کم سے کم آرام تو کر لیں۔‘‘

’’اوہوں۔‘‘ میں نے زیر لب کہا ’’پٹواری چلا گیا تو پھر یہ کام ایک ماہ سے ادھر نہ ہو سکے گا۔‘‘ مایا خاموش ہو گئی۔بھولا منھ بسورنے لگا۔ اس کی آنکھیں نمناک ہو گئیں۔ اس نے کہا، ’’بابا میری کہانی۔۔۔ میر ی کہانی۔۔۔‘‘

’’ بھولے۔۔۔ میرے بچے ؟ میں نے بھولے کو ٹالتے ہوئے کہا۔‘‘ دن کو کہانی سنانے سے مسافر راستہ بھول جاتے ہیں۔‘‘

’’راستہ بھول جاتے ہیں!‘‘ بھولے نے سوچتے ہوئے کہا۔ ’’بابا تم جھوٹ بولتے ہو۔۔۔ میں بابا جی کا بھولا نہیں بنتا۔‘‘

اب جب کہ میں تھکا ہوا بھی نہیں تھا اور پندرہ بیس منٹ آرام کے لیے نکال سکتا تھا، بھلا بھولے کی اس بات کو آسانی سے کس طرح برداشت کر لیتا۔ میں نے اپنے شانے سے چادر اتار کر چار پائی کی پائینتی پر رکھی اور اپنی دبی ہوئی ایڑی کو جوتی کی قید با مشقت سے نجات دلاتے ہوئے پلنگ پر لیٹ گیا۔ بھولا پھر اپنے بابا کا بن گیا۔ لیٹتے ہوئے میں نے بھولے سے کہا: ’’اب کوئی مسافر راستہ کھو بیٹھےتو اس کے تم ذمے دار ہو‘‘

اور میں نے بھولے کو دوپہر کے وقت سات شہزادوں اور سات شہزادیوں کی ایک لمبی کہانی سنائی۔ کہانی میں ان کی باہمی شادی کو میں نے معمول سے زیادہ دلکش انداز میں بیان کیا۔ بھولا ہمیشہ اس کہانی کو پسند کرتا تھا جس کے آخر میں شہزادہ اور شہزادی کی شادی ہو جائے مگر میں نے اس روز بھولے کے منھ پر خوشی کی کوئی علامت نہ دیکھی بلکہ وہ ایک افسردہ سا منھ بنائے خفیف طور پر کانپتا رہا۔

اس خیال سے کہ پٹواری خانقاہ والے کنویں پر انتظار کرتے کرتے تھک کر اپنی ہلکی ہلکی جھنکار پیدا کرنے والی جریب جیب میں ڈال کر کہیں اپنے گاؤں کا رخ نہ کر لے۔ میں جلدی جلدی مگر اپنے نئے جوتے میں دبتی ہوئی ایڑی کی وجہ سے لنگڑاتا ہوا بھاگا۔ گو مایا نے جوتی کو سرسوں کا تیل لگا دیا تھا۔ تاہم وہ نرم مطلق نہ ہوئی تھی۔ شام کو جب میں واپس آیا تو میں نے بھولے کو خوشی سے دالان سے صحن میں اور صحن سے دالان میں کودتے پھاندتے دیکھا۔ وہ لکڑی کے ایک ڈنڈے کو گھوڑا بنا کر اسے بھگا رہا تھا اور کہہ رہا تھا، ’’چل ماموں جی کے دیس۔۔۔رے گھوڑے، ماموں جی کے دیس۔ ماموں جی کے دیس، ہاں ہاں، ماموں جی کے دیس۔ گھوڑے۔۔۔‘‘ جوں ہی میں نے دہلیز میں قدم رکھا۔ بھولے نے اپنا گانا ختم کر دیا اور بولا، ’’بابا۔۔۔آج ماموں جی آئیں گے نا۔۔؟‘‘

’’ پھر کیا ہو گا بھولے۔۔؟‘‘ میں نے پوچھا۔ ’’ماموں جی اگن بوٹ لائیں گے۔ ماموں جی کلّو ( کتا ) لائیں گے۔ ماموں جی کے سر پر مکّی کے بھٹوں کا ڈھیر ہو گا نا بابا۔ ہمارے یہاں تو مکّی ہوتی ہی نہیں بابا۔ اور تو اور ایسی مٹھائی لائیں گے جو آپ نے خواب میں بھی نہ دیکھی ہو گی۔ ‘‘

میں حیران تھا اور سوچ رہا تھا کہ کس خوبی سے ’’خواب میں بھی نہ دیکھی ہو گی‘‘ کے الفاظ سات شہزادوں اور سات شہزادیوں والی کہانی کے بیان میں سے اس نے یاد رکھے تھے۔ ’’جیتا رہے‘‘ میں نے دعا دیتے ہوئے کہا ’’بہت ذہین لڑکا ہو گا اور ہمارے نام کو روشن کرے گا۔‘‘

شام ہوتے ہی بھولا دروازے میں جا بیٹھا تاکہ ماموں کی شکل دیکھتے ہی اندر کی طرف دوڑے اور پہلے پہل اپنی ماتا جی کو اور پھر مجھے اپنے ماموں جی کے آنے کی خبر سنائے۔ دیوں کو دیا سلائی دکھائی گئی۔ جوں جوں رات کا اندھیرا گہرا ہوتا جاتا دیوں کی روشنی زیادہ ہوتی جاتی۔ متفکرانہ لہجے میں مایا نے کہا، ’’ بابا جی۔ بھیّا ابھی تک نہیں آئے۔‘‘

’’کسی کام کی وجہ سے ٹھہر گئے ہوں گے۔‘‘

’’ممکن ہے کوئی ضروری کام آ پڑا ہو۔۔۔ راکھی کے روپئے ڈاک میں بھیج دیں گے۔۔۔‘‘

’’مگر راکھی؟‘‘

’’ہاں راکھی کی کہو۔۔انھیں اب تک تو آ جانا چاہیے تھا۔‘‘

میں نے بھولے کو زبردستی دروازے کی دہلیز پر سے اٹھایا۔ بھولے نے اپنی ماتا سے بھی زیادہ متفکرانہ لہجے میں کہا: ’’ماتا جی! ماموں جی کیوں نہیں آئے؟‘‘ مایا نے بھولے کو گود میں اٹھاتے ہوئے اور پیار کرتے ہوئے کہا۔ ’’شاید صبح کو آ جائیں۔ تیرے ماموں جی۔ میرے بھولے۔‘‘

پھر بھولے نے اپنے نرم و نازک بازوؤں کو اپنی ماں کے گلے میں ڈالتے ہوئے کہا:

’’میرے ماموں جی تمھارے کیا ہوتے ہیں؟‘‘

’’جو تم ننھی کے ہو‘‘

’’بھائی؟‘‘

’’تم جانو۔۔‘‘

’’اوربنسی(بھولے کا دوست) کے کیا ہوتے ہیں؟‘‘   ’’کچھ بھی نہیں۔‘‘ 

  ’’بھائی بھی نہیں؟‘‘،

’’نہیں ‘‘۔۔۔۔۔۔اور بھولا اس عجیب بات کو سوچتا ہوا سو گیا۔ جب میں اپنے بستر پر لیٹا تو پھر وہ مشعل کی مانند چمکتا ہوا ستارہ آسمان کے ایک کونے میں میرے گھورنے کی وجہ سے ماند ہوتا ہوا دکھائی دیا۔ مجھے پھر بھولے کا چہرہ یاد آ گیا جو میرے خانقاہ والے کنوئیں کو جانے پر تیار ہونے کی وجہ سے یوں ہی ماند پڑ گیا تھا۔ کتنا شوق ہے بھولے کو کہانیاں سننے کا۔ وہ اپنی ماں کو استوتر بھی پڑھنے نہیں دیتا۔ اتنا سا بچہ بھلا گیتا کو کیا سمجھے۔ مگر صرف اس وجہ سے کہ اس کے ادھیائے کا مہاتم ایک دلچسپ کہانی ہوتا ہے۔ وہ نہایت صبر سے ادھیائے کے ختم ہونے اور مہاتم کے شروع ہونے کا انتظار کیا کرتا ہے۔  ’’مایا کا بھائی ابھی تک نہیں آیا۔ شاید نہ آئے۔‘‘  میں نے دل میں کہا۔ ’’اسے اپنی بہن کا پیار سے جمع کیا ہوا مکھن کھانے کے لئے تو آ جانا چاہئے تھا۔‘‘  میں ستاروں کی طرف دیکھتے دیکھتے اونگھنے لگا۔ یکایک مایا کی آواز سے میری نیند کھلی۔ وہ دودھ کا کٹورا لئے کھڑی تھی۔  ’’میں نے کئی بار کہا ہے۔ تم میرے لئے اتنی تکلیف نہ کیا کرو۔‘‘  میں نے کہا۔ دودھ پینے کے بعد فرط شفقت سے میرے آنسو نکل آئے۔ حد سے زیادہ خوش ہو کر میں مایا کو یہی دعا دے سکتا تھا کہ وہ سہاگ وتی رہے۔ کچھ ایسا ہی میں نے کہنا چاہا۔ مگر اس خیال کے آنے سے اس کا سہاگ تو برس ہوئے لٹ گیا تھا۔ میں نے کچھ نہ کچھ کہنے کی غرض سے اپنی رقت کو دباتے ہوئے کہا۔

  ’’بیٹی۔۔۔تمہیں اس سیوا کا پھل ملے بغیر نہ رہے گا۔‘‘  پھر میرے پہلو میں بچھی ہوئی چارپائی پر سے بھولا ننھی کو جو کہ اس کے ساتھ ہی سورہی تھی پرے دھکیلتے ہوئے اور آنکھیں ملتے ہوئے اٹھا۔ اٹھتے ہی اس نے کہا۔  ’’بابا۔۔۔ماموں جی ابھی تک کیوں نہیں آئے؟‘‘  

 ’’آ جائیں گے۔۔۔بیٹا، سو جاؤ، وہ صبح سویرے آ جائیں گے۔‘‘  اپنے بیٹے کو اپنے ماموں کے لئے اس قدر بیتاب دیکھ کر مایا بھی کچھ بے تاب سی ہو گئی۔ عین اس طرح جس طرح ایک شمع سے دوسری شمع روشن ہو جاتی ہے۔ کچھ دیر کے بعد وہ بھولے کو لٹا کر تھپکنے لگی۔ مایا کی آنکھوں میں بھی نیند آنے لگی۔ یوں بھی جوانی میں نیند کا غلبہ ہوتا ہے اور پھر دن بھر کام کاج کر کے تھک جانے کی وجہ سے مایا گہری نیند سوتی تھی۔ میری نیند تو عام بوڑھوں کی نیند تھی۔ کبھی ایک آدھ گھنٹے تک سو لیتا۔ پھر دو گھنٹے جاگتا رہتا۔ پھر کچھ دیر اونگھنے لگ جاتا اور باقی رات اختر شماری کرتے گزار دیتا۔ میں نے مایا کو سوجانے کے لئے کہا اور بھولے کو اپنے پاس لٹا لیا۔  ’’بتی جلتی رہنے دو۔ صرف دھیمی کر دو۔۔۔میلے کی وجہ سے بہت سے چور چکار ادھر گھوم رہے ہیں۔۔۔‘‘ میں نے سوئی ہوئی مایا سے کہا۔ سب سے بڑی بات یہ تھی کہ اس دفعہ میلے پر جو لوگ آئے تھے ان میں ایسے آدمی بھی تھے جو کہ ننھے بچوں کو اغواء کر کے لے جاتے تھے۔ پڑوس کے ایک گاؤں میں دو ایک ایسی وارداتیں ہوئی تھیں اور اسی لئے میں نے بھولے کو اپنے پاس لٹا لیا تھا۔ میں نے دیکھا، بھولا جاگ رہا تھا۔ اس کے بعد میری آنکھ لگ گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد جب میری آنکھ کھلی تو میں نے بتی کو دیوار پرنہ دیکھا۔ گھبرا کر ہاتھ پسارا تو میں نے دیکھا کہ بھولا بھی بستر پر نہ تھا۔ میں نے اندھوں کی طرح در و دیوار سے ٹکراتے اور ٹھوکریں کھاتے ہوئے تمام چارپائیوں پر دیکھا۔ مایا کو بھی جگایا۔ گھر کا کونا کونا چھانا، بھولا کہیں نہ تھا۔ 

 ’’مایا ہم لٹ گئے۔‘‘  میں نے اپنا سر پیٹتے ہوئے کہا۔ مایا ماں تھی۔ اس کا کلیجہ جس طرح شق ہوا یہ کوئی اس سے پوچھے۔ اپنا سہاگ لٹنے پر اس نے اتنے بال نہ نوچے تھے جتنے کہ اس وقت نوچے۔ اس کا دل بیٹھا جا رہا تھا اور وہ دیوانوں کی طرح چیخیں مار رہی تھی۔ پاس پڑوس کی عورتیں شور سن کر جمع ہو گئیں اور بھولے کی گمشدگی کی خبر سن کر رونے پیٹنے لگیں۔ میں عورتوں سے زیادہ پیٹ رہا تھا۔ آج میں نے ایک بازی گر کو اپنے گھر کے اندر گھورتے بھی دیکھا تھا۔ مگر میں نے پرواہ نہ کی تھی۔ آہ! وہ وقت کہاں سے ہاتھ آئے۔ میں نے دعائیں کیں کہ کسی وقت کا دیا کام آ جائے۔ منتیں مانیں کہ بھولا مل جائے۔ وہی گھر کا اجالا تھا۔ اسی کے دم سے میں اور مایا جیتے تھے۔ اس کی آس سے ہم اڑتے پھرتے تھے۔ وہی ہماری آنکھوں کی بینائی، وہی ہمارے جسم کی توانائی تھا۔ اس کے بغیر ہم کچھ نہ کرتے تھے۔ میں نے گھوم کر دیکھا مایا بے ہوش ہو گئی تھی۔ اس کے ہاتھ اندر کی طرف مڑ گئے تھے۔ نسیں کھچی ہوئی اور آنکھیں پتھرائی ہوئی تھیں اور عورتیں اس کی ناک بند کر کے اک چمچے سے اس کے دانت کھولنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ میں سچ کہتا ہوں ایک لمحے کے لئے میں بھولے کو بھی بھول گیا۔ میرے پاؤں تلے کی زمین نکل گئی۔ ایک ساتھ گھر کے دو بشر جب دیکھتے دیکھتے ہاتھوں سے چلے جائیں تو اس وقت دل کی کیا کیفیت ہوتی ہے۔ میں نے لرزتے ہوئے ایشور کو برا بھلا کہا کہ ان دکھوں کو دیکھنے سے پیشتر اس نے میری ہی جان کیوں نہ لے لی۔

آہ! مگر جس کی قضا آتی ہے اس کے سوا کسی اور کا بال تک بیکا نہیں ہوتا۔ قریب تھا کہ میں بھی مایا کی طرح گر پڑوں کہ مایا ہوش میں آ گئی۔ مجھے پہلے سے کچھ سہارا ملا۔ میں نے دل میں کہا، میں ہی مایا کو سہارا دے سکتا ہوں اور اگر میں خود اس طرح حوصلہ چھوڑ دوں تو مایا تو کسی طرح نہیں بچ سکتی۔ میں نے حواس جمع کرتے ہوئے کہا۔  ’’مایا بیٹی!۔۔۔دیکھو! مجھے یوں خانہ خراب مت کرو۔۔۔حوصلہ کرو۔ بچے اغواء ہوتے ہیں مگر آخر مل بھی جاتے ہیں۔ بازی گر بچوں کو مارنے کے لئے نہیں لے جاتے۔ پال کر بڑا کر کے کسی کام میں لانے کے لئے لے جاتے ہیں۔ بھولا مل جائے گا۔‘‘  ماں کے لئے یہ الفاظ بے معنی تھے۔ مجھے بھی اپنے اس طرح صبر کرنے پر گمان ہوا گویا میں اس وجہ سے چپ ہو گیا ہوں کہ مایا کے مقابلے میں بھولے سے بہت کم پیار ہے۔ مگر ’’نہیں ‘‘ میں نے کہا ’’مرد کو ضرور کچھ حوصلہ رکھنا چاہئے۔‘‘  اس وقت آدھی رات ادھر تھی اور آدھی ادھر جب ہمارا پڑوسی اس حادثے کی خبر تھانے میں پہنچانے کے لئے جو گاؤں سے دس کوس دور شہر میں تھا، روانہ ہوا۔ باقی ہم سب ہاتھ ملتے ہوئے صبح کا انتظار کرنے لگے۔ تاکہ دن نکلنے پر کچھ سجھائی دے۔ دفعتاً دروازہ کھلا اور ہم نے بھولے کے ماموں کو اندر آتے دیکھا۔ اس کی گود میں بھولا تھا۔ اس کے سر پر مٹھائی کی ٹوکریاں اور ایک ہاتھ میں بتی تھی۔ ہمیں تو گویا تمام دنیا کی دولت مل گئی۔ مایا نے بھائی کو پانی پوچھا نہ خیریت اور اس کی گود سے بھولے کو چھین کر اسے چومنے لگی۔ تمام اڑوس پڑوس نے مبارکباد دی۔ بھولے کے ماموں نے کہا۔  ’’مجھے کسی کام کی وجہ سے دیر ہو گئی تھی۔ دیر سے روانہ ہونے پر رات کے اندھیرے میں، میں اپنا راستہ کم کر بیٹھا تھا۔ یکایک مجھے ایک طرف سے روشنی آتی دکھائی دی۔ میں اس کی جانب بڑھا۔ اس خوف ناک تاریکی میں پرس پور سے آنے والی سڑک پر بھولے کو بتی پکڑے ہوئے اور کانٹوں میں الجھے ہوئے دیکھ کر میں ششدر رہ گیا۔ میں نے اس وقت اس کے وہاں ہونے کا سبب پوچھا تو اس نے جواب دیا۔۔۔کہ بابا جی نے آج دوپہر کے وقت مجھے کہانی سنائی تھی اور کہا تھا کہ دن کے وقت کہانی سنانے سے مسافر راستہ بھول جاتے ہیں۔ تم دیر تک نہ آئے تو میں نے یہی جانا کہ تم راستہ بھول گئے ہو گے اور بابا نے کہا تھا کہ اگر کوئی مسافر راستہ بھول گیا تو تم ذمے دار ہو گے نا۔۔۔!!‘‘

 

 

 


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.