3۔Notes - (B.A, B.Com, B.Sc)Second Year Sem-III(SL-Urdu Paper -III)

 B.A., B.Com., B.Sc., & BSW. Second Year. Urdu (Second Language)

UNIT –I                                                                        GHAZAL

۱۔سید فضل الحسن حسرؔت موہانی

  • حسرت موہانی لکھنو کے  قریب انّاو کے  قصبہ موہان میں 1881  ء میں پیدا ہوئے۔حسرت کا بچپن ننہال  میں گزرا، ابتدائی تعلیم گھر میں حاصل کرنے کے بعد  مڈل اسکول کے امتحان میں سارے صوبہ میں اوّل آئے اور وظیفہ کے حقدار بنے پھر انٹرنس کا امتحاں فتحپور سے فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا جس کے بعد وہ علی گڑھ چلے گئے جہاں ان کی زندگی یکسر بدل گئی۔ اپنے انقلابی خیالات کی وجہ سے اس وقت کے انگریز دوست کالج حکام کے لئے مسئلہ بھی بن گئے۔ 1902ء میں کالج کے جلسہ میں حسرت نے اپنی مثنوی "مشاعرہ شعرائے قدیم در عالم خیال"سنائی جسے بہت پسند کیا گیا۔اس جلسہ میں فانی بدایونی،میر مہدی مجروح،امیر اللہ تسلیم جیسی شخصیتیں موجود تھیں۔حسرت نے بی اے پاس کرنے کے بعد،اعلی سرکاری ملازمت حاصل کرنے کی بجاے خود کو ملک و قوم کی خدمت اور شاعری کے فروغ کے لئے وقف کر دیا۔انھو ں نے علی گڑھ سے ہی ادبی و سیاسی رسالہ اردوے معلی جاری کیا ۔اسی  دوران میں انھوں  نے قدیم اردو شعراء کے دیوان تلاش  کر کے انہیں ایڈٹ اور شائع کیا اور انڈین نیشنل کانگرس میں شامل ہو کر آزادی کی جنگ میں میں کُود پڑے۔سیاسی طور پر وہ کانگرس کے "گرم دَل" سے تعلق رکھتے تھے ۔ہندوستان کی جنگ آزادی کا "انقلاب زندہ آ باد " کا نعرہ دینے والے حسرت ہی تھے۔اردوے معلی میں آزادی پسندوں کے مضامین برابر چھپتے تھے اور دوسرے ممالک میں بھی انگریزوں کی حکمت عملیوں کا پردہ فاش کیا جاتا تھا۔1908ء میں ایسے ہی اک مضمون کے لئے ان پر مقدمہ قائم کیا گیا اور 2 سال قید با مشقت کی سزا ہوئی جس میں ان سے روزانہ ایک من گیہوں پسوایا جاتا تھا۔اسی قید میں انہوں نے اپنا مشہور شعر کہا تھا۔۔"ہے مشق سخن جاری،چکی کی مشقت بھی*اک طرفہ تماشا ہے شاعر کی طبیعت بھی" حسرت کی شخصیت کا دوسرا اہم پہلو ان کی شاعری ہے۔حسرت کی شاعری سر تا پا عشق کی شاعری ہے جو نہ تو جرأت کی  طرح کبھی تہذیب سے گرتی ہے اور نہ مومن کی طرح ہجر و وصال کے جھولوں میں جھولتی ہے۔ان کے عشق میں زبردست احتیاط اور رکھ رکھاؤ ہے جو ایک طرف ان کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیتا تو دوسری طرف ان کو کامیابی سے بے نیاز بھی رکھتا ہے۔یعنی ان کے عشق کا بنیادی مقصد محبوب کو حاصل کرنا نہیں بلکہ اس سے عشق کئے جانا ہے۔ ان کا عشق سراسر مجازی ہے جسے وہ عشق حقیقی کے ساتھ خلط ملط نہیں کرتے۔وہ اپنے معشوقوں کی نشاندہی بھی کر دیتے ہیں۔ حسرت کبھی مایوس اور غمگین نہیں ہوتے۔وہ زندگی کے امکانات پر یقین رکھتےہیں۔ان کو محبت کے ہر چرکے میں سنبھالا دینے والی چیز خود محبت ہے۔۔"قوت عشق بھی کیا شے ہے کہ ہو کر مایوس*جب کبھی گرنے لگا ہوں تو سنبھالا ہے مجھے"۔ان کی شاعری میں ایک طرح کی شگفتگی ،دلبستگی اور بےساختگی ہے۔سارا کلام غنائیت کے کیف و سرور میں ڈوبا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا کلام سادہ ہونے کے باوجود بیحد پُر اثر ہے۔وہ محبت کے نازک و لطیف جذبات اور ان کے اُتار چڑھاؤ کی تصویریں اس طرح کھینچتے ہیں کہ وہ بالکل سچی اور جاندار معلوم ہوتی ہیں۔حسرت کا مطالعہ بہت وسیع تھا ، انہوں نے اساتذہ کا کلام بڑی توجہ سے پڑھا تھا۔اور ان سے استفادہ کو وہ چھپاتے نہیں۔ "غالب و مصحفی و میر و نسیم و  مومن طبع حسرت نے اٹھایا ہے ہر استاد سے فیض" لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کا اپنا کوئی رنگ نہیں بلکہ جس طرح کوئی مرکّب اپنے اجزائے ترکیبی کے خواص کھو کر اپنے انفرادی خواص  کے ساتھ وجود میں آتا ہے اسی طرح حسرت کا کلام پڑھتے ہوئے  ایسا نہیں محسوس ہوتا کہ وہ کسی کی نقل ہے۔ آزادی کے بعد وہ پارلیمنٹ کے رکن رہے لیکن ملک کی سیاست سے کبھی مطمئن نہیں رہے۔ان کا انتقال 1951 میں لکھنو میں ہوا اور وہیں دفن کئے گئے۔                                                    بحوالہ:ریختہ


        

۲۔سید علی   محمد شاد ؔ عظیم آبادی


نام علی محمد، شاد تخلص۔ 1846ء کو پٹنہ میں پیدا ہوئے۔ عربی، فارسی اور دینیات کی تعلیم لائق اساتذہ سے حاصل کی۔ شاعری میں الفت حسین فریاد عظیم آبادی سے تلمذ حاصل تھا۔ شادنے کچھ غزلوں پر صفیر بلگرامی سے بھی اصلاح لی تھی۔ میر انیس اور مرزا دبیر کی صحبتوں سے بھی بہت فیض یاب ہوئے۔ شاد انگریزی اور ہندی زبان سے بھی واقف تھے۔ شاد کا ننھیال پانی پت تھا۔ ایک مرتبہ وہ وہاں گئے اور حالی سے ملاقات کی۔ علی گڑھ بھی گئے اور سرسید سے ملاقات ہوئی۔ ان کے ہندودیوان اور خزانچی نے ان کی ریاست وجاگیر کا بڑا حصہ فروخت کردیا اور روپیہ خرد برد کردیا۔ جو شخص ہزاروں اور لاکھوں میں کھیلتا تھا اسے اپنی آخری زندگی صرف سوروپیہ ماہانہ کی امداد پر گزر بسر کرنی پڑی۔ شاد کئی سال تک پٹنہ میں آنریری مجسٹریٹ رہے۔ ان کی ادبی خدمات کے صلے میں سرکار سے ’’خان بہادر‘‘ کا خطاب ملا۔ شاد کو اپنے زمانے کا میر کہا گیا ہے۔’’مئے خانہ الہام‘‘ کے نام سے ان کا دیوان چھپ گیا ہے۔ مراثی ، رباعیات، مثنویات اور نثر کی کئی کتابیں ان کی یادگار ہیں۔7؍جنوری1927ءکوپٹنہمیںانتقالکرگئے۔شاد نے تمام صنف سخن میں طبع آزمائی کی ہے۔ قصیدہ، مرثیہ ،مثنوی، قطعہ، رباعی ، غزل تمام اصناف پر آپ کا کلام موجود ہے۔ غزل آپ کی محبوب صنف سخن رہی ہے۔ شاد عظیم آبادی بہاراسکول کے سب سے زیادہ کامیاب شاعر ہیں ۔ تمام ناقدین نے ان کی شاعری کی تعریف کی ہے۔                                                                                بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد اول)،محمد شمس الحق،صفحہ:214   

 



 ۳۔شوکت علی خان فانیؔ بدایونی

  • نام شوکت علی، فانی تخلص۔۱۳؍ستمبر۱۸۷۹ء کو قصبہ اسلام نگر ، بدایوں میں پیدا ہوئے۔ ۱۹۰۱ء میں بی اے اور ۱۹۰۸ء میں ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۲۳ء تک لکھنؤ اور اس کے بعد ۱۹۳۲ء تک آگرہ میں پیشہ وکالت ذریعہ معاش بنایا۔ کچھ عرصہ بدایوں اور بریلی میں بھی وکالت کرتے رہے، مگر کامیاب نہ ہوسکے۔ ۱۹۳۲ء سے ۱۹۳۹ء تک حیدرآباد دکن میں صدر مدرس رہے۔ فانی کو بچپن سے ہی شاعری کا شوق تھا ، لیکن انھوں نے کسی کی شاگردی اختیار نہیں کی۔ فانی کے کلام میں میر کا سوز وگداز اور یاس ومحرومی بھی ہے اور غالب کا مفکرانہ انداز بھی۔ فانی ۲۶؍اگست۱۹۴۱ء کو حیدرآباد دکن میں انتقال کرگئے۔ ۱۹۳۹ء میں ’’عرفاتیات فانی‘‘ کے نام سے فانی کے قدیم وجدید کلام کا مکمل مجموعہ انجمن ترقئ اردو (ہند) دہلی نے شائع کیا۔              بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد اول)،محمد شمس الحق،صفحہ:282


۴۔ صفیؔ اورنگ آبادی

  • صفیؔ اورنگ آبادی کا اصل نام بہاؤالدین صدیقی تھا وہ اورنگ آباد کے جون بازار کے علاقے میں 12 فروری، 1893 میں پیدا ہوئے مگر بعد میں ان کا نام " بہبود" علی صدیقی تبدیل کر دیا گیا۔ ان کے والد حکیم محمد منیر صاحب نے صفی کو ایک یونانی طبعیب بننا چاہتے تھے لیکن صفی نے تعلیم کو درمیان میں ہی چھوڑ دیا اور ملازمت شروع کردی . اس کی بعد انھوں نے کئی ملازمتیں اختیار کیں۔ لیکن ان کا ملازمت میں دل نہ لگتا تھا کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ ملازمت بہت بڑی " غلامی" ھوتی ہے۔ پھر انھوں کبھی نوکری نہیں کی۔ پھران کے شاگرد میں اضافہ ھونا شروع ھو گیا اور ان کا زیادہ تر وقت شاگردوں کے اصلاح کلام میں گذرتا تھا۔ . صفی اورنگ آبادی کا یہ کمال تھا کہ وہ طبلے کی تھاپ پر ردیف اور قافیہ تلاش کرتے تھے۔ وہ تا حیات مجرد رھے۔ وہ مرد درویش تھے۔ طبعیت میں سچے اور سادہ تھے۔ صفی اورنگ آبادی داغ دہلوی کے بعد اردو شاعری کے ایک ایسے شاعر ہیں جنھوں نے محاوارات اور ضرب الامثال نئی اظہاری حسیت سے شاعری میں برتا۔ ان کا شاعرانہ اظہار فطری تھا۔ صفی اورنگ آبادی کا انتقال حیدرآباد دکن میں 21 مارچ، 1954 کو ھوا۔ 1965 میں ان کے ایک شاگرد خواجہ شوق نے ان کا مجموعہ کلام " پرگندہ" کے نام سے شائع کیا۔ 1963 میں مبارز الدیں رفعت ان کے کلام کا انتخاب چھاپا۔ جن کے نام " فردوس صفی" (1968)، "گلزار صفی"" (1987)، "کلام صفی اورنگ آبادی"، (1993)، ہیں۔ ان کی "سوانح عمری صفی اورنگ آبادی" 1989 میں شائع ھوئی۔ صفی اورنگ آبادی کے ایک شاگرد اخگر نے " تلامذہ صفی" (1991)، "اصلاحات صفی" (1993)، "خمزیات صفی" (1998) اور "انشائے صفی" کے نام سے مرتب اور شائع کی ہیں۔
  •  


۵۔شاذؔ تمکینت

  • نام سید مصلح الدین ، ڈاکٹر۔ ۲۱؍جنوری۱۹۳۳ء کو حیدرآباد، دکن میں پیدا ہوئے۔ مخدوم محی الدین پر مقالہ لکھ کرڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ۱۸؍اگست۱۹۸۵ء کو حیدرآباد دکن میں انتقال کرگئے۔ ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’نیم خواب ‘، ’ورق انتخاب‘، ’تراشیدہ‘، ’بیاض شام‘۔                           بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:273                                                                                                                            

                                                                                                                        


UNIT-II                                                                                                        NAZM

 


۱۔ڈاکٹر علامہ اقبؔال


  • نام ڈاکٹر محمداقبال، خطاب سر، تخلص اقبال۔ لقب ’’حکیم الامت‘‘، ’’ترجمان حقیقت‘‘، ’’مفکراسلام‘‘اور ’’شاعر مشرق‘‘۔ ۹؍نومبر ۱۸۷۷ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ عربی، فارسی ادب اور اسلامیات کی تعلیم مولوی میر حسن سے حاصل کی۔۱۸۹۵ء میں لاہور آگئے۔ بی اے اور ایم اے کی ڈگریاں لینے کے بعد گورنمنٹ کالج، لاہور میں فلسفے کے پروفیسر ہوگئے۔۱۹۰۵ء میں بیرسٹری کی تعلیم کے لیے انگلستان چلے گئے۔ وہاں قانون کے ساتھ فلسفے کی تعلیم بھی جاری رکھی۔ہائیڈل برگ(میونخ) یونیورسٹی میں ’’ایران میں مابعد الطبیعیات کا ارتقا‘‘ پر مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصلکی۔۱۹۲۲ء میں ان کی اعلا قابلیت کے صلے میں ’’سر‘‘ کا خطاب ملا۔ ۱۹۲۷ء میں پنجاب کی مجلس مقننہ کے ممبر چنے گئے۔۱۹۳۰ء میں مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے۔اقبال نے شروع میں کچھ غزلیں ارشد گورگانی کو دکھائیں۔ داغ سے بذریعہ خط کتابت بھی تلمذ رہا۔ اقبال بیسویں صدی کے اردو کے سب سے بڑے شاعر ہیں۔ان کے اردو مجموعہ ہائے کلام کے نام یہ ہیں: ’’بانگ دار‘‘، ’’بال جبریل‘‘، ’’ضرب کلیم‘‘،’’ارمغان حجاز‘‘(اردو اور فارسی کلام)۔ ’’کلیات اقبال‘‘ اردو بھی چھپ گئی ہے ۔ فارسی تصانیف کے نام یہ ہیں:’’اسرار خودی‘‘، ’’رموز بے خودی‘‘، ’’پیام مشرق‘‘، ’’زبور عجم‘‘، ’’جاوید نامہ‘‘، ’’مسافر‘‘، ’’پس چہ باید کرد‘‘۔ ۲۱؍اپریل ۱۹۳۸ء کو دنیا سے رخصت ہوگئے۔                                                                                                                                                        حوالہ :ریختہ

 

 

حقیقت حُسن

خُدا سے حُسن نے اک      روز یہ سوال کیا                         

جہا ں میں کیوں نہ مجحے  تونے  لا زوال کیا


ملا   جو   اب  کہ   تصویر  خانہ  ہے  دُنیا                       

شبِ  درازِ عدم   کا فسانہ     ہے         دُنیا      


ہوئی ہے رنگِ تغیر سے   جب  نمود   اس کی          

ٍوہی       حسیں   ہے حقیقت    زوال ہےاس کی


کہیں قریب  تھا ،یہ گفتگو    قمر نے سُنی                         

فلک پہ عام ہوئی،اختر سحر نے سُنی


سحر نے تارے سے سُن کر     سُنائی    شبنم     کو                            

فلک کی بات بتادی زمین  کے   محرم کو


بھرآئےپھولکےآنسو پیامِ      شبنم سے

                کلی  کا   ننھا سا دل خون    ہوگیا        غم سے


چمن   سے روتا  ہوا موسمِ       بہار    گیا                             

شباب   سیر   کو   آیا    تھا،  سوگوار    گیا                                                                                                                                                                                                                            بحالہ: ریختہ

 

۲۔جوش ملیح آبادی

  • نام شبیر احمد خاں، تبدیل شدہ نام شبیر حسن خاں، تخلص جوش۔ ۵؍دسمبر ۱۸۹۸ء کو ضلع ملیح آباد(یوپی) میں پیدا ہوئے۔ جوش نے شعری فضا میں آنکھ کھولی۔ جوش کی شاعری تیرہ سال سے شروع ہوگئی تھی۔ ابتدا میں عزیز لکھنوی سے اصلاح لی، مگر بعد میں اپنے وجدان و ذوق کو رہبر بنایا۔ والد کے انتقال کے بعد جوش سینیئر کیمبرج سے آگے تعلیم حاصل نہ کرسکے۔ جوش جامعہ عثمانیہ حیدرآباد دکن کے دار الترجمہ میں کافی عرصہ ملازم رہے۔ اس کے بعد دہلی سے اپنا رسالہ’کلیم‘ جاری کیا۔ بعد ازاں حکومت ہند کے رسالہ’’آج کل‘‘ کے مدیر اعلا منتخب ہوئے۔ آزادی کے بعد بھی جوش کچھ عرصہ ہندوستان میں رہے۔ اس کے بعد پاکستان آگئے اور اردو ترقیاتی بورڈ، کراچی کے مشیر خاص مقرر ہوئے۔ کچھ عرصے بعد ملازمت کا یہ سلسلہ منقطع ہوگیا۔ ۲۲؍فروری ١٩٨٢ء کو انتقال کرگئے۔ ان کے شعری مجموعوں کے نام یہ ہیں: ’روح ادب‘، ’نقش و نگار‘، ’شعلہ وشبنم‘، ’فکرونشاط‘، ’جنون وحکمت‘، ’فرش وعرش‘، ’سیف وسبو‘، ’الہام وافکار‘، ’رامش ورنگ‘، ’آیات ونغمات‘، ’سرود وخروش‘ ،’سموم وصبا‘۔ ان کا کچھ کلام غیر مطبوعہ بھی ہے ۔ وہ ایک قادر الکلام اور عہد آفریں شاعر تھے۔ اقبال کے بعد جوش ؔ نظم کے سب سے بڑے شاعر ہیں۔                                                                                                                حوالہ :ریختہ 

 


 ۳۔فیض احمد فیض

 نام فیض احمد اور تخلص فیض تھا۔ ۱۳؍فروری۱۹۱۱ء کو کالا قادر، ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ سیالکوٹ میں پاس کیا۔ بعد ازاں لاہور میں ایم اے (انگریزی) اور ایم اے (عربی)کے امتحانات پاس کیے۔ تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد درس وتدریس سے وابستہ ہوگئے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران فوج کے محکمۂ نشرواشاعت سے منسلک رہے۔ جب لاہور سے ’’پاکستان ٹائمز‘‘ اور ’’امروز‘‘ جاری ہوئے تو آپ ا ن کے ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ عبداللہ ہارون کالج، کراچی کے پرنسپل اور نیشنل کونسل آف آرٹس کے صدر بھی رہے۔ فیض راول پنڈی سازش کیس میں ۱۹۵۱ء میں پاکستان سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار ہوئے۔ وہ چار سال تک سرگودھا، منٹگمری، کراچی اور لاہور کی مختلف جیلوں میں قید رہے۔۱۹۵۵ء میں قید سے رہا ہوئے۔ دسمبر۱۹۵۸ء میں دوسری بار گرفتار ہوئے اور اپریل ۱۹۵۹ء میں قید سے رہائی ملی۔ فیض کو شعر وشاعری سے لگاؤ اوائل عمر سے تھا۔ کسی سے اصلاح نہیں لی۔ادب کے لینن پرائز سے آپ کو نوازا گیا۔ فیض نے اردو غزل کو ایک نیا لہجہ دے کر اسے عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کیا۔ ان کا شمار پاکستان کے بہترین غزل گو شعرا میں ہوتاہے ۔ ۲۰؍نومبر۱۹۸۴ء کو لاہور میں انتقال کرگئے۔ ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں: ’’نقش فریادی‘‘، ’’دست صبا‘‘، ’’زنداں نامہ‘‘، ’’دست تہہ سنگ‘‘، ’’شام شہریاراں‘‘، ’’متاع لوح وقلم‘‘، ’’سروادئ سینا‘‘، ’’مرے دل ، مرے مسافر‘‘۔ ان کی کلیات ’’نسخہ ہائے وفا‘‘ کے نام سے چھپ گئی ہے۔ مضامین کا مجموعہ ’’میزان‘‘ کے نام سے بھی شائع ہوا ہے۔ ’’مہ وسال آشنائی‘‘(یادوں کا مجموعہ) بھی ان کی تصنیف ہے۔                  بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:21


۴۔ سکند علی وجدؔ

  • نام سکندر علی اور تخلص وجد تھا۔ ۲۲؍جنوری۱۹۱۴ء کو ویجاپور، ضلع اورنگ آباد(حیدرآباد ،دکن) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اورنگ آباد میں ہوئی اور وہیں ۱۹۳۰ء میں شاعری کا آغاز ہوا۔ ۱۹۳۵ء میں عثمانیہ یونیورسٹی سے بی اے کا امتحان پاس کیا۔۱۹۳۸ء میں حیدرآباد سول سروس کے امتحان میں کام یاب رہے۔ ۱۹۳۸ء سے ۱۹۳۹ء تک عدالتی کام کی ٹریننگ کے سلسلے میں سیتا پور(یوپی) میں رہے۔ بعد ازاں اورنگ آباد میں اسپیثل آفیسر، ڈیپارٹمنٹل انکوائریز رہے۔ ۱۶؍مئی۱۹۸۳ء کو اورنگ آباد میں وفات پاگئے۔ ’’لہو ترنگ‘‘ کے نام سے ان کی شاعری کی کتاب چھپ گئی ہے۔ ’’بیاض مریم‘‘ بھی ان کا شعری مجموعہ ہے۔                                                 بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:51


 

 

       ۵۔قاضی سلیم

UNIT - III                                                                                                      RUBAI

                            ۔امجد حیدر آباد

  • امجد حیدر آبادی کا نام سید احمد حسین تھا ۔ امجد تخلص کرتے تھے ۔ ان کے والد صوفی سید رحیم علی بڑے خدا رسیدہ بزرگ تھے ۔ ان کا انتقال امجد کے بچپن میں ہی ہوگیا تھا ۔ مکتب کی ابتدائی تعلیم کے بعد مدرسہ نظامیہ حیدر آباد میں درس نظامی کی تعلیم حاصل کی ۔ عربی فارسی زبانوں میں مہارت حاصل کی ۔ امجد نے معاشی ضرورتوں کے تحت پہلے معلم کی حیثیت سے دارالعلوم اسکول میں ملازمت اختیار کی بعد میں ریاست حیدر آباد کے محکمہ محاسبی میں منتظم مامور ہوئے ۔ ۱۹۰۸ میں موسی ندی کے سیلاب میں ان کی والدہ بیوی بچے نذر اجل ہوئے ۔ یہ حادثہ امجد حیدرآبادی کیلئے بہت جاں گسل ثابت ہوا .امجد حیدر آبادی کی شہرت کی بنیاد ان کی رباعیاں ہیں ۔ بقول فرمان فتحپوری ’’ امجد اول و آخر رباعی گو شاعر ہیں ‘‘ امجد نے رباعی صنف میں کثرت سے طبع آزمائی کی اور اس صنف کے وقار کو بلند کیا ۔ امجد کی رباعیوں کے موضوعات اخلاقی ، روحانی اور پند ونصائح پر مشتمل ہیں ۔                                                                                                              



                   ۲۔خواجہ الطاف حسین حالیؔ

  • ۱۹۳۷ء میں بہ مقام پانی پت پیدا ہوئے ۔ نوسال کے تھے کہ ان کے والد کا انتقال ہوگیا۔ اس لیے تعلیم و تربیت کا معقول انتظام نہ ہوسکا ۔ لیکن انہیں حصول تعلیم کا بہت شوق تھا اس لیے فارسی اور عربی مختلف لوگوں سے شروع کی تھی کہ ان کے عزیزوں نے مجبور کرکے ان کی شادی کردی لیکن علم کے شوق نے انہیں زیادہ مجبور کیا ۔اور روپوش ہوکر دہلی چلے آئے یہاں مولوی نوازش علی سے صرف و نحو اور منطق پڑھی غالب سے فارسی پڑھی اور ایک دو فارسی کی غزلیں بھی کہہ کر غالبؔ کو دکھائیں عربی کی تعلیم کی تکمیل نہیں ہونے پائی تھی کہ پانی پت بلالیے گئے اس اثنا میں عذر ہوگیا اور چھ سات برس پانی پت ہی میں رہے اور مختلف لوگوں سے منطق و فلسفہ حدیث و تفسیر وقتاً فوقتاً پڑھتے رہے ۔ اتفاقا نواب مصطفی خاں کی مصاحبت میسر آگئی اور یہ انہیں کے پاس جہاں گیر آباد آگئے ۔ اب شعر و سخن کا شوق پھر ابھرا نواب کی طرح یہ بھی غزلیں جانگیر آباد سے دہلی غالبؔ کے پاس بھیجنے تھے ۔ شیفتہؔ کی صحبت نے ان کی مذاق اور غالبؔ کی شاگردی نے ان کے کماشاعری پر بہت اثر کیا ۔ شیفتہ کی وفات کے بعد یہ لاہور میں گورنمنٹ بک ڈپو میں ملازم ہوگئے ۔ جہاں انہیں نگریزی سے اردو میں ترجمہ کی ہوئی کتابتیں درست کرنا پڑتی تھیں اس لیے ان کی انگریزی خیالات اور انگیزی طرزادا سے مناسبت پیدا ہوگئی اور جب ہالرائڈ ڈائرکٹر تعلیمات کے ایما سے لاہور میں جدید شاعری کے مشاعرے کی بنیاد ڈالی گئی تو حالیؔ نے چار مثنویاں ۔ (1)برکھارت (2)نشاط امید (3)مناظرۂ رحم و اصاف (4)حب وطن پڑھیں جو ۔۔۔مقبول ہوئیں 1333ھ مطابق1914ء میں مولانا نے وفات پائی ۔ تصانیف:۔حیات سعدی ۔ مقدمۂ شعر و شاعری ،یادگار غالب ، حیات جاوید وغیرہ بہت مشہور ہیں ۔ جدید شاعری کے علم بردار ہونے اور اردو شاعری میں اصلیت جوش اور سادگی کی روح پیدا کردینے کے علاوہ دہلویت ان کے کلام میں کس خوبی ، کمال استادی سے رچی ہوئی ہے اس کا اندازہ ذیل کے انتخاب سے ہوگا۔بحوالہ: ریختہ

۳۔عطؔاءکلیانوی


UNIT – IV                                                             ILM-E-BAYAN

علمِ بیان                               

علم بیان ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ کسی بات کو کس طرح مختلف طریقوں سے بیان کیا جائے تاکہ ایک معنیٰ دوسرے   معنی زیادہ واضح اور دلکش ہو یعنی ایک ہی معنی پر دلالت کرنے کے علم بیان اظہار کے ان طریقوں کا مطالعہ کرتا ہے جن کے ذریعے خیال کسی واقعہ ،خیال یا کیفیت کی واضح تصویرکھینچ جائے اور مخاطب کا ذہین متکلم کے مافی الضمیر تک پہنچ جائے گویا کسی بات یا خیال کو مختلف پیرایوں میں اس طرح بیان کرنا جس سے اس کی ترسیل کا مقصد بھی پورا ہوجائے اور اس میں لطف وتاثر کے علاوہ جدّت بھی پیدا ہو میرؔ انیس نے اپنی قادر الکلامی کا دعویٰ کرتے ہوئے جب یہ کہا تھا؀

تعریف میں چشمے کو سمندر سے ملا دوں

  قطرے کو جو دوں     آب تو گوہر سے ملا دوں

     ذرےکی چمک مہر منور  سے   ملا دوں                 

خاروں   کو   نزاکت میں گل  تر سے ملا دوں

گلدستہ معنی  کو    نئے  ڈھنگ سے باندھوں

ایک پھولکا مضمون     ہو تو سو     رنگ سے باندھوں

  • وہ دراصل علم بیان پر اپنی فنکارانہ دسترس کا دعویٰ کررہے تھے علم بیان کو علم ادب اور علمِ کتابت بھی کہتے ہیں علم بیان  کے وہ اجزاےترکیبی  جو کسی بھی سادہ بیان کو دلکش اور پر اثر بناتے ہیں حسب ذیل ہیں۔۱۔تشبیہ۲۔استعارہ۳۔مجازِمرسل ۴۔کینایہ  ۔ 

۔تشبیہ:۔1              

ایک چیز کو دوسری چیز سے مشابہت دکھائی جاتی ہے تشبیہہ کہتے ہیں۔              

نازکی اس کے لب کی کیا کہیے                                      

پنکھڑی ایک گلاب کی سی ہے                                                    

.Iمشبہ :۔جس کو تشبیہ دی جائے   (لب مشبہ ہے)                                          

.IIمشبہ بہ:۔جس سے کسی چیز کو تشبیہ دی جائے    (گلاب کی پنکھڑی مشبہ بھی ہے)

.IIIوجہ تشبیہ: ۔وہ خصوصیت جس کی وجہ سے تشبیہ دی جائے۔  ( شعر میں نزاکت وجہ تشبیہ ہے )              

.IVغرض ِتشبیہ :۔جس مقصد سے تشبیہ دی گئی۔    (یہاں غرض تشبیہ لب کی نزاکت کو ظاہر کرنا ہے )          

.Vحروف تشبیہ: ۔وہ حرف جن کے ذریعے تشبیہ دیکھائی جاتی ہے ۔                (کی سی حرف تشبیہ ہے )

تشبیہ نگاری میں بعض دفعہ حرف تشبیہ حذف کر دیے جاتے ہیں اور دوسرے لفظوں کے ذریعے بلاواسطہ طور پر مشابہت دکھائی جاتی ہے۔

ادواتِ تشبیہ:۔

  • ادوات کے لغوی معنیٰ آلہ ہیں یہاں ادوات تشبیہ سے مراد وہ   الفاظ ہیں جن کا استعمال ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ تشبیہ دینے میں کیا جاتا ہے مثلا مانند، مثل ،آساں ،گویا ،مانا، جو ،جیسا ،جیسی، جیسے، کی صورت،بہ مشکل،لمط،سا،سی، سے ،طرح ،وغیرہ۔

 ۲- استعارہ

  •               استعارے کی بنیاد تشبیہ پر ہوتی ہے تشبیہ میں مشبہ اور مشبہ بہ میں مشابہت دکھائی جاتی ہے جبکہ استعارے میں مشابہت کی بنا پر مشبہ کو مشبہ بہ ٹھہراتے ہیں ۔ا کہا جائےگے احمد شیر کی طرح بہادر ہیں تو یہ تشبیہ ہوگی بہادری کے وصف کی بنیاد پر احمد کو شعر کہا جائے تو یہ استعارہ ہوگا، یا خوبصورت لڑکی کو دیکھ کر کوئی یہ کہے کہ میں نے پھول جیسی لڑکی دیکھی، تو ظاہر ہے یہ تشبیہ ہوگی ۔اگر یوں کہیے کہ میں نے پھول دیکھا ہے تو اسے استعارہ کہیں گے۔ استعارے میں مشبہ کو مستعار لہ اور مشبہ بہ کو مستعار منہ کہتے ہیں اور وجہ تشبیہ وجہ حامع کہلاتی ہے ۔استعارے کو انگریزی میں Metaphor بھی کہتے ہیں۔
  • یہ      شوخی نرگِس مستانہ ہم سے
  • چھلک کر رہ گیا پیمانہ          ہم سے
  • شعر میں نرگِس سے مستانہ استعارہ ہے محبوب کی آنکھ کا جو نرگِس کے مشابہ ہے۔ اور جس سے مستی جھلک رہی ہے شعر میں آنکھ کا ذکر نہیں جس کو نرگِس سے تشبیہ دی گئی ہے ۔اردو غزل کی زبان بڑی حد تک استعاراتی ہے۔ استعارہ تشبیہ کے مختلف علاقےرکھتا ہے جنہیں تلازمے کہتے ہیں مثلا گلشن، گلستان یا چمن یہ تلازمے ہیں زندگی ،دنیا وطن وغیرہ ۔آئینہ اردو غزل کا ایک مقبول استعارہہے ۔اسکے کئی تلازمے ہیں ایک تلازمہ صفائی ہے۔
  • چاروں طرف سے صورتِ جاناں ہو جلوہ گر
  • دل    صاف    ہو    ترا تو ہے آئینہ خانہ کیا                      آتؔش

آئینے کا ایک خاص تلازمہ حیرانی ہے ۔آئینہ حیرانی آنکھ کی مانند ہوتا ہے جب کسی پر حیرت طاری ہوتی ہے تو اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں آئینہ ایسی آنکھ ہے جو کبھی پلک نہیں چھپ سکتی یہ اس کی حیرانی کا ثبوت ہے ۔

منہ تکاہی کرے جس تس کا

                 حیرتی ہے یہ آئینہ کس کا

غزل کے دیگر استعارے بھی ہیں جن کی تفصیل بہت ہے لیکن مختصرفہرست درج ذیل ہے

A۔سفر: ۔سفر ،منزل، مسافر، راہ،راہ گر، رہبر، رہزن ،قافلہ، کارواں ،رخت ِسفر، غبار، سرائےوغیرہ۔

B۔بحر: ۔موج ،طوفان ،گرداب ،ناؤ، کشتی ،کنارے، ساحل، ملاح،بلبلہ ،قطرہ، موتی وغیرہ۔

C۔جنون :۔دیوانہ، بہار ،دشت ،صحرا، زنجیر، زنداں وغیرہ۔

D۔مرض عشق :۔بیمار،دوا، شفا ،علاج ،عیادت وغیرہ۔

E۔کفر و ایماں :۔کعبہ، حرم ،دیر، کلیسا ،بت ،کافر، صنم،کفر،ایمان وغیرہ۔

F۔بزم :۔محفل، مجلس ،شمع ،پروانہ وغیرہ ۔

۳   :۔مجاز مرسل

مجاز مرسل کی تعریف یہ ہے کہ لفظ کو لغوی معنیٰ کے علاوہ کسی اور معنیٰ میں استعمال کیا جائے۔ لفظ کے حقیقی معنوں اور مجازی معنوں میں تشبیہ کے علاوہ کوئی اور علاقہ ہو اسے مجازمرسل کہتے ہیں علم بلاغت میں مجاز مرسل کی چوبیس قسمیں بیان کی گئی ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں

.Iکل کہ کر جزمراد لینا :۔

جب ہاتھ اسکی نفس پہ رکھا طبیب نے

محسوس یہ کیا کہ      بدلنے لگی ہے آگ

ہاتھ کل ہے اور انگلیاں اس کا جز ہے نبض پر ہاتھ نہیں رکھا جاتا بلکہ چند انگلیوں کی پوروں سے نبض چھو کر ان کے ذریعے جسم کے درجہ حرارت کا اندازہ لگایاجاتا ہے اس شعر میں ہاتھ یعنی کل کہہ کر انگلیاں یعنی جزمراد لی گئی ہے ۔

.IIجزکہہ کر کل مراد لینا :۔

محفل میں شور قلقل مینائے مل ہوا

لا ساقیا پیالہ کے توبہ کا قل   ہوا

اس شعر میں لفظ الفاتحہ کے معنوں میں استعمال ہوا ہے فاتحہ میں قرآن شریف کی چار سورتیں پڑھی جاتی ہیں جن میں سے پہلی آیت کا پہلا لفظ قُل ہے ۔ظاہر ہے یہاں قُل کہہ الفاتحہ کی چار سورتوں سے کل مراد لی گئی ہے ۔

.IIIمسبب کہ کر سبب مراد لینا :۔

غزل آنکھیں ستم عبور و ادب میں کی صفائی ہے

خدا   نے       اپنے       ہاتھوں  سے تیری  صورت بنائی ہے

شعر میں ہاتھوں سے مراد قدرت ہے جو کہ مسبب ہے اور ہاتھ سبب ہے۔

.IVمسبب کہہ کر سبب مراد لینا :۔

ہر ایک خار ہے  گل، ہرگل       ساغرِ عیش

ہر ایک دشت چمن ،ہر چمن بہشتِ نظر

شراب کےبجائےاس ساغرِعیش کہا گیا ہے۔عیش مسبب ہے جس کا سبب شراب ہے۔

.Vظرف کہہ کر مظروف مراد لینا :۔

سوجھتی   ہی نہیں   بوتل کے سوا

لطف ہوتا ہے جوگھنگھورگھٹا ہوتی ہے

بوتل ظرف ہے بوتل سے مراد شراب ہے اور شراب مظروف ہے

.VIمظروف کہہ کر ظرف مراد لینا :۔

تیری چشم مست   سے   ساقیہ  مست جنوںہوا

کہ مےدوآتشہ طاق پر جو دھری تھی یوں دھری رہی

طاق پر شیشہ رکھا گیا ہے شیشے کے بجائے دو آتشہ  کہا گیا ہے 

۴-کنایہ :۔

کنایہ کہ معنی مخفی اشارہ یا پوشیدہ بعد ہے۔یہ صراحت کے بجائے ایجاز کا کامل ہوتا ہے ۔اس میں ملزوم کہ کر لازم مراد لیا جاتا ہے۔ کنایےکے طور پر نرتے جانے والے الفاظ اپنے مروجہ لغوی معنی سے علیحدہ مفہوم میں استعمال ہوتے ہیں لیکن اس التزام کے ساتھ کہ ان سے لغوی معنیٰ بھی مراد لیے جا سکتے ہیں ۔کنایہ سے مقصود وہ موصوف کی ذات ،صفات یا پھر ان کی نفی اثبات مرادہوتی ہے ۔

.Aکنایہ قریب:۔

جب کسی شخص یا شےسے متعلق کوئی خاص  صفت یا بات بیان کی جائے اور اس سے مراد موصوف ہوتواسے کنایہقریب کہا جاتا ہے ۔اس میں اس میں صفت کو ذہن میں آسانی کے ساتھ موصوف کی طرف منتقل کر دیتے ہیں جیسے سفید ریش کہنے سے بوڑھے آدمی کی طرف ،اوردخت رزشراب کی طرف منتقل ہو جاتا ہے، اور چراغ سحر کسی ایسے ہی معمر آدمی کے لیے کہا جاتا ہےجو قریب المرگ ہو۔

.Bکنایہ بعید:۔

ساقی  وہ  دے   ہمیں کہ ہو جس کے سبب وہم

محفل میں آب و آتش، آتش خورشید ایک جائے

جب ایک شخص یا چیز کے ساتھ بہت سی صفات منسوب ہو جائے ان تمام صفات سے موصوف ہی مراد ہو تو کنایہ بعید کہلائے گا اس شعر میں صفات سے مراد شراب ہے کیوں کہ اس میں پانی بھی ہوتا ہے سرخی بھی ہوئی اور اثر کے لحاظ سے آتش بھی ہوتی ہیں اور بلحاظ روشنی کے اور ساغر میں دائرہ نما شکل اختیار کرکے خورشیدسے بھی مناسبت رکھتی ہے۔

.Cکنائی تعریض:۔

کنائیےکی وہ قسم جس میں طنز کا پہلو موجود ہوتا ہے اسے کنایہ تعریض کہتے ہیں ۔س میں مو صوف کے لیے جو کلمہ استعمال کیے جاتے  ہیں بظاہرتعریف و توصیف کا اندازہ ہوتا ہے لیکن مراد اس کے برعکس لی جاتی ہےجیسے کسی کو بڑا عالم فاضل کہا جائے لیکن اسے جاہل مطلق مراد لی جائے یا دریا دل کہاں جائے اور بخیل مراد لی جائے اسی طرح جب کسی سے کہا جائے کہ دانا تو وہی جو سمجھ بوجھ سے کام لے تو جملے کے معنیٰ یہ ہو جائیں گے کہ جس میں سمجھ بوجھ سے کام نہیں لیا وہ نادان ہے

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.