Unit: I . Afsana
افسانے کی تعریف
داستان ناول اور افسانہ دراصل ایک ہی نثری صنف کے مختلف روپ ہیں ان تینوں کو ملا کر"فسانوی ادب" یا" فکشن" کا نام بھی دیا جاسکتا ہے ان تینوں کی بنیادی خصوصیت ایک ہے اور وہ قصہ پن یعنی ہر قدم پر یہ جاننے کی خواہش کے آگے کیا ہونے والا ہے اور اس کے بعد کیا ہونے والا ہے یہ کہانی پن ہی فکشن کی جان ہے جب انسان کو بہت فرصت تھی تو وہ ایسے قصے سے سنتا اورسناتا تھا جو بہت طویل ہوتے تھے اس زمانے میں ایسی باتوں اور ایسی چیزوں پر یقین کرلیتا تھا جو عقل کو دنگ کر دیتی ہیں ان کو فوق فطری عناصر کہا جاتا ہے داستان میں ان کی بہتات ہوتی تھی مگر زمانے کا ورق پلٹا افسانوی اور غیر افسانئ باتوں پر سے اس کا ایمان اُٹھ گیا زندگی کے حقیقی واقعات کواس نے اپنے قصوں کا موضوع بنایا اور غیر ضروری طوالت سے دامن بچایا تو ناول وجود میں آیا مصروفیت اور بڑھی تو افسانا وجود میں آیا افسانہ چھوٹا سا ہوتا ہے اس لئے اس نے پوری زندگی کو پیش نہیں کیا جا سکتا اس میں زندگی کے کسی ایک رخ سے اور کردار کے کسی ایک پہلوں سے سروکار رہتا ہے افسانے کے اجزائے ترکیبی وہی ہیں جو ناول کے ہیں مگر افسانے کا پیمانہ چھوٹا ہوتا ہے اس لئے ان کے اجزائے ترکیبی کے برتنے کا انداز بھی بدل جاتا ہے ۔بقول ایڈ گرایلن پو۔۔۔
"افسانے کو ایک نشست میں ختم ہوجا نا شاہیے،اس مین وحدتِ تا ثر پائی جا نی چاہیے،شروع سے آخر تک
لہجے میں ہم آہنگی رہنی چاہیے،پورے بیان کیبیناد اصلیت پر ہونی چاہیے،نیا پن اور جامعیت پائی جا نی چاہیےَ"بہ حوالہ۔تاریخ ِ اردو ادب ،نورالحسن نقوی۔ص،۳۳۷،۳۴
منشی پریم چند
ولادت: ١۸۸۸ء وفات : ١۹۳٦ء
پریم چند کا خاندانی نام دھنپت رائے تھا۔۳۱؍ جولائی۱۸۸۰ء کو اترپردیش ،بنارس کےقریب ایک چھوٹے سے گائوں لمہی میں پیدا ہوئے۔ احباب خانہ انھیں پیار سے نواب رائے کے نام سے پکارتے تھے۔ بعد ازاں انھوں نے اسی نام سے کچھ تحریریں بھی قلمبند کیں۔ منشی پریم چند کے والد منشی عجائب لال ڈاک خانے میں ملازم تھے۔ پریم چند کی ابتدائی تعلیم گائوں میں ہوئی ۔ اردو اور فارسی پڑھنے کے بعد انٹرنس کا امتحان پاس کرکے پرائمری اسکول میں ٹیچر ہوگئے۔ چونکہ پریم چند کو تعلیم کا شوق تھا لہٰذا تعلیم کا سلسلہ منقطع نہ ہونے دیا اور ترقی کرتے کرتے بی۔ اے کی ڈگری حاصل کی۔پریم چند کو لکھنے پڑھنے کا شوق بچپن ہی سے تھا۔ ۱۹۰۲ء میں ٹریننگ کے لیے الہ آباد کے ایک کالج میں داخل ہوئے تو ان کی طبیعت ناول نگاری کی طرف ما ئل ہوئی۔ یہیں انھوں نے اپنا پہلا ناول ’’اسرارِ معبد‘‘ کے نام سے شروع کیا جس کی کچھ قسطیں بنارس کے ایک رسالے میں شائع ہوئیں۔ اسی زمانے میں پریم چند نے رسالہ ’’زمانہ‘‘کانپور کے لیے پابندی سے افسانے اور مضامین بھی لکھنے شروع کیے۔ ۱۹۰۸ء میں ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’’سوزِ وطن‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔چونکہ اس مجموعہ میں شامل مشمولات حب وطن اور آزادی کے جذبات سے مملو تھے۔ لہٰذا انگریز حکومت سے اسے ضبط کرکے نذرِ آتش کردیا۔’’سوزِ وطن‘‘ تک کی بیشتر تحریریں پریم چند نے نواب رائے قلمی نام سے تحریر کی تھیں۔ انگریزوں کے معاندانہ رویہ کے پیش نظر منشی دیا نرائن نگم کے مشورے پرانھوں نے پریم چند کے قلمی نام سے لکھنا شروع کیا اور اسی نام سے مقبول ہوئے۔
مختصر افسانے کی ابتداکا سہرا توراشد الخیری اور سجاد حیدر یلدرم کے سر ہی بندھے گا۔ البتہ فنی اعتبار سے پریم چند راشد الخیری پر سبقت لے جاتے ہیں۔پریم چند کی افسانہ نگاری پر غور کیا جائے تو بتدریج ارتقانظر آتا ہے۔ ان کے پہلے افسانوی مجموعے ’’سوز وطن ‘‘ سے لے کر آخری دور کے مجموعوں ’’واردات ‘‘ اور ’’زادراہ‘‘ کے افسانوں میں واضح فرق ہے۔ لہٰذا ان کی فسانہ نگاری کے مختلف رویوں اور رجحان کے مطالعہ کے لیے اسے تین ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پہلا دور۱۹۰۹ء سے لے کر۱۹۲۰ء کے عرصہ پر محیط ہے۔ دوسرا دور۱۹۲۰ء سے ۱۹۳۲ء تک اور تیسرا دور جو نسبتاً مختصر دور ہے یعنی۱۹۳۲ء سے۱۹۳۶ء تک ان کی زندگی کے آخری چار سال کا احاطہ کرتا ہے۔پہلے دور کے ابتدائی برسوں میں داستانوی اور رومانی رنگ غالب ہے۔ جذبہ حب الوطنی سے سرشار پریم چند کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’سوز وطن‘‘ زمانہ پریس کانپور سے شائع ہوا تھا۔ جسے انگریز سرکارکے عتاب کا شکار ہونا پڑا۔اس کے بعد وہ تاریخ نگاری اور اصلاح ِمعاشرہ کی جانب متوجہ ہوئے۔ اس وقت تک پریم چند کے افسانوں میں فنی اور تکنیکی پختگی نہیں آئی تھی اور ان کی تحریروں میں داستانوی اسلوب غالب نظر آتا ہے۔ پریم چند نے ہندو معاشرے کی قبیح رسوم پر قلم اٹھایا اور بیوہ عورت کے مسائل ، بے جوڑ شادی ، جہیز کی لعنت اور چھوت چھات جیسے موضوعات پر افسانے لکھے۔افسانہ نگاری کے دوسرے دور میں پریم چند سیاست سے بھی متاثر نظر آتے ہیں۔ یہ دور برصغیر میں تحریکوں کا دور تھا۔
تحریک ِ خلافت، تحریک عدم تعاون، ستیہ گرہ، سول نافرمانی وغیرہ۔ برصغیر کے تمام باشندے ملک کی آزادی کے لیے پرجوش تھے۔ پریم چند نے سیاسی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے قلم کے ذریعہ اس مہم میں شرکت کا ارادہ کیا اور سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔ وہ اگرچہ کوئی سیاسی آدمی نہیں تھے اور نہ ہی انہوں نے باقاعدہ طور پر سیاست میں حصہ لیا۔ لیکن شاید وہ سماجی موضوعات کے ساتھ ساتھ سیاسی موضوعات پر بھی کھل کر اظہارِ خیال کرنا چاہتے تھے۔ اس لیے انہوں نے سرکاری ملازمت کا جو اگلے سے اتار پھینکا۔ اس دور کے افسانوں میں سیاست کا رنگ قدرے واضح طور پر جھلکتا ہے۔
افسانہ نگاری کے دوسرے دور میں پریم چند نے دیہی زندگی کی طرف بھی توجہ دی اور انھوں نے دیہاتی زندگی کے مسائل کواپنے بیشتر افسانوں کا موضوع بنایا۔ ’’پوس کی رات ‘‘ ،’’سواسیر گہیوں‘‘ اور دیگر افسانے کسانوں کی غربت و افلاس کی عکاسی کرتے ہیں۔پریم چند کے افسانوں کا آخری دور مختصر عرصے پرمحیط ہے لیکن یہی دور ان کے نظریات کی پختگی اور ترویج کا دور بھی ہے۔ اس دور کے افسانوں کے موضوعات بھی سیاسی زندگی سے متعلق ہیں ۔ لیکن فن اور معیار کے اعتبار سے پچھلے دونوں ادوار کے مقابلے میں بہت بلند ہیں۔’’سوز وطن‘‘ کے افسانوں کے بعد پریم چند کے قلم سے حج اکبر ،بوڑھی کاکی، دو بیل ، نئی بیوی اور زادِ راہ جیسے افسانے تخلیق ہوئے اور پھر ان کا فن بتدریج ارتقائی منازل طے کرتا رہا۔ یہاں تک کہ ’’کفن ‘‘جیسا افسانہ لکھ کر انہوں نے دنیائے ادب میں اپنی فنی صلاحیتوں کا لوہا منوالیا۔اور ١۹۳٦میں قفات پائی۔ آخری دور کے افسانوں میں پریم چند ایک عظیم افسانہ نگار دکھائی دیتے ہیں۔ اس دور کے افسانے مقامی ہونے کے باوجود آفاقی کہلانے کے مستحق قرار دئیے جا سکتے ہیں ۔کیونکہ اب ان کے افسانوں میں وہ تمام خوبیاں پیدا ہو گئی تھیں جو اچھے اور معیاری افسانوں کا خاصہ سمجھی جاتی ہیں۔ بحوالہ ریختہ
افسانہ
عید گاہ
منشی پریم چند
رمضان کے پورے تیس روزوں کے بعد آج عید آئی۔ کتنی سہانی اور رنگین صبح ہے۔ بچے کی طرح پر تبسم درختوں پر کچھ عجیب ہریاول ہے۔ کھیتوں میں کچھ عجیب رونق ہے۔ آسمان پر کچھ عجیب فضا ہے۔ آج کا آفتاب دیکھ کتنا پیارا ہے گویا دُنیا کو عید کی خوشی پر مبارکباد دے رہا ہے۔ گاؤں میں کتنی چہل پہل ہے۔ عید گاہ جانے کی دھوم ہے۔ کسی کے کرتے میں بٹن نہیں ہیں تو سوئی تاگا لینے دوڑے جا رہا ہے۔ کسی کے جوتے سخت ہو گئے ہیں۔ اسے تیل اور پانی سے نرم کر رہا ہے۔ جلدی جلدی بیلوں کو سانی پانی دے دیں۔ عید گاہ سے لوٹتے لوٹتے دوپہر ہو جائے گی۔ تین کوس کا پیدل راستہ پھر سینکڑوں رشتے قرابت والوں سے ملنا ملانا۔ دوپہر سے پہلے لوٹنا غیر ممکن ہے۔ لڑکے سب سے زیادہ خوش ہیں۔ کسی نے ایک روزہ رکھا، وہ بھی دوپہر تک۔ کسی نے وہ بھی نہیں لیکن عید گاہ جانے کی خوشی ان کا حصہ ہے۔ روزے بڑے بوڑھوں کے لئے ہوں گے، بچوں کے لئے تو عید ہے۔ روز عید کا نام رٹتے تھے آج وہ آ گئی۔ اب جلدی پڑی ہوئی ہے کہ عید گاہ کیوں نہیں چلتے۔ انہیں گھر کی فکروں سے کیا واسطہ؟ سویّوں کے لئے گھر میں دودھ اور شکر میوے ہیں یا نہیں، اس کی انہیں کیا فکر؟ وہ کیا جانیں ابا کیوں بدحواس گاؤں کے مہاجن چودھری قاسم علی کے گھر دوڑے جا رہے ہیں، ان کی اپنی جیبوں میں تو قارون کا خزانہ رکھا ہوا ہے۔ بار بار جیب سے خزانہ نکال کر گنتے ہیں۔ دوستوں کو دکھاتے ہیں اور خوش ہو کر رکھ لیتے ہیں۔ ان ہی دو چار پیسوں میں دُنیا کی سات نعمتیں لائیں گے۔ کھلونے اور مٹھائیاں اور بگل اور خدا جانے کیا کیا۔ سب سے زیادہ خوش ہے حامد۔ وہ چار سال کا غریب خوب صورت بچہ ہے، جس کا باپ پچھلے سال ہیضہ کی نذر ہو گیا تھا اور ماں نہ جانے کیوں زرد ہوتی ہوتی ایک دن مر گئی۔ کسی کو پتہ نہ چلا کہ بیماری کیا ہے؟ کہتی کس سے؟ کون سننے والا تھا؟ دل پر جو گزرتی تھی سہتی تھی اور جب نہ سہا گیا تو دُنیا سے رُخصت ہو گئی۔ اب حامد اپنی بوڑھی دادی امینہ کی گود میں سوتا ہے اور اتنا ہی خوش ہے۔ اس کے ابا جان بڑی دُور روپے کمانے گئے تھے اور بہت سی تھیلیاں لے کر آئیں گے۔ امی جان اللہ میاں کے گھر مٹھائی لینے گئی ہیں۔ اس لئے خاموش ہے۔ حامد کے پاؤں میں جوتے نہیں ہیں۔ سر پر ایک پرانی دھرانی ٹوپی ہے جس کا گوٹہ سیاہ ہو گیا ہے پھر بھی وہ خوش ہے۔ جب اس کے ابّا جان تھیلیاں اور اماں جان نعمتیں لے کر آئیں گے تب وہ دل کے ارمان نکالے گا۔ تب دیکھے گا کہ محمود اور محسن آذر اور سمیع کہاں سے اتنے پیسے لاتے ہیں۔ دُنیا میں مصیبتوں کی ساری فوج لے کر آئے، اس کی ایک نگاہِ معصوم اسے پامال کرنے کے لئے کافی ہے۔
حامد اندر جا کر امینہ سے کہتا ہے، "تم ڈرنا نہیں امّاں! میں گاؤں والوں کا ساتھ نہ چھوڑوں گا۔ بالکل نہ ڈرنا لیکن امینہ کا دل نہیں مانتا۔ گاؤں کے بچے اپنے اپنے باپ کے ساتھ جا رہے ہیں۔ حامد کیا اکیلا ہی جائے گا۔ اس بھیڑ بھاڑ میں کہیں کھو جائے تو کیا ہو؟ نہیں امینہ اسے تنہا نہ جانے دے گی۔ ننھی سی جان۔ تین کوس چلے گا تو پاؤں میں چھالے نہ پڑ جائیں گے؟
مگر وہ چلی جائے تو یہاں سوّیاں کون پکائے گا، بھوکا پیاسا دوپہر کو لوٹے گا، کیا اس وقت سوّیاں پکانے بیٹھے گی۔ رونا تو یہ ہے کہ امینہ کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ اس نے فہمین کے کپڑے سیے تھے۔ آٹھ آنے پیسے ملے تھے۔ اس اٹھنی کو ایمان کی طرح بچاتی چلی آئی تھی اس عید کے لئے لیکن گھر میں پیسے اور نہ تھے اور گوالن کے پیسے اور چڑھ گئے تھے، دینے پڑے۔ حامد کے لئے روز دو پیسے کا دودھ تو لینا پڑتا ہے اب کُل دو آنے پیسے بچ رہے ہیں۔
وہ عید گاہ نظر آئی۔ جماعت شروع ہو گئی ہے۔ املی کے گھنے درختوں کا سایہ ہے نیچے کھلا ہوا پختہ فرش ہے۔ جس پر جاجم بچھا ہوا ہے اور نمازیوں کی قطاریں ایک کے پیچھے دوسرے خدا جانے کہاں تک چلی گئی ہیں۔ پختہ فرش کے نیچے جاجم بھی نہیں۔ کئی قطاریں کھڑی ہیں جو آتے جاتے ہیں پیچھے کھڑے ہوتے جاتے ہیں۔ آگے اب جگہ نہیں رہی۔ یہاں کوئی رُتبہ اور عہدہ نہیں دیکھتا۔ اسلام کی نگاہ میں سب برابر ہیں۔ دہقانوں نے بھی وضو کیا اور جماعت میں شامل ہو گئے۔ کتنی باقاعدہ منظم جماعت ہے، لاکھوں آدمی ایک ساتھ جھکتے ہیں، ایک ساتھ دو زانو بیٹھ جاتے ہیں اور یہ عمل بار بار ہوتا ہے ایسا معلوم ہو رہا ہے گویا بجلی کی لاکھوں بتیاں ایک ساتھ روشن ہو جائیں اور ایک ساتھ بجھ جائیں۔ کتنا پُر احترام رعب انگیز نظارہ ہے۔ جس کی ہم آہنگی اور وسعت اور تعداد دلوں پر ایک وجدانی کیفیت پیدا کر دیتی ہے۔ گویا اخوت کا رشتہ ان تمام روحوں کو منسلک کئے ہوئے ہے۔نماز ختم ہو گئی ہے لوگ باہم گلے مل رہے ہیں۔ کچھ لوگ محتاجوں اور سائلوں کو خیرات کر رہے ہیں۔ جو آج یہاں ہزاروں جمع ہو گئے ہیں۔ ہمارے دہقانوں نے مٹھائی اور کھلونوں کی دُکانوں پر یورش کی۔ بوڑھے بھی ان دلچسپیوں میں بچوں سے کم نہیں ہیں۔یہ سب دو دو پیسے کے کھلونے ہیں۔ حامد کے پاس کل تین پیسے ہیں۔ اگر دو کا ایک کھلونا لے لے تو پھر اور کیا لے گا؟ نہیں کھلونے فضول ہیں۔ کہیں ہاتھ سے گر پڑے تو چور چور ہو جائے۔ ذرا سا پانی پڑ جائے تو سارا رنگ دُھل جائے۔ ان کھلونوں کو لے کر وہ کیا کرے گا، کس مصرف کے ہیں؟
محسن کہتا ہے، "میرا بہشتی روز پانی دے جائے گا صبح شام۔"نوری بولی، "اور میرا وکیل روز مقدمے لڑے گا اور روز روپے لائے گا"
حامد کھلونوں کی مذمت کرتا ہے۔ مٹی کے ہی تو ہیں، گریں تو چکنا چور ہو جائیں، لیکن ہر چیز کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہا ہے اور چاہتا ہے کہ ذرا دیر کے لئے انہیں ہاتھ میں لے سکتا۔ یہ بساطی کی دکان ہے، طرح طرح کی ضروری چیزیں، ایک چادر بچھی ہوئی ہے۔ گیند، سیٹیاں، بگل، بھنورے، ربڑ کے کھلونے اور ہزاروں چیزیں۔ محسن ایک سیٹی لیتا ہے محمود گیند، نوری ربڑ کا بت جو چوں چوں کرتا ہے اور سمیع ایک خنجری۔ اسے وہ بجا بجا کر گائے گا۔ حامد کھڑا ہر ایک کو حسرت سے دیکھ رہا ہے۔ جب اس کا رفیق کوئی چیز خرید لیتا ہے تو وہ بڑے اشتیاق سے ایک بار اسے ہاتھ میں لے کر دیکھنے لگتا ہے، لیکن لڑکے اتنے دوست نواز نہیں ہوتے۔ خاص کر جب کہ ابھی دلچسپی تازہ ہے۔ بے چارہ یوں ہی مایوس ہو کر رہ جاتا ہے۔کھلونوں کے بعد مٹھائیوں کا نمبر آیا، کسی نے ریوڑیاں لی ہیں، کسی نے گلاب جامن، کسی نے سوہن حلوہ۔ مزے سے کھا رہے ہیں۔ حامد ان کی برادری سے خارج ہے۔ کمبخت کی جیب میں تین پیسے تو ہیں، کیوں نہیں کچھ لے کر کھاتا۔ حریص نگاہوں سے سب کی طرف دیکھتا ہے۔محسن نے کہا، "حامد یہ ریوڑی لے جا کتنی خوشبودار ہیں۔"
حامد سمجھ گیا یہ محض شرارت کہے۔ محسن اتنا فیاض طبع نہ تھا۔ پھر بھی وہ اس کے پاس گیا۔ محسن نے دونے سے دو تین ریوڑیاں نکالیں۔ حامد کی طرف بڑھائیں۔ حامد نے ہاتھ پھیلایا۔ محسن نے ہاتھ کھینچ لیا اور ریوڑیاں اپنے منھ میں رکھ لیں۔ محمود اور نوری اور سمیع خوب تالیاں بجا بجا کر ہنسنے لگے۔ حامد کھسیانہ ہو گیا۔ محسن نے کہا۔
"اچھا اب ضرور دیں گے۔ یہ لے جاؤ۔ اللہ قسم۔"
حامد نے کہا، "رکھیے رکھیےکیا میرے پاس پیسے نہیں ہیں؟"
سمیع بولا، "تین ہی پیسے تو ہیں، کیا کیا لو گے؟"
محمود بولا، "تم اس سے مت بولو، حامد میرے پاس آؤ۔ یہ گلاب جامن لے لو"
حامد: "مٹھائی کون سی بڑی نعمت ہے۔ کتاب میں اس کی برائیاں لکھی ہیں۔"
محسن: لیکن جی میں کہہ رہے ہو گے کہ کچھ مل جائے تو کھا لیں۔ اپنے پیسے کیوں نہیں نکالتے؟" محمود: اس کی ہوشیاری میں سمجھتا ہوں۔ جب ہمارے سارے پیسے خرچ ہو جائیں گے، تب یہ مٹھائی لے گا اور ہمیں چڑا چڑا کر کھائے گا۔
حلوائیوں کی دُکانوں کے آگے کچھ دُکانیں لوہے کی چیزوں کی تھیں کچھ گلٹ اور ملمع کے زیورات کی۔ لڑکوں کے لئے یہاں دلچسپی کا کوئی سامان نہ تھا۔ حامد لوہے کی دُکان پر ایک لمحہ کے لئے رک گیا۔ دست پناہ رکھے ہوئے تھے۔ وہ دست پناہ خرید لے گا۔ ماں کے پاس دست پناہ نہیں ہے۔ توے سے روٹیاں اتارتی ہیں تو ہاتھ جل جاتا ہے۔ اگر وہ دست پناہ لے جا کر اماں کو دے دے تو وہ کتنی خوش ہوں گی۔ پھر ان کی انگلیاں کبھی نہیں جلیں گی، گھر میں ایک کام کی چیز ہو جائے گی۔ کھلونوں سے کیا فائدہ۔ مُفت میں پیسے خراب ہوتے ہیں۔ ذرا دیر ہی تو خوشی ہوتی ہے پھر تو انہیں کوئی آنکھ اُٹھا کر کبھی نہیں دیکھتا۔ یا تو گھر پہنچتے پہنچتے ٹوٹ پھوٹ کر برباد ہو جائیں گے یا چھوٹے بچے جو عید گاہ نہیں جا سکتے ہیں ضد کر کے لے لیں گے اور توڑ ڈالیں گے۔ دست پناہ کتنے فائدہ کی چیز ہے۔ روٹیاں توے سے اُتار لو، چولھے سے آگ نکال کر دے دو۔ اماں کو فرصت کہاں ہے بازار آئیں اور اتنے پیسے کہاں ملتے ہیں۔ روز ہاتھ جلا لیتی ہیں۔ اس کے ساتھی آگے بڑھ گئے ہیں۔ سبیل پر سب کے سب پانی پی رہے ہیں۔ کتنے لالچی ہیں۔ سب نے اتنی مٹھائیاں لیں کسی نے مجھے ایک بھی نہ دی۔ اس پر کہتے ہیں میرے ساتھ کھیلو۔ میری تختی دھو لاؤ۔ اب اگر یہاں محسن نے کوئی کام کرنے کو کہا تو خبر لوں گا، کھائیں مٹھائی آپ ہی منہ سڑے گا، پھوڑے پھنسیاں نکلیں گی۔ آپ ہی زبان چٹوری ہو جائے گی، تب پیسے چرائیں گے اور مار کھائیں گے۔ میری زبان کیوں خراب ہو گی۔ اس نے پھر سوچا، اماں دست پناہ دیکھتے ہی دوڑ کر میرے ہاتھ سے لے لیں گی اور کہیں گی۔ میرا بیٹا اپنی ماں کے لئے دست پناہ لایا ہے، ہزاروں دُعائیں دیں گی۔ پھر اسے پڑوسیوں کو دکھائیں گی۔ سارے گاؤں میں واہ واہ مچ جائے گی۔ ان لوگوں کے کھلونوں پر کون انہیں دُعائیں دے گا۔ بزرگوں کی دُعائیں سیدھی خدا کی درگاہ میں پہنچتی ہیں اور فوراً قبول ہوتی ہیں۔ میرے پاس بہت سے پیسے نہیں ہیں۔ جب ہی تو محسن اور محمود یوں مزاج دکھاتے ہیں۔ میں بھی ان کو مزاج دکھاؤں گا۔ وہ کھلونے کھیلیں، مٹھائیاں کھائیں میں غریب سہی۔ کسی سے کچھ مانگنے تو نہیں جاتا۔ آخر ابا کبھی نہ کبھی آئیں گے ہی پھر ان لوگوں سے پوچھوں گا کتنے کھلونے لو گے؟ ایک ایک کو ایک ٹوکری دوں اور دکھا دوں کہ دوستوں کے ساتھ اس طرح سلوک کیا جاتا ہے۔ جتنے غریب لڑکے ہیں سب کو اچھے اچھے کرتے دلوا دوں گا اور کتابیں دے دوں گا، یہ نہیں کہ ایک پیسہ کی ریوڑیاں لیں تو چڑا چڑا کر کھانے لگیں۔ دست پناہ دیکھ کر سب کے سب ہنسیں گے۔ احمق تو ہیں ہی سب۔ اس نے ڈرتے ڈرتے دُکاندار سے پوچھا، "یہ دست پناہ بیچو گے؟"
دکاندار نے اس کی طرف دیکھا اور ساتھ کوئی آدمی نہ دیکھ کر کہا، وہ تمہارے کام کا نہیں ہے۔
"بکاؤ ہے یا نہیں؟"
"بکاؤ ہے جی اور یہاں کیوں لاد کر لائے ہیں"
"تو بتلاتے کیوں نہیں؟ کے پیسے کا دو گے؟"
"چھ پیسے لگے لگا"
حامد کا دل بیٹھ گیا۔ کلیجہ مضبوط کر کے بولا، تین پیسے لو گے؟ اور آگے بڑھا کہ دُکاندار کی گھرکیاں نہ سنے، مگر دُکاندار نے گھرکیاں نہ دیں۔ دست پناہ اس کی طرف بڑھا دیا اور پیسے لے لئے۔ حامد نے دست پناہ کندھے پر رکھ لیا، گویا بندوق ہے اور شان سے اکڑتا ہوا اپنے رفیقوں کے پاس آیا۔ محسن نے ہنستے ہوئے کہا، "یہ دست پناہ لایا ہے۔ احمق اسے کیا کرو گے؟"
حامد نے دست پناہ کو زمین پر پٹک کر کہا، "ذرا اپنا بہشتی زمین پر گرا دو، ساری پسلیاں چور چور ہو جائیں گی بچو کی"
محمود: "تو یہ دست پناہ کوئی کھلونا ہے؟"
حامد: "کھلونا کیوں نہیں ہے؟ ابھی کندھے پر رکھا، بندوق ہو گیا" ہاتھ میں لے لیا فقیر کا چمٹا ہو گیا، چاہوں تو اس سے تمہاری ناک پکڑ لوں۔ ایک چمٹا دوں تو تم لوگوں کے سارے کھلونوں کی جان نکل جائے۔ تمہارے کھلونے کتنا ہی زور لگائیں، اس کا بال بیکا نہیں کر سکتے۔ میرا بہادر شیر ہے یہ دست پناہ۔"
سمیع متاثر ہو کر بدلا، "میری خنجری سے بدلو گے؟ دو آنے کی ہے"
حامد نے خنجری کی طرف حقارت سے دیکھ کر کہا، "میرا دست پناہ چاہے تو تمہاری خنجری کا پیٹ پھاڑ ڈالے۔ بس ایک چمڑے کی جھلی لگا دی، ڈھب ڈھب بولنے لگی۔ ذرا سا پانی لگے تو ختم ہو جائے۔ میرا بہادر دست پناہ تو آگ میں، پانی میں، آندھی میں، طوفان میں برابر ڈٹا رہے گا۔ میلہ بہت دور پیچھے چھوٹ چکا تھا۔ دس بج رہے تھے۔ گھر پہنچنے کی جلدی تھی۔ اب دست پناہ نہیں مل سکتا تھا۔ اب کسی کے پاس پیسے بھی تو نہیں رہے، حامد ہے بڑا ہوشیار۔ اب دو فریق ہو گئے، محمود، محسن اور نوری ایک طرف، حامد یکہ و تنہا دوسری طرف۔ سمیع غیر جانبدار ہے جس کی فتح دیکھے گا اس کی طرف ہو جائے گا۔ مناظرہ شروع ہو گیا۔ آج حامد کی زبان بڑی صفائی سے چل رہی ہے۔ اتحادِ ثلاثہ اس کے جارحانہ عمل سے پریشان ہو رہا ہے۔ ثلاثہ کے پاس تعداد کی طاقت ہے، حامد کے پاس حق اور اخلاق، ایک طرف مٹی ربڑ اور لکڑی کی چیزیں دوسری جانب اکیلا لوہا جو اس وقت اپنے آپ کو فولاد کہہ رہا ہے۔
محسن نے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر کہا، "اچھا تمہارا دست پناہ پانی تو نہیں بھر سکتا۔ حامد نے دست پناہ کو سیدھا کر کے کہا کہ یہ بہشتی کو ایک ڈانٹ پلائے گا تو دوڑا ہوا پانی لا کر اس کے دروازے پر چھڑکنے لگے گا۔ جناب اس سے چاہے گھڑے مٹکے اور کونڈے بھر لو۔محسن کا ناطقہ بند ہو گیا۔ نوری نے کمک پہنچائی، "بچہ گرفتار ہو جائیں تو عدالت میں بندھے بندھے پھریں گے۔ تب تو ہمارے وکیل صاحب ہی پیروی کریں گے۔ بولئے جناب"
حامد کے پاس اس وار کا دفیعہ اتنا آسان نہ تھا، دفعتاً اس نے ذرا مہلت پا جانے کے ارادے سے پوچھا، "اسے پکڑنے کون آئے گا؟"
محمود نے کہا، "یہ سپاہی بندوق والا"
حامد نے منھ چڑا کر کہا یہ بے چارے اس رستم ہند کو پکڑ لیں گے؟ اچھا لاؤ ابھی ذرا مقابلہ ہو جائے۔ اس کی صورت دیکھتے ہی بچہ کی ماں مر جائے گی، پکڑیں گے کیا بے چارے"
محسن نے تازہ دم ہو کر وار کیا، "تمہارے دست پناہ کا منھ روز آگ میں جلا کر ے گا۔" حامد کے پاس جواب تیار تھا، "آگ میں بہادر کودتے ہیں جناب۔ تمہارے یہ وکیل اور سپاہی اور بہشتی ڈرپوک ہیں۔ سب گھر میں گھس جائیں گے۔ آگ میں کودنا وہ کام ہے جو رُستم ہی کر سکتا ہے۔"
نوری نے انتہائی جدت سے کام لیا، "تمہارا دست پناہ باورچی خانہ میں زمین پر پڑا رہے گا۔ میرا وکیل شان سے میز کرسی لگا کر بیٹھے گا۔ اس جملہ نے مُردوں میں بھی جان ڈال دی، سمیع بھی جیت گیا۔"بے شک بڑے معرکے کی بات کہی، دست پناہ باورچی خانہ میں پڑا رہے گا"
حامد نے دھاندلی کی، میرا دست پناہ باورچی خانہ میں رہے گا، وکیل صاحب کرسی پر بیٹھیں گے تو جا کر انہیں زمین پر پٹک دے گا اور سارا قانون ان کے پیٹ میں ڈال دے گا۔اس جواب میں بالکل جان نہ تھی، بالکل بے تکی سی بات تھی لیکن قانون پیٹ میں ڈالنے والی بات چھا گئی۔ تینوں سورما منھ تکتے رہ گئے۔ حامد نے میدان جیت لیا، گو ثلاثہ کے پاس ابھی گیند سیٹی اور بت ریزرو تھے مگر ان مشین گنوں کے سامنے ان بزدلوں کو کون پوچھتا ہے۔ دست پناہ رستمِ ہند ہے۔ اس میں کسی کو چوں چرا کی گنجائش نہیں۔"
فاتح کو مفتوحوں سے خوشامد کا مزاج ملتا ہے۔ وہ حامد کو ملنے لگا اور سب نے تین تین آنے خرچ کئے اور کوئی کام کی چیز نہ لا سکے۔ حامد نے تین ہی پیسوں میں رنگ جما لیا۔ کھلونوں کا کیا اعتبار۔ دو ایک دن میں ٹوٹ پھوٹ جائیں گے۔ حامد کا دست پناہ تو فاتح رہے گا۔ ہمیشہ صلح کی شرطیں طے ہونے لگیں۔
محسن نے کہا، "ذرا اپنا چمٹا دو۔ ہم بھی تو دیکھیں۔ تم چاہو تو ہمارا وکیل دیکھ لو حامد! ہمیں اس میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ وہ فیاض طبع فاتح ہے۔ دست پناہ باری باری سے محمود، محسن، نور اور سمیع سب کے ہاتھوں میں گیا اور ان کے کھلونے باری باری حامد کے ہاتھ میں آئے۔ کتنے خوبصورت کھلونے ہیں، معلوم ہوتا ہے بولا ہی چاہتے ہیں۔ مگر ان کھلونوں کے لئے انہیں دُعا کون دے گا؟ کون کون ان کھلونوں کو دیکھ کر اتنا خوش ہو گا جتنا اماں جان دست پناہ کو دیکھ کر ہوں گی۔ اسے اپنے طرزِ عمل پر مطلق پچھتاوا نہیں ہے۔ پھر اب دست پناہ تو ہے اور سب کا بادشاہ۔ راستے میں محمود نے ایک پیسے کی ککڑیاں لیں۔ اس میں حامد کو بھی خراج ملا حالانکہ وہ انکار کرتا رہا۔ محسن اور سمیع نے ایک ایک پیسے کے فالسے لئے، حامد کو خراج ملا۔ یہ سب رستم ہند کی برکت تھی۔
گیارہ بجے سارے گاؤں میں چہل پہل ہو گئی۔ میلے والے آ گئے۔ محسن کی چھوٹی بہن نے دوڑ کر بہشتی اس کے ہاتھ سے چھین لیا اور مارے خوشی جو اچھلی تو میاں بہشتی نیچے آ رہے اور عالمِ جاودانی کو سدھارے۔ اس پر بھائی بہن میں مار پیٹ ہوئی۔ دونوں خوب روئے۔ ان کی اماں جان یہ کہرام سن کر اور بگڑیں۔ دونوں کو اوپر سے دو دو چانٹے رسید کئے۔ میاں نوری کے وکیل صاحب کا حشر اس سے بھی بدتر ہوا۔ وکیل زمین پر یا طاق پرتو نہیں بیٹھ سکتا۔ اس کی پوزیشن کا لحاظ تو کرنا ہی ہو گا۔ دیوار میں دو کھونٹیاں گاڑی گئیں۔ ان پر چیڑ کا ایک پرانا پڑا رکھا گیا۔ پڑے پر سرخ رنگ کا ایک چیتھڑا بچھا دیا گیا جو منزلۂ قالین کا تھا۔ وکیل صاحب عالم بالا پہ جلوہ افروز ہوئے۔ یہیں سے قانونی بحث کریں گے۔ نوری ایک پنکھا لے کر جھلنے لگی۔ معلوم نہیں پنکھے کی ہوا سے یا پنکھے کی چوٹ سے وکیل صاحب عالم بالا سے دُنیائے فانی میں آ رہے۔ اور ان کی مجسمۂ خاکی کے پرزے ہوئے۔ پھر بڑے زور کا ماتم ہوا اور وکیل صاحب کی میت پارسی دستور کے مطابق کوڑے پر پھینک دی گئی تاکہ بے کار نہ جا کر زاغ و زغن کے کام آ جائے۔اب میاں حامد کا قصہ سنئے۔ امینہ اس کی آواز سنتے ہی دوڑی اور اسے گود میں اُٹھا کر پیار کرنے لگی۔ دفعتاً اس کے ہاتھ میں چمٹا دیکھ کر چونک پڑی۔
"یہ دست پناہ کہاں تھا بیٹا؟"
"میں نے مول لیا ہے، تین پیسے میں۔"
آمینہ نے چھاتی پیٹ لی۔ "یہ کیسا بے سمجھ لڑکا ہے کہ دوپہر ہو گئی۔ نہ کچھ کھایا نہ پیا۔ لایا کیا یہ دست پناہ۔ سارے میلے میں تجھے اور کوئی چیز نہ ملی۔"
حامد نے خطاوارانہ انداز سے کہا، "تمہاری انگلیاں توے سے جل جاتی تھیں کہ نہیں؟"
آمینہ کا غصہ فوراً شفقت میں تبدیل ہو گیا۔ اور شفقت بھی وہ نہیں جو منہ پر بیان ہوتی ہے اور اپنی ساری تاثیر لفظوں میں منتشر کر دیتی ہے۔ یہ بے زبان شفقت تھی۔ دردِ التجا میں ڈوبی ہوئی۔ اُف کتنی نفس کشی ہے۔ کتنی جانسوزی ہے۔ غریب نے اپنے طفلانہ اشتیاق کو روکنے کے لئے کتنا ضبط کیا۔ جب دوسرے لڑکے کھلونے لے رہے ہوں گے، مٹھائیاں کھا رہے ہوں گے، اس کا دل کتنا لہراتا ہو گا۔ اتنا ضبط اس سے ہوا۔ کیونکہ اپنی بوڑھی ماں کی یاد اسے وہاں بھی رہی۔ میرا لال میری کتنی فکر رکھتا ہے۔ اس کے دل میں ایک ایسا جذبہ پیدا ہوا کہ اس کے ہاتھ میں دُنیا کی بادشاہت آ جائے اور وہ اسے حامد کے اوپر نثار کر دے۔اور تب بڑی دلچسپ بات ہوئی۔ بڑھیا امینہ ننھی سی امینہ بن گئی۔ وہ رونے لگی۔ دامن پھیلا کر حامد کو دُعائیں دیتی جاتی تھی اور آنکھوں سے آنسو کی بڑی بڑی بوندیں گراتی جاتی تھی۔ حامد اس کا راز کیا سمجھتا اور نہ شاید ہمارے بعض ناظرین ہی سمجھ سکیں ۔
عیدگاہ کا تجزیہ
منشی پریم چند حقیقت پسند افسانہ نگار ہیں ۔عید گاہ ان کا شہکار افسانہ ہے۔عیدگاہ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں تخلیق کا وفور پریم چند کے مارکسزم اور ان کی ترقی پسندی کو اس طرح پھلانگ گیا ہے کہ افسانے میں مابعدالطبیعات در آئی ہے اور اس میں ایک ماورائی جہت پیدا ہوگئی ہے۔ دوسری جانب ’’عیدگاہ‘‘ میں غربت کا اثر الٹ کر رہ گیا ہے۔ پریم چند کے دوسرے افسانوں میں غربت انسانوں کو بے حس اور کند ذہن بناتی ہے، مگر عیدگاہ میں غربت نے افسانے کے مرکزی کردار کو انتہائی حساس، ذہین اور خوددار بنادیا ہے۔ عیدگاہ کی کہانی یہ ہے کہ حامد ایک گائوں میں اپنی غریب دادی آمینہ کے ساتھ رہتا ہے۔ اس کے ماں باپ کا انتقال ہوچکا ہے۔ عید آگئی ہے اور آمینہ کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں ہیں کہ وہ حامد کے لیے کپڑے بناسکے اور جوتے خرید سکے۔ حامد عیدگاہ جانے کی ضد کرتا ہے تو وہ اسے عیدی کے طور پر تین پیسے دیتی ہے۔ حامد کے تمام دوستوں کے پاس عیدی کے کافی پیسے ہیں۔ حامد اپنے دوستوں کے ساتھ عیدگاہ کے بازار میں پہنچتا ہے تو وہاں کھانے پینے کی بہت سی چیزیں ہوتی ہیں۔ سب بچے کچھ نہ کچھ کھانے پینے لگتے ہیں، حامد کا دل بھی کچھ نہ کچھ کھانے کو چاہتا ہے، مگر اس کے پاس صرف تین پیسے ہیں۔ اس کی یہ محرومی اسے دلیل ایجاد کرنے پر مائل کرتی ہے، وہ خود کو سمجھاتا ہے کہ فلاں چیز سے پیٹ خراب ہوجاتا ہے اور فلاں شے کھانے سے چٹورپن کی عادت پڑجاتی ہے۔ حامد کو بچے کیا بڑے بھی جھولے جھولتے نظر آتے ہیں، اور بعض بڑے حامد کو جھولا جھلانے کی پیشکش کرتے ہیں، مگر وہ سوچتا ہے کہ میں کسی کا احسان کیوں لوں؟ حامد کے دوست کھلونے خریدنے لگتے ہیں، حامد کا دل بھی کھلونے خریدنے کو چاہتا ہے، مگر اچانک اسے خیال آتا ہے کہ اس کی دادی آمینہ کے پاس دست پناہ یعنی چمٹا نہیں ہے، وہ چولہے پر روٹیاں پکاتی ہیں تو ان کا ہاتھ جل جاتا ہے۔ چنانچہ وہ فیصلہ کرتا ہے کہ کھلونے نہیں خریدے گا بلکہ چمٹا خریدے گا، اور وہ بالآخر چمٹا خرید لیتا ہے۔ وہ چمٹا خرید کر اپنے دوستوں کے پاس پہنچا تو وہ اس کا مذاق اڑانے لگے، کہنے لگے کہ حامد نے کھلونے کے بجائے چمٹا خریدا ہے۔ مگر حامد نے چمٹے کی تعریف میں ایسی تقریریں کیں کہ چمٹا دیکھتے ہی دیکھتے ’’ولن‘‘ سے ’’ہیرو‘‘ بن گیا، اور تمام بچوں کو اپنے کھلونے چمٹے کے سامنے حقیر نظر آنے لگے۔ حامد چمٹا لے کر گھر پہنچا تو آمینہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ اس کے چار سال کے پوتے نے کیسی نفس کشی کی ہے اور اسے اپنی دادی سے کیسی محبت ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ اس افسانے میں مابعدالطبیعاتی یا ماورائی جہت کہاں ہے؟ پریم چند نے ’’عیدگاہ‘‘ کا آغاز اس طرح کیا ہے:
’’رمضان کے پورے تیس روزوں کے بعد آج عید آئی ہے۔ کتنی سہانی اور رنگین صبح ہے… بچے کی طرح پُرتبسم۔ درختوں پر کچھ عجیب ہریاول ہے، کھیتوں میں کچھ عجیب رونق ہے، آسمان پر کچھ عجیب فضا ہے۔ آج کا آفتاب کتنا پیارا ہے، گویا دنیا کو عید کی خوشی پر مبارک باد دے رہا ہے۔‘‘
پریم چند ہندو ہیں اور مارکسسٹ ہیں مگر عید کو رمضان سے منسلک کیا ہے، اور رمضان روحانیت کی علامت ہے، مابعدالطبیعات کا استعارہ ہے۔ پھر پریم چند نے عید کے اثر کو پورے ماحول بلکہ پوری کائنات پر مرتب ہوتے دکھایا ہے۔ درخت، کھیت، آسمان اور آفتاب طبیعات کا حصہ ہیں، مگر عید نے انہیں ’’کچھ اور‘‘ بنادیا ہے۔ یہ ’’کچھ اور‘‘ ہی ماورائی جہت ہے۔ پریم چند نے عیدگاہ اور اس میں ہونے والی نماز کی جو منظرکشی کی ہے اس کی روحانی اور ماورائی جہت اور معنویت بھی واضح ہے۔ پریم چند لکھتے ہیں:
’’وہ عیدگاہ آئی، جماعت شروع ہوگئی ہے۔ اوپر املی کے گھنے درختوں کا سایہ ہے، نیچے کھلا ہوا پختہ فرش ہے جس پر جاجم بچھا ہوا ہے اور نمازیوں کی قطاریں ایک کے بعد دوسری خدا جانے کہاں تک چلی گئی ہیں۔ پختہ فرش کے نیچے جاجم بھی نہیں۔ کئی قطاریں کھڑی ہیں، جو آتے جاتے ہیں پیچھے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ آگے اب جگہ نہیں رہی۔ یہاں کوئی رتبہ اور عہدہ نہیں دیکھتا۔ اسلام کی نگاہ میں سب انسان برابر ہیں۔ دہقانوں نے بھی وضو کیا اور جماعت میں شامل ہوگئے۔ کتنی باقاعدہ منظم جماعت ہے۔ لاکھوں آدمی ایک ساتھ جھکتے ہیں، ایک ساتھ دو زانو بیٹھ جاتے ہیں، اور یہ عمل بار بار ہوتا ہے۔ ایسا معلوم ہورہا ہے گویا بجلی کی لاکھوں بتیاں ایک ساتھ روشن ہوجائیں اور ایک ساتھ بجھ جائیں۔ کتنا پُراحترام رعب انگیز نظارہ ہے، جس کی ہم آہنگی اور وسعت لاتعداد دلوں پر ایک وجدانی کیفیت طاری کردیتی ہے، گویا اخوت کا ایک رشتہ ان تمام روحوں کو منسلک کیے ہوئے ہے۔‘‘
تجزیہ کیا جائے تو پریم چند نے اس منظر میں عیدگاہ اور نماز کو روحانیت کی علامت بنادیا ہے۔ پریم چند کے فلسفۂ حیات میں اصل مساوات معاشی مساوات تھی، مگر انہوں نے اس منظر میں جو مساوات دکھائی ہے وہ اپنی اصل میں ’’روحانی مساوات‘‘ ہے۔ پریم چند نے نمازیوں کو ’’بجلی کی بتیوں‘‘ سے تشبیہ دی ہے اور روشنی روحانیت کی علامت ہے۔ پریم چند کے بقول نماز کا منظر دلوں پر ’’وجدانی کیفیت‘‘ طاری کرتا ہے اور وجدانی کیفیت ’’ماورائ‘‘ کا استعارہ ہے۔
پریم چند نے ’’عیدگاہ‘‘ میں غربت اور محرومی کو جس طرح افسانے کے مرکزی کردار کی طاقت اور ذہانت بنایا ہے اور اس کے نتیجے میں حامد کا چمٹا جس طرح ہیرو بنتا ہے اُس کا بیان بھی کم اہم اور کم معنی خیز نہیں۔ حامد چمٹا خرید کر دوستوں کے پاس لوٹتا ہے۔
’’محسن نے ہنستے ہوئے کہا: ’’یہ دست پناہ (چمٹا)لایا ہے، احمق اسے کیا کرے گا؟‘‘
حامد نے دست پناہ کو زمین پر پٹخ کر کہا ’’ذرا اپنا بہشتی زمین پر گرادو، ساری پسلیاں چور چور ہوجائیں گی‘‘۔
محمود: ’’تو یہ دست پناہ کوئی کھلونا ہے؟‘‘
حامد :’’کھلونا کیوں نہیں ہے! ابھی کندھے پر رکھا بندوق ہوگیا، ہاتھ میں لیا فقیر کا چمٹا ہوگیا، چاہوں تو اس سے تمہاری ناک پکڑلوں، ایک چمٹا دوں تو تم لوگوں کے سارے کھلونوں کی جان نکل جائے، تمہارے کھلونے کتنا ہی زور لگائیں اس کا بال بیکا نہیں کرسکتے۔ میرا بہادر شیر ہے دست پناہ۔‘‘
اس طرح کے مکالموں کا نتیجہ یہ نکلا کہ تھوڑی ہی دیر میں تمام بچے حامد کے چمٹے کو اس طرح دیکھنے لگے جیسے وہ کوئی ’’ہیرو‘‘ ہو۔ حامد کے تمام دوستوں نے ایک ایک کرکے چمٹے کو ہاتھ میں لیا، اس کا معائنہ کیا اور اپنے کھلونے حامد کو دکھائے، حالانکہ اس سے پہلے وہ حامد کو اپنے کھلونے دکھانے کے لیے تیار نہ تھے۔اس تناظر میں دیکھا جائے تو پریم چند نے ایک ’’بے جان چمٹے‘‘ کو افسانے کا جیتا جاگتا ’’انسانی کردار‘‘ بنادیا ہے۔ یہاں بھی طبیعات کو مابعدالطبیعات میں ڈھالنے کے عمل کو بروئے کار دیکھا جاسکتا ہے۔ مگر ایسا کیوں ہے کہ پریم چند کے سب سے مشہور افسانے ’’کفن‘‘ میں جو غربت اور محرومی انسان کو کند ذہن اور انتہائی بے حس بنارہی تھی، اُسی غربت اور محرومی نے ’’عیدگاہ‘‘ میں ایک چار سال کے بچے کو انتہائی حساس، باشعور اور ذہین بنادیا۔
سعادت حسن منٹو
ولادت:۔ ١۹١۲ ء وفات:۔ ١۹۵۵ ء
سعادت حسن منٹو کے والد غلام حسن منٹو قوم اور ذات کے کشمیری امرتسر کے ایک محلے کوچہ وکیلاں میں ایک بڑے خاندان کے ساتھ رہتے تھے۔منٹو 11 مئی 1912کو موضع سمبرالہ، ضلع لدھیانہ میں پیدا ہو ئے۔ ان کے والد لدھیانہ کی کسی تحصیل میں تعینات تھے- دوست انہیں ٹامی کے نام سے پکارتے تھے۔ منٹو اپنے گھر میں ایک سہما ہوا بچہ تھا۔ جو سوتیلے بہن بھائیوں کی موجودگی اور والد کی سختی کی وجہ سے اپنا آپ ظاہر نہ کر سکتا تھا۔ ان کی والدہ ان کی طرف دار تھیں۔ وہ ابتدا ہی سے اسکول کی تعلیم کی طرف مائل نہیں تھے۔ ان کی ابتدائی تعلیم گھر میں ہوئی۔ 1921ء میں اسے ایم اے او مڈل اسکول میں چوتھی جماعت میں داخل کرایا گيا۔
ان کا تعلیمی کریئر حوصلہ افزا نہیں تھا۔ میٹرک کے امتحان میں تین مرتبہ فیل ہونے کے بعد انہوں نے 1931 میں یہ امتحان پاس کیا تھا۔ جس کے بعد انہوں نے ہندو سبھا کالج میں ایف اے میں داخلہ لیا لیکن اسے چھوڑ کر، ایم او کالج میں سال دوم میں داخلہ لے لیا- انہوں نے انسانی نفسیات کو اپنا موضوع بنایا۔ سعادت حسن منٹو ایک حساس شخصیت کا مالک تھا۔ وہ کسی وجہ سے کسی کو نا پسندکرتا تو پھر خاطر میں نہیں لاتا تھا۔ اس کی انا اگر مجروح ہوتی تو آگے والے کی شامت ہی آ جاتی۔ پاکستان بننے کے بعد انہوں نے بہترین افسانے تخلیق کیے۔ جن میں ٹوبہ ٹیک سنگھ، کھول دو، ٹھنڈا گوشت، دھواں، بو شامل ہیں۔ ان کے کئی افسانوی مجموعے اور خاکے اور ڈرامے شائع ہو چکے ہیں۔ کثرتِ شراب نوشی کی وجہ سے 18 جنوری1955ء ان کا انتقال ہوا۔
سعادت حسن منٹو اردو کا واحد کبیر افسانہ نگار ہے جس کی تحریریں آج بھی ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں۔ وہ ایک صاحب اسلوب نثر نگار تھے جس کے افسانہ مضامین اور خاکے اردو ادب میں بے مثال حیثیت کے مالک ہیں۔ منٹو ایک معمار افسانہ نویس تھے جنہوں نے اردو افسانہ کو ایک نئی راہ دکھائی-افسانہ مجھے لکھتا ہے منٹو نے یہ بہت بڑی بات کہی تھی۔ منٹو کی زندگی بذات خود ناداری انسانی جدوجہد بیماری اور ناقدری کی ایک المیہ کہانی تھی جسے اردو افسانے نے لکھا۔ منٹو نے دیکھی پہچانی دنیا میں سے ایک ایسی دنیا دریافت کی جسے لوگ قابل اعتنا نہیں سمجھتے تھے یہ دنیا گمراہ لوگوں کی تھی۔ جو مروجہ اخلاقی نظام سے اپنی بنائی ہوئی دنیا کے اصولوں پر چلتے تھے ان میں اچھے لوگ بھی تھے اور برے بھی۔ یہ لوگ منٹو کا موضوع تھے اردو افسانے میں یہ ایک بہت بڑی موضوعاتی تبدیلی تھی جو معمار افسانہ نویس کی پہلی اینٹ تھی۔ اس کے افسانے محض واقعاتی نہیں ہیں ان کے بطن میں تیسری دنیا کے پس ماندہ معاشرے کے تضادات کی داستان موجود ہے۔
سعادت حسن منٹو
منگو کوچوان اپنے اڈے میں بہت عقلمند آدمی سمجھا جاتا تھا۔ گو اس کی تعلیمی حیثیت صفر کے برابر تھی اور اس نے کبھی اسکول کا منہ بھی نہیں دیکھا تھا لیکن اس کے باوجود اسے دنیا بھر کی چیزوں کا علم تھا۔ اڈے کے وہ تمام کوچوان جن کو یہ جاننے کی خواہش ہوتی تھی کہ دنیا کے اندر کیا ہو رہا ہے استاد منگو کی وسیع معلومات سے اچھی طرح واقف تھے۔
پچھلے دنوں جب استاد منگو نے اپنی ایک سواری سے سپین میں جنگ چھڑ جانے کی افواہ سنی تھی۔ تو اس نے گاما چودھری کے چوڑے کاندھے پر تھپکی دے کر مدبرانہ انداز میں پیش گوئی کی تھی ’’دیکھ لینا گاما چودھری، تھوڑے ہی دنوں میں اسپین کے اندر جنگ چھڑ جائے گی۔‘‘
جب گاما چودھری نے اس سے یہ پوچھا تھا۔ کہ اسپین کہاں واقع ہے تو استاد منگو نے بڑی متانت سے جواب دیا تھا۔ ولایت میں اور کہاں‘‘؟
اسپین کی جنگ چھڑی۔ اور جب ہر شخص کو پتہ چل گیا۔ تو اسٹیشن کے اڈے میں جتنے کوچوان حُقہ پی رہے تھے۔ دل ہی دل میں استاد منگو کی بڑائی کا اعتراف کر رہے تھے۔ اور استاد منگو اس وقت مال روڈ کی چمکیلی سطح پر تانگہ چلاتے ہوئے کسی سواری سے تازہ ہندو مسلم فساد پر تبادلہ خیال کر رہا تھا۔
اس روز شام کے قریب جب وہ اڈے میں آیا تو اس کا چہرہ غیر معمولی طور پر تمتمایا ہوا تھا۔ حُقے کا دور چلتے چلتے جب ہندومسلم فساد کی بات چھڑی تو استاد منگو نے سر پر سے خاکی پگڑی اتاری۔ اور بغل میں داب کر بڑے مفکرانہ لہجے میں کہا:۔
’’یہ کسی پیر کی بددُعا کا نتیجہ ہے کہ آئے دن ہندوؤں اور مسلمانوں میں چاقو، چُھریاں چلتی رہتی ہیں۔ اور میں نے اپنے بڑوں سے سُنا ہے کہ اکبر بادشاہ نے کسی درویش کا دل دکھایا تھا۔ اور اس درویش نے جل کر یہ بددُعا دی تھی۔ جا، تیرے ہندوستان میں ہمیشہ فساد ہی ہوتے رہیں گے۔ اور دیکھ لو جب سے اکبر بادشاہ کا راج ختم ہوا ہے ہندوستان میں فساد پر فساد ہوتے رہتے ہیں‘‘۔ یہ کہہ کر اس نے ٹھنڈی سانس بھری۔ اور پھر حقّے کا دم لگا کر اپنی بات شروع کی۔ ’’یہ کانگرسی ہندوستان کو آزاد کرانا چاہتے ہیں۔ میں کہتا ہوں اگر یہ لوگ ہزار سال بھی سر پٹکتے رہیں۔ تو کچھ نہ ہو گا۔ بڑی سے بڑی بات یہ ہو گی کہ انگریز چلا جائے گا اور کوئی اٹلی والا آجائے گا۔ یا وہ روس والا جس کی بابت میں نے سنا ہے کہ بہت تگڑا آدمی ہے۔ لیکن ہندوستان سدا غلام رہے گا۔ ہاں میں یہ کہنا بھول ہی گیا۔ کہ پیر نے یہ بددُعا بھی دی تھی کہ ہندوستان پر ہمیشہ باہر کے آدمی راج کرتے رہیں گے۔‘‘
استاد منگو کو انگریزوں سے بڑی نفرت تھی۔ اور اس نفرت کا سبب تو وہ یہ بتلایا کرتا تھا کہ وہ ہندوستان پر اپنا سکہ چلاتے ہیں۔ اور طرح طرح کے ظلم ڈھاتے ہیں۔ مگر اس کے تنّفر کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ چھاؤنی کے گورے اسے بہت ستایا کرتے تھے۔ وہ اس کے ساتھ ایسا سلوک کرتے تھے۔ گویا وہ ایک ذلیل کُتا ہے۔ اس کے علاوہ اسے ان کا رنگ بھی بالکل پسند نہ تھا۔ جب کبھی وہ گورے کے سُرخ وسپید چہرے کو دیکھتا۔ تو اُسے متلی آ جاتی۔ نہ معلوم کیوں۔ وہ کہا کرتا تھا کہ ان کے لال جھریوں بھرے چہرے دیکھ کر مجھے وہ لاش یاد آ جاتی ہے جس کے جسم پر سے اوپر کی جھلّی گل گل کر جھڑ رہی ہو!
جب کسی شرابی گورے سے اس کا جھگڑا ہو جاتا۔ تو سارا دن اس کی طبیعت مکّدر رہتی۔ اور وہ شام کو اڈے میں آکر ہل مارکہ سگرٹ پیتے یا حُقے کے کش لگاتے ہوئے اس’’ گورے‘‘ کو جی بھر کر سنایا کرتا۔ ’’......... ‘‘ یہ موٹی گالی دینے کے بعد وہ اپنے سر کو ڈھیلی پگڑی سمیت جھٹکا دے کر کہا کرتا تھا ’’آگ لینے آئے تھے۔ اب گھر کے مالک ہی بن گئے ہیں۔ ناک میں دم کر رکھا ہے ان بندروں کی اولاد نے۔ یوں رعب گانٹھتے ہیں۔ گویا ہم ان کے باوا کے نوکر ہیں..... ۔‘‘ اس پر بھی اس کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوتا تھا۔ جب تک اس کا کوئی ساتھی اس کے پاس بیٹھا رہتا وہ اپنے سینے کی آگ اُگلتا رہتا۔
’’شکل دیکھتے ہو نا تم اس کی........ جیسے کوڑھ ہو رہا ہے........ بالکل مُردار، ایک دھپّے کی مار اور گٹ پٹ یوں بک رہا تھا۔ جیسے مار ہی ڈالے گا۔تیری جان کی قسم ، پہلے پہل جی میں آئی۔ کہ ملعون کی کھوپڑی کے پُرزے اڑا دوں لیکن اس خیال سے ٹل گیا کہ اس مردود کو مارنا اپنی ہتک ہے‘‘......... یہ کہتے کہتے وہ تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہو جاتا۔ اور ناک کو خاکی قمیض سے صاف کرنے کے بعد پھر بڑبڑانے لگ جاتا۔
’’قسم ہے بھگوان کی ان لاٹ صاحبوں کے ناز اٹھاتے اٹھاتے تنگ آگیا ہوں۔ جب کبھی ان کا منحوس چہرہ دیکھتا ہوں۔ رگوں میں خون کھولنے لگ جاتا ہے۔ کوئی نیا قانون وانون بنے۔ تو ان لوگوں سے نجات ملے۔ تیری قسم جان میں جان آ جائے‘‘۔
اور جب ایک روز استاد منگو نے کچہری سے اپنے تانگے پر دو سواریاں لادیں۔ اور ان کی گفتگو سے اسے پتہ چلا کہ ہندوستان میں جدید آئین کا نفاذ ہونے والا ہے تو اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ دو مار واڑی جو کچہری میں اپنے دیوانی مقدمے کے سلسلے میں آئے تھے گھر جاتے ہوئے جدید آئین یعنی انڈیا ایکٹ کے متعلق آپس میں بات چیت کر رہے تھے۔
سُنا ہے کہ پہلی اپریل سے ہندوستان میں نیا قانون چلے گا......... کیا ہر چیز بدل جائے گی؟‘‘
’’ہر چیز تو نہیں بدلے گی۔ مگر کہتے ہیں کہ بہت کچھ بدل جائے گا اور ہندوستانیوں کو آزادی مل جائے گی؟‘‘
’’کیا بیاج کے متعلق بھی کوئی نیا قانون پاس ہو گا؟‘‘
’’یہ پوچھنے کی بات ہے کل کسی وکیل سے دریافت کریں گے۔ ان مار واڑیوں کی بات چیت استاد منگو کے دل میں ناقابلِ بیان خوشی پیدا کر رہی تھی۔ وہ اپنے گھوڑے کو ہمیشہ گالیاں دیتا تھا۔ اور چابک سے بہت بُری طرح پیٹا کرتا تھا۔ مگر اس روز وہ بار بار پیچھے مڑ کر مارداڑیوں کی طرف دیکھتا۔ اور اپنی بڑھی ہوئی مونچھوں کے بال ایک انگلی سے بڑی صفائی کے ساتھ اونچے کرکے گھوڑے کی پیٹھ پر باگیں ڈھیلی کرتے ہوئے بڑے پیار سے کہتا چل بیٹا....... ذرا ہوا سے باتیں کرکے دکھا دے‘‘۔
مارواڑیوں کو ان کے ٹھکانے پہنچا کر اس نے انارکلی میں دینو حلوائی کی دکان پر آدھ سیر دہی کی لسّی پی کر ایک بڑی ڈکار لی۔اور مونچھوں کو منہ میں دبا کر ان کو چُوستے ہوئے ایسے ہی بلند آواز میں کہا۔’’ہمت تیری ایسی تیسی۔‘‘
شام کو جب وہ اڈے کو لوٹا۔ تو خلافِ معمول اسے وہاں اپنی جان پہچان کا کوئی آدمی نہ مل سکا۔ یہ دیکھ کر اس کے سینے میں ایک عجیب و غریب طوفان برپا ہو گیا۔ آج وہ ایک بڑی خبر اپنے دوستوں کو سنانے والا تھا.......... بہت بڑی خبر، اور اس خبر کو اپنے اندر سے نکالنے کے لیے وہ سخت مجبور ہو رہا تھا لیکن وہاں کوئی تھا ہی نہیں۔
آدھ گھنٹے تک وہ چابک بغل میں دبائے اسٹیشن کے اڈے کی آہنی چھت کے نیچے بیقراری کی حالت میں ٹہلتا رہا۔ اس کے دماغ میں بڑے اچھے اچھے خیالات آ رہے تھے۔ نئے قانون کے نفاذ کی خبر نے اس کو ایک نئی دنیا میں لاکر کھڑا کر دیا تھا۔ وہ اس نئے قانون کے متعلق جو پہلی اپریل کو ہندوستان میں نافذ ہونے والا تھا۔ اپنے دماغ کی تمام بتیاں روشن کرکے غورو فکر کر رہا تھا۔ اس کے کانوں میں مارواڑی کا یہ اندیشہ کیا بیاج کے متعلق بھی کوئی نیا قانون پاس ہو گا‘‘؟ بار بار گونج رہا تھا۔ اور اس کے تمام جسم میں مسّرت کی ایک لہر دوڑا رہا تھا۔ کئی بار اپنی گھنی مونچھوں کے اندر ہنس کر اس نے مارواڑیوں کو گالی دی‘‘۔.... غریبوں کی کُھٹیا میں گُھسے ہوئے کھٹمل..... نیا قانون ان کے لیے کھولتا ہوا پانی ہو گا۔‘‘
وہ بے حد مسرور تھا، خاص کر اس وقت اس کے دل کو بہت ٹھنڈک پہنچتی جب وہ خیال کرتا کہ گوروں....... سفید چوہوں (وہ ان کو اسی نام سے یاد کیا کرتا تھا) کی تھوتھنیاں نئے قانون کے آتے ہی بِلّوں میں ہمیشہ کے لیے غائب ہو جائیں گی۔
جب نتھو گنجا، پگڑی بغل میں دبائے، اڈے میں داخل ہوا۔ تو استاد منگو بڑھ کر اُس سے ملا اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر بلند آواز سے کہنے لگا‘‘۔ لا ہاتھ ادھر............ ایسی خبر سناؤں کہ جی خوش ہو جائے؟......... تیری اس گنجی کھوپری پر بال اُگ آئیں۔‘‘
اور یہ کہہ کر منگو نے بڑے....... مزے لے لے کر نئے قانون کے متعلق اپنے دوست سے باتیں شروع کر دیں۔ دورانِ گفتگو میں اس نے کئی مرتبہ نتھو گنجے کے ہاتھ پر زور سے اپنا ہاتھ مار کر کہا‘‘۔ تو دیکھتا رہ، کیا بنتا ہے، یہ روس والا بادشاہ کچھ نہ کچھ ضرور کرکے رہے گا۔ استاد منگو موجودہ سوویت نظام کی اشتراکی سرگرمیوں کے متعلق بہت کچھ سُن چکا تھا۔ اور اسے وہاں کے نئے قانون اور دوسری نئی چیزیں بہت پسند تھیں۔ اسی لیے اس نے روس والے بادشاہ ’’کو انڈیا ایکٹ‘‘ یعنی جدید آئین کے ساتھ ملا دیا۔ اور پہلی اپریل کو پرانے نظام میں جو نئی تبدیلیاں ہونے والی تھیں۔ وہ اُنھیں ’’روس والے بادشاہ‘‘ کے اثر کا نتیجہ سمجھتا تھا۔
کچھ عرصے سے پشاور اور دیگر شہروں میں سُرخ پوشوں کی تحریک جا رہی تھی۔ منگو نے اس تحریک کو اپنے دماغ میں ’’روس والے بادشاہ‘‘ اور پھر نئے قانون کے ساتھ خلط ملط کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ جب کبھی وہ کسی سے سنتا۔ کہ فلاں شہر میں بم ساز پکڑے گئے ہیں۔ یا فلاں جگہ اتنے آدمیوں پر بغاوت کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا ہے۔ تو ان تمام واقعات کو نئے قانون کا پیش خیمہ سمجھتا۔ اور دل ہی دل میں خوش ہوتا۔ ایک روز اس کے تانگے میں دو بیرسٹر بیٹھے نئے آئین پر بڑے زور سے تبادلہ خیال کر رہے تھے۔ اور وہ خاموشی سے ان کی باتیں سن رہا تھا۔ ان میں سے ایک دوسرے سے کہہ رہا تھا۔
’’جدید آئین کا دوسرا حصّہ فیڈریشن ہے جو میری سمجھ میں ابھی تک نہیں آسکا۔ فیڈریشن دنیا کی تاریخ میں آج تک نہ سُنی نہ دیکھی گئی۔ سیاسی نظریہ سے بھی یہ فیڈریشن بالکل غلط ہے۔ بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ یہ کوئی فیڈریشن ہے ہی نہیں!‘‘
ان بیرسٹروں کے درمیان جو گفتگو ہوئی اس میں بیشتر الفاظ انگریزی کے تھے۔ اس لیے استاد منگو صرف اُوپر کے جملے ہی کو کسی قدر سمجھا اور اُس نے کہا۔ ’’یہ لوگ ہندوستان میں نئے قانون کی آمد کو بُرا سمجھتے ہیں۔ اور نہیں چاہتے کہ ان کا وطن آزاد ہو۔‘‘ چنانچہ اس خیال کے زیر اثر اس نے کئی مرتبہ ان دو بیرسٹروں کو حقارت کی نگاہوں سے دیکھ کر کہا۔ ’’ٹو ڈی بچے!‘‘
جب کبھی وہ کسی کو دبی زبان میں ’’ٹوڈی بچہ‘‘ کہتا تو دل میں یہ محسوس کرکے بڑا خوش ہوتا کہ اس نے اس نام کو صحیح جگہ استعمال کیا ہے اور یہ کہ وہ شریف آدمی اور ’’ٹوڈی بچے‘‘ کی تمیز کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ اس واقعے کے تیسرے روز وہ گورنمنٹ کالج کے تین طلبا کو اپنے تانگے میں بٹھا کر مزنگ جا رہا تھا کہ اس نے ان تین لڑکوں کو آپس میں یہ باتیں کرتے سنا:۔
’’نئے آئین نے میری امیدیں بڑھا دی ہیں اگر......... صاحب اسمبلی کے ممبر ہو گئے۔ تو کسی سرکاری دفتر میں ملازمت ضرور مل جائے گی۔‘‘
’’ویسے بھی بہت سی جگہیں اور نکلیں گی۔ شاید اسی گڑبڑ میں ہمارے ہاتھ بھی کچھ آ جائے۔‘‘
’’ہاں ہاں کیوں نہیں۔‘‘
’’وہ بے کار گریجویٹ جو مارے مارے پھر رہے ہیں۔ ان میں کچھ تو کمی ہو گی۔‘‘
اس گفتگو نے استاد منگو کے دل میں جدید آئین کی اہمیت اور بھی بڑھا دی۔ وہ اس کو ایسی چیز ’’سمجھنے لگا جو بہت چمکتی ہو‘‘۔ نیا قانون........ ‘‘! وہ دن میں کئی بار سوچتا یعنی کوئی نئی چیز!‘‘اور ہر بار اس کی نظروں کے سامنے اپنے گھوڑے کا وہ ساز آ جاتا۔ جو اس نے دو برس ہوئے چودھری خدا بخش سے اچھی طرح ٹھونک بجا کر خریدا تھا۔ اس ساز پر جب وہ نیا تھا۔ جگہ جگہ لوہے کی نِکل کی ہوئی کیلیں چمکتی تھیں اور جہاں جہاں پیتل کا کام تھا وہ تو سونے کی طرح دمکتا تھا۔ اس لحاظ سے بھی ’’نئے قانون‘‘ کا درخشاں و تاباں ہونا ضروری تھا۔
پہلی اپریل تک استاد منگو نے جدید آئین کے خلاف اور اس کے حق میں بہت کچھ سنا۔ مگر اس کے متعلق جو تصور وہ اپنے ذہن میں قائم کر چکا تھا۔ بدل نہ سکا۔ وہ سمجھتا تھا کہ پہلی اپریل کو نئے قانون کے آتے ہی سب معاملہ صاف ہو جائے گا۔ اور اس کو یقین تھا کہ اس کی آمد پر جو چیزیں نظر آئیں گی ان سے اس کی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچے گی۔
آخر کار مارچ کے اکتیس دن ختم ہو گئے اور اپریل کے شروع ہونے میں رات کے چند خاموش گھنٹے باقی رہ گئے ۔ موسم خلافِ معمول سرد تھا۔ اور ہوا میں تازگی تھی۔ پہلی اپریل کو صبح سویرے استاد منگو اُٹھا اور اصطبل میں جاکر گھوڑے کو جوتا اور باہر نکل گیا۔ اس کی طبیعت آج غیر معمولی طور پر مسرور تھی...... وہ نئے قانون کو دیکھنے والا تھا۔
اس نے صبح کے سرد دُھندلکے میں کئی تنگ اور کُھلے بازاروں کا چکر لگایا۔ مگر اسے ہر چیز پرانی نظر آئی۔ آسمان کی طرح پرانی۔ اس کی نگاہیں آج خاص طور پر نیا رنگ دیکھنا چاہتی تھیں۔ مگر سوائے اس کلغی کے جو رنگ برنگ کے پروں سے بنی تھی۔ اور اس کے گھوڑے کے سر پر جمی ہوئی تھی۔ اور سب چیزیں پرانی نظر آتی تھیں۔ یہ نئی کلغی اس نے نئے قانون کی خوشی میں یکم مارچ کو چودھری خدا بخش سے ساڑھے چودہ آنہ میں خریدی تھی۔
گھوڑے کی ٹاپوں کی آواز، کالی سڑک اور اس کے آس پاس تھوڑا تھوڑا فاصلہ چھوڑ کر لگائے ہوئے بجلی کے کھمبے، دکانوں کے بورڈ، اس کے گھوڑے کے گلے میں پڑے ہوئے گھنگھرو کی جھنجھناہٹ، بازار میں چلتے پھرتے آدمی....... ان میں سے کون سی چیز نئی تھی؟ ظاہر ہے کہ کوئی بھی نہیں لیکن اُستاد منگو مایوس نہیں تھا۔
’’ابھی بہت سویرا ہے دکانیں بھی تو سب کی سب بند ہیں‘‘۔ اس خیال سے اُسے تسکین تھی۔ اس کے علاوہ وہ یہ بھی سوچتا تھا۔ ’’ہائی کورٹ میں نو بجے کے بعد ہی کام شروع ہوتا ہے۔ اب اس سے پہلے نئے قانون کا کیا نظر آئے گا؟‘‘
جب اس کا تانگہ گورنمنٹ کالج کے دروازے کے قریب پہنچا۔ تو کالج کے گھڑیال نے بڑی رعونت سے نو بجائے۔ جو طلبا کالج کے بڑے دروازے سے باہر نکل رہے تھے۔ خوش پوش تھے۔ مگر استاد منگو کو نہ جانے ان کے کپڑے مَیلے مَیلے سے کیوں نظر آئے۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی، کہ اس کی نگاہیں آج کسی خیرہ کن جلوے کا نظارہ کرنے والی تھیں۔
تانگے کو دائیں ہاتھ موڑ کر وہ تھوڑی دیر کے بعد پھر انار کلی میں تھا۔ بازار کی آدھی دکانیں کھل چکی تھیں۔اور اب لوگوں کی آمدورفت بھی بڑھ گئی تھی۔ حلوائی کی دکانوں پر گاہکوں کی خوب بھیڑ تھی۔ منہاری والوں کی نمائشی چیزیں شیشے کی الماریوں میں لوگوں کو دعوتِ نظارہ دے رہی تھیں۔ اور بجلی کے تاروں پر کئی کبوتر آپس میں لڑ جھگڑ رہے تھے۔ مگر استاد منگو کے لیے ان تمام چیزوں میں کوئی دلچسپی نہ تھی....... وہ نئے قانون کو دیکھنا چاہتا تھا۔
ٹھیک اسی طرح جس طرح وہ اپنے گھوڑے کو دیکھ رہا تھا۔ جب اُستاد منگو کے گھر میں بچہ پیدا ہونے والا تھا۔ تو اس نے چار پانچ مہینے بڑی بے قراری سے گزارے تھے۔ اس کو یقین تھا کہ بچہ کسی نہ کسی دن ضرور پیدا ہو گا مگر وہ نتظار کی گھڑیاں نہیں کاٹ سکتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ اپنے بچے کو صرف ایک نظر دیکھ لے۔ اس کے بعد وہ پیدا ہوتا رہے۔ چنانچہ اسی غیر مغلوب خواہش کے زیرِ اثر اس نے کئی بار اپنی بیمار بیوی کے پیٹ کو دبا دبا کر اور اس کے اوپر کان رکھ کر اپنے بچے کے متعلق کچھ جاننا چاہا تھا مگر ناکام رہا تھا۔ ایک مرتبہ وہ انتظار کرتے کرتے اس قدر تنگ آگیا تھا کہ اپنی بیوی پر برس پڑا تھا:
’’تو ہر وقت مُردے کی طرح پڑی رہتی ہے۔ اُٹھ ذرا چل پھر، تیرے انگ میں تھوڑی سی طاقت تو آئے۔ یوں تختہ بنے رہنے سے کچھ نہ ہو سکے گا۔تو سمجھتی ہے کہ اس طرح لیٹے لیٹے بچّہ جن دے گی؟‘‘
اُستاد منگو طبعاً بہت جلد باز واقع ہوا تھا۔ وہ ہر سبب کی عملی تشکیل دیکھنے کا خواہش مند تھا بلکہ متجسّس تھا۔ اس کی بیوی گنگاوئی اس کی اس قسم کی بے قراریوں کو دیکھ کر عام طور پر یہ کہا کرتی تھی۔ ’’ابھی کنواں کھودا نہیں گیا اور پیاس سے نڈھال ہو رہے ہو۔‘‘
کچھ بھی ہو مگر اُستاد منگو نئے قانون کے انتظار میں اتنا بیقرار نہیں تھا۔ جتنا کہ اسے اپنی طبیعت کے لحاظ سے ہونا چاہیے تھا۔ وہ نئے قانون کو دیکھنے کے لیے گھر سے نکلا تھا، ٹھیک اسی طرح جیسے وہ گاندھی یا جواہر لال کے جلوس کا نظارہ کرنے کے لیے نکلا کرتا تھا۔ لیڈروں کی عظمت کا اندازہ اُستاد منگو ہمیشہ ان کے جلوس کے ہنگاموں اور اُن کے گلے میں ڈالے ہوئے پھولوں کے ہاروں سے کیا کرتا تھا اگر کوئی لیڈر گیندے کے پھولوں سے لدا ہوتو استاد منگو کے نزدیک، وہ بڑا آدمی تھا۔ اور اگر کسی لیڈر کے جلوس میں بھیڑ کے باعث دو تین فساد ہوتے ہوتے رہ جائیں۔ تو اس کی نگاہوں میں وہ اور بھی بڑا تھا۔ اب نئے قانون کو وہ اپنے ذہن کے اسی ترازو میں تولنا چاہتا تھا۔ انار کلی سے نکل کر وہ مال روڈ کی چمکیلی سطح پر اپنے تانگے کو آہستہ آہستہ چلا رہا تھا کہ موٹروں کی دکان کے پاس اسے چھاؤنی کی ایک سواری مل گئی۔ کرایہ طے کرنے کے بعد اس نے اپنے گھوڑے کو چابک دکھایا۔ اور دل میں خیال کیا:۔
’’چلو یہ بھی اچھا ہوا....... شاید چھاؤنی ہی سے نئے قانون کا کچھ پتہ چل جائے۔‘‘
چھاؤنی پہنچ کر استاد منگو نے سواری کو اس کی منزل مقصود پر اتاردیا۔اور جیب سے سگریٹ نکال کر بائیں ہاتھ کی آخری دو انگلیوں میں دبا کر سلگایا۔ اور پچھلی نشست کے گدّے پر بیٹھ گیا........ جب اُستاد منگو کو کسی سواری کی تلاش نہیں ہوتی تھی۔ یا اُسے کسی بیتے ہوئے واقعے پر غور کرنا ہوتا تھا۔ تو وہ عام طور پر اگلی نشست چھوڑ کر پچھلی نشست پر بڑے اطمینان سے بیٹھ کر اپنے گھوڑے کی باگیں دائیں ہاتھ کے گرد لپیٹ لیا کرتا تھا۔ ایسے موقعوں پر اس کا گھوڑا تھوڑا سا ہنہنانے کے بعد بڑی دھیمی چال چلنا شروع کر دیتا تھا۔ گویا اسے کچھ دیر کے لیے بھاگ دوڑ سے چھٹی مل گئی ہے۔
گھوڑے کی چال اور استاد منگو کے دماغ میں خیالات کی آمد بہت سُست تھی۔ جس طرح گھوڑا آہستہ آہستہ قدم اُٹھا رہا تھا۔ اسی طرح استاد منگو کے ذہن میں نئے قانون کے متعلق نئے قیاسات داخل ہو رہے تھے۔ وہ نئے قانون کی موجودگی میں میونسپل کمیٹی سے تانگوں کے نمبر ملنے کے طریقے پر غور کر رہا تھا۔ وہ اس قابلِ غور بات کو آئینِ جدید کی روشنی میں دیکھنے کی سعی کر رہا تھا۔ وہ اس سوچ بچار میں غرق تھا۔ اُسے یوں معلوم ہوا جیسے کسی سواری نے اُسے بُلایا ہے۔ پیچھے پلٹ کر دیکھنے سے اسے سڑک کے اس طرف دُور بجلی کے کھمبے کے پاس ایک ’’گورا‘‘ کھڑا نظر آیا۔ جو اُسے ہاتھ سے بُلا رہا تھا۔
جیسا کہ بیان کی جا چکا ہے۔ استاد منگو کو گوروں سے بیحد نفرت تھی۔ جب اُس نے اپنے تازہ گاہک کو گورے کی شکل میں دیکھا۔ تو اس کے دل میں نفرت کے جذبات بیدار ہو گئے۔ پہلے تو اس کے جی میں آئی کہ بالکل توجہ نہ دے اور اس کو چھوڑ کر چلا جائے مگر بعد میں اس کو خیال آیا۔ ان کے پیسے چھوڑنا بھی بیوقوفی ہے۔ کلغی پر جو مفت میں ساڑھے چودہ آنے خرچ دئیے ہیں۔ ان کی جیب ہی سے وصول کرنے چاہئیں۔ چلو چلتے ہیں۔‘‘
خالی سڑک پر بڑی صفائی سے ٹانگہ موڑ کر اس نے گھوڑے کو چابک دکھایا اور آنکھ جھپکنے میں وہ بجلی کے کھمبے کے پاس تھا۔ گھوڑے کی باگیں کھینچ کر اس نے تانگہ ٹھہرایا اور پچھلی نشست پر بیٹھے بیٹھے گورے سے پوچھا،
’’صاحب بہادر کہاں جانا مانگٹا ہے؟‘‘
اس سوال میں بلا کا طنزیہ انداز تھا، صاحب بہادر کہتے وقت اس کا اوپر کا مونچھوں بھرا ہونٹ نیچے کی طرف کھچ گیا۔ اور پاس ہی گال کے اس طرف جو مدھم سی لکیر ناک کے نتھنے سے ٹھوڑی کے بالائی حصے تک چلی آ رہی تھی، ایک لرزش کے ساتھ گہری ہو گئی، گویا کسی نے نوکیلے چاقو سے شیشم کی سانولی لکڑی میں دھاری ڈال دی ہے۔ اس کا سارا چہرہ ہنس رہا تھا، اور اپنے اندر اس نے اس ’’گورے‘‘ کو سینے کی آگ میں جلا کر بھسم کر ڈالا تھا۔
جب ’’گورے ‘‘ نے جو بجلی کے کھمبے کی اوٹ میں ہوا کا رُخ بچا کر سگرٹ سُلگا رہا تھا مڑ کر تانگے کے پائدان کی طرف قدم بڑھایا تو اچانک استاد منگو کی اور اس کی نگاہیں چار ہوئیں۔ اور ایسا معلوم ہوا کہ بیک وقت آمنے سامنے کی بندوقوں سے گولیاں خارج ہوئیں۔ اور آپس میں ٹکرا کر ایک آتشیں بگولا بن کر اوپر کو اڑ گئیں۔ استاد منگو جو اپنے دائیں ہاتھ سے باگ کے بل کھول کر تانگے پر سے نیچے اُترنے والا تھا۔ اپنے سامنے کھڑے ’’گورے‘‘ کو یوں دیکھ رہا تھا گویا وہ اس کے وجود کے ذرّے ذرّے کو اپنی نگاہوں سے چبا رہا ہے۔ اور گورا کچھ اس طرح اپنی نیلی پتلون پر سے غیر مرئی چیزیں جھاڑ رہا ہے، گویا وہ استاد منگو کے اس حملے سے اپنے وجود کے کچھ حصے کو محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
گورے نے سگریٹ کا دُھواں نگلتے ہوئے کہا ’’جانا مانگٹا یا پھر گڑبڑ کرے گا؟‘‘
’’وہی ہے‘‘۔ یہ لفظ استاد منگو کے ذہن میں پیدا ہوئے۔ اور اس کی چوڑی چھاتی کے اندر ناچنے لگے۔
’’وہی ہے۔‘‘ اس نے یہ لفظ اپنے منہ کے اندر ہی اندر دُہرائے اور ساتھ ہی اسے پورا یقین ہو گیا۔ کہ وہ گورا جو اس کے سامنے کھڑا تھا۔ وہی ہے جس سے پچھلے برس اس کی جھڑپ ہوئی تھی، اور اس خواہ مخواہ کے جھگڑے میں جس کا باعث گورے کے دماغ میں چڑھی ہوئی شراب تھی۔ اسے طوہاً ’’کرہاً‘‘ بہت سی باتیں سہنا پڑی تھیں۔استاد منگو نے گورے کا دماغ درست کر دیا ہوتا۔ بلکہ اس کے پُرزے اُڑا دئیے ہوتے، مگر وہ کسی خاص مصلحت کی بنا پر خاموش ہو گیا تھا۔ اس کو معلوم تھا کہ اس قسم کے جھگڑوں میں عدالت کا نزلہ عام طور کوچوانوں ہی پر گرتا ہے۔
استاد منگو نے پچھلے برس کی لڑائی اور پہلی اپریل کے نئے قانون پر غور کرتے ہوئے گورے سے کہا۔ ’’کہاں جانا مانگٹا ہے؟‘‘
استاد منگو کے لہجے میں چابک ایسی تیزی تھی۔
گورے نے جواب دیا۔’’ہیرا منڈی‘‘۔
’’کرایہ پانچ روپے ہو گا۔ استاد منگو کی مونچھیں تھرتھرائیں۔
یہ سن کر گورا حیران ہو گیا۔ وہ چلاّیا۔ پانچ روپے۔ کیا تم...... ؟‘‘
’’ہاں، ہاں، پانچ روپے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے استاد منگو کا داہنا بالوں بھرا ہاتھ بھنج کر ایک وزنی گھونسے کی شکل اختیار کر گیا۔ ’’کیوں جاتے ہو یا بیکار باتیں بناؤ گے؟‘‘
استاد منگو کا لہجہ زیادہ سخت ہو گیا۔ گورا پچھلے برس کے واقعے کو پیش نظر رکھ کر استاد منگو کے سینے کی چوڑائی نظر انداز کر چکا تھا۔ وہ خیال کر رہا تھا کہ اس کی کھوپڑی پھر کھجلا رہی ہے۔ اس حوصلہ افزا خیال کے زیر اثر وہ تانگے کی طرف اکڑ کر بڑھا اور اپنی چھڑی سے استاد منگو کو تانگے پر سے نیچے اُترنے کا اشارہ کیا۔ بید کی یہ پالش کی ہوئی پتلی چھڑی استاد منگو کی موٹی ران کے ساتھ دو تین مرتبہ چھوئی۔ اس نے کھڑے کھڑے اوپر سے پست قد گورے کو دیکھا گویا وہ اپنی نگاہوں کے وزن ہی سے اسے پیس ڈالنا چاہتا ہے۔ پھر اس کا گھونسہ کمان میں سے تیر کی طرح سے اُوپر کو اُٹھا اور چشمِ زدن میں گورے کی ٹھڈی کے نیچے جم گیا۔ دھکا دے کر اس نے گورے کو پرے ہٹایا۔ اور نیچے اتر کر اسے دھڑا دھڑ پیٹنا شروع کر دیا۔
ششدر و متحیر گورے نے ادھر ادھر سمٹ کر استاد منگو کے وزنی گھونسوں سے بچنے کی کوشش کی۔ اور جب دیکھا کہ اس کے مخالف پر دیوانگی کی سی حالت طاری ہے۔ اور اس کی آنکھوں میں سے شرارے برس رہے ہیں۔ تو اس نے زور زور سے چلانا شروع کیا۔ اس کی چیخ پکار نے استاد منگو کی بانہوں کا کام اور بھی تیز کر دیا۔ وہ گورے کو جی بھر کے پیٹ رہا تھا۔ اور ساتھ ساتھ یہ کہتا جاتا تھا:۔
’’پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑ فوں ......... پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑ فوں.......... ‘‘ ’’ہے بچہ؟‘‘لوگ جمع ہو گئے۔ اور پولیس کے دو سپاہیوں نے بڑی مشکل سے گورے کو استاد منگو کی گرفت سے چھڑایا۔ استاد منگو ان دو سپاہیوں کے درمیان کھڑا تھا اس کی چوڑی چھاتی پھولی سانس کی وجہ سے اوپر نیچے ہو رہی تھی۔ منہ سے جھاگ بہہ رہا تھا۔ اور اپنی مسکراتی ہوئی آنکھوں سے حیرت زدہ مجمع کی طرف دیکھ کر وہ ہانپتی ہوئی آواز میں کہہ رہا تھا۔‘‘
’’وہ دن گزر گئے۔ جب خلیل خاں فاختہ اُڑایا کرتے تھے........ اب نیا قانون ہے میاں........ نیا قانون!‘‘
اور بیچارا گورا اپنے بگڑے ہوئے چہرے کے ساتھ بے وقوفوں کے مانند کبھی استاد منگو کی طرف دیکھتا تھا اور کبھی ہجوم کی طرف۔
استاد منگو کو پولیس کے سپاہی تھانے میں لے گئے۔ راستے میں اور تھانے کے اندر کمرے میں وہ ’’نیا قانون نیا قانون‘‘ چلاّتا رہا۔ مگر کسی نے ایک نہ سُنی۔
’’نیا قانون، نیا قانون۔ کیا بک رہے ہو........ قانون وہی ہے پرانا!‘‘
اور اس کو حوالات میں بند کر دیا گیا!
ختم شُدہ۔۔۔۔
نیا قانون کا تجزیہ
’نیا قانون‘ ۱۹۳۸ء میں منظر عام پر آیا تھا یہ منٹو کے نمائندہ افسانوں میں سے ایک ہے۔ یہ ایک سیاسی کردار کا افسانہ ہے۔ جس میں منٹو نے منگو کوچوان کے توسط سے اس عہد کی اجتماعی صورت حال پیش کی ہے۔ منگو جو پیشے کے اعتبار سے کوچوان ہے۔ وہ سیدھا مادہ بے وقوف ان پڑھ اور بیحد باتونی ہے، ذہنی طور پر بیدار اور فطرتاً جلد باز ہے۔ مگر ایک عام ان پڑھ آدمی بھی روشن دماغ ہو سکتا ہے صرف ایک ڈگری یافتہ ہی سمجھ دار نہیں ہوتا۔ گویا منٹو کی انسان دوستی اور ہمدردی اور اس کے تئیں خلوص کا یہاں پتہ ملتا ہے۔ بہر حال منگو کوچوان کا کردار افسانے کی جان ہے۔ ایک عام اور بالکل معمولی آدمی میں دلچسپی کے اتنے پہلو پیدا کرنا منٹو کی کردار نگاری کا امتیازی وصف ہے۔ جہاں تک نیا قانون کے پلاٹ کا تعلق ہے، منٹو نے اس کی تمہید، وسط اور انجام میں مکمل آہنگی اور ربط پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ تمہید ہی افسانے کے مرکزی کردار منگو کو قاری سے متعارف کرا دیتی ہے:
’’منگو کوچوان اپنے اڈے میں بہت عقلمند آدمی سمجھا جاتا تھا۔ گو اس کی تعلیمی حیثیت صفر کے برابر تھی اور اس نے کبھی اسکول کا منھ بھی نہیں دیکھا تھا لیکن اس کے باوجود اسے دنیا بھر کی چیزوں کا علم تھا۔ اڈے کے وہ تمام کوچوان جن کو یہ جاننے کی خواہش ہوتی تھی کہ دنیا کے اندر کیا ہو رہا ہے، استاد منگو کی وسیع معلومات سے اچھی طرف واقف تھے۔ ‘‘
یہاں میں ساتھ میں ’انجام‘ کے متعلق بھی مثال پیش کرنا چاہوں گا۔ بعد ازیں ’نیا قانون‘ پر مزید روشنی اور منٹو کے فن پر مختصر گفتگو پیش کروں گا۔ جیسا کہ تمہید کے ساتھ ساتھ ایک ایسے ہی انجام کی جستجو میں گویا قاری رہتا ہے جو مزیدار بھی ہوں اور قابل قبول بھی ہوں۔ لہٰذا منٹو یہاں بھی کامیاب نظر آتے ہیں: انجام یوں ہے:
’’استاد منگو کو پولیس کے سپاہی تھانے لے گئے … راستے میں اور تھانے کے اندر وہ نیا قانون، نیا قانون چلاتا رہا مگر کسی نے ایک نہ سنی۔’نیا قانون‘ نیا قانون کیا بک رہے ہو… قانون وہی ہے پرانا!‘‘ اور اس کو حوالات میں بند کر دیا گیا۔ ‘‘
’نیا قانون‘ جیسا کہ عنوان سے ظاہر ہے کوئی نیا قانون کا آنا یا بننا یعنی پرانے قانون کی توسیع۔ منگو کوچوان کو جب ایک دن اپنے تانگوں میں بیٹھی سواریوں کی گفتگو سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یکم اپریل کو نیا قانون آئے گا اور اس کے آتے ہی ہندستان آزاد ہو گا، انگریزوں سے نجات ملے گی تو وہ پھولے نہیں سماتا اور یکم اپریل کا انتظار کرنے لگتا ہے۔ یہاں منٹو کی دانش مندی اور بصیرت میں دیکھئے انھوں نے یکم اپریل جیسی تاریخ جان بوجھ کر منتخب کی ہے۔ یکم اپریل کو فول ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے، جو منٹو جیسے ادیب سے راز نہیں تھا۔یوں ہی منٹو نے منگو کوچوان کو ذہنی طور پر بیدار اور فطرتاً جلد باز نہیں بتایا۔ کوئی بھی کام اس پر ضبط کی طرح چھا جاتا ہے۔ ملاحظہ کیجئے:
’’اور جب ایک روز استاد منگو نے کچہری سے اپنے تانگے پر دوسواریاں لادیں اور ان کی گفتگو سے اس کو پتہ چلا کہ ہندستان میں جدید آئین نافذ ہونے والا ہے تو اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ ‘‘
کہانی میں آگے چل کر جو منظر کشی کی گئی ہے وہ دیکھئے:
’’شام کو جب وہ اڈے پر لوٹا تو خلاف معمول اسے وہاں اپنی جان پہچان کا کوئی آدمی نہ مل سکا۔ یہ دیکھ کر اس کے سینے میں ایک عجیب و غریب طوفان برپا ہو گیا، آج وہ ایک بڑی خبر اپنے دوستوں کو سنانے والا تھا… بہت بڑی خبر اور اس خبر کو اپنے اندر سے نکالنے کے لیے وہ سخت مجبور ہو رہا تھا لیکن وہاں کوئی تھا ہی نہیں۔ ‘‘
مندرجہ بالا اقتباس میں در اصل منٹو کا فن اجاگر ہوتا ہے۔ انھوں نے کتنی مہارت سے قاری کو وہ باور کرانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، جس کی طرف انھوں نے گویا اشارہ کرنا چاہا ہے۔ یہی منٹو کا اسلوب بھی ہے۔ گو یہاں منگو کوچوان کی اضطراری کیفیت کا اندازہ پیدا کرنے کے واسطے منٹو نے ایسا تحریر کیا ہے۔منٹو دور اندیش اور وسیع النظر تھے آج بھی ہندستان کی حالت کم و بیش وہی ہے جو انگریزوں کے دور حکومت میں تھا۔ آج کا ہندستان بھی غلامی کی طرف گامزن منگو کوچوان کی زبانی نیا قانون کے حوالے سے منٹو کی دور اندیشی کا مشاہدہ کیجئے۔
’’یہ کانگریسی ہندستان کو آزاد کرانا چاہتے ہیں۔ میں کہتا ہوں اگر یہ لوگ ہزار سال بھی سر پٹکتے رہیں تو کچھ نہ ہو گا۔ بڑی سے بڑی بات یہ ہو گی کہ انگریز چلا جائے گا اور کوئی اٹلی والا آ جائے گا۔ یا وہ روس والا جس کی بابت میں نے سنا ہے کہ بہت تگڑا آدمی ہے لیکن ہندستان سدا غلام رہے گا۔ ہاں میں کہنا بھول ہی گیا کہ پیر نے یہ بد دعا بھی دی تھی کہ ہندستان پر ہمیشہ باہر کے آدمی راج کرتے رہیں گے۔ ‘‘
افسانہ کے اس مکالماتی اقتباس کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ منٹو ایک درویش صفت تھا، وسیع النظر تھا اور دور اندیش بھی تھا۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ کم و بیش آج کا ہندستان آزاد ہو کر بھی غلام ہے۔مندرجہ بالا اقتباس میں ’’انگریز چلا جائے گا اور کوئی اٹلی والا آ جائے گا‘‘ قابلِ غور نقطہ ہے۔ یہ محض اتفاق ہے یا پھر حقیقت، جو بھی ہو ہمیں جھنجھوڑتی ہے اور سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ بہر حال نیا قانون کے مد نظر ہمیں اس پس منظر میں یہ کہنے میں کوئی تامّل نہیں کہ منٹو سچ مچ حقیقت پسند تھا اور حقیقت ہی لکھتا تھا۔نیا قانون میں ایک جگہ منٹو کو اپنی ڈگر سے ہٹتے بھی دیکھا ہے۔ ملاحظہ ہو اس کہانی کا یہ اقتباس جس میں ایک گورے نے سواری کی خاطر تانگہ والا دیکھ منگو کوچوان کو آواز لگاتا ہے۔ وہ گورا جس سے منگو کوچوان از حد نفرت کرتا ہے۔ اتفاقاً وہی گورا نکلتا ہے جس سے منگو کوچوان کی جھڑپ پچھلے برس ہوئی تھی۔ بہر حال سواری کے آواز لگانے پر منگو چونکتا ہے، کیا دیکھتا ہے کہ کوئی گورا اسے بلا رہا ہے۔ وہ یہ سوچ کر بڑھتا ہے۔
’’ان کے پیسے چھوڑنا بھی بے وقوفی ہے کلغی پر جو مفت میں چودہ آنے خرچ کر دیئے ہیں ان کی جیب ہی سے وصول کرنے چاہئیں۔ چلو چلتے ہیں۔ ‘‘
یہاں یہ امر ناقابل فہم ہے جو منگو کوچوان گھوڑے کی کلغی پر خرچ کیے چودہ آنے کو اپنی بے وقوفی مانتا ہے ؟؟ منگو کوچوان تو مست ہے وہ آج یکم اپریل کو اسی واسطے صبح سویرے نکلا ہے کہ نیا قانون، نئی آئین، نئی صبح، نیا ہندستان میں وہ اب کھلی سانس لے سکے گا۔ہندستان آزاد ہو جائے گا، انگریز بھگا دیئے جائیں گے۔ اب ہمارا راج ہو گا۔ اور ظاہر ہے اسی واسطے وہ گھوڑوں کی کلغی پر چودہ آنے خرچ کرتا ہے۔ وہ نئی صبح نیا قانون کی تلاش میں سرگرداں ہے وہ مطمئن ہے۔ ابھی تو منگو کوچوان پر یہ راز افشاں بھی نہیں ہوا گویا یہ محض ایک خواب تھا، جو وہ دیکھ رہا تھا؟ ابھی تو اس بات سے بھی نابلد تھا کہ پہلی اپریل بیوقوف منانے کا دِن کوئی ہوتا ہے اور وہ دھوکے میں تھا؟ ایسے میں بھلا وہ منفی سوچ کا اچانک حامل کیونکر ہو جائے گا۔ یوں کیونکر سوچے گا گھوڑے پر کلغی کی شکل میں صرف کیے چودہ آنے بیکار تھے جو گورے سے سواری بھارے کی شکل میں وصول کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے منگو کوچوان کہتا ہے ’چلو چلتے ہیں ‘ اور یہ سوچ کر گورے کی طرف اپنا تانگہ لے کر بڑھ جاتا ہے ؟؟ یہاں صرف اس بات پر اتفاق کیا جا سکتا ہے کہ چونکہ منگو کوچوان کو گورے سے از حد نفرت تھی اور وہ یہ سوچ کر گورے کو اپنا سوار بنا لینا چاہتا ہے کہ کلغی کی قیمت تو نکل جائے گی۔ مگر وہیں جہاں کلغی کی قیمت سولہ آنہ ہو پانچ روپے بطور اجرت پر جھگڑ لیتا ہے۔ چونکہ وہ ابھی محو خواب ہے گویا کوئی نیا قانون رائج ہو گیا ہے اب کیا ہے، اب تو بس ہمارا راج ہے۔ گویا منٹو نے بڑی ہی سوجھ بوجھ اور چالاکی سے قاری کو اپنی گرفت میں کرتا ہے یعنی اپنا لوہا منواتا ہے۔ منٹو چھوٹی چھوٹی بتوں کو بھی اس انداز سے پیش کرتے ہیں کہ وہ غیر معمولی بن جاتے ہیں۔ بے شک ان کے اس افسانے میں بھی دلی تاثرات کے ساتھ ساتھ جزئیات نگاری کی بھی کئی اچھی مثالیں ملتی ہیں۔ جہاں تک ’نیا قانون‘ کا سیاسی پس منظر میں ہونے کی بات ہے ہمیں اس پس منظر کو بھی دیکھنا چاہیے کہ یہ۱۹۳۸ء میں لکھا گیا تھا۔ ۱۹۳۵ء میں برطانوی حکومت نے صوبوں میں خود اختیاری حکومتوں کے قیام کا قانون نافذ کیا تھا جس سے سارے ملک میں جوش اور سیاسی گرمی پیدا ہو گئی تھی اور ناخواندہ عوام کے دلوں میں یہ گمان پیدا ہو گیا تھا گویا اب آزادی مل چکی ہے۔ منٹو نے اس افسانے میں بڑی ہی مہارت سے ایک عام، ایک سادہ لوح انسان کی نفسیات کو استاد منگو کے کردار میں ابھارا ہے۔ منٹو اپنے افسانوں میں حقیقت کو جس فنکاری سے دکھاتے ہیں وہ دوسرے افسانہ نگار کے حصے میں کم آتا ہے۔ نیا قانون میں منٹو نے ہمیشہ کی طرح بیانیہ کے ساتھ ساتھ تیکھے مکالمے سے بھی کام لیا ہے جن سے منگو کی نفرت، جھلاہٹ اور بیزاری ظاہر ہوتی ہے۔ڈاکٹر نگار عظیم اس افسانے کے بارے میں لکھتی ہیں:
’’نیا قانون، موضوع، ماحول، جزئیات نگاری اور فکری بصیرت کے باعث ایک لازوال افسانہ ہے۔ اتنا ہی نہیں، نیا قانون اس زمانے کی سیاسی جد و جہد عوام کی معصومیت، مظلومیت اور محرومیت کا ترجمان ہے۔ اردو ادب میں منگو کوچوان ہمیشہ زندہ رہے گا۔ ‘‘ منٹو کا سرمایۂ فکر و فن۔ ص۔ ۶۱
اس ضمن میں نیا قانون افسانے کے متعلق ابو اللیث صدیقی لکھتے ہیں:
’’اس افسانے میں منٹو کا کوئی کمزور پہلو نہیں ابھرتا۔ یہ ہماری سیاسی جد و جہد کے دور کا آئینہ ہے جس میں ہماری آرزوئیں، امنگیں، تمنائیں اور ناکامیاں جھلکتی ہیں اور فنی معیار سے بھی ایک کامیاب افسانہ ہے۔ اچھے مختصر افسانے کے لیے ضروری ہے کہ اس میں واقعات کا تانا بانا زیادہ نہ بکھرا ہوا۔ بات سے بات نکل کر طوالت نہ پیدا ہو جائے۔ مرکزی خیال ایک رہے۔ کردار، واقعات اور مکالمات اسی ایک خیال کو اجاگر کرنے اور تاثر میں شدت پیدا کرنے میں ممد و معاون ثابت ہوں … یہ بات بھی یہاں پوری طرح واصل ہو گئی ہے کہ کردار صرف ایک ہی ہے۔ (استاد منگو) واقعات اور مکالمات مناظر اور پس منظر کا محور بھی ایک ہے۔ یعنی نئے قانون کے نفاذ کا انتظار۔ ‘‘ منٹو: نوری: ناری۔ ممتاز شیریں۔ ص۔ ۱۲۴ ۔اشاعت دومکراچی سنہ ۲۰۰۴
سعادت حسن منٹو کے قلم سے نکلے ہوئے بہت سے افسانے انسانی جذبات و احساسات کو جھنجھوڑ دینے والے ہیں۔ نیا قانون ان میں سرفہرست ہے۔ گویا منٹو اردو افسانہ نگاری کے اہم استون ہیں۔ منٹو میں بے پناہ تخلیقی صلاحیتیں موجود تھیں۔ وہ زود نویس اور بسیار نویس دونوں تھے۔ وہ اپنے دور کے سب سے زیادہ باغی تخلیق کار، جھکی اور فحش نگار بھی قرار دیئے جاتے ہیں۔ ان کے فن پر طرح طرح سے نکتہ چینی کی گئی، اعتراضات کئے گئے اور مقدمے چلائے گئے لیکن انھیں ہر موقع پر سرخروئی حاصل ہوئی۔ اس طرح یہ نڈر اور بے باک افسانہ نگار ۱۹۵۵ء میں محض ۴۳ سال کی عمر میں اس دنیا کو خیر آباد کہہ دیتا ہے۔بہر حال منٹو کا یہ افسانہ ایک انسانی المیے کی یاد دلاتا ہے۔ یہ المیہ ہر دور میں رہا ہے اور موجودہ دور میں اس کی شدت مزید آشکارا ہو چکی ہے۔ آج بھی منگو کوچوان جیسے سیدھے سادے معاشرتی اور سیاسی جبر سے ستائے ہوئے لوگ سیاسی و سماجی تبدیلیوں کی آس لگائے دن گن رہے ہیں۔ لیکن وہ جبر ہے کہ ختم نہیں ہوتا۔ منٹو کا فن اس افسانہ میں اپنی پوری تاب ناکیوں کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ اس طرح زندہ افسانوں کی بدولت منٹو ہمیشہ قارئین کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔
٭٭٭
جیلانی بانو
ولادت:۔ ١۹۳٦ ء
جیلانی بانو اردو زبان کی معروف مصنفہ ہیں۔حیدر آباد دکن سے تعلق کی بنا پر ان کی اکثر کہانیوں میں حیدرآبادی تہذیب وثقافت کی جھلک واضح نظر آتی ہے- جیلانی بانو 14جولائی 1936ء کو بدایوں اتر پردیش میں پیدا ہوئیں- اردو ادب سے لگاؤ انہیں اپنے والد صاحب حیرت بدا یونی سے ورثے میں ملا جو اپنے وقت کے معروف شاعر تھے- ان کی پرورش خالص ادبی ماحول میں ہو ئی- اپنے وقت کے بڑے مصنفین مثلاً سجاد ظہیر، مخدوم محی الدین، جگر مراد آبادی، کرشن چندر اور مجروح سلطان پوری وغیرہ کا ان کے گھر آنا جانا لگا رہتا تھا- اس ادبی ماحول نے ان کی تربیت اور شخصیت کی نشو و نما میں اہم کردار ادا کیا- ابتدائی عمر سے ہی انہوں نے سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی، میر تقی میر، غالب،اقبال، گورکی، چیخوف، موپساں،بیدی، فیض احمد فیض، مجاز، قرۃالعین حیدر اور احمد ندیم قاسمی سمیت تمام بڑے بڑے ادبا کا کام مطالعہ کیا - ان عظیم مصنفین کی تخلیقات کے مطالعے نے ان کی ادبی صلاحیتوں کو خوب جلا بخشی- بہرحال انہوں نے اپنا ایک مخصوص طرز تحریر اپنایااور کسی بڑے مصنف کی نقل نہیں کی- انہوں نے اپنی پہلی کہانی‘ ایک نظر ادھر بھی‘ 1952ء میں تحریر کی- ان کی شہرہ آفاق تحریر ‘موم کی مریم‘ نے ماہنامہ ‘سویرا‘ میں شائع ہوتے ہی انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا- ان کی کہانیوں کا پہلا مجموعہ ‘روشنی کا منار‘ اور پہلا ناول ‘ایوان غزل‘ تھا- ان کی کہانیاں ہمارے معاشرتی رویوں کی عکاسی کرتی ہیں-انہوں نے اپنی زیادہ تر کہانیوں میں معاشرے کے پسے ہوئے غریب طبقے کو موضوع بنایا ہے- ان کی معروف تحریریں روشنی کے منار(1958ء)، نروان(1963ء)، جگنو اور ستارے(1965ء)، نغمے کا سفر (1977ء)، ایوان غزل (1977ء)، بارشِ سنگ (1985ء) اس کے علاوہ انہوں نےحیدرآباد شہر پر بننے والی ڈاکومنٹری حیدرآباد ایک شہر ایک تہذیب کا سکرپٹ بھی تحریر کیا- انہیں غالب ایوارڈ، دوشیزہ ایوارڈ ,پاکستان)، سویت لینڈ نہرو ایوارڈ (ماسکو)، مہاراشٹر اردو اکیڈمی ایوارڈ، نقوش ایوارڈ پاکستان)، پدماشری ایوارڈ (بھارت۔وغیرہ انعامات سے نوازا گیا۔ بحوالہ ریختہ
موم کی مریم
جیلانی بانو
آج بھی اندھیرے میں لیٹا میں خیالی ہیولوں سے کھیل رہا تھا۔اور جب بھی اندھیرا چھا جاتا ہے۔ تم نہ جانے کہاں سے نکل آتی ہو۔ جیسے تم نے تاریکی کی کھوکھ سے ہی جنم لیا ہو۔ اور مجبورا مجھے جلے ہوئے سگریٹ کی راکھ کی طرح تمہیں بھی زمین پر جھٹک دینا پڑتا ہے۔میں نے کبھی تمہارے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائے۔ کبھی تمہارے اوپر نظمیں نہیں لکھیں۔ کبھی تمہاری یاد میں تارے نہیں گنے۔ پھر کیوں تمہیں یاد کئے جاؤں۔۔۔۔۔؟
زندگی میں تم سے اتنی دور رہا کہ کبھی اس رنگ و بو کے سیلاب میں غرق نہ ہو سکا جو تمہارے چاروں طرف پھیلا ہوا تھا۔ ہمارے بیچ میں جھوٹی عقیدت اور مضحکہ خیز احترام کی خلیج حائل رہی۔ پھر آج تم اپنی آہوں اور سسکیوں سے کون سے دبے ہوئے جذبے جگانا چاہتی ہو۔۔۔۔۔؟آج صبح عائشہ کے خط سے مجھے تمہاری موت کی خبر مل چکی ہے مگر میں اس موت پر اظہار افسوس نہ کر سکا۔ روزانہ جانے کتنے بادل بنا برسے گزر جاتے ہیں۔ کتنے نغے ساز کے اندر ہی دم توڑ دیتے ہیں۔ کتنے انسان ایک لمحہ کی خوشی ڈھونڈتے ڈھونڈتے مر جاتے ہیں۔ پھر تمہاری موت تو میرے سامنے کتنی بار ہو چکی ہے۔ اگر مادی طور پر تم چلتی پھرتی نظر آتی تھیں۔ بالکل اسی طرح جیسے آج میرے کمرے میں آ بیٹھی ہو۔
جب سے عائشہ کا خط پڑھا ہے میرے خیالات کٹی ہوئی پتنگ کی طرح ڈولتے پھرتے ہیں اور نہ جانے کیوں بہت سی دھندلی دھندلی یادیں جھلملانے لگی ہیں اور اندھیرے اجالے میں بہت سے چہرے غلط ملط ہو گئے ہیں۔مگر اس وقت تمہارے خیالی وجود سے باتیں نہیں کر رہا ہوں کیوں کہ تمہاری جانی پہچانی سسکیاں مجھ کو تمہاری موجودگی کا یقین دلا رہی ہیں تو میں اسے واہمہ کیسے تصور کر سکتا ہوں۔۔۔۔۔؟
تمہارا اور اندھیرے کا ہمیشہ کا ساتھ رہا ہے۔ تم زندگی بھر جہاں جہاں بھی گئیں چراغ گل ہوتے گئے۔ تاریکی کے حلقے تمہیں اپنے گھیرے میں اسیر کئے رہے۔ جس طرح مریم کی تصویر کے گرد مصور نے نورل کا ہالہ کھینچ دیا ہے۔ عصمت، تقدس اور معصومیت کی لکیریں جن کے اندر پاک مریم کی روح کو محصور کر دیا گیا ہے۔اس وقت بھی جب تمہارے سیاہ مستقبل کی طرح کمرے میں تاریکی چھائی ہوئی ہے۔ تمہارے آنسو یوں چمک رہے ہیں۔ جیسے پر پرامید بحرین نے دریا کی سطح پر چراغوں کی قطار چھوڑ دی ہو۔ میرے کمرے میں تمہارے آنسوؤں نے اجالے کی امید قائم کر رکھی ہے۔۔۔۔۔ ہم مشرق کے مرد صدیوں سے اپنی عیش گاہوں میں تمہارے اشکوں سے چراغاں مناتے آئے ہیں۔۔۔۔۔
تمہارے متعلق لوگوں نے جو کہانیاں مشہور کر رکھی تھیں وہ بالکل سطحی تھیں اور اسی لئے میں نے حقیقت کی سطح پر اتر کر تمہیں سمجھنا چاہا تھا۔۔۔۔۔ تم کیا تھیں! اماوس کی رات کو ٹوٹنے والا ایک ستارہ جو اپنی آخری جھلک سے بہت سے دلوں میں امید کی کرن چمکا کر غائب ہو جائے۔۔۔۔۔ ایک تند لہر جو اپنے زعم میں ساحل کے پرخچے اڑا دینے کے ساتھ خود بھی مٹ گئی ہو۔آج جب تم اپنے گناہوں کی لمبی فہرست سمیت خود ہی میرے کمرے میں آ گئی ہو۔ تو مجھے اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ تم ایک عام سی لڑکی ہونے کے باوجود دوسروں سے کس قدر مختلف تھیں۔ تم ایک مسحور کرنے والا جادو بن گئیں تھیں۔ جو کتنے ہی خریداروں کو خرید لایا۔ مگر سونگھا ہوا پھول سمجھ کر سب واپس چلے گئے۔
دوکان دار کے نزدیک وہ چیز کتنی حقیر ہو جاتی ہے جسے گاہک الٹ پلٹ کر پھر دوکان پر رکھ جائے۔۔۔۔۔ شیشے کے کیس میں بند رہنے والی گڑیا۔۔۔۔۔ آج تم اتنی صاف صاف باتیں سن کر حیران کیوں ہو رہی ہو۔ جبکہ تم نے اپنے آس پاس کے شیش محل چکنا چور کر ڈالے تھے۔ اور سماج کی کھینچی ہوئی لکیروں پر چلنے سے انکار کر دیا تھا۔ ایک بار تم سب لڑکیوں کو آنگن میں دھماچوکڑی مچاتے دیکھ کر امی نے کہا تھا۔
"اونہہ، مت روکو نگوڑی ماریوں کو۔۔۔۔۔ کنواری لڑکیاں برساتی چڑیاں ہوتی ہیں۔ کون جانے کل کس کا ڈولا دروازے پر کھڑا ہو گا۔۔۔۔۔"
اس وقت اخبار پڑھتے پڑھتے میں نے تمہاری زندگی کا پورا فلم دیکھ ڈالا تھا۔ جب تم کسی ناصر یا شاہد کلرک سے بیاہی جاؤ گی اور آنسو پونچھتی ڈولے میں سوار کرائی جاؤ گی۔ پھر ہر سال ایک نئے منے کی پیدائش میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ اور ساتویں یا آٹھویں ننھے کی پیدائش پر تپ دق کا شکار ہو کر مر جاؤ گی۔ ہر لڑکی انہی لکیروں پر دوڑتی آئی ہے۔ مگر تم نے اپنی انفرادیت کا ایک دوسرا راستہ ڈھونڈنا چاہا جس کی سزا میں موت اور زندگی تم پر حرام ہو گئی۔
تم منجھلے چچا کی دسویں یا گیارہویں اولاد تھیں۔۔۔۔۔ پھر نامراد لڑکی۔۔۔۔۔"اونہہ، لڑکی ہے تو کیا ہوا نصیب اچھے ہوں۔ لڑکے کون سا فیض پہنچاتے ہیں۔۔۔۔۔ ماں باپ کی موت پر آنسو بہانے والی بیٹی ہی تو ہوتی ہے۔"اور اپنی موت کے نوحہ گر کے پیدا ہوتے ہی کسی نے تمہیں خوش آمدید نہ کہا۔
اپنے ارد گرد کے اس ماحول نے تمہیں زیادہ حساس بنا دیا۔ حقارت کی نظروں نے خودی کا احساس بیدار کیا اور تم نے کچھ کرنے اور کچھ پانے کی قسم کھا لی۔ تمہارے متعلق بدنامیاں اور سرگوشیاں بڑھتی چلی گئیں۔ جاہل، بددماغ، بدصورت اور مغرور۔ دن بھر تمہیں انہی خطابوں سے یاد کیا جاتا ہے مگر تم ایک ننھی چڑیا کی طرح اترا اترا کر کہتی رہیں۔۔۔۔۔ جو میرے پاس ہے وہ رانی کے محل میں بھی نہیں۔
اسی انانیت پسندی سے تم ایک ایسا شعر بن گئیں جس کے غالب کے شارحین کی طرح ہر ایک نے الگ معنی نکالنے چاہے مگر پھر بھی بہت کم حقیقت کی تہہ تک پہنچ سکے۔اور میں نے بہت دور ہو کر بھی تمہیں سمجھنا چاہا۔ یہ سچ ہے کہ میں نے دوسرے مردوں کی طرح تمہاری دوشیزگی کی جانب ہاتھ نہیں بڑھایا۔ کبھی اس قدر نزدیک نہیں آیا کہ تمہارے تنفس کی رفتار سے کوئی راز پا سکوں۔ پھر بھی میں نے اس شعر پر کافی ریسرچ کی۔ دماغی لیبارٹی میں دو سال تک تجربے کئے مگر کچھ بھی سمجھ نہ سکا۔ایک بار مجھے اپنی جانب جھکتے دیکھ کر تم تنے کہا تھا۔
"احمد بھائی! میں آپ کی بہت عزت کرتی ہوں اور یہ نہیں چاہتی کہ کوئلوں کی دلالی میں آپ بھی اپنے ہاتھ کالے کر بیٹھیں۔۔۔۔۔" مگر یہ کتنا بڑا خزینہ ہے کہ تم نے بہت سوں کو کوئلوں کی دلالی سے بچانے کی خاطر اپنے منہ پر کالک مل لی تھی تاکہ ان کے سفید دامن سیاہی سے ملوث نہ ہوں۔۔۔۔۔ تم میری بہت عزت کرتی تھیں۔۔۔۔۔ ایک نوجوان مرد کی، جو تمہارے ذرا سے سہارے پر آگے بڑھنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔ جس نے تمہاری اٹھارہ سال کی زندگی میں مسلسل فریب دئیے تھے، جس نے تمہیں منزل کے قریب لا کر بھٹکا تھا۔ بدنامی کی کوٹھڑی میں دھکیل کر ہر دروازہ بند کر دیا تھا۔ پھر تم نے اپنی رہی سہی عزت کی دھجیاں بکھیر ڈالیں اور بیچ چوراہے، اپنے سب ظاہری لباس اتار ڈالے۔ وہ تو خیر ہوئی کہ تم میری عزت کرتی رہیں اور میں تمہیں سمجھنے میں اتنا منہمک ہو گیا کہ جذبات کے انجکشن قطعی بے اثر ہو گئے ورنہ ممکن تھا ایک دن میری خودداری اور عزت تمہارے قدموں میں پڑی بخشش کی طلبگار ہوتی اور تم اطہر کی طرح مجھے ایک چٹان پر چھوڑ کر کہتیں۔
"میں نے تمہیں پانے کے لئے بہت سی ٹھوکریں کھائیں مگر تمہارے چھونے سے پہلے اتنی بلندی پر پہنچ گئی کہ جب تم وہاں پہنچے میں سراب بن چکی تھی۔"گھبراؤ نہیں۔ تم نے یہ الفاظ اطہر یا ریاض سے خود نہیں کہے۔ مگر آج تک تم نے کون کون سی باتیں زبان سے ادا کی ہیں، تم تو اس گونگی کی طرح ہو جسے اپنا مفہم ہمیشہ عملی طور پر سمجھانا پڑتا ہے۔صرف اٹھارہ سال کی زندگی میں تم نے اتنی باتیں کیسے کہہ لیں!بظاہر تم کتنی معمولی لڑکی تھیں۔ چھوٹے چھوٹے کاندھوں تک لہراتے ہوئے بال جن کی باریک باریک آوارہ لٹیں چہرے کے گرد ہالہ سا بنائے کانپتی رہتیں۔ معمولی سا قد، دبلا پتلا دھان پان جسم جیسے تیز ہوا کے جھونکے بھی تمہیں اڑا کر لے جائیں گے۔ جیسے تمہاری جانب ہاتھ بھی بڑھایا تو چھوئی موئی کی طرح کملا جاؤ گی۔ ایک واہمہ سی، ایک ادھورا خاکہ۔ کتنے ہلکے ہلکے تھے تمہارے خد و خال۔ پتلے خمیدہ لب، جو ہمیشہ سرمہری سے بند رہتے۔ ہر چیز کو تجسس سے دیکھنے والی ہمدرد آنکھیں جو اپنے سارے گناہ آشکار کرنے کو تیار رہتیں اور اسی خیال سے بات کرتے وقت بار بار بند ہو جاتیں تا کہ ان کی گہرائیوں کا کوئی پتہ نہ لگا سکے اور لمحہ لمحہ بدلنے والا رنگ، جو کبھی شعلے کی طرح دہکنے لگتا، کبھی راکھ کی طرح سیلا پڑ جاتا۔
اور جب باتیں کرتیں تو تمہارے خدوخال میں کوئی تبدیلی نہ آتی۔ کتنی مشکل بات تھی تمہارے چہرے سے کسی بات کا اندازہ لگانا۔
اس معمولی شکل و صورت ہی نے تو تمہیں گھر میں ایک ناقابل التفات چیز بنا دیا تھا۔ اپنی خوبصورت سعادت مند بہنوں کے مقابلے میں تمہاری کوئی قدر و قیمت نہ تھی۔ خرید و فروخت کے اس بازار میں صرف اچھی صورت والی لڑکی ہی فائدہ اٹھاتی ہے۔۔۔۔۔ اور یہ خیال چچا اور چچی کے لئے سوہانِ روح تھا۔مجھے آج سے تین سال پہلے والی جاڑوں کی ایک صبح یاد آ رہی ہے۔تم اس وقت نہا کر آئی تھیں۔ نسرین اور عائشہ کے ساتھ صحن میں بیٹھی، سویئٹر کا ایک نمونہ بنا بنا کر ادھیڑ رہی تھیں۔ نومبر کی لطیف دھوپ آنگن میں بکھری ہوئی تھی۔ چچی نیچے بیٹھی نئے لحافوں میں دھاگے پرو رہی تھی۔ اس وقت تمہارے گلابی ڈوپٹے، بھیگے بال اور نکھرے ہوئے رنگ کو دیکھ کر بھی مجھے کوئی شعر یاد نہیں آیا، کوئی تشبیہ دماغ میں نہیں ابھری۔ عائشہ، نسرین اور فرزانہ کے فروزاں حسن نے وہاں تمہارے چراغ کو ٹمٹمانے نہیں دیا۔۔۔۔۔ کتنی کمتر تھیں تم اپنی مغرور اور اپنے حسن پر خود ہی مر مٹنے والی بہنوں کے حلقے میں۔۔۔۔۔ اس وقت میں نے سوچا تھا کہ حسن کے اس جھمگٹ میں تمہاری کہانی کتنی مختصر اور پھیکی ہو گی۔
انہی دنوں میں مسلسل بیکاری نے مجھے نئی نئی راہوں سے واقف کر دیا تھا۔ اور گھر سے بہت دور ایک ہڑتال کے سلسلے میں گرفتار ہوا تھا۔ تو عائشہ کا خط پڑھ کر پہلی دفعہ تمہاری جانب متوجہ ہوا تھا۔۔۔۔۔ تم لڑکیوں کو خط لکھنے کو بھی تو کوئی بات نہیں ملتی۔ عائشہ کے خط بھی اسی کی طرح خوبصورت اور معصوم ہوتے جن میں وہ ابا کی ناراضگی سے لے کر خاندان کی اہم تقریبوں میں آنے والی عورتوں کے کپڑے، زیوروں کے ڈیزائن اور اسکول کی سہیلیوں کے رومان تک۔۔۔۔۔ سب کا تفصیل کے ساتھ ذکر کرتی۔ ساتھ ہی وہ مجھے بھی ایسا ہی مزیدار لمبا خط لکھنے کی ہدایت کرتی۔۔۔۔۔ میری بےوقوف بہن نہیں جانتی تھی کہ میں رومانوں، سرگوشیوں اور رنگینیوں کی دنیا سے کتنی دور تھا۔ مگر وہ میری مسلسل خاموشی کے باوجود ایک ہنگامہ پرور گھر کے کمرے میں بیٹھی، باربار منہ پر جھک آنے والے لٹوں کو پیچھے جھٹک کر لکھتی رہی۔۔۔۔۔ آپ نے ایک اور خبر سنی بھائی جان؟ قدسیہ کے یہاں چھوٹی خالہ امجد بھائی کا پیغام لے کر گئیں تو قدسیہ نے خود آ کر ان سے کہہ دیا کہ وہ امجد سے شادی نہیں کرے گی۔سنا ہے چچا ابا زہر کھانے والے ہیں اور سارے خاندان میں تھو تھو ہو رہی ہے
اس دن بہت دنوں کے بعد جیل کی تنہا کھوٹڑی میں مسکرا سکا۔ اس دلیرانہ جرات پر میں نے غائبانہ طور پر تمہاری پیٹھ ٹھونکی تھی اور کہا تھا کہ جس خول میں ہم اپنے آپ کو لپیٹے ہوئے ہیں وہ جگہ جگہ سے ٹوٹ رہا ہے۔ جی چاہا کہ فورا چچا ابا کو زہر کی ایک شیشی بھیج دوں تاکہ وہ صرف ارادہ کر کے ہی نہ رہ جائیں۔ تم پھر ایک بار میرے سامنے آئی تھیں۔ جھنجھلا کر سویئٹر ادھیڑتی ہوئی۔پھر میں اس واقعے کو بھول گیا۔ عائشہ اپنے خطوں میں لکھتی رہی کہ تمہارا اور ریاض کا رومان چل رہا ہے۔۔۔۔۔ اپنی صفائی میں کچھ کہنے کی کوشش مت کرو۔ مجھے معلوم ہے کہ تم نے اپنی محبت کو کامیاب بنانے کی کتنی کوشش کی۔ لیکن ریاض تمہارے ہاں کا لے پالک تھا۔ تمہارے دسترخوان کے جھوٹے ٹکڑوں پر پلا تھا۔ پھرچچا ابا کو اس کی سن گن ملی تو ریاض گھر ہی سے نہیں شہر ہی سے نکال دیا گیا۔ اور تم نے بڑے تحمل سے محبت کی اس لاش کو دل کے قبرستان میں دفن کر دینا چاہا۔۔۔۔۔ لیکن شاید ایسا نہ ہو سکا۔ کیوں کہ مردار کھانے والے گدھ، جو ایسے موقعوں کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں، اس لاش کو باہر کھینچ لائے۔ جی بھر کے اس سے لطف اٹھایا اور پھر اسے چیر پھاڑ کر رکھ دیا۔ تمہاری بیماری کو بڑے خوفناک معنی پہنائے گئے۔ یعنی یہ سب ریاض کی امانت کو ٹھکانے لگانے کے بہانے ہیں اور تم اپنے کمرے ہی میں نہیں پڑی رہتیں بلکہ ریاض کے ساتھ فرار ہو چکی ہو۔
یہ باتیں میں نے بہت دور بیٹھ کر سنیں اور ہر بات کو یقین کے خانے میں ڈالتا گیا۔ یہ کوئی ناقابل یقین بات بھی تو نہ تھی۔ بقول عائشہ کے تم اپنی اہمیت کا احساس دلانے کا فیصلہ کر چکی تھیں اور تم نے ساری دنیا کو ٹھکرا کے اپنی من مانی کرنے کا عزم کر لیا تھا۔۔۔۔۔ پھر تم جیسی محبت کی ماری لڑکیاں اس سے زیادہ اپنی اہمیت کا کیا ثبوت دے سکتی ہیں۔۔۔۔۔؟اس کے بعد جب میں رہا ہو کر گھر آیا تو تم وقت کا ایک اہم موضوع بن چکی تھیں یا عائشہ کے الفاظ میں کچھ کر دکھانے کی دھن میں اپنا رہا سہا وقار بھی کھو بیٹھی تھیں۔
اس دوران میں تم اپنے ماسٹر سے بھی محبت کر چکی تھیں جو تمہیں پڑھانے آتا تھا۔ ایک سیدھا سادھا، خطرناک حد تک شریف انسان، جو اپنی مظلومی اور بےچارگی ظاہر کر کے دوسروں سے رحم کی بھیک مانگتا تھا۔پہلے اس نے تمہیں شرافت اور عزت کے سبق پڑھائے۔ اپنی بےچارگی اور دکھ کے افسانے سنائے۔ اس کی محبوبہ نے اسے دھوکہ دیا تھا۔ محض غربت کی وجہ سے اسے ٹھکرا دیا تھا (یہ محبوباؤں کے دھوکہ دینے کا دکھڑا بھی کتنا فرسودہ ہو چکا۔) پھر اس کی پیاسی دنیا میں تم نے اپنی ہمدردی کے چند قطرے برسانے چاہے۔ اپنے طرزِ عمل سے اس کا دکھ کم کرنا چاہا۔ اپنے غم کی کہانی بھی اسے سنا ڈالی۔۔۔۔۔ پھر کورس کی کتابوں کو ایک جانب سمیٹ کر تسلی اور تسکین کے سبق پڑھائے جانے لگے۔
پھر تمہارا ماسٹر بیمار ہو گیا اور چچا ابا نے دوسرا ماسٹر رکھنا چاہا تو تم نے پڑھنے سے انکار کر دیا۔ تم اس ماسٹر سے پڑھنا چاہتی تھیں اور اس کی مزاج پرسی کے لئے اس کے گھر جانے پر مصر تھیں۔یہ ساری باتیں گھر کے چھوٹے بچوں تک نے مجھے سنائیں۔ میں کیسے یقین کر لوں کہ تمہیں اس ماسٹر سے محبت نہیں تھی، صرف ہمدردی تھی۔ یہ انسانیت کا جذبہ ہی تھا جو تمہیں ایک رات چپکے سے اٹھا کر ماسٹر کے گھر لے گیا اور جب تم ابھی دروازہ ہی کھٹکٹھا رہی تھیں کہ چچا ابا کے ڈنڈے کی ضرب سے بےہوش ہو گئی
پھر مہینوں گھر والے تمہارے سائے سے بھی اچھوتوں کی طرح بچتے پھرے۔ گھر کی لمبی لمبی ناک والی عورتوں نے خاندان میں نکلنا چھوڑ دیا۔ چچا ابا نے وقت سے پہلے پنشن لے لی اور سارے خاندان میں کھڑی ہو کر تم نے اپنی ماں سے کہا کہ امی جو میرا جی چاہے گا کروں گی یا پھر آپ لوگ مجھے مار ڈالئے۔ پھر سب نے دوسری بات سے اتفاق کر لیا۔ یعنی تم مار ڈالی گئیں۔ سب نے تم پر فاتحہ پڑھا۔ لیکن شمیم ماموں اس فاتحے میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ رفتہ رفتہ دوسرا زخم بھی بھرنے لگا پھر شمیم ماموں کی نازبرداریوں نے اسے مٹا ڈالا تھا۔۔۔۔۔ وہ تم پر بے حد مہربان تھے۔ عائشہ کہتی تھی۔
"شمیم ماموں کی عذرا تو قدسیہ کی کلاس فیلو ہے۔ جیسی ان کی لڑکی ویسی قدسیہ، پھر کیسے ایک لڑکی کو گھل گھل کر مر جانے دیں۔" شمیم ماموں مدتوں سے اپنی بیوی بچوں سے قطع تعلق کر کے اکیلی زندگی گزار رہے تھے۔ صرف اتنی سی بات پر کہ ان کی بیوی کبھی اچھی طرح ساڑھی نہ باندھ سکیں۔ایک بار مجھے عائشہ نے لکھا تھا کہ تم بہترین ساڑھی باندھنے پر اسکول میں انعام لے چکی ہو۔ وہ اپنے بچوں کو چھوڑ کر تمہیں سیر کرانے لئے جاتے، تمہارے صدقے میں سارا گھر سینما دیکھتا، پکنک پر جاتا۔ تم کوئی اعلیٰ ڈگری لینا چاہتی تھیں اور چچا ابا تمہیں تنہا ہاسٹل میں چھوڑنے پر تیار نہ تھے۔ اس لئے بیچارے شمیم، اپنی وکالت کے بےشمار اہم کام چھوڑ کے، بارہ بارہ بجے رات تک فارسی اور اردو شاعروں کا کلام پڑھاتے اور عشق و تصوف میں ڈوبے ہوئے اشعار کا مطلب تم سے پوچھتے۔
سب کے ٹھکرائے جانے سے پہلے تم خود ہی کسی سے بات کرنا پسند نہ کرتی تھیں۔ دن بھر پلنگ پر اوندھی پڑی نہ جانے کیا سوچا کرتیں۔ کوئی بات نہ کرتا تو شکایت نہ کرتیں۔ شمیم ماموں سر پر ہاتھ پھیرتے تو منع نہ کرتیں۔ ہاتھ پکڑ کے موٹر میں بٹھا دیتے تو بیٹھ جاتیں۔ ممکن ہے تم سے ان کی ویران زندگی نہ دیکھی گئی ہو اور انسانیت کے تقاضے نے مجبور کر دیا ہو۔ مگر تمہاری یہ روش کتنی تعجب خیز تھی۔ ممانی کو اپنا مستقبل خطرے میں نظر آنے لگا اور سب کی سوالیہ نگاہیں پھر تمہارے چہرے پر گڑ گئیں۔۔۔۔۔ ایک رات جب شمیم ماموں تمہیں پڑھا رہے تھے۔ کمرے میں کچھ شور سا ہوا پھر پھر تم بغیر ڈوپٹے کے بھاگتی ہوئی کمرے میں آئیں اور پلنگ پر گر کر رونے لگیں۔
چچی نے تمہارے کمزور جسم پر اپنی دانست میں بڑے زوردار دھموکے رسید کئے اور بہت سی مرغیاں کڑکڑانے لگیں۔ جواب میں سسکیاں روک کے تم نے بڑی مشکل سے کہا۔
"میں دھر بھی جاؤں سب مجھی کو برا کہتے ہیں۔ مجھے کیا معلوم تھا وہ اتنا کمینہ۔"
اور مجھے ہنسی آ گئی۔۔۔۔۔ کوئی مرد ماموں نہیں ہوتا، ماسٹر نہیں ہوتا، شریف نہیں ہوتا، صرف کمینہ ہوتا ہے۔ جو عورت سے سب کچھ لینے کے بعد بھی اسے جھلملاتے آنسوؤں کے علاوہ کچھ نہیں دے سکتا۔
شمیم ماموں نے سوچا ہو گا کہ اگر ریاض یا ماسٹر تمہیں کوئی امانت نہ دے سکے تو وہ کیوں نہ اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لیں۔ جبکہ وہ کسی رشتے ناتے سے تمہارے فرضی ماموں بھی بنے ہوئے تھے۔پھر تو ان کی بیوی نے شہر بھر میں یہ خبر عام کر دی کہ تم چاہو تو بیوی بچوں والے بوڑھے مردوں کو بھی بھٹکا سکتی ہو۔ پھر کسی میوزیم میں رکھی ہوئی لاکھوں سال پرانی ممی کی طرح تم ایک نمائش کی چیز بن گئیں۔ لمبی لمبی چھتوں کو پھلانگتی ہوئی یہ بات سارے شہر کا گشت لگا کر تمہارے ماتھے پر چپ گئی۔ عورتیں اور لڑکیاں دور دور سے بچے کولھوں پر ٹکاتے، ناک پر انگلیاں رکھے تمہیں دیکھنے کو آتیں۔ مردوں کی محفلوں میں بلند قہقہوں اور فحش گالیوں کے درمیان تمہارا نام آ جاتا تو خود بھی اس لٹنے والے باغ میں جانے کو طبیعت مچل اٹھتی۔اطہر اسی مالِ غنیمت کی امید میں آیا
تھا۔میرا چھوٹا بھائی جو اپنی آوارگی کے سبب حوالات تک ہو آیا تھا۔ کالج سے نکال دیا گیا تھا۔ اور متفقہ طور پر یہ طے ہو گیا تھا کہ اسے کوئی اپنی بیٹی نہ دے گا۔ متوسط طبقے کا ایک بےکار نوجوان جس سے لب لوگ مایوس ہو گئے تھے۔
باہر کی تفریحوں کے علاوہ اور بھی کئی لڑکیوں کو جھانسہ دے چکا تھا بلکہ راحت کے متعلق تو مشہور ہے کہ صرف اطہر کی وجہ سے اس کے شوہر نے اسے چھوڑ دیا ہے اور ہو میکے میں دن گزار رہی ہے۔مگر اتنے سیاہ کارناموں کے باوجود تمہاری جانب سے مایوس نہ لوٹا۔ساری دنیا سے دھتکارا ہوا بےرحم، منہ پھٹ، چیخ چیخ کر باتیں کرنے والا اطہر، جسے ابا روز گھر سے نکال دیتے، امی کوسنے دیتی اور عائشہ اپنی قسمت پر صبر کر کے بیٹھ جاتی۔۔۔۔۔ اگر بہنوں کے بھائی قابل فخر نہ ہوں تو وہ کتنی بدنصیب نظر آتی ہیں۔ خوبصورت کماؤ بھائیوں کے بھروسے پر ہی تو وہ کتنی ہی ناکوں کو اپنے سامنے رگڑوا سکتی ہیں۔ عائشہ کی ساری توجہ مجھ پر مرکوز ہو گئی تھی۔ لڑکیوں کے لئے میری خشک اور بےربط زندگی میں بھی کوئی کشش نہ تھی۔ مگر پھر بھی میری شخصیت کو گھر میں کافی اہمیت دی جاتی تھی۔
تمہاری بارگاہ میں اطہر کو کیسے شرفِ نیاز بخشا گیا۔ یہ بات سب کے لئے حیران کن تھی۔ وہ تو صرف اپنے خوبصورت جسم اور بےباک لہجے سے معرکے سر کرتا تھا اور تم نے ہمیشہ بجھے ہوئے دل اور بیمار ذہن تلاش کئے تھے۔یہاں پر مجھے اپنی پچھلی ریسرچ بیکار معلوم ہوئی اور اسے اٹھا کر پھینکنے سے پہلے میں نے تم سے راہ رسم بڑھانا چاہی۔ مجھے گھر میں رہنے کا اتفاق بہت کم ہوتا۔ خصوصاً تم سے تو کبھی بےتکلفی سے بات بھی نہ کر سکا تھا۔ اس لئے ایک گھر میں رہنے کے باوجود ہم بہت دور رہتے تھے۔ تم ہمیشہ مجھ سے چھپنا چاہتیں کیوں کہ پہلے دن ہماری ملاقات نے بڑی تلخ فضا پیدا کر دی تھی۔ اس دن ہماری ملاقات ناشتے کی میز پر ہوئی تھی۔ تم شاید میری سنجیدگی کی بات عائشہ سے پہلے ہی سن چکی تھیں اور مجھ تک اپنے کارنامے پہنچانے سے گریز کر رہی تھیں۔ احتیاط سے سر پر پلو ڈالے، نظریں جھکائے یوں بیٹھی تھیں جیسے کسی پادری کے سامنے اپنے گناہوں کا اعتراف کرنے آئی ہو۔ عائشہ نے میری جانب بڑی بامعنی نظروں سے دیکھ کر کہا تھا۔
"بھائی جان! دیکھیے یہ ہیں قدسیہ۔۔۔۔۔ عائشہ کی طنزیہ نظروں کو تم نے بیچ میں سے ہی پکڑ لیا اور ہونٹوں پر زبان پھیر کر شکستہ لہجے میں کہا۔۔۔۔۔ "تو احمد بھائی جان مجھے پہلے سے ہی جانتے ہیں؟"
اور تم چائے کی پیالی رکھ کر اٹھ گئی تھیں۔پھر برسات کی ایک شام کو ہلکی ہلکی رم جھم نے موسم بڑا پرکیف بنا دیا تھا۔ بہت دیر تک فیض کی "نقشِ فریادی" پڑھنے کے بعد میں حسبِ عادت سگریٹ کے دھوئیں سے خیالی ہیولے بنا رہا تھا۔عائشہ، پروین، چھوٹی بھابی اور فرزانہ قریب بیٹھی کیرم کھیل رہی تھیں اور کسی فلم پر زوردار بحث کر رہی تھیں۔ جس میں ایک ہیرو دو لڑکیوں سے محبت کرتا ہے اور ڈائریکٹر ہر بار اس محبت کو سچی محبت بنانے پر مصر ہے۔ عائشہ کے خیال میں یہ محبت کی توہین تھی یا ہیرو کی ابوالہوسی۔تم ان کے قریب والی کرسی پر بیٹھی، سیاہ ساٹن کے ایک ٹکڑے پر ننھے ننھے آئینے ٹانک رہی تھیں۔ جن کی بہت سی شعاعوں نے مل کر تمہارے چہرے پر مشعلیں سی جلا دی تھیں۔اپنی رائے کو زیادہ وزنی بنانے کے لئے عائشہ نے مجھ سے پوچھا۔
"آپ بتائیے بھائی جان! کیا محبت ایک بار سے زیادہ کی جا سکتی ہے۔؟"
اور میں نے بلا سوچے سمجھے کہہ دیا "قدسیہ سے پوچھو۔"
تمہارے ہاتھ کام کرتے کرتے رک گئے۔ چہرے پر جلتی ہوئی مشعلیں بجھ گئیں اور تم گہری شکایت آمیز نظروں سے مجھے دیکھتی ہوئی کمرے سے باہر چلی گئیں۔ بھابی اور پروین آہستہ آہستہ ہنسنے لگیں۔ فرزانہ بات کو ٹالنے کے لئے گنگنانے لگی اور عائشہ نے داد طلب نگاہوں سے مجھے دیکھا۔ پھر میں نے اس خوبصورت شام کا زرتار لباس نوچ کر پھینک دیا۔ رم جھم کا شور مچانے والی بوندیں آنسوؤں کے دھارے بن گئیں فیض کے دل نشیں شعر ہاتھ ملا کر مجھ سے رخصت ہو گئے اور کمرے میں اندھیرا بڑھنے لگا۔
"آج موسم کتنا خوشگوار ہے۔!"
"ہونہہ۔"
"جی چاہ رہا ہے کہیں باہر گھومنے جاؤں۔"
"تو جائیے۔۔۔۔۔" تم حسبِ عادت مختصر جواب دے رہی تھیں۔
"مگر کوئی ساتھ چلنے والا جو نہیں۔ اطہر نے وعدہ کیا تھا مگر نہیں آیا۔ کتنا غیر ذمہ دار اور جھوٹا ہو گیا ہے یہ لڑکا۔"
جان بوجھ کر اطہر کی برائی کر کے میں نے تمہارے چہرے پر کچھ ڈھونڈا۔ تمہاری آنکھیں سامنے کھلی ہوئی کتاب پر تھیں اور ہاتھ ٹیبل کلاتھ کی شکنیں درست کرنے میں مصروف۔ پھر بڑے طنز کے ساتھ تم نے کہا۔
"اتنے سہانے موسم میں تو وہ کسی بار میں بےہوش پڑے ہوں گے۔ آپ لوگ تو انہیں اچھی طرح جانتے ہیں نا۔"
یہ تم کہہ رہی تھیں۔ تم، جس کے متعلق مشہور تھا کہ سارے خاندان کی عزت جوتے کی ناک پر اچھال کر تم اطہر سے شادی کرو گی، سب سے چھپا کر اسے روپے دیتی ہو۔ وہ شراب پی کر آتا ہے تو اس کی پردہ پوشی کرتی ہو۔ اتنے برے انسان پر تمہاری یہ عنایتیں کیوں تھیں جبکہ پچھلی زندگی میں کئی قابلِ اعتبار مرد تمہیں دھوکا دے چکے تھے۔تمہارے متعلق پھیلی ہوئی بدنامیوں کے درمیان مجھے اپنی یہ رائے بڑی مضحکہ خیز لگی، اسے میں نے اپنے دماغ سے کھرچ دیا۔ تم سب کے لئے ناقابلِ فہم بن گئی تھیں۔ بھول بھلیوں کے پیچیدہ راستوں کی طرح تم نے اپنے گرد مکر و فریب کے جو جال بچھا رکھے تھے۔ انہیں دیکھ کر مجھے تم سے نفرت ہو تئی۔ پھر ایک دن بڑی سوچ بچار کے بعد میں کچھ حواس باختہ سا تمہارے کمرے میں آیا۔
"میں تمہارے متعلق کچھ جاننا چاہتا ہوں قدسیہ، اگر تم مجھے اجازت دو تو۔۔۔۔۔ تو۔۔۔۔۔" اپنی گھبراہٹ پر میں خود متعجب تھا۔ اس دن تمہارے چہرے پر پہلی بار میں نے ڈر کی پرچھائیاں دیکھیں۔ جن پر حیرانی غالب تھی۔ تم یوں کھڑی ہو گئیں جیسے شمیم ماموں تم پر جھپٹنا چاہتے ہیں۔ تم نے ڈوپٹے کو سینے پر سنبھال کر کہا۔
"آپ بھی مجھے جاننا چاہتے ہیں احمد بھائی! میں آپ کی بہت عزت کرتی ہوں۔ پھر آپ کیوں کوئلوں کی دلالی میں اپنے ہاتھ کالے کرنا چاہتے ہیں۔" اور تم پیچھے دیکھے بغیر باہر بھاگ گئیں تھیں۔
ان ہی دنوں اتفاق سے مجھے ایک خط ہاتھ لگا جو تم نے ریاض کو لکھا تھا مگر اسے بھیج نہ سکی تھیں یا شاید اسے بھیجنے کو لکھا ہی نہ ہو۔ کیوں کہ یہ صرف تمہاری روح کی پکار تھی، جس کو ریاض جیسا بےوقوف انسان کبھی نہ سمجھ سکتا۔ اس کی محبت میں تمہاری برتری اور پرستش کا جذبہ غالب تھا۔ اور تم اسے روح کی بلندی کبھی نہ دے سکتی تھیں۔ بارش بہت زوروں کی ہو رہی تھی۔ اور دریچوں سے نیچے گرنے والے قطروں کو بچے ہاتھوں میں روک کر بہت خوش ہو رہے تھے۔ اتنے میں بھابی کا چھوٹا بچہ راشد ناؤ بنوانے کے لئے ایک کاغذ لے کر آیا۔ یہ نیلے کاغذ پر لکھا ہوا ایک لمبا چوڑا خط تھا۔ نیچے تمہارے بہت ہی بگڑے ہوئے دستخط۔ وہ خط راشد تمہاری اٹیچی نے نکال کر لایا تھا۔ اپنی شرافت کا ثبوت دینے کے لئے میں نے اسے واپس رکھوانا چاہا مگر ایک بار پڑھنے سے باز نہ رہ سکا۔
میری جانب ملامت آمیز نظروں سے نہ دیکھو۔۔۔۔۔ ان دنوں میں تم پر ریسرچ کر رہا تھا۔ بیسویں صدی کا ایک نکما انٹلیکچوئل۔۔۔۔۔ تمہارا یہ خط بہت سی ڈھکی چھپی باتوں کو سامنے لے آیا اور میری رائے پھر ڈگمگانے لگی۔
اس خط میں ریاض کو لکھا تھا کہ بچپن سے تم نے ہر دل میں اپنے لئے حقارت اور نفرت پائی اور صرف کسی کی نظر میں برتری حاصل کرنے کا یہ جذبہ ہی تمہیں ریاض کی جانب لے گیا۔ جو تمہاری طرح سب کی جانب سے دھتکارا ہوا دوسرا فرد تھا۔ ریاض کی نیازمندی اور احساس کمتری نے اسے گہرا کر دیا۔ اور گھروالوں کی مخالفت نے اسے جنگل میں لگی ہوئی آگ کی طرح بھڑکا دیا۔ پھر تم نے ہر قیمت ادا کر کے ریاض کو پا لینے کا تہیہ کر لیا۔ مگر ریاض کے قدم اس دشوار راستے پر لڑکھڑا گئے۔ ابا کی ایک ڈانٹ پر محبت اچھل کر دور جا پڑی اور وہ اپنا بوریا بستر سمیٹ کر بھاگ گیا۔
خط کے آخر میں تم نے اسے خوب ذلیل کیا تھا۔۔۔۔۔ بزدل، تو سمجھتا ہے اس طرح تو نے اپنی محبت کو رسوائی سے بچا کر میری لاج رکھ لی۔ مگر ابھی ہماری محبت شروع ہی کہاں ہوئی تھی، پہلے ہی میری عزت کون سے جھنڈے پر چڑھی بیٹھی تھی۔ میں وہ دے ہی نہ سکی جو میری زندگی کا بلند ترین آدرش ہے۔۔۔۔۔ کاش میں تجھے اس بلندی پر پہنچا سکتی جہاں تک خود میرا ہاتھ بھی نہ جا سکا۔ اب میری روح اس وسیع سمندر میں اس تنکے کو تلاش کرتی پھرے گی۔
تو اب تم اس تنکے کی تلاش میں خوفناک چٹانوں سے ٹکرا رہی تھیں۔ تم۔۔۔۔۔ جو موم کی مورتی کی طرح اپنے خالق کے تخیل کی گرمی سے پگھل سکتی تھیں کسی کی تیز نگاہوں سے سلگ سکتی تھیں، پھر اپنے چاروں طرف چھائی ہوئی بھیانک آگ میں تمہارے قدم کیسے نہیں ڈگمگاتے۔۔۔۔۔؟
دوسرے دن میں نے اطہر کو تمہارے سامنے خوب ڈانٹا۔
"کل تم مجھ سے وعدہ کرنے کے بعد کیوں نہیں آئے؟ کبھی تو تمہیں اپنے وعدے کا خیال کرنا چاہیے۔ میں یہاں انتظار میں بیٹھا رہا اور بقول قدسیہ جناب کسی بار میں پڑے رہے۔"
اطہر کے بیساختہ قہقہے رک گئے اور وہ یوں خاموش ہو گیا جیسے میں نے اسے پھانسی کا حکم سنایا ہو۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ بڑا پشیمان سا میرے پاس آیا۔
"اور اس نے میرے متعلق کیا کہا؟ اسے میری عادتوں کی خبر ہے؟ کیا اس نے میری شکایت کی تھی؟ وہ بہت رنجیدہ ہو گی۔۔۔۔۔؟" زندگی میں آج پہلی بار میں نے اطہر کو شرمندہ دیکھا تھا تو وہ بھی کسی کی شکایت سننے تیار تھا اس سے متاثر ہو سکتا تھا۔
"یہ تو نئی نئی بات ہے۔ جبکہ تم ہمیشہ سے فریب دیتے آئے ہو اور قدسیہ ہمیشہ سے فریب کھاتی آئی ہے۔"
"آپ بھی ایسا سمجھتے ہیں بھائی جان!" اس نے شکایت آمیز لہجے میں کہا۔
قدسیہ کے بگڑنے میں اس کا کوئی قصور نہیں ہے وہ بہت بدنصیب لڑکی ہے لیکن میں یہ چاہتا ہوں کہ اگر اسے کچھ نہ دے سکوں تو اس کی بدنامیوں میں اضافے کا سبب بھی نہ بنوں۔ میں سچ مچ بہت برا ہوں اور قدسیہ کو فریب دے کر بھی نقصان ہی میں رہوں گا۔"
وہ باہر چلا گیا اور ایک بار پھر تم میرے سامنے نئی گتھیاں لئے آ گئیں اطہر کون سا راستہ اختیار کر رہا تھا!
وہ بے رحم انسان جو اپنے مفاد کے آگے کسی پر رحم نہ کر سکتا تھا۔۔۔۔۔ تم مجھے ایک کسوٹی نظر آئیں جس پر سونا اور پیتل دونوں واضح شکل میں چمک اٹھتے ہیں۔
دو گناہوں کے اتصال سے اتنا پاک جذبہ بھی وجود میں آتا ہے۔"
پھر تمہاری کہانی کا باقی حصہ میں خود نہ دیکھ سکا، میری مصروفیتیں مجھے کلکتہ کھینچ کر لے گئیں اور وہاں مجھے آندھیرا کے علاقوں میں جانا پڑا اور آندھیرا کی بیدار زندگی اور پرجوش سرگرمیوں نے تمہاری محبت کی نیم مردہ رینگتی ہوئی کہانی بھلا دی اور گھر میں ہونے والے یہ چھوٹے چھوٹے حادثے ذہن کے کسی کونے تھک کر سو گئے۔
ایک بار عائشہ نے لکھا کہ اطہر کی مسلسل نافرمانیوں کے سبب ابا نے اسے عاق کر دیا ہے اور وہ گھر سے چلا گیا ہے اور معلوم ہوا کہ تم اچانک گھر سے غائب ہو گئیں اور کسی نے ایک بار مجھے بتایا کہ تم دونوں اب لکھنؤ میں رہتے ہو۔ چچا ابا اب تمہیں گھر بلانے پر تیار نہیں ہیں۔
اس سے آگے کی کہانی مجھے کسی نے نہیں سنائی مگر اس بات کا منتظر رہا کہ اب اطہر اپنا الو سیدھا کرنے ممبئی لے جائے گا۔ جہاں کئی برسوں تک ٹھوکریں کھانے کے بعد میں تمہیں ایک دن کسی فلم میں دیکھوں گا۔ ہیروئن کے پیچھے، ایکسٹراؤں میں کولھے مٹکاتے ہوئے کوئی آوارہ سا گیت تمہارے لبوں پر ہو گا، جو تمہارے مصنوعی چہرے، چھاتیوں، پنڈلیوں اور کمر کی نمائش کرے گا۔ تم ایک جھوٹ کا خول ہو گی۔ سولائڈ کی گڑیا جس کی ہر جنبش دوسروں کے تابع ہوتی ہے اور تم اپنی خودداری کی لاش پر ناچ رہی ہو گی۔ایک حد سے زیادہ جذباتی لڑکی کے تخیل کی اڑآن ہمیشہ یوں ہی کھائیوں میں گر کے دم توڑ دیتی ہے۔
مجھے تم دونوں کے نام سے نفرت ہو گئی۔ عائشہ نے ایک بار لکھا بھی تھا کہ قدسیہ وہاں کسی پرائیویٹ اسکول میں نوکر ہو گئی ہے۔ اطہر بیمار ہے اور وہ دونوں بڑی تکلیف کے دن گزار رہے ہیں۔لیکن میں نے بڑی سختی سے اسے لکھ دیا کہ میں اب قدسیہ کے متعلق کچھ سننا نہیں چاہتا۔
اطہر کی تبدیلی جتنی نفرت انگیز تھی اتنی ہی حیرت انگیز بھی تھی۔۔۔۔۔ وہ کسی کی شادی کی خبر سن کر مذاق اڑایا کرتا تھا۔ ایک ہی راگ مسلسل لوگ کیسے سنے جاتے ہیں۔ میں تو دو ہی دن میں پاگل ہو جاؤں گا۔"
پھر اس نے دو سال تک اس راگ کو کیسے سنا!امی اپنی قسمت کو رو کر بیٹھ رہیں۔ ان کی زندگی کے دونوں کڑوے پھل گئے۔ میں تو خیر اپنی خطرناک زندگی سے کوئی فیض نہ پہنچا سکتا تھا۔مگر ابا بھی یہ برداشت نہ کر سکے کہ اطہر کی قسمت اچانک پلٹا کھائے اور وہ کوئی اچھی ملازمت حاصل کر لے۔
پھر امی کے آنسوؤں نے ابا سے خط لکھوا ہی دئیے جس میں اطہر کو اپنی خاندانی عزت اور بےشمار دولت کا واسطہ دیا گیا تھا اور تمہیں اطہر کی محبت کا۔۔۔۔۔ اور آج عائشہ نے لکھا ہے۔بھائی جان! آپ قدسیہ سے نفرت کرتے ہے۔ آئندہ اس کے متعلق کوئی بات نہیں ہو گی جو میں آپ کو سناؤں گی آج اطہر بھائی کو ابا تنہا گھر لے آئے ہیں۔ قدسیہ معمولی بیماری سے مر چکی ہے۔"
تم زندگی بھر میری عزت کرتی رہیں اور میں تم سے نفرت کرتا رہا۔ یہ ہم دونوں کی اپنی ذہنیت کا قصور ہے۔ ادھر منہ کرو۔۔۔۔۔ تمہاری آنکھوں میں چمکتے ہوئے آنسو کیا کہہ رہے ہیں؟کیا سچ مچ تم کسی معمولی بیماری سے مر گئیں! اس چھوٹی سی بیماری کو اپنے نازک جسم پر نہ سہہ سکیں اور اس بیماری کا علاج کسی سے نہ ہو سکا، اطہر سے بھی نہیں۔ مجھ سے بھی نہیں جو تم سے نفرت کرتا رہا۔تمہیں اپنی شکست پر آنسو نہیں بہانا چاہیئں کیوں کہ تم نے اطہر کو وہ تحفہ دے دیا۔ جس کے لئے تم زندگی بھر سرگرداں رہیں اور چپ چاپ اندھیرے میں کھو گئیں۔۔۔۔۔ اور اب تمہاری روندی ہوئی سسکیاں اور جھلملاتے آنسو ہی مجھے تمہاری موجودگی کا احساس دلاتے ہیں۔۔۔۔۔ تم آج گھٹی گھٹی آہوں اور پیتے ہوئے آنسوؤں سے اس کمرے میں میرے لئے اپنی عزت کا تحفہ لے کر آئی ہو۔۔۔۔۔ مگر میں اس کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتا کہ جلے ہوئے سگریٹ کو ایش ٹرے میں پھینک کر تمہارے خیال کو بھی ذہن سے جھٹک دوں۔۔
ختم شُدہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انشائیہ کا فن
انشائیہ وہ تحریر ہے جس میں کسی اہم یا غیر اہم واقعہ کسی خیال کسی جذبے یا محض کسی لمحات کیفیت کو غلط انداز میں پیش کر دیا گیا ہو ترتیب تنظیم سنجیدگی غوروفکر وہ چیزیں ہیں جن کی یہ سنگ متحمل نہیں ہوسکتی ہلکا پھلکا خیال اور شگفتہ وظرافت آمیزی اظہار ہے اسے زیب دیتا ہے انشای کی بنیادی شرط یہ ہے کہ اس میں کوئی شرط نہیں کوئی اصول نہیں جو کچھ کہوں اس طرح کہوں کہ پڑھ کر جی خوش ہو جائے اور پڑھنے والے کے ذہن میں گدگدی سی ہونے لگے وزیر آغا انشائیہ کے بارے میں فرماتے ہیں انشائیہ کا خالق اس شخص کی طرح ہے جو کام سے چھٹی کے بعد اپنے گھر پہنچتا ہے چست اور تنگ کپڑے اتار کر ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہنتا ہے اور ایک آرام دہ موٹے پر نیم دراز ہو کرحقے کی نے ہاتھ میں لے لیے انتہائی بشاشت پر مسرت سے اپنے حساب سے محو گفتگو ہو جاتا ہے انشائیہ میں حکمت و حماقت اور مقصدیت وہ بے مقصدیت اس طرح آپس میں کچھ جاتے ہیں کہ ان کا الگ کرنا ناممکن ہو جاتا ہے ہاں ایک شے ایسی ہے جو انشائیہ کے آئینے میں صاف نظر آتی ہے اور وہ ہے ان کا اپنا عکس یہ ایک ایسی شخصیت تحریر ہے جس میں مصنف کی شخصیت پوری طرح جلوہ گر ہوتی ہے سید محمد حسین نے درست فرمایا ہے کہ انشائیے کے لئے قوت انشاء سے خاطر خواہ مصروف لینا ضروری ہے یعنی ان شائع کی اس امتیازی خصوصیت کو قائم رکھنا اس کی ہوشیاری ہے ذہن میں آنے والے خیالات کو ایسے آوارہ گردگی اور وحشت سے بچانا چاہیے اس کا فرض ہے کہ وہ انھیں آزاد و خودمختار نہ چھوڑ دے انہیں خوابوں میں راکھی ان میں تسلسل اور ربط قائم کرے لیکن اس بات کا شعور بھی ضروری ہے کہ خیالات میں وہ سا کھیت وہ تنظیم کو اتحاد پیدا نہ ہونے دیں جو مثالوں کی امتیازی خصوصیت ہے۔
ولادت: ١۸۸۳ء وفات .: ١۹۴۷ء
مرزا فرحت اللہ 1883ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام حشمت بیگ تھا۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی اسکول دہلی میں حاصل کی۔ بی اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد حیدرآباد دکن میں ملازمت اختیار کر لی۔ اور وہاں مختلف عدالتی عہدوں پر فائز رہے۔ آخر میں مددگار معتمد داخلہ (معاون ہوم سیکریٹری) ہو گئے اور اسی عہدہ سے وظیفہ یاب ہوئے۔ حیدر آباد کی ادبی صحبتوں نے مرزا میں ادبی ذوق کو جلا بخشی اور ان کا شوخ قلم مزاح نگاری میں جولانیاں دکھانے لگا۔ فرحت اللہ بیگ کا سب سے پہلا مضمون عصمت بیگ کے فرضی نام سے شائع ہونے والے رسالہ "افادہ" میں چھپا۔ اس کا عنوان ہم اور ہمارا امتحان تھا۔
1937 ء سے باقاعدہ لکھنا شروع کیا۔ اگرچہ انہوں نے ہر موضوع تاریخ، تحقیق، سوانحوغیرہ پر لکھا۔ مگر مزاحیہ رنگ غالب رہا۔ ان کے مضامین کے مجموعے (مضامین فرحت) کے نام سے چھپ چکے ہیں۔ ان کی کئی تخلیقیں مثلا میری داستان، دہلی کا یادگار مشاعرہ، نذیر احمد کی کہانی، پھول والوں کی سیر، نئی اور پرانی تہذیب کی ٹکر اردو ادب میں یادگار رہیں گی۔ فرحت اللہ بیگ نے 1947ء میں وفات پائی۔بیسویں صدی کے دوسرے اور تیسرے دہے میں ابھر نے والے ظرافت نگاروں میں مرزا فرحت اللہ بیگ ایک منفرد اسلوب کے مالک ہیں شوخی، ظرافت اور درد مندی سے گوندھا ہوا یہ اسٹائل انشائیہ کی ان زیریں لہروں کی خبر دیتا ہے جو ان کی تحریروں میں رواں دواں ہیں یہ درد مندی ماضی کو اس کی تہذیبی قدروں سمیت چاہے جانے کے نتیجے میں ان کے ہاں نمودار ہوتی ہے۔ ظ۔ انصاری لکھتے ہیں۔مرزا فرحت اللہ بیگ کو ہم نہ پوری طرح مزاح کے خانے میں ڈال سکتے ہیں نہ طنز کے سپر د کر سکتے ہیں طبیعت کی شگفتگی اور نظر کی اداسی نے ان کے ہاں دھوپ چھاؤں کا منظر رکھا ہے۔ ماضی اور اس کی قدریں عزیز ہیں سہانی ہیں مگر آنی جانی ہیں۔ وہ نہ چیختے ہیں نہ کراہتے ہیں، بیان کرتے اور مسکراتے جاتے ہیں۔ 1’ دلّی کا ایک یادگار مشاعرہ ‘ ہو یا ’ نذیر احمد کی کہانی ‘مرزا فرحت اللہ بیگ ماضی کی تصویروں کو زندہ کرتے کرتے شخصیتوں کے مرقعے پیش کرتے ہیں اور اپنی فطری ذہانت اور کھلنڈرے پن سے انھیں بے نقاب کر دیتے ہیں۔ دلّی کی زبان کا چٹخارہ اور شگفتگی ان کی ظرافت میں ایک رنگ پیدا کر دیتی ہے۔ ان کے متعلق وزیر آغا لکھتے ہیں :
مرزا فرحت اللہ بیگ کا مضمون ’ مردہ بدستِ زندہ ‘ ایک جنازے میں شریک افراد اور دیگر متعلقین کی مختلف النوع زندہ تصویریں رننگ کمنٹری کے روپ میں پیش کرتے ہوئے، صورتِ واقعہ سے حزن وملال کا ملا جلا احساس ابھارتا ہے۔ اسی مضمون کا ایک ا قتباس درج ذیل ہے۔
ایک صاحب ہیں کہ قبروں کے کتبے ہی پڑھتے پھر رہے ہیں۔ کچھ نوٹ بھی کرتے جاتے ہیں۔ کوئی اچھا کتبہ مل گیا تو اپنے دوستوں کو بھی آواز دے کر بلا لیا اور بجائے فاتحہ کے دادِ سخن گوئی دی گئی کچھ اپنا کلام سنایا گیا۔ کچھ ان کا سنا، غرض کوئی نہ کوئی مشغلہ وقت گزارنے کا نکال ہی لیا۔ ‘3
مردہ بدستِ زندہ میں مرزا فرحت اللہ بیگ گہرے مشاہدے اور جذبات نگاری کے ذریعے جو تصویر پیش کرتے ہیں اس میں صورتِ واقعہ مزاح پیدا کرتی ہے۔ ان کے مضامین میں انشائی عناصر کی نشاندہی کرتے ہوئے ڈاکٹر سلیم اختر لکھتے ہیں :
’تنوع ان کی تحریر کا وصفِ خاص ہے تو شگفتگی ان کے اسلوب کا جوہرِ خاص ہے اور اسی لیے ان میں انشائیہ نگار بننے کی صلاحیتیں بدرجہ اتم موجود تھیں اگر چہ انھوں نے اس کی طرف خصوصی توجہ نہ دی تاہم ’اونھ ‘اور ’پِٹنا‘ میں اچھے انشائیے کے تمام خواص موجود ہیں اسی طرح مردہ بدستِ زندہ اگر چہ ایک مخصوص تھیم کا حامل ہے لیکن اس کے اسلوب مین وہ لطیف انداز ملتا ہے جو انشائیہ سے مخصوص سمجھاجاتا ہے۔ ‘4
فکری تنوع اور آزادانہ سوچ مرزا فرحت اللہ بیگ کا خاصہ ہے۔چونکہ ان کی اصل توجہ مرقع نگاری اور شخصیات کی ناہمواریوں سے مزاح کی تخلیق پر رہی ہے، اسی لیے اردو انشائیے کو مرزا فرحت اللہ بیگ سے خاطر خواہ فائدہ نہیں ہو سکا۔ جس انشائی اسلوب کو انھوں نے عام کیا اس سے ان کے بعد والوں نے استفادہ ضرور کیا۔
حواشی
1۔ ظ۔ انصاری، اردو طنز نگاری اور ظرافت کے پندرہ سال، مشمولہ: ماہنامہ شگوفہ، ہندوستانی مزاح نمبر جلد۔ 18جون 85ص20
2۔ وزیر آغا، خیال پارے، لاہور، 1984، ص19
3۔ فرحت اللہ بیگ، ’ مردہ بدستِ زندہ‘، مشمولہ: اردو ایسّیز، ص 148
4۔ ڈاکٹر سلیم اختر، انشائیہ کی بنیاد، ص122
رشید احمد صدیقی
ولادت : ١۸۹۴ء وفات :١۹۷۷ء
رشید احمد صدیقی یوپی کے ضلع جونپور کے ایک گاؤں مڑیا میں 1894ء میں پیدا ہوئے۔ میٹرک تک جونپور میں رہے، پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے علی گڑھ آ گئے۔ مالی حالت سے مجبور ہو کر کچہری میں ملازمت کرنے پر مجبور ہو گئے۔ چنانچہ ملازمت کے ساتھ ساتھ تعلیم بھی جاری رکھی اورفارسی میں ایم اے کیا۔ آپ نے طالب علمی کے زمانے سے مزاحیہ مضامین لکھنا شروع کیے۔ علی گڑھ میگزین کے ایڈیٹر رہے۔ 1922ء میں وہیں کالج میں پروفیسر ہو گئے اور جب یونیورسٹی بنی اور اردو ادبیات کا شعبہ قائم تو رشید احمد صدیقی کو صدر شعبہ بنا دیا گیا۔ وہ شعروادب کا بڑا ستھرا ذوق رکھتے ہیں ادب کے بڑے اچھے استاد ہیں ان کی زندگی شرافت اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کا بہترین نمونہ ہے۔ 1977ء میں ان کا انتقال ہوا۔اردو کے مزاح نگاروں میں رشید احمد صدیقی کی ظرافت غیر معمولی ذہانت، زبردست حسِ مزاح، قولِ محال کے کثرتِ استعمال اور فکری توانائی جیسے متنوع عناصر سے مرکب ہے۔ رشید احمد صدیقی کا مزاح پطرس بخاری سے قطعی مختلف قسم کا ہے کیونکہ رشید احمد صدیقی کے مزاح کی بنیاد محض طنز و مزاح کی تخلیق نہیں ہے بلکہ اس سے آ گے کی منزلیں بھی ان کی نظر میں ہیں۔ ان کی تحریروں میں حیاتِ انسانی کی بوالعجبیوں اور مضحکہ خیزیوں کو تاڑنے والی نظر سے زیادہ ایک شوخ ذہن، تقابل و تجزیہ اور تضادات کی تلاش میں غلطاں و پیچاں نظر آ تا ہے۔رشید احمد صدیقی کے ہاں صورتِ واقعہ سے زیادہ الفاظ کا کھیل مزاح کی تخلیق کا ذریعہ ہے۔ زبان و بیان کی لطافتیں ان کی تحریروں میں تخلیقی لذتوں سے ہم کنار کرتی ہیں۔ وہ شگفتگی اور شوخی کے ساتھ بات سے بات پیدا کرتے ہیں اور ہر بات غور و فکر کی گہرائی لیے ہو تی ہے نکتہ آفرینی کے اسی مرحلے میں ان کے ہاں قولِ محال کا استعمال بکثرت ہوا ہے چنانچہ مونتین اور بیکن کی طرح بلیغ فقرے رشید احمد صدیقی کا مخصوص عطیہ ہے۔
’ اس وقت ہندوستان کو دو خطرات در پیش ہیں ایک سوراج کا اور دوسرے تعلیم یافتہ بیوی کا لیکن غور کیا جائے تو سوراج اور تعلیم یافتہ بیوی دونوں ایک ہی ہیں کیونکہ چارپائیت دونوں حالتوں میں نمایاں ہیں۔ سوراج تو وہ ایسا چاہتا ہے جس میں انگریزوں کو حکومت کر نے اور ہندوستانیوں کو گالی دینے کی آزادی ہو اور بیوی ایسی چاہتا ہے جو بیوی ہو نے سے زیادہ تعلیم یافتہ ہو یعنی گالیاں دینے سے بہتر تالیاں بجا سکتی ہو۔ ‘1
رشید احمد صدیقی کی مزاح نگاری جن عناصرِ ترکیبی سے عبارت ہے ان میں انشائیہ کے بھی چند خواص سمٹ آئے ہیں گو بحیثیت کل انشائیہ ان کے مضامین میں ساکار نہیں ہو پایا۔ رشید احمد صدیقی کے متعلق اسلوب احمد انصاری رقمطراز ہیں :
’ انھوں نے اپنی زندگی کا آغاز ایک مخصوص وضع کے انشائیے لکھنے سے کیا جس میں عدم تسلسلDiscontinuity کے عنصر کو ایک ادبی قدر کی حیثیت سے بر تا گیا ہے۔ ان کے مضامین خیالات کے آزاد تلازمے Free Associationسے پیدا شدہ تانے بانے سے مرکب ہیں۔ ‘2
آزاد تلازمہ خیال اور موضوع کے انوکھے پہلوؤں کی تلاش کا عمل رشید احمد صدیقی کو ایک انشائیہ نگار کے روپ میں پیش کرتا ہے یہ عمل یقیناً ان کے ہم عصروں کی بہ نسبت ان کی تحریروں میں بدرجہ اتم موجود ہے۔ اس طریقہ کار کے ذریعے موضوع کو ایک بالکل ہی نئی معنویت عطا کر نے کا ملکہ رشید احمد صدیقی کو حاصل ہے اس کی نمایاں مثالیں ان کے مضامیں میں بہ آ سانی دستیاب ہیں خصوصاً ’ ارہر کے کھیت‘ ’چارپائی ‘ وغیرہ میں۔
’ کوئی چیز خواہ وہ کہیں گم ہو ہندوستانی اس کی تلاش کی ابتدا چارپائی ہی سے کرتا ہے۔ اس میں ہاتھی، سوئی، بیوی، بچے، روپے پیسے، جوتے کپڑے، موزے، مرغی یا چور کی تخصیص نہیں۔ رات میں کوئی کھٹکا ہوا اس نے چار پائی کے نیچے دیکھنا شروع کر دیا۔ کبھی خود مجرم بننے کی نوبت آئی تو کالا پانی جانے سے پہلے چارپائی کے نیچے دم سادھنے کی مشق بڑھاتے رہے۔غرض انسانی زندگی کا کوئی فعل ایسا نہیں جس کا ارتکاب چار پائی پر نہ کیا گیا ہو۔ ‘3۔
رشید احمد صدیقی کے مضامین کا ایک غالب رجحان مرقع نگاری ہے۔ مخصوص کرداروں مثلاً لیڈر، عورت، ڈاکٹر، وکیل وغیرہ کے خد و خال اپنے شوخ قلم سے نمایاں کئے ہیں ان میں سے اکثر کردار آ رکی ٹیپیکل ہیں ان کرداروں کو طنز و مزاح کا ہدف بنانے اور تخلیقی سطح پر زبان و بیان کی لذتیں کشید کر نے کا عمل رشید احمد صدیقی کے مضامین کا بنیادی محرک ہے چنانچہ خود انکشافی کا پہلو ان کے ہاں تشنہ رہا ہے۔ رشید احمد صدیقی کے مضامین کے متعلق اظہارِ خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر وزیر آغا لکھتے ہیں :
’رشید احمد صدیقی کے ہاں اگر چہ طنزیہ انداز غالب ہے اور ان کے مزاح کی اساس لفظی الٹ پھیر پر بھی قائم ہے تاہم ان کے مضامین میں کہیں کہیں انشائیے کے تیور ضرور مل جاتے ہیں ‘۔ 4
رشید احمد صدیقی کی تحریروں میں ہر دوسرا فقرہ کھنچی ہوئی کمان کی طرح نظر آ تا ہے اور تیر کی طرح چھوٹتا ہے چنانچہ مجموعی طور پر ان کے مضامین میں غیر رسمی گفتگو کا انداز اور بے تکلف فضا میں اپنے نہاں خانہ ذات کو نمایاں کر نے کی کوششیں مفقود ہیں یہ تمام خصوصیات انشائیہ کی بنیاد قرار دی گئی ہیں۔ رشید احمد صدیقی کے ہاں یہ صفات خال خال ہی دستیاب ہوتی ہیں۔
حواشی
1۔ رشید احمد صدیقی، ’چارپائی ‘، مشمولہ: اردو ایسّیز، ص152
2۔ اسلوب احمد انصاری، حرفے چند، مشمولہ، ششماہی نقد و نظر، رشید احمد صدیقی نمبر، جلد، شمارہ1ص3
3۔ رشید احمد صدیقی، ’چارپائی ‘، مشمولہ: اردو ایسّیز، ص152
4۔ وزیر آغا، خیال پارے، لاہور، ، ص9
چار پائی رشید احمد صدیقی
چار پائی اور مذہب ہم ہندوستانیوں کا اوڑھنا بچھوڑنا ہے ۔ ہم اسی پر پیدا ہوتے ہیں اور یہیں سے مدرسہ آفس جیل خانےکونسل یا آخرت کا راستہ لیتے ہیں چار پائی ہماری گھٹی میں پڑی ہوئی ہے ۔ ہم اس پر دوا کھاتے ہیں دعا اور بھیک بھی مانگتے ہیں کبھی فکر سخن کرتے ہیں اور کبھی فکر قوم اکثر فاقہ کرنے سے بھی باز نہیں آتے ہم کو چار پائی پر اتنا ہی اعتماد ہے جتنا برطانیہ کو آئی سی ایس پر شاعر کو قافیہ پر یا طالب علم کو غل غپاڑے پر ۔ چار پائی کی پیڑھی دور چل کر دیو جانس کلبی کے خم سے جا ملتی ہے کہا جاتا ہے کہ تمام دنیا سے منہہ موڑ کر دیو جانس ایک خم میں جا بیٹھا تھا۔ ہندوستانی تمام دنیا کو چار پائی کے اندر سمیٹ لیتا ہے ۔ ایک نے کثرت سے وحدت کی طرف رجوع کیا ۔ دوسرے نے وحدت میں کثرت کو سمیٹا ۔ ہندوستانی ترقی کرتے کرتے تعلیم یافتہ جانور ہی کیوں نہ ہو جائے اس سے اس کی چار پائیت نہیں جدا کی جا سکتی ۔ اس وقت ہندوستان کو دو معرکے درپیش ہیں ۔ ایک سوراج کا دوسرا روشن خیالی کا ۔ دراصل سوراج اور روشن خیال بیوی دونوں ایک ہی مرض کی دو علامتیں ہیں ۔ دونوں چارپائیت میں مبتلا ہیں ۔ سوراج تو وہ ایسا چاہتا ہے جس میں انگریز کو حکومت کرنے اور ہندوستانی کوگالی دینے کی آزادی ہو ۔ اور بیوی ایسی چاہتا ہے جو گریجوایٹ ہو لیکن گالی نہ دے ۔ اس طور پر ہندوستانی شوہر اور تعلیم یافتہ بیوی کے درمیان جو کھینچ تان ملتی ہے اس کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ شوہر چار پائی پر سے حکومت کرنا چاہتا ہے اور بیوی ڈرائنگ روم سے گھنٹی بجاتی ہے ۔ روشن خیال بیوی شہرت کی آرزو مند ہوتی ہے دوسری طرف شوہر یہ چاہتا ہے کہ بیوی تو صرف فرد خاندان ہونے پر صبر کرے اور خود فخرخاندان نہیں بلکہ فخر کائنات قرار دیاجائے ۔ موتی لال نہر و رپورٹ سے پہلے ہندوستانیوں پر دو مصیبت نازل تھیں ۔ ایک ملیریا کی دوسری مس میوالمعروف بہ مادر ہندکی ۔ ملیریا کا انسداد کچھ تو کو نین سے کیا گیا بقیہ کا کثرت اموات سے مس میو کے تدارک میں ہندو مسلمان دونوں چار پائی پر سربزانو اور چوراہوں پر دست و گریباں ہیں ۔ نہر و رپورٹ اور مادر ہندو دونوں میں ایک نسبت ہے ایک نے مسلمانوں کے سیاسی حقوق کو اہمیت نہ دی دوسری نہ ہندوؤں کے معاشرتی رسوم و روایات کی توہیں کی ! مادر ہند کے بارے میں چار پائی نشینوں کی یہ رائے ہے کہ اس کتاب کے شائع ہونے سے ان کو ہندوستانیوں سے زیادہ مس میو کے بارے میں رائے قائم کرنے کا موقع ملا ان کا یہ بھی خیال ہے کہ اگر سارے ہندوستان سے شمار واعداد اور مواداکٹھا کرنے کے بجائے موصوفہ نے صرف ہم ہندوستانیوں کی چار پائی کا جائزہ لیا ہوتا تو ان کی تصنیف اس سے زیادہ دلچسپ ہوتی جتنی کہ اب ہے ۔ چار پائی ہندوستانیوں کی آخری جائے پناہ ہے فتح ہو یا شکست وہ رخ کرے گا ہمیشہ چار پائی کی طرف ۔ پھر وہ چار پائی پر لیٹ جائے گا ۔ گائے گا ، گالی دے گا یا مناجات بدرگاہ قاضی الحاجات پڑھنا شروع کر دے گا ۔ فن جنگ یا فن صحافت کی رو سے آج کل اس طرح کے وظائف ضروری اور نفع بخش خیال کئے جاتے ہیں ۔ جس طرح ہر مالدار شریف یا خوش نصیب نہیں ہوتا اس طرح ہر چار پائی نہیں ہوتی ۔ کہنے کو تو پلنگ پلنگڑی چوکھٹ مسہری ۔ سب پر اس لفظ کا اطلاق ہوتا ہے لیکن سیاسی لیڈروں کے سیاسی اور مولویوں کے مذہبی تصور کے مانند چار پائی کا صحیح اکثر متعین نہیں ہوتا۔ چار پائی کی مثال ریاست کے ملازم سے دے سکتے ہیں ۔ یہ ہر کام کے لیے ناموزوں ہوتا ہے اس لیے ہر کام پر لگادیا جاتا ہے ایک ریاست میں کوئی صاحب ولایت پاس ہو کر آئے ریاست میں کوئی اسامی نہ تھی جو ان کو دی جا سکتی ۔ آدمی سوجھ بوجھ کے تھے راجہ صاحب کے کانوں تک یہ بات پہنچا دی کہ کوئی جگہ نہ ملی تو وہ لاٹ صاحب سے طے کر آئے ہیں ۔راجہ صاحب ہی کی جگہ پر اکتفا کریں گے ۔ ریاست میں ہلچل مچ گئی۔ اتفاق سے ریاست کے سول سرجن رخصت پر گئے ہوئے تھے نہ ان کی جگہ پر تعینات کر دیئے گئے کچھ دنوں بعد سول سرجن صاحب واپس آئے تو انجینئر صاحب پر فالج گرا ۔ ان کی جگہ ان کو دے دی گئی ۔ آخری بار یہ خبر سنی گئی کہ وہ ریاست کے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہو گئے تھے اور اپنے ولی عہد کو ریاست کے ولی عہد کا مصاحب بنوا دینے کی فکر میں تھے۔ یہی حالت چار پائی کی ہے فرق صرف یہ ہے کہ ان ملازم صاحب سے کہیں زیادہ کار آمد ہوتی ہے ! فرض کیجئے آپ بیمار ہیں سفر آخرت کا سامان میسر ہو یا نہ ہو اگر چار پائی آپ کے پاس ہے تو دنیا میں آپ کو کسی اور چیز کی حاجت نہیں دوا کی پڑ یہ تکئے کے نیچے جو شاندہ کی دیگچی سرہانے رکھی ہوئی ۔ بڑی بیوی طبیب چھوٹی بیوی خدمت گزار چار پائی سے ملا ہوا بول و براز کا برتن چار پائی کے نیچے میلے کپڑے مچھر ، بھنگے گھر یا محلے کے دو ایک بچے جن میں ایک آدھ زکام خسرے میں مبتلا! اچھے ہو گئے تو بیوی نے چار پائی کھڑی کر کے غسل کر ا دیا ورنہ آپ کے دشمن اسی چار پائی پر لب گورلائے گئے ۔ ہندوستانی گھرانوں میں چار پائی کو ڈرائنگ روم ، سونے کا کمرہ ، غسل خانہ ، قلعہ ، خانقاہ ، خیمہ ، دواخانہ ، صندوق ، کتاب گھر ، شفاخانہ ، سب کی حیثیت کبھی کبھی بہ یک وقت ورنہ وقت وقت پر حاصل رہتی ہے ۔ کوئی مہمان آیا ، چار پائی نکالی گئی اس پر ایک نئی دری بچھا دی گئی جس کے تہہ کے نشان ایسے معلوم ہوں گے جیسے کسی چھوٹی سی آراضی کو مینڈوں اور نالیوں سے بہت سے مالکوں میں بانٹ دیا گیا ہے اور مہمان صاحب معہ اچکن ، ٹوپی ، بیگ بغیچی کے بیٹھ گئے ۔ اور تھوڑی دیر کے لیے یہ معلوم کرنا دشوار ہو گیا کہ مہمان بیوقوف ہے یا میزبان بدنصیب ! چار پائی ہی پر ان کا منہ ہاتھ ھلوایا اور کھانا کھلایا جائے گا اور اسی چار پائی پر یہ سورہیں گے سو جانے کے بعد ان سے مچھر مکھی اس طرح اڑائی جائے گی جیسے کوئی پھیری والا اپنے خونچہ پر سے جھاڑو نما مور چھل سے مکھیاں اڑا رہا ہو ۔ چار پائی پر سوکھنے کے لیے اناج پھیلایا جائیگا۔ جس پر تمام دن چڑیاں حملے کرتی دانے چگتی اور گالیاں سنتی رہیں گی کوئی تقریب ہوئی تو بڑے پیمانے پر چار پائی پر آلو چھیلے جائیں گے ۔ ملازمت میں پنشن کے قریب ہوتے ہیں تو جو کچھ رخصت جمع ہوئی رہتی ہے اس کو لے کر ملازمت سے سکبدوش ہو جاتے ہیں اس طرح چار پائی پنشن کے قریب پہنچی ہے تو اس کو کسی کال کوٹھڑی میں داخل کر دیتے ہیں اور اس پر سال بھر کا پیاز کا ذخیرہ جمع کر دیا جاتا تھا ۔
ایک دفعہ دیہات کے ایک میزبان نے پیاز ہٹا کر اس خاکسار کو ایسی ہی ایک پنشن یافتہ چار پائی پر اس کال کوٹھڑی میں بچھا دیا تھا اور پیاز کو چار پائی کے نیچے اکٹھا کر دیا گیا تھا اس رات کو مجھ پر آسمان کے اتنے ہی طبق روشن ہو گئے تھے جتنی ساری پیازوں میں چھلکے تھے اور یقینا چودہ سے زیادہ تھے ۔ فراق اور وصال بیماری و تندرستی تصنیف و تالیف سرقہ اور شاعری سب سے چار پائی ہی پر نپٹتے ہیں ۔ بچے بوڑھے اور مریض اس کو بطور پاخانہ غسل خانہ کام میں لاتے ہیں کبھی ادوان کشادہ کر دی گئی کبھی بنا ہوا حصہ کاٹ دیا گیا اور کام بن گیا پختہ فرش پر گھسیٹئے تو معلوم ہو کوئی ملڑی ٹینک مہم پر جا رہا ہے یا بجلی کا تڑا قاہو رہا ہے کھٹملوں سے نجات پانے کے لیے جو ترکیبیں کی جاتی ہیں اور جس جس آسن میں چار پائی نظر آتی ہے یا جو سلوک اس کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے ان پر غور کر لیجئے تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ہندوستانی بیوی کا تخیل ہندوستانیوں نے چار پائی ہی سے لیاہے! دو چار پائیاں اس طور پر کھڑی کر دیں کہان کے پائے آمنے سامنے ہو گئے ان پر ایک کمل دری یا چادر ڈال دی ۔ کمرہ تیار ہو گیا گھر میں بچوں کو اس طرح کا حجرہ بنانے کا بڑا شوق ہوتاہے ۔ یہاں وہ ان تمام باتوں کی مشق کرتے ہیں جو ماں باپ کو کرتے دیکھتے ہیں ایٹن اور ہیرو انگلستان کے دو مشہور پبلک اسکول ہیں ان کے کھیل کے میدان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ واٹر لو کی تاریخی جنگ یہیں جیتی گئی تھی۔ میرا کچھ ایسا خیال ہے کہ ہندوستان کی ساری مہم ہم ہندوستانی چار پائی کے اسی گھروندے میں سر کر چکے ہوتے ہیں ۔ برسات کی سڑی گرمی پڑ رہی ہو کسی گھریلو تقریب میں آپ دیکھیں گے کہ محلہ نہیں سارے قصبہ کی عورتیں خواہ وہ کسی سائز عمر ، مزاج یا مصرف کی ہوں رونق افروز ہیں اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ہر عورت کی گود میں دو ایک بچے اور زبان پر پانچ سات کلمات خیر ضرور ہوں گے کتنی زیادہ عورتیں کتنی کم جگہ میں آجاتی ہیں اس کا اندازہ کوئی نہیں کر سکتا جب تک کہ چار پائی کے بعد کسی یکہ اور تانگہ پر ان کو سفر کرتے نہ دیکھ چکا ہو یہ اللہ کی مصلحت اور ایجاد کرنیوالے کی پیش بینی ہے ہانکنے والے اور گھوڑے دونوں کی پشت سواریوں کی طرف ہوتی ہیں اگر کہیں یہ سواریوں کو دیھکتے ہوتے تو یقینا غش کھا کر گر پڑے ۔ چارپائی ایک اچھے بکس کابھی کام دیتی ہے تکیہ کے نیچے ہر قسم کی گولیاں جن کے استعمال سے آپ کے سوا کوئی اور واقف نہیں ہوتا ایک آدھ روپیہ ، چند دھیلے پیسے ، اسٹیشنری ، کتابیں ، رسالے ، جارے کے کپڑے ، تھوڑا بہت ناشتا ، نقش سلیمانی ، فہرست دواخانہ ، سمن ، جعلی دستاویز کے کچھ مسودیے یہ سب چار پائی پر لیٹے لیٹے ان میں سے ہر ایک کو اجالا ہو یا اندھیرا صحت کے ساتھ آنکھ بند کرکے نکال لیتے اور پھر رکھ دیتے جیسے حکیم نابینا صاحب مرحوم اپنے لمبے چوڑے بکس میں سے ہر مرض کی دوائیں نکال لیتے اور پھر رکھ دیتے ۔ حکومت بھی چار پائی ہی پر سے ہوتی ہے ۔ خاندان کے کرتا دھرتا چار پائی ہی پر براجمان ہوتے ہیں ۔ وہیں سے ہر طرح کے احکام جاری ہوتے رہتے ہیں اور ہر گناہ گار کوسزا بھی وہیں سے دی جاتی ہے آلات سزا میں ہاتھ پاؤں زبان کے علاوہ ڈنڈا ، جوتا ، تاملوٹ بھی ہیں جنہیں اکثر پھینک کر مارتے ہیں ۔ یہ اس لیے کہ توقف کرنے میں غصہ کا تاؤ مدھم نہ پڑجائے اور ان آلات کو مجرم پر استعمال کرنے کے بجائے اپنے اوپر استعمال کرنے کی ضرورت نہ محسوس ہونے لگے ۔ چار پائی ہی کھانے کا کمرہ بھی ہوتی ہے باور چی خانہ سے کھانا چلا اور اس کے ساتھ پانچ ساتھ چھوٹے بڑے بچے اتنی ہی مرغیاں دو ایک کتے ، بلی اور بے شمار مکھیاں آپہنچیں ۔ سب اپنے قرینے سے بیٹھ گئیں ، صاحب خانہ صدر دسترخواں ہیں ایک بچہ زیادہ کھانے پر مار کھاتا ہے ۔ دوسرا بدتمیزی سے کھانے پر تیسرا کم کھانے پر چوتھا زیادہ کھانے پر اور بقیہ اس پر کہ ان کو مکھیاں کھائے جاتی ہیں ۔ دوسری طرف بیوی مکھی اڑاتی جاتی ہے اور شوہر کی بدزبانی سنتی اور بدتمیزی سہتی جاتی ہے ۔ کھانا ختم ہوا ۔ شوہر شاعر ہوئے تو ہاتھ دھو کر فکر سخن میں چار پائی ہی پر لیٹ گئے کہیں دفتر میں ملازم ہوئے تو اس طرح جان لے کر بھاگے جیسے گھر میں آگ لگی ہے اور اور کوئی مذہبی آدمی ہوئے تو اللہ کی یاد میں قیلولہ کرنے لگے بیوی بچے بدن دبانے اور دعائیں سننے لگے ۔ کوئی چیز خواہ کسی قسم کی ہو کہیں گم ہوئی ہو ہندوستانی اس کی تلاش کی ابتداء چار پائی سے کرتا ہے اس میں ہاتھی سوئی بیوی بچے موزے مرغی چور کسی کی تخصیص نہیں ۔ رات میں کھٹکا ہوا اس نے چار پائی کے نیچے نظر ڈالی خطرہ بڑھا تو چار پائی کے نیچے پناہ لی زندگی کی شاید ہی کوئی ایسی سرگرمی ہو جو چار پائی یا اس کے آس پاس نہ انجام پائی ہو ۔ چار پائی ہندوستان کی آب و ہووا تمدن و معاشرت ضرورت اور ایجاد کا سب سے بھر پور نمونہ ہے ۔ ہندوستان اور ہندوستانیوں کے مانندڈھیلی ڈھالی شکستہ حالی بے سرو سامان لیکن ہندوستانیوں کی طرح غالب اور حکمران کے لیے ہر قسم کا سامان راحت فراہم کرنے کے لیے آمادہ ۔ کوچ اور صوفے کے دلدادہ اور ڈرائنگ روم کے اسیر اس راحت و عافیت کا کیا اندازہ لگاسکتے ہیں جو چار پائی پر میسر آتی ہے ! شعراء نے انسان کی خوشی اور خوشحالی کے لے کچھ باتیں منتخب کر لی ہیں مثلا سچے دوست شرافت فراغت اور گوشہ چمن ہندوستان جیسے غریب ملک کے لیے عیش و فراغت کی فہرست اس سے مختصر ہونی چاہیے ۔ میرے نزدیک تو صرف ایک چار پائی ان تمام لوازم کو پورا کر سکتی ہے ۔ بانوں کی ٹوٹی ہوئی چار پائی ہے جسے مکے کے کھیت میں بطور مچان باندھ دیا گیا ہے ہر طرف جھومتے لہلہاتے کھیت ہیں بارش نے گردو پیش کو شگفتہ و شاداب کر دیا ہے دور دور جھیلیں جھمکتی جھلکتی نظر آتی ہیں جن میں طرح طرح کے آبی جانور اپنی اپنی بولیوں سے برسات کی علمداری اور مزیدای کا اعلان کرتے ہیں ۔ مچان پر بیٹھا ہوا کسان کھیت کی رکھوالی کر رہا ہے اس کے یہاں نہ آسائش ہے نہ آرائش نہ عشق و عاشی ، نہ علم و فضل نہ دولت و اقتدار لیکن یہ سب چارپائی پر بیٹھے ہوئے اسی کسان کی محنت کا کرشمہ ہیں ۔ پھر ایک دن آئے گا جب اس کی پیداوار کو چور مہاجن یا زمیندار لوٹ لیں گے اور اسی چار پائی پر اس کو سانپ ڈس لے گا اور قصہ پاک ہو جائے گا ۔ برسات ہی کا موسم ہے ۔ گاؤں میں آموں کا باغ کبھی دھوپ کبھی چھاؤں کوئل کو کتی ہے ہو الہکتی ہے گاؤں میں لڑکے لڑکیاں دھوم مچا رہی ہیں کہیں کوئی پکا ہوا آم ڈال سے ٹوٹ کر گرتا ہے سب کے سب جھپٹتے ہیں ۔ جس کو مل گیا وہ ہیرو بن گیا جس کو نہ ملا اس پر سب نے ٹھٹھے لگائے ۔ یہی لڑکے لڑکیاں جو اس وقت کسی طرح قابل التفات نظر نہیں آتیں کسے معلوم آگے چل کر زمانہ اور زندگی کی کن نیر نگیوں کو اجاگر کریں گے کتنے فاقے کریں گے کتنے فاتح بنیں گے کتنے نامور اور نیک نام کتنے گمنام و نافرجام اور یہ خاکسار ایک کھری چار پائی پر اس باغ میں آرام فرما رہا ہے چار پائی باغبان کی ہے ۔ باغ کسی اور کا ہے لڑکے لڑکیاں گاؤں کی ہیں میرے حصہ کا صرف آم ہے ایسے میں جو کچھ دماغ میں نہ آئے تھوڑا ہے یا جو تھوڑا دماغ میں ہے وہ بھی نکل جائے تو کیا تعجب ! پھر عالم تصور میں ایسی کائنات تعمیر کرنے لگتا ہوں جو صرف میرے لیے ہے جو میرے ہی اشارے پر بنتی بگڑتی ہے مجھے خالق کا درجہ حاصل ہے اپنے مخلوق ہونے کا وہم بھی نہیں گزرتا نہ اس کا خیال کہ زمانہ کسے کہتے ہیں نہ اس کی پروا کہ زندگی کیا ہے دوسروں کو ان کا اسیر دیکھ کر چونک پڑتا ہوں پھر یہ محسوس کرکے کہ میں ان لوگوں سے اور خود زمانہ اور زندگی سے علیحدہ بھی ہوں اونگھنے لگتا ہوں ممکن ہے اونگھنے میں پہلے سے مبتلا ہوں ۔
ختم شُدہ۔۔۔۔
یوسف ناظم
ولادت : ۹١۸١ء وفات :۲۰۰۹ء
جناب یوسف ناظم ، 18/نومبر/1918ء کو جالنہ (مرہٹواڑہ) میں پیدا ہوئے تھے۔ جامعہ عثمانیہ سے ایم-اے کی تکمیل کے بعد حیدرآباد ہی میں مترجم کی حیثیت سے سرکاری ملازمت کا آغاز کیا تھا۔ ریاستوں کی تنظیمِ جدید کے بعد آپ کی خدمات مہارشٹرا کو منتقل کر دی گئی تھیں۔ دسمبر 1976ء میں بحیثیت اسسٹنٹ کمشنر لیبر ، سرکاری ملازمت سے وظیفہ پر آپ سبکدوش ہوئے۔1944ء سے آپ کی مزاح نگاری کی شروعات ہوئی۔ کالم نگاری ، تبصرہ نگاری ، ادارت اور تالیف بھی ان کی ادبی خدمات میں شامل ہیں۔ طنز و مزاح کا مشہور ماہنامہ شگوفہ (حیدرآباد) میں آپ کی تخلیقات پابندی سے شائع ہوا کرتی رہیں۔ جون 2004ء میں شگوفہ کا "یوسف ناظم نمبر" شائع ہو چکا ہے۔ روزنامہ انقلاب ممبئی ، روزنامہ اردوٹائمز ممبئی اور ہفتہ وار بلٹز ممبئی کے لئے بھی وہ پابندی سے کالم لکھتے رہے۔یوسف ناظم ہندوستان کے مزاح نگاروں میں بلند اور منفرد مقام رکھتے تھے۔ آپ کی ایک انفرادیت جملوں کے درمیان قوسین () کا استعمال رہا ہے۔یوسف ناظم صاحبِ طرز نثرنگار بھی سمجھے جاتے تھے۔ آپ نے کم و بیش تیس (30) کتابیں بطور یادگار چھوڑی ہیں۔مزاحیہ مضامین کے مجموعوں میں یہ کتب شامل ہیں :
کیف و کم ، فٹ نوٹ ، دیواریے ، زیرغور ، فقط ، البتہ ، بالکلیات ، فی الحال ، فی الفور ، فی الحقیقت ، فی زمانہ ، فی البدیہہ ، من جملہ ، ورنہ ۔۔۔۔۔۔ وغیرہ
خاکوں پر مشتمل کتب :سائے ہمسائے ، ذکرِ خیر ، علیک سلیک
ادب اطفال پر مبنی کتب :پلک نہ مارو ، الف سے ی تک ، مرغی کی چار ٹانگیں ، گاندھی جی ساؤتھ افریقہ میں ، بکرے کی تعریف میں
شاعری میں :ارمغان سنسکرت (بھرتری ہری کی شاعری کا منظوم اردو ترجمہ(
یوسف ناظم مہارشٹرا انجمن ترقی اردو ہند اور ادارہ زندہ دلانِ بمبئی کے صدر تھے۔ ان کی بیشتر تصانیف کو ملک کی تمام اردو اکیڈیمیوں سے مختلف انعامات مل چکے ہیں۔ علاوہ ازیں انہیں اِن اعزازات سے بھی نوازا گیا ہے :
1984ء میں غالب ایوارڈ
1989ء میں حکومت مہارشٹرا کا ریاستی ایوارڈ
1992ء میں ہریانہ اردو اکیڈمی کا مہندر سنگھ بیدی ایوارڈ
1999ء میں مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی کا ادبی ایوارڈ
مقابلۂ حسن :: یوسف ناظم کے ایک طنزیہ/مزاحیہ مضمون کا اقتباس حیدرآبادی, جولائی 25, 2009
آئینے میں
دُنیا میں کوئی ایسا خوش نصیب ملک نہیں ہے جہاں ادیب پیدا نہ ہوتے ہوں۔ بہت سے ملک ایسے ہوتے ہیں، جہاں ادیبوں کو فرش وغیرہ پر بیٹھنے نہیں دیا جاتا۔ انہیں وہاں کے لوگ ہمیشہ سر آنکھوں پر بٹھائے رکھتے ہیں۔ ان ادیبوں کو بھی لوگوں کے سروں پر بیٹھے رہنے کی اتنی عادت ہوتی ہے کہ پھر یہ کہیں اور بیٹھ ہی نہیں سکتے۔ بہت سے ملک ایسے بھی ہوتے ہیں، جہاں ادیبوں کو ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے اور ان کا بچا کچھا حصہ ان کے ورثا کو بڑی مشکل سے واپس ملتا ہے، بلکہ بعض صورتوں میں تو یہ حصہ بھی میونسپلٹی کے حصے میں آتا ہے۔ اب یہ ادیب کی قسمت پر منحصر ہے کہ وہ کہاں پیدا ہوتا ہے۔ اگر اس کے ہاتھ کی لکیریں اچھی ہیں اور اس کے والدین سعادت مند ہیں تو یقیناً ایسے ملک میں پیدا ہوا ہوگا، جہاں خرافات لکھنے پر باز پرس نہیں کی جاتی۔ ادیبوں کے بہت سے حقوق ہوا کرتے ہیں، جن میں سے چند حقوق پیدائشی ہوتے ہیں۔ خرافات لکھنا پیدائشی حقوق کی فہرست میں آتا ہے۔ اچھا ادیب وہ ہوتا ہے، جو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردے۔ دودھ خود پی لے اور پانی اپنے پڑھنے والوں کی خدمت میں پیش کردے۔
اچھا ادیب اسے بھی مانا گیا ہے جو قلم توڑدے، اس ادیب کے ساتھ مشکل یہ ہوتی ہے کہ وہ ایک قلم توڑکر چپ نہیں بیٹھ جاتا، بلکہ دوسرے قلم سے لکھنا شروع کردیتا ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ وہی پہلے والا قلم غنیمت تھا، لیکن جو قلم ٹوٹ گیا، ٹوٹ گیا۔ سمجھدار لوگ اسی دوسرے قلم سے نکلی ہوئی تحریر کو صبر و شکر کے ساتھ سہہ لیتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ کم سے کم یہ قلم تو نہ ٹوٹے۔ ادیب کو ہمیشہ لگن سے لکھنا چاہیے۔ لوگ چاہے کتنا ہی منع کریں، لکھنے سے کبھی باز نہ آئے۔ لوگ خود ہی عادی ہوجائیں گے۔ یوں بھی لوگوں میں مدافعت کا مادّہ کم ہی ہوتا ہے اور جو کچھ ہوتا ہے، وہ ادیبوں کے مقابلے میں استعمال نہیں کیا جاتا۔ جو ادیب اس سہولت سے فائدہ نہیں اُٹھاتے، وہ غبی ہوتے ہیں۔ادیبوں کی صحبت کے کئی فائدے ہیں۔ اُن میں سے ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ مشتبہ قسم کے لوگ اگر ادیبوں کی صحبت میں بیٹھیں تو انہیں کوئی نہیں پہچان سکتا۔
عام آدمیوں کی طرح ادیبوں کی بھی دو ٹانگیں ہوتی ہیں۔ لیکن اُن کی ایک ٹانگ ہمیشہ اونچی رہتی ہے۔ غیر ادیبوں کو یہ اعزاز حاصل نہیں ہے۔ مساوات ہر معاملے میں اچھی بھی نہیں معلوم ہوتی۔ ادیب کی اس اونچی ٹانگ کو گھسیٹنا مشکل ہے۔ ادیبوں کی ناک بھی خلافِ معمول اونچی ہوتی ہےاور اس ناک کو اونچا رکھنے کے سلسلے میں ادیب راستہ چلتے وقت نیچے نہیں دیکھا کرتے، البتہ بعد میں صرف یہ دیکھ لیتے ہیں کہ گرنے پر انہیں زیادہ چوٹ تو نہیں لگی۔ ادیب کی ناک پر مکھی بھی نہیں بیٹھ سکتی۔ خود مکھیوں کو بھی اِس قاعدے کا علم ہے اور وہ اپنے بیٹھنے کے لیے کسی اور معقول شخص کی ناک کا انتخاب کرلیتی ہیں۔ آرام دہ نشستوں کی اس وسیع دنیا میں کمی نہیں ہے۔
پہلے زمانے میں سُنا ہے ادیب پیدائشی ہوا کرتے تھے اور جس گھر میں پیدا ہوجاتے، اس گھر پہلے ہی دن سے رونا پیٹنا شروع ہوجاتا، لیکن اب قدرت کو والدین پر رحم آنے لگا ہے۔ اب ہر گھرمیں صرف آدمی پیدا ہوتے ہیں، البتہ آگے چل کر اُن میں سے کچھ ادیب بن جاتے ہیں۔ اپنے اپنے کرتوت ہیں۔ اس کی ذمہ داری اب قدرت پر نہیں ڈالی جاسکتی۔
ادیبوں کے پاؤں میں سنیچر ہوتا ہے اور سر میں اتوار، یعنی بالکل چھٹی۔ ادیبوں میں ایک بات اچھی ہوتی ہے کہ یہ جو کچھ لکھتے ہیں، خود نہیں پڑھتے۔ اگر خود پڑھ لیں تو آیندہ کبھی نہ لکھیں۔ یہ اسی سے ڈرتے ہیں اور دوسروں کا لکھا ہوا نہیں پڑھتے۔اس کے باوجود اگر ان کے خیالات کسی اور کے پراگندہ خیالات سے ٹکرا کائیں تو اس میں ان کا قصور نہیں ہوتا، نظامِ شمسی کا ہوتا ہے۔ جو نظامِ شمسی ادیبوں کے مشورے کے بغیر بنے گا، اس میں یہی خرابی ہوگی۔ اگر ادیبوں کے خیالات کسی وجہ سے ایک دوسرے سے نہ ٹکرائیں تو ادیب خود ٹکراجاتے ہیں۔ ادیبوں ہی کی دیکھا دیکھی کئی ملکوں میں بُل فائٹنگ اور گھونسا بازی کے مقابلے مقرر کیے جاتے ہیں۔
ادیب دیکھنے میں بے ضرر نظر آتے ہیں، لیکن یہ اندر ہی اندر بڑے جنگ جُو ہوتے ہیں۔ تحریر و تقریر کی آزادی کے لیے انہوں نے “ پانی پت” اور “واٹرلو” کی کئی لڑائیاں لڑی ہیں۔ اِن لڑائیوں میں جب بھی اور جہاں بھی ادیب جیتے ہیں، وہاں ہر قسم کے ادب کے ڈھیر کے ڈھیر لگ گئے ، اور اقوام و افراد بے بس ہوکر رہ گئے۔ بعض ملکوں میں ادیبوں کو لکھنے پر اور بعض ملکوں میں نہ لکھنے پر انعامات دئیے جاتےہیں۔ کس میں نقصان اور کس میں فائدہ ہے، ابھی تک طے نہیں ہوا ہے۔ یوں بھی ادیبوں کے سلسلے میں کوئی بات طے ہو ہی نہیں سکتی۔ ظلم اور ادب ہمیشہ غیر محدود رہے ہیں۔
بعض ادیب بے حد بے دردی سے لکھتے ہیں اور کاغذ پر اپنا کلیجہ نکال کر رکھ دیتے ہیں۔ اس صورتِ حال کی وجہ سے پڑھنے والا کچھ بھی نہیں پڑھ سکتا۔ خود اُس کا کلیجہ منہ کو آجاتا ہے اور بڑی مشکل سے واپس جاتا ہے۔
ادیبوں کو لکھنے سے جب بھی فرصت ملتی ہے، وہ اور زیادہ لکھتے ہیں۔ وہ اصل میں اُس شخص کی طرح ہوتے ہیں، جو لیٹے لیٹے تھک جاتا ہے تو اور آرام کرتا ہے۔ ادیب بھی جب ایک چیز لکھتے لکھتے تھک جاتا ہے تو دوسری چیز لکھنے لگتا ہے اور پہلے کے لکھے ہوئے علمی مضمون کے صفحے، بعد کے لکھے ہوئے سیاسی مضمون کے صفحوں میں مل جاتے ہیں اور ادیب کو فرصت نہیں ملتی کہ انہیں چھانٹ سکے۔ پڑھنے والوں کی قسمت میں یہی دورنگی مضمون ہوتا ہے۔ ایڈیٹر اس مضمون کو صرف اس لیے چھاپ دیتا ہے کہ اس کی سمجھ سے بالاتر ہوتا ہے۔ ادب کی ترویج و اشاعت کے لیے ضروری ہے کہ ہر وہ مضمون جو سمجھ میں نہ آئے، ہر حال میں چھاپا جائے۔ اخباروں اور رسالوں میں صرف اشتہارات ہی اچھے نہیں معلوم ہوتے، ایک آدھ مضمون چھپنا ہی چائیے۔
بہت سے ادیب تعمیراتی ادب لکھتے ہیں۔ تعمیراتی ادب وہ ہوتا ہے جس میں نفرت کی دیواریں کھڑی کی جائیں، نفاق کی خلیجیں پیدا کی کی جائیں اور رائی کے پربت بنائے جائیں۔ ایسا ادب بہت جلد مقبول ہوتا ہے۔ اس ادب کا معقول معاوضہ بھی ادا کیا جاتا ہے۔ معاوضے کی رقم عام طور پر دساور ( غیر ممالک) سے منگوائی جاتی ہے۔
ادیب سکون و اطمینان کے متلاشی ہوتے ہیں، امن و سلامتی اُن کا آدرش ہوتا ہے۔ اس امن کی تلاش میں کئی ادیب کسی اسٹیج پر جمع ہوکر تبادلہء خیال کرتے ہیں۔ ایک مرتبہ کا تبادلہء خیال کئی برسوں کے لیے کافی ہوتا ہے۔ جو ادیب اس تبادلہء خیال کے بعد صحیح و سالم پائے جائیں، اُن کے بارے میں سمجھ لینا چائیے کہ وہ اسٹیج پر موجود نہیں تھے۔
ختم شُدہ۔۔۔۔
بابائے اردو مولوی عبدالحق
ولادت: ١۸۷۰ء وفات:١۹٦١ء
مولوی عبدالحق 20 اگست1870 کو باپوڑ ضلع میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد 18 سال کی عمر میں علی گڑھ اسکول و کالج میں بغرضِ تحصیل علم وابستہ ہوگئے اور 1994 میں علی گڑھ سے بی اے کیا۔مولوی عبدالحق کا اردو زبان پر جس قدر احسان ہے شاید ہی کسی اور کا ہو۔ اردو زبان کو آج جو ایک عالمگیر حیثیت حاصل ہے یہ مولوی عبدالحق کی پوری زندگی کی ریاضت اور محنت کا ثمرہ ہے اور ان کی اس محنت کا پھل قدرت نے انہیں اس طرح دیا کہ وہ اردو زبان کے بابا کہلائے اور اب بابائے اردو ان کے نام کا جزو بن کر رہ گیا ہے۔ بابائے اردو نے سرسید احمد خان، محسن الملک، حالی، جسٹس محمود جیسی شخصیات کی صحبتیں اٹھائی تھیں۔ آپ کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں پہلی بار 1937 میں الٰہ آباد یونیورسٹی اور 1941 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ’’ڈی لٹ‘‘ کی اعزازی اسناد عطا کیں۔ مولوی عبدالحق 1912 میں اورنگ آباد میں ’’انسپکٹر آف اسکولز‘‘ اور بعد میں عثمانیہ کالج کے پرنسپل مقرر ہوئے۔ مشہور انگریزی ناول نگار ای ایم فوسٹر نے اپنی کتاب میں مولوی عبدالحق کے ان دنوں کا تذکرہ کیا ہے۔ آپ نے اپنی نگرانی میں رسالہ ’’افسر‘‘ (1899) اور ’’اردو‘‘ جاری کرائے۔ بے شمار تحقیقی کتابوں اور مقالوں کو تحریر کیا۔ ’’انجمن ترقی اردو‘‘ آپ کا عظیم کارنامہ ہے تاہم کراچی آکر آپ کا سب سے بڑا کارنامہ ’’اردو کالج‘‘ کا قیام ہے جو بعد میں یونیورسٹی بنا۔ بابائے اردو نے اردو کی ضخیم لغت کا آغاز بھی کیا اور اس کی پہلی جلد اختر حسین رائے پوری کے ساتھ مل کر شائع کرائی۔ ’’چند ہم عصر‘‘ بھی آپ کی مشہور تصنیف ہے۔اردو کی ترویح و اشاعت کے سلسلے میں مولوی عبدالحق نے برصغیر کے چپے چپے کا دورہ کیا۔ ان کی زندگی کا ہر دور مسلسل جدوجہد اور عمل سے بھرپور ہے۔حکیم الامت علامہ اقبال کا مشہور مصرع ہے ’’بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا۔‘‘ حقیقتاً یہ مصرع مولوی عبدالحق پر سب سے زیادہ چسپاں ہوتا ہے۔ ان کی دیدہ وری کو اگر ہم وسیع تناظر میں دیکھیں تو وہ ہمہ جہت اور ہمہ صفت نظر آتی ہے۔ مکتب نگاری، خاکہ نویسی، تحقیق و تنقید اور لغت نگاری ان کی دیدہ وری کی مختلف جہتیں ہیں۔اردو زبان کا یہ آفتاب 16 اگست 1961 کو کراچی میں غروب ہوگیا۔ مولوی عبدالحق کی رحلت کوئی معمولی سانحہ نہیں ہے۔ یہ ایک ایسے شخص کی موت ہے جس پر تہذیب و ادب کا ایک پورا دور ختم ہوگیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خاکے
محسن الملک ١۹۳۴ء مولوی عبدالحق
قدرت نے نواب محسن الملک مرحوم کو بہت سی خوبیاں عطاء کی تھیں،وجاہت ،ذہانت، خوش بیانی اور فیاضی ان کی ایسی عام اور ممتاز صفات تھیں کہ ایک راہ چلتا بھی چند منٹ کی بات چیت میں معلوم کر لیتا تھا ۔خطاب یا نام اٹکل سے رکھ دیےجاتےہیں ۔مسمی کی خصوصیات کا ان میں مُطلق لحاظ نہیں ہوتا نام رکھتے وقت تو ممکن ہی نہیں عطائےخطاب کے وقت بھی اس کا خیال نہیں کیا جاتا۔ لیکن محسن الملک کا خطاب ان کے لیے بہت ہی موزوں نکلا ۔ان میں پارس پتھر کی خاصیت تھی۔ کوئی ہو کہیں کا ہو ان سے چھوا نہیں اور کندن ہوا نہیں، اگر کسی نے سلام بھی کرلیا تو ان پر اس کا بار رہتا تھا۔ اور جب تک اس کا معاوضہ نہ کرلیتے انہیں چین نہ آتا، یہاں تک کہ وہ اپنے دشمن کو بھی نہیں بھولتے تھے ۔اور یہ میں ذاتی علم سے کہتا ہوں کہ وہ بھی ان کے زیر بار منت تھے۔ سیاسی مصلحتیں بعض اوقات اہل حکومت کو مجبور کرتی ہیں کہ وہ ان افراد کو جو انکے یا حکمت کی راہ میں حائل ہیں دودھ میں مکھی کی طرح نکال کر پھینک دیں مرحوم کو بھی کبھی کبھی ایسا کرنا پڑتا لیکن انھوں نے اس ناگوار اور دل شکن کام کو اس خوبی اور سلیقے سے کیا کہ مخالف ہونے پر بھی محسن الملک کو دعائیں دیتے گئے اور جب تک زندہ رہے اور ان کے شکر گزار رہے۔
وہ جوہر قابل تھے مگر موقع کی تاک میں تھے۔ حیدرآباد میں ان کی سیاست ذاتی تدبیر انتظامی قابلیت کے جوہر کھلے اور ریاستوں میں نوکری کرنا اور اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونا آسان نہیں وہاں سازشوں ،ترغیبوں اور پیچیدگیوں کا ایسا جال بچھا ہوتا ہے کہ بڑے بڑے تیز نظر اور ہوشمند بھی پھنسے بغیر نہیں رہ سکتے اگر کچھ کرنا ہے تو دانستہ نادانستہ یا بالواسطہ یا بلاواسطہ پھنسنا ہی پڑتا ہے ۔البتہ فرق اتنا ہے کہ اکثر توذاتی اغراض کے لیے جتن کرتے ہیں، مگر خاص خاص لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ریاست کی بہبود کی خاطر اپنا سر او کھلی میں دے دیتے ہیں ،ان چند مخصوص لوگوں میں محسن الملک کا بھی شمار ہے ۔اس اکھاڑے میں اترنا اور نلوہ نکل آنا اصل حکمت اور تدبر ہے اور یہ کوئی محسن الملک سے سیکھتا ہے۔ انہیں ان جھگڑوں میں پھنسنا پڑا بعض اوقات طوعاََلاور بعض اوقات کرہاََ لیکن انھوں نے کبھی ریاست کے مفادات کو ذاتی اغراض پر قربان نہیں کیا وہ کوئلوں کی اس کوٹھری میں گئے مگر ہمیشہ بیدار نکل آئے لیکن باوجود اس قدر مد برہوشمند اور شا طر ہونے کے آخروہ خود بھی اس کا شکار ہوئے۔ ریاستوں میں دوگنا مصیبت ہوتی ہے ایک اندرونی اور دوسری بیرونی پچاس برس پہلے کا ذکر ہے اب تک ترنگ بہت کچھ بدل گیا ہے۔ خود مختار حکومتوں میں ایک بڑا عیب یہ ہوتا ہے کہ ان میں سازشوں کی بہت گنجائش ہوتی ہے اشرف کی (خواہ وہ کوئی ہو )یہ کوشش ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح ''سرکار'' کو خوش کر لیا جائے ،جس سے ''پیا خوش اسی کا راج ''اسی سعی میں رقابت شروع ہوتی ہے اور رقابت سے طرح طرح کی سازشیں اور پریشانیوں کا سلسلہ چلتا ہے ۔اسی کشمکش سے کِذب افترا ، بہتان ۔مخبری ، غرض کوئی ایسی حرکت نہیں ہوتی جو حریف ایک دوسرے کے خلاف کام میں نہ لاتے ہوں۔ یہ ایک عجیب اسرار ہے جس کا سلسلہ شاہدر شاخ در شاخ دور دور پہنچتا ہے۔ اور عجیب رنگ میں ظہور پذیر ہوتا ہے اور ایسے حیرت انگیز نتائج پیدا ہوتے ہیں جن کا سان گمان بھی نہیں یہ بڑی طویل داستان ہے اس کی تفصیل کو دفتر درکار ہے اس کے لئے بعض لوگوں کے دماغ خاص طور پر مو زوں ہوتے ہیں۔ یہاں علمی قابلیت اور فضیلیت کام نہیں آتی، یہ کو چہ ہی دوسرا ہے۔ بعض لوگ دیکھنے میں بالکل بدھو معلوم ہوتے ہیں اور ہوتے بھی ایسے ہی ہیں لیکن بلا کے سازشی ہوتے ہیں اور ان کا دماغ ان معاملات میں ایسا ہوتا ہے کہ ان کے کارنامے دیکھ کر بڑے بڑے مدبر اور قابل لوگ ششدر رہ جاتے ہیں ۔جس زمانے کا ہم ذکر کر رہے ہیں اس میں یہ چیزیں خوب پھیلتی پھولتی تھی۔
یہ تو ہوئی ایک مصیبت اور اندرونی اب دوسری مصیبت کا حال سنیے جو بیرونی ہے ۔والی ریاست اپنے علاقے کا حاکم بااختیار ہے ۔سیاہ و سفید کا مالک ہے ۔لیکن اس کے ساتھ ایک ایسی پچر لگی ہوئی ہے جس کے سامنے سارے اختیارات دھرے رہ جاتے ہیں یہ ایک عجیب و غریب شخص ہوتا ہے نہ صاحب اختیار ہے نہ صاحب جاہ و منصب ،نہ غیر معمولی قابلیت رکھتا ہے لیکن یہ سب کچھ سمجھ سمجھا جاتا ہے اور سب کچھ کر گزرتا ہے ،یہ ریزیڈنٹ بہادر ہے۔ راج پاٹ تو ''حضور'' کا ہے لیکن اس'' کنکوے کی دوڑ حب عالی شان بہادر'' کے ہاتھوں میں ہوتی ہے یہاں بڑے بڑے مدعیوں کے دعوے باطل ہو جاتے ہیں۔ اور بڑے بڑے مدبروں کی تد بیر یں بھی بے سود ثابت ہوتی ہیں ۔بڑے صاحب کی نظر پڑی تو ایک دنیا پھر جاتی ہے۔ بعض اوقات ''ریسیڈنسی ''اور ''پیلس'' دو بڑی رقابت گاہیں ہو جاتی ہیں۔ پھر ایک طرف فارن آفس اور گورنمنٹ اور دوسری طرف ارکان ریاست اور مصاحبین حضور ایک دوسرے سے الجھ جاتے ہیں۔ حسد اور رقابت ''پر سٹیج'' اور بات کی پچ بیچ میں آ پڑتی ہے جس کی وجہ سے سازشوں کا بازار گرم ہو جاتا ہے اور ایسے پیچ پہ پیچ پڑھنے شروع ہو جاتے ہیں کہ اصل معاملات الگ رہ جاتا ہے اور بات کچھ کی کچھ ہو جاتی ہے بعض اوقات حالات ایسی نازک ہو جاتی ہے کہ حکومت تو رہی ایک طرف جان کے لالے پڑ جاتے ہیں اس پر پیچ گتھی کو اس طرح سلجھانا کہ سانپ مرے اور لاٹھی نہ ٹوٹے ،رز یڈنٹ بہادر بھی خوش رہیں اور ریاست کی وقار کو بھی زیادہ صدمہ نہ پہنچے اور اصل معاملہ (جو کچھ بھی نہ تھا) اس طرح طے ہوجائے کہ طرفین کو کچھ اثر نہ ہو اور ریاست کے انتظام میں سب سے بڑا کمال سمجھا جاتا ہے یہ کمال نواب محسن الملک کا خاص حصہ تھا ان کا ذہن ایسا رسا ، ان کی طبیعت ایسی حاضر ،ان کے اوسان ایسے بجا، اور معاملات واقعات پر ایسا عبور تھا کہ بڑے بڑے پیچیدہ معاملات کو باتوں باتوں میں سلجھا دیتے تھے۔ وہ اگر ترقی یا کسی اور سلطنت کے منسٹر ہوتے تو یقینا دنیا میں بڑا نام پیدا کرتے ۔بڑے بڑے ان کا لوہا مان گئے تھے۔ یوں تو انفرادی اور اجتماعی حیثیت سے نواب صاحب مرحوم کے احسانات حیدرآباد اور اہل حیدرآباد پر بے شمار ہیں۔ لیکن ریاست کے نظم و نسق میں چند چیزیں یادگار ہیں۔ مثلاََریاست کا بجٹ نواب صاحب نے مرتب کیا اور یہ مصر کے بجٹ کے نمونے پر تھا جو وہاں انگریزی نگرانی کے بعد پہلی بار تیار ہوا تھا۔ بندوبست کا محکمہ بھی انہی کا قائم کیا ہوا ہے۔ جس نے اراضی کی پیمائش کا کام کیا۔ اس کے علاوہ فنانس اور مالگزاری میں بہت سی اصطلاحیں کیں جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں یہ ان کے سوانح نویس کا کام ہے۔
حیدرآباد میں بڑے بڑے لوگ آئے اور گئے لیکن اب تک کسی کو وہ مقبولیت اور ہر دل عزیزی حاصل نہیں ہوئی۔ جو نواب محسن الملک کو ہوئی ۔ہمارے ملک میں خوشامدیوں کی کوئی کمی نہیں وہ ہر بڑے اور صاحب اقتدار آدمی پر اس طرح ٹوٹ کر گرتے ہیں جیسے شہد پر مکھیاں لیکن سچ اور جھوٹ کا امتحان اس وقت ہوتا ہے جب وہ بڑا آدمی اپنے اقتدار یا منصب سے محروم ہوجاتا ہے ۔نواب محسن الملک کی رخصت کے بعد حیدرآباد میں کہرام مچ گیا تھا ۔اور ہزارہ ہا آدمی کا ٹھٹھ اسٹیشن کے باہر اور اندر لگا تھا سینکڑوں آدمی جس میں امیر و غریب، بیوہ اور یتیم ،سب ہی تھے۔ زاروقطار رو رہے تھے۔ وہ کیا چیز تھی جس نے چھوٹے بڑے سب کا دل موہ لیاتھا ؟جس زمانے میں نواب صاحب پیدا ہوئے اور ہوش سبھالا ، مسلمانوں میں مذہبی جذبہ بہت بڑھا ہوا تھا ۔اس کےمتعدد اسباب تھے۔ ان میں سے شاید ایک یہ بھی تھا کہ انسان جب ہر طرف سے مایوس ہو جاتا ہے تو مذہب کی پناہ میں ڈھونڈتا ہے ۔مسلمان دولت و اقبال جاہ و ثروت سب کچھ کھو چکے تھے۔ ایک مذہب رہ گیا تھا اس لئے یہ انھیں اور بھی عزیز ہو گیا تھا۔ ذرا سی بد گمانی پر بھی ان کے جذبات بھڑک اٹھتے تھے ۔اس وقت شاید ہی کوئی ایسا مسلمان مصنف یا ادیب ہو جس نے مذہب پر قلم فرسائی نہ کی ہو یہاں تک کہ وہ لوگ جنھیں مسلمان نیچری کہتے ہیں ۔ اور اپنے خیال میں بد مذہب اور بدعقیدہ سمجھتے تھے ۔انکا اوڑھنا بچھونا بھی مذہب تھا ۔سرسید تو خیر ان کے مرشد ہی تھے ان کے حلقہ کے دوسرے رکن بھی مثلا نواب محسن الملک ،حالی، مولوی مشتاق حسین ،شبلی ، چراغ علی، نذیر احمد، وغیرہ ہم خواہ کچھ بھی لکھتے لیکن تان مذہب ہی پر ٹوٹتی تھی۔ نواب صاحب مرحوم کو ابتدا سے مذہب سے لگاؤ تھا۔ پہلے وہ میلاد پڑھتے تھے ۔اور وعظ کہتے تھے۔ نیچری ہونے پر لیکچر اور مضامین لکھنے لگے لیکن ان سب کا تعلق کسی نہ کسی پہلو سے مذہب سے ہوتا تھا۔ان کی ایک ہی تصنیف ہیں جو خالص مذہبی ہے ورنہ اس کے سوا ان کی جتنی تحریریں ہیں وہ یا تو تعلیمی ہیں یا معاشرتی یا علمی ہیں لیکن ان سب کا تعلق کسی نہ کسی نہج سے اسلام یا مسلمانوں سے ہے ۔گویا وہ اردو کے اعلیٰ درجے کے ادیبوں میں نہیں لیکن ان کی تحریر میں ادیبت کی شان ضرور پائی جاتی ہے۔ اگرچہ انگریزی نہیں جانتے تھے لیکن انگریزی کتابیں پڑھوا کر سنتے تھے اور ترجمہ کراکر مطالعہ کرتے تھے ۔ان کے مضامین میں مغربی خیالات کی ترجمانی صاف نظر آتی ہے ۔
تقریر کے وقت منہ سے پھول جھڑتے تھے، آواز میں شیرینی اور دلکشی تھی ،اکثر لوگ جو ان سے ملنے یا کسی معاملے میں گفتگو کرنے آتے تو ان کی ذہانت اور لیاقت کے قائل ہوجاتے ان کی خوش بیانی ایسی تھی کہ اکثر اوقات مخالف بھی مان جاتے تھے ۔دکن میں رہتے رہتے ہیں اور بعض امراض کی وجہ سے بھی وہ شدید موسم برداشت نہیں کرسکتے تھے۔ ایسے زمانے میں بمبئی چلے آتے تھے بدرالدین طیب جی سرسید کے مشن اور علی گڑھ کالج کے بہت مخالف تھے۔ ایک دن نواب صاحب نے بدرالدین طیب جی سے ایسی فصیح اور پر زور تقریر کی کہ دونوں آبدیدہ ہوگئے اور تھوڑی سی دیر میں ان کی دیرینہ مخالفت کو ہمدردی سے بدل دیا اور ایک گراں قدر عطیہ کالج کے لئے ان سے وصول کر لیا۔ بمبئی میں جب آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کا اجلاس ہوا تو اس کے صدر بھی بدرالدین طیب جی ہوئے ۔بڑے بڑے جلسوں میں جب معاملہ بگڑنے لگتا اور یہ اندیشہ پیدا ہو جاتا کہ کہیں جلسہ درہم برہم نہ ہو جائے تو اس وقت نواب صاحب کی خوش بیانی فصاحت اور ظرافت جادو کا کام کرجاتی تھی۔ اور منغض اور مکدر چہرے بشاش اور شگفتہ ہو جاتے تھے ۔ان کی باتوں اور تقریروں میں ظرافت کی چاشنی بڑا مزہ دیتی تھی۔ باتوں میں ظرافت کبھی کبھی شوخی کی حد تک پہنچ جاتی تھی۔
دوسروں سے کام لینے میں انھیں بڑا اچھا سلیقہ تھا۔ وہ کچھ ایسے مہر آمیز طریقے سے کہتے تھے اور اس طرح سے ہمت افزائی کرتے تھے کہ لوگ خوشی خوشی ان کا کام کرتے تھے اپنے ملازموں سے بھی اور ماتحتوں سے بھی ان کا حسن سلوک ایسا تھا کہ وہ ان کی فرمائش کی تعمیل میں ایسی تندہی اور شوق سے کرتے تھے جیسے ان کا کوئی ذاتی کام ہو اور وقت پر جان لڑا دیتے تھے۔ آدمی کو پہچانے نے انھیں خاص ملکہ تھا تھوڑی سی ملاقات اور بات چیت میں وہ آدمی کو پوری طرح کام لیتے تھے ان کو ملنے والے برے اور بھلے ہر قسم کے آدمی تھے دنیا نیکوں ہی کے لیے نہیں ہیں اس میں بدو ں کا بھی حصہ ہے اور شاید دنیا کی بہت کچھ رونق انہی کے دم سے ہے۔ وہ دونوں سے کام لیتے تھے وہ مدبرین اور سیاست دانوں کو طرح طرح کی ضرورت پیش آتی ہے اور قسم قسم کے لوگوں سے سابقہ پڑتا ہے کبھی ایسا وقت بھی آ پڑھتا ہے کہ بدمعاشوں سے کام لینے کے لیے بغیر چارہ نہیں ہوتا لیکن کمال تدبیر اس میں ہے کہ ان سے کام لیا جائے لیکن انہیں قابو پانے کا موقع نہ دیا جائے نواب صاحب اس فن کے استاد تھے۔ وہ بدمعاشوں سے کام لیتے تھے لیکن یہ سمجھ کر کہ وہ بدمعاش ہیں اور ہمیشہ کوئی نہ کوئی بات اس کی اپنے ہاتھ میں ایسی رکھتے تھے کہ وہ سر نہ اٹھا سکے سکتا اور اسے ان کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھا کر ان پر قابو پانے کا موقع نہ ملتا تھا ان کا ذوق نہاتی نفیس اور پاکیزہ تھا ،رہنے سہنے ،کھانے پینے، پوشاک غرض ان کی ہر چیز میں نفاست پائی جاتی تھی۔ جن لوگوں نے حیدر آباد میں نواب صاحب کی کوٹھی (جواب بھی کوٹھی محسن الملک کہلاتی ہے) دیکھی تھی ۔وہ اس کی داد دے سکتے ہیں ۔مسلمانوں میں مغربی معاشرہ کی شگفتگی سرسید مرحوم کی بدولت پیدا ہوئی یہاں اس سے بحث کرنے کی ضرورت نہیں کہ اس سے ان کا منشا کیا تھا اور ان کا یہ خیال کن مصالح پر منبی تھا لیکن یہ بلا آ ئی ان ہی دنوں اور ان کی ہی بدولت مسلمانوں کو اسراف کا ایک اور بہانہ مل گیا۔ اس معاملے میں سرسید کی سب سے بڑی معتقد اور خلیفہ نواب محسن الملک تھے۔ ان کی دیکھا دیکھی دوسرے پر دوسروں پر بھی وہی رنگ چڑھا گیا ان بزرگوں نے ہر چند لباس کی تراش خراش مقالوں کی سجاوٹ اور بودوباش کے طریقوں میں انگریزوں کی تقلید کی، لیکن کھانا ان کا وہی ہندوستانی ہی رہا اسے بدل نہ سکے یہ چٹخارے انگریزی کھانوں میں کہاں نواب صاحب کھانے کے بڑے شوقین تھے اور بہت نفیس اور عمدہ کھانا کھاتے تھے اور ان کے کھانے بڑے مرغن ہوتے تھے ۔حیرت اس بات کی تھی کہ ایسے کھانے بغیر کسی ورزش وغیرہ کے کیوں کر ہضم کرلیتے تھے یہی حال نواب عماد الملک مرحوم کا تھا۔ انہیں بھی کھانا کا بہت شوق تھا یہ لوگ کھانے کے عیب و ہنر کوخوب پرکھتے تھے۔ اسی شوق کی بدولت وہ باورچیوں کی بڑی ناز برداری کرتے تھے۔ ان کا باورچی جہانگیر تھا ۔یہ بھی اٹاوے کا تھا ،پہلے اس کا باپ یہ کام کرتا تھا وہ ضعیف ہو گیا تو جہانگیر اس کی جگہ آ گیا ۔خوب کھانا پکاتا تھا اس کے ہاتھ میں خاص مزہ تھا مگر بڑا ہی گستاخ اور بدمزاج تھا ایک دن اس نے گستاخانہ اور ناملائم کلمات نواب صاحب سے کہے نواب صاحب خفا ہو کر اوپر چلے گئے تیسرے پہر کو جب وہ نیچے آئے تو ان کے نیازمند نے عرض کیا کیا افسوس کی بات ہے ۔ایسے کھانے سے تو فاقہ بہتر ہے فرمانے لگے ارے میاں تم کیا جانو یہ گالیاں نہیں تھی چٹنی تھی۔
ایک روز نامعلوم کیا بات ہوئی وہ خفا ہو کر چل دیا اب نواب صاحب سے کھانا نہیں کھایا جاتا بیگم صاحب نے طرح طرح کے کھانے پکائے مگر جہانگیر کی بات کہاں۔ بمبئی سے غذرا شہر میں ایک سے ایک بڑھ کر ہوٹل اور ریستوران مگر کہیں کھانا پسند نہ آیا ۔آخر روپے کا منی آرڈرتار پر بھجوایا اور جہانگیر کو بلوایا تب لقمہ حلق سے اترا کھانے کا شوق ہو تو ایسا ہو۔بمبئی ہی کا ذکر ہے کہ ایک باورچی نواب صاحب کا نام سن کر حاضر ہوا نواب صاحب نے پوچھا کیا کیا پکانا جانتے ہو کہنے لگا چپاتی اور قورمہ ۔نواب صاحب نے کہا بس تو کیا جواب دیتا ہے کہ اصل کھانا تو یہی ہیں باقی سب نے نوابوں کے نخرے ہیں ۔نواب صاحب کو مطالعہ بہت شوق تھا اخبارات اور اردو ،فارسی ،عربی کی کتابیں برابر بڑھتے رہتے تھے ،انگریزی کے اخبارات اور مضامین بھی پڑھوا کر سنتے تھے انگریزی کی ایسی کتابیں جو ان کے مزاح کی ہوتی تھی ان کا ترجمہ کر کے پڑھتے اور بحث کرتے تھے ان کے کتب خانے میں فارسی، عربی اور انگریزی کی اعلی ٰدرجے کی کتابیں تھیں۔
سرسید کی وفات کے قریب زمانے ہی میں اردو کی مخالفت کا آغاز ہو گیا تھا ۔اگرچہ سرسید کی حالت اس وقت نازک تھی تو بھی اس جواں ہمت بڈھےنے اس کے متعلق لکھا پڑھی شروع کردی تھی ۔محسن الملک کے زمانے میں اس مخالفت میں اور زور پکڑا اور اردو کی حفاظت اور حمایت کے لئے ایک انجمن قائم کی گئی جس کا عظیم الشان جلسہ لکھنؤ میں ہوا ۔اس میں نواب محسن الملک نے بڑی زبردست اور پرجوش تقریر کی جس کا لوگوں پر بڑا اثر ہوا ۔اور جوش کی ایک لہر پھیل گئی سر انٹونی مکڈونل اس وقت لیفٹیننٹ گورنر تھے۔ وہ ہندی کے بڑے حامی ہمیو میں سے تھے اس نے کچھ ایسی دھمکی دی کے نواب صاحب کو اس سے دستبردار ہونا پڑا۔ اور انجمن ٹوٹ کے رہ گئی۔ ان کی یہ کمزوری نہایت ہی قابل افسوس ہے لیکن اندیشہ یہ تھا کہ اگر انھوں نے اس پر اصرار کیا تو انھیں کالج کی سیکریٹری شپ سے سبکدوش ہونا پڑے گا ۔کالج کی حالت اس وقت بہت نازک تھی اس لئے مصلحت اس میں سمجھی کہ اردو کی حمایت سے دستبردار ہو جائیں تاہم ان کی یہ کارروائی سے بے اثر نہ رہے۔نواب محسن الملک اسی شاہراہ پر گامزن ہے جس کی داغ بیل سرسید ڈال گئے تھے ۔سید کے بعد محسن الملک نے ان کے کام کو جس طرح سنبھالا، نبھایا اور بڑھایا یہ ان ہی کا کام تھا ،ان کے بعد کوئی ان کی یادگار بنایئے یا نہ بنائے ۔ محسن الملک کا کام ان کی سب سے بڑی یادگار ہے۔ بحوالہ چند ہم عصر
سو ہے وہ بھی آدمی راجندر سنگھ بیدی مجتبیٰ حُسین
راجندر سنگھ بیدی کو کون نہیں جانتا۔ بیدی صاحب بھی اپنے آپ کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ جبھی تو خود کو ''چوٹی'' کادیب کہتے ہیں۔ اور بجا کہتے ہیں یقین نہ آئے تو انہیں دیکھ لیجیے وہ سرتاپا ''چوٹی'' کے ادیب ہیں۔
بیدی صاحب کو ہم نے ١۹٦۷ء میں مزاح نگاروں کی کانفرنس کی صدارت کرنے کے لئے بلایا تھا۔ ان کی عادت ہے کہ کوئی کام کرنے سے پہلے بہت سوچ بچار کرتے ہیں (چاہے سوچ بچار سے کام بگڑ ہی کیوں نہ جائے )لہذا وہ عادتاََسوچتے رہے کہ انہیں مزاح نگاروں کی کانفرنس کی صدارت کے لئے بلانے کی آخر کیا وجہ ہے بہت سوچا لیکن کوئی معقول وجہ ان کی سمجھ میں نہ آئی لیکن اسی بیچ اتفاقاََان کی نظر آئینے پر جو پڑھیں تو انہیں آئینے میں وہ معقول وجہ نظر آگئی فوراََرضامندی کا خط لکھا کہ میں اس کانفرنس میں آ رہا ہوں دروغ بر گردن راوی بیدی صاحب جب بھی کسی مسئلہ پر سوچنے میں ناکام ہو جاتے ہیں تو آئینہ ضرور دیکھ لیتے ہیں اور منٹوں میں فیصلہ کر لیتے ہیں اس نسخہ سے ہم نے بھی بارہا فائدہ اٹھایا چنانچہ جب بھی کوئی اہم فیصلہ کرنا ہوتا ہے تو آئینہ دیکھتے بلکہ بیدی صاحب کی تصویر دیکھ لیتے ہیں پھر دلچسپ بات یہ ہوئی کہ انہوں نے کانفرنس کی صدارت قبول کرنے کا جو خطہ ہمیں روانہ کیا تھا اس کے ساتھ بھی ایک حادثہ پیش آیا۔
یہ خط تھا تو ہمارے نام لیکن پوسٹ میں نے اسے ہمارے گھر سے چار کلومیٹر دور رہنے والے ایک ایسے شخص کے گھر میں پھینک دیا جس کا نام تک ہمارے نام سے مشابہ نہیں تھا ۔آج تک یہ وجہ سمجھ میں نہ آسکی کی بیدی صاحب کا خط آخر کس طرح اس شخص کے پاس پہنچا تھا۔ وہ تو اچھا ہوا کہ ان دنوں ہماری شہرت چار کلومیٹر کی دوری تک پھیل چکی تھی پھر اس شخص نےخط کو کھول کر یہ پتا چلایا تھا کہ اردو کے عظیم المرتب ادیب راجندر سنگھ بیدی کا ہے ۔سو اس نے اس خط کو بڑے اہتمام کے ساتھ ہمارے خدمت میں یوں پیش کیا جیسے پرانی نسل نئی نسل کو ورثہ میں پیش کرتی ہے۔ ہم نے لفافے پر پتہ دیکھا وہ بالکل درست تھا جب کوئی معقول وجہ سمجھ میں نہ آئی کہ یہ خط ہمارے'' محلِ وقوع'' سے چار کلومیٹر دور کیسے پہنچ گیا۔ تو ہم نے بھی بالآخر آئینہ دیکھا ۔ اصل وجہ توآ خیر سمجھ میں نہیں آئی لیکن یہ ضرور پتہ چل گیا کہ بیدی صاحب نے محکمہ ڈاک کی اپنی ابتدائی ملازمت کیوں چھوڑ دی تھی۔
اِس خط کے چند دن بعد بیدی صاحب خود بنفس نفیس صدارت کرنے کے لئے حیدرآباد چلے آئے اس اندیشے کے تحت کے کی بیدی صاحب بھی ہم سے چار کلومیٹر دور ڈیلیور نہ ہو جائیں ہم خود انہیں رسیو کرنے کے لئے ہوائی اڈے پر پہنچے( دودھ کا جلا چھا چ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے )ان کے ساتھ یوسف ناظم بھی تھے غالبا ََاسی وجہ سے بے کی صاحب کی شخصیت بڑی پرکشش اور جاذب توجہ دکھائی دے رہی تھی ۔گرمی کے باوجود سوٹ پہن رکھا تھا سر پر سلیقے سے پگڑی باندھے ہوٹنوں پر پان کی سرخی کے علاوہ مسکراہٹ جمائے اپنے درمیانہ خط کو سنبھالتے ہوئے جب وہ ہماری طرف آنے لگے تو ہم حیران تھے کہ اتنے بڑے ادیب کا کس طرح استقبال کریں۔ جو ان دنوں بڑی شخصیتوں کو رسیوکرنے کا ہمیں کوئی خاص تجربہ نہیں تھا ۔آج کی طرح معاملہ نہیں تھا کہ بڑے سے بڑی شخصیت کو منٹوں میں''ر سیو'' کرکے پھینک دیتے تھےہیں۔ ہم نے ان کے استقبال کے سلسلے میں کچھ جملے اپنے ذہن میں پہلے سے ہی یاد کر رکھے تھے۔'' ہم آپ کے بے حد ممنون ہیں ''کہ آپ نے اپنی گوناگوں ادبی اور فلمی مصروفیات کے باوجود اپنا قیمتی وقت ہمیں عطا کیا ۔چاور آپ نے اس کانفرنس میں شرکت کرکے اردو طنزومزاح پر جو احسان کیا اسے رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا کچھ اسی قسم کے جملے تھے سوچا تھا کہ پہلے یہ جملہ کہیں گے پھر وہ جملہ کہیں گے اور اگر انہوں نے اس جملے کا جواب دیا تو فلاں جملہ کہیں گے یوسف ناظم نے ہمارا تعارف ان سے کرایا تو ہم نے جملہ نمبرایک کہنے کی کوشش کی مگر بیدی صاحب نے چھوٹتے ہی ایک لطیفہ سنا دیا ہم گڑبڑا کر رہے گئے۔ کچھ دیر ہنسی چلتی رہی ہم نے پھر موقعے کو غنیمت جان کر ان کا ''استقبال ''کرنا چاہا مگر انہوں نے پھر ایک لطیفہ سنا کر ہمیں پسپا کردیا۔
چار دن وہ حیدرآباد میں رہے۔ مگر ہمیں ایک بھی استقبالیہ جملہ کہنے کا موقع نہ دیا نتیجہ یہ ہوا کہ جب وہ حیدر آباد سے جانے لگیں اور انہیں الوداع کرنے کا موقع آیا تو تب بھی ہمارے دل میں یہ خلش رہ گئی کہ اے کاش ہم بیدی صاحب کو ریسیوں کرسکتے۔
بیدی صاحب کے ساتھ مشکل یہ ہے کہ وہ ہمیشہ ''غیر رسمی حالت ''میں رہتے ہیں۔ حسرت رہ گی کہ کبھی انہیں ''رسمی حالت'' میں بھی دیکھا جاسکے لطیفے پھڑ کدار فقرے، زندگی سے لبریز باتیں، زندگی سے ٹوٹ کر پیار کرنے کا اچھوتا انداز ،کھلا دل کھلا دماغ (پگڑی کے باوجود) یہی باتیں بیدی صاحب کی شخصیت کی نمایاں خصوصیات ہیں کیا مجال کہ کوئی ان کی صحبت میں کوئی رسمی بات یا رسمی جملہ کہہ سکے۔ اس کا مطلب یہ نہ لیا جائے کہ وہ رونا یا دکھی ہونا جانتے ہی نہیں خوب جانتے ہیں بلکہ ضرورت سے زیادہ جانتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ دکھ اور رنج کے معاملے میں بھی وہ ''غیر رسمی ''ہیں۔ ان کی ہنسی جتنی بے ساختہ ہوتی ہے ان کا دکھ بھی اتنا ہی بے ساختہ ہوتا ہے۔ ان کے اسی دورہ حیدرآباد کی ایک یاد ہمارے ذہن میں تازہ ہو گئی۔ مزاح نگاروں کے جلسے میں تو وہ محفل کو زعفران زار بناتے رہے حد ہوگئی کہ لطیفہ گوئی کی محفل میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ مگر دوسرے دن ایک ادبی محفل میں انہوں نے افسانہ سنایا تو افسانہ سناتے سناتے اچانک رونے لگے۔ بے ساختہ ہنسی تو جگہ جگہ دیکھنے کو مل جاتی ہے ۔مگر ایسے بے ساختہ آنسو کہیں دیکھنے کو نہ ملے افسانے کے آخری میں تو یہ حالت ہو گئی تھی کہ افسانہ کم سنا رہے تھے اور زیادہ رو رہے تھے ۔ہم نے کسی افسانہ نگار کو اپنے ہی افسانے پر اس طرح روتے ہوئے نہیں دیکھا۔ ان کے رونے میں ایک عجیب روانی اور سلاستت تھی ۔ آنسو تھے کہ بے ساختہ اماڈے ہی چلے آ رہے تھے ۔جلسے کے منتظمین پریشان تھے کہ ان کے رونے کو کس طرح روکا جائے ۔پانی کے گلاس پیش کیے گئے، پنکھا کچھ اور تیز چلایا گیا، مگر بیدی صاحب کو کسی طرح قرار نہ آتا تھا ۔وہ چونکہ ہمارے مہمان تھے اس لئے ہمارے دل میں یہ خیال آیا کہ ہم ڈائس پر جاکر ان سے کہیں کہ بیدی صاحب اب صبر کیجئے جو ہونا تھا وہ ہو چکا ، معیشتِ ایزداہ کو یہی منظور تھا۔ آخر آپ کب تک آنسو بہاتے رہیں گے مگر ہماری ہمت نہ پڑی کیونکہ اس وقت حاضرین بھی بیدی صاحب کے ساتھ خوشی خوشی رونے میں مصروف تھے۔ جب آدمی بہ رضا و رغبت روتا ہے تو اسے روکنا نہیں چاہیے ۔نفسیات کا یہی بنیادی اصول ہے۔ خدا خدا کرکے افسانہ ختم ہوا تو ہماری جان میں جان آئی انسان ہونے کے ناطے ہم بھی ان کے افسانے کے زیراثر مغموم تھے۔ محفل سے نکل کر جانے لگے تو ہم نے بڑے بوجھل دل کے ساتھ ان کے افسانے کی تعریف کی۔ اس پر انہوں نے خلاف توقع ایک پھڑک دار لطیفہ سنا دیا اور اپنے آنسوؤں کو یکلخت پیچھے چھوڑ کر آتشبازی کے انار کی طرح زندگی کی شگفتگی میں پرواز کر گئے۔
بات دراصل یہ ہے کہ بیدی صاحب ہمیشہ جذبوں کی سرحد پر رہتے ہیں اور سیکنڈ میں سرحد کو اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر عبور کر لیتے ہیں اور ان کی ذات ''جھٹپٹے کا وقت ''ہے ۔برسات کےموسم میں آپ نے کبھی یہ منظر دیکھا ہو گا کہ ایک طرف تو ہلکی سی پھوار پڑ رہی ہے اور دوسری طرف آسمان پر دُھلادُھلا یا سورج چھما چھم چمک رہا ہے ۔اس منظر کو اپنے ذہن میں تازہ کر لیجیے تو سمجھیں کہ آپ اس منظر میں نہیں ہیں بیدی صاحب کی شخصیت میں دور تک چلے گئے ہیں ۔ان کی ذات میں ہر دم سورج اسی طرح چمکتا ہے ۔اور اسی طرح ہلکی سی پھوار پڑ رہی ہوتی ہے۔ ایسا منظر شاذ و نادر ہی دکھائی دیتے ہیں۔ اور یہ سب کچھ اس لئے ہوتا ہے کہ بیدی صاحب جیسی شخصیتیں بھی اس دنیا میں شاذونادر ہی دکھائی دیتی ہیں۔
اردو میں ایک لفظ ''رقیق القلب'' ہوتا ہے ۔ہم ایک عرصے سے اس لفظ کو کسی موضوع شخصیت کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے ۔مگر ہمیں آج تک ایسا شخص نہیں ملا تھا ۔اگر خدانخواستہ بیدی صاحب سے ہماری ملاقات نہ ہوتی تو ہم اردو زبان کے اس لفظ کو کبھی استعمال نہ کر پاتے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم اس لفظ کا املا تک بھول چکے تھے۔ اب چنانچہ اس وقت بھی لغات کشوری کو دیکھ کراس لفظ لکھ رہے۔
بیدی صاحب سے بمبئی اور دہلی میں کی ملاقاتیں ہوئی۔ ہر جگہ ،ہر مقام ،ہر طول البلد اور عرض البلد پر انہیں یکساں پایا ہے۔ جب بھی بمبئی جانا ہوتا ہے تو ہم پہلے یوسف ناظم کے ہاں چلے جاتے ہیں جن کے پچھلے دفتراور بیدی صاحب کے موجودہ دفتر میں Stone throw distance(پتھر پھینک فاصلہ )ہے۔ ١۹٦۸ء میں ہم پہلی بار ان کے دفتر'' ڈاچی فلمس ''گئے تو دیکھا کہ ایک چھوٹے سے کمرے میں بیدی صاحب بیٹھے ہیں اور دفتر میں موجود لوگوں کو مٹھائی کھلا رہے ہیں مٹھائی کھلانےکی وجہ پوچھی تو بتایا گیا کہ ان کی فلم ''دستک'' کی ''ٹیر ٹیری''Territory فروخت ہوچکی ہے .دوسرے سال پھر ہم گئے تب بھی مٹھائی پیش کی گئی پھر وجہ پوچھی تو بتایا گیا کہ اب دوسری ٹیریٹری فروخت ہوئی ہے تیسرے سال پھر جانا ہوا تو پھر میٹھائی سامنے آئی پوچھا ''کیا اب تیسری ٹیر ٹیری فروخت ہوئی ہے ؟''ہنس کر بولے ''نہیں یہ پچھلے سال کی ہی مٹھائی ہے جو بچ گئی ،تھی شوق سے کھائے''۔
اپنے دفتر میں وہ فلمی اداکاروں،فلم ٹیکنیشنوں کے درمیان گھرے بیٹھے تھے ۔ایسی ہی ایک محفل میں ہنسی مذاق کی باتیں ہورہی تھیں کہ کسی نے گیتا بالی کا ذکر چھیڑ دیا ۔اور بیدی صاحب کی ذات میں چمکتے سورج کے پس منظر میں اچانک ہلکی سی پھوار برس نے لگی ۔انھیں دیکھ کر کسی بچے کی یاد آجا تی ہے ۔جو بیک وقت ہنستا بھی ہے اور روتا بھی ہے۔
ان کی فلمی مصروفیات کے بارے میں ہم زیادہ نہیں جانتے البتہ ان کی فلمیں بڑے ذوق و شوق کے ساتھ ایڈوانس بکنگ کرائے بغیر ضرور دیکھی ہیں۔ اور یہ محسوس کیا ہے کہ ان کے ادب اور ان کی فلموں میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے ۔ خواجہ احمد عباس کی طرح نہیں کہ ان کی فلم دیکھیے تو احساس ہوتا ہے کہ آپ بلٹز کا آخری صفا پڑھ رہے ہیں اور بلٹز کا آخری صفحہ دیکھیں تو لگتا ہے آپ ان کی فلم پڑھ رہے ہیں۔
ہندی کے مزاح نگار رام رکھ منہر نے ہمیں ایک بار بیدی صاحب کا ایک لطیفہ سنایا تھا ۔آپ کو بھی یہ سنائی دیتے ہیں بیدی صاحب جب ''دستک'' بنا چکے توایک نوجوان ،ان کے پاس یہ درخواست لے کر آیا کہ وہ اسے اپنی کسی فلم میں کام کرنے کا موقعہ دیں ۔بیدی صاحب بولے ''بھئی میں نے اپنی ساری اگلی فلموں کی دس سال تک کی پلاننگ کر لی ہے۔ اور سارے اداکاروں کا انتخاب کر لیا ہے ۔اب تو میں تمہیں کوئی موقع نہیں دے سکتا۔اگر تم چاہو تو دس سال بعد ُکر مجھ سے پتہ کر لینا''
نوجوان نے واپس جاتے ہوئے کہا ''تب تو ٹھیک ہے میں دس سال بعد پھر آؤں گا مگر یہ بتائیے آپ سے ملنے کے لئے صبح کے وقت آوں یا شام میں''
مشکل یہ ہے کہ بیدی صاحب خود اپنے بارے میں لطیفے گھڑنے میں مصروف رہتے ہیں اور پھر خود ہی انہیں سماج میں چلا دیتے ہیں وہ زندگی میں یکسانیت اور یک رنگی کو بہت دیر تک برداشت نہیں کرسکتے دو سال پہلے کی بات ہے وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ''اردو ادب میں عصری حسیت'' کے موضوع پر ایک سیمینار میں شرکت کے لیے آئے تھے ہندوستان بھر کے ادیب اس سیمینار میں جمع تھے۔ اور اردو ''ادب میں عصری حسیت'' کو تلاش کرنے میں جٹے ہوئے تھے تین دن تک کچھ ایسی سنجیدگی کی کے ساتھ ادب میں ''عصری حسیت'' کی تلاش جاری رہی کہ ہم جیسے بھی بے حس ہو گئے بیدی صاحب کو تین دن بعد اس سمینار کا خطبہ صدارت پڑھنا تھا۔ بارے خدا جب انہوں نے خطبہ صدارت پڑھا تو شگفتگی اور لطافت کے ایسے دریا بہا دیے کہ سمینار کی ساری ''عصری حسیت'' اس بہاو میں تنکے کی طرح بہہ گئی جو لوگ اصلی حسیت سے ملغوب ہو کر مسکرانے کو ''غیر عصری حسیت'' سمجھنے لگے تھے وہ بھی قہقیے ہے لگانے پر مجبور ہو گئے۔
بیدی صاحب نے اپنے باغ و بہار خطبہ صدارت کے ذریعے لوگوں کے دماغوں میں سے سیمنار کے کردار و غبار صاف کیا اور انہیں اپنی اصلی ''عصری حالت'' پر لے آئے اگر اس سمینار کے بعدبیدی صاحب کا خطبہ صدارت نہ ہوتا تو آج بھی بہت سے ادیبوں کی ذاتوں میں سمینار بدستور منعقد ہوتا رہتا۔
ہمیں یاد ہے کہ ان کے خطبہ صدارت کی داد بھی لوگوں نے اچھوتے ڈھنگ سے دی ہے کیوں کہ یہ سچ مچ ''عصری داد'' دی پہلے تو لوگ بیٹھ کر تالیاں بجاتے رہے پھر اچانک نہ جانے جی میں کیا آئی کہ سب کے سب اپنی کرسیوں سے اٹھ کر تالیاں بجانے لگے پانچ سات منٹ تک تو بیٹی صاحب اس بات کو ہنسی خوشی برداشت کرتے رہے ۔لیکن اچانک ان کی ''عصری حسیت'' جاگ اٹھیں اور وہ فورا جذبات سے ان کی آنکھوں میں جھیل سی پہ نکلیں تب تو لوگوں کو مجبورا پنی داد روکنی پڑی۔
انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو
بیدی صاحب کی ایک اور خوبی یا خرابی یہ ہے کہ وہ کبھی ادب کی سیاست کے چکر میں نہیں پڑے نہیں رہے جو کچھ لکھنا ہوتا ہے لکھ کر بے تعلق ہو جاتے ہیں لوگ ان کے ادب کو چاہے کسی خانے میں رکھ دیں اس سے انہیں کوئی سروکار نہیں اس ادا سے انہیں نفع پہنچا ہے یا نقصان یہ ان کے ناقدین جانے۔
بیدی صاحب کے بارے میں مشہور ہے کہ ان کا حافظہ خاصہ کمزور ہے وہ اپنے قریبی دوستوں کے نام بھی بھول جاتے ہیں اسی لیے یوسف ناظم نے بیدی صاحب کی شخصیت پر اپنے بھرپور خاکے میں بیدی صاحب کے دوستوں کو یہ مشورہ دے رکھا ہے کہ وہ جب بھی ان سے ملے تو حفظ ماتقدم کے طور پر اپنا نام بتائیں اس میں دونوں فریقوں کی عافیت ہے۔
اس مخلصانہ مشورے پر عمل کرتے ہوئے جب ہم نے پچھلی بار دہلی میں بیدی صاحب سے ملنے کے بعد اپنا نام بتایا تو بولے میں جانتا ہوں آپ مجھ پر لکھے گئے ایک مزاحیہ خاکے کی بنا پر یہ حرکت کر رہے ہیں جب کہ یہ بات ایسی نہیں میرا حافظہ اتنا خراب نہیں ہے۔
ہم نے پوچھا ''بیدی صاحب کے خاکہ کس نے لکھا تھا''؟
''بولے اس وقت کے لکھنے والے کا نام یاد نہیں آ رہا ہے''
ایک سال پہلے یوسف ناظم نے ہمیں بتایا کہ بیدی صاحب کسی بات پر ہم سے ناراض ہیں ہم نے یوسف ناظم سے پوچھا اگر آپ کہیں تو بیدی صاحب کو خط لکھا لکھ دو اور اگر وہ کسی بات پر خفا ہو تو معافی مانگ لو۔
یوسف ناظم بولے خط لکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ان کے کمزور حافظے پر پورا بھروسہ رکھو وہ یہ بات بہت جلد بھول جائیں گے۔
بیدی صاحب کا حافظہ چاہے کتنا ہی خراب کیوں نہ ہو مگر ہمارا یہ دعوی ہے کہ وہ کئی صدیوں تک آنے والی نسلوں کے حافظے میں اسی طرح قہقہیے ہے لگاتے آنسو بہاتے اور زندگی سے ٹوٹ کر پیار کرتے ہوئے موجود رہیں گے۔ جولائی 1976 ء
راجندر سنگھ بیدی کے انتقال کی خبر اخبار میں پڑھی تو نہ دل میں پر بجلی سی گر ی اور نہ ہی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھایا، جیسا کہ بیدی صاحب جیسی بڑی شخصیتوں کے انتقال پر عمو ماََ ہوا کرتا ہے ۔وجہ اس کی غالباََ یہی تھی کہ پچھلے پانچ برسوں سے بیدی صاحب کی زندگی ایک مسلسل کشمکش اور کرب بن کر رہے گی تھی ۔فالج کے حملے کے بعد بیدی صاحب وہ بیدی صاحب باقی نہیں رہے گئے تھے جنہیں ہم نے برسوں دیکھا سنا اور برتا تھا ۔بیوی کے انتقال اور پھر اپنے جوان بیٹے نریندر بیدی کے انتقال کے بعد تو وہ بالکل ٹوٹ گئے تھے۔
ان سے میری آخری ملاقات دو سال پہلے دہلی میں ہوئی تھی ۔وہ اپنے دوست سہگل صاحب کے گھر مقیم تھے میں ان سے ملنے گیا تو بڑی مشکل سے صوفہ سے اٹھے گلے سے لگایا پھر صوفے پر بیٹھ کر کچھ کہنے کی کوشش کی مگر وہ شخص جو زندگی بھر لفظوں کا کاروبار کرتا رہا اس کے منہ سے لفظ نہیں نکل پا رہے تھے میں نے انہیں کچھ بولنے سے منع کیا۔ تو صوفے پر بیٹھے چپ چاپ اپنی آنکھوں سے آنسو ٹپکا تے رہے۔ وہ بیدی صاحب جن کے جن کی بذلہ سنجی شگفتہ مزاجی اور حاضر جوابی کی دھاک سارے عالم پر بیٹھی ہوئی تھی۔ انہیں اس حالت میں دیکھ کر احساس ہوا کہ وقت بھی عجیب ظالم چیز ہے کیسی کیسی عظیم عمارتوں کو ڈھا دیتا ہے کیسی کیسی ہستیوں کو بجھا دیتا ہے بیدی صاحب جس محفل میں ہوتے وہاں بلند بانگ قہقہوں کا سلسلہ ختم ہونے نہ ہونے میں نہ آتا تھا ۔اب وہی بیدی صاحب سامنے بیٹھے نہ لطیفے سنا رہے تھے، فقرے چست کر رہے تھے، اور نہ ہی قہقہےلگا رہے تھے، بلکہ اپنی آنکھوں سے آنسو بہا ئے چلے جا رہے تھے۔
وہ اپنی ذات کے بارے میں ہونے والے مذاق کو نہ صرف عام کرتے تھے بلکہ اس سے لطف اندوز بھی ہوا کرتے تھے یوسف ناظم نے ایک بار ان کی فلم ''دستک'' پر تبصرہ کرتے ہوئے بیدی صاحب سے کہا بیدی صاحب آپ نے یہ فلم صرف ''دس تک'' کیوں بنائی ہیں بنانا ہی تھا تو گیارہ تک بناتے بارہ ، تک بناتے بیدی صاحب بہت مزے لے کر یوسف ناظم کا تبصرہ دوستوں کو سنایا کرتے تھے۔
ان کی باتیں بہت دلچسپ اور بے ساختہ ہوتی تھی۔ ایک بار دہلی کی ایک محفل میں بشر بدر کو کلام سنانے کے لیے بلایا گیا تو بیدی صاحب جو میری برابر بیٹھیے تھے اچانک میرے کان میں کہا ''یار ہم نے دربدر، ملک بدر، اور شہروں در سنا تھا ،کہ بشیر بدر کیا ہوتا ہے۔'
میں نے زور سے قہقہہ لگایا تو اچانک یوں سنجیدہ بن گئے جیسے انہوں نے کچھ کہا ہی نہ ہو ۔ سردار جعفری کے رسالے ''گفتگو'' کے ایک شمارے پر تبصرہ کرتے ہوئے بولے'' اس شمارے میں'' گفت ''کم اور'' گو'' زیادہ ہے۔ افسانہ نگار واجدہ تبسم کا جب بھی ذکر کرتے تو مذاق میں ان کا نام ''والدہ تبسم ''لیا کرتے تھے۔
ان کی کتنی باتیں یاد آتا رہی ہیں ۔ دہلی میں ایک مسلمان دوست کے گھر ان کی دعوت تھی ۔دعوت بہت پُر تکلف تھی اور کباب کا ایک ٹکڑا منہ میں ڈال کر اس کے ذائقہ کی تعریف کرتے ہوئے بولے ''بھائی مسلمان کا گوشت بے حد لذیز ہوتا ہے۔''
سکھوں کہ جتنے لطیفے انہیں یاد تھے اتنے شاید ہی کسی کو یاد ہوں ۔ اپنے حوالے سے کہا کرتے تھے کہ'' لاہور میں میرے گھر کے آگے ایک بھینس بندھی رہتی تھی جس پر میرے دوستوں کو اعتراض ہوا کرتا تھا ایک دن دوست نے سختی سے اعتراض کیا تو میں نے کہا ''بھئی ہندوؤں کا محبوب جانور گائے ہے اور مسلمانوں کا محبوب جانور اونٹ ہے کیا ہم سکھوں کو اپنی محبوب جانور بھینس کو پالنے کا حق نہیں ہے۔''
مجھے یاد ہے کہ دو سال پہلے دہلی کی ساہیتہ اکیڈمی میں نے ان کے اعزاز میں ایک جلسہ منعقد کیا تھا ۔چونکہ بولنے میں انہیں دشواری ہوئی ہوتی تھی اس لئے احمد ہمیش کا افسانہ پڑھ کر سُنا یا تھا۔ وہ چپ چاپ بیٹھے افسانے کو یوں سُن ر ہے جیسے افسانہ سے ان کا کوئی تعلق نہ ہوں۔
بیدی صاحب لکھنے کے معاملے میں بہت اہتمام کے قائل تھے ۔افسانہ نگاری ان کے لئے عبادت تھی ۔ فلمی زندگی میں رہنے کے باوجود انہیں اپنے تخلیقی ادب کو فلم سے دور رکھا اپنے افسانوں میں اتنی ترمیم اور اتنی نظرثانی کرتے تھے کہ ان کی اس محنت پر حیرت ہوتی تھی۔ وہ بیسار نویس نہیں تھے مگر جو بھی لکھا وہ اردو کے ادب عالیہ کا حصہ بن گیا وہ کبھی ادب کی سیاست میں نہیں پڑھے۔
اب جب بیدی صاحب ہمارے درمیان نہیں ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ اردو ادب اپنے ایک عظیم افسانہ نگار سے محروم ہو گئی ۔ایسا قد آور افسانہ نگار اور ایسی رنگارنگ شخصیت اور اردو ادب کو شاذ ہی نصیب ہوسکے۔ ہم لوگ اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے بیٹی صاحب کو دیکھا ان سے باتیں کیں اور ان کی محفلوں میں شریک رہے۔
نومبر 1984ء
بحوالہ آدمی نامہ
ختم شُدہ۔۔۔۔
دھان پان شاعر
راہی قریشی وہاب عندلیب
مخروطی چہرہ ،نوکیلی لمبی ناک، نیلنگوں آنکھیں، زرد رنگت ،عزم مسافرت ،نام برکت، پیشہ میں عظمت اور سراپا نزاکت ،جیسے خدوخال سے جوتصویر ابھرتی ہے۔ وہ برکت الحق راہی کی ہے۔ راہی کا تعلق سراج اور وجد کی ادب پرورسرزمین سے ہے۔برکت الحق جامعہ عثمانیہ میں مجھ سے ایک جونیئر تھے۔ گریجویشن کے بعد ایک سال بعد جب میں 'قانون' کو ادھورا چھوڑ کر پوسٹ گریجویشن کے لیے آرٹس کالج لوٹا تو وہ میرے ہم جماعت ہو گئے لیکن ہمارے مضامین علاحدہ علاحدہ تھے۔وہ اردو کے طالب علم تھے اور میں فلسفے کا۔ اسی جامعہ سے انہوں نے 1956 میں ایم ۔اے ۔اردو کے امتحان میں امتیازی کامیابی حاصل کی۔ بزمی اردو جامعہ عثمانیہ کے جلسوں میں ان سے مڈ بھیڑ ہوتی رہیں۔ مگر وہ اپنی کم گوئی وہ کم آمیزی کے باعث قریب نہ ہو سکے ۔ اسی طرح ہماری شناسا ہی برائے نام رہی۔ ان سے قریب ہونے کا موقع اس وقت ملا جب کہ انہوں نے ١۹۵۹ء میں ستم ہائے روزگار کے باعث دیارِ بندہ نواز میں مستقل سکونت اختیار کی ۔''اورنگ'' سے دستبرداری کے بعد بہتوں نے گوشہ گمنامی میں زندگی گزاری مگر انہیں اس معاملے میں بھی سرخروئی حاصل ہوئی ۔''اورنگ'' چھن گیا تو ''کنج گل و برگ ''میں عافیت ملی ۔راہی قریشی کے ادبی نام سے ہمیشہ کے لئے یہیں کے ہورہے 22 سال تک ایس ۔بی۔ کالج میں اردو کے لیکچرر ہے اور گزشتہ گیارہ برسوں سے جامعہ گلبرگہ کے شعبہ اردو سے وابستہ ہیں ۔اسی دوران انھوں نے کالی داس گپتا رضا جیسے بلند پایہ محقق و شاعر پر مقالہ لکھ کر پی۔ ایچ ۔ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
راہی ایک وقت بے باک بھی ہیں اور شرمیلے بھی، سادہ بھی ہیں، ہوشیار بھی، محبوب بھی ہیں، اور معتوب بھی،، ناز بردار بھی ہیں، اور بے نیاز بھی، حلیم و سلیم بھی، شوق و طرح دار بھی، زندگی آسودہ حال مگر شاعری درد کرب سے معمور۔ انہی خصوصیات نے ان کی شخصیت کو دلچسپ اور رنگارنگ بنا دیا۔مطالعہ وسیع ،مشاہدہ عمیق، مگر تجربہ کورہ، ذمہ داریوں اور بندشوں سے احتراز کے باوجودتنظیمی عہدوں پر کاربند، کبھی کامیاب تو کبھی ناکام ،غالب صدی تقریبات کمیٹی ،انجمن ترقی اردو، انجمن انصار الصفہ ،لامین ایجوکیشن سوسائٹی ،جیسے ادارے ان کی تنظیمی صلاحیتوں کی روشن اور دھندلی مثالیں ہیں۔ دو عدد بیگمات اور تین عدد بچوں کے باوجود وہ خود بچہ ہیں ۔
الھڑ اور معصوم سا یہی وجہ ہے کہ بارہا نتائج اخذکرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ ان کا حلقہ احباب بڑھتا اور گھٹتا رہتا ہے۔ کم سے کم وقت میں کسی سے قریب ہوکر بے تکلف ہو جانا اور بے تکلف ہو کر پہلوتہی اختیار کرنا ان کا خاصہ ہے اور فاصلے ربط اور بے تعلقی کے اپنے دیرینہ تجربات میں منفرد نظر آتے ہیں۔
خلوص کچھ بھی نہ بخشے گا فاصلوں کے سوا
رفاقتوں کا صلہ کیا ہے رنجشوں کے سوا
یہی ہے ربط تو پھر بے تعلقی کیا ہے
یہی ہے قرب تو بہتر ہے فاصلہ رکھنا
کفایت اور احتیاط ان کی زندگی پر حاوی ہے پتہ نہیں انہوں نے معاشیات جس درجے اور کہاں تک پڑھی ہے مگر عملا معاشی امور میں پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں۔ اسکوٹر کے استعمال اور تحفظ کا معاملہ ہو کہ پیش قیمت کتابوں کی خریداری کے مسئلہ احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہیں پاتا۔
دستر اور بستر ان کی کمزوری ہیں دستر کے نام سے یہ نہ سمجھ لیجئے گا کہ وہ مرغن غذاؤں کے شہدای اور خوان نعمت کے دلدادہ ہیں بلکہ اس معاملے میں وہ تو ٹائم پیس ہیں ۔مقرر وقت پر کھانے کے خطرناک حد تک عادی ہیں کیا بجے ہیں ؟ صبح کے سات بجے ہے ،دوپہر کا ایک بجا ہے، شام کے سات بجے ہیں۔ لیجئے صاحب ا ن پر ایک اس طرح کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے اور وہ جھنجھلا ہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں لیکچر ہال ہوں کہ مشاعرہ گاہ بزرگوں کی انجمن ہو کہ ہم عمروں کی محفل، اپنے گھرہو کے پرایا روایات اور آداب کو بالائے طاق رکھ کر بڑی بے تکلفی سے'' خاصا'' طلب کرتے ہیں۔ اور'' بلا شرکت غیر مصروف ''طعام ہو جاتے ہیں۔ مگر ہیں نہایت کم خور۔ ناپ تول کر کھاتے ہیں۔گوشت سے زیادہ رغبت نہیں ،چائے سے بیر ہے۔ غذا کی حد تک ان کا مسلک رندانہ نہیں صوفیانہ ہے۔ بستر کے ذکر سے بھی غلط فہمی نہ ہو وہ صرف نیند کے بچے ہیں 9 بجے شب بجلی آف ہو جاتی ہے دولت کدا ویرانے میں بدل جاتا ہےدستک دیجئے اور دروازہ کھٹکھٹائے کھڑی بجایے ،صدا دیجئے، نو بج چکے ہیں صاحب آرام کر رہے ہیں۔ دستر اور بستر میں یہ توازن بظاہر کردار کی استقامت کی غمازی کرتا ہے مگر کسی معاملے میں رائے قائم کرنے ،کسی نتیجے پر پہنچنے اور خود اپنا فیصلہ بدلنے میں ان کو کوئی دیر نہیں لگتی ۔آپ اسے میرا محدود مشاہدہ سمجھے یا ان کی مفاہمت وہ مصالحت کا کرشمہ کے دشمنوں کو معاف کردیتے کردینے میں ،میں نے ان سے بڑا فراغ دل نہیں دیکھا۔
زبان پر دسترس ہے۔ ٹکسالی زبان بولتے اور لکھتے ہیں۔ مخاطب کو اپنی علمیت سے متاثر کرنا جانتے ہیں۔'' نے'' کا استعمال غلط ہے۔'' صحیح تلفظ یہ ہے'''' مصرع گر گیا ہے'' شعر پڑھنا سیکھیے'' نجی محفل ہو کہ بزم ِشعر ،وہ ڈانٹ پلا پلا کر اپنی موجودگی کا ثبوت دیتے ہیں ۔اس سے ان کی زبان دانی اور قادرالکلامی کا اندازہ کیا جاسکتاہے ۔راہی نے مختلف اصناف سخن میں طبع آزمائی کی ہے۔ نعت و منقبت کے علاوہ روباعیات بھی کہی ہیں۔ روباعیات کا مجموعہ ''چار سو''شائع ہوچکا ہے۔ شاعری میں انہیں غزل گوئی کی وجہ سے امتیاز حاصل ہے ۔غزل ان کی پسندیدہ صنف ہے۔جس کے ذریعہ انہوں نے اپنے ذاتی احساسات و تجربات کو خوبصورت پیرائے اظہار میں ڈھالا ہے۔ دردمندی اور غنائیت کے علاوہ احساس وہ لہجے کی تازگی نے ان کی غزل کو اپنے عہد سے ہم آہنگ کر دیا ہے ۔مگر سادگی طبع کا علم دیکھئے کہ وہ ملک کے معیاری رسائل میں اپنی دھان پان غزلوں کو چھپا دیکھ کر نہ صرف مسرت کا اظہار کرتے ہیں ۔بلکہ اپنے نام اور ان کے گرد سبز روشنائی سے حلقہ بناتے ہیں۔ یہ ادا، یہ مسرت بھی ان کی فطرت معصومیت کا اظہار ہے۔ ان کی غزلوں کا پہلا مجموعہ ''صحرا کا سفر'' 1973 میں شائع ہوا۔بعدازاں دو شعری مجموعے ''ضمیر شب ''١۹۸۰ء'' دیدہ بے خواب'' اشاعت پذیر ہوئے۔١۹۸۸ء میں غزلوں کا انتخاب ''عکس کی ہجرت ''باصرہ نواز ہوا۔ کرناٹک اردو اکادمی کے علاوہ غالب اکادمی بنگلور اور دبستان دکن جیسے اداروں نے ان کی شعری خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اعزازات و انعامات سے نوازا۔مگر شاعری اعزازات و انعامات سے بالاتر ہیں تو ہے۔ شعر گوئی خصوصا غزل گوئی میں اپنے مرتبہ و مقام سے وہ نا آشنا بھی نہیں۔
معترف ہے میری غزلوں کے سخن ور سارے
بلاشبہ راہی نے غزل کے کلاسیکی سرمائے سے خوب استفادہ کیاہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ان کی شاعری کی اساس نہایت مستقیم ہے ۔وہ ادب میں کسی مخصوص نظریے یا فکر کے حامل نہیں جدیدیت کے قائل نہ ہونے کے باوجود ان کے کلام میں غیر شعوری طور پر نئی شاعری کی جانی پہچانی علامتیں ملتی ہیں ۔''تنہائی'' سراب ''صحرا شہر'' سایہ'' سورج دھوپ'' چراغ ''آئینہ'' عکس، دیوار، چہرہ اور اسی قبیل کے دیگر الفاظ سے نئی نسل کے روحانی کرب و اصطراب کا اظہار ہوتا ہے ذیل کے اشعار میں اصلی احساس جلوہ گر ہے۔
ٹوٹتا اور بکھرتا ہوا سنسار ہوں میں
لمحہ لمحہ کوئی گرتی ہوئی دیوار ہوں میں
لوگوں کو مصلحت نے تما شا بنا دیا
سجنے لگے ہے چہروں پہ چہرے عجیب سے
شاعر نے اپنے عہد کے مظلوم و محروم انسانوں کی داستان رقم کرتے کرتے تشنگی اور محرومی کو زندگی سمجھتا ہے اور یہ زندگی اس کے لئے شہادت سے کم نہیں۔
تشنگی ،دھوپ، لہو، دشت، ستم، محرومی
زندگی نام ہے اسکا تو شہادت کیا ہے
تاسف ہے کہ یہ باشعور فنکار، بسا اوقات شدید قسم کی یاسیت کا شکار ہو جاتا ہے۔
کس کو آواز دو فطرت کے جہنم میں یہاں
آگ ہی آگ ہے ہر سمت دھواں کتنا ہے
لیکن زندگی کی راہ میں جب اس کے شیشے صفت خواب ،سنگِ گراں سے چکنا چور ہو جاتے ہیں۔ تو وہ اہل بصیرت کے تغافل شاعری اور غیر مجاز قیادت پر زخمہ بھی لگاتا ہے۔
کون تعبیر دے ان شیشہ صفت خوابوں کی
لوگ پتھر ہے کہاں خواب سنانے نکلے
خوب آسودہ ہوئے اہل بصیرت راہی
اور نابینا جو تھے راہ بتانے نکلے
یہ بات بڑی خوش آئندہ ہے کہ شاعر گردوپیش کے نامساعد حالات کے سامنے سُپر انداز نہیں ہوتا بلکہ رنگ و نوید کا طالب اور صبح فردا کا منتظر ہے۔
نظر کو رنگ، سماعت کو دے نوید کوئی
لبوں پر زہر بھری یہ شکایتں کب تک؟
ہم کو بھی ایک اُفق ملے راہی
کب سے امیدِ صبح فردا ہی
ایک اور تمانیت بخش وصف یہ ہے کہ شاعر کلاسیکیت کے احترام اور جدیدیت سے باخبری کے باوجود اپنی ایک الگ راہ پر گامزن ہے وہ دریا میں ضم ہو کر اپنی انفرادیت کو کھونا نہیں چاہتا بلکہ اس کا تحفظ ہی اس شاعری اور زندگی کا مدعا ہے۔
ہر شخص ہے خدا پنے ہی ماحول میں تنہا
دریا سے کناروں کو فقط پیاس ملی ہے
بچا ضمیر فروشوں میں آبر و میری
میں اب جو صحیح دریا میں ضم نہ ہونے دے
ختم شُدہ۔۔۔
ہم ایک شخص سے کوئی بات کہنا چاہیں اور و ہ ہمارے سامنے موجود نہ ہو تو اپنی بات اور گفتگو اُسے لکھ بھیجنا مکتوب نگاری کہلائے گا۔ مولوی عبدالحق لکھتے ہیں: ” خط دلی خیالات و جذبات کا روزنامچہ اور اسرارِ حیات کا صحیفہ ہے۔“مکتوب نگاری ادب کی قدیم صنف ہے مگر یہ ادبی شان اور مقام و مرتبہ کی حامل کب ہوتی ہے۔ اس بارے میں ڈاکٹر سید عبداللہ کا خیال ہے: ”خطوط نگاری خود ادب نہیں مگر جب اس کو خاص ماحول خاص مزاج، خاص استعداد ایک خاص گھڑی اور خاص ساعت میسر آجائے تو یہ ادب بن سکتی ہے۔“جہاں تک اردو کا تعلق ہے۔ تو اس میں بھی خطوط نویسی کا دامن بہت وسیع ہے۔ اور خطوط نویسی کی روایت اتنی توانا ہے کہ بذات خود ایک صنف ادب کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ جس کی سب سے بڑی مثال غالب کے خطوط ہیں۔ ابو الکلام آزاد بھی مکتوب نگاری میں ایک طرز خاص کے موجد ہیں۔ مولانا کے خطوط کے کئی مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن میں غبار خاطر” مکاتیب ابولکلام آزاد “، ”نقش آزاد“، ”تبرکات آزاد“اور ”کاروانِ خیال“ قابل ذکر ہیں۔ لیکن ان میں سب سے زیادہ شہرت ”غبار خاطر “ کے حصے میں آئی۔
غالب کی مکتوب نگاری
مرزا اسد اللہ خان غالب' کی شخصیت کو کون نہیں جانتا۔ ہمارے ملک میں تو یہ عالم ہے کہ اگر کسی کو تھوڑی بہت اردو کی سوجھ بوجھ ہے تو غالب کے نام کو تو ضرور جانتا ہوگا۔ بحیثیتِ شاعر وہ اتنے مقبول ہیں کہ اُن کے اشعار زبان زدِ خلائق ہیں۔ اور بحیثیتِ نثر نگار بھی وہ کسی سے کم نہیں۔ بلکہ اس لحاظ سے ان کا پایہ سب سے بلند ہے کہ ایسے زمانے میں جب رنگینی و قافیہ پیمائی، انشا پردازی کا اصل سرمایہ سمجھی جاتی تھی ، انہوں نے نثر میں بھی ایک نئی راہ نکالی ۔ سادہ و پرکار، حسین و رنگین۔ یہی نمونۂ نثر آنے والوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوئے۔ زمانہ قدیم سے جذبات ، واقعات اور حالات کی ترسیل کا ذریعہ ہی ہے ۔ فارسی میں مکاتیب اور واقعات میں انشا پردازی کے اعلیٰ نمونے پیش کیے گئے ۔ لیکن یہ انشا پردازی محض لفظی بازی گری تھی اس میں جذبات اوراحساسات کا دخل بہت کم تھا ۔ مرصع و مسجع عبارت آرائی ہوتی تھی ۔ اردو خطوط میں بھی اسی کی تقلید کی گئی ۔مرزا غالب نے اس فرسودہ روش کو ترک کر کے اردو خطوط نویسی میں انقلاب لایا ۔ انہوں نے خطوط کو زندگی کی حرارت بخشی ۔ سادہ اور عام فہم زبان کا استعمال کیا جس میں بے تکلف عبارتیں ہوتیں ، مسجع و مرصع عبارتوں سے پاک ۔ غالب خط نہیں لکھتے تھے بلکہ بات چیت کرتے تھے ۔ گرچہ یہ مکالمہ یک طرفہ ہوتا تھا لیکن مکتوب الیہ کو ایسا محسوس ہوتا تھا گویا غالب ان کے سامنے ان سے گفتگو کر رہے ہیں.غالب کے خطوط معلومات کا گنجینہ ہیں ۔ ان سے اس دور کی سیاسی سماجی زندگی پر روشنی پڑتی ہے ۔ خاص طور ایام غدر اور اس کے بعد کے چشم دید حالات اس خطوط میں بیان ہوئے ہیں ۔ بہت سے خطوط شاگردوں کے نام ہیں جن میں ان کے کلام پر اصلاح دینے کے ساتھ زبان و بیان کے نکات بتائے گئے ہیں.اردو ادب کی اس صنف مکتوب نگاری میں غالب کے خطوط کو نمایہ مقام حاصل ہے . غالب کے خطوط کے دو مجموعے [[عود ہندی]] اور [[اردوئے معلیٰ]] کے نام سے شائع ہو کر مقبول عام ہو چکے ہیں .
انہوں نے اپنے خطوط کے ذریعہ سے اردو نثر میں ایک نئے موڑ کا اضافہ کیا۔ اور آنے والے مصنفین کو طرزِ تحریر میں سلاست، روانی اور برجستگی سکھائی۔ البتہ مرزا غالب کے مخصوص اسلوب کو آج تک ان کی طرح کوئی نہ نبھا سکا۔ غالب کے خطوط آج بھی ندرتِ کلام کا بہترین نمونہ ہیں۔غالب نے فرسودہ روایات کو ٹھوکر مار کر وہ جدتیں پیدا کیں جنہوں نے اردو خطو ط نویسی کو فرسودہ راستے سے ہٹا کر فنی معراج پر پہنچا دیا۔ غالب کے خطوط میں تین بڑی خصوصیات پائی جاتی ہیں اول یہ کہ انہوں پرتکلف خطوط نویسی کے مقابلے میں بے تکلف خطوط نویسی شروع کی۔ دوسری یہ کہ انہوں نے خطوط نویسی میں اسلوب اور طریقِ اظہار کے مختلف راستے پیدا کیے۔ تیسرے یہ کہ انہوں نے خطوط نویسی کو ادب بنا دیا۔ اُن کے متعلّق کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ”محمد شاہی روشوں “ کو ترک کرکے خطوط نویسی میں بے تکلفی کو رواج دیا اور القاب و آداب و تکلفات کے تمام لوازمات کو ختم کر ڈالا۔
خطوط غالب
ہرگوپال تفتہ کے نام
دیکھو صاحب یہ باتیں ہمیں پسند نہیں ١۸۵۸ء کے خط کا جواب ١۸۵۹ء میں بھیجتے ہو۔ اور مزایہ ہے کہ جب تم سے کہا جائے گا تو یہ کہوں گا کہ میں نے دوسرے ہی دن تو جواب لکھاہے۔ لطف اس میں ہے کہ میں سچا اور تم بھی سچے ۔آج تک رائے امید سنگھ یہیں ہیں۔ اور ابھی نہیں جائیں گے تمہارا مدعا حاصل ہو گیا ہے جس دن وہ آئے تھے اسی دن اس سے کہے گئے تھے میں بھول گیا اور اس خط میں تم کونہ لکھا کہ صاحب وہ فرماتے تھے کہ میں نے کئی مجلد مرزا تفتہ کے دیوان کے کئی نسخے تضمین اشعار گلستان کے ان کی خواہش کے بموجب کوئی پارسی ہے بمبئی میں اس کے پاس بھیج دیے ہیں۔ یقین ہے کہ وہ ایران کو ارسال کرے گا۔ امید سنگھ نے اس پارسی کا نام بھی لیا تھا۔ میں بھول گیا۔ اب جو تم کو اس خیال میں مبتلا پایا تو ان کا بیان مجھ کو یاد آیا ۔جانتا ہوں کہ وہ کہاں رہتے ہیں سو بار ان کے گھر گیا بھی ہوں مگر محلہ کا نام نہیں جانتا نہ میرے آدمیوں میں کوئی جانتا ہے۔ اب کسی جاننے والے سے پوچھ کر تم کو لکھ بھیجوں گا۔ میربادشاہ صاحب سے عندا لملاقات میری دعا کہ دینا لا حول ولا قوتہ الاباللہ لکھنے کے قابل بعد پھر بھول گیا۔ کل میر کرامت علی صفا تخلص کہ میں نے آگے ان کو کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ناگاہ مجھ سے آکر ملے۔ اور تمہارا حال پوچھتے رہے۔ میں نے کہہ دیا کہ خیر و عافیت سکندرآباد میں ہیں۔ جب میں نے ان سے کہا کہ کیا وہ تمہارے آشنا ہیں انہوں نے کہا کہ وہ بزرگ اور استاد ہیں میں ۔ان کا شاگرد ہوں کہیں مدرسے کے علاقے میں نوکر ہیں۔ بسبیل ڈاک آئے تھے۔ اور آج ہی بسبیل ڈاک انبالہ کو گئے۔ انبالہ ان کا وطن ہے۔ اور نوکر بھی وہ اسی ضلع میں ہے۔
غالب نگاشتہ دوشنبہ 3 جنوری ١۹۵۸ء
ختم شُدہ۔۔۔۔
علاؤالدین احمد خان کے نام
صاحب ۔میری داستان سنیے ۔پیش بے کم و کاست جاری ہوا ۔زرِ مجتمع سے سالہ یکمشت مل گیا۔ بعد ادائے حقوق سو روپے دینے باقی رہے اور ستاسی روپیہ گیارہ آنے مجھے بچے۔ مئی کا مہینہ بلا دستور ملا آخر جون میں حکم آگیا کہ پیشن دارعلی ا لعوم ششماہی پایا کرے ماہ بماہ پیشن تقسیم نہ ہوا کرے۔ میں دس بارہ برس سے حکیم محمد حسن خان کی حویلی میں رہتا ہوں اب وہ حویلی غلام اللہ خان نے مول لے لی۔ آخر جون میں مجھ سے کہا کہ حویلی خالی کردو۔ اب اسے فکر پڑی کہ کہیں دو حویلیاں قریب ہمد گر ایسی ملیں کہ ایک محل سرا اور ایک دیوان خانہ ہو۔نہ ملیں ۔ ناچار یہ چاہا کہ بلی مارو میں ایک مکان ایسا ملے کہ جس میں جا رہوں نہ ملا تمہاری چھوٹی پھوپھی نے بےکس نوازی کی۔ کڑواڑوالی حویلی مجھ کو رہنے کو دی ہرچند وہ رعایت مرعی نہ رہی کہ محل سرائے سے قریب ہوں مگر خیر بہت دور تھی نہیں۔ کل یا پرسوں وہاں جا رہا ہوگا ایک پاؤں زمین پر ہے ایک پاو اور کا ب میں ۔ تو شےکا و ہ حال ہے۔ گوشے کی یہ صورت ہے ۔کل شنبہ ١۷ ذالحجہ کی ۷ جون کی پہر دن چڑھے تمہارا خط پہنچا ۔دو گھڑی کے بعد سنا گیا کہ امین الدین خان صاحب نے اپنی کوٹھی میں نزول اجلال کیا۔ پہلے دن رہے ازراہ مہربانی ناگاہ میرے ہاں تشریف لائے ۔میں نے ان کو دُبلا وہ افسردہ پایا۔ دل کڑھا ۔ا علی حسین خان بھی آیا اس سے بھی ملا ۔میں نے تمہیں پوچھا کہ وہ کیوں نہیں آئے بھائی صاحب بولے کہ جب میں یہاں آیا تو کوئی وہاں بھی تو رہے اور اس سے علاوہ وہ اپنے بیٹے کو بہت چاہتے ہیں ۔میں نے کہا اتنا ہی جتنا تم اس کو چاہتے تھے، ہنسنے لگے غرض کہ میں بظاہر ان کو تم سے اچھا پایا۔ آگے تم لوگوں کے دلوں کا مالک اللہ ہے۔
راقم غالب
نگاہ اشتہ ورواں داشتہ۔ یک شنبہ بین الظہر والعصر
ختم شُدہ۔۔۔۔
بمبئی میل (براہ ناگپور)
۳ اگست ١۹۴۲ء
صدیقی مکرم!
دہلی اور لاہور میں انفلائنز کی شدت نے بہت خستہ کردیا تھا ابھی تک اس کا اثر باقی ہے۔ سر کی گرانی ہے کسی طرح کم ہونے پر نہیں آتی حیران ہوں اس وبال ِدوش سے کیو ں کر سبکدوش ہوں؟ دیکھئے وبالِ دوش کی ترکیب نے غالب کی یاد تازہ کردی۔
شوریدگی کے ہاتھ سے سر ہے وبال دوش
صحرا میں اے خدا کوئی دیوار بھی نہیں
۲۹ جولائی کو اس وبال کے ساتھ کلکتہ واپس ہوا تھا۔ چار دن بھی نہ گزرے کہ کل ۲ اگست کو بمبئی کے لئے نکلنا پڑا۔ جو وبال ساتھ لایا تھا۔ اب پھر اپنے ساتھ واپس لے جا رہا ہوں۔
رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھئے تھمے
نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں
مگر دیکھئے صبح چار بجے کے وقت گرا ں مایہ کی کرشمہ سازیوں کا بھی کیا حال ہے ؟قیام کی حالت ہو یا سفر، کی ناخوشی کی کلفتیں ہویا دل آشوبی کی کاوشیں ،جسم کی ناتوانیاں ہو یا دل و دماغ کی افسردگی کوئی حالت ہو، لیکن اس وقت کی مسیحائیاں افتادگان
بسترِ الم سے کبھی غافل نہیں کر سکتیں۔
میں ایک کوپے میں سفر کر رہا ہوں ۔اس میں چار کھڑکیاں ہیں دوبندی کھل تھیں۔ میں نے صبح اٹھتے ہی دو بند بھی کھول دیں ۔اب ریل کی رفتار جتنی گرم ہوتی جاتی ہے اتنی ہی ہوا کے جھونکے کی خنکی بڑھتی جاتی ہے جس بستر ِکر ب پر نہ خوشی کی کلفتوں نے گرا دیا تھا اسی پر نسیم صبح گاہی کی چار فرمائیوں نے اب اٹھا کر بٹھا دیا ہے ۔شاید کسی ایسی رات کی صبح ہوگی جب خواجہ شیراز کی زبان سے بے اختیار نکلا تھا۔
خوش بادا نسیمِ صبح گا ہی
کے در دِشت نشینوں را دوا کرد
ٹرین آج کل کے معمول کے مطابق بے وقت جارہی ہے جس منزل سے اس وقت تک گزر جانا تھا ابھی تک اس کا کوئی سراغ دکھائی نہیں دیتا سوچتا ہوں تو اس معاملہ خاص میں وقت کے معاملے عام کو پوری تصویر نمایاں ہو جا رہی ہے۔
کس نبی کو گویدم از منزل آخر خبرے
صد بیاباں بگزشت و دگرے درپہش است
رات ایک ایسی حالت میں کٹی جسے نہ تو اضطراب سے تعبیر کر سکتا ہوں ،نہ سکوں سے۔آنکھ لگ جاتی تو سکون تھا ،کھل جا تی تو اضطراب تھا ۔ گویا ساری رات دومتضاد خوابوں کے دیکھنے میں بسر ہوگئی ایک تعمیر کی نقش آرائی کرتا ،دوسرا تخریب کی برہم زنی ۔
تین بج کر چند منٹ گزر چکے گزرے تھے کہ آنکھ کھل گئی صبح کی چائے کے لیے سفر میں یہ معمول رہتا ہے کہ رات کو عبداللہ اسپرٹ کا چولہا اور پانی کی کیتلی ،پانی بمقدار مطلوب سے بھری ہوئی ٹیبل پر رکھ دیتا ہے ۔چائے دانی اس کے پہلو میں جگہ پاتی ہے کہ بحکم ''وضع الشیء فی المحلہ'' یہی اس کا محل صحیح ہونا چاہیے۔ فنجان اور شکر داری کے لئے اس کا قرب ضروری نہ ہوا کہ ''وضع الشیء غیر محلہ'' میں داخل ہو جاتا۔ اگر صبح تین بجے سے چار بجے کے اندر کو اسٹیشن آجاتا یا تو اکثر حالتوں میں عبداللہ آکر چائے دم دے دیتا ہے نہیں آتا تو پھر خود مجھے ہی اپنے دست شوق کی کا مجبویا نہ سرگرمیاں کام میں لانا پڑتی ہیں ۔اکثر حالتوں کی قید اس پر لگانی پڑتی ہے کہ تمام کُلیوں کی طرح یہ کُلیہ بھی متشنیات سے خالی نہیں ہے۔بعض حالتوں میں گاڑی اسٹیشن پر روک بھی جاتی ہے۔ مگر عبداللہ کی صورت نظر نہیں آتی۔ پھر جب نظر آتی ہے، تو اس کی معذرتیں میری فکر کاوش آشنا کے لئے ایک دوسرا ہی مسئلہ پیدا کردیتی ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ نسیم ِ صبح گاہی کا ایک ہی عمل تو مختلف طبیعتوں کے لیے دو متضاد نتیجوں کا باعث ہوتا جاتا ہے۔اس کی آمد مجھے بیدار کر دیتی ہے۔ عبداللہ کو اور زیادہ سلا دیتی ہے الارم کی ٹائم پیس بھی اس کے سرہانے رہنے لگی۔ پھر بھی نتائج کا اوسط تقریبا یکساں ہی رہا۔معلوم نہیں آپ اس اشکال کا حل کیا تجویز کریں گے ،مگر مجھے شیخ شیراز کا بتلایا ہوا حل مل گیا ہے اور اس پر مطمئن ہو چکا ہوں۔
باراں کہ درلطافتِ طبعش خلاف نیست
در باغ لالہ، روید و در شوم بوم خس
بہرحال چائے کا سامان حسب ِ معمول مرتب اور آمادہ تھا۔ نہیں معلوم آج سٹیشن کب آئے ؟اور آئے بھی تو اس کا اطمنان کیوں ہو کہ عبداللہ کی آمد کا قائدہ کلیہ آج ہی با بحالت استثناء نمودار نہ ہوگا؟میں نے دیا سلائی اٹھائی اور چولہا روشن کیا۔ اب چائے پی رہا ہوں اور آپ کی یاد تازہ کر رہا ہوں۔ مقصود اس تمام دراز نفسی سے اس کے سوا کچھ نہیں کہ مخاطبت کے لئے تفریح سخن ہاتھ آئے۔
چائے بہت لطیف ہے۔ چین کی بہترین فلموں میں سے ہے ۔رنگ اس قدر ہلکا کے واہمہ پر اس کی ہستی مشتبہ ہو جائے ۔کیف اس قدر کہ تند کہ بلامبالغہ اس کا ہر فنجان قاآنی کے رطل گریں کی یاد تازہ کردے۔شاید آپ کو معلوم نہیں کہ چائے کے باب میں میرے بعض اختیارات ہیں۔ میں نے چائے کی لطافت و شیرینی میں کو تمباکو کی تندی و تلخی سے ترتیب دے کر ایک کیف مرکب پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔میں چائے کے پہلے گھونٹ کے ساتھ متصلاََ ایک سگریٹ سلگایا کرتا ہوں۔پھر اس ترکیب ِ خاص کا نقش عمل یوں جماتا ہوں۔ کہ تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد چائے کا ایک گھونٹ لوں گا۔ اور متصلاَََسگریٹ کا بھی ایک کش لیتا رہوں گا علمی اصطلاح میں اس صورتحال کوعلی السبیل التوالی و اتعاقب کہیے۔اس طرح اس سلسلے عمل کی ہر گھڑی چائے کے ایک گھونٹ اور سگریٹ کے ایک کش کے باہم امتزاج سے بدتدریج ڈھلتی جاتی ہے اور سلسلہ کار دراز ہوتا رہتا ہے مقدار کے حُسن تناسب کاانضبا ط ملاخطہ ہو کہ ادھر فنجان آخری جورعے سے خالی ہوا، ادھر تمباکو ئے آتش زدہ سگریٹ کے آخری خط کشیدہ تک پہنچ کر دم لیا۔کیا کہوں ان دو اجزائے تندو لطیف کی آمیزش سے کیفیت و سرور کا کیا معتدل مزاج ترقی پذیر ہوگیا ہے جی چاہتا ہے فیضی کے الفاظ مستعارلوں۔
اعتدال مانع از من پرس
کہ مزاج سخن شناختہ ام
آپ کہیں گے چاہے کی عادت بجائے خود ایک علت تھی اس پر مزیدیہ علت ہائے نافرجام کا اضافہ کیوںکیا جائے ؟اس طرح کے معاملات میں امتزاج و ترکیب کا طریقہ کام ملانا ،علتوں پر علت بڑھانا ،گویا حکایت بادہ و تریاک کو تازہ کرنا ہے۔میں تسلیم کروں گا کہ یہ تمام خود ساختہ عادتیں بلاشبہ زندگی کی غلطیوں میں داخل ہیں ۔لیکن کیا کہوں جب کبھی معاملے کے اس پہلو پر غور کیا، طبیعت اس پر مطمئن نہ ہوسکی کہ زندگی کو غلطیوں سے اکثر معصوم بنا دیا جائے۔ایسا معلوم ہوتاہے کہ اس روز گار خراب میں زندگی کوزندگی بنائے رکھنے کے لیے کچھ نہ کچھ غلطیاں بھی ضروری کرنی چاہئیں ۔
غور کیجئے وہ زندگی ہی کیا ہو گئی ہوئی جس کے دام خشک کو کوئی غلطی تر نہ کرسکے ،وہ چال ہی کیا جو لڑکھڑاہٹ سے یکسر معصوم ہو؟ اور اگر پوچھیے کہ پھر کامرانی ِ عمل کا معیار کیا ہوا۔ اگر یہ آلودگی اور راہ میں مخل نہ سمجھی گیں ؟ تو اس کا جواب وہی ہے جو عرفائے طریق نے ہمیشہ دیا ہے۔
ترک ہمہ گیر وہ آشنائے ہمہ باش
یعنی ترک و اختیار دونوں کا نقش اس طرح ایک ساتھ بٹھائیے کہ آلودگیاں دا من تر کرے مگر دامن پکڑ نہ سکیں ۔ اس راہ میں کاٹوں کا دامن سے الجھنا مخل نہیں ہوتا دامن گیر ہونا مخل ہوتا ہے ۔کچھ ضروری نہیں کہ آپ اس ڈر سے ہمیشہ اپنا دامن سمیٹے رہے کہ کہیں بھیگ نہ جائے ۔بھگنا ہے تو بھیگنے دیجیے ، لیکن آپ کے دست و بازو میں یہ طاقت ضرور ہونی چاہیے کہ جب چاہا اس طرح نچوڑ کے رکھ دیا کہ آلودگی کی ایک بوند بھی باقی نہ رہی۔
تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو
دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں
یہاں کامرانی سود و زیاں کی کاوش میں نہیں ہے بلکہ سود و زیاں سے آسودہ حال رہنے میں ہے نہ تو تردامنی کی گرانی محسوس کیجئے نہ خشک دامنی کی سبک سری نہ الوداع دامنی پر پریشان حال ہو نہ پاک دامنی پر سرگرانی۔
آپ کو ایک واقعہ سناؤں شاید رشتے سخن کی ایک گرہ اس سے کھل جائے ١۹۲١ء میں جب مجھے گرفتار کیا گیا تو مجھے معلوم تھا کہ قید خانے میں تمباکو کے استعمال کی اجازت نہیں مکان سے جب چلنے لگا تو ٹیبل پر سگریٹ کیس دھراتھا ۔عادت کے زیراثر پہلے ہاتھ بڑھا کر اسے جیب میں رکھ لوں، پھر صورتحال کا احساس ہوا تو رک گیا لیکن پولیس کمشنر نے گرفتاری کا وارنٹ لے کر آیا تھا۔ با اصرار کہا ضرور جیب میں رکھ لوں ۔میں نے رکھ لیا ہے ،اس میں دس سگریٹ تھے ایک کمشنر پولیس کے آفس میں پیا ۔ دوسرا راستے میں لگایا ۔دو ساتھیوں کو پیش کئے ت چھ باقی رہ گئے تھے کہ پریسی ڈینسی جیل علی پور پہنچا ۔ جیل کے دفتر سے جب اندر جانے لگا تو خیال ہوا اس جیب کے وبال سے سبک جیب ہو کر اندر قدم رکھوں تو بہتر ہے ۔میں نے کیس نکالا اور مع سگریٹوں کے جیلر کے نذر کردیا اور پھر اس دن سے لے کر دو برس تک سگریٹ کے ذائقے سے کام و دہن سے آشنا نہیں ہوا۔ساتھیوں میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی تھی جن کے پاس سگریٹ کے ذخیرے موجود رہتے تھے اور قید خانہ کا احتساب عمدہ چشم پوشی کرتابعض شراب الیہود کا طریقہ کام میں تھے۔
شراب الیہود کرتے ہیں نصر نصرانیوں میں ہم
بعضوں کے جرات رندانہ اس قید و بند کی متحمل نہیں ہوسکتی تھی وہ''ولا تسفنی سراََ فقدا مکن الحھر'' پر عمل کرتے تھے مجھے یہ حال معلوم تھا مگر اپنے توبہ اضطراب پر کبھی پیشما ن نہیں ہوا۔ کئی مرتبہ گھر سے سگریٹ کے ڈبے آئے اور میں نے دوسروں کے حوالے کردیئے۔
خوشم کہ توبہ من نرخ بادہ ارزاں کرد
سرگزشت کا اصل واقعہ سنیے۔ جس دن مجھے الصبح رہا کیا گیا تو قید خانہ کے دفتر میں سپرٹنیڈنٹ نے اپنا سگریٹ کیس نکالا اور ازراہ تواضع مجھے بھی پیش کیا۔ یقین کیجیے جس درجے کے عزم کے ساتھ دو سال پہلے سگریٹ ترک کیا تھا ۔اتنے ہی درجے آماد گی کے ساتھ یہ پیشکش قبول کرلی ۔ن ترک کرنے میں دیر لگی تھی نہ اب اختیار میں جھجک ہوئی۔ نہ محرومی پر ماتم ہوا نہ حصول پر نشاط ہوا ترک کی تلخ کامی نے جو مزا دیا تھا وہی اب اختیار حلاوت میں محسوس ہونے لگا تھا۔
حریف صافی ودُردی نہ خطا این جاست
تمیز ِانا خوش و خوش می کنی بلا ایں جاست
١۹۲١ءکے بعد تین مرتبہ قید و دوبند کا مرحلہ پیش آیا لیکن ترک کی ضرورت پیش نہ آئیں کیونکہ سگریٹ کے ڈبے میرے سامان میں ساتھ گئے وہ دیکھے گئے مگر روکے نہیں گئے اگر روکے جاتے تو پھر ترک کردیتا ۔اب قلم کی سیاہی جواب دینے لگی ہے اس لئے رک جاتا ہوں۔
فلم ایں جا رسید اور سر پر شکست
ابوالکلام آزاد
ختم شُدہ۔۔۔۔
قلعہ احمد نگر
١١ /اپریل ١۹۴۳ء
آنچہ دل از فکرآں می سوخت یبم ہجر بود
آخر از بے مہری ِگردوں بہ آں ہم ساختیم
صدیق مکرم!
اس وقت صبح کے چار نہیں بجے ہیں بلکہ رات کا پچھلا حصہ شروع ہو رہا ہے 1دس بجے حسب معمول بستر پر لیٹ گیا لیکن آنکھیں نیند سے آشنا نہیں ہوئیں نا چار اٹھ بیٹھا کمرے میں آیا روشنی کی اور اپنے اشغال میں ڈوب گیا۔پھر خیال ہوا قلم اٹھا ہوں اور کچھ دیر آپ سے باتیں کرکے جی کوپ جی کا بوجھ ہلکا کروں۔ ان آٹھ مہینوں میں جو یہاں گزر چکے ہیں، یہ چھٹی رات ہے جو اس طرح گزر رہی ہے اور نہیں معلوم ابھی اور کتنی راتیں اسی طرح گزرے گی۔
دماغ بر فلک و دل بہ پائے مہر بتاں
چگونہ حرف زنم دل کجا دماغ کجا
میری بیوی کی طبیعت کئی سال سے علیل تھی۔ ١۹۴١ء میں جب نینی جیل میں مقید تھا تو اس خیال سے کہ میرے لئے تشویش خاطر کا موجب ہوگا مجھے اطلاع نہیں دی گئی لیکن رہائی کے بعد معلوم ہوا کہ تمام زمانہ کم و بیش علالت کی حالت میں گزرا تھا۔مجھے قید خانے میں اس کے خطوط ملتے رہے ان میں ساری باتیں ہوتی تھیں لیکن اپنی بیماری کا کوئی ذکر نہیں ہوتا تھا ۔رہائی کے بعد ڈاکٹروں سے مشورہ کیا گیا تو ان سب کی رائے تبدیل آ ب و ہوا کی ہوئی اور وہ رانچی چلی گئی رانچی کے خیام سے بظاہر فائدہ ہوا تھا جولائی میں واپس آئی تو صحت کی رونق چہرے پر واپس آ رہی تھی۔
اس تمام زمانے میں، میں زیادہ تر سفر میں رہا وقت کے حالات اس تیزی سے بدل رہے تھے کہ کسی ایک منزل میں دم لینے کی مہلت ہی نہیں ملتی تھی ایک زمانے کی منزل میں ابھی قدم پہنچا نہیں کہ دوسری منزل سامنے نمودار ہوگی۔
صد بیاباں بگذشتہ و دگرے درپیش است
جولائی کے آخری تاریخ تھی کہ میں تین ہفتے کے بعد کلکتہ واپس ہوا اور پھر چار دن بعد آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے اجلاس میں بمبے کے لیے روانہ ہو گیا ۔ یہ وہ وقت تھا کہ ابھی طوفان آیا نہیں تھا مگر طوفانی آثار ہر طرف اُمنڈ رہے تھے۔حکومت کے ارادوں کے بارے میں طرح طرح کی افواہیں مشہور ہو رہی تھی ایک افواہ خصوصیت کے ساتھ مشہور ہوئی، یہ تھی کہ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے اجلاس کے بعد ورکنگ کمیٹی کے تمام ممبروں کو گرفتار کر لیا جائے گا اور ہندوستان سے باہر کسی غیر معلوم مقام پر بھیج دیا جائے گا۔یہ بات بھی کہی جاتی تھی کہ لڑائی کی غیر معمولی حالت میں حکومت کو غیر معمولی اختیارات دے دیے ہیں اور وہ ان سے ہر طرح سے کام لے سکتی ہے ۔اس طرح کے حالات پر مجھ سے زیادہ زلیخا کی نظر رہا کرتی تھی اور اس نے وقت کی صورتحال کا پوری طرح اندازہ کر لیا تھا۔ان چار دنوں کے اندر جو میں نے دوسفروں کے درمیان بسر کئے ہیں اس قدر کا موں میں مشغول رہا کہ ہمیں بات کرنے کا موقع بہت کم ملا۔وہ میری طبیعت کی افتاد سے واقف تھی کہ اس طرح کے حالات میں ہمیشہ میری خاموشی بڑھ جاتی ہے ۔اور میں پسند نہیں کرتا کہ اس خاموشی میں خلل پڑے اس لیے وہ بھی خاموش تھی ۔لیکن ہم دونوں کی یہ خاموشی بھی گویائی سے خالی نہ تھی ہم دونوں خاموش رہ کر بھی ایک دوسرے سے کی باتیں سن رہے تھے۔ اور انکا مطلب اچھی طرح سمجھ رہے تھے۔ ۳ اگست کو جب بمبئی کے لیے روانہ ہو نے لگا تو وہ حسب ِ معمول دروازہ تک خدا حافظ کہنے کے لیے آئی ۔اگر کوئی نیا واقعہ پیش نہیں آیا تو۔13 اگست تک واپسی کے بعد کا قصد ہے۔ اس نے خدا حافظ کے سوا کچھ اور نہیں کہا لیکن اگر کہنا بھی چاہتی تو اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتی تھی جو اس کے چہرے کے خاموش اضطراب کہہ رہا تھا ،اس کی آنکھیں خشک ہیں مگر چہرہ اشکبار تھا۔
خدا را بحیلہ پیش تو، خاموش کردہ ایم
گزشتہ پچیس برس کے اندر کتنے ہی سفر پیش آئے اور کتنی ہی مرتبہ گرفتاریاں ہوئی لیکن میں نے اس درجے افسردہ خاطر اسے کبھی نہیں دیکھا تھا یہ جذبات کی وقتی کمزوری تھی جو اس کی طبیعت پر غالب آ گئی تھی ،میں نے اس وقت ایسا ہی خیال کیا تھا، لیکن اب سوچتا ہو تو خیال ہوتا ہے کہ شاید اسے اس صورتحال کا ایک مجہول احساس ہونے لگا تھا۔ شاید وہ یہ محسوس کر رہی تھی کہ اس زندگی میں یہ ہماری آخری ملاقات ہے تو خداحافظ اس لئے نہیں کہہ رہی تھی کہ میں سفر کر رہا تھا وہ اس لئے کہہ رہی تھی کہ خود سفر کرنے والی تھی۔
وہ میری طبیعت کی افتاد سے اچھی طرح واقف تھی وہ جانتی تھی کہ اس طرح کے موقع پر اگر اس کی طرف سے ذرا بھی اضطراب ِطبع کا اظہار ہوگا تو مجھے سخت ناگوار ہو گا اور عرصے سے اس کی تلخی ہمارے تعلقات میں باقی رہے گی ۔١۹١٦ء میں جب پہلی مرتبہ گرفتاری پیش آئی تھی تو وہ اپنا اضطراب خاطر نہیں روک سکتی تھیاور میں عرصے تک اس سے نا خوش ریا تھا۔ اس واقعے نے ہمیشہ کے لئے اس کی زندگی کا رخ پلٹ دیا اور اس نے پوری کوشش کی کہ میری زندگی کے حالات کا ساتھ دے اس نے صرف ساتھ ہی نہیں دیا بلکہ پوری ہمت اور استقامت کے ساتھ ہر طرح کے ناخوشگوار حالات برداشت کیے ۔وہ دماغی حیثیت سے میرے افکار و عقائد میں شریک تھی اور عملی زندگی میں رفیق و مددگار،پھر کیا بات تھی کہ اس موقع پر وہ اپنی طبیعت کے اضطراب پر غالب نہ آ سکی؟ غالباََ یہی بات تھی کہ اس کے اندرونی احساسات پر مستقبل کی پرچھائیاں پڑھنا شروع ہو گئی تھیں۔
گرفتاری کے بعد کچھ عرصے تک ہمیں عزیزوں سے خط و کتابت کا موقع نہیں دیا گیا تھا پھر جب یہ روک ہٹائی گئی تو 17 ستمبر کو مجھے اس کا پہلا خط ملا اور اس کے بعد برابر خطوط ملتے رہے کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ وہ اپنی بیماری کا حال لکھ کر مجھے پریشان خاطر کرنا پسند نہیں کرے گی اس لیے گھر کے بعض دوسرے عزیزوں سے حالت دریافت کرتا رہتا تھا۔خطوط یہاں عموماََ تاریخی کتابت سےدس بارہ دن بعد ملتے تھے اس لیے کوئی بات جلد معلوم نہیں ہوسکتی تھی پندرہ فروری کو مجھے ایک خط2 فروری کا بھیجا ہوا ملا جس میں لکھا تھا کہ اس کی طبیعت اچھی نہیں ہے میں نے تار کے ذریعے مزید صورتحال دریافت کی تو ایک ہفتے کے بعد جواب ملا کہ کوئی تشویش کی بات نہیں۔
۲۳ /مارچ کو مجھے پہلی اطلاع اس کی خطرناک علالت کی ملی گورنمنٹ بمبئی نے ایک ٹیلی گرام کے ذریعے سپریٹنڈنٹ کو اطلاع دی کہ اس مضمون کا ایک ٹیلیگرام اسے کلکتہ سے ملا ہے نہیں معلوم جو ٹیلیگرام گورنمنٹ بمبئی کو ملا وہی کسی تاریخ کا تھا وہ اور کتنے دنوں کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ یہ خبر مجھے پہنچا دینی چاہیے۔چونکہ حکومت نے ہماری خیر کا محل اپنی دانست میں پوشیدہ رکھا ہے اس لیئے ابتداءسے یہ طرز عمل اختیار کیا گیا ہے کہ نہ تو یہاں سے کوئی ٹیلیگرام باہر بھیجا جاسکتا ہے نہ باہر سے کوئی آ سکتا ہے کیونکہ اگر آئے گا تو ٹیلیگراف آفس کے ذریعے ہی آئے گا۔ اور اس صورت میں آفس کے لوگوں پر راز کھل جائے گا اور اس پابندی کا نتیجہ یہ ہے کہ کوئی خطبات کتنے ہیں جلد ہی کی ہو لیکن تار کے ذریعے ہی نہیں بھیجی جاسکتی ،اگر تار بھیجنا ہو تو اسے لکھ کر سپریٹنڈنٹ کو دے دینا چاہیے وہاں سے خط کے ذریعے بمبئی بھیجے گا وہاں سے احتساب کے بعد اسے آگے روانہ کیا جا سکتا ہے خط و کتابت کی نگرانی کے لحاظ سے یہاں قیدیوں کی دو قسمیں کی گئی ہیں بعض کے لیے صرف بمبئی کی نگرانی کافی سمجھی گئی ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ ان تمام ڈاک دہلی جائے اور جب تک وہ اسے منظوری نہ مل جائے آگے نہ بڑھایا جائے چونکہ میری ڈاک دوسری قسم میں داخل ہےاس لئے مجھے کوئی تار ایک ہفتے سے پہلے نہیں مل سکتا اور نہ میرا کوئی تار ایک ہفتے سے پہلے کلکتہ پہنچ سکتا ہے۔
یہ تار جو ۲۳/ مارچ کو یہاں پہنچا ،فوجی خطِ زمر(Code)میں لکھا گیا تھا صبح سپریٹنڈنٹ اسے حل کر نہیں کرسکتا تھا وہاں سے فوجی ہیڈ کوارٹر میں لے گیا وہاں اتفاقاََ کو ئی آدمی موجود نہ تھا اس لئیے پورا دن اس کے حل کرنے کی کوشش میں نکل گیا رات کو اس کی حل شدہ کاپی مجھے مل سکی۔
دوسرے دن اخبار آئے تو ان میں بھی یہ معاملہ آچکا تھا معلوم ہوا یڈاکٹروں نے صورتحال کی حکومت کو اطلاع دے دی ہے اور جواب کے منتظر ہیں پھر بیماری کے متعلق معلوم کی روزانہ اطلاعات نکلنےلگی سپریٹینڈنٹ روز ریڈیو میں سنتا تھا اور یہاں بعض رفقا سے اس کا ذکر کر دیتا تھا۔
جس دن تار ملا اس کے دوسرے دن سپریٹنڈ میرے پاس آیا اور کہا کہ اگر میں اس بارے میں حکومت سے کچھ کہنا چاہتا ہوں تو وہ اسے فورا بمبئی بھیج دے گا اور یہاں کی پابندیوں اور مقررہ قاعدوں سے اس میں کوئی رکاوٹ نہیں پڑے گی ۔وہ صورتحال سے بہت متاثر تھا اور اپنی ہمدردی کا یقین دلانا چاہتا تھا لیکن میں نے اس سے صاف صاف کہہ دیا کہ میں حکومت سے کوئی درخواست کرنا نہیں چاہتا پھر وہ جواہر لال نہرو کے پاس گیا اور ان سے اس بارے میں گفتگو کی وہ سہ پہر کو میرے پاس آئے اور بہت دیر تک اس بارے میں گفتگو کرتے رہےمیں نے ان سے بھی وہی بات کہہ دی جو سپریٹنڈنٹ سے کہہ چکا تھا بعد کو معلوم ہوا کہ سپریڈنٹ نے یہ بات حکومت بمبئی کے ایما سے کہی تھی۔جوہی خطرناک صورتحال کی پہلی خبر ملی میں نے اپنے دل کو ٹٹول نا شروع کردیا انسان کے نفس کا بھی کچھ عجب حال ہے ساری عمر ہم اس کی دیکھ بھال میں بسر کر دیتے ہیں پھر بھی یہ معمہ حل نہیں ہوتامیری زندگی پھر اسے ایسے حالات میں گزری کی طبیعت کو ضبط وہ انقبات میں لانے کے متواتر موقف پیش آتے رہے اور جہاں تک ممکن تھا ان سے کام لینے میں کوتاہی نہیں کی۔
تا دست رسم بود،دم چا ک گریباں
شرمندگی از خرقہ پیشمنہ ندارم
تاہم میں محسوس کیا کہ طبیعت کا سکون ہل گیا ہے اور اسے قابو میں رکھنے کے لئے جدوجہد کرنی پڑے گی یہ جدوجہد دماغ کو نہیں مگر جسم کو تھکا دیتی ہے وہ اندر ہی اندر گھٹنے لگتا ہے۔اس زمانے میں میرے دل و دماغ کا جو ہال رہا میں اسے چھپانا نہیں چاہتا میری کوشش تھی کہ اس صورتحال کو پورے صبر و سکون کے ساتھ برداشت کر لو اس میں میرا ظاہر کامیاب ہوا ہے کہ شاید باطن نہ ہو سکا میں نے محسوس کیا کہ اب دماغ بناوٹ اور نمائش کا وہی پارٹ کھیلنے لگا ہے جو احساسات اور انفعلات کے ہر گوشے میں ہم کھیلا کرتے ہیں اور اپنے ظاہر و باطن کی طرح نہیں بننے دیتے۔
سب سے پہلی کوشش یہ کرنی پڑتی ہیں کہ یہاں زندگی کی جو روزانہ معاملات ٹھہرائی جا چکی ہے ان میں فرق نہ آنے پائے چاہے اور چائے کھانے کے چار وقت ہیں جن میں مجھے اپنے کمرے سے نکلنا اور کمروں کے خطا کے آخر ی کمرے میں جانا پڑتا ہے چو نکہ زندگی کی معاملات میں وقت کی پابندی کا منٹو کے حساب سے عادی ہو گیا ہوںاس لیے یہاں بھی اوقات کی پابندی کی رسم قائم ہوگی اور تمام ساتھیوں کو بھی اس کا ساتھ دینا پڑا میں نے ان دنوں میں بھی اپنا معمول بدستور رکھا ٹھیک وقت پر میں کمرے سے نکلتا رہا اور کھانے کی میز پر بیٹھتا رہا ۔بھوک یک قلم بند ہو چکی تھی ۔لیکن چند زچند لقمے حلق سے اتارتا رہا ۔رات کو کھانے کے بعد کچھ دیر تک صحن میں چند ساتھیوں کے ساتھ نشست رہی تھی میں اس میں بھی کوئی فرق نہیں آیا کرتا جتنی دیر تک وہاں بیٹھتا تھا ۔ جس طرح باتیں کرتا تھا اور جسکی باتیں کرتا تھا وہ سب کچھ بدستور ہوتا رہا۔
اخبارات یہاں 12 بجے سے ایک بجے کے اندر آیا کرتے ہیں۔ میرے کمرے کے سامنے دوسری طرف سپر نٹنڈٹ کا دفتر ہے۔جیلر وہاں سے اخبار لے کر سیدھا کمرے میں آتا ہے جو نہی اس کے دفتر سے نکلنے اور چلنے کی آہٹ آنا شروع ہوتی ہے ۔دل دھڑکنے لگتا تھا کہ نہیں معلوم آج کی کیسی خبر اخبار میں ملے گی لیکن پھر میں فورا چونک اٹھتا میرے صوفے کی پیٹھ دروازے کی طرف ہےاس لیے جب تک ایک آدمی اندرا کے سامنے کھڑا نہ ہو جائے میرا چہرہ دیکھ نہیں سکتا۔ جب جیلر آتا تھا تو میں حسب معمول مسکراتے ہوئے اشارہ کرتا کہ اخبار ٹیبل پر رکھ دے اور پھر لکھنے میں مشغول ہو جاتا ہوں گو یا اخبار دیکھنے کی کوئی جلدی نہیں ۔میں اعتراف کرتا ہوں کہ یہ تمام ظاہر داریاں ،دکھاوے کا ایک پارٹ تھی جن سے دماغ کا مغرورانہ احساس کھلتا رہتا تھا کہ اس لئے کھلتا تھا کہ اس کے دامن صبر و قرار پر بے حالی اور پریشانی خاطری کا کوئی دھبہ نہ لگ جائے۔بدہ یار ب دلے،کیں صورت بے جاں نمی خواہم
بالآخر ۹ اپریل کو زہر غم کا یہ پیالہ لبِ زیر ہو گیا۔
۲ بجے سپریٹنڈنٹ نے گورنمنٹ بمبئی کا ایک تار حوالے کیا جس میں حا دثے کی خبر دی گئی تھی بعد کو معلوم ہوا کہ سپریٹنڈنٹ کی یہ خبر ریڈیو کے ذریعے صبح ہی معلوم ہو گئی تھی اور اس نے یہاں بعض رفقا سے اس کا ذکر بھی کر دیا تھا لیکن مجھے اطلاع نہیں دی گئی۔
اس تمام عرصے میں یہاں کے رکھا تھا جو طرز عمل رہا اس کے لیے یہاں ان کا شکر گزار ہوں ابتداء میں جب علالت کی خبر آنا شروع ہوئیں تو قدرتی طور پر انہیں پریشانی ہوئی وہ چاہتے تھے کہ اس بارے میں جو کچھ کر سکتے ہیں کریں لیکن جوں ہی انہیں معلوم ہوگیا کہ میں نے اپنے طرز عمل کا ایک فیصلہ کر لیا ہےاور میں حکومت سے کوئی درخواست کرنا پسند نہیں کرتا تو پھر سب نے خاموشی اختیار کر لی اور اس طرح میرے طریقہ کار میں کسی طرح کی مداخلت نہیں ہوئی۔اس طرح ہماری چھبیس برس کی ازدواجی زندگی ختم ہو گئی اور موت کی دیوار ہم دونوں میں حائل ہو گئی ہم اب بھی ایک دوسرے کو دیکھ سکتے ہیں مگر اس دیوار کی اوٹ سے ۔ مجھے ان چند دنوں کے اندر بر سوں کی راہ چلنی پڑی میرے عزم نے میرا ساتھ نہیں چھوڑا مگر میں محسوس کرتا ہوں کہ میرے پاوں شل ہو گے ہیں ۔
غافل نیم زارہ والے آہ چارہ نیست
زیں رہزناں کہ بر دلِ آگاہ می زنند
یہاں احاطے کے اندر ایک پرانی قبر ہے نہیں معلوم کس کی ہے جب سے آیا ہوں سینکڑوں مرتبہ اس پر نظر پڑ چکی ہے لیکن اب اسے دیکھتا ہوں تو ایسا محسوس ہونے لگتا ہے جیسے ایک نئی طرح کا انس اس سے طبیعت کو پیدا ہو گیا ہو کل شام کو دیر تک اسے تکتا رہا اور متم بن نویرہ کا مرثیہ جو اس نے اپنے بھائی مالک کی موت پر لکھا تھا بے اختیار یاد آ گیااب قلم روکتا ہوں اگر آپ سنتے ہوتے تو بول اٹھتے۔
سودا خدا کے واسطے کر قصہ مختصر
اپنی تو نیند اڑ گئی تیرے افسانے میں
ابوالکلام بحوالہ خزینہ ادب
ختم شُدہ۔۔۔۔
قواعد
دنیا کی ہر زبان کے کچھ اصول اور قوانین ہوتے ہیں ۔جن سے اس زبان کو صحیح طور پر سیکھا اور استعمال کیا جاسکتا ہے ۔زبان کی درستی اور اس کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے کے لئے ان قوانین پر عمل درآمد کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اردو زبان کے بھی کچھ اصول ہیں جنہیں قواعد کہا جاتا ہے۔ ان کے جاننے سے اردو زبان کو ٹھیک طریقے سے بولا اور سمجھا جاسکتا ہے ۔قواعد، لسانیات کی ایک اہم شاخ ہے اور اس کا مطالعہ زبان پر دسترس حاصل کرنے کے لئے نہایت ضروری ہے ۔ذیل میں قواعد کے چند اجزا، حرف کی قسمیں فعل کی قسمیں ، محاورے ،ضرب المثال ،سابقوں اور لاحقوں پر روشنی ڈالی جارہی ہے۔
(1 حرف کی قسمیں :۔
قواعد کی اصطلاح میں حرف وہ مستقل لفظ ہے۔ جو تنہا بولنے اور لکھنے میں اپنے پورے معنیٰ نہیں دیتا بلکہ اسموں ، فعلو ں یا دو جملوں کے ساتھ مل کر اپنے پورے معنی ظاہر کرتا ہے، حرف کا کام دو اسموں کو ملانا، دو فعلوں کو ملانا،دو دو چھوٹے فقروں کو ملاکر ایک جملہ بنانا، اسماء اور فعلو ں کا ایک دوسرے سے تعلق ظاہر کرنا ہے ۔چھوٹے فقروں کو ملا کر ایک جملہ بنانا۔ مزید وضاحت کے لیے یہ کہہ سکتے ہیں کہ الفاظ جو دوسرے الفاظ کے بغیر معنیٰ نہ رکھتے ہوں ''حرف ''کہلاتے ہیں ۔مثال کے طور پر ''اور'' میں'' سے ''کو'' تک'' پر ''وغیرہ اردو میں حرف کی چار قسمیں ہیں۔ 1۔''حروف ربط'' 2۔حرف عطف 3۔حرف تخصیص 4۔ فضائیہ۔
1۔حروف ربط :یہ وہ حرف ہے جو کسی ایک لفظ کا دوسرے لفظ سے تعلق یا رط کو ظاہر کرتے ہیں ۔مثلا ''میں ''نے ''سے ''کو ''تک'' پر'' لیے'' واسطے'' تلک'' اوپر'' نیچے'' درمیان ''ساتھ'' بیچ'' اندر'' باہر'' وغیرہ ۔ا.''گلاس میز پر رکھ دو '' ۲۔''کنویں میں پانی ہے'' ۳۔'' اسلم نے اکبر کو مارا'' ان جملوں میں ''پر''میں''نے''اور ''کو'' حرف ربط کہتے ہیں۔
(2 حرف عطف :حرفِ ربط سے مراد وہ حرف ہے۔ جو اسم و یا دو جملوں کو آپس میں ملاتے ہیں۔ مثلاََ ''اور'' یا ''وہ ''پھر'' بلکہ'' وغیرہ جیسے'' آمنہ نے کتاب پڑھی اور سوگی'' اس جملے میں ''اور'' حرف عطف ہے۔ ''مرد اور عورت سب برابر ہیں'' اس جملے میں'' واؤ'' حرف ِ عطف ہے۔
(3۔حروف تخصیص :وہ لفظ جو کسی اسم یا فعل کے ساتھ آکر اس میں خصوصیت کے معنی پیدا کرے ،اور حرفِ تخصیص کہلاتے ہیں۔ اردو کے حروف تخصیص یہ ہیں ''تو'' ہر'' بھی'' وغیرہ ۔
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
اس شعر کے پہلے مصرعے میں ''ہی'' حرف تخصیص ہے۔ رمیش نے بھی فلم دیکھی'' اس جملے میں ''بھی'' حرف تخصیص ہے۔
ع ۔ ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم، کہ تو کیا ہے
اس مصرعے میں حرف تخصیص ''ہر'' ہے۔
(4حرف فجائیہ: وہ حرف جو کسی خاص کیفیت اور جذبے کے اظہار کے وقت زبان سے ادا ہوتے ہیں ۔حرف ''فجائیہ'' کہلاتے ہیں۔ جیسے
حیرت'' خوشی ''خوف ''غصہ ''حقارت ''اور افسوس وغیرہ کے وقت ان کا استعمال ہوتا ہے۔ جیسے'' سبحان اللہ!'' بہت خوب !''معاذاللہ!'' اوف !''ہائے!''
''سبحان اللہ! کیا خوبصورت نظارہ ہے''
اف! کتنی گرمی ہے آج ''
''ہائے !کمبخت تو نے پی ہی نہیں''
فعل کی تعریف
فعل وہ کلمہ ہے جس میں کسی کام کا کرنا یا ہونا پایا جاتا ہے ۔فعل میں کوئی نہ کوئی زمانہ موجود ہوتا ہے ۔مثلا
''اسلم آم کھاتا ہے ''
''احمد دوڑتا ہے ''
ان دونوں جملوں میں'' کھانا'' اور'' دوڑنا'' فعل ہے کیونکہ ان سے کسی کام کا ہونا یا کرنا ظاہر ہوتا ہے ۔
معنی کے اعتبار سے فعل کی تین قسمیں ہیں۔
١۔ فعل لازم ۲۔ فعل ِ متعدی ۳۔فعل ناقص
١۔فعلِ لازم:
جس فعل کا اثر فائل پر پڑتا ہے اسے پھر فعل ِ لازم کہتے ہیں جیسے
''رمیش کھاتا ہے '' ''رضیہ پڑھتی ہے''
ان دونوں جملوں میں فعل کا اثر ان کے فائل پر پڑ رہا ہے یہ معلوم نہیں ہو رہا ہے کہ رمیش کیا کھا رہا ہے رضیاکیا پڑھ رہی ہے یعنی فعل لازم میں مقبول نہیں ہوتا۔
۲۔فعل متعدی :
جس فعل کا اثر محفل پر پڑتا ہے وہ پہلے متعدی کہلاتا ہے۔ مثلا
'' اکبر عام کھا رہا ہے''
''نریش اخبار پڑھ رہا ہے''
پہلے جملے میں اکبر اسم ہے کھانا فعل ہے عام مفعول ہے اس طرح فعل کا اثر فاعل کے علاوہ مفعول پر بھی پڑ رہا ہے ۔
۳۔فعل ناقص :
فعل ِنا قص وہ ہے جو کسی پر اثر نہ ڈالے بلکہ کسی اثر کو ثابت کرے جیسے'' سلمہ بیمار ہے ''اس جملے میں فعل کا کرنا نہیں ،بلکہ ہونا ظاہر ہو رہا ہے سلمیٰ سے کوئی فعل سرزد نہیں ہو رہا ہے بلکہ وہ فعل سہنے والی ہے اور'' بیمار'' اس کی حالت کی خبر دے رہاہے ۔
ضرب المثال یا کہاوتیں
کہاوتیں اور ضرب المثال ایک ہی شے ہے ضرب کے معنی مارنا یا دوہرانا کے ہیں امثال ،مثل کی جمع ہے ۔مثل یعنی مثال دینا کوئی خاص بات جو بار بار تجربے میں آچکی ہوں موقع پڑنے پر اس کی مثال دی جاتی ہے، ضرب المثال کے معنیٰ ہوئے بار بار دی جانے والی مثال اسی کو کہاوت بھی کہتے ہیں جس کا مطلب ہے بار بار کہی جانے والی بات ضرب المثال یا کہاوتیں لوگوں کو زبانی یاد رہتی ہیں ہر ضرب المثال یا کہاوت اپنے اندر خاص واقعہ رکھتی ہے اس میں دلچسپی اور نصیحت بھی پوشیدہ ہوتی ہے۔ ہر وہ فقرہ یا مصرعہ کہاوت بن جاتا ہے جو بظاہر نظیر زبان زد عام اور مشہور ہو جائے جیسے سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے ''دیل میں چند ضرب المثال اور ان کے معنیٰ دیے جا رہے ہیں ۔
ضرب المثال یا کہاوتیں معنیٰ
آپ بھلے تو جگ بھلا == خود اچھے ہیں تو ساری دُنیا اچھی ہے
آدمی آدمی انتر کوئی ہیرا کوئی کنکر == سب آدمی ایک جیسے نہیں ہوتے
آم کے آم گٹھلیوں کے دام ==وہ کام جس میں فائدہ ہی فائدہ ہو
اپنی گلی میں کتا بھی شیر ہے ==اپنے گھر میں کمزور بھی طاقتور ہے
بلی کے خواب میں چھچھڑے==ہر شخص اپنی ہی مطلب کی سوچتا ہے
بوڑھی گھوڑی لال لگام== بڑھاپے میں جوانی کی آرایش
جب تک سانس تب تک آس== امید مرتے دم تک رہتی ہے
جس کی لا ٹھی اس کی بھینس== جس کی ہر چیز پر قبضہ ہوتا ہے
چراغ سے چراغ جلتا ہے==ایک سے دوسرے کو فائدہ پہنچتا ہے
دھوبی کا کتا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا==بے کا آدمی کام کا نہیں رہتا
سیدھی انگلی سے گھی نہیں نکلتا== ہر کام نر می سے نہیں ہوتا ہے
محاورے:
دو یا دو سے زائد الفاظ کا ایسا مجموعہ جس کے حقیقی معنیٰ کی جگہ مرادی معنی لیے جائیں تو وہ محاورے کہلاتے ہیں ۔محاورے کے لئے اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ جو محاورات اہل زبان ابتدا سے جس طرح بولتے اور لکھتے آئے ہیں اسی طرح بولنا اور لکھنا لازمی ہیں جیسے تیز رفتار ہونا یعنی نہایت تیز رفتاری سے آگے جانے کو ہوا میں ہوا سے باتیں کرنا کہتے ہیں یہاں ہوا سے باتیں کرنا کی جگہ ہوا سے گفتگو کرنا، نہیں کہہ سکتے محاورہ کسی جملے میں اس طرح شامل رہتا ہے کہ اگر اسے الگ کر دیں تو جملہ ادھورا رہ جائے گا یعنی محاورات جملوں کا جز یا حصہ بن کر اس میں شامل ہو جاتا ہے ۔ذیل میں چند محاورے اور ان کا مطلب پیش کیے جا رہے ہیں ۔
محاورے == معنیٰ
آنکھیں چرانا== بےرخی کرنا
بغلیں بجانا==خوش ہونا
خون کے گھونٹ پینا== غصہ برداشت کرنا
چار چاند لگانا==عزت بڑھانا
رائی کا پہاڑ بنا نا== معمولی بات کو بڑا کرنا
شیشے میں اتارنا== قابو میں لانا
ناک کٹوانا==بد نام کرنا
کان کھڑے کرنا==ہوشیاریاں چوکنہ ہونا
مکھیاں مارنا== بے کار وقت گزارنا
دال نہ گلنا==کامیابی نہ ہونا
پاؤں کے تلے زمین نکلنا==ہوش اڑنا
سبز باغ دکھانا==دھوکا دینا
مٹی میں ملانا== برباد کرنا
ہاتھ ملنا== افسوس کرنا
محاورے اور ضرب المثال میں فرق :
کہاوت ایک مکمل جملہ ہوتا ہے جسے تبدیل کیے بغیر لکھا اور کہا جاتا ہے مثلا ''اندھوں میں کانا راجہ ''ایک کہاوت ہے ۔اس میں اندھوں کو بہروں سے یا کانا کو'' سیانا'' سے تبدیل نہیں کیا جاسکتا جبکہ محاورے مصدر کی شکل میں ہوتا ہے جیسے مختلف افعال میں تبدیل کر سکتے ہیں مثلا ''ڈینگیں مارنا ''محاورہ ہے اسے فاعل یا فعل کے لحاظ سے تبدیل کرسکتے ہیں۔ جیسے '' وہ ڈینگیں مارتا ہے'' تم بھیڈینگیں مارتے ہو'' ڈینگے مت مارو ''ہم سب نے ڈینگیں ماری۔
مختصر یہ کہ محاوروں میں کسی مصدر کو اس کے حقیقی معنی کے بجائے مجازی معنوں میں استعمال کیاجائے جیسے ''کھانا'' ایک مصد رہے ۔اس کے حقیقی معنیٰ یہ ہیں کہ کوئی چیز بطور خوراک یا تو وہ منہ کے راستے سے پیٹ تک پہنچانا لہذدواٹی کھانا، دوائی کھانا ،چاول کھانا، محاورہ تو نہیں ہے ۔اگر'' کھانا'' کو مجازی طور پر استعمال کیا جائے جیسے غم کھانا، ہوا کھانا، چغلی کھانا، پیسے کھانا، تو یہ سب محاورات کہلائیں گے ۔
سابقہ:
کسی لفظ کے شروع میں کوئی اور چھوٹا سا لفظ لگا کر مرکب لفظ بنایا لیا جاتا ہے اس پہلے لگائے ہوئے لفظ کو سابقہ کہتے ہیں جیسے ادب کے پہلے سے ''بے''لگا کر'' بے ادب ''اور ''سمجھ ''کے پہلے ''نا'' لگا کر ''نا سمجھ ''بنا لیا جاتا ہے ۔اور مول سے انمول ان مثالوں میں بے ''نا'' اور ان سابقہ ہیں درج ذیل میں چند مثالیں دی جا رہی ہے ۔
''ان پڑھ ''انجام ''بد گمان ''بد چلن'' بے ہوش ''بے پردہ'' بے خبر'' بے صبر ''کامیاب ''کمزور ''کم حوصلہ'' کم عقل ''نامعقول'' نادان ''غیرحاضر ''غیر مفید'' غیرمعمولی''
لاحقہ:
کسی لفظ کے آخر میں کوئی اور چھوٹا سا لفظ لگا کر مرکب لفظ بنا لیا جاتا ہے اس آخری میں لگائے ہوئے لفظ کو لاحقہ کہتے ہیں۔ جیسے ''ضرورت ''کے آخری میں'' مند'' لگا کر ''ضرورتمند'' اور'' درد'' کے آخر میں ''دردناک ''یہاں ''مند ''اور ''ناک ''لاحقے ہیں۔ چند مثالیں پیش ہیں۔
''جاں باز'' دغاباز ''خیرخواہ'' دلخواہ ''دور اندیش ''خیراندیش ''خیر طلب ''شہر طلب'' سائنسدان ''قدرداں ''بت پرست'' خدا پرست ''ترقی پسند'' دلپسند ''دلگیر'' وغیرہ۔ سابقے اور لاحقے زبان کا بہت اہم حصہ ہیں ان کی مدد سے کئی نئے نئے الفاظ بنائے جا سکتے ہیں جو زبان کو وسیع بنانے میں مدد کرتے ہیں۔
بحوالہ۔تزینہ ادب
ختم شُدہ۔۔۔۔