1.1.1GE.B.A. First Year - Generic Elective -I (Sahafat)

  

Swami Ramanand Teerth Marathwada University, Nanded.

سوامی رامانند تیر تھ مراٹھواڑہ یو نیور سٹی ، ناندیڑ۔

 Faculty   of     Humanities

شعبہ انسانیات

Effective  from   Academic   year 2024 – 2025

روبہ عمل تعلیمی سال-2024-2025

(As per NEP-2020)

نئی تعلیمی پالسی 2020کے مطابق))

B.A. First  Year, Semester- I

بی۔اے۔سال اوّل(میقات اوّل)

Generic Elective (Urdu Sahafat)

جنرک الیکٹیو(اُردو صحافت)

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صحافت  کی تعریف و اہمیت

صحافت ایک معزز پیشہ ہے اخبارنویسی  جرنلزم کے دیگر ناموں سے بھی معروف ہے ۔ بین القوامی صحا فی( یونیورسل جرنلسٹ) کہلاتا ہے۔یہ  ایک وسیع میدان عمل ہے کچھ صحافی اس مقدس پیشے کو ایک مکمل روزگار کی طرح اپناتے ہیں اور ورکنگ جرنلسٹ کہلاتے ہیں کچھ اس مصروفیت کو جزو وقتی طور پر اپناتے ہیں کچھ اسے شوقیہ طور پر اپنا کر اسے ذاتی شہرت کا وسیلہ بناتے ہیں یا فرصت کے اوقات میں تھوڑا بہت کما لینے کے آسان ذریعہ بنا لیتے ہیں انہیں آزاد صحافی یا فری لانس جرنلسٹ کہا جاتا ہے ۔

صحافت ایک نہایت ذمہ دارانہ پیشہ ہے جس میں دماغی صلاحیتوں سے کام لینا پڑتا ہے یہ ایک ایسا پیشہ ہے جو کی قربانیوں کا طلبگار ہے اسے ایک آرام بخش اور راحت افزا کام سمجھنا ایک بڑی غلط فہمی ہوگئ صحافت ایک ایسا محنت طلب پن ہے جو پوری سنجیدگی سے اپنایا جانا چاہیے فلم چلانے کا حفا دیکھنے میں تو آسان نظر آتا ہے مگر حسرت میں یہ مشقت اور بھرپورروجہان کا طالب ہے ہنسی مزاح یا ہلکی پھلکی تفریح کے ساتھ پر صحافت سے ناتا جوڑنے کا خیال نادانی ہےصحافت ایک ایسا فن ہے جس میں تخلیقی قوتوں کے صحیح استعمال سے بہت کچھ حاصل کیا جا سکتا ہیں یا محاسبی جیسے پیشوں کی طرح یہ فن صرفکتابوں کے صفحات سے نہیں سیکھا جاسکتا اس فن میں مہارت کسی کلاس روم کی چار دیواری میں بیٹھ کر حاصل نہیں کی جا سکتی یہ فن تجربے کی بھٹی میں جل کر بکھرتا ہے کتابیں راہ دکھائے گی لیکن راہ پر چلنا اور منزل پر پہنچنے کی کوشش کرنا ہیں اس کا فرض ہے یہ بڑی چاند پیشانی اور ریاضت کا کام ہے کچھ لوگ اسے ایک پراسرار دھندہ سمجھتے ہیں اعلی کے اس نے ایسے خاص پوشیدہ نقطہ بہت کم ہیں یہ ایک مسلسل ہونا ہے جس میں آئے دن نت نئے خیالات واقعات حوادث افکار اور تجربات سے نباہ کرنا پڑتا ہے اس کی ہر بات میں ایک نیا پن ہوتا ہے اور ہر معاملے میں کوئی خاص نوعیت ضرور جلوانما رہتی ہے دوسروں کے تجربات سے مستفید ہونے کی سعی ہمیشہ مفید ثابت ہوتی ہے ویسے یہ طے ہے کہ صحافت سحر کا راز شغل ہے ۔

 صحافت کی تعریف :

صحافت عربی زبان کے لفظ صحیف سے ماخوذ ہے جس کے معنی صحیفہ کتاب یا رسالے کے ہیں جدید عربی میں صحیفہ بمعنیٰ جریدا اور اخبار بھی ہیں عبدالسلام خورشید کے مطابق صحیفہ سے مراد ایسامطبوعہ مواد ہے جو مقررہ وقت کے بعد شائع ہوتا ہے چناچہ تمام اخبارات و رسائل صحیفے ہیں صحافت کے ذریعے مبارک اطلاع اورجانکاری ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچائی جاتی ہے یہ انسان کی خواہش کی تکمیل کرتی ہے جس کے تحت وہ ہر نئی بات جاننے کے لیے بے چین رہتا ہے لیکن صحافت صرف اطلاع  ہی نہیں دیتا بلکہ کی کسی مسئلے پر رائے عامہ کی وضاحت و تختی بھی پیش کرتی ہے اس کے ذریعے رائع عامہ ہموار کرنے کا اور متاثر کرنے کا کام بھی لیا جاتا ہے صحافت سماج کی بہترین تربیت بھی کرتی ہے انتظام اور قیام امن میں مدد بھی دیتی ہے اور عوامی رجحانات کے ساتھ ساتھ عوام کی حفاظت بھی کرتی ہے فن صحافت کی ایک عمدہ کتاب ایکسپلورنگ جرنلزم کے ایک امریکی مصنفین رونالڈ بی کا لٹل فلاور لارنس اور کیمپبل نے صحافت کی مختصر مگر جامع تعریف ان الفاظ میں کی ہے۔

·      "صحافت جدید وسائل ابلاغ کے ذریعے عوامی معلومات رائے عامہ اور عوامی تفریحات کی باضابطہ اور مستند اشاعت کا فریضہ ادا کرتی ہے۔"

"Journalism is the System Antique and Republic of Definition of Public Information Public Opinion and Public Entertainment by Modern Mass Media of Communication۔"

·      "واقعہ نگاری ہیں صحافت ہے ۔"

·      "وہ مواد جو اب ان کے لئے عربوں کے بارے میں متعینہ وقت سے تخلیق کیا گیا ہوں صحافت ہے۔"

·      "اخبار اطلاع اورجانکاری کا نام صحافت ہے جو واقعات کو تحریر میں نکھار کر آواز میں سجا کر اہمیت اور تصویروں میں سمو کر انسان کے لیئے پیش کرے ہوں صحافت ہے۔"

·      "جو واقعہ ہوا ہو اسے معروضی طور سے اپنے اخلاق سیاسی سماجی اور مذہبی نظریے کی آمیزش کے بغیر اسے طبقاتی مفاد یا اخبار کے مالک کے وفات کا لحاظ رکھے بغیر اخبار پڑھنے والوں کی اطلاع کے لیے لکھ کر ایڈیٹوریل شعبے کو بھیج دینا صحافت ہے۔"

یہ صحیح ہے کہ اخبارات ناصرف اطلاعات بہم پہنچاتے ہیں بلکہ کسی اہم متنازع تفسیر بھی کرتے ہیں اخبارات کی یہ توضیحی خدمات پنتی بعد کی مقبولیت کے لیے زمانے سے قبل کے دنوں میں بھی نمایاں اور یکساں مروج تھی ۔

 

صحافی کے اوصاف

صحافی کو نامہ نگار بھی کہ جاتا ہے کسی بھی نامہ نگار کے لیے لازمی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری نبھانے کے لیے اپنے آپ کو اچھی طرح تیار کرے۔ نامہ نگاری کے فرائض نبھانے کے لیے صحافت کی جانب میلان کی سخت ضرورت ہے بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ صحافی پیدا ہوتا ہے بنایا نہیں جاتا۔ صحافی پیدائشی ہوتا ہے یا تعلیم و تربیت سے صحافیانہ سرگرمیوں میں طاق ہوتا ہے ۔ ایک ایسا بحث طلب مسئلہ ہے جس پر اب تک بہت کچھ کہا۔ سنا اور لکھا جا چکا ہے ۔ پیشہ ورانہ رسائل میں اس سوال پر اب تک سینکڑوں مقالے شائع ہو چکے ہیں ۔ اس صدی کے میں اوائل میں پیدائشی صحافی کی اہمیت پر زور دیا جاتا تھا۔ مگر گذشتہ کئی سالوں سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ تدریجی اور باضابطہ تعلیم وتربیت کے ذریعہ کی صحافت کے اصولوں اور قواعد سے واقفیت حاصل کر کے اپنی محنت سے اس عملی میدان میں کافی شہرت اپنی پائی جاسکتی ہے ۔ امر - امریکہ کے ایک من مشہور صحافی جوزف ٹیٹر نے " پیدا نشی صحافی والی بات کا اچھا خاصہ مذاق اڑایا تھا اور کہا تھا کہ جہاں تک پیدائش کا تعلق ہے صرف زے احمق ہی پیدا ہوتے ہیں۔ صحیح رجحان، ذوق و شوق اور محنت سے ہر کوئی ہر کسی پیشہ میں علم اور مہارت حاصل کر سکتا ہے ۔ ماحول کی مناسبت اور موزونیت کے ساتھ ہر فرد ہے صرف کے لیے منتخب شغل میں مشق اور تجربہ کا حصول ممکن ہے۔ نامہ نگار بننے کے خواہش مند کے لیے ضروری ہے کہ وہ موجودہ دنیا سے گہری دلچسپی لے اور مستقبل کی دنیا کے بارے میں کبھی اس کی معلومات وسیع ہوں ۔ نامہ نگاری میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ پیشہ کے سب سے نیچے زینہ سے کام شروع کیا جائے اور آہستہ آہستہ ترقی کی سیڑھی پر چڑھنے کی کوشش کی جائے۔

جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا رپوٹر ایسا صحافی ہے جس کے بغیر نہ تو کوئی خبر اخبار کے آفس تک یا کسی ادارے تک پہنچ سکتی ہے اور نہ خبر کے بغیر اس کی سرگرمی قائم رہ سکتی ہے۔ چنانچہ اس کے مندر درج ذیل خصوصیات کی سفارش کی جاتی ہے۔ اخباری رپوٹر کو مہذب، آداب گفتگو سے واقف اور موقع کی نزاکت کو سمجھنے والا ہونا چاہیے، کیوں کہ خبریں حاصل کرنے کے لیے اس کا دن رات عوام سے سابقہ پڑتا ہے۔

·      اسے گرم جوش ، ملنسا، دلیر، بیدار مغز، تیز چالاک اور حاضر جواب ہونا چاہیے یہ تمام چیزیں اس کے پیشے میں معاونت کرتی ہیں۔

·      صحافت کے میدان میں اعتبار و اعتماد کی بڑی اہمیت ہے۔ لہٰذار پوٹر کو اخلاقی ضابطوں کا پابند ہونا چاہیے۔اسے ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہیے جس سے اعتماد مجروح ہو۔ مثلاً اسے اگر کسی نے کوئی خبر اس شرط کے ساتھ دی ہے کہ اسے متعینہ مدت کے بعد شائع کیا جائے تو وقت مقررہ کے بعد ہی شائع کرنا چاہیے۔

·      رپوٹر کے اندر خبر سونگ لینے کی صلاحیت ہونی چاہیے ۔ تاکہ وہ بر وقت خبروں تک رسائی حاصل کر سکے۔ اس کے اندر فیصلہ کرنے کی صلاحیت بھی ہونی چاہیے کہ کسی واقعے میں خبری اہمیت کتنی ہے۔

·     رپوٹر کے اندر ثقافق ، معاشرتی ، اقتصادی اور سیاسی امور کے ساتھ ساتھ حالات حاضرہ سے بھی گہری واقفیت ہونی چاہیے۔ کیونکہ کہ کسی معاملے کی تہ تک پہنچ کر  نتائج اخذ کرنے میں علمی استعداد سے کافی مددملتی ہے۔

·     اسے غیر متعصب اور غیر جانب دار ہونا چاہیے اگر کوئی امر متنازہ ہے تو اس کے دونوں رخ کو پیش کرنا چاہیے کہ قارئین خود فیصلہ کرلیں گے۔

·      اسے اپنی خبروں میں آدھی حقیقت پیش کر کے قارئین کو گمراہ نہیں کرنا چاہیے۔

·      اسے اپنی خبروں میں ہر فرد، ہر قوم اور ہر ادارے کے ساتھ برابر کا سلوک کرنے والا ہونا چاہیے اور کسی کی زندگی میں بیجا مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

·      اسے کسی غیر مصدقی خبر کو مصدقی کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہیے۔

سماج میں انسانیت کی فلاح و بہبود کے کام کرنے میں دیگر پیشہ وروں سے صحافیوں کی اہمیت زیادہ ہے، لہذا صحافیوں کا مہذب دی متمدن ہونا لازمی ہے۔ صحافیوں کو ایک عظیم ترین خدمت کا بار اٹھانا ہوتا ہے ۔ وہ فرانیان اعتبار سے بھی وسیع خدمت کرتے ہیں اور عقلی اعتبار سے بھی ان کی خدمات کا دائرہ وسیع سے وسیع تر اور وقیع سے وقیع تر ہوتا ہے۔ نامہ نگار کو صرف قلم ہی سے نہیں بلکہ دیگر انسانی جسوں سے بھی کام لینا پڑتا ہے ۔ لازوال شہرت کے مالک شیک پیر نے صرف الفاظ اور اسلوب بیان کی وجہ سے دوائی مقبولیت حاصل نہیں کر لی بلکہ انھیں عالمگیر اور غرضانی شہرت اس لیے نصیب ہوئی کہ ان کا تفکر عظیم تھا ۔ تاریخ ، نفسیات، جغرافیہ، فلسفہ اور دیگر علوم سے انھیں گہری واقفیت تھی ۔ گذشتہ صدیوں اور موجودہ صدی کے مشہور ترین ادیوں اور شاعروں کو بلند درجہ اس لیے حاصل ہوا کہ ان کے پاس قابل ذکر حقائق کا خزانہ تھا۔

صرف خوبصورت الفاظ ہی کے ذریعہ بہترین ادیب کی تخلیق نہیں ہو جاتی۔ عمدہ ادب کی تخلیق کے لیے خیالات اور نظریات کی بھی ضرور ہے ۔ صحافت میں علم سیاسیان اری ، معانات عمرانیات سے سماجی علم کے ساتھ ساتھ عمل کیا، الطبعیات دادگر سائنسی اور تکنیکی علوم سے واقفیت کافی محمد و معاون ثابت ہوتی ہے۔ عام معلومات میں توسیع کے لیے نامہ نگار کو جدید ترین رسائل اور مختلف کتابوں کا باقاعدہ مطالعہ بھی کرتا ہوتا ہے ۔ اگر اعداد و شمار اور حقائق ذہن میں ہوں تو کسی بھی موضوع پر فی الفور کچھ نہ کچھ تحریر کرنے کی صورت نکل آتی ہے ۔ اگر مطالعہ کے وقت اہم ترین نکات کو یادداشت کے طور پر لکھ لینے کی عادت ڈال لی جائے تو نامہ نگار کے پاس ایک معتبر خزانہ بنیادی مواد کا جمع ہوتار ہے گا جو کسی نہ کسی صورت میں کبھی نہ کبھی استعمال میں آسکے گا علمی قابلیت میں جتنا اضافہ ہوتا رہے گا اتنا ہی نامہ نگار کے لیے سہولت رہے گی۔

اردو کے اہم صحافی

مولوی محمد باقر :

مولوی محمد باقر صرف اردو صحافت کے اولین فطری صحافی نہیں بلکہ اس پیشے کے وہ موجد بھی ہیں جن کی کی ساری خصوصیات آج بھی اردو صحافت میں رائج ہیں اٹھارہ سو چھتیس میں نئے اخبارات شائع کرنے کی اجازت دی گئی ایسے ماحول میں جدت پسند مولوی محمد باقر نے اٹھارہ سو سینتیس میں تحریر کے نام سے ایک ہفت روزہ شائع کیا جس کا نام بدلتا رہا لیکن زیادہ عرصہ دہلی اردو اخبار ہی رہا مولوی محمد باقر کا صحافت فطری جوہر بن گیا تھا انہوں نے اپنے اخبار میں کی ایسی جیتی بڑھتی جن میں جدید صحافت کے رجحانات نظر آتے ہیں ہر قول منی عنوانی اموات کی دلچسپی پیدا کیگی مضامین کے علاوہ قبروں پر خصوصی توجہ دی گئی ۔

منشی محبوب عالم :

منشی محبوب عالم اصل زندگی کے درخشاں مثال ہے کہ اگر صحافت کو لگانا توجہ سے صحافی اصولوں پر چلایا جائے تو یہ سمجھ قلم کے ساتھ ساتھ کامیابی کا اچھا ذریعہ بن سکتی ہے منشی صاحب کی طبیعت مفکر صنعت و حرفت اور زراعت کی طرف مائل تھیں وہ مقامی انجمن ترقی صراط کے سیکرٹری تھے اور فنی زراعت اور باغبانی کی تعلیم کو فروغ دینے کے خواہاں تھے گھر کی مالی حالت زیادہ بہتر نہ کی لیکن انہوں نے ادھر ادھر سے مدد لے کر اپنے آبائی مقام فیروز والا ضلع گوجرانوالا میں خادم التعلیم کے نام سے چھاپا خانہ قائم کیا اور اس کے ایک ہی سال کے اندر اٹھارہ سو چھیاسٹھ میں 21 سال کی عمر میں زمیندار کے نام سے اپنا ایک ماہ نامہ جاری کیا جس کی کتابت اور سنگسازی وہ خود ہی کرتے تھے ۔

لالہ لاجپت رائے :

لالہ لاجپت راۓ ہندوستانی صحافت اور سیاست کا وہ کردار ہے جن کے ولولہ انگیز کارناموں اور قربانی سے اسی صدی کا باوے اول عبارت ہے عنفوان شباب ہی سے لالہ لاجپت رائے ولادت 1865 کی دلی خواہش تھی کہ اردو زبان میں ان کا اپنا غبار ہو جس کے ذریعے وہ اپنے معاشرے کی خدمت کریں چنانچہ 1884میں ان کی عمر صرف انتیس سال کی تھی اپنے چند دوستوں کے ساتھ مل کر انہوں نے انگریزی اور اردو میں دوار جاری کرنے کا منصوبہ بنایا اور اردو جرنل کا کام خود کرنا منظور کیا اور اس کا نام بھارت دیش سدھارت رکھا گیا۔

مولانا حسرت موہانی:بیسویں صدی کے عین آغاز ہی میں مکمل آزادی کا برملا مطالبہ کرنے والے اردو مجلے کے سیاسی صحافت کا آغاز سید فضل الحسن حسرت موہانی کیا انہوں نے اپنے مجلے اردواعمال حاکم جو اور پہلے ہی شمارے میں ہندوستان کے لیے مکمل آزادی کا نعرہ لگایا وہ دبستان علی گڑھ کے پہلے باغی تھے صرف نعرہ ہی نہیں لگایا بلکہ اس لئے جہاد کیا یہ جہاد بھی ایسے زمانے میں کیا عجب فرنگی حکومت کسی لفظ سے آزادی کر لفظ تک سننے کے لیے تیار نہیں تھی 1903 کو علیگڑھ سے شروع کیا ۔

منشی دیا نارائن نگم :منشی دیا نارائن نگم ادیب و صحافی تھے ابھی انھوں نے بی اے کا امتحان پاس کیا ہی تھا کہ بریلی کے ایک نئے اردو ماہنامے زمانے کے بانی مشیر راج بہادر کی نظر ان پر پڑی اپنے رسالے کا ایڈیٹر مقرر کردیا ادیب یا صحافی کی حیثیت سے منشی صاحب نے خدمات انجام دیں ۔

مولانا ابوالکلام آزاد :

مولانا ابوالکلام آزاد اردو صحافت کے ایک ایسے کردار ہیں جس کی کوئی اور مثال نہیں ملتی ابھی دس ہی برس کے تھے کہ ملک بھر کے اخباروں اور رسالوں کا ناحق نہ خزانہ مطالعہ کرنے لگے نو امریکی ہی سطح پر محسوس کیا کہ خیالات کیا شاد اور عام بحث نظر کا اخبار سے بہتر کوئی اور ذریعہ نہیں سن بلوغت تک پہنچتے پہنچتے پہلے اپنی نظر اور پھر جلدی ہیں نظم سے ملک کے ممتاز جرائد کے کالومی میں جگہ پانے لگے سولہ سال کی عمر تک کم ازکم دس سنجیدہ مقامی اور غیر مقامی جریدے کی عدالت یا ان کے خلیفہ مجاز کی تھی ۔

مہا شےکرشن :

1926میں صحافت کے میدان میں داخل ہوئے اس وقت ان کی عمر صرف 25 سال تھی  ۔ان کا پہلا اخبار ہفت روزہ پرکاش تھا یہ آریہ سماج کی گورو پارٹی کا حامی تھا اس جریدے میں ان کا نام دادا بھائی کرشن بھی شائع ہوتا تھا اس جریدے میں ان کا نام رادھاکرشن بھی سے شائع ہوتا تھا انہوں نے 30 مارچ 1919 کو لاہور سے پرتاب کا آغاز کیا اسی دن گاندھی جی نے دہلی میں اپنا سفر شروع کیا تھا ۔

دیوان سنگھ مفتون :ہندوستان میں بڑے بڑے صحافی پیدا ہوئے اور کچھ صحافیوں نے ملک کے دوسرے شہروں سے یہاں آکر اپنی عظمت کے جھنڈے بلند کیے ان میں سے ایک سردار دیوان سنگھ مفتون ہیں جن کی صحافت کا ڈنکا پچھلی صدی کے نصف حصے تک بچتا رہا ان کا اخبار ریاست اپنے دور کا بہترین ہفتوار اور اس موضوع کا نہیں کی باخبر اخبار تھا اپنی خداداد صلاحیتوں سے سردار دیوان سنگھ مفتون صحافت کی اس صنف کے ایک عظیم پیشاور تھے جسے ہم آج انوسٹیگیٹو جرنلزم یعنی تحقیقی صحافت کہتے ہیں ۔

نیاز فتح پوری :

نیاز محمد خان اردو صحافت میں ممتاز ترین مثال ہیں انہوں نے اپنا مشہور ماہنامہ نگارآگرہ سے جاری کیا انیس سو تیس میں یہ بھوپال اور انیس سو ستائیس میں لکھنؤ منتقل ہوگئے ان مقامی تبدیلیوں کے باوجود میاں صاحب نے اولین وحی میں پورے ملک میں کیشناخت بنا لی 920 1میں آگرہ سے جاری کیا ۔


صحافت کے اقسام

ذرائع کے اعتبار سے حافت کو دو قسموں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

1)     مطبوعہ صحافت /تحریری صحا فت  Print Media:

2)    غیر مطبوعہ صحافت / برقی صحافت : Electronic Media

 مطبوعی صحافت :   Print Media

مطبوعہ صحافت کے تحت اخبارات کا شمار ہوتا ہے مطبوعہ صحافت کو سمجھنے کے لیے اخبار کی تعریف سے واقفیت ضروری ہے اخبار کی تعریف یہ  ہےکہ  خبر عربی زبان کا لفظ ہے جس کی جمع اخبار ہے یعنی مختلف خبروں کے مجموعے کو اخبار کا نام دیا جاتا ہے اسی لیے اخبار کا تین چوتھائی حصہ خبروں پر مشتمل ہوتا ہے لوگ اخبار اس لیے خریدتے ہیں کہ نئی نئی خبروں کا مطالعہ کر سکیں۔ ابتداء میں اخبار قلمی خبرناموں کے لیے استعمال ہوتا تھا جو ایران کے شہنشاہوں کے دور میں رائج تھا ۔ اخبارات  کے تحت روزنامے ہفت وار کا شمار ہوتا ہے کچھ پندرہ روزہ اخبار بھی اسی دائرے میں شمار کیے جاتے ہیں روز ناموں کے لیے یہ لازم ہے کہ   سال میں کم سے کم پانچ شماریں جاری ہوں روز ناموں میں علاقائی، قومی، بین الاقوامی حالات و واقعات شائع کیے جاتے ہیں قارائین   روزانہ رونما ہونے والے واقعات سے آگاہ ہو سکیں چونکہ ارد گرد کے حالات سے واقفیت انسان فطرت کا تقاضہ ہے اسی لیے وہی اخبار  ہاتھوں  ہاتھ فروخت ہوگا   جو زیادہ سے زیادہ خبریں شائع کرتا ہے آج کا دور روزناموں کا دور ہے ہزاروں کی تعداد میں روزنامہ جاری ہو رہے ہیں سہ روزہ اخبار کسی زمانے میں بہت مقبول تھے موجودہ دور میں اس کا رواج کم ہے جبکہ ہفت وار اخباروں میں مرچ مصالحہ ہوتا ہے اور ان میں سنسنی خیز خبروں کا انتخاب کیا جاتا ہے لیکن اخباروں سے ایک فائدہ یہ ضرور ہوتا ہے کہ ایسے قارئین جن کو روزانہ  اخبارات کا مطالعہ کرنا  دشوار ہوتا ہے انہیں ہفتہ  بھر کی خبریں ہفتہ وار  میں مل جائے جاتی ہے ہفتہ وار میں خبروں سے زیادہ خبروں پر رائے یا تبصرے ہوتے ہیں یہ اخبار  اپنے قارائین کی ذہنی آسودگی  کا مکمل لحاظ رکھتے ہیں معمولی واقعات کو بھی سنسنی خیز انداز میں پیش کرتے ہیں۔

غیر مطبوعی صحافت/برقی صحافت: Electronic Media

(1ریڈیو:   Radio

ریڈیو ایک انتہائی طاقتور ذرئع ابلاغ  ہے صحافت کے تحریری ذرائع Print Media  میں ویڈیو یہ بنیادی فرق  یہ بھی ہے کہ کتابیں  و رسالے  اخبارات کو ملکی سرحد  تک محدود کیا جا سکتا ہے لیکن ریڈیو نشریات  کسی سر حد  کی پابند نہیں ہو سکتی نہ تو انہیں پہاڑوں کی بلندیاں روک سکتی ہیں  نہ تو وسیع سمندر کی لہریں ان کی راہ میں حائل ہو سکتی ہیں ریڈیو کے ذریعے وہ لوگ ایک دوسرے کے قریب آسکتے ہیں  جو جغرافیائی اور قومی حد بندیوں کے  باعث ایک دوسرے سے بہت دور ہوتے ہیں ریڈیو ایک ایسا اندھا میڈیم ہے جو تصویرویں یا مناظر کو نہیں دکھا سکتا لیکن سننے والا اپنی تخیل  کے سہارے تصویریں بنا دیتا ہے جیسے ہی ریڈیو سے آوازیں نکلتی ہیں سامعین  اپنے ذہن میں براڈکاسٹر کی تصویریں بنا لیتا ہوں پھر جو کچھ وہ سننتا ہے   اس کے بارے میں بھی سامعین کے ذہن میں تصویریں ابھرتی رہتی ہیں خوشی ہو یا غم ہر طرح کے جذبات کو آواز ان کی وسیلے  سے ابھاراجاتا ہے یہ بات ہم جانتے ہیں کہ تحریری مواد پھر تعلیم یافتہ لوگوں کے لیے ہوتا ہے جبکہ ریڈیو سے سماج  کا ہر طبقہ  استفادہ حاصل کر سکتا ہے اور تعلیم یا نیم خواندہ  اور نہ خواندہ ہر طبقے کے لوگ اس نشریات سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں جس کی پہنچ شہر  شہر اور گاؤں گاؤں  تک ہے  ریڈیو  نشر یات کے   ذریعے سامعین  کو نہ صرف اطلاعت اور معلومات فراہم کی جاتی ہے بلکہ مختلف مسائل کے تعلق سے ان میں بیداری بھی لائی جاتی ہے اس کے علاوہ تفریح پروگرام اور موسیقی بھی پیش کی جاتی ہے جیسے سامعین اپنی دلچسپی کے مطابق استفادہ حاصل کر سکتے ہیں ریڈیو کے ذریعے سے کئی طرح کے پروگرام نشر کیے جاتے ہیں مثلا خبریں حالات حاضرہ پر تبصرہ تقریریں، ڈرامے، فیچر، مباحث اور انٹرویو وغیرہ  مجموعی طور پر دیکھا جائے تو  ریڈیو انسان زندگی کا بہترین رفیق ہے ثابت ہوتا ہے۔

 ٹیلی ویژن Television :

              اپنے ارد گرد سیاسی سماجی حالات سے باخبر رہنا انسانی فطرت کا حصہ ہے اس کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی خود انسان کی تاریخ انسان جنگلوں میں رہتا تھا تو شام کو قبیلے  کے سارے لوگ ایک جگہ پر جمع ہوتے اور ایک دوسرے  دن بھر کی اپنی اپنی داستان اور روداد سناتے تھے جیسے جیسے  انسان ترقی کرتا  گیا خبروں کے ذرائع بدلتے  گئے لیکن خبروں سے اس کی دلچسپی میں کبھی کمی نہیں آئی اور یہ آج بھی اسی طرح برقرار ہے اب خبروں کا سب سے موثر ذریعہ ٹی ۔ وی۔  ہے ٹی وی کی  خبروں کا ارتقاء اخبار اور ریڈیو کی خبروں سے ہوا اس لیے پہلے ٹی وی پر بھی ریڈیو کی طرح خبریں  سنائی جاتی تھی لیکن اب جائے واردات پر جا کر وہاں سے براہ راست لائیو رپورٹنگ میں ٹی وی کی خبروں میں ایک بڑا اضافہ کیا ہے ٹی وی کی خبروں میں ایک انقلابی تبدیلی اس وقت جب چھوٹے کیمرے کا وجود عمل میں آیا جسے  صحافی پوشیدہ طور پر کہیں بھی لے جا سکتے تھے اور کسی بھی قسم کی چیزوں کو عام کر سکتے تھے اور اس کی اطلاع خبر  نشر ہونے  کے بعد ہوتی ہے اس قسم کے کیمرے کئی  پوشیدہ معاملات کے منظر  عام پر آئے  ہیں ٹی وی  ایک طرف جہاں اچھے کام کر رہے ہیں وہی اسکا  دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ 24 گھنٹے نئی نئی اور سب سے پہلے خبریں پیش کرنے کی جستجو نے   انسان کی  ذاتی زندگی میں غیر اخلاقی دخل شروع کر دیا   ہے۔

صحافت کا ارتقاء :

تاریخی تفصیلات گواہ ہے کہ جو خدمات آج آغاز انجام دے رہے ہیں وہ اپنے طور پر ہزاروں سال پہلے بھی کوئی نہ کوئی ادارہ بخوبی انجام دیتا تھاکتاب خانوں کے قیام سے پہلے بھی خبروں کی ترسیل کا کوئی نہ کوئی انتظام ضرور تھا کبوتروں کے پاؤں میں چھوٹی چھوٹی تھیلیا باندھ دی جاتی تھی اور چھوٹی تھلیوں میں تحریری بیانات ملفوف رہتے تربیت یافتہ کبوترایسے پیغامات منزلیں مقسود پر بڑی پھرتی سے پہنچا دیا کرتے تھے ایک جگہ سے دوسری جگہ ضروری خبریں اطلاعات لے جانے والے سپاہی یا مخبر یا ہرکارے قدیم سلطنتوں میں بھی پائے جاتے تھے خصوصی سفیروں کے ذریعے بھی خبروں کی ترسیل ہوتی تھی ہر حکومت میں جاسوسوں کا ہونا ضروری تھا اور یہ خوفیہ مخبر  کسی نہ کسی طریقے سے اہم اشارات متعلقہ افسروں تک یا حکمرانوں  تک پہنچا دیتے تھے آوارہ گرد فقیر خانہ بدوش ،تاجز، گھومنے والے درویش، بنجارے، شاعر، مسخرے ،وغیرہ ایک جگہ سے دوسری جگہ خبریں لے جاتے تھے ۔

کسی بھی دور میں خبروں کی اہمیت کم نہیں رہی"ارتھ  شاستر کے مصنف چانکیہ عرف (کوٹلیا) نے  تھی بھی حکمرانوں کو ہدایت کی ہے کہ ہر طرح کی رپورٹوں پر ضروری توجہ دینا کسی بھی کامیاب حکمران کیلئے ضروری ہے ملک میں امن وامان، چین اتمناان کے قیام کے لئے تازہ ترین حالات سے باخبررہنا ہر نوعیت کے حاکیموں کے لیے ناگزیر ہے مغلیہ دور میں خبریں ،رائیں اور پوشیدہ معلومات حاصل کرنے کے لئے خصوصی نامہ نگار  متعین تھے جو "وقائع  نویس" سوانح نویس" اور خفیہ نویس کہلاتے تھے تقریبا ہر علاقے سے خبر نامے دارالحکومت  پہنچتے اور ہر شام محل کی بیگمات یہ خبر نامے میں شہنشاہ کو سنایا کرتی تھیں ۔

اخبارات جس صورت میں ہم آج دیکھ رہے ہیں طباعت کی سہولتوں کے ساتھ زیادہ   سجنے سنورنے اور نکھرنے لگے ہیں کہا جاتا ہے کہ 860ء ہی میں چین نے کاغذ بنانے میں کامیابی حاصل ہو گئی تھی طباعت کا  فن بھی چین سے شروع ہوکر مغربی ممالک میں زیادہ مقبولیت حاصل کر گیا چین میں چھپائی کی مشینیں اس لیے معقول نہ ہوسکی کیونکہ چین اپنی ضروف سازی کے فن کو زیادہ تقویت دینا چاہتا تھا اور ان کا خیال تھا کہ طباعت کیلئے مشینوں کا استعمال ہونے لگے تو خوشنویسی اور مصوری کا فن زوال پذیر ہوجائے گا چین والوں نے ایک عرصہ دراز تک مشینوں کی ہمت افزائی نہیں کی مغربی ممالک میں صنعتی انقلاب کی وجہ سے بہتر سے بہتر طباعتی مشینیں تیار ہونے لگی جس سے صحافت کو کافی مدد حاصل ہوگی 1465ءمیں "گٹن برگ" نے سب سے پہلے مقدس انجیل چھاپی  اس کے لیے دیدہ زیب خوش نویسی کے صفحات بناے گے  پھر ٹائپ ایجاد ہوا جس سے طباعت میں مزید سہولت حاصل ہوگی ۔ 1470 ء   میں جین  سین  نے  رومن ٹاءپ تیار کیا

صحافت کی ذمہ داری پہلے پہل کے طباعت  گھروں کے مالکوں نے سنبھالی ۔وہ اخباری  طلاعت  کے لیے سیاحوں سے ملاقات کرتے اور بات چیت کے ذریعے متعلقہ مقامات کی تازہ تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ۔یہ ابتدائی  صحافی تاریخ کے صفحات پر "پمفلٹ باز"  کے نام سے یاد کیے جاتے ہیں   کیونکہ یہ چھوٹے کتابچوں ذرئعیہ نئی نئی معلومات کی نشرواشاعت کا بیڑہ اٹھاتے تھےلندن کے تقریبا ایک درجن پبلیشر ( ناشروں) نے   1622ء  میں اپنی ایک انجمن ترتیب دی ۔یہ اہتمام کیا کے ایک دوسرے کو خبریں  تبادلہ میں بہم پہنچائیں  اس طرح پبلشر کو زیادہ سے زیادہ خبریں مہیا ہونے لگی اور وہ اپنے اخباری کتابچے ہر ہفتہ شائع کرنے میں کامیاب ہوئے ۔شروع شروع میں ایسے غیر مجلد رسالوں میں غیرملکی خبروں کو زیادہ اہمیت دی جاتی تھی رفتہ رفتہ مقانی اور سیاسی تفصیلات بھی ایسے کتابچوں جو میں جگہ پانے لگی زبانی گفت شنید سے مقامی سیاسی خبریں پراگندہ ہوا کرتی تھی جب مطبوعہ تفصیلات آنکھوں کے سامنے آنے لگیں تو خواص کے علاوہ  عوام بھی  ایسے اہم معاملات میں خاص دلچسپی لینے لگے اور ایسے  کتابچوں  کی فروخت میں مسلسل اضافہ ہونے لگا ایسے کتابچوں کی روز افزوں مقبولیت نے گویا روزانہ اخبار کے لیے راہ ہموار کی لندن کا پہلا روزہ نہ اخبار " لندن ڈیلی کورنٹ" The London Daily Courant کے نام سے سب سے پہلے 1702 ء میں منظر عام پر آیا۔

ہندوستان میں طباعت کا کام سب سے پہلے پرتگالی مسیح مبلغوں  نے شروع کیا1557ءمیں انہوں نے گوا میں ایک چھوٹی سی کتاب شائع کی جس میں مسیح تبلیغی کام کرنے والوں کے لئے سوال و جواب کی صورت میں عیسائی مذہب کی اہم معلومات درج تھی۔جب1811ء میں  اسٹیم انجن کی ایجاد ہوئی تو  چھپائی کی مشین بھی بھاپ  کی مدد سے کام کرنے لگی  اور فی گھنٹہ 1000 اوراق کی رفتہ سے چھپائی ممکن ہوئی ۔آج کل ایسی تیز رفتار مشین  دفاتر  میں نسب ہیں  جو فی گھنٹہ 8000  بلکہ اس سے بھی زیادہ تعداد میں اخبارات  کے پرچہ بڑی نفاست  صفائی  اور آسانی سے چھاپ دیتی ہیں جرمنی میں تیار ہونے والی آ فسٹ مشینیں فی گھنٹہ30 سے 40  ہزار  اخبار چھاپ سکتی ہیں اور ہندوستان میں متعدد جگہ استعمال ہو رہی ہیں ۔

ہندوستان کا سب سے پہلا اخبار کلکتہ سے شنبہ  29 جنوری 1780 کو شائع ہوا۔  "ہکیز بنگال گزٹ" HICKYS BENGALGAZETTEاس ہفت روزہ اخبار کا نام تھا اس کے مدیر , ناشر اور مالک کا نام جیمز آگسٹس ہکی "تھا جو کچھ دنوں تک ایسٹ انڈیا کمپنی سے بحیثیت تابع وابستہ تھے اس انگریزی اخبار کے صرف دو ورق تھے جس میں کئی اشتہارات شائع ہوتے تھے یہ اخبار ابتداء ہی  سے حکومت مخالف رہا گورنرجنرل وارن ہیسٹنگز   پرکئی اہانت آمیز جملے اس اخبار میں مسلسل شائع ہوتے ر ہیں ہکی کو حکومت کی طرف سے کئی طرح سے ستایا گیا مگر اس نے اپنی حق گو  ئی اور بے باکی کا سلسلہ جاری رکھا آخر کارحکومت میں اس اخبار کو بری طرح کچل دیا اور حکومت میں اختلافات گویا ہندوستان کے پہلے اخبار سے لے کر اب تک مسلسل جاری ہے آزادی اخبارات  کی تحریک کی تاریخ میں ہندوستان کی پہلی مکمل صحافی جمیس ہکی کا نام نمایاں رہے گا ۔

کلکتہ کے بعد مدراس سے اخبارات شروع ہوئے اور بعد میں بمبئی سے اخبارات نکلنے لگے ابتدائی تمام اخبارات غیر ملکی باشندوں نے انگریزی زبان میں شائع کیے۔ گنگا دھر بھٹاچاریہ پہلے ہندوستانی ہیں جنہوں نےانگریزی زبان میں ایک اخبار "بنگال گزٹ "کے نام سے جاری کیا مشہور مسلح" راجہ رام موہبن ارئے " نے "  مرات الاخبار" کے نام سے اخبار نکالا بنگالی زبان میں انہوں "سمبادکمو دی" اور انگریزی زبان میں "برہمنیکل میگزین "نامی رسالہ نکالا مسیح  تبلیغ کے لیے سری رام پور نامی مقام سے تین اہم اخبار شائع ہوتے تھے۔ا  ردو زبان کا پہلا اخبار" جامِ جہاں نماء"   جو 27 مارچ 1822 کو  کو لکتہ (پھر کلکتہ)کو جاری کیا گیا اس کے ایڈیٹر  منشی سدا سکھ مرزا پوری تھے اور مالک ہری دت تھے ۔یہ ایک ہفتہ وار اخبار تھا ۔اخبار میں مذہبی، سیاسی، معاشرتی،خبروں کے علاوہ جدید علوم و فنون سے متعلق مضامین اور خریں شائع ہوتی تھیں ۔اس کے علاوہ شاعری کو بھی جگہ دی جاتی تھی۔

ایک جائزے کے مطابق 1977ء کے بعد ہندوستان میں اخبارات اور رسائل نے حیرت انگیز ترقی کی ہے۔ روزانہ اخبارات کی تعداد بھی  برابر بڑھ رہی ہے اور ان کی تعداد اشاعت بھی۔ ہفت روزہ جرائد بہتر سے بہتر صورت میں شائع ہو رہے ہیں اور کسی بھی غیر ملکی جریدہ کے مقابلہ میں پیش کیے جا سکتے ہیں بعض پندرہ روزہ رسائل بین الا قوامی معیار پر پورے اترتے ہیں ۔ ڈائجسٹ رسائل نے بھی ظاہری اور معنوی دونوں صورتوں میں کافی ترقی کی ہے ۔ ہندوستانی میں صحافت نے کافی ترقی کی ہے۔ بنگالی زبان میں شائع ہونے والا" آنند بازار پتیریکا"  ہندوستان کا کثیر الاشاعت روزانہ اخبار ہے ۔ دیگر مقبول اخبارات ہیں : دی ہندو (انگریزی)، نو بھارت ٹائمز (ہندی ) ، جو گانتر (بنگالی)، ماتروم بھومی (ملیالم) انڈین ایکسپریس (انگریزی ) ٹائمز آف انڈیا (انگریزی) جالندھر سے شائع ہونے والا اخبار ہند سماچار اردو کا سب سے زیادہ فروخت ہونے والا اخبار ہے ۔ اس کی تعداد اشاعت تقریباً 75 ہزار روزانہ تھی ۔ 

اردو صحافت کا ارتقاء

جام جہاں نما کواردو کا پہلا اخبار تسلیم کیا گیا ہے۔ جس کی تاریخ اشاعت 27 مارچ 1822 ہے۔ صحافت کی تاریخی ارتقا کے مطابق دہلی اخبار کو، جو بعد میں دہلی اردو دنیا ہو گیا تھا، جام جہاں نما کے بعد شمالی ہند دہلی کا پہلا اور اردو کا دوسرا اخبار مانا جاتا ہے۔جس کا اجرا 1837 میں محمد حسین آزاد کے والد مولوی محمد باقر نے کیا۔ لیکن علی جواد زیدی کے مطابق ' جام جہاں نما' کی اشاعت کے ایک سال بعد ایک اخبار شمس الاخبار“ کے نام سے شائع ہوا۔ اور پانچ سال تک جاری رہا۔ علی جواد زیدی نے اپنی تحریروں میں شمس الاخبار“ کی تاریخ اشاعت درج نہیں کی ہے۔ تاہم ان کے اسلوب تحریر سے شمس الاخبار اردو کا دوسرا اخبار ثابت ہوتا ہے۔ آفتاب عالم بیگ کی تحقیق کے لحاظ سے دہلی اردو اخبار کی اجرا کی نوعیت چوتھے نمبر پر ہے۔ لیکن مشمولات ومندرجات کے اعتبار سے کافی اہمیت کا حامل اخبار ہے۔ جبکہ آئینہ سکندری، نیم سرکاری تھا۔ اہمیت و مقبولیت اور شہرت کے لحاظ سے ” دہلی اردو اخبار اردو کا دوسرا اخبار ہی سمجھا جاتا ہے۔ دہلی اردو اخبار کا اجرا 1836 میں پریس کو آزادی ملنے کے بعد ہوا۔ دہلی اردو اخبار“ کا نام تیسری مرتبہ بدل کر 1857 میں اخبار الظفر “ رکھا گیا۔ جو 13 ستمبر 1857 تک جاری رہا اور 20 ستمبر کا نکلنے والا شمارہ 1857 میں دہلی کے ہنگامے کی نذر ہو گیا۔ جو کبھی طباعت کا جامہ نہیں پہن سکا ۔ 1857 میں مولوی محمد باقر انگریزوں کی گولی سے شہید ہو گئے ۔ مولوی محمد باقر کو جنگ آزادی کا پہلا شہید صحافی مانا جاتا ہے۔

”جام جہاں نما کی طرح یہ اخبار بھی ہفت روزہ تھا۔ جام جہاں نما کے بعد نکلنے والے بیشتر اخباروں نے اس کے انداز طباعت کو اختیار کیا۔ محمد باقر کوصحافت سے فطری وابستگی تھی ۔ انھوں نے بھی جام جہاں نما کے انداز کو اپنایا مگراپنی تخلیقی اختراع سے اسے جدید صحافت سے روشناس کیا۔ اپنے مندرجات کو جاذب و دلچسپ بناتے اور قابل توجہ عنوانات سے کالم کو سجاتے ۔ حالات حاضرہ اور خبریں ان کی توجہ کا مرکز ہوتی تھیں۔ خبروں کی ترتیب تاریخ اور دن کے اعتبار سے ہوتی جس سے ہفت روزہ اخبار میں روز نامے کی خصوصیت پیدا ہو گئی تھی۔ 1841 میں سرسید احمد خاں کے بڑے بھائی سید محمد خاں نے ایک اخبار ”سید الاخبار“ کے نام سے جاری کیا۔جس کے مدیر سید عبدالغفور تھے ۔ ان دنوں سید محمد خاں سرکاری ملازم تھے۔ ان اخبارات کے بعد کئی اخبار منظر عام پر یکے بعد دیگرے آئے۔ ایک فعال و متحرک صحافی سید اولاد علی کی ادارت میں 1841 ہی میں اخبار ” آئینہ گیتی نما شائع ہوا۔ اس کے فوراً ایک سال کے بعد 1842 میں سید رحمت اللہ کی ادارت میں مدر اس سے ” جامع الاخبار" شائع ہوا۔ جنوبی ہند کا یہ پہلا اردو اخبار مانا جاتا ہے۔ یہ اخبار سولہ صفحات پر مشتمل تھا۔ انگریزی اخبارات کے نہج کو محیط تھا۔ اپنے دور کا بہترین ترجمان سمجھا جاتا تھا۔ جس کی زبان خالص اردو کے بجائے علاقائی الفاظ ومحاورات سے مزین تھی۔ملک کی ترقی اور اردو صحافت کے ارتقا میں دلی کالج کا بڑا حصہ ہے۔ اس کالج سے ایک اخبار اور ایک رسالہ 1845 میں جاری ہوا۔ ہفتہ وار اخبار ” قران السعدین "کے پہلے مدیر پنڈت دھرم نارائن بھاسکر تھے ۔ دلی کالج سے ہفتہ وار اخبار ” قران السعدین "میں ادب و سائنس کے علاوہ سیاسی اور علمی مضامین اپنے تنوع کے باعث ہندوستان سے چندا ہم اخباروں میں شمار کیا جاتا۔ دلی کالج سے 1845 میں شائع ہونے والا با تصویر رسالہ" فوائد الناظرین" تھا۔ اس کے ایڈیٹر ماسٹر رام چندر ایک با کمال علمی شخصیت کے مالک تھے۔ مغربی علوم وفنون کے ترویج و اشاعت کے لیے انھوں نے اس رسالے کا انتخاب واجرا کیا۔ ماسٹر رام چندر نے 1847 میں ایک اور اخبار جاری کیا جس کا نام ”محبت ہند" تھا۔ جس کا دوشمارہ ”خیر خواہ ہند "کے نام شائع ہوا۔ مرزا پور سے ”خیر خواہ ہند“ نام کا ایک اخبار پہلے ہی سے شائع ہوتا تھا۔ اس لیے ماسٹر رام چندر نے اس کا نام بدل کر ” محبت ہند“ کر دیا اور اس اخبار میں بھی موضوعات کا تنوع تھا۔ ادبی ، سائنسی ، سوانحی ، سماجی اور سیاسی موضوعات پر محیط تھا۔ ماسٹر رام چندر کا رسالہ ”محب ہند“   کی تعدادپچاس صفحات پر مشتمل تھی ۔ جو بعد میں 56 صفحات کر دی گئی ۔ مرزا پور سے نکلنے والے رسالے خیر خواہ ہند کے صفحات صرف بارہ ہوا کرتے تھے۔ لیکن اس کا شمار رسالے میں ہی ہوتا تھا۔ اس کے مدیر عیسائی پادری آرسی ماتھر تھے۔

1857 میں تین اخبارات شائع ہوئے۔ لکھنو سے پہلا اخبار ”لکھنو اخبار" جس کے مدیر لال جی تھے۔ بریلی سے "عمدۃ الاخبار" مولوی عبدالرحمن کی ادارت میں نکلا اور "جام جمشید "میرٹھ سے جاری ہوا۔ اس کے مدیر با بوشیو چندر ناتھ تھے ۔ 1850 کا معروف اخبار "کوہ نور" تھا۔ اسے انگریزوں کی پشت پناہی حاصل تھی ۔ یہ اخبار ابتدا میں ہفت روزہ تھا۔ پھر سہ روزہ ہوا اور جلد ہی ایک دن ناغہ کر کے شائع ہونے لگا۔1854 میں اس کی تعداد اشاعت 349 تھی۔ جبکہ دلی اردو اخبار کی تعداد اپنے آخری ایام میں 79 تک پہنچ پائی تھی۔ حالانکہ یہ اخبار بہت مقبول تھا۔ 1857 کی شورش دینے کے بعد کوہ نور انگریزوں کے ظلم و استبداد کی کہانی سے عوام کو باخبر کرتارہا۔ یہ اخبار لاہور سے جاری ہوا۔ اس کے ایڈیٹرمنشی ہر سکھ رائے تھے۔ منشی ہر سکھ رائے اخبار ”جام جمشید" کے مدیر رہ چکے تھے۔ اسی سال ہر بنس لال نے اپنے ذاتی مطبع سے بنارس سے اخبار زائرین ہنڈ جاری کیا۔ اردو صحافت نے انیسویں صدی کے وسط میں اس قدر ترقی کی کہ ہر سال کئی کئی اخبار نکلنے شروع ہوئے۔ 1851 میں چار اخبار نکلے۔ سیالکوٹ سے "ریاض نور“ جاری ہوا جو بعد میں ملتان سے نکلنے لگا تھا۔ امرتسر سے ”باغ نور "اور لدھیانہ سے اخبار ”نور علی نور" نکلا۔ اس کے علاوہ بنارس  سے "بنارس ہر کارہ" شائع ہوا جس کے مدیر سید احمد علی تھے۔ اردو صحافت کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو شہر بنارس نے تعداد کے لحاظ سے بڑی بیداری کا ثبوت دیا ہے۔ آٹھ صفحات پرمشتمل بابو کاشی داس مشر کی ادارت میں بنارس کے کاشی پریس سے 1852 میں’آفتاب ہند“ شائع ہوا۔ دیگر اخباروں کے بہ نسبت اس کا اثر زیادہ تھا۔ 1853 میں ہندوستان سے بہت سارے اخبار جاری ہوئے اور 1857 تک شائع ہوتے رہے ۔ ملتان سے ”شعاع الشمس‘ سیالکوٹ سے چشمہ فیض اور دلی سے ”صادق الاخبار“ شائع ہوا۔ اس وقت شائع ہونے والے اخباروں میں ”صادق الاخبار “ بہت بے باک اور جری اخبار تھا۔ اس نام کے دہلی سے کئی اخبار جاری ہوئے۔ جن کے مدیر الگ الگ تھے۔ ایک ”صادق الاخبار‘ کا چرچا بہت تھا۔ 1857ء میں اس کے مدیر کو تین سال کی سزا بھی ہوئی تھی ۔ جس کے مدیر جمال الدین یا جمیل الدین خاں ہجر تھے۔ یایہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ دونوں دو اخبار کے مدیر رہے ہوں اور ایک ہی نام ”صادق الاخبار‘ سے مشہور ہوئے ہوں ۔ گلشن نو بہار اور" ریاض الاخبار" پر مقدمے چلے اور بند بھی ہو گئے ۔ 1857 سے قبل ریاستی سطح پر اخبارات کی ایک طویل فہرست ہے۔ جس کے مدیران بیشتر ہندو تھے اور جنگ آزادی میں اردو کا سہارا لے کر بڑے پیمانے پر قربانیاں دی گئیں ۔ بنارس گزٹ“ ماہ نامہ  تھاخبار "مطلع الانوار "اخبار مرتضا" نیر اعظم اور محتشم الاخبار" کی اپنے اپنے علاقوں میں قدرتھی ۔1855 میں بمبئی اور مدراس سے،دو اخبار جاری ہوئے جو اپنے مندرجات سے اہم تھے۔ صبح صادق مدراس سے شاہ محمد صادق شریف چشتی کی ادارت میں جاری ہوا جبکہ بمبئی سے نکلنے والے اخبار ”کشف الاخبار "کا شف الاسرار" کے مدیر نشی امان علی لکھنوی تھے۔اعجاز لکھنو طلسم، لکھنو سحر، مخزن الاخبار لکھنؤ کی خدمات ہیں۔ جن کی اشاعت 1856 میں عمل میں آئی۔اس کے ایک سال بعد 1857 میں مختصر مدت کے لیے دو اخبار ” معدن الاخبار" اور" عیار الاخبار" جاری ہوئے۔

ان اخباروں کے علاوہ چند اخبار ایسے تھے جن کو انفرادیت کا درجہ حاصل تھا۔ ان میں کچھ رسالے بھی تھے ۔ 1866 میں اردو صحافت کے مزاج میں نمایاں تبدیلی ہوئی ۔ اشتعال و جارحیت سے آہستہ آہستہ اردو صحافت نے سنجیدگی ، دوراندیشی ، نرم روی اور تعمیری فکر کی طرف قدم بڑھائے ۔ اس میں سرسید احمد خاں کا اہم کردار رہا ہے۔ سید محمد خاں کے انتقال کے بعد "سید الاخبار“ کی ذمے داری سرسید احمد خاں نے سنبھالی تھی اس لیے انھیں کافی تجربہ حاصل تھا۔ مزید وہ پہلے ہی سے ”سید الاخبار“ میں علمی وسماجی اور تاریخی نوعیت کے مضامین لکھا کرتے تھے۔ سید الاخبار کے بند ہونے کے بعد سرسید احمد خاں نے 1966 میں اخبار سائنٹفک سوسائٹی کے ذریعے صحافتی زندگی کا آغاز کیا ۔ یہ اخبار ہفت روزہ تھا جو بعد میں سہ روزہ ہوگیا تھا۔ اخبار سائنٹفک سوسائٹی کا انگریزی ایڈیشن بھی شائع ہوتا تھا جس کا نام ”دی علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ "تھا۔ اس اخبار کے ذریعے سرسید ہندوستانیوں کی فکری تبدیلی کرنا چاہتے تھے۔ بیجا پور شور و ہنگامہ ، اشتعال و احتجاج کے برعکس شائستگی دمتانت اور حکمت و دانائی کی تعلیم دینا چاہتے تھے۔ سماجی برائیوں بیجا پورشورو اور توہمات سے اجتناب نیز صحیح مذہبی شعور پیدا کرنا چاہتے تھے ۔ سرسید احمد خاں سچے مصلح قوم و ملک تھے ۔اپنی مقصد برادری کے لیے انھوں نے ایک اور رسالہ ” تہذیب الاخلاق 1879 میں شروع کیا۔ اس رسالے کا مقصد بھی روشن دماغی ، علوم وفنون کی افادیت کا احساس اور بیجا روایتی فرسودہ نظام زندگی سے پر ہیز تھا جو ترقی کی راہ میں حائل تھے۔مذکورہ اخبارات کے علاوہ جن اخباروں نے ہندوستان میں شہرت و مقبولیت حاصل کی ۔ ان میں اودھ اخبار اور ”ہندوستانی تھے ۔ اودھ اخبار لکھنو سے 1874 میں منشی نول کشور نے جاری کیا۔ یہ ہفت روزہ تھا۔اودھ اخبار اور اودھ پنچ طویل العمر اخبار ہیں۔ اودھ پنچ کے مالک ومدیر منشی سجاد حسین تھے۔ اس کی اشاعت 1877 سے شروع ہوئی ۔ منشی سجاد حسین نے کبھی مصلحت کا رویہ نہیں اختیار کیا۔ وہ ہمیشہ ظلم وستم کے خلاف آواز اٹھاتے رہے۔ منشی سجاد حسین نے اودھ پینچ کو لندن پہنچ“ کے طریقے پر شروع کیا تھا۔ اس کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے ”پنچ کے نام سے متعدد اخبارات نکلے۔ کلکتہ پنچ، انڈین پنچ، پنجاب پنچ، سر پیچ، کشمیر پنچ، اودھ اخبار کی شہرت و مقبولیت اس کی عظیم خدمات کی وجہ سے تھی ۔ پورے ہندوستان میں منشی نول کشور کے نمائندے پھیلے تھے ۔ اس کے قلمی معاونین میں شعرا، ادبا، دوسرے بلند پایہ مضمون نگاروں کا نام اس اخبار سے جڑا ہوا تھا۔ شوکت تھانوی ،عبد الحلیم شر ، یاس یگانہ چنگیزی، پنڈت رتن ناتھ سرشار وغیرہ شامل تھے۔ اودھ اخبار “ ہفت روزہ سے شروع ہو کر سہ روزہ اور پھر بعد میں روز نامہ ہو گیا تھا۔ اپنے دور کا پہلا روز نامہ کلکتہ سے نکلنے والا اردو گائیڈ تھا لیکن اردو کا پہلا بڑا اخبار 'اودھ اخبار “ ہی تھا۔

صحافت کی دنیا میں ایک نام منشی محبوب عالم کا ہے۔ جو جلی حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے۔ منشی محبوب عالم نے پے بہ پے کئی اخبار جاری کیے ۔ خود اپنا مطبع ” خادم التعلیم کے نام سے قائم کیا۔ اور ایک ماہنامہ زمیندرا “ جاری کیا۔ اور اس کے ایک سال بعد ہمت نام سے ہفت روزہ شروع کیا۔ ”ہمت کے بعد اسکول ماسٹر کے نام سے ایک نفت روز ہ جاری کیا۔ انھیں دنوں ایک اخبار" اخبار عام" کے نام سے نکلنا تھا۔ جس کی قیمت صرف ایک پیسہ ہوا کرتی تھی۔ محبوب عالم نے اپنے ہفت روزہ ”ہمت کو 1887 میں گوجرنوالہ سے "پیسہ اخبار" کے نام سے نکالنا شروع کیا ۔ اور دوسال بعد 1889 میں گوجرنوالہ سے لاہور منتقل کر دیا۔ اس انتقال مکانی کے پیچھے مزید ترقی کا تصور تھا۔ لاہور سے انھوں نے پیسہ اخبار کا الگ سے ایک روز نامہ 1897 میں شروع کیا جو 1899 میں بند ہو گیا ۔ لیکن 1904 میں دوبارہ شروع کیا۔ اس کے علاوہ انتخاب لا جواب بچوں کا اخبار کسانوں کے لیے ”باغبان" طلبہ کے لیے "کلیدی امتحان "اور عورتوں کے لیے خاص طور پر" شریف بی بی" کے نام سے اخبار جاری کیا۔ ہفتہ وار پیسہ اخبار کی تعدا دا شاعت 1897 میں گیارہ ہزار تھی جبکہ روزانہ نکلنے والے پیسہ اخبار کی شرح خریداری تین جنوری 1911 کو کلکتہ سے انگریزی اخبار ” کامریڈ" شروع کیا۔ جو 1913 میں برطانوی حکومت کے دارالسلطنت کلکتہ سے دہلی منتقلی کے ساتھ کامریڈ بھی دہلی منتقل ہو گیا اور 1914 میں برطانوی حکومت کے دباؤ سے بند ہو گیا اور اس کی دو ہزار کی ضمانت بھی ضبط کر لی گئی دوبارہ 1924 میں جاری ہوا مگر ایک سال کے بعد جنوری 1926 میں پھر بند ہوا۔ 14 جنوری 1911 کو ” کامریڈ کا اجرا ہوا تھا اور 23 فروری 1913 کواردو روزنامہ ”ہمدرد "دہلی سے شائع ہونا شروع ہوا۔ ہمدرد کو بھی کئی بار بند ہونا پڑا۔ اس کی تعداد اشاعت دس ہزار تک پہنچ گئی تھی جس سے اس کی مقبولیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس کے مندرجات میں پہلے صفحے پر اسلامی ممالک کی خبریں اور اندر کے صفحے میں ہندوستان کی اور دوسرے ملکوں کی خبریں ہوا کرتی تھیں۔ اس کے علاوہ نظمیں اور افسانے بھی ہوا کرتے تھے۔ جون 1903 میں جاری ہونے والا ”زمیندار" 5 اکتوبر کو ” روز نامہ ہو گیا۔ اس کے بانی ایڈیٹر ظفر علی خاں کے والد مولوی سراج الدین احمد تھے ۔ جون 1903 میں لاہور سے شروع ہونے والا ہفت روزہ اخبار اور اس کے مدیر ظفر علی خاں کی اہمیت و مقبولیت کا پتا اس سے چلتا ہے کہ انھیں اپنی صحافتی خدمات کے بدلے چودہ سال قید و بند کی زندگی گزارنی پڑی۔ تین لاکھ روپے سے زیادہ جرمانہ دینا پڑا اور ان کا اخبار پندرہ بار منتقلی کا شکار ہوا۔

اردو صحافت میں مولا نا ابوالکلام آزاد اپنے نئے صحافتی انداز اور اسلوب و زبان کے ساتھ وارد ہوئے ۔ علوم وفنون کو خطیبانہ طرز عطا کی ۔ ان کلفت روزہ اخبار بھی تین مرحلوں سے گزرا۔ 13 جولائی 1912 میں" الہلال" کا اجرا عمل میں آیا اور 18 نومبر 1914 کو بند ہو گیا۔ دوبارہ ایک سال بعد نومبر 1915 سے" البلاغ" کے نام سے جاری ہوا اور مارچ 1916 میں پھر بند ہو گیا۔ آخری بار پھر الہلال کے نام سے شروع ہوا اور صرف سات ماہ چل کر آخری بار بند ہو گیا۔ یہ مدت جون 1927 سے دسمبر 1927 کو محیط ہے۔ الہلال زبان کی علمیت ، فصاحت و بلاغت کا ایک منفرد نمونہ تھا۔ الہلال اور البلاغ کے علاوہ بھی ابوالکلام آزاد نے دوسرے اخبار جاری کیے۔ کلکتہ میں الہلال کی اشاعت سے قبل آزاد نے نیرنگ عالم المصباح “ اور ” لسان الصدق‘ جاری کیا تھا۔ لسان الصدق سے مولا نا کو شہرت ملنی شروع ہوگئی تھی اور ان کی حیثیت ایک صحافی کے طور پر تھی ۔ انھیں کئی بار ریاست بدری کا حکم ملا۔ قید و بند کی صعوبت بھی برداشت کرنی پڑی۔ مولانا ابوالکلام آزاد کی اسیری میں تخلیق ادب و صحافت کا نمونہ غبار خاطر“ کے خطوط اور ترجمان القرآن ہیں۔ مولا نا اخباری صحافت کے ذریعے اپنے علم وادب کا ثبوت بھی فراہم کرتے رہے۔ جواد بی صحافت کے شاہکار ہیں۔مولا نا آزاد کی زندانی زندگی 16 برس پر محیط ہے۔

اردو صحافت میں ایک اور نام محمد مجید حسن کا ہے۔ انھوں نے یکم مئی 1912 میں اپنا ہفت روزہ اخبار بجنور سے جاری کیا۔ جس کا نام ”مدینہ“ تھا۔ اولاً یہ اخبار رواداری کا نمونہ تھا مگر رفتہ رفتہ ملکی حالات سے متاثر ہوکر برطانیہ مخالف ہو گیا۔ اس کے مواد ومندرجات میں خبروں کے علاوہ سیاسی موضوعات پر مضامین نظمیں، غزلیں ہوا کرتی تھیں اس کے قلمی معاونین میں حسرت موہانی ، ظفر علی خاں، اکبرالہ آبادی اور علامہ اقبال جیسے بلند پایہ شعر او شخصیات تھیں۔ یہ اخبار بھی حکومت کے عتاب کا شکار ہوا۔ مدینہ اخبار بھی پابندیوں سے دو چار ہوا۔ 17 اگست 1919 میں ” یثرب کے نام سے نکلا۔ جب یثرب پر پابندی لگی تو پھر مدینہ کے نام سے شروع ہوا۔اردو صحافت میں مولانا حسرت موہانی اور ان کے بھائی محمد علی جوہر کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔

 

خبر کی تعریف اور اس کے لوازم

خبر:کچھ سوالات ایسے ہوتے ہیں جن کے جوابات ہم جانتے ہیں مگر مناسب ترین ہے الفاظ میں ان کا اظہار ہمارے لئے ایک بہت مشکل امر ہے محبت کیا ہے زندگی کیا ہے ,سچ کیا ہے، کچھ ایسے ہی اہم اور دلچسپ سوالات ہیں بالکل اسی زمرے کا ایک یہ سوال ہے کہ خبر کسے کہتے ہیں اکثر لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ خبر یا اطلاع کسی شے کا نام ہے لیکن جب مختصر الفاظ میں تعریف کرنے کی ضرورت پڑتی ہے تو ذرا مزاحمت ہوجاتی ہے  غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ خبر یعنی نیوزNEWS  سے  چار سمتوں کا تعلق ہے(N=NORTH, E=EAST, W=WEST,  SOUTH) یعنی چاروں اطلاعات کو نیوز یا خبر یا اطلاع کہتے ہیں کچھ لوگ اس خیال میں مبتلا ہے کہ یہ انگریزی لفظ NEW سے ماخوذ ہےنیوز NEWS یہ   لفظ  NEWکی جمع ہے ۔ایک مقبول امریکی اخبار نویس "جون بی ۔بو گارڈ" سٹی ایڈیٹر نیویارک سن ،نے کافی سال پہلے ایک ہلکی پھلکی مگر معنیٰ خیز تعریف یوں کی تھی ۔

"اگر کتا انسان کو کاٹے تو وہ خبر نہیں البتہ انسان کتے کو کاٹے تو وہ خبر ہے"

گویا جو بات بھی معمول کیخلاف ہو یعنی غیر معمولی ہو وہ خبر ہے مختلف محققین اور مصنفین معتداد انداز سے خبر کی تعریفیں پیش کی ہیں ایسی سینکڑوں تعریفوں کام حاصل یہی ہے کہ خبر کا دلچسپ ہونا ضروری ہے اس میں کوئی نئی بات کہی گئی ہو  تفصیل غیر معمولی ہو، جو بات کسی مقام کی کسی کو سننے میں آئے وہ خبر ہے لفظ اخبار خبر کی جمع ہے یعنی بہت سی خبریں، خبر دراصل ایک عربی لفظ ہے تقریبا ہر اہم مصنف نے اپنے اپنے طور پر خبر کی تعریف کی ہے درج ذیل میں چند مشہور تعریفوں کو پیش کیا جارہا ہے ۔

·      "ہر وہ   درست ، اطلاع یا نظریہ ہے جس سے قارئین کی اکثریت کو دلچسپی ہو ۔"

·      "ڈاکٹر ایم لیل اسپنسر "کسی بھی ایسے اہم واقعے کی پہلی اطلاع خبر کہلاتی ہے جس سے اخبار پڑھنے والوں کو دلچسپی ہو۔"

·      "خبر ایسی اطلاع کی غیر متعصب رپورٹ ہے جس میں کسی تازہ واقعہ یا حادثے کا حال شائع کرنے سے اخبار کے قارئین کی دلچسپی کا سامان مہیا ہوتا ہو۔"

جب سے انسان نے ہوش سنبھالا ہے اس نے نئی معلومات کی کھوج کی ،غذا لباس اور مکان جیسی بنیادی ضروریات کے پورے ہوتے ہی انسان اپنے اصطراب کے اطلاع کے لیے یا تفریح طبع کیلئے نئی باتیں جاننے کے لیے بے قرار رہا ہے غاروں میں رہنے والے ابتدائی انسانوں کو بھی نئی باتیں معلوم کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کا شوق تھا وہ اشاروں کنایوں سے یا زبانی طور پر نئی باتیں ایک فرد سے دوسرے فرد تک یا ایک قبیلے سے دوسرے قبیلے تک پھیلاتے تھے یہ عمل دنیا کے تقریبا تمام حصوں میں عام تھا ۔خبر عوامی معراج سمجھی جاتی ہیں اس لئے برطانیہ میں  کاپی رائٹ قانون کا اطلاق خبر پر نہیں ہوتابلکہ صرف خبر تحریر کرنے کے خفیہ  انداز پر ہوتا ہے خبر عوام کے لئے اتنی ناگزیر ہوتی ہے کہ اسے کسی فرد کی  ملکیت  نہیں قرار  دیا جا سکتاخبر سب کے لیے ہوتی ہے خبروں کی اہمیت کا زیادہ صحیح اندازہ لوگوں کو اس وقت زیادہ ہوتا ہے جب کسی حادثے  ہڑتال یا تعطیل کی وجہ سے اخبارات بلکل شائع نہیں ہوتے آجکل یہ طے ہے کہ خبروں کے بغیر عام انسانی زندگی محفوظ نہیں ہیں خبروں کی ترسیل کی اہمیت کا اس بات سے بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بعض غیر جمہوری  حکومتوں میں سرکاری محکمے خود روزانہ اخبارات شائع کرتے ہیں جمہوری حکومتوں میں جرائد اور اطلاعاتی مراکز کے ذریعے خبروں کی تقسیم کا کام کیا جاتا ہے تقریبا ہر مرکزی اور سیاسی حکومت کا ایک خصوصی مختصر رسالہ ہوتا ہے جو عام طور پر سرکاری گزٹ کہلاتا ہے مشہور انگریزی مصنف اور صحافی ڈیفو نے کہا تھا کہ سماج کو تقویت خبروں سے ہی ملتی ہے گو یا زمانہ کی آواز ہے ہمعصر دور کی ایک اہم پیداوار ہے اخبار کسی بھی قاری کے سامنے پچھلے چوبیس گھنٹے  کی تاریخ کی ایک جھلک پیش کرتا ہے ۔

خبروں کے لوازم:ہم ایک ایسی دنیا میں بستے ہیں جہاں خبریں ہی خبریں ہیں۔ ہم ہر جگہ خبروں کے گھیرے میں سانس لے رہے ہیں۔ بے شمار خبریں ہمارے اطراف واکناف گھوم رہی ہیں ،اخبار نویس خبروں کی کان میں بیٹھا ہے ۔ خبریں جمع کرنا کان کنی جیسا مشغلہ ہے۔ ذراسے تجسس سے، ذرا سی جدت سے، ذراسی رغبت سے خبریں کھوج نکالی جاسکتی ہیں۔ اخبار کے کوئی بھی دو پڑھنے والے یکساں ذوق وشوق نہیں رکھتے۔ ہر ایک قاری کی دلچسپی بالکل جدا گانہ ہوتی ہے۔ ہر قاری کا زاویہ نگاہ علاحدہ اور ہر ایک کی دلچسپی مخصوص ہوتی ہے۔ اس لیے خبروں اور اخباروں میں مکمل یکسانیت نا ممکن بات ہے ۔کسی بھی خیر میں وجدانی کیفیت ہو تو وہ زیادہ موثر ثابت ہوتی ہے ۔ ہر خبر میں پڑھنے والے کی توجہ مبذول کرنے یا منعطف کرنے کی قوت ہونی چاہیے ۔ ضروری نہیں کہ خبر میں سنسنی یا جوش یا ہنگامہ خیزی کا عنصر موجود ہو ۔ خیر کے کئی اجزا بیان کیے جاسکتے ہیں۔ اہم ترین اجزا مندرجہ ذیل ہیں :

انوکھا پن :کسی بھی نئی بات میں انوکھی تفصیل ہو۔ یعنی جدت اور ندرت ہو۔ نئی چیز میں نیا پیچ وخم ہو ۔ ایسی بات زیادہ جاذبیت رکھتی ہے جو اس سے پہلے کبھی وقوع پذیر نہ ہوئی ہو۔ بات جتنی اچھوتی ہو گی اتنی ہی دلچسپی کا باعث ہو گی ۔

مقامی خبر :ہر انسان اپنے قریب ترین ماحول سے زیادہ وابستگی رکھتا ہے۔ اُس کی اپنی گلی میں ایک بلی کی موت کی خبر اُسے دور دراز مقامات میں یک لخت پانچ آدمیوں کے ہلاک ہونے کی خبر سے زیادہ اہم اور دلچسپ محسوس ہوگی ۔ اخبار کا قاری نزدیکی مقامات کے حالات اور واقعات سے زیادہ با خیر رہنا پسند کرتا ہے ۔ اس لیے ہر چھوٹے بڑے اخبار میں مقامی خبروں کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے ۔ مقامی قائدین ، اداروں، تبدیلیوں اور تازہ حادثات سے کسی بھی اخبار بین کی رغبت کا لحاظ رکھنا ہر اخبار نویس کا فرض ہے ۔

جرم : لوگ جرائم اور خصوصا قتل کی وارداتوں سے زیادہ دلچسپی  رکھتے ہیں۔ ایک  لگن ہے، جو عوام جرم اور مجرم سے رکھتے ہیں، حالانکہ یہ غیرشریفیانہ زندگی یا عنصر ہے مگر جرائم سے انسانی زندگی  کافی قدیم ہے ۔ ہر جرم میں خبریت بہت جاندار ہوا کرتی ہے۔ معیاری اخبارات بھی جرائم کی خبروں سے بالکل پر ہیز نہیں کر سکتے۔

 مقابلہ :لڑائی جھگڑے، جنگ و جدال ، تصادم ٹکراؤ اور مقابلے کثیر خبری توانائی کے حامل ہیں، بلوے، فرقہ وارانہ فسادات کوه پیمائی بھی تحقیق، انقلابات ، بغاوت، انتخابات، سیاسی کشیدگی، غرض جہاں کہیں رسہ کشی یا اقتدار کے لیے تناؤ ہے وہاں کے حالات میں خبری عنصر کی شدت ہوا کرتی ہے ۔ یہ بالکل صحیح ہے کہ جنگ کے زمانہ میں اخبارات کی اشاعت اور عام اخبار بینی بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے ۔ یہ انسانی خاصہ ہے کہ وہ مڈ بھیڑ، طاقت آزمائی اور ہر قسم کے مقابلوں میں ہمیشہ دلچسپی لیتا رہا ہے۔

 مذہب :جہاں احساسات ، خوف اور ضمیر ملوث ہیں خبر زور دار ہو جاتی ہے ۔ انسان لاکھ بڑا سہی مگر مذہب کے نام پر نرم پڑ جاتا ہے ماطیش میں آکر سر سے کفن باندھنے پر آمادہ ہو جاتا ہے ۔ مذہب کے نام پر جھگڑے بھی بڑی آسانی سے کھڑے کیے جاسکتے ہیں۔ یہ ایک نازک مسئلہ ہے مگر اخبار والوں کو مذہبی امور کی جانب تھوڑی بہت توجہ ضرور دینی ہوتی ہے۔ بلکہ یہ کہنا بھی ٹھیک ہے کہ ایک ملحد بھی مذہبی جبروں سے سے کچھ نہ کچھ دلچسپی ضرور لے گا ۔ مذہب سے متعلق ہر قدیم اور جدید تفصیل میں خبری پہلو نمایاں رہتا ہے ۔

صحت : ہر کوئی اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ تندرستی ہزار نعمت ہے ۔ ہر شخص اپنی خیرو عافیت مند، کا خواہاں صحت مند، خوش و خرم اور فرماں رہنا چاہتا ہے۔ نئی نئی احتیاطی تدابیر نئی راحت کے نئے طریقوں، طبی صلاح و مشوروں وغیرہ سے خیرا در اخبار کو دواؤں، مفید اور مقبول بنایا جا سکتا ہے۔

 سائنس : بہ زمانہ اور بہ زمانہ سائنس اور تکنالوجی کی محیر العقول ترقی اور روز افزوں تقدم کا ہے۔ سائنسی ایجادات اور انکشافات نے عصری دنیا کی صورت بدل ڈالی ہے اور یہ عمل مسلسل جاری ہے۔ سائنسی ایجادات سے عہد حاضر میں کئی نئے افقی عیاں ہو رہے ہیں ۔ مصنوعی سیاروں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے وسائل ابلاغ میں بھی حیرت انگیز تبدیلیاں آئی ہیں ۔ نئی دریافتوں اور ایجادات کی تفصیلات سے خبر موثر بن جاتی ہے ۔ آج کل معمولی انسان بھی سائنس کی جدید ترین باتوں سے روشناس ہونا چاہتا ہے ۔

موسم : جیسے ہی لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں، علیک سلیک کے بعد عموماً موسم کے بارے میں گفت وشنید کرتے ہیں۔ ایسی ہی دلچسپی وہ کل کے موسم میں لیتے ہیں۔ موسم سرما ہویا گرما، برسات کا موسم ہو یا غیر متوقع موسمی تغیرات، قارئین موسم کی تبدیلیوں کا حال پڑھنے سے دلچسپی رکھتے ہیں ۔ اسی لیے ہر اہم اخبار میں موسم کے بارے میں تفصیلات اکثر نقشوں اور پیش گوئیوں کے ساتھ دی جاتی ہیں ۔ کاشتکاروں کے لیے موسمی خبروں کی اہمیت زیادہ ہوا کرتی ہے ۔

 غذا: انسان ہمیشہ سے روٹی ، کپڑے اور مکان کا ضرورت مند ہے ۔ کھانے پینے کی اشیاء میں  دلچسپی  ہرکسی کو ہوتی ہے ۔ اجناس کی زیادہ پیدا وار ہو یا قحط کی تفصیل محتشم ضیافتوں کاحال ہو یا فاقو کا تذکرہ ، بات شراب کی ہو یا شربت کی ، اشیا کے خورد و نوش کی نئی  اطلاعات جاندار خبر کہی جاسکتی ہیں۔

فیچر :فیچر والے مضامین مغربی ممالک میں کافی مقبول ہیں مگر ہندوستان میں ان کی مقبولیت کی رفتار ذرا دھیمی ہے حلانکہ  انگریزی اخبارات کے ہفت روزہ میگزین ایسے دلچسپ مضامین کو اہمیت دیتے آئے ہیں فیچر اور مضمون میں کافی فرق ہے فیچر کی اپنی علیٰحدہ خصوصیات ہیں خصوصی مضامین اور فیچر دونوں خبروں کے زمروں میں نہیں آتے تونثر  نگاری کے اعلی نمونے ہوتے ہیں کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ فیچر ایک خصوصی مضمون دکھائی دیتا ہے اور خصوصی مضمون میں فیچر کی وجہ فتح نظر آتی ہے قارائین کے علاوہ مدیران بھی بعض اوقات خصوصی مضمون اور فیچر کے درمیان خطِ تفریق  کھیچنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں کچھ موضوع ایسے ہوتے ہیں جن پرفیچر لکھنے کی سعی کی جاتی ہے کہ وہ ایک اچھے خصوصی مضمون کی شکل و صورت اختیار کر لیتے ہیں اور کسی موضوع پر محنت سے ایک مختصر مضمون لکھا جاتا ہے تو وہ فیچر کی شکل اختیار کر لیتا ہے ۔

کسی ایک خصوصی مضمون کو لکھنے کے لیے مستند کتابوں کا مطالعہ ضرورت ہوتی ہے تاکہ پس منظر زیادہ صحت کے ساتھ پیش کیا جائے اعداد و شمار جمع کرتے وقت کافی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے مگر فیچر لکھنے کے لئے آنکھوں اور کانوں کے صحیح استعمال کی زیادہ ضرورت ہو اہمیت ہوتی ہے یعنی صحافی کا مشاہدہ گہرا ہو اور کان تیز ہو تو فیچر لکھنے کے لئے کئی عنوان مل سکتے ہیں مضامین کی طرح فیچر میں حقائق تازہ اعدادوشمار اور تحقیقی مواد کی بہت کم ضرورت ہوتی ہے فیچر ایک ہلکا پھلکا مضمون ہوتا ہے جس میں کسی شے یا فرد یا ادارے پر ضروری روشنی ڈالی جاتی ہے یا صحافی کے مشاہدات کے اشارے ہوتے ہیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ تحریر ہو جاتا ہے غور سے دیکھا جائے تو عام مضمون لکھنا آسان اور فیچر تیار کرنا دشوار ہے فیچر کی تحریر میں طرز نوکی ضرورت ہوتی ہے مضمون میں سنجیدگی کا عنصر ہوتا ہے جبکہ فیچر میں تفریق کی جانب زیادہ میلان ہوتا ہے مضمون میں بھاری بھرکم  پن کا لحاظ رکھا جاتا ہے جبکہ فیچر نے بات  لطیف مگر چست و چالاک ہوتی ہے فیچر اور مضمون میں بنیادی فرق آمد اپروچ کا ہوتا ہے صحافی کی اہلیت پر فیچر کا کامیابی کا انحصار ہوتا ہے صحافی یہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ فلاں عنوان کے ساتھ ایک خصوصی مضمون بہتر رہے گا کچھ  موضوع ایسے ہوتے ہیں جن پر فیچر نہیں لکھا جاسکتا اور کچھ موضوع ایسے ہوتے ہیں جن پر سنجیدہ مضمون کے بجائے کامیابی سے لکھا جا سکتا ہے اور قارائن سے داد بھی حاصل کی جاسکتی ہے اگر صحافی یہ لکھنے کی کوشش کرے ایک وزیراعلی کا اوسط دن اس طرح گزرتا ہے تو وہ مذکورہ وزیر اعلی کی روزمرہ زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالنے کے لیےفیچر لکھ رہا ہے سنجیدہ یا تحقیقی مضمون نہیں ۔اختصار فیچر کی روح ہے طوالت کسی بھی فیچر کے لئے زہر ہے فیچر جتنا مختصر ہوگا اتنا ہی دل موہ لینے والا ہوگا فیچر نویسی ہمیشہ طول نویسی اور پر نویسی کی دشمن رہی ہے جہاں لفاظی آجاتی ہے وہاں فیچر کا لطف دھیما پڑ جاتا ہے فیچر میں ایک ہی بات کو پر پوری توجہ صرف کی جاتی ہے اور ایک ہی خیال کو نکھار آجاتا ہےفیچر کا ایک مزاج ہوتا ہے جس کی کیفیت میں ایک عجیب لطافت کا عنصر زیادہ نمایاں رہتا ہے فیچر کا صحافت میں وہی مقام ہے جو اردو شاعری میں غزل کا ہے جس طرح نظم قصیدہ مرثیہ اور مسدس کے مقابلے میں غزل اردو دانوں کو زیادہ پسند آتی ہے بلکل اسی طرح صحافت میں فیچر کا ایک امتیازی درجہ ہے جس طرح غزل کے اشعار میں رنگینی شستگی ہے شوخی اور شگفتگی ہوتی ہے ۔فیچر میں  ایسی نُدرت ہونی ضروری ہے کسی بھی مضمون میں مختلف کیفیات ہوسکتی ہیں مگر فیچر میں ایک ہی کیفیت کو ترجیح دی جاتی ہے مضمون کئی کمروں والی ہما منزلہ حویلی ہے تو فیچر ایک  پاک صاف  خوبصورت اور آرامدہ چھوٹا سا مکان ہے ۔

مضمون معلوماتی ادب کا نمائندہ ہے جبکہ فیچر تفریحی ادب کا علمبردار مضمون محنت سے لکھے جاتے ہیں مگر کبھی کبھار مضامین کے مطالعے سے طبیعت میں اکتاہٹ سے پیدا ہو جاتی ہے فیچر لکھتے وقت اس بات کی خصوصی لحاظ رکھا جاتا ہے کہ قاری بیزار نہ ہو فیچر کا دلکش فرحت بخش اور پرمسرت ہونا لازمی ہے مضمون میں دلائل ہوسکتے ہیں صلاح و مشورے ہوسکتے ہیں فلسفہ ہو سکتا ہے نتائج دیے جاتے ہیں یا فیصلہ کن اختتام ہوتے ہیں فیچر میں اتنی گہری اور عالمانہ فضلت نہیں ہوتی فیچر میں کسی بات کی توسیع بھی ہوسکتی ہے اور کسی بات پر اعتراض بھی ہوسکتا ہے فیچر بہرحال ایک زندہ دلانا تصنیف ہے ۔

اداریہ :

اداریہ وہ مضمون ہوتا ہے جس میں کسی بھی اخبار یا رسالے کے مدیر کی کسی اہم معاملے پر رائی شائع ہوتی ہے یہ رائے مدیر کے علاوہ اخبار کے ناشران یا مالکان کی بھی ہو سکتی ہے اداریہ کسی بھی اخبار کا ضمیر کہلاتا ہے اداریہ ہی کے ذریعے اغوار کی بیباکی اور احساسات کا پتہ چلتا ہے کسی بھی اخبار کے اداریے میں مندرجہ ذیل عناصر ضروری سمجھے جاتے ہیں ۔

·      "اسلوب بیان کی پاکیزگی نصب العین استدلال رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کی قوت اورقارئین کو صحیح راہ دکھلائے۔"

یہ کہنا بھی غلط  ہوگا کہ اداریہ مدیر کی رائے کے اظہار کا وسیلہ ہے کیوں کے اداریے میں رائے کے علاوہ اہم خبروں کا تجزیہ ہوتاہے کی معلومات کی توسیع ہوتی ہے کی مسائل پر روشنی ڈالی جاتی ہے اداریوں کے ذریعے واقعہ کی تفسیر بیان ہوتی ہے کی معاملات کی توضیح ہوتی ہے کسی بھی فیصلے کی اہمیت کا اعادہ کیا جاتا ہے عام طور سے سمجھ میں آنے والی باتوں کا مفہوم سمجھایا جاتا ہے جدید اداریے حالات حاضرہ کا آئینہ ہوتا ہے اداریہ میں پس منظر فراہم کیا جاتا ہے ضروری کوائف اور اعدادوشمار کے بلبوتے پر رائے زنی کی جاتی ہے اور رائے کے اظہار کے وقت یہ لحاظ رکھا جاتا ہے کہ اخبار کی رائے سے عام قاری بھی متفق ہوتا نظر آئے یہ ضروری نہیں کہ اداریے بھی دی گئی اخبار کے مدیر کی رائے سے ہر قاری کو اطمینان ہو بہرحال ہر قاری یہ سمجھتا ہے کہ اخبار کا مدیر دانشور ہے عصری دنیا کا لباس ہے اور وہ کسی مسئلہ پر صلاح و مشورہ دے رہا ہے تو وہ کسی پر بنیاد پر دے رہا ہے اور اسے اپنی ذمہ داری کا پورا پورا احساس ہے ۔

کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ اداریے میں تقریبا وہی باتیں کہی جاتی ہے جودوسرے لوگ بھی کہتے ہیں یا کہتے رہے ہیں یا کہیں رہے ہیں مگر وہی بات اچھوتے انداز میں بہتر الفاظ میں دلالت کے ساتھ ضبط تحریر میں لائی جاتی ہے اداریے میں ایک ادبی لہر بھی ہوتی ہے جو اخبارات کی دیگر تحریرات سے اسے ممتاز کرتی ہےماہر اداریہ نویس اصرار کرتے ہیں کہ اداریے میں بھی اختصار سے کام لیا جائے بات براہ راست ہی کہی جائے گھما پھرا کر نہ کہی جائے اداریے میں حق گوئی اور بے باکی کے عنصر نمایاں رہنے بہت ضروری ہے تلخی اور خوف سے اداریے کا بالکل پاک ہونا لازمی ہے کڑوا پن طرفداری اور بزدلی سے لکھا جانے والا اداریہ کمزور اور بے اثر ثابت ہوتا ہے اداریے کا ایک خصوصی مزاج ہونا ضروری ہے اداریے کا صحافت میں ایک اعلیٰ اور ارفع مقام ہے اور اس کے تقدس کا احترام ہر صحافی کا فرض ہے اداریہ کاچست منطقی ، مدلل اور خوش اسلوب ہونا ضروری ہے اداریہ پڑھ کر ہر قاری یہ محسوس کرے کہ کسی بھی معاملے کی صحیح نوعیت اس کے علم میں آ گئی ہے اداریہ روزمرہ پیش آنے والے واقعات پر روشنی ڈالنے والی ایک مشکل ہے اداریہ عام قاری  سے زیادہ ہے قاری کو ذہن میں رکھ کرتحریر کیا جاتا ہے جو حالات حاضرہ پر گہری نظر رکھتا ہے اور ہر مسلے کے گردو پیش سے واقفیت حاصل کرنے کی دل میں خواہش رکھتا ہے اداریہ قالب کم علم کو علم بخشتا ہے اور تاریکی میں بھٹکنے والے کو ضروری روشنی عطا کرتا ہے کبھی اس میں کسی بات پر حملہ ہوتا ہے اور کبھی کسی اقدام کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے اداریہ قارئین کی معلومات میں اضافہ کرنے کی کوشش کرے مگر انھیں اشتعال نہ دلائے معاملہ کی ترجمانی کرے مگر اپنے نظریات کو قارئین پر زبردستی ٹھونسنے کی کوشش نہ کرے اداریے کا فرض اپنے خاران کے طرز خیال کی سہی رہبری ہے ۔

کالم نویسی :

 کالم نویسی جدید صحافت کا ایک اہم حصہ ہے مشہور کالم نویسوں نے حالات حاضرہ پر تبصرہ نگاری کے ذریعے پیچیدہ معاملات کو سلجھانے اور اہم مسائل کی توضیح کی ذمہ داری کامیابی سے انجام دی ہے کالم نویس اپنی تحریروں میں اپنے رائے ضرور شامل کرتے ہیں بعض کالم اخبارات میں روزانہ شائع ہوتے ہیں اور بعض تین دن میں ایک بار یا  ہفتے میں ایک بار کالما تازہ خبروں پر انوکھے انداز میں روشنی ڈالی جاتی ہے اداریہ سے جو کام ہوتا ہے وہی کالم کے ذریعے ہوتا ہے مگر کالم زیادہ شگفتہ اور عموما غیر رسمی ہوتے ہیں کالم نویسی انفرادی طور پر اپنی رائے کی ذمہ داری قبول کرتا ہے رائے نہیں  ہی نہیں دی دی جاتی بلکہ یہ بات بھی سمجھائیں جاتی ہے کہ رائے قائم کرنے کے صحیح اسباب کیا ہیں ۔ اخبارات کالم کے ذریعے قارائین کے تجسس کو مطمئن کرتے ہیں ۔

کالم کی تعریف :

بین الاقوامی شہرت یافتہ کئی کالم نویس اتنے مؤثر ثابت ہوئے ہیں کہ ان کی رائے کا احترام بڑی بڑی حکومتوں میں بھی کیا جاتا ہے امریکہ میں کامیاب کالم نویسوں کو سیاسی پنڈت کا معروف نام بخشا گیا انہیں دانشور صحافی سمجھ کر کسی بھی اہم مسلے پر ان کے رجحان کا جائزہ لیا جاتا ہے ہندوستان میں بھی کئی ایسے کالم نویس موجود ہے جن کے کالموں کو وقت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے مثلا خوشونت سنگھ خواجہ احمد عباس ابو ابراہام، این جے نپوریا ،راجندر پوری ،اقبال مسعود، کلدیپ نیر، ارون شوری ،رفیق زکریا وغیرہ ۔ماضی میں پوتھان جوزف درگا داس قلمی نام (انصاف) ایم چل پتی راو،  ڈی ایف کراکا، فرینک موریس نے کافی شہرت حاصل کی اردو کالم نویسوں میں تخلص بھوپالی، مجتبیٰ حسین ،نپالی، احمد جمال پاشا، مظفر ہاشمی، فکرتونسوی جانے پہچانے نام ہیں امریکہ میں رائےٹکر، ٹام  اسٹوکس، پیٹر ایڈیسن، ڈیویڈ لارنس، وغیرہ نے کافی شہرت حاصل۔ اردو صحافت میں "افکار و حوادث" "تیرونشتر "آزاد فلم" پھول اور کانٹے" گلوریاں" ستاروں کی دنیا"سچی باتیں" کافی جانے پہچانے کالم ہیں ہندوستان کی دیگر زبانوں میں بھی کالم نویسوں  نے  بھی اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑے ہیں مثلا تلگو میں "پان سپاری" کنڑمیں "چھوبان " وغیرہ۔

کالم نویس اپنے خیالات کا اظہار یقین کامل کے ساتھ کرتے ہیں کبھی وہ کنایتا لکھتے ہیں اور کبھی علانیہ طور پر اپنے نقطہ نظر کی صراحت کرتے ہیں عموما ان کے جائزوں میں دور اندیشی کا عنصر ہوتا ہے وہ اپنے قارئین کو غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں کالم نویس اپنی معلومات کی فروانی سے قارئین کو متحیر کرتے ہیں وہ مبصر بھی ہیں  اور مشرح بھی ہیں وہ مختلف النوع  موضوعات پر اپنی رائے کا اظہار کر سکتے ہیں عموما کالم نویسوں کا خیال ہوتا ہے کہ قارائین  ان کے نظریات سے اتفاق کرے یا نہ کرے مگر انکی رائے ضرور پڑھیں گے۔

 کالم رفتہ رفتہ اتنے مقبول ہوئے کہ ہر بار کو ایک نہ ایک طرح کے کالم کی ضرورت محسوس ہوئی چھوٹے اخبارات بھی اپنی سطح پر کا لم  شروع کرنے لگے کالم نویسی ایک پیشے کی صورت اختیار کر گئی ہے۔ ہر کالم نویس ایک فلسفی اور خصوصی نظریات کا شارح ثابت ہونے لگا کچھ تو جدید خیالات کے حامی ہو کر مقبول ہو گئے اور کچھ ن قدامت  پرستی کو اپنا شعار بنا لیا ۔

ہر اچھے اخبار میں ایک شگفتہ کالم کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے کہ حالات حاضرہ پر آزادانہ رائے ظاہر ہوتی رہے کالم نویس کے چاہنے والوں کا بھی ایک حلقہ بن جاتا ہے کیونکہ کالم انفرادی صحافت کا ایک بہترین نمونہ ہے کالم نویس اپنے کالم کے ذریعے اپنے ذاتی خیالات کا اظہار پوری توجہ سے کھلم کھلا کرتا ہے کسی بھی ملک کے مقبول ترین کالم نویس دانشوروں کا ایک ناقابل قدرت طبقہ  سمجھے جاتے ہیں۔

ایڈٹر کے نام خطوط اشتہارات

اشتہارات اخبارات کے لیے ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں ۔ اشتہارات کے بغیر اخبارات کا تصور ہی نا ممکن ہے ۔ کسی بھی مالک اخبار کے لیے اشتہارات آمدنی کا ایک بہترین ذریعہ ہوتے ہیں۔ اشتہارات نے جدید زندگی میں ایک زبر دست انقلاب پیدا کیا ہے ۔ ہر ملک میں انتہارات کی وجہ سے عام زندگی کے کئی شعبہ جات متاثر ہوئے ہیں۔ ہوئے ہیں۔ انسانی زندگی کے معیار میں بلندی لانے میں اشتہارات کا ایک وسیع اور وقیع کردار رہا ہے ۔ اشتہارات نے عصر جدید میں انسانوں کو کئی نئی قدروں سے روشناس کرایا ہے ۔ عوام کے عادات اور اطوار پر اثر پذیر اشتہارات نے نظریات اور خیالات کی دنیا میں بھی انقلاب برپا کیا ہے ۔ صحیح معنوں میں اشتہارات نےانسانی زندگی ہی بدل کر رکھ دی ہے ۔ بعض لوگ اشتہارات کو تفریح کا عمدہ ذریعہ سمجھتے ہیں۔ اپنی مرغوب اشیاء کے اشتہارات دیکھ کر انہیں گوناگوں مسرت ہوتی ہے ۔ اشتہارات میں خبروں کے مقابلہ میں بہترین عبارت ہوتی ہے ۔ زبان کی شوخی سے حظ اُٹھانے والے لوگ اشتہارات کے مطالعہ کو اپنی عادت بنا لیتے ہیں۔ کئی تنگ مزاج افراد ایسے بھی ہیں جو اشتہارات کو دھو کہ جعلسازی ، مراد ، شعبدہ گری یا ذہنی آنکھ مچولی سمجھ کر حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

اشتہارات کے وسیلے سے تاجر اور گاہک  ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں غور سے دیکھا جائے تو ہر اشتہار کچھ نہ کچھ خبر کا حامل ہوتا ہے ۔ اس کی تعلیمی اہمیت بھی تسلیم شدہ ہے۔ انتہارات کی وجہ سے بازار میں روپیہ کا پھیلا ہوتا ہے۔ جمہوری نظام میں اشتہارات کا اہم کردار ہے اور وہ ایک طرح سےجمہوری اقتصادیات کے معمار ہیں۔ کسی بھی تجارتی اعلان کو اشتہار کہا جاتا ہے ۔ اس اعلان کے لیے اشتہار کا نرخ ادا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اشتہارات کے ذریعہ صرف اشیاء ہی فروخت نہیں کی جاتیں۔ ان کے ذریعہ پیشہ ورانہ خدمات کی تشہیر بھی کی جاتی ہے ۔ مثلاً مرحمت کرنے والے مرکز ، محاسب، وکیل، ڈاکٹر ، عامل نجومی وغیرہ اپنی پیشہ ورانہ خدمات اشتہارات کے وسیلے سے لوگوں کو پیش کرتے ہیں۔ ہر اشتہار کا مقصد عوام سے روپیہ کمانا ، کسی مقصد کے لیے ہمدردی حاصل کرنا، یا کسی نظریہ کے لیے تشہیر کرنا ہوتا ہے ۔ آج کی زندگی میں اشتہارات کا اتنا دخل ہو گیا ہے کہ اب ان سے فرار مشکل ہو گیا ہے۔ اشتہارات کا مقصد عوام کو کسی نئی بات کی آگا ہی دینا ہوتا ہے یا کسی ا طریقہ کار کو پیش کر کے اُسے مقبول بنانا ہوتا ہے۔ اشتہار بازی اورفن  فروشندگی یعنی سیلز مین شپ SALESMANSHIP میں کافی ماثلت پائی جاتی ہے۔ اشتہار بازی کو ” مطبوعہ عمل فروشندگی “ SALESMANSHIP IN PRINT بھی کہا جاتا ہے ۔ فروشنده دیا سیلزمین ، براہ راست کوئی چیز خریدار کے ہاتھ فروخت کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ اشتہار کا یہ کام ہے کہ وہ متوقع خرید الر کے دماغ کو مشتہر شدہ سے خریدنے کے لیے آمادہ کرے ۔ اشتہار میں کسی شے کی تعریف اور توصیف کے ذریعہ خریدار کو متعلقہ شے خریدنے کی ترغیب دی جاتی ہے ۔ اشتہار کی کامیابی کا راز ہے کہ وہ صحیح طریقہ پر صحیح جگہ اور ریح وقت کامیاب سمجھا جاتا ہے جو خریدار کو مثبت علما و ہی اشتہار کامیاب پر شایع کیا جائے ۔ وہی اثر عمل پر ابھارتا ہے ۔ اشتہار کی تحریر اور تصویر کے استعمال میں انسانی نفسیات سے اُصولوں کی پیروی کی جاتی ہے۔ کم سے کم لاگت پر زیادہ سے زیادہ منفعت بخش اشتہار ہی کامیاب سمجھا جاتا ہے ۔ اشتہار عمدہ اشیاء کا ہو۔  گھٹیا اشیاء کو اشتہار بازی کے ذریعہ فروخت کرنے کی کوشش وقتی طور پر تو پوری ہو جائے گی مگر عوام جو مگر عوام جب غیر معیاری شے ! استعمال کریں گے تو دوبارہ اس شے کو خریدنے سے احتراز کرلیں گے، اشتہار اور اخبار دونوں کے بارے میں عوام بدظن ہو جائیں گے ۔ غلط دعوے اشتہار میں کرنا حماقت ہے کیونکہ اس سے کبھی بھی اشیائے فروخت کی شہرت پر آنچ آئے گی۔ ناگوار عبارتیں اور ارزاں جسمانی نمائش کی تصویروں سے بھی مشتہرین کی نیک نامی داغ دار ہوگی۔ اشتہارات جدید زندگی کی ایک اہم علامت ہیں ۔ زمانہ قدیم میں اشتہار بازی کی چنداں ضرورت نہیں تھی ۔ لوگ جنگلی جانوروں اور مچھلی کے شکار میں زیادہ مصروف رہا کرتے تھے۔ مختلف پیشوں کی بہتات نہیں تھی ۔ جیسے جیسے زندگی ترقی کی راہوں پر تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہے تقاضے بڑھ رہے ہیں اور عوامی ضروریات میں بھی حیرت انگیز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ جس طرح کہا جاتا ہے کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے اشتہارات بھی ایک خاص ضرورت کی تکمیل کے لیے عالم وجود میں آئے ہیں اور مسلسل ترقی پذیر ہیں۔

مدیر( ایڈیٹر)

اخبار کو وقت پر شائع کرنے کی ساری ذمہ داری ایڈیٹر کی ہوتی ہے۔ وہ اخبار کا ایسا سر براہ ہوتا ہے جو اپنے زیر نگرانی عملے سے کام لے کر اخبار کو عوام میں مقبول بنانے کا اہم کام انجام دیتا ہے ۔ اخبار کی پالیسی مالک کی رائے سے وہی طے کرتا ہے۔ اس کی سوجھ بوجھ ، سمجھ داری اور قابلیت و اہمیت پر اخبار کے کردار و معیار کا تعین ہوتا ہے۔ وہ اپنی خاص تحریر اداریے میں صرف کسی اہم مسئلے پر رائے ہی نہیں دیتا بلکہ کسی واقعے کی تفسیر و توضیح کرتا ہے۔ کسی فیصلے کی اہمیت بھی بتاتا ہے۔ کسی غیر مفید منصوبے کی مذمت بھی کرتا ہے۔ مبہم اور غیر واضح باتوں کا مفہوم بھی سمجھاتا ہے۔ کسی مسئلے پر اہم سوالات قائم کرتا ہے۔ مختصر یہ کہ وہ صحافیوں میں سب سے اہم ہوتا ہے۔ اس لیے اس کے انداز صحافی کی جملہ خصوصیات ہونی چاہیے۔ایڈیٹر کو چاہیے کہ وہ اپنی سوجھ بوجھ سے حکمرانوں کے اہم فیصلوں کی ٹھیک ٹھیک جانکاری ہر وقت عوام تک پہنچائے ۔ جو ایڈیٹر صحافی سرکار اور دوسرے اداروں کی سرگرمیوں یا بد عنوانیوں سے پردہ نہیں اٹھا سکتے وہ اپنے وجود کو عزت کے ساتھ زیادہ دنوں تک برقرار نہیں رکھ سکتے ۔ وہ نہ صرف حقائق کو پیش کرے بلکہ حقائق پر جواں مردی کے ساتھ تنقید بھی کرے اور قارئین کی صحیح رہنمائی بھی ۔ مگر اپنے نظریات ان پر نہ تھوپے اچھے ایڈیٹر میں یہ خصوصیت ہونی چاہیے کہ وہ اپنا کام غیر جانب داری کے ساتھ انجام دے اسے قطعی زیب نہیں دیتا کہ وہ چیزوں کو حکمروں کی خواہش کے مطابق تو ڑ موڑ کر پیش کرے۔ ایڈیٹر اصحافی کے کردار کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے اس کا غیر جانبدار رہنا، جو صحافی جانبدار ہو جاتا ہے وہ وقت کے ساتھ نہیں چل پاتا اور اپنی اہمیت کھو دینا ہے۔ ایڈیٹر کو چاہیے کہ وہ معاشرے کو یہ جانکاری بھی فراہم کرائے کہ اس معاشرے کے لوگ کیا کر رہے ہیں، کیا محسوس کر رہے ہیں اور ان کے افکار ور جحانات کی سمت و رفتار کیا ہے۔ تحریرہ میں ادبی چاشنی شامل ہو کر اس کا معیار بلند کرنے میں معاون ہوتی ہے۔ لہذا ایڈیٹر کے اندراد بی ذوق بھی ہونا چاہیے جو اس کی تحریروں کو جاذب اور پر اثر بنائے۔ اس کے اندر ایسا استدلالی شعور ہونا چاہیے کہ جب وہ کسی مسئلے پر روشنی ڈالے تو قاری یہ محسوس کرے کہ مسئلے کی پوری نوعیت اس کی سمجھ میں آگئی ہے۔ ایڈ میٹر کا اپنا ایک نصب العین ہو ، رائے عامہ کو متاثر کرنے کی قوت ہو، اور صحیح رہنمائی کی اہمیت۔ اسے اپنی تحریروں کے لیے ایسے موضوعات کا انتخاب کرنا چاہیے جس میں زیادہ لوگوں کی دل چسپی ہو، اگر موضوع دل چسپ ہوگا تو مصروف سے مصروف قاری بھی اسے پڑھنے کی کوشش کرے گا۔ قاری کی توجہ مبذول کرنے کے لیے اس کی زبان سادہ، سلیس اور رواں ہو۔ جملے پیچیدہ نہ ہوں ۔ تحریر سے بلند ذوقی اور نفاست نمایاں ہو۔ اسے طعن و طنز ، ہجو یہ انداز ، تنقید برائے تنقید اور احساسات و جذبات کو برانگیختہ کرنے والے اسلوب سے دامن بچا کر حقائق کو اسدلال کے ساتھ پیش کرنا چاہیے، اس سے ایڈیٹر اصحافی میں عوام کا اعتماد بڑھتا ہے۔

سب ایڈیٹر

 جیسے جیسے اخبار کی اہمیت بڑھ رہی ہے سب ایڈیٹر کی ضرورت وقعت بھی برابر بڑھتی جا رہی ہے۔ بعض حالات میں مدیر اعلیٰ یا مدیر کے ذمہ انتظامی ذمہ داریاں بھی دی جاتی ہیں مگر نائب مدیر کا کام خالص ادارتی ہوتا ہے ۔ وہ تجارت اشتہارات اخبارات کی تقسیم طباعت وغیرہ کے معاملات میں کوئی دلچسپی نہیں لیتا۔ نائب مدیر ایک اخبار کی عمارت کا اہم پتھر پارکن ہوتا ہے ۔ اپنی قوت فیصلہ کے استعمال سے وہ اخبار کے مواد میں ضروری کانٹ چھانٹ کرتا ہے ۔ اسی لیے عرفِ عام میں سب ایڈیٹنگ کے کمرہ کو" ہضم "کرنے کا نے کا کمرہ بھی کہتے ہیں ۔  کہتے ہیں قلم تلوار سے زیادہ طاقتور ہے یہاں تو یہ کہنا موزوں ہے کہ نائب مدیر کا قلم مضمون نگار کے قلم سے زیادہ طاقتور ہے ۔ نائب مدیر کو ایک "چھاننا " یا " فلٹر" FILTER بھی کہا جا سکتا ہے۔ جس طرح ایک فلٹر ہر چیز صاف کرتا ہے بالکل اسی طرح ایک نائب مدیر سی بھی مسودہ کوصاف کرتا ہے۔ غیر ضروری تفصیلات کو ضروری تفصیلات سے الگ کرنے کی ذمہ داری دیکھنے میں تو بڑی آسان نظر آتی ہے تو عملی طور پر ایسی سرگرمی میں کئی دشواریاں پیش آتی ہیں ۔ ایسی مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے بھی نائب مدیر کو بیداری، مسرت اور اطمینان کا اظہار کرنا ہوتا ہے ۔ نائب مدیر کا کام گویا بے جان ہڈیوں میں روح پھونکنا ہے ۔ رائے عامہ سے گہری واقفیت بھی مشعل راہ کا کام دیتی ہے۔ ماضی اور حال کے جملہ حالات اور واقعات سے واقف رہ کر نائب مدیر وقت کی نباضی اور عکاسی کرتا ہے ۔

صحافیوں میں سب سے زیادہ کام اور سب سے زیادہ ذمہ داری سب ایڈیٹر کی ہوتی ہے۔ ایڈیٹر کے بعد اخبار کے عملے میں سب سے زیادہ اہم شخصیت سب ایڈیٹر کی ہوتی ہے۔ لیکن اس کا نام نہ اخبار کی کسی تحریر کے ساتھ چھپتا ہے اور نہ ہی اسے قارئین سے ذاتی ملاقات کا موقع ملتا ہے۔ اس کی حیثیت گمنام ستارے جیسی ہے۔خبر جیسے ہی اخبار کے آفس میں آتی ہے سب سے پہلے سب ایڈیٹر کے پاس جاتی ہے۔ لہذا کسی بھی مواد کو جانچنا پر  کھنا تر تیب دینا اور اشاعت کے لیے منتخب کرنا سب ایڈیٹر کی ذمہ داری ہوتی ہے۔  اشاعت کے لیے منتخب کیے گئے مواد کی نوک پلک سدھارنا، ابتدائیہ لکھنا، سرخی تجویز کرنا۔ پیراگراف مقرر کرنا ، املا درست کرنا ، ناموں کی صحت پر توجہ دینا قواعد کی رو سے عبارت کی تصحیح کرنا ، سب ایڈیٹر کے فرائض میں داخل ہوتا ہے۔ خبر کی اہمیت کا اندازہ کرنا اور اسی لحاظ سے اس کے لیے جگہ کا تعین کرنا بھی اس کا کام ہوتا ہے۔ سب ایڈیٹر کے کام کی نوعیت کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسے مختلف النوع خصوصیات کا حامل ہونا چاہیے۔ مثلا اس کے اندر ہوش و خرد، ذہانت و فطانت اور اچھی سوجھ بوجھ ہونی چاہیے۔ اسی کے ساتھ ساتھ اس کی شخصیت میں توازن ہو وہ جذباتی نہ ہو۔ اپنے مخالفوں کی بیچا مخالفت اور حمایتیوں کی بیجا حمایت نہ کرے۔ اس کی نظر میں وسعت اور ذوق ستھرا ہوا ہو۔ اس کے اندر قوت فیصلہ،قوت تمیز اور تحمل ہو ، اس کا مطالعہ وسیع ہو ۔ عصری مسائل ، حالات حاضرہ اور عوامی رجحانات سے واقفیت رکھتا ہو ۔ ہر طرح کے قوانین کی جانکاری ہو ۔ صحافت کے فن سے واقف ہو۔ زبان پر قدرت ہو، عبارت کو چست اور جامع بنانے ، جملوں کی ساخت میں ہم آہنگی اور تناسب قائم رکھنے کی اہلیت ہو ۔ کیوں کہ کامیاب سب ایڈیٹر ذراسی توجہ سے پینتیس چھتیں الفاظ کے مطلب کو چودہ پندرہ الفاظ میں ادا کر دیتا ہے۔ مثلا وزیر اعظم ہندستان محترم جواہر لال نہرو کی جگہ وزیر اعظم جواہر لال نہرو یا مثال کے طور پر" کی جگہ مثلاً لکھ کر کام چلا لے گا۔ مختصر یہ کہ کسی سب ایڈیٹر میں مذکور و خصوصیات پائی جاتی ہوں تو وہ اپنا کام پہ حسن و خوبی انجام دے سکے گا۔

سب ایڈیٹر کے لیے ضروری قابلیت، تربیت اور تجربہ کے سلسلہ میں جو صلاحیتوں کی ایک جامع فہرست مرتب ہو سکتی ہے وہ مندرجہ ذیل  ہوگی ۔

·      سب ایڈیٹر ایک ہمدرد  فرد ہوں۔ وہ معاملہ فہم ہوں، بلند نظر ہو۔ اپنے قارئین کے ذوق کو جانتے اور پہچاننے کی صلاحیت اس میں بدرجہ اتم موجود ہو۔ 

·      وہ ایک ضابطہ پسند، اعتدال پسند اور انصاف پسند قلم کار ہو۔ فیصلہ کرنے کی قوت رکھتا ہو۔ اُسے کسی بھی معاملہ میں تناسب کا احساس ہو ۔ دور اندیشی سے کام لےسکتا ہو۔

·      کسی بھی کام کو وہ ٹھنڈے دماغ سے ایک خاص نظم سے کرنے کا عادی ہو۔ منتشر خیالات سے دور رہنے کا عادی ہو۔ عجلت کا لحاظ رکھتے ہوئے بھی کام ایک طےشدہ رفتار سے انجام دے ۔

·      کسی بھی بات کو جلد از جلدا در صحیح طریقہ پر سمجھ لینے کی تمیز رکھتا ہو۔ وہ ہر کام درستگی اور کاملیت سے کرنے پر اعتقاد رکھتا ۔

·      فرائض کی ذمہ داری کی واقفیت کے ساتھ ہی وہ اپنے تمام کام پوری دیانتداری سے ختم کرنے کا نیک ارادہ رکھتا ہو۔ اپنا کام بیزارگی یا بے دلی سے نہ کرے ۔ وہ کسی نظریہ کے زیر اثر آنے سے بچنے کی قوت رکھتا ہو۔ جو بھی اس کی دماغی صلاحیتیں ہیں اُس کا جائز اور معقول استعمال کرنے سے اسے دلچسپی ہو۔

·      معلومات عامہ مسلسل حاصل کرتے رہنا اس کی مرغوب مصروفیت ہو۔ ہر نئی بات کی تہ تک پہنچنے سے وہ گہری دلچسپی رکھتا ہو۔

·      کسی بھی واقعہ کی زیادہ سے زیادہ تفصیل حاصل کر کے مختصر سے مختصر طور پر اپنے قارئین تک پہنچانے سے اسے واقعی وابستگی ہو۔

·      ما حول کو پرکھنے اور وقت کی نباضی میں اسے حتی المقدور مہارت ہو۔ اپنے خصوصی نظریات کو قارئین پر ٹھونسنے سے احتراز کرنا اس کا نصب العین ہو۔

·      وہ اچھی تعلی سے بہرہ ور ہو۔ خواہ کسی یونیورٹی کا فارغ التحصیل ہو یا نہ ہو مگر علم کے حصول سے اُسے فطری لگاو ہو ، سیاسی معلومات سے واقف ہونے کا اسے پورا پورا شوق ہو۔

·      سیاسی، معاشی، سماجی ، صنعتی، علمی، ادبی ، دینی وغیرہ سرگرمیوں میں مصروف ہم عصر مشاہیر کے بارے میں اس کی معلومات وسیع ، مستند اور قابل اعتماد ہوں۔

·      وہ ملک کے آئین کے اہم نکات سے واقف ہو۔ خصوصی طور پر بنیادی حقوق کی تفصیلات سے اچھی طرح آگاہ ہو۔ آئینی ترامیم سے اچھی طرح واقفیت رکھے ۔ آزادی تحریر و تقریر کے متعلقہ آئینی حقوق پر عبور حاصل کرے ۔ اخبارات سے متعلق تمام ضروری قوانین اور جدید ترین ترامیم سے سب ایڈیٹر کی کامل واقفیت بے حد اہم ہے ۔

·      با محاورہ زبان سلاست سے لکھنے میں اسے مہارت حاصل ہو۔ اس کی تحریر اس قدر صحیح ہو کہ دوبارہ کسی اور مدیر کے نظر ثانی کی حاجت نہ ہو۔

·      سب ۔ ایڈیٹر کا بیشتر کام اندرونِ دفتر ہوتا ہے ۔ یادر ہے کہ کرسی اور میز پر مسلسل کام کرنے کے لیے صحیح اور سالم جسمانی قوت، عمدہ بصارت اور روحانی جسارت کی ضرورت رہا کرتی ہے۔ کمزور، بیمار یا مقدور فرد اس محنت طلب کام میں بری طرح مات کھا جائے گا۔

·      اخباری کام اشتراک عمل پر زیادہ منحصر ہوتا ہے ۔ اپنے عملہ کے دیگر رفقائے کار سے دوستی، تعاون اور باہمی مفاہمت کے جذبات کا کسی بھی سب ایڈیٹر میں ہونا اہم ہے چڑ چڑاپن، دیگر افراد سے حسد، تنہا خوری جیسے غیر پسندیدہ عادات کسی بھی سب ایڈیٹر کے لیے ضرر رساں ہوتے ہیں ۔

سب ایڈیٹر کے لیے جو اہم ترین صلاحیت تجویز ہوتی ہے وہ A SENCE .OF NEWS VALUES کہلاتی ہے یعنی خبروں کی صحیح اہمیت کی تمیز ظاہر ہے کہ یہ لازمی صلاحیت رفتہ رفتہ تجربہ سے خود بخود حاصل ہو جاتی ہے۔ مگر اس کا خیال رکھنا اور اس امتیازی صلاحیت کی با سلیقہ و پرورش کرتا ہر دیانت دار، با زوق اور ذی فہم نائب مدیر کی مقدس ذمہ داری ہے ۔

 

نامہ نگاری

نامہ نگاری ایک عظیم فن ہے ۔ اسے ہم ایک دستکاری بھی کہہ سکتے ہیں ۔ نامہ نگاری ایک ایسا ہنر ہے جس میں کئی پابندیاں بھی ہیں اور کئی آزادیاں بھی ۔ اسے طور طریقوں ضابطوں تخلیقی تو توں ، افکار اور تجربوں کا ایک حسین و دلکش مجموعہ بھی کہا جا سکتا ہے ۔ نامہ نگاری ایک شوق بھی ہے اور ایک باقاعدہ ذریعہ روزگار بھی ۔ یہ ایک یا اصول شعبہ عمل ہے جس میں تجربوں کا نچوڑ بھی ملتا ہے اور جدت طرازی کے لا محدود مواقع بھی نصیب ہوتے ہیں۔ قابلیت، اہلیت اور صلاحیت کا معقول استعمال کر کے نامہ نگاری میں کاملیت حاصل کی جا سکتی ہے۔

نامہ نگاری ایک ایسا فن ہے جو عملی میدان میں نکھر سکتا ہے ۔ کتابوں اور کالجوں کے ذریعہ بھی اس فن کے اصول پڑھائے اور سکھائے جاتے ہیں ۔ اظہار خیال کا بھی یہ نہایت موثر وسیلہ ہے کیسی بھی خبر کوتحریری قالب میں ڈھانے میں نامہ نگار کی قلمی قوتوں کا استعمال ہوتا ہے۔ بے پرواہ اور کاہل نامہ نگار خبر کو سرسری طور پر لکھ کر اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو سکتا ہے جبکہ ایک بیدار اور محنتی نامہ نگار کسی بھی خبر کو بہتر سے بہتر طریقہ پر پیش کر کے نہ صرف اپنا فرض ادا کر سکتا ہے بلکہ خراج تحسین بھی وصول کر سکتا ہے۔ نامہ نگاری کے لیے وسیع النظری ، ایک خصوصی ذوق، رغبت اور ذہنی بیداری ضروری ہے۔ سمجھ بوجھ، لچسپی، مشقت، دیانتداری اور خلوص کے ساتھ کوئی بھی نامہ نگار اپنی ذمہ داریاں حسن و خوبی انجام دے سکتا ہے ۔ اس میدانِ عمل میں جوش بھی چاہیے اور ہوش بھی۔ نامہ نگار کو صحافت کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دینا ضروری ہے۔ صحافت سے والہانہ عقیدت کے جذبہ سے ہی نامہ نگاری میں چمک دمک اور گہرائیت لائی جا سکتی ہے۔

حساس انسان ایک عمدہ تا مہ نگار بن سکتا۔ ہرنامہ نگار کے لیے صحافت کے تقدس کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ اگر توجہ ، سنجیدگی وفاداری اور لگن سے نامہ نگاری سنبھالی جائے تو تو قعات سے زیادہ کامیابی حاصل ہو سکتی ہے ۔ گذشتہ دو صدیوں میں نامہ نگاری کے طور طریقوں میں کئی زبر دست تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں ۔ اس صحافتی مصروفیت کے بارے میں کافی تحقیقی کام ہوا ہے ۔ نامہ نگاری سے متعلق کئی جائزے کتابی صورت میں شائع ہو چکے ہیں اور مسلسل منظر عام پر آرہے ہیں، ایسے تحقیقی جائزوں سے بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ امریکہ اور انگلینڈ میں نامہ نگاری کے فن پر متعد دمستند اورمعتبر کتا بیں شائع ہوئی ہیں جن کے مطالعہ سے اس دلچسپ فن کے کئی معلوم اور نا معلوم پہلوں پر روشنی ڈالی گئی ہے کئی کامیاب اور انعام یافتہ عالمگیر طور پر مشہور نامہ نگاروں نے اپنے وسیع تجربات بھی قلمبند کر کے آئندہ نسلوں کی رہنمائی کی ہے۔ بہترین اور یادگار اخباری رپورٹوں کے انتخابی مجموعے بھی شائع ہوتے ہیں جس سے نامہ نگاروں کی نئی نسل کو کافی ہدایت ملتی ہے ۔ بہترین نامہ نگاروں کو انعامات اور ان کا قوامی اعزازات سے نوازنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ خود ہندوستان میں مختلف موقر اداروں کی جانب سے نامہ نگاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے کئی انعامات دیے جارہے ۔ ایسے انعامات زیادہ تر تحقیقی نامہ نگاری، قومی ترقیاتی سرگرمیوں کی نامہ نگاری، دیہی امور کی نامہ نگاری،  اور کھیل کود کی نامہ نگاری وغیرہ مخصوص اور جدت پسند نامہ  نگاری کے کارناموں کے لیے مختص ہیں ۔

نامہ نگاری ایک ایسا دلچسپ فن ہے جس کی کوئی" انتہا " نہیں ہے ۔ یہ ایک ایسا لا محدود اور وسیع عملی میدان ہے جس میں تجربات کرنے اور بے نظیر کامیابی حاصل کرنے کے مواقع ہمیشہ موجود رہے ہیں اور رہیں گے ۔ یہ ایسا فن ہے جو لمحہ بہ لمحہ نئی وسعتوں سے ہمکنار ہوتا رہتا ہے ۔ اس میں " حرف آخر" نام کی کوئی چیز نہیں ہے ۔ ماضی اور حال سے بڑھ کر مستقبل میں اچھے نامہ نگاروں کے لیے بے شمار مواقع ہیں۔ نامہ نگاری سے گہری دلچسپی رکھنے والے احباب اس عملی میدان میں بہتری کی ہر ممکن کوشش کر سکتے ہیں۔ جب تک دنیا قائم ہے نامہ نگار کی مصروفیت نہ صرف باقی رہے گی بلکہ اس میں روز افزوں اضافہ ہوتا رہے گا۔ آج کل تو یہ حال ہے کہ دنیا کو دنیا لوگ ستاروں سے آگے کے جہانوں کی  خبریں پڑھنے کے دل دادہ ہیں۔ خلائی سفر کی خبریں بھی اخبارات کے صفحات کی زینت خیال رکھنا ضروری کا رہی ہیں۔ چاند کا حال تو لوگ جان ہی چکے ہیں، اب دیگر سیاروں کے حالات جاننے قعات سے زیادہ کے لیے بھی لوگ بے چین رہتے ہیں ۔ جب تک کرہ ارض پر انسان باقی ہیں نامہ نگاری کامل کی زبر دست سلسل اور مزید تیز رفتاری سے جاری اور ساری رہے گا۔ نامہ نگاری کی فنکارانہ اہمیت رفعت اور عظمت تا ابد قائم رہے گی ۔

 

فری لانسنگ جنرل ازم

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.